Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 40 · Chapter 5

Book of Remembrances

Hadith 16903–16942

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

16903

Majma al-Zawaid #16903

«وَعَنْ زَيْدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: أَدْرَكَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: "" أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ "". قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَدْ سَقَطَ مِنَ الْأَصْلِ الْمَسْمُوعِ وَغَيْرِهِ مَنْ بَيْنَ ابْنِ لَهِيعَةَ وَبَيْنَهُ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Ishaq al-Ansari, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ met him at the door of the mosque, offered to guide him to a treasure among the treasures of Paradise, and named it when Zayd eagerly accepted. > **"Shall I not guide you to a treasure among the treasures of Paradise? There is no power nor strength except through Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن اسحاق انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مسجد کے دروازے پر مجھے پایا تو ارشاد فرمایا : کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کی طرف نہ کروں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : «لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ( پڑھنا ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے سماعت والے نسخے اور دیگر نسخوں میں ابن لہیعہ اور ان کے درمیان کے راوی ساقط ہیں ۔

16904

Majma al-Zawaid #16904

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Muawiya ibn Hayda, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ declared the rank of the treasure phrase. > **"There is no power nor strength except through Allah is a treasure among the treasures of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» - جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

16905

Majma al-Zawaid #16905

«وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا، وَقَدْ صَلَّيْتُ صَلَاةَ الصُّبْحِ وَاضْطَجَعْتُ، فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: "" أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ "". قَالَ: "" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Sad ibn Ubada, may Allah be pleased with him, reported that one day, after he had prayed the dawn prayer and lain down, the Messenger of Allah ﷺ nudged him with his foot, offered to guide him to a treasure among the treasures of Paradise, and named it. > **"Shall I not guide you to a treasure among the treasures of Paradise? There is no power nor strength except through Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : راوی کہتے ہیں ، میں اُس وقت صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد لیٹ گیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھے پاؤں مارا اور ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کی طرف نہ کروں ؟ آپ نے فرمایا :’’ «لَا حَوْلَ وَلَا قَوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ( پڑھنا ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف میمون بن ابوشبیب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16906

Majma al-Zawaid #16906

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لِي: "" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ "". قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ قَالَ بِمَالِهِ هَكَذَا وَهَكَذَا "" وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ "" وَقَلِيلٌ مَا هُمْ "". ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ "". قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ "". ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ، وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ؟ "". قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "" فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مُطَوَّلًا هَكَذَا وَمُخْتَصَرًا، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra, may Allah be pleased with him, reported that while walking with the Messenger of Allah ﷺ among the garden walls of Madina, the Prophet ﷺ called him, and when he responded, the Prophet ﷺ warned that the greatest hoarders of wealth will be the least on the Day of Resurrection except one who spends thus and thus, gesturing right and left, and noted how few they are. He then offered Abu Hurayra a treasure of Paradise and asked him of the mutual rights between Allah and His servants, explaining them when Abu Hurayra deferred to Allah and His Messenger. > **"There is no power nor strength except through Allah, and there is no refuge from Allah except in Him. The right of Allah over the servants is that they worship Him without associating anything with Him, and the right of the servants upon Allah is that He not punish one who associates nothing with Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ میں کسی جگہ پر چلتا ہوا جا رہا تھا ، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے ابوہریرہ ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( دنیا میں ) مال و دولت کے حوالے سے کثرت والے لوگ ، قیامت کے دن قلت والے ہوں گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اپنے مال کے بارے میں اس اس طرح کرتا ہے ( یعنی اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ) نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی :” اور ایسے لوگ کم ہیں ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوہریرہ ! کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کی طرف نہ کروں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ولا منجا من الله إِلَّا اليه» ( پڑھنا ) ۔‘‘ ( اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے صرف اسی کی پناہ لی جا سکتی ہے ) ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوہریرہ ! کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق کیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ پر بندوں کا حق کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ تعالیٰ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ وہ ایسے کسی شخص کو عذاب نہ دے ، جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اسی طرح طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اسے مختصر طور پر بھی نقل کیا ہے ، ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف کمیل بن زیاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16907

Majma al-Zawaid #16907

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَدْرِي مَا تَفْسِيرُهَا؟ "". قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "" لَا حَوْلَ عَنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِلَّا بِعِصْمَةِ اللَّهِ، وَلَا قُوَّةَ عَلَى طَاعَةِ اللَّهِ إِلَّا بِعَوْنِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ: أَحَدُهُمَا مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ، وَالْغَالِبُ عَلَيْهِ الضَّعْفُ، وَالْآخَرُ مُتَّصِلٌ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, reported that he was with the Prophet ﷺ when he uttered the treasure phrase, and when the Messenger of Allah ﷺ asked whether he knew its explanation, he deferred to Allah and His Messenger, whereupon the Prophet ﷺ explained it. > **"There is no turning away from disobedience to Allah except through the protection of Allah, and no strength for obedience to Allah except through the help of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، میں نے کہا :’’ «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ الا بالله» نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو اس کی وضاحت کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ ( اس سے مراد یہ ہے : ) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ، صرف اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی عصمت کے ذریعے ہی بچا جا سکتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی قوت ، صرف اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مدد کے ذریعے حاصل ہو سکتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کی سند منقطع ہے ، اس میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جس پر ضعیف ہونا غالب ہے ، اور دوسری سند متصل اور حسن ہے ۔

16908

Majma al-Zawaid #16908

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ أَرَادَ كَنَزَ الْجَنَّةِ فَعَلَيْهِ بِلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يُورَا، وَعَبْدُ اللَّهِ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Fadala ibn Ubayd, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ bound the quest for the treasure of Paradise to a single phrase. > **"Whoever desires the treasure of Paradise must hold fast to: There is no power nor strength except through Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص جنت کا خزانہ چاہتا ہو اس پر لازم ہے کہ وہ «لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہ» پڑھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے عبداللہ بن یزید کے حوالے سے ، ربیعہ بن یورا سے نقل کی ہے اور عبداللہ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16909

Majma al-Zawaid #16909

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ نِعْمَةً فَأَرَادَ بَقَاءَهَا فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ "". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ} [الكهف: 39]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ نَجِيحٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Uqba ibn Amir, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ linked the preservation of a blessing to frequent repetition of the treasure phrase and then recited the verse of the garden from the chapter of the Cave. > **"Whoever is blessed by Allah with a blessing and wishes for it to remain should say frequently: There is no power nor strength except through Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کو اللہ تعالیٰ کوئی نعمت عطا کرے اور وہ اس نعمت کو باقی رکھنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے کثرت کے ساتھ «لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» پڑھنا چاہیے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : «وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ( الكهف : 39 ) ’’ اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تھے ، اس وقت تم نے یہ کیوں نہیں کہا ؟ جو اللہ چاہے اور اللہ کی مدد کے بغیر کوئی قوت نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نجیح ہے اور وہ کذاب ہے ۔

