عَنْ عَلِيٍّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ، بَعَثَ بِهَا بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ مَنْ أَدَمٍ، حَشْوُهَا لِيفٌ، وَرَحَيَيْنِ، وَسِقَاءٍ، وَجَرَّتَيْنِ، فَقَالَ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - لِفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - ذَاتَ يَوْمٍ: وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى أَشْكَتَيْتُ صَدْرِي، وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ أَبَاكِ بِسَبْيٍ، فَاذْهَبِي فَاسْتَخْدِمِيهِ. فَقَالَتْ: وَأَنَا وَاللَّهِ، لَقَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ. فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا جَاءَ بِكِ أَيْ بُنَيَّةُ؟ "". قَالَتْ: جِئْتُ لِأُسَلِّمَ عَلَيْكَ، وَاسْتَحْيَتْ أَنْ تَسْأَلَهُ وَرَجَعَتْ. فَقَالَ: مَا فَعَلْتِ؟ قَالَتِ: اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ. فَأَتَيَا جَمِيعًا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى اشْتَكَيْتُ صَدْرِي، وَقَالَتْ فَاطِمَةُ: قَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ، وَقَدْ جَاءَكَ اللَّهُ بِسَبْيٍ وَسَعَةٍ فَأَخْدِمْنَا، فَقَالَ: "" وَاللَّهِ، لَا أُعْطِيكُمْ، وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تُطْوَى بُطُونُهُمْ مِنَ الْجُوعِ، لَا أَجِدُ مَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ، وَلَكِنِّي أَبِيعُهُمْ، وَأُنْفِقُ عَلَيْهِمْ أَثْمَانَهُمْ "". فَرَجَعَا، فَأَتَاهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ دَخَلَا فِي قَطِيفَتِهِمَا، إِذَا غَطَّتْ رُءُوسَهُمَا تَكَشَّفَتْ أَقْدَامُهُمَا، وَإِذَا غَطَّتْ أَقْدَامَهُمَا تَكَشَّفَتْ رُءُوسُهُمَا، فَثَارَا فَقَالَ: "" مَكَانَكُمَا "". ثُمَّ قَالَ: ""أَلَا أُخْبِرُكُمَا بِخَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي؟ "". قَالَا: بَلَى. قَالَ: "" كَلِمَاتٌ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرِيلُ [صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] فَقَالَ: تُسَبِّحَانِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَتَحْمَدَانِ عَشْرًا، وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا، فَإِذَا آوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ "". قَالَ: فَوَاللَّهِ، مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ فَقَالَ: قَاتَلَكُمُ اللَّهُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، [نَعَمْ]، وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَبْلَ اخْتِلَاطِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Ali, may Allah be pleased with him, reported that when the Messenger of Allah ﷺ married Fatima to him, her dowry consisted of a woolen garment, a leather pillow stuffed with fiber, two millstones, a waterskin, and two jars. One day Ali complained to Fatima, may Allah be pleased with her, of his pained chest from drawing water and urged her to ask her father for a servant since captives had come to him, and Fatima told of her blistered hands from grinding. She went to the Messenger of Allah ﷺ, who asked what had brought her, O his daughter, but she said only that she had come to greet him and returned out of shyness. When Ali asked what she had done, she said she was too shy to ask, so they went together to the Prophet ﷺ and laid their complaints before him, asking for a servant from the captives and ease Allah had granted him. The Prophet ﷺ swore he would not grant them while the people of the Bench lay hungry without provision, but would sell the captives and spend their price upon them. They returned, and the Prophet ﷺ later came to them as they lay under a small blanket too short to cover heads and feet together; as they rose he told them to stay in place, offered them something better than they had asked, and when they accepted, taught them phrases Jibril had taught him for after every prayer and at bedtime. > **"Shall I not inform you of something better than what you asked me? Glorify Allah ten times, praise Him ten times, and magnify Him ten times after every prayer; and when you retire to bed, glorify Allah thirty-three times, praise Him thirty-three times, and magnify Him thirty-four times."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے اُن کی شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کروائی تو ان کے جہیز میں ایک چادر ، چمڑے سے بنا ہوا ایک تکیہ ، جس کے اندر پتے بھرے ہوئے تھے ، دو چکیاں ، ایک مشکیزہ اور دو گھڑے دیے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا : اللہ کی قسم ! تمہیں اتنا کام کرنا پڑتا ہے کہ مجھے پریشانی ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو غلام دیے ہیں ، تم جاؤ ! اور ان سے کوئی خدمتگار مانگ لو ! سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم ! میں آٹا پیستی ہوں جس کے نتیجے میں میرے ہاتھوں کی جلد خراب ہو گئی ہے ، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے میری بیٹی ! تم کس سلسلے میں آئی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں آپ کو سلام کرنے کے لئے آئی ہوں ، انہیں نبی اکرم ﷺ سے مانگتے ہوئے شرم آ گئی اور وہ ویسے ہی واپس چلی گئیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا بنا ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے نبی اکرم ﷺ سے مانگتے ہوئے شرم آ گئی ، پھر وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اکٹھے حاضر ہوئے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں پانی بھر کے لاتا ہوں ، جس کے نتیجے میں مجھے سینے میں تکلیف ہوتی ہے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میں آٹا پیستی ہوں ، جس کے نتیجے میں میرے ہاتھوں کی جلد خراب ہو گئی ہے ، اب اللہ تعالیٰ نے آپ کو قیدی اور گنجائش عطا کیے ہیں ، تو آپ ہمیں کوئی خدمت گار دیدیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں تم لوگوں کو دے دوں اور اہل صفہ کو چھوڑ دوں ، جن کے پیٹ بھوک کی وجہ سے لپٹے ہوئے ہوتے ہیں ، مجھے اتنی گنجائش نہیں ملتی کہ میں اُن پر خرچ کروں ، میں ان غلاموں کو فروخت کر دوں گا اور ان کی قیمت اہل صفہ پر خرچ کروں گا ۔ وہ دونوں واپس چلے گئے ، پھر نبی اکرم ﷺ ان دونوں کے ہاں تشریف لائے ، وہ دونوں اس وقت سونے کے لئے لیٹ چکے تھے ، ان کا لحاف ایسا تھا کہ اگر سر کو ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے تھے اور اگر پاؤں کو ڈھانپتے تو سر کھل جاتا تھا ، وہ دونوں اُٹھنے لگے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنی جگہ پر رہو ! پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم دونوں کو اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو تم دونوں کے لیے اس چیز سے زیادہ بہتر ہے جو تم نے مجھ سے مانگی تھی ، ان دونوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کچھ کلمات ہیں ، جو جبرائیل نے مجھے سکھائے ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم دونوں ہر نماز کے بعد ، دس مرتبہ سبحان اللہ ، دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو ! اور جب تم دونوں بستر پر لیٹے ہو تو 33 مرتبہ سبحان الله 33 مرتبہ الحمد للہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھو ۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ کرتے ہیں : جب سے میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے اس کے بعد کبھی ان کلمات کو پڑھنا ترک نہیں کیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ابن الكواء نے اُن سے دریافت کیا : کیا جنگ صفین کی رات بھی نہیں ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اہل عراق ! اللہ تعالیٰ تمہیں تباہ کرے ، جی ہاں ! جنگ صفین کی رات بھی نہیں ( یعنی اُن کو پڑھنا ترک نہیں کیا ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، حماد بن سلمہ نے اس کے اختلاط کا شکار ہونے سے پہلے اس سے سماع کیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