Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 4 · Chapter 5

Book of Prayer

Hadith 1755–1794

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1755

Majma al-Zawaid #1755

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Nuʿmān ibn Bashīr رضي الله عنه narrated: > **"The Prophet ﷺ used to delay the late ʿIshāʾ prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کیا کرتے تھے یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

1756

Majma al-Zawaid #1756

وَعَنْ أُمِّ أَنَسٍ قَالَتْ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَيْنِي تَغْلِبُنِي عَنِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" عَجِّلِيهَا يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِذَا مَلَأَ اللَّيْلُ بَطْنَ كُلِّ وَادٍ فَقَدْ حَلَّ وَقْتُ الصَّلَاةِ، فَصَلِّي وَلَا إِثْمَ عَلَيْكِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Umm Anas رضي الله عنها narrated: I said, "O Messenger of Allah, sleep overcomes my eyes before the late ʿIshāʾ prayer." The Messenger of Allah ﷺ replied: > **"Perform it early, O Umm Sulaym. When darkness fills the depth of every valley, the time of prayer has arrived; so pray, and there is no sin upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام انس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! عشاء کی نماز کے وقت میری آنکھ لگ جاتی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ام سلیم اسے جلدی ادا کر لیا کرو جب رات ہر وادی کے نشیبی حصے کو بھر دے تو نماز کا وقت شروع ہو جاتا ہے تم نماز ادا کر لیا کرو تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن عبدالرحمن ہے ‘ اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

1757

Majma al-Zawaid #1757

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: «أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعِشَاءَ تِسْعَ لَيَالٍ - وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: ثَمَانٍ لَيَالٍ - إِلَى ثُلْثِ اللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَنَّكَ عَجَّلْتَ لَكَانَ أَمْثَلَ لِقِيَامِنَا مِنَ اللَّيْلِ. قَالَ: فَعَجَّلَ بَعْدَ ذَلِكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ delayed the ʿIshāʾ prayer for nine nights—or eight nights—until one-third of the night had passed. Abū Bakr رضي الله عنه said to him: > **"O Messenger of Allah, if you were to pray it earlier, it would be more suitable for our standing in prayer at night."** He said: "So after that, he ﷺ prayed it earlier."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نو راتوں تک عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی یہاں ابوداؤد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : آٹھ راتوں تک ایسا کیا آپ نے اسے ایک تہائی رات گزرنے تک مؤخر کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ اسے جلدی ادا کر لیں تو یہ ہمارے رات کے نوافل کے لئے زیادہ موزوں ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو اس کے بعد نبی اکرم ﷺ اس کو جلدی ادا کر لیتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ‘ جس سے روایت کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

1758

Majma al-Zawaid #1758

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا يَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ ; فَإِنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ الْعِشَاءُ، وَإِنَّمَا سَمَّتْهَا الْأَعْرَابُ الْعَتَمَةَ مِنْ أَجْلِ إِبِلِهِمْ لِحِلَابِهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَغَيْلَانُ بْنُ شُرَحْبِيلَ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Do not let the Bedouins prevail over you concerning the name of your prayer; for indeed, it is [named] al-ʿIshāʾ in the Book of Allah. The Bedouins only call it al-ʿAtamah on account of milking their camels [at that late hour]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ دیہاتی لوگ تمہاری نماز کے نام کے حوالے سے تم پر غالب نہ آ جائیں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ’’ عشاء ‘‘ کے نام سے مذکور ہے ‘ اور دیہاتی اسے ’’ عتمہ ‘‘ کہتے ہیں : کیونکہ انہوں نے اس وقت اپنے اونٹوں کا دودھ دوہنا ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا غیلان بن شرحبیل نامی شخص سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ راوی ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1759

Majma al-Zawaid #1759

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «كُنْتُ رَجُلًا نَوَّامًا وَكُنْتُ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ وَعَلَيَّ ثِيَابِي نِمْتُ - أَوْ قَالَ: فَأَنَامُ [قَبْلَ الْعِشَاءِ] فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ فَرَخَّصَ لِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه narrated: > **"I was a man prone to falling asleep; after praying Maghrib, while still in my clothes, I would fall asleep before ʿIshāʾ. So I asked the Messenger of Allah ﷺ about that, and he granted me a concession."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک ایسا شخص تھا ‘ جسے نیند بہت آتی تھی میں مغرب کی نماز ادا کر لیتا تھا اور میں نے ( باہر جانے کے وقت پہنے والا ) لباس پہنا ہوتا تھا اور پھر بھی میں سو جاتا تھا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) پھر بھی میں عشاء سے پہلے سو جاتا تھا میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے اس کی اجازت دی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے ‘ اور وہ اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ضعیف ہے ‘ اور اس میں ایک راوی ایسا بھی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

1760

Majma al-Zawaid #1760

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ نَامَ قَبْلَ الْعِشَاءِ فَلَا نَامَتْ عَيْنُهُ "". قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَامَ قَبْلَهَا وَلَا تَحَدَّثَ بَعْدَهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever sleeps before ʿIshāʾ, may his eye find no sleep!"** ʿĀʾishah رضي الله عنها added, "I never saw the Messenger of Allah ﷺ sleep before it, nor engage in conversation after it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص عشاء سے پہلے سو جائے تو اس کی آنکھ نہ سوئے ‘‘۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو کبھی بھی اس نماز سے پہلے سوتے ہوئے اور اس کے بعد بات چیت کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1761

Majma al-Zawaid #1761

وَعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَائِمًا قَبْلَ الْعِشَاءِ وَلَا لَاغِيًا بَعْدَهَا ; إِمَّا ذَاكِرًا فَيَغْنَمُ، وَإِمَّا نَائِمًا فَيَسْلَمُ»، قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: السَّمَرُ لِثَلَاثَةٍ: لِعَرُوسٍ، أَوْ مُسَافِرٍ، أَوْ مُتَهَجِّدٍ بِاللَّيْلِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها, the wife of the Prophet ﷺ, said: > **"I never saw the Messenger of Allah ﷺ sleeping before ʿIshāʾ, nor engaging in idle talk after it; he was either remembering Allah and thereby gaining reward, or sleeping and thereby remaining safe."** ʿĀʾishah رضي الله عنها also said: > **"Conversation late at night is permitted only for three: a bridegroom, a traveler, or one engaged in the Tahajjud prayer at night."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو کبھی بھی عشاء سے پہلے سوتے ہوئے اور عشاء کے بعد کوئی لغو کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا ‘ یا تو آپ ذکر کرتے تھے ‘ اور غنیمت حاصل کرتے تھے اور سو جاتے تھے یا سلامت رہتے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : رات کے وقت بات چیت تین افراد کر سکتے ہیں میاں بیوی ‘ مسافر یا رات کے وقت تہجد کی نماز ادا کرنے والا شخص ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

