Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 4 · Chapter 7

Book of Prayer

Hadith 1835–1874

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1835

Majma al-Zawaid #1835

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو الصَّلْتِ الْبَصَرِيُّ، قَالَ الْمِزِّيُّ: رَوَى عَنْهُ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَلَمْ يَذْكُرْ غَيْرَهُ. وَقَدْ رَوَى عَنْهُ ابْنُهُ خَالِدُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ فِي الطَّبَرَانِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The callers to prayer will have the longest necks among all people on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قیامت کے دن اذان دینے والے لوگ سب سے زیادہ طویل گردن والے ہوں گے ‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوصلت بصری ہے ۔ امام مزی کہتے ہیں : علی بن زید نے اس سے روایت نقل کی ہے : انہوں نے اس کے علاوہ کسی اور کا ذکر نہیں کیا حالانکہ اس کے بیٹے خالد بن ابوصلت نے اس سے روایت نقل کی ہے ‘ جو معجم طبرانی نے مذکور ہے ‘ اور وہ یہ حدیث ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1836

Majma al-Zawaid #1836

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَدِمْتُ أَنْ لَا أَكُونَ طَلَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَجْعَلُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ مُؤَذِّنَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه said: > **"I regretted that I had not requested the Messenger of Allah ﷺ to appoint al-Ḥasan and al-Ḥusayn as callers to prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے یہ درخواست کیوں نہیں کی کہ آپ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو مؤذن مقرر کر دیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1837

Majma al-Zawaid #1837

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَانَا النِّدَاءَ. قُلْتُ: لِمَ؟ قَالَ: لِأَنَّهُمْ أَطْوَلُ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Zubayr رضي الله عنهما said: "I wished that the Prophet ﷺ had conferred the calling of the prayer upon us." It was asked: "Why is that?" He رضي الله عنه replied: > **"Because they will have the longest necks among the people of Paradise on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میری یہ خواہش تھی کہ نبی اکرم ﷺ اذان دینے کی خدمت ہمارے سپرد کر دیتے راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ انہوں نے فرمایا : کیونکہ قیامت کے دن اہل جنت میں سے ان کی گردنیں سب سے زیادہ لمبی ہوں گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے ‘ اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

1838

Majma al-Zawaid #1838

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوْ أَقْسَمْتُ لَبَرَرْتُ، إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ لَرُعَاةُ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ - يَعْنِي الْمُؤَذِّنِينَ - وَإِنَّهُمْ يُعْرَفُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِطُولِ أَعْنَاقِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ مَرْوَانَ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: اتَّهَمَهُ أَبُو حَاتِمٍ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Were I to swear an oath, I would surely be truthful: the most beloved of Allah's servants to Allah are the custodians of the sun and the moon—meaning the callers to prayer—and indeed, they will be recognized on the Day of Resurrection by the length of their necks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اگر میں قسم اٹھاؤں تو میں سچا ہوؤں گا ( وہ قسم اس بارے میں ہے ) کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ لوگ ہیں جو سورج اور چاند کا خیال رکھتے ہیں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ کی مراد اذان دینے والے لوگ تھے ۔ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) یہ لوگ قیامت کے دن اپنی طویل گردن کی وجہ سے پہچانے جائیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جنادہ بن مروان ہے امام ذہبی کہتے ہیں : ابو حاتم نے اس پر تہمت عائد کی ہے ۔

1839

Majma al-Zawaid #1839

وَعَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَنَسٍ - فِيمَا أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ - قَالَ: "" «الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالْأَعْمَشُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَنَسٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Aʿmash reported from Anas ibn Mālik رضي الله عنه that the Prophet ﷺ said: > **"The callers to prayer will have the longest necks among all people on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اعمش نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے اسے ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اذان دینے والے لوگ قیامت کے دن سب سے زیادہ طویل گردن والے ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اعمش نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

1840

Majma al-Zawaid #1840

وَعَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ خِيَارَ عِبَادِ اللَّهِ الَّذِينَ يُرَاعُونَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ لِذِكْرِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، [لَكِنَّهُ مَعْلُولٌ].

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Abī Awfā رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Indeed, the best of Allah's servants are those who watch the sun, the moon, and the stars for the remembrance of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن ابواوفی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ کے بندوں میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ذکر کے لئے سورج ‘ چاند اور ستاروں کا خیال رکھتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ تاہم یہ روایت معلول ہے ۔

1841

Majma al-Zawaid #1841

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ وَالْمُلَبِّينَ يَخْرُجُونَ مِنْ قُبُورِهِمْ يُؤَذِّنُ الْمُؤَذِّنُ وَيُلَبِّي الْمُلَبِّي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَجَاهِيلُ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمْ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Verily, the callers to prayer and those reciting the Talbiyah will emerge from their graves with the caller to prayer proclaiming the adhān and the pilgrim chanting the Talbiyah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ اذان دینے والے اور تلبیہ پڑھنے والے ( قیامت کے دن ) جب اپنی قبروں سے نکلیں گے ‘ تو مؤذن اذان دے رہا ہو گا ‘ اور تلبیہ پڑھنے والا تلبیہ پڑھ رہا ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں مجہول راوی ہیں ۔ میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

1842

Majma al-Zawaid #1842

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: عَلِّمْنِي أَوْ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ. قَالَ: "" كُنْ مُؤَذِّنًا "". قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ. قَالَ: "" كُنْ إِمَامًا "". قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ. قَالَ: "" فَقُمْ بِإِزَاءِ الْإِمَامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الضَّبِّيُّ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: A man came to the Prophet ﷺ and said: "Teach me or direct me to a deed that will admit me into Paradise." The Prophet ﷺ said: "Become a caller to prayer." The man said: "I cannot do that." The Prophet ﷺ said: "Become an imām." The man said: "I cannot do that." The Prophet ﷺ said: > **"Then stand directly opposite the imām [in the prayer row]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے تعلیم دیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ میری رہنمائی کسی ایسے عمل کی طرف کریں جو مجھے جنت میں داخل کروا دے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم مؤذن بن جاؤ اس نے عرض کی : میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم امام بن جاؤ اس نے عرض کی : میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم امام کے بالکل پیچھے کھڑے ہو ! یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل ضبی ہے ‘ اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

