Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 41 · Chapter 1

Book of Supplications

Hadith 17191–17230

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17191

Majma al-Zawaid #17191

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَنْ يَنْفَعَ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ، وَلَكِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ، وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ ; فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللَّهِ، بِالدُّعَاءِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ، وَرِوَايَةُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal, رضي الله عنه, narrates from the Prophet ﷺ concerning caution, decree, and the duty of supplication. > **"Caution will never avail against decree, but supplication avails against what has descended and what has not yet descended; so hold fast to supplication, O servants of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ تقدیر کے مقابلے میں احتیاط کوئی فائدہ نہیں دیتی ، لیکن دعا اُس چیز میں بھی نفع دیتی ہے جو نازل ہو چکی ہو ، اور اس میں بھی دیتی ہے جو نازل نہ ہوئی ہو ، تو اے اللہ کے بندو ! تم پر دعا کرنا لازم ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، شہر بن حوشب نامی راوی نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اور اسماعیل بن عیاش کی ، اہل حجاز سے نقل کردہ روایات ضعیف ہوتی ہیں ۔

17192

Majma al-Zawaid #17192

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا يَنْفَعُ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ، وَلَكِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ، وَإِنَّ الدُّعَاءَ لَيُصَادِفُ الْبَلَاءَ فَيَعْتَلِجَانِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, رضي الله عنها, narrates that the Messenger of Allah ﷺ spoke of caution, decree, and supplication meeting affliction. > **"Caution does not avail against decree, but supplication avails against what has descended and what has not yet descended, and supplication meets tribulation and they wrestle together until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ احتیاط ، تقدیر کے مقابلے میں کام نہیں آتی ہے اور دعا اس بارے میں بھی نفع دیتی ہے جو نازل ہو چکی ہو ، اور اس بارے میں بھی جو نازل نہ ہوئی ہو ، دعا آزمائش کے سامنے آتی ہے اور پھر وہ دونوں قیامت تک ایک دوسرے سے جھگڑا کرتی رہتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن منظور ہے جسے احمد بن صالح مصری نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17193

Majma al-Zawaid #17193

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا يَنْفَعُ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ، وَالدُّعَاءُ يَنْفَعُ مَا لَمْ يَنْزِلِ الْقَضَاءُ، وَإِنَّ الْبَلَاءَ وَالدُّعَاءَ لَيَلْتَقِيَانِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَيَعْتَلِجَانِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْقَدَرِ مِنْ نَحْوِ هَذَا الْبَابِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ spoke of caution, the decree, and the wrestling of supplication with tribulation. > **"Caution does not avail against decree, and supplication avails so long as the decree has not descended, and tribulation and supplication meet between heaven and earth and wrestle together until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ احتیاط ، تقدیر کے مقابلے میں فائدہ نہیں دیتی ہے ، اور دعاء اس صورت میں نفع دیتی ہے جب تقدیر کا حکم نازل نہ ہوا ہو ، آزمائش اور دعا ، آسمان اور زمین کے درمیان ایک دوسرے سے ملتی ہیں اور پھر یہ قیامت کے دن تک ایک دوسرے سے جھگڑا کرتی رہتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن خیثم بن عراک ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث تقدیر سے متعلق کتاب میں گزر چکی ہیں ۔

17194

Majma al-Zawaid #17194

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ الرِّزْقَ لَا تَنْقُصُهُ الْمَعْصِيَةُ وَلَا تَزِيدُهُ الْحَسَنَةُ، وَتَرْكُ الدُّعَاءِ مَعْصِيَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, رضي الله عنه, reports that he heard the Prophet ﷺ speak of provision, obedience, and supplication. > **"Provision is neither diminished by disobedience nor increased by good deeds, and abandoning supplication is disobedience."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ کوئی گناہ رزق میں کمی نہیں کرتا اور کوئی نیکی اُس ( رزق ) میں اضافہ نہیں کرتی اور دعا کو ترک کر دینا گناہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔

17195

Majma al-Zawaid #17195

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ أَبْخَلَ النَّاسِ مَنْ بَخِلَ بِالسَّلَامِ، وَأَعْجَزُ النَّاسِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الدُّعَاءِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مَوْقُوفًا فِي آخِرِ حَدِيثٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, رضي الله عنه, states as his own saying concerning miserliness with greeting and incapacity in supplication. > **"The most miserly of people is he who is miserly with greeting, and the most helpless of people is he who is helpless in supplication."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ سب سے زیادہ بخیل وہ شخص ہے جو سلام کرنے کے حوالے سے بخل کرے اور سب سے زیادہ عاجز وہ شخص ہے جو دعا کرنے سے عاجز ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے حدیث کے آخر میں ” موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17196

Majma al-Zawaid #17196

عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَوْمٍ مُبْتَلَيْنَ فَقَالَ: "" أَمَا كَانَ هَؤُلَاءِ يَسْأَلُونَ اللَّهَ الْعَافِيَةَ»؟ "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, رضي الله عنه, narrates that the Prophet ﷺ passed by a people afflicted with trial and questioned them concerning well-being. > **"Did these people not ask Allah for well-being?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو آزمائش میں مبتلا تھے ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے عافیت نہیں مانگتے تھے ؟“۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17197

