Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 4 · Chapter 8

Book of Prayer

Hadith 1875–1914

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1875

Majma al-Zawaid #1875

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ قَالَ حِينَ يُنَادِي الْمُنَادِي: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ الْقَائِمَةِ، وَالصَّلَاةِ النَّافِعَةِ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَارْضَ عَنِّي رِضَاءً لَا سَخَطَ بَعْدَهُ - اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ دَعْوَتَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever says when the caller calls: 'O Allah, Lord of this established call and beneficial prayer, send blessings upon Muḥammad, and be pleased with me with a pleasure after which there is never any wrath'—Allah will surely answer his supplication."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جب مؤذن اذان دے ( تو اس کے بعد ) جو شخص یہ پڑھ لے : ” اے اللہ ! اسے اس قائم ہونے والی دعوت اور نفع دینے والی نماز کے پروردگار ! تو حضرت محمد ﷺ پر درود نازل فرما اور ہم سے اس طرح راضی ہو جا کہ اس کے بعد کوئی ناراضگی نہ ہو ‘‘ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی دعا کو قبول فرما لیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

1876

Majma al-Zawaid #1876

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْوَسِيلَةُ دَرَجَةٌ عِنْدَ اللَّهِ لَيْسَ فَوْقَهَا دَرَجَةٌ، فَسَلُوا اللَّهَ أَنْ يُؤْتِيَنِي الْوَسِيلَةَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِيهِ: "" «فَسَلُوا اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُؤْتِيَنِي الْوَسِيلَةَ عَلَى خَلْقِهِ» "".

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Al-Wasīlah is a station in the presence of Allah above which there is no rank; therefore, ask Allah to grant me al-Wasīlah."** *(And in al-Ṭabarānī's wording: "So ask Allah, the Mighty and Sublime, to grant me al-Wasīlah over all His creation.")*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ وسیلہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک درجہ ہے ، جس کے اوپر اور کوئی درجہ نہیں ہے ‘ تو تم لوگ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگو کہ وہ مجھے وسیلہ عطا کر دے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے امام طبرانی نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ وہ مجھے اپنی مخلوق کے حوالے سے وسیلہ عطا کرے “۔

1877

Majma al-Zawaid #1877

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّهَا زَكَاةٌ لَكُمْ، وَسَلُوا لِيَ الْوَسِيلَةَ مِنَ الْجَنَّةِ "" فَسَأَلْنَاهُ أَوْ أَخْبَرَنَا، فَقَالَ: "" هِيَ دَرَجَةٌ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ، وَهِيَ لِرَجُلٍ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ ذَلِكَ الرَّجُلَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ عُلْبَةَ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالنِّسَائِيُّ وَغَيْرُهُمَا، وَوَثَّقَهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، وَقَالَ مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ: حَدَّثَنَا ذُؤَادُ بْنُ عُلْبَةَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: هُوَ فِي جُمْلَةِ الضُّعَفَاءِ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Invoke blessings upon me, for indeed it is purification for you, and ask for me al-Wasīlah in Paradise."** We asked him—or he informed us—saying: > **"It is a rank at the highest summit of Paradise, reserved for a single man, and I hope that I am that man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم لوگ مجھ پر درود بھیجو کیونکہ یہ تمہارے لئے پاکیزگی کے حصول کا باعث ہو گا اور تم لوگ میرے لئے جنت میں وسیلہ کی دعا کرو راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے آپ سے سوال کیا یا آپ نے ہمیں خود ہی بتا دیا اور آپ نے ارشاد فرمایا : یہ جنت کے بالائی حصے میں موجود ایک درجہ ہے ‘ اور یہ ایک ہی شخص کو ملے گا مجھے یہ توقع ہے کہ وہ شخص میں ہوؤں گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن علبہ ہے ‘ جسے یحیی بن معین امام نسائی اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جب کہ ابن نمیر نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے موسیٰ بن داؤد ضبی بیان کرتے ہیں : ذؤاد بن علبہ نے ہمیں حدیث بیان کی اور پھر موسیٰ نے ان کی تعریف کی ابن عدی کہتے ہیں : یہ ان ضعیف راویوں میں سے ایک ہے ، جس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔

1878

Majma al-Zawaid #1878

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ: "" اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَعْطِهِ سُؤْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ""، وَكَانَ يُسْمِعُهَا مَنْ حَوْلَهُ، وَيُحِبُّ أَنْ يَقُولُوا مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا سَمِعُوا الْمُؤَذِّنَ. قَالَ: "" وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَةُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَغَيْرُهُمْ، وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَأَبُو حَاتِمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated: Whenever the Messenger of Allah ﷺ heard the caller to prayer, he would say: "O Allah, Lord of this perfect call and established prayer, send blessings upon Muḥammad and grant him his request on the Day of Resurrection." He would make those around him hear it, and he loved that they should say the like of that when they heard the caller. He ﷺ said: > **"Whoever says the like of that when he hears the caller to prayer, the intercession of Muḥammad ﷺ becomes binding for him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب مؤذن کو اذان دیتے ہوئے ) سنتے تھے تو یہ پڑھتے تھے ( یعنی اذان کے بعد یہ دعا مانگتے تھے : ) ’’ اے اللہ ! اے اس مکمل دعوت اور اس کے نتیجے میں کھڑی ہونے والی نماز کے پروردگار تو حضرت محمد ﷺ پر درود نازل فرما اور قیامت کے دن انہوں نے جو مانگا ہے وہ انہیں عطا فرما ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ اپنے آس پاس موجود افراد کو یہ کلمات ( بلند آواز میں پڑھ کر ) سناتے تھے ‘ اور آپ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ وہ لوگ بھی اس کی مانند دعا مانگیں جب وہ مؤذن کو سنیں آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص مؤذن کو سنے ( اور اذان مکمل ہونے کے بعد ) اس کی مانند کلمات پڑھے اس کے لئے قیامت کے دن حضرت محمد ﷺ کی شفاعت واجب ہو جائے گی “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ‘ جسے امام احمد امام بخاری امام مسلم اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جب کہ دحیم ابوحاتم اور احمد بن صالح مصری نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