1843

Majma al-Zawaid #1843

«وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ شَيْخًا هَرِمًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ [صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكُمْ وَسَلَّمَ]، عَلِّمْنِي عَمَلًا أَتَقْرُبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ -. قَالَ: "" عَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "". قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، كَبِرْتُ عَنْ ذَلِكَ وَضَعُفْتُ. قَالَ: "" فَكُنْ مُؤَذِّنًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ قُرَيْبٌ وَالِدُ الْأَصْمَعِيِّ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated: An elderly, frail man came to the Prophet ﷺ and said: "O Messenger of Allah, teach me a deed through which I may draw near to Allah, my Lord, the Mighty and Sublime." The Prophet ﷺ said: "You must engage in jihād in the cause of Allah." The man said: "I cannot do that; I have grown too old and weak." The Prophet ﷺ said: > **"Then become a caller to prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں : ایک بوڑھا عمر رسیدہ شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کی تعلیم دیجئے جس کے ذریعے میں اللہ تعالی یعنی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں قرب حاصل کر لوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم پر اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنا لازم ہے ‘ اس نے عرض کی : میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا میری عمر زیادہ ہے ‘ اور میں کمزور ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو تم مؤذن بن جاؤ ! یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قریب ہے ‘ جو اصمعی کا والد ہے ‘ اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

1844

Majma al-Zawaid #1844

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْمُؤَذِّنُ الْمُحْتَسِبُ كَالشَّهِيدِ الْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ، يَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ مَا يَشْتَهِي بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رُسْتُمَ ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَيْسَ بِذَاكَ، وَمَحَلُّهُ الصِّدْقُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي بَابِ الْمُؤَذِّنِ الْمُحْتَسِبَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The caller to prayer who seeks reward solely from Allah is like the martyr drenched in his own blood; whatever he desires from Allah between the adhān and the iqāmah is granted to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ثواب کی امید رکھنے والا مؤذن اس شہید کی مانند ہے ‘ جو اپنے خون میں لت پت ہو جائے وہ مؤذن اذان اور اقامت کے درمیان جو بھی خواہش ہو اللہ تعالیٰ سے اس کی تمنا کر لے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن رستم ہے ‘ جسے ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے ‘ لیکن اس کا محل صدق ہے یحیی بن معین نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ثواب کی امید رکھنے والے موذن سے متعلق باب میں آئے گی ۔

1845

Majma al-Zawaid #1845

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا مَرَّةً وَمَرَّةً - حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ - لَمَا حَدَّثْتُ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «ثَلَاثٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَهُولُهُمُ الْفَزَعُ وَلَا يَفْزَعُونَ حِينَ يَفْزَعُ النَّاسُ: رَجُلٌ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَقَامَ بِهِ يَطْلُبُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ وَمَا عِنْدَهُ، وَرَجُلٌ نَادَى فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسَ صَلَوَاتٍ يَطْلُبُ وَجْهَ اللَّهِ وَمَا عِنْدَهُ، وَمَمْلُوكٌ لَمْ يَمْنَعْهُ رِقُّ الدُّنْيَا عَنْ طَاعَةِ رَبِّهِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بَحْرُ بْنُ كَنِيزٍ السَّقَّاءُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما said: "If I had not heard it from the Messenger of Allah ﷺ once and again—until he counted seven times—I would never have narrated it. I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: > **"Three kinds of people will be upon dunes of musk on the Day of Resurrection; terror will not overwhelm them, nor will they panic when mankind is gripped with terror: a man who learned the Qurʾān and stood by it, seeking thereby the Countenance of Allah and what is with Him; a man who called the five daily prayers each day and night, seeking thereby the Countenance of Allah and what is with Him; and a slave whose worldly servitude did not prevent him from the obedience of his Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اگر میں نے یہ بات نبی اکرم ﷺ کی زبانی ایک مرتبہ یا دو مرتبہ ‘ یہاں تک کے انہوں نے سات مرتبہ کا شمار کروایا کہ اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات اتنی مرتبہ نہ سنی ہوتی ‘ تو میں اس کو بیان نہ کرتا ‘ میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے گھبراہٹ انہیں متاثر نہیں کرے گی جب لوگ پریشان ہوں گے ‘ تو وہ پریشان نہیں ہوں گے وہ شخص جو قرآن کا علم حاصل کرے اور پھر اس کے ساتھ مصروف رہے ‘ اور اس کے ذریعے اللہ تعالی کی رضا مندی اور جو کچھ اس کے پاس ہے ‘ اس کی حصول کا خواہاں ہو اور وہ شخص جو روزانہ پانچ نمازوں کے لئے اذان دے وہ اس کے ذریعے اللہ تعالی کی رضامندی اور جو کچھ اس کے پاس ہے ‘ اس کے حصول کا خواہاں ہوں ‘ اور ایسا مملوک جو دنیا میں غلامی اسے اپنے پروردگار کی اطاعت سے نہ روکے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمندی نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بحر بن کنیز سقاء ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1846

Majma al-Zawaid #1846

وعنهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «ثَلَاثَةٌ لَا يَهُولُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ، وَلَا يَنَالُهُمُ الْحِسَابُ، هُمْ عَلَى كَثِيبٍ مِنْ مِسْكٍ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْ حِسَابِ الْخَلَائِقِ: رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَأَمَّ بِهِ قَوْمًا وَهُمْ رَاضُونَ بِهِ، وَدَاعٍ يَدْعُو إِلَى الصَّلَوَاتِ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، وَعَبْدٌ أَحْسَنَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ وَفِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَوَالِيهِ» "". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقْرِئُ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Three persons will not be overwhelmed by the Great Terror, nor will the Reckoning touch them; they shall abide upon a dune of musk until the reckoning of all creation is concluded: a man who recited the Qurʾān seeking the Countenance of Allah and led a people in prayer while they were well-pleased with him; a caller who summons to the prayers seeking the Countenance of Allah; and a servant who conducted himself excellently in what is between him and his Lord and in what is between him and his masters."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تین قسم کے لوگوں کو بڑی گھبراہٹ پریشانی کا شکار نہیں کرے گی انہیں حساب کا سامنا نہیں کرنا ہو گا ‘ اور جب تک مخلوق کا حساب ختم نہیں ہوتا اس وقت تک وہ لوگ مشک کے بنے ہوئے ٹیلوں پر موجود ہیں گے ‘ وہ شخص جس نے اللہ تعالی کی رضا کے حصول کے لئے قرآن پڑھا ہو اور اس کے حوالے سے لوگوں کی امامت کرتا ہو اور وہ لوگ اس سے راضی ہوں وہ بلانے والا شخص جو اللہ تعالی کی رضا کے حصول کے لئے نمازوں کی طرف بلاتا ہے ( یعنی اذان دیتا ہے ) اور وہ غلام جو اپنے اور اپنے پروردگار کے معاملات اور اپنے اور اپنے آقا کے معاملات کو احسن طریقے سے سرانجام دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں بھی نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالصمد بن عبدالعزیز مقری ہے ‘ جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔

1847

Majma al-Zawaid #1847

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا أُذِّنَ فِي قَرْيَةٍ أَمَّنَهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ عَذَابِهِ ذَلِكَ الْيَوْمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ "".