Majma al-Zawaid #17197

عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَاتَلْتُ شَيْئًا مِنْ قِتَالٍ، ثُمَّ جِئْتُ مُسْرِعًا لِأَنْظُرَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجِئْتُ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ: "" يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ "". لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى الْقِتَالِ، ثُمَّ جِئْتُ، وَهُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ ذَلِكَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ إِلَى الْقِتَالِ ثُمَّ رَجَعْتُ، وَهُوَ يَقُولُ ذَلِكَ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ كَذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib, رضي الله عنه, narrates that on the day of Badr he fought for a time, then hurried to see what the Messenger of Allah ﷺ was doing and found him in prostration repeating two words without adding to them, returning to battle and finding him so each time until Allah granted victory. > **"O Living, O Sustainer, O Living, O Sustainer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر میں نے جنگ میں کچھ حصہ لیا ، پھر میں تیزی سے چلتا ہوا آیا تاکہ اس بات کا جائزہ لوں کہ نبی اکرم ﷺ کیا کر رہے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ مسجد میں تھے اور یہ پڑھ رہے تھے : یا حی یا قیوم ، یا حی یا قیوم ، آپ اس کے علاوہ مزید کچھ نہیں کہہ رہے تھے ، میں واپس لڑائی کی طرف چلا گیا ، پھر جب میں آیا تو میں نے آپ کو پایا کہ آپ سجدے کی حالت میں تھے اور وہی کلمات پڑھ رہے تھے ، پھر میں لڑائی کی طرف واپس چلا گیا ، جب میں آیا تو آپ یہی پڑھ رہے تھے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح نصیب کر دی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت اسی طرح نقل کی ہے ۔

17198

Majma al-Zawaid #17198

وَعَنْ عَلِيٍّ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ، وَعِمَادُ الدِّينِ، وَنُورُ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, رضي الله عنه, also narrates that the Messenger of Allah ﷺ described the station of supplication for the believer, the religion, and the heavens and earth. > **"Supplication is the weapon of the believer, the pillar of the religion, and the light of the heaven and the earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دعا مؤمن کا ہتھیار ہے اور دین کا ستون ہے اور آسمانوں اور زمین کا نور ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن ابویزید ہے اور وہ متروک ہے ۔

17199

Majma al-Zawaid #17199

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُنْجِيكُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ، وَيَدِرُّ لَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ؟ تَدْعُونَ اللَّهَ فِي لَيْلِكُمْ وَنَهَارِكُمْ ; فَإِنَّ الدُّعَاءَ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbd Allāh, رضي الله عنهما, narrates that the Messenger of Allah ﷺ offered to guide them to deliverance from their enemy and increase of provision through constant supplication. > **"Shall I not guide you to what will deliver you from your enemy and increase your provisions for you? Call upon Allah in your night and your day, for supplication is the weapon of the believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں ؟ جو تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دلائے گی ، اور تمہارے رزق میں اضافہ کر دے گی ، تم دن رات اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، کیونکہ دعا مومن کا ہتھیار ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17200

Majma al-Zawaid #17200

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا يَزَالُ الْعَبْدُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ "". قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَسْتَعْجِلُ؟! قَالَ: "" يَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ spoke of the servant remaining upon good unless he hastens, and when asked how he hastens, he described his words. > **"The servant remains upon good so long as he does not hasten. I have called upon my Lord and He has not answered me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بندہ مسلسل بھلائی پر رہتا ہے ، جب تک وہ جلدبازی نہیں کرتا ، لوگوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! وہ کیسے جلدبازی کرتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ یہ کہتا ہے : میں نے اپنے پروردگار سے دعا کی ، لیکن اس نے میری دعا قبول ہی نہیں کی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کو امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوہلال راسبی ہے ، وہ ثقہ ہے ، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، امام احمد اور امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17201

Majma al-Zawaid #17201

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَدْعُو اللَّهَ بِدَعْوَةٍ إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهَا، أَوْ كَفَّ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا، مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمِ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ، مَا لَمْ يُعَجِّلْ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا اسْتِعْجَالُهُ؟ قَالَ: "" يَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ (وَدَعَوْتُ) فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي ""، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِذًا نُكْثِرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" اللَّهُ أَكْثَرُ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ اسْتِعْجَالِ الدُّعَاءِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ spoke of the Muslim supplicating upon the earth, the conditions of sin and severing kinship, and the meaning of hastening, after which a man asked about increasing supplication. > **"There is no Muslim man upon the face of the earth who calls upon Allah with a supplication except that He grants it to him or averts from him an equal evil, so long as he does not call for sin or severing of kinship, and so long as he does not hasten. I have called and called and I have not been answered. Allah is Most Generous in giving."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ روئے زمین پر جو بھی مسلمان شخص اللہ تعالیٰ سے جو دعا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ یا تو وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے ، یا اس کی مانند کوئی برائی اس سے روک لیتا ہے ، جبکہ اس شخص نے کسی گناہ یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہ کی ہو ، اور جب تک وہ جلدبازی کا مظاہرہ نہ کرے ، لوگوں نے دریافت کیا : اس کے جلدبازی کا مظاہرہ کرنے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ یہ کہے : میں نے دعا کی ، میں نے دعا کی لیکن وہ قبول ہی نہیں ہوئی ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر تو ہمیں بکثرت ایسا ( یعنی دعا ) کرنا چاہیے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ ( فضل و کرم کے حوالے سے ) سب سے زیادہ کثرت والا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے دعا کے بارے میں جلدبازی والے حصے سے متعلق اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17202