1879

Majma al-Zawaid #1879

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ قَالَ: "" اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، صَلِّ عَلَى عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، وَاجْعَلْنَا فِي شَفَاعَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ قَالَ هَذَا عِنْدَ النِّدَاءِ جَعَلَهُ اللَّهُ فِي شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَدَقَةُ الْمَذْكُورُ قَبْلَ هَذَا الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported: Whenever the Messenger of Allah ﷺ heard the call to prayer, he would say: "O Allah, Lord of this perfect call and established prayer, send blessings upon Your servant and Messenger, and place us within his intercession on the Day of Resurrection." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever says this upon hearing the call, Allah will place him within my intercession on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب اذان سنتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : ” اے اللہ ! اے اس مکمل دعوت اور اس کے نتیجے میں کھڑی ہونے والی نماز کے پروردگار تو اپنے بندے اور اپنے رسول پر درود نازل فرما اور ہمیں قیامت کے دن ان کی شفاعت نصیب فرما ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : جو شخص اذان کے بعد یہ دعا پڑھ لیتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو میری شفاعت نصیب کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں صدقہ نامی وہی راوی ہے ‘ جو اس سے پہلے والی حدیث میں ذکر ہو چکا ہے ۔

1880

Majma al-Zawaid #1880

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «سَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ ; فَإِنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهَا لِي عَبْدٌ فِي الدُّنْيَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ إِذَا رَوَى عَنِ الثِّقَاتِ. قُلْتُ: وَهَذَا مِنْ رِوَايَتِهِ عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Ask Allah to grant me al-Wasīlah; for no servant asks it for me in this worldly life except that I shall be a witness or an intercessor for him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلہ کی دعا مانگو کیونکہ جو بھی بندہ دنیا میں میرے لئے اسے مانگے گا قیامت کے دن میں اس شخص کا گواہ اور شفاعت کرنے والا ہوؤں گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن عبدالملک حرانی ہے ‘ جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ اور انہوں نے یہ بات بیان کی ہے یہ مستقیم الحدیث ہے ‘ جب یہ ’’ ثقہ ‘‘ راویوں سے روایت نقل کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت اس نے موسیٰ بن امین سے نقل کی ہے ’ اور وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ۔

1881

Majma al-Zawaid #1881

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَلِّغْهُ دَرَجَةَ الْوَسِيلَةِ عِنْدَكَ، وَاجْعَلْنَا فِي شَفَاعَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - وَجَبَتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ لَيَّنَهُ الْحَاكِمُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Prophet of Allah ﷺ said: > **"Whoever hears the call to prayer and says: 'I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah alone, without partner, and that Muḥammad is His servant and His Messenger; O Allah, send blessings upon Muḥammad, elevate him to the station of al-Wasīlah with You, and place us within his intercession on the Day of Resurrection'—intercession becomes incumbent for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اذان سننے کے بعد یہ کلمات پڑھے : ’’ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اے اللہ ! تو حضرت محمد ﷺ پر درود نازل فرما اور انہیں اپنی بارگاہ میں وسیلہ کے درجہ تک پہنچا دے اور قیامت کے دن ہمیں ان کی شفاعت سے بہرہ مند فرما ‘‘ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) تو اس شخص کے لئے شفاعت واجب ہو جاتی ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن کیسان ہے ‘ جسے امام حاکم نے کمزور قرار دیا ہے ‘ اور ابن حبان نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1882

Majma al-Zawaid #1882

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَقُولُ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ، يُكَبِّرُ وَيُكَبِّرُ، وَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَاجْعَلْ فِي الْأَعْلَيْنَ دَرَجَتَهُ، وَفِي الْمُصْطَفَيْنَ مَحَبَّتَهُ، وَفِي الْمُقَرَّبِينَ ذِكْرَهُ - إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"No Muslim says upon hearing the call to prayer—magnifying Allah when the caller magnifies, testifying that there is no deity worthy of worship except Allah, and testifying that Muḥammad is the Messenger of Allah—and then says: 'O Allah, grant Muḥammad al-Wasīlah and supreme excellence, place his degree among the highest of the high (al-ʿIlliyyūn), place his love among the chosen ones, and place his remembrance among those brought near'—except that intercession becomes incumbent for him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو بھی مسلمان اذان سننے کے دوران جب مؤذن تکبیر کہے ‘ تو وہ بھی تکبیر کہے ‘ جب وہ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اس بات کی گواہی دے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ( تو سننے والا بھی یہی کلمات پڑھے ) اور پھر وہ یہ دعا مانگے : ’’ اے اللہ ! تو حضرت محمد ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور ’’ اعلین ‘‘ میں ان کے درجات بنا دے اور برگزیدہ بندوں میں ان کی محبت رکھ دے اور مقرب لوگوں میں ان کا ذکر رکھ دے ‘‘۔ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) تو قیامت کے دن اس شخص کے لئے شفاعت واجب ہو جائے گی “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1883