1762

Majma al-Zawaid #1762

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاةِ - يَعْنِي عِشَاءَ الْآخِرَةِ - إِلَّا لِأَحَدِ رَجُلَيْنِ: مُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ; فَأَمَّا أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى فَقَالَا: عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ. وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ، وَعِنْدَ أَحْمَدَ فِي رِوَايَةٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بِإِسْقَاطِ الرَّجُلِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is to be no late-night conversation after the prayer—meaning the late ʿIshāʾ prayer—except for one of two persons: one who is praying, or a traveler."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ نماز کے بعد بات چیت نہیں ہو گی نبی اکرم ﷺ کی مراد عشاء کی نماز تھی البتہ دو میں سے ایک قسم کے فرد کا معاملہ مختلف ہے نماز ادا کرنے والا شخص یا مسافر شخص ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے جہاں تک امام احمد اور امام ابویعلیٰ کا تعلق ہے ‘ تو ان دونوں نے یہ کیا ہے یہ خیثمہ کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ‘ جب کہ امام طبرانی یہ کہتے ہیں : یہ خیثمہ کے حوالے سے زیاد بن حدیر کے حوالے سے منقول ہے ‘ اور ان : تمام روایات کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں امام احمد نے ایک روایت میں یہ کہا ہے کہ یہ خیثمہ کے حوالے سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے یعنی اس میں درمیان کے شخص کا ذکر نہیں کیا گیا ۔

1763

Majma al-Zawaid #1763

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّوْمِ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَعَنِ الْحَدِيثِ بَعْدَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدِ بْنُ عُودٍ الْمَكِّيُّ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: > **"The Prophet ﷺ prohibited sleeping before ʿIshāʾ and talking after it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عشاء کی نماز سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مجھ کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوسعید بن عود مکی ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

1764

Majma al-Zawaid #1764

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «كُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَبِيتُ عِنْدَهُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ، أَوْ يَطْرُقُهُ أَمْرٌ مِنَ اللَّيْلِ فَيَبْعَثُنَا، فَيَكْثُرُ الْمُحْتَسِبُونَ وَأَهْلُ النُّوَبِ، فَكُنَّا نَتَحَدَّثُ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ: "" مَا هَذِهِ النَّجْوَى؟ أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنِ النَّجْوَى؟ "" قَالَ: فَقُلْنَا: نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated: We used to take turns guarding and serving the Messenger of Allah ﷺ, staying the night near him in case he needed something or a matter arose during the night for which he might dispatch us. As those seeking reward and taking turns grew in number, we sat talking. The Messenger of Allah ﷺ came out to us during the night and said: > **"What is this whispering? Have I not forbidden you from whispering?"** We said, "We repent to Allah, O Prophet of Allah!" [And he mentioned the rest of the hadith.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے لئے باری مقرر کی ہوئی تھی ہم میں سے کوئی ایک آپ کے پاس رات کے وقت ٹھہر جاتا تھا تاکہ آپ کو اگر کوئی ضرورت درپیش ہو ‘ یا رات کے وقت کوئی معاملہ درپیش ہو ‘ تو آپ ہمیں وہاں بھجوا دیتے تھے ‘ تو ثواب کی امید رکھنے والوں اور باری کا انتظار کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ‘ ایک مرتبہ ہم بات چیت کر رہے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس رات کے وقت تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : یہ کیا بات چیت ہو رہی ہے ؟ کیا میں نے بات چیت کرنے سے منع نہیں کیا ہے راوی کہتے ہیں : تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1765

Majma al-Zawaid #1765

عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ قَرَضَ بَيْتَ شِعْرٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةُ تِلْكَ اللَّيْلَةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ قَزْعَةُ بْنُ سُوِيدٍ الْبَاهِلِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Shaddād ibn Aws رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever composes or recites a line of poetry after the late ʿIshāʾ prayer, his prayer for that night will not be accepted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص عشاء کی نماز کے بعد ایک شعر سناتا ہے ‘ اس شخص کی اس رات کی نماز قبول نہیں ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد امام بزار امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام احمد کی سند میں ایک راوی قزعہ بن سوید باہلی ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے امام احمد کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1766

Majma al-Zawaid #1766

عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Maḥmūd ibn Labīd al-Anṣārī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Pray the Fajr prayer when the dawn becomes bright, for indeed it yields the greatest reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمود بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ صبح کی نماز روشن کر کے ادا کرو کیونکہ یہ زیادہ اجر کے حصول کا باعث ہے “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

1767

Majma al-Zawaid #1767

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا أَسْفَرُوا بِصَلَاةِ الْفَجْرِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ ابْنُ خِرَاشٍ: كَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ، وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ فِي رِوَايَةٍ، وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"My Ummah will continue to remain upon the innate natural disposition (Fiṭrah) as long as they pray the Fajr prayer when the morning has brightened."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ میری امت اس وقت تک فطرت پر گامزن رہے گی جب تک وہ فجر کی نماز روشنی میں ادا کرتے رہیں گئے “۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان ہے ‘ جسے یحیی بن معین امام بخاری ابو حاتم اور ابن حبان نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن خراش کہتے ہیں : یہ حدیث ایجاد کرتا تھا ایک روایت کے مطابق امام احمد نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور ایک روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

1768

Majma al-Zawaid #1768

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَسْفِرُوا بِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ، أَوَ أَعْظَمُ لِأَجْرِكُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قُلْتُ: وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ عَدِيٍّ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ، وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Pray the Fajr prayer when the morning has brightened, for indeed it yields the greatest reward—or: it brings greater reward for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ فجر کی نماز روشنی میں ادا کرو کیونکہ یہ زیادہ اجر کا باعث ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) یہ تمہارے لئے زیادہ اجر کا باعث ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : اس میں زید بن اسلم پر اختلاف کیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ‘ جسے امام احمد امام بخاری امام نسائی اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

1769

Majma al-Zawaid #1769

وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سَيَّارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Bilāl رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Pray the Fajr prayer when the dawn becomes bright, for indeed it yields the greatest reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ فجر کی نماز روشن کر کے ادا کرو کیونکہ یہ زیادہ اجر کا باعث ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سیار ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

1770

Majma al-Zawaid #1770

وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأَجْرِكُمْ، أَوْ لِلْأَجْرِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀṣim ibn ʿUmar ibn Qatādah reported from his father, from his grandfather [Qatādah ibn al-Nuʿmān] رضي الله عنه, that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Pray the Fajr prayer when the dawn becomes bright, for indeed it brings greater reward for you—or: it yields the greatest reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عاصم بن عمر بن قتادہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ فجر کی نماز روشن کر کے ادا کرو کیونکہ یہ تمہارے لئے زیادہ اجر کا باعث ہے ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) یہ زیادہ اجر کا باعث ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1771

