«وَعَنْ ذِي مُخْبِرٍ - وَكَانَ رَجُلًا مِنَ الْحَبَشَةِ يَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ، فَأَسْرَعَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّيْرَ حِينَ انْصَرَفَ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ لِقِلَّةِ الزَّادِ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، انْقَطَعَ النَّاسُ وَرَاءَكَ، فَحَبَسَ وَحَبَسَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى تَكَامَلُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ: "" هَلْ لَكَمَ أَنْ نَهْجَعَ هَجْعَةً - أَوْ قَالَ قَائِلٌ: فَنَزَلَ وَنَزَلُوا - فَقَالَ: "" مَنْ يَكْلَأُنَا اللَّيْلَةَ؟ "" فَقُلْتُ: أَنَا جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ، فَأَعْطَانِي خِطَامَ نَاقَتِهِ فَقَالَ: "" هَاكَ، لَا تَكُونَنَّ لُكَعَ "". قَالَ: فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخِطَامِ نَاقَتِي، فَتَنَحَّيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُمَا تَرْعَيَانِ، فَإِنِّي كَذَلِكَ أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا أَخَذَنِي النَّوْمُ، فَلَمْ أَشْعُرْ بِشَيْءٍ حَتَّى وَجَدْتُ حَرَّ الشَّمْسِ عَلَى وَجْهِي، فَاسْتَيْقَظْتُ فَنَظَرْتُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَإِذَا أَنَا بِالرَّاحِلَتَيْنِ مِنِّي غَيْرَ بَعِيدٍ، فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِخِطَامِ نَاقَتِي، فَأَتَيْتُ أَدْنَى الْقَوْمِ فَأَيْقَظْتُهُ، فَقُلْتُ: أَصَلَّيْتُمْ؟ قَالَ: لَا. فَأَيْقَظَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا بِلَالُ، هَلْ فِي الْمِيضَأَةِ مَاءٌ؟ "" - يَعْنِي الْإِدَاوَةَ - قَالَ: نَعَمْ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ، فَأَتَاهُ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَمْ يَلِتَّ مِنْهُ التُّرَابُ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَفَرَّطْنَا؟ قَالَ: "" لَا، قَبَضَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْوَاحَنَا وَقَدْ رَدَّهَا إِلَيْنَا، وَقَدْ صَلَّيْنَا» "". قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Dhū Mikhbar رضي الله عنه—an Abyssinian man who served the Prophet ﷺ—narrated: We were with the Prophet ﷺ on a journey, and he was marching swiftly on the return because provisions were scarce. Someone said, "O Prophet of Allah, the people have fallen behind you." So he halted, and the people halted with him until all rejoined. He said to them, "Would you like to take a brief rest?" So he dismounted and they dismounted. Then he asked: "Who will keep watch for us tonight?" I said, "I will, may Allah make me your ransom!" He handed me the rein of his camel and said, "Take it, and do not be helpless and negligent." I took the rein of the Prophet's ﷺ camel and the rein of my own camel, withdrew a short distance, and let them graze. While watching them, sleep overcame me, and I felt nothing until I felt the heat of the sun upon my face. I woke up, looked left and right, and saw the two mounts nearby. I grabbed their reins and went to the nearest person, waking him and asking, "Have you prayed?" He said, "No." The people woke one another until the Prophet ﷺ awoke. He ﷺ asked: "O Bilāl, is there any water in the vessel?" Bilāl said, "Yes, may Allah make me your ransom." He brought ablution water, and the Prophet ﷺ performed ablution without wetting the soil much. He then ordered Bilāl to call the Adhān. The Prophet ﷺ stood and performed the two rakʿahs before Fajr without haste. Then he ordered him to call the Iqāmah and led the prayer without haste. Someone asked, "O Prophet of Allah, were we negligent?" He replied: > **"No; Allah, the Mighty and Majestic, took our souls and then returned them to us, and now we have performed the prayer."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ذومخبر رضی اللہ عنہ جو حبشہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ہیں وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرتے رہے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میں ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ۔ نبی اکرم ﷺ واپسی کے سفر میں تیزی سے چلتے ہوئے آ رہے تھے آپ ایسا اس لئے کرتے تھے کیونکہ زاد سفر کم ہو چکا ہوتا تھا ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : اے اللہ کے نبی لوگ آپ سے پیچھے رہ گئے ہیں تو نبی اکرم ﷺ رک گئے آپ کے ساتھ والے لوگ بھی رک گئے یہاں تک کہ باقی لوگ آپ سے آ ملے نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا کیا تم لوگ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ ہم تھوڑی دیر آرام کر لیں یا کوئی قیلولہ کرنے والا شخص قیلولہ کر لے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نیچے اترے باقی لوگوں نے بھی پڑاؤ کیا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : آج رات کون ہماری پہرہ اداری کرے گا میں نے عرض کی : میں ‘ اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی اونٹنی کی لگام مجھے دی اور فرمایا یہ لو اور تم بچے نہ بن جانا ( یعنی سو نہ جانا ) راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی کی لگام پکڑی اور اپنی اونٹنی کی لگام پکڑی اور ذرا دور ہہٹ کے بیٹھ گیا میں نے ان دونوں کو چرنے کے لئے چھوڑ دیا میں ان دونوں کو دیکھ رہا تھا اسی دوران مجھے بھی نیند آ گئی اور مجھے کسی چیز کا پتہ نہیں چلا یہاں تک کہ مجھے اپنے چہرے پر دھوپ کی تپش محسوس ہوئی میں بیدار ہو گیا میں نے دائیں بائیں دیکھا تو مجھے دونوں اونٹنیاں نظر آئیں جو زیادہ دور نہیں تھیں میں نے نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی کی لگام کو پکڑا اور اپنی اونٹنی کی لگام کو پکڑا اور میں اس فرد کے پاس آیا جو میرے سب سے زیادہ قریب تھا میں نے اسے بیدار کیا میں نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے نماز ادا کی ہے ‘ اس نے جواب دیا : جی نہیں پھر لوگ ایک دوسرے کو بیدار کرنے لگے یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ بھی بیدار ہو گئے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے بلال کیا مشکیزے میں پانی ہے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ! اللہ تعالٰی مجھے آپ پر فدا کرے پھر وہ وضو کا پانی نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کے آئے نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا جس سے مٹی بھی پوری طرح گیلی نہیں ہوئی پھر آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے آپ نے صبح کی نماز سے پہلے دو رکعاتیں ادا کیں اور وہ جلدی میں ادا نہیں کیں پھر آپ نے انہیں حکم دیا انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کی جو جلدی ادا نہیں کی ایک صاحب نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا ہم نے تفریط کی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری ارواح کو قبض کر لیا تھا جب اس نے وہ ارواح ہماری طرف لوٹا دیں تو ہم نے نماز ادا کر لی ۔ مصنف فرماتے ہیں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