وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: «قَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: يَا ابْنَ عَمِّي، شَقَّ عَلَيَّ الْعَمَلُ وَالرَّحَى، فَكَلِّمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا: نَعَمْ. فَأَتَاهُمَا نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْغَدِ وَهُمَا نَائِمَانِ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ، فَأَدْخَلَ رِجْلَيْهِ بَيْنَهُمَا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، يَشُقُّ عَلَيَّ الْعَمَلُ ; فَإِنْ أَمَرْتَ لِي بِخَادِمٍ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: "" أَفَلَا أُعَلِّمُكِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ ذَلِكَ؟ تُسَبِّحِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَذَلِكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} [الأنعام: 160] إِلَى مِائَةِ أَلْفٍ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
On the authority of ʿAlī, meaning Ibn Abī Ṭālib, may Allāh be pleased with him, Fāṭimah, may Allāh be pleased with her, said to ʿAlī: O son of my uncle, work and the millstone burden me, so speak to the Messenger of Allāh ﷺ; he said: yes; and the Prophet of Allāh ﷺ came to them next morning while they slept in one blanket, and put his feet between them, and Fāṭimah said: O Prophet of Allāh, work burdens me, so if you order me a servant from what Allāh granted you as fayʾ; and he ﷺ said: shall I not teach you what is better for you than that; glorify thirty-three, praise thirty-three, and magnify thirty-four, making a hundred upon the tongue and a thousand upon the scale, for Allāh says: whoever brings a good deed shall have ten like it, up to a hundred thousand. > **"Shall I not teach you what is better for you than that? Glorify thirty-three, praise thirty-three, and magnify thirty-four, making a hundred upon the tongue and a thousand upon the scale."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : اے میرے چچازاد ! گھر کا کام کاج اور چکی پیسنا ، میرے لئے مشکل کا باعث ہوتا ہے ، تو آپ اللہ کے رسول ﷺ سے اس بارے میں بات چیت کیجیے ! انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ، اگلے دن نبی اکرم ﷺ ان دونوں کے ہاں تشریف لائے ، وہ دونوں اُس وقت لحاف میں سو رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے پاؤں اُن دونوں کے درمیان داخل کیے ( یعنی آپ نے بھی پاؤں لحاف میں داخل کر لیے ) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کام کاج کرنا ، میرے لئے دشواری کا باعث ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مال فے کے طور پر جو کچھ عطا کیا ہے ، اگر آپ اُس میں سے مجھے کوئی خادم دینے کا حکم دیدیں ( تو یہ مناسب ہو گا ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اس کی تعلیم نہ دوں ؟ جو تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے ، تم 33 مرتبہ سبحان الله ، 33 مرتبہ الحمد لله اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھو ! زبان سے پڑھنے کے حوالے سے یہ 100 ہوں گے ، اور میزان میں یہ 1000 ہوں گے ، اس کی وجہ یہ ہے : کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص ایک نیکی کرے گا ، اُسے اُس کا دس گنا ( اجر و ثواب ) ملے گا ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے اس کا دس گنا سے لے کر ) ایک لاکھ گنا تک ( اجر و ثواب ) ملے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