Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 40 · Chapter 9

Book of Remembrances

Hadith 17063–17102

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17063

Majma al-Zawaid #17063

عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ: «أَنَّهُ أَصَابَهُ أَرَقٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ""أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ نِمْتَ؟ قُلِ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ أَجْمَعِينَ، أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ، أَوْ يَطْغَى، عَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَابِطٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Khālid ibn al-Walīd, may Allāh be pleased with him, who suffered wakefulness, the Messenger of Allāh ﷺ said: shall I not teach you words which, when you say them, you shall sleep; say: O Allāh, Lord of the seven heavens and what they shade, Lord of the earths and what they bear, Lord of the devils and whom they mislead, be my Protector from the evil of all Thy creation, lest any of them transgress against me or oppress; mighty is Thy protection and blessed is Thy Name. > **"O Allāh, Lord of the seven heavens and what they shade, Lord of the earths and what they bear, Lord of the devils and whom they mislead, be my Protector from the evil of all Thy creation, lest any of them transgress against me or oppress. Mighty is Thy protection and blessed is Thy Name."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہیں پریشانی لاحق ہو گئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ کہ جنہیں تم سوتے وقت پڑھ لیا کرو ، تم یہ پڑھا کرو : «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ أَجْمَعِينَ، أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ، أَوْ يَطْغَى، عَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ» ’’ اے اللہ ! اے سات آسمانوں اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے ، اُن کے پروردگار ! اے تمام زمینوں ! اور جو کچھ زمینوں نے اٹھایا ہوا ہے ، اُن کے پروردگار ! اے شیاطین اور جنہیں وہ گمراہ کرتے ہیں ، اُن کے پروردگار ! تو اپنی ساری بری مخلوق کے حوالے سے مجھے پناہ دینے والا ہو جا ! کہ اُن میں سے کوئی ایک میرے خلاف افراط کا مظاہرہ کرے یا سرکشی کرے ( یعنی ان کی سرکشی اور زیادتی سے مجھے محفوظ رکھنا ) ‘ تیری پناہ زبردست ہے اور تیرا اسم برکت والا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ عبدالرحمن بن سابط نامی راوی نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

17064

Majma al-Zawaid #17064

وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ: " «كُنْ لِي جَارًا مِنْ جَمِيعِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ، وَأَنْ لَا يُؤْذِيَنِي، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ".

EnglishUnverified translation

A weak-chain variant of the preceding reports: be my Protector from all jinn and men, lest any of them transgress against me or harm me; mighty is Thy protection, exalted is Thy praise, and there is no god but Thee. > **"Be my Protector from all jinn and men, lest any of them transgress against me or harm me. Mighty is Thy protection, exalted is Thy praise, and there is no god but Thee."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ضعیف سند کے ساتھ اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : «كُنْ لِي جَارًا مِنْ جَمِيعِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ، وَأَنْ لَا يُؤْذِيَنِي، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ’’ تو تمام جنات اور انسانوں سے مجھے پناہ دینے والا ہو جا ! کہ اُن میں سے کوئی ایک میرے خلاف افراط کرے ، یا مجھے کوئی تکلیف پہنچائے ، تیری پناہ غلبے والی ہے ، تیری ثناء بلند و برتر ہے اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔‘‘

17065

Majma al-Zawaid #17065

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ: «كُنْتُ أَفْزَعُ بِاللَّيْلِ فَآخُذُ سَيَفِي فَلَا أَلْقَى شَيْئًا إِلَّا ضَرَبْتُهُ بِسَيْفِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِي الرُّوحُ الْأَمِينُ "". فَقُلْتُ: بَلَى. قَالَ: "" قُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ "". فَقَالَهَا فَذَهَبَ عَنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ الضَّرِيرُ الْمَدَائِنِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Khālid ibn al-Walīd, may Allāh be pleased with him, who would wake frightened at night and seize his sword striking whatever he met, the Messenger of Allāh ﷺ said: shall I not teach you words taught me by the Trustworthy Spirit; he said: yes; he ﷺ said: say: I seek refuge in the perfect words of Allāh, which none righteous or wicked can exceed, from the evil of what descends from heaven and ascends therein, from the evil of night and day trials, and from every nighttime visitor except one bringing good, O Merciful; and he said them and it left him. > **"I seek refuge in the perfect words of Allāh, which none righteous or wicked can exceed, from the evil of what descends from heaven and ascends therein, from the evil of the trials of night and day, and from every visitor except one that comes with good, O Merciful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں رات کے وقت ڈر کے اُٹھ جاتا تھا ، اپنی تلوار پکڑتا تھا اور جو بھی چیز سامنے آتی تھی ، اُس پر تلوار مار دیتا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ان کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ جو روح الامین نے مجھے سکھائے ہیں ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا : تم یہ پڑھو : «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» ’’ میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں کہ کوئی نیک یا گناہگار اُن کے دائرے سے باہر نہیں ہے ، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے یا جو آسمان کی طرف جاتی ہے اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کے وقت آنے والی ہر چیز سے ، البتہ اُس آنے والے کا معاملہ مختلف ہے ، جو بھلائی لے کر آئے ‘‘ اے رحمان !‘‘۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات پڑھنا شروع کیے تو اُن کی پریشانی ختم ہو گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی بن ایوب ضریر مدائنی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17066

Majma al-Zawaid #17066

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ: «أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي أَجِدُ فَزَعًا بِاللَّيْلِ، فَقَالَ: ""أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَزَعَمَ أَنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ يَكِيدُنِي، فَقَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَفِتَنِ النَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَكَذَلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Khālid ibn al-Walīd, may Allāh be pleased with him, who complained to the Messenger of Allāh ﷺ that he finds fright at night, he ﷺ said: shall I not teach you words taught me by Jibrīl, peace be upon him, who claimed a jinni ʿifrīt plotted against him; say: I seek refuge in the perfect words of Allāh, which none righteous or wicked can exceed, from the evil of what descends from heaven and ascends therein, from the evil of what He spread and created on earth and what issues from it, from the evil of night and day trials, and from the visitations of night and day except one bringing good, O Merciful. > **"I seek refuge in the perfect words of Allāh, which none righteous or wicked can exceed, from the evil of what descends from heaven and ascends therein, from the evil of what He spread and created on earth and what issues from it, from the evil of the trials of night and day, and from the visitations of night and day except one that comes with good, O Merciful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں شکایت کرتے ہوئے کہا : مجھے رات کے وقت ڈر لگتا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں جو جبرائیل نے مجھے سکھائے ہیں ، ان کا یہ کہنا تھا کہ جنات سے تعلق رکھنے والے ایک عفریت نے مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کی تھی ، تو انہوں نے یہ پڑھا : «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَفِتَنِ النَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» ’’ میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں کہ کوئی نیک اور گناہ گار اُن سے ماورا نہیں ہے ، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے ، جو آسمان کی طرف جاتی ہے ، اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں جاتی ہے ، اور جو اس میں سے نکلتی ہے اور رات کے فتنوں اور دن کے فتنوں کے شر سے اور رات اور دن کے آنے والوں سے ، البتہ اس آنے والے کا معاملہ مختلف ہے ، جو بھلائی لے کر آتا ہے ، اے رحمن !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، حسن بن علی معمری کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17067

