«عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَنْ يُعَلِّمَ رَسُولَهُ الْأَذَانَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدَابَّةٍ يُقَالُ لَهَا: الْبُرَاقُ، فَذَهَبَ يَرْكَبُهَا فَاسْتَصْعَبَ، فَقَالَ لَهَا جِبْرِيلُ: اسْكُنِي، فَوَاللَّهِ مَا رَكِبَكِ عَبْدٌ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَرَكِبَهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْحِجَابِ الَّذِي يَلِي الرَّحْمَنَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -. قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ مَلَكٌ مِنَ الْحِجَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا جِبْرِيلُ مِنْ هَذَا؟ "" قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لِأَقْرَبُ الْخَلْقِ مَكَانًا، وَإِنَّ هَذَا الْمَلَكَ مَا رَأَيْتُهُ قَطُّ مُنْذُ خُلِقْتُ قَبْلَ سَاعَتِي هَذِهِ، فَقَالَ الْمَلَكُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ. قَالَ: فَقِيلَ لَهُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ: صَدَقَ عَبْدِي، أَنَا أَكْبَرُ أَنَا أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ الْمَلَكُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ: فَقِيلَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ: صَدَقَ عَبْدِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا، فَقَالَ الْمَلَكُ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: فَقِيلَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ: صَدَقَ عَبْدِي، أَنَا أَرْسَلْتُ مُحَمَّدًا. قَالَ الْمَلَكُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ. قَالَ: فَقِيلَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ: صَدَقَ عَبْدِي، أَنَا أَكْبَرُ أَنَا أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ: فَقِيلَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ: صَدَقَ عَبْدِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا. قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ الْمَلَكُ بِيَدِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدَّمَهُ، فَأَمَّ أَهْلَ السَّمَاءِ فِيهِمْ آدَمُ وَنُوحٌ». قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ: فَيَوْمَئِذٍ أَكْمَلَ اللَّهُ لِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الشَّرَفَ عَلَى أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.
EnglishUnverified translation
ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه narrated: When Allah, Blessed and Exalted, willed to teach His Messenger the adhān, Jibrīl عليه السلام brought him a riding beast called al-Burāq. As the Prophet went to mount it, it became restive, so Jibrīl said to it: "Be still! For by Allah, no servant more noble in the sight of Allah than Muḥammad ﷺ has ever mounted you." He mounted it until he reached the Veil that borders the Most Merciful, Blessed and Exalted. While he was in that state, an angel emerged from behind the Veil. The Messenger of Allah ﷺ asked: "O Jibrīl, who is this?" Jibrīl replied: "By the One Who sent you with the truth! I am the closest of creation in station, yet I have never seen this angel since I was created until this very hour." The angel proclaimed: "Allāhu Akbar, Allāhu Akbar (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest)." It was proclaimed from behind the Veil: "My servant has spoken the truth: I am the Greatest, I am the Greatest." The angel then said: "Ashhadu allā ilāha illallāh (I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah)." It was proclaimed from behind the Veil: "My servant has spoken the truth: there is no deity except Me." The angel said: "Ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh (I bear witness that Muḥammad is the Messenger of Allah)." It was proclaimed from behind the Veil: "My servant has spoken the truth: I have sent Muḥammad." The angel said: "Ḥayya ʿalā al-ṣalāh, ḥayya ʿalā al-falāḥ, qad qāmati al-ṣalāh (Come to prayer, come to success, the prayer has been established)." Then he said: "Allāhu Akbar, Allāhu Akbar." It was proclaimed from behind the Veil: "My servant has spoken the truth: I am the Greatest, I am the Greatest." Then he said: "Lā ilāha illallāh (There is no deity worthy of worship except Allah)." It was proclaimed from behind the Veil: "My servant has spoken the truth: there is no deity except Me." Then the angel took Muḥammad ﷺ by the hand and brought him forward, and he led the inhabitants of the heavens in prayer, among whom were Ādam and Nūḥ عليهما السلام. Abū Jaʿfar Muḥammad ibn ʿAlī [al-Bāqir] remarked: > **"On that day, Allah perfected for Muḥammad ﷺ supreme honor and preeminence over the inhabitants of the heavens and the earth."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے رسول کو اذان کا طریقہ تعلیم دے ‘ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک جانور لے کے آئے جسے براق کہا جاتا تھا نبی اکرم ﷺ اس پر سوار ہونے لگے ‘ تو وہ شوخی کرنے لگا حضرت جبرائیل نے اس سے کہا تم پر سکون ہو جاؤ اللہ کی قسم تم پر ایسا کوئی بندہ سوار نہیں ہوا جو اللہ تعالی کے نزدیک حضرت محمد ﷺ سے زیادہ معزز ہوراوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ اس پر سوار ہوئے یہاں تک کہ آپ اس حجاب تک پہنچ گئے جو رحمان کے پاس ہے آپ وہاں موجود تھے اسی دوران حجاب میں سے ایک فرشتہ باہر آیا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ کون ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے جگہ کے اعتبار سے میں مخلوق میں سے سب سے زیادہ قریب ہوں لیکن جب سے میں پیدا ہوا ہوں اس گھڑی سے پہلے میں نے اس فرشتے کو کبھی نہیں دیکھا اس فرشتے نے کہا اللہ اکبر اللہ اکبر تو حجاب کے پرے سے اس سے کہا گیا میرے بندے نے سچ کہا ہے میں سب سے بڑا ہوں میں سب سے بڑا ہوں پھر فرشتے نے یہ پڑھا میں اس بات کی گوہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ تو حجاب کے پیچھے سے یہ کہا گیا کہ میرے بندے نے سچ کہا ہے میرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے فرشتے نے کہا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو حجاب کے پیچھے سے کہا گیا میرے بندے نے سچ کہا ہے میں نے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا ہے فرشتے نے کہا نماز کی طرف آؤ کامیابی کی طرف آؤ نماز کھڑی ہو گئی ہے پھر اس نے کہا اللہ اکبر اللہ اکبر تو حجاب کے پیچھے سے کہا گیا میرے بندے نے سچ کہا ہے میں سب سے بڑا ہوں میں سب سے بڑا ہوں پھر فرشتے نے پڑھا «لا الہ الا اللہ» تو حجاب کے پیچھے سے کہا گیا میرے بندے نے سچ کہا ہے میرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے راوی بیان کرتے ہیں : پھر فرشتے نے حضرت محمد ﷺ کا ہاتھ پکڑا اور انہیں آگے کر دیا تو نبی اکرم ﷺ نے تمام آسمان والوں کی امامت کروائی جن میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام بھی موجود تھے امام ابو جعفر محمد بن علی ( یعنی امام باقر ) فرماتے ہیں : اس دن اللہ تعالیٰ نے تمام آسمان والوں اور زمین والوں پر حضرت محمد ﷺ کے شرف کو مکمل کر دیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن منذر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