16910

Majma al-Zawaid #16910

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ [كَنْزٍ] مِنْ كَنْزِ [الْجَنَّةِ] تَحْتَ الْعَرْشِ؟ "". قَالَ: قُلْتُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ: "" أَنْ تَقُولَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ "". قَالَ أَبُو بَلْجٍ: وَأَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ: "" فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ» "". قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ؟ قَالَ: لَا إِنَّهَا فِي سُورَةِ الْكَهْفِ: {وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ} [الكهف: 39]. قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ» "". وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ أَبِي بَلْجٍ الْكَبِيرِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet of Allah ﷺ offered to guide him to a phrase from the treasure of Paradise beneath the Throne, and when Abu Hurayra answered with devotion, the Prophet ﷺ named the phrase. The narrator Abu Balj added his recollection that Allah says of its speaker that His servant has submitted and surrendered, and when questioned about the wording, Abu Hurayra pointed to the verse of the chapter of the Cave. > **"Shall I not guide you to a phrase, a treasure from the treasure of Paradise beneath the Throne? Say: There is no power nor strength except through Allah, for Allah says: My servant has submitted and surrendered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے ابوہریرہ ! کیا میں تمہاری رہنمائی ، عرش کے نیچے موجود جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ والے کلمے کی طرف نہ کروں ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : جی ہاں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» پڑھو !‘‘۔ ابوبلچ نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے اطاعت و فرمانبرداری کی ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : «لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» کے الفاظ ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! سورہ کہف میں یہ الفاظ ہیں : «( وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ )» ( الكهف : 39 ) ’’ اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم یہ کہتے : جو اللہ نے چاہا ( ویسا ہوا ) اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام ترمذی نے ایک حدیث نقل کی ہے جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” کیا میں تمہاری رہنمائی ، عرش کے نیچے موجود جنت کے خزانے کے ایک کلمے کی طرف نہ کروں ؟.....۔ ان دونوں روایات کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ابوبلج کبیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16911

Majma al-Zawaid #16911

عَنْ عَلِيٍّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ، بَعَثَ بِهَا بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ مَنْ أَدَمٍ، حَشْوُهَا لِيفٌ، وَرَحَيَيْنِ، وَسِقَاءٍ، وَجَرَّتَيْنِ، فَقَالَ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - لِفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - ذَاتَ يَوْمٍ: وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى أَشْكَتَيْتُ صَدْرِي، وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ أَبَاكِ بِسَبْيٍ، فَاذْهَبِي فَاسْتَخْدِمِيهِ. فَقَالَتْ: وَأَنَا وَاللَّهِ، لَقَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ. فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا جَاءَ بِكِ أَيْ بُنَيَّةُ؟ "". قَالَتْ: جِئْتُ لِأُسَلِّمَ عَلَيْكَ، وَاسْتَحْيَتْ أَنْ تَسْأَلَهُ وَرَجَعَتْ. فَقَالَ: مَا فَعَلْتِ؟ قَالَتِ: اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ. فَأَتَيَا جَمِيعًا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى اشْتَكَيْتُ صَدْرِي، وَقَالَتْ فَاطِمَةُ: قَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ، وَقَدْ جَاءَكَ اللَّهُ بِسَبْيٍ وَسَعَةٍ فَأَخْدِمْنَا، فَقَالَ: "" وَاللَّهِ، لَا أُعْطِيكُمْ، وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تُطْوَى بُطُونُهُمْ مِنَ الْجُوعِ، لَا أَجِدُ مَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ، وَلَكِنِّي أَبِيعُهُمْ، وَأُنْفِقُ عَلَيْهِمْ أَثْمَانَهُمْ "". فَرَجَعَا، فَأَتَاهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ دَخَلَا فِي قَطِيفَتِهِمَا، إِذَا غَطَّتْ رُءُوسَهُمَا تَكَشَّفَتْ أَقْدَامُهُمَا، وَإِذَا غَطَّتْ أَقْدَامَهُمَا تَكَشَّفَتْ رُءُوسُهُمَا، فَثَارَا فَقَالَ: "" مَكَانَكُمَا "". ثُمَّ قَالَ: ""أَلَا أُخْبِرُكُمَا بِخَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي؟ "". قَالَا: بَلَى. قَالَ: "" كَلِمَاتٌ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرِيلُ [صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] فَقَالَ: تُسَبِّحَانِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَتَحْمَدَانِ عَشْرًا، وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا، فَإِذَا آوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ "". قَالَ: فَوَاللَّهِ، مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ فَقَالَ: قَاتَلَكُمُ اللَّهُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، [نَعَمْ]، وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَبْلَ اخْتِلَاطِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ali, may Allah be pleased with him, reported that when the Messenger of Allah ﷺ married Fatima to him, her dowry consisted of a woolen garment, a leather pillow stuffed with fiber, two millstones, a waterskin, and two jars. One day Ali complained to Fatima, may Allah be pleased with her, of his pained chest from drawing water and urged her to ask her father for a servant since captives had come to him, and Fatima told of her blistered hands from grinding. She went to the Messenger of Allah ﷺ, who asked what had brought her, O his daughter, but she said only that she had come to greet him and returned out of shyness. When Ali asked what she had done, she said she was too shy to ask, so they went together to the Prophet ﷺ and laid their complaints before him, asking for a servant from the captives and ease Allah had granted him. The Prophet ﷺ swore he would not grant them while the people of the Bench lay hungry without provision, but would sell the captives and spend their price upon them. They returned, and the Prophet ﷺ later came to them as they lay under a small blanket too short to cover heads and feet together; as they rose he told them to stay in place, offered them something better than they had asked, and when they accepted, taught them phrases Jibril had taught him for after every prayer and at bedtime. > **"Shall I not inform you of something better than what you asked me? Glorify Allah ten times, praise Him ten times, and magnify Him ten times after every prayer; and when you retire to bed, glorify Allah thirty-three times, praise Him thirty-three times, and magnify Him thirty-four times."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے اُن کی شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کروائی تو ان کے جہیز میں ایک چادر ، چمڑے سے بنا ہوا ایک تکیہ ، جس کے اندر پتے بھرے ہوئے تھے ، دو چکیاں ، ایک مشکیزہ اور دو گھڑے دیے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا : اللہ کی قسم ! تمہیں اتنا کام کرنا پڑتا ہے کہ مجھے پریشانی ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو غلام دیے ہیں ، تم جاؤ ! اور ان سے کوئی خدمتگار مانگ لو ! سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم ! میں آٹا پیستی ہوں جس کے نتیجے میں میرے ہاتھوں کی جلد خراب ہو گئی ہے ، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے میری بیٹی ! تم کس سلسلے میں آئی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں آپ کو سلام کرنے کے لئے آئی ہوں ، انہیں نبی اکرم ﷺ سے مانگتے ہوئے شرم آ گئی اور وہ ویسے ہی واپس چلی گئیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا بنا ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے نبی اکرم ﷺ سے مانگتے ہوئے شرم آ گئی ، پھر وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اکٹھے حاضر ہوئے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں پانی بھر کے لاتا ہوں ، جس کے نتیجے میں مجھے سینے میں تکلیف ہوتی ہے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میں آٹا پیستی ہوں ، جس کے نتیجے میں میرے ہاتھوں کی جلد خراب ہو گئی ہے ، اب اللہ تعالیٰ نے آپ کو قیدی اور گنجائش عطا کیے ہیں ، تو آپ ہمیں کوئی خدمت گار دیدیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں تم لوگوں کو دے دوں اور اہل صفہ کو چھوڑ دوں ، جن کے پیٹ بھوک کی وجہ سے لپٹے ہوئے ہوتے ہیں ، مجھے اتنی گنجائش نہیں ملتی کہ میں اُن پر خرچ کروں ، میں ان غلاموں کو فروخت کر دوں گا اور ان کی قیمت اہل صفہ پر خرچ کروں گا ۔ وہ دونوں واپس چلے گئے ، پھر نبی اکرم ﷺ ان دونوں کے ہاں تشریف لائے ، وہ دونوں اس وقت سونے کے لئے لیٹ چکے تھے ، ان کا لحاف ایسا تھا کہ اگر سر کو ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے تھے اور اگر پاؤں کو ڈھانپتے تو سر کھل جاتا تھا ، وہ دونوں اُٹھنے لگے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنی جگہ پر رہو ! پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم دونوں کو اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو تم دونوں کے لیے اس چیز سے زیادہ بہتر ہے جو تم نے مجھ سے مانگی تھی ، ان دونوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کچھ کلمات ہیں ، جو جبرائیل نے مجھے سکھائے ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم دونوں ہر نماز کے بعد ، دس مرتبہ سبحان اللہ ، دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو ! اور جب تم دونوں بستر پر لیٹے ہو تو 33 مرتبہ سبحان الله 33 مرتبہ الحمد للہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھو ۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ کرتے ہیں : جب سے میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے اس کے بعد کبھی ان کلمات کو پڑھنا ترک نہیں کیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ابن الكواء نے اُن سے دریافت کیا : کیا جنگ صفین کی رات بھی نہیں ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اہل عراق ! اللہ تعالیٰ تمہیں تباہ کرے ، جی ہاں ! جنگ صفین کی رات بھی نہیں ( یعنی اُن کو پڑھنا ترک نہیں کیا ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، حماد بن سلمہ نے اس کے اختلاط کا شکار ہونے سے پہلے اس سے سماع کیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16912