Majma al-Zawaid #17067

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ «حَدَّثَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَهَاوِيلَ يَرَاهَا بِاللَّيْلِ، حَالَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ صَلَاةِ اللَّيْلِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا خَالِدُ بْنَ الْوَلِيدِ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ لَا تَقُولُهُنَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى يُذْهِبَ اللَّهُ ذَلِكَ عَنْكَ؟ "". قَالَ: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَإِنَّمَا شَكَوْتُ هَذَا إِلَيْكَ رَجَاءَ هَذَا مِنْكَ، قَالَ: "" قُلْ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ، وَشَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ "". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا لَيَالِيَ [يَسِيرَةً] حَتَّى جَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَتْمَمْتُ الْكَلِمَاتِ الَّتِي عَلَّمْتَنِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى أَذْهَبَ اللَّهُ عَنِّي مَا كُنْتُ أَجِدُ، مَا أُبَالِي لَوْ دَخَلْتُ عَلَى أَسَدٍ فِي حَبْسَتِهِ بِلَيْلٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَيْلِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Umāmah, may Allāh be pleased with him, Khālid ibn al-Walīd, may Allāh be pleased with him, told the Messenger of Allāh ﷺ of horrors he saw at night barring him from night prayer, and he ﷺ said: O Khālid ibn al-Walīd, shall I not teach you words, say them three times and Allāh shall remove that from you; he said: yes, O Messenger of Allāh, at the cost of my father and mother, for I complained only hoping this from you; he said: say: I seek refuge in the perfect word of Allāh from His anger and punishment, the evil of His servants, and the whisperings of devils and lest they attend me; ʿĀʾishah, may Allāh be pleased with her, said: only a few nights passed until Khālid came and said: O Messenger of Allāh, by Him Who sent you with truth, I had not completed the words you taught me three times before Allāh removed what I felt, and I would not care if I entered a lion's den at night. > **"Say: I seek refuge in the perfect word of Allāh from His anger and punishment, the evil of His servants, and the whisperings of the devils and lest they attend me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو ان ڈراؤنے خوابوں کے بارے میں بتایا ، جو وہ رات کے وقت دیکھتے تھے ، اور وہ خواب اُن کے اور رات کی ( نفل ) نماز کے درمیان رکاوٹ بن جاتے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے خالد بن ولید ! کیا میں تمہیں اُن کلمات کی تعلیم نہ دوں ، جنہیں تم پڑھ لیا کرو ، تم انہیں تین مرتبہ پڑھ لو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے اس چیز کو رخصت کر دے گا ، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں نے اس بات کی شکایت آپ کے سامنے صرف اسی لئے کی ہے ، یہ امید رکھتے ہوئے کہ آپ سے اس کا کوئی حل مل جائے گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ پڑھو : «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ، وَشَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ» ’’ میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں اُس کے غضب اور اس کی سزا سے اور اس کے بندوں کے شر سے ، اور شیاطین کے وسوسوں سے کہ وہ میرے پاس آئیں ۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : کچھ دن گزرنے کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، آپ نے مجھے جن کلمات کی تعلیم دی تھی ، وہ میں نے تین مرتبہ بھی نہیں پڑھے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو مجھ سے دور کر دیا ، جو میں پہلے پاتا تھا ، اب مجھے اس بات کی بھی پرواہ نہیں ہے کہ اگر میں شیر کی کچھار میں رات کے وقت داخل ہو جاؤں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ ایلی ہے اور وہ متروک ہے ۔

17068

Majma al-Zawaid #17068

وَعَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُنَيْشٍ التَّمِيمِيِّ - وَكَانَ كَبِيرًا: «أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَكَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً كَادَتْهُ الشَّيَاطِينُ، قَالَ: إِنَّ الشَّيَاطِينَ تَحَدَّرَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ، وَفِيهِمْ شَيْطَانٌ بِيَدِهِ شُعْلَةٌ مِنْ نَارٍ، يُرِيدُ أَنْ يُحْرِقَ بِهَا وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَهَبَطَ إِلَيْهِ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْ، قَالَ: " مَا أَقُولُ؟ ". قَالَ: قُلْ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، وَذَرَأَ، وَبَرَأَ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ يَطْرُقُ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ، قَالَ: فَطُفِئَتْ نَارُهُمْ، وَهَزَمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى».

EnglishUnverified translation

Abū al-Tayyāḥ asked ʿAbd al-Raḥmān ibn Ḥunaysh al-Tamīmī, may Allāh be pleased with him, whether he met the Messenger of Allāh ﷺ, and how he ﷺ acted on the night the devils plotted against him, and he replied that the devils descended that night upon the Messenger of Allāh ﷺ from the valleys and ravines, among them a devil with a flame of fire in his hand seeking to burn the face of the Messenger of Allāh ﷺ, so Jibrīl, peace be upon him, descended and said: O Muḥammad, say; he ﷺ asked what to say, and he told him to seek refuge in the perfect words of Allāh from the evil of what He created, originated and fashioned, from what descends from heaven and ascends therein, from the trials of night and day, and from every visitor except one bringing good, O Merciful, whereupon their fire was extinguished and Allāh routed them. > **"I seek refuge in the perfect words of Allāh from the evil of what He created, originated and fashioned, from the evil of what descends from heaven and ascends therein, from the evil of the trials of night and day, and from the evil of every visitor except one that comes with good, O Merciful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوتیاح بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبدالرحمن بن خنبش تمیمی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کا زمانہ پایا ہے ، وہ بڑی عمر کے فرد تھے ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ابوتیاح نے دریافت کیا : جب شیاطین نے نبی اکرم ﷺ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی ، تو اس رات نبی اکرم ﷺ نے کیا کیا تھا ؟ انہوں نے بتایا : اُس رات میں شیاطین مختلف نشیبی علاقوں اور گھاٹیوں سے اُتر کر نبی اکرم ﷺ کی طرف آئے تھے ، ان کے درمیان شیطان موجود تھا ، جس کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ تھا ، وہ یہ چاہتا تھا کہ اس آگ کے ذریعے اللہ کے رسول ﷺ کے چہرے کو جلا دے ، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام اتر کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور بولے : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ یہ پڑھیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : میں کیا پڑھوں ؟ انہوں نے کہا : آپ یہ پڑھیں : «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، وَذَرَأَ، وَبَرَأَ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ يَطْرُقُ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» ’’ میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، ہر اس چیز کے شر سے ، جس کو اس نے پیدا کیا ہے ، بنایا ہے ، وجود بخشا ہے ، اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان کی طرف اوپر جاتی ہے ، اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے ، اور ہر آنے والے کے شر سے ، البتہ اس آنے والے کا معاملہ مختلف ہے ، جو بھلائی لے کے آتا ہے ، اے رحمان !‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو اُن ( شیاطین ) کی آگ بجھ گئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں پسپا کر دیا ۔

17069

Majma al-Zawaid #17069

وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: رَعَبَ - قَالَ جَعْفَرٌ: أَحْسَبُهُ جَعَلَ يَتَأَخَّرُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ قَالَ: فَلَمَّا رَآهُمْ وَجِلَ، وَجَاءَهُمْ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى وَبَعْضِ أَسَانِيدَ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ.

