Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 4 · Chapter 38

Book of Prayer

Hadith 3075–3114

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3075

Majma al-Zawaid #3075

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى أَصْحَابِ الْعَمَائِمِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ مُدْرِكٍ قَالَ ابْنُ مَعِينٍ: إِنَّهُ كَذَّابٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي بَابٍ قَبْلِ هَذَا بَيَانُ اللِّبَاسِ لِلْجُمُعَةِ مِنْ أَحْسَنِ الثِّيَابِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Allah and His angels send blessings upon the wearers of turbans on Friday."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے جمعہ کے دن عمامہ باندھنے والوں پر رحمت نازل کرتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن مدرک ہے یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ کذاب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے والے باب میں یہ بات بیان کی جا چکی ہے کہ جمعہ کے لئے لباس میں سب سے عمدہ لباس پہننا چاہیے ۔

3076

Majma al-Zawaid #3076

عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ جَمَعَ بِهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ جَمَعَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى بِهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Masʿūd al-Anṣārī رضي الله عنه narrated that the first of the Emigrants to come to Madinah was Muṣʿab ibn ʿUmayr, and he was the first to gather them there on Friday before the Messenger of Allah ﷺ arrived, and he led them in prayer: > **"The first of the Emigrants to come to Madinah was Muṣʿab ibn ʿUmayr, and he was the first to gather them there on Friday before the Messenger of Allah ﷺ arrived, and he led them in prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مہاجرین میں سے جو صاحب سب سے پہلے مدینہ منورہ آئے وہ حضرت مصعب بن عمیر تھے ‘ اور یہ وہ پہلے فرد ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے مدینہ منورہ میں جمعہ کے دن جمعہ پڑھایا انہوں نے ان لوگوں کو ( جمعہ کی ) نماز پڑھائی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابوخضر ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3077

Majma al-Zawaid #3077

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْجُمُعَةُ عَلَى الْخَمْسِينَ رَجُلًا وَلَيْسَ عَلَى مَا دُونَ الْخَمْسِينَ جُمُعَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ صَاحِبُ الْقَاسِمِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Friday is upon fifty men, and there is no Friday upon fewer than fifty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جمعہ پچاس افراد پر لازم ہوتا ہے پچاس سے کم افراد ہوں تو جمعہ لازم نہیں ہوتا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ‘ جو قاسم کا شاگرد ہے ‘ اور وہ انتہائی ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3078

Majma al-Zawaid #3078

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا رَاحَ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلًا إِلَى الْجُمُعَةِ كَانُوا كَسَبْعِينَ مُوسَى الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى رَبِّهِمْ أَوْ أَفْضَلَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ بَكْرٍ الْبَالِسِيُّ قَالَ الْأَزْدِيُّ: كَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When seventy men among us go to Friday, they are like the seventy of Mūsā who came as a deputation to their Lord, or even better."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب ہم میں سے ستر افراد جمعہ کے لئے جائیں تو وہ حضرت موسیٰ کے ستر افراد کی مانند ہوں گے جو اپنے پروردگار کی بارگاہ میں وفد کے طور پر گئے تھے یا اُن سے زیادہ فضیلت رکھتے ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی احمد بن بکر بالسی ہے ازدی کہتے ہیں : یہ حدیث ایجاد کرتا تھا ۔

3079

Majma al-Zawaid #3079

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «تَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ مَعَهُمُ الصُّحُفُ يَكْتُبُونَ النَّاسَ فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ""، قُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ لَيْسَ لِمَنْ جَاءَ بَعْدَ خُرُوجِ الْإِمَامِ جُمُعَةٌ؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنْ لَيْسَ مِمَّنْ يُكْتَبُ فِي الصُّحُفِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said, "The angels sit on Friday upon the doors of the mosques with scrolls, recording the people, and when the Imām comes out the scrolls are folded." He said, "O Abū Umāmah, is there no Friday for one who comes after the coming out of the Imām?" He said, "Indeed there is, but he is not among those recorded in the scrolls": > **"The angels sit on Friday upon the doors of the mosques with scrolls, recording the people, and when the Imām comes out the scrolls are folded."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جمعہ کے دن فرشتے مساجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں ان کے پاس صحیفے ہوتے ہیں وہ لوگوں کے نام نوٹ کرتے ہیں جب امام آ جاتا ہے ‘ تو صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں “۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے کہا : اے حضرت ابوامامہ ! جو شخص امام کے آنے کے بعد آتا ہے کیا اس کا جعہ نہیں ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہوتا ہے ‘ لیکن یہ ان افراد میں شامل نہیں ہوتا جن کے نام صحیفے میں نوٹ کیے جاتے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ‘ جسے ایک جماعت نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

3080

Majma al-Zawaid #3080

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «تَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ فَيَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ وَالثَّانِي وَالثَّالِثَ حَتَّى إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ رَفَعَتِ الصُّحُفَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"The angels sit upon the doors of the mosques and record the first, the second, and the third, until when the Imām comes out they raise the scrolls."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( جمعہ کے دن ) فرشتے مساجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور درجہ بدرجہ پہلے آنے والے لوگوں کے نام نوٹ کرتے ہیں یہاں تک کہ امام آ جاتا ہے ‘ تو وہ صحیفے اٹھا لیتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے امام احمد کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3081

Majma al-Zawaid #3081

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ خَرَجَ الشَّيَاطِينُ يُوَثِّبُونَ النَّاسَ إِلَى أَسْوَاقِهِمْ [وَمَعَهُمُ الرَّايَاتُ] وَتَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ مَنَازِلِهِمْ: السَّابِقُ وَالْمُصَلِّي الَّذِي يَلِيهِ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ، فَمَنْ دَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ نَأَى [عَنْهُ] فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ دَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَلَغَا وَلَمْ يُنْصِتْ وَلَمْ يَسْتَمِعْ كَانَ عَلَيْهِ كِفْلَانِ مِنَ الْوِزْرِ، [وَمَنْ نَأَى عَنْهُ فَلَغَا وَلَمْ يَنْصِتْ وَلَمْ يَسْتَمِعْ كَانَ عَلَيْهِ كِفْلٌ مِنَ الْوِزْرِ]، وَمَنْ قَالَ: صَهٍ فَقَدْ تَكَلَّمَ وَمَنْ تَكَلَّمَ فَلَا جُمُعَةَ لَهُ"". ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْهُ يَسِيرًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه said that when Friday comes, the devils go out driving the people to their markets with banners, while the angels sit upon the doors of the mosques recording the people according to their ranks, the foremost and the next who prays after him, until the Imām comes out. Then whoever draws near to the Imām, listens attentively, and does not engage in idle talk will have two shares of reward, and whoever stays far from him, listens, remains silent, and does not engage in idle talk will have one share of reward. And whoever draws near to the Imām but engages in idle talk, neither remaining silent nor listening, will bear two shares of sin, and whoever stays far from him but engages in idle talk, neither remaining silent nor listening, will bear one share of sin. And whoever says "Be silent" has spoken, and whoever speaks has no Friday. Then he said, "Thus did I hear your Prophet ﷺ": > **"When Friday comes, the devils go out driving the people to their markets with banners, while the angels sit upon the doors of the mosques recording the people according to their ranks, the foremost and the next who prays after him, until the Imām comes out. Then whoever draws near to the Imām, listens attentively, and does not engage in idle talk will have two shares of reward, and whoever stays far from him, listens, remains silent, and does not engage in idle talk will have one share of reward. And whoever draws near to the Imām but engages in idle talk, neither remaining silent nor listening, will bear two shares of sin, and whoever stays far from him but engages in idle talk, neither remaining silent nor listening, will bear one share of sin. And whoever says 'Be silent' has spoken, and whoever speaks has no Friday."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب جمعہ کا دن آتا ہے ‘ تو شیاطین نکلتے ہیں ، اور لوگوں کو بازار کی طرف لے کر جاتے ہیں ان شیاطین کے پاس جھنڈے ہوتے ہیں ، جبکہ فرشتے مساجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں ‘ اور وہ لوگوں کی منزلت ( یعنی آمد کی ترتیب ) کے اعتبار سے ان کے نام نوٹ کرتے ہیں کہ پہلے کون آیا اس کے بعد کون آیا یہاں تک کہ جب امام آ جاتا ہے ‘ تو جو شخص امام کے قریب ہو اور خاموش رہے ‘ اور غور سے خطبہ سنے اور کوئی لغو حرکت نہ کرے تو اسے اجر کے دو کفل ملتے ہیں ‘ اور جو شخص امام سے دور ہو اور غور سے خطبہ سنے اور کوئی لغو حرکت نہ کرے تو اسے اجر کا ایک کفل ملتا ہے ‘ جو شخص امام کے قریب ہو اور لغو حرکت کرے اور خاموش نہ رہے ‘ اور غور سے خطبہ نہ سنے تو اسے گناہ کے دو کفل ملتے ہیں ، اور جو شخص امام سے دور ہو اور لغو حرکت کرے اور خاموش بھی نہ رہے اور غور سے خطبہ بھی نہ سنے تو اسے گناہ کا ایک کفل ملتا ہے ‘ اور جو شخص ( کسی دوسرے شخص کو یہ کہے : تم خاموش رہو ‘ تو اس نے کلام کیا اور جس شخص نے کلام کیا ہو اس کا جمعہ نہیں ہوتا ۔ اس کے بعد انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے تمہارے نبی کو اسی طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

