Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 40 · Chapter 10

Book of Remembrances

Hadith 17103–17142

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17103

Majma al-Zawaid #17103

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا أَضَلَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا، أَوْ أَرَادَ عَوْنًا، وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ فَلْيَقُلْ: يَا عِبَادَ اللَّهِ، أَغِيثُونِي ; فَإِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَا نَرَاهُمْ "". وَقَدْ جَرَّبَ ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ، إِلَّا أَنَّ زَيْدَ بْنَ عَلِيٍّ لَمْ يُدْرِكْ عُتْبَةَ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿUtbah ibn Ghazwān, may Allāh be pleased with him, from the Prophet of Allāh ﷺ, when one of you loses something or seeks help in a land without company, let him say: O servants of Allāh, aid me, for Allāh has servants we do not see; and it has been tried. > **"When one of you loses something or seeks help in a land without company, let him say: O servants of Allāh, aid me; for Allāh has servants we do not see."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب تم میں سے کسی ایک کی کوئی چیز گم ہو جائے ، یا وہ مدد حاصل کرنا چاہتا ہو ، اور وہ ایسی جگہ پر موجود ہو ، جہاں اس کا کوئی ساتھی نہ ہو ، تو اسے یہ کہنا چاہیے : اے اللہ کے بندو ! تم لوگ میری مدد کرو ، اے اللہ کے بندو ! تم لوگ میری مدد کرو ! ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہوتے ہیں ، جنہیں ہم دیکھ نہیں پاتے ہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات آزمائی گئی ہے ( یعنی ایسا کرنے کا فائدہ ہوتا ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ اس کے بعض رجال میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور یہ بات بھی ہے کہ زید بن علی نامی راوی نے حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

17104

Majma al-Zawaid #17104

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ سِوَى الْحَفَظَةِ، يَكْتُبُونَ مَا يَسْقُطُ مِنْ وَرَقِ الشَّجَرِ، فَإِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ عَرْجَةٌ بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَلْيُنَادِ: أَعِينُوا عِبَادَ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, the Messenger of Allāh ﷺ said that Allāh has angels on earth besides the guardians who record what falls of tree leaves, so when one of you is lamed in a barren land let him call: aid, O servants of Allāh. > **"Allāh has angels on earth besides the guardians who record what falls of tree leaves, so when one of you is stricken in a barren land let him call: aid, O servants of Allāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ زمین میں اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے بھی ہوتے ہیں ، جو محافظ فرشتوں کے علاوہ ہوتے ہیں ، درخت سے جو پتے گرتے ہیں ، وہ ان کو نوٹ کرتے ہیں ، جب کسی بے آب و گیاہ جگہ پر تم میں سے کسی ایک شخص کو کوئی پریشانی لاحق ہو ، تو اسے بلند آواز میں پکارنا چاہیے : اے اللہ کے بندو ! تم لوگ میری مدد کرو !‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17105

Majma al-Zawaid #17105

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا انْفَلَتَتْ دَابَّةُ أَحَدِكُمْ بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَلْيُنَادِ: يَا عِبَادَ اللَّهِ احْبِسُوا، يَا عِبَادَ اللَّهِ احْبِسُوا ; فَإِنَّ لِلَّهِ حَاضِرًا فِي الْأَرْضِ سَيَحْبِسُهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَزَادَ: "" «سَيَحْبِسُهُ عَلَيْكُمْ» "". وَفِيهِ مَعْرُوفُ بْنُ حَسَّانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said that when one's beast escapes in a barren land let him call: O servants of Allāh, restrain it, O servants of Allāh, restrain it, for Allāh has one present on earth who shall restrain it for you. > **"When one's beast escapes in a barren land, let him call: O servants of Allāh, restrain it, O servants of Allāh, restrain it; for Allāh has one present on earth who shall restrain it for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کسی بے آب و گیاہ جگہ پر ، تم میں سے کسی ایک کا جانور چھوڑ کر چلا جائے ، تو اس شخص کو بلند آواز میں پکارنا چاہیے : اے اللہ کے بندو ! روک لو ! اے اللہ کے بندو ! روک لو ! کیونکہ زمین میں اللہ کی ایسی مخلوق موجود ہوتی ہے ، جو اس کو روک سکتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :” تو عنقریب وہ اس کو تمہارے لئے روک لے گا ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی معروف بن حسان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17106

Majma al-Zawaid #17106

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الضَّالَّةِ أَنَّهُ يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ رَادَّ الضَّالَّةِ، وَهَادِيَ الضَّالَّةِ، تَهْدِي مِنَ الضَّلَالَةِ، ارْدُدْ عَلَيَّ ضَالَّتِي بِقُدْرَتِكَ وَسُلْطَانِكَ ; فَإِنَّهَا مِنْ عَطَائِكَ وَفَضْلِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿUmar, may Allāh be pleased with them, from the Prophet ﷺ concerning the lost item, that he says: O Allāh, Restorer of the lost, Guide of the astray, Who guides from error, return my lost thing to me by Thy power and authority, for it is of Thy gift and bounty. > **"O Allāh, Restorer of the lost, Guide of the astray, Who guides from error, return my lost thing to me by Thy power and authority, for it is of Thy gift and bounty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے گمشدہ چیز کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آدمی کو یہ کہنا چاہیے ( یا شاید یہ مراد ہو گا کہ گمشدہ چیز کے بارے میں نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : ) «اللَّهُمَّ رَادَّ الضَّالَّةِ، وَهَادِيَ الضَّالَّةِ، تَهْدِي مِنَ الضَّلَالَةِ، ارْدُدْ عَلَيَّ ضَالَّتِي بِقُدْرَتِكَ وَسُلْطَانِكَ ; فَإِنَّهَا مِنْ عَطَائِكَ وَفَضْلِكَ» ’’ اے اللہ ! اے گم شدہ چیز کو واپس کرنے والے ! بھٹکے ہوئے کو راہ دکھانے والے ! گمراہی کے مقابلے میں تو ہدایت دیتا ہے ، تو اپنی قدرت اور اپنے غلبے کے ذریعے میری گمشدہ چیز واپس کر دے ، کیونکہ وہ تیری عطا اور تیرے فضل کا حصہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یعقوب بن ابوعباد مکی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17107

Majma al-Zawaid #17107

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَرَ فِي مَنْزِلِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ حَتَّى يَرْتَحِلَ» "". قَالَ أَبِي: فَلَقِيتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَابِسٍ فِي الْمَنَامِ، فَقُلْتُ: حَدَّثَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿĀbis, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever alights at a lodging and says: I seek refuge in the perfect words of Allāh from the evil of what He created, shall see nothing therein he dislikes until he departs; his father said: I met ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿĀbis in a dream and asked: did the Messenger of Allāh ﷺ narrate this to you, and he said: yes. > **"Whoever alights at a lodging and says: I seek refuge in the perfect words of Allāh from the evil of what He created, shall see nothing therein he dislikes until he departs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عابس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی شخص کسی جگہ پر پڑاؤ کرے تو وہ یہ پڑھے : «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» ’’ میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) تو وہ اُس پڑاؤ کے دوران کوئی ایسی چیز نہیں دیکھے گا جو اسے بری لگے ، جب تک وہ وہاں سے کوچ نہیں کر جاتا ۔ ابی نامی راوی کہتے ہیں : خواب میں میری ملاقات حضرت عبدالرحمن بن عابس رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے دریافت کیا : کیا اللہ کے رسول نے آپ کو یہ حدیث بیان کی ہے ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17108

