Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 41 · Chapter 6

Book of Supplications

Hadith 17391–17430

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17391

Majma al-Zawaid #17391

وَعَنْ أَبِي صِرْمَةَ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَائِي وَغِنَى مَوْلَايَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَكَذَلِكَ الْإِسْنَادُ الْآخَرُ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ غَيْرَ لُؤْلُؤَةَ مَوْلَاةِ الْأَنْصَارِ، وَهِيَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ṣirma رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say a supplication asking for his own enrichment and that of his freedman. > **"O Allah, I ask You for my enrichment and the enrichment of my freedman."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوصرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَائِي وَغِنَى مَوْلَايَ» ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے اپنی خوشحالی اور اپنے غلاموں کی خوشحالی کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، اور دوسری سند بھی اسی طرح ہے ، اور امام طبرانی کی سند بھی اسی طرح ہے ، صرف لؤلؤة نامی خاتون کا معاملہ مختلف ہے ، جو انصار کی کنیز ہے اور وہ خاتون ثقہ ہے ۔

17392

Majma al-Zawaid #17392

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي حَتَّى تَجْعَلَ ذَلِكَ الْوَارِثَ مِنِّي، وَعَافِنِي فِي دِينِي، وَاحْشُرْنِي عَلَى مَا أَحْيَيْتَنِي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي حَتَّى تُرِيَنِي مِنْهُ ثَأْرِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ دِينِي إِلَيْكَ، وَخَلَّيْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، وَبِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ used to supplicate for enjoyment of hearing and sight made inherited from him, well-being in religion, resurrection upon the life granted, help against oppressors with witnessed retribution, surrendered religion, directed face, entrusted affair, supported back, no refuge nor escape but to Him, and belief in His sent Messenger and revealed Book. > **"O Allah, grant me enjoyment of my hearing and my sight until You make them inherited from me; grant me well-being in my religion, resurrect me upon what You kept me alive, help me against whoever wronged me until You show me my retribution from him. O Allah, I surrendered my religion to You, turned my face to You, entrusted my affair to You, leaned my back upon You; no refuge nor escape from You except to You. I believed in Your Messenger whom You sent and Your Book which You revealed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي حَتَّى تَجْعَلَ ذَلِكَ الْوَارِثَ مِنِّي، وَعَافِنِي فِي دِينِي، وَاحْشُرْنِي عَلَى مَا أَحْيَيْتَنِي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي حَتَّى تُرِيَنِي مِنْهُ ثَأْرِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ دِينِي إِلَيْكَ، وَخَلَّيْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، وَبِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ» ’’ اے اللہ ! تو میری سماعت اور میری بصارت کے ذریعے مجھے نفع عطا فرما ، یہاں تک کہ تو ان دونوں کو میری طرف سے وارث بنا دے اور مجھے میرے دین کے بارے میں عافیت عطا فرما ، اور میرا حشر بھی اسی حالت پر کرنا ، جس پر تو نے مجھے زندہ رکھا اور جس نے مجھ پر ظلم کیا ہو ، اس کے خلاف میری مدد فرما ، یہاں تک کہ تو مجھے اس کی طرف سے بدلہ دکھا دے ، اے اللہ ! میں نے اپنا دین تیرے سپرد کیا ، اپنا چہرہ تیری طرف پھیر لیا ، اپنا معاملہ تجھے تفویض کر دیا ، اپنی پشت تیرے ساتھ لگا لی ، تیرے مقابلے میں سوائے تیرے ، کوئی اور پناہ گاہ اور جائے نجات نہیں ہے ، میں تیرے اس رسول پر ایمان لایا ، جسے تو نے بھیجا ہے اور تیری اس کتاب پر ایمان لایا ، جسے تو نے نازل کیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر مدینی ہے اور وہ متروک ہے ۔

17393

Majma al-Zawaid #17393

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ: "" اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أَخْشَاكَ حَتَّى كَأَنِّي أَرَاكَ أَبَدًا حَتَّى أَلْقَاكَ، وَأَسْعِدْنِي بِتَقْوَاكَ، وَلَا تُشْقِنِي بِمَعْصِيَتِكَ، وَخِرْ لِي فِي قَضَائِكَ، وَبَارِكْ لِي فِي قَدَرِكَ حَتَّى لَا أُحِبَّ تَعْجِيلَ مَا أَخَّرْتَ، وَلَا تَأْخِيرَ مَا عَجَّلْتَ، وَاجْعَلْ غَنَائِي فِي نَفْسِي، وَأَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي، وَاجْعَلْهُمَا الْوُرِاثَ مِنِّي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي، وَأَرِنِي فِيهِ ثَأْرِي، وَأَقِرَّ بِذَلِكَ عَيْنِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَ آخِرِهِ مِنْ قَوْلِ: "" أَمْتِعْنِي بِسَمْعِي "". بِنَحْوِهِ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ often supplicated to be made fearful as though ever seeing Him until meeting Him, felicitous in taqwā, not wretched in disobedience, choosing good in decree, blessing in measure so as neither to hasten delay nor delay hastening, enrichment in soul, enjoyment of hearing and sight made inherited, help against oppressors with witnessed retribution and cooled eye. > **"O Allah, make me fear You as though I ever see You until I meet You; make me felicitous in Your taqwā, do not make me wretched in disobeying You; choose good for me in Your decree, bless me in Your measure so I love neither hastening what You delayed nor delaying what You hastened; place my enrichment in my soul, grant me enjoyment of my hearing and my sight and make them inherited from me; help me against whoever wronged me, show me my retribution in him, and cool my eye thereby."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أَخْشَاكَ حَتَّى كَأَنِّي أَرَاكَ أَبَدًا حَتَّى أَلْقَاكَ، وَأَسْعِدْنِي بِتَقْوَاكَ، وَلَا تُشْقِنِي بِمَعْصِيَتِكَ، وَخِرْ لِي فِي قَضَائِكَ، وَبَارِكْ لِي فِي قَدَرِكَ حَتَّى لَا أُحِبَّ تَعْجِيلَ مَا أَخَّرْتَ، وَلَا تَأْخِيرَ مَا عَجَّلْتَ، وَاجْعَلْ غَنَائِي فِي نَفْسِي، وَأَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي، وَاجْعَلْهُمَا الْوُرِاثَ مِنِّي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي، وَأَرِنِي فِيهِ ثَأْرِي، وَأَقِرَّ بِذَلِكَ عَيْنِي» ’’ اے اللہ ! تو مجھے ایسا بندہ بنا دے جو تجھ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو ، یہاں تک کہ میں یوں ہو جاؤں ، جیسے میں ہمیشہ تجھے دیکھتا رہتا ہوں ، اور ایسا اس وقت تک رہے ، جب تک میں تیری بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتا ، اور تو مجھے اپنے تقویٰ کے ذریعے سعادت عطا فرما ، اور اپنی نافرمانی کے ذریعے تو مجھے بدنصیب نہ کرنا ، اپنے فیصلے میں ، میرے لیے بہتری اختیار کر لے ، اور اپنی تقدیر میں میرے لئے برکت رکھ دے ، یہاں تک کہ میں اس چیز کو جلدی نہ چاہوں ، جسے تو نے موخر کیا ہو ، اور اس میں تاخیر نہ چاہوں ، جسے تو نے جلدی کر دیا ہو ، میری خوشحالی ( یا بے نیازی ) میرے نفس میں ڈال دے ، مجھے میری سماعت اور بصارت کے ذریعے نفع عطا کرتے رہنا اور ان دونوں کو میرا وارث بنانا اور جس نے مجھ پر ظلم کیا ، اس کے خلاف میری مدد کرنا ، اور اس کے بارے میں مجھے بدلہ دکھا دینا ، اور اس کے ذریعے میری آنکھیں ٹھنڈی کرنا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن خیثم بن عراک ہے اور وہ متروک ہے ۔ امام بزار نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں :” تو میری سماعت کے ذریعے مجھے نفع دینا ......‘‘۔ اس کے بعد حسب سابق روایت ہے جو عمدہ سند کے ساتھ منقول ہے ۔

17394

Majma al-Zawaid #17394

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي، وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي، وَأَرِنِي مِنْهُ ثَأْرِي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضi الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say a supplication for enjoyment of hearing and sight made inherited, help against oppressors, and witnessed retribution. > **"O Allah, grant me enjoyment of my hearing and my sight, make them inherited from me, help me against whoever wronged me, and show me my retribution from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي، وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي، وَأَرِنِي مِنْهُ ثَأْرِي» ’’ اے اللہ ! تو مجھے میری سماعت اور میری بصارت کے ذریعے نفع دینا ، اور ان دونوں کو میرا وارث بنانا ، اور جس نے مجھ پر ظلم کیا ، اس کے خلاف میری مدد کرنا اور اس کی طرف سے مجھے بدلہ دکھانا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17395

