وَعَنْ مَعْدِيِّ بْنِ سُلَيْمَانَ - وَكَانَ ثِقَةً - قَالَ: أَتَيْتُ مُطَيْرًا لِأَسْأَلَهُ عَنْ حَدِيثِ ذِي الْيَدَيْنِ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَإِذَا هُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَنْفُذُ الْحَدِيثَ مِنَ الْكِبَرِ فَقَالَ ابْنُهُ شُعَيْبٌ: بَلَى يَا أَبَةِ حَدَّثْتَنِي أَنَّكَ لَقِيتَ ذَا الْيَدَيْنِ بِذِي خُشُبٍ فَحَدَّثَكَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِهِمْ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعِشَاءِ - وَهِيَ الْعَصْرُ - رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَخَرَجَ سُرْعَانُ النَّاسِ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ: مَا قَصُرَتْ وَلَا نَسِيتُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ: مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ فَقَالَا: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَثَّابَ النَّاسُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتِيِ السَّهْوِ». وَفِي رِوَايَةٍ: حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ مُطَيْرٍ، وَمُطَيْرٌ حَاضِرٌ يُصَدِّقُ مَقَالَتَهُ قَالَ: كَيْفَ كُنْتَ أَخْبَرْتُكَ؟ قَالَ: يَا أَبَتَاهُ إِنَّكَ لَقِيتَ ذَا الْيَدَيْنِ بِذِي خَشَبٍ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ. رَوَاهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ مِمَّا زَادَهُ فِي الْمُسْنَدِ وَفِيهِ مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: شَيْخٌ وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ.
EnglishUnverified translation
Maʿdī ibn Sulaymān narrated that he came to Muṭayr to ask him about the ḥadīth of Dhū al-Yadayn. He came to him and asked him, but he was a very old man who could not convey the ḥadīth fully due to old age. His son Shuʿayb said, "Yes, father, you told me that you met Dhū al-Yadayn at Dhū Khushub, and he told you that the Messenger of Allah ﷺ prayed with them one of the two evening prayers — and it was ʿAṣr — two rakʿahs, then gave salām. The hasty people went out, and among the people were Abū Bakr and ʿUmar رضي الله عنهما. Dhū al-Yadayn said, 'Has the Ṣalāh been shortened, or did you forget?' He said, 'It has neither been shortened nor have I forgotten.' Then he turned to Abū Bakr and ʿUmar رضي الله عنهما and said, 'What does Dhū al-Yadayn say?' They said, 'He has spoken the truth, O Messenger of Allah.' So the Messenger of Allah ﷺ returned, the people gathered, he prayed two rakʿahs with them, then gave salām, then prostrated the two prostrations of forgetfulness."
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
معدی بن سلیمان جو ایک ’’ ثقہ ‘‘ راوی ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میں مطیر کے پاس آیا تاکہ ان سے حضرت ذوالیدین کی نقل کردہ حدیث کے بارے میں دریافت کروں میں ان کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا : وہ ایک بوڑھے عمر رسیدہ آدمی تھے عمر رسیدگی کی وجہ سے وہ بات پوری نہیں کر پاتے تھے ان کے بیٹے شعیب نے کہا جی ہاں ! اے ابا جان آپ نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی کہ ذی خشب کے مقام پر آپ کی ملاقات حضرت ذوالیدین سے ہوئی تھی اور انہوں نے آپ کو یہ حدیث بیان کی تھی کہ نبی اکرم ﷺ نے شام کی دو نمازوں میں سے ایک نماز ان لوگوں کو پڑھاتے ہوئے دو رکعات کے بعد سلام پھیر دیا ( راوی کہتے ہیں : وہ عصر کی نماز تھی ) جلد باز لوگ باہر نکل گئے حاضرین میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ حضرت ذوالیدین نے عرض کی : کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا نہ تو یہ مختصر ہوئی ہے ‘ اور نہ ہی میں بھولا ہوں پھر آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا : ذولیدین کیا کہہ رہا ہے ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ٹھیک کہہ رہا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ واپس گئے لوگ کھڑے ہو گئے نبی اکرم ﷺ نے انہیں دو رکعات پڑھائیں پھر آپ نے سلام پھیرا اور دو مرتبہ سجدہ سہو کیا ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : مطیر کے صاحبزادے شعیب نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ‘ اور مطیر اس وقت وہاں موجود تھے اور انہوں نے اپنے صاحبزادے کے بیان کی تصدیق کی جب انہوں نے دریافت کیا : کہ میں نے تمہیں کیسے بیان کی تھی تو ان کے صاحبزادے نے کہا : اے ابا جان آپ کی ملاقات ذی خشب کے مقام پر حضرت ذوالیدین سے ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے : یہ دونوں روایات عبداللہ بن احمد نے وہاں نقل کی ہیں جو انہوں نے مسند میں زوائد نقل کیے ہیں ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعدی بن سلیمان ہے ‘ اور ابوحاتم کہتے ہیں : وہ بزرگ ہے امام نسائی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