3082

Majma al-Zawaid #3082

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَعَدَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ فَيَكْتُبُونَ مَنْ جَاءَ مِنَ النَّاسِ عَلَى مَنَازِلِهِمْ؛ فَرَجُلٌ قَدَّمَ جَزُورًا، وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَقَرَةً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ شَاةً وَرَجُلٌ قَدَّمَ دَجَاجَةً وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَيْضَةً "" قَالَ: ""فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَجَلَسَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ طُوِيَتِ الصُّحُفُ وَدَخَلُوا الْمَسْجِدَ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated from the Prophet ﷺ that he said, "When Friday comes, the angels sit upon the doors of the mosques and record those who come among the people according to their ranks: a man who offers a camel, a man who offers a cow, a man who offers a sheep, a man who offers a chicken, and a man who offers an egg." He said, "Then when the caller to prayer calls and the Imām sits upon the minbar, the scrolls are folded and they enter the mosque listening to the remembrance": > **"When Friday comes, the angels sit upon the doors of the mosques and record those who come among the people according to their ranks: a man who offers a camel, a man who offers a cow, a man who offers a sheep, a man who offers a chicken, and a man who offers an egg. Then when the caller to prayer calls and the Imām sits upon the minbar, the scrolls are folded and they enter the mosque listening to the remembrance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے ‘ تو فرشتے مساجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں ‘ اور لوگوں کے نام ان کی آمد کی ترتیب کے حساب سے نوٹ کرتے ہیں تو کوئی شخص یوں ہوتا ہے جیسے اس نے اونٹ صدقہ کیا ہو ‘ کوئی شخص یوں ہوتا ہے ‘ جیسے اس نے گائے صدقہ کی ہو کوئی شخص یوں ہوتا ہے جیسے اس نے بکری صدقہ کی ہو کوئی شخص یوں ہوتا ہے جیسے اس نے مرغی صدقہ کی ہو کوئی شخص یوں ہوتا ہے جیسے اس نے انڈا صدقہ کیا ہو نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : جب مؤذن اذان دیتا ہے ‘ اور امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے ‘ تو صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں ‘ اور فرشتے مسجد میں داخل ہو کر ذکر ( یعنی خطبہ ) غور سے سنتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3083

Majma al-Zawaid #3083

وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «احْضُرُوا الْجُمُعَةَ وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَتَأَخَّرُ عَنِ الْجُمُعَةِ فَيُؤَخَّرُ عَنِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لِمَنْ أَهْلِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Attend Friday and draw near to the Imām, for a man may be of the people of Paradise yet lag behind from Friday and so be delayed from Paradise, though he is of its people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : جمعہ میں شریک ہو امام کے قریب رہو کیونکہ ایک شخص جو اہل جنت سے تعلق رکھتا ہے وہ اگر جمعہ سے پیچھے رہ جائے تو وہ جنت سے پیچھے رہ جاتا ہے حالانکہ وہ اس کے اہل میں سے ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

3084

Majma al-Zawaid #3084

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ وَغَدَا وَابْتَكَرَ فَدَنَا وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever washes and bathes on Friday, goes early and comes at the first hour, draws near, listens and remains silent, will have two shares of reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور سر دھوئے اور جلدی جائے اور قریب رہے ‘ اور غور سے سنے اور خاموش رہے ‘ تو اسے اجر کے دو کفل ملتے ہیں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

3085

Majma al-Zawaid #3085

وَبِسَنَدِهِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «الْمُتَعَجِّلُ فِي الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، وَالَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي الثَّوْرَ، وَالَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي شَاةً، وَالَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي دَجَاجَةً» ".

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated from the Prophet ﷺ with the same chain that he said: > **"The one who hastens to Friday is like one who offers a camel, and the one after him is like one who offers an ox, and the one after him is like one who offers a sheep, and the one after him is like one who offers a chicken."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انہوں نے اس سند کے ساتھ حضرت ابوامامہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ""جمعہ کے لئے جلدی جانے والا اونٹ کی قربانی کرنے والے کی مانند ہے ‘ اس کے بعد والا بیل کی قربانی ( یعنی صدقہ ) کرنے وانے کی مانند ہے ‘ اس کے بعد والا بکری کی قربانی کروانے کی مانند ہے ‘ اس کے بعد والا مرغی کی قربانی کرنے والے کی مانند ہے ‘‘۔

3086

Majma al-Zawaid #3086

وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "" «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَبْعَثُ الْمَلَائِكَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ الْقَوْمَ الْأَوَّلَ وَالثَّانِي وَالثَّالِثَ وَالرَّابِعَ وَالْخَامِسَ وَالسَّادِسَ، فَإِذَا بَلَغُوا السَّابِعَةَ كَانُوا بِمَنْزِلَةٍ مِنْ قُرْبِ الْعَصَافِيرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ بَشِيرِ بْنِ [عَوْنٍ] الْقُرَشِيِّ قَالَ ابْنُ حِبَّانَ: رَوَى نَحْوَ مِائَةِ حَدِيثٍ، كُلُّهَا مَوْضُوعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Allah, Blessed and Exalted, sends the angels on Friday upon the doors of the mosques, recording the people, the first, the second, the third, the fourth, the fifth, and the sixth. And when they reach the seventh, they are in the position of those near to sparrows."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ جمعہ کے دن فرشتوں کو مساجد کے دروازوں پر بھیجتا ہے ‘ جو لوگوں میں پہلے دوسرے نمبر پر تیسرے نمبر پر چوتھے نمبر پر پانچویں نمبر پر اور چھٹے نمبر پر آنے والے لوگوں کے نام نوٹ کرتے ہیں جب وہ ساتویں نمبر پر پہنچتے ہیں تو وہ چڑیوں کے ایک ساتھ چلنے کی مانند ہو جاتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں بشیر بن عون قرشی کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ ابن حبان کہتے ہیں : اس نے تقریبا ایک سو احادیث روایت کی ہیں ‘ اور وہ ایجاد کی ہوئی ہیں ۔

