Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 41 · Chapter 5

Book of Supplications

Hadith 17351–17390

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17351

Majma al-Zawaid #17351

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا اسْتَعَاذَ عَبْدٌ مِنَ النَّارِ سَبْعًا إِلَّا قَالَتِ النَّارُ: اللَّهُمَّ أَعِذْهُ مِنِّي، وَلَا سَأَلَ الْجَنَّةَ سَبْعًا إِلَّا قَالَتِ الْجَنَّةُ: اللَّهُمَّ أَسْكِنْهُ إِيَّايَ» ""، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said that no servant seeks refuge from the Fire seven times but the Fire asks Allah to shelter him, and none asks Paradise seven times but Paradise asks Allah to lodge him therein, or words to that effect. > **"No servant seeks refuge from the Fire seven times except that the Fire says: O Allah, shelter him from me; and none asks Paradise seven times except that Paradise says: O Allah, lodge him in me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی شخص جہنم سے سات مرتبہ پناہ مانگتا ہے ، تو جہنم یہ کہتی ہے : اے اللہ ! تو اس کو مجھ سے پناہ دیدے ، جب کوئی شخص جنت کا سات مرتبہ سوال کرتا ہے ، تو جنت یہ کہتی ہے : اے اللہ ! تو اس کو مجھ میں ٹھہرانا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : یا شاید اس کی مانند کوئی اور لفظ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن خباب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17352

Majma al-Zawaid #17352

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَتُحِبُّونَ أَنْ تَجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ؟ قُولُوا: اللَّهُمَّ أَعِنَّا عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ asked whether they loved to strive in supplication and instructed them to say a supplication for help in remembrance, gratitude, and excellent worship. > **"O Allah, help us in Your remembrance, Your gratitude, and excellent worship of You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تم دعا کے بارے میں بھرپور کوشش کرو ! تو تم یہ پڑھ لیا کرو : ’’ اے اللہ ! اپنے ذکر اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کے بارے میں ہماری مدد فرما ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن طارق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17353

Majma al-Zawaid #17353

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «دَعَوَاتٌ سَمِعْنَاهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا أَتْرُكُهَا مَا عِشْتُ حَيًّا، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعَظِّمُ شُكْرَكَ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ، وَأَتَّبِعُ نَصِيحَتَكَ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ أَبِي يَزِيدَ الْمَدَنِيِّ. وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْحِمْصِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reported supplications heard from the Messenger of Allah ﷺ which he would never abandon while alive, concerning magnifying thanks, abundant remembrance, following counsel, and guarding behest. > **"O Allah, make me magnify Your thanks, increase Your remembrance, follow Your counsel, and guard Your behest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ دعائیں ہیں جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہیں ، جب تک میں زندہ رہوں گا ، انہیں ترک نہیں کروں گا : «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعَظِّمُ شُكْرَكَ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ، وَأَتَّبِعُ نَصِيحَتَكَ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ» ” اے اللہ ! مجھے ایسا بنا دے کہ میں تیرا زیادہ شکر ادا کروں ، تیرا کثرت کے ساتھ ذکر کروں ، تیری نصیحت کی پیروی کروں ، تیری تلقین کی حفاظت کروں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ابوسعید مدینی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور ایک روایت کے مطابق یہ ابوسعد حمصی سے منقول ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، ان دونوں کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17354

Majma al-Zawaid #17354

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَإِسْرَافِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ used to say a supplication seeking forgiveness for what preceded and followed, what was secret and open, excess, and what Allah knows better, affirming Him Advancer and Delayer with no god but Him. > **"O Allah, forgive me what I advanced and what I delayed, what I concealed and what I disclosed, my excess, and what You know better than I; You are the Advancer and You are the Delayer; there is no god but You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَإِسْرَافِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ’’ اے اللہ ! تو میری ان چیزوں کے حوالے سے مغفرت کر دے ، جو میں نے پہلے کی ہیں ، جو بعد میں کروں گا ، جو پوشیدہ طور پر کی ہیں ، جو اعلانیہ طور پر کی ہیں ، یا جو میرا اسراف تھا ، اور وہ چیز جس کے بارے میں ، تو مجھ سے زیادہ بہتر جانتا ہے ، بے شک تو آگے کرنے والا ہے ، اور تو پیچھے کرنے والا ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17355

Majma al-Zawaid #17355

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ used to say a supplication asking help in remembrance, gratitude, and excellent worship. > **"O Allah, help me in Your remembrance, Your gratitude, and excellent worship of You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ» ’’ اے اللہ ! اپنے ذکر ، اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کے بارے میں میری مدد فرما !‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عمرو بن عبداللہ اودی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17356

Majma al-Zawaid #17356

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «كَانَ عَامَّةُ دُعَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا جَهِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَوْنٍ الْعُقَيْلِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنه reported that the general supplication of the Prophet ﷺ sought forgiveness for error and deliberation, secrecy and openness, ignorance and intention. > **"O Allah, forgive me what I erred in and what I intended, what I concealed and what I disclosed, what I did in ignorance and what I intended."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی زیادہ تر دعا یہ ہوتی تھی : «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا جَهِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ» ’’ اے اللہ ! میں نے جو خطا کی ، جو جان بوجھ کے کیا ، جو پوشیدہ طور پر کیا ، جو اعلانیہ طور پر کیا ، جو لاعلمی میں کیا ، جو جان بوجھ کر کیا ، ان ( سب ) کے حوالے سے میری مغفرت کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام بزار اور امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، ان کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف عون عقیلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17357

Majma al-Zawaid #17357

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا، وَظُلْمَنَا، وَهَزْلَنَا، وَجِدَّنَا، وَعَمْدَنَا، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدَنَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ used to supplicate for forgiveness of sins, wrongdoing, jest, earnestness, intention, and all such present with them. > **"O Allah, forgive us our sins, our wrongdoing, our jest, our earnestness, our intention, and all of that which is with us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا، وَظُلْمَنَا، وَهَزْلَنَا، وَجِدَّنَا، وَعَمْدَنَا، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدَنَا» ’’ اے اللہ ! تو ہمارے گناہوں کی ، ہمارے ظلم کی ، ہمارے مذاق کی ، ہماری سنجیدگی کی ، ہمارے جان بوجھ کر کیے گئے کی ، ہماری طرف سے ہر چیز کی مغفرت کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔

17358

Majma al-Zawaid #17358

وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «لَقِيتُ شَيْخًا بِالشَّامِ فَقُلْتُ: أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAwn ibn ʿAbdillāh reported that he met an old man in Syria, asked whether he had heard anything from the Messenger of Allah ﷺ, and the man affirmed hearing him say a brief supplication for forgiveness and mercy. > **"O Allah, forgive us and have mercy upon us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عون بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : شام میں میری ملاقات ایک بزرگ سے ہوئی ، میں نے دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی کوئی بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا» ’’ اے اللہ ! تو ہماری مغفرت کر دے ، اور ہم پر رحم فرما ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

17359

Majma al-Zawaid #17359

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَلَا أُعَلِّمُكَ مَا عَلَّمَنِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ "" قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" قُلِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَئِي وَعَمْدِي، وَهَزْلِي وَجِدِّي، وَلَا تَحْرِمْنِي بَرَكَةَ مَا أَعْطَيْتَنِي، وَلَا تَفْتِنِّي فِيمَا أَحْرَمْتَنِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِصْمَةَ أَبِي حَكِيمَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kaʿb رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ offered to teach what Jibrīl عليه السلام had taught him, and upon acceptance instructed a supplication for forgiveness of error, intention, jest, and earnestness, for the blessing of gifts not to be withheld and trial in withheld things to be averted. > **"O Allah, forgive me my error and my intention, my jest and my earnestness; do not deprive me of the blessing of what You granted me, and do not try me in what You withheld from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں ان کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ جن کی تعلیم جبرائیل نے مجھے دی ہے ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَئِي وَعَمْدِي، وَهَزْلِي وَجِدِّي، وَلَا تَحْرِمْنِي بَرَكَةَ مَا أَعْطَيْتَنِي، وَلَا تَفْتِنِّي فِيمَا أَحْرَمْتَنِي» ’’ اے اللہ ! تو میری خطا کی ، جان بوجھ کر کیے گئے کی ، میرے مذاق کی ، میری سنجیدگی کی مغفرت کر دے ، اور جو تو نے مجھے عطا کیا ہے ، اُس کی برکت سے مجھے محروم نہ رکھنا ، اور جن چیزوں سے تو نے مجھے محروم رکھا ہے ، ان کے بارے میں مجھے آزمائش کا شکار نہ کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عصمہ ابوحکیمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17360