EnglishUnverified translation

In a variant of the preceding report, he was seized with dread, Jaʿfar said, I suppose he began to withdraw, and when he saw them he was alarmed, and Jibrīl, peace be upon him, came to them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : راوی بیان کرتے ہیں :” وہ مرعوب ہو گئے ‘‘ جعفر نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ( روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) انہوں نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ۔ یہ روایت امام احمد نے ، امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں دیکھا تو آپ پریشان ہو گئے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس آئے ......۔ امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال اور ابویعلیٰ کے رجال اور طبرانی کی بعض اسانید کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، طبرانی کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔

17070

Majma al-Zawaid #17070

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ صُرِفَ إِلَيْهِ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ، فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْجِنِّ بِشُعْلَةٍ مِنْ نَارٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ طُفِئَتْ شُعْلَتُهُ، وَانْكَبَّ لِمَنْخِرِهِ؟ قُلْ: أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ، وَكَلِمَاتِهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ، وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ، وَبَرَأَ فِي الْأَرْضِ، وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, who was with the Prophet ﷺ on the night the company of jinn were turned toward him, when a man of the jinn came with a flame of fire toward the Messenger of Allāh ﷺ, and Jibrīl said: O Muḥammad, shall I not teach you words which, when you say them, his flame shall be quenched and he shall fall upon his nostril; say: I seek refuge in the Noble Face of Allāh and His perfect words, which none righteous or wicked can exceed, from what descends from heaven and ascends therein, from what He spread and created on earth and what issues from it, from the trials of night and day, and from the visitations of night and day except one bringing good, O Merciful. > **"I seek refuge in the Noble Face of Allāh and His perfect words, which none righteous or wicked can exceed, from the evil of what descends from heaven and ascends therein, from the evil of what He spread and created on earth and what issues from it, from the evil of the trials of night and day, and from the evil of the visitations of night and day except one that comes with good, O Merciful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اُس رات میں ، نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ، جب جنات کے ایک گروہ کو آپ کی طرف پھیر دیا گیا ، ایک جن آگ کا شعلہ لے کر نبی اکرم ﷺ کی طرف آیا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! کیا میں آپ کو ان کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ کہ جب آپ انہیں پڑھ لیں گے تو اس کا شعلہ بجھ جائے گا ، اور یہ نتھنوں کے بل گر جائے گا ، آپ یہ پڑھیں : «أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ، وَكَلِمَاتِهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ، وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ، وَبَرَأَ فِي الْأَرْضِ، وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» ’’ میں کرم والے اللہ تعالیٰ کی ذات کی پناہ مانگتا ہوں اور اس کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، کہ کوئی نیک یا برا شخص ، اُن کے دائرے سے باہر نہیں ہے ، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور جو اُس کی طرف اوپر جاتی ہے ، اور ہر اس چیز کے شر سے جسے اس نے زمین میں بنایا اور پھیلایا ہے ، اور جو کچھ زمین سے نکلتا ہے اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے ، اور رات اور دن میں آنے والوں کے شر سے ، البتہ اس کا معاملہ مختلف ہے جو بھلائی لے کر آتا ہے ، اے رحمن !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ صغیر ‘‘ میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17071

Majma al-Zawaid #17071

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: «أَصَابَنِي أَرَقٌ مِنَ اللَّيْلِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" قُلِ اللَّهُمَّ غَارَتِ النُّجُومُ، وَهَدَأَتِ الْعُيُونُ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، أَنِمْ عَيْنِي، وَأَهْدِئْ لَيْلِي "". فَقُلْتُهَا فَذَهَبَ عَنِّي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Zayd ibn Thābit, may Allāh be pleased with him, who suffered wakefulness at night and complained to the Messenger of Allāh ﷺ, he ﷺ said: say: O Allāh, the stars have set, eyes have grown still, and Thou art Living, Sustaining; O Living, O Sustaining, put my eye to sleep and calm my night; and he said it and it left him. > **"O Allāh, the stars have set, eyes have grown still, and Thou art Living, Sustaining. O Living, O Sustaining, put my eye to sleep and calm my night."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے رات کے وقت ڈر لگتا تھا ، میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ غَارَتِ النُّجُومُ، وَهَدَأَتِ الْعُيُونُ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، أَنِمْ عَيْنِي، وَأَهْدِئْ لَيْلِي» ’’ اے اللہ ! ستارے نکل آئے ہیں اور آنکھیں سو گئی ہیں ، اور تو زندہ ہے ، بذات خود قائم ہے ، اے زندہ ! اور بذات خود قائم ذات ! تو میری آنکھوں کو سلا دے اور میری رات گزار دے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں ، میں نے یہ دعا پڑھی ، تو میری وہ کیفیت ختم ہو گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے اور وہ متروک ہے ۔

17072

Majma al-Zawaid #17072

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ: «أَنَّ رَجُلًا اشْتَكَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوَحْشَةَ، فَقَالَ: "" قُلْ: سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ، رَبِّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ [جَلَّلْتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْعِزَّةِ وَالْجَبَرُوتِ "" فَقَالَهَا الرَّجُلُ فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ الْوَحْشَةَ]» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of al-Barāʾ ibn ʿĀzib, may Allāh be pleased with him, a man complained to the Messenger of Allāh ﷺ of loneliness, and he ﷺ said: say: glory be to the Sovereign, the Holy, Lord of the angels and the Spirit; Thou hast enveloped the heavens and the earth with might and omnipotence; and the man said it and Allāh removed his loneliness. > **"Glory be to the Sovereign, the Holy, Lord of the angels and the Spirit. Thou hast enveloped the heavens and the earth with might and omnipotence."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے وحشت کی شکایت کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ پڑھو : «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ، رَبِّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ [جَلَّلْتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْعِزَّةِ وَالْجَبَرُوتِ» ’’ ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات ، جو بادشاہ ہے ، اور پاک ہے ، وہ فرشتوں اور روح الامین کا پروردگار ہے ، تو نے غلبے اور طاقت کے ذریعے آسمانوں اور زمین کو مغلوب کیا ہوا ہے ۔‘‘ اس شخص نے یہ کلمات پڑھے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی وحشت ختم کر دی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17073

Majma al-Zawaid #17073

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْكُو إِلَيْهِ الْوَحْشَةَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَّخِذَ زَوْجَ حَمَامٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿUbādah ibn al-Ṣāmit, may Allāh be pleased with him, a man came to the Messenger of Allāh ﷺ complaining of loneliness, and he ordered him to keep a pair of pigeons.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کے سامنے وحشت کی شکایت کی ، تو آپ نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ کبوتروں کا جوڑا رکھ لے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صلت بن جراح ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17074

Majma al-Zawaid #17074

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «طَهِّرُوا هَذِهِ الْأَجْسَادَ طَهَّرَكُمُ اللَّهُ ; فَإِنَّهُ لَيْسَ مَنْ عَبْدٍ يَبِيتُ طَاهِرًا إِلَّا بَاتَ مَعَهُ فِي شِعَارِهِ مَلَكٌ لَا يَنْقَلِبُ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِكَ ; فَإِنَّهُ بَاتَ طَاهِرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, the Messenger of Allāh ﷺ said: purify these bodies, may Allāh purify you, for no servant spends the night pure but an angel spends with him in his blanket, and whenever he turns in the night he says: O Allāh, forgive Thy servant, for he spent pure. > **"Purify these bodies, may Allāh purify you; for no servant spends the night pure but an angel spends with him in his blanket, and whenever he turns in the night he says: O Allāh, forgive Thy servant, for he spent pure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم ان جسموں کو پاک رکھو ! اللہ تعالیٰ تمہیں پاک رکھے گا ، کیونکہ جو بھی بندہ باوضو حالت میں رات بسر کرتا ہے ، تو اس کے لحاف میں ایک فرشتہ بھی اس کے ساتھ رات گزارتا ہے ، وہ شخص رات کی جس بھی گھڑی میں اُٹھتا ہے ، تو فرشتہ یہ کہتا ہے : اے اللہ ! تو اپنے اس بندے کی مغفرت کر دے ! کیونکہ اس نے باوضو حالت میں رات گزاری ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17075

