عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا أَصَابَ أَحَدًا هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ قَطُّ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - هَمَّهُ، وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَحًا "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَتَعَلَّمَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ؟ قَالَ: "" أَجَلْ يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهُنَّ أَنْ يَتَعَلَّمَهُنَّ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «وَذَهَابَ غَمِّي» "". مَكَانَ "" هَمِّي "". وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي سَلَمَةَ الْجُهَنِيِّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
EnglishUnverified translation
On the authority of ʿAbd Allāh, meaning Ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, the Messenger of Allāh ﷺ said that no one is ever struck by worry or grief and says: O Allāh, I am Thy servant, son of Thy servant, son of Thy maid; my forelock is in Thy Hand; Thy decree over me proceeds; Thy judgment over me is just; I ask Thee by every Name of Thine, by which Thou named Thyself, or sent down in Thy Book, or taught to any of Thy creation, or kept with Thee in the knowledge of the unseen, to make the Qurʾān the spring of my heart, the light of my breast, the clearing of my sorrow, and the departure of my worry, but Allāh, Mighty and Majestic, shall remove his worry and replace his grief with joy; they said: O Messenger of Allāh, should we learn these words, and he ﷺ said: yes, whoever hears them should learn them. > **"O Allāh, I am Thy servant, son of Thy servant, son of Thy maid. My forelock is in Thy Hand; Thy decree over me proceeds; Thy judgment over me is just. I ask Thee by every Name of Thine, by which Thou named Thyself, or sent down in Thy Book, or taught to any of Thy creation, or kept with Thee in the knowledge of the unseen, to make the Qurʾān the spring of my heart, the light of my breast, the clearing of my sorrow, and the departure of my worry."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بھی کسی شخص کو کوئی پریشانی یا غم لاحق ہو ، اور وہ یہ پڑھ لے : «اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي» ’’ اے اللہ ! میں تیرا بندہ ہوں ، اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں ، اور تیری کنیز کا بیٹا ہوں ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہو گا ، میرے بارے میں تیری تقدیر کا فیصلہ عدل کے مطابق ہے ، میں تجھ سے ہر اس اسم کے حوالے ( یعنی وسیلے ) سے سوال کرتا ہوں ، جو تیرا ہے ، اور جو تو نے خود اپنے لئے تجویز کیا ہے ، یا جس کو تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے ، یا جس کا علم تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی دیا ہے ، یا جس کے حوالے سے تو نے ترجیح کا معاملہ کرتے ہوئے اپنی ذات کے ساتھ اس کو مخصوص رکھا ، اور وہ غیب کے علم سے تعلق رکھتا ہے ( اس کے وسیلے سے میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں : کہ ) تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میرے غم کی جلاء اور میری پریشانی کی رخصتی کا باعث بنا دے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ یہ فرماتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کی پریشانی کو ختم کر دے گا ، اور اس کے غم کی جگہ خوشی نصیب کر دے گا ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے لیے یہ مناسب ہے کہ ہم ان کلمات کو سیکھ لیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! جو بھی ان کلمات کے بارے میں سنتا ہے ، اُس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ ان کو سیکھ لے ۔ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ’’ پریشانی ‘‘ کی جگہ لفظ ’’ غم ‘‘ نقل کیا ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، امام احمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ابوسلمہ جہنی کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