Majma al-Zawaid #17360

وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ: «أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً عَلَّمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: "" إِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ قَدْ تَنَافَسُوا الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ فَادْعُ بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَأَسْأَلُكَ عَزِيمَةَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَالصَّبْرَ عَلَى بَلَائِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَالرِّضَا بِقَضَائِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا، وَلِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مَطِيرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Isḥāq reported that al-Barāʾ ibn ʿĀzib رضي الله عنه offered to teach a supplication taught to him by the Messenger of Allah ﷺ, to be said when people rival over gold and silver, asking firmness in command, resolve of guidance, thanks for blessing, patience in trial, excellent worship, contentment with decree, sound heart, truthful tongue, the good of His knowledge, refuge from its evil, and forgiveness for what He knows. > **"O Allah, I ask You for firmness in the affair, resolve in guidance, thanks for Your blessing, patience in Your trial, excellent worship of You, contentment with Your decree; I ask You for a sound heart, a truthful tongue; I ask You from the good of what You know, seek refuge in You from the evil of what You know, and seek Your forgiveness for what You know."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسحاق بیان کرتے ہیں : حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس دعا کی تعلیم نہ دوں ؟ جس کی تعلیم نبی اکرم ﷺ نے مجھے دی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ سونا اور چاندی کی طرف راغب ہو گئے ہیں ، تو تم ان کلمات کے ہمراہ دعا کرو : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَأَسْأَلُكَ عَزِيمَةَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَالصَّبْرَ عَلَى بَلَائِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَالرِّضَا بِقَضَائِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا، وَلِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ» ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ دین کے بارے میں ، میں ثابت قدم رہوں ، اور میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ ہدایت پر میں پختہ رہوں اور میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تیری نعمت کا میں شکر کروں ، اور تیری آزمائش پر میں صبر کروں ، اور تیری اچھے طریقے سے عبادت کروں ، تیرے فیصلے پر راضی رہوں ، اور میں تجھ سے سلامت رہنے والا دل اور سچی زبان مانگتا ہوں اور میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو اپنے علم کے مطابق ( مجھے ) بھلائی عطا فرما ، اور میں تیرے علم کے مطابق ، شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور تیرے علم کے مطابق تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مطیر ہے اور وہ متروک ہے ۔

17361

Majma al-Zawaid #17361

وَعَنْ أَوْسَطَ أَبِي عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَنَةٍ، فَأَلْفَيْتُ أَبَا بَكْرٍ يَخْطُبُ النَّاسَ فَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ أَوَّلَ، فَخَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، سَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ ; فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ مِثْلَ يَقِينٍ بَعْدَ مُعَافَاةٍ، وَلَا أَشَدَّ مِنْ رِيبَةٍ بَعْدَ كُفْرٍ "". قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَوْسَطَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Awsaṭ Abū ʿAmr al-Bajalī reported that coming to Medina a year after the death of the Messenger of Allah ﷺ, he found Abū Bakr رضي الله عنه addressing the people, telling that the Messenger ﷺ had stood among them the previous year, choked by weeping three times, then commanded asking Allah for well-being, since none was granted like certainty after well-being, nor anything severer than doubt after disbelief. > **"O people, ask Allah for well-being, for none was granted like certainty after well-being, and nothing is severer than doubt after disbelief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اوسط ابوعمرو بجلی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے وصال کے ایک سال بعد میں مدینہ منورہ آیا ، تو میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے پایا ، انہوں نے فرمایا : گزشتہ سال نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تھے ، تو تین مرتبہ ایسا ہوا کہ رونے کی وجہ سے آپ کی آواز گھٹ گئی ، پھر آپ نے فرمایا : ’’ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ سے ’’ معافاة ‘‘ کا سوال کرو ، کیونکہ کسی بھی شخص کو کوئی ایسی چیز نہیں دی گئی جو ’’ معافاة ‘‘ کے بعد یقین جیسی ہو ( شاید یہ کاتب یا ناسخ کی غلطی ہے کیونکہ جملہ یہ ہونا چاہیے :” جو یقین کے بعد ، معافاة ، جیسی ہو ) اور نہ ہی کفر کے بعد شک سے زیادہ شدید کوئی چیز ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف اوسط نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17362

Majma al-Zawaid #17362

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ: «جَاءَ شَابٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي دُعَاءً أُصِيبُ بِهِ خَيْرًا، فَقَالَ لَهُ: "" ادْنُهْ "". فَدَنَا حَتَّى كَادَتْ رُكْبَتُهُ تَمَسُّ رُكْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ اعْفُ عَنِّي ; فَإِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ، وَأَنْتَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ مَيْمُونٍ التَّمَّارُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that a youth came to the Messenger of Allah ﷺ asking to be taught a supplication attaining good; the Prophet ﷺ drew him near until his knee nearly touched the Prophet's knee, then taught a supplication of pardon to the Pardoning Lover of pardon, Generous Pardoner. > **"O Allah, pardon me, for You are Pardoning, You love pardon, and You are Pardoning, Generous."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک نوجوان نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایسی دعا کی تعلیم دیجئے ! جس کے ذریعے میں بھلائی حاصل کر لوں ، نبی اکرم ﷺ نے اُس سے فرمایا : قریب آ جاؤ ! وہ قریب ہوا ، یہاں تک کہ اُس کے گھٹنے نبی اکرم ﷺ کے گھٹنوں کے ساتھ مس ہونے لگے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( یعنی تم یہ پڑھو : ) «اللَّهُمَّ اعْفُ عَنِّي ; فَإِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ، وَأَنْتَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ» ’’ اے اللہ ! تو مجھ کو معاف کر دے ، بے شک تو معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ، تو معاف کرنے والا مہربان ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن میمون تمار ہے اور وہ متروک ہے ۔

17363

Majma al-Zawaid #17363

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَقَالَ: "" فَحَسِّنْ خُلُقِي "". وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَوْسَجَةَ بْنِ الرَّمَّاحِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say a supplication asking that as his form was beautified, so his character be made excellent. > **"O Allah, as You beautified my form, make excellent my character."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي» ’’ اے اللہ ! تو نے میری ظاہری تخلیق اچھی بنائی ہے ، تو میرے اخلاق کو بھی اچھا رکھنا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ تو میرے اخلاق کو بھی اچھا رکھنا ‘‘۔ ( یعنی عربی کا لفظ مختلف ہے لیکن مفہوم یہی ہے ) ۔ ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عوسجہ بن رماح کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17364

Majma al-Zawaid #17364

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say a supplication asking that as his form was beautified, so his character be made excellent. > **"O Allah, as You beautified my form, make excellent my character."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي» ’’ اے اللہ ! تو نے میری ظاہری تخلیق خوبصورت بنائی ہے ، تو میرے اخلاق کو بھی اچھا رکھنا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17365

