Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 4 · Chapter 31

Book of Prayer

Hadith 2795–2834

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2795

Majma al-Zawaid #2795

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: «لَقَدْ أَذْكَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ صَلَاةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ مَا نَسِينَاهَا - أَوْ مَا تَرَكْنَاهَا - قَالَ: فَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā رضي الله عنه said: ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه reminded us of a prayer which we used to pray with the Messenger of Allah ﷺ, which we had not forgotten — or which we had not abandoned. He would pronounce the takbīr when he bowed and when he raised his head from rukūʿ. > **"ʿAlī reminded us of a prayer which we used to pray with the Messenger of Allah ﷺ; he would pronounce the takbīr when he bowed and when he raised his head from rukūʿ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں وہ نماز یاد کرا دی جو ہم نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں ادا کیا کرتے تھے ہم اسے بھولے نہیں ہیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہم نے اسے ترک نہیں کیا ہے راوی بیان کرتے ہیں : وہ جب بھی رکوع میں گئے اور انہوں نے جب بھی رکوع سے سر اٹھایا تو انہوں نے تکبیر کہی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2796

Majma al-Zawaid #2796

وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَنِ افْتِرَاشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخِذَهُ الْيُسْرَى فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا وَقُعُودِهِ عَلَى وِرْكِهِ الْيُسْرَى [وَوَضْعِهِ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى] وَنَصْبِهِ قَدَمَهُ الْيُمْنَى [وَوَضْعِهِ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى] ثُمَّ نَصْبِهِ إِصْبَعَهُ السَّبَّابَةَ يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ أَخُو بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ ثِقَةً عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: «صَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِ بَنِي غِفَارٍ فَلَمَّا جَلَسْتُ فِي صَلَاتِي افْتَرَشْتُ رِجْلِيَ الْيُسْرَى وَجَلَسْتُ وَوَضَعْتُ يَدِيَ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِيَ الْيُسْرَى وَنَصَبْتُ صَدْرَ قَدَمِي الْيُمْنَى وَوَضَعْتُ قَدَمِيَ الْيُمْنَى عَلَى فَخْذِي الْيُمْنَى وَنَصَبْتُ إِصْبَعِي السَّبَّابَةَ، قَالَ: فَرَآنِي خُفَافُ بْنُ إِيمَاءَ بْنِ رَحَضَةَ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَا أَصْنَعُ ذَلِكَ، فَلَمَّا انْصَرَفْتُ مِنْ صَلَاتِي قَالَ: أَيْ بُنَيَّ؛ لِمَ نَصَبَتْ إِصْبَعَكَ هَكَذَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: رَأَيْتُ النَّاسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ، قَالَ: فَإِنَّكَ أَصَبْتَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: إِنَّمَا يَصْنَعُ هَذَا مُحَمَّدٌ بِإِصْبَعِهِ يَسْحَرُ بِهَا، وَكَذَبُوا إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصْنَعُ ذَلِكَ يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَسَمَّى الْمُبْهَمَ الْحَارِثَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ وَلَمْ يُسَمِّهِ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

It was narrated from Ibn Isḥāq, who said: ʿImrān ibn Abī Anas — of Banū ʿĀmir ibn Luʾayy, a trustworthy narrator — narrated to me, from Abū al-Qāsim Miqsam, the freedman of ʿAbdullāh ibn al-Ḥārith ibn Nawfal, who said: A man of the people of Madinah narrated to me, saying: I prayed in the mosque of Banū Ghifār, and when I sat in my prayer I spread out my left leg and sat, placed my left hand upon my left thigh, raised the front of my right foot upright, placed my right hand upon my right thigh, and raised my forefinger in indication. Khufāf ibn Īmāʾ ibn Raḥaḍah رضي الله عنه, who had companionship with the Messenger of Allah ﷺ, saw me doing that, and when I finished my prayer he said: O my son, why did you raise your finger like this? I said to him: I saw the people doing that. He said: You have done rightly, for indeed the Messenger of Allah ﷺ used to do that, while the polytheists used to say that Muḥammad works magic with his finger — and they lied; rather the Messenger of Allah ﷺ did that declaring the Oneness of his Lord, Mighty and Majestic, thereby. > **"The Messenger of Allah ﷺ used to spread his left thigh in the middle and at the end of the prayer, sit upon his left hip, place his left hand upon his left thigh, keep his right foot upright, place his right hand upon his right thigh, and then raise his forefinger, declaring thereby the Oneness of his Lord, Mighty and Majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے مجھے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ نماز کے درمیان میں اور نماز کے آخر میں کس طرح اپنے بائیں زانوں کو بچھاتے تھے ‘ اور کس طرح بائیں زانوں کے بل بیٹھتے تھے اور بایاں ہاتھ بائیں زانوں پر رکھتے تھے ‘ اور دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیتے تھے ‘ اور دایاں ہاتھ دائیں زانوں پر رکھتے تھے پھر آپ اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے اپنے پروردگار کی وحدانیت کا اعتراف کرتے تھے عمران بن ابوانس کا تعلق بنو عامر بن لوئی سے ہے وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہیں انہوں نے ابو القاسم مقسم سے روایت نقل کی ہے ‘ جو عبداللہ بن حارث بن نوفل کا غلام ہے وہ بیان کرتے ہیں : اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مجھے یہ حدیث بیان کی وہ فرماتے ہیں : میں نے بنوغفار کی مسجد میں نماز ادا کی نماز کے دوران جب میں بیٹھا تو میں نے بائیں ٹانگ کو بچا لیا اور بیٹھ گیا اور بایاں ہاتھ بائیں زانوں پر رکھ لیا میں نے دائیں پاؤں کا اگلا حصہ کھڑا کر لیا اور دایاں ہاتھ دائیں زانوں پر رکھ لیا اور پھر اپنے انگلی کے ذریعے اشارہ کیا ۔ ( یہاں عربی میں لفظ قدم استعمال ہوا ہے ) وہ صاحب بیان کرتے ہیں : حضرت خفاف بن ایماء بن رحضہ رضی اللہ عنہ جنہیں نبی اکرم ﷺ کا صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے انہوں نے مجھے ایسا کرتے ہوئے دیکھا جب میں نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم نے اپنی انگلی کو کیوں اٹھایا تھا میں نے ان سے کہا میں نے لوگوں کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے نہوں نے فرمایا : تم نے ٹھیک کیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ بھی اس طرح کیا کرتے تھے مشرکین یہ کہا کرتے تھے : حضرت محمد ﷺ اس انگلی کے ذریعے جادو کرتے ہیں حالانکہ وہ جھوٹ بولتے تھے کیونکہ نبی اکرم ﷺ ایسا اس لئے کرتے تھے تاکہ اس کے ذریعے اپنے پروردگار کی وحدانیت کا اظہار کریں یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے : انہوں نے مبہم شخص کا نام حارث بیان کیا ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے امام احمد نے بھی اس کا نام نقل نہیں کیا ہے ۔