Majma al-Zawaid #16912

وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: «نَزَلَ بِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَجُلٌ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: أَمُقِيمٌ فَنُسَرِّحُ، أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفُ؟ قَالَ: بَلْ ظَاعِنٌ، قَالَ: فَإِنِّي سَأُزَوِّدُكَ زَادًا لَوْ أَجِدُ مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهُ لَزَوَّدْتُكَ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، نُصَلِّي وَيُصَلُّونَ، وَنَصُومُ وَيَصُومُونَ، وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ. قَالَ: ""أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى شَيْءٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَهُ لَمْ يَسْبِقْكَ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَكَ، وَلَمْ يُدْرِكْكَ أَحَدٌ بَعْدَكَ إِلَّا مَنْ فَعَلَ مِثْلَ الَّذِي تَفْعَلُ؟ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm al-Darda, may Allah be pleased with her, reported that a man stayed with Abu al-Darda, who asked whether he was settling or traveling, and when the man said he was traveling, Abu al-Darda promised him journey-provision, declaring he would have given better had he known any. He then recounted his complaint to the Messenger of Allah ﷺ that the wealthy had carried off this world and the next despite shared prayers and fasts, since only they could give charity, and the Prophet answer guiding him to unmatched words after every prayer. > **"Shall I not guide you to something by which none before you can outstrip you and none after you can reach you, except one who does the same? After every prayer say thirty-three glorifications, thirty-three praises, and thirty-four magnifications of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک شخص آ کر ٹھہرا ، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ٹھہرو گے کہ ہم ٹھہرنے کا بندوبست کریں ، یا مسافر ہو کہ ہم زاد سفر کا بندوبست کریں ، اس نے کہا : بلکہ مسافر ہوں ، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں زاد سفر دوں گا ، اگر مجھے اس سے زیادہ فضیلت والا زاد سفر دستیاب ہوتا تو وہ میں نے تمہیں دے دینا تھا ، پھر انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! خوشحال لوگ دنیا اور آخرت کی بھلائی لے گئے ہیں ، ہم نماز پڑھتے ہیں اور وہ بھی نماز پڑھتے ہیں ، ہم روزے رکھتے ہیں اور وہ بھی روزے رکھتے ہیں ، لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کر پاتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہاری رہنمائی ایسی چیز کے بارے میں نہ کروں ؟ کہ جب تم اسے کر لو گے تو تم سے پہلے کا کوئی فرد تم سے سبقت نہیں لے جا سکے گا ، اور تمہارے بعد والا کوئی فرد تم تک پہنچ نہیں سکے گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اسی طرح کا عمل کر لے ، جو تم نے کیا ہو ، تم ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان الله 33 مرتبہ الحمد للہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی اسانید میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16913

Majma al-Zawaid #16913

«وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ: أَنَّهُ أَتَاهُ نَاسٌ يَتَحَدَّثُونَ إِلَيْهِ فَقَالَ: سَأُزَوِّدُكُمْ مَا زَوَّدَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِذَا صَلَّيْتَ فَسَبِّحْ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحَمَدْ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرْ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، وَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَسْعُودُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda, may Allah be pleased with him, reported that when people came conversing with him, he told them he would provision them with what the Messenger of Allah ﷺ had provisioned him for after every prayer, closing with the declaration of divine oneness. > **"When you pray, glorify Allah thirty-three times, praise Him thirty-three times, and magnify Him thirty-four times after every prayer, and say: There is no god but Allah alone, without partner; to Him belongs dominion and to Him belongs praise, and He has power over all things."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ کچھ لوگ اُن کے پاس آئے اور ان کے ساتھ بات چیت کرنے لگے ، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں زاد سفر کے طور پر وہ چیز دوں گا ، جو نبی اکرم ﷺ نے مجھے زاد سفر کے طور پر دی تھی ، انہوں نے فرمایا : ’’ جب تم نماز ادا کرو تو ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان الله 33 مرتبہ الحمد للہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھو اور پھر یہ پڑھو : ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعود بن سلیمان ہے اور وہ مجہول ہے ۔

16914

Majma al-Zawaid #16914

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أُمِرْنَا بِالتَّسْبِيحِ فِي أَدْبَارِ الصَّلَوَاتِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ the commanded count of glorification, praise, and magnification after the prayers. > **"We were commanded to glorify Allah after the prayers with thirty-three glorifications, thirty-three praises, and thirty-four magnifications."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہمیں اس تسبیح کا حکم دیا گیا ہے کہ نمازوں کے بعد 33 مرتبہ سبحان الله 33 مرتبہ الحمد للہ اور 34 مرتبہ الله اكبر پڑھا جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16915