Majma al-Zawaid #17075

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ قَرَأَ: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] حِينَ يَدْخُلُ مَنْزِلَهُ نَفَتِ الْفَقْرَ عَنْ أَهْلِ ذَلِكَ الْمَنْزِلِ وَالْجِيرَانِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ الْغِفَارِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever recites: say, He is Allāh, One, when entering his house, poverty shall be repelled from that house's people and the neighbours. > **"Whoever recites: Say, He is Allāh, One, when entering his house, poverty shall be repelled from that house's people and the neighbours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص گھر میں داخل ہوتے وقت سورۂ اخلاص پڑھ لے تو اس گھر کے رہنے والوں اور اُس کے پڑوسیوں سے غربت دور ہو جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم غفاری ہے اور وہ متروک ہے ۔

17076

Majma al-Zawaid #17076

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ إِذَا دَخَلَ مَنْزِلَهُ قَرَأَ فِي زَوَايَا الْبَيْتِ آيَةَ الْكُرْسِيِّ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَوْفٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿUbayd ibn ʿUmayr reported that ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, may Allāh be pleased with him, when he entered his house would recite Āyat al-Kursī in the corners of the house.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو گھر کے تمام گوشوں میں آیت الکرسی پڑھتے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ، البتہ عبداللہ نامی راوی نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

17077

Majma al-Zawaid #17077

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ يُرِيدُ سَفَرًا أَوْ غَيْرَهُ فَقَالَ حِينَ يَخْرُجُ: آمَنْتُ بِاللَّهِ، اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِلَّا رُزِقَ خَيْرَ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ، وَصُرِفَ عَنْهُ شَرُّ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عُثْمَانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿUthmān ibn ʿAffān, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said that no Muslim leaves his house for travel or otherwise and says when he leaves: I believe in Allāh, I hold fast to Allāh, I trust in Allāh, there is no power nor strength but in Allāh, but he shall be granted the good of that exit and the evil of that exit shall be turned from him. > **"I believe in Allāh, I hold fast to Allāh, I trust in Allāh; there is no power nor strength but in Allāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو بھی مسلمان سفر پر جانے کے لیے ، یا کسی اور سلسلے میں اپنے گھر سے نکلتا ہے اور نکلتے ہوئے یہ پڑھ لیتا ہے : «آمَنْتُ بِاللَّهِ، اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ’’ میں اللہ پر ایمان لایا ، میں نے اللہ تعالیٰ کو مضبوطی سے تھام لیا ، میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا ، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) تو اُس نکلنے میں اسے بھلائی نصیب کی جاتی ہے ، اور اس نکلنے میں ، اُس سے برائی کو پھیر دیا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے ایک شخص کے حوالے سے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17078

Majma al-Zawaid #17078

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَصِيفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ: "" بِسْمِ اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، مَا شَاءَ اللَّهُ، تَوَكَّلَتْ عَلَى اللَّهِ، حَسْبِيَ اللَّهُ، وَنِعْمَ الْوَكِيلُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn ʿAbd Allāh ibn Khuṣayfah, from his father, from his grandfather, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ when he left his house would say: in the Name of Allāh, there is no power nor strength but in Allāh, what Allāh wills; I trust in Allāh, Allāh suffices me, and excellent Guardian. > **"In the Name of Allāh; there is no power nor strength but in Allāh; what Allāh wills. I trust in Allāh; Allāh suffices me, and excellent Guardian."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن عبداللہ بن خصیفہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ گھر سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے : «بِسْمِ اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، مَا شَاءَ اللَّهُ، تَوَكَّلَتْ عَلَى اللَّهِ، حَسْبِيَ اللَّهُ، وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ، جو اللہ چاہتا ہے ( یعنی وہی ہوتا ہے ) میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا ، اللہ تعالیٰ میرے لئے کافی ہے ، اور وہ بہترین کارساز ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے اور وہ متروک ہے ۔

17079

Majma al-Zawaid #17079

وَعَنْ عَوْفٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ: هَذَا فِي الْقُرْآنِ: {ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّهِ} [هود: 41]، وَقَالَ: عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

ʿAwf reported that ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, when he left his house would say: in the Name of Allāh, I trust in Allāh, there is no power nor strength but in Allāh; and Muḥammad ibn Kaʿb al-Quraẓī said: this is in the Qurʾān: embark therein, in the Name of Allāh, and he said: in Allāh we trust. > **"In the Name of Allāh, I trust in Allāh; there is no power nor strength but in Allāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عوف بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب اپنے گھر سے نکلتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : «بِسْمِ اللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔‘‘ محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں : یہ چیز قرآن میں ہے :’’ تم اللہ کا نام لے کر اس میں سوار ہو جاؤ ‘‘ اور انہوں نے یہ بھی کہا :” ہم اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کرتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند ’’ منقطع ‘‘ ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

17080

Majma al-Zawaid #17080

وَعَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: «مَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا رَفَعَ طَرْفَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Maymūnah, may Allāh be pleased with her, the Messenger of Allāh ﷺ never left her house but raised his gaze to the sky and said: O Allāh, I seek refuge in Thee lest I stray or be led astray, slip or be made to slip, act ignorantly or be treated ignorantly, wrong or be wronged. > **"O Allāh, I seek refuge in Thee lest I stray or be led astray, slip or be made to slip, act ignorantly or be treated ignorantly, wrong or be wronged."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ جب بھی میرے گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو آپ نگاہ اُٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتے اور پھر یہ دعا کرتے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ» ’’ اے اللہ ! بے شک میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں گمراہ ہو جاؤں ، یا مجھے گمراہ کر دیا جائے ، یا میں پھسل جاؤں ، یا مجھے پھسلا دیا جائے ، میں جہالت کا مظاہرہ کروں ، یا میرے خلاف جہالت کا مظاہرہ کیا جائے ، یا میں ظلم کروں یا میرے خلاف ظلم کیا جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17081

Majma al-Zawaid #17081

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا خَرَجَ مِنَ السُّوقِ قَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ السُّوقِ، وَخَيْرِ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا. اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُصِيبَ فِيهَا يَمِينًا فَاجِرَةً، أَوْ صَفْقَةً خَاسِرَةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Buraydah, may Allāh be pleased with him, when the Messenger of Allāh ﷺ left the marketplace he would say: O Allāh, I ask Thee the good of this market and the good of what is in it, and seek refuge in Thee from its evil and the evil of what is in it; O Allāh, I seek refuge in Thee lest I incur therein a wicked oath or a losing bargain. > **"O Allāh, I ask Thee the good of this market and the good of what is in it, and seek refuge in Thee from its evil and the evil of what is in it. O Allāh, I seek refuge in Thee lest I incur therein a wicked oath or a losing bargain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب بازار سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ السُّوقِ، وَخَيْرِ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا. اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُصِيبَ فِيهَا يَمِينًا فَاجِرَةً، أَوْ صَفْقَةً خَاسِرَةً» ’’ اے اللہ ! میں اس بازار کی بھلائی کا اور اس میں جو کچھ موجود ہے ، اس کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اور میں اس کے شر سے اور اس میں جو کچھ موجود ہے ، اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں اس میں کوئی جھوٹی قسم اٹھاؤں ، یا کوئی خسارے والا سودا کر لوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