Majma al-Zawaid #17202

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ أَفْضَلَ الْعِبَادَةَ انْتِظَارُ الْفَرَجِ مِنَ اللَّهِ)» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Anas, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ described the most excellent worship as expectant waiting for divine relief. > **"The most excellent worship is awaiting relief from Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سب سے زیادہ فضیلت والی عبادت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کشادگی ( نصیب ہونے ) کا انتظار کیا جائے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17203

Majma al-Zawaid #17203

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْقُلُوبُ أَوْعِيَةٌ، وَبَعْضُهَا (أَوْعَى) مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَيُّهَا النَّاسُ، فَسَلُوهُ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ ; فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ لِعَبْدٍ دَعَاهُ عَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ غَافِلٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿUmar, رضي الله عنهما, narrates that the Messenger of Allah ﷺ likened hearts to vessels, some more retentive than others, and commanded the people to ask with certainty. > **"Hearts are vessels, and some of them are more retentive than others, so when you ask Allah, O people, ask Him while you are certain of the answer, for Allah does not answer a servant who calls upon Him from a heedless, inattentive heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ دل ، برتن ہوتے ہیں اور ان میں سے بعض ، دوسرے بعض کی بہ نسبت زیادہ بہتر طور پر محفوظ رکھتے ہیں ، اے لوگو ! جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو ، تو اس سے ایسی حالت میں مانگو کہ تم قبولیت کا یقین رکھتے ہو ، بے شک اللہ تعالیٰ ایسے بندے کی دعا قبول نہیں کرتا ، جو غافل دل کے ساتھ دعا کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

17204

Majma al-Zawaid #17204

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّهُ حَدَّثَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ reported the words of Allah the Exalted concerning His servant's opinion of Him and His companionship in supplication. > **"Allah the Exalted says: I am with My servant's thought of Me, and I am with him when he calls upon Me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں ، اور جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے ، تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17205

Majma al-Zawaid #17205

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «هَذِهِ الْقُلُوبُ أَوْعِيَةٌ، فَخَيْرُهَا أَوْعَاهَا ; فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ وَأَنْتُمْ وَاثِقُونَ بِالْإِجَابَةِ ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءَ مَنْ دَعَا عَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ غَافِلٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, رضي الله عنهما, narrates that the Messenger of Allah ﷺ likened hearts to vessels, the best most retentive, and commanded asking with confidence while warning against the heedless heart. > **"These hearts are vessels, and the best of them are the most retentive, so when you ask Allah, ask Him while you are confident of the answer, for Allah does not answer the supplication of one who calls from a heedless, inattentive heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ دل برتن ہوتے ہیں ، ان میں زیادہ بہتر وہ ہوتا ہے جو زیادہ محفوظ رکھنے والا ہو ، جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو اس سے ایسی حالت میں مانگو کہ تم دعا کی قبولیت کا وثوق ( یعنی یقین ) رکھتے ہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے بندے کی دعا قبول نہیں کرتا جو غافل دل کے ساتھ دعا کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن میمون واسطی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

17206

Majma al-Zawaid #17206

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، لَا يُحْسِنُ عَبْدٌ بِاللَّهِ الظَّنَّ إِلَّا أَعْطَاهُ ظَنَّهُ، وَذَاكَ بِأَنَّ الْخَيْرَ فِي يَدِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْأَعْمَشَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, رضي الله عنه, swears by Him besides whom there is no god concerning the servant's good opinion of Allah and where all good lies. > **"By Him besides whom there is no god, no servant thinks well of Allah except that He grants him his expectation, and that is because all good is in His hand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جب بندہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے گمان کے مطابق اسے عطا کرتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ساری بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ اعمش نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

17207

Majma al-Zawaid #17207

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" قَالَ اللَّهُ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يُحَنَّسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي حُسْنِ الظَّنِّ فِي الْجَنَائِزِ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Ḥaydah, رضي الله عنه, narrates from the Prophet ﷺ the words of Allah concerning His servant's opinion of Him. > **"Allah says: I am with My servant's opinion of Me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حیده رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحنس بن ابراہیم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔ اس سے پہلے کتاب الجنائز میں اچھا گمان رکھنے کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں ۔

17208

Majma al-Zawaid #17208

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْصِبُ وَجْهَهُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي مَسْأَلَةٍ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهَا، إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَهَا لَهُ وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ spoke of the Muslim directing his face to Allah in asking and the two forms of divine giving. > **"There is no Muslim who directs his face to Allah in asking except that He grants it to him, either hastening it for him or storing it for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو مسلمان مانگتے ہوئے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے ، یا تو وہ چیز اُسے مل جاتی ہے ، یا پھر اللہ تعالیٰ ( اس کے مطابق اجر و ثواب ) اس شخص کے لیے سنبھال لیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ، اور ان میں سے بعض کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

