Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 4 · Chapter 34

Book of Prayer

Hadith 2915–2954

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2915

Majma al-Zawaid #2915

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْعَصْرِ أَوِ الظُّهْرِ فَقَامَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَسَبَّحُوا لَهُ فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ prayed with them the ʿAṣr or Ẓuhr prayer and stood up after two rakʿahs, so they said "Subḥān Allāh" to him, but he continued in his Ṣalāh. When he completed the Ṣalāh, he prostrated twice and then gave salām.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات نقل کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کو عصر یا شاید ظہر کی نماز پڑھائی تو آپ دو رکعات کے بعد ( تشہد میں بیٹھنے کی بجائے ) کھڑے ہو گئے لوگوں نے آپ کو سبحان اللہ کہا لیکن آپ نے نماز جاری رکھی جب آپ نے نماز مکمل کی تو دو مرتبہ سجدہ کر کے سلام پھیر دیا یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2916

Majma al-Zawaid #2916

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «صَلَّى بِهِمُ الْعَصْرَ ثَلَاثًا فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يُسَمَّى ذُو الشِّمَالَيْنِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْقَصَتِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: "" وَمَا ذَاكَ؟ "" قَالَ: صَلَّيْتَ ثَلَاثًا فَقَامَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَخَرَجَ إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ كَانُوا صَلَّوْا مَعَهُ فَقَالَ: ""أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ "" قَالُوا: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ""إِنَّهُ زَعَمَ أَنِّي صَلَّيْتُ ثَلَاثًا"" قَالُوا: صَدَقَ فَظَنَنَّا أَنَّكَ أُمِرْتَ فِي ذَلِكَ بِأَمْرٍ فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانٍ الْغَنَوِيُّ الْعَامِرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ prayed ʿAṣr with them as three rakʿahs, then entered upon one of his wives. A man among his Companions called Dhū al-Shimālayn entered upon him and said, "O Messenger of Allah, has the Ṣalāh been decreased?" He said: > **"What is that?"** He said, "You prayed three." So he stood, took him by his hand, and went out to the people who had prayed with him, and said: > **"Is what Dhū al-Yadayn says true?"** They said, "What is that, O Messenger of Allah?" He said: > **"He claims that I prayed three."** They said, "He has spoken the truth; we thought you had been commanded with some command concerning it." So he prayed the rakʿah with them and prostrated twice after the tashahhud.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو عصر کی نماز میں تین رکعات پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا ) پھر آپ کسی زوجہ محترمہ کے گھر تشریف لے گئے آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب جنہیں ذوشمالین کہا جاتا تھا وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا نماز کم ہو گئی ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے انہوں نے عرض کی : آپ نے تین رکعات ادا کی ہیں تو نبی اکرم ﷺ اٹھے اور آپ ان کا ہاتھ پکڑ کر نکلے اور لوگوں کے پاس تشریف لائے جنہوں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی تھی آپ نے دریافت کیا : کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہا ہے لوگوں نے عرض کی : کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا یہ کہنا ہے کہ میں نے تین رکعات پڑھائیں ہیں لوگوں نے عرض کی : یہ ٹھیک کہہ رہا ہے ہم تو یہ سمجھے تھے کہ شاید آپ کو اس بارے میں کوئی حکم دیا گیا ہے ( راوی بیان کرتے ہیں ) تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو مزید ایک رکعت پڑھائی اور پھر تشہد کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کر لیا یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابان غنوی عامری ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

2917

Majma al-Zawaid #2917

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا ثُمَّ سَلَّمَ فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ: أَنْقَصَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ""كَذَاكَ يَا ذَا الْيَدَيْنِ؟ "" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَكَعَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ وَلَعَلَّهُ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، لَعَلَّهُ ""وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ النَّاسُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ prayed three rakʿahs with them, then gave salām. Dhū al-Shimālayn said to him, "Has the Ṣalāh been decreased, O Messenger of Allah?" He said: > **"Is it so, O Dhā al-Yadayn?"** He said, "Yes." So he performed a rakʿah and two prostrations, and two prostrations of forgetfulness.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں تین رکعات پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا تو حضرت ذوشمالین نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا نماز کم ہو گئی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ذوالیدین کیا اسی طرح ہے انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے پھر ایک رکعت ادا کی اور دو سجدے کیے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ‘ جسے شعبہ سفیان ثوری نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

2918

Majma al-Zawaid #2918

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «صَلَّى الْعَصْرَ خَمْسًا فَسَجَدَ سَجْدَتِيِ الْوَهْمِ وَهُوَ جَالِسٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ prayed ʿAṣr as five rakʿahs, then prostrated the two prostrations of error while seated.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عصر کی نماز میں پانچ رکعات پڑھا دیں تو آپ نے وہم کے دو سجدے ( یعنی سجدہ سہو ) کیے جب آپ بیٹھے ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