17082

Majma al-Zawaid #17082

وَعَنْ سُلَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَتَى سُدَّةَ السُّوقِ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا، وَخَيْرِ أَهْلِهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ أَهْلِهَا "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سُلَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Sulaym ibn Ḥanẓalah reported that ʿAbd Allāh, meaning Ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, came to the market entrance and said: O Allāh, I ask Thee its good and the good of its people, and seek refuge in Thee from its evil and the evil of its people. > **"O Allāh, I ask Thee its good and the good of its people, and seek refuge in Thee from its evil and the evil of its people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیم بن حنظلہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بازار کے دروازے پر آئے اور انہوں نے یہ پڑھا : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا، وَخَيْرِ أَهْلِهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ أَهْلِهَا» ’’ اے اللہ میں تجھ سے اس ( بازار ) کی بھلائی اور اس ( بازار ) والوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور میں اس کے شر اور اس کے اہل کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف سلیم بن حنظلہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17083

Majma al-Zawaid #17083

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ مِنْ سُوقِهِ أَنْ يَقْرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ فَيَكْتُبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ آيَةٍ حَسَنَةً»؟ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الرَّبِيعِ بْنِ ثَعْلَبٍ، وَأَبِي إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبِ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِيمَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ السُّوقَ فِي الْبُيُوعِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, the Messenger of Allāh ﷺ said: O company of merchants, is one of you unable, when he returns from his market, to recite ten verses so Allāh writes for him a good deed for each verse. > **"O company of merchants, is one of you unable, when he returns from his market, to recite ten verses so Allāh writes for him a good deed for each verse?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے تاجروں کے گروہ ! کیا تم میں سے کوئی ایک شخص اس بات سے عاجز ہے کہ وہ جب بازار سے واپس جاتا ہے تو قرآن کی دس آیات پڑھ لیا کرے ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر ایک آیت کے بدلے میں ایک نیکی نوٹ کر لے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ربیع بن ثعلب اور ابواسماعیل مؤدب کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب ’’ البیوع ‘‘ میں اس بارے میں احادیث گزر چکی ہیں کہ جب آدمی بازار میں داخل ہو ، تو کیا پڑھے ؟

17084

Majma al-Zawaid #17084

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرٍ قَالَ: "" اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضِّبْنَةِ فِي السَّفَرِ، وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ. اللَّهُمَّ اقْبِضْ لَنَا الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ "". وَإِذَا أَرَادَ الرُّجُوعَ قَالَ: "" [آيِبُونَ] تَائِبُونَ عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ "". وَإِذَا دَخَلَ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ: "" تَوْبًا تَوْبًا إِلَى رَبِّنَا أَوْبًا، وَلَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَزَادُوا كُلُّهُمْ عَلَى أَحْمَدَ: "" آيِبُونَ "". وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا بَعْضَ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, when the Messenger of Allāh ﷺ wished to depart on travel he would say: O Allāh, Thou art the Companion in travel and the Successor over family; O Allāh, I seek refuge in Thee from want in travel and sorrow upon return; O Allāh, contract the earth for us and ease travel for us; and when he wished to return he would say: returning, repentant, worshipping, praising our Lord; and when he entered to his family he would say: repentance, repentance, returning to our Lord, leaving no sin upon us. > **"O Allāh, Thou art the Companion in travel and the Successor over family. O Allāh, I seek refuge in Thee from want in travel and sorrow upon return. O Allāh, contract the earth for us and ease travel for us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سفر پر روانہ ہونے لگتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضِّبْنَةِ فِي السَّفَرِ، وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ. اللَّهُمَّ اقْبِضْ لَنَا الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ» ’’ اے اللہ ! سفر میں ، تو ہی میرا ساتھی ہے اور میرے اہل خانہ کے بارے میں نگہبان ہے ، اے اللہ ! سفر کے دوران کسی کمی ، اور واپسی پر کسی ناپسندیدہ صورتحال کا سامنا کرنے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! ہمارے لئے زمین کو سمیٹ دے ، اور سفر ہمارے لیے آسان کر دے ۔‘‘ جب نبی اکرم ﷺ کی واپسی کا ارادہ کرتے تھے تو پھر یہ پڑھتے تھے : «(آيِبُونَ) تَائِبُونَ عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ’’ ( ہم ) رجوع کرنے والے ہیں ، توبہ کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں ، اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں ۔‘‘ جب آپ ﷺ اپنے اہل خانہ کے پاس تشریف لاتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے : «تَوْبًا تَوْبًا إِلَى رَبِّنَا أَوْبًا، وَلَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا» ’’ توبہ ہے ، توبہ ہے ، اور اپنے پروردگار کی طرف رجوع ہے ، اور وہ ہم پر کوئی گناہ باقی نہیں رہنے دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ان سب حضرات نے امام احمد کے مقابلے میں ایک لفظ ’’ رجوع کرنے والے ‘‘ زائد نقل کیا ہے ، اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ طبرانی کی بعض اسانید کا معاملہ مختلف ہے ۔

17085

Majma al-Zawaid #17085

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا خَرَجَ لِسَفَرٍ قَالَ: "" اللَّهُمَّ بَلَاغًا يُبَلِّغُ خَيْرًا، مَغْفِرَةً مِنْكَ وَرِضْوَانًا، بِيَدِكَ الْخَيْرُ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ، وَاطْوِ لَنَا الْأَرْضَ، اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of al-Barāʾ, may Allāh be pleased with him, when the Messenger of Allāh ﷺ set out for travel he would say: O Allāh, a conveyance conveying good, forgiveness and pleasure from Thee; in Thy Hand is good, Thou hast power over all things; O Allāh, Thou art the Companion in travel and the Successor over family; O Allāh, ease travel for us and fold the earth for us; O Allāh, I seek refuge in Thee from the hardship of travel and the sorrow of return. > **"O Allāh, a conveyance conveying good, forgiveness and pleasure from Thee. In Thy Hand is good; Thou hast power over all things. O Allāh, Thou art the Companion in travel and the Successor over family. O Allāh, ease travel for us and fold the earth for us. O Allāh, I seek refuge in Thee from the hardship of travel and the sorrow of return."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سفر کے لیے تشریف لے جاتے تھے ، تو آپ ﷺ یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ بَلَاغًا يُبَلِّغُ خَيْرًا، مَغْفِرَةً مِنْكَ وَرِضْوَانًا، بِيَدِكَ الْخَيْرُ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ، وَاطْوِ لَنَا الْأَرْضَ، اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ» ’’ اے اللہ ! ایسا پہنچنا ہو ، جو بھلائی تک پہنچائے ، جو تیری طرف سے مغفرت اور رضامندی کی شکل میں ہو ، ہر قسم کی بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے ، بیشک تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اے اللہ ! سفر میں تو ہی میرا ساتھی ہے ، اور میری غیر موجودگی میں ، گھر والوں کا نگہبان ہے ، اے اللہ ! سفر ہمارے لیے آسان کر دے ، اور زمین کو ہمارے لئے لپیٹ دے ، اے اللہ ! میں سفر کی دقت اور واپسی پر ناگوار صورتحال کے سامنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17086