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whenever the adhān is called in a settlement, Allah, the Mighty and Sublime, grants it safety from His punishment on that day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب کسی بستی میں اذان دی جاتی ہے ‘ تو اللہ تعالی اس بستی کو اس دن کے لئے اپنے عذاب سے محفوظ کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سعد بن عمار ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

1848

Majma al-Zawaid #1848

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَيُّمَا قَوْمٍ نُودِيَ فِيهِمْ بِالْأَذَانِ صَبَاحًا إِلَّا كَانُوا فِي أَمَانِ اللَّهِ حَتَّى يُمْسُوا، وَأَيُّمَا قَوْمٍ نُودِيَ فِيهِمْ بِالْأَذَانِ مَسَاءً إِلَّا كَانُوا فِي أَمَانِ اللَّهِ حَتَّى يُصْبِحُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَغْلَبُ بْنُ تَمِيمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Maʿqil ibn Yasār رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is no people among whom the call to prayer is proclaimed in the morning except that they remain in the protection of Allah until evening; and there is no people among whom the call to prayer is proclaimed in the evening except that they remain in the protection of Allah until morning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جس بھی قوم کے درمیان صبح کے وقت اذان دی جاتی ہے ‘ تو شام ہونے تک وہ لوگ اللہ تعالی کی امان میں ہوتے ہیں ‘ اور جب بھی کسی قوم کے درمیان شام کے وقت اذان دی جاتی ہے ‘ تو صبح ہونے تک وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی امان میں ہوتے ہیں ‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اغلب بن تمیم ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1849

Majma al-Zawaid #1849

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَأْذَنُ اللَّهُ لِشَيْءٍ إِذْنَهُ لِلْأَذَانِ وَالصَّوْتِ الْحَسَنِ بِالْقُرْآنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَلَّامٌ الطَّوِيلُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ "".

EnglishUnverified translation

Maʿqil ibn Yasār رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah does not listen as attentively to anything as He listens to the adhān and to a beautiful voice reciting the Qurʾān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کی طرف اتنی توجہ نہیں دیتا جتنی توجہ وہ اذان کی طرف اور اچھی آواز میں قرآن کی تلاوت کی طرف دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلام طویل ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

1850

Majma al-Zawaid #1850

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ لِخَمْسٍ: لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَلِلِقَاءِ الزَّحْفَيْنِ، وَلِنُزُولِ الْقَطْرِ، وَلِدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، وَلِلْأَذَانِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسَدِيُّ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَابْنُ مَعِينٍ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ، وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: الْأَزْدِيَّ مَكَانَ الْأَسَدِيِّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The gates of heaven are opened for five things: the recitation of the Qurʾān, the clash of two opposing forces, the descent of rain, the supplication of the oppressed person, and the calling of the adhān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ پانچ چیزوں کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں قرآن کی تلاوت ، دشمنوں کا سامنا ‘ بارش کا نزول ‘ مظلوم کی دعا اور اذان ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان اسدی ہے ‘ جسے امام بخاری امام مسلم یحیی بن معین امام نسائی اور علی بن مدینی نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جب کہ امام احمد اور ابن حبان نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ تاہم انہوں نے لفظ اسدی کی جگہ لفظ ازدی نقل کیا ہے ۔