2919

Majma al-Zawaid #2919

وَعَنْ أَبِي خَلْدَةَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ سِيرِينَ فَقُلْتُ: أُصَلِّي فَلَا أَدْرِي رَكْعَتَيْنِ صَلَّيْتُ أَوْ أَرْبَعًا؟ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْعُرْيَانِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى يَوْمًا وَدَخَلَ الْبَيْتَ وَكَانَ فِي الْقَوْمِ طَوِيلُ الْيَدَيْنِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُسَمِّيهِ ذَا الْيَدَيْنِ فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ: "" لَمْ تَقْصُرْ وَلَمْ أَنْسَ"" قَالَ: بَلْ نَسِيتَ الصَّلَاةَ قَالَ: فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ وَلَمْ يَحْفَظْ مُحَمَّدٌ سَلَّمَ بَعْدُ أَمْ» لَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Khaldah narrated that he asked Ibn Sīrīn, saying, "I pray and do not know whether I prayed two rakʿahs or four?" He said that Abū al-ʿUryān told him that the Prophet ﷺ prayed one day and then entered the house. Among the people was a long-handed man whom the Messenger of Allah ﷺ used to call Dhā al-Yadayn. Dhū al-Yadayn said, "O Messenger of Allah, has the Ṣalāh been shortened, or did you forget?" He said: > **"It has neither been shortened nor have I forgotten."** He said, "Rather, you forgot the prayer." So he went forward and prayed two rakʿahs with them, then gave salām, then said takbīr and prostrated like his usual prostration or longer, then said takbīr and raised his head. Muḥammad did not remember whether he gave salām afterward or not.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوخلدہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابن سیرین سے دریافت کیا : میں نماز ادا کرتا ہوں ‘ اور مجھے پتہ نہیں چلتا کہ میں نے دو رکعات ادا کی ہیں یا چار رکعات ادا کی ہیں تو انہوں نے بتایا حضرت ابوالعریان نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ایک دن نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کی پھر آپ گھر تشریف لے گئے حاضرین میں سے ایک صاحب ایسے تھے جن کے ہاتھ لمبے تھے نبی اکرم ﷺ نے انہیں ذوالیدین کا نام دیا ہوا تھا ۔ حضرت ذوالیدین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ نہ تو مختصر ہوئی ہے نہ ہی میں بھولا ہوں انہوں نے عرض کی : جی نہیں آپ شاید نماز کو بھول گئے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ آگے بڑھے آپ نے ان لوگوں کو دو رکعات پڑھائیں پھر آپ نے سلام پھیرا پھر آپ نے تکبیر کہی اور پھر اپنے عام سجدوں جتنا یا شاید اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا پھر آپ نے تکبیر کہی اور آپ نے اپنے سر کو اٹھایا محمد نامی راوی کو یہ بات یاد نہیں ہے کہ روایت میں یہ ذکر ہے کہ آپ نے بعد میں سلام پھیرا کہ ذکر نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

2920

Majma al-Zawaid #2920

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: "" وَمَا ذَاكَ؟ "" قَالَ: صَلَّيْتَ خَمْسًا فَأَخَذَ بِيَدِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا حَلَقَةٌ فِيهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ: "" أَحَقًّا مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ "" قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ خَالٍ عَنْ قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, narrated that the Messenger of Allah ﷺ prayed with them, then entered his house. Some of the people said, "Has something been added to the Ṣalāh?" He said: > **"What is that?"** He said, "You prayed five." So he took him by his hand and went out to the mosque, where there was a circle in which were Abū Bakr and ʿUmar رضي الله عنهما. He said: > **"Is what Dhū al-Yadayn says true?"** They said, "Yes, O Messenger of Allah." So he faced the Qiblah and then prostrated twice.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی پھر آپ گھر تشریف لے گئے حاضرین میں سے ایک صاحب نے دریافت کیا : کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا ہوا ہے انہوں نے عرض کی : آپ نے پانچ رکعات پڑھائیں پھر آپ نے ان صاحب کا ہاتھ پکڑا اور آپ مسجد میں تشریف لائے وہاں ایک حلقہ موجود تھا جس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ذوالیدین جو کہہ رہا ہے کیا وہ ٹھیک ہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی ہاں ! تو نبی اکرم ﷺ نے قبلہ کی طرف رُخ کیا پھر آپ نے دو مرتبہ سجدے کیے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ‘ جس میں حضرت ذوالیدین کا واقعہ نقل ہوا ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان جعفی ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

2921

Majma al-Zawaid #2921

وَعَنِ ابْنِ مَسْعَدَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ "" قَالُوا: صَدَقَ، فَأَتَمَّ بِهِمُ الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتِي السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا سَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: ابْنُ مَسْعَدَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مُحَمَّدِ ابْنِ بَرَّةَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿadah رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ prayed Ẓuhr or ʿAṣr and gave salām after two rakʿahs. Dhū al-Yadayn said to him, "Has the Ṣalāh been shortened, or did you forget?" The Prophet ﷺ said: > **"What does Dhū al-Yadayn say?"** They said, "He has spoken the truth." So he completed the two rakʿahs with them, then prostrated the two prostrations of forgetfulness while seated after giving salām.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن مسعدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ظہر یا شاید عصر کی نماز میں دو رکعات کے بعد سلام پھیر دیا تو حضرت ذوالیدین نے عرض کی : کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے لوگوں نے کہا یہ ٹھیک کہہ رہا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں دو رکعات مزید پڑھا کر نماز مکمل کروائی اور پھر جب آپ بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابن مسعدہ کا نام عبداللہ ہے ‘ اور اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد ابراہیم بن محمد بن برہ کا معاملہ مختلف ہے ۔

2922

Majma al-Zawaid #2922

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَسْجُدْ يَوْمَ ذِي الْيَدَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْعُمَرِيُّ وَفِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Prophet ﷺ did not prostrate on the day of Dhū al-Yadayn.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ذوالیدین کے واقعہ والے دن سجدہ سہو نہیں کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمری ہے ‘ جس سے استدلال کرنے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

2923

Majma al-Zawaid #2923

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «سُئِلَ عَنْ رِجْلٍ سَهَا فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى قَالَ: "" لِيُعِدْ صَلَاتَهُ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَاعِدًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ was asked about a man who forgets in his Ṣalāh and does not know how much he has prayed. He said: > **"Let him repeat his Ṣalāh, and let him prostrate twice while seated."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا : جو اپنی نماز کے بارے میں سہو کا شکار ہو جاتا ہے ‘ اور اسے یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ اپنی نماز کو دہرا لے اور جب وہ بیٹھا ہوا ہو تو دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ‘ اسحاق نامی راوی نے حضرت عبادہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