Majma al-Zawaid #1883

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ قَالَ: أَشْهَدُ بِهَا مَعَ كُلِّ شَاهِدٍ، وَأَتَحَمَّلُ بِهَا عَلَى كُلِّ جَاحِدٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that whenever he heard the caller calling the adhān, he would say: > **"I bear witness to it alongside every witness who testifies, and I take it upon myself against every denier who rejects it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب وہ مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے تھے تو یہ کہتے تھے : ہر گواہ کے ہمراہ میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں ‘ اور ہر منکر کے خلاف میں اس کلمہ کو اختیار کرتا ہوں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1884

Majma al-Zawaid #1884

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When the caller to prayer proclaims the adhān, the gates of heaven are opened."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب مؤذن اذان دیتا ہے ‘ تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ‘ جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

1885

Majma al-Zawaid #1885

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَلَا إِنَّ الدُّعَاءَ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ ; فَادْعُوا» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ خَلَا قَوْلِهِ: "" فَادْعُوا "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِي بَعْضِ طُرُقِهِ: "" مُسْتَجَابٌ "". وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Behold! Indeed, supplication is never rejected between the adhān and the iqāmah; so make supplication!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ خبردار ! اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا مسترد نہیں ہوتی ہے ‘ تو تم لوگ ( اس مخصوص وقت میں ) دعا کرو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے بھی نقل کی ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :’’ تم لوگ دعا کرو “۔ یہ روایت امام ابو یعلی نے نقل کی ہے اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : ” مستجاب ہوتی ہے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں بھی یزید رقاشی نامی راوی ہے ۔

1886

Majma al-Zawaid #1886

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّوْحَاءِ حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَ التَّأْذِينِ، وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ النَّاسُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ used to say: > **"When the call to prayer is proclaimed, Satan turns his back and flees as far as al-Rawḥāʾ so that he does not hear the sound of the adhān; the gates of heaven are opened wide, and supplication is answered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے ‘ تو شیطان پیٹھ پھیر کر روحاء تک چلا جاتا ہے جہاں اسے اذان کی آواز سنائی نہ دے ( جب اذان ہوتی ہے ) تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ‘ اور دعا مستجاب ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ‘ جسے لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

1887

Majma al-Zawaid #1887

عَنْ بِلَالٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا أَذَّنْتَ فَاجْعَلْ إِصْبَعَيْكَ فِي أُذُنَيْكَ ; فَإِنَّهُ أَرْفَعُ لِصَوْتِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمَّارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Bilāl رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When you call the adhān, place your two fingers in your ears, for indeed that makes your voice louder and carry further."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم اذان دو تو اپنی انگلیاں کانوں میں ڈال لیا کرو کیونکہ اس طرح تمہاری آواز زیادہ بلند ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عمار ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1888

Majma al-Zawaid #1888

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ لَهُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ السَّفَرِ إِلَّا بِالْإِقَامَةِ إِلَّا الصُّبْحَ ; فَإِنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Muṭʿim رضي الله عنه narrated: > **"The Messenger of Allah ﷺ would not have the adhān called for any prayer during travel, sufficing only with the iqāmah, except for the dawn prayer (Ṣubḥ); for indeed, he would have both the adhān and the iqāmah called for it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سفر کے دوران نماز ادا کرتے ہوئے اذان نہیں دلواتے تھے صرف اقامت کہلوایا کرتے تھے البتہ صبح کی نماز کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ اس کے لئے آپ اذان دلواتے تھے ‘ اور اقامت کہلواتے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1889

Majma al-Zawaid #1889

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «لَمْ يَكُنْ يُؤَذِّنُ فِي السَّفَرِ إِلَّا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَّا الْإِقَامَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: لَمْ نَرَ إِلَّا خَيْرًا. وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: يُخْطِئُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAdī رضي الله عنه reported: > **"The Prophet ﷺ would not have the adhān called during travel except for the dawn prayer, calling only the iqāmah for other prayers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سفر کے دوران اذان نہیں دلواتے تھے صرف صبح کی نماز میں اذان دلواتے تھے آپ اقامت کہلوایا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے امام بخاری فرماتے ہیں : ہمیں صرف بھلائی کا علم ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ اور یہ بات بیان کی ہے : یہ غلطی کرتا ہے ۔

1890

Majma al-Zawaid #1890

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ سَمِعَ مُنَادِيًا يُنَادِي: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَلَى الْفِطْرَةِ ""، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خَرَجَ مِنَ النَّارِ "". فَابْتَدَرْنَاهُ فَإِذَا هُوَ صَاحَبُ مَاشِيَةٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَنَادَى بِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported: While we were with the Messenger of Allah ﷺ on one of his journeys, he heard a caller proclaiming: "Allāhu Akbar, Allāhu Akbar." The Prophet of Allah ﷺ remarked: "He is upon the primordial nature (al-Fiṭrah)." The caller then said: "Ashhadu allā ilāha illallāh." The Prophet of Allah ﷺ remarked: > **"He has exited from the Fire!"** We hurried toward him, and behold, he was a shepherd tending livestock whom the prayer time had reached, so he proclaimed the call for it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سفر کے دوران ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے آپ نے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا اس نے اللہ اکبر اللہ اکبر پڑھا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ فطرت پر ہے ‘ اس نے «اشہد ان لا اله الا اللہ» پڑھا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ جہنم سے نکل گیا ہم لپک کر اس شخص کی طرف گئے تو وہ جانوروں میں موجود ایک شخص تھا نماز کا وقت ہو گیا تو اس نے اس کے لئے اذان دی تھی یہ روایت امام احمد نے امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