1851

Majma al-Zawaid #1851

«عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَنْ يُعَلِّمَ رَسُولَهُ الْأَذَانَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدَابَّةٍ يُقَالُ لَهَا: الْبُرَاقُ، فَذَهَبَ يَرْكَبُهَا فَاسْتَصْعَبَ، فَقَالَ لَهَا جِبْرِيلُ: اسْكُنِي، فَوَاللَّهِ مَا رَكِبَكِ عَبْدٌ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَرَكِبَهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْحِجَابِ الَّذِي يَلِي الرَّحْمَنَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -. قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ مَلَكٌ مِنَ الْحِجَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا جِبْرِيلُ مِنْ هَذَا؟ "" قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لِأَقْرَبُ الْخَلْقِ مَكَانًا، وَإِنَّ هَذَا الْمَلَكَ مَا رَأَيْتُهُ قَطُّ مُنْذُ خُلِقْتُ قَبْلَ سَاعَتِي هَذِهِ، فَقَالَ الْمَلَكُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ. قَالَ: فَقِيلَ لَهُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ: صَدَقَ عَبْدِي، أَنَا أَكْبَرُ أَنَا أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ الْمَلَكُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ: فَقِيلَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ: صَدَقَ عَبْدِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا، فَقَالَ الْمَلَكُ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: فَقِيلَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ: صَدَقَ عَبْدِي، أَنَا أَرْسَلْتُ مُحَمَّدًا. قَالَ الْمَلَكُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ. قَالَ: فَقِيلَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ: صَدَقَ عَبْدِي، أَنَا أَكْبَرُ أَنَا أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ: فَقِيلَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ: صَدَقَ عَبْدِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا. قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ الْمَلَكُ بِيَدِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدَّمَهُ، فَأَمَّ أَهْلَ السَّمَاءِ فِيهِمْ آدَمُ وَنُوحٌ». قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ: فَيَوْمَئِذٍ أَكْمَلَ اللَّهُ لِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الشَّرَفَ عَلَى أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه narrated: When Allah, Blessed and Exalted, willed to teach His Messenger the adhān, Jibrīl عليه السلام brought him a riding beast called al-Burāq. As the Prophet went to mount it, it became restive, so Jibrīl said to it: "Be still! For by Allah, no servant more noble in the sight of Allah than Muḥammad ﷺ has ever mounted you." He mounted it until he reached the Veil that borders the Most Merciful, Blessed and Exalted. While he was in that state, an angel emerged from behind the Veil. The Messenger of Allah ﷺ asked: "O Jibrīl, who is this?" Jibrīl replied: "By the One Who sent you with the truth! I am the closest of creation in station, yet I have never seen this angel since I was created until this very hour." The angel proclaimed: "Allāhu Akbar, Allāhu Akbar (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest)." It was proclaimed from behind the Veil: "My servant has spoken the truth: I am the Greatest, I am the Greatest." The angel then said: "Ashhadu allā ilāha illallāh (I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah)." It was proclaimed from behind the Veil: "My servant has spoken the truth: there is no deity except Me." The angel said: "Ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh (I bear witness that Muḥammad is the Messenger of Allah)." It was proclaimed from behind the Veil: "My servant has spoken the truth: I have sent Muḥammad." The angel said: "Ḥayya ʿalā al-ṣalāh, ḥayya ʿalā al-falāḥ, qad qāmati al-ṣalāh (Come to prayer, come to success, the prayer has been established)." Then he said: "Allāhu Akbar, Allāhu Akbar." It was proclaimed from behind the Veil: "My servant has spoken the truth: I am the Greatest, I am the Greatest." Then he said: "Lā ilāha illallāh (There is no deity worthy of worship except Allah)." It was proclaimed from behind the Veil: "My servant has spoken the truth: there is no deity except Me." Then the angel took Muḥammad ﷺ by the hand and brought him forward, and he led the inhabitants of the heavens in prayer, among whom were Ādam and Nūḥ عليهما السلام. Abū Jaʿfar Muḥammad ibn ʿAlī [al-Bāqir] remarked: > **"On that day, Allah perfected for Muḥammad ﷺ supreme honor and preeminence over the inhabitants of the heavens and the earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے رسول کو اذان کا طریقہ تعلیم دے ‘ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک جانور لے کے آئے جسے براق کہا جاتا تھا نبی اکرم ﷺ اس پر سوار ہونے لگے ‘ تو وہ شوخی کرنے لگا حضرت جبرائیل نے اس سے کہا تم پر سکون ہو جاؤ اللہ کی قسم تم پر ایسا کوئی بندہ سوار نہیں ہوا جو اللہ تعالی کے نزدیک حضرت محمد ﷺ سے زیادہ معزز ہوراوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ اس پر سوار ہوئے یہاں تک کہ آپ اس حجاب تک پہنچ گئے جو رحمان کے پاس ہے آپ وہاں موجود تھے اسی دوران حجاب میں سے ایک فرشتہ باہر آیا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ کون ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے جگہ کے اعتبار سے میں مخلوق میں سے سب سے زیادہ قریب ہوں لیکن جب سے میں پیدا ہوا ہوں اس گھڑی سے پہلے میں نے اس فرشتے کو کبھی نہیں دیکھا اس فرشتے نے کہا اللہ اکبر اللہ اکبر تو حجاب کے پرے سے اس سے کہا گیا میرے بندے نے سچ کہا ہے میں سب سے بڑا ہوں میں سب سے بڑا ہوں پھر فرشتے نے یہ پڑھا میں اس بات کی گوہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ تو حجاب کے پیچھے سے یہ کہا گیا کہ میرے بندے نے سچ کہا ہے میرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے فرشتے نے کہا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو حجاب کے پیچھے سے کہا گیا میرے بندے نے سچ کہا ہے میں نے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا ہے فرشتے نے کہا نماز کی طرف آؤ کامیابی کی طرف آؤ نماز کھڑی ہو گئی ہے پھر اس نے کہا اللہ اکبر اللہ اکبر تو حجاب کے پیچھے سے کہا گیا میرے بندے نے سچ کہا ہے میں سب سے بڑا ہوں میں سب سے بڑا ہوں پھر فرشتے نے پڑھا «لا الہ الا اللہ» تو حجاب کے پیچھے سے کہا گیا میرے بندے نے سچ کہا ہے میرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے راوی بیان کرتے ہیں : پھر فرشتے نے حضرت محمد ﷺ کا ہاتھ پکڑا اور انہیں آگے کر دیا تو نبی اکرم ﷺ نے تمام آسمان والوں کی امامت کروائی جن میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام بھی موجود تھے امام ابو جعفر محمد بن علی ( یعنی امام باقر ) فرماتے ہیں : اس دن اللہ تعالیٰ نے تمام آسمان والوں اور زمین والوں پر حضرت محمد ﷺ کے شرف کو مکمل کر دیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن منذر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

1852

Majma al-Zawaid #1852

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «- لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ أَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ بِالْأَذَانِ، فَنَزَلَ بِهِ فَعَلَّمَهُ جِبْرِيلُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَنُسِبَ إِلَى الْوَضْعِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated: > **"When the Prophet ﷺ was taken up in the Night Journey to the heavens, Allah revealed the adhān to him; he descended with it, and Jibrīl عليه السلام taught it to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کو آسمان کی طرف لے جایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف اذان کا طریقہ وحی کیا آپ اس کا حکم لے کر نازل ہوئے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو اس کے بارے میں تعلیم دی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے ‘ جس کی نسبت حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی گئی ہے ۔

1853

Majma al-Zawaid #1853

«وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ حَزِينٌ - وَكَانَ الرَّجُلُ ذَا طَعَامٍ يُجْتَمَعُ إِلَيْهِ - وَدَخَلَ مَسْجِدَهُ يُصَلِّي، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ نَعَسَ فَأَتَاهُ آتٍ فِي النَّوْمِ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ مَا حَزِنْتَ لَهُ. قَالَ: فَذَكَرَ قِصَّةَ الْأَذَانِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أُخْبِرَ بِمِثْلِ مَا أُخْبِرْتَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَمُرُوا بِلَالًا أَنْ يُؤَذِّنَ بِذَلِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ تُكُلِّمَ فِيهِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه reported: A man from the Anṣār passed by the Messenger of Allah ﷺ while he was sorrowful—this man used to prepare food and people would gather at his home. He entered his mosque and began to pray, and while doing so, drowsiness overtook him. A visitor came to him in his sleep and said: "I know what has grieved the Prophet ﷺ," and he recounted the entire story of the adhān. The Prophet ﷺ then said: > **"Abū Bakr was informed of the like of what you were informed of; so command Bilāl to call the adhān with that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا آپ پریشان لگ رہے تھے وہ شخص کھانا پکایا کرتا تھا اور لوگ اس کے پاس اکھٹے ہوا کرتے تھے وہ شخص مسجد میں داخل ہوا اور نماز ادا کرنے لگا ابھی وہ اسی حالت میں تھا کہ اسے اونگھ آ گئی خواب میں ایک شخص اس کے پاس آیا اور بولا کیا تم جانتے ہو نبی اکرم ﷺ کس سلسلے میں پریشان ہیں . اس کے بعد راوی نے اذان سے متعلق پورا واقعہ نقل کیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم نے مجھے جو بات بتائی ہے وہ ابوبکر کو بھی بتاؤ اور تم لوگ بلال کو یہ کہو کہ وہ اس طرح اذان دے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی بھی ہے ‘ جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اور وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ۔

