Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 41 · Chapter 2

Book of Supplications

Hadith 17231–17270

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17231

Majma al-Zawaid #17231

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «دَعْوَتَانِ لَيْسَ بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْمَرْءِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, رضي الله عنهما, narrates that the Messenger of Allah ﷺ spoke of two supplications between which and Allah there is no veil. > **"Two supplications with no veil between them and Allah: the supplication of the oppressed and the supplication of a man for his brother behind his back."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دو قسم کی دعائیں ایسی ہیں کہ ان دونوں کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا ، مظلوم کی دعا اور آدمی کی اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں کی جانے والی دعا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوبکر ملیکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17232

Majma al-Zawaid #17232

وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ ; فَإِنَّهَا تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ، يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي، لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Khuzaymah ibn Thābit, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ warned against the supplication of the oppressed, describing its ascent and the oath of Allah, the Mighty and Majestic, to aid it even after a while. > **"Fear the supplication of the oppressed, for it is carried upon the clouds; Allah says: By My might and My majesty, I shall surely aid you even if after a while."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مظلوم کی دعا ( یعنی بددعا ) سے بچو ! کیونکہ وہ بادل کے اوپر جاتی ہے ، اور اللہ تعالی یہ فرماتا ہے :” مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ہے ، میں تمہاری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد کروں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17233

Majma al-Zawaid #17233

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا أَطُوفُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِفُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَا هَذَا؟ "". قَالَ: أَمَرَنِي رَجُلٌ أَنْ أَدْعُوَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" قَدْ غُفِرَ لِصَاحِبِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَعْفَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, رضي الله عنهما, narrates that while circumambulating with the Prophet ﷺ they heard a man saying forgive so-and-son-of-so, and when the Prophet ﷺ asked his reason, he said a man had charged him to supplicate for him, whereupon the Prophet ﷺ gave him glad tidings. > **"What is this? Your companion has been forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ طواف کر رہا تھا ، اسی دوران آپ نے کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے اللہ فلاں بن فلاں کی مغفرت کر دے ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس نے بتایا : ایک شخص نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں اس کے لئے دعا کروں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے ساتھی کی مغفرت ہو گئی ہے ( یہاں مراد یہ ہے : کیونکہ تم نے اس کی غیر موجودگی میں ، اس کے لئے دعا کی ہے ، اس لیے یہ دعا قبول ہوئی ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث بن عمران جعفری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17234

Majma al-Zawaid #17234

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «دُعَاءُ الْأَخِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ لَا يُرَدُّ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn al-Ḥuṣayn, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ affirmed the supplication of a brother for his brother in his absence. > **"The supplication of a brother for his brother behind his back is not rejected."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی کی اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں کی جانے والی دعا رد نہیں ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔

17235

Majma al-Zawaid #17235

وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ وَإِنْ كَانَ كَافِرًا لَيْسَ دُونَهَا حِجَابٌ "". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿAbd Allāh al-Asadī reports that he heard Anas ibn Mālik, رضي الله عنه, narrate two counsels of the Messenger of Allah ﷺ, one concerning the oppressed even if an unbeliever, and one concerning doubt. > **"The supplication of the oppressed, even if he be an unbeliever, has no veil before it. Leave what puts you in doubt for what does not put you in doubt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبداللہ اسدی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مظلوم کی دعا ، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو ، اُس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو چیز تمہیں شک میں مبتلا کرتی ہے ، اُسے چھوڑ کر اس چیز کی طرف جاؤ ، جو تمہیں شک میں مبتلا نہیں کرتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور ابوعبداللہ اسدی نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17236

Majma al-Zawaid #17236

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا دَعَا الْمَرْءُ لِأَخِيهِ بِظَاهِرِ الْغَيْبِ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: آمِينَ، وَلَكَ بِمِثْلِهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ described the angels' response when a man supplicates for his brother in his absence. > **"When a man supplicates for his brother in his absence, the angels say: Amen, and the like for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب آدمی اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرتا ہے ، تو فرشتے کہتے ہیں : آمین ! اور تمہیں بھی اس کی مانند نصیب ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17237

Majma al-Zawaid #17237

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَ رَأْسَهُ بَعْدَ مَا سَلَّمَ، وَهُوَ مُسْتَقْبِلٌ الْقِبْلَةَ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ خَلِّصْ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَضَعَفَةَ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً، وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ أَنَّهُ قَنَتَ بِهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ, after the salutation with his face toward the qiblah, raised his head and supplicated for Salamah ibn Hishām, ʿAyyāsh ibn Abī Rabīʿah, al-Walīd ibn al-Walīd, and the weak Muslims who can contrive no plan and find no way. > **"O Allah, deliver Salamah ibn Hishām, ʿAyyāsh ibn Abī Rabīʿah, al-Walīd ibn al-Walīd, and the weak Muslims who can contrive no plan and find no way."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سلام پھیرنے کے بعد سر اٹھایا ، آپ ﷺ کا رخ قبلہ کی طرف تھا ، آپ نے یہ کہا : ( یعنی یہ دعا کی : ) ’’ اے اللہ ! سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابوربیعہ اور ولید بن ولید اور کمزور مسلمانوں کو خلاصی نصیب فرما ، جو کوئی حیلہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں اور کوئی راستہ نہیں پاتے ہیں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ’’ صحیح ‘‘ میں یہ روایت مذکور ہے :” نبی اکرم ﷺ نے قنوت نازلہ پڑھی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزد ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17238

Majma al-Zawaid #17238

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا دَعَا بَدَأَ بِنَفْسِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb, رضي الله عنه, narrates as an observed practice of the Prophet ﷺ that whenever he supplicated, he began with himself, and no spoken wording is transmitted in this report.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب دعا کرتے تھے تو اپنی ذات سے آغاز کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17239

Majma al-Zawaid #17239

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" دُعَاءُ الْمَرْءِ لِنَفْسِهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَأَحَدُهُمَا جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, رضي الله عنها, narrates that she asked the Messenger of Allah ﷺ which supplication is most excellent, and he answered her with a single sentence. > **"The supplication of a man for himself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سی دعا زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : آدمی کا اپنے لیے دعا کرنا ۔ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک عمدہ ہے ۔

17240

Majma al-Zawaid #17240

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَيَرْفَعُ لِلرَّجُلِ الدَّرَجَةَ فَيَقُولُ: أَنَّى لِي هَذِهِ؟! فَيَقُولُ: بِدُعَاءِ وَلَدِكَ (لَكَ)» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ. وَلَهُ طُرُقٌ فِي التَّوْبَةِ فِي اسْتِغْفَارِ الْوَلَدِ لِوَالِدِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, رضي الله عنه, narrates from the Prophet ﷺ concerning a man whose rank is raised and who asks whence it came, and is told of his child's supplication. > **"Allah, Blessed and Exalted, raises a rank for a man, and he says: Whence is this for me? And He says: By your child's supplication for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) ایک شخص کے سامنے درجہ بلند کرے گا ، وہ شخص کہے گا : یہ مجھے کس وجہ سے مل رہا ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تمہاری اولاد کے ، تمہارے لئے دعا کرنے کی وجہ سے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عاصم بن بہدلہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے مختلف طرق کتاب التوبہ میں ، اولاد کے والد کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔

17241

Majma al-Zawaid #17241

عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَلْعُونٌ مَنْ سَأَلَ بِوَجْهِ اللَّهِ، وَمَلْعُونٌ مَنْ سُئِلَ بِوَجْهِ اللَّهِ، ثُمَّ مَنَعَ سَائِلَهُ مَا لَمْ يَسْأَلْ هَجْرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ: يَحْيَى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي فَضْلِ الْخَضِرِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَشَيْءٌ فِي الصَّدَقَةِ فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī, رضي الله عنه, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ curse the one who asks by the Face of Allah and the one asked by it who then refuses his asker, unless the request be for severance. > **"Cursed is he who asks by the Face of Allah, and cursed is he who is asked by the Face of Allah and then refuses his asker, unless he asks for severance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ وہ شخص ملعون ہے جو اللہ کی ذات کے وسیلے سے مانگتا ہے ، اور وہ شخص ملعون ہے جس سے اللہ کے وسیلے سے مانگا جائے اور پھر وہ مانگنے والے کو منع کر دے ، جبکہ اُس نے کوئی بری چیز نہ مانگی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یحیی بن عثمان بن صالح کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے حضرت خضر علیہ السلام کی فضیلت کے بارے میں ایک حدیث گزر چکی ہے اور کتاب الزکوۃ میں صدقہ کرنے سے متعلق کچھ روایات گزر چکی ہیں ۔

17242

Majma al-Zawaid #17242

عَنْ رَجُلٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ لِرَجُلٍ: إِذَا سَأَلْتَ رَبَّكَ الْخَيْرَ فَلَا تَسْأَلْ وَفِي يَدِكَ حَجَرٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَلَمْ يُسَمَّ الرَّجُلُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man reports that ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, رضي الله عنه, instructed a man concerning the manner of asking his Lord for good. > **"When you ask your Lord for good, do not ask with a stone in your hand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک صاحب بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے فرمایا : ’’ جب تم اپنے پروردگار سے بھلائی مانگو ، تو تم ایسی حالت میں نہ مانگنا کہ تمہارے ہاتھ میں پتھر موجود ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے اس شخص کا نام بیان نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17243

Majma al-Zawaid #17243

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْبَاقِي يَهْبِطُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ثُمَّ تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَى سُؤْلَهُ؟ فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يَسْطَعَ الْفَجْرُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ described the descent of Allah in the remaining third of the night, the opening of heaven's gates, His outstretched hand, and His call to askers until dawn. > **"When the remaining third of the night comes, Allah descends to the lowest heaven, then the gates of heaven are opened, then He extends His hand and says: Is there an asker who shall be given his asking? And it remains so until dawn breaks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب ایک تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے ، پھر آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، پھر وہ اپنا دست رحمت پھیلاتا ہے اور فرماتا ہے : کیا کوئی اس سے مانگنے والا ہے ؟ کہ اس کے مانگنے کے مطابق اسے عطا کیا جائے ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ایسا اُس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک صبح صادق نہیں ہو جاتی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17244

Majma al-Zawaid #17244

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ: هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَيُغْفَرُ لَهُ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: "" إِنَّ فِي اللَّيْلِ سَاعَةً يُنَادِي مُنَادٍ "". وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِ لَفْظِ أَحْمَدَ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn Abī al-ʿĀṣ, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ spoke of a crier calling every night for supplicants, askers, and seekers of forgiveness until dawn. > **"A crier calls every night: Is there a caller that he be answered? Is there an asker that he be given? Is there a seeker of forgiveness that he be forgiven? Until dawn breaks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر رات میں ایک منادی یہ اعلان کرتا ہے : کیا کوئی دعا کرنے والا ہے ؟ کہ اس کی دعا مستجاب ہو ؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے ؟ کیا کوئی مغفرت مانگنے والا ہے کہ اس کی مغفرت ہو جائے ؟ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ایسا صبح صادق ہونے تک ہوتا رہتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ رات میں ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے جس میں ایک منادی اعلان کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے امام احمد کے الفاظ کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے ، ویسے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

17245

Majma al-Zawaid #17245

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ نِصْفَ اللَّيْلِ فَيُنَادِي مُنَادٍ: هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى؟ هَلْ مِنْ مَكْرُوبٍ فَيُفَرَّجُ عَنْهُ؟ فَلَا يَبْقَى مُسْلِمٌ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ، إِلَّا زَانِيَةً تَسْعَى بِفَرْجِهَا أَوْ عَشَّارًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn Abī al-ʿĀṣ al-Thaqafī, رضي الله عنه, narrates from the Prophet ﷺ concerning the opening of heaven's gates at midnight, the crier's call to callers, askers, and the distressed, and the two exceptions. > **"The gates of heaven are opened at midnight, and a crier calls: Is there a caller that he be answered? Is there an asker that he be given? Is there a distressed one that he be relieved? And no Muslim calls with a supplication except that Allah answers him, except an adulteress who earns by her shame or a collector of tolls."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن ابوالعاص ثقفی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ نصف رات کے وقت آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ایک منادی یہ اعلان کرتا ہے : کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ اسکی دعا مستجاب ہو ؟ کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ اسے دیا جائے ؟ کیا کوئی پریشان حال ہے کہ اسے کشادگی نصیب ہو ؟ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو جو بھی مسلمان اس وقت دعا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے ، البتہ زنا کرنے والی عورت کا معاملہ مختلف ہے ، جو اپنی زنا کی کمائی کھاتی ہے ، اور بھتہ وصول کرنے والے کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17246

Majma al-Zawaid #17246

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَنْزِلُ اللَّهُ كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ؟ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Muṭʿim, رضي الله عنه, narrates from the Prophet ﷺ concerning the nightly descent of Allah to the lowest heaven and His call until dawn. > **"Allah descends every night to the lowest heaven and says: Is there an asker that I give him? Is there a seeker of forgiveness that I forgive him? Until dawn rises."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ ہر رات میں آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے : کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اسے عطا کروں ؟ کیا کوئی مغفرت مانگنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں ؟ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ایسا صبح صادق ہونے تک ہوتا رہتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

17247

Majma al-Zawaid #17247

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، قُلْتُ: وَمَتْنُهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ هَبَطَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، فَيَقُولُ قَائِلٌ: أَلَا سَائِلٌ يُعْطَى؟ أَلَا دَاعٍ يُجَابُ؟ أَلَا سَقِيمٌ يَسْتَشْفِي فَيُشْفَى؟ أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرُ لَهُ؟» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَزَادَ: ""أَلَا تَائِبٌ "". وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ. وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقَ بِالسَّمَاعِ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib, رضي الله عنه, narrates in the manner of the report of Abū Hurayrah, with the wording that but for hardship upon his nation he would command the toothstick at every prayer and delay the night prayer to the first third, for when the first third passes Allah descends and remains until dawn while a caller proclaims the invitations to askers, callers, the sick, and sinners. > **"Had I not feared hardship upon my nation, I would have commanded them with the toothstick at every prayer, and I would have delayed the night prayer to the first third of the night, for when the first third of the night passes, Allah descends to the lowest heaven and remains there until dawn, and a caller says: Is there an asker who shall be given? Is there a caller who shall be answered? Is there a sick one seeking cure who shall be cured? Is there a sinner seeking forgiveness who shall be forgiven?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کی مانند روایت ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کا متن یہ ہے : ( حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ) میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور میں عشاء کی نماز رات کے پہلے ایک تہائی حصے کے رخصت ہونے تک مؤخر کرتا ، جب رات کا پہلا ایک تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور صبح صادق ہونے تک مسلسل وہاں رہتا ہے ، اس دوران ایک کہنے والا یہ کہتا ہے : کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے ؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ وہ مستجاب ہو ؟ کیا کوئی بیمار ہے جو شفاء کا طلبگار ہو ، تو اسے شفاء نصیب ہو ، کیا کوئی گناہ گار ہے جو مغفرت طلب کرے اور اس کی مغفرت ہو جائے ؟“۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے ......‘‘۔ ان دونوں روایات کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ، اور ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے ۔