17209

Majma al-Zawaid #17209

وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ عِنْدَ أَبِي يَعْلَى: " «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِشَيْءٍ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ فِيهِ، فَإِمَّا أَنْ يُعْطِيَهُ إِيَّاهُ وَإِمَّا أَنْ يُكَفِّرَ عَنْهُ (بِهِ) مَأْثَمًا مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ» ". وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, رضي الله عنه, is reported with the narration that every Muslim who calls upon Allah is answered in one of two ways, unless he asks for sin or severing kinship. > **"There is no Muslim who calls upon Allah with anything except that He answers him in it, either granting it to him or expiating thereby a sin from him, so long as he does not call for sin or severing of kinship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام ابویعلیٰ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : ’’ جو مسلمان کسی چیز کے بارے میں دعا کرتا ہے ، تو اس کے بارے میں اس کی دعا قبول ہوتی ہے ، یا تو اللہ تعالیٰ وہ اسے عطا کر دیتا ہے ، یا پھر اس کے مطابق کوئی گناہ اس شخص سے دور کر دیتا ہے ، جبکہ اس شخص نے کسی گناہ کے کام یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہ کی ہو ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17210

Majma al-Zawaid #17210

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ، وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَ لَهُ دَعْوَتَهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا فِي الْآخِرَةِ، وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا "". قَالُوا: إِذًا نُكْثِرُ، قَالَ: "" اللَّهُ أَكْثَرُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd, meaning al-Khudrī, رضي الله عنه, narrates that the Prophet ﷺ spoke of the Muslim supplication free of sin and severing kinship being granted in three ways, and when the people said they would increase, he spoke of Allah's abundance. > **"There is no Muslim who calls with a supplication in which there is no sin or severing of kinship except that Allah grants him thereby one of three: either He hastens his supplication for him, or He stores it for him in the Hereafter, or He averts from him an equal evil. Allah is Most Abundant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو بھی مسلمان جو دعا کرتا ہے ، جس میں کسی گناہ یا قطع رحمی کا پہلو نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس دعا کا نتیجہ ، تین میں سے ایک صورت میں اسے عطا کر دیتا ہے ، یا تو اس کی دعا کا اثر جلدی ظاہر ہو جاتا ہے ، یا ( اس کا اجر ) اللہ تعالیٰ آخرت کے لیے سنبھال کے رکھ لیتا ہے ، یا پھر اس کے حساب سے ، اُس شخص سے کسی برائی ( یا تکلیف ) کو دور کر دیتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : پھر تو ہمیں بکثرت دعا کرنی چاہیے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ کثرت والا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام احمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال اور امام بزار کی رو میں سے ایک سند کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف علی بن علی رفاعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17211

Majma al-Zawaid #17211

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لِابْنِ آدَمَ: يَا ابْنَ آدَمَ، ثَلَاثٌ وَاحِدَةٌ لِي وَوَاحِدَةٌ لَكَ، وَوَاحِدَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ، أَمَّا الَّتِي لِي فَتَعْبُدُنِي وَلَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا، وَأَمَّا الَّتِي لَكَ فَمَا عَمِلْتَ مِنْ عَمَلٍ جَزَيْتُكَ بِهِ، وَإِنْ أَغْفِرْ فَأَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ، وَأَمَّا الَّتِي بَيْنِي وَبَيْنَكَ: فَمِنْكَ الدُّعَاءُ وَالْمَسْأَلَةُ، وَعَلَيَّ الِاسْتِجَابَةُ وَالْعَطَاءُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَا. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَنَسٍ بِنَحْوِهِ فِي الْإِيمَانِ فِي حَقِّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ.

EnglishUnverified translation

Salmān, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ conveyed the address of Allah, Blessed and Exalted, to the son of Ādam dividing three matters between Lord and servant. > **"Allah, Blessed and Exalted, says to the son of Adam: O son of Adam, there are three things, one for Me, one for you, and one between Me and you. As for what is for Me, you worship Me and associate nothing with Me. As for what is for you, whatever deed you do I recompense you for it, and if I forgive then I am the Forgiving, the Merciful. As for what is between Me and you, from you is supplication and asking, and upon Me is answering and giving."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ ابن آدم سے فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تین چیزیں ہیں ، ایک میرے لیے ہے ، ایک تمہارے لئے ہے اور ایک میرے اور تمہارے درمیان ہے ، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے جو میرے لیے ہے ، تو تم میری عبادت کرو اور کسی کو میرا شریک نہ ٹھہراؤ ، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے ، جو تمہارے لئے ہے ، تو وہ یہ ہے کہ تم جو بھی عمل کرو گے ، میں تمہیں اس کی جزا دوں گا ، اور میں مغفرت کر دوں گا ، میں مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہوں ، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے جو میرے اور تمہارے درمیان ہے ، تو تمہاری طرف سے دعا کرنا اور مانگنا ہے اور میرے ذمہ دعا قبول کرنا اور عطا کرنا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے حمید بن ربیع کے حوالے سے علی بن عاصم سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ، ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی ایک حدیث ، جو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کتاب الایمان میں بندوں پر اللہ تعالیٰ کے حق سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

17212

Majma al-Zawaid #17212

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَيِيٌّ كَرِيمٌ، يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ أَنْ يَرْفَعَ يَدَيْهِ فَيَرُدَّهُمَا صِفْرًا لَيْسَ فِيهِمَا شَيْءٌ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرُ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbd Allāh, رضي الله عنهما, narrates that the Messenger of Allah ﷺ described Allah, the Exalted, as modest and generous toward His servant's raised hands. > **"Allah the Exalted is Modest and Generous; He is shy before His servant, when he raises his hands, to return them empty with nothing in them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ حیا کرنے والا مہربان ہے ، وہ اس بات سے اپنے بندے سے حیا کرتا ہے کہ وہ بندہ اپنے دونوں ہاتھ بلند کرے ، اور اللہ تعالیٰ ان دونوں کو نامراد واپس لوٹا دے کہ ان دونوں میں کچھ نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن محمد بن منکدر ہے ، اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، ان دونوں کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17213