1854

Majma al-Zawaid #1854

«عَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي الْقَرَظَ - أَنَّ أَوَّلَ مَا بَدَأَ الْأَذَانُ أَنَّهُ أُرِيَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا أَنْ يُؤَذِّنَ، فَأَلْقَى عَلَيْهِ الْأَنْصَارِيُّ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ عَادَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Saʿd al-Qaraẓ رضي الله عنه reported: The very beginning of the adhān was that a man from the Anṣār was shown it in a vision, so he informed the Prophet ﷺ. The Prophet ﷺ ordered Bilāl to call the adhān, and the Anṣārī dictated the words to him: > **"Allāhu Akbar, Allāhu Akbar; Ashhadu allā ilāha illallāh, Ashhadu allā ilāha illallāh; Ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh, Ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh; then he repeated: Ashhadu allā ilāha illallāh, Ashhadu allā ilāha illallāh; Ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh, Ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh; Ḥayya ʿalā al-ṣalāh, Ḥayya ʿalā al-ṣalāh; Ḥayya ʿalā al-falāḥ, Ḥayya ʿalā al-falāḥ; Allāhu Akbar, Allāhu Akbar; Lā ilāha illallāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد القرظ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اذان کا آغاز یوں ہوا کہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو خواب میں یہ دکھائی گئی اس نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کا حکم دیا انصاری نے انہیں کلمات بیان کرنا شروع کیے «الله اكبر الله اکبر ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ أَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ أَشْهَدُ أَنَّ مَحَمَّدًا رَسُوْلُ الله اشهد ان محمدا رسول اللہ» پھر انہوں نے دوبارہ یہ کلمات دہرائے «اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ أَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ أَشْهَدُ أن محمدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ» ( پھر یہ کلمات پڑھے ( «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» یہ روایت امام طبرانی نے معجم کی نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن عمار بن سعد ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

1855

Majma al-Zawaid #1855

وَعَنْ سَعْدٍ الْقَرَظِ أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ مَثْنَى مَثْنَى، وَيَتَشَهَّدُ مُضَعَّفًا، يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، مَرَّتَيْنِ، مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ فَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ فَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ فَيَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. وَإِقَامَتُهُ مُنْفَرِدَةٌ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، مَرَّةً وَاحِدَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ أَيْضًا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ. قُلْتُ: رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ: كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ مُنْفَرِدَةٌ فَقَطْ.

EnglishUnverified translation

Saʿd al-Qaraẓ رضي الله عنه narrated: Bilāl used to pronounce the phrases of the adhān two by two, and he would double the testimonies (tarjīʿ). Facing the Qiblah, he would say: "Ashhadu allā ilāha illallāh" twice, and "Ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh" twice; then he would return and repeat: "Ashhadu allā ilāha illallāh" twice, and "Ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh" twice while facing the Qiblah. Then he would turn to his right and say: "Ḥayya ʿalā al-ṣalāh" twice, then turn to his left and say: "Ḥayya ʿalā al-falāḥ" twice, then face the Qiblah and say: "Allāhu Akbar, Allāhu Akbar; Lā ilāha illallāh." And his iqāmah was singled: > **"Qad qāmati al-ṣalāh (The prayer has been established) was uttered once."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد القرظ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان میں کلمات دو دو مرتبہ ادا کرتے تھے ‘ اور شہادت کے کلمات مزید دگنے کر لیتے تھے وہ قبلہ کی طرف رُخ کر کے یہ کہتے تھے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہ دو مرتبہ یہ پڑھتے تھے ‘ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں وہ یہ کلمات بھی دو مرتبہ پڑھتے تھے پھر وہ ترجیع کرتے تھے ‘ اور «اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله» دو مرتبہ پڑھتے تھے ‘ «اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» دو مرتبہ پڑھتے تھے انہوں نے قبلہ کی طرف رُخ کیا ہوتا تھا پھر وہ زرا دائیں طرف پھر جاتے تھے ‘ اور یہ کہتے تھے : «حَى عَلَى الصَّلَاةِ» یہ دو مرتبہ کہتے تھے پھر وہ بائیں طرف گھوم جاتے تھے ‘ اور «حَيَّ عَلَى الفلاح» دو مرتبہ کہتے تھے پھر وہ قبلہ کی طرف رُخ کر کے اللہ «اكبر اللهَ اكْبَر لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ» پڑھتے تھے اقامت کے کلمات وہ الگ الگ ادا کرتے تھے ‘ اور «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ایک مرتبہ کہتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں بھی ایک راوی عبدالرحمن بن عمار بن سعد ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس صحابی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات صرف ایک ایک مرتبہ پڑھتے تھے ‘‘۔

1856

Majma al-Zawaid #1856

«وَعَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ يُؤَذِّنُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَمِينِ الْقِبْلَةِ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ فَيَسْتَقْبِلُ خَلْفَ الْقِبْلَةِ فَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ فَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ فَيَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. وَكَانَ يُقِيمُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُفْرِدُ الْإِقَامَةَ فَيَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، مَرَّتَيْنِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Bilāl رضي الله عنه reported that he used to call the adhān for the Prophet ﷺ, proclaiming: "Allāhu Akbar, Allāhu Akbar; Ashhadu allā ilāha illallāh, Ashhadu allā ilāha illallāh." Then he would turn to the right of the Qiblah and say: "Ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh, Ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh." Then he would turn facing behind the Qiblah and say: "Ḥayya ʿalā al-ṣalāh, Ḥayya ʿalā al-ṣalāh." Then he would turn to his left and say: "Ḥayya ʿalā al-falāḥ, Ḥayya ʿalā al-falāḥ." Then he would face the Qiblah and say: "Allāhu Akbar, Allāhu Akbar; Lā ilāha illallāh." And he would pronounce the iqāmah for the Prophet ﷺ in single phrases, saying: > **"Allāhu Akbar, Allāhu Akbar; Ashhadu allā ilāha illallāh, wa-ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh; Ḥayya ʿalā al-ṣalāh, Ḥayya ʿalā al-falāḥ; Qad qāmati al-ṣalāh, Qad qāmati al-ṣalāh; Allāhu Akbar, Allāhu Akbar; Lā ilāha illallāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم ﷺ کے لیے اذان دیتے تھے ‘ اور وہ اذان میں یہ کلمات پڑھا کرتے تھے : «الله اكبر الله اكبر ، أشهد أن لا إله إلا الله اشهد أن لا اله الا اللہ» ، پھر وہ قبلہ سے دائیں طرف مر جاتے تھے اور یہ کلمات پڑھتے تھے : «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہ» پھر وہ منہ موڑتے تھے ‘ اور قبلہ کی پشت کی طرف رُخ کر لیتے تھے ‘ اور «حَى عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» پڑھتے تھے پھر بائیں طرف گھوم کر «حی علی الفلاح ، حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ» پڑھتے تھے پھر قبلہ کی طرف رُخ کر لیتے تھے پھر «اللہ اکبر اللہ اکبر» اور «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّہ» پڑھتے تھے ۔ وہ نبی اکرم ﷺ کے لئے اقامت کہتے تھے ‘ اور اقامت کے کلمات وہ منفرد طور پر پڑھتے تھے وہ یہ کہتے تھے : «الله اکبر الله اکبر أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» وه دو مرتبہ پڑھتے تھے پھر اللہ اکبر اللہ اکبر ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ» ( پڑھ لیتے تھے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عمار بن سعد ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