3087

Majma al-Zawaid #3087

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَغَدَا وَابْتَكَرَ ثُمَّ جَلَسَ قَرِيبًا مِنَ الْإِمَامِ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا عَمَلُ سَنَةٍ؛ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Shaddād ibn Aws رضي الله عنه narrated from the Prophet ﷺ that he said: > **"Whoever washes and bathes on Friday, goes early and comes at the first hour, then sits close to the Imām, listens and remains silent, will have for every step he takes the deeds of a year, its fasting and its standing in prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص جمعہ کے دن غسل کرنے اور سر دھوئے اور جلدی جائے اور امام کے قریب بیٹھے اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے ‘ تو اسے اپنے اٹھائے ہوئے ہر ایک قدم کے عوض میں ایک سال کے عمل کا یعنی سال بھر کے روزوں اور قیام کا ثواب ملتا ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3088

Majma al-Zawaid #3088

وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَغَدَا وَابْتَكَرَ وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا إِلَى الْمَسْجِدِ صِيَامَ سَنَةٍ وَقِيَامَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَنَاحٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ṭalḥah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever washes and bathes, goes early and comes at the first hour, draws near to the Imām, remains silent and does not engage in idle talk on Friday, Allah records for him, for every step he takes to the mosque, the fasting of a year and its standing in prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص ( جمعہ کے دن ) غسل کرے اور سر کو دھوئے اور جائے اور جلدی جائے اور امام کے قریب رہے ‘ اور خاموش رہے ‘ اور جمعہ کے دن کوئی لغو حرکت نہ کرے تو اس کے مسجد کی طرف اٹھائے جانے والے ہر ایک قدم کے عوض میں اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب نوٹ کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد بن جناح ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3089

Majma al-Zawaid #3089

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «سَارِعُوا إِلَى الْجُمَعِ؛ فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَبْرُزُ إِلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ فِي كَثِيبِ كَافُورٍ فَيَكُونُوا مِنْهُ فِي الْقُرْبِ عَلَى قَدْرِ تَسَارُعِهِمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَيُحْدِثُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ شَيْئًا لَمْ يَكُونُوا رَأَوْهُ قَبْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ فَيُحَدِّثُونَهُمْ بِمَا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُمْ قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَدْ سَبَقَاهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: رَجُلَانِ وَأَنَا الثَّالِثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُبَارِكَ فِي الثَّالِثِ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ عَنِ ابْنِ مَاجَهْ مَرْفُوعٌ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿUbaydah narrated that ʿAbdullāh said, "Hasten to the Fridays, for Allah, Mighty and Majestic, manifests Himself to the people of Paradise every Friday upon a dune of camphor, and they will be near to Him according to their hastening to Friday. Then Allah, Mighty and Majestic, grants them of honor something they had never seen before that. Then they return to their families and tell them of what Allah has granted them." He said, "Then ʿAbdullāh entered the mosque and found two men on Friday who had preceded him, so ʿAbdullāh said, 'Two men, and I am the third; if Allah wills, He will bless the third'": > **"Hasten to the Fridays, for Allah, Mighty and Majestic, manifests Himself to the people of Paradise every Friday upon a dune of camphor, and they will be near to Him according to their hastening to Friday."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : جمعہ کی طرف جلدی جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر جمعہ کے دن اہل جنت کے سامنے کافور کے بنے ہوئے ٹیلے پر آئے گا ‘ اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسی حساب سے مقرب ہوں گے جتنی جلدی وہ جمعہ کے لئے جایا کرتے تھے اللہ تعالی ان کے ساتھ بات چیت کرے گا یہ ایک ایسی عزت افزائی ہو گی کہ انہوں نے اس جیسی کوئی چیز اس سے پہلے نہیں دیکھی ہو گی پھر جب وہ لوگ اپنے اہل خانہ کی طرف واپس جائیں گے تو انہیں یہ بتائیں گے کہ اللہ تعالی نے ان پر کیا انعام و اکرام کیا ہے راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عبداللہ مسجد میں داخل ہوئے تو جمعہ کے دن اُن سے پہلے دو افراد آ چکے تھے تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دو آدمی پہلے آ گئے ہیں ( میں تیسرا ہوں ) اگر اللہ نے چاہا تو وہ تیسرے میں بھی برکت رکھے گا ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے منقول ایک حدیث امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ‘ جو ’’ مرفوع ‘‘ روایت ہے ‘ اور اس سے زیادہ مختصر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔

3090

Majma al-Zawaid #3090

عَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يُتَحَلَّقُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ، وَلْيُقْبِلُوا عَلَى الْقِبْلَةِ، وَلَا يَوْمَ الْعِيدِ بَعْدَ الصَّلَاةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عَوْنٍ رَوَى أَحَادِيثَ مَوْضُوعَةً بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"No circles should be formed on Friday before the coming out of the Imām; rather they should face the Qiblah. And none on the day of ʿEid after the prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جمعہ کے دن امام کے آنے سے پہلے حلقے نہ بنائے جائیں بلکہ قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھا جائے اور عید کے دن نماز کے بعد حلقے نہ بنائے جائیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عون ہے ‘ اور وہ اس سند کے ساتھ موضوع احادیث روایت کرتا ہے ۔

3091

Majma al-Zawaid #3091

عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ أَبِي الْأَرْقَمِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الَّذِي يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ بَعْدَ خُرُوجِ الْإِمَامِ كَالْجَارِّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Al-Arqam ibn Abī al-Arqam, who was among the Companions of the Prophet ﷺ, narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Indeed, the one who steps over the necks of the people on Friday and separates two persons after the coming out of the Imām is like one dragging his intestines in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ارقم بن ابوارقم جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک وہ شخص جو جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے ‘ اور دو آدمیوں کے درمیان جدائی ڈال لیتا ہے ‘ اور ایسا امام کے آنے کے بعد کرتا ہے ‘ تو اس کی مثال آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹنے والے شخص کی مانند ہے “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زیاد ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