1891

Majma al-Zawaid #1891

«وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذْ سَمِعَ مُنَادِيًا يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ: "" عَلَى الْفِطْرَةِ ""، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ: "" شَهِدَ بِشَهَادَةِ الْحَقِّ ""، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: "" خَرَجَ مِنَ النَّارِ، انْظُرُوا فَسَتَجِدُونَهُ إِمَّا رَاعِيًا مَعْزِيًّا وَإِمَّا مُكَلِّبًا، فَنَظَّرُوهُ فَوَجَدُوهُ رَاعِيًا حَضَرَتْهُ الصَّلَاةُ فَنَادَى بِهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported: While the Messenger of Allah ﷺ was on one of his journeys, he heard a caller proclaiming: "Allāhu Akbar, Allāhu Akbar." He ﷺ said: "He is upon the primordial nature." The caller said: "Ashhadu allā ilāha illallāh." He ﷺ said: "He has testified with the testimony of truth." The caller said: "Ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh." The Prophet ﷺ said: > **"He has exited from the Fire! Look, and you will find him to be either a solitary goat shepherd or a hunter with hunting dogs."** They went and looked, and they found him to be a shepherd who was reached by the prayer time, so he proclaimed the call for it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک سفر کے دوران نبی اکرم ﷺ نے موذن کو «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ» کہتے ہوئے سنا تو ارشاد فرمایا : یہ فطرت پر ہے ‘ اس نے «اَشهَدُ اَنْ لا اله الا اللہ» پڑھا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس نے حق کے ہمراہ گواہی دی ہے ‘ اس نے «اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللہ» پڑھا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ جہنم سے نکل گیا تم لوگ اس کا جائزہ لو تم اسے پاؤ گے یا تو یہ چرواہا ہو گا ‘ جو گھر والوں سے دور ہو گا یا کتوں کے ساتھ شکار کرنے والا کوئی شخص ہو گا ‘ جب لوگوں نے اس کا جائزہ لیا تو انہوں نے اسے پایا کہ وہ ایک چرواہا تھا ‘ جسے نماز کا وقت ہو گیا تھا تو اس نے نماز کے لئے اذان دی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک قرشی ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1892

Majma al-Zawaid #1892

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ مُؤَذِّنًا يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "". قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ""، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَجِدُونَهُ رَاعِيَ غَنَمٍ أَوْ عَازِبًا عَنْ أَهْلِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ: قَالَ: «فَهَبَطَ الْوَادِيَ، فَإِذَا هُوَ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ، فَقَالَ: "" أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا؟ "" قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "" الدُّنْيَا عَلَى اللَّهِ أَهْوَنُ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا» "". وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Rabīʿah al-Sulamī رضي الله عنه narrated: The Prophet ﷺ was on a journey when he heard a caller saying: "Ashhadu allā ilāha illallāh." The Prophet ﷺ said: "I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah." The caller said: "Ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh." The Messenger of Allah ﷺ said: "I bear witness that Muḥammad is the Messenger of Allah." The Prophet ﷺ then said: "You will find him to be a shepherd of sheep or a man away from his family." They descended into the valley and came upon a dead sheep. The Prophet ﷺ asked: "Do you see this dead sheep as insignificant to its owners?" They replied: "Yes." He ﷺ said: > **"The worldly life is more insignificant in the sight of Allah than this dead sheep is to its owners."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ربیعہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک سفر میں تھے آپ نے مؤذن کو یہ کہتے ہوئے سنا «اشهد ان لا اله الا الله» نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اس مؤذن نے کہا «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہ» نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں پھر نبی کرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اسے بکریوں کا چرواہا یا اپنے اہل خانہ سے دور شخص پاؤ گے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : جب وہ وادی کے نشیبی حصے میں آئے تو وہاں ایک مردار بکری موجود تھی آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ اپنے مالک کے نزدیک یہ بے حیثیت ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دنیا ‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے جتنی یہ ( مردہ بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ‘‘۔ اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

1893

Majma al-Zawaid #1893

«وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ مُؤَذِّنًا يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خَلَعَ الْأَنْدَادَ ""، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: "" خَرَجَ مِنَ النَّارِ ""، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَجِدُونَهُ صَاحِبَ مِعْزًى مَعْزِبًا أَوْ صَاحِبَ كِلَابٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Juḥayfah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ was on a journey when he heard a caller saying: "Ashhadu allā ilāha illallāh." The Messenger of Allah ﷺ said: "He has cast off all rivals [unto Allah]." The caller said: "Ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh." The Prophet ﷺ said: "He has exited from the Fire." Then the Messenger of Allah ﷺ said: > **"You will find him to be an isolated goat shepherd far from his kin, or a keeper of hunting hounds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابو حجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سفر کر رہے تھے آپ نے مؤذن کو «اشهد ان لا الہ الا اللہ» کہتے ہوئے سنا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس نے شرک کرنے سے لاتعلقی اختیار کی اس نے کہا : «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّه» تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ جہنم سے نکل گیا پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس شخص کو پاؤ گے جو گھر والوں سے الگ تھلگ ہو گا یا کتوں کے ساتھ ہو گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1894

Majma al-Zawaid #1894

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ فَسَمِعَ قَائِلًا يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعْوَةُ الْحَقِّ ""، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ ""، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خَرَجَ صَاحِبُهَا مِنَ النَّارِ ""، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَجِدُونَ هَذَا صَاحِبَ مِعْزًى أَوْ صَاحِبَ كِلَابٍ يَتَصَيَّدُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حِبَّانَ ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: رُبَّمَا خَالَفَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Juḥayfah رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ was on a march when he heard someone proclaiming: "Allāhu Akbar, Allāhu Akbar." The Prophet ﷺ said: "The call of truth." The caller said: "Ashhadu allā ilāha illallāh." The Prophet ﷺ said: "The word of pure sincerity (al-Ikhlāṣ)." The caller said: "Ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh." The Prophet ﷺ said: > **"Its speaker has exited from the Fire! You will find this person to be a goat shepherd or a hunter pursuing game with dogs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابو حجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سفر کر رہے تھے آپ نے کسی شخص کو اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے ہوئے سنا ( یعنی اذان دیتے ہوئے سنا ) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ حق کی دعوت ہے ‘ اس نے کہا «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اخلاص کا کلمہ ہے ‘ اس نے پڑھا «اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہ» تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ کہنے والا شخص جہنم سے نکل گیا پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس شخص کو پاؤ گے یہ الگ تھلگ رہ رہا ہو گا یا یہ کتوں والا شخص ہو گا ‘ جو شکار کر رہا ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن حبان ہے ‘ جسے امام ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ اور یہ بات بیان کی ہے کہ یہ بعض اوقات دوسروں کے برخلاف روایت نقل کرتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1895