Majma al-Zawaid #17213

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَسْتَحْيِي مِنْ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ إِذَا كَانَ مُسَدِّدًا لَزُومًا لِلسُّنَّةِ، أَنْ يَسْأَلَ اللَّهَ فَلَا يُعْطِيَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ رَاشِدٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, رضي الله عنه, narrates from the Prophet ﷺ concerning Allah's modesty before the grey-haired Muslim who holds straight to the Sunnah when he asks. > **"Allah, the Mighty and Majestic, is shy before the grey-haired Muslim, when he is upright and constant upon the Sunnah, to have him ask Allah and not grant him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ بوڑھے مسلمان سے ، جو نیک ہو اور سنت کا پیروکار ہو ، اُس سے اس بات سے حیا کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے ، تو اللہ تعالیٰ اسے عطا نہ کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن راشد ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17214

Majma al-Zawaid #17214

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ لِلَّهِ عُتَقَاءَ مِنَ النَّارِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ spoke of those freed from the Fire each day and night and the Muslim's answered call. > **"Allah has those freed from the Fire in every day and night, and for every Muslim in every day and night there is an answered supplication."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک روزانہ ، دن اور رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ لوگ جہنم سے آزاد ہوتے ہیں اور ہر رات اور دن میں مسلمان کی مستجاب دعا ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے اور وہ متروک ہے ۔

17215

Majma al-Zawaid #17215

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ لِلَّهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ عُتَقَاءَ مِنَ النَّارِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَإِنَّ لِكُلِّ مُسْلِمٍ دَعْوَةً يَدْعُو بِهَا فَيُسْتَجَابُ لَهُ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارِ الدَّعْوَةِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ spoke of those freed from the Fire each day and night in the month of Ramaḍān and the Muslim's supplication therein. > **"Allah has in every day and night in the month of Ramaḍān those freed from the Fire, and for every Muslim there is a supplication he calls with and is answered for it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ رمضان کے مہینے میں ہر دن اور رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ لوگ جہنم سے آزاد ہوتے ہیں ، اور ہر مسلمان کی ایک مخصوص دعا ہوتی ہے کہ اگر وہ اسے مانگ لے ، تو وہ مستجاب ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے دعا والے حصے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17216

Majma al-Zawaid #17216

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ أَعْطَى أَرْبَعًا أُعْطِيَ أَرْبَعًا، وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى: مَنْ أَعْطَى الذِّكْرَ ذَكَرَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ; لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ} [البقرة: 152]. وَمَنْ أَعْطَى الدُّعَاءَ أُعْطِيَ الْإِجَابَةَ ; لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} [غافر: 60]. وَمَنْ أَعْطَى الشُّكْرَ أُعْطِيَ الزِّيَادَةَ ; لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ} [إبراهيم: 7]. وَمَنْ أَعْطَى الِاسْتِغْفَارَ أُعْطِيَ الْمَغْفِرَةَ ; لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا} [نوح: 10]»). رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَحْمُودُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ spoke of four gifts met with four gifts, expounded in the Book of Allah with remembrance, supplication, gratitude, and seeking forgiveness. > **"Whoever is given four is given four, and their exposition is in the Book of Allah the Exalted: whoever is given remembrance, Allah remembers him, for Allah says: Remember Me, I shall remember you. Whoever is given supplication is given the answer, for Allah says: Call upon Me, I shall answer you. Whoever is given gratitude is given increase, for Allah says: If you are grateful, I shall surely increase you. Whoever is given seeking forgiveness is given forgiveness, for Allah says: Seek forgiveness of your Lord; indeed He is Most Forgiving."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس کو چار چیزیں عطا کر دی جائیں ، اُسے چار چیزیں عطا کی جاتی ہیں ، اس کی وضاحت اللہ کی کتاب میں موجود ہے ، جس شخص کو ذکر عطا کیا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ تم میرا ذکر کرو ، میں تمہارا ذکر کروں گا ۔‘‘ جس شخص کو دعا عطا کی جائے اسے قبولیت عطا کی جاتی ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :” تم مجھ سے دعا کرو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا ۔‘‘ اور جس شخص کو شکر عطا کیا جائے ، اسے مزید ( یعنی نعمت ) عطا کی جاتی ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :” اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید عطا کروں گا ۔‘‘ اور جس شخص کو استغفار عطا کیا جائے ، اُسے مغفرت عطا کی جاتی ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ تم لوگ اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو ! بے شک وہ بہت زیادہ مغفرت کرنے والا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمود بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17217