Majma al-Zawaid #17395

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي، وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنِّي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ طَهْمَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Shikhkhīr رضi الله عنه reported that the Prophet ﷺ used to say a supplication for enjoyment of hearing and sight made inherited from him. > **"O Allah, grant me enjoyment of my hearing and my sight, and make them inherited from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مخیر ہی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی ا یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي، وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنِّي» ’’ اے اللہ ! تو میری سماعت اور میری بصارت کے ذریعے مجھے نفع دینا اور اسے میرا وارث بنانا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن حکم بن طہمان ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17396

Majma al-Zawaid #17396

وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: «جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا بُعِثْتُ إِلَى نَبِيٍّ قَطُّ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْكَ، أَلَا أُعَلِّمُكَ أَسْمَاءَ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ، هُنَّ أَحَبُّ أَسْمَائِهِ إِلَيْهِ أَنْ يُدْعَى بِهِنَّ؟ قُلْ: يَا نُورَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا زَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا جَبَّارَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا عِمَادَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا صَرِيخَ الْمُسْتَصْرِخِينَ، وَيَا غَيَّاثُ الْمُسْتَغِيثِينَ وَمُنْتَهَى الْعَابِدِينَ، الْمُفَرِّجُ عَنِ الْمَكْرُوبِينَ، الْمُرَوِّحُ عَنِ الْمَغْمُومِينَ، وَمُجِيبَ دُعَاءِ الْمُضْطَرِّينَ، وَكَاشِفَ الْكَرْبِ، يَا إِلَهَ الْعَالَمِينَ، وَيَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، مَنْزُولٌ لَكَ كُلُّ حَاجَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَلَّامٌ الطَّوِيلُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfa ibn al-Yamān رضي الله عنه reported that Jibrīl عليه السلام came to the Prophet ﷺ, declaring none sent to was dearer to him, and offered to teach names among Allah's names most beloved to Him to be supplicated with, concerning light, adornment, compeller, support, originator, sustainer of heavens and earth, majesty, succour of criers, refuge of seekers, goal of worshippers, reliever of distressed, comforter of grieved, answerer of compelled, remover of hardship, God of worlds, Most Merciful, before whom every need is laid. > **"O Light of the heavens and the earth, O Adornment of the heavens and the earth, O Compeller of the heavens and the earth, O Support of the heavens and the earth, O Originator of the heavens and the earth, O Sustainer of the heavens and the earth, O Possessor of majesty and honour, O Succour of those crying for help, O Refuge of seekers of refuge and Goal of worshippers, Reliever of the distressed, Comforter of the grieved, Answerer of the compelled, Remover of hardship, O God of the worlds, O Most Merciful of the merciful; every need is laid before You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور بولے : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! مجھے کبھی بھی ، کسی ایسے نبی کی طرف مبعوث نہیں کیا گیا ، جو میرے نزدیک آپ سے زیادہ محبوب ہوں ، کیا میں آپ کو اللہ تعالیٰ کے ایسے اسماء کی تعلیم نہ دوں ؟ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس حوالے سے سب سے زیادہ محبوب ہیں کہ ان کے ساتھ دعا کی جائے ، آپ یہ پڑھیں : «يَا نُورَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا زَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا جَبَّارَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا عِمَادَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا صَرِيخَ الْمُسْتَصْرِخِينَ، وَيَا غَيَّاثُ الْمُسْتَغِيثِينَ وَمُنْتَهَى الْعَابِدِينَ، الْمُفَرِّجُ عَنِ الْمَكْرُوبِينَ، الْمُرَوِّحُ عَنِ الْمَغْمُومِينَ، وَمُجِيبَ دُعَاءِ الْمُضْطَرِّينَ، وَكَاشِفَ الْكَرْبِ، يَا إِلَهَ الْعَالَمِينَ، وَيَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، مَنْزُولٌ لَكَ كُلُّ حَاجَةٍ» ’’ اے آسمانوں اور زمین کے نور ! اے آسمانوں اور زمین کی زینت ! اے آسمانوں اور زمین کے زبردست ! اے آسمانوں اور زمین کے ستون ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! اے آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والے ! اسے جلال اور اکرام والے ! اے چیخ و پکار کرنے والوں کی مدد کرنے والے ! اے مدد مانگنے والوں کے مددگار ! اے عبادت گزاروں کی منزل ! اے پریشان حالوں کو کشادگی نصیب کرنے والے ! اے مغموم لوگوں کو راحت عطا کرنے والے ! اے پریشان لوگوں کی دعا قبول کرنے والے ! مشکل کو ختم کرنے والے ! اے تمام جہانوں کے پروردگار ! اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ! تیرے ذریعے ہر حاجت پوری ہو جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلام طویل ہے اور وہ متروک ہے ۔

17397

Majma al-Zawaid #17397

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا هَذَا الْكَلَامَ: "" اللَّهُمَّ أَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ. اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا وَفِي أَبْصَارِنَا، وَقُلُوبِنَا وَأَرْوَاحِنَا، وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا ; إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعَمِكَ مُثْنِينَ بِهَا، قَابِلِينَ لَهَا، وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُ الْكَبِيرِ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, reported that the Prophet ﷺ used to teach them words asking rectitude between them, union of hearts, guidance to paths of peace, deliverance from darkness to light, avoidance of shameful deeds open and hidden, blessing in hearing, sight, hearts, spirits, offspring, repentance as Most Relenting Merciful, gratitude, praise, acceptance of blessings, and their completion. > **"O Allah, rectify what is between us, unite our hearts, guide us to the paths of peace, deliver us from darkness to light, keep us from shameful deeds, open and hidden. O Allah, bless for us our hearing, our sight, our hearts, our spirits, and our offspring; turn to us, indeed You are the Relenting, the Merciful; make us thankful for Your blessings, praising them, accepting them, and complete them for us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمیں اس کلام کی تعلیم دیتے تھے : «اللَّهُمَّ أَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ. اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا وَفِي أَبْصَارِنَا، وَقُلُوبِنَا وَأَرْوَاحِنَا، وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا ; إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعَمِكَ مُثْنِينَ بِهَا، قَابِلِينَ لَهَا، وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا» ’’ اے اللہ ! ہمارے درمیان صلح ( یا بہتری ) رکھنا اور ہمارے دلوں کے درمیان الفت رکھنا اور ہمیں سلامتی کے راستے پر ثابت قدم رکھنا اور ہمیں تاریکیوں سے نجات دے کر ، نور کی طرف لے جانا اور ہمیں برائیوں سے لاتعلق رکھنا ، ان میں سے جو ظاہر ہوں اور جو باطن ہوں ، اے اللہ ! ہماری سماعتوں میں ، ہماری بصارتوں میں ، ہمارے دلوں میں ، ہماری بیویوں میں ، ہماری اولاد میں ، ہمارے لئے برکت رکھنا اور ہماری توبہ قبول فرما ، بے شک تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ، اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والا اور ان کی تعریف کرنے والا اور ان کا قائل ہونے والا بنانا ، اور وہ نعمتیں ہم پر مکمل کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر کی سند عمدہ ہے ۔

17398

Majma al-Zawaid #17398

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِيشَةً نَقِيَّةً، وَمِيتَةً سَوِيَّةً، وَمَرَدًّا غَيْرَ مُخْزٍ وَلَا فَاضِحٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ used to say a supplication asking for a pure life, a sound death, and a return neither disgracing nor exposing. > **"O Allah, I ask You for a pure life, a sound death, and a return neither disgracing nor exposing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِيشَةً نَقِيَّةً، وَمِيتَةً سَوِيَّةً، وَمَرَدًّا غَيْرَ مُخْزٍ وَلَا فَاضِحٍ» ” اے اللہ ! میں تجھ سے پاک زندگی اور ٹھیک موت اور ایسے لوٹنے کا سوال کرتا ہوں جو مجھے رسوائی اور شرمندگی کا شکار نہ کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام طبرانی کی سند عمدہ ہے ۔

