Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 40 · Chapter 12

Book of Remembrances

Hadith 17183–17190

8 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17183

Majma al-Zawaid #17183

وَعَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْأَعْمَيَيْنِ "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْأَعْمَيَانِ؟ قَالَ: "" السَّيْلُ، وَالْبَعِيرُ الصَّئُولُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْحَاطِبِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي فِي آخِرِ الْأَدْعِيَةِ بَابٌ فِي الِاسْتِعَاذَةِ، وَهُوَ مَوْضِعُهُ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah bint Qudāmah ibn Maẓʿūn, may Allāh be pleased with her, reported that the Messenger of Allāh ﷺ would say: O Allāh, I seek refuge in Thee from the evil of the two blind ones; it was said: O Messenger of Allāh, what are the two blind ones; and he ﷺ said: the flood and the aggressive camel. > **"O Allāh, I seek refuge in Thee from the evil of the two blind ones: the flood and the aggressive camel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ بنت قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ فرماتے تھے : ’’ اے اللہ ! میں دو اندھی چیزوں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! دو اندھی چیزیں کیا ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سیلاب اور سرکش اونٹ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان حاطبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : دعاؤں سے متعلق کتاب میں ، پناہ مانگنے سے متعلق باب میں ، اس نوعیت کی کچھ احادیث آئیں گئی ، جو اپنے مخصوص مقام پر ہوں گی ۔

17184

Majma al-Zawaid #17184

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَقِلُّوا الْخُرُوجَ بَعْدَ هَدْأَةِ الرَّحْلِ ; فَإِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى دَوَابَّ يَبُثُّهَا فِي الْأَرْضِ تَفْعَلُ مَا تُؤْمَرُ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نُهَاقَ الْحَمِيرِ، أَوْ نُبَاحَ الْكَلْبِ ; فَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ; فَإِنَّهَا تَرَى مَا لَا تَرَوْنَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿUbādah ibn al-Ṣāmit, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said: O people, go out little after the stillness of night, for Allāh, Exalted, spreads creatures upon the earth doing as commanded; and when you hear the braying of donkeys or the barking of dogs, seek refuge in Allāh from Satan, for they see what you do not see. > **"Go out little after the stillness of night; and when you hear the braying of donkeys or the barking of dogs, seek refuge in Allāh from Satan, for they see what you do not see."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! شام ہو جانے کے بعد کم باہر نکلا کرو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ زمین میں جانوروں ( یا حشرات الارض ) کو پھیلا دیتا ہے ، جو ویسا کرتے ہیں ، جن کا انہیں حکم دیا گیا ہو ، اور جب تم گدھے کے رینکنے یا کتے کے بھونکنے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو ! کیونکہ وہ ( جانور یعنی گدھا یا کتا ) اُس کو دیکھ لیتا ہے ، جسے تم نہیں دیکھتے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلیٰ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17185

Majma al-Zawaid #17185

وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِذَا نَهَقَ الْحِمَارُ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْأَدَبِ نَحْوُ هَذَا.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ṣuhayb, may Allāh be pleased with him, he heard the Messenger of Allāh ﷺ say: when the donkey brays, seek refuge in Allāh from the accursed Satan. > **"When the donkey brays, seek refuge in Allāh from the accursed Satan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب گدھا رینگتا ہے تو تم مردود شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الادب میں اس نوعیت کی روایات گزر چکی ہیں ۔

17186

Majma al-Zawaid #17186

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرَ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةٍ وَسَبْعِ أَمْثَالِهَا، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً، أَوْ يَمْحُهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Dharr, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever intends a good deed and does not do it, one good is written for him, and if he does it, ten like it up to seven hundred and sevenfold are written for him; and whoever intends an evil deed and does not do it, nothing is written against him, and if he does it, one evil is written against him, or Allāh, Mighty and Majestic, effaces it. > **"Whoever intends a good deed and does not do it, one good is written for him, and if he does it, ten like it up to seven hundred and sevenfold are written for him. Whoever intends an evil deed and does not do it, nothing is written against him, and if he does it, one evil is written against him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ایک نیکی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ کرے ، تو اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کی جاتی ہے اور اگر وہ اس ( یعنی ارادے ) پر عمل کر لے ، تو اس کے لیے اس کی مانند دس گنا سے لے کر سات سو سات گنا تک نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں اور جو شخص ایک برائی کا ارادہ کرتا ہے ، اور اس پر عمل نہیں کرتا ، تو اس چیز کو اس کے خلاف نوٹ نہیں کیا جاتا ، اور اگر وہ اس پر عمل کر لے تو اس کے خلاف ایک برائی نوٹ کی جاتی ہے اور ( بعض اوقات ) اللہ تعالیٰ اسے بھی مٹا دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17187