3092

Majma al-Zawaid #3092

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ حَتَّى جَلَسَ قَرِيبًا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاتَهُ قَالَ: "" مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُجَمِّعَ مَعَنَا؟ ""قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ حَرَصْتُ أَنْ أَضَعَ نَفْسِي بِالْمَكَانِ الَّذِي تَرَى قَالَ: "" قَدْ رَأَيْتُكَ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ وَتُؤْذِيهِمْ، مَنْ آذَى مُسْلِمًا فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ قَالَ ابْنُ حِبَّانَ: كَانَ يُخْطِئُ كَثِيرًا فَاسْتَحَقَّ التَّرْكَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that while the Prophet ﷺ was delivering the sermon, a man came stepping over the necks of the people until he sat close to the Prophet ﷺ. When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he said, "O so-and-so, what prevented you from joining with us?" He said, "O Messenger of Allah, I was keen to place myself in the position you see." He said, "I saw you stepping over the necks of the people and harming them. Whoever harms a Muslim has harmed me, and whoever harms me has harmed Allah, Mighty and Majestic": > **"I saw you stepping over the necks of the people and harming them. Whoever harms a Muslim has harmed me, and whoever harms me has harmed Allah, Mighty and Majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے اسی دوران ایک شخص آیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر نبی اکرم ﷺ کے قریب آ کر بیٹھ گیا جب نبی اکرم ﷺ نے نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے فلاں کیا وجہ بنی کہ تم نے ہمارے ساتھ جمعہ ادا نہیں کیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری یہ خواہش تھی کہ میں کسی ایسی جگہ پر بیٹھوں جسے آپ دیکھ رہے ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہیں دیکھا کہ تم لوگوں کی گردنیں پھلانگ رہے تھے ‘ اور انہیں اذیت پہنچا رہے تھے جو شخص مسلمان کو اذیت پہنچاتا ہے وہ مجھے اذیت پہنچاتا ہے ‘ اور جو شخص مجھے اذیت پہنچاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن مطیب ہے امام ابن حبان کہتے ہیں : وہ بہت زیادہ غلطی کرتا تھا اس لئے ترک کیے جانے کا مستحق قرار پایا ۔

3093

Majma al-Zawaid #3093

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَأْكُلْ مُتَّكِئًا وَلَا تَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زُرَيْقٍ قَالَ الْأَزْدِيُّ: لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Do not eat reclining, and do not step over the necks of the people on Friday."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم ٹیک لگا کر بیٹھ کر نہ کھاؤ اور جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زریق ہے ازدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ہے ۔

3094

Majma al-Zawaid #3094

عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «دَخَلَ عَلَيْنَا عُثْمَانُ بْنُ الْأَزْرَقِ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَفَضَّ وَقَعَدَ فِي الْمَسْجِدِ فَقُلْنَا: رَحِمَكَ اللَّهُ لَوْ كُنْتَ وَصَلْتَ إِلَيْنَا كَانَ أَرْفَقَ بِكَ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ [يَوْمَ الْجُمُعَةِ] بَعْدَ خُرُوجِ الْإِمَامِ أَوْ فَرَّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ كَالْجَارِّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār ibn Saʿd narrated that ʿUthmān ibn al-Azraq entered upon them in the mosque on Friday while the Imām was delivering the sermon, so he moved apart and sat in the mosque. They said to him, "May Allah have mercy on you, had you joined us it would have been easier for you." He said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say": > **"Whoever steps over the necks of the people on Friday after the coming out of the Imām, or separates two persons, is like one dragging his intestines in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمار بن سعد بیان کرتے ہیں : عثمان بن ازرق ‘ جمعہ کے دن ہمارے پاس مسجد میں آئے امام اس وقت خطبہ دے رہا تھا وہ مسجد میں بیٹھ گئے ہم نے کہا اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے اگر آپ ہمارے پاس آ جاتے تو یہ آپ کے لئے زیادہ سہولت کا باعث ہوتا تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص امام کے آ جانے کے بعد جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے یا دو آدمیوں کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے ‘ تو اس کی مثال آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹنے والے شخص کی مانند ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زید ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

3095

Majma al-Zawaid #3095

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «افْتَقَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: "" أَيْنَ كُنْتَ فَإِنِّي لَمْ أَرَكَ، أَلَمْ تَشْهَدِ الصَّلَاةَ؟ "" قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي جِئْتُ وَقَدْ ثَبَتَ النَّاسُ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ قَالَ: "" بَلَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ missed one of his Companions and said to him: > **"Where were you, for I did not see you? Did you not attend the prayer?"** He replied: "Indeed I did, but I came when the people had already settled in their places, and I disliked stepping over the necks of the people." The Prophet ﷺ said: > **"Quite right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کو غیر موجود پایا تو دریافت کیا : تم کہاں تھے میں نے تمہیں نہیں دیکھا کیا تم نماز میں شریک نہیں ہوئے انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! میں آیا تھا لوگ اس وقت اپنی جگہ پر بیٹھ چکے تھے تو مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3096

Majma al-Zawaid #3096

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَشْهَدَ الْجُمُعَةَ وَلَا نَتَغَيَّبَ عَنْهَا إِذَا انْتَدَبَ الْمُؤْمِنُونَ بِنُدْبَةِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَامُوا فَإِنَّ أَحَدَهُمْ هُوَ أَحَقُّ بِمَقْعَدِهِ إِذَا رَجَعَ إِلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ used to command us to attend Jumu'ah and not to stay away from it: > **"When the believers are called upon for the duty of Friday and they rise, then if one of them returns to his seat, he has the greatest right to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ حکم دیا کرتے تھے کہ ہم جمعہ میں شریک ہوں ‘ اور اس سے غائب نہ رہیں ‘ اور جب جمعہ کے دن اہل ایمان میں سے کسی شخص کو اور وہ لوگ اٹھ جائیں تو ان میں سے کوئی ایک شخص واپس آئے گا ‘ تو وہ ( اس جگہ کا ) زیادہ حق دار ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

3097

Majma al-Zawaid #3097

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيَتَحَوَّلْ إِلَى مَكَانِ صَاحِبِهِ وَيَتَحَوَّلْ صَاحِبُهُ إِلَى مَكَانِهِ» ""، قِيلَ لِإِسْمَاعِيلَ: وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When one of you dozes on Friday, let him move to his companion's place, and let his companion move to his place."** It was said to Ismāʿīl: "Even while the imām is delivering the khutbah?" He said: "Yes."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب جمعہ کے دن کسی شخص کو اونگھ آ جائے تو اسے اپنے ساتھی کی جگہ پر چلے جانا چاہیے اور اس کے ساتھی کو اس کی جگہ پر آ جانا چاہیے ‘‘۔ اسماعیل نامی راوی سے دریافت کیا گیا : اگرچہ امام اس وقت خطبہ دے رہا ہو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3098

Majma al-Zawaid #3098

عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - قَالَ: «كَانَ جِذْعُ نَخْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ يُسْنِدُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ظَهْرَهُ إِلَيْهِ إِذَا تَكَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ حَدَثَ أَمْرٌ يُرِيدُ أَنْ يُكَلِّمَ النَّاسَ فَقَالُوا: أَلَا نَجْعَلُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَقَدْرِ قِيَامِكَ قَالَ: "" لَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَفْعَلُوا "" فَصَنَعُوا لَهُ مِنْبَرًا ثَلَاثَ مَرَاقٍ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ فَخَارَ كَمَا تَخُورُ الْبَقَرَةُ جَزَعًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَالْتَزَمَهُ وَمَسَحَهُ حَتَّى سَكَنَ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ أَبِي حُبَابٍ الْكَلْبِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما said: There was the trunk of a date-palm in the mosque against which the Messenger of Allah ﷺ would lean his back when he spoke on Friday or when some matter arose about which he wished to address the people. The people said: "O Messenger of Allah ﷺ, shall we not make something for you sufficient for your standing?" He replied: > **"There is no harm upon you if you do so."** So they made for him a minbar of three steps. When he sat upon it, the trunk moaned like the lowing of a cow, grieving for the Messenger of Allah ﷺ. So he embraced it and stroked it until it calmed down.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مسجد میں کھجور کا ایک تنا موجود تھا جس کے ساتھ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن کلام کرنے کے دوران ٹیک لگا لیا کرتے تھے یا جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا تھا جب بھی آپ نے لوگوں کے ساتھ کوئی بات چیت کرنی ہوتی تھی اس وقت ایسا کر لیتے تھے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کے لئے ایسی چیز نہ بنا دیں کہ جو آپ کے قیام کی جگہ کفایت کر جائے آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم ایسا کر لو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا ، تو لوگوں نے تین سیڑھیوں کا منبر نبی اکرم ﷺ کے لئے تیار کروایا نبی اکرم ﷺ اس پر تشریف فرما ہوئے تو کھجور کا وہ تنا یوں رونے لگا جس طرح کوئی گائے ڈکراتی ہے وہ نبی اکرم ﷺ سے جدائی کی وجہ سے ایسا کر رہا تھا نبی اکرم ﷺ نے اسے لپٹا لیا اور اس پر ہاتھ پھیرا یہاں تک کہ وہ پرسکون ہو گیا ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے یہ روایت امام احمد نے ابوحباب کلبی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے لیکن تدلیس کرنے والا ہے ‘ اور اس نے یہ روایت معنعن کے طور پر نقل کی ہے ۔

