وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا سَلْمَانُ هَلْ تَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟ "" قُلْتُ: هُوَ الَّذِي جَمَعَ اللَّهُ فِيهِ أَبُوكَ أَوْ أَبَوَيْكَ قَالَ: "" لَا، وَلَكِنْ أُحَدِّثُكَ عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَطَهَّرُ وَيَلْبَسُ أَحْسَنَ ثِيَابِهِ وَيَتَطَيَّبُ مِنْ طِيبٍ، إِنْ كَانَ لَهُمْ طِيبٌ وَإِلَّا فَالْمَاءُ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُنْصِتُ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ ثُمَّ يُصَلِّي إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى مَا اجْتُنِبَتِ الْمَقْتَلَةُ وَذَلِكَ الدَّهْرُ كُلُّهُ» "". قُلْتُ: رَوَى النَّسَائِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
EnglishUnverified translation
Salmān رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said, "O Salmān, do you know what Friday is?" He said, "It is the day in which Allah gathered your father, or your parents." He said, "No, but I shall tell you about Friday: there is no Muslim who purifies himself, wears the finest of his clothes, applies perfume if they have any, otherwise water suffices, then comes to the mosque and listens attentively until the Imām comes out, then prays, except that it will be an expiation for him between it and the next Friday, so long as killing is avoided, and that applies for the whole of time": > **"O Salmān, do you know what Friday is? There is no Muslim who purifies himself, wears the finest of his clothes, applies perfume if there is any, otherwise water suffices, then comes to the mosque and listens attentively until the Imām comes out, then prays, except that it will be an expiation for him between it and the next Friday, so long as killing is avoided, and that applies for the whole of time."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے سلمان ! کیا تم جانتے ہو جمعہ کا دن کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یہ وہ دن ہے ‘ جس میں اللہ تعالی نے آپ کے والد ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ کے ماں باپ ( یعنی حضرت آدم اور سیدہ حوا علیہا السلام ) کو اکٹھا کیا تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں میں تمہیں جمعہ کے دن کے بارے میں بتاتا ہوں جو بھی مسلمان طہارت حاصل کر کے عمدہ لباس پہنے اور خوشبو لگائے اگر اس کے پاس خوشبو موجود ہو ورنہ پانی ہی کافی ہے پھر وہ مسجد میں آئے اور خاموش رہے ‘ یہاں تک کہ امام آ جائے پھر وہ نماز ادا کرے تو یہ چیز اس شخص کے لئے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے درمیان گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ‘ جب کہ قتل کرنے سے اجتناب کیا گیا ہو اور یہ فضیلت ہمیشہ رہے گی ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے نقل کیا ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