Majma al-Zawaid #16915

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَيَبْلُغُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ ثُمَّ قَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، غَفَرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ promised forgiveness even for sea-foam-like sins to one who completes the ninety-nine with the hundredth declaration of oneness after every prayer. > **"Whoever glorifies Allah thirty-three times, praises Him thirty-three times, and magnifies Him thirty-three times after every prayer, then completes the hundred with: There is no god but Allah alone, without partner; to Him belongs dominion and to Him belongs praise, and He has power over all things, will have his sins forgiven even if they are like the foam of the sea."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ پڑھے ، 33 مرتبہ الحمد للہ پڑھے ، 33 مرتبہ اللہ اکبر پڑھے اور ان کی تعداد 99 ہو جائے ، اور پھر وہ 100 مکمل کرنے کے لیے یہ پڑھے : ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت ہے ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) تو اس شخص کے گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کی مانند ہوں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16916

Majma al-Zawaid #16916

وَعَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: كَلِمَاتٌ مَنْ ذَكَرَهُنَّ مِائَةَ مَرَّةٍ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ لَوْ كَانَتْ خَطَايَاهُ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ لَمَحَتْهُنَّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ مَوْقُوفًا، وَأَبُو كَثِيرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Kathir, freedman of the Banu Hashim, reported that he heard Abu Dharr al-Ghifari, Companion of the Messenger of Allah ﷺ, describe phrases remembered a hundred times after every prayer that efface sins even if like the foam of the sea. > **"Allah is Greatest, glory belongs to Allah, praise belongs to Allah, and there is no god but Allah alone, without partner, and there is no power nor strength except through Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بنو ہاشم کے غلام ، ابوکثیر بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے صحابی حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : کچھ کلمات ہیں ، جنہیں ہر نماز کے بعد 100 مرتبہ پڑھا جاتا ہے : «الله اكبر - سبحان الله ۔ الحمد لله» اور یہ کلمہ : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔‘‘ اگر اُس شخص کے گناہ سمندر کے جھاگ جتنے ہوں ، تو یہ کلمات انہیں مٹا دیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور ابوکثیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ۔

16917

Majma al-Zawaid #16917

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «اشْتَكَى فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا فُضِّلَ بِهِ أَغْنِيَاؤُهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِخْوَانُنَا صَدَّقُوا تَصْدِيقَنَا، وَآمَنُوا إِيمَانَنَا، وَصَامُوا صِيَامَنَا، وَلَهُمْ أَمْوَالٌ يَتَصَدَّقُونَ مِنْهَا، وَيَصِلُونَ بِهَا الرَّحِمَ، وَيُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَنَحْنُ مَسَاكِينُ لَا نَقْدِرُ عَلَى ذَلِكَ. فَقَالَ: "" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَيْءٍ إِذَا أَنْتُمْ فَعَلْتُمُوهُ أَدْرَكْتُمْ مِثْلَ فَضْلِهِمْ؟ قُولُوا: اللَّهُ أَكْبَرُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِحْدَى عَشْرَةَ مَرَّةً، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ، تُدْرِكُونَ مِثْلَ فَضْلِهِمْ "". فَفَعَلُوا. فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلْأَغْنِيَاءِ فَفَعَلُوا مِثْلَ ذَلِكَ، فَرَجَعَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالُوا: هَؤُلَاءِ إِخْوَانُنَا فَعَلُوا مِثْلَ مَا نَقُولُ فَقَالَ: "" ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ، يَا مَعْشَرَ الْفُقَرَاءِ أَلَا أُبَشِّرُكُمْ، فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ» "". وَتَلَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ: {وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ} [الحج: 47] رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them, reported that the poor believers complained to the Messenger of Allah ﷺ that their wealthy brothers shared their affirmation, faith, and fasting yet surpassed them through wealth spent in charity, kinship, and the path of Allah, while they as needy people could not. The Prophet ﷺ guided them to elevenfold phrases after every prayer by which they would reach the same merit, and they acted upon it and mentioned it to the wealthy, who adopted it too. When the poor returned complaining that their brothers now said the same, the Prophet ﷺ ascribed it to the bounty of Allah granted to whom He wills and gave the company of the poor glad tidings of entering Paradise half a day, five hundred years, before the wealthy. The narrator Musa ibn Ubayda then recited the verse that a day with the Lord is like a thousand years of human reckoning. > **"Shall I not inform you of something by which you will reach their merit? Say after every prayer: Allah is Greatest eleven times, praise belongs to Allah likewise, there is no god but Allah likewise, and glory belongs to Allah likewise. And receive glad tidings, O company of the poor: the poor Muslims will enter Paradise half a day, five hundred years, before their wealthy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ غریب مسلمانوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : خوشحال لوگوں کو ان پر فضیلت عطا کی گئی ہے ، انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہمارے بھائی ہماری طرح تصدیق کرتے ہیں ، ہماری طرح ایمان لائے ہیں ہماری طرح روزے رکھتے ہیں ، لیکن ان کے پاس اموال ہیں ، جن میں سے وہ صدقہ کرتے ہیں اور جن کے ذریعے وہ صلہ رحمی کرتے ہیں اور اموال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، جبکہ ہم لوگ غریب ہیں ، ہم ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ کہ جب تم وہ کام کر لو گے تو تم اس فضیلت تک پہنچ جاؤ گے ، جو ان لوگوں کو حاصل ہے ، تم لوگ ہر نماز کے بعد گیارہ مرتبہ ’’ اللہ اکبر “ پڑھو ، اتنی ہی مرتبہ ’’ الحمدللہ ‘‘ پڑھو ، اتنی ہی مرتبہ ’’ لا اله الا اللہ ‘‘ پڑھو ، اور اتنی ہی مرتبہ ’’ سبحان اللہ ‘‘ پڑھو ، تو تم ان کی فضیلت کی مانند تک پہنچ جاؤ گے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو ان لوگوں نے ایسا ہی کیا ، پھر ان لوگوں نے اس بات کا تذکرہ خوشحال لوگوں سے کیا ، تو خوشحال لوگوں نے بھی یہ عمل کرنا شروع کر دیا ، غریب لوگ پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آئے اور آپ کے سامنے یہ صورتحال ذکر کی اور یہ کہا : ہمارے ان بھائیوں نے بھی اسی طرح پڑھنا شروع کر دیا ہے جس طرح ہم پڑھتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ، وہ جسے چاہتا ہے اُسے عطا کر دیتا ہے ، اسے غریبوں کے گروہ ! کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں ؟ غریب مسلمان ، امیر لوگوں سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، جو ( نصف دن ) 500 سال کا ہو گا ۔‘‘ پھر موسیٰ بن عبیدہ نامی راوی نے یہ آیت تلاوت کی : «وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ» ( الحج : 47 ) ’’ اور تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک دن تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار سال جتنا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16918

