وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أُخْبِرُكَ عَنْ هَدْيِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَقَوْلِهِ فِي الصَّلَاةِ وَفِعْلِهِ وَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ كَانَ يُعَلِّمُنَا كَيْفَ نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ حِينَ نَقْعُدُ: "" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تَسْأَلُ مَا بَدَا لَكَ بَعْدَ ذَلِكَ وَتَرْغَبُ إِلَيْهِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَمَغْفِرَتِهِ كَلِمَاتٍ يَسِيرَةٍ وَلَا تُطِيلُ بِهَا الْقُعُودَ""، وَكَانَ يَقُولُ: أُحِبُّ أَنْ تَكُونَ مَسْأَلَتُكُمُ اللَّهَ حِينَ يَقْعُدُ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ وَيَقْضِي التَّحِيَّةَ أَنْ يَقُولَ بَعْدَ ذَلِكَ: سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَأَصْلِحْ لِي عَمَلِي إِنَّكَ تَغْفِرُ الذُّنُوبَ لِمَنْ تَشَاءُ وَأَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ، يَا غَفَّارُ اغْفِرْ لِي يَا تَوَّابُ تُبْ عَلَيَّ، يَا رَحْمَنُ ارْحَمْنِي، يَا عَفُوُّ اعْفُ عَنِّي، يَا رَءُوفُ ارْؤُفْ بِي، يَا رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَطَوِّقْنِي حُسْنَ عِبَادَتِكَ، يَا رَبِّ أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ، يَا رَبِّ افْتَحْ لِي بِخَيْرٍ وَاخْتِمْ لِي بِخَيْرٍ وَآتِنِي شَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ مِنْ غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، وَقِنِي السَّيِّئَاتِ وَمَنْ تَقِي السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ، ثُمَّ مَا كَانَ مِنْ دُعَائِكُمْ فَلْيَكُنْ فِي تَضَرُّعٍ وَإِخْلَاصٍ فَإِنَّهُ يُحِبُّ تَضَرُّعَ عَبْدِهِ إِلَيْهِ». قُلْتُ: وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فِي صَلَاةِ النَّافِلَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.
EnglishUnverified translation
Yaḥyā ibn Abī Kathīr said: Abū ʿUbaydah ibn ʿAbdillāh wrote to me: To proceed, I inform you of the guidance of Ibn Masʿūd رضي الله عنه in his word and deed in prayer. He said: The Messenger of Allah ﷺ was granted the most comprehensive of speech, and he would teach us what to say in prayer when we sit: "Greetings belong to Allah, as do prayers and good and pure things. Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous servants of Allah. I bear witness that there is no god but Allah, and I bear witness that Muḥammad is His servant and His Messenger. Then ask thereafter for whatever occurs to you, seeking His mercy and forgiveness with brief words, and do not prolong the sitting thereby." And he would say: I love that your asking of Allah, when one of you sits in prayer and completes the salutation, be that he say thereafter: Glory be to You; there is no god besides You. Forgive my sin and set right my deeds, for indeed You forgive sins for whom You will, and You are the Most Forgiving, the Most Merciful. O Most Forgiving, forgive me; O Most Relenting, relent toward me; O Most Merciful, have mercy upon me; O Pardoner, pardon me; O Most Kind, show kindness to me. My Lord, inspire me to give thanks for Your favour which You bestowed upon me, and gird me with excellence in Your worship. My Lord, I ask You for all good and seek refuge in You from all evil. My Lord, open for me with good, seal for me with good, and grant me longing to meet You without harmful affliction or misleading trial. Shield me from evil deeds, for whomever You shield from evil deeds on that Day, You have indeed had mercy upon him — and that is the supreme triumph. Then whatever your supplication be, let it be in humility and sincerity, for indeed He loves the humble entreaty of His servant to Him. > **"Greetings belong to Allah, as do prayers and good and pure things. Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous servants of Allah. I bear witness that there is no god but Allah, and I bear witness that Muḥammad is His servant and His Messenger."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
یحیی بن ابوکثیر بیان کرتے ہیں : ابوعبیداللہ بن عبداللہ نے مجھے خط لکھا اما بعد میں تمہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طریقے اور نماز میں ان کے قول اور ان کے فعل کے بارے میں بتانے لگا ہوں وہ یہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو جامع کلمات عطا کیے گئے تھے آپ ہمیں اس بات کی تعلیم دیتے تھے کہ نماز کے دوران جب ہم بیٹھ جائیں تو ہمیں کیا پڑھنا چاہیے ( وہ کلمات یہ ہیں : ) ہر طرح کی جسمانی زبانی اور مالی عبادات اللہ تعالٰی کے لئے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ‘‘۔ پھر اس کے بعد جو تمہیں مناسب لگے تم وہ مانگو اور اس کی رحمت اور مغفرت کی طرف مختصر کلمات کے ذریعے رغبت کا اظہار کرو تم زیادہ طویل نہ بیٹھو وہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ جب تم میں سے کوئی ایک شخص نماز کے دوران بیٹھا ہوا ہو تو تم اللہ تعالی سے مانگو اور اس کے بعد وہ تحیت کو پورا کرے اور یہ پڑھے :’’ تو ہر عیب سے پاک ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ تو میرے گناہوں کی مغفرت کر دے میرے عمل کو ٹھیک کر دے بے شک تو جس کی چاہتا ہے ‘ اس کے گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، تو مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے اسے بہت زیادہ مغفرت کرنے والے ‘ تو میری مغفرت کر دے اے بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والے ‘ تو میری توبہ قبول فرما لے اے انتہائی مہربان تو مجھ پر رحم کر اے معاف کرنے والے ‘ تو مجھ سے درگزر فرما اے مہربان تو مجھ پر مہربانی کر اے میرے پروردگارا ! تو مجھے یہ توفیق عطا کر کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو نعمت تو نے مجھ پر کی ہے ‘ تو مجھے اچھی طریقے سے اپنی عبادت کے راستے پر چلا : اے میرے پروردگار ! میں تجھ سے ہر قسم کی بھلائی مانگتا ہوں ، اور ہر قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اے میرے پروردگار ! میرے لئے بھلائی کو کھول دے اور میرا خاتمہ بھلائی کے ذریعے کرنا اور مجھے اپنی بارگاہ میں حاضری کا شوق نصیب فرما جو کسی نقصان پہنچانے والے نقصان اور کسی گمراہ کرنے والی آزمائش کے بغیر ہو اور مجھے برائیوں سے بچا کے رکھنا جسے تو برائیوں سے بچا لے گا اس پر تو رحم کرے گا ‘ اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے ‘‘۔ اس کے بعد تم جو بھی دعا مانگو اس میں آہ وزاری اور اخلاص ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں اپنے بندے کی آہ وزاری کو پسند کرتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت مکمل روایت کے طور پر آگے چل کر نفل نماز کے متعلق باب میں آئے گی یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