17399

Majma al-Zawaid #17399

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" «أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا عَلَّمَهُنَّ إِيَّاهُ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِي رِضَاكَ ضَعْفِي، وَإِنِّي ذَلِيلٌ فَأَعِزَّنِي، وَإِنِّي فَقِيرٌ فَأَغْنِنِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ met him and offered to teach words taught to whomever Allah intends good for, and upon acceptance instructed a supplication of weakness strengthened in His pleasure, lowliness honoured, and poverty enriched. > **"O Allah, I am weak, so strengthen my weakness in Your pleasure; I am lowly, so honour me; I am poor, so enrich me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی مجھ سے ملاقات ہوئی ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، اُسے ان کلمات کی تعلیم دیتا ہے ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِي رِضَاكَ ضَعْفِي، وَإِنِّي ذَلِيلٌ فَأَعِزَّنِي، وَإِنِّي فَقِيرٌ فَأَغْنِنِي» ’’ اے اللہ ! بے شک میں کمزور ہوں ، اپنی رضامندی کے بارے میں ، میری کمزوری کو قوت عطا فرما ، اور میں کمتر ہوں ، مجھے عزت عطا فرما ، میں غریب ہوں ، مجھے خوشحال کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ متروک ہے ۔

17400

Majma al-Zawaid #17400

وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِإِلَهٍ اسْتَحْدَثْنَاهُ، وَلَا بِرَبِّ ابْتَدَعْنَاهُ، وَلَا كَانَ لَنَا قَبْلَكَ إِلَهٌ نَلْجَأُ إِلَيْهِ وَنَذَرُكَ، وَلَا أَعَانَكَ عَلَى خَلْقِنَا أَحَدٌ فَنُشْرِكُهُ فِيكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ» "". قَالَ كَعْبٌ: وَهَكَذَا كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ دَاوُدُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ṣuhayb رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ used to supplicate affirming Allah is no newly made deity nor contrived lord, with none before Him to resort to besides Him, nor helper in creation to associate with Him, Blessed and Exalted; Kaʿb added that thus used to supplicate Dāwud the Prophet of Allah عليه السلام. > **"O Allah, You are no deity we newly made, nor a lord we contrived, nor was there for us before You a god to resort to and leave You, nor did anyone help You in creating us that we should associate him with You. Blessed are You and Exalted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ دعا کرتے ہوئے یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِإِلَهٍ اسْتَحْدَثْنَاهُ، وَلَا بِرَبِّ ابْتَدَعْنَاهُ، وَلَا كَانَ لَنَا قَبْلَكَ إِلَهٌ نَلْجَأُ إِلَيْهِ وَنَذَرُكَ، وَلَا أَعَانَكَ عَلَى خَلْقِنَا أَحَدٌ فَنُشْرِكُهُ فِيكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ» ’’ اے اللہ ! تو کوئی ایسا معبود نہیں ہے ، جسے ہم نے بنایا ہو ، اور نہ کوئی ایسا پروردگار ہے ، جسے ہم نے ایجاد کیا ہو ، نہ تجھ سے پہلے کوئی پروردگار تھا ، جس کی ہم پناہ لے لیں ، اور تجھے چھوڑ دیں ، اور ہماری تخلیق میں ، کسی نے تیری مدد نہیں کی ، کہ ہم اُس کو تیرا شریک بنا لیں ، تو برکت والا اور بلند و برتر ہے ۔‘‘ کعب کہتے ہیں : اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام یہ دعا کیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے اور وہ متروک ہے ۔

17401

Majma al-Zawaid #17401

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا بِدُعَاءٍ لَمْ يَسْمَعِ النَّاسُ مِثْلَهُ، وَاسْتَعَاذَ اسْتِعَاذَةً لَمْ يَسْمَعِ النَّاسُ مِثْلَهَا، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ: كَيْفَ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ نَدْعُوَ مِثْلَ مَا دَعَوْتَ، وَأَنْ نَسْتَعِيذَ كَمَا اسْتَعَذْتَ؟ فَقَالَ: "" قُولُوا: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ بِمَا سَأَلَكَ مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، وَنَسْتَعِيذُ بِمَا اسْتَعَاذَ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُحَبَّرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضi الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ stood, supplicated and sought refuge with words the people had never heard the like of; when asked how they might supplicate and seek refuge likewise, he instructed asking by what Muḥammad His servant and Messenger asked, and refuge by what His servant and Messenger sought refuge from. > **"O Allah, we ask You by what Muḥammad Your servant and Messenger asked You, and we seek refuge in what Your servant and Messenger sought refuge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے ، آپ نے دعا کی ، لوگوں نے ایسا کلام نہیں سنا تھا ، آپ نے پناہ مانگی ، لوگوں نے اس طرح کا کلام نہیں سنا تھا ، حاضرین میں سے کسی نے آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! جس طرح آپ نے دعا مانگی ہے ، اگر ہم اس طرح دعا مانگیں اور جس طرح آپ نے پناہ مانگی ہے ، اگر ہم اس طرح پناہ مانگیں تو ہمیں کیا ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ کہو : «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ بِمَا سَأَلَكَ مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، وَنَسْتَعِيذُ بِمَا اسْتَعَاذَ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ» ’’ اے اللہ ! بے شک ہم تجھ سے ، اس کے مطابق مانگتے ہیں ، جو تیرے بندے اور تیرے رسول حضرت محمد ﷺ نے تجھ سے مانگا ، اور ہم ہر اس چیز سے تیری پناہ مانگتے ہیں ، جس سے تیرے بندے اور تیرے رسول نے پناہ مانگی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن محبر ہے اور وہ متروک ہے ۔

17402

Majma al-Zawaid #17402

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا بِدُعَاءٍ كَثِيرٍ لَا نَحْفَظُهُ، ثُمَّ قَالَ: "" سَأُنْبِئُكُمْ بِشَيْءٍ يَجْمَعُ ذَلِكَ كُلَّهُ، تَقُولُونَ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِمَّا سَأَلَكَ مُحَمَّدٌ نَبِيُّكَ وَرَسُولُكَ، وَنَسْتَعِيذُكَ مِمَّا اسْتَعَاذَ بِهِ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāma رضi الله عنه reported that they were with the Messenger of Allah ﷺ when he supplicated at length beyond memorising; then he offered to inform of something gathering it all, asking from what Muḥammad his Prophet and Messenger asked and refuge from what he sought refuge from, with help sought from Him, conveyance upon Him, and no power but by Allah. > **"O Allah, we ask You from what Muḥammad Your Prophet and Messenger asked You, and we seek refuge in You from what Your Prophet Muḥammad Your servant and Messenger sought refuge from. You are the One whose help is sought, upon You is conveyance, and there is no power nor strength except by Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، آپ نے بہت زیادہ دعا کی ، جسے ہم یاد نہیں رکھ سکے پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں بتاتا ہوں ، جو اس ساری دعا کو جمع کر لے گی ، تم لوگ یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِمَّا سَأَلَكَ مُحَمَّدٌ نَبِيُّكَ وَرَسُولُكَ، وَنَسْتَعِيذُكَ مِمَّا اسْتَعَاذَ بِهِ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ” اے اللہ ! بے شک ہم تجھ سے وہ چیزیں مانگتے ہیں ، جو تیرے نبی اور تیرے رسول نے تجھ سے مانگی ہیں ، اور ہم ان چیزوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں ، جن سے تیرے نبی حضرت محمد ﷺ نے پناہ مانگی ہے ، جو تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، تجھ سے مدد مانگی جاتی ہے اور پہنچانا تیرے ذمہ ہے ، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17403

Majma al-Zawaid #17403

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" يَا عَلِيُّ، أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً تَدْعُو بِهِ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ عَدَدِ الذَّرِّ ذُنُوبًا غُفِرَتْ لَكَ، مَعَ أَنَّهُ مَغْفُورٌ لَكَ، قُلِ: اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَكَ تَبَارَكْتَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ حَبِيبٍ أَخُو حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said to ʿAlī رضي الله عنه, shall I not teach you a supplication by which even sins numbering particles would be forgiven, though already forgiven for you, addressing the Forbearing Generous with glorification and blessing as Lord of the mighty Throne. > **"O Allah, there is no god but You, the Forbearing, the Generous; glory be to You, blessed are You, Lord of the mighty Throne."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے علی ! کیا میں تمہیں ایسی دعا کی تعلیم نہ دوں ؟ کہ اگر تم وہ دعا کرو گے ، تو اگر تمہارے گناہ ذرات ( یا چیونٹیوں ) کی تعداد جتنے ہوں ، تو وہ بخش دیئے جائیں گے ، اگرچہ تمہاری مغفرت ہو چکی ہے ، تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَكَ تَبَارَكْتَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ» ’’ اے اللہ ! تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو بردبار ہے ، کرم کرنے والا ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، تو برکت والا ہے ، اے عظیم عرش کے پروردگار !“۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن حبیب ہے ، جو حمزہ زیات کا بھائی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