Majma al-Zawaid #16918

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمَّ سُلَيْمٍ وَهِيَ تُصَلِّي فِي بَيْتِهَا فَقَالَ: "" يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِذَا صَلَّيْتِ الْمَكْتُوبَةَ، فَقُولِي: سُبْحَانَ اللَّهِ عَشْرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَشْرًا، وَاللَّهُ أَكْبَرُ عَشْرًا، ثُمَّ سَلِي مَا شِئْتِ ; فَإِنَّهُ يَقُولُ لَكِ: نَعَمْ، نَعَمْ، نَعَمْ، ثَلَاثًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَصَلَّى فِي بَيْتِهَا صَلَاةَ تُطَوُّعٍ فَقَالَ: "" يَا أُمَّ سُلَيْمٍ "". وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ: أَبُو شَيْبَةَ الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ saw Umm Sulaym praying in her house and directed her to tenfold glorification, praise, and magnification after the obligatory prayer, promising a threefold divine response to whatever she then asks. > **"O Umm Sulaym, when you have prayed the obligatory prayer, say: Glory belongs to Allah ten times, praise belongs to Allah ten times, and Allah is Greatest ten times; then ask whatever you wish, for He will say to you: Yes, yes, yes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ اپنے گھر میں نماز ادا کر رہی تھیں ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ام سلیم ! جب تم نماز ادا کر لو ، تو تم دس مرتبہ سبحان الله ، دس مرتبہ الحمد للہ ، دس مرتبہ الله اکبر پڑھو ، پھر تم جو چاہو ، سوال کرو ، اللہ تعالیٰ تم سے یہ فرمائے گا : جی ہاں ! جی ہاں ! جی ہاں ! ( یعنی میں نے تمہاری دعا کو قبول کیا ) وہ تین مرتبہ یہ کہے گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر میں نفل نماز ادا کی ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ام سلیم ......‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ابوشیبہ واسطی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16919

Majma al-Zawaid #16919

«وَعَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّةِ أَنَّهَا جَاءَتْ بِعُكَّةِ سَمْنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا فَعَصَرَهَا، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَيْهَا، فَرَجَعَتْ فَإِذَا هِيَ مُمْتَلِئَةٌ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: "" وَمَا ذَاكَ يَا أُمَّ مَالِكٍ؟ "". فَقَالَتْ: لِمَ رَدَدْتَ [إِلَيَّ] هَدِيَّتِي؟! فَدَعَا بِلَالًا فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَقَدْ عَصَرْتُهَا حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَنِيئًا لَكِ يَا أُمَّ مَالِكٍ، [هَذِهِ] بَرَكَةٌ عَجَّلَ اللَّهُ ثَوَابَهَا "". ثُمَّ عَلَّمَهَا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَشْرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَشْرًا، وَاللَّهُ أَكْبَرُ عَشْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Malik al-Ansariya, may Allah be pleased with her, reported that she brought a vessel of clarified butter to the Messenger of Allah ﷺ, who ordered Bilal to press it out and returned it to her, yet she found it full upon returning home. She came back asking whether anything had been revealed concerning her and why her gift had been returned, so the Prophet ﷺ questioned Bilal, who swore he had pressed it until he felt shy. The Messenger of Allah ﷺ congratulated Umm Malik for a blessing whose reward Allah had hastened and taught her tenfold phrases after every prayer. > **"Congratulations to you, O Umm Malik; this is a blessing whose reward Allah has hastened. After every prayer say: Glory belongs to Allah ten times, praise belongs to Allah ten times, and Allah is Greatest ten times."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام مالک انصاریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ گھی کا برتن لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اس میں سے گھی نکال لیں ، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو وہ برتن واپس کر دیا ، جب وہ خاتون واپس گئی تو اس نے دیکھا کہ وہ برتن گھی سے بھرا ہوا ہے ، وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آئی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ام مالک ! کیا ہوا ؟ اس خاتون نے عرض کی : آپ نے میرا تحفہ مجھے واپس کیوں کر دیا ؟ نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے اس برتن میں سے اتنا نکالا کہ مجھے حیا آنے لگی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے اُم مالک ! تمہیں مبارک ہو ، یہ وہ برکت ہے کہ جس کا ثواب اللہ تعالیٰ نے جلدی دیدیا ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کو یہ تعلیم دی کہ وہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16920

Majma al-Zawaid #16920

وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: «صَلَّى رَجُلٌ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي فَسَمِعَهُ حِينَ سَلَّمَ يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ "". ثُمَّ صَلَّى إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَسَمِعَهُ حِينَ سَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَضَحِكَ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: مَا أَضْحَكَكَ؟! فَقَالَ: إِنِّي صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ ذَلِكَ.» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Awn ibn Abdullah ibn Utba reported that a man prayed beside Abdullah ibn Amr ibn al-As and heard him say a formula of peace upon giving the salam, then prayed beside Abdullah ibn Umar and heard the same, so he laughed. When Ibn Umar asked what made him laugh, the man explained, and Ibn Umar answered that the Messenger of Allah ﷺ used to say it. > **"O Allah, You are Peace and from You comes peace; blessed are You, O Possessor of Majesty and Honor."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عون بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز ادا کی ، جب انہوں نے سلام پھیرا ، تو اس شخص نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا : «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ’’ اے اللہ ! بے شک تو سلامتی عطا کرنے والا ہے ، سلامتی تیری طرف سے حاصل ہوتی ہے ، تو برکت والا ہے ، اے جلال اور اکرام والے !“۔ پھر اس شخص نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں نماز ادا کی ، تو اس نے انہیں بھی سلام کے بعد اس کی مانند کلمات کہتے ہوئے سنا ، وہ شخص ہنس پڑا ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے دریافت کیا : تم کس بات پر ہنسے ہو ؟ اس نے بتایا : میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز ادا کی تھی ، تو میں نے انہیں بھی اس کی مانند کلمات پڑھتے ہوئے سنا تھا ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا : نبی اکرم ﷺ یہ ( کلمات ) پڑھا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

16921

Majma al-Zawaid #16921

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ: كَانُوا يَسْتَحِبُّونَ إِذَا قَضَى الرَّجُلُ الصَّلَاةَ أَنْ يَقُولَ: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abi al-Hudhayl reported that the early people deemed it good for a man finishing his prayer to utter a formula of peace and blessing. > **"O Allah, You are Peace and from You comes peace; blessed are You, O Possessor of Majesty and Honor."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابوہذیل بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ جب کوئی شخص نماز ادا کر لے ، تو وہ یہ پڑھے : «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ’’ اے اللہ ! بے شک تو سلامتی عطا کرنے والا ہے ، سلامتی تیری طرف سے ہی حاصل ہوتی ہے ، تو برکت والا ہے ، اے جلال اور اکرام والے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16922

Majma al-Zawaid #16922

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا أَنْ يَمُوتَ» ".

