Majma al-Zawaid #1795
«وَعَنْ ذِي مِخْبَرٍ ابْنِ أَخِي النَّجَاشِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ، فَسَرَوْا مِنَ اللَّيْلِ مَا سَرَوْا ثُمَّ نَزَلُوا، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا ذَا مِخْبَرٍ "". قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، فَأَخَذَ بِرَأْسِ نَاقَتِي فَقَالَ: "" اقْعُدْ هَهُنَا، وَلَا تَكُونَنَّ لُكَاعًا اللَّيْلَةَ "". فَأَخَذْتُ بِرَأْسِ النَّاقَةِ فَغَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ، وَانْسَلَّتِ النَّاقَةُ فَذَهَبَتْ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِحَرِّ الشَّمْسِ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا ذَا مِخْبَرٍ "". قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ. قَالَ: "" كُنْتَ وَاللَّهِ اللَّيْلَةَ لُكَعَ كَمَا قُلْتُ لَكَ ""، فَتَنَحَّيْنَا عَنْ ذَلِكَ الْمَكَانِ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ دَعَا أَنْ يَرُدَّ النَّاقَةَ فَجَاءَتْ بِهَا إِعْصَارُ رِيحٍ تَسُوقُهَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ حِينَ بَزَقَ الْفَجْرُ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: "" هَذِهِ صَلَاتُنَا بِالْأَمْسِ "" ثُمَّ ائْتَنَفَ صَلَاةَ يَوْمِهِ ذَلِكَ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا يَسِيرًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، رَوَى عَنْهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ وَلَمْ أَرَ لَهُ رَاوِيًا غَيْرَهُ، وَرَوَى هُوَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ.
EnglishUnverified translation
Dhū Mikhbar رضي الله عنه, the nephew of al-Najāshī, narrated: I was with the Prophet ﷺ on a military expedition. They traveled by night as much as they traveled, and then they halted. The Messenger of Allah ﷺ came to me and said, "O Dhū Mikhbar!" I replied, "At your service and to your pleasure, O Messenger of Allah!" He took the head of my camel and said, "Sit here, and do not be helpless and neglectful tonight." I held the camel's head, but sleep overcame my eyes and I fell asleep. The camel slipped away and went off. I did not wake up except by the heat of the sun. The Prophet ﷺ came to me and said, "O Dhū Mikhbar!" I said, "At your service and to your pleasure, O Messenger of Allah!" He said, "By Allah, you were helpless and neglectful tonight just as I told you." We then moved away from that spot, and the Messenger of Allah ﷺ led us in prayer. When he finished the prayer, he supplicated for the camel to return, and a whirlwind came driving it back. On the following day, when the dawn broke, he ordered Bilāl to call the Adhān, then ordered him to call the Iqāmah, and then led us in prayer. When he finished the prayer, he ﷺ said: > **"This is our prayer of yesterday."** Then he recommenced the prayer of that day.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ذومخبر رضی اللہ عنہ جو نجاشی کے بھتیجے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میں ایک غزوہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا لوگ رات بھر سفر کرتے رہے پھر انہوں نے پڑاؤ کر لیا نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : اے ذومخبر میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں سعادت مندی آپ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے میری اونٹنی کا سر پکڑا اور فرمایا تم یہاں بیٹھے رہو اور آج رات تم بچے نہ بن جانا ( یعنی سو نہ جانا ) تو میں نے اونٹنی کا سر پکڑ لیا پھر میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا اونٹنی کھسک گئی اور چلی گئی میں سورج کی تپش کی وجہ سے بیدار ہوا ۔ نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور آپ نے فرمایا : اے ذومخبر میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ‘ اور سعادت مندی آپ کے ذریعے حاصل ہو سکتی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی قسم گزشتہ رات تم بچے بن گئے جس طرح میں نے تم سے کہا تھا پھر ہم لوگ اس جگہ سے ہٹ گئے نبی اکرم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے اونٹنی منگوائی تو ہوائیں اسے ساتھ لے کے ہانکتی ہوئی آئیں جب اگلا دن ہوا تو جیسے ہی صبح صادق ہوئی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ ہماری گزشتہ کل والی نماز ہے پھر آپ نے اس دن کی نماز دوبارہ ادا کی ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن عبدالرحمن ہے داؤد بن ابوہند نے اس سے روایت نقل کی ہے : میں نے اس کے علاوہ کسی اور شخص کو اس راوی سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اور اس شخص نے صحابہ کرام کی ایک جماعت سے احادیث روایت کی ہیں ۔