Majma al-Zawaid #1771

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَسْفِرُوا بِصَلَاةِ الصُّبْحِ ; فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: كَذَّابٌ. وَضَعَّفَهُ النَّاسُ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ. قُلْتُ: قِيلَ لَهُ عِنْدَ الْمَوْتِ: أَلَا تَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، قَالَ: أَلَا أَرْجُو أَنْ يُغْفَرَ لِي وَقَدْ وَضَعْتُ فِي فَضْلِ عَلِيٍّ سَبْعِينَ حَدِيثًا ?.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Pray the morning prayer when the dawn has brightened, for indeed it yields the greatest reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ صبح کی نماز روشن کر کے ادا کرو کیونکہ یہ زیادہ اجر کا باعث ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی معلی بن عبدالرحمن واسطی ہے امام دارقطنی کہتے ہیں : یہ کذاب ہے لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا میں یہ کہتا ہوں : اس شخص سے موت کے وقت یہ کہا گیا کہ کیا تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب نہیں کرو گے اس نے کہا کیا میں اس بات کی امید نہ رکھوں کہ میری مغفرت ہو جائے گی جب کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کے بارے میں ستر احادیث ایجاد کی ہوئی ہیں ۔

1772

Majma al-Zawaid #1772

وَعَنِ ابْنِ بُجَيْدٍ عَنْ جَدَّتِهِ حَوَّاءَ - وَكَانَتْ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ - قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Bujayd narrated from his grandmother Ḥawwāʾ رضي الله عنها—who was among those women who gave the pledge of allegiance to the Prophet ﷺ—that she said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Pray the Fajr prayer when the dawn becomes bright, for indeed it yields the greatest reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن بجید نے اپنی دادی سیدہ حواء رضی اللہ عنہما جو بیعت کرنے والی خواتین میں سے ایک ہیں ( یعنی جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل کیا ہے ) وہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ فجر کی نماز روشن کر کے ادا کرو کیونکہ یہ زیادہ اجر کا باعث ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم حنینی ہے ‘ اسے امام نسائی اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔

1773

Majma al-Zawaid #1773

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُسْفِرُ بِصَلَاةِ الْفَجْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Yazīd narrated: > **"ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه used to perform the Fajr prayer when the dawn had brightened."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فجر کی نماز روشنی میں ادا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1774

Majma al-Zawaid #1774

وَعَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوِيدٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ: تَجَوَّزُوا فِي الصَّلَاةِ ; فَإِنَّ خَلْفَكُمُ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ، وَكُنَّا نُصَلِّي مَعَ إِمَامِنَا الْفَجْرَ وَعَلَيْنَا ثِيَابُنَا، فَيَقْرَأُ السُّورَةَ مِنَ الْمِئِينَ، ثُمَّ نَنْطَلِقُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَنَجِدُهُ فِي الصَّلَاةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥārith ibn Suwayd narrated: ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه used to say: > **"Be moderate and brief in prayer, for behind you are the elderly, the weak, and those with urgent needs."** [Al-Ḥārith] added, "We used to pray Fajr with our imam while still dressed in our garments, and he would recite one of the long chapters containing over a hundred verses; then we would go to ʿAbdullāh [ibn Masʿūd] and still find him in prayer [having delayed starting it until the dawn brightened]."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارث بن سوید بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نماز کو مختصر ادا کیا کرو کیونکہ تمہارے پیچھے عمر رسیدہ کام کاج والے لوگ ہوتے ہیں ہم جب اپنے امام کی اقتداء میں فجر کی نماز ادا کرتے ، تو ہمارے کپڑے ہمارے جسم پر ہوتے ‘ اور پھر امام دو سو آیتوں والی سورت پڑھنی شروع کر دیتا ، پھر ہم حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاتے تو انہیں نماز کی حالت میں پاتے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

1775

Majma al-Zawaid #1775

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِبِلَالٍ: "" نَوِّرْ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى يُبْصِرَ الْقَوْمُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِمْ مِنَ الْإِسْفَارِ» "". قُلْتُ: لِرَافِعٍ حَدِيثٌ فِي الْإِسْفَارِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Rāfiʿ ibn Khadīj رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said to Bilāl رضي الله عنه: > **"Delay the morning prayer until there is sufficient light, such that the people can see where their arrows fall due to the brightness of the dawn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا صبح کی نماز میں روشنی ہونے دو یہاں تک کہ لوگ روشنی کی وجہ سے یہ دیکھ سکیں کہ تیر جہاں گرتا ہے ( یعنی اتنی دور تک کی چیز انہیں نظر آئے ) ۔ میں یہ کہتا ہوں : حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روشنی میں نماز ادا کرنے سے متعلق ایک اور حدیث بھی ہے ‘ جو اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

1776

Majma al-Zawaid #1776

وَلِرَافِعٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «نَوِّرُوا بِالصُّبْحِ بِقَدْرِ مَا يُبْصِرُ الْقَوْمُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِمْ» "". وَهُمَا مِنْ رِوَايَةِ هُرَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَقَدْ ذَكَرَهُمَا ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي أَحَدٍ مِنْهُمَا جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا. قُلْتُ: وَهُرَيْرٌ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: يَرْوِي عَنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

Rāfiʿ ibn Khadīj رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Perform the morning prayer in sufficient light, to the extent that the people can see where their arrows fall."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے معجم کبیر ہی میں ‘ حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ صبح کی نماز اتنی روشنی میں ادا کرو کہ لوگ اتنی دور تک دیکھ سکیں کہ جتنی دور تیر جا کے گرتا ہے ‘‘۔ یہ دونوں روایات ہریر بن عبدالرحمن بن رافع بن خدیج نے نقل کی ہیں ان دونوں راویوں کا ذکر ابن ابو حاتم نے کیا ہے ‘ اور ان دونوں نے ان میں سے کسی ایک کے بارے میں کوئی جرح یا تعدیل نقل نہیں کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : کہ ہریر نامی راوی کا تذکرہ ابن حبان نے کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ اور یہ بات بیان کی ہے ‘ اس نے اپنے والد سے روایات نقل کی ہیں ۔

