«وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَّمَهُ دُعَاءً، وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَعَاهَدَ بِهِ أَهْلَهُ كُلَّ يَوْمٍ، قَالَ: "" مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، وَمِنْكَ وَبِكَ وَإِلَيْكَ. اللَّهُمَّ مَا قَلْتُ مِنْ قَوْلٍ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ، أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ، فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، مَا شِئْتَ كَانَ، وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. اللَّهُمَّ وَمَا صَلَّيْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَعَلَى مَنْ صَلَّيْتَ، وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنَةٍ فَعَلَى مَنْ لَعَنْتَ، إِنَّكَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، تَوَفَّنِي مُسْلِمًا، وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ. أَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ، وَبِرَدِّ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَشَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، أَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَعْتَدِيَ أَوْ يُعْتَدَى عَلَيَّ، أَوْ أَكْتَسِبَ خَطِيئَةً مُحْبِطَةً، أَوْ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ. اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَإِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَأُشْهِدُكَ - وَكَفَى بِكَ شَهِيدًا - إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، لَكَ الْمُلْكُ، وَلَكَ الْحَمْدُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ وَعْدَكَ حَقٌّ، وَلِقَاءَكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةَ حَقٌّ، وَالسَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا، وَأَنْتَ تَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تَكِلْنِي إِلَى ضَيْعَةٍ، وَعَوْرَةٍ، وَذَنْبٍ، وَخَطِيئَةٍ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ ; فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَتُبْ عَلَيَّ ; إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَفِي بَقِيَّةِ الْأَسَانِيدِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Zayd ibn Thabit, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ taught him a supplication and commanded him to enjoin it upon his household every day, a covenant beginning with devoted response to Allah, submission of all speech, oaths, prayers, and curses to His will, allegiance in this world and the next, requests for contentment, post-death comfort, the delight of beholding His Face, longing for His meeting without harmful trial, refuge from wronging or being wronged, testimony of divine oneness and Muhammad servitude and messengership, affirmation of the promise, meeting, Paradise, and the undoubted Hour with resurrection, confession of helplessness without mercy, and a plea for total forgiveness and repentance. > **"Whoever says in the morning: At Your service, O Allah, at Your service; all good is in Your Hands, from You, through You, and to You. Whatever I utter, vow, or swear, Your will precedes it. O Allah, Originator of the heavens and earth, Knower of the unseen and seen, I pledge to You in this worldly life that there is no god but You alone without partner, and that Muhammad is Your servant and Messenger; if You entrust me to myself You entrust me to ruin, so forgive all my sins, for none forgives sins but You, and turn to me, for You are the Oft-Returning, the Mercy-Giving."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک دعا کی تعلیم دی اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ روزانہ اپنے اہل خانہ کو یہ پڑھایا کریں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص صبح کے وقت یہ پڑھے : «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، وَمِنْكَ وَبِكَ وَإِلَيْكَ. اللَّهُمَّ مَا قَلْتُ مِنْ قَوْلٍ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ، أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ، فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، مَا شِئْتَ كَانَ، وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. اللَّهُمَّ وَمَا صَلَّيْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَعَلَى مَنْ صَلَّيْتَ، وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنَةٍ فَعَلَى مَنْ لَعَنْتَ، إِنَّكَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، تَوَفَّنِي مُسْلِمًا، وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ. أَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ، وَبِرَدِّ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَشَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، أَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَعْتَدِيَ أَوْ يُعْتَدَى عَلَيَّ، أَوْ أَكْتَسِبَ خَطِيئَةً مُحْبِطَةً، أَوْ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ. اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَإِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَأُشْهِدُكَ - وَكَفَى بِكَ شَهِيدًا - إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، لَكَ الْمُلْكُ، وَلَكَ الْحَمْدُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ وَعْدَكَ حَقٌّ، وَلِقَاءَكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةَ حَقٌّ، وَالسَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا، وَأَنْتَ تَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تَكِلْنِي إِلَى ضَيْعَةٍ، وَعَوْرَةٍ، وَذَنْبٍ، وَخَطِيئَةٍ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ ; فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَتُبْ عَلَيَّ ; إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ» ’’ میں حاضر ہوں ، اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، اور سعادت تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ، اور بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے ، تیری طرف سے ہے ، تیری مدد سے ہے ، تیری طرف لوٹتی ہے ، اے اللہ ! میں نے جو بھی بات کہی ہو ، یا جو بھی نذر مانی ہو ، یا جو بھی حلف اٹھایا ہو ، تو ( ہر معاملے میں ) تیری ہی مشیت پوری ہو گی ، جو تو چاہے گا وہ ہو گا ، اور جو تو نہیں چاہے گا وہ نہیں ہو گا ، اور تیری مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ، بے شک تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ ! میں نے جو بھی دعائے رحمت کی تو اس کے لیے کی جس پر تو نے رحمت کی اور میں نے جو بھی لعنت کی تو اس پر کی جس پر تو نے لعنت کی ، بے شک تو دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے ، تو مجھے مسلمان ہونے کے عالم میں وفات دینا اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دینا ، میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! کہ میں تقدیر کے فیصلے پر راضی رہوں اور مرنے کے بعد ٹھنڈی زندگی ہو ، اور تیرے دیدار کی لذت ہو اور تیری بارگاہ میں حاضری کا شوق ہو ، اور یہ کسی بھی تکلیف کا سامنا کئے بغیر ، اور کسی گمراہ کرنے والے فتنے کا سامنا کئے بغیر ہو ، اے اللہ ! اس بات سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں ظلم کروں یا میرے ساتھ ظلم کیا جائے ، یا میں زیادتی کروں یا میرے خلاف زیادتی کی جائے ، یا میں کسی گناہ کا ارتکاب کروں جو اعمال کو ضائع کر دے ، یا کوئی ایسا گناہ ہو جو معاف نہ ہو سکتا ہؤ ، اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے ! جلال اور اکرام والے ! میں اس دنیاوی زندگی میں ، تیرے ساتھ عہد کرتا ہوں اور تجھے گواہ بناتا ہوں ، اور گواہ ہونے کے لیے تو ہی کافی ہے ( میں تجھے اس بات کا گواہ بناتا ہوں ) کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی تیرے لیے مخصوص ہے ، حمد تیرے لیے مخصوص ہے اور تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ( ﷺ ) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ حق ہے ، تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے ، جنت حق ہے ، قیامت آنے والی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں ہے ، اور تو ان لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا جو قبروں میں ہیں ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اگر تو مجھے میرے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو مجھے ضائع ہونے ، بے پردگی والے امور اور گناہوں اور خطاؤں کے حوالے کر دے گا ، تو میں صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتا ہوں ، تو میرے سارے گناہوں کی مغفرت کر دے ، ویسے گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے اور تو میری توبہ قبول کر لے ، بے شک تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور بقیہ اسانید میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