Majma al-Zawaid #17187

عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ يُكْتَبْ عَلَيْهِ شَيْءٌ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Anas, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever intends a good deed and does not do it, one good is written for him, and if he does it, ten are written for him; and whoever intends an evil deed and does not do it, nothing is written against him, and if he does it, one evil is written. > **"Whoever intends a good deed and does not do it, one good is written for him, and if he does it, ten are written for him. Whoever intends an evil deed and does not do it, nothing is written against him, and if he does it, one evil is written."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص ایک نیکی کا ارادہ کرتا ہے ، اور اس پر عمل نہیں کرتا ، تو اُس کے لئے ایک نیکی نوٹ کر لی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لے ، تو اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ، اور جو شخص ایک برائی کا ارادہ کرے ، اور اس پر عمل نہ کرے ، تو اس کے خلاف کوئی چیز نوٹ نہیں کی جاتی ہے ، اور اگر وہ اس پر عمل کر لے ، تو اُس کے خلاف ایک برائی نوٹ کی جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

17188

Majma al-Zawaid #17188

وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ - يَعْنِي النَّهْدِيَّ - قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: «بَلَغَنِي أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُعْطِي عَبْدَهُ بِالْحَسَنَةِ الْوَاحِدَةِ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ، (قَالَ فَقَضَى أَنِّيِ انْطَلَقْتُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا فَلَقِيتَهُ فَقُلْتُ: بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ، أَنَّكَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ، بِالْحَسَنَةِ أَلْفَ أَلْفَ حَسَنَةٍ)، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَا. بَلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُعْطِيهِ أَلْفَيْ أَلْفِ حَسَنَةٍ ". ثُمَّ تَلَا: {يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} [النساء: 40]. فَقَالَ: إِذَا قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ: {أَجْرًا عَظِيمًا} [النساء: 40] فَمَنْ يَقْدُرُ قَدْرَهُ».

EnglishUnverified translation

Abū ʿUthmān, meaning al-Nahdī, said it reached him from Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, that Allāh, Mighty and Majestic, gives His servant a million good deeds for one good deed; then he went for ḥajj or ʿumrah and met him and said: it reached me from you that you heard the Messenger of Allāh ﷺ say: Allāh, Mighty and Majestic, gives His believing servant a million good deeds for one good; and Abū Hurayrah said: no; rather I heard the Messenger of Allāh ﷺ say: Allāh, Mighty and Majestic, gives him two million good deeds; then he recited: He shall multiply it and grant from Himself an immense reward; and said: when Allāh, Mighty and Majestic, says: an immense reward, who can estimate it. > **"Allāh gives him two million good deeds for one good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعثمان نہدی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، مجھے یہ اطلاع ملی کہ وہ یہ بات بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : ’’ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو ایک نیکی کے بدلے میں 1000 ہزار ( یعنی دس لاکھ ) نیکیاں عطا کرتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مجھے حج یا عمرے کے سلسلے میں جانے کا اتفاق ہوا ، میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا ، میں نے کہا : آپ کے حوالے سے یہ روایت مجھ تک پہنچی ہے کہ آپ یہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو ایک نیکی کے بدلے میں 1000 ہزار ( یعنی دس لاکھ ) نیکیاں عطا کرتا ہے ۔‘‘ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ اسے 2000 ہزار ( یعنی بیس لاکھ ) نیکیاں عطا کرتا ہے ۔‘‘ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اگر وہ نیکی ہو گی تو وہ اُس کو کئی گنا کر دے گا ، اور اپنی طرف سے بھی عظیم اجر عطا فرمائے گا ۔‘‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے ’’ عظیم اجر ‘‘ فرما دیا ہے تو کون شخص اس کا اندازہ کر سکتا ہے ؟

