وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ هُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ "". قَالَ: وَقَلَّلَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُلْتُ: وَاللَّهِ لَقَدْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ السَّاعَةِ إِنْ يَكُنْ عِنْدَهُ مِنْهَا عَلَمٌ فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُقَوِّمُ عَرَاجِينَ فَقُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ مَا هَذِهِ الْعَرَاجِينُ الَّتِي أَرَاكَ تُقَوِّمُ؟ قَالَ: هَذِهِ عَرَاجِينُ جَعَلَ اللَّهُ لَنَا فِيهَا بَرَكَةً، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّهَا وَيَتَخَصَّرُ بِهَا، فَكُنَّا نُقَوِّمُهَا وَنَأْتِيهِ بِهَا، فَرَأَى بُصَاقًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ وَفِي يَدِهِ عُرْجُونٌ مِنْ تِلْكَ الْعَرَاجِينِ فَحَكَّهُ وَقَالَ: "" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَبْصُقَنَّ أَمَامَهُ فَإِنَّ رَبَّهُ أَمَامَهُ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ ""، قَالَ: ثُمَّ قَالَ سَرِيحٌ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ مَبْصَقًا فَفِي ثَوْبِهِ أَوْ نَعْلِهِ. قَالَ: ثُمَّ هَاجَتِ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ فَلَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بَرَقَتْ بَرْقَةً فَرَأَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ فَقَالَ: "" مَا السُّرَى يَا قَتَادَةُ؟ "" قَالَ: عَلِمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ شَاهِدَ الصَّلَاةِ قَلِيلٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَشْهَدَهَا قَالَ: ""فَإِذَا صَلَّيْتَ فَاثْبُتْ حَتَّى أَمُرَّ بِكَ""، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَعْطَاهُ الْعُرْجُونَ قَالَ: ""خُذْ هَذَا فَسَيُضِيءُ لَكَ أَمَامَكَ عَشْرًا وَخَلْفَكَ عَشْرًا، فَإِذَا دَخَلْتَ الْبَيْتَ وَرَأَيْتَ سَوَادًا فِي زَاوِيَةِ الْبَيْتِ فَاضْرِبْهُ قَبْلَ أَنْ تَتَكَلَّمَ فَإِنَّهُ لَشَيْطَانٌ ""، قَالَ: فَفَعَلَ فَنَحْنُ نُحِبُّ هَذِهِ الْعَرَاجِينَ لِذَلِكَ. قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا عَنِ السَّاعَةِ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ فَهَلْ عِنْدَكَ عِلْمٌ فِيهَا؟ فَقَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهَا فَقَالَ: "" إِنِّي كُنْتُ أُعْلِمْتُهَا ثُمَّ أُنْسِيتُهَا كَمَا أُنْسِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ» "". قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ، وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ فِي حَكِّ الْبُصَاقِ أَيْضًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَزَادَ: ثُمَّ «خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ - يَعْنِي: مِنْ عِنْدِ أَبِي سَعِيدٍ - حَتَّى أَتَيْتُ دَارَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قُلْتُ: هَذَا رَجُلٌ قَدْ قَرَأَ التَّوْرَاةَ وَصَحِبَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ هَذِهِ السَّاعَةِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِيهَا مَا يَقُولُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَأَسْكَنَهُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَأَهْبَطَهُ إِلَى الْأَرْضِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَتَوَفَّاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي تَقُومُ فِيهِ السَّاعَةُ، وَهِيَ آخَرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ: قُلْتُ: أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" فِي صَلَاةٍ؟ "" قَالَ: أَوَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنِ انْتَظَرَ صَلَاةً فَهُوَ فِي صَلَاةٍ» "". وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Abū Salamah said: Abū Hurayrah رضي الله عنه used to narrate to us from the Messenger of Allah ﷺ that he said: > **"Indeed, in Friday is an hour which no Muslim coincides with while praying, asking Allah for good, except that He grants it to him."** He said: And Abū Hurayrah indicated with his hand how brief it is. He said: When Abū Hurayrah passed away, I said: By Allah, I shall surely go to Abū Saʿīd and ask him about this hour, whether he has any knowledge of it. So I came to him and found him straightening palm stalks. I said: O Abū Saʿīd, what are these stalks that I see you straightening? He said: These are stalks in which Allah has placed blessing for us. The Messenger of Allah ﷺ loved them and would lean upon them, so we would straighten them and bring them to him. Then he saw spittle in the Qiblah of the mosque, while in his hand was a stalk from those stalks, so he scraped it off and said: > **"When one of you is in his prayer, let him not spit in front of him, for his Lord is in front of him. Let him spit to his left or beneath his foot."** He said: Then Sarīḥ added: If he finds no spittoon, then in his garment or his sandal. He said: Then the sky poured rain that night. When the Prophet ﷺ came out for the last ʿIshāʾ prayer, lightning flashed and he saw Qatādah ibn al-Nuʿmān. He said: What is this night journey, O Qatādah? He said: I knew, O Messenger of Allah, that those attending the prayer were few, so I wished to attend it. He said: When you have prayed, remain until I pass by you. When he finished, he gave him the stalk and said: > **"Take this, and it shall illuminate ten ahead of you and ten behind you. When you enter the house and see darkness in the corner of the house, strike it before you speak, for it is a devil."