1777

Majma al-Zawaid #1777

وَعَنْ أَبِي الرَّبِيعِ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فِي جِنَازَةٍ، فَسَمِعْتُ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَصِيحُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَأَسْكَتَهُ. قُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لِمَ أَسْكَتَّهُ؟ قَالَ: إِنَّهُ يَتَأَذَّى بِهِ الْمَيِّتُ حَتَّى يَدْخُلَ قَبْرَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أُصَلِّي مَعَكَ الصُّبْحَ ثُمَّ أَلْتَفِتُ فَلَا أَرَى وَجْهَ جَلِيسِي، وَأَحْيَانًا تُسْفِرُ. قَالَ: كَذَلِكَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي، وَأَحْبَبْتُ أَنْ أُصَلِّيَهَا كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّيهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالَ فِيهِ الدَّارَقُطْنِيُّ: مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Rabīʿ narrated: I was with Ibn ʿUmar رضي الله عنهما at a funeral when I heard the voice of a person crying out aloud. He sent someone to him and silenced him. I asked, "O Abū ʿAbd al-Raḥmān, why did you silence him?" He replied, "Indeed, the deceased is tormented by it until he is placed in his grave." I then said to him, "Sometimes I pray the morning prayer behind you, and when I turn around I cannot discern the face of the person sitting next to me [due to darkness], while at other times you pray it when the light has spread." He replied: > **"In that manner did I see the Messenger of Allah ﷺ pray, and I love to pray it just as I saw the Messenger of Allah ﷺ praying it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو ربیح بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوا میں نے ایک شخص کو بلند آواز میں چیخ کر کچھ کہتے ہوئے سنا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس شخص کو پیغام بھیج کر اسے خاموش کروا دیا میں نے کہا : اے ابوعبدالرحمن آپ نے اسے خاموش کیوں کروایا ہے انہوں نے فرمایا : اس کی وجہ سے میت کو اذیت ہوتی ہے ‘ جب تک وہ میت اپنی قبر میں داخل نہیں ہو جاتی میں نے ان سے کہا : میں نے آپ کی اقتداء میں صبح کی نماز ادا کی تھی پھر میں نے توجہ کی تو مجھے اپنے ساتھ والا کوئی شخص نظر نہیں آ رہا تھا اور بعض اوقات آپ اسے روشنی میں ادا کرتے ہیں تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو اسی طرح نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ‘ تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اسے اسی طرح ادا کروں جس طرح میں نے نبی اکرم ﷺ کو اسے ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ابوربیع نامی راوی کے بارے میں امام دارقطنی نے یہ فرمایا ہے کہ یہ مجہول ہے ۔

1778

Majma al-Zawaid #1778

وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَنْ تَزَالَ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَعْمَلُوا بِثَلَاثٍ: مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ انْتِظَارَ الظَّلَامِ مُضَاهَاةَ الْيَهُودِ، وَمَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْفَجْرَ انْمِحَاقَ النُّجُومِ مُضَاهَاةَ النَّصَارَى، وَمَا لَمْ يَكِلُوا الْجَنَائِزَ إِلَى أَهْلِهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ الْعَوَّامِ وَهُوَ مَجْهُولٌ - قَالَهُ الْحُسَيْنِيُّ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Abū ʿAbd al-Raḥmān al-Ṣunābiḥī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"My Ummah will never cease to be in goodness so long as they do not commit three things: so long as they do not delay Maghrib waiting for total darkness in imitation of the Jews; so long as they do not delay Fajr until the vanishing of the stars in imitation of the Christians; and so long as they do not leave the preparation and burial of funerals solely to the family of the deceased."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعبدالرحمن صنابحی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت مسلسل بھلائی پر گامزن رہے گی جب تک وہ تین کام نہیں کریں گے جب تک وہ مغرب کو اتنا مؤخر نہیں کرتے کہ تاریکیوں کا انتظار کریں جو یہودیوں کا طریقہ ہے ‘ اور جب تک وہ فجر کو اتنا مؤخر نہیں کرتے کہ ستاروں کے چھپ جانے کا انتظار کریں جو عیسائیوں کا طریقہ ہے ‘ اور جب تک وہ جنائز کو اس کے اہل کے حوالے نہیں کرتے “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صلت بن عوام ہے ‘ اور وہ مجہول ہے یہ بات حسینی نے بیان کی ہے ‘ اس سے پہلے مغرب کی نماز سے متعلق باب میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں جو اس موضوع سے متعلق ہیں ۔

1779

Majma al-Zawaid #1779

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ: «سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ: "" صَلِّهَا مَعِي الْيَوْمَ وَغَدًا "" فَلَمَّا كَانَ بِقَاعِ نَمِرَةَ بِالْجُحْفَةِ صَلَّاهَا حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِذِي طُوًى أَخَّرَهَا حَتَّى قَالَ النَّاسُ: أَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالُوا: لَوْ صَلَّيْنَا. فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّاهَا أَمَامَ الشَّمْسِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: "" مَا قُلْتُمْ؟ "" قَالُوا: قُلْنَا لَوْ صَلَّيْنَا. قَالَ: "" لَوْ فَعَلْتُمْ أَصَابَكُمْ عَذَابٌ ""، ثُمَّ دَعَا السَّائِلَ فَقَالَ: "" الصَّلَاةُ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ الْوَقْتَيْنِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْهُ، وَعَلِيٌّ لَمْ يُدْرِكْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Ḥārithah رضي الله عنه narrated: A man asked the Messenger of Allah ﷺ about the time of the morning prayer, and he ﷺ replied, "Pray it with me today and tomorrow." When he was at the plain of Namirah near al-Juḥfah, he prayed it as soon as the dawn broke. Later, when he was at Dhū Ṭuwā, he delayed it until people began to wonder, "Has the Messenger of Allah ﷺ passed away?" and they said, "What if we pray?" Then the Prophet ﷺ came out and prayed it just before sunrise. Afterward, he turned toward the people and asked, "What did you say?" They replied, "We said: 'What if we pray?'" He said: > **"Had you done so, a punishment would have afflicted you."** Then he called the questioner and said: > **"The prayer is between these two times."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے صبح کی نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم آج اور کل یہ نماز میری اقتداء میں ادا کرنا جب نبی اکرم ﷺ حجفہ میں نمرہ کے میدان میں پہنچے تو آپ نے یہ نماز اس وقت ادا کر لی جب صبح صادق ہوئی تھی پھر جب آپ ذی طوی کے مقام پر پہنچے تو آپ نے اسے مؤخر کیا یہاں تک کہ لوگ یہ کہنے لگے کہ کیا نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ہے پھر لوگوں نے کہا مناسب یہ ہے کہ لوگ نماز پڑھ لیں اسی دوران نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو آپ نے یہ نماز سورج کے سامنے ادا کی پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : تم لوگوں نے کیا کہا تھا لوگوں نے عرض کی : ہم نے یہ کہا تھا کہ اگر ہم نماز پڑھ لیں تو بہتر ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم لوگ ایسا کرتے تو تمہیں عذاب لاحق ہوتا پھر نبی اکرم ﷺ نے سوال کرنے والے شخص کو بلایا اور ارشاد فرمایا : نماز کا وقت ان دو اوقات کے درمیان ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں علی بن عبداللہ بن عباس کی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ اور علی نامی شخص نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