Majma al-Zawaid #17365

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا سَمِعْتُهُ يَقُولُ حِينَ انْصَرَفَ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَئِي وَعَمْدِي، اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلَاقِ ; إِنَّهُ لَا يَهْدِي لِصَالِحِهَا وَلَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that he never prayed behind the Prophet ﷺ without hearing him say upon finishing a supplication for forgiveness of error and intention and guidance to sound deeds and manners which none guides to nor averts their evil but Allah. > **"O Allah, forgive me my error and my intention. O Allah, guide me to sound deeds and manners, for none guides to their soundness nor averts their evil but You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے جب بھی تم لوگوں کے نبی ﷺ کے پیچھے نماز ادا کی ، تو ہمیشہ آپ ﷺ کو نماز سے فارغ ہونے کے بعد ، یہ دعا کرتے ہوئے سنا : «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَئِي وَعَمْدِي، اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلَاقِ ; إِنَّهُ لَا يَهْدِي لِصَالِحِهَا وَلَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ» ’’ اے اللہ ! تو میری خطا کی ، میرے جان بوجھ کر کیے گئے کی ، مغفرت کر دے ، اے اللہ ! تو نیک اعمال اور اچھے اخلاق کی طرف میری رہنمائی فرما ! کیونکہ اُن ( یعنی اخلاق اور اعمال کے ) اچھے کی طرف رہنمائی ، صرف تو ہی کر سکتا ہے اور اُن ( یعنی اخلاق اور اعمال ) کے برے سے ، صرف تو ہی پھیر سکتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17366

Majma al-Zawaid #17366

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: «مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا سَمِعْتُهُ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاتِهِ يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَئِي وَذُنُوبِي كُلَّهَا، اللَّهُمَّ أَنْعِشْنِي، وَارْزُقْنِي، وَاجْبُرْنِي لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلَاقِ ; لَا يَهْدِي لِصَالِحِهَا وَلَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb رضي الله عنه reported that he never prayed behind the Prophet ﷺ without hearing him say upon leaving prayer a supplication for forgiveness of error and all sins, revival, provision, and mending toward sound deeds and manners which none guides to nor averts their evil but Allah. > **"O Allah, forgive me my error and all my sins. O Allah, revive me, provide for me, and mend me toward sound deeds and manners; none guides to their soundness nor averts their evil but You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے جب بھی تمہارے نبی کے پیچھے نماز ادا کی تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا : «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَئِي وَذُنُوبِي كُلَّهَا، اللَّهُمَّ أَنْعِشْنِي، وَارْزُقْنِي، وَاجْبُرْنِي لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلَاقِ ; لَا يَهْدِي لِصَالِحِهَا وَلَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ» ’’ اے اللہ ! تو میری خطاؤں اور میرے تمام ذنوب کی مغفرت کر دے ! اے اللہ ! تو مجھے عزم و ہمت دے ، مجھے رزق دے اور صالح اعمال اور صالح اخلاق کے بارے میں میری رہنمائی فرما ، کیونکہ ان ( اخلاق و اعمال ) کے صالح کی طرف رہنمائی کرنا ، اور ان ( اخلاق و اعمال ) میں سے برے سے پھیر دینا ، صرف تو ہی کر سکتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17367

Majma al-Zawaid #17367

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ، وَالْعِفَّةَ، وَالْأَمَانَةَ، وَحُسْنَ الْخُلُقِ، وَالرِّضَا بِالْقَدَرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَقَالَ: "" أَسْأَلُكَ الْعِصْمَةَ "" بَدَلَ: "" الصِّحَّةِ ""، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say a supplication asking for health, chastity, trustworthiness, good character, and contentment with decree; in the other wording, protection in place of health. > **"O Allah, I ask You for health, chastity, trustworthiness, good character, and contentment with decree."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے تندرستی ، پاکدامنی ، امانت ، اچھے اخلاق اور تقدیر پر راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ’’ تندرستی ‘‘ کی جگہ یہ لفظ نقل کیا ہے :” عصمت ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف الحدیث ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کی دو اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17368

Majma al-Zawaid #17368

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكُ ; فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي إِلَى الشَّرِّ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ ; فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ، إِلَّا قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِمَلَائِكَتِهِ: إِنَّ عَبْدِي عَهِدَ عِنْدِي عَهْدًا فَأَوْفُوهُ إِيَّاهُ ; فَيُدْخِلُهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْجَنَّةَ» "". قَالَ سُهَيْلٌ: فَأَخْبَرْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ عَوْنًا أَخْبَرَنِي بِكَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: مَا فِي أَهْلِنَا جَارِيَةٌ إِلَّا وَهِيَ تَقُولُ هَذَا فِي خِدْرِهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ عَوْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said whoever says the covenant supplication to the Lord of heavens and earth, Knower of unseen and seen, testifying sole worship and Muḥammad His servant and Messenger, confessing entrustment to the self nears evil and distances good, trusting only mercy, and asking a covenant fulfilled on Resurrection Day, Allah will command His angels to fulfil His servant's covenant and admit him to Paradise; Suhayl reported informing al-Qāsim ibn ʿAbd al-Raḥmān, who replied that every veiled girl among his household says it in her chamber. > **"O Allah, Lord of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the seen, I covenant to You in this worldly life that I testify there is no god but You alone without partner, and that Muḥammad is Your servant and Messenger; if You entrust me to myself You bring me near evil and distance me from good, and I trust only in Your mercy, so make for me with You a covenant You fulfil to me on the Day of Resurrection; indeed You do not break the promise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جو شخص یہ پڑھتا ہے : «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكُ ; فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي إِلَى الشَّرِّ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ ; فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» ’’ اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے ! میں اس دنیاوی زندگی میں ، تیرے سامنے یہ عہد کرتا ہوں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، اگر تو مجھے میرے نفس کے سپرد کر دے تو ، تُو مجھے برائی کے قریب کر دے گا اور بھلائی سے دور کر دے گا ، میں صرف تیری رحمت پر بھروسہ رکھتا ہوں ، تو اپنی بارگاہ میں میرے لئے ایک عہد مقرر کر دے ، جو تو قیامت کے دن مجھے عطا کرنا ، بے شک تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں :’’ تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرشتوں سے یہ فرمائے گا : میرے بندے نے میرے ساتھ عہد کیا تھا ، تو تم اسے پورا بدلہ دو ! تو اللہ تعالیٰ اس بندے کو جنت میں داخل کر دے گا ۔‘‘ سہیل نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے قاسم بن عبدالرحمن کو یہ بات بتائی کہ عون نامی راوی نے مجھے اس اس طرح کی روایت بیان کی ہے ، تو قاسم نے کہا : ہمارے گھر کی پردہ نشین لڑکیاں بھی پردے میں رہتے ہوئے یہ دعا پڑھتی ہیں ( یعنی انہوں نے پردے میں رہتے ہوئے بھی یہ دعا سیکھی ہوئی ہے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ عون بن عبداللہ نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

17369

Majma al-Zawaid #17369

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْصَى سَلْمَانَ الْخَيْرَ فَقَالَ: "" إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ يُرِيدُ أَنْ يَمْنَحَكَ كَلِمَاتٍ تَسْأَلُهُنَّ الرَّحْمَنَ، تَرْغَبُ إِلَيْهِ فِيهِنَّ، وَتَدْعُو بِهِنَّ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ صِحَّةَ إِيمَانٍ، وَإِيمَانًا فِي حُسْنِ خُلُقٍ، وَنَجَاحًا يَتْبَعُهُ فَلَاحٌ "" يَعْنِي "" وَرَحْمَةً مِنْكَ وَعَافِيَةً وَمَغْفِرَةً مِنْكَ وَرِضْوَانًا "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَقَالَ: "" وَهُنَّ مَرْفُوعَةٌ فِي الْكِتَابِ، يَتْبَعُهُ فَلَاحٌ، وَرَحْمَةٌ مِنْكَ وَعَافِيَةٌ، وَمَغْفِرَةٌ مِنْكَ، وَرِضْوَانٌ» "". وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضi الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ bequeathed to Salmān al-Khayr رضي الله عنه words intended as a gift, to be asked of the Most Merciful and supplicated with night and day, concerning soundness of faith, faith in good character, success followed by prosperity, mercy, well-being, forgiveness, and pleasure. > **"O Allah, I ask You for soundness of faith, faith with good character, success followed by prosperity, mercy from You, well-being, forgiveness from You, and pleasure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت سلمان الخیر رضی اللہ عنہ کو وصیت کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ یہ چاہتے ہیں کہ وہ تمہیں کچھ کلمات کا تحفہ دیں ، جن کے ہمراہ تم رحمان سے دعا مانگو اور اُن کے ذریعے تم پروردگار کی بارگاہ میں رغبت کا اظہار کرو ، تم رات اور دن میں ان کلمات کے ہمراہ دعا کرو اور یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ صِحَّةَ إِيمَانٍ، وَإِيمَانًا فِي حُسْنِ خُلُقٍ، وَنَجَاحًا يَتْبَعُهُ فَلَاحٌ "" يَعْنِي "" وَرَحْمَةً مِنْكَ وَعَافِيَةً وَمَغْفِرَةً مِنْكَ وَرِضْوَانًا» ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے ایمان کی درستگی اور اچھے اخلاق کے ہمراہ ایمان اور کامیابی کے ہمراہ کامرانی کا سوال کرتا ہوں اور تیری طرف سے رحمت ملنے اور عافیت اور مغفرت نصیب ہونے اور رضامندی کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : «وَهُنَّ مَرْفُوعَةٌ فِي الْكِتَابِ، يَتْبَعُهُ فَلَاحٌ، وَرَحْمَةٌ مِنْكَ وَعَافِيَةٌ، وَمَغْفِرَةٌ مِنْكَ، وَرِضْوَانٌ» ’’ یہ کلمات کتاب میں ’’ مرفوع ‘‘ ہوں ۔ اس کے بعد کامرانی ہو اور تیری طرف سے رحمت اور تیری طرف سے عافیت اور مغفرت اور رضامندی ( کا سوال کرتا ہوں ) ۔‘‘ اس روایت کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