Majma al-Zawaid #1895

«وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: "" خَرَجَ مِنَ الشِّرْكِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated: We were with the Prophet ﷺ on a journey when he heard a man saying, "Allāhu Akbar, Allāhu Akbar; Ashhadu an lā ilāha illā Allāh, Ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh." Thereupon, the Prophet ﷺ said: > **"He has exited from polytheism."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ہم نے ایک شخص کو «اللہ أَكْبَرَ اللَّهُ أَكْبَرَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہ» کہتے ہوئے سنا ( یعنی اذان دیتے ہوئے سنا ) تو ارشاد فرمایا : یہ شرک سے نکل گیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1896

Majma al-Zawaid #1896

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى رَاحِلَتِهِ الْجَدْعَاءِ، فَلَمَّا بَرَزَ سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَمِعُ، فَلَمَّا قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ; قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" شَهِدَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ شَهَادَةَ الْحَقِّ ""، فَلَمَّا قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ; قَالَ: "" نَرَى هَذَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ خَرَجَ مِنَ النَّارِ "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَذَا صَاحِبُ كِلَابٍ "" فَذَهَبَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَوَجَدُوهُ كَذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated: The Prophet ﷺ went out one day accompanied by Abū Bakr, ʿUmar, Zayd ibn Thābit, ʿAbdullāh ibn Masʿūd, Ubayy ibn Kaʿb, and ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهم, while the Prophet ﷺ was riding his she-camel, al-Jadʿāʾ. When he emerged into the open ground, the Prophet ﷺ heard a man proclaiming, "Allāhu Akbar, Allāhu Akbar." The Prophet ﷺ paused to listen. When the man repeated, "Allāhu Akbar, Allāhu Akbar," the Prophet ﷺ said: > **"By the One in Whose Hand is my soul, he has borne the testimony of truth."** When the man said, "Ashhadu an lā ilāha illā Allāh" (I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah), the Prophet ﷺ said three times: > **"By the One in Whose Hand is my soul, I consider that this man has been delivered from the Fire."** Then the Prophet ﷺ remarked: > **"This man is a huntsman with hounds."** So Ibn Masʿūd and Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما went to see, and they found him to be exactly as he described.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ باہر نکلے آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر حضرت عمر حضرت زید بن ثابت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم تھے نبی اکرم ﷺ اپنی اونٹنی جدعاء پر سوار تھے جب آپ آبادی سے باہر تشریف لائے تو آپ نے ایک شخص کو اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے ہوئے سنا نبی اکرم ﷺ ٹھہر گئے اور غور سے سننے لگے جب اس نے اللہ اکبر اللہ اکبر پڑھا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ‘ اس نے حق والی گواہی دی ہے ‘ جب اس نے «اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» پڑھا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس شخص کے بارے میں میں یہ سمجھتا ہوں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ جہنم سے نکل گیا یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ کتوں والا شخص ہو گا ( جو شکار کے لئے نکلا ہو گا ) ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما گئے تو انہوں نے اس شخص کو ایسا ہی پایا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

1897

Majma al-Zawaid #1897

وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعَ رَجُلًا يُؤَذِّنُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَلَى الْفِطْرَةِ ""، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ: "" شَهِدَ الْحَقَّ ""، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: "" خَرَجَ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ عَجْلَانَ وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِالْكَذِبِ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Ṣafwān ibn ʿAssāl رضي الله عنه narrated: While we were in the company of the Messenger of Allah ﷺ, he heard a man calling the Adhān. The Prophet ﷺ said: > **"[He is] upon the primordial disposition (al-Fiṭrah)."** When the man said, "Ashhadu an lā ilāha illā Allāh" (I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah), the Prophet ﷺ said: > **"He has testified to the truth."** When he said, "Ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh" (I bear witness that Muḥammad is the Messenger of Allah), he ﷺ said: > **"He has been delivered from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے اسی دوران آپ نے ایک شخص کو اذان دیتے ہوئے سنا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ فطرت پر ہے ‘ اس نے کہا «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس نے حق گواہی دی ہے ‘ اس نے پڑھا : «اشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّہ» تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ جہنم سے نکل گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن عجلان ہے ، جس پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ‘ اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