Majma al-Zawaid #17217

عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ: "" إِذَا نَزَلَتْ بِكُمْ رَغْبَةٌ أَوْ رَهْبَةٌ إِلَى مَنْ تَفْزَعُونَ؟ قَالُوا: إِلَى اللَّهِ، قَالَ: "" إِذَا أَجَابَكُمْ فَإِلَى مَنْ تَعُودُونَ؟ "". قَالُوا: إِلَى مَا تَعْلَمُ، قَالَ: "" تَعْلَمُونَ وَلَا تَعْمَلُونَ، وَتَعْلَمُونَ وَلَا تَعْمَلُونَ "". ثَلَاثًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ صُقَيْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ asked a man of the Arabs to whom they flee in hope and fear, to whom they return when answered, and what they know of the answer, repeating his rebuke thrice. > **"When hope or fear befalls you, to whom do you flee? To whom do you return when He answers you? You know and you do not act; you know and you do not act."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک عرب شخص سے فرمایا : جب تم رغبت والی یا خوف والی صورتحال پاتے ہو ، تو تم کسی کی پناہ میں جاتے ہو ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : اللہ تعالی کی طرف ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : جب وہ تمہاری دعا قبول کر لے ، تو پھر تم کس کی طرف واپس جاتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : اُس کی طرف ، جس کے بارے میں آپ جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم لوگ علم رکھتے ہو ، لیکن تم عمل نہیں کرتے ہو ، تم لوگ علم رکھتے ہو ، لیکن تم عمل نہیں کرتے ہو ۔‘‘ یہ کلمات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی منصور بن صقیر ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17218

Majma al-Zawaid #17218

عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ، وَضَعِيفٌ إِلَّا مَنْ قَوَّيْتُ، وَفَقِيرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ، فَسَلُونِي أُعْطِكُمْ، فَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ، وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا عَلَى قَلْبِ أَتْقَى عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي مَا زَادَ فِي مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ. وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَجِنَّكُمْ وَإِنْسَكُمْ، وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ، وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا عَلَى قَلْبِ أَفْجَرِ عَبْدٍ هُوَ لِي مَا نَقَصُوا مِنْ مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ، ذَلِكَ بِأَنِّي وَاحِدٌ، عَذَابِي كَلَامٌ، وَرَحْمَتِي كَلَامٌ، فَمَنْ أَيْقَنَ بِقُدْرَتِي عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَلَمْ يَتَعَاظَمْ فِي نَفْسِي أَنْ أَغْفِرَ لَهُ ذُنُوبَهُ وَإِنْ كَثُرَتْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā, رضي الله عنه, narrates from the Prophet ﷺ the address of Allah the Exalted to His servants concerning guidance, strength, and richness, the gathering of first and last upon the most pious or most wicked heart not adding or diminishing His dominion, and His power over forgiveness. > **"Allah the Exalted says: O My servants, all of you are astray except whom I guide, and weak except whom I strengthen, and poor except whom I enrich, so ask Me and I shall give you. Had your first and your last, your living and your dead, your moist and your dry, gathered upon the heart of the most pious servant of Mine, it would not increase My dominion by a gnat's wing. And had they gathered upon the heart of the most wicked servant of Mine, they would not diminish My dominion by a gnat's wing. That is because I am One; My punishment is speech and My mercy is speech. Whoever is certain of My power over forgiveness, it is not great in My sight to forgive his sins though they be many."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے میرے بندو ! تم سب گمراہ ہو ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جسے میں نے ہدایت نصیب کی ہو ( اور تم سب ) کمزور ہو ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جسے میں نے طاقت دی ہو ( اور تم سب ) غریب ہو ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جسے میں نے خوشحال کیا ہو ، تو تم مجھ سے مانگو ! میں تمہیں عطا کروں گا ، اگر تمہارے سب پہلے والے اور سب بعد والے ، تمام انسان اور تمام جنات ، تمام زندہ لوگ اور تمام مرحومین ، تمام تر اور تمام خشک اکٹھے ہو کر میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ پرہیزگار بندے کے قلب کے مطابق ہو جائیں ، تو بھی یہ چیز میری بادشاہی میں ایک مکھی کے پر جتنا اضافہ نہیں کرے گی ۔ اور اگر تمہارے سب پہلے والے اور سب بعد والے ، تمام انسان اور تمام جنات ، تمام زندہ لوگ اور تمام مرحومین ، تمام تر اور تمام خشک اکٹھے ہو کر میرے سب سے زیادہ گناہگار بندے کے قلب کے مطابق ہو جائیں ، تو بھی یہ چیز میری بادشاہی میں ایک مکھی کے پر جتنی کمی نہیں کرے گی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ایک ہوں ، میرا عذاب ، کلام ہے ، اور میری رحمت ، کلام ہے ، جو شخص مغفرت کے بارے میں میری قدرت کا یقین رکھتا ہو ، تو میرے لیے یہ بڑی بات نہیں ہے کہ میں اس کے گناہوں کی مغفرت کر دوں ، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن ہارون بن عنترہ ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

17219

Majma al-Zawaid #17219

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: «أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ، وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِكَ إِيَّانَا أَحَدًا. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ قَائِلُهَا؟ "". فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَقَدْ حَجَبْتَهُنَّ عَنْ نَاسٍ كَثِيرٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr, رضي الله عنهما, narrates that a man came saying forgive me and Muḥammad and admit none with us into mercy, whereupon the Prophet ﷺ asked who said it and the man owned it. > **"Who said it? You have veiled it from many people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص آیا اور بولا : اے اللہ ! تو میری اور حضرت محمد ﷺ کی مغفرت کر دے اور ہم پر ہونے والی اپنی رحمت میں ، تو کسی کو شریک نہ بنانا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اس بات کا قائل کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے اُس ( رحمت ) کو بہت سے لوگوں سے محجوب کر دیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔

17220

Majma al-Zawaid #17220

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُكْثِرْ ; فَإِنَّمَا يَسْأَلُ رَبَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, رضي الله عنها, narrates that the Messenger of Allah ﷺ commanded abundance in wishing, for the wisher asks his Lord. > **"When one of you wishes, let him wish abundantly, for he is but asking his Lord, the Mighty and Majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی ایک شخص آرزو کرے تو وہ کثرت والی کرے ، کیونکہ وہ اپنے پروردگار سے مانگ رہا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17221

Majma al-Zawaid #17221

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ، أَوْ حَوَائِجَهُ كُلَّهَا، حَتَّى يَسْأَلَهُ شِسْعَ نَعْلَهُ إِذَا انْقَطَعَ، وَحَتَّى يَسْأَلَهُ الْمِلْحَ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ قَوْلِهِ: "" وَحَتَّى يَسْأَلَهُ الْمِلْحَ "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَيَّارِ بْنِ حَاتِمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ commanded each one to ask his Lord for his need and all his needs, even the lace of his sandal and even salt. > **"Let one of you ask his Lord for his need, indeed all his needs, until he asks Him for the strap of his sandal when it breaks, and until he asks Him for salt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے ہر ایک کو اپنی تمام تر حاجات اپنے پروردگار سے مانگنی چاہیے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) یہاں تک کہ جب اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ بھی اس ( یعنی پروردگار ) سے مانگنا چاہیے ، یہاں تک کہ نمک بھی اسی ( یعنی پروردگار ) سے مانگنا چاہیے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں :” نمک بھی اسی سے مانگنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف سیار بن حاتم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17222

Majma al-Zawaid #17222

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَلُوا اللَّهَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الشِّسْعَ ; فَإِنَّ اللَّهَ إِنْ لَمْ يُيَسِّرْهُ لَمْ يَتَيَسَّرْ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, رضي الله عنها, states as her own saying that every thing, even the sandal strap, is to be asked of Allah, for what He does not ease is not eased. > **"Ask Allah for everything, even the sandal strap, for if Allah does not ease it, it is not eased."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ سے ہر چیز مانگو ، یہاں تک کہ تسمہ بھی ( یعنی اسی سے مانگو ) کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ عطا نہیں کرے گا تو وہ میسر نہیں آئے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبداللہ بن نمیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17223

Majma al-Zawaid #17223

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «كَانَ أَحَبُّ الدُّعَاءِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh, meaning Ibn Masʿūd, رضي الله عنه, states that the most beloved supplication to the Messenger of Allah ﷺ was to supplicate three times. > **"The most beloved supplication to the Messenger of Allah ﷺ was to supplicate three times."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے نزدیک دعا کرنے کا پسندیدہ طریقہ یہ تھا کہ آپ تین مرتبہ دعا مانگیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ، البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔

17224

Majma al-Zawaid #17224

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْعَبْدَ يَدْعُو اللَّهَ، وَهُوَ يُحِبُّهُ فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ: يَا جِبْرِيلُ، اقْضِ لِعَبْدِي هَذَا حَاجَتَهُ وَأَخِّرْهَا ; فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَ صَوْتَهُ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَدْعُو اللَّهَ، وَهُوَ يُبْغِضُهُ فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ: يَا جِبْرِيلُ، اقْضِ لِعَبْدِي هَذَا حَاجَتَهُ وَعَجِّلْهَا ; فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَسْمَعَ صَوْتَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbd Allāh, رضي الله عنهما, narrates from the Messenger of Allah ﷺ that when the servant whom Allah loves calls, Allah tells Jibrīl to fulfill but delay his need out of love for his voice, and when the servant whom He dislikes calls, to fulfill and hasten out of dislike for his voice. > **"The servant calls upon Allah, and He loves him, so Allah says: O Jibrīl, fulfill this servant's need but delay it, for I love to hear his voice. And the servant calls upon Allah, and He dislikes him, so Allah says: O Jibrīl, fulfill this servant's need and hasten it, for I dislike to hear his voice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بندہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے اور وہ اس سے محبت رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے جبرائیل ! میرے اس بندے کی حاجت پوری کر دینا ، لیکن اسے مؤخر کرو ، کیونکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ اس کی آواز سنوں ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اسی طرح کوئی بندہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے ناپسند کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے جبرائیل ! میرے اس بندے کی حاجت پوری کر دو ، اور اسے جلدی پورا کرنا ، کیونکہ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ اس کی آواز سنوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

17225

Majma al-Zawaid #17225

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَطْلُبُ الْحَاجَةَ فَيَزْوِيهَا اللَّهُ عَنْهُ لِمَا هُوَ خَيْرٌ لَهُ، فَيَتَّهِمُ النَّاسَ ظَالِمًا لَهُمْ، فَيَقُولُ: مَنْ يَسَعُنِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفُورِ أَبُو الصَّبَّاحِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, رضي الله عنهما, narrates from the Prophet ﷺ concerning the man who seeks a need and Allah turns it away for what is better, yet he wrongfully accuses people and asks who suffices him. > **"A man seeks a need and Allah turns it away from him for what is better for him, then he accuses people, wronging them, saying: who suffices me?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بندہ کوئی حاجت طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس ( حاجت ) کو اس بندے سے پھیر دیتا ہے ، کیونکہ ایسا کرنا اس بندے کے حق میں بہتر ہوتا ہے ، اور پھر وہ لوگوں کے ساتھ ظلم کرتے ہوئے کہتا ہے : کون میرے کام آیا ؟‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفور ابوصباح ہے اور وہ متروک ہے ۔