17189

Majma al-Zawaid #17189

وَفِي رِوَايَةٍ: أَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ: إِنَّ الْحَسَنَةَ تُضَاعَفُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ. فَقَالَ: وَمَا أَعْجَبَكَ مِنْ ذَلِكَ؟ فَوَاللَّهِ، لَقَدْ سَمِعْتُهُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

In a variant, he came to Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, and said: it reached me that you say one good is multiplied a millionfold; and he said: why do you wonder at that; by Allāh, I heard him, and he mentioned the like. > **"Why do you wonder at that? By Allāh, I heard him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، میں نے کہا : مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں : ایک نیکی 1000 ہزار ( یعنی 10 لاکھ گنا ) ہو جاتی ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہیں اس بات پر حیرانگی کیوں ہو رہی ہے ؟ اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے ...... اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال عمدہ ہیں ۔

17190

Majma al-Zawaid #17190

وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: «قَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: يَا ابْنَ عَمِّي، شَقَّ عَلَيَّ الْعَمَلُ وَالرَّحَى، فَكَلِّمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا: نَعَمْ. فَأَتَاهُمَا نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْغَدِ وَهُمَا نَائِمَانِ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ، فَأَدْخَلَ رِجْلَيْهِ بَيْنَهُمَا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، يَشُقُّ عَلَيَّ الْعَمَلُ ; فَإِنْ أَمَرْتَ لِي بِخَادِمٍ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: "" أَفَلَا أُعَلِّمُكِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ ذَلِكَ؟ تُسَبِّحِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَذَلِكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} [الأنعام: 160] إِلَى مِائَةِ أَلْفٍ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿAlī, meaning Ibn Abī Ṭālib, may Allāh be pleased with him, Fāṭimah, may Allāh be pleased with her, said to ʿAlī: O son of my uncle, work and the millstone burden me, so speak to the Messenger of Allāh ﷺ; he said: yes; and the Prophet of Allāh ﷺ came to them next morning while they slept in one blanket, and put his feet between them, and Fāṭimah said: O Prophet of Allāh, work burdens me, so if you order me a servant from what Allāh granted you as fayʾ; and he ﷺ said: shall I not teach you what is better for you than that; glorify thirty-three, praise thirty-three, and magnify thirty-four, making a hundred upon the tongue and a thousand upon the scale, for Allāh says: whoever brings a good deed shall have ten like it, up to a hundred thousand. > **"Shall I not teach you what is better for you than that? Glorify thirty-three, praise thirty-three, and magnify thirty-four, making a hundred upon the tongue and a thousand upon the scale."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : اے میرے چچازاد ! گھر کا کام کاج اور چکی پیسنا ، میرے لئے مشکل کا باعث ہوتا ہے ، تو آپ اللہ کے رسول ﷺ سے اس بارے میں بات چیت کیجیے ! انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ، اگلے دن نبی اکرم ﷺ ان دونوں کے ہاں تشریف لائے ، وہ دونوں اُس وقت لحاف میں سو رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے پاؤں اُن دونوں کے درمیان داخل کیے ( یعنی آپ نے بھی پاؤں لحاف میں داخل کر لیے ) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کام کاج کرنا ، میرے لئے دشواری کا باعث ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مال فے کے طور پر جو کچھ عطا کیا ہے ، اگر آپ اُس میں سے مجھے کوئی خادم دینے کا حکم دیدیں ( تو یہ مناسب ہو گا ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اس کی تعلیم نہ دوں ؟ جو تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے ، تم 33 مرتبہ سبحان الله ، 33 مرتبہ الحمد لله اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھو ! زبان سے پڑھنے کے حوالے سے یہ 100 ہوں گے ، اور میزان میں یہ 1000 ہوں گے ، اس کی وجہ یہ ہے : کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص ایک نیکی کرے گا ، اُسے اُس کا دس گنا ( اجر و ثواب ) ملے گا ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے اس کا دس گنا سے لے کر ) ایک لاکھ گنا تک ( اجر و ثواب ) ملے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