EnglishUnverified translation

Abu Umama, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ tied the recitation of the Verse of the Throne after every prescribed prayer to entry into Paradise with no barrier but death. > **"Whoever recites the Verse of the Throne after every prescribed prayer will be barred from entering Paradise by nothing but death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھ لے گا ، اُس کے جنت میں داخل ہونے کے لئے رکاوٹ صرف موت ہو گی ۔‘‘

16923

Majma al-Zawaid #16923

وَفِي رِوَايَةٍ: وَ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ، وَأَحَدُهَا جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

The narration adds that the same barrier-free promise applies to one who recites the chapter of Sincerity after the prayer. > **"Whoever recites: Say: He is Allah, the One, after every prayer will be barred from entering Paradise by nothing but death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ «قل ھو الله احد» “ ( یعنی جو ہر نماز کے بعد سورہ اخلاص پڑھ لے گا ، اس کے جنت میں داخلے کے لئے رکاوٹ صرف موت ہو گی ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند عمدہ ہے ۔

16924

Majma al-Zawaid #16924

وَعَنْ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ إِلَى الصَّلَاةِ الْأُخْرَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Hasan ibn Ali, may Allah be pleased with them, reported that the Messenger of Allah ﷺ promised divine protection until the next prayer for reciting the Verse of the Throne after the prescribed prayer. > **"Whoever recites the Verse of the Throne after the prescribed prayer will remain under the protection of Allah until the next prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھ لے گا ، وہ اگلی نماز تک اللہ تعالیٰ کی پناہ میں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16925

Majma al-Zawaid #16925

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «ثَلَاثٌ مَنْ جَاءَ بِهِنَّ مَعَ إِيمَانٍ دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ، وَزُوِّجَ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ حَيْثُ شَاءَ: مَنْ عَفَا عَنْ قَاتِلِهِ، وَأَدَّى دَيْنًا خَفِيًّا، وَقَرَأَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ عَشْرَ مَرَّاتٍ: (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) "". قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَوْ إِحْدَاهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَوْ إِحْدَاهُنَّ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ نَبْهَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah, may Allah be pleased with them, reported that the Messenger of Allah ﷺ named three deeds brought with faith that admit one through whichever gate of Paradise he wishes and marry him to whichever wide-eyed maiden he wishes, and when Abu Bakr asked whether even one suffices, the Prophet ﷺ affirmed even one. > **"Three deeds, when one brings them with faith, admit him through whichever gate of Paradise he wishes: to pardon one's killer, to repay a hidden debt, and to recite: Say: He is Allah, the One, ten times after every prescribed prayer; and even one of them suffices."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین چیزیں ایسی ہیں ، جو شخص ایمان کے ہمراہ انہیں لے کر آئے گا ، وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گا ، اندر داخل ہو جائے گا اور جس حورعین سے وہ چاہے گا ، اس کی شادی ہو جائے گی ، ( وہ تین امور یہ ہیں : ) وہ شخص اپنے قاتل سے درگزر کرے ، پوشیدہ قرض ادا کر دے اور ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر وہ ان میں سے کوئی ایک چیز کر لے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر وہ ان میں سے کوئی ایک کر لے ( یعنی تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن نبہان ہے اور وہ متروک ہے ۔

16926

Majma al-Zawaid #16926

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ قَالَ [فِي] دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ: سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، [ثَلَاثُ مَرَّاتٍ] فَقَدِ اكْتَالَ بِالْجَرِيبِ الْأَوْفَى مِنَ الْأَجْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Arqam reported from his father, from the Prophet ﷺ, the promise of the fullest measure of reward for a threefold recitation of the closing verses of the chapter of the Ranks after every prayer. > **"Whoever says after every prayer three times: Glory belongs to your Lord, the Lord of Might, above what they ascribe; and peace be upon the messengers; and praise belongs to Allah, Lord of the worlds, will have measured out the fullest measure of reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ارقم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص ہر نماز کے بعد تین مرتبہ یہ پڑھے : «سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ’’ تمہارا پروردگار جو غلبے والا پروردگار ہے ، وہ ان چیزوں سے پاک ہے ، جو وہ ( اس کی ) صفت بیان کرتے ہیں ، اور رسولوں پر سلام ہو ، اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔‘‘ تو وہ اجر کا ایک مکمل ’’ جریب ‘‘ ( یہ اناج کو ماپنے کا ایک آلہ ہوتا ہے ) حاصل کر لیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن بشیر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

16927

Majma al-Zawaid #16927

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كُنَّا نَعْرِفُ انْصِرَافَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَوْلِهِ: "" سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them, reported that the Companions recognized the conclusion of the Messenger of Allah ﷺ prayer by his utterance of the closing verses of the chapter of the Ranks. > **"Glory belongs to your Lord, the Lord of Might, above what they ascribe; and peace be upon the messengers; and praise belongs to Allah, Lord of the worlds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہمیں نبی اکرم ﷺ کی نماز ختم ہونے کا ، آپ کے یہ پڑھنے سے پتہ چلتا تھا : «سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ’’ تمہارا پروردگار جو غلبے والا پروردگار ہے ، وہ ان چیزوں سے پاک ہے ، جو وہ ( اس کی ) صفت بیان کرتے ہیں ، اور رسولوں پر سلام ہو اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر ہے اور وہ متروک ہے ۔

16928

Majma al-Zawaid #16928

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ قَالَ دُبُرَ الصَّلَاةِ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، قَامَ مَغْفُورًا لَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي الزَّهْرَاءِ، عَنْ أَنَسٍ، وَأَبُو الزَّهْرَاءِ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالٌ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ promised that the speaker of a coupled glorification and treasure phrase after the prayer rises forgiven. > **"Whoever says after the prayer: Glory belongs to Allah, the Tremendous, and with His praise, and there is no power nor strength except through Allah, will rise with his sins forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص نماز کے بعد یہ پڑھتا ہے : «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ’’ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، جو عظمت والا ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : جب وہ شخص اُٹھتا ہے تو اس کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے ابوزہراء کی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور ابوزہراء نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16929

Majma al-Zawaid #16929

وَعَنْ جَابِرٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا صَلَّى قَالَ: "" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reported that when the Messenger of Allah ﷺ had prayed, he used to utter a declaration of oneness with life, death, and power, followed by a plea on divine granting and withholding. > **"There is no god but Allah alone, without partner; to Him belongs dominion and to Him belongs praise; He gives life and causes death, and He has power over all things. O Allah, none withholds what You grant, none grants what You withhold, and the fortune of the fortunate avails him nothing against You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب نماز ادا کر لیتے تھے ، تو آپ یہ پڑھتے تھے : « ’’ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ۔‘‘ ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اے اللہ ! جسے تو عطا کرے اسے کوئی رکاوٹ بننے والا نہیں ہے ، اور جسے تو عطا نہ کرے ، اُسے کوئی دینے والا نہیں ہے اور تیرے مقابلے میں کوشش کرنے والے کی کوشش فائدہ نہیں دیتی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

16930

Majma al-Zawaid #16930

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ: "" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ زَادَ: "" يُحْيِي وَيُمِيتُ "". وَلَمْ يَقُلْ: "" بِيَدِهِ الْخَيْرُ "". وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them, reported that when the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he used to utter a declaration of oneness affirming that all goodness is in Allah Hand, followed by a plea on divine granting and withholding. > **"There is no god but Allah alone, without partner; to Him belongs dominion and to Him belongs praise; goodness is in His Hand, and He has power over all things. O Allah, none withholds what You grant, none grants what You withhold, and the fortune of the fortunate avails him nothing against You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، ہر بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اے اللہ ! جسے تو عطا کرے اسے کوئی رکاوٹ بننے والا نہیں ہے اور جسے تو عطا نہ کرے ، اُسے کوئی دینے والا نہیں ہے ، اور تیرے مقابلے میں کسی کوشش کرنے والے کی کوشش کام نہیں آتی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں :” وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے ‘‘ اور انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں :’’ ہر قسم کی بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے ۔‘‘ ان دونوں کی سند حسن ہے ۔