2924

Majma al-Zawaid #2924

«وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّهْوَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: "" إِذَا صَلَّيْتَ فَرَأَيْتَ أَنَّكَ قَدْ أَتْمَمْتَ صَلَاتَكَ وَأَنْتَ فِي شَكٍّ فَتَشَهَّدِي وَانْصَرِفِي ثُمَّ اسْجُدِي سَجْدَتَيْنِ وَأَنْتِ قَاعِدَةٌ ثُمَّ تَشَهَّدِي بَيْنَهُمَا وَانْصَرِفِي» "". قُلْتُ: هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنْ عَائِشَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ فَلَا أَدْرِي أَهْوَ هَكَذَا فِي الْأَصْلِ أَوِ النُّسْخَةُ سَقِيمَةٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُطَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ نُسِبَ إِلَى الْوَضْعِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that she complained to the Messenger of Allah ﷺ about forgetfulness in Ṣalāh. He said: > **"When you pray and see that you have completed your Ṣalāh while you are in doubt, then recite the tashahhud and finish, then prostrate twice while seated, then recite the tashahhud between them, and then finish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے نماز میں سو کی شکایت کی تو آپ نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز ادا کرو اور یہ سمجھو کہ تم نے اپنی نماز مکمل کر لی ہے ‘ اور تم شک کی حالت میں ہو ‘ تو تم تشہد میں نماز ختم کرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ کر لو جب کہ تم بیٹھی ہوئی ہو اور پھر دوبارہ تشہد پڑھو اور پھر نماز ختم کر دو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) امام طبرانی نے یہ روایت معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے مجھے نہیں معلوم کہ اصل کتاب میں بھی یہ روایت اسی طرح ہے یا نسخے میں کوئی خامی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مطیر ہے ‘ اور متروک الحدیث ہے ‘ اس کی نسبت حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی گئی ہے ۔

2925

Majma al-Zawaid #2925

وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدَيِّ قَالَ: «خَرَجَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ وَأَصْحَابُهُ مِنْ مَكَّةَ فَصَلَّى بِهِمُ الْمَغْرِبَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِثَلَاثِ آيَاتٍ مِنَ النِّسَاءِ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿUthmān al-Nahdī narrated that Abū Mūsā al-Ashʿarī رضي الله عنه and his companions left Makkah, and he prayed Maghrib with them as two rakʿahs, then gave salām. Then he stood, recited three verses from al-Nisāʾ, then bowed, prostrated, and gave salām, attributing it to the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعثمان نہدی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوموسیٰ اشعری اور ان کے ساتھی مکہ سے نکلے حضرت ابوموسیٰ نے انہیں مغرب کی نماز میں دو رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیا پھر وہ کھڑے ہوئے انہوں نے سورت نساء کی تین آیات کی تلاوت کی پھر رکوع میں گئے اور سجدہ کیا اور سلام پھیر دیا انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات ذکر کی ( کہ اس طرح کی صورت حال میں ایسا کرنا چاہیے ) یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

2926

Majma al-Zawaid #2926

«وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَامَ فِي صَلَاتِهِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ فَعَرَفَ الَّذِي يُرِيدُونَ فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُكُمْ تَقُولُونَ: سُبْحَانَ اللَّهِ لِكَيْ أَجْلِسَ وَأَنْ لَيْسَ تِلْكَ السُّنَّةُ، إِنَّمَا السُّنَّةُ الَّتِي صَنَعْتُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُقْبَةَ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir رضي الله عنه stood in his Ṣalāh when sitting was due upon him, so the people said, "Subḥān Allāh, Subḥān Allāh." He understood what they intended, but when he completed his Ṣalāh he prostrated twice while seated, then said, "I heard you saying Subḥān Allāh so that I would sit, but that is not the Sunnah. The Sunnah is only what I did."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نماز میں اس وقت کھڑے ہو گئے جب ان پر بیٹھنا لازم تھا لوگوں نے سبحان اللہ سبحان اللہ کہا انہیں لوگوں کے ارادے کا پتہ چل گیا لیکن جب انہوں نے نماز مکمل کی تو دو مرتبہ سجدہ کیا جب وہ بیٹھے ہوئے تھے ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) انہوں نے ارشاد فرمایا : میں نے تم لوگوں کو سبحان اللہ کہتے ہوئے سن لیا تھا جو اس لئے تھا کہ میں بیٹھ جاؤں لیکن یہ چیز سنت نہیں ہے سنت وہ ہے ‘ جو میں نے کیا ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں زہری کی حضرت عقبہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے حالانکہ زہری نے ان سے سماع نہیں کیا ہے ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ‘ اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

2927

Majma al-Zawaid #2927

وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَهَا قَبْلَ التَّمَامِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَقَالَ: "" مَنْ سَهَا قَبْلَ التَّمَامِ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَإِذَا سَهَا بَعْدَ التَّمَامِ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ أَنْ يُسَلِّمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ هَكَذَا وَفِيهِ عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ وَضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Prophet ﷺ forgot before completion, so he prostrated the two prostrations of forgetfulness before giving salām, and he said: > **"Whoever forgets before completion prostrates the two prostrations of forgetfulness before giving salām, and when one forgets after completion, he prostrates the two prostrations of forgetfulness after giving salām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کو نماز مکمل کرنے سے پہلے سہو ہو گیا تو آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدہ سہو کیے آپ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو نماز مکمل کرنے سے پہلے سہو ہو جائے تو وہ سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدہ سہو کر لے اور جب کسی کو نماز مکمل ہونے کے بعد سہو ہو تو وہ سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن میمون ہے ‘ جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے اکثر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

2928

Majma al-Zawaid #2928

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «صَلَّيْتُ خَلْفَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ صَلَاةً سَهَا فِيهَا فَسَجَدَ بَعْدَ السَّلَامِ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا وَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَصْنَعْ إِلَّا كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصْنَعُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَفِيهِ مَجَاهِيلُ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Ṣāliḥ ibn ʿAlī ibn ʿAbdullāh ibn ʿAbbās narrated that he prayed behind Anas ibn Mālik رضي الله عنه a prayer in which he forgot, so he prostrated after the salām. Then he turned to them and said, "I only did as I saw the Messenger of Allah ﷺ do."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن صالح بن علی بن عبداللہ بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی جس میں انہیں سہو ہو گیا تو انہوں نے سلام پھیرنے کے بعد سجدہ کیا ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے میں نے صرف اسی طرح کیا ہے ‘ جس طرح میں نے نبی اکرم ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس میں مجہول راوی ہے ۔