17248

Majma al-Zawaid #17248

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا بَقِيَ ثُلُثُ اللَّيْلِ يَنْزِلُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَرْزِقُنِي فَأَرْزُقَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَكْشِفُ الضُّرَّ أَكْشِفُهُ عَنْهُ؟ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ described the descent of Allah when a third of the night remains and His successive calls to callers, forgivers, providers, and sufferers until dawn. > **"When a third of the night remains, Allah descends to the lowest heaven and says: Who is it that calls upon Me that I answer him? Who is it that seeks My forgiveness that I forgive him? Who is it that seeks provision of Me that I provide him? Who is it that asks Me to uncover harm that I uncover it from him? Until dawn rises."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب ایک تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے : کون ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی دعا کو قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے ، تو میں اس کی مغفرت کر دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے رزق مانگے ، تو میں اسے رزق عطا کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے تکلیف دور کرنے کا کہے ، تو میں اس کی تکلیف دور کر دوں ؟ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ایسا صبح صادق ہونے تک ہوتا رہتا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17249

Majma al-Zawaid #17249

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَنْزِلُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا نِصْفَ اللَّيْلِ الْآخِرِ - أَوِ الثُّلُثَ - فَيَقُولُ: مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَيَنْصَرِفَ الْقَارِئُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ: "" وَيَنْصَرِفَ الْقَارِئُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ خُلَيْفٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, رضي الله عنه, narrates from the Prophet ﷺ concerning the descent of Allah in the last half of the night, or a third, with His calls to callers, askers, and forgivers until dawn and the worshipper's departure from dawn prayer. > **"Allah, Blessed and Exalted, descends to the heaven of the world in the last half of the night, or a third, and says: Who is it that calls upon Me that I answer him? Who is it that asks of Me that I give him? Who is it that seeks My forgiveness that I forgive him? Until dawn rises and the reciter departs from the dawn prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ رات کے آخری نصف حصے میں ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) رات کے آخری ایک تہائی حصے میں ، اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے : کون ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے تو میں اس کی مغفرت کر دوں ؟ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے ، جب تک صبح صادق نہیں ہو جاتی اور جب تک نمازی صبح کی نماز سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں :” جب تک نمازی ، نماز سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خلیف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17250

Majma al-Zawaid #17250

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَنْزِلُ رَبُّنَا - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ، فَيَقُولُ: أَلَا عَبْدٌ مِنْ عِبَادِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ أَلَا ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ يَدْعُونِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ أَلَا مُقْتِرٌ فَأَرْزُقَهُ؟ أَلَا مَظْلُومٌ يَدْعُونِي فَأَنْصُرَهُ؟ أَلَا عَانٍ فَأَفُكُّ عَنْهُ؟ فَيَكُونُ كَذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ الصُّبْحُ، ثُمَّ يَعْلُو - جَلَّ وَعَزَّ - عَلَى كُرْسِيِّهِ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِيهِ: "" أَلَا مَظْلُومٌ (يُذَكِّرُنِي) فَأَنْصُرَهُ؟ أَلَا عَانٍ (يَدْعُونِي) فَأُعِينَهُ؟ "". قَالَ: "" فَيَكُونُ كَذَلِكَ حَتَّى يُضِيءَ الصُّبْحُ» "". وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ مُوسَى بْنِ عَقْبَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ described the descent of our Lord when a third of the night remains and His successive calls to His servants, the wrongdoer, the straitened, the oppressed, and the bound, until morning. > **"Our Lord, Blessed and Exalted, descends to the lowest heaven when a third of the night remains and says: Is there no servant of Mine who calls upon Me that I answer him? Is there no wrongdoer against himself who calls upon Me that I forgive him? Is there no straitened one that I provide him? Is there no oppressed one who calls upon Me that I aid him? Is there no bound one that I free him? And it remains so until the morning brightens."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہمارا پروردگار آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے : کیا میرے بندوں میں سے کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کیا اپنے اوپر ظلم کرنے والا کوئی ایسا فرد نہیں ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی مغفرت کر دوں ؟ کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے رزق میں تنگی ہو ، کیا کوئی مظلوم نہیں ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی مدد کروں ؟ کیا کوئی قیدی نہیں ہے کہ میں اسے چھڑوا دوں ؟ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ایسا اس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک صبح صادق نہیں ہو جاتی ، پھر پروردگار اوپر اپنی کرسی پر چلا جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ کیا کوئی مظلوم نہیں ہے جو میرا ذکر کرے ، تو میں اس کی مدد کروں ، کیا کوئی قیدی نہیں ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی مدد کروں ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ایسا اس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک صبح صادق نہیں ہو جاتی ۔‘‘ یحیی بن اسحاق نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اور موسیٰ بن عقبہ کے علاوہ اور کسی نے یحیی سے روایت نقل نہیں کی ہے ، کبیر کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17251

Majma al-Zawaid #17251

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَنْزِلُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي آخِرِ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ يَبْقِينَ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَنْظُرُ فِي السَّاعَةِ الْأُولَى فِي الْكِتَابِ الَّذِي لَا يَنْظُرُ فِيهِ غَيْرُهُ، فَيَمْحُو مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ، وَيَنْظُرُ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ وَهِيَ مَسْكَنُهُ الَّتِي لَا يَكُونُ فِيهَا مَعَهُ إِلَّا الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ وَالصِّدِّيقُونَ، وَفِيهَا مَا لَمْ يَرَهُ أَحَدٌ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، ثُمَّ يَهْبِطُ آخِرَ سَاعَةٍ مِنَ اللَّيْلِ فَيَقُولُ: أَلَا مُسْتَغْفِرٌ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ أَلَا سَائِلٌ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ أَلَا دَاعٍ يَدْعُونِي؟ وَلِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} [الإسراء: 78] فَيَشْهَدُهُ اللَّهُ وَالْمَلَائِكَةُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ زِيَادَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ described the descent of Allah in the last three remaining hours of the night: beholding in the first the Book none else beholds, effacing and confirming, beholding in the second the Garden of ʿAdn with prophets, martyrs, and the truthful, then descending in the last hour with calls to forgivers, askers, and callers, for which reason the dawn recital is witnessed by Allah and the angels. > **"Allah, Blessed and Exalted, descends in the last three hours remaining of the night, and beholds in the first hour the Book which none but He beholds, effacing what He wills and confirming, and beholds in the second hour the Garden of ʿAdn, His dwelling wherein none shall be with Him but prophets, martyrs, and the truthful, wherein is what no eye has seen nor has occurred to a human heart, then descends in the last hour of the night and says: Is there a seeker of forgiveness who seeks My forgiveness that I forgive him? Is there an asker who asks of Me that I give him? Is there a caller who calls upon Me? And for that Allah says: And the recital of dawn; indeed the recital of dawn is witnessed. So Allah and the angels witness it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب رات کی آخری تین گھڑیاں رہ جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نزول کرتا ہے ، پہلی گھڑی میں وہ اس کتاب کو دیکھتا ہے کہ اس کتاب میں ، وہ اس گھڑی کے علاوہ نہیں دیکھتا اور جس چیز کو چاہتا ہے اسے مٹا دیتا ہے ، اور جس کو چاہتا ہے اسے برقرار رکھتا ہے ، دوسری گھڑی میں وہ جنت عدن کو دیکھتا ہے ، جو اس کی رہائشی جگہ ہے ، اور اس جنت میں اس کے ساتھ صرف انبیاء ، شہداء اور صدیقین ہوں گے ، اور اس جنت میں ایسی چیزیں ہوں گی ، جو کسی نے نہیں دیکھی ہیں ، اور کسی انسان کے دل میں ان کا خیال بھی نہیں آیا ، پھر وہ رات کی آخری گھڑی میں نیچے اترتا ہے اور فرماتا ہے : کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے ، جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں اس کی مغفرت کر دوں ؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اسے عطا کر دوں ؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے جو مجھ سے دعا کرے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ اور فجر کی تلاوت ، بیشک فجر کی تلاوت میں موجودگی ہوتی ہے ۔‘‘ یعنی اس میں اللہ تعالیٰ اور فرشتے موجود ہوتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیادہ بن محمد انصاری ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

17252

Majma al-Zawaid #17252

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ اللَّيْلِ أَجْوَبُ دَعْوَةً؟ قَالَ: "" جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ وَالْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ فِي بَابِ "" صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى "".