3099

Majma al-Zawaid #3099

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي إِلَى جِذْعٍ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا، وَكَانَ يَخْطُبُ إِلَى ذَلِكَ الْجِذْعِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَجْعَلُ لَكَ شَيْئًا تَقُومُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّى تَرَى النَّاسَ - أَوْ قَالَ: يَرَاكَ النَّاسُ - وَحَتَّى يَسْمَعَ النَّاسُ خُطْبَتَكَ قَالَ: ""نَعَمْ"" فَصَنَعُوا لَهُ ثَلَاثَ دَرَجَاتٍ فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا كَانَ يَقُومُ فَصَغَا الْجِذْعُ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ: "" اسْكُنْ، [ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" هَذَا الْجِذْعُ حَنَّ إِلَيَّ "" فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْكُنْ] إِنْ تَشَأْ غَرَسْتُكَ فِي الْجَنَّةِ فَيَأْكُلُ مِنْكَ الصَّالِحُونَ، وَإِنْ شِئْتَ أُعِيدُكَ كَمَا كُنْتَ رَطْبًا؟ "" فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دُفِعَ إِلَى أُبَيٍّ فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَهُ حَتَّى أَكَلَتْهُ الْأَرَضَةُ». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ فِي الْمُسْنَدِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kaʿb رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ used to pray facing a trunk, and the mosque was but a thatched shelter, and he would deliver the khutbah leaning against that trunk. A man among his Companions said: "O Messenger of Allah ﷺ, shall we make something for you to stand upon on Friday so that the people may see you and hear your khutbah?" He said: > **"Yes."** So they made for him three steps. When the Prophet ﷺ stood as he used to stand, the trunk inclined toward him in yearning, and he said to it: > **"Be still. If you wish, I shall plant you in Paradise so the righteous may eat from you, and if you wish, I shall restore you as you were, fresh and moist."** It chose the Hereafter over this world. When the Prophet ﷺ passed away, the trunk was given to Ubayy, and it remained with him until termites consumed it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت أبي بن كعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کھجور کے ایک تنے کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کیا کرتے تھے مسجد پر چھت ڈالی گئی تھی نبی اکرم ﷺ کھجور کے اس تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ کے لئے کوئی چیز تیار کرتے ہیں جس پر آپ جمعہ کے دن کھڑے ہو جایا کریں تاکہ آپ لوگوں کو ملاحظہ فرما سکیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور لوگ آپ کے خطبے کو سن سکیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے لوگوں نے آپ کے لئے تین سیڑھیوں کا منبر بنا دیا نبی اکرم ﷺ اس پر کھڑے ہوئے جس طرح آپ پہلے کھڑے ہوا کرتے تھے تو کھجور کا وہ تنا آپ کے لئے رونے لگا نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا تم پرسکون ہو جاؤ پھر آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا یہ تنا میری خاطر رو رہا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا تم پرسکون ہو جاؤ اگر تم چاہو تو میں تمہیں جنت میں لگوا دوں گا ‘ اور نیک لوگ تم میں سے کھائیں گے اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں پہلے کی طرح لکڑی بنا دیتا ہوں تو اس نے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو اختیار کیا جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا تو وہ تنا حضرت ابی کو دے دیا گیا اور وہ مسلسل ان کے پاس رہا یہاں تک کہ زمین نے اسے کھا لیا ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اسے عبداللہ نے مسند احمد کی زیادات میں روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔

3100

Majma al-Zawaid #3100

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُومُ إِلَى خَشَبَةٍ يَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا يَخْطُبُ كُلَّ جُمُعَةٍ حَتَّى أَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ جَعَلْتُ لَكَ شَيْئًا إِذَا قَعَدْتُ عَلَيْهِ كُنْتَ كَأَنَّكَ قَائِمٌ قَالَ: "" نَعَمْ "" قَالَ: فَجُعِلَ لَهُ الْمِنْبَرُ، فَلَمَّا جَلَسَ عَلَيْهِ حَنَّتِ الْخَشَبَةُ حَنِينَ النَّاقَةِ عَلَى وَلَدِهَا حِينَ نَزَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ رَأَيْتُهَا قَدْ حُوِّلَتْ فَقُلْنَا: مَا هَذَا؟ قَالُوا: جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَارِحَةَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَحَوَّلُوهَا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd رضي الله عنه said: The Prophet ﷺ used to stand by a piece of wood, leaning upon it while delivering the khutbah every Friday, until a man of the people came to him and said: "If you wish, I shall make something for you such that when you sit upon it, it will be as though you are standing." He said: > **"Yes."** So the minbar was made for him. When he sat upon it, the piece of wood yearned with the yearning of a she-camel for her calf, until the Prophet ﷺ came down and placed his hand upon it. On the next day I saw that it had been moved, so we asked: "What is this?" They said: "The Prophet ﷺ came last night with Abū Bakr and ʿUmar and they moved it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک لکڑی کے پاس کھڑے ہو کر اس کے ساتھ ٹیک لگا کر ہر جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک صاحب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے لئے ایک ایسی چیز بنا دیتا ہوں جس پر آپ تشریف فرما ہوں گے ‘ تو یوں ہو گا جیسے آپ کھڑے ہوئے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ٹھیک ہے ، تو آپ کے لئے منبر بنایا گیا جب نبی اکرم ﷺ اس پر تشریف فرما ہوئے تو لکڑی کا وہ ٹکڑا یوں رونے لگا جیسے اونٹنی اپنے بچے کی خاطر روتی ہے یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ منبر سے نیچے اترے آپ نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا جب اگلا دن آیا تو میں نے اس ٹکڑے کو دیکھا کہ اسے وہاں سے منتقل کر دیا گیا تھا ہم نے دریافت کیا : اس کا کیا معاملہ ہے ‘ تو لوگوں نے بتایا آج صبح نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تھے ‘ اور انہوں نے اسے منتقل کر دیا ہے یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ‘ جسے ایک جماعت نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