2929

Majma al-Zawaid #2929

عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسًا جَهَرَ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ فَلَمْ يَسْجُدْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Qatādah narrated that Anas رضي الله عنه recited aloud in Ẓuhr or ʿAṣr, and he did not prostrate.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ظہر یا شاید عصر کی نماز میں بلند آواز میں تلاوت کی تو ( اس وجہ سے ) سجدہ ( سہو ) نہیں کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے جو ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ لیکن وہ اختلاط کیا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2930

Majma al-Zawaid #2930

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَيْسَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ سَهْوٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ الْفَضْلِ ضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالدَّارَقُطْنِيُّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"There is no forgetfulness prostration in the prayer of fear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ نماز خوف میں ( سجدہ ) سہو نہیں ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن فضل ہے ‘ جسے ابن حبان اور دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

2931

Majma al-Zawaid #2931

«عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا لِأَنَّهَا وِتْرٌ قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَى إِلَّا الْمَغْرِبَ وَإِذَا أَقَامَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، إِلَّا الْمَغْرِبَ لِأَنَّهَا وِتْرٌ، وَالصُّبْحَ لِأَنَّهَا يُطَوِّلُ فِيهَا الْقِرَاءَةَ».

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Ṣalāh was made obligatory as two rakʿahs each, except Maghrib as three, because it is witr. She said that when the Messenger of Allah ﷺ traveled, he prayed the original prayer, except Maghrib; and when he was resident, he added two rakʿahs with every two rakʿahs, except Maghrib because it is witr, and Fajr because the recitation therein is prolonged.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نماز دو دو فرض کی گئی تھی صرف مغرب کی نماز میں تین رکعت تھیں کیونکہ یہ طاق ہوتی ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سفر کرتے تھے تو پہلے والی نماز ( یعنی دو رکعات فرض ) ادا کرتے تھے البتہ مغرب کی نماز کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور جب آپ مقیم ہوتے تھے تو آپ دو رکعات کے ساتھ مزید دو رکعات ادا کرتے تھے البتہ مغرب کی نماز کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہ طاق ہوتی ہے ‘ اور صبح کی نماز کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ اس میں آپ طویل قرأت کرتے تھے ۔

2932

Majma al-Zawaid #2932

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا قَالَتْ: «فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ بِمَكَّةَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ» فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُمَا أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

In another narration from her, ʿĀʾishah رضي الله عنها said that the Ṣalāh was made obligatory in Makkah as two rakʿahs each, and when the Messenger of Allah ﷺ came to Madinah, he added two rakʿahs with every two rakʿahs, and she narrated similarly.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ایک روایت میں یہ منقول ہے وہ بیان کرتی ہیں : مکہ میں نماز دو دو رکعات کی شکل میں فرض قرار دی گئی تھی جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہر دو رکعات کے ساتھ دو رکعات زائد ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے : یہ دونوں روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ۔

2933

Majma al-Zawaid #2933

وَعَنْ أَحْمَدَ عَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: «كَانَ أَوَّلُ مَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فَإِنَّهَا كَانَتْ ثَلَاثًا» وَذَكَرَ مَعْنَاهُ. وَرِجَالُهَا كُلِّهَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Also from Aḥmad, from her, ʿĀʾishah رضي الله عنها said that the first thing Allah made obligatory upon the Messenger of Allah ﷺ of the Ṣalāh was two rakʿahs each, except Maghrib, for it was three, and he mentioned its meaning.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام احمد نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ روایت بھی نقل کی ہے وہ بیان کرتی ہیں : اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ پر نماز دو دو رکعات کی شکل میں فرض کی تھی صرف مغرب کی نماز کا معاملہ مختلف ہے ‘ اس کی تین رکعت تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ ان تمام روایات کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2934

Majma al-Zawaid #2934

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ وَهَكَذَا ضَبَطْتُهُ مِنَ الْمُسْنَدِ بَعْدَ الْمُرَاجَعَةِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said, "O people, indeed Allah, Mighty and Majestic, made the Ṣalāh obligatory upon the tongue of your Prophet ﷺ as four in residence and two in travel."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اے لوگو بے شک اللہ تعالی نے تمہارے نبی کی زبانی ‘ حضر کے دوران چار رکعات اور سفر کے دوران دو رکعات فرض قرار دی ہیں یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ بات منقول ہے ‘ اسے عبیداللہ بن زحر نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے مراجعت کے بعد ’’ مسند ‘‘ میں سے میں نے یہ روایت اسی طرح نوٹ کی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

2935

Majma al-Zawaid #2935

وَعَنْ أَبِي الْكَنُودِ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ السَّفَرِ فَقَالَ: رَكْعَتَانِ نَزَلَتَا مِنَ السَّمَاءِ إِنْ شِئْتُمْ فَرُدُّوهُمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Kanūd narrated that he asked Ibn ʿUmar رضي الله عنهما about the travel prayer, and he said, "Two rakʿahs that descended from heaven. If you wish, then return them."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوکنود بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے سفر کی نماز کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے ارشاد فرمایا : دو رکعات ہیں جو آسمان سے نازل ہوئی ہیں ( یعنی ان کا حکم آسمان سے نازل ہوا ہے ) اگر تم چاہو انہیں واپس کر دو یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

2936

Majma al-Zawaid #2936

وَعَنْ مُورِقٍ قَالَ: «سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ: رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ مَنْ خَالَفَ السُّنَّةَ كَفَرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Mawriq narrated that he asked Ibn ʿUmar رضي الله عنهما about the prayer in travel, and he said, "Two rakʿahs each. Whoever opposes the Sunnah has disbelieved."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مورق بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے سفر کی نماز کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : یہ دو دو رکعات ہیں جو شخص سنت کے خلاف کرے گا وہ کفر کا مرتکب ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