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, رضي الله عنهما, narrates that a man called out to the Messenger of Allah ﷺ asking which part of the night best answers supplication, and he answered with two words. > **"The last hollow of the night."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے بلند آواز میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : رات کا کون سا حصہ دعا کے قبول ہونے کے لئے زیادہ موزوں ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ آخری نصف حصہ ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار اور کبیر کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے رات اور دن کے نوافل دو دو کر کے پڑھنے سے متعلق باب میں ، حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت گزر چکی ہے ۔

17253

Majma al-Zawaid #17253

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيُسْتَجَابُ الدُّعَاءُ فِي أَرْبَعَةِ مَوَاطِنَ: عِنْدَ الْتِقَاءِ الصُّفُوفِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعِنْدَ نُزُولِ الْغَيْثِ، وَعِنْدَ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ، وَعِنْدَ رُؤْيَةِ الْكَعْبَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah, رضي الله عنه, narrates from the Prophet ﷺ concerning four stations in which heaven's gates are opened and supplication is answered: the meeting of ranks in Allah's path, rainfall, the establishment of prayer, and the sight of the Kaʿbah. > **"The gates of heaven are opened and supplication is answered in four stations: at the meeting of the ranks in the path of Allah, at the descent of rain, at the establishment of prayer, and at the sight of the Kaʿbah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ چار قسم کی صورتحال میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا مستجاب ہوتی ہے ، جب اللہ تعالیٰ کی راہ میں صفیں ایک دوسرے کے مدمقابل آتی ہیں ، بارش کے نزول کے وقت ، نماز قائم ہونے کے وقت اور خانہ کعبہ کی زیارت کے وقت ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

17254

Majma al-Zawaid #17254

وَعَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ سَحَرًا فَأَسْمَعُهُ يَقُولُ: اللَّهُمَّ (إِنَّكَ) دَعَوْتَنِي فَأَجَبْتُ، وَأَمَرْتَنِي فَأَطَعْتُ، وَهَذَا سَحَرٌ فَاغْفِرْ لِي، فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ (لَهُ): كَلِمَاتٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُهُنَّ مِنَ السَّحَرِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِهِنَّ، فَقَالَ: إِنَّ يَعْقُوبَ أَخَّرَ بَنِيهِ إِلَى السَّحَرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥārib ibn Dithār reports from his uncle that he would pass the house of ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, رضي الله عنه, at dawn and hear him supplicate, and when he told him of the words, Ibn Masʿūd recalled that Yaʿqūb deferred his sons to the dawn hour. > **"O Allah, You called me and I answered, and You commanded me and I obeyed, and this is the dawn hour, so forgive me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محارب بن دثار اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں سحری کے وقت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے کے پاس سے گزر رہا تھا ، تو میں نے انہیں یہ دعا کرتے ہوئے سنا : ’’ اے اللہ ! تو نے مجھے بلایا تو میں آیا ، تو نے مجھے حکم دیا تو میں نے اطاعت کی ، یہ سحری کا وقت ہو گیا ہے ، تو میری مغفرت کر دے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : پھر میری اُن سے ملاقات ہوئی ، میں نے ان سے کہا : میں نے آپ کو سحری کے وقت کچھ کلمات پڑھتے ہوئے سنا تھا پھر میں نے انہیں ان کلمات کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے صاحبزادوں ( کے لیے دعا ) کو سحری تک موخر کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17255

Majma al-Zawaid #17255

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْأَلَ فَلْيَبْدَأْ بِالْمِدْحَةِ وَالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ لِيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ لِيَسْأَلْ بَعْدُ ; فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يَنْجَحَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, رضي الله عنه, instructs that whoever of you wishes to ask should begin with praise and extolling of Allah as He deserves, then bless the Prophet ﷺ, then ask after that, for it is worthier of success. > **"When one of you wishes to ask, let him begin with praise and extolling of Allah as He deserves, then let him bless the Prophet ﷺ, then let him ask after that, for it is worthier of success."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب تم میں سے کوئی ایک شخص دعا مانگنا چاہے ، تو پہلے اسے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثنا بیان کرنی چاہیے ، پھر نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنا چاہیے ، پھر دعا مانگنی چاہیے ، کیونکہ اب وہ اس بات کے زیادہ لائق ہو گی کہ وہ کامیاب ہو ( یعنی قبول ہو ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

17256

Majma al-Zawaid #17256

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا تَجْعَلُونِي كَقَدَحِ الرَّاكِبِ ; فَإِنَّ الرَّاكِبَ يَمْلَأُ قَدَحَهُ، فَإِذَا فَرَغَ وَعَلَّقَ مَعَالِيقَهُ ; فَإِنْ كَانَ لَهُ فِي الشَّرَابِ حَاجَةٌ أَوِ الْوُضُوءِ، وَإِلَّا أَهْرَقَ الْقَدَحَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - فَاذْكُرُونِي فِي أَوَّلِ الدُّعَاءِ، وَفِي وَسَطِهِ، وَفِي آخِرِ الدُّعَاءِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbd Allāh, رضي الله عنهما, narrates that the Messenger of Allah ﷺ forbade making him like the rider's cup, used only at need then set aside or emptied, and commanded his remembrance in supplication. > **"Do not make me like the rider's cup, for the rider fills his cup, and when he is done he hangs up its hangings; if he needs drink or ablution he uses it, otherwise he empties the cup. Remember me at the beginning of supplication, in its middle, and at its end."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم مجھے یوں نہ بناؤ ، جیسے سوار کا پیالہ ہوتا ہے ، کیونکہ سوار اپنے پیالے کو بھرتا ہے ، جب وہ فارغ ہوتا ہے تو اسے لٹکا دیتا ہے ، اگر اسے مشروب کی ضرورت ہو ، یا وضو کرنا ہو تو استعمال کر لیتا ہے ، ورنہ اسے بہا دیتا ہے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں :’’ تم دعا کے آغاز میں اور اس کے درمیان میں اور دعا کے آخر میں میرا ذکر کرو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

17257

Majma al-Zawaid #17257

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: «بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" عَجِلْتَ أَيُّهَا الْمُصَلِّي، إِذَا صَلَّيْتَ فَقَعَدْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ صَلِّ عَلَيَّ، ثُمَّ ادْعُهُ "". ثُمَّ صَلَّى آخَرُ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" سَلْ تُعْطَهْ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ: ثُمَّ صَلَّى آخَرُ إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَحَدِيثُهُ فِي الرِّقَاقِ مَقْبُولٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدُ.