16931

Majma al-Zawaid #16931

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ: "" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Mughira ibn Shuba, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ used to say a declaration of oneness after the prayer affirming that Allah gives life, causes death, and is the Living Who never dies, with all goodness in His Hand. > **"There is no god but Allah alone, without partner; to Him belongs dominion and to Him belongs praise; He gives life and causes death, and He is the Living Who never dies; goodness is in His Hand, and He has power over all things."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مغیرہ بن شعبہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم اللہ ہر نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ."" ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے اور وہ زندہ ہے اُسے موت نہیں آئے گی ، ہر قسم کی بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16932

Majma al-Zawaid #16932

وَعَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا انْفَتَلَ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ: "" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Makhul reported that he heard Muawiya, may Allah be pleased with him, say upon the minbar that when the Messenger of Allah ﷺ turned from the prayer, he used to utter a declaration of oneness followed by a plea on divine granting and withholding. > **"There is no god but Allah alone, without partner; to Him belongs dominion and to Him belongs praise, and He has power over all things. O Allah, none withholds what You grant, none grants what You withhold, and the fortune of the fortunate avails him nothing against You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مکحول بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا : نبی اکرم ﷺ جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے تو آپ ﷺ یہ پڑھتے تھے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اے اللہ ! جسے تو عطا کرے اسے کوئی رکاوٹ بننے والا نہیں ہے ، اور جسے تو عطا نہ کرے ، اُسے کوئی دینے والا نہیں ہے اور تیرے مقابلے میں کوشش کرنے والے کی کوشش کام نہیں آتی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16933

Majma al-Zawaid #16933

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «عَشْرٌ مَنْ قَالَهُنَّ فِي دُبُرِ صَلَوَاتِهِ إِذَا صَلَّى: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِنَّ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَمَحَا عَنْهُ بِهِنَّ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَرَفَعَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرَ دَرَجَاتٍ، وَكُنَّ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رَقَبَاتٍ، وَكُنَّ لَهُ حَرِيسًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِي كَانَ مِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ described ten phrases said after prayers that earn ten good deeds, erase ten evil deeds, raise ten degrees, equal ten freed slaves, and guard from Satan until evening, with the same for the evening until morning. > **"There is no god but Allah alone, without partner; to Him belongs dominion and to Him belongs praise, and He has power over all things. Allah records ten good deeds, erases ten evil deeds, raises ten degrees, and they guard him from Satan until evening."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دس کلمات ایسے ہیں ، جو شخص نماز ادا کرنے کے بعد انہیں پڑھے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ ان کلمات کی وجہ سے ان کے لئے دس نیکیاں نوٹ کر لیتا ہے اور ان کی وجہ سے اس شخص کے دس گناہ مٹا دیتا ہے ، اور ان کلمات کی وجہ سے ، اس شخص کے دس درجات بلند کرتا ہے اور یہ کلمات اُس شخص کے لئے دس غلام آزاد کرنے کے ثواب کے برابر ہوتے ہیں ، اور یہ کلمات اس شخص کے لئے شام تک کے لئے شیطان سے بچاؤ کا باعث ہوتے ہیں ، اور جو شخص شام کے وقت ان کلمات کو پڑھ لے گا ، تو صبح ہونے تک اسے یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16934

Majma al-Zawaid #16934

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ [الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ]، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، غُفِرَ لَهُ وَإِنْ كَانَ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ فَرْقَدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Bara ibn Azib, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ promised forgiveness even for flight from the battlefield to one who seeks Allah forgiveness with the Living, Sustaining formula after every prayer. > **"Whoever says after every prayer: I seek the forgiveness of Allah, besides Whom there is no god, the Living, the Sustainer, and I turn to Him, will be forgiven even if he had fled from the battlefield."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ہر نماز کے بعد یہ پڑھے : «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ [الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ]، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ’’ میں اُس اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور وہ ’’ حی ‘‘ اور ’’ قیوم ‘‘ ہے اور میں اُس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) تو اس آدمی کی مغفرت ہو جائے گی اگرچہ وہ میدان جنگ سے فرار ہوا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن فرقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16935

Majma al-Zawaid #16935

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، ثُمَّ يَقُولُ [فِي مُصَلَّاهُ]: "" اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ، وَرَبَّ إِسْرَافِيلَ، وَرَبَّ مُحَمَّدٍ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ "". ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ». قُلْتُ: رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِنَحْوِهِ مِنْ غَيْرِ تَقْيِيدٍ بِرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، عَنْ شَيْخِهِ سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aisha, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah ﷺ used to pray two units before the rising of dawn, utter a plea naming the Lord of Jibril, Mikail, Israfil, and Muhammad while still at his place of prayer, and then go out to the prayer. > **"O Allah, Lord of Jibril and Mikail, Lord of Israfil and Lord of Muhammad, I seek refuge in You from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ صبح صادق ہونے سے پہلے دو رکعت ادا کرتے تھے ، پھر آپ اپنی جائے نماز پر موجود رہتے ہوئے یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ، وَرَبَّ إِسْرَافِيلَ، وَرَبَّ مُحَمَّدٍ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ» "". ’’ اے اللہ ! اے جبرائیل اور میکائیل کے پروردگار ! اور اسرافیل کے پروردگار ! اور محمد ( ﷺ ) کے پروردگار ! میں جنہم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں فجر کی دو رکعت کی قید ذکر نہیں کی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد سفیان بن وکیع کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

16936

Majma al-Zawaid #16936

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " لَأَنْ أَقْعُدَ أَذْكُرُ اللَّهَ، وَأُكَبِّرُهُ، وَأَحْمَدُهُ، وَأُسَبِّحُهُ، وَأُهَلِّلُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ رَقَبَتَيْنِ [أَوْ أَكْثَرَ] مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ. وَمِنْ بَعْدِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَ رَقَبَاتٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ» ".

EnglishUnverified translation

Abu Umama, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ preferred sitting to remember Allah with magnification, praise, glorification, and oneness until sunrise over freeing two or more slaves from the children of Ismail, and preferred the same from after the afternoon prayer until sunset over freeing four. > **"For me to sit remembering Allah, magnifying Him, praising Him, glorifying Him, and declaring His oneness until the sun rises is dearer to me than freeing two slaves from the children of Ismail; and from after the afternoon prayer until the sun sets is dearer to me than freeing four."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں ( صبح کی نماز کے بعد ) بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا ہوں ، اس کی کبریائی بیان کروں ، اس کی حمد بیان کروں اس کی تسبیح بیان کروں ، لا اله الا اللہ پڑھوں ، اور ایسا اس وقت تک کروں کہ سورج طلوع ہو جائے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے دو یا اس سے زیادہ غلام آزاد کر دوں ، اور میں عصر کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک ایسا کروں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلام آزاد کیے ہوں ۔‘‘