2937

Majma al-Zawaid #2937

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ الْكِنْدِيِّ ابْنِ أُخْتِ النَّمِرِ قَالَ: «فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ زِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ وَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Sāʾib ibn Yazīd al-Kindī, the nephew of al-Namir, narrated that the Ṣalāh was made obligatory as two rakʿahs each, then increase was made in the residence prayer, while the travel prayer was left as it was.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سائب بن یزید کندی ‘ جو نمر کے بھانجے ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : نماز دو دو رکعات فرض کی گئی تھی پھر حضر کی نماز میں اضافہ ہو گیا اور سفر کی نماز اسی صورت میں برقرار رہی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

2938

Majma al-Zawaid #2938

وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ صَلَّى فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا أَعَادَ الصَّلَاةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Ibrāhīm narrated that Ibn Masʿūd رضي الله عنه said, "Whoever prays four in travel repeats the prayer."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم نخعی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص سفر کے دوران چار رکعات ادا کرتا ہے وہ اپنی نماز کو دہرائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابراہیم نخعی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

2939

Majma al-Zawaid #2939

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ أَنَّهُمَا قَالَا: «سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ هِيَ تَمَامٌ، وَالْوِتْرُ فِي السَّفَرِ سُنَّةٌ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās and Ibn ʿUmar رضي الله عنهم both said that the Messenger of Allah ﷺ prescribed the prayer in travel as two rakʿahs, and it is complete; and the witr in travel is a Sunnah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن عمر کے بارے میں یہ بات منقول ہے : یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں : کہ نبی اکرم ﷺ نے سفر کے دوران نماز کی دو رکعات مقرر کی ہیں ، اور یہ مکمل ہیں ‘ اور سفر کے دوران وتر ادا کرنا سنت ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ‘ جسے شعبہ اور ثوری نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ جب کہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

2940

Majma al-Zawaid #2940

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْخَوْفِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا نَعْلَمُهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ قُلْتُ: وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه narrated that he prayed with the Messenger of Allah ﷺ the prayer of fear as two rakʿahs, except Maghrib as three, and he prayed with him in travel as two rakʿahs, except Maghrib as three.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز خوف میں دو رکعات ادا کی ہیں البتہ مغرب کی نماز کی تین رکعت ادا کی ہیں میں نے سفر کے دوران آپ کے ساتھ دو رکعات ادا کی ہیں ، البتہ مغرب کی نماز میں تین رکعت ادا کی ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے منقول ہونے کے اعتبار سے ہم اس روایت سے صرف اس سند کے حوالے سے واقف ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

2941

Majma al-Zawaid #2941

وَعَنْ خَلَفِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «انْطُلِقَ بِنَا إِلَى الشَّامِ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ لِيَفْرِضَ لَنَا، فَلَمَّا رَجَعَ وَكُنَّا بِفَجِّ النَّاقَةِ صَلَّى بِنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ فُسْطَاطَهُ وَقَامَ الْقَوْمُ يُضِيفُونَ إِلَى رَكْعَتَيْهِمْ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ فَقَالَ: قَبَّحَ اللَّهُ الْوُجُوهَ فَوَاللَّهِ مَا أَصَابَتِ السُّنَّةَ وَلَا قَبِلَتِ الرُّخْصَةَ، فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ قَوْمًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ يَمْرُقُونَ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَخَلَفُ بْنُ حَفْصٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Khalaf ibn Ḥafṣ narrated from Anas رضي الله عنه that they were taken to Syria to ʿAbd al-Malik, forty men of the Anṣār, so that he might assign stipends for them. When he returned, while they were at Fajj al-Nāqah, he prayed Ẓuhr with them as two rakʿahs, then entered his tent. The people stood and added two more rakʿahs to their two rakʿahs, so he said, "May Allah disgrace the faces. By Allah, they neither hit the Sunnah nor accepted the concession. I bear witness that I heard the Messenger of Allah ﷺ say:" > **"A people will go deep into the religion and pass through it as the arrow passes through the game."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خلف بن حفص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کیا ہے ۔ ہمیں شام میں عبدالملک کے پاس لے جایا گیا ہم انصار سے تعلق رکھنے والے چالیس افراد تھے اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ ہمارے لئے کوئی حصہ مقرر کرے جب وہ واپس آئے اور ہم لوگ فج ناقہ کے مقام پر موجود تھے تو انہوں نے ہمیں ظہر کی نماز میں دو رکعات پڑھائیں پھر وہ اپنے خیمے میں چلے گئے لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی دو رکعات کے ساتھ مزید دو رکعات شامل کر لیں تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالی ان لوگوں کے چہرے کو قبیح کرے اللہ کی قسم انہوں نے نہ تو سنت کی پیروی کی ہے ‘ اور نہ ہی رخصت کو قبول کیا ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ کچھ لوگ دین میں شدت اختیار کریں گے اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے خلف بن حفص کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔

2942

Majma al-Zawaid #2942

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ سَافَرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَحِينَ أَقَامَ أَرْبَعًا قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَنْ صَلَّى فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا كَمَنْ صَلَّى فِي الْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ». قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «لَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّى النَّاسُ رَكْعَةً رَكْعَةً». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَقِيلِيُّ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ, when he traveled, prayed two rakʿahs each, and when he was resident, he prayed four. He said that Ibn ʿAbbās said, "Whoever prays four in travel is like one who prays two in residence." He said that Ibn ʿAbbās also said, "The Ṣalāh was shortened only once, when the Messenger of Allah ﷺ prayed two rakʿahs and the people prayed one rakʿah each."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سفر کرتے تھے تو دو ‘ دو رکعات ادا کرتے تھے ‘ اور جب مقیم ہوتے تھے تو چار رکعات ادا کرتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جو شخص سفر کے دوران چار رکعات ادا کرتا ہے وہ اس شخص کی مانند ہے ‘ جو حضر کے دوران دو رکعات ادا کرتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نماز صرف ایک مرتبہ قصر کی گئی تھی جب نبی اکرم ﷺ نے دو رکعات ادا کی تھیں اور لوگوں نے ایک ایک رکعت ادا کی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حمید بن علی عقیلی ہے امام دارقطنی کہتے ہیں : اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا امام ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔

2943

Majma al-Zawaid #2943

وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ «أَنَّ فَتًى مِنْ أَسْلَمَ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: مَا سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ خَلَا ذِكْرَ الْمَغْرِبِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Abū Naḍrah narrated that a youth of Aslam asked ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنه about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ, and he said, "The Messenger of Allah ﷺ never traveled except that he prayed two rakʿahs, except Maghrib."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونضرہ بیان کرتے ہیں : اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم ﷺ کی نماز کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے جواب دیا : نبی اکرم ﷺ جب بھی سفر کرتے تھے تو صرف دو رکعات ادا کرتے تھے البتہ مغرب کی نماز کا معاملہ مختلف ہے - ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے مغرب کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

2944

Majma al-Zawaid #2944

وَعَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ قَالَ: «أَقْبَلَ سَلْمَانُ فِي اثْنَيْ رَاكِبًا أَوْ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَاكِبًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ قَالُوا: تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: إِنَّا لَا نَؤُمُّكُمْ وَلَا نَنْكِحُ نِسَاءَكُمْ إِنَّ اللَّهَ هَدَانَا بِكُمْ قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَلَمَّا سَلَّمَ سَلْمَانُ قَالَ: مَا لَنَا وَلِلْمُرَبَّعَةِ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِينَا نِصْفُ الْمُرَبَّعَةِ وَنَحْنُ إِلَى الرُّخْصَةِ أَحْوَجُ»، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: يَعْنِي السَّفَرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو لَيْلَى الْكِنْدِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Laylā al-Kindī narrated that Salmān رضي الله عنه came forward with twelve or thirteen riders among the Companions of Muḥammad ﷺ. When the time of Ṣalāh came, they said, "Come forward, O Abā ʿAbdillāh." He said, "We do not lead you, nor do we marry your women. Indeed, Allah guided us through you." So a man from the people came forward and prayed four rakʿahs. When he gave salām, Salmān said, "What have we to do with the fourfold? Half of the fourfold would have sufficed us, and we are more in need of the concession," meaning travel.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابولیلی کندی بیان کرتے ہیں : حضرت سلمان فارسی بارہ یا شاید تیرہ سواروں کے ہمراہ آئے جن کا تعلق نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تھا جب نماز کا وقت ہوا تو ان حضرات نے کہا : اے ابوعبداللہ ! آپ آگے بڑھیے تو حضرت سلمان فارسی نے فرمایا : ہم آپ لوگوں کی امامت بھی نہیں کریں گے اور آپ کی خواتین کے ساتھ نکاح بھی نہیں کریں گے بے شک اللہ تعالی نے ہمیں آپ کے ذریعے ہدایت عطا کی ہے راوی بیان کرتے ہیں : تو ان لوگوں میں سے ایک شخص آگے بڑھا اس نے چار رکعات پڑھا دیں جب اس نے سلام پھیرا تو حضرت سلمان نے فرمایا : ہمارا چار رکعات کے ساتھ کیا واسطہ ؟ ہمارے لئے تو چار کا نصف بھی کافی تھا کیونکہ ہمیں رخصت کی زیادہ ضرورت ہے ۔ امام عبدالرزاق بیان کرتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ سفر کے دوران ایسا ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابولیلی کندی نامی راوی کو یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

2945

Majma al-Zawaid #2945

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: «فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَصَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَصَلَّاهَا بِالْمَدِينَةِ مَا شَاءَ اللَّهُ، وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ وَتُرِكَتِ الصَّلَاةُ فِي السَّفَرِ عَلَى حَالِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Salmān رضي الله عنه said: Prayer was ordained as two rakʿahs, two rakʿahs. The Messenger of Allah ﷺ prayed it in Makkah in that manner until he came to Madinah, and he prayed it in Madinah for as long as Allah willed. Then two rakʿahs were added in the prayer of the resident, while the prayer in travel was left as it was.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نماز دو دو رکعات فرض قرار دی گئی تھی نبی اکرم ﷺ نے مکہ میں یہ اسی طرح ادا کی یہاں تک کہ جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو جتنے عرصے تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا آپ نے مدینہ میں بھی یہ نمازی اسی طرح ادا کی پھر حضر کی نماز میں دو رکعات کا اضافہ ہو گیا اور سفر کی نماز کو اس کی حالت پر رکھا گیا یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

2946

Majma al-Zawaid #2946

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، كُلُّهُمْ صَلَّى مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى أَنْ يَرْجِعَ إِلَيْهَا رَكْعَتَيْنِ فِي الْمَسِيرِ وَالْمُقَامِ بِمَكَّةَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: I travelled with the Messenger of Allah ﷺ, and with Abū Bakr and ʿUmar. All of them prayed, from the time they set out from Madinah until they returned to it, two rakʿahs during the journey and during the stay in Makkah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر کے ساتھ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا ہے یہ سب حضرات جب مدینہ منورہ سے نکلتے تھے تو اس وقت سے لے کر وہاں واپس آنے تک سفر کے دوران دو رکعات ادا کرتے تھے ‘ اور مکہ میں قیام کے دوران بھی ( دو رکعات ادا کرتے تھے ) یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام ابویعالی کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

2947

Majma al-Zawaid #2947

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُسَافِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ». قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ أَحَادِيثُ فِي الْقَصْرِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ عَمْرٍو صَاحِبُ الْهَرَوِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ would travel from Makkah to Madinah fearing none but Allah, praying two rakʿahs, two rakʿahs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مکہ سے مدینہ کی طرف سفر کر رہے تھے آپ کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی چیز کا خوف نہیں تھا لیکن آپ دو دو رکعات ادا کرتے رہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول احادیث قصر سے متعلق باب میں آئیں گی جو اس سیاق کے علاوہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن عمرو ہے ‘ جو ہروی کا شاگرد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