EnglishUnverified translation

Faḍālah ibn ʿUbayd, رضي الله عنه, narrates that while the Messenger of Allah ﷺ sat, a man entered, prayed, then said forgive me and have mercy on me, whereupon the Prophet ﷺ told him he hastened and taught the order of praise, blessings, then supplication; then another prayed, praised Allah and blessed the Prophet ﷺ, and the Prophet ﷺ told him to ask and be given. > **"You hastened, O worshipper. When you pray and sit, praise Allah as He deserves, then bless me, then call upon Him. Ask and you shall be given."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے ، اسی دوران ایک شخص اندر آیا ، اس نے نماز ادا کی پھر اس نے کہا : اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے اور مجھ پر رحم فرما ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : اے نمازی ! تم نے جلدی کی ہے ، جب تم نماز ادا کر لو ، تو تم بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمد بیان کرو ، پھر مجھ پر درود بھیجو اور پھر اس سے دعا کرو ۔‘‘ پھر ایک اور شخص نے نماز ادا کی ، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : ’’ تو مانگو ! تمہیں دیا جائے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :’’ پھر اس کے بعد ایک اور شخص نے نماز ادا کی ......‘‘ اس کے بعد سے لے کر آخر تک کے الفاظ نہیں ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث ، دلوں کو نرم کرنے والے موضوعات کے بارے میں مقبول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنے سے متعلق احادیث آگے آئیں گی ۔

17258

Majma al-Zawaid #17258

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَبِي عَيَّاشٍ زَيْدِ بْنِ الصَّامِتِ الزُّرَقِيِّ، وَهُوَ يُصَلِّي، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، يَا مَنَّانُ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ، وَإِنْ كَانَ ثِقَةً.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, رضي الله عنه, narrates that the Prophet ﷺ passed Abū ʿAyyāsh Zayd ibn al-Ṣāmit al-Zuraqī while he prayed, saying words of praise and majesty, whereupon the Messenger of Allah ﷺ declared he had called upon Allah by His Greatest Name. > **"O Allah, I ask You by that all praise belongs to You; there is no god but You, O Bestower, O Originator of the heavens and the earth, O Possessor of Majesty and Honour. He has called upon Allah by His Greatest Name, by which when He is called He answers, and when He is asked thereby He gives."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کا گزر حضرت ابوعیاش زید بن صامت زرقی رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، وہ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے اور یہ دعا کر رہے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، يَا مَنَّانُ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اس وسیلے سے کہ حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اے بہت زیادہ احسان کرنے والے ، اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! اے جلال اور اکرام والے !۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس نے اللہ تعالیٰ کے اُس اسم اعظم کے وسیلے سے دعا کی ہے کہ جب اُس کے وسیلے سے دعا کی جائے ، تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے ، اور جب اُس اسم کے وسیلے سے کچھ مانگا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے اگرچہ وہ ثقہ ہے ۔

17259

Majma al-Zawaid #17259

وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى عَلَى رَجُلٍ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ. فَقَالَ: "" لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ عَيَّاشٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ṭalḥah, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ came upon a man saying words of praise and majesty, and declared he had asked Allah by the Name that is answered. > **"O Allah, I ask You by that all praise belongs to You; there is no god but You, the Bestower, O Originator of the heavens and the earth, O Possessor of Majesty and Honour. He has asked Allah by His Name by which when He is called He answers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک شخص کے پاس آئے جو یہ کہہ رہا تھا : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ’’ اے اللہ ! بے شک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اس وسیلے سے کہ حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو بہت زیادہ احسان کرنے والا ہے ، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے ، اے جلال اور اکرام والے !‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس نے اللہ تعالیٰ کے اس اسم کے وسیلے سے دعا کی ہے کہ جب اس کے وسیلے سے دعا مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے اور وہ متروک ہے ۔

17260

Majma al-Zawaid #17260

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: «مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا دُعَاءً إِلَّا اسْتَفْتَحَهُ بِ: "" سُبْحَانَ رَبِّي الْعَلِيِّ الْأَعْلَى الْوَهَّابِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwaʿ al-Aslamī, رضي الله عنه, reports that he never heard the Messenger of Allah ﷺ call with a supplication except that he opened it with glorification of his Exalted Bestowing Lord. > **"Glory be to my Lord, the Exalted, the Most High, the Bestower."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے جب بھی نبی اکرم ﷺ کو دعا کرتے ہوئے سنا تو آپ ﷺ دعا کے آغاز میں یہ پڑھتے تھے : «سُبْحَانَ رَبِّي الْعَلِيِّ الْأَعْلَى الْوَهَّابِ» ’’ میرے پروردگار کی ذات ہر عیب سے پاک ہے جو عظمت والا ہے ، بلند و برتر ہے ، بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد یمامی ہے ، جس کو ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام احمد کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17261

Majma al-Zawaid #17261

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ مِنَ الدُّعَاءِ شَيْءٌ لَا يُرَدُّ؟ قَالَ: "" نَعَمْ. تَقُولُ: أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْأَعْلَى، الْأَعَزِّ، الْأَجَلِّ، الْأَكْرَمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, رضي الله عنهما, narrates that a man asked the Messenger of Allah ﷺ whether any supplication is never rejected, and he taught him words of asking by the Name. > **"Yes. Say: I ask You by Your Name, the Highest, the Mightiest, the Most Majestic, the Most Generous."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا کوئی ایسی دعا ہے جو رد نہ ہوتی ہو ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! تم یہ پڑھو : «أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْأَعْلَى، الْأَعَزِّ، الْأَجَلِّ، الْأَكْرَمِ» ’’ میں تجھ سے تیرے اس اسم کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جو بلند و برتر ہے ، غلبے والا ہے ، جلیل القدر ہے ، عزت والا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17262

Majma al-Zawaid #17262

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَقَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي اسْمَ اللَّهِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، فَأَعْرَضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَجْهِهِ، فَقَامَتْ فَتَوَضَّأَتْ فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَبِاسْمِكَ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيتَ بِهِ أَجَبْتَ، وَإِذَا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَيْتَ. فَقَالَ: "" وَاللَّهِ، إِنَّهَا لَفِي هَذِهِ الْأَسْمَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, رضي الله عنه, narrates from the Prophet ﷺ that he visited ʿĀʾishah one morning and she asked, by his father and mother, to be taught the Name of Allah by which He answers and gives, but he turned his face away; so she rose, performed ablution, and supplicated for all good known and unknown and by His Great Name, whereupon he swore it lies within those names. > **"O Allah, I ask You for all good, what I know of it and what I do not know, and by Your Great Name by which when You are called You answer, and when You are asked thereby You give. By Allah, it is indeed among these names."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں صبح کے وقت تشریف لائے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کا وہ اسم تعلیم دیں کہ جب اس کے وسیلے سے دعا کی جائے ، تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے ، اور جب اس کے وسیلے سے مانگا جائے ، تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے چہرہ پھیر لیا ، وہ خاتون کھڑی ہوئیں ، انھوں نے وضو کیا اور یہ کہا : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَبِاسْمِكَ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيتَ بِهِ أَجَبْتَ، وَإِذَا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَيْتَ» ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے ساری کی ساری بھلائی مانگتی ہوں ، وہ جس کا مجھے علم ہے اور وہ بھی جس کا مجھے علم نہیں ہے ، اور میں تیرے اس عظیم اسم کے وسیلے سے دعا مانگتی ہوں کہ جب اُس کے وسیلے سے تجھ سے دعا مانگی جائے ، تو تُو دعا قبول کرتا ہے ، اور جب اس کے وسیلے سے تجھ سے مانگا جائے ، تو تُو عطا کرتا ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم وہ ( اسم ) ان اسماء میں سے ایک ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ عصری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17263