17404

Majma al-Zawaid #17404

وَعَنْ خَبَّابٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي، وَآمِنْ رَوْعَتِي وَاقْضِ عَنِّي دَيْنِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Khabbāb al-Khuzāʿī رضi الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say a supplication asking covering of faults, securing of fear, and settlement of debt. > **"O Allah, cover my fault, secure my fear, and settle my debt for me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خباب خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : «اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي، وَآمِنْ رَوْعَتِي وَاقْضِ عَنِّي دَيْنِي» ’’ اے اللہ ! میرے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی فرما ، اور میری پریشانیوں کو امان نصیب فرما ، اور میری طرف سے میرا قرض ادا کروا دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17405

Majma al-Zawaid #17405

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «بِحَسْبِ امْرِئٍ يَدْعُو أَنْ يَقُولَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ لَهِيعَةَ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Al-Sāʾib ibn Yazīd رضi الله عنه reported that the Prophet ﷺ used to say it suffices a man supplicating to say a brief supplication for forgiveness, mercy, and entry to Paradise. > **"O Allah, forgive me, have mercy on me, and admit me to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ فرمایا کرتے تھے : ’’ آدمی کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ دعا کرتے ہوئے یہ کہے : «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ» ’’ اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے ، تو مجھ پر رحم کر ، اور تو مجھے جنت میں داخل کر دینا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

17406

Majma al-Zawaid #17406

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا بِكَ مُطْمَئِنَّةً، تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ، وَتَرْضَى بِقَضَائِكَ، [وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ]» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāma رضi الله عنه reported that the Prophet ﷺ commanded saying a supplication asking for a soul tranquil in Him, believing in meeting Him, content with His decree and His grant. > **"O Allah, I ask You for a soul tranquil in You, believing in meeting You, content with Your decree, and satisfied with Your grant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا بِكَ مُطْمَئِنَّةً، تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ، وَتَرْضَى بِقَضَائِكَ، ( وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ )» ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے ایسے نفس کا سوال کرتا ہوں جو تیری ذات پر مطمئن ہو ، اور تیری بارگاہ میں حاضری پر ایمان رکھتا ہو ، اور تیری تقدیر کے فیصلے سے راضی ہو ، اور تیری عطاؤں پر قناعت کرتا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17407

Majma al-Zawaid #17407

وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ أَبِي عَسِيبٍ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُرَشَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَعِيرٍ فَنَادَتْ: يَا عَائِشَةُ، أَعِينِينِي بِدَعْوَةٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُسَكِّنِينِي أَوْ تُطَمْئِنِينِي، قَالَتْ لَهَا: ضَعِي يَدَكِ الْيُمْنَى عَلَى بَطْنِكِ فَامْسَحِيهِ، وَقُولِي: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ دَاوِنِي بِدَوَائِكَ، وَاشْفِنِي بِشِفَائِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ، وَاحْذَرْ عَنِّي أَذَاكَ، قَالَتْ رَبِيعَةُ: فَدَعَوْتُ بِهِ فَوَجَدْتُهُ جَيِّدًا. قَالَ الْمُنْتَجِعُ: فَأَرَى أَنَّ رَبِيعَةَ قَالَتْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الْمَرْأَةَ كَانَتْ غَيْرِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Maymūna bint Abī ʿUsayb, freedwoman of the Messenger of Allah رضي الله عنها, reported that a woman of Jurash came on a camel calling, O ʿĀʾisha, help me with a supplication of the Messenger ﷺ to settle or assure me; ʿĀʾisha رضي الله عنها told her to place her right hand upon her belly, wipe it, and say the healing supplication in Allah's Name for cure, healing, enrichment beyond others, and removal of harm; Rabīʿa said she supplicated with it and found it good, while al-Muntajaʿ thought Rabīʿa meant the woman was other than herself. > **"In the Name of Allah. O Allah, treat me with Your remedy, heal me with Your healing, enrich me by Your grace from any besides You, and ward Your harm from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ بنت ابوعسیب رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم ﷺ کی کنیز ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : ’’ حریش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اونٹ پر سوار ہو کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس نے بلند آواز میں کہا : اے عائشہ ! آپ نبی اکرم ﷺ کی دعا کے حوالے سے میری مدد کیجئے ، آپ مجھے سکون فراہم کیجیے ! ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) مجھے اطمینان فراہم کیجئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت سے کہا تم اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھو اور اس پر پھیرتے ہوئے یہ پڑھو : «بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ دَاوِنِي بِدَوَائِكَ، وَاشْفِنِي بِشِفَائِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ، وَاحْذَرْ عَنِّي أَذَاكَ» ’’ اے اللہ ! تو اپنی دوا کے ذریعے مجھے دوا دے ، اور اپنی شفا کے ذریعے مجھے شفا نصیب کر ، اور اپنے فضل کے ذریعے مجھے اپنے علاوہ ہر ایک سے بے نیاز کر دے ، اور مجھے کسی تکلیف کا شکار نہ کرنا ۔‘‘ ربیعہ نامی خاتون کہتی ہیں : میں نے یہ دعا کی ، تو میں نے اس دعا کو عمدہ پایا ، منتجع کہتے ہیں : میرا خیال ہے ربیعہ نامی خاتون نے اس روایت میں یہ بات بیان کی تھی : کہ اس عورت کے مزاج میں تیزی پائی جاتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17408

Majma al-Zawaid #17408

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاتَّبَعْتُهُ فَقَالَ: "" انْطَلِقْ بِنَا حَتَّى نَدْخُلَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ ""، فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا وَإِذَا هِيَ نَائِمَةٌ مُضْطَجِعَةٌ فَقَالَ: "" يَا فَاطِمَةُ، مَا يُنِيمُكِ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ ""، قَالَتْ: مَا زِلْتُ مُنْذُ الْبَارِحَةِ مَحْمُومَةً، قَالَ: "" فَأَيْنَ الدُّعَاءُ الَّذِي عَلَّمْتُكِ؟ "". قَالَتْ: نَسِيتُهُ، قَالَ: "" قَوْلِي: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهِ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ وَلَا إِلَى أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ سَلَمَةَ بْنِ حَرْبِ بْنِ زِيَادٍ الْكِلَابِيِّ، عَنْ أَبِي مُدْرِكٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَدْ ذَكَرَ الذَّهَبِيُّ سَلَمَةَ فِي الْمِيزَانِ فَقَالَ: مَجْهُولٌ كَشَيْخِهِ أَبِي مُدْرِكٍ، وَقَدْ وَثَّقَ ابْنُ حِبَّانَ سَلَمَةَ، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي تَرْجَمَتِهِ، وَفِي الْمِيزَانِ: أَبُو مُدْرِكٍ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: مَتْرُوكٌ، فَلَا أَدْرِي هُوَ أَبُو مُدْرِكٍ هَذَا أَوْ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضi الله عنه reported that they were with the Messenger of Allah ﷺ in the mosque until sunrise, when he went out followed by Anas to enter upon Fāṭima bint Muḥammad رضي الله عنها, found her lying asleep, asked what kept her sleeping at that hour, she complained of fever since last night, he asked after the supplication taught to her, she said she forgot it, and he instructed the Ever-Living Sustainer plea for mercy-aided rectitude of all affairs and non-entrustment to self or people for a blink. > **"O Ever-Living, O Sustainer, by Your mercy I seek aid; rectify for me all my affairs, and do not entrust me to myself for the blink of an eye, nor to anyone among people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مسجد میں موجود تھے ، یہاں تک کہ جب سورج طلوع ہوا تو نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لے گئے ، میں آپ کے پیچھے گیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ہمارے ساتھ چلو ! تاکہ ہم فاطمہ بنت محمد کے ہاں جائیں ، حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم ان کے گھر گئے تو وہ سو رہی تھیں اور لیٹی ہوئی تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے فاطمہ ! یہ سونے کا کون سا وقت ہے ؟ انہوں نے عرض کی : مجھے گزشتہ رات بخار رہا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس دعا کا کیا بنا ؟ جو میں نے تمہیں تعلیم دی تھی ، انہوں نے عرض کی : وہ میں بھول گئی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ پڑھو : «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهِ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ وَلَا إِلَى أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ» ’’ یا حی ! یا قیوم ! میں تیری رحمت کے وسیلے سے مدد مانگتا ہوں کہ تو میرے تمام کاموں کو ٹھیک کر دے اور مجھے پلک جھپکنے کے عرصے کے لیے بھی میری ذات کے سپرد نہ کرنا ، یا لوگوں میں سے کسی ایک کے سپرد نہ کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، یہ سلمہ بن حرب بن زیاد کلابی کے حوالے سے ، ابومدرک کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، امام ذہبی نے سلمہ کا ذکر ’’ میزان الاعتدال ‘‘ میں کیا ہے ، اور یہ بات کہی ہے : یہ اپنے استاد ابومدرک کی طرح مجہول ہے ، ابن حبان نے سلمہ کو ثقہ قرار دیا ہے ، انہوں نے اس کے حالات میں اس کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہے ’’ میزان الاعتدال ‘‘ میں یہ مذکور ہے : ابومدرک امام دارقطنی کہتے ہیں : یہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) مجھے نہیں معلوم کہ اس سے مراد یہی ابومدرک ہے یا کوئی اور ہے ؟ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17409