1780

Majma al-Zawaid #1780

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - قَالَ: «سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَصَلَّى حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ أَسْفَرَ بَعْدُ، ثُمَّ قَالَ: "" أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated: The Prophet ﷺ was asked about the time of the morning prayer; so he prayed it when the dawn broke, and then [the following day] he prayed it when the morning had brightened. Afterwards he said: > **"Where is the one who asked about the time of the morning prayer? The time is between these two [extremes]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے صبح کی نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے یہ نماز اس وقت ادا کی جب صبح صادق ہو گئی تھی پھر اس کے بعد ( اگلے دن وہ نماز ) آپ نے روشنی میں ادا کی پھر آپ نے فرمایا : صبح کی نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ ان دو کے درمیان مخصوص وقت ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

1781

Majma al-Zawaid #1781

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْفَجْرَ يَوْمًا بِغَلَسٍ، ثُمَّ صَلَّاهَا يَوْمًا بَعْدَ مَا أَسْفَرَ، ثُمَّ قَالَ: "" مَا بَيْنَهُمَا وَقْتٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ الزُّهْرِيِّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Yazīd ibn Jāriyah رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ prayed Fajr one day while it was still dark (ghalas), and then on another day he prayed it after the light had spread. Then he said: > **"The time [for prayer] is between these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن یزید بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے فجر کی نماز اندھیرے میں ادا کی پھر ایک دن آپ نے اسے روشنی ہو جانے کے بعد ادا کیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ان دونوں کے درمیان وقت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں عبیداللہ بن عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور ان کے حوالے سے زہری کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔

1782

Majma al-Zawaid #1782

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِغَلَسٍ، ثُمَّ صَلَّاهَا مِنَ الْغَدِ فَأَسْفَرَ، ثُمَّ قَالَ: "" أَيْنَ السَّائِلُ؟ "" فَقَالَ: أَنَا، فَقَالَ: "" الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ أَمْسِ وَالْيَوْمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما narrated: A man asked the Prophet ﷺ about the time of the morning prayer. The Messenger of Allah ﷺ prayed it while it was still dark, and on the following day he prayed it when the light had spread. Then he said: "Where is the questioner?" The man replied, "Here I am." He ﷺ said: > **"The time is between [the times of] yesterday and today."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے صبح کی نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ نے اندھیرے میں نماز ادا کی پھر اگلے دن آپ نے وہ روشنی میں ادا کی پھر آپ نے فرمایا : سوال کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ اس شخص نے کہا میں ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وقت وہ ہے ‘ جو کل اور آج ( کے اوقات ) کے درمیان کا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔

1783

Majma al-Zawaid #1783

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ نَنْصَرِفُ وَمَا يَعْرِفُ بَعْضُنَا بَعْضًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه narrated: > **"We used to pray the morning prayer with the Messenger of Allah ﷺ, and then we would depart while we could not recognize one another [due to the darkness]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں صبح کی نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو ( اندھیرا زیادہ ہونے کی وجہ سے ) پہچان نہیں سکتا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1784

Majma al-Zawaid #1784

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ إِذَا بَزَقَ الْفَجْرُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالنَّسَائِيُّ، وَحَدَّثَ عَنْهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا إِذَا رَوَى عَنْهُ ثِقَةٌ، وَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ، إِذَا رَوَى عَنْهُ ثِقَةٌ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah ibn Muḍarris رضي الله عنه narrated: > **"The Messenger of Allah ﷺ used to perform the Fajr prayer as soon as the dawn broke."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز اس وقت ادا کر لیتے تھے جب صبح صادق ہو جاتی تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید اؤدی ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے شعبہ اور سفیان نے اس سے حدیث روایت کی ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر روایت نہیں دیکھی جب کسی ” ثقہ ‘‘ شخص نے اس سے روایت نقل کی ہو یہ شخص اگرچہ حدیث میں قوی نہیں ہے ‘ لیکن جب کوئی ’’ ثقہ ‘‘ شخص اس سے حدیث روایت کرے گا ‘ تو اس کی نقل کردہ حدیث کو قبول کیا جائے گا ۔

1785

Majma al-Zawaid #1785

وَعَنْ حَرْمَلَةَ قَالَ: «انْطَلَقْتُ فِي وَفْدِ الْحَيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى بِنَا صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَلَمَّا سَلَّمَ جَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ الَّذِي إِلَى جَنْبِي فَلَا أَكَادُ أَعْرِفُهُ مِنَ الْغَلَسِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي، فَقَالَ: "" اتَّقِ اللَّهَ، وَإِنْ كُنْتَ فِي الْقَوْمِ فَسَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ لَكَ مَا يُعْجِبُكَ فَأْتِهِ، وَإِنْ سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ لَكَ مَا تَكْرَهُ فَدَعْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ ضِرْغَامَةَ بْنِ عُلَيَّةَ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ بِمَا فِيهِ هَهُنَا لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ، وَضِرْغَامَةُ وَحَرْمَلَةُ ذَكَرَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Ḥarmalah رضي الله عنه narrated: I set out with a delegation of my tribe to the Messenger of Allah ﷺ. He led us in the morning prayer; when he said the Taslīm, I looked at the face of the person beside me and could hardly recognize him due to the darkness. I then said, "O Messenger of Allah, advise me." He ﷺ said: > **"Fear Allah; and when you are among people, if you hear them saying things [about you] that please you, then adopt those traits; and if you hear them saying things [about you] that you dislike, then abandon them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حرملہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں قبیلے کے وفد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی جب آپ نے سلام پھیرا تو میں نے اپنے پہلو میں موجود شخص کے چہرے کی طرف دیکھا تو اندھیرا زیادہ ہونے کی وجہ سے میں اسے پہچان نہیں سکا میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی ہدایت کیجئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اللہ تعالی سے ڈرتے رہنا اگرچہ تم کچھ لوگوں کے درمیان موجود ہو اور تم ان لوگوں کو یہ کہتے ہوئے ۔ سنو کہ وہ تمہیں یہ کہیں جو چیز تمہیں اچھی لگتی ہے وہ تم کر لو اور خواہ تم انہیں یہ کہتے ہوئے سنو کہ وہ تمہیں کہیں جو چیز تمہیں ناپسند ہوتی ہے تم اسے چھوڑ دو یہہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ضرغامہ بن علیہ بن حرملہ کی ان کے والد کے حوالے سے ان کے دادا سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر اس میں کیا ہے ‘ جو ہم نے یہاں ذکر کیا ہے ‘ اور اس پر تردید نہیں کی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ضرغامہ اور حرملہ ان دونوں راویوں کا ذکر ابن حبان نے کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔

1786

Majma al-Zawaid #1786

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «كُنَّ نِسَاءٌ يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصُّبْحَ، فَيَنْصَرِفْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها narrated: > **"Women used to attend the morning prayer with the Messenger of Allah ﷺ, and they would return wrapped in their woolen cloaks, unrecognizable on account of the darkness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : خواتین نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں صبح کی نماز میں شریک ہوتی تھیں پھر وہ اپنی چادریں لپیٹ کر واپس جاتی تھیں تو اندھیرے کی وجہ سے انہیں پہچانا نہیں جا سکتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ۔

1787

Majma al-Zawaid #1787

وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ: «أَذَّنْتُ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ، فَأَبْطَأَ النَّاسُ عَنِ الصَّلَاةِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا لِلنَّاسِ يَا بِلَالُ؟ "" قَالَ: قُلْتُ: حَبَسَهُمُ الْبَرْدُ، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُمُ الْبَرْدَ "". قَالَ: فَرَأَيْتُهُمْ يَتَرَوَّحُونَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سَيَّارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Bilāl رضي الله عنه narrated: I called the Adhān on a bitterly cold morning, and the people were slow in coming to the prayer. The Prophet ﷺ asked, "What has happened to the people, O Bilāl?" I said, "The cold has detained them." Thereupon, the Prophet ﷺ supplicated: > **"O Allah, remove the cold from them!"** Bilāl added, "I then saw them fanning themselves during the morning prayer [from the warmth that ensued]."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک مرتبہ سردی میں صبح کی اذان دی تو لوگ نماز ادا کرنے کے لئے نہیں آئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے بلال لوگوں کو کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : سردی کی وجہ سے وہ نہیں آ سکے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ان سے سردی کو دور کر دے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ صبح کی نماز کے لئے آ رہے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سیار ہے اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

1788

Majma al-Zawaid #1788

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَقُولُ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُغَلِّسُ بِالصُّبْحِ كَمَا يُغَلِّسُ بِهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ، وَيَقُولُ: إِنَّهُ لَكمَا قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - {إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} [الإسراء: 78]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Dīnār reported that he heard the son of ʿAbdullāh ibn Masʿūd say: ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه used to pray the morning prayer in the early darkness, just as Ibn al-Zubayr رضي الله عنهما prayed it in the early darkness, and he would pray Maghrib as soon as the sun set. He would say: > **"Indeed, it is just as Allah, the Blessed and Exalted, said: *{...until the darkness of the night and [also] the Quran [recitation] of dawn. Indeed, the recitation of dawn is ever witnessed.}* [Al-Isrāʾ: 78]"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صبح کی نماز اسی طرح اندھیرے میں ادا کرتے تھے جیسے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اسے اندھیرے میں ادا کرتے تھے ‘ اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کر لیتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا تھا وہ یہ کہتے تھے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ رات کے پھیلنے تک اور فجر کی تلاوت بے شک فجر کی تلاوت میں ( فرشتوں کی ) حاضری ہوتی ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

1789

Majma al-Zawaid #1789

وَعَنْ عِمَارَةَ بْنِ رُؤيْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا، وَشَهِدَ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ - دَخَلَ الْجَنَّةَ» "". قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ: "" «لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿUmārah ibn Ruʾaybah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever performs the prayer before the rising of the sun and before its setting, and bears witness that there is no deity worthy of worship except Allah, shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص سورج نکلنے سے پہلے کی نماز اور اس کے غروب ہونے سے پہلے کی نماز ادا کرے اور اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، تو وہ جنت میں جائے گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں یہ حدیث منقول ہے : ’’ ایسا شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا ‘ جو سورج نکلنے سے پہلے والی اور اس کے غروب ہونے سے پہلے والی نماز ادا کرے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1790

Majma al-Zawaid #1790

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ: تَتَدَارَكُ الْحُرْسَانُ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حَارِسُ اللَّيْلِ وَحَارِسُ النَّهَارِ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} [الإسراء: 78]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿUbaydah reported that ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه used to say: > **"The two guard shifts from among the angels of Allah, the Mighty and Majestic—the guardians of the night and the guardians of the day—meet at the break of dawn. Recite if you wish: *{...and [also] the Quran of dawn. Indeed, the recitation of dawn is ever witnessed.}* [Al-Isrāʾ: 78]"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالی کی طرف سے مقرر کردہ فرشتے یکے بعد دیگرے آتے ہیں رات کے محافظ آتے ہیں ‘ اور دن کے محافظ صبح صادق کے وقت آتے ہیں اگر تم لوگ چاہو ( تو اس کی تائید میں ) یہ آیت پڑھ لو ’’ اور فجر کی تلاوت اور بے شک فجر کی تلاوت میں حاضری ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔

1791

Majma al-Zawaid #1791

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَهُوَ نَائِمٌ، فَحَرَّكَهُ بِرِجْلِهِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ، فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَطَّلِعُ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَى خَلْقِهِ، فَيُدْخِلُ ثُلَّةً مِنْهُمُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما passed by a man who was sleeping after the morning prayer. He nudged him with his foot until he awoke and said: > **"Did you not know that Allah, the Exalted, gazes upon His creation at this hour, and enters a multitude of them into Paradise through His mercy?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان کا گزر صبح کی نماز کے بعد ایک شخص کے پاس سے ہوا جو نماز کے بعد سو رہا تھا تو انہوں نے اپنے پاؤں کے ذریعے اسے حرکت دی یہاں تک کہ وہ بیدار ہو گیا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ اللہ تعالی اس گھڑی میں اپنی مخلوق کی طرف توجہ دیتا ہے ‘ اور ان لوگوں میں سے بہت سے لوگوں کو اپنی رحمت کے ذریعے جنت میں داخل کر دیتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کی شناخت نہیں ہو سکی ۔