16937

Majma al-Zawaid #16937

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «إِنْ أَذْكُرَ اللَّهَ [مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ] إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ: أُكَبِّرُ، وَأُهَلِّلُ، وَأُسَبِّحُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعًا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَلَأَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ كَذَا وَكَذَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ» "". رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ، وَأَسَانِيدُهُ حَسَنَةٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration, the Prophet ﷺ preferred remembering Allah from the rising of dawn until sunrise with magnification, oneness, and glorification over freeing four from the children of Ismail, and remembering Allah from the afternoon prayer until sunset over freeing a like number. > **"For me to remember Allah from the rising of dawn until the rising of the sun is dearer to me than freeing four from the children of Ismail; and to remember Allah from the afternoon prayer until the sun disappears is dearer to me than freeing so many."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں صبح صادق کے بعد سے لے کر سورج طلوع ہونے تک تکبیر ، تہلیل اور تسبیح پڑھتا رہوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلاموں کو آزاد کیا ہو ، اور میں عصر کی نماز کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرتا رہوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے اتنے اتنے غلام آزاد کروں ۔‘‘ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ، اور امام طبرانی نے دوسری روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ، ان کی اسانید حسن ہیں ۔

16938

Majma al-Zawaid #16938

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ فِي جَمَاعَةٍ، ثُمَّ جَلَسَ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، انْقَلَبَ بِأَجْرِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umama, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ promised the reward of a pilgrimage and lesser pilgrimage to one who prays the morning prayer in congregation, sits remembering Allah until sunrise, then stands and prays two units. > **"Whoever prays the morning prayer in congregation, then sits remembering Allah until the sun rises, then stands and prays two units, returns with the reward of a pilgrimage and a lesser pilgrimage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص صبح کی نماز باجماعت ادا کرے اور پھر بیٹھ کر سورج طلوع ہونے تک اللہ کا ذکر کرتا رہے ، پھر وہ اُٹھ کر دو رکعت نماز ادا کرے ، تو وہ حج اور عمرے کا اجر لے کر واپس جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

16939

Majma al-Zawaid #16939

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ، وَعُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ حَدَّثَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي [مَسْجِدِ] جَمَاعَةٍ، ثُمَّ ثَبَتَ حَتَّى يُسَبِّحَ اللَّهَ سُبْحَةَ الضُّحَى [كَانَ]، لَهُ كَأَجْرِ حَاجٍّ وَمُعْتَمِرٍ، تَامٌ لَهُ حَجَّتُهُ وَعُمْرَتُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amir reported that Abu Umama and Utba ibn Abd, may Allah be pleased with them, narrated from the Messenger of Allah ﷺ the promise of a complete pilgrimage and lesser pilgrimage for one who prays dawn in the mosque congregation and remains until the forenoon prayer. > **"Whoever prays the dawn prayer in congregation, then remains until the forenoon prayer, earns like the reward of a pilgrim and one performing the lesser pilgrimage, complete."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عامر بیان کرتے ہیں : حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ نے انہیں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص صبح کی نماز مسجد میں باجماعت ادا کرے ، پھر اپنی جگہ ٹھہرا رہے ، یہاں تک کہ وہ چاشت کی نماز ادا کر لے ، تو اسے حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے ایسے فرد کی مانند اجر ملتا ہے جس کا حج اور عمرہ مکمل ہوا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے جسے عجلی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اس کو ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

16940

Majma al-Zawaid #16940

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ لَمْ يَقُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ حَتَّى يُمْكِنَهُ الصَّلَاةُ وَقَالَ: "" مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ جَلَسَ مَجْلِسَهُ حَتَّى يُمْكِنَهُ الصَّلَاةُ، كَانَتْ بِمَنْزِلَةِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مُتَقَبَّلَتَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ مُوَفَّقٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَ حَدِيثَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them, reported that the Messenger of Allah ﷺ would not rise from his seat after the dawn prayer until prayer became permissible, and promised the rank of an accepted pilgrimage and lesser pilgrimage to one who does likewise. > **"Whoever prays the dawn prayer and then remains seated until prayer becomes permissible for him attains the rank of an accepted pilgrimage and lesser pilgrimage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب فجر کی نماز ادا کر لیتے تھے تو آپ اپنی جگہ سے اُس وقت تک نہیں اٹھتے تھے ، جب تک آپ کے لیے نماز ادا کرنا ممکن نہیں ہو جاتا تھا ( یعنی جب تک سورج نکل نہیں آتا تھا ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنی جگہ بیٹھا رہے ، یہاں تک کہ اس کے لیے نماز ادا کرنا ممکن ہو جائے ، تو یہ اس کے لئے مقبول حج اور عمرے کی منزلت میں ہے ( اُسے مقبول حج اور عمرہ کا ثواب ملتا ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن موفق ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ابوحاتم رازی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16941

Majma al-Zawaid #16941

وَعَنْ عَمْرَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ - يَعْنِي عَائِشَةَ - تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ صَلَّى الْفَجْرِ - أَوْ قَالَ: الْغَدَاةِ - فَقَعَدَ فِي مَقْعَدِهِ، فَلَمْ يَلْغُ بِشَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا، وَيَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى يُصَلِّيَ الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، لَا ذَنْبَ لَهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ الطَّيِّبُ بْنُ سَلْمَانَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Amra reported that she heard the Mother of the Believers, Aisha, may Allah be pleased with her, say that she heard the Messenger of Allah ﷺ promise that one who prays dawn, remains seated without idle worldly engagement while remembering Allah, then prays four units of the forenoon prayer, leaves his sins as on the day his mother bore him. > **"Whoever prays the dawn prayer, then remains in his seat without idle worldly engagement, remembering Allah until he prays four units of the forenoon prayer, leaves his sins as on the day his mother bore him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے اُم المومنین ، یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، وہ فرماتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص فجر کی نماز ادا کر لے ۔ راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ صبح کی نماز ادا کر لے اور پھر اپنی جگہ پر بیٹھا رہے ، اس دوران وہ دنیا کے کسی کام سے تعلق رکھنے والی کوئی لغو حرکت نہ کرے ، بلکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہے ، یہاں تک کہ چاشت کی نماز کی چار رکعات ادا کر لے ، تو وہ اپنے گناہوں سے نکل کر یوں ہو جاتا ہے جیسے اُس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا ، اس کا کوئی گناہ نہیں تھا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طیب بن سلمان ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دارقطنی نے اسے ضعیف کہا ہے ، ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16942

Majma al-Zawaid #16942

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ جَلَسَ يُمْلِي خَيْرًا حَتَّى يُمْسِيَ، كَانَ أَفْضَلَ مِمَّنْ أَعْتَقَ ثَمَانِيَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ» "". قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ وَأَبِي دَاوُدَ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ preferred one who prays the afternoon prayer and sits conveying good until evening over one who frees eight persons from the children of Ismail. > **"Whoever prays the afternoon prayer and then sits conveying good until evening arrives is better than one who frees eight persons from the children of Ismail."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص عصر کی نماز ادا کر لے اور پھر بیٹھ کر بھلائی املاء کرواتا رہے ( یعنی ذکر اذکار کرتا رہے ) یہاں تک کہ شام ہو جائے ( یعنی سورج غروب ہو جائے ) تو یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے آٹھ افراد کو آزاد کرنے سے افضل ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام ترمذی نے اور امام ابوداؤد نے ایک حدیث نقل کی ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