17370

Majma al-Zawaid #17370

وَعَنْ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ: أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الْمُنْتَخَبِينَ، الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ، الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِينَ "". قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِبَادُ اللَّهِ الْمُنْتَخَبُونَ؟ قَالَ: "" عِبَادُ اللَّهِ الصَّالِحُونَ ""، قَالُوا: فَمَا الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ؟ قَالَ: "" الَّذِينَ تَبْيَضُّ مِنْهُمْ مَوَاضِعُ الطَّهُورِ ""، قَالُوا: فَمَا الْوَفْدُ الْمُتَقَبَّلُونَ؟ قَالَ: "" وَفَدٌ يَفِدُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَعَ نَبِيِّهِمْ إِلَى رَبِّهِمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

The delegation of ʿAbd al-Qays reported that they heard the Messenger of Allah ﷺ say a supplication to be made among the chosen servants, the bright-foreheaded, the accepted delegation; when they asked each meaning, he explained the righteous servants, those whose places of purification whiten, and a delegation of this nation proceeding with their Prophet to their Lord, Blessed and Exalted. > **"O Allah, make us among Your chosen servants, the bright-foreheaded, the accepted delegation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالقیس قبیلے کے وفد کے ارکان کے حوالے سے یہ بات مذکور ہے : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا : «اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الْمُنْتَخَبِينَ، الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ، الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِينَ» ’’ اے اللہ ! تو ہمیں اپنے منتجب بندوں جو روشن پیشانی والے ہوں اور ایسا وفد ہوں ، جنہیں قبول کیا جائے اُن میں شامل کر دے !‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے منتجب بندوں سے مراد کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کے نیک بندے ، لوگوں نے دریافت کیا : روشن پیشانی والے لوگوں سے مراد کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جن کے طہارت کے مقامات چمک رہے ہوں گے ، لوگوں نے دریافت کیا : مقبول وفد سے مراد کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ وفد جس کا تعلق اس امت سے ہو گا اور وہ اپنے نبی ﷺ کے ہمراہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں وفد کی شکل میں حاضر ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17371

Majma al-Zawaid #17371

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، وَاهْدِنِي السَّبِيلَ الْأَقْوَمَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ حَسَنَيْنِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say a brief supplication asking forgiveness, mercy, and guidance to the straightest path. > **"My Lord, forgive, have mercy, and guide me to the straightest path."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، وَاهْدِنِي السَّبِيلَ الْأَقْوَمَ» ’’ اے میرے پروردگار ! تو مغفرت کر دے ، تو رحم فرما اور درست راستے کی طرف میری رہنمائی فرما !‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے دو حسن اسناد کے ہمراہ نقل کی ہے ۔

17372

Majma al-Zawaid #17372

«وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ عَلَى نِصْفِ الْيَمَنِ وَمُعَاذًا عَلَى نِصْفِ الْيَمَنِ، فَأَتَاهُ أَبُو مُوسَى يُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا أَبَا مُوسَى، قُلِ: اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي، وَاذْكُرْ بِهِدَايَتِكَ الْهِدَايَةَ، وَبِتَسْدِيدِكَ تَسْدِيدَ سَهْمِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī رضي الله عنه reported that when the Messenger of Allah ﷺ sent him over half Yemen and Muʿādh over half, Abū Mūsā came greeting him, and the Prophet ﷺ instructed him to say a supplication for guidance and straightness, recalling with guidance its direction and with straightening the straightening of his arrow. > **"O Allah, guide me and make me straight."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے انہیں یمن کے نصف حصے کا گورنر بنا کر اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کے دوسرے نصف حصے کا گورنر بنا کر بھیجا ، حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سلام کرنے کے لیے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : اے ابوموسیٰ ! تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي» ’’ اے اللہ ! تو مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ ! مجھے سیدھا رکھنا ۔‘‘ ( پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ہدایت کے ہمراہ ، اپنی ہدایت ، اور سیدھے رکھنے کے ہمراہ ، اپنے حصے کے سیدھے ہونے کا خیال رکھنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع اشعری ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17373

Majma al-Zawaid #17373

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا سَأَلَ الْعِبَادُ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ يَغْفِرَ لَهُمْ وَيُعَافِيَهُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that servants never asked anything better than that He forgive them and grant them well-being. > **"Servants never asked anything better than that He forgive them and grant them well-being."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بندوں نے کوئی ایسی چیز نہیں مانگی جو اس سے زیادہ فضیلت رکھتی ہو ( کہ اللہ تعالیٰ ) ان کی مغفرت کر دے اور انہیں عافیت عطا کرے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن سائب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17374

Majma al-Zawaid #17374

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَمِّهِ الْعَبَّاسِ: "" يَا عَمِّ، أَكْثِرِ الدُّعَاءَ بِالْعَافِيَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said to his uncle al-ʿAbbās رضي الله عنه to supplicate often for well-being. > **"O uncle, supplicate often for well-being."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ اے چچا ! آپ کثرت کے ساتھ عافیت کی دعا کیا کریں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن خباب ہے ، وہ ثقہ ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17375

Majma al-Zawaid #17375

وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ، فَقَالَ: " سَلْ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ "، فَمَكَثْتُ أَيَّامًا، ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَالَ: " يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ".

EnglishUnverified translation

Al-ʿAbbās ibn ʿAbd al-Muṭṭalib رضi الله عنه reported that he asked the Messenger of Allah ﷺ to teach something to ask Allah; the Prophet ﷺ told him to ask his Lord for well-being; after some days he returned asking again, and the Prophet ﷺ addressed him as uncle of the Messenger and instructed asking Allah for well-being in this world and the Hereafter. > **"O ʿAbbās, O uncle of the Messenger of Allah ﷺ, ask Allah for well-being in this world and the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجئے ! کہ میں اللہ تعالیٰ سے وہ مانگوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آپ اپنے پروردگار سے عافیت مانگیں ۔ راوی کہتے ہیں : کچھ دن گزر گئے ، پھر میں آیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجئے جو میں اپنے پروردگار سے مانگوں ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے حضرت عباس ! اے اللہ کے رسول کے چچا ! آپ اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت میں عافیت مانگیں ۔‘‘

17376

Majma al-Zawaid #17376

وَفِي رِوَايَةٍ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَدْعُو بِشَيْءٍ مِنْ غَدْوَةٍ إِلَى اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" فَسَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ» "". رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