3101

Majma al-Zawaid #3101

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: «كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَشَبَةٌ يَقُومُ إِلَيْهَا فَجَاءَ رَجُلٌ فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْعَلَ لَهُ كُرْسِيًّا فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ عَلَيْهِ فَحَنَّتِ الْخَشَبَةُ الَّتِي كَانَ يَقُومُ عِنْدَهَا حَتَّى سَمِعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ حَنِينَهَا قَالَ: فَقُلْتُ لِلْعَوْفِيِّ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُهُ لَعَمْرِي، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى احْتَضَنَهَا فَسَكَنَتْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ وَكِلَاهُمَا مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ had a piece of wood beside which he would stand. A man came, and the Prophet ﷺ instructed him to make a seat for him. When the Prophet ﷺ stood upon it to deliver the khutbah, the piece of wood beside which he used to stand yearned until the people of the mosque heard its yearning. The narrator said: I asked al-ʿAwfī: "Did you hear it yourself?" He said: "Yes, by my life, I heard it." Then the Prophet ﷺ came and embraced it until it calmed down.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ایک لکڑی تھی جس کے ساتھ ٹیک لگا کر آپ کھڑے ہوتے تھے ایک شخص آیا آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ آپ کے لئے کرسی بنا دے نبی اکرم ﷺ منبر پر خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو لکڑی کا وہ ٹکڑا رونے لگا جس کے پاس آپ پہلے کھڑے ہوا کرتے تھے یہاں تک کہ اہل مسجد نے اس کے رونے کی آواز سنی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عوفی سے دریافت کیا : کیا تم نے خود یہ روایت ان کی زبانی سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے میں نے ان کی زبانی یہ روایت سنی ہے : پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے یہاں تک کہ آپ نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا یہاں تک کہ وہ پرسکون ہو گیا ۔ یہ روایت امام بزار نے محمد بن ابولیلی کے حوالے سے عطیہ سے نقل کی ہے ‘ اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

3102

Majma al-Zawaid #3102

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُومُ إِلَى خَشَبَةٍ يَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا يَخْطُبُ كُلَّ جُمُعَةٍ حَتَّى أَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الرُّومِ وَقَالَ: إِنْ شِئْتَ جَعَلْتُ لَكَ شَيْئًا إِذَا قَعَدْتَ عَلَيْهِ كُنْتَ كَأَنَّكَ قَائِمٌ قَالَ: "" نَعَمْ "" قَالَ: فَجُعِلَ لَهُ الْمِنْبَرُ فَلَمَّا جَلَسَ عَلَيْهِ حَنَّتِ الْخَشَبَةُ حَنِينَ النَّاقَةِ عَلَى وَلَدِهَا حَتَّى نَزَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ فَرَأَيْتُهَا قَدْ حُوِّلَتْ فَقُلْنَا: مَا هَذَا؟ قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَحَوَّلُوهَا». قُلْتُ: لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ. وَتَأْتِي لِجَابِرٍ أَحَادِيثُ فِي الْمِنْبَرِ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه said: The Prophet ﷺ used to stand by a piece of wood, leaning upon it while delivering the khutbah every Friday, until a man from Rūm came to him and said: "If you wish, I shall make something for you such that when you sit upon it, it will be as though you are standing." He said: > **"Yes."** So the minbar was made for him. When he sat upon it, the piece of wood yearned with the yearning of a she-camel for her calf, until the Prophet ﷺ came down and placed his hand upon it. On the next day I saw that it had been moved, so we asked: "What is this?" They said: "The Prophet ﷺ came with Abū Bakr and ʿUmar and they moved it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ لکڑی کے پاس کھڑے ہو کر اس پر ٹیک لگا کر ہر جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے روم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے لئے ایک ایسی چیز تیار کر دیتا ہوں کہ آپ اس پر بیٹھ جایا کریں گے اور یوں ہو گا کہ جیسے آپ کھڑے ہوئے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ کے لئے منبر بنایا گیا جب آپ اس پر تشریف فرما ہوئے تو لکڑی کا وہ ٹکڑا یوں رونے لگا جس طرح کوئی اونٹنی اپنے بچے کی خاطر روتی ہے یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ منبر سے نیچے اترے آپ نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا راوی کہتے ہیں : جب اگلا دن آیا تو میں نے یہ دیکھا کہ اسے وہاں سے منتقل کر دیا گیا ہے ہم نے دریافت کیا : وہ کہاں گیا ؟ تو لوگوں نے بتایا نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تھے ‘ اور انہوں نے اسے منتقل کر دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت جابر کے حوالے سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں بھی مذکور ہے ، لیکن اس سیاق کے بغیر ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے حضرت جابر کے حوالے سے منقول کچھ اور احادیث جو منبر کے بارے میں ہیں ‘ وہ آگے آئیں گی ۔

3103

Majma al-Zawaid #3103

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنْ أَتَّخِذُ الْمِنْبَرَ فَقَدِ اتَّخَذَهُ أَبِي إِبْرَاهِيمُ وَإِنْ أَتَّخِذُ الْعَصَا فَقَدِ اتَّخَذَهَا أَبِي إِبْرَاهِيمُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» - "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"If I take the minbar, then my father Ibrāhīm took it; and if I take the staff, then my father Ibrāhīm took it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اگر میں منبر استعمال کرتا ہوں تو میرے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اسے استعمال کیا تھا اور اگر میں عصا استعمال کرتا ہوں تو میرے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اسے استعمال کیا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی ہے ‘ اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔

3104

Majma al-Zawaid #3104

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ خَطَبَ عَلَى الْمَنَابِرِ إِبْرَاهِيمُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَهُوَ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Ibrāhīm narrated from his father: > **"The first to deliver the khutbah upon pulpits was Ibrāhīm."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعد بن ابراہیم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سب سے پہلے منبر پر خطبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند منقطع ہے ۔