Majma al-Zawaid #17263

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ مِنْ آلِ عِمْرَانَ: {قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ} [آل عمران: 26]». إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جِسْرِ بْنِ فَرْقَدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, رضي الله عنهما, narrates from the Prophet ﷺ that the Greatest Name of Allah, by which when He is called He answers, lies in the verse of Āl ʿImrān through its end. > **"The Greatest Name of Allah, by which when He is called He answers, is in this verse of Āl ʿImrān: Say: O Allah, Master of dominion, You grant dominion to whom You will, to the end of the verse."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ کا وہ اسم اعظم کہ جب اُس کے وسیلے سے دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے ، وہ سورۂ آل عمران کی اس آیت میں ہے : «( قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ )» ( آل عمران : 26 ) ’’ تم یہ کہہ دو ! اے اللہ ! حکومت کے مالک ، تو جسے چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے ......‘‘۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جسر بن فرقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17264

Majma al-Zawaid #17264

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ دَعَا بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ الْخَمْسِ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Abī Sufyān, رضي الله عنه, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ declare that whoever calls with these five words shall not ask Allah for anything except He grants it. > **"There is no god but Allah, and Allah is Greatest; there is no god but Allah, alone without partner; to Him belongs dominion and to Him belongs praise, and He has power over all things; there is no god but Allah, and there is no might nor power except by Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص ان پانچ کلمات کے ہمراہ دعا کرے گا ، وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگے گا ، اللہ تعالیٰ وہ چیز اس کو عطا کرے گا : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اللہ تعالی کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

17265

Majma al-Zawaid #17265

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَصَلَّى بِالنَّاسِ الْعَصْرَ، وَهُوَ قَاعِدٌ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فَمَرَّ كَلْبٌ لِيَقْطَعَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ، فَأَشْفَقَ أَنْ يَمُرَّ عَلَيْهِ، فَدَعَا سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَلَى الْكَلْبِ فَأَهْلَكَهُ اللَّهُ بِقُدْرَتِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ صَلَاتِهِ نَظَرَ إِلَى الْكَلْبِ قَدْ هَلَكَ قَالَ: "" مَنِ الدَّاعِي مِنْكُمْ عَلَى هَذَا الْكَلْبِ؟ "". فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ، فَأَعَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ سَعْدٌ عِنْدَ ذَلِكَ: أَنَا الدَّاعِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَشْفَقْتُ أَنْ يَقْطَعَ عَلَيْكَ صَلَاتَكَ فَدَعَوْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" كَيْفَ دَعَوْتَ عَلَيْهِ يَا سَعْدُ؟ "". فَقَالَ سَعْدٌ: سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، أَهْلِكْ هَذَا الْكَلْبَ قَبْلَ أَنْ يَقْطَعَ عَلَى نَبِيِّكَ صَلَاتَهُ. فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا سَعْدُ، لَقَدْ دَعَوْتَ فِي يَوْمٍ وَسَاعَةٍ بِكَلِمَاتٍ لَوْ دَعَوْتَ عَلَى مَنْ بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَاسْتُجِيبَ لَكَ، فَأَبْشِرْ يَا سَعْدُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, رضي الله عنهما, narrates that he heard the Messenger of Allah ﷺ on Friday leading the people in the afternoon prayer, seated in the first two units, when a dog came to cut across his prayer and he feared it would pass; Saʿd ibn Abī Waqqāṣ, رضي الله عنه, supplicated against the dog and Allah destroyed it by His power; when the Prophet ﷺ finished and saw the dead dog, he asked twice who had called against it until Saʿd owned it, describing his fear for the Prophet's prayer, and when asked how he called, Saʿd repeated his words of glorification and majesty, whereupon the Prophet ﷺ gave him glad tidings of the answered hour. > **"Who among you called against this dog? How did you call against him, O Saʿd? Glory be to You; there is no god but You, O Possessor of Majesty and Honour; destroy this dog before it cuts across Your Prophet's prayer. O Saʿd, you have called in a day and an hour with words by which had you called against what is between the heavens and the earth, you would have been answered; so rejoice, O Saʿd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو جمعہ کے دن سنا ، آپ نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی ، آپ پہلی دو رکعت ادا کرنے کے بعد تشہد میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران ایک کتا آگے سے گزرنے لگا تاکہ آپ کی نماز کو منقطع کر دے ، آپ کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ کتا آپ کے آگے سے نہ گزر جائے ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اس کتے کے خلاف دعائے ضرر کی ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے تحت اسے ہلاکت کا شکار کر دیا ، جب نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے کتے کی طرف دیکھا کہ وہ مر چکا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم میں سے کس نے اس کتے کے خلاف دعا کی ہے ؟ کسی نے کوئی جواب نہیں دیا : نبی اکرم ﷺ نے اپنی بات دہرائی ، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں نے اس کے خلاف دعا کی تھی ، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ آپ کی نماز منقطع نہ کر دے ، تو میں نے اس کے خلاف دعا کر دی ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : تم نے اس کے خلاف کیسے دعا کی ؟ حضرت سعد نے کہا : ( میں نے یہ کلمات پڑھے : ) «سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، أَهْلِكْ هَذَا الْكَلْبَ قَبْلَ أَنْ يَقْطَعَ عَلَى نَبِيِّكَ صَلَاتَهُ» ’’ تو ہر عیب سے پاک ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اے جلال اور اکرام والے ! تو اس کتے کو ہلاکت کا شکار کر دے ، اس سے پہلے کہ یہ تیرے نبی کی نماز کو توڑ دے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے ایک مخصوص دن میں ، ایک مخصوص گھڑی میں ایسے کلمات کے ہمراہ دعا کی ہے کہ اگر تم آسمانوں اور زمین کے درمیان موجود سب چیزوں کے خلاف دعا کرتے ، تو تمہاری دعا مستجاب ہو جاتی ، تو اے سعد ! تم یہ خوشخبری حاصل کرو !۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17266