In another narration the questioner said he supplicates with something from morning till night, and the Messenger of Allah ﷺ instructed him to ask Allah for well-being. > **"Ask Allah for well-being."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں صبح سے شام تک کسی چیز کے بارے میں دعا کرتا ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آپ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگیں ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، جن میں سے بعض کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف یزید بن ابوزیاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

17377

Majma al-Zawaid #17377

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا مِنْ دَعْوَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يَدْعُوَ بِهَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْمُعَافَاةَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said no supplication of a servant is more beloved to Allah than saying a supplication asking pardon and well-being in this world and the Hereafter. > **"O Allah, I ask You for pardon and well-being in this world and the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کوئی دعا ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو کہ بندہ وہ دعا مانگئے ، وہ یہ کہے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْمُعَافَاةَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ’’ اے اللہ ! بے شک میں تجھ سے معاف کر دینے اور دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف علاء بن زیاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، تاہم اس نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

17378

Majma al-Zawaid #17378

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: مُرْنِي بِدَعَوَاتٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِنَّ، قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ فَقَالَ: "" سَلِ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAbdillāh ibn Jaʿfar reported that he was with ʿAbdullāh ibn Jaʿfar رضي الله عنهما when a man asked for beneficial supplications; Ibn Jaʿfar recalled hearing the Messenger of Allah ﷺ answer the same question with a command to ask pardon and well-being in this world and the Hereafter. > **"Ask Allah for pardon and well-being in this world and the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبداللہ بن جعفر بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا ، اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا : آپ مجھے ایسی دعاؤں کے بارے میں حکم دیں ، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے ، انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو سنا ، ایک شخص نے آپ ﷺ سے وہی سوال کیا تھا ، جو سوال تم نے مجھ سے کیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت میں عفو ( یعنی معاف کرنے ) اور عافیت کا سوال کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذکونی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17379

Majma al-Zawaid #17379

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ، وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي، وَآمِنْ رَوْعَتِي، وَاحْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say a supplication asking pardon and well-being in religion, world, family, and wealth, covering of faults, safety from fear, guarding from front, behind, right, left, and above, with refuge from being seized from beneath. > **"O Allah, I ask You for pardon and well-being in my religion, my world, my family, and my wealth. O Allah, cover my faults, secure my fears, guard me from before me, behind me, my right, my left, and above me; I seek refuge in You, O Allah, from being seized from beneath me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ، وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي، وَآمِنْ رَوْعَتِي، وَاحْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے دین ، اپنی دنیا ، اپنے اہلخانہ اور اپنے مال کے بارے میں ، عفو اور عافیت کا سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! میرے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی فرما ، میرے خوف والے معاملات کو محفوظ کر دے ، میرے آگے کی طرف سے ، میرے پیچھے سے میرے دائیں سے ، میرے بائیں سے اور میرے اوپر سے میری حفاظت فرما ، اور اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ نیچے کی طرف سے میرے ساتھ کوئی دھوکا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن خباب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17380

Majma al-Zawaid #17380

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: "" اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَا شَيْءَ قَبْلَكَ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَا شَيْءَ بَعْدَكَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الْغِنَى، وَفِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، هَذَا مَا سَأَلَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الدُّعَاءِ، وَخَيْرَ الْمَسْأَلَةِ، وَخَيْرَ النَّجَاحِ، وَخَيْرَ الْعَمَلِ، وَخَيْرَ الثَّوَابِ، وَخَيْرَ الْحَيَاةِ، وَخَيْرَ الْمَمَاتِ، وَثَبِّتْنِي وَثَقِّلْ مَوَازِينِي، وَارْفَعْ دَرَجَتِي، وَتَقَبَّلْ صَلَاتِي، وَاغْفِرْ خَطِيئَتِي، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ، آمِينَ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، آمِينَ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فُعِلَ، وَخَيْرَ مَا عُمِلَ، وَخَيْرَ مَا بَطَنَ، وَخَيْرَ مَا ظَهَرَ، وَالدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ، آمِينَ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَرْفَعَ ذِكْرِي، وَتَضَعَ وِزْرِي، وَتُصْلِحَ أَمْرِي، وَتُطَهِّرَ قَلْبِي، وَتَغْفِرَ ذَنْبِي، وَتَحْفَظَ فَرْجِي، وَتُنَوِّرَ قَلْبِي، وَتَغْفِرَ ذَنْبِي، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ، آمِينَ. اللَّهُمَّ نَجِّنِي مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ زُنْبُورٍ، وَعَاصِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَهُمَا ثِقَتَانِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama, wife of the Prophet رضي الله عنها, reported from the Messenger of Allah ﷺ that he used to supplicate with long comprehensive words, beginning with the First before whom nothing was and the Last after whom nothing is, refuge from every controlled creature, sin, laziness, grave punishment, trials of wealth and poverty, and sin and debt, cleansing like the white garment and distance like east from west, then this is what Muḥammad asked his Lord, followed by requests for the best supplication, asking, success, deed, reward, life, death, firmness, heavy scales, raised rank, accepted prayer, forgiven fault, highest ranks of Paradise, raising of remembrance, lightening of burden, rectitude, purity, and deliverance from Fire, each sealed with āmīn. > **"O Allah, You are the First, nothing before You; You are the Last, nothing after You. I seek refuge in You from the evil of every creature whose forelock is in Your Hand. I ask You for the best supplication, the best asking, the best success, the best deed, the best reward, the best life, the best death. Make me firm, weight my scales, raise my rank, accept my prayer, forgive my fault, and I ask You for the highest ranks of Paradise. O Allah, deliver me from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ ان کلمات کے ہمراہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَا شَيْءَ قَبْلَكَ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَا شَيْءَ بَعْدَكَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الْغِنَى، وَفِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، هَذَا مَا سَأَلَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الدُّعَاءِ، وَخَيْرَ الْمَسْأَلَةِ، وَخَيْرَ النَّجَاحِ، وَخَيْرَ الْعَمَلِ، وَخَيْرَ الثَّوَابِ، وَخَيْرَ الْحَيَاةِ، وَخَيْرَ الْمَمَاتِ، وَثَبِّتْنِي وَثَقِّلْ مَوَازِينِي، وَارْفَعْ دَرَجَتِي، وَتَقَبَّلْ صَلَاتِي، وَاغْفِرْ خَطِيئَتِي، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ، آمِينَ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، آمِينَ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فُعِلَ، وَخَيْرَ مَا عُمِلَ، وَخَيْرَ مَا بَطَنَ، وَخَيْرَ مَا ظَهَرَ، وَالدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ، آمِينَ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَرْفَعَ ذِكْرِي، وَتَضَعَ وِزْرِي، وَتُصْلِحَ أَمْرِي، وَتُطَهِّرَ قَلْبِي، وَتَغْفِرَ ذَنْبِي، وَتَحْفَظَ فَرْجِي، وَتُنَوِّرَ قَلْبِي، وَتَغْفِرَ ذَنْبِي، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ، آمِينَ. اللَّهُمَّ نَجِّنِي مِنَ النَّارِ» ’’ اے اللہ ! تو سب سے پہلے ہے ، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی ، تو سب سے بعد والا ہے ، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہو گی ، میں ہر ایسے چوپائے کے شر سے بچنے کے لیے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، اور میں گناہ اور کسلمندی اور قبر کے عذاب اور خوشحالی کی آزمائش اور غربت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! تو مجھے گناہوں سے اس طرح پاک رکھنا ، جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک رکھا ہے ، اے اللہ ! میرے اور خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ رکھ دینا جتنا فاصلہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان رکھا ہے ، یہ وہ چیز ہے جو محمد ( ﷺ ) اپنے پروردگار سے مانگتا ہے ، اے اللہ ! میں تجھ سے بہترین دعا اور بہترین مانگنے اور بہترین کامیابی اور بہترین عمل اور بہترین ثواب اور بہترین زندگی اور بہترین موت کا سوال کرتا ہوں ، تو مجھے ثابت قدم رکھنا ، میرے میزان کو وزنی رکھنا ، میرے درجے کو بلند کرنا ، میری نماز کو قبول کرنا ، میری خطا کی مغفرت کرنا اور میں جنت کے بلند درجات کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، آمین ! اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں ، آمین ! اے اللہ ! میں تجھ سے اس سب سے بہتر چیز کا سوال کرتا ہوں جو کی گئی ، اور اس سب سے بہتر چیز کا جو عمل کیا گیا ، اور اس سب سے بہتر چیز کا ، جو باطن ہو اور اس سب سے بہتر چیز کا ، جو ظاہر ہو اور جنت کے بلند درجات کا سوال کرتا ہوں ، آمین ! اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میرا ذکر بلند کر دے اور میرے بوجھ کو کم کر دے اور میرے معاملے کو ٹھیک کر دے اور میرے دل کو پاک کر دے اور میرے ذنب کی مغفرت کر دے اور میری شرمگاہ کی حفاظت کرنا اور میرے دل کو نورانی کر دینا اور میرے ذنب کی مغفرت کر دینا ، میں تجھ سے جنت کے بلند درجات کا سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! تو مجھے جہنم سے نجات عطا فرما ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن زنبور اور عاصم بن عبید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ دونوں ثقہ ہیں ۔