2948

Majma al-Zawaid #2948

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ «أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ صَلَّى بِمِنًى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَأَنْكَرَهُ النَّاسُ عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي تَأَهَّلْتُ بِمَكَّةَ مُنْذُ قَدِمْتُ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ تَأَهَّلَ بِبَلَدٍ فَلْيُصَلِّ صَلَاةَ الْمُقِيمِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Dhubāb narrated that ʿUthmān ibn ʿAffān رضي الله عنه prayed four rakʿahs in Minā, and the people objected to him for it. He said: O people, I took a family in Makkah since I arrived, and I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever takes a family in a land, let him pray the prayer of a resident."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابوذباب بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے منی میں چار رکعات ادا کیں لوگوں نے اس حوالے سے ان پر اعتراض کیا تو انہوں نے فرمایا : اے لوگو جب میں مکہ آیا تھا تو میں نے وہاں اہل بنا لیا تھا ( یعنی شادی کر لی تھی ) اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ‘ جو شخص کسی شہر میں اہل بنا لے وہ مقیم کی نماز ادا کرے یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

2949

Majma al-Zawaid #2949

وَلَهُ عِنْدَ أَبِي يَعْلَى: «إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِذَا تَأَهَّلَ الْمُسَافِرُ فِي بَلَدٍ فَهُوَ مِنْ أَهْلِهَا يُصَلِّي صَلَاةَ الْمُقِيمِ أَرْبَعًا "". وَإِنِّي تَأَهَّلْتُ بِهَا مُنْذُ قَدِمْتُهَا فَلِذَلِكَ صَلَّيْتُ بِكُمْ أَرْبَعًا». وَفِيهِ عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Dhubāb narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"When a traveller takes a family in a land, he is counted among its people; he prays the prayer of a resident, four rakʿahs."** He said: And I took a family in it since I arrived here, and for that reason I have led you in four rakʿahs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے امام ابویعلیٰ نے یہ روایت نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ جب کوئی مسافر کسی شہر میں اہل بنا لے ‘ تو وہ اس شہر کے رہنے والوں میں شمار ہو گا ‘ اور وہ مقیم کی نماز کی طرح چار رکعات ادا کرے گا ‘‘۔ ( حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) جب میں یہاں آیا تو میں نے یہاں اہل بنا لیا تھا اس لئے میں نے تم لوگوں کو چار رکعات پڑھائی ہیں ۔ اس کی سند میں ایک راوی عکرمہ بن ابراہیم ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

2950

Majma al-Zawaid #2950

عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ حَاجًّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ: فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى دَارِ النَّدْوَةِ قَالَ: وَكَانَ عُثْمَانُ حِينَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ صَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ أَرْبَعًا أَرْبَعًا فَإِذَا خَرَجَ إِلَى مِنًى وَعَرَفَاتٍ قَصَرَ الصَّلَاةَ، فَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْحَجِّ وَأَقَامَ بِمِنًى أَتَمَّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَخْرُجَ فَلَمَّا صَلَّى بِنَا مُعَاوِيَةُ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ نَهَضَ إِلَيْهِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَقَالَا لَهُ: مَا عَابَ أَحَدٌ ابْنَ عَمِّكَ بِأَقْبَحَ مَا عِبْتَهُ بِهِ فَقَالَ لَهُمَا: وَيَحَكُمَا!! وَهَلْ كَانَ غَيْرُ مَا صَنَعْتُ؟ قَدْ صَلَّيْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ فَقَالَا: فَإِنَّ ابْنَ عَمِّكَ قَدْ كَانَ أَتَمَّهَا وَإِنَّ خِلَافَكَ إِيَّاهُ عَيْبٌ لَهُ قَالَ: فَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْعَصْرِ فَصَلَّاهَا بِنَا أَرْبَعًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbbād ibn ʿAbdillāh ibn al-Zubayr said: When Muʿāwiyah came to us performing Ḥajj, we came to Makkah. He led us in Ẓuhr prayer as two rakʿahs, then he departed to Dār al-Nadwah. He said: And ʿUthmān, when he completed the prayer upon arriving in Makkah, would pray Ẓuhr, ʿAṣr, and the last ʿIshāʾ there as four rakʿahs each. When he went out to Minā and ʿArafāt, he would shorten the prayer. When he finished Ḥajj and stayed in Minā, he would complete the prayer until he departed. When Muʿāwiyah led us in Ẓuhr as two rakʿahs, Marwān ibn al-Ḥakam and ʿAmr ibn ʿUthmān rose toward him and said to him: No one has criticized your cousin with anything uglier than that with which you have criticized him. He said to them: Woe to you both! Was there anything for me to do other than what I did? I prayed them both with the Messenger of Allah ﷺ, and with Abū Bakr and with ʿUmar. They said: But your cousin had completed them, and your differing from him is a criticism of him. He said: Then Muʿāwiyah went out to ʿAṣr and prayed it with us as four rakʿahs. > **"I prayed them both with the Messenger of Allah ﷺ, and with Abū Bakr and with ʿUmar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عباد بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : جب حضرت معاویہ حج کرنے کے لئے ہمارے پاس آئے اور ہم لوگ مکہ آ گئے تو انہوں نے ظہر کی نماز میں دو رکعات پڑھائیں پھر وہ نماز ختم کرنے کے بعد دارالندوہ کی طرف گئے انہوں نے بتایا : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جب مکہ آنے کے بعد مکمل نماز ادا کی تھی اور وہاں ظہر عصر اور عشاء کی نماز میں چار چار رکعات پڑھائی تھیں جب وہ منی اور عرفات کی طرف آئے تھے تو انہوں نے نماز مختصر ادا کی تھی جب وہ حج سے فارغ ہوئے اور منی میں مقیم ہوئے تو انہوں نے مکمل نماز ادا کی یہاں تک کہ وہ وہاں سے روانہ ہو گئے اور حضرت معاویہ نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں تو مروان بن حکم اور عمرو بن عثمان ان کی طرف گئے اور ان دونوں سے کہا کسی نے بھی آپ کے چچازاد پر اس طرح اعتراض نہیں کیا جس طرح کا اعتراض آپ نے ان پر کیا ہے حضرت معاویہ نے ان لوگوں سے دریافت کیا : تم دونوں کا ستیاناس ہو کیا میں نے جو کیا ہے ‘ اس کے علاوہ کرنا چاہیے تھا میں نے نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں دو رکعات ہی ادا کی ہیں تو ان دونوں صاحبان نے کہا ( یعنی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ) تو نماز مکمل کرتے تھے ‘ اور آپ نے ان کے برخلاف کر کے ان پر اعتراض کر دیا ہے راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت معاویہ عصر کی نماز کے لئے نکلے ‘ تو انہوں نے عصر کی نماز میں ہمیں چار رکعات پڑھائیں یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ معجم کبیر میں نقل کیا ہے امام احمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