1792

Majma al-Zawaid #1792

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟ "" قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ: أَنَا. قَالَ: "" إِنَّكَ تَنَامُ ""، ثُمَّ أَعَادَ: "" مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟ "" قُلْتُ: أَنَا. قَالَ: "" إِنَّكَ تَنَامُ ""، ثُمَّ عَادَ "" مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟ قُلْتُ: أَنَا. قَالَ: "" إِنَّكَ تَنَامُ "" حَتَّى عَادَ مِرَارًا. قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: "" فَأَنْتَ إِذًا "". قَالَ: فَحَرَسْتُهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ أَدْرَكَنِي قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّكَ تَنَامُ، فَنِمْتُ، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فِي ظُهُورِنَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ مِنَ الْوُضُوءِ وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الصُّبْحَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: "" لَوْ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرَادَ أَنْ لَا تَنَامُوا عَنْهَا لَمْ تَنَامُوا، وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ يَكُونَ لِمَنْ بَعْدَكُمْ، فَهَكَذَا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ "". قَالَ: ثُمَّ إِنَّ نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِبِلَ الْقَوْمِ تَفَرَّقَتْ، فَخَرَجَ النَّاسُ فِي طَلَبِهَا فَجَاءُوا بِإِبِلِهِمْ إِلَّا نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خُذْهَا هُنَا "" فَأَخَذْتُ حَيْثُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ فَوَجَدْتُ زِمَامَهَا قَدِ الْتَوَى عَلَى شَجَرَةٍ مَا كَانَتْ لِتَحُلَّهَا إِلَّا يَدٌ. قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ وَجَدْتُ زِمَامَهَا مُلْتَوٍ عَلَى شَجَرَةٍ مَا كَانَتْ لِتَحُلَّهَا إِلَّا يَدٌ. قَالَ: وَنَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَتْحُ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ عَنْهُمْ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمُرِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated: When we returned from the expedition of al-Ḥudaybiyah, the Messenger of Allah ﷺ asked, "Who will keep guard for us tonight?" I said, "I will." He said, "You will fall asleep." He repeated, "Who will keep guard for us tonight?" I said, "I will." He said, "You will fall asleep." He repeated this several times, and each time I said, "I will, O Messenger of Allah!" Finally he said, "Then you shall be the one." I kept watch over them until, right before dawn, the saying of the Messenger of Allah ﷺ—"You will fall asleep"—caught up with me, and I fell asleep. Nothing woke us except the heat of the sun upon our backs. The Messenger of Allah ﷺ arose, performed ablution just as he usually did, prayed the two sunnah rakʿahs of Fajr, and then led us in the morning prayer. When he finished, he ﷺ said: > **"Had Allah, the Mighty and Majestic, willed that you not sleep past it, you would not have slept; but He willed that this be a precedent for those who come after you. Thus shall it be done by whoever sleeps past a prayer or forgets it."** ʿAbdullāh continued: Then the Prophet's ﷺ camel and the people's camels wandered off. The people went searching and retrieved their mounts, except for the camel of the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ told me, "Go in this direction." I went where he indicated and found its halter tangled around a tree such that only a human hand could have tied it. I brought it to the Prophet ﷺ and said, "O Messenger of Allah, by the One Who sent you with the truth, I found its halter tangled around a tree such that only a hand could untie it!" And Sūrat al-Fatḥ was revealed to the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم لوگ غزوہ حدیبیہ سے واپس آ رہے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آج رات کون ہمارا پہرا دے گا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : میں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم سو جاؤ گے پھر آپ نے دوبارہ دریافت کیا : آج کون ہمارا پہرا دے گا میں نے عرض کی : میں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم سو جاؤ گے پھر آپ نے دوبارہ دریافت کیا : آج رات کون ہمارا پہرا دے گا میں نے عرض کی : میں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم سو جاؤ گے نبی اکرم ﷺ نے یہ بات کئی مرتبہ دہرائی میں نے یہی عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسا کروں گا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو پھر تم ایسا کر لو راوی کہتے ہیں : میں ان لوگوں کی خاطر جاگتا رہا یہاں تک کہ جب صبح صادق کا وقت قریب آیا تو نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق مجھے ( نیند ) آ گئی اور یہ کہ آپ نے یہ فرمایا تھا کہ تم سو جاؤ گے ‘ تو میں سو گیا یہاں تک کہ سورج کی تپش نے ہمیں بیدار کیا نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح آپ پہلے وضو کرتے تھے ‘ اور فجر کی دو رکعتیں ادا کیں پھر آپ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا کہ تم اس نماز کے حوالے سے نہ سوئے رہتے تو تم نے نہیں سوئے رہنا تھا لیکن اس نے یہ ارادہ کیا کہ یہ حکم تمہارے بعد والوں کے لئے ثابت ہو جائے تو جو شخص سو جائے یا بھول جائے اس کے لئے اسی طرح حکم ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی اور لوگوں کے اونٹ ادھر ادھر بکھر گئے لوگ ان کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے وہ اپنے اونٹ لے آئے صرف نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی نہیں آئی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا تم اسے وہاں سے پکڑ کے لے آؤ میں نے اسے وہاں سے پکڑ لیا جہاں کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے مجھے بتایا تھا میں نے اسے پایا کہ اس اونٹنی کی لگام ایک درخت میں اٹکی ہوئی تھی ‘ جسے صرف ہاتھ کے ذریعے چھڑایا جا سکتا تھا راوی بیان کرتے ہیں : میں اس اونٹنی کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں نے اس کی لگام کو پایا کہ وہ ایک درخت میں اٹکی ہوئی تھی ‘ جسے صرف ہاتھ کے ذریعے چھڑایا جا سکتا تھا راوی بیان کرتے ہیں : کہ نبی اکرم ﷺ پر سورت فتح نازل ہوئی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں کہ ان صحابی کے حوالے سے ایک اور روایت منقول ہے ‘ جو ابوداؤد نے نقل کی ہے ‘ اور وہ اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ المسعودی ہے ‘ جو آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

1793

Majma al-Zawaid #1793

وَلِابْنِ مَسْعُودٍ أَيْضًا عِنْدَ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ قَالَ: «أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ. فَذَكَرَ أَنَّهُمْ نَزَلُوا دَهَاسًا مِنَ الْأَرْضِ - يَعْنِي الدَّهَاسَ الرَّمْلَ - فَقَالَ: "" مَنْ يَكْلَأُنَا؟ "" فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا» ... فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَلَيْسَ فِيهِ الْمَسْعُودِيُّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated: We returned with the Messenger of Allah ﷺ from al-Ḥudaybiyah, and they camped upon soft sandy ground. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Who will keep guard for us?"** Bilāl رضي الله عنه replied, "I will." [And the narrator mentioned the rest of the hadith.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہی امام احمد اور امام بزار نے یہ روایت نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حدیبیہ سے واپس آ رہے تھے پھر انہوں نے یہ بات ذکر کی کہ ان لوگوں نے ایک ریتلی زمین پر پڑاؤ کیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کون ہمارا پہرا دے گا حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے البتہ اس کی سند میں مسعودی نامی راوی نہیں ہے ۔