17381

Majma al-Zawaid #17381

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكْثِرُ فِي دُعَائِهِ أَنْ يَقُولَ: "" اللَّهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ""، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ؟! قَالَ: "" نَعَمْ، مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مِنْ بَشَرٍ مِنْ بَنِي آدَمَ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَقَامَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ، فَنَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ لَا يُزِيغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا، وَنَسْأَلُهُ أَنْ يَهَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْهُ رَحْمَةً ; إِنَّهُ هُوَ الْوَهَّابُ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تُعَلِّمُنِي دَعْوَةً أَدْعُو بِهَا لِنَفْسِي، قَالَ: "" بَلَى، قُولِي: اللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي، وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْيَيْتَنَا» "". قُلْتُ: عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ often said in supplication a plea to the Turner of hearts for firmness upon His religion; when she asked whether hearts turn, he affirmed every son of Adam's heart lies between two fingers of Allah, established or deviated as He wills, and taught asking that hearts not deviate after guidance with mercy from Him, Most Generous; then when she asked for a supplication for herself, he taught refuge as Lord of the Prophet Muḥammad ﷺ with forgiveness, removal of heart's rancour, and protection from misleading trials while alive. > **"O Allah, Turner of hearts, make my heart firm upon Your religion. O Allah, Lord of the Prophet Muḥammad, forgive my sin, remove the rancour of my heart, and shield me from misleading trials as long as You keep us alive."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ دعا میں اکثر یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» ’’ اے اللہ ! اے دلوں کو تبدیل کر دینے والے ! تو میرے دل کو اپنے دین پر ثابت ( یعنی جما ہوا ) رکھنا ۔‘‘ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دل بھی تبدیل ہو جاتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ، اولاد آدم میں سے ، جتنے بھی انسان ہیں ، ان میں سے ہر ایک کا دل ، اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے ، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے ٹھیک رکھتا ہے اور اگر چاہے تو اسے ٹیڑھا کر دیتا ہے ، تو ہم اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہدایت نصیب کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرے ، اور ہم اس سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی رحمت سے نوازے ، بے شک وہ بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے ۔‘‘ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے کسی ایسی دعا کی تعلیم نہیں دیں گے جو میں اپنے لئے کروں ؟ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي، وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْيَيْتَنَا» ’’ اے اللہ ! اے حضرت محمد نبی ( ﷺ ) کے پروردگار ! تو میرے گناہوں کی مغفرت کر دے اور میرے دل کے غصے کو رخصت کر دے ، اور جب تک تو مجھے زندہ رکھے گا ، فتنوں کی گمراہیوں سے مجھے محفوظ رکھنا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17382

Majma al-Zawaid #17382

وَعَنْ جَابِرٍ رَفَعَهُ قَالَ: كَانَ يَقُولُ: "" «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ""، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَخَافُ عَلَيْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِمَا جِئْتَ؟ قَالَ: "" إِنَّ الْقُلُوبَ» ""، وَأَشَارَ الْأَعْمَشُ بِإِصْبَعَيْنِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported in raised form that the Prophet ﷺ used to say a plea to the Turner of hearts for firmness; when asked whether fear remained despite belief in his message, he affirmed concerning hearts, with al-Aʿmash signalling with two fingers. > **"O Turner of hearts, make my heart firm upon Your religion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ مرفوع روایت کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ ) یہ پڑھا کرتے تھے : «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» ’’ اے دلوں کو پھیرنے والے ! تو میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا “۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کو ہمارے بارے میں اندیشہ ہے ؟ جبکہ ہم اس پر ایمان لا چکے ہیں ، جو آپ لے کر آئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بیشک قلوب ...... ( یعنی اس کے بعد راوی نے پوری روایت نقل کی ہے ) ۔ اعمش نامی راوی نے اپنی دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے یہ روایت بیان کی تھی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17383

Majma al-Zawaid #17383

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: "" اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقَلْبِي عَلَى دِينِكَ، وَاحْفَظْ مِنْ وَرَائِنَا بِرَحْمَتِكَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ: أَبِي إِسْمَاعِيلَ الْجِيزِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضi الله عنه reported that the Prophet ﷺ used to say in supplication a plea to turn his heart toward His religion and to guard with mercy those behind them. > **"O Allah, turn my heart toward Your religion, and guard those behind us with Your mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنی دعا میں یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقَلْبِي عَلَى دِينِكَ، وَاحْفَظْ مِنْ وَرَائِنَا بِرَحْمَتِكَ» ’’ اے اللہ ! تو میرے دل کو اپنے دین کی طرف متوجہ رکھنا اور ہمارے پیچھے والوں کی اپنی رحمت کے ہمراہ حفاظت کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد ابواسماعیل جیزی کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17384

Majma al-Zawaid #17384

وَعَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يَا وَلِيَّ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ، ثَبِّتْنِي بِهِ حَتَّى أَلْقَاكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ used to say a plea to the Guardian of Islam and its people for firmness therein until meeting Him. > **"O Guardian of Islam and its people, keep me firm therein until I meet You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «يَا وَلِيَّ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ، ثَبِّتْنِي بِهِ حَتَّى أَلْقَاكَ» ’’ اے اسلام کے نگران اور اس کے اہل ! تو مجھے اپنی بارگاہ میں حاضر ہونے تک اُس ( یعنی اسلام ) پر ثابت قدم رکھنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