2951

Majma al-Zawaid #2951

وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ: كُنَّا قَدْ حَمَلْنَا لِأَبِي ذَرٍّ شَيْئًا نُرِيدُ أَنْ نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ فَأَتَيْنَا الرَّبَذَةَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قِيلَ: اسْتَأْذَنَ فِي الْحَجِّ فَأُذِنَ لَهُ فَأَتَيْنَاهُ بِالْبَلَدِ - وَهِيَ مِنًى - فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ قِيلَ لَهُ: إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى أَرْبَعًا فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَبِي ذَرٍّ وَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا وَقَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ثُمَّ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَصَلَّى أَرْبَعًا فَقِيلَ لَهُ: عِبْتَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَيْئًا ثُمَّ تَصْنَعُهُ؟ قَالَ: الْخِلَافُ أَشَدُّ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، إِمَّا فِي قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ أَوْ فِي الْخِلَافَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

A man said: We had carried something for Abū Dharr, intending to give it to him. We came to al-Rabadhah and asked about him but did not find him. It was said: He sought permission for Ḥajj and was permitted. So we came to him in the town — meaning Minā — and while we were with him, it was said to him: ʿUthmān has prayed four rakʿahs. That bore heavily upon Abū Dharr and he spoke stern words. He said: I prayed with the Messenger of Allah ﷺ and he prayed two rakʿahs, and I prayed with Abū Bakr and ʿUmar. Then Abū Dharr stood and prayed four rakʿahs. It was said to him: You criticized the Commander of the Believers for something and then you do it yourself? He said: Disagreement is worse. > **"I prayed with the Messenger of Allah ﷺ and he prayed two rakʿahs, and I prayed with Abū Bakr and ʿUmar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک صاحب بیان کرتے ہیں : ہم حضرت ابوذر غفاری کے لئے کوئی چیز اٹھا کر لائے ہمارا ارادہ یہ تھا کہ وہ چیز ہم انہیں دیں گے جب ہم ربذہ آئے اور ہم نے ان کے بارے میں دریافت کیا : تو ہم نے انہیں نہیں پایا یہ بات بتائی گئی کہ ان کا حج کے لئے جانے کا ارادہ ہے ‘ اور انہیں اجازت مل گئی ہے ‘ تو ہم ان کے پاس شہر میں آ گئے راوی کہتے ہیں اس سے مراد منی ہے ابھی ہم ان کے پاس موجود تھے کہ انہیں یہ بات بتائی گئی کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے چار رکعات نماز پڑھا دی ہے حضرت ابوذر غفاری کو یہ بات بہت گراں گزری اور انہوں نے اس بارے میں سخت غصے کا اظہار کیا اور انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے آپ نے دو رکعات پڑھائی تھیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے پھر حضرت ابوذر غفاری اٹھے اور انہوں نے بھی چار رکعات ادا کر لیں ان سے کہا گیا پہلے تو آپ نے امیرالمؤمنین پر اعتراض کیا تھا اور اب آپ خود یہی کام کر رہے تھے تو انہوں نے فرمایا : اختلاف کرنا زیادہ سخت ہے ‘ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے یہ روایت مکمل روایت کے طور پر آگے آئے گی اگر اللہ نے چاہا یہ یا تو باغیوں سے جنگ کرنے سے متعلق باب میں آئے گی ‘ یا خلافت سے متعلق باب میں آئے گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔

2952

Majma al-Zawaid #2952

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُسَافِرُ فَيُتِمُّ الصَّلَاةَ وَيَقْصُرُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Prophet ﷺ, when travelling, would sometimes complete the prayer and sometimes shorten it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سفر کرتے تھے تو کبھی مکمل نماز ادا کر لیتے تھے ‘ اور کبھی قصر کرتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن زیاد ہے ‘ جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

2953

Majma al-Zawaid #2953

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «خَيْرُ أُمَّتَيِ الَّذِينَ إِذَا أَسَاؤُوا اسْتَغْفَرُوا، وَإِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا، وَإِذَا سَافَرُوا قَصَرُوا وَأَفْطَرُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The best of my Ummah are those who, when they do wrong, seek forgiveness; and when they do good, rejoice; and when they travel, shorten the prayer and break the fast."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو اگر کوئی برائی کریں گے ‘ تو استغفار کریں اور جب کوئی اچھائی کریں گے ‘ تو خوشخبری حاصل کریں گے جب سفر کریں گے ‘ تو نماز کو قصر کر دیں گے اور روزہ ترک کر دیں گے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

2954

Majma al-Zawaid #2954

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا أَهْلَ مَكَّةَ لَا تَقْصُرُوا الصَّلَاةَ فِي أَدْنَى مِنْ أَرْبَعَةِ بُرُدٍ مِنْ مَكَّةَ إِلَى عُسْفَانَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِيهِ وَعَطَاءٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"O people of Makkah, do not shorten the prayer at less than four buruds, from Makkah to ʿUsfān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اے اہل مکہ چار برید سے کم سفر میں نماز قصر نہ کرو جو مکہ سے لے کے عسفان تک کا فاصلہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابن مجاہد کی اپنے والد اور عطاء کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے میں اس شخص سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