Majma al-Zawaid #17086

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «قَفَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ: "" آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Jābir ibn ʿAbd Allāh, may Allāh be pleased with them, the Prophet ﷺ returned, and when he drew near Madinah he said: returning, repentant, worshipping, praising our Lord; O Allāh, I seek refuge in Thee from the hardship of travel, the sorrow of return, and an evil sight in family and wealth. > **"Returning, repentant, worshipping, praising our Lord. O Allāh, I seek refuge in Thee from the hardship of travel, the sorrow of return, and an evil sight in family and wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سفر سے واپس تشریف لا رہے تھے ، جب آپ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا : «آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ» ’’ ( ہم ) رجوع کرنے والے ہیں ، توبہ کرنے والے ہیں ، اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں ، اے اللہ ! میں سفر کی پریشانی اور واپسی پر ناگوار صورتحال کے سامنے اور اپنے اہل خانہ یا مال کے بارے میں برے منظر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

17087

Majma al-Zawaid #17087

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: كَانَ إِذَا رَجَعَ مِنْ غَزْوَةٍ. وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَفِي الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

In a variant with him, he ﷺ would say it when he returned from an expedition.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ جب غزوہ سے واپس تشریف لائے ......۔ پہلی روایت میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور دوسری روایت میں ابوسعد بقال ہے اور وہ متروک ہے ، یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17088

Majma al-Zawaid #17088

وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ سَفَرًا قَالَ: "" اللَّهُمَّ بِكَ أَصُولُ، وَبِكَ أَجُولُ، وَبِكَ أَسِيرُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿAlī, meaning Ibn Abī Ṭālib, may Allāh be pleased with him, when the Prophet ﷺ wished to travel he would say: O Allāh, by Thee I assault, by Thee I range, and by Thee I journey. > **"O Allāh, by Thee I assault, by Thee I range, and by Thee I journey."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سفر کا ارادہ کرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ بِكَ أَصُولُ، وَبِكَ أَجُولُ، وَبِكَ أَسِيرُ» ” اے اللہ ! تیری مدد کے ساتھ میں حملہ کرتا ہوں ، اور تیری مدد کے ساتھ میں گھومتا ہوں اور تیری مدد کے ساتھ میں چلتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17089

Majma al-Zawaid #17089

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَافَرَ فَأَقْبَلَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ يَقُولُ: "" آيِبُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، وَلِرَبِّنَا عَابِدُونَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Samurah ibn Jundub, may Allāh be pleased with him, when the Messenger of Allāh ﷺ travelled and came returning toward Madinah he would say: returning, praising our Lord, and worshipping our Lord. > **"Returning, praising our Lord, and worshipping our Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سفر کے بعد مدینہ منورہ کی طرف واپس آ رہے ہوتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : «آيِبُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، وَلِرَبِّنَا عَابِدُونَ» ’’ ( ہم ) رجوع کرنے والے ہیں ، اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں ، اور اپنے پروردگار کی عبادت کرنے والے ہیں ۔‘‘ یہ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ، یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

17090

Majma al-Zawaid #17090

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمُ السَّفَرَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى إِخْوَانِهِ ; فَإِنَّهُمْ يَزِيدُونَهُ بِدُعَائِهِمْ إِلَى دُعَائِهِ خَيْرًا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، عَنْ شَيْخِهِ عَمْرِو بْنِ الْحُسَيْنِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said that when one of you wishes to travel let him greet his brothers, for they shall increase him, through their supplication added to his, in good. > **"When one of you wishes to travel, let him greet his brothers, for they shall increase him, through their supplication added to his, in good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی ایک شخص سفر پر جانے لگے تو وہ اپنے بھائیوں کو سلام کر لے ، کیونکہ وہ لوگ اس کی دعا کے ہمراہ اپنی دعاؤں کے ذریعے ، اس کے لیے بھلائی میں اضافہ ہی کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد عمرو بن حصین کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ متروک ہے ۔

17091

Majma al-Zawaid #17091

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «لَمْ يُرِدِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَفَرًا قَطُّ إِلَّا قَالَ حِينَ يَنْهَضُ مِنْ جُلُوسِهِ: "" اللَّهُمَّ بِكَ انْتَشَرْتُ، وَإِلَيْكَ تَوَجَّهْتُ، وَبِكَ اعْتَصَمْتُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِي، وَأَنْتَ رَجَائِي، اللَّهُمَّ اكْفِنِي مَا أَهَمَّنِي، وَمَا لَا أَهْتَمُّ بِهِ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، وَزَوِّدْنِي التَّقْوَى، وَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَوَجِّهْنِي لِلْخَيْرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهْتُ» "". [قَالَ: ثُمَّ يَخْرُجُ] رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُسَاوِرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Anas, may Allāh be pleased with him, the Prophet ﷺ never intended travel but said when he rose from his sitting: O Allāh, by Thee I spread forth, to Thee I turn, by Thee I hold fast; O Allāh, Thou art my trust and my hope; O Allāh, suffice me what concerns me and what does not concern me and what Thou knowest better than I; provision me with taqwā, forgive my sin, and direct me to good wherever I turn; then he would go out. > **"O Allāh, by Thee I spread forth, to Thee I turn, and by Thee I hold fast. O Allāh, Thou art my trust and my hope. O Allāh, suffice me what concerns me and what does not concern me and what Thou knowest better than I; provision me with taqwā, forgive my sin, and direct me to good wherever I turn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب بھی سفر کا ارادہ کرتے تھے تو جب آپ بیٹھنے سے ( یعنی روانگی کے لیے ) اُٹھتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ بِكَ انْتَشَرْتُ، وَإِلَيْكَ تَوَجَّهْتُ، وَبِكَ اعْتَصَمْتُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِي، وَأَنْتَ رَجَائِي، اللَّهُمَّ اكْفِنِي مَا أَهَمَّنِي، وَمَا لَا أَهْتَمُّ بِهِ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، وَزَوِّدْنِي التَّقْوَى، وَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَوَجِّهْنِي لِلْخَيْرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهْتُ» ’’ اے اللہ ! تیری مدد سے میں نکلنے لگا ہوں ، اور تیری طرف متوجہ ہو گیا ہوں ، اور تیری مدد چاہتا ہوں ، اے اللہ ! تو میرا قابل وثوق ہے ، تو میری امید ہے ، اے اللہ ! میرے لیے ان چیزوں کے حوالے سے کفایت کر لے ، جو میرے لئے ضروری ہیں ، اور ان سے بھی جو میرے لئے ضروری نہیں ہے ، اور جن کے بارے میں ، تو مجھ سے زیادہ بہتر جانتا ہے ، اور تو مجھے تقویٰ ، زاد سفر کے طور پر عطا فرما ، تو میرے گناہ کی مغفرت کر دے اور مجھے بھلائی کی طرف متوجہ کر دے ، خواہ میرا رخ کسی بھی سمت میں ہو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد آپ روانہ ہو جاتے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن مساور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17092