Majma al-Zawaid #17108

وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ فِي مَنْزِلِهِ ذَلِكَ شَيْءٌ، حَتَّى يَظْعَنَ عَنْهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ مَالِكٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Khawlah bint Ḥakīm, may Allāh be pleased with her, the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever alights at a lodging and says: I seek refuge in the perfect words of Allāh from the evil of what He created, nothing therein shall harm him until he moves from it. > **"Whoever alights at a lodging and says: I seek refuge in the perfect words of Allāh from the evil of what He created, nothing therein shall harm him until he moves from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی جگہ پر پڑاؤ کر کے یہ پڑھ لے : «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» ’’ میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ، اُس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) تو اُس پڑاؤ کے دوران اُسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی ، یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے روانہ ہو جائے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن مالک ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17109

Majma al-Zawaid #17109

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: خَرَجْتُ مِنْ حِمْصَ فَأَدَّانِي اللَّيْلُ إِلَى الْبَقِيعَةِ، فَحَضَرَنِي مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَقَرَأْتُ هَذِهِ الْآيَةَ مِنْ سُورَةِ الْأَعْرَافِ: {إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ} [الأعراف: 54] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَخْرِسُوهُ الْآنَ حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ رَكِبْتُ دَابَّتِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿAbd Allāh ibn Busr, may Allāh be pleased with him, who left Ḥimṣ and night overtook him at al-Buqayʿah, and the dwellers of the earth came upon him, so he recited this verse of Sūrat al-Aʿrāf: indeed your Lord is Allāh Who created the heavens and the earth, to the end of the verse, whereupon some said to others: silence him now until morning, and when morning came he mounted his beast.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبد الله بن بسر رضی اللہ عنہ اس بیان کرتے ہیں : میں ’’ حمص ‘‘ سے نکلا ، رات ایک ایسی جگہ پر آئی جو بے آب و گیاہ جگہ تھی ، وہاں زمین کی ( ان دیکھی ) مخلوق میرے پاس آ گئی ، تو میں نے سورہ اعراف کی یہ آیت تلاوت کی : «( إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ )» ( الأعراف : 54 ) ’’ بیشک تمہارا پروردگار ، وہ اللہ ہے ، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ......‘‘۔ یہ میں نے آیت کے آخر تک ، یعنی مکمل آیت تلاوت کی ۔ ( راوی کہتے ہیں : ) تو اس مخلوق میں سے ایک نے دوسروں سے کہا : اب تم صبح تک اس کی دیکھ بھال کرنا ، راوی کہتے ہیں : جب صبح ہوئی تو میں اپنی سواری پر سوار ہوا ( یعنی اور وہاں سے روانہ ہو گیا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17110

Majma al-Zawaid #17110

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كُنَّا إِذَا نَزَلْنَا مَنْزِلًا سَبَّحْنَا حَتَّى تُحَلَّ الرِّحَالُ. قَالَ شُعْبَةُ: تَسْبِيحًا بِاللِّسَانِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Qatādah said he heard Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, say: when we alighted at a lodging we would glorify until the saddles were untied; Shuʿbah said: glorifying with the tongue.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں ، میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب ہم کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے تو ہم تسبیح پڑھتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ پالان کھول لئے جاتے تھے ۔‘‘ شعبہ کہتے ہیں : یہاں تسبیح سے مراد زبان کے ذریعے تسبیح پڑھنا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

17111

Majma al-Zawaid #17111

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا عَلَا نَشْزًا مِنَ الْأَرْضِ قَالَ: "" اللَّهُمَّ لَكَ الشَّرَفُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ، وَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى كُلِّ حَالٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, when the Messenger of Allāh ﷺ ascended an elevated part of earth he would say: O Allāh, to Thee belongs loftiness over every loftiness, and praise in every state. > **"O Allāh, to Thee belongs loftiness over every loftiness, and praise in every state."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب زمین کے کسی بلند حصے پر چڑھتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : ’’ اے اللہ ! ہر بلند جگہ پر ، شرف تیرے لیے مخصوص ہے اور ہر حال میں حمد تیرے لیے مخصوص ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیاد نمیری ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17112

Majma al-Zawaid #17112

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: «قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَتُحِبُّ يَا جُبَيْرُ إِذَا خَرَجْتَ فِي سَفَرٍ أَنْ تَكُونَ مِنْ أَمْثَلِ أَصْحَابِكَ هَيْئَةً، وَأَكْثَرِهِمْ زَادًا؟ "". فَقُلْتُ: نَعَمْ. بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: فَاقْرَأْ هَذِهِ السُّوَرَ الْخَمْسَ: {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} [الكافرون: 1]، وَ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1]، وَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1]، وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: 1]، وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} [الناس: 1]، وَافْتَتِحْ كُلَّ سُورَةٍ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَاخْتِمْ قِرَاءَتَكَ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ "". قَالَ جُبَيْرٌ: وَكُنْتُ غَنِيًّا كَثِيرَ الْمَالِ، فَكُنْتُ أَخْرُجُ [مَعَ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ] فِي سَفَرٍ، فَأَكُونُ أَبَذَّهُمْ هَيْئَةً، وَأَقَلَّهُمْ زَادًا، فَمَا زِلْتُ مُنْذُ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَرَأْتُ بِهِنَّ أَكُونُ مِنْ أَحْسَنِهِمْ هَيْئَةً، وَأَكْثَرِهِمْ زَادًا، حَتَّى أَرْجِعَ مِنْ سَفَرِي [ذَلِكَ]». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Jubayr ibn Muṭʿim, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said: O Jubayr, would you love, when you go on travel, to be the finest of your companions in appearance and the most abundant in provision; he said: yes, at the cost of my father and mother; he said: then recite these five sūrahs: Say, O disbelievers, When Allāh's help and victory come, Say, He is Allāh, One, Say, I seek refuge in the Lord of daybreak, and Say, I seek refuge in the Lord of mankind, opening each sūrah with: in the Name of Allāh, Most Gracious, Most Merciful, and sealing your recitation with it; Jubayr said: I was wealthy with much money, yet when I went with whomsoever Allāh willed on travel I was the shabbiest in appearance and scantest in provision, but since the Messenger of Allāh ﷺ taught them to me and I recited them, I became the finest in appearance and most abundant in provision until I returned from that travel. > **"Would you love, when you go on travel, to be the finest of your companions in appearance and the most abundant in provision? Then recite these five sūrahs, opening each with: In the Name of Allāh, Most Gracious, Most Merciful, and sealing your recitation with it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ’’ اے جبیر ! کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو ؟ کہ جب تم سفر پر نکلو ، تو تم ہیئت کے اعتبار سے اپنے ساتھیوں میں سب سے زیادہ مثالی ہو ، اور زاد سفر کے اعتبار سے سب سے زیادہ کثرت والے ہو ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر تم یہ پانچ سورتیں پڑھ لیا کرو : سورہ کافرون ، سورۂ نصر ، سورہ اخلاص ، سورہ فلق اور سورہ ناس ، اور ان میں سے ہر ایک سے پہلے ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘‘ پڑھ لیا کرو ، اور اپنی قرأت کا اختتام ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘‘ کے ذریعے کرنا ۔‘‘ حضرت جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں خوشحال تھا ، کثیر مال والا تھا ، پہلے جب میں ان لوگوں کے ساتھ نکلتا تھا ، جن کے بارے میں اللہ کو منظور ہوتا تھا کہ میں ان کے ساتھ سفر پر جاؤں ، تو میری ہیئت ان میں سب سے زیادہ بری ہوتی تھی ، اور زاد سفر سب سے زیادہ کم ہوتا تھا ، جب نبی اکرم ﷺ نے مجھے ان سورتوں کی تعلیم دی ، تو میں نے انہیں پڑھنا شروع کیا ، تو میری یہ حالت ہو گئی کہ میں ظاہری ہیئت کے اعتبار سے ان میں سب سے زیادہ عمدہ ہوتا تھا ، اور زاد سفر کے اعتبار سے سب سے زیادہ کثرت والا ہوتا تھا ، یہاں تک کہ میں اس سفر سے واپس آ جاتا ( یعنی پورے سفر کے دوران یہ صورتحال رہتی تھی ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17113

