وَعَنْ صَفِيَّةَ وَدُحَيْبَةَ ابْنَتَيْ عُلَيْبَةَ: «أَنَّ قَيْلَةَ بِنْتَ مَخْرَمَةَ كَانَتْ إِذَا أَخَذَتْ حَظَّهَا مِنَ الْمَضْجَعِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ قَالَتْ: بِسْمِ اللَّهِ، وَأَتَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ، وَضَعْتُ جَنْبِي لِرَبِّي، أَسْتَغْفِرُهُ لِذَنْبِي، حَتَّى تَقُولَهَا مِرَارًا. ثُمَّ تَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَشَرِّ مَا يَنْزِلُ فِي الْأَرْضِ وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَشَرِّ فِتَنِ النَّهَارِ، وَطَوَارِقِ اللَّيْلِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ، آمَنْتُ بِاللَّهِ، اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اسْتَسْلَمَ لِقُدْرَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَلَّ لِعِزَّتِهِ كُلُّ شَيْءٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تَوَاضَعَ لِعَظَمَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَشَعَ لِمُلْكِهِ كُلُّ شَيْءٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ، وَمُنْتَهَى الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ، وَجَدِّكَ الْأَعْلَى، وَاسْمِكَ الْأَكْبَرِ، وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْنَا نَظْرَةً مَرْحُومَةً، لَا تَدَعُ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا فَقْرًا إِلَّا جَبَرْتَهُ، وَلَا عَدُوًّا إِلَّا أَهْلَكْتَهُ، وَلَا عُرْيَانًا إِلَّا كَسَوْتَهُ، وَلَا دَيْنًا إِلَّا قَضَيْتَهُ، وَلَا أَمْرًا لَنَا فِيهِ صَلَاحٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَيْتَنَاهُ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، آمَنْتُ بِاللَّهِ وَاعْتَصَمْتُ بِهِ. ثُمَّ يَقُولُ: ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ سُبْحَانَ اللَّهِ،، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ. ثُمَّ تَقُولُ: يَا بِنْتِي، هَذِهِ رَأَسُ الْخَاتِمَةِ، إِنَّ بَنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَتْهُ تَسْتَخْدِمُهُ فَقَالَ: ""أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ خَادِمٍ؟ "". قَالَتْ: بَلَى. فَأَمَرَهَا بِهَذِهِ الْمِائَةِ عِنْدِ الْمَضْجَعِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
EnglishUnverified translation
On the authority of Ṣafiyyah and Duḥaybah, daughters of ʿUlaybah, that Qaylah bint Makhramah, may Allāh be pleased with her, when she took her share of bed after nightfall would say: in the Name of Allāh, I trust in Allāh, I lay my side for my Lord seeking His forgiveness for my sin, repeating it, then seeking refuge in Allāh and His perfect words which none righteous or wicked can exceed, from the evil of what descends and ascends, what enters the earth and issues from it, the trials of day and visitations of night except one bringing good, affirming faith and holding fast to Allāh, praising Him to Whose power, might, greatness and dominion all submit, then asking by the bonds of might of His Throne, the utmost of mercy in His Book, His exalted grandeur, His Greatest Name and His perfect words, for a merciful gaze forgiving every sin, mending poverty, destroying enemies, clothing the naked, settling debts, and granting all good of this world and the next, O Most Merciful, then glorifying Allāh thirty-three times, magnifying Him thirty-three, and praising Him thirty-four; then she would say: O my daughter, this is the seal's head, for the daughter of the Messenger of Allāh ﷺ came seeking a servant and he ﷺ said: shall I not guide you to better than a servant, and commanded her to this hundred at bed after nightfall. > **"Shall I not guide you to what is better for you than a servant? Say this hundred at your bed after nightfall."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