1857

Majma al-Zawaid #1857

«وَعَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ لِلصُّبْحِ فَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى خَيْرِ الْعَمَلِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُجْعَلَ مَكَانَهَا: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، وَيَتْرُكُ: حَيَّ عَلَى خَيْرِ الْعَمَلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُتَقَدِّمُ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Bilāl رضي الله عنه reported that he used to call the adhān for the dawn prayer (Ṣubḥ) and say: "Ḥayya ʿalā khayril-ʿamal (Come to the best of deeds)." Thereupon, the Messenger of Allah ﷺ commanded him: > **"Substitute in its place: 'Al-ṣalātu khayrun minan-nawm' (Prayer is better than sleep), and leave off: 'Ḥayya ʿalā khayril-ʿamal'."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ صبح کی نماز کے لئے اذان دیتے ہوئے یہ کہتے تھے :’’ نیک عمل کی طرف آؤ ‘‘ اور نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ حکم دیا کہ اس کی جگہ یہ کلمہ شامل کیا جائے ’’ نماز نیند سے بہتر ہے ‘‘۔ تو انہوں نے «حَی عَلَی خَيْرِ الْعَمَلِ» پڑھنا ترک کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن ہے ‘ جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

1858

Majma al-Zawaid #1858

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ: "" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ""، فَعَادَ إِلَيْهِ فَرَأَى مِنْهُ ثِقْلَةً، فَقَالَ: "" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ""، فَذَهَبَ فَأَذَّنَ، فَزَادَ فِي أَذَانِهِ: "" الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ ""، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا هَذَا الَّذِي زِدْتَ فِي أَذَانِكَ؟ "" قَالَ: رَأَيْتُ مِنْكَ ثِقْلَةً فَأَحْبَبْتُ أَنْ تَنْشَطَ، فَقَالَ: "" اذْهَبْ فَزِدْهُ فِي أَذَانِكَ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قُسَيْطٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated: Bilāl came to the Prophet ﷺ to inform him of the dawn prayer, but he said: "Command Abū Bakr to lead the people in prayer." Bilāl returned to him and perceived heaviness and fatigue in him, so the Prophet repeated: "Command Abū Bakr to lead the people in prayer." Bilāl went out and called the adhān, adding to his call: "Al-ṣalātu khayrun minan-nawm (Prayer is better than sleep)." The Prophet ﷺ asked him: "What is this phrase you have added to your adhān?" Bilāl replied: "I noticed heaviness in you and wished for you to be invigorated." The Prophet ﷺ said: > **"Go and add it to your adhān, and command Abū Bakr to lead the people in prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آپ کو صبح کی نماز کے لئے بلانے آئے تو آپ نے فرمایا : ابوبکر کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے وہ واپس آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہیں نبی اکرم ﷺ کی طبیعت کی خرابی کا اندازہ ہوا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے وہ گئے انہوں نے اذان دی اور اذان میں یہ کلمات زائد ادا کیے نماز نیند سے بہتر ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : تم نے اپنی اذان میں یہ کیا کلمات زائد کیے ہیں تو انہوں نے عرض کی : میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کی طبیعت بوجھل ہے ‘ تو مجھے یہ اچھا لگا کہ آپ ہشاش بشاش ہو جائیں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم جاؤ اور اس کو اپنی اذان میں اضافہ کر دو اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن قسیط ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

1859

Majma al-Zawaid #1859

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ بِلَالًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْأَذَانِ فِي الصُّبْحِ فَوَجَدَهُ نَائِمًا، فَنَادَاهُ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، فَلَمْ يُنْكِرْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَدْخَلَهُ فِي الْأَذَانِ، فَلَا يُؤَذَّنُ لِصَلَاةٍ قَبْلَ وَقْتِهَا غَيْرَ صَلَاةِ الْفَجْرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ مَرْوَانُ بْنُ ثَوْبَانَ. قُلْتُ: وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that Bilāl came to the Prophet ﷺ at the time of the dawn adhān and found him asleep, so he called out: "Al-ṣalātu khayrun minan-nawm (Prayer is better than sleep)." The Messenger of Allah ﷺ did not disapprove of it and incorporated it into the adhān: > **"And no prayer is ever called before its prescribed time except the Fajr prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت بلال رضی اللہ عنہ صبح کی اذان کے وقت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو سوئے ہوئے پایا انہوں نے بلند میں نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کر کے یہ کہا نماز نیند سے بہتر ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کا انکار نہیں کیا اور ان کلمات کو اذان میں شامل کر لیا وہ فجر کی نماز کے علاوہ اور کسی نماز کے لئے بھی اس کے مخصوص وقت سے پہلے اذان نہیں دیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : مروان بن ثوبان اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

1860

Majma al-Zawaid #1860

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَوَجَدَهُ نَائِمًا فَقَالَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، فَأُقِرَّتْ فِي أَذَانِ الصُّبْحِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِيِ الْأَخْضَرِ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ، وَلَمْ يَنْسِبْهُ أَحَدٌ إِلَى الْكَذِبِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated: Bilāl came to the Prophet ﷺ to notify him of the dawn prayer and found him sleeping, so he called out: "Al-ṣalātu khayrun minan-nawm (Prayer is better than sleep)." > **"Consequently, it was confirmed and retained as part of the dawn adhān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی خدمت میں آپ کو صبح کی نماز کے لئے اطلاع دینے کے لئے آئے تو آپ کو سوتے ہوئے پایا انہوں نے کہا نماز نیند سے بہتر ہے ‘ تو یہ کلمات صبح کی نماز میں برقرار رکھے گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابوخضر ہے ‘ جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے کسی نے اس کی نسبت جھوٹ کی طرف نہیں کی ہے ۔

1861

Majma al-Zawaid #1861

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: «أَذَّنَ بِلَالٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَثْنَى مَثْنَى، وَأَقَامَ مِثْلَ ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Juḥayfah رضي الله عنه reported: > **"Bilāl called the adhān for the Prophet ﷺ in phrases repeated two by two, and he performed the iqāmah in like manner."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے لئے اذان دیتے ہوئے کلمات کو دو دو مرتبہ پڑھا اور اقامت کہتے ہوئے بھی اس کی مانند پڑھا یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1862