Majma al-Zawaid #17113

عَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا تَغَوَّلَتْ لَنَا الْغُولُ، أَوْ إِذَا رَأَيْنَا الْغُولَ نُنَادِي بِالْأَذَانِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ الْحَسَنَ الْبَصْرِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَعْدٍ فِيمَا أَحْسَبُ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Saʿd, meaning Ibn Abī Waqqāṣ, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ commanded us, when the ghoul appears to us or when we see the ghoul, to call the adhān. > **"When the ghoul appears to you, or when you see the ghoul, call the adhān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب ’’ غول ‘‘ ہمارے سامنے آ جائے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) جب ہم غول کو دیکھیں ، تو ہم بلند آواز میں اذان دیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ، البتہ میرے حساب سے حسن بصری نے ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

17114

Majma al-Zawaid #17114

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «إِذَا تَغَوَّلَتِ لَكُمْ الْغُولُ فَنَادُوا بِالْأَذَانِ ; فَإِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ أَدْبَرَ، وَلَهُ حُصَاصٌ» ". قُلْتُ: وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said that when the ghoul appears to you, call the adhān, for when Satan hears the call he turns away swiftly. > **"When the ghoul appears to you, call the adhān; for when Satan hears the call he turns away swiftly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب غول تمہارے سامنے آ جائے تو تم اذان دو ! کیونکہ جب شیطان اذان سنتا ہے تو پیٹھ پھیر کر تیزی سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل ہے اور وہ متروک ہے ۔

17115

Majma al-Zawaid #17115

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَأَى قَرْيَةً يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَهَا قَالَ: "" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهَا - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا حَيَاهَا، وَحَبِّبْنَا إِلَى أَهْلِهَا، وَحَبِّبْ صَالِحِي أَهْلِهَا إِلَيْنَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿUmar, may Allāh be pleased with them, they would travel with the Messenger of Allāh ﷺ, and when he saw a town he wished to enter he would say thrice: O Allāh, bless us therein, then: O Allāh, grant us its produce, endear us to its people, and endear its righteous people to us. > **"O Allāh, bless us therein. O Allāh, grant us its produce, endear us to its people, and endear its righteous people to us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے ہوتے تھے ، جب آپ کوئی بستی ملاحظہ فرماتے جس میں داخل ہونے کا آپ ارادہ کرتے ، تو آپ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهَا» ’’ اے اللہ ! ہمارے لیے اس ( یعنی بستی ) میں برکت رکھ دے ۔‘‘ یہ آپ تین مرتبہ پڑھتے تھے ۔ «اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا حَيَاهَا، وَحَبِّبْنَا إِلَى أَهْلِهَا، وَحَبِّبْ صَالِحِي أَهْلِهَا إِلَيْنَا» ’’ اے اللہ ! ہمیں اس کی نعمتیں نصیب فرما اور یہاں کے رہنے والوں کے نزدیک ہمیں محبوب بنا دے اور اس بستی کے رہنے والوں میں سے نیک لوگوں کو ہمارے نزدیک محبوب بنا دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

17116

Majma al-Zawaid #17116

وَعَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَرَادَ دُخُولَ قَرْيَةٍ، لَمْ يَدْخُلْهَا حَتَّى يَقُولَ: "" اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقَلَّتْ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا أَذْرَتْ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ، إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Lubābah ibn ʿAbd al-Mundhir, may Allāh be pleased with him, when the Messenger of Allāh ﷺ wished to enter a town he would not enter until he said: O Allāh, Lord of the seven heavens and what they shaded, Lord of the seven earths and what they bore, Lord of the winds and what they scattered, Lord of the devils and whom they misled, I ask Thee its good and the good of what is in it, and seek refuge in Thee from its evil and the evil of what is in it. > **"O Allāh, Lord of the seven heavens and what they shaded, Lord of the seven earths and what they bore, Lord of the winds and what they scattered, Lord of the devils and whom they misled, I ask Thee its good and the good of what is in it, and seek refuge in Thee from its evil and the evil of what is in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابولبابہ بن عبدالمندر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب کسی بستی میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے تھے ، تو آپ اس میں اس وقت تک داخل نہیں ہوتے تھے جب تک آپ یہ نہیں پڑھ لیتے تھے : «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقَلَّتْ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا أَذْرَتْ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ، إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا» ’’ اے اللہ ! اے سات آسمانوں کے پروردگار ! اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے سات زمینوں کے پروردگار ! اور جنہیں انہوں نے اٹھایا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے ہواؤں کے پروردگار ! اور جن پر وہ چلتی ہیں ، اُن کے پروردگار ! اے شیاطین کے پروردگار ! اور جنہیں وہ گمراہ کرتے ہیں اُن کے پروردگار ! میں تجھ سے اس ( یعنی بستی ) کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور جو کچھ اس میں موجود ہے ، اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور میں اس ( یعنی بستی ) کے اور جو کچھ اس میں موجود ہے ، اُس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17117