1898

Majma al-Zawaid #1898

«عَنْ سَعْدٍ الْقَرَظِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ أَيَّ سَاعَةٍ أَتَى قُبَاءً أَذَّنَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ لِأَنْ يَعْلَمَ النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ جَاءَ، فَيَجْتَمِعُونَ إِلَيْهِ، فَأَتَى يَوْمًا وَلَيْسَ مَعَهُ بِلَالٌ، فَنَظَرَ زُنُوجٌ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَرَقِيَ سَعْدٌ فِي عِذْقٍ فَأَذَّنَ بِالْأَذَانِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تُؤَذِّنَ يَا سَعْدُ؟ "" قَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي رَأَيْتُكَ فِي قِلَّةٍ مِنَ النَّاسِ، وَلَمْ أَرَ بِلَالًا مَعَكَ، وَرَأَيْتُ هَؤُلَاءِ الزُّنُوجَ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْكَ، فَخَشِيتُ عَلَيْكَ مِنْهُمْ فَأَذَّنْتُ. قَالَ: "" أَصَبْتَ يَا سَعْدُ، إِذَا لَمْ تَرَ بِلَالًا مَعِي فَأَذِّنْ "" فَأَذَّنَ سَعْدٌ ثَلَاثَ مِرَارٍ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿd al-Qaraẓ رضي الله عنه narrated that whenever the Prophet ﷺ came to Qubāʾ at any hour, Bilāl would call the Adhān so that the people would know that the Messenger of Allah ﷺ had arrived and gather around him. One day, the Prophet ﷺ arrived without Bilāl accompanying him. Some Abyssinians began looking toward one another. Thereupon, Saʿd climbed up a date-palm trunk and called the Adhān. The Messenger of Allah ﷺ asked him: > **"What prompted you to call the Adhān, O Saʿd?"** He replied, "May my father and mother be ransomed for you! I saw you with only a few people, and I did not see Bilāl with you. I noticed those Abyssinians looking at one another and gazing toward you, so I feared for you on their account and called the Adhān." The Prophet ﷺ said: > **"You did rightly, O Saʿd. Whenever you do not see Bilāl with me, call the Adhān."** Thus, Saʿd called the Adhān three times during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد القرظ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جس وقت قباء تشریف لاتے تھے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان دے دیتے تھے تاکہ لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے ہیں تاکہ لوگ آپ کی خدمت میں اکھٹے ہوئیں ۔ ایک دن آپ تشریف لائے آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نہیں تھے لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر حضرت سعد کھجور کے درخت پر چڑھے اور اذان دے دی نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : اے سعد ! تم نے کیوں اذان دی ہے انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے آپ کو دیکھا کہ لوگ آپ کے پاس کم ہیں ‘ اور میں نے آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بھی نہیں دیکھا اور میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ یہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہیں ‘ اور آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں ‘ تو مجھے ان کے حوالے سے آپ کے خلاف اندیشہ ہوا ( کہ کہیں یہ آپ کو نقصان نہ پہنچائیں ) تو میں نے اذان دے دی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے سعد ! تم نے ٹھیک کیا ہے ‘ جب تم میرے ساتھ بلال کو نہ دیکھو تو تم اذان دے دیا کرو ! راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں تین مرتبہ اذان دی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سعد بن عمار ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1899

Majma al-Zawaid #1899

عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ قَالَ: «جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَذَانَ لَنَا وَلِمَوَالِينَا، وَالسِّقَايَةَ لِبَنِي هَاشِمٍ، وَالْحِجَامَةَ لِبَنِي عَبْدِ الدَّارِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abū Maḥdhūrah رضي الله عنه said: > **"The Messenger of Allah ﷺ assigned the Adhān to us and to our freed slaves, the provision of water (al-Siqāyah) to Banū Hāshim, and the service of [custodianship] to Banū ʿAbd al-Dār."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومحذوره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ( مکہ مکرمہ میں ) اذان ہمارے لئے اور ہمارے موالی کے لئے مقرر کی تھی سقایہ بنو باشم کے لئے اور حجامہ بنو عبددار کے لئے مقرر کیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

1900

Majma al-Zawaid #1900

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدَانَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ، وَالْحُكْمُ فِي الْأَنْصَارِ، وَالدَّعْوَةُ فِي الْحَبَشَةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿUtbah ibn ʿAbdān al-Sulamī رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"The Caliphate belongs to Quraysh, governance and judicial authority to the Anṣār, and the call to prayer (al-Daʿwah) to the Abyssinians."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عبدان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ خلافت قریش میں رہے گی حکم ( یعنی عدالتی فیصلہ کرنے کا منصب ) انصار میں رہے گا ‘ اور دعوت حبشیوں میں رہے گی “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1901

Majma al-Zawaid #1901

وَعَنْ أَبِي أُسِيدٍ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ جَاءَهُ أَبُو مَحْذُورَةَ فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي أَنْ أُؤَذِّنَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَذِّنْ ""، فَكَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَخَلَّفَ أَبُو مَحْذُورَةَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ الَّذِي رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي الْخِلَافَةِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ -.

EnglishUnverified translation

Abū Usayd رضي الله عنه narrated: When the Messenger of Allah ﷺ arrived in Makkah, Abū Maḥdhūrah came to him and said, "O Messenger of Allah, grant me permission to call the Adhān." The Messenger of Allah ﷺ said to him: > **"Call the Adhān."** Bilāl used to call the Adhān while the Prophet ﷺ was in Makkah, and when the Messenger of Allah ﷺ departed, Abū Maḥdhūrah remained behind [as the muezzin of Makkah].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مکہ تشریف لائے تو حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اذان دیا کروں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا تم اذان دو تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان دیا کرتے تھے جب نبی اکرم ﷺ واپس تشریف لے گئے تو پھر حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث جسے امام ترمندی نے روایت کیا ہے وہ خلافت سے متعلق باب میں آگے آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔

1902

Majma al-Zawaid #1902

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The Imām is a guarantor, and the muezzin is a trustee."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ امام ضامن ہوتا ہے ‘ اور مؤذن کو امین بنایا گیا ہے “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1903