Majma al-Zawaid #17266

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا طَلَبْتَ حَاجَةً فَأَحْبَبْتَ أَنْ تَنْجَحَ فَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْحَكِيمُ الْكَرِيمُ، بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْحَكِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ: {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ} [الأحقاف: 35]، {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا} [النازعات: 46]، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلَامَةِ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، اللَّهُمَّ لَا تَدَعْ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ، وَلَا دَيْنًا إِلَّا قَضَيْتَهُ، وَلَا حَاجَةً مِنْ حَوَائِجِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا قَضَيْتَهَا بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, رضي الله عنه, narrates from the Prophet ﷺ concerning what to say when seeking a need and hoping for its success, comprising declarations of divine oneness, majesty, and mercy, two Qurʾānic verses, and a comprehensive supplication for mercy, forgiveness, and the fulfillment of needs of this world and the Hereafter. > **"There is no god but Allah, alone without partner, the Exalted, the Tremendous; there is no god but Allah, alone without partner, the Wise, the Generous. In the Name of Allah besides whom there is no god, the Living, the Wise. Glory be to Allah, Lord of the Tremendous Throne. Praise belongs to Allah, Lord of the worlds. As though on the day they see what they are promised they had tarried but an hour of the day; a proclamation, and none shall perish but the rebellious people. As though on the day they see it they had tarried but an evening or its morning. O Allah, I ask You for the causes of Your mercy, the resolves of Your forgiveness, gain from every righteousness, and safety from every sin. O Allah, leave no sin of ours except You forgive it, no anxiety except You relieve it, no debt except You settle it, and no need among the needs of this world and the Hereafter except You fulfill it by Your mercy, O Most Merciful of the merciful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب تم کوئی حاجت طلب کرو اور تمہاری یہ خواہش ہو کہ تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاؤ ( یعنی تمہاری دعا دعا قبول ہو جائے ) تو تم یہ پڑھو : «لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْحَكِيمُ الْكَرِيمُ بِسْمِ اللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْحَكِيمُ ، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ : ( كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَهَارٍ بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ ) ( الأحقاف : 35 ) ، ( كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا ) ( النازعات : 46 ) ، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍ. وَالسَّلَامَةِ مِنْ كُلِّ اثْمٍ ، اللهُمَّ لَا تَدَعُ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ ، وَلَا هَمَّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ ، وَلَا دَيْنَا إِلَّا قَضَيْتَهُ وَلَا حَاجَةً مِنْ حَوَائِجِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا قَضَيْتَهَا بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ» ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے وہ بلندی والا اور عظمت والا ہے ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، وہ حکمت والا اور عزت والا ہے ، اللہ تعالی کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ زندہ اور حکمت والا ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، جو عظیم عرش کا پروردگار ہے ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جس دن وہ لوگ اس ( قیامت ) کو دیکھیں گے ، جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے ( تو یوں محسوس کریں گے ) گویا وہ ( دنیا میں ) صرف اتنا عرصہ رہے جتنا دن کی ایک گھڑی ( یعنی ایک پہر ) ہوتا ہے ( یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) پیغام ہے ( تو اس قیامت کے دن ) صرف فاسق ( یعنی کفر ) ہی ہلاکت کا شکار ہونگے ۔‘‘ ( ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جس دن وہ لوگ اس ( قیامت ) کو دیکھیں گے ( تو یوں محسوس کریں گے ) گویا وہ ( دنیا میں ) صرف اتنا عرصہ رہے ، جتنا شام یا دن چڑھے کا وقت ہوتا ہے ۔‘‘ اے اللہ ! میں تجھ سے وہ چیز مانگتا ہوں ، جو تیری رحمت کو واجب کر دے اور تیری مغفرت کو پختہ کر دے ، اور ہر نیکی کے حوالے سے غنیمت ہو ، اور ہر گناہ کے حوالے سے سلامتی ہو ، اے اللہ ! تو میرے ہر گناہ کی مغفرت کر دینا اور ہر پریشانی کو ختم کر دینا اور ہر قرض کو ادا کروا دینا اور دنیا اور آخرت کی حاجات میں سے ہر ایک حاجت کو اپنی رحمت کے وسیلے سے پورا کر دینا ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبدالصمد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17267

Majma al-Zawaid #17267

وَعَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِأَعْرَابِيٍّ، وَهُوَ يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا مَنْ لَا تَرَاهُ الْعُيُونُ، وَلَا تُخَالِطُهُ الظُّنُونُ، وَلَا يَصِفُهُ الْوَاصِفُونَ، وَلَا تُغَيِّرُهُ الْحَوَادِثُ، وَلَا يَخْشَى الدَّوَائِرَ، يَعْلَمُ مَثَاقِيلَ الْجِبَالِ، وَمَكَايِيلَ الْبِحَارِ، وَعَدَدَ قَطْرِ الْأَمْطَارِ، وَعَدَدَ وَرَقِ الْأَشْجَارِ، وَعَدَدَ مَا أَظْلَمَ عَلَيْهِ اللَّيْلُ، وَأَشْرَقَ عَلَيْهِ النَّهَارُ، وَمَا تَوَارَى مِنْ سَمَاءٍ سَمَاءً، وَلَا أَرْضٍ أَرْضًا، وَلَا بَحْرٍ مَا فِي قَعْرِهِ، وَلَا جَبَلٍ مَا فِي وَعْرِهِ، اجْعَلْ خَيْرَ عُمْرِي آخِرَهُ، وَخَيْرَ عَمَلِي خَوَاتِيمَهُ، وَخَيْرَ أَيَّامِي يَوْمَ أَلْقَاكَ فِيهِ. فَوَكَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَعْرَابِيِّ رَجُلًا فَقَالَ: "" إِذَا صَلَّى فَائْتِنِي بِهِ "". فَلَمَّا صَلَّى أَتَاهُ وَقَدْ كَانَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَهَبٌ مِنْ بَعْضِ الْمَعَادِنِ، فَلَمَّا أَتَاهُ الْأَعْرَابِيُّ وَهَبَ لَهُ الذَّهَبَ وَقَالَ: "" مِمَّنْ أَنْتَ يَا أَعْرَابِيُّ؟ "". قَالَ: مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" هَلْ تَدْرِي لِمَ وَهَبْتُ لَكَ الذَّهَبَ؟ "". قَالَ: لِلرَّحِمِ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" إِنَّ لِلرَّحِمِ حَقًّا، وَلَكِنْ وُهِبْتُ لَكَ الذَّهَبَ بِحُسْنِ ثَنَائِكَ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, رضي الله عنه, narrates that the Messenger of Allah ﷺ passed a Bedouin supplicating in his prayer with exalted praise of Him whom eyes do not see and happenings do not change, and a plea for the best of life, deeds, and days; so the Prophet ﷺ set a man over him, summoned him after prayer, gifted him gold brought from a mine, asked his tribe, and when the Bedouin supposed it was for kinship, explained it was for his beautiful extolling of Allah, the Mighty and Majestic. > **"O He whom eyes do not see, whom conjectures do not mingle with, whom describers cannot describe, whom happenings do not change, who fears no turns of fortune; who knows the weights of mountains, the measures of seas, the number of raindrops, the number of leaves of trees, the number of what night darkens and day brightens, and what is hidden of heaven from heaven, earth from earth, sea of what is in its depth, and mountain of what is in its ruggedness: make the best of my life its end, the best of my deeds their seal, and the best of my days the day I meet You therein. When he prays, bring him to me. From whom are you, O Bedouin? Do you know why I gifted you the gold? Kinship has a right, but I gifted you the gold for your beautiful praise of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک دیہاتی کے پاس سے ہوا ، وہ اپنی نماز کے دوران دعا کرتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا : «يَا مَنْ لَا تَرَاهُ الْعُيُونُ، وَلَا تُخَالِطُهُ الظُّنُونُ، وَلَا يَصِفُهُ الْوَاصِفُونَ، وَلَا تُغَيِّرُهُ الْحَوَادِثُ، وَلَا يَخْشَى الدَّوَائِرَ، يَعْلَمُ مَثَاقِيلَ الْجِبَالِ، وَمَكَايِيلَ الْبِحَارِ، وَعَدَدَ قَطْرِ الْأَمْطَارِ، وَعَدَدَ وَرَقِ الْأَشْجَارِ، وَعَدَدَ مَا أَظْلَمَ عَلَيْهِ اللَّيْلُ، وَأَشْرَقَ عَلَيْهِ النَّهَارُ، وَمَا تَوَارَى مِنْ سَمَاءٍ سَمَاءً، وَلَا أَرْضٍ أَرْضًا، وَلَا بَحْرٍ مَا فِي قَعْرِهِ، وَلَا جَبَلٍ مَا فِي وَعْرِهِ، اجْعَلْ خَيْرَ عُمْرِي آخِرَهُ، وَخَيْرَ عَمَلِي خَوَاتِيمَهُ، وَخَيْرَ أَيَّامِي يَوْمَ أَلْقَاكَ فِيهِ» ’’ اے وہ ذات ! جسے آنکھیں دیکھ نہیں سکتی ہیں ، اور گمان ، جس کے ساتھ مل نہیں سکتے ہیں ، صفت بیان کرنے والے اس کی حقیقی صفت بیان نہیں کر سکتے ہیں ، حادثات اسے تبدیل نہیں کر سکتے ہیں ، وہ تبدیلیوں سے ڈرتا نہیں ہے ، وہ پہاڑوں کے وزن اور سمندروں کی گہرائی اور بارشوں کے قطروں کے بارے میں اور درختوں کے پتوں کے بارے میں اور جن چیزوں پر رات کی تاریکی آتی ہے ، اور جن پر دن کی روشنی آتی ہے ، ان کی تعداد کے بارے میں علم رکھتا ہے ، آسمان کا کوئی حصہ اور زمین کا کوئی حصہ اس سے پوشیدہ نہیں ہے ، سمندر اس کی تہوں میں جو کچھ ہے ، پہاڑوں اور ان کی چوٹیوں پر جو کچھ ہے ، کچھ بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے ( اے اللہ ! ) تو میری عمر کے آخری حصے کو سب سے بہتر حصہ بنا دے اور میرے اختتامی عمل کو سب سے بہتر عمل بنا دے ، اور میرے دنوں میں سب سے بہتر دن اُس دن کو بنا دے ، جس دن میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوؤں گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو اُس دیہاتی کے پاس مقرر کیا اور فرمایا : جب یہ نماز ادا کر لے گا تو اسے میرے پاس لے کے آنا ، جب اس نے نماز ادا کر لی اور وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، تو اس سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو معدنیات میں سے کچھ سونا تحفے کے طور پر دیا گیا تھا ، جب وہ دیہاتی آپ کے پاس آیا تو آپ نے وہ سونا اسے عطا کر دیا اور فرمایا : اے اعرابی ! تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : بنو عامر بن صعصعہ سے ہے ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ، میں نے تمہیں سونا کیوں دیا ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان رشتہ داری کا تعلق ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : رشتہ داری کا بھی حق ہوتا ہے لیکن میں نے تمہیں یہ سونا اس لئے دیا ہے کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی اچھے طریقے سے ثناء بیان کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن محمد بن ابوعبدالرحمن اذری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17268