Majma al-Zawaid #17409

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" اللَّهُمَّ لَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَلَا تَنْزِعْ مِنِّي صَالِحَ مَا أَعْطَيْتَنِي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضi الله عنهما reported that among the supplication of the Prophet ﷺ was a plea not to be entrusted to himself for a blink nor to be stripped of sound gifts granted. > **"O Allah, do not entrust me to myself for the blink of an eye, and do not strip from me the sound of what You granted me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی دعا یہ ہوتی تھی : «اللَّهُمَّ لَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَلَا تَنْزِعْ مِنِّي صَالِحَ مَا أَعْطَيْتَنِي» ’’ اے اللہ ! تو مجھے پلک جھپکنے کے عرصے کے لیے بھی میرے نفس کے سپرد نہ کرنا اور تو نے مجھے جو کچھ عطا کیا ہے ، اس میں سے جو صالح ہے وہ مجھ سے الگ نہ کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے اور وہ متروک ہے ۔

17410

Majma al-Zawaid #17410

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: "" اللَّهُمَّ - أَحْسَبُهُ قَالَ: أَسْأَلُكَ إِيمَانًا يُبَاشِرُ قَلْبِي حَتَّى أَعْلَمَ أَنْ لَا يُصِيبَنِي إِلَّا مَا كَتَبْتَ لِي، وَرِضًا مِنَ الْمَعِيشَةِ بِمَا قَسَمْتَ لِي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضi الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ used to supplicate with words, the narrator thinking he said, asking for faith touching the heart until knowing only the decreed befalls, and contentment in livelihood with the apportionment. > **"O Allah, I ask You for faith touching my heart until I know that nothing befalls me except what You decreed for me, and contentment in livelihood with what You apportioned for me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ان کلمات کے ہمراہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ - أَحْسَبُهُ قَالَ: أَسْأَلُكَ إِيمَانًا يُبَاشِرُ قَلْبِي حَتَّى أَعْلَمَ أَنْ لَا يُصِيبَنِي إِلَّا مَا كَتَبْتَ لِي، وَرِضًا مِنَ الْمَعِيشَةِ بِمَا قَسَمْتَ لِي» ” اے اللہ ! ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں ، جو میرے دل کے ساتھ مل جائے ، یہاں تک کہ مجھے یہ علم ہو جائے کہ مجھے وہی چیز نصیب ہو گی ، جو تو نے میرے لیے تحریر کی ہے ، اور تو نے جو چیز زندگی میں سے میرے حصے میں رکھی ہے ، اُس سے مجھے راضی کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہدی سعید بن سنان ہے اور وہ حدیث میں ضعیف ہے ۔

17411

Majma al-Zawaid #17411

وَعَنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: " «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِي فِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَفِي آخِرَتِي الَّتِي إِلَيْهَا مَصِيرِي، وَفِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا بَلَاغِي، وَاجْعَلْ حَيَاتِي زِيَادَةً فِي كُلِّ خَيْرٍ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ» " رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدٍ جَزَرَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr رضi الله عنه reported that the Prophet ﷺ used to say a supplication asking blessing in religion which guards affairs, in the Hereafter which is the destination, in the world which is conveyance, with life made increase in every good and death made rest from every evil. > **"O Allah, bless for me my religion which guards my affair, my Hereafter which is my destination, and my world wherein is my conveyance; make my life increase in every good, and make death rest for me from every evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِي فِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَفِي آخِرَتِي الَّتِي إِلَيْهَا مَصِيرِي، وَفِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا بَلَاغِي، وَاجْعَلْ حَيَاتِي زِيَادَةً فِي كُلِّ خَيْرٍ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ» ’’ اے اللہ ! تو میرے دین میں ، میرے لئے برکت رکھ دے ، جو میرے معاملے کے بچاؤ کا باعث ہے ، اور میری آخرت میں ، میرے لئے برکت رکھ دے ، جس کی طرف میں نے لوٹ کے جانا ہے ، اور میری دنیا میں ، میرے لئے برکت رکھ دے ، جس میں میرا بلاغ ہے ، اور میری زندگی کو ہر بھلائی میں اضافہ ( کا باعث ) بنا دے اور میری موت کو ، میرے لیے ہر شر سے راحت کا باعث بنا دے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف صالح بن محمد جزرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17412

Majma al-Zawaid #17412

وَعَنْ بُرَيْدَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي شَكُورًا، وَاجْعَلْنِي صَبُورًا، وَاجْعَلْنِي فِي عَيْنِي صَغِيرًا، وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ كَبِيرًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصَمُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَحَسَّنَ الْبَزَّارُ حَدِيثَهُ.

EnglishUnverified translation

Burayda رضi الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say a supplication asking to be made grateful, patient, small in his own eyes and great in people's eyes. > **"O Allah, make me grateful, make me patient, make me small in my own eyes and great in people's eyes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : ’’ «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي شَكُورًا، وَاجْعَلْنِي صَبُورًا، وَاجْعَلْنِي فِي عَيْنِي صَغِيرًا، وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ كَبِيرًا» ’’ اے اللہ ! تو مجھے شکر کرنے والا بنا دے اور تو مجھے صبر کرنے والا بنا دے اور تو مجھے اپنی آنکھوں میں چھوٹا بنا دے ( یعنی مجھے ایسا بنا دے کہ میں تکبر کا شکار نہ ہوؤں اور عاجزی و انکساری کے ساتھ رہوں ) اور لوگوں کی آنکھوں میں بڑا بنا دے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن عبداللہ اصم ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام بزار نے اپنی حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔

17413

Majma al-Zawaid #17413

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَوْ غَيْرِهِ: «أَنْ حُصَيْنًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، لَعَبْدُ الْمُطَّلِبِ كَانَ خَيْرًا لِقَوْمِهِ مِنْكَ، كَانَ يُطْعِمُهُمُ الْكَبِدَ وَالسَّنَامَ، وَأَنْتَ تَنْحَرُهُمْ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ لَهُ وَقَالَ لَهُ: مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَقُولَ؟ قَالَ: "" قُلِ: اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي "". فَانْطَلَقَ فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: إِنِّي أَتَيْتُكَ فَقُلْتُ لِي: "" قُلِ: اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي ""، فَمَا أَقُولُ الْآنَ؟ قَالَ: "" قُلِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ، وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَهِلْتُ» ""، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn, or another, reported that Ḥuṣayn came to the Prophet ﷺ reproaching that ʿAbd al-Muṭṭalib fed liver and hump while he slaughtered his people; the Prophet ﷺ answered as Allah willed, and when asked what to say, instructed a supplication shielding from the soul's evil and resolving to the soundest affair; the man departed, embraced Islam, returned asking what to say now, and was instructed a supplication forgiving secret, open, error, intention, known, and unknown. > **"O Allah, shield me from the evil of my soul, and resolve for me to the soundest of my affair. O Allah, forgive me what I concealed and what I disclosed, what I erred in and what I intended, what I knew and what I was ignorant of."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ یا شاید کوئی اور بیان کرتے ہیں : حضرت حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! جناب عبدالمطلب اپنی قوم کے لئے آپ سے بہتر تھے ، وہ انہیں جگر اور کوہان ( کا گوشت وغیرہ ) کھلایا کرتے تھے اور آپ ان لوگوں کو قربان کر رہے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ، جو اللہ کو منظور تھا ، وہ اُن سے فرمایا ، حضرت حصین رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ کہ میں کیا پڑھوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي» ’’ اے اللہ ! مجھے میری ذات کے شر سے بچا لے ، اور مجھے میرے معاملے کے بارے میں سب سے زیادہ ہدایت والے طریقے پر پختہ کر دے ۔‘‘ پھر وہ صاحب چلے گئے ، انہوں نے اسلام قبول کر لیا پھر وہ آئے اور بولے : میں آپ کے پاس آیا تھا اور آپ نے مجھ سے یہ کہا تھا تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي» ’’ اے اللہ ! مجھے میری ذات کے شر سے بچا لے ، اور مجھے میرے معاملے کے بارے میں سب سے زیادہ ہدایت والے طریقے پر پختہ کر دے ۔‘‘ اب مجھے کیا پڑھنا چاہیے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ، وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَهِلْتُ» ’’ اے اللہ ! تو مغفرت کر دے اس چیز کی ، جو میں نے پوشیدہ طور پر کیا اور اس کی جو میں نے اعلانیہ طور پر کیا ، اس کی جو میں نے غلطی سے کیا ، اس کی جو میں نے جان بوجھ کر کیا ، اس کی جو میں جانتا ہوں ، اور اس کی جس سے میں ناواقف ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