Majma al-Zawaid #1903

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ "" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ تَرَكْتَنَا نَتَنَافَسُ فِي الْأَذَانِ بَعْدَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهُ يَكُونُ بَعْدِي - أَوْ بَعْدَكُمْ - قَوْمٌ سَفَلَتُهُمْ مُؤَذِّنُوهُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ كُلُّهُمْ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The Imām is a guarantor and the muezzin is a trustee. O Allah, guide the Imāms and forgive the muezzins."** They said, "O Messenger of Allah, you have made us compete with one another for calling the Adhān after you." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, there will come after me—or after you—a people whose muezzins will be the lowest among them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ امام ضامن ہوتا ہے ‘ اور مؤذن امین ہوتا ہے اے اللہ ! اماموں کی رہنمائی فرما اور اذان دینے والوں کی مغفرت کر دے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں ایسی حالت میں کر دیا ہے کہ آپ کے بعد ہم اذان کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کریں گے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے بعد ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) تمہارے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن کے مؤذن ان کے بے وقوف لوگ ہوں گے “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے تمام رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1904

Majma al-Zawaid #1904

وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ وَاهْدِ الْأَئِمَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَنَاحٌ مَوْلَى الْوَلِيدِ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah ibn al-Asqaʿ رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The Imām is a guarantor and the muezzin is a trustee. O Allah, forgive the muezzins and guide the Imāms."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ امام ضامن ہوتا ہے ‘ اور مؤذن امین ہوتا ہے اے اللہ مؤذنین کی مغفرت کر دے اور ائمہ کی رہنمائی فرما ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جناح ہے ‘ جو ولید کا غلام ہے ازدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام ابن حبان نے اس کا تذکرہ الثقات میں کیا ہے ۔

1905

Majma al-Zawaid #1905

وَعَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْمُؤَذِّنُونَ أُمَنَاءُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى فِطْرِهِمْ وَسُحُورِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Maḥdhūrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The muezzins are the trustees of the Muslims regarding their breaking of the fast and their pre-dawn meals (Suḥūr)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ موذنین مسلمانوں کی افطاری اور سحری کے حوالے سے ان کے امین ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

1906

Majma al-Zawaid #1906

عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ مُؤَذِّنُوكُمْ عُمْيَانَكُمْ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَلَا قُرَّاؤُكُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"I do not like that your muezzins should be your blind ones."** The narrator added: And I believe he also said: > **"Nor should they be your reciters."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تمہارے مؤذن تمہارے نابینا لوگ ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ تمہارے قاری ( تمہارے نابینا لوگ ہوں ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1907

Majma al-Zawaid #1907

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنْ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ مِنْ هَذَا فِي الصِّيَامِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَإِنَّمَا ذَكَرْتُ هَذَا لِمَا وَرَدَ مِنْ كَرَاهِيَةِ أَذَانِ الْأَعْمَى.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thābit رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Bilāl calls the Adhān during the night, so eat and drink until Ibn Umm Maktūm calls the Adhān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بلال رات میں ہی ( یعنی صبح صادق ہونے سے کچھ پہلے ہی ) اذان دے دیتا ہے ‘ تو تم کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم اذان نہیں دیتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث روزوں سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا میں نے اس کا ذکر اس لئے کیا ہے کیونکہ نابینا شخص کے اذان دینے کا مکروہ ہونا منقول ہے ۔

1908

Majma al-Zawaid #1908

«عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَجْعَلَنِي إِمَامَ قَوْمِي فَقَالَ: "" صَلِّ بِصَلَاةِ أَضْعَفِ الْقَوْمِ، وَلَا تَتَّخِذْ مُؤَذِّنًا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ سَعْدٍ الْقُطَعِيِّ عَنْهُ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Mughīrah ibn Shuʿbah رضي الله عنه narrated: I asked the Messenger of Allah ﷺ to appoint me as the Imām of my people, so he ﷺ said: > **"Lead the prayer according to the prayer of the weakest among the people, and do not appoint a muezzin who takes a wage for his Adhān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ مجھے میری قوم کا امام مقرر کر دیں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم حاضرین میں سے سب سے کمزور شخص کی نماز کے مطابق نماز ادا کرنا اور کسی ایسے شخص کو مؤذن نہ بنانا جو اذان کا معاوضہ وصول کرتا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں سعد قطعی کے حوالے سے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ‘ اور میں نے کسی کو اس کا ( دینی سعد قطعی کا ) ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

1909

Majma al-Zawaid #1909

وَعَنْ يَحْيَى الْبَكَّاءِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَكِنِّي أُبْغِضُكَ فِي اللَّهِ، قَالَ: وَلِمَ؟ قَالَ: إِنَّكَ تَتَغَنَّى فِي أَذَانِكَ وَتَأْخُذُ عَلَيْهِ أَجْرًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَحْيَى الْبَكَّاءُ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو دَاوُدَ، وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ: كَانَ ثِقَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā al-Bakkāʾ narrated that a man said to ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما, "Indeed, I love you for the sake of Allah." Ibn ʿUmar replied: > **"But I hate you for the sake of Allah!"** The man asked, "And why is that?" He said: > **"Because you sing melodically in your Adhān and you accept payment for it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بکاء ، رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا : میں اللہ تعالیٰ کی خاطر آپ سے محبت کرتا ہوں تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تم سے بغض رکھتا ہوں اس شخص نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ تم اذان گا کر دیتے ہو اور اس کا معاوضہ وصول کرتے ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بکاء ہے ‘ جسے امام احمد امام ابوزرعہ امام ابوحاتم اور امام ابوداؤد نے ضعیف قرار دیا ہے یحیی بن سعید القطان نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ کہا ہے محمد بن سعد کہتے ہیں : اگر اللہ نے چاہا تو یہ ’’ ثقہ ‘‘ ہو گا ۔