علیہ کی دو صاحبزادیاں ، صفیہ اور دحیبہ بیان کرتی ہیں : سیدہ قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا شام ہو جانے کے بعد جب بستر پر آتی تھیں ، تو یہ پڑھتی تھیں : «بِسْمِ اللَّهِ، وَأَتَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ، وَضَعْتُ جَنْبِي لِرَبِّي، أَسْتَغْفِرُهُ لِذَنْبِي» ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں ، اللہ تعالیٰ پر توکل کرتی ہوں اور میں نے اپنا پہلو اپنے پروردگار کے لئے رکھ دیا ہے ، میں اپنے گناہ کی اس سے مغفرت طلب کرتی ہوں ۔‘‘ یہ کلمات وہ چند مرتبہ پڑھتی تھیں ، پھر یہ پڑھتی تھیں : «أَعُوذُ بِاللَّهِ وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَشَرِّ مَا يَنْزِلُ فِي الْأَرْضِ وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَشَرِّ فِتَنِ النَّهَارِ، وَطَوَارِقِ اللَّيْلِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ، آمَنْتُ بِاللَّهِ، اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اسْتَسْلَمَ لِقُدْرَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَلَّ لِعِزَّتِهِ كُلُّ شَيْءٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تَوَاضَعَ لِعَظَمَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَشَعَ لِمُلْكِهِ كُلُّ شَيْءٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ، وَمُنْتَهَى الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ، وَجَدِّكَ الْأَعْلَى، وَاسْمِكَ الْأَكْبَرِ، وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْنَا نَظْرَةً مَرْحُومَةً، لَا تَدَعُ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا فَقْرًا إِلَّا جَبَرْتَهُ، وَلَا عَدُوًّا إِلَّا أَهْلَكْتَهُ، وَلَا عُرْيَانًا إِلَّا كَسَوْتَهُ، وَلَا دَيْنًا إِلَّا قَضَيْتَهُ، وَلَا أَمْرًا لَنَا فِيهِ صَلَاحٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَيْتَنَاهُ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، آمَنْتُ بِاللَّهِ وَاعْتَصَمْتُ بِهِ» ’’ میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی اور اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتی ہوں ، وہ کلمات کہ کوئی نیک یا گناہ گار اُن کے دائرے سے باہر نہیں ہے ، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے یا اس کی طرف اوپر جاتی ہے ، اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں نازل ہوتی ہے ، اور اس کے شر سے جو زمین سے نکلتی ہے ، اور دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کے وقت آنے والی چیزوں کے شر سے ، البتہ ان چیزوں کا معاملہ مختلف ہے جو بھلائی لے کر آتی ہیں ، میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتی ہوں ، اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتی ہوں ، جس کی قدرت کے آگے ہر چیز سرنگوں ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جس کے غلبے کے آگے ہر چیز جھکی ہوئی ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس کی عظمت کے آگے ہر چیز تواضع اختیار کیے ہوئے ہے ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جس کی بادشاہی کے سامنے ہر چیز خشوع اختیار کیے ہوئے ہے ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتی ہوں ، تیرے عرش کے غلبے کی گرہوں کے وسیلے سے اور تیری کتاب میں سے رحمت کی آخری حد کے وسیلے سے ، اور تیرے بلند مرتبے کے وسیلے سے اور تیرے سب سے بڑے اسم کے وسیلے سے ، اور تیرے اُن مکمل کلمات کے وسیلے سے ، کہ کوئی نیک یا گناہگار اُن کے دائرے سے باہر نہیں ہے ( میں یہ سوال کرتی ہوں ) کہ تو مجھے ایسی مہلت دے ، جس میں رحم موجود ہو ، اور تو میرے ہر ایک گناہ کی مغفرت کر دے ، اور ہر غربت کو ختم کر دے ، اور ہر دشمن کو ہلاکت کا شکار کر دے ، اور لباس کی ضرورت کے وقت لباس عطا کر دے اور قرض کو ادا کروا دے اور جو بھی معاملہ ہماری دنیا اور آخرت کی بہتری کے لیے ہو ، وہ ہمیں عطا کر دے ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ! میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتی ہوں اور اس کی پناہ لیتی ہوں ۔‘‘ پھر وہ خاتون 33 مرتبہ سبحان الله 33 مرتبہ اللہ اکبر اور 34 مرتبہ الحمد للہ پڑھتی تھیں ۔ پھر وہ خاتون یہ فرماتی تھیں : اے میری بیٹی ! یہ خاتمے کا سر ہے ( یعنی دن کے اختتام کا بنیادی طریقہ ہے ) ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تاکہ آپ سے کوئی خدمت گار حاصل کریں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو خدمتگار ملنے سے زیادہ بہتر ہے ؟ ان صاحبزادی نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم ﷺ نے ان صاحبزادی کو رات کے وقت سوتے ہوئے ان 100 کلمات کو پڑھنے کا حکم دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