3105

Majma al-Zawaid #3105

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَيْهَا فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْإِسْلَامَ قَدِ انْتَهَى، وَكَثُرَ النَّاسُ وَيَأْتِيكَ الْوُفُودُ مِنَ الْآفَاقِ، فَلَوْ أَمَرْتَ بِصَنْعَةِ شَيْءٍ تَشْخَصُ عَلَيْهِ؟ فَقَالَ لِرَجُلٍ: ""أَتَصْنَعُ الْمِنْبَرَ؟ "" قَالَ: نَعَمْ قَالَ: "" مَا اسْمُكَ؟ "" قَالَ: فُلَانٌ قَالَ: "" لَسْتَ بِصَانِعِهِ "" فَدَعَا آخَرَ فَقَالَ: "" أَتَصْنَعُ الْمِنْبَرَ؟ "" قَالَ: نَعَمْ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَةِ هَذَا فَقَالَ: نَعَمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ: "" مَا اسْمُكَ؟ "" قَالَ: إِبْرَاهِيمُ قَالَ: "" خُذْ فِي صَنْعَتِهِ"" فَلَمَّا صَنَعَهُ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهِ فَحَنَّتِ الْخَشَبَةُ حَنِينَ النَّاقَةِ فَسَمِعَ صَوْتَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ - أَوْ قَالَ: أَهْلُ الْمَدِينَةِ - فَنَزَلَ فَالْتَمَسَهَا فَسَكَنَتْ، فَقَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ تَرَكْتُهَا لَحَنَّتْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". قُلْتُ: عَزَا بَعْضَهُ إِلَى ابْنِ مَاجَهْ صَاحِبُ الْأَطْرَافِ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي سَمَاعِي وَاللَّهُ أَعْلَمُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْجَرِيرِيِّ إِلَّا شَيْبَةُ قُلْتُ: وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ وَلَا الرَّاوِي عَنْهُ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdullāh رضي الله عنهما narrated that the Prophet ﷺ used to deliver the khutbah leaning his back against the trunk of a date-palm. It was said to him: "O Messenger of Allah ﷺ, Islam has spread far, the people have grown many, and delegations come to you from distant lands; if only you would order that something be made upon which you may appear." He said to one man: > **"Will you make the minbar?"** He said: "Yes." The Prophet ﷺ asked: > **"What is your name?"** He said: "So-and-so." The Prophet ﷺ said: > **"You shall not make it."** Then he called another and asked: > **"Will you make the minbar?"** He said: "Yes, if Allah wills." The Prophet ﷺ asked: > **"What is your name?"** He said: "Ibrāhīm." So the Prophet ﷺ said: > **"Then set about making it."** When it was made, the Messenger of Allah ﷺ ascended it, and the piece of wood yearned with the yearning of a she-camel until the people of the mosque—or he said the people of Madīnah—heard its sound. He came down and embraced it until it calmed, then said: > **"By the One in Whose Hand is my soul, had I left it, it would have yearned until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کھجور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے : آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اسلام دور دراز تک پہنچ چکا ہے لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے دور دراز سے وفود آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اگر آپ کوئی ایسی چیز تیار کرنے کا حکم دیں جس پر آپ تشریف فرما ہوا کریں ( تو یہ مناسب ہو گا ) نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے دریافت کیا : کیا تم منبر بنا لو گے اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ‘ اس نے جواب دیا : فلاں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے نہیں بناؤ گے پھر آپ نے ایک اور شخص کو بلایا اور دریافت کیا : کیا تم منبر بنا لو گے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! اس کے ساتھ بھی پہلے والے شخص کی مانند مکالمہ ہوا تو اس نے کہا : جی ہاں ! ان شاءاللہ ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ‘ اس نے جواب دیا : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ بناؤ جب اس نے اس کو بنایا تو نبی اکرم ﷺ اس پر تشریف فرما ہوئے تو لکڑی کا دو تنا یوں رونے لگا جس طرح اونٹنی روتی ہے یہاں تک کہ مسجد والوں نے اس کی آواز سنی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اہل مدینہ نے اس کی آواز سنی نبی اکرم ﷺ منبر سے نیچے اترے آپ نے اسے لپٹا لیا تو وہ پرسکون ہوا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر میں اسے ایسے ہی رہنے دیتا تو یہ قیامت کے دن تک روتا رہتا ‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ اطراف ‘‘ کے مصنف نے اس روایت کی نسبت امام ابن ماجہ کی طرف کی ہے ‘ اور میں نے اپنے سماع میں یہ روایت نہیں پائی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : جریری کے حوالے سے اس روایت کو صرف شیبہ نے نقل کیا ہے میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا اور اس سے روایت کرنے والے فرد کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

3106

Majma al-Zawaid #3106

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ فِي الْمَسْجِدِ يَخْطُبُ إِلَيْهَا يَعْتَمِدُ عَلَيْهَا فَأَمَرَتْ عَائِشَةُ فَصَنَعَتْ لَهُ مِنْبَرَهُ هَذَا، فَلَمَّا قَامَ إِلَيْهِ وَتَرَكَ مَقَامَهُ إِلَى السَّارِيَةِ خَارَتِ السَّارِيَةُ خُوَارًا شَدِيدًا - حَتَّى تَرَكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَقَامَهُ - تَشَوُّقًا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَشَى نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى اعْتَنَقَهَا فَلَمَّا اعْتَنَقَهَا هَدَأَ الصَّوْتُ الَّذِي سَمِعْنَا، فَقُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ فَقَالَ: أَنَا سَمِعْتُ وَأَهْلُ الْمَسْجِدِ، وَهُوَ أَحَدُ السَّوَارِي الَّتِي تَلِي الْحُجْرَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ used to pray toward a pillar in the mosque and deliver the khutbah leaning against it, relying upon it. By the order of ʿĀ'ishah رضي الله عنها this minbar of his was made for him. When he went to it and left his station by the pillar, the pillar moaned with a loud moaning—until the Prophet ﷺ left his station—longing for the Prophet of Allah ﷺ. So the Prophet of Allah ﷺ walked to it and embraced it, and when he embraced it the sound we had heard subsided. The narrator said: I asked: "Did you hear it yourself?" He said: "I heard it, and so did the people of the mosque; and it is one of the pillars adjacent to the chamber."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مسجد میں ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے آپ اس کے ساتھ ٹیک لگا لیتے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کی ہدایت کے تحت نبی اکرم ﷺ کے لئے یہ منبر بنایا گیا جب نبی اکرم ﷺ اس منبر کی طرف گئے اور آپ نے ستون کے پاس کھڑے ہونے کو ترک کیا تو وہ ستون آواز نکال کر رونے لگا ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ محبت کی وجہ سے ایسا کر رہا تھا تو نبی اکرم ﷺ چلتے ہوئے اس کے پاس تشریف لے گئے آپ نے اسے اپنے ساتھ لگایا جب آپ نے اسے اپنے ساتھ لگایا تو وہ آواز ختم ہو گئی جو ہم سن رہے تھے راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ نے خود وہ آواز سنی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے بھی سنی تھی اور اہل مسجد نے بھی سنی تھی اور یہ ان ستونوں میں سے ایک تھا جو حجرہ کے پاس تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عطیہ عوفی ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

3107

Majma al-Zawaid #3107

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ يَتَسَانَدُ إِلَيْهِ فَمَرَّ رُومِيٌّ فَقَالَ: لَوْ دَعَانِي مُحَمَّدٌ فَجَعَلْتُ لَهُ مَا هُوَ أَرْفَقُ بِهِ مِنْ هَذَا قَالَتْ: فَدُعِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ لَهُ الْمِنْبَرَ أَرْبَعَ مَرَاقٍ، فَصَعِدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ يَخْطُبُ، فَحَنَّ الْجِذْعُ كَمَا تَحِنُّ النَّاقَةُ فَنَزَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: ""مَا شَأْنُكَ؟ إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ اللَّهَ فَرَدَّكَ إِلَى مُحْتَبَسِكَ، وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ اللَّهَ فَأَدْخَلَكَ [اللَّهُ] الْجَنَّةَ فَأَثْمَرْتَ فِيهَا فَأَكَلَ مِنْ ثَمَرِكَ أَنْبِيَاءُ اللَّهِ الْمُرْسَلُونَ وَعِبَادُهُ الْمُتَّقُونَ "" قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" نَعَمْ "" فَغَارَ الْجِذْعُ فَذَهَبَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀ'ishah رضي الله عنها said: The Messenger of Allah ﷺ used to deliver the khutbah leaning against a trunk. A Roman passed by and said: "If Muḥammad would call me, I would make for him something more comfortable for him than this." So he was summoned for the Messenger of Allah ﷺ, and he made for him a minbar of four steps. The Prophet ﷺ ascended the minbar to deliver the khutbah, and the trunk yearned as a she-camel yearns. The Messenger of Allah ﷺ came down to it and said: > **"What is the matter with you? If you wish, I shall supplicate to Allah and He will return you to your enclosure; and if you wish, I shall supplicate to Allah and Allah will admit you into Paradise, where you will bear fruit and the commissioned Prophets of Allah and His God-fearing servants will eat from your fruit."** She said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Yes."** Then the trunk sank away and was gone.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کھجور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے : ایک رومی شخص کا گزر ہوا تو اس نے کہا اگر حضرت محمد ﷺ نے مجھے بلایا تو میں ان کے لئے ایک ایسی چیز تیار کر دوں گا ‘ جوان کے لئے اس سے زیادہ موزوں ہو گی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اس شخص کو نبی اکرم ﷺ کے پاس بلا کر لایا گیا تو اس نے نبی اکرم ﷺ کے لئے چار سیڑھیوں کا منبر تیار کیا نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے اور خطبہ دینے لگے ‘ تو لکڑی کا وہ تنا یوں رونے لگا جیسے اونٹنی روتی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ اتر کر اس کے پاس گئے اور فرمایا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کروں گا وہ تمہیں تمہاری جگہ کی طرف لوٹا دے گا ‘ اور اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں وہ تمہیں جنت میں داخل کر دے گا اس میں تم پر پھل لگیں گے اور تمہارے پھل میں سے اللہ کے نبی مرسلین اور پرہیزگار بندے کھائیں گے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ٹھیک ہے ‘ تو وہ لکڑی کا ٹکڑا گھن زدہ ہو کر ختم ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حیان ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3108