Majma al-Zawaid #1862

«وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جَيْشٍ، فَسَرَّحْتُ ظَهْرَ أَصْحَابِي، فَلَمَّا رُحْتُ تَلَقَّانِي أَصْحَابِي يَتَبَادَرُونَ وَيَقُولُونَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ». قَالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالزُّهْرِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir al-Juhanī رضي الله عنه reported: I was with the Prophet ﷺ in an army, and I went out to pasture the riding mounts of my companions. When I returned in the evening, my companions met me, hastening toward one another and saying: > **"While we were with the Messenger of Allah ﷺ, the caller to prayer called the adhān and said: 'Ashhadu allā ilāha illallāh wa-ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh'..." and he mentioned the rest of the hadith.**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک لشکر میں تھا میں اپنے ساتھیوں کے جانوروں کو آرام کروا رہا تھا جب میں روانہ ہوا تو میرے ساتھی مجھے آ کے ملے وہ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے ‘ اور یہ کہہ رہے تھے کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے کہ اسی دوران مؤذن نے اذان دینی شروع کی تو اس نے یہ کلمات پڑھے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے زہری نامی راوی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

1863

Majma al-Zawaid #1863

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: «كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ فُرَادَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwaʿ رضي الله عنه said: > **"During the era of the Messenger of Allah ﷺ, the adhān was pronounced in pairs of phrases, and the iqāmah was pronounced in single phrases."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ پڑھے جاتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

1864

Majma al-Zawaid #1864

وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: «آخِرُ أَذَانِ بِلَالٍ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ». قُلْتُ: رَوَى النَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: «كَانَ آخِرُ أَذَانِ بِلَالٍ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Suwayd ibn Ghafalah reported: > **"The final phrase of Bilāl's adhān was: 'Lā ilāha illallāh, wallāhu akbar' (There is no deity worthy of worship except Allah, and Allah is the Greatest)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے اذان کے آخری کلمات یہ ہوتے تھے ۔ «لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی نے سوید بن غفلہ کے حوالے سے اسود بن یزید سے روایت نقل کی ہے : وہ فرماتے ہیں : حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کے آخری کلمات یہ ہوتے تھے : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَر لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1865

Majma al-Zawaid #1865

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّمَا جُعِلَ الْأَذَانُ الْأَوَّلُ لِيَتَيَسَّرَ أَهْلُ الصَّلَاةِ لِصَلَاتِهِمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمُ الْأَذَانَ فَأَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، وَإِذَا سَمِعْتُمُ الْإِقَامَةَ فَبَادِرُوا التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى ; فَإِنَّهَا فَرْعُ الصَّلَاةِ وَتَمَامُهَا، وَلَا تُبَادِرُوا الْقَارِئَ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَبَلَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The initial adhān was ordained solely to make it convenient for the worshippers to prepare for their prayer. Therefore, when you hear the adhān, perform wudūʾ thoroughly; and when you hear the iqāmah, hasten to attain the opening takbīr, for it is the pinnacle of the prayer and its perfection; and do not precede the reciter (the imām) in bowing or prostration."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اذان کو پہلے اس لئے مقرر کیا گیا تھا تاکہ نماز پڑھنے والوں کے لئے نماز پڑھنے میں سہولت ہو جب تم اذان کی آواز سنو تو اچھی طرح وضو کرو اور جب تم اقامت سنو تو جلدی سے پہلی تکبیر میں شامل ہونے کی کوشش کرو کیونکہ وہ نماز کا حصہ ہے ‘ اور اس کی تکمیل کا حصہ ہے ‘ اور تم رکوع یا سجدہ کرتے ہوئے امام سے آگے نکلنے کی کوشش نہ کرو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جبلہ بن سلیمان ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

1866

Majma al-Zawaid #1866

عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُنَادِيَ يُثَوِّبُ بِالصَّلَاةِ فَقُولُوا كَمَا يَقُولُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When you hear the caller announcing the prayer, say just as he says."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب تم مؤذن کو نماز کے لئے تثویب کہتے ہوئے ( یعنی اذان دیتے ہوئے یا اقامت پڑھتے ہوئے ) سنو تو اس کی مانند کلمات کہو جو وہ کہہ رہا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

1867

Majma al-Zawaid #1867

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ قَالَ مِثْلَ مَا يَقُولُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ: "" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، إِلَّا أَنَّ مَالِكًا رَوَى عَنْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Rāfiʿ رضي الله عنه reported concerning the Prophet ﷺ: Whenever he heard the caller to prayer, he would repeat what he said, until the caller reached *Ḥayya ʿalā al-ṣalāh, ḥayya ʿalā al-falāḥ*, whereupon he ﷺ said: > **"Lā ḥawla wa-lā quwwata illā billāh (There is no might nor power except through Allah)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : کہ جب آپ مؤذن کو سنتے تھے تو اس کی مانند کلمات پڑھتے تھے جو مؤذن پڑھتا تھا یہاں تک کہ جب وہ «حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ» اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» پڑھتا تھا تو نبی اکرم ﷺ یہ پڑھتے تھے اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی عطا کردہ قوت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ تاہم امام مالک نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔

1868

Majma al-Zawaid #1868

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا كَمَا يَقُولُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ حَفْصُ بْنُ عَمَّارٍ الطَّاحِيُّ، وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"When you hear the caller to prayer, say just as he says."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جب تم مؤذن کو سنو تو وہ کلمات کہو جو وہ کہتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : حفص بن عمار طاحی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ‘ اور اس کے حوالے سے اس کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔

1869

Majma al-Zawaid #1869

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ قَالَ كَمَا يَقُولُ، فَإِذَا قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ: "" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، إِلَّا أَنَّ مَالِكًا رَوَى عَنْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Ḥārith reported from his father that whenever the Prophet ﷺ heard the caller to prayer, he would say as he said. When the caller said: *Ḥayya ʿalā al-ṣalāh, ḥayya ʿalā al-falāḥ*, the Prophet ﷺ said: > **"Lā ḥawla wa-lā quwwata illā billāh (There is no might nor power except through Allah)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن حارث اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب مؤذن کو سنتے تھے تو اس کی مانند کلمات پڑھتے تھے ‘ جو وہ پڑھتا تھا جب وہ «حَىٰ عَلَى الصَّلَاةِ» اور «حی علی الفلاح» پڑھتا تھا تو نبی اکرم ﷺ «لَا حَوْلَ وَلَا قوَةَ إِلَّا بِاللَّهُ پڑھتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ تاہم امام مالک نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔

1870

Majma al-Zawaid #1870

وَعَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ، فَقَالَ مِثْلَ مَا يَقُولُ - فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنِ الْحِجَازِيِّينَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ فِيهِمْ.