17385

Majma al-Zawaid #17385

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: "" اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَا شَيْءَ قَبْلَكَ، وَأَنْتَ الْآخِرُ لَا شَيْءَ بَعْدَكَ، اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى وَمِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ، اللَّهُمَّ نَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ بَعِّدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطِيئَتِي كَمَا بَعَّدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، هَذَا مَا سَأَلَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَسْأَلَةِ، وَخَيْرَ الدُّعَاءِ، وَخَيْرَ النَّجَاحِ، وَخَيْرَ الْعَمَلِ، وَخَيْرَ الثَّوَابِ، وَخَيْرَ الْحَيَاةِ، وَخَيْرَ الْمَمَاتِ، وَثَبِّتْنِي وَثَقِّلْ مَوَازِينِي، وَأَحِقَّ إِيمَانِي، وَارْفَعْ دَرَجَتِي، وَتَقَبَّلْ صَلَاتِي، وَاغْفِرْ خَطِيئَتِي، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ، آمِينَ، اللَّهُمَّ وَنَجِّنِي مِنَ النَّارِ، وَمَغْفِرَةً بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَالْمَنْزِلَ الصَّالِحَ، آمِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَلَاصًا مِنَ النَّارِ سَالِمًا، وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ آمِنًا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تُبَارِكَ لِي فِي نَفْسِي، وَفِي خُلُقِي، وَفِي خَلِيقَتِي، وَأَهْلِي، وَفِي مَحْيَايَ، وَفِي سَمْعِي وَفِي بَصَرِي، وَفِي رُوحِي، وَفِي خُلُقِي وَفِي خَلِيقَتِي، وَأَهْلِي، وَفِي مَحْيَايَ وَفِي مَمَاتِي، اللَّهُمَّ وَثَقِّلْ حَسَنَاتِي، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ، آمِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ بِأَسَانِيدَ وَأَحَدِ إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ وَالسِّيَاقُ لَهُ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama رضي الله عنها reported from the Messenger of Allah ﷺ that he used to supplicate with similar longer words, beginning with the First and Last, refuge from controlled creatures, sin, laziness, Fire and grave punishment, trials of wealth and poverty, sin and debt, cleansing of the heart like the white garment, distance like east from west, then this is what Muḥammad asked his Lord, followed by best asking and supplication, firmness, weighty scales, affirmed faith, raised rank, accepted prayer, forgiven fault, highest Paradise, deliverance from Fire, night and day forgiveness, righteous abode, safe salvation from Fire, secure entry to Paradise, blessing in self, character, form, family, life, hearing, sight, spirit, and death, and weighty good deeds. > **"O Allah, You are the First, nothing before You; You are the Last, nothing after You. I ask You for the best asking, the best supplication, the best success, the best deed, the best reward, the best life, the best death. Make me firm, weight my scales, affirm my faith, raise my rank, accept my prayer, forgive my fault, and I ask You for the highest ranks of Paradise. O Allah, deliver me from the Fire and admit me to Paradise secure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں : آپ ﷺ ان کلمات کے ہمراہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَا شَيْءَ قَبْلَكَ، وَأَنْتَ الْآخِرُ لَا شَيْءَ بَعْدَكَ، اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى وَمِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ، اللَّهُمَّ نَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ بَعِّدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطِيئَتِي كَمَا بَعَّدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، هَذَا مَا سَأَلَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَسْأَلَةِ، وَخَيْرَ الدُّعَاءِ، وَخَيْرَ النَّجَاحِ، وَخَيْرَ الْعَمَلِ، وَخَيْرَ الثَّوَابِ، وَخَيْرَ الْحَيَاةِ، وَخَيْرَ الْمَمَاتِ، وَثَبِّتْنِي وَثَقِّلْ مَوَازِينِي، وَأَحِقَّ إِيمَانِي، وَارْفَعْ دَرَجَتِي، وَتَقَبَّلْ صَلَاتِي، وَاغْفِرْ خَطِيئَتِي، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ، آمِينَ، اللَّهُمَّ وَنَجِّنِي مِنَ النَّارِ، وَمَغْفِرَةً بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَالْمَنْزِلَ الصَّالِحَ، آمِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَلَاصًا مِنَ النَّارِ سَالِمًا، وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ آمِنًا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تُبَارِكَ لِي فِي نَفْسِي، وَفِي خُلُقِي، وَفِي خَلِيقَتِي، وَأَهْلِي، وَفِي مَحْيَايَ، وَفِي سَمْعِي وَفِي بَصَرِي، وَفِي رُوحِي، وَفِي خُلُقِي وَفِي خَلِيقَتِي، وَأَهْلِي، وَفِي مَحْيَايَ وَفِي مَمَاتِي، اللَّهُمَّ وَثَقِّلْ حَسَنَاتِي، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ، آمِينَ» ’’ اے اللہ ! تو سب سے پہلے ہے ، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی اور تو سب کے بعد ہے ، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہو گی اے اللہ ! میں ، ہر ایسے جانور سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، اور میں گناہ اور کسلمندی سے اور جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے اور خوشحالی کی آزمائش سے اور غربت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں گناہ اور اُدھار ( یا کوئی ادائیگی لازم ہونا ) سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! میرے دل کو خطاؤں سے یوں صاف رکھنا ، جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف رکھا ہے ، اے اللہ ! میرے اور خطاؤں کے درمیان اس طرح فاصلہ رکھ دینا ، جس طرح تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے ، یہ وہ چیز ہے جو محمد ( ﷺ ) اپنے پروردگار سے مانگتا ہے ، اے اللہ ! میں تجھ سے مانگنے میں بہترین دعا ، بہترین کامیابی ، بہترین عمل ، بہترین ثواب ، بہترین زندگی ، بهترین موت کا سوال کرتا ہوں ، تو مجھے ثابت قدم رکھنا ، میرے میزان کو بھاری رکھنا ، میرے ایمان کو مضبوط رکھنا ، میرے درجے کو بلند کرنا ، میری نماز کو قبول کرنا ، میرے گناہ کی مغفرت کرنا اور میں جنت کے بلند درجات کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، آمین ! اے اللہ ! تو مجھے جہنم سے نجات عطا کرنا اور رات اور دن کی مغفرت عطا کرنا اور اچھا ٹھکانہ عطا کرنا ، آمین ، اے اللہ ! میں تجھ سے سلامتی کے ساتھ جہنم سے خلاصی کا سوال کرتا ہوں اور تو ایسی حالت میں مجھے جنت میں داخل کرنا کہ میں محفوظ ہوؤں ، اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری ذات کے بارے میں ، میری سماعت میں ، میری بصارت میں ، میری روح میں ، میری تخلیق ، میرے اخلاق میں ، میرے اہل خانہ میں ، میری زندگی میں اور میری موت میں ، میرے لئے برکت رکھ دے ، اے اللہ ! تو میری نیکیوں کو بھاری کر دے ، اور میں جنت کے بلند درجات کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، آمین !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ روایت معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، معجم کبیر جس کا یہ سیاق ہے ، اس کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال اور معجم اوسط کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17386

Majma al-Zawaid #17386

وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: «كَانَ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ وَالْقَدَرِ، وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ ""، وَزَعَمَ أَنَّهَا دَعَوَاتٌ كَانَ يَدْعُو بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm al-Dardāʾ رضي الله عنها reported that Faḍāla ibn ʿUbayd رضي الله عنه used to say a supplication asking contentment with decree, cool life after death, delight of gazing at His Face, and longing to meet Him without harmful affliction or misleading trial, claiming they were supplications the Messenger of Allah ﷺ used to say. > **"O Allah, I ask You for contentment with decree, cool life after death, delight of gazing at Your Face, and longing to meet You, without harmful affliction or misleading trial."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ وَالْقَدَرِ، وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ» ’’ اے اللہ میں تجھ سے تقدیر کے فیصلے پر راضی رہنے اور مرنے کے بعد ٹھنڈی زندگی اور تیرے دیدار کی لذت اور تیری بارگاہ میں حاضری کے شوق کا سوال کرتا ہوں ، جو کسی نقصان دہ چیز یا کسی گمراہ کرنے والے فتنے کے بغیر ہو ۔‘‘ ان کا یہ کہنا ہے : یہ وہ دعا ہے جو نبی اکرم ﷺ کیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17387