Majma al-Zawaid #17117

وَعَنْ أَبِي مُغِيثِ بْنِ عَمْرٍو: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَشْرَفَ عَلَى خَيْبَرَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" قِفُوا "". ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا. اقْدَمُوا بِسْمِ اللَّهِ "". وَكَانَ يَقُولُهَا لِكُلِّ قَرْيَةٍ يُرِيدُ يَدْخُلُهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Mughīth ibn ʿAmr, may Allāh be pleased with him, when the Messenger of Allāh ﷺ overlooked Khaybar he told his Companions to halt, then said: O Allāh, Lord of the heavens and what they shaded, Lord of the earths and what they bore, Lord of the devils and whom they misled, Lord of the winds and what they scattered, I ask Thee the good of this town and the good of its people, and seek refuge in Thee from its evil, the evil of its people, and the evil of what is in it; advance in the Name of Allāh; and he would say it for every town he wished to enter. > **"O Allāh, Lord of the heavens and what they shaded, Lord of the earths and what they bore, Lord of the devils and whom they misled, Lord of the winds and what they scattered, I ask Thee the good of this town and the good of its people, and seek refuge in Thee from its evil, the evil of its people, and the evil of what is in it. Advance in the Name of Allāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومغیث بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب خیبر نبی اکرم ﷺ کے سامنے آیا تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ ٹھہر جاؤ ! پھر آپ نے یہ دعا کی : «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا» ’’ اے اللہ ! اے آسمانوں اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے ، اُن کے پروردگار ! اے زمینوں اور جن کو انہوں نے اٹھایا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے شیاطین اور جنہیں وہ گمراہ کرتے ہیں ، اُن کے پروردگار ! اے ہواؤں اور جن پر وہ چلتی ہیں ، اُن کے پروردگار ! میں تجھ سے اس بستی کی بھلائی ، اور یہاں کے رہنے والوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور میں اس ( یعنی بستی ) کے شر ، اور یہاں کے رہنے والوں کے شر اور اس میں موجود شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ ( پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : ) اب تم اللہ کا نام لے کر چل پڑو !۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کسی بستی میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے تھے تو اس کے لئے یہی کلمات پڑھا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17118

Majma al-Zawaid #17118

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ كَعْبًا حَلِفَ لَهُ بِالَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَى، أَنَّ صُهَيْبًا حَدَّثَهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَرَ قَرْيَةً يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَهَا إِلَّا قَالَ حِينَ يَرَاهَا: "" اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ [وَرَبُّ الْأَرَضِينِ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبُّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ]، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، إِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ وَأَبِيهِ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAṭāʾ ibn Abī Marwān, from his father, reported that Kaʿb swore to him by Him Who parted the sea for Mūsā that Ṣuhayb, may Allāh be pleased with him, narrated to him that the Messenger of Allāh ﷺ never saw a town he wished to enter but said when he saw it: O Allāh, Lord of the seven heavens and what they shaded, and Lord of the seven earths and what they bore, and Lord of the devils and whom they misled, and Lord of the winds and what they scattered, we ask Thee the good of this town, and seek refuge in Thee from its evil, the evil of its people, and the evil of what is in it. > **"O Allāh, Lord of the seven heavens and what they shaded, and Lord of the seven earths and what they bore, and Lord of the devils and whom they misled, and Lord of the winds and what they scattered, we ask Thee the good of this town, and seek refuge in Thee from its evil, the evil of its people, and the evil of what is in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن ابومروان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : کعب احبار نے اُن کے سامنے اُس ذات کی قسم اٹھائی ، جس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے دریا کو چیر دیا تھا کہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث بیان کی ہے : نبی اکرم ﷺ جب کوئی ایسی بستی ملاحظہ فرماتے تھے ، جس میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے تھے ، تو آپ اس کو دیکھ کر یہ دعا پڑھ لیتے تھے : «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ [وَرَبُّ الْأَرَضِينِ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبُّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ]، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، إِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا» ’’ اے اللہ ! اے سات آسمانوں ! اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہے ، ان کے پروردگار ! اے سات زمینوں ! اور جن کو انہوں نے اٹھایا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے شیاطین ! اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہے ، ان کے پروردگار ! اے ہواؤں اور جن پر وہ چلتی ہیں ، ان کے پروردگار ! بے شک ہم اس بستی کی بھلائی اور اس کے رہنے والوں کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتے ہیں ، اور اس ( یعنی بستی ) کے شر اور اس کے رہنے والوں کے شر ، اور اس میں موجود چیزوں کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عطاء بن ابومروان اور اس کے والد کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے یہ دونوں ثقہ ہیں ۔

17119

Majma al-Zawaid #17119

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ قَرْيَةً قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا أَذْرَتْ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ قَتَادَةَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Qatādah reported that Ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, when he wished to enter a town would say: O Allāh, Lord of the heavens and what they shaded, Lord of the devils and whom they misled, and Lord of the winds and what they scattered, I ask Thee its good and the good of what is in it, and seek refuge in Thee from its evil and the evil of what is in it. > **"O Allāh, Lord of the heavens and what they shaded, Lord of the devils and whom they misled, and Lord of the winds and what they scattered, I ask Thee its good and the good of what is in it, and seek refuge in Thee from its evil and the evil of what is in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب کسی بستی میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا أَذْرَتْ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا» ’’ اے اللہ ! اے آسمانوں اور جن پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے ، ان کے پروردگار ! اے شیاطین اور جنہیں وہ گمراہ کرتے ہیں ، ان کے پروردگار ! اے ہواؤں اور جن پر وہ چلتی ہیں ، ان کے پروردگار ! میں تجھ سے اس ( یعنی بستی ) کی بھلائی اور اس میں موجود چیزوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اور میں اس ( یعنی بستی ) کے شر اور اس میں موجود چیزوں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ قتادہ نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

17120

Majma al-Zawaid #17120

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: مَا كَانَ يَخَافُ الْقَوْمُ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً - أَوْ أَشْرَفُوا عَلَى قَرْيَةٍ - أَنْ يَقُولُوا: اللَّهُمَّ اجْعَلْ لَنَا فِيهَا رِزْقًا، قَالَ: كَانُوا يَخَافُونَ جَوْرَ الْوُلَاةِ، وَقُحُوطَ الْمَطَرِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ قَيْسِ بْنِ سَالِمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah ibn Sahl asked Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, what the people feared when they entered or overlooked a town that they would say: O Allāh, grant us sustenance therein, and he replied that they feared the injustice of rulers and the withholding of rain. > **"O Allāh, grant us sustenance therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : لوگ کس بات سے خوف زدہ ہیں ؟ کہ جب وہ کسی بستی میں داخل ہوں ، یا جب کوئی بستی ان کے سامنے آئے تو وہ یہ پڑھ لیں : ’’ اے اللہ ! تو ہمیں اس میں رزق عطا فرمانا ۔‘‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : لوگوں کو حکمرانوں کے ظلم اور بارشوں کے قحط کا اندیشہ ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف قیس بن سالم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

17121

Majma al-Zawaid #17121

عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا هَاجَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا أُمِرَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُمِرَتْ بِهِ» ".