EnglishUnverified translation

Hilāl ibn Yasāf reported that he heard Muʿāwiyah رضي الله عنه relate that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying: > **"Whoever hears the caller to prayer and repeats what he says will have a reward equal to his."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص مؤذن کو سنتا ہے ‘ اور اس کی مانند کلمات پڑھتا ہے ‘ جو مؤذن پڑھتا ہے ‘ تو اس شخص کو اس مؤذن کی مانند اجر ملے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسماعیل بن عیاش کی اہل حجاز سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ اور ان لوگوں کے بارے میں وہ شخص ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1871

Majma al-Zawaid #1871

وَعَنْ مَيْمُونَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ بَيْنَ صَفِّ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَقَالَ: "" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، إِذَا سَمِعْتُنَّ أَذَانَ هَذَا الْحَبَشِيِّ وَإِقَامَتَهُ فَقُلْنَ كَمَا يَقُولُ، فَإِنَّ لَكُنَّ بِكُلِّ حَرْفٍ أَلْفَ أَلْفِ دَرَجَةٍ "". قَالَ عُمَرُ: هَذَا لِلنِّسَاءِ، فَمَاذَا لِلرِّجَالِ؟ قَالَ: "" ضِعْفَانِ يَا عُمَرُ» "". قُلْتُ: وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ فِي النِّكَاحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا عَبْدُ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ عَنْ مَيْمُونَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ. وَعَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَالْإِسْنَادُ الْآخَرُ فِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Maymūnah رضي الله عنها narrated: The Messenger of Allah ﷺ stood between the row of men and the row of women and said: > **"O assembly of women! When you hear the adhān of this Abyssinian and his iqāmah, say just as he says; for indeed, you will have for every single letter a million (one thousand thousand) degrees of reward."** ʿUmar رضي الله عنه asked: "This is for the women—what then is for the men?" The Prophet ﷺ replied: > **"Double that, O ʿUmar!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ مردوں اور خواتین کی صفوں کے درمیان کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے خواتین کے گروہ جب تم اس حبشی کی آواز سنو اور اس کی اقامت سنو تو وہی کلمات پڑھو جو یہ پڑھتا ہے کیونکہ ہر ایک حرف کے عوض میں ہزار ہزار ( یعنی دس لاکھ ) درجات کا ثواب ملے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یہ فضیلت تو خواتین کے لئے ہے مردوں کے لئے کیا حکم ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! اس کا دگنا ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث مکمل روایت کے طور پر نکاح سے متعلق باب میں عورت پر شوہر کے حق سے متعلق باب میں آئے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں یہ مذکور ہے ‘ اسے جزری نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے اور میں اس شخص سے واقف نہیں ہوں عباد بن کثیر نامی راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں جب کہ دوسری سند میں ایک جماعت ایسی ہے جن لوگوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔

1872

Majma al-Zawaid #1872

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَرَّسَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ قَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، وَشَهِدَ مِثْلَ شَهَادَتِهِ - فَلَهُ الْجَنَّةُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ halted for rest one night, and Bilāl called the adhān. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever says the like of what he says and testifies with the like of his testimony shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے رات کے وقت پڑاؤ کیا حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص اس کے کلمات کی مانند پڑھے گا ‘ اور اس کی گواہی کی مانند گواہی دے گا اسے جنت نصیب ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ‘ جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جب کہ ابن عدی نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ کہا ہے ۔

1873

Majma al-Zawaid #1873

وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: مِنَ الْجَفَاءِ أَرْبَعَةٌ: أَنْ يَسْمَعَ الْمُؤَذِّنُ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ - فَلَا يَقُولُ مِثْلَ مَا يَقُولُ. وَأَنْ يَمْسَحَ وَجْهَهُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ صَلَاتَهُ. وَأَنْ يَبُولَ قَائِمًا، وَأَنْ يُصَلِّيَ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ يَسْتُرُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْمُسَيَّبُ بْنُ رَافِعٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه used to say: > **"Four acts are of harsh negligence: that a person hears the caller to prayer say: 'Allāhu Akbar, Allāhu Akbar; Ashhadu allā ilāha illallāh, Ashhadu allā ilāha illallāh' and does not say as he says; that a person wipes his face before concluding his prayer; that a person urinates standing up; and that a person performs prayer while there is nothing between him and the Qiblah to serve as a barrier (sutrah)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ فرماتے ہیں : چار چیزیں جفا کا حصہ ہیں یہ کہ آدمی مؤذن کو «الله اكبر الله اكبر أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله» کہتے ہوئے سنے اور پھر جو وہ کہہ رہا ہے ‘ اس کی مانند نہ کہے ‘ اور یہ کہ آدمی نماز مکمل کرنے سے پہلے اپنے چہرے کو پونچھ لے ( یعنی مٹی وغیرہ صاف کر لے ) اور یہ کہ آدمی کھڑا ہو کر پیشاب کرے اور یہ کہ آدمی یوں نماز ادا کرے کہ اس کے اور قبلہ کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ ہو جو اس کے لئے سترہ بن رہی ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے مسیب بن رافع نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

1874

Majma al-Zawaid #1874

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ قَالَ كَمَا يَقُولُ، فَإِذَا قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ - قَالَ عَلِيٌّ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنَّ الَّذِينَ جَحَدُوا مُحَمَّدًا هُمُ الْكَاذِبُونَ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فِي زِيَادَتِهِ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Laylā reported: Whenever ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه heard the caller calling the adhān, he would repeat what he said. When the caller said: *Ashhadu allā ilāha illallāh, wa-ashhadu anna Muḥammadan Rasūlullāh*, ʿAlī رضي الله عنه would say: > **"I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah, and I bear witness that Muḥammad is the Messenger of Allah, and that those who have denied Muḥammad are indeed the liars."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ جب مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے تھے تو وہی کلمات پڑھتے تھے جو وہ پڑھتا تھا جب وہ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» پڑھتا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی یہ پڑھتے تھے «اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللہ» اور ساتھ میں کہتے تھے جن لوگوں نے حضرت محمد ﷺ کا انکار کیا وہ لوگ جھوٹے ہیں ۔ یہ روایت امام عبداللہ نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے ‘ اسے ابوسعید نامی راوی نے ابن ابولیلی سے نقل کیا ہے ۔ میں نے کسی کو اس کا ( یعنی ابوسعید نامی راوی ) کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