** He said: So he did, and for that reason we love these stalks. He said: I said: O Abū Saʿīd, Abū Hurayrah narrated to us about the hour that is in Friday — do you have any knowledge of it? He said: We asked the Messenger of Allah ﷺ about it, and he said: > **"I had been informed of it, then I was made to forget it, as Laylat al-Qadr was made forgotten."** Then I went out from him — meaning from Abū Saʿīd — until I came to the house of a man from among the Companions of the Prophet ﷺ. I said: This is a man who has read the Torah and accompanied the Prophet ﷺ. He said: So I entered upon him and said: Inform me about this hour which the Messenger of Allah ﷺ used to speak of regarding Friday? He said: Yes. Allah created Ādam on Friday, and settled him in Paradise on Friday, and sent him down to the earth on Friday, and caused him to die on Friday. It is the day in which the Hour will come, and it is the last hour of Friday. He said: I said: Do you not know that the Prophet ﷺ said 'in prayer?' He said: Do you not know that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever awaits a prayer is in prayer."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ہمیں احادیث بیان کر رہے تھے انہوں نے یہ بات بیان کی جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ جس میں کوئی مسلمان شخص نماز ادا کر رہا ہو اور اس دوران وہ مسلمان اللہ تعالی سے جو بھی بھلائی مانگے تو اللہ تعالی وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بیان کیا کہ وہ گھڑی تھوڑی سی ہوتی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو میں نے سوچا اللہ کی قسم میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤں گا ‘ اور ان سے اس گھڑی کے بارے میں دریافت کروں گا ہو سکتا ہے ان کے پاس اس بارے میں کوئی علم ہو میں ان کے پاس آیا تو میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ٹہنیاں ٹھیک کر رہے تھے میں نے کہا : اے ابوسعید یہ ٹہنیاں کیا ہیں ؟ جو میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ ٹھیک کر رہے ہیں انہوں نے فرمایا : یہ وہ ٹہنیاں ہیں جن میں اللہ تعالی نے ہمارے لئے برکت رکھی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ ان سے محبت رکھتے تھے ‘ اور ان کو استعمال کرتے تھے تو ہم ان کو ٹھیک رکھتے ہیں ‘ اور ان کے پاس آ جاتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد کی قبلہ کی سمت میں بلغم لگا ہوا دیکھا آپ کے دست مبارک میں اس طرح کی ایک ٹہنی ( یا چھڑی ) تھی تو آپ نے اس کے ذریعے اس کو کھرچ دیا اور آپ نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو تو وہ سامنے کی طرف ہرگز نہ تھوکے کیونکہ اس کا پروردگار اس کے سامنے کی طرف ہوتا ہے ‘ اسے بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہیے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر سریح نامی راوی نے یہ بات بیان کی : کہ اگر اسے تھوکنے کے لئے جگہ نہیں ملتی تو وہ اپنے کپڑے میں یا اپنے جوتے میں تھوک لے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر اسی رات بارش ہو گئی ۔ نبی اکرم ﷺ عشاء کی نماز کے لئے تشریف لائے بجلی چمکی تو آپ نے حضرت قتادہ بن نعمان کو دیکھا آپ نے دریافت کیا : اے قتادہ کیا معاملہ ہے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے یہ بات پتہ ہے کہ آج رات نماز میں شریک ہونے والے لوگ کم ہوں گے ‘ تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں اس میں شریک ہو جاؤں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز ادا کر لو تو اپنی جگہ پر رہنا جب تک میں تمہارے پاس سے نہیں گزرتا جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک شاخ دی آپ نے فرمایا : اسے لے لو یہ تمہارے آگے دس قدم اور پیچھے دس قدم روشنی کرے گی جب تم گھر میں داخل ہو گے ‘ تو گھر کے کونے میں تمہیں ایک ہیولی نظر آئے گا تم کسی کے ساتھ بات چیت کرنے سے پہلے اس کو مارنا کیونکہ وہ شیطان ہو گا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا انہوں نے ایسا ہی کیا تو ہم اس وجہ سے ان چھڑیوں کو پسند کرتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے کہا : اے حضرت ابوسعید ! حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس گھڑی کے بارے میں حدیث بیان کی تھی جو جمعہ کے دن میں ہوتی ہے ‘ تو کیا آپ کے پاس اس کے بارے میں کوئی علم ہے انہوں نے فرمایا : ہم نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے اس کا علم دیا گیا تھا پھر وہ مجھے بھلا دیا گیا جس طرح مجھے شب قدر بھلا دی گئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ‘ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث جو بلغم کو کھرچنے کے بارے میں ہے وہ بھی ’’ صحیح ‘‘ میں منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ اور یہ بات ذائد نقل کی ہے :’’ پھر میں ان کے پاس سے راوی کہتے ہیں : یعنی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلا یہاں تک کہ میں نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صاحب کے گھر آیا میں نے سوچا یہ صاحب تورات کے بھی عالم ہیں ‘ اور نبی اکرم ﷺ کے صحابی بھی ہیں راوی کہتے ہیں : میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کہا آپ مجھے اس گھڑی کے بارے میں بتائیے جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ یہ فرماتے تھے جو بھی آپ جمعہ کے دن بارے میں فرماتے تھے تو انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن ہیدا کیا تھا انہیں جمعہ کے دن جنت میں رہنے کے لئے ٹھہرایا تھا انہیں جمعہ کے دن زمین پر اتارا تھا انہیں جمعہ کے دن وفات دی تھی یہ وہ دن ہے ‘ جس میں ایک گھڑی ہوتی ہے ‘ اور یہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہوتی ہے راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ( مسلمان بندہ ) نماز کے دوران ( دعا مانگے ‘ تو دعا قبول ہوتی ہے ) تو انہوں نے فرمایا : کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ جو شخص نماز کا انتظار کر رہا ہو وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے ‘‘۔ ان دونوں روایات کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