17226

Majma al-Zawaid #17226

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ مَا يَتَمَنَّاهُ ; فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْ أُمْنِيَّتِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ commanded the wisher to consider his wish, for he knows not what of it is decreed for him. > **"When one of you wishes, let him consider what he wishes for, for he does not know what of his wish is written for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی ایک شخص کوئی آرزو کرے ، تو اسے اس بات کا جائزہ لے لینا چاہیے کہ وہ کیا آرزو کر رہا ہے ؟ کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کی آرزوؤں میں سے کیا چیز اس کے نصیب میں نوٹ کی گئی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام احمد کی سند کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17227

Majma al-Zawaid #17227

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ مُسْتَجَابَةٌ، وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا ; فَفُجُورُهُ عَلَى نَفْسِهِ» "". قُلْتُ: لَهُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَغَيْرِهِ فِي دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ affirmed the answered supplication of the oppressed even if sinful, his sin being against himself. > **"The supplication of the oppressed is answered, even if he be sinful, for his sinfulness is against himself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مظلوم کی دعا مستجاب ہوتی ہے ، اگرچہ وہ گناہ گار ہی کیوں نہ ہو ، کیونکہ اس کا گناہ گار ہونا ، اُس کے اپنے خلاف ہو گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام ابوداؤد نے مظلوم کی دعا کے بارے میں ایک روایت نقل کی ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17228

Majma al-Zawaid #17228

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «ثَلَاثٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرُدَّ لَهُمْ دَعْوَةً: الصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَالْمَظْلُومُ حَتَّى يَنْتَصِرَ، وَالْمُسَافِرُ حَتَّى يَرْجِعَ» "". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ الْمُسَافِرِ، وَبِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, رضي الله عنه, narrates from the Prophet ﷺ concerning three whom Allah has bound Himself not to refuse: the fasting until he breaks, the oppressed until aided, and the traveller until he returns. > **"Three: Allah has bound Himself not to refuse them a supplication: the fasting person until he breaks his fast, the oppressed until he is aided, and the traveller until he returns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تین لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اُن کی دعا کو رد نہ کرے ، روزہ دار شخص ، جب تک وہ افطاری نہیں کر لیتا ، مظلوم شخص ، جب تک وہ مدد ( یعنی بدلہ ) حاصل نہیں کر لیتا اور مسافر شخص ، جب تک وہ واپس نہیں آ جاتا ۔‘‘ یہ روایت امام ترمذی نے ، مسافر والے حصے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس میں یہ سیاق نہیں ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔

17229

Majma al-Zawaid #17229

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: " «ثَلَاثٌ لَا يُرَدُّ دُعَاؤُهُمُ: الذَّاكِرُ لِلَّهِ» ". فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَفِي إِسْنَادِ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ إِسْحَاقُ بْنُ زَكَرِيَّا الْأَيْلِيُّ: شَيْخُ الْبَزَّارِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a narration from him the wording is that three are not refused, among them the one who remembers Allah, followed by the like of the preceding report. > **"Three whose supplication is not rejected: the one who remembers Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تین قسم کے لوگ ہیں ، جن کی دعا رد نہیں ہوتی ہے ، اللہ کا ذکر کرنے والا ......‘‘۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ دوسری روایت کی سند میں ، ایک راوی اسحاق بن زکریا ایلی ہے جو امام بزار کا استاد ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

17230

Majma al-Zawaid #17230

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «غَيْرَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ، وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ، الْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ يُحِبُّهَا اللَّهُ، وَالْغَيْرَةِ فِي غَيْرِ الرِّيبَةِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ وَ (مَخِيلَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ وَالْأُخْرَى يَبْغَضُهَا اللَّهُ)، وَالْمَخِيلَةُ إِذَا تَصَدَّقَ الرَّجُلُ يُحِبُّهَا اللَّهُ، وَالْمَخِيلَةُ فِي الْكِبَرِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ» "". وَقَالَ: "" «ثَلَاثَةٌ تُسْتَجَابُ دَعْوَتُهُمُ: الْوَالِدُ، وَالْمُسَافِرُ، وَالْمَظْلُومُ» "". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir al-Juhanī, رضي الله عنه, narrates from the Prophet ﷺ concerning two jealousies, one loved and one hated, two prides, one loved and one hated, and three whose supplication is answered. > **"Two jealousies, one Allah loves and the other Allah hates: jealousy in suspicion Allah loves, and jealousy without suspicion Allah hates. And pride when a man gives charity Allah loves, and pride in arrogance Allah hates. Three whose supplication is answered: the father, the traveller, and the oppressed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مزاج کی تیزی دو قسم کی ہوتی ہے ، ایک قسم کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور دوسری کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ، مشکوک کے بارے میں مزاج کی تیزی کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور مشکوک کے علاوہ صورتحال میں مزاج کی تیزی کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ، اور اترانا دو طرح کا ہوتا ہے ، ان میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ، اور دوسری قسم کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ، جب کوئی شخص صدقہ کرتے ہوئے اتراتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے پسند کرتا ہے اور جب کوئی شخص تکبر کرتے ہوئے اتراتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ناپسند کرتا ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا :’’ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں ، جن کی دعا قبول ہوتی ہے ، والد ، مسافر اور مظلوم ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن زید ازرق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