1910

Majma al-Zawaid #1910

عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْمُؤَذِّنُ الْمُحْتَسِبُ كَالشَّهِيدِ يَتَشَحَّطُ فِي دَمِهِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ أَذَانِهِ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَإِنْ مَاتَ لَمْ يُدَوِّدْ فِي قَبْرِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الْقُسْطَانِيُّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The muezzin who calls the Adhān seeking divine reward is like a martyr drenched in his blood until he finishes his Adhān; everything moist and dry bears witness for him, and when he dies, his body does not decompose in his grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ثواب کی امید رکھنے والا مؤذن اس شہید کی مانند ہے ‘ جو اپنے خون میں لت پت ہو جاتا ہے ( وہ مؤذن اس حالت میں اس وقت تک شمار ہوتا ہے ) جب تک وہ اذان دے کر فارغ نہیں ہو جاتا اور اس کے حق میں ہر خشک اور تر چیز گواہی دے گی ‘ اور اگر وہ مر جائے تو اس کا جسم اس کی قبر میں خراب نہیں ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل قسطانی ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

1911

Majma al-Zawaid #1911

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْمُؤَذِّنُ الْمُحْتَسِبُ كَالشَّهِيدِ الْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ، إِذَا مَاتَ لَمْ يُدَوِّدْ فِي قَبْرِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رُسْتُمَ وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ تُعْرَفْ تَرْجَمَتُهُ، وَقَدْ تَقَدَّمَ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي فَضْلِ الْأَذَانِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The muezzin who calls the Adhān seeking divine reward is like the martyr drenched in his blood; when he dies, he does not decompose in his grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ثواب کی امید رکھنے والے موذن کی مثال اس شہید کی طرح ہے ‘ جو اپنے خون میں لت پت ہو جائے جب وہ ( یعنی مؤذن ) مرے گا ‘ تو اس کا جسم اس کی قبر میں خراب نہیں ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن رستم ہے ‘ جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا بھی ہے ‘ جس کے حالات کی شناخت نہیں ہو سکی اذان کی فضیلت کے بارے میں بہت سی احادیث پہلے گزر چکی ہیں ۔

1912

Majma al-Zawaid #1912

«عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَطَلَبَ بِلَالًا لِيُؤَذِّنَ [لَهُمْ] فَلَمْ يُوجَدْ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا فَأَذَّنَ، فَجَاءَ بِلَالٌ بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّمَا يُقِيمُ مَنْ أَذَّنَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ السَّمَّاكُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated: We were with the Prophet ﷺ, and he sought Bilāl to call the Adhān for them, but he was not found. So the Prophet ﷺ instructed another man, who then called the Adhān. Bilāl arrived afterward and intended to pronounce the Iqāmah, but the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Only the one who called the Adhān should pronounce the Iqāmah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلوایا تاکہ وہ لوگوں کے لئے اذان دیں وہ نہیں ملے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے اذان دی اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ آ گئے انہوں نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اقامت وہی شخص کہے ، جس نے اذان دی ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن راشد سماک ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1913

Majma al-Zawaid #1913

عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ وَعَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدُ صَلَّوْا بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ. قَالَ سُفْيَانُ: كَفَتْهُمْ إِقَامَةُ الْمِصْرِ، وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: إِقَامَةُ الْمِصْرِ تَكْفِي. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Ibrāhīm [al-Nakhaʿī] narrated that Ibn Masʿūd, ʿAlqamah, and al-Aswad prayed without calling the Adhān or Iqāmah. Sufyān said: "The Iqāmah of the city sufficed them." And in another narration, Ibn Masʿūd رضي الله عنه stated: > **"The Iqāmah of the city is sufficient."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور علقمہ اور اسود اذان ‘ اور اقامت کے بغیر نماز ادا کر لیتے تھے ۔ سفیان کہتے ہیں : ان لوگوں کے لئے شہر کی اقامت کفایت کر جاتی تھی ایک اور روایت کے مطابق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : شہر کی اقامت کفایت کر جاتی ہے ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ابراہیم نخعی نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

1914

Majma al-Zawaid #1914

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: شَغَلَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الصَّلَوَاتِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ إِلَّا أَنَّ ابْنَ عَدِيٍّ قَالَ: وَهُوَ مَعَ ضَعْفِهِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated: > **"The polytheists occupied the Messenger of Allah ﷺ away from the prayers of Ẓuhr, ʿAṣr, Maghrib, and ʿIshāʾ until a portion of the night had elapsed. Then the Messenger of Allah ﷺ instructed Bilāl, who called the Adhān and Iqāmah, and he prayed Ẓuhr; then he commanded him, and he called the Adhān and Iqāmah, and he prayed ʿAṣr; then he commanded him, and he called the Adhān and Iqāmah, and he prayed Maghrib; then he commanded him, and he called the Adhān and Iqāmah, and he prayed ʿIshāʾ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مشرکین نے نبی اکرم ﷺ کو ( جنگ کے دوران ) ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا نہیں کرنے دیں یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر اقامت کہی پھر نبی اکرم ﷺ نے ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ نے انہیں حکم دیا انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی تو نبی اکرم ﷺ نے عصر کی نماز ادا کی پھر آپ نے انہیں حکم دیا پھر انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی تو نبی اکرم ﷺ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر آپ نے انہیں حکم دیا انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی تو آپ نے عشاء کی نماز ادا کی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن ابوانیسہ ہے ‘ اور وہ محدثین کے نزدیک ’’ ضعیف ‘‘ ہے البتہ ابن عدی نے یہ کہا ہے ‘ اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی نقل کردہ حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