1794

Majma al-Zawaid #1794

«وَعَنْ ذِي مُخْبِرٍ - وَكَانَ رَجُلًا مِنَ الْحَبَشَةِ يَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ، فَأَسْرَعَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّيْرَ حِينَ انْصَرَفَ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ لِقِلَّةِ الزَّادِ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، انْقَطَعَ النَّاسُ وَرَاءَكَ، فَحَبَسَ وَحَبَسَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى تَكَامَلُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ: "" هَلْ لَكَمَ أَنْ نَهْجَعَ هَجْعَةً - أَوْ قَالَ قَائِلٌ: فَنَزَلَ وَنَزَلُوا - فَقَالَ: "" مَنْ يَكْلَأُنَا اللَّيْلَةَ؟ "" فَقُلْتُ: أَنَا جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ، فَأَعْطَانِي خِطَامَ نَاقَتِهِ فَقَالَ: "" هَاكَ، لَا تَكُونَنَّ لُكَعَ "". قَالَ: فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخِطَامِ نَاقَتِي، فَتَنَحَّيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُمَا تَرْعَيَانِ، فَإِنِّي كَذَلِكَ أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا أَخَذَنِي النَّوْمُ، فَلَمْ أَشْعُرْ بِشَيْءٍ حَتَّى وَجَدْتُ حَرَّ الشَّمْسِ عَلَى وَجْهِي، فَاسْتَيْقَظْتُ فَنَظَرْتُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَإِذَا أَنَا بِالرَّاحِلَتَيْنِ مِنِّي غَيْرَ بَعِيدٍ، فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِخِطَامِ نَاقَتِي، فَأَتَيْتُ أَدْنَى الْقَوْمِ فَأَيْقَظْتُهُ، فَقُلْتُ: أَصَلَّيْتُمْ؟ قَالَ: لَا. فَأَيْقَظَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا بِلَالُ، هَلْ فِي الْمِيضَأَةِ مَاءٌ؟ "" - يَعْنِي الْإِدَاوَةَ - قَالَ: نَعَمْ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ، فَأَتَاهُ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَمْ يَلِتَّ مِنْهُ التُّرَابُ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَفَرَّطْنَا؟ قَالَ: "" لَا، قَبَضَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْوَاحَنَا وَقَدْ رَدَّهَا إِلَيْنَا، وَقَدْ صَلَّيْنَا» "". قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Dhū Mikhbar رضي الله عنه—an Abyssinian man who served the Prophet ﷺ—narrated: We were with the Prophet ﷺ on a journey, and he was marching swiftly on the return because provisions were scarce. Someone said, "O Prophet of Allah, the people have fallen behind you." So he halted, and the people halted with him until all rejoined. He said to them, "Would you like to take a brief rest?" So he dismounted and they dismounted. Then he asked: "Who will keep watch for us tonight?" I said, "I will, may Allah make me your ransom!" He handed me the rein of his camel and said, "Take it, and do not be helpless and negligent." I took the rein of the Prophet's ﷺ camel and the rein of my own camel, withdrew a short distance, and let them graze. While watching them, sleep overcame me, and I felt nothing until I felt the heat of the sun upon my face. I woke up, looked left and right, and saw the two mounts nearby. I grabbed their reins and went to the nearest person, waking him and asking, "Have you prayed?" He said, "No." The people woke one another until the Prophet ﷺ awoke. He ﷺ asked: "O Bilāl, is there any water in the vessel?" Bilāl said, "Yes, may Allah make me your ransom." He brought ablution water, and the Prophet ﷺ performed ablution without wetting the soil much. He then ordered Bilāl to call the Adhān. The Prophet ﷺ stood and performed the two rakʿahs before Fajr without haste. Then he ordered him to call the Iqāmah and led the prayer without haste. Someone asked, "O Prophet of Allah, were we negligent?" He replied: > **"No; Allah, the Mighty and Majestic, took our souls and then returned them to us, and now we have performed the prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ذومخبر رضی اللہ عنہ جو حبشہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ہیں وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرتے رہے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میں ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ۔ نبی اکرم ﷺ واپسی کے سفر میں تیزی سے چلتے ہوئے آ رہے تھے آپ ایسا اس لئے کرتے تھے کیونکہ زاد سفر کم ہو چکا ہوتا تھا ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : اے اللہ کے نبی لوگ آپ سے پیچھے رہ گئے ہیں تو نبی اکرم ﷺ رک گئے آپ کے ساتھ والے لوگ بھی رک گئے یہاں تک کہ باقی لوگ آپ سے آ ملے نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا کیا تم لوگ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ ہم تھوڑی دیر آرام کر لیں یا کوئی قیلولہ کرنے والا شخص قیلولہ کر لے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نیچے اترے باقی لوگوں نے بھی پڑاؤ کیا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : آج رات کون ہماری پہرہ اداری کرے گا میں نے عرض کی : میں ‘ اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی اونٹنی کی لگام مجھے دی اور فرمایا یہ لو اور تم بچے نہ بن جانا ( یعنی سو نہ جانا ) راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی کی لگام پکڑی اور اپنی اونٹنی کی لگام پکڑی اور ذرا دور ہہٹ کے بیٹھ گیا میں نے ان دونوں کو چرنے کے لئے چھوڑ دیا میں ان دونوں کو دیکھ رہا تھا اسی دوران مجھے بھی نیند آ گئی اور مجھے کسی چیز کا پتہ نہیں چلا یہاں تک کہ مجھے اپنے چہرے پر دھوپ کی تپش محسوس ہوئی میں بیدار ہو گیا میں نے دائیں بائیں دیکھا تو مجھے دونوں اونٹنیاں نظر آئیں جو زیادہ دور نہیں تھیں میں نے نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی کی لگام کو پکڑا اور اپنی اونٹنی کی لگام کو پکڑا اور میں اس فرد کے پاس آیا جو میرے سب سے زیادہ قریب تھا میں نے اسے بیدار کیا میں نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے نماز ادا کی ہے ‘ اس نے جواب دیا : جی نہیں پھر لوگ ایک دوسرے کو بیدار کرنے لگے یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ بھی بیدار ہو گئے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے بلال کیا مشکیزے میں پانی ہے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ! اللہ تعالٰی مجھے آپ پر فدا کرے پھر وہ وضو کا پانی نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کے آئے نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا جس سے مٹی بھی پوری طرح گیلی نہیں ہوئی پھر آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے آپ نے صبح کی نماز سے پہلے دو رکعاتیں ادا کیں اور وہ جلدی میں ادا نہیں کیں پھر آپ نے انہیں حکم دیا انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کی جو جلدی ادا نہیں کی ایک صاحب نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا ہم نے تفریط کی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری ارواح کو قبض کر لیا تھا جب اس نے وہ ارواح ہماری طرف لوٹا دیں تو ہم نے نماز ادا کر لی ۔ مصنف فرماتے ہیں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