Majma al-Zawaid #17092

عَنْ هِشَامِ بْنِ قَتَادَةَ الرَّهَاوِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَتَادَةَ قَالَ: «لَمَّا عَقَدَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمِي، أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَوَدَّعْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" جَعَلَ اللَّهُ التَّقْوَى زَادَكَ، وَغَفَرَ ذَنْبَكَ، وَوَجَّهَكَ لِلْخَيْرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهْتَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hishām ibn Qatādah al-Rahāwī, from his father Qatādah, may Allāh be pleased with him, said that when the Messenger of Allāh ﷺ appointed him over his people, he took his hand and bade farewell, and the Messenger of Allāh ﷺ said: may Allāh make taqwā your provision, forgive your sin, and direct you to good wherever you turn. > **"May Allāh make taqwā your provision, forgive your sin, and direct you to good wherever you turn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہشام بن قتادہ رہاوی اپنے والد قتادہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے مجھے میری قوم کا نگران مقرر کیا ، تو میں نے آپ کا دست مبارک پکڑ لیا اور آپ سے رخصت ہونے لگا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : «جَعَلَ اللَّهُ التَّقْوَى زَادَكَ، وَغَفَرَ ذَنْبَكَ، وَوَجَّهَكَ لِلْخَيْرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهْتَ» اللہ تعالیٰ تمہیں تقویٰ کا زاد سفر عطا کرے اور تمہارے گناہوں کی مغفرت کر دے اور تمہیں بھلائی کی طرف متوجہ کرے خواہ تمہارا رخ کسی بھی سمت میں ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17093

Majma al-Zawaid #17093

عَنْ أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: «حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ بُلْجٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَرَى أَنْ تَحْمِلَنَا هَذِهِ! فَقَالَ: "" مَا مِنْ بَعِيرٍ إِلَّا فِي ذُرْوَتِهِ شَيْطَانٌ، فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - إِذَا رَكِبْتُمُوهَا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ، ثُمَّ امْتَهِنُوهَا لِأَنْفُسِكُمْ ; فَإِنَّهَا تَحْمِلُ بِإِذْنِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ» - "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ فِي إِحْدَاهِمَا.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Lās al-Khuzāʿī, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ mounted them on charity camels, and they said they doubted the beasts would carry them, so he ﷺ said: there is no camel but upon its hump is a devil, so mention the Name of Allāh, Mighty and Majestic, when you ride as Allāh commanded you, then subdue them for yourselves, for they carry by Allāh's permission. > **"There is no camel but upon its hump is a devil, so mention the Name of Allāh when you ride as Allāh commanded you, then subdue them for yourselves, for they carry by Allāh's permission."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابولاس خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حج پر جانے کے لیے صدقہ کے اونٹوں میں سے ہمیں کچھ اونٹ سواری کے لئے دیئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا نہیں خیال کہ ہم ان پر سواری کر پائیں گے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر ایک اونٹ کی کوہان پر شیطان موجود ہوتا ہے ، تو جب تم اس پر سوار ہونے لگو تو اس پر اللہ کا نام ذکر کر لو ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ، اور پھر اس کو اپنے آپ کے لئے قابو کر لو ، اللہ کے اذن کے تحت وہ سواری کے کام آئے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ، جو ان دونوں میں سے ایک روایت میں ہے ۔

17094

Majma al-Zawaid #17094

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «عَلَى كُلِّ بَعِيرٍ شَيْطَانٌ، فَإِذَا رَكِبْتُمُوهَا فَسَمُّوا اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَلَا تُقَصِّرُوا عَنْ حَاجَاتِكُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Ḥamzah ibn ʿAmr al-Aslamī heard his father say he heard the Messenger of Allāh ﷺ say: upon every camel is a devil, so when you ride them pronounce Allāh's Name, Mighty and Majestic, and do not fall short of your needs. > **"Upon every camel is a devil, so when you ride them pronounce the Name of Allāh, and do not fall short of your needs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن حمزہ بن عمرو اسلمی بیان کرتے ہیں : انہوں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ہر اونٹ کی پشت پر شیطان موجود ہوتا ہے ، جب تم اس پر سوار ہو تو اللہ کا نام لے لو ، اور اپنی حاجت کے بارے میں کوتاہی نہ کرو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن حمزہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17095

Majma al-Zawaid #17095

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «عَلَى ذُرْوَةِ سَنَامِ كُلِّ بَعِيرٍ شَيْطَانٌ، فَامْتَهِنُوهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ غُصْنٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿUmar, may Allāh be pleased with them, the Messenger of Allāh ﷺ said that upon the top of every camel's hump is a devil, so subdue them. > **"Upon the top of every camel's hump is a devil, so subdue them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر اونٹ کی کوہان کے کونے پر شیطان موجود ہوتا ہے ، تو تم اس ( اونٹ ) کو قابو میں کر لو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن غصن ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17096

Majma al-Zawaid #17096

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا مِنْ رَاكِبٍ يَخْلُو فِي مَسِيرِهِ بِاللَّهِ وَذِكْرِهِ، إِلَّا رَدِفَهُ مَلَكٌ، وَلَا يَخْلُو بِشِعْرٍ وَنَحْوِهِ إِلَّا رَدِفَهُ شَيْطَانٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿUqbah ibn ʿĀmir, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said that no rider is alone on his journey with Allāh and His remembrance but an angel accompanies him, and none is alone with poetry and the like but a devil accompanies him. > **"No rider is alone on his journey with Allāh and His remembrance but an angel accompanies him, and none is alone with poetry and the like but a devil accompanies him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص سفر کے دوران اللہ کو یاد کرتا ہے ، اور اس کا ذکر کرتا ہے ، تو اس کے ساتھ فرشتہ مل جاتا ہے ، اور جو شعر وغیرہ سناتا ہے ، اس کے ساتھ شیطان مل جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17097

Majma al-Zawaid #17097

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِذَا رَكِبَ الرَّجُلُ الدَّابَّةَ فَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ رَدِفَهُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ لَهُ: تَغَنَّ، فَإِنْ لَمْ يُحْسِنْ قَالَ لَهُ: تَمَنَّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, said that when a man mounts his beast and does not mention Allāh's Name, Satan rides behind him and tells him to sing, and if he does not, tells him to wish.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب آدمی سواری پر سوار ہو ، اور اللہ کا نام نہ لے ، تو شیطان اس کے پیچھے بیٹھ جاتا ہے ، اور یہ کہتا ہے : تم کچھ گنگناؤ ! اگر وہ شخص یہ نہ کرے ، تو شیطان اس سے کہتا ہے : تم کوئی آرزو کرو ! یہ روایت امام طبرانی نے ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17098

Majma al-Zawaid #17098

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْدَفَهُ عَلَى دَابَّتِهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا، وَحَمَدَ اللَّهَ ثَلَاثًا، وَسَبَّحَ اللَّهَ ثَلَاثًا، وَهَلَّلَ اللَّهَ وَاحِدَةً، ثُمَّ اسْتَلْقَى عَلَيْهِ فَضَحِكَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: "" مَا مِنِ امْرِئٍ يَرْكَبُ دَابَّتَهُ فَيَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ إِلَّا أَقْبَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فَضَحِكَ إِلَيْهِ كَمَا ضَحِكْتُ إِلَيْكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, the Messenger of Allāh ﷺ seated him behind him on his mount, and when it stood level he ﷺ magnified Allāh thrice, praised Him thrice, glorified Him thrice, declared His unity once, then reclined and laughed, then turned to him and said: no man rides his mount and does as I did but Allāh, Mighty and Majestic, turns to him and laughs to him as I laughed to you. > **"No man rides his mount and does as I did but Allāh turns to him and laughs to him as I laughed to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا ، جب وہ سواری کھڑی ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ تکبیر کہی ، تین مرتبہ الحمدللہ پڑھا ، تین مرتبہ «سبحان اللہ» پڑھا ، ایک مرتبہ «لَا إِلَهَ إِلَّا الله» پڑھا ، پھر آپ سیدھے بیٹھ گئے ، اور ہنس پڑے ، پھر آپ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص سواری پر سوار ہو اور پھر اس طرح کرے ، جس طرح میں نے کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہو کر یوں مسکرا دیتا ہے جیسے میں تمہاری طرف دیکھ کر مسکرایا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17099