17414

Majma al-Zawaid #17414

وَعَنْ ثَوْبَانَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ، وَإِنْ أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً أَنْ تَقْبِضَنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Thawbān رضi الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say a supplication asking for pure things, abandoning denials, love of the poor, repentance upon him, and seizure untested if trial is intended for servants. > **"O Allah, I ask You for pure things, abandoning denials, love of the poor, and that You turn to me; and if You intend trial for Your servants, seize me untested."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ، وَإِنْ أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً أَنْ تَقْبِضَنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزیں مانگتا ہوں اور منکرات کو ترک کرنے اور غریبوں سے محبت رکھنے ( کا سوال کرتا ہوں ) اور یہ کہ تو میری توبہ قبول فرما ! اور جب تو اپنے بندوں کو آزمائش کا شکار کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے ایسی حالت میں وفات دینا کہ میں آزمائش کا شکار نہ ہوا ہوؤں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17415

Majma al-Zawaid #17415

وَعَنْ مَكْحُولٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَذْكُرُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو: "" اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الْمَدَنِيِّينَ، وَهِيَ ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

Makḥūl reported that he entered upon Anas ibn Mālik رضi الله عنه and heard him mention that the Messenger of Allah ﷺ used to supplicate for benefit in teaching and teaching of benefit. > **"O Allah, benefit me by what You taught me, and teach me what benefits me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مکحول بیان کرتے ہیں : وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ کہتے ہیں : میں نے انہیں یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي» ’’ اے اللہ ! تو نے مجھے جو علم دیا ہے ، اس کے حوالے سے مجھے نفع عطا فرما اور مجھے اُس چیز کا علم عطا فرما ، جو مجھے نفع دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اسماعیل بن عیاش کی ، اہل مدینہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہ روایت ضعیف ہے ۔

17416

Majma al-Zawaid #17416

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: " «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ» ".

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ used to say a supplication asking for beneficial knowledge and seeking refuge from knowledge that does not benefit. > **"O Allah, I ask You for beneficial knowledge, and I seek refuge in You from knowledge that does not benefit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ» ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے نفع دینے والا علم مانگتا ہوں ، اور ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو نفع نہ دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

17417

Majma al-Zawaid #17417

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ""، قُلْتُ: لِجَابِرٍ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ: "" سَلُوا اللَّهَ عِلْمًا نَافِعًا» ""، وَهُنَا أَنَّهُ سَأَلَ بِنَفْسِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say a supplication for beneficial knowledge and refuge from unbeneficial knowledge, in his own person. > **"O Allah, I ask You for beneficial knowledge, and I seek refuge in You from knowledge that does not benefit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ» ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے نفع دینے والے علم کا سوال کرتا ہوں ، اور ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو نفع نہ دے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : «سَلُوا اللَّهَ عِلْمًا نَافِعًا» ’’ تم لوگ اللہ تعالیٰ سے نفع دینے والا علم مانگو ۔‘‘ جبکہ یہاں جو یہ روایت نقل ہوئی ہے ، اس میں یہ مذکور ہے کہ نبی اکرم ﷺ بذات خود یہ دعا مانگا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17418

Majma al-Zawaid #17418

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying a supplication for beneficial knowledge and an accepted deed. > **"O Allah, I ask You for beneficial knowledge and an accepted deed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا» ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے نفع دینے والے علم اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17419

Majma al-Zawaid #17419

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: "" «وَاقِيَةً كَوَاقِيَةِ الْوَلِيدِ» "". قَالَ أَبُو يَعْلَى: يَعْنِي الْمَوْلُودَ، وَكَذَا فَسَّرَ لَنَا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ used to say in his supplication a phrase asking for a protection like the protection of the newborn child. > **"A protection like the protection of the newborn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ دعا میں یہ پڑھا کرتے تھے : ’’ ایسا بچاؤ جیسے بچے کا بچاؤ ہوتا ہے ۔‘‘ امام ابویعلیٰ کہتے ہیں : یعنی ( نو ) مولود ، ہمارے سامنے اسی طرح وضاحت بیان کی گئی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17420

Majma al-Zawaid #17420

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوْسَعَ رِزْقِكَ عَلَيَّ عِنْدَ كِبَرِ سِنِّي، وَانْقِطَاعِ عُمُرِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say a supplication asking for the most ample provision at old age and at the ending of life. > **"O Allah, make the most ample of Your provision upon me at my old age and at the ending of my life."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوْسَعَ رِزْقِكَ عَلَيَّ عِنْدَ كِبَرِ سِنِّي، وَانْقِطَاعِ عُمُرِي» ’’ اے اللہ ! میری عمر زیادہ ہونے کے وقت اور میری عمر منقطع ہونے کے وقت مجھے اپنا وسیع ترین رزق عطا فرمانا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17421

Majma al-Zawaid #17421

وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ بَعْدَ الْعِشَاءِ، قَالَ: مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟! قُلْتُ: إِنِّي أُحِبُّكَ، قَالَ: اللَّهِ إِنَّكَ تُحِبُّنِي؟! قُلْتُ: نَعَمْ، وَاللَّهِ إِنِّي أُحِبُّكَ، فَقَالَ: «أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً عَلَّمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: "" قُلِ: اللَّهُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِي لِذِكْرِكَ، وَارْزُقْنِي طَاعَتَكَ، وَطَاعَةَ رَسُولِكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَمَلًا بِكِتَابِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْحَارِثُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥārith al-Aʿwar reported that he entered upon ʿAlī رضي الله عنه after ʿishāʾ, declared his love for him, and ʿAlī offered to teach him a supplication taught to him by the Messenger of Allah ﷺ about opening the heart and granting obedience. > **"O Allah, open the hearings of my heart to Your remembrance, and grant me obedience to You, obedience to Your Messenger ﷺ, and action by Your Book."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارث اعور بیان کرتے ہیں : میں عشاء کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو انہوں نے دریافت کیا : تم اس وقت کس سلسلے میں آئے ہو ، میں نے جواب دیا : میں آپ سے محبت رکھتا ہوں ، انہوں نے دریافت کیا : کیا اللہ کی قسم ! تم واقعی مجھ سے محبت رکھتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں ، تو انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس دعا کی تعلیم نہ دوں ، جس کی تعلیم ، نبی اکرم ﷺ نے مجھے دی تھی ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِي لِذِكْرِكَ، وَارْزُقْنِي طَاعَتَكَ، وَطَاعَةَ رَسُولِكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَمَلًا بِكِتَابِكَ» ’’ اے اللہ ! میرے دل کے مسامع کو اپنے ذکر کے لئے کھول دے اور مجھے اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری اور اپنی کتاب پر عمل نصیب فرما ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور حارث نامی راوی ضعیف ہے ۔

17422

Majma al-Zawaid #17422

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ: اللَّهُمَّ لَقِّنِي حُجَّتِي ; فَإِنَّ الْكَافِرَ يَلْقَى حُجَّتَهُ، وَلَكِنْ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَقِّنِي حُجَّةَ الْإِيمَانِ عِنْدَ الْمَوْتِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade saying an unrestricted request for prompting of proof, since even the disbeliever meets his proof, and instructed instead to ask for the proof of faith at death. > **"O Allah, prompt me the proof of faith at death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی ایک شخص یہ ہرگز نہ کہے : اے اللہ ! تو مجھے میری حجت تلقین فرما ، کیونکہ کافر شخص کو اس کی حجت تلقین کی جاتی ہے بلکہ آدمی کو یہ پڑھنا چاہیے : «اللَّهُمَّ لَقِّنِي حُجَّةَ الْإِيمَانِ عِنْدَ الْمَوْتِ» ’’ اے اللہ ! تو موت کے وقت مجھے ایمان کی حجت تلقین فرمانا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17423