Majma al-Zawaid #17268

وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «أَلِظُّوا بَيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Rabīʿah ibn ʿĀmir ibn ʿAbbād, رضي الله عنه, reports that he heard the Prophet ﷺ command persistence in the address of Majesty and Honour. > **"Persist in: O Possessor of Majesty and Honour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ربیعہ بن عامر بن بجاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : «يا ذا الجلال و الاکرام» پڑھتے رہا کرو !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17269

Majma al-Zawaid #17269

وَعَنِ السَّرِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ رَجُلٍ مِنْ طَيِّئٍ - وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا - قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُرِيَنِي الِاسْمَ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، فَرَأَيْتُ مَكْتُوبًا فِي الْكَوْكَبِ فِي السَّمَاءِ: يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Sarī reports from Yaḥyā, from a man of Ṭayy whom he praised highly, that the man would ask Allah to show him the Name by which when He is called He answers, until he saw it inscribed in a star in the sky. > **"O Originator of the heavens and the earth, O Possessor of Majesty and Honour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سری بن یحیی طے قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : انہوں نے اس شخص کی تعریف کی ہے ، وہ شخص کہتا ہے : ’’ میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرتا تھا کہ مجھے وہ ’’ اسم ‘‘ دکھائے کہ جب اُس کے وسیلے سے دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے ، تو میں نے آسمان میں ایک ستارے میں یہ لکھا ہوا دیکھا : «يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ’’ اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! اے جلال اور اکرام والے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17270

Majma al-Zawaid #17270

وَعَنْ فُرَاتِ بْنِ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: «أَلَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَقُولُ فِيهِنَّ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ؟ "" تَمَّ نُورُكَ فَهَدَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ، عَظُمَ حِلْمُكَ فَعَفَوْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ، فَبَسَطْتَ يَدَكَ فَأَعْطَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ، رَبَّنَا وَجْهُكَ أَكْرَمُ الْوُجُوهِ، وَجَاهُكَ أَعْظَمُ الْجَاهِ، وَعَطِيَّتُكَ أَفْضَلُ الْعَطِيَّةِ وَأَهْنَأُهَا، تُطَاعُ رَبَّنَا فَتَشْكُرُ، وَتُعْصَى رَبَّنَا فَتَغْفِرُ، وَتُجِيبُ الْمُضْطَرَّ، وَتَكْشِفُ الضُّرَّ، وَتَشْفِي السَّقَمَ، وَتَغْفِرُ الذَّنْبَ، وَتَقْبَلُ التَّوْبَةَ، وَلَا يَجْزِي بِآلَائِكَ أَحَدٌ، وَلَا يَبْلُغُ مِدْحَتَكَ قَوْلُ قَائِلٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْفُرَاتُ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا، وَالْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Furāt ibn Salmān reports that ʿAlī, رضي الله عنه, asked whether none of them would rise, pray four units, and say therein what the Messenger of Allah ﷺ would say, comprising perfect light, mighty forbearance, outstretched giving, noblest Countenance, answering of the compelled, healing, forgiveness, and praise no speaker attains. > **"Your light is perfected and You guided, so praise belongs to You; Your forbearance is mighty and You pardoned, so praise belongs to You; You extended Your hand and gave, so praise belongs to You. Our Lord, Your Face is the noblest of faces, Your station the mightiest of stations, Your gift the best and most wholesome of gifts. Our Lord, You are obeyed and You give thanks; You are disobeyed, Our Lord, and You forgive. You answer the compelled, uncover harm, heal sickness, forgive sin, accept repentance; none can requite Your favours, and no speaker's words can reach Your praise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فرات بن سلمان بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایک شخص کھڑا ہو کر چار رکعت ادا کرے اور ان میں وہ پڑھے جو نبی اکرم ﷺ پڑھا کرتے تھے : «تَمَّ نُورُكَ فَهَدَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ، عَظُمَ حِلْمُكَ فَعَفَوْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ، فَبَسَطْتَ يَدَكَ فَأَعْطَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ، رَبَّنَا وَجْهُكَ أَكْرَمُ الْوُجُوهِ، وَجَاهُكَ أَعْظَمُ الْجَاهِ، وَعَطِيَّتُكَ أَفْضَلُ الْعَطِيَّةِ وَأَهْنَأُهَا، تُطَاعُ رَبَّنَا فَتَشْكُرُ، وَتُعْصَى رَبَّنَا فَتَغْفِرُ، وَتُجِيبُ الْمُضْطَرَّ، وَتَكْشِفُ الضُّرَّ، وَتَشْفِي السَّقَمَ، وَتَغْفِرُ الذَّنْبَ، وَتَقْبَلُ التَّوْبَةَ، وَلَا يَجْزِي بِآلَائِكَ أَحَدٌ، وَلَا يَبْلُغُ مِدْحَتَكَ قَوْلُ قَائِلٍ» ’’ تیرا نور مکمل ہے ، تو نے ہدایت عطا کی ، حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، تیری بردباری عظیم ہے ، تو نے درگزر کیا ، حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، تو نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور عطا کیا ، تو حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، اے ہمارے پروردگار ! تیرا چہرہ سب سے زیادہ معزز ہے ، تیری شان سب سے زیادہ عظمت والی ہے ، تیرا عطیہ سب سے زیادہ فضیلت والا اور عمدہ عطیہ ہے ، اے ہمارے پروردگار ! تیری اطاعت کی جائے ، تو تُو شکر قبول کرتا ہے ، اے ہمارے پروردگار ! اگر تیری نافرمانی کی جائے تو تُو مغفرت کرتا ہے ، تو پریشان حال کی دعا قبول کرتا ہے اور پریشانی کو ختم کر دیتا ہے ، تو بیماری کو شفا نصیب کرتا ہے ، تو گناہ کی مغفرت کرتا ہے ، تو توبہ قبول کرتا ہے ، کوئی تیری نعمتوں کا بدلہ نہیں دے سکتا اور کسی کہنے والے کا قول تیری تعریف تک نہیں پہنچ سکتا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، فرات نامی راوی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن مرہ ہے ، جسے ابوزرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