EnglishUnverified translation

On the authority of Anas, may Allāh be pleased with him, when a strong wind raged the Messenger of Allāh ﷺ would say: O Allāh, I ask Thee the good of what it was commanded, and seek refuge in Thee from the evil of what it was commanded. > **"O Allāh, I ask Thee the good of what it was commanded, and seek refuge in Thee from the evil of what it was commanded."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب تیز ہوا چلتی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا أُمِرَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُمِرَتْ بِهِ» ’’ اے اللہ ! اس ہوا کو ، جس چیز کے بارے میں حکم دیا گیا ہے ، میں اُس کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اور اسے جس چیز کا حکم دیا گیا ہے ، اُس کے شر سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘

17122

Majma al-Zawaid #17122

وَفِي رِوَايَةٍ: كَانَ إِذَا رَأَى الرِّيحَ فَزِعَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a variant, when he ﷺ saw the wind he was alarmed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ جب نبی اکرم ﷺ ہوا ( شاید یہاں آندھی یا تیز ہوا مراد ہے ) کو دیکھتے تھے تو پریشان ہو جاتے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17123

Majma al-Zawaid #17123

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اشْتَدَّتِ الرِّيحُ الشِّمَالُ قَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَ فِيهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو شَيْبَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿUthmān ibn Abī al-ʿĀṣ, may Allāh be pleased with him, when the north wind blew fiercely the Messenger of Allāh ﷺ would say: O Allāh, I seek refuge in Thee from the evil of what was sent therein. > **"O Allāh, I seek refuge in Thee from the evil of what was sent therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ’’ شمال ‘‘ نامی ہوا تیز چلتی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَ فِيهَا» ’’ اے اللہ ! میں اُس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو اس میں بھیجی گئی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ابوشیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17124

Majma al-Zawaid #17124

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اشْتَدَّتِ الرِّيحُ قَالَ: "" اللَّهُمَّ لَقْحًا لَا عَقِيمًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Salamah ibn al-Akwaʿ, may Allāh be pleased with him, when the wind blew fiercely the Messenger of Allāh ﷺ would say: O Allāh, make it fertile, not barren. > **"O Allāh, make it fertile, not barren."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب تیز ہوا چلتی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ یہ دعا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ لَقْحًا لَا عَقِيمًا» ’’ اے اللہ ! یہ آباد کرنے والی ہو ، برباد کرنے والی نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف مغیرہ بن عبدالرحمن کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17125

Majma al-Zawaid #17125

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اشْتَدَّتِ الرِّيحُ الشِّمَالُ قَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو شَيْبَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿUthmān ibn Abī al-ʿĀṣ, may Allāh be pleased with him, when the north wind blew fiercely the Messenger of Allāh ﷺ would say: O Allāh, I seek refuge in Thee from the evil of what it was sent with. > **"O Allāh, I seek refuge in Thee from the evil of what it was sent with."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ’’ شمال ‘‘ نامی ہوا تیز چلتی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ» ’’ اے اللہ ! جس کے ہمراہ اسے بھیجا گیا ہے ، میں اُس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ابوشیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17126

Majma al-Zawaid #17126

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا هَاجَتْ رِيحٌ اسْتَقْبَلَهَا بِوَجْهِهِ، وَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمَدَّ يَدَيْهِ، وَقَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ، وَخَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رَحْمَةً، وَلَا تَجْعَلْهَا عَذَابًا، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رِيَاحًا، وَلَا تَجْعَلْهَا رِيحًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ الرَّحَبِيُّ أَبُو عَلِيٍّ الْوَاسِطِيُّ الْمُلَقَّبُ بِحَنَشٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, when a wind raged the Messenger of Allāh ﷺ would face it, kneel upon his knees, extend his hands, and say: O Allāh, I ask Thee the good of this wind and the good of what it was sent with, and seek refuge in Thee from its evil and the evil of what it was sent with; O Allāh, make it mercy and not punishment; O Allāh, make it winds of mercy and not a wind of torment. > **"O Allāh, I ask Thee the good of this wind and the good of what it was sent with, and seek refuge in Thee from its evil and the evil of what it was sent with. O Allāh, make it mercy and not punishment. O Allāh, make it winds of mercy and not a wind of torment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب تیز ہوا چلتی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ اپنا رخ اس کی طرف کر لیتے تھے ، آپ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو جاتے اور دونوں ہاتھ پھیلا کر یہ دعا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ، وَخَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رَحْمَةً، وَلَا تَجْعَلْهَا عَذَابًا، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رِيَاحًا، وَلَا تَجْعَلْهَا رِيحًا» ’’ اے اللہ ! میں اس ہوا کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور اُس چیز کی بھلائی کا جو اس کے ہمراہ بھیجی گئی ہے ، اور میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور اُس چیز کے شر سے بھی جو اس کے ہمراہ بھیجی گئی ہے ، اے اللہ ! تو اسے رحمت بنا دے ، تو اسے عذاب نہ بنانا ، اے اللہ ! تو اسے ’’ ریاح ‘‘ ( یعنی آرام کا باعث ) بنا دے تو اسے ’’ ریح ‘‘ ( یعنی تباہی کا ذریعہ ) نہ بنانا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس رحبی ، ابوعلی واسطی ہے ، جس کا لقب ’’ حنش ‘‘ ہے ، اور وہ متروک ہے ، حصین بن نمیر نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17127

Majma al-Zawaid #17127

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا سَمِعْتُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ فَاذْكُرُوا اللَّهَ ; فَإِنَّهُ لَا يُصِيبُ ذَاكِرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو النَّضْرِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, the Messenger of Allāh ﷺ said that when you hear the sound of thunder, remember Allāh, for it does not strike one who remembers. > **"When you hear the sound of thunder, remember Allāh, for it does not strike one who remembers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم بادل گرجنے کی آواز سنو ، تو اللہ کا ذکر کرو ، کیونکہ وہ کسی ذکر کرنے والے کو نقصان نہیں پہنچاتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ابونضر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17128

Majma al-Zawaid #17128

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ يَعْنِي الْخُدْرِيَّ قَالَ: «قُلْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ مِنْ شَيْءٍ نَقُولُ قَدْ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ. اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنَ رَوْعَاتِنَا "". قَالَ: فَضَرَبَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - وُجُوهَ أَعْدَائِنَا بِالرِّيحِ، هَزَمَهُمُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِالرِّيحِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ مُتَّصِلٌ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ أَحْمَدَ، إِلَّا أَنَّ فِي نُسْخَتِي مِنَ الْمُسْنَدِ عَنْ رُبَيْحِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَهُوَ فِي الْبَزَّارِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Saʿīd, meaning al-Khudrī, may Allāh be pleased with him, on the Day of the Trench they said: O Messenger of Allāh, is there anything we may say when hearts have reached throats, and he ﷺ said: yes; O Allāh, cover our faults and calm our fears; whereupon Allāh, Mighty and Majestic, struck the faces of their enemies with wind, and Allāh routed them with wind. > **"O Allāh, cover our faults and calm our fears."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے دن ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا کوئی ایسی چیز ہے ، جسے ہم پڑھ لیں ؟ کیونکہ دل حلق تک آ چکے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! «اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنَ رَوْعَاتِنَا» ’’ اے اللہ ! ہمارے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی فرما ، اور ہماری پریشانی کو امان نصیب فرما ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے دشمن پر ہوا بھیج دی ، اور اُس ہوا کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو پسپا کر دیا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، بزار کی سند متصل ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، امام احمد کے رجال بھی اسی طرح ہیں ، تاہم میرے پاس موجود ’’ مسند ‘‘ کے نسخے میں یہ بات تحریر ہے ، یہ روایت ربیح بن ابوسعید کے حوالے سے ، ان کے والد سے منقول ہے ، جبکہ مسند بزار میں ، یہ بات منقول ہے : انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے یہ روایت نقل کی ہے ۔