Majma al-Zawaid #17387

وَعَنِ السَّائِبِ الثَّقَفِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَمَّارٍ، وَكَانَ يَدْعُو بِدُعَاءٍ فِي صَلَاتِهِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: قُلِ اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكِ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَاقْبِضْنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْخَشْيَةَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةَ، وَكَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ، وَالْقَصْدَ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ، وَبِرَدِّ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَسْأَلُكَ شَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنِّي بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الْهُدَاةِ الْمُهْتَدِينَ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ هُنَّ أَحْسَنُ مِنْهُنَّ - كَأَنَّهُ يَرْفَعُهُنَّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ مِنَ اللَّيْلِ فَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي سَلَّمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الْمُنَزَّلِ، وَنَبِيِّكَ الْمُرْسَلِ، إِنَّ نَفْسِي نَفْسٌ خَلَقْتَهَا، لَكَ مَحْيَاهَا وَلَكَ مَمَاتُهَا ; فَإِنْ أَمَتَّهَا فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَخَّرْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِحِفْظِ الْإِيمَانِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَطَاءَ بْنَ السَّائِبِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Al-Sāʾib al-Thaqafī reported that he was with ʿAmmār رضي الله عنه while he supplicated in prayer; a man came, and ʿAmmār instructed him with a supplication by unseen knowledge and power over creation for life while good and seizure when death is better, awe in unseen and seen, truth in pleasure and anger, moderation in wealth and poverty, contentment with decree, cool life after death, longing to meet without harmful affliction or misleading trial, adornment of faith, and guidance; then offered better words as though raised to the Prophet ﷺ, to be said upon taking night rest, of surrendered soul, directed face, entrusted affair, belief in the revealed Book and sent Prophet, the soul created with life and death to Him, mercy if taken and guarding in faith if delayed. > **"O Allah, by Your knowledge of the unseen and Your power over creation, keep me alive while You know life is better for me, and seize me when You know death is better for me. O Allah, I surrendered my soul to You, directed my face to You, entrusted my affair to You; I believed in Your revealed Book and Your sent Prophet. My soul is a soul You created; to You its life and to You its death; if You take it, have mercy on it, and if You delay it, guard it with the guarding of faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سائب تقفی بیان کرتے ہیں : میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، وہ اپنی نماز کے دوران دعا کر رہے تھے ، ایک شخص ان کے پاس آیا تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكِ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَاقْبِضْنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْخَشْيَةَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةَ، وَكَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ، وَالْقَصْدَ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ، وَبِرَدِّ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَسْأَلُكَ شَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنِّي بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الْهُدَاةِ الْمُهْتَدِينَ» ’’ اے اللہ ! میں تیرے غیب کے علم اور مخلوق پر تیری قدرت کے وسیلے سے یہ دعا کرتا ہوں کہ تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھنا ، جب تک کے بارے میں تو یہ علم رکھے کہ زندگی میرے حق میں بہتر ہے ، اور اس وقت مجھے موت دیدینا ، جب تیرے علم کے مطابق موت میرے حق میں بہتر ہو ، اے اللہ ! میں غیب اور شہادت کے بارے میں خشیت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور رضامندی اور غصے کے عالم میں حق بات کا ( تجھ سے سوال کرتا ہوں ) اور خوشحالی اور غربت میں میانہ روی کا ( تجھ سے سوال کرتا ہوں ) اور تقدیر کے فیصلے پر راضی رہنے اور مرنے کے بعد ٹھنڈی زندگی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں حاضری کے شوق کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، جو کسی لاحق ہونے والے ضرر یا گمراہ کرنے والے فتنے کے بغیر ہو ، اے اللہ ! ایمان کی زینت کے ہمراہ مجھے آراستہ کر دے اور مجھے ہدایت کی پیروی کرنے والوں اور ہدایت یافتہ افراد میں شامل کر دے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم دوں ، جو ان سے زیادہ خوبصورت ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : یوں محسوس ہوا ، جیسے وہ اُن کی نسبت نبی اکرم ﷺ کی طرف کر رہے ہیں ، انہوں نے فرمایا : جب تم رات کے وقت اپنے بستر پر جاؤ ، تو یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ إِنِّي سَلَّمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الْمُنَزَّلِ، وَنَبِيِّكَ الْمُرْسَلِ، إِنَّ نَفْسِي نَفْسٌ خَلَقْتَهَا، لَكَ مَحْيَاهَا وَلَكَ مَمَاتُهَا ; فَإِنْ أَمَتَّهَا فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَخَّرْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِحِفْظِ الْإِيمَانِ» ’’ اے اللہ ! میں نے اپنا آپ تیرے سپرد کیا ، میں نے اپنا رخ تیری طرف کر لیا ، میں نے اپنا معاملہ تجھے تفویض کر دیا ، میں تیری نازل کی ہوئی کتاب پر اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لے آیا ، بے شک میرا وجود ایک ایسا وجود ہے ، جسے تو نے پیدا کیا ہے ، اس کی زندگی تیرے لئے ہے ، اس کی موت تیرے لئے ہے ، اگر تو اسے موت دے گا تو اس پر رحم کرنا اور اگر تو اس ( موت کو مؤخر کر دیتا ہے تو ایمان کی حفاظت کے ہمراہ اس ( وجود ) کی حفاظت کرنا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی نے اس سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ، البتہ عطاء بن سائب نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

17388

Majma al-Zawaid #17388

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، وَامْرَأَةٍ مِنْ قَيْسٍ: أَنَّهُمَا سَمِعَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ أَحَدُهُمَا: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، خَطَئِي وَعَمْدِي» "". قَالَ الْآخَرُ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ أَسْتَهْدِيكَ لِأَرْشَدِ أَمْرِي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَامْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn Abī al-ʿĀṣ رضi الله عنه and a woman of Qays, or in the other version Quraysh, reported that each heard the Prophet ﷺ, one hearing a supplication for forgiveness of sin, error, and intention, the other hearing a supplication seeking guidance to the soundest affair and refuge from the evil of the soul. > **"O Allah, forgive me my sin, my error, and my intention. O Allah, I seek Your guidance to the soundest of my affair, and I seek refuge in You from the evil of my soul."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ اور قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون بیان کرتے ہیں : ان دونوں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا ، ان دونوں میں سے ایک کا یہ کہنا ہے ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا : «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، خَطَئِي وَعَمْدِي» ’’ اے اللہ ! تو میرے ذنب ، میری خطا اور میرے عمد کی مغفرت کر دے ۔‘‘ جبکہ دوسرے راوی کا یہ کہنا ہے ، میں نے آپ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا : «اللَّهُمَّ أَسْتَهْدِيكَ لِأَرْشَدِ أَمْرِي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي» ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے معاملے کے بارے میں ، سب سے زیادہ ہدایت والے طریقے کا طلب گار ہوں ، اور میں اپنی ذات کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :” قریش کے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ......‘‘. ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

17389

Majma al-Zawaid #17389

وَعَنْ عَجُوزٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ: «أَنَّهَا رَمَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي بِالْأَبْطَحِ تُجَاهَ الْبَيْتِ قَبْلَ الْهِجْرَةِ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، خَطَئِي وَجَهْلِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا السَّلِيلِ ضُرَيْبَ بْنَ نُفَيْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الصَّحَابَةِ فِيمَا قِيلَ.

EnglishUnverified translation

An old woman of Banū Numayr reported that she watched the Messenger of Allah ﷺ praying at al-Abṭaḥ facing the House before the Hijra and heard him say a supplication for forgiveness of sin, error, and ignorance. > **"O Allah, forgive me my sin, my error, and my ignorance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بنو نمیر سے تعلق رکھنے والی ایک بوڑھی خاتون بیان کرتی ہیں : انہوں نے بغور نبی اکرم ﷺ کا جائزہ لیا ، جب آپ ’’ ابطح ‘‘ کے مقام پر نماز ادا کر رہے تھے ، آپ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف تھا اور یہ ہجرت سے پہلے کی بات ہے ، میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، خَطَئِي وَجَهْلِي» ” اے اللہ ! تو میرے ذنب ، میری خطا اور میری لاعلمی کی مغفرت کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ابوسلیل ضریب بن نفیر نے ، صحابہ میں سے کسی سے سماع نہیں کیا ہے ، جیسا کہ یہ کہا گیا ہے ۔

17390

Majma al-Zawaid #17390

وَعَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ الْقُرَشِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو: "" «اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ: وَقَالَ: "" «مَنْ كَانَ ذَلِكَ دُعَاءَهُ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهُ الْبَلَاءُ» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ ثَقُاتْ.

EnglishUnverified translation

Busr ibn Arṭāh al-Qurashī رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ supplicate for a good end in all affairs and shelter from disgrace of this world and punishment of the Hereafter, with the addition that whoever keeps it as supplication dies before trial befalls him. > **"O Allah, make good our end in all affairs, and shelter us from the disgrace of this world and the punishment of the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بسر بن ابوارطاة قرشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے : «اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ» ” اے اللہ ! تمام امور میں ہمارے انجام کو اچھا کر دے اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھنا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور انھوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص یہ دعا کرتا رہے گا وہ اس سے پہلے مر جائے گا کہ آزمائش اس کو لاحق ہو ( یعنی اسے مرنے سے پہلے آزمائش کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ) ۔‘‘ امام احمد کے رجال اور طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