Majma al-Zawaid #17423

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «لَمَّا وَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْحَبَشَةِ شَيَّعَهُ وَزَوَّدَهُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: "" اللَّهُمَّ الْطُفْ بِي فِي تَيْسِيرِ كُلِّ عَسِيرٍ ; فَإِنَّ تَيْسِيرَ كُلِّ عَسِيرٍ عَلَيْكَ يَسِيرٌ، وَأَسْأَلُكَ الْيُسْرَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reported that when the Messenger of Allah ﷺ dispatched Jaʿfar ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه to Abyssinia, he accompanied him and provisioned him with words asking for gentleness in every difficulty and for ease and well-being in this world and the Hereafter. > **"O Allah, be gentle with me in easing every difficulty, for easing every difficulty upon You is easy, and I ask You for ease and well-being in this world and the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو حبشہ کی طرف بھیجا ، تو آپ ان کے ساتھ چلتے ہوئے کچھ دور تک گئے اور انہیں زادراہ کے طور پر یہ کلمات تعلیم دیے : «اللَّهُمَّ الْطُفْ بِي فِي تَيْسِيرِ كُلِّ عَسِيرٍ ; فَإِنَّ تَيْسِيرَ كُلِّ عَسِيرٍ عَلَيْكَ يَسِيرٌ، وَأَسْأَلُكَ الْيُسْرَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ’’ اے اللہ ! مجھ پر یہ مہربانی فرمانا ، کہ ہر مشکل آسان کر دینا ، کیونکہ ہر مشکل کو آسان کر دینا ، تیرے لئے آسان ہے ، اور میں دنیا اور آخرت میں آسانی اور معافی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17424

Majma al-Zawaid #17424

وَعَنْ أَبِي بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: «قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا بُرَيْدَةُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا عَلَّمَهُ إِيَّاهُنَّ، ثُمَّ لَمْ يَنْسَهُنَّ أَبَدًا؟ ""، قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِي رِضَاكَ ضَعْفِي، وَخُذْ إِلَى الْخَيْرِ بِنَاصِيَتِي، وَاجْعَلِ الْإِسْلَامَ مُنْتَهَى رِضَائِي، اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّنِي، وَإِنِّي ذَلِيلٌ فَأَعِزَّنِي، وَإِنِّي فَقِيرٌ فَأَغْنِنِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abū Burayda al-Aslamī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said to him, O Burayda, shall I not teach you words which whomever Allah intends good for He teaches him, then he never forgets them, concerning weakness, forelock, contentment, strength, honour, and enrichment. > **"O Allah, I am weak, so strengthen my weakness in Your pleasure, take my forelock toward good, make Islam the utmost of my contentment. O Allah, I am weak, so strengthen me; I am lowly, so honour me; I am poor, so enrich me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ’’ اے بریدہ ! کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، اُسے ان کلمات کی تعلیم عطا کرتا ہے ، اور پھر وہ بندہ اُن کو کبھی نہیں بھولتا ، راوی کہتے ہیں ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِي رِضَاكَ ضَعْفِي، وَخُذْ إِلَى الْخَيْرِ بِنَاصِيَتِي، وَاجْعَلِ الْإِسْلَامَ مُنْتَهَى رِضَائِي، اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّنِي، وَإِنِّي ذَلِيلٌ فَأَعِزَّنِي، وَإِنِّي فَقِيرٌ فَأَغْنِنِي» ” اے اللہ ! بے شک میں کمزور ہوں ، اپنی رضامندی کے بارے میں تو میری کمزوری کو قوت دیدے اور میری پیشانی کو بھلائی کی طرف لے جا ، اور اسلام کو میری رضامندی کی آخری حد بنا دے ، اے اللہ ! بے شک میں کمزور ہوں ، تو مجھے قوت عطا فرما ، میں مغلوب ہوں ، تو مجھے غلبہ عطا فرما ! میں غریب ہوں ، تو مجھے خوشحال کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

17425

Majma al-Zawaid #17425

وَعَنْ سَمُرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو: "" «اللَّهُمَّ ضَعْ فِي أَرْضِنَا بَرَكَتَهَا، وَزِينَتَهَا، وَسَكَنَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Samura رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ used to supplicate asking that blessing, adornment, and tranquillity be placed in their land. > **"O Allah, place in our land its blessing, its adornment, and its tranquillity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ ضَعْ فِي أَرْضِنَا بَرَكَتَهَا، وَزِينَتَهَا، وَسَكَنَهَا» ’’ اے اللہ ! ہماری زمین میں اس کی برکت ، اس کی زینت اور اس کا سکون رکھ دے ( یا شاید یہاں باسی مراد ہوں ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

17426

Majma al-Zawaid #17426

عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَمَّا أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ إِلَى الْأَرْضِ قَامَ وَجَاءَ الْكَعْبَةَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَلْهَمَهُ اللَّهُ هَذَا الدُّعَاءَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ سَرِيرَتِي وَعَلَانِيَتِي، فَاقْبَلْ مَعْذِرَتِي، وَتَعْلَمُ حَاجَتِي فَأَعْطِنِي سُؤْلِي، وَتَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا يُبَاشِرُ قَلْبِي، وَيَقِينًا صَادِقًا حَتَّى أَعْلَمَ أَنَّهُ لَا يُصِيبُنِي إِلَّا مَا كَتَبْتَ لِي، وَرِضًا بِمَا قَسَمْتَ لِي "". قَالَ: "" فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: يَا آدَمُ، قَدْ قَبِلْتُ تَوْبَتَكَ، وَغَفَرْتُ ذَنْبَكَ، وَلَنْ يَدْعُوَنِي أَحَدٌ بِهَذَا الدُّعَاءِ إِلَّا غَفَرْتُ لَهُ ذَنْبَهُ، وَكَفَيْتُهُ الْمُهِمَّ مِنْ أَمْرِهِ، وَزَجَرْتُ عَنْهُ الشَّيْطَانَ، وَاتَّجَرْتُ لَهُ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تَاجِرٍ، وَأَقْبَلَتْ إِلَيْهِ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ وَإِنْ لَمْ يُرِدْهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ طَاهِرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ said that when Allah sent Adam عليه السلام down to the earth, he stood, came to the Kaʿba, prayed two rakʿas, and Allah inspired him with a supplication of confession of need, forgiveness, penetrating faith, true certainty, and contentment; then Allah revealed to him acceptance of repentance and promise of forgiveness, sufficiency, repelling of Satan, trade beyond traders, and the coming of the world humbled, for whoever supplicates with it. > **"O Allah, You know my secret and my open, so accept my excuse; You know my need, so grant me my request; You know what is in my soul, so forgive my sin. O Allah, I ask You for faith that touches my heart, true certainty until I know that nothing befalls me except what You decreed for me, and contentment with what You apportioned for me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر نازل کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑے ہوئے اور انہوں نے دو رکعت ادا کیں ، اس وقت اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ دعا الہام کی : «اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ سَرِيرَتِي وَعَلَانِيَتِي، فَاقْبَلْ مَعْذِرَتِي، وَتَعْلَمُ حَاجَتِي فَأَعْطِنِي سُؤْلِي، وَتَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا يُبَاشِرُ قَلْبِي، وَيَقِينًا صَادِقًا حَتَّى أَعْلَمَ أَنَّهُ لَا يُصِيبُنِي إِلَّا مَا كَتَبْتَ لِي، وَرِضًا بِمَا قَسَمْتَ لِي» ’’ اے اللہ ! تو میرے پوشیدہ اور علانیہ معاملے کے بارے میں علم رکھتا ہے ، تو میری معذرت قبول کر لے ، تو میری حاجت کے بارے میں علم رکھتا ہے ، تو مجھے وہ عطا کر دے جو میں مانگتا ہوں اور تو وہ جانتا ہے جو میرے من میں ہے ، تو میرے گناہ کی مغفرت کر دے ، اے اللہ ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جو میرے دل میں رچ بس جائے ، اور سچے یقین کا سوال کرتا ہوں ، یہاں تک کہ میں یہ بات جان لوں کہ مجھے صرف وہی صورتحال لاحق ہو گی ، جو تو نے میرے بارے میں طے کر دی ہے ، اور تو نے ( تقدیر میں ) جو میرے حصے میں مقرر کیا ہے ، اس لئے رضامندی ( کا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ) ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ یہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی طرف وحی کی اور فرمایا : اے آدم ! میں نے تمہاری توبہ قبول کر لی ہے ، اور تمہارے گناہ کی مغفرت کر دی ہے ، اور جو بھی شخص مجھ سے یہ دعا کرے گا ، میں اس کے گناہوں کی مغفرت کر دوں گا اور اس کی تمام پریشانیوں میں ، اس کے لئے کفایت کر دوں گا ، اور شیطان کو اس سے پرے کر دوں گا ، اور ہر تجارت کرنے والے سے ماورا ہو کر اس کے لیے تجارت کروں گا ، اور دنیا سرنگوں ہو کر اس کی طرف آئے گی ، اگرچہ اس شخص کا دنیا کا ارادہ نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر بن طاہر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17427