Majma al-Zawaid #3108

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «كُنْتُ جَالِسًا مَعَ خَالٍ لِي [مِنَ الْأَنْصَارِ]، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اخْرُجْ إِلَى الْغَابَةِ وَأْتِنِي مِنْ خَشَبِهَا فَاعْمَلْ لِي مِنْبَرًا أُكَلِّمُ عَلَيْهِ النَّاسَ "" فَعَمِلَ لَهُ مِنْبَرًا لَهُ عَتَبَتَانِ وَجَلَسَ عَلَيْهِمَا». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي عَمَلِ الْمِنْبَرِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ وَاقَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه said: I was sitting with a maternal uncle of mine from the Anṣār when the Prophet ﷺ said to him: > **"Go out to the forest, bring me some of its wood, and make a minbar for me upon which I may address the people."** So he made for him a minbar having two steps, and the Prophet ﷺ would sit upon them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں : میں اپنے انصاری ننھیالی عزیزوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا تم جنگل کی طرف جاؤ اور میرے لئے وہاں سے لکڑی لے کے آؤ اور میرے لیے منبر تیار کرو تاکہ اس پر بیٹھ کر میں لوگوں کے ساتھ بات چیت کیا کروں تو ان صاحب نے ان کے لئے دو چوکھٹوں کا منبر بنایا آپ اس پر تشریف فرما ہوا کرتے تھے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں بھی ایک حدیث منقول ہے ‘ جو منبر بنانے کے بارے میں ہے ‘ لیکن وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3109

Majma al-Zawaid #3109

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صَنَعَ الْمِنْبَرَ حَنَّ الْجِذْعُ إِلَيْهِ فَاعْتَنَقَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَكَنَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها narrated that the Prophet ﷺ used to deliver the khutbah leaning against the trunk in the mosque. When the minbar was made, the trunk yearned for him, so the Prophet ﷺ embraced it and it calmed down.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ مسجد میں کھجور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے جب آپ نے منبر بنوا لیا تو کھجور کا وہ تنا رونے لگا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اسے گلے لگایا تو وہ پرسکون ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

3110

Majma al-Zawaid #3110

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى عَلَى الْمِنْبَرِ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَامَ فَخَطَبَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ وَالْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ used to deliver the khutbah on Friday, on the day of Fiṭr, and on the day of Aḍḥā, all upon the minbar; and on Friday, when the mu'adhdhin fell silent, he would stand and deliver the khutbah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن اور عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن منبر پر خطبہ دیا کرتے تھے جب جمعہ کے دن مؤذن خاموش ہو جاتا تھا تو آپ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس ہے ‘ جسے امام احمد علی بن مدینی امام بخاری اور امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

3111

Majma al-Zawaid #3111

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ وَظَهْرُهُ إِلَى الْمُلْتَزَمِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ كَلَامٌ. وَيَأْتِي الْحَجُّ مِنْ هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ delivered a khutbah with his back toward the Multazam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا : آپ کی پشت ملتزم کی طرف تھی یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے ‘ اور وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اس موضوع سے متعلق احادیث آگے چل کر حج سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

3112

Majma al-Zawaid #3112

عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ فَنَبْتَدِرُ فِي الْآجَامِ فَمَا نَجِدُ مِنَ الظِّلِّ إِلَّا قَدْرَ مَوْضِعِ أَقْدَامِنَا». وَفِي رِوَايَةٍ: فَمَا نَجِدُ مِنَ الظِّلِّ إِلَّا مَوْضِعَ أَقْدَامِنَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr رضي الله عنه said: We used to pray Jumu'ah with the Prophet ﷺ, then we would depart and hasten toward the thickets, yet we would find of shade nothing but the measure of the place of our feet. And in one narration: we would find of shade nothing but the place of our feet.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں جمعہ ادا کیا کرتے تھے پھر جب ہم واپس آتے تھے تو ہم سایہ میں آنے کی کوشش کرتے تھے ہمیں کوئی سایہ نہیں ملتا تھا صرف اتنی جگہ ملتی تھی کہ جو ہمارے قدموں پر سایہ کر سکے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ہمیں سایہ نہیں ملتا تھا صرف اپنے قدموں کی جگہ ملتی تھی ( جس پر سایہ ہوتا تھا ) یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

3113

Majma al-Zawaid #3113

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ أَمِيرٌ عَلَى الْكُوفَةِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ إِذْ نَظَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى الظِّلِّ فَرَآهُ مِثْلَ الشِّرَاكِ فَقَالَ: إِنْ يَصِبْ أَحَدُكُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْرُجُ الْآنَ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا فَرَغَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنْ كَلَامِهِ حَتَّى خَرَجَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَقُولُ: الصَّلَاةُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه was with the people on a Friday in the mosque of Kūfah, while ʿAmmār ibn Yāsir was the governor of Kūfah appointed by ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, and ʿAbdullāh ibn Masʿūd was in charge of the treasury. ʿAbdullāh ibn Masʿūd looked at the shade and saw it was like a sandal-strap, so he said: > **"If any of you would attain the Sunnah of your Prophet ﷺ, let him go forth now."** The narrator said: By Allah, ʿAbdullāh ibn Masʿūd had not finished his speech before ʿAmmār ibn Yāsir came out announcing the prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم جمعہ کے دن ان کے ساتھ مسجد کوفہ میں موجود تھے ۔ حضرت عمار بن یاسر کوفہ کے امیر تھے جنہیں حضرت عمر بن خطاب نے مقرر کیا تھا اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیت المال کے نگران تھے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سایہ کی طرف دیکھا تو وہ تسمے جتنا ہو چکا تھا تو انہوں نے ارشاد فرمایا : اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے نبی کی سنت پر عمل کرنا چاہتا ہے ‘ تو اسے اس وقت ( نماز جعہ کی ادائیگی کے لیے ) نکل جانا چاہیے راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ابھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ بات کر کے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ اسی دوران حضرت عمار بن یاسر تشریف لے آئے اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ نماز ہونے والی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

3114

Majma al-Zawaid #3114

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ فَمَا نَجِدُ لِلْحِيطَانِ فَيْئًا نَسْتَظِلُّ بِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ حَنْظَلَةَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār ibn Yāsir رضي الله عنه said: We used to pray Jumu'ah, then we would depart and find no shade of the walls in which to take shelter.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ جعہ کی نماز ادا کرتے تھے پھر ہم واپس جاتے تھے تو ہمیں دیواروں کے سائے نہیں ملتے تھے کہ جس کے سائے میں ہم آ سکیں یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن حنظلہ ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