Majma al-Zawaid #17099

عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ مَنْ كَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كُنْتُ رِدْفَهُ عَلَى حِمَارٍ، فَعَثَرَ الْحِمَارُ فَقُلْتُ: تَعِسَ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَقُلْ: تَعِسَ الشَّيْطَانُ ; فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ: تَعِسَ الشَّيْطَانُ، تَعَاظَمَ فِي نَفْسِهِ وَقَالَ: صَرَعْتُهُ بِقُوَّتِي، وَإِذَا قُلْتَ: بِسْمِ اللَّهِ، تَصَاغَرَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَكُونَ أَصْغَرَ مِنْ ذُبَابٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُهَا كُلُّهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Tamīmah al-Hujaymī, from one who rode behind the Messenger of Allāh ﷺ, reported that he was his companion on a donkey, the donkey stumbled, and he said: wretched be Satan, so the Prophet ﷺ said: do not say wretched be Satan, for when you say it he magnifies himself and says: I felled him by my power, but when you say: in the Name of Allāh, he shrinks until he becomes smaller than a fly. > **"Do not say: wretched be Satan; but say: in the Name of Allāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوتمیمہ ہجیمی ، اُن صاحب کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ، جو سواری پر نبی اکرم ﷺ کے پیچھے موجود تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا ، اُس گدھے کو ٹھوکر لگی ، تو میں نے کہا : شیطان برباد ہو جائے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم یہ نہ کہو : شیطان برباد ہو جائے ، کیونکہ اگر تم یہ کہو : کہ شیطان برباد ہو جائے ، تو شیطان خود کو بڑا سمجھنے لگتا ہے ، اور یہ کہتا ہے ، میں نے اپنی قوت کے ذریعے اسے گرایا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لیکن اگر تم ’’ بسم الله ‘‘ پڑھ لو تو شیطان کا وجود اُس کے اپنے نزدیک چھوٹا ہو جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ مکھی سے بھی چھوٹا ہو جاتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے تمام رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

17100

Majma al-Zawaid #17100

وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كُنْتَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَثَرَ بَعِيرُنَا فَقُلْتُ: تَعِسَ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَقُلْ: تَعِسَ الشَّيْطَانُ ; فَإِنَّهُ يَعْظُمُ حَتَّى يَصِيرَ مِثْلَ الْبَيْتِ، وَيَقُولُ: بِقُوَّتِي، وَلَكِنْ قُلْ: بِسْمِ اللَّهِ ; فَإِنَّهُ يَصِيرُ مِثْلَ الذُّبَابِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ حُمْرَانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Malīḥ ibn Usāmah, from his father, may Allāh be pleased with him, who was riding behind the Messenger of Allāh ﷺ when their camel stumbled and he said: wretched be Satan, so the Messenger of Allāh ﷺ said: do not say wretched be Satan, for he grows until he becomes like a house and says: by my power, but say: in the Name of Allāh, for then he becomes like a fly. > **"Do not say: wretched be Satan, for he grows until he becomes like a house and says: by my power; but say: in the Name of Allāh, for then he becomes like a fly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوملیح بن اسامہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں سواری پر نبی اکرم ﷺ کے پیچھے موجود تھا ، ہمارے اونٹ کو ٹھوکر لگی ، تو میں نے کہا : شیطان برباد ہو جائے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم یہ نہ کہو : شیطان برباد ہو جائے ، کیونکہ اس طرح وہ اتنا پھول جاتا ہے کہ گھر جتنا بڑا ہو جاتا ہے ، اور یہ کہتا ہے : میں نے اپنی قوت کے ساتھ ایسا کیا ہے ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) لیکن اگر تم ’’ بسم اللہ ‘‘ پڑھ لو ! تو وہ مکھی جتنا ہو جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن حمران کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17101

Majma al-Zawaid #17101

عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَمَانُ أُمَّتِي مِنَ الْغَرَقِ إِذَا رَكِبُوا الْبَحْرَ أَنْ يَقُولُوا: {بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ} [هود: 41] {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ} [الأنعام: 91] الْآيَةَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ جُبَارَةَ بْنِ مُغَلِّسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of al-Ḥusayn ibn ʿAlī, may Allāh be pleased with them, the Messenger of Allāh ﷺ said that his nation's safety from drowning when they board the sea is to say: in the Name of Allāh be its course and anchorage; indeed my Lord is Forgiving, Merciful, and: they did not esteem Allāh as He deserves, the verse. > **"The safety of my nation from drowning when they board the sea is to say: In the Name of Allāh be its course and its anchorage; indeed my Lord is Forgiving, Merciful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کے لوگ جب سمندر ( یعنی سمندری سفر کے دوران بحری جہاز یا کشتی ) پر سوار ہوں گے ، تو ڈوبنے سے اُن کی امان یہ ہے کہ وہ یہ پڑھ لیں : «بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» ( هود : 41 ) ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اس ( کشتی ) کا چلنا ہے ، اور ٹھہرنا ہے ، بیشک میرا پروردگار مغفرت کرنے والا ، رحم والا ہے ۔‘‘ «( وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ )» ( الأنعام : 91 ) الْآيَةَ ’’ اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی یوں قدر نہیں کی ، جو اس کی قدر کا حق تھا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد جبارہ بن مغلس کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17102

Majma al-Zawaid #17102

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَمَانُ أُمَّتِي مِنَ الْغَرَقِ إِذَا رَكِبُوا السُّفُنَ أَوِ الْبَحْرَ أَنْ يَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ الْمَلِكِ: {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ} [الزمر: 67]، {بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ} [هود: 41]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ نَهْشَلُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, from the Prophet ﷺ, the safety of his nation from drowning when they board ships or the sea is to say: in the Name of Allāh, the King: and they did not esteem Allāh as He deserves, while the earth entirely shall be His grasp on Resurrection Day and the heavens folded in His Right; glory and exaltation to Him above what they associate, and: in the Name of Allāh be its course and anchorage; indeed my Lord is Forgiving, Merciful. > **"The safety of my nation from drowning when they board ships or the sea is to say: In the Name of Allāh, the King. And: In the Name of Allāh be its course and its anchorage; indeed my Lord is Forgiving, Merciful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ڈوبنے سے میری اُمت کی امان یہ ہے کہ جب وہ کشتیوں ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) سمندر ( کے سفر کے دوران بحری جہاز ، یا کشتی وغیرہ ) پر سوار ہوں ، تو وہ یہ پڑھ لیں : «بِسْمِ اللَّهِ الْمَلِكِ: {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ}» [الزمر: 67] «{بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ}» [هود: 41] ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بادشاہ ہے ، ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی یوں قدر نہیں کی ، جو اس کی قدر کا حق تھا اور قیامت کے دن ساری زمین اس کے دست قدرت میں ہو گی ، اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے گئے ہوں گے ، وہ اس سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے ، جو وہ لوگ شرک کرتے ہیں ، ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اس ( کشتی ) کا چلنا ہے اور ٹھہرنا ہے ، بیشک میرا پروردگار مغفرت کرنے والا ، رحم والا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نہشل بن سعید ہے اور وہ متروک ہے ۔