Majma al-Zawaid #17427

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُعَلِّمُكَ الْكَلِمَاتِ الَّتِي تَكَلَّمَ بِهَا مُوسَى حِينَ جَاوَزَ الْبَحْرَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ؟ ""، فَقُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" قُولُوا: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، وَإِلَيْكَ الْمُشْتَكَى، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ»، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ شَقِيقٌ: فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ الْأَعْمَشُ: مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ شَقِيقٍ. قَالَ الْأَعْمَشُ: فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي فَقَالَ: يَا سُلَيْمَانُ، زِدْ فِي هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: وَنَسْتَعِينُكَ عَلَى فَسَادٍ فِينَا، وَنَسْأَلُكَ صَلَاحَ أَمْرِنَا كُلِّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ offered to teach the words spoken by Mūsā عليه السلام when he crossed the sea with Banū Isrāʾīl, and they accepted; ʿAbdullāh never abandoned them since hearing them from the Messenger ﷺ, Shaqīq never abandoned them since hearing them from ʿAbdullāh, al-Aʿmash never abandoned them since hearing them from Shaqīq, and a visitor in a dream told al-Aʿmash, O Sulaymān, to add a request for help against inner corruption and rectitude of all affairs. > **"O Allah, to You is praise, to You is complaint, You are the One whose help is sought, and there is no power nor strength except by Allah the Most High the Most Great."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں اُن کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت پڑھے تھے جب وہ بنی اسرائیل کے ساتھ دریا کو عبور کر رہے تھے ، ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، وَإِلَيْكَ الْمُشْتَكَى، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ» ’’ اے اللہ ! حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے اور تیری بارگاہ میں شکایت کی جا سکتی ہے ، تجھ سے مدد مانگی جا سکتی ہے ، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ، جو بلند و برتر اور عظمت والا ہے ۔‘‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب سے میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ کلمات سنے ہیں ، انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔ شقیق بیان کرتے ہیں : جب سے میں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ کلمات سنے ہیں ، میں نے انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔ اعمش بیان کرتے ہیں : جب سے میں نے شقیق کی زبانی یہ کلمات سنے ہیں ، میں نے انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔ اعمش بیان کرتے ہیں : خواب میں کوئی شخص میرے پاس آیا اور بولا : اے سلیمان ! ان کلمات میں ان الفاظ کا اضافہ کر لو : «وَنَسْتَعِينُكَ عَلَى فَسَادٍ فِينَا، وَنَسْأَلُكَ صَلَاحَ أَمْرِنَا كُلِّهِ» ’’ اور ہم اپنے اندر موجود فساد کے بارے میں ، تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور اپنے ہر معاملے کی بہتری کا تجھ سے سوال کرتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17428

Majma al-Zawaid #17428

عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِإِلَهٍ اسْتَحْدَثْنَاهُ، وَلَا بِرَبٍّ ابْتَدَعْنَاهُ، وَلَا كَانَ لَنَا قَبْلَكَ إِلَهٌ نَلْجَأُ إِلَيْهِ وَنَذَرُكَ، وَلَا أَعَانَكَ عَلَى خَلْقِنَا أَحَدٌ فَنُشْرِكُهُ فِيكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ». قَالَ كَعْبٌ: وَهَكَذَا كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ دَاوُدُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ṣuhayb رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ used to supplicate affirming that Allah is no newly invented deity nor contrived lord, with no god before Him to resort to, and no helper in creation to associate with Him; Kaʿb added that thus used to supplicate Dāwud the Prophet of Allah عليه السلام. > **"O Allah, You are no deity we newly made, nor a lord we contrived, nor was there for us before You a god to resort to and leave You, nor did anyone help You in creating us that we should associate him with You. Blessed are You and Exalted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ دعا کرتے ہوئے یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِإِلَهٍ اسْتَحْدَثْنَاهُ، وَلَا بِرَبٍّ ابْتَدَعْنَاهُ، وَلَا كَانَ لَنَا قَبْلَكَ إِلَهٌ نَلْجَأُ إِلَيْهِ وَنَذَرُكَ، وَلَا أَعَانَكَ عَلَى خَلْقِنَا أَحَدٌ فَنُشْرِكُهُ فِيكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ» ’’ اے اللہ ! تو کوئی ایسا معبود نہیں ہے ، جسے ہم نے بنایا ہو ، اور تو کوئی ایسا پروردگار نہیں ہے ، جسے ہم نے ایجاد کیا ہو ، تجھ سے پہلے ہمارا کوئی اور پروردگار نہیں تھا ، جس کی ہم پناہ میں جاتے اور تجھے چھوڑ دیتے ، اور ہماری تخلیق میں کسی نے تیری مدد نہیں کی ہے کہ ہم اس کو تیرا شریک قرار دیتے ، تو برکت والا ہے اور بلند و برتر ہے ۔‘‘ کعب بیان کرتے ہیں : اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام یہ دعا پڑھا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے اور وہ متروک ہے ۔

17429

Majma al-Zawaid #17429

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ مِنْ دُعَاءِ دَاوُدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مَالٍ يَكُونُ عَلَيَّ فِتْنَةً، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ وَبَالًا، وَمِنْ مِرْآةِ السُّوءِ ; تُقَرِّبُ الشَّيْبَ قَبْلَ الْمَشِيبِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ سُوءٍ تَرْعَانِي عَيْنَاهُ ; وَتَسْمَعُنِي أُذُنَاهُ، إِنْ رَأَى حَسَنَةً دَفَنَهَا، وَإِنْ رَأَى سَيِّئَةً أَذَاعَهَا "". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" جَارُ السُّوءِ فِي دَارِ الْإِقَامَةِ قَاصِمَةُ الظَّهْرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that among the supplication of Dāwud the Prophet عليه السلام was refuge from wealth that becomes trial, offspring that becomes woe, the evil mirror that brings grey hair before old age, and the evil neighbour whose eyes watch and ears listen, burying good and spreading evil; and the Messenger of Allah ﷺ said that an evil neighbour in the abode of residence breaks the back. > **"O Allah, I seek refuge in You from wealth that is a trial upon me, from offspring that is a woe upon me, from the evil mirror that brings grey hair before old age, and I seek refuge in You from an evil neighbour whose eyes watch me and whose ears listen to me; if he sees good he buries it, and if he sees evil he spreads it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت داؤد علیہ السلام یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مَالٍ يَكُونُ عَلَيَّ فِتْنَةً، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ وَبَالًا، وَمِنْ مِرْآةِ السُّوءِ ; تُقَرِّبُ الشَّيْبَ قَبْلَ الْمَشِيبِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ سُوءٍ تَرْعَانِي عَيْنَاهُ ; وَتَسْمَعُنِي أُذُنَاهُ، إِنْ رَأَى حَسَنَةً دَفَنَهَا، وَإِنْ رَأَى سَيِّئَةً أَذَاعَهَا» ’’ اے اللہ ! میں ایسے مال سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو میرے لئے فتنہ بن جائے اور ایسی اولاد سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو میرے لیے وبال بن جائے ، اور برائی کے آئینے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو بڑھاپے کی آمد سے پہلے بڑھاپے کو قریب کر دے ، اور میں برے پڑوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جس کی آنکھیں مجھ پر رہیں ، اور جس کے کان میری طرف متوجہ رہیں ، وہ اگر کوئی اچھائی دیکھے تو اسے دفن کر دے اور اگر کوئی برائی دیکھے تو اسے پھیلا دے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیام کی جگہ میں برا پڑوی کمر توڑ دیتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17430

Majma al-Zawaid #17430

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا دَعَوْنَا قُلْنَا: اللَّهُمَّ اجْعَلْ عَلَيْنَا صَلَاةَ قَوْمٍ أَبْرَارٍ، لَيْسُوا بِأَئِمَّةٍ وَلَا فُجَّارٍ، يَقُومُونَ اللَّيْلَ، وَيَصُومُونَ النَّهَارَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ، وَثَّقَهُ أَبُو نُعَيْمٍ وَغَيْرُهُ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that when they supplicated they used to say, asking for the prayer of a righteous people upon them, neither sinful leaders nor wicked, who stand by night and fast by day. > **"O Allah, place upon us the prayer of a righteous people, neither leaders of sin nor wicked, who stand the night and fast the day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم دعا کرتے تھے تو ہم یہ کہتے تھے : «اللَّهُمَّ اجْعَلْ عَلَيْنَا صَلَاةَ قَوْمٍ أَبْرَارٍ، لَيْسُوا بِأَئِمَّةٍ وَلَا فُجَّارٍ، يَقُومُونَ اللَّيْلَ، وَيَصُومُونَ النَّهَارَ» ’’ اے اللہ ! نیک لوگوں کا درود ( یعنی ان پر نازل ہونے والی رحمت ) ہم پر نازل فرما ، وہ نیک لوگ جو نہ گناہگار ہیں ، نہ فاجر ہیں ، جو راتوں کو نوافل پڑھتے ہیں اور دن میں روزے رکھتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن سعد ہے ، جسے ابونعیم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