17129

Majma al-Zawaid #17129

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا أَصَابَ أَحَدًا هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ قَطُّ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - هَمَّهُ، وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَحًا "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَتَعَلَّمَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ؟ قَالَ: "" أَجَلْ يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهُنَّ أَنْ يَتَعَلَّمَهُنَّ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «وَذَهَابَ غَمِّي» "". مَكَانَ "" هَمِّي "". وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي سَلَمَةَ الْجُهَنِيِّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿAbd Allāh, meaning Ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said that no one is ever struck by worry or grief and says: O Allāh, I am Thy servant, son of Thy servant, son of Thy maid; my forelock is in Thy Hand; Thy decree over me proceeds; Thy judgment over me is just; I ask Thee by every Name of Thine, by which Thou named Thyself, or sent down in Thy Book, or taught to any of Thy creation, or kept with Thee in the knowledge of the unseen, to make the Qurʾān the spring of my heart, the light of my breast, the clearing of my sorrow, and the departure of my worry, but Allāh, Mighty and Majestic, shall remove his worry and replace his grief with joy; they said: O Messenger of Allāh, should we learn these words, and he ﷺ said: yes, whoever hears them should learn them. > **"O Allāh, I am Thy servant, son of Thy servant, son of Thy maid. My forelock is in Thy Hand; Thy decree over me proceeds; Thy judgment over me is just. I ask Thee by every Name of Thine, by which Thou named Thyself, or sent down in Thy Book, or taught to any of Thy creation, or kept with Thee in the knowledge of the unseen, to make the Qurʾān the spring of my heart, the light of my breast, the clearing of my sorrow, and the departure of my worry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بھی کسی شخص کو کوئی پریشانی یا غم لاحق ہو ، اور وہ یہ پڑھ لے : «اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي» ’’ اے اللہ ! میں تیرا بندہ ہوں ، اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں ، اور تیری کنیز کا بیٹا ہوں ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہو گا ، میرے بارے میں تیری تقدیر کا فیصلہ عدل کے مطابق ہے ، میں تجھ سے ہر اس اسم کے حوالے ( یعنی وسیلے ) سے سوال کرتا ہوں ، جو تیرا ہے ، اور جو تو نے خود اپنے لئے تجویز کیا ہے ، یا جس کو تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے ، یا جس کا علم تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی دیا ہے ، یا جس کے حوالے سے تو نے ترجیح کا معاملہ کرتے ہوئے اپنی ذات کے ساتھ اس کو مخصوص رکھا ، اور وہ غیب کے علم سے تعلق رکھتا ہے ( اس کے وسیلے سے میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں : کہ ) تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میرے غم کی جلاء اور میری پریشانی کی رخصتی کا باعث بنا دے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ یہ فرماتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کی پریشانی کو ختم کر دے گا ، اور اس کے غم کی جگہ خوشی نصیب کر دے گا ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے لیے یہ مناسب ہے کہ ہم ان کلمات کو سیکھ لیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! جو بھی ان کلمات کے بارے میں سنتا ہے ، اُس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ ان کو سیکھ لے ۔ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ’’ پریشانی ‘‘ کی جگہ لفظ ’’ غم ‘‘ نقل کیا ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، امام احمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ابوسلمہ جہنی کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

17130

Majma al-Zawaid #17130

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ أَصَابَهُ هَمٌّ أَوْ حَزَنٌ فَلْيَدْعُ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي "". قَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمَغْبُونَ لَمَنْ غَبَنَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، قَالَ: "" أَجَلْ "". قَالَ: "" فَقُولُوهُنَّ، وَعَلِّمُوهُنَّ ; فَإِنَّهُ مَنْ قَالَهُنَّ وَعَلَّمَهُنَّ الْتِمَاسَ مَا فِيهِنَّ أَذْهَبَ اللَّهُ كَرْبَهُ، وَأَطَالَ فَرَحَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Mūsā al-Ashʿarī, may Allāh be pleased with him, from the Prophet ﷺ, whoever is struck by worry or grief should supplicate with these words: O Allāh, I am Thy servant, son of Thy servant, and son of Thy maid; my forelock is in Thy Hand; Thy decree over me proceeds; Thy judgment over me is just; I ask Thee by every Name of Thine, by which Thou named Thyself, or sent down in Thy Book, or taught to any of Thy creation, or kept with Thee in the knowledge of the unseen, to make the Qurʾān the spring of my heart, the light of my breast, the clearing of my sorrow, and the departure of my worry; one said: O Messenger of Allāh, indeed deprived is he who is deprived of these words, and he ﷺ said: yes; say them and teach them, for whoever says them and teaches them seeking what is in them, Allāh shall remove his distress and prolong his joy. > **"O Allāh, I am Thy servant, son of Thy servant, and son of Thy maid. My forelock is in Thy Hand; Thy decree over me proceeds; Thy judgment over me is just. I ask Thee by every Name of Thine, by which Thou named Thyself, or sent down in Thy Book, or taught to any of Thy creation, or kept with Thee in the knowledge of the unseen, to make the Qurʾān the spring of my heart, the light of my breast, the clearing of my sorrow, and the departure of my worry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس شخص کو پریشانی یا غم لاحق ہو ، اسے ان کلمات کے ہمراہ دعا کرنی چاہیے : «اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي» ’’ اے اللہ ! بے شک میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں ، اور تیری کنیز کا بیٹا ہوں ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہو گا ، میرے بارے میں تیری تقدیر کا فیصلہ عدل کے مطابق ہے ، میں تجھ سے ہر اس اسم کے وسیلے سے دعا مانگتا ہوں ، جو تیرا ہے ، جو تو نے خود اپنا نام رکھا ، یا جس کو تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا ، یا جس کے بارے میں تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی علم عطا کیا یا جس کو تو نے غیب میں اپنے پاس رکھا ( میں اُس کے وسیلے سے تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں : ) کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میرے غم کی جلاء اور میری پریشانی کی رخصتی بنا دے ۔‘‘ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ شخص نقصان والا ہو گا ، جسے ان کلمات کے حوالے سے نقصان ہو جائے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم انہیں پڑھو اور ان کی تعلیم دو ! کیونکہ جو شخص انہیں پڑھے گا اور ان میں موجود برکات کے حصول کے لیے ان کی تعلیم دے گا ، اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی ختم کر دے گا اور اس کی خوشی کو طویل کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17131

Majma al-Zawaid #17131

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «كَلِمَاتُ الْمَكْرُوبِ: اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Bakrah, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said that the words of the distressed are: O Allāh, I hope for Thy mercy, so entrust me not to myself for a blink of an eye, and set right all my affair. > **"O Allāh, I hope for Thy mercy, so entrust me not to myself for a blink of an eye, and set right all my affair."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ پریشان حال شخص کے ( لئے پڑھنے کے مناسب ) کلمات یہ ہیں : «اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ» ’’ اے اللہ ! تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں ، تو پلک جھپکنے کے عرصے کے لیے بھی ، مجھے میری ذات کے سپرد نہ کرنا ، تو میرے سارے معاملات کو ٹھیک کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17132

Majma al-Zawaid #17132

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ وَنَحْنُ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ: "" يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِذَا نَزَلَ بِكُمْ كَرْبٌ، أَوْ جُهْدٌ، أَوْ لَأْوَاءٌ، فَقُولُوا: اللَّهُ اللَّهُ رَبُّنَا لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو يَحْيَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, the Messenger of Allāh ﷺ grasped the two doorposts while they were in the house and said: O sons of ʿAbd al-Muṭṭalib, when distress, hardship, or affliction befalls you, say: Allāh, Allāh, our Lord, we associate nothing with Him. > **"Allāh, Allāh, our Lord, we associate nothing with Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑا ، ہم لوگ اُس وقت گھر میں موجود تھے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اولاد عبدالمطلب ! جب تمہیں کوئی پریشانی یا مشکل یا تکلیف لاحق ہو ، تو تم یہ پڑھو : «اللَّهُ اللَّهُ رَبُّنَا لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» ’’ اللہ ، اللہ ہمارا پروردگار ہے ، اور ہم کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتے ہیں ۔“ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن عبداللہ ابویحیی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17133

Majma al-Zawaid #17133

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِنَفَرٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ: "" هَلْ مَعَكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟ "". قَالُوا: لَا، إِلَّا ابْنَ أُخْتِنَا، أَوْ مَوْلَانَا، قَالَ: "" إِذَا أَصَابَ أَحَدُكُمْ هَمٌّ، أَوْ لَأْوَاءٌ، فَلْيَقُلِ: اللَّهُ اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿĀʾishah, may Allāh be pleased with her, the Messenger of Allāh ﷺ said to a group of Banū Hāshim: is there anyone not of you with you; they said: no, except our nephew or our servant; and he ﷺ said: when one of you is struck by worry or hardship, let him say: Allāh, Allāh, my Lord, I associate nothing with Him. > **"Allāh, Allāh, my Lord, I associate nothing with Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد سے یہ فرمایا : کیا تمہارے ساتھ تمہارے علاوہ کوئی اور بھی ہے ؟ ان لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! البتہ ہمارا ایک بھانجا ہے ، یا ہمارا ایک غلام ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کسی ایک شخص کو پریشانی یا تکلیف لاحق ہو ، تو اسے یہ پڑھنا چاہیے : «اللَّهُ اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» ’’ اللہ ، اللہ ، میرا پروردگار ہے ، میں کسی کو اُس کا شریک قرار نہیں دیتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

17134

Majma al-Zawaid #17134

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ بَعْدَ كُلِّ شَيْءٍ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْقَى وَيَفْنَى كُلُّ شَيْءٍ، عُوفِيَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ بَكَّارٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever says: there is no god but Allāh before all things, there is no god but Allāh after all things, there is no god but Allāh Who remains while all things perish, shall be granted health from worry and grief. > **"There is no god but Allāh before all things; there is no god but Allāh after all things; there is no god but Allāh Who remains while all things perish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ پڑھ لے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ بَعْدَ كُلِّ شَيْءٍ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْقَى وَيَفْنَى كُلُّ شَيْءٍ» ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جو ہر چیز سے پہلے تھا ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جو ہر چیز کے بعد ہو گا ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جو ہمیشہ باقی رہے گا اور ہر چیز فنا ہو جائے گی ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو وہ شخص پریشانی اور غم سے عافیت میں آ جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباس بن بکار ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

17135

Majma al-Zawaid #17135

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا تَخَوَّفَ أَحَدُكُمُ السُّلْطَانَ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ "" - يَعْنِي الَّذِي يُرِيدُ - "" وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، وَأَتْبَاعِهِمْ أَنْ يُفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, from the Prophet ﷺ, when one of you fears the ruler let him say: O Allāh, Lord of the seven heavens and Lord of the Mighty Throne, be my Protector from the evil of so-and-so, son of so-and-so, meaning whom he intends, and from the evil of jinn and men and their followers, lest any of them transgress against me; mighty is Thy protection, exalted is Thy praise, and there is no god but Thee. > **"O Allāh, Lord of the seven heavens and Lord of the Mighty Throne, be my Protector from the evil of so-and-so, son of so-and-so, and from the evil of jinn and men and their followers, lest any of them transgress against me. Mighty is Thy protection, exalted is Thy praise, and there is no god but Thee."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب تم میں سے کسی ایک کو حکمران کے حوالے سے خوف ہو ، تو اسے یہ پڑھنا چاہیے : «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ "" - يَعْنِي الَّذِي يُرِيدُ - "" وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، وَأَتْبَاعِهِمْ أَنْ يُفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ’’ اے اللہ ! اے سات آسمانوں کے پروردگار ! عظیم عرش کے پروردگار ! تو فلاں بن فلاں کے شر سے مجھے بچانے والا ہو جا ! ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی وہاں وہ شخص اُس کا نام لے گا ( جس سے بچنا ) چاہتا ہے ۔ اور جنات اور انسانوں اور ان کے پیروکاروں کے شر سے ( مجھے بچانے والا ہو جا ) کہ اُن میں سے کوئی ایک میرے خلاف زیادتی کرے ، تیری پناہ غلبے والی ہے ، تیری ثناء بلند و برتر ہے اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جنادہ بن سلم ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17136

Majma al-Zawaid #17136

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِذَا أَتَيْتَ سُلْطَانًا مَهِيبًا تَخَافُ أَنْ يَسْطُوَ بِكَ فَقُلِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ (الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ) الْمُمْسِكِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ، وَجُنُودِهِ، وَأَتْبَاعِهِ، وَأَشْيَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، إِلَهِي كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَعَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ (ثَلَاثُ مَرَّاتٍ) "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, said that when you come to an awesome ruler fearing he may assault you, say thrice: Allāh is Greatest, Allāh is Greater than all His creation, Allāh is Mightier than what I fear and dread, and I seek refuge in Allāh, besides Whom there is no god, Who holds the seven heavens from falling upon earth except by His leave, from the evil of Thy servant so-and-so, his armies, followers, and partisans of jinn and men; my God, be my Protector from their evil; exalted is Thy praise, mighty is Thy protection, blessed is Thy Name, and there is no god but Thee. > **"Allāh is Greatest; Allāh is Greater than all His creation; Allāh is Mightier than what I fear and dread. I seek refuge in Allāh, besides Whom there is no god, Who holds the seven heavens from falling upon earth except by His leave, from the evil of Thy servant so-and-so, his armies, followers, and partisans of jinn and men. My God, be my Protector from their evil. Exalted is Thy praise, mighty is Thy protection, blessed is Thy Name, and there is no god but Thee."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب تم کسی ایسے حکمران کے پاس جاؤ جس کے بارے میں تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کرے گا ، تو تم یہ پڑھو : «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ (الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ) الْمُمْسِكِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ، وَجُنُودِهِ، وَأَتْبَاعِهِ، وَأَشْيَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، إِلَهِي كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَعَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ’’ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق سے زیادہ بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ غلبے والا ہے ، جس سے مجھے خوف ہے ، اور اندیشہ ہے ، میں اُس اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جس نے سات آسمانوں کو زمین پر گرنے سے روک رکھا ہے ، البتہ اس کے اذن کا معاملہ مختلف ہے ( میں پناہ مانگتا ہوں ) تیرے فلاں بندے اور اس کے لشکروں اور اس کے پیروکاروں اور جنات اور انسانوں سے تعلق رکھنے والے ، اُس کے ساتھیوں کے شر سے ، اے اللہ ! تو مجھے ان کے شر سے محفوظ رکھنے والا ہو جا ! تیری ثناء جلیل القدر ہے ، تیری پناہ زبردست ہے ، تیرا اسم برکت والا ہے اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔‘‘ یہ کلمات آدمی کو تین مرتبہ پڑھنے چاہیے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17137

Majma al-Zawaid #17137

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا وَقَعَتْ كَبِيرَةٌ، أَوْ هَاجَتْ رِيحٌ مُظْلِمَةٌ، فَعَلَيْكُمْ بِالتَّكْبِيرِ ; فَإِنَّهُ يُجْلِي الْعَجَاجَ الْأَسْوَدَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Jābir, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said that when a grave calamity befalls or a dark wind rages, hold to takbīr, for it dispels the black dust. > **"When a grave calamity befalls or a dark wind rages, hold to takbīr, for it dispels the black dust."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی بڑی ( آفت یا بڑا حادثہ ) رونما ہو ، یا تاریک ( یعنی گرد آلود ) تیز ہوا چل پڑے ، تو تم پر تکبیر کہنا لازم ہے ، کیونکہ وہ سیاہ دھویں ( یا غبار ) کو ختم کر دے گی ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن عبدالرحمان ہے اور وہ متروک ہے ۔

17138

Majma al-Zawaid #17138

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ أَحَدًا فِي بَلَاءٍ فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا ; فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ كَانَ شَاكِرًا لِتِلْكَ النِّعْمَةِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said that when one of you sees another in affliction let him say: all praise belongs to Allāh Who granted me health from what He afflicted you with, and favoured me greatly over many of His creation; for when he says that he shall be grateful for that blessing. > **"All praise belongs to Allāh Who granted me health from what He afflicted you with, and favoured me greatly over many of His creation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی ایک شخص کسی کو کسی آزمائش ( تکلیف یا بیماری وغیرہ ) میں مبتلا دیکھے تو یہ پڑھے : «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا» ’’ ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے مجھے اُس چیز سے عافیت عطا کی ہے ، جس میں تمہیں مبتلا کیا ہے ، اور اس نے مجھے اپنی مخلوق میں سے بہت سے لوگوں پر بھرپور فضیلت عطا کی ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : جب آدمی یہ کلمات پڑھ لے گا تو وہ اُس نعمت کا شکر کرنے والا شمار ہو گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17139

Majma al-Zawaid #17139

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ رَأَى مُبْتَلًى فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا، لَمْ يُصِبْهُ ذَلِكَ الْبَلَاءُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ الضَّرِيرُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿUmar, may Allāh be pleased with them, the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever sees an afflicted one and says: all praise belongs to Allāh Who granted me health from what He afflicted you with, and favoured me greatly over many of His creation, that affliction shall not strike him. > **"All praise belongs to Allāh Who granted me health from what He afflicted you with, and favoured me greatly over many of His creation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی ( آزمائش یا تکلیف یا بیماری میں ) مبتلا شخص کو دیکھ کر یہ دعا پڑھ لے : «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا» ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے مجھے اس چیز سے عافیت عطا کی ہے جس میں تمہیں مبتلا کیا ہے اور اس نے مجھے اپنی بہت سی مخلوق پر بھرپور فضیلت عطا کی ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو وہ آزمائش اُس شخص کو لاحق نہیں ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی بن ایوب ضریر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17140

Majma al-Zawaid #17140

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «نُهِينَا أَنْ نُتْبِعَ أَبْصَارَنَا الْكَوَاكِبَ إِذَا انْقَضَّتْ، وَأُمِرْنَا أَنْ نَقُولَ عِنْدَ ذَلِكَ: "" مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, we were forbidden to follow the stars with our eyes when they fall, and commanded to say then: what Allāh wills; there is no power but in Allāh. > **"What Allāh wills; there is no power but in Allāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمیں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ جب ستارے ٹوٹتے ہیں ، تو ہم ان کی طرف دیکھیں ، اور ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم اُس وقت یہ پڑھیں : «مَا شَاءَ اللهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ."" ’’ جو اللہ نے چاہا ( ویسا ہی ہو گا ) اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر قوت حاصل نہیں ہو سکتی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن ابوالمساور ہے اور وہ متروک ہے ۔

17141

Majma al-Zawaid #17141

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَطْفِئُوا الْحَرِيقَ بِالتَّكْبِيرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي التَّفْسِيرِ فِي سُورَةِ الْكَهْفِ، أَسْمَاءُ أَهْلِ الْكَهْفِ، إِذَا كُتِبَتْ فِي شَيْءٍ، وَأُلْقِيَ فِي الْحَرِيقِ طُفِئَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said: extinguish the blaze with takbīr. > **"Extinguish the blaze with takbīr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ ( اگر کہیں آگ لگ جائے ) تو تکبیر کے ذریعے آگ کو بجھاؤ !۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب التفسیر میں سورہ کہف سے متعلق باب میں اصحاب کہف کے نام ذکر ہوئے ہیں اور وہاں یہ بات ذکر ہوئی ہے کہ جو شخص کسی چیز پر ان لوگوں کے نام لکھ کر جلتی ہوئی آگ میں ڈال دے ، تو اللہ تعالیٰ کے اذن کے تحت وہ آگ بجھ جائے گی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

17142

Majma al-Zawaid #17142

عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا طَنَّتْ أُذُنُ أَحَدِكُمْ فَلْيَذْكُرْنِي، وَلْيُصَلِّ عَلَيَّ، وَلْيَقُلْ: ذَكَرَ اللَّهُ بِخَيْرٍ مَنْ ذَكَرَنِي بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Rāfiʿ, servant of the Messenger of Allāh ﷺ, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said that when one's ear rings let him remember me and send blessings upon me and say: may Allāh mention with good whoever mentioned me with it. > **"When one's ear rings, let him remember me and send blessings upon me and say: may Allāh mention with good whoever mentioned me with it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کے غلام ، حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کسی ایک کے کان بجنے لگیں ، تو وہ مجھے یاد کرے اور مجھ پر درود بھیجے اور اُسے یہ کہنا چاہیے : کہ اللہ تعالیٰ بھلائی کے ہمراہ اُس کا ذکر کرے ، جس نے اس کے ہمراہ میرا ذکر کیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، معجم کبیر میں امام طبرانی کی سند حسن ہے ۔