2797

Majma al-Zawaid #2797

وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ السُّجُودِ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ أَنْ نَعْتَدِلَ فِي السُّجُودِ، وَلَا يَسْجُدَ الرَّجُلُ وَهُوَ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Zubayr said: I asked Jābir رضي الله عنه about prostration, and he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ commanding that we be upright and balanced in sujūd, and that a man should not prostrate while spreading out his forearms. > **"Be upright and balanced in sujūd, and let no man prostrate while spreading out his forearms."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوزبیر بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت جابر سے سجدے کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ حکم دیتے ہوئے سنا ہے : کہ ہم سجدوں میں اعتدال سے کام لیں اور کوئی بھی شخص سجدے کے دوران اپنی کلائیوں کو بچھائے نہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

2798

Majma al-Zawaid #2798

وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَعْتَدِلَ فِي السُّجُودِ وَأَنْ لَا نَسْتَوْفِزَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ وَفِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ اخْتِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ commanded us to be balanced in sujūd and not to sit perched up on the toes. > **"Be balanced in sujūd and do not sit perched up."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم سجدوں کے دوران اعتدال کریں اور ہم ( پاؤں کھڑا کر کے ) ایڑیوں کے بل نہ بیٹھیں ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

2799

Majma al-Zawaid #2799

قَالَ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَهْلُ مَكَّةَ يَقُولُونَ: أَخَذَ ابْنُ جُرَيْجٍ الصَّلَاةَ مِنْ عَطَاءٍ وَأَخَذَهَا عَطَاءٌ مِنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَأَخَذَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَأَخَذَهَا أَبُو بَكْرٍ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا رَأَيْتُ أَحْسَنَ صَلَاةً مِنِ ابْنِ جُرَيْجٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aḥmad said: ʿAbd al-Razzāq narrated to us, saying: The people of Makkah say: Ibn Jurayj took the prayer from ʿAṭāʾ, ʿAṭāʾ took it from Ibn al-Zubayr, Ibn al-Zubayr took it from Abū Bakr رضي الله عنه, and Abū Bakr took it from the Prophet ﷺ. ʿAbd al-Razzāq said: I never saw anyone pray more beautifully than Ibn Jurayj.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام احمد بیان کرتے ہیں : امام عبدالرزاق نے ہمیں یہ بات بیان کی ہے وہ فرماتے ہیں : اہل مکہ یہ کہتے ہیں : ابن جریج نے نماز کا طریقہ عطاء سے حاصل کیا ہے ‘ اور عطاء نے اس کو ابن زبیر سے حاصل کیا ہے ‘ اور ابن زبیر نے اسے حضرت ابوبکر سے حاصل کیا ہے ‘ اور حضرت ابوبکر نے اسے نبی اکرم ﷺ سے حاصل کیا ہے ۔ ( امام عبدالرزاق فرماتے ہیں : ) میں نے ابن جریج سے زیادہ اچھے طریقے سے نماز ادا کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

2800

Majma al-Zawaid #2800

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَجَدَ يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ، ثُمَّ إِذَا سَلَّمَ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُقْبِلُ بِوَجْهِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ عَنْ يَسَارِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAdī ibn ʿUmayrah رضي الله عنه said: When the Prophet ﷺ prostrated, the whiteness of his armpits could be seen. Then when he gave the salām, he would turn with his face to his right until the whiteness of his cheek could be seen, then give salām to his left, turning with his face until the whiteness of his cheek could be seen from his left. > **"When the Prophet ﷺ prostrated, the whiteness of his armpits could be seen, and when he gave the salām he turned his face to the right and to the left until the whiteness of his cheek could be seen."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سجدے میں جاتے تھے تو آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دے جاتی تھی پھر جب آپ سلام پھیرتے تھے تو اپنا چہرہ دائیں طرف پھیر لیتے تھے یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی تھی پھر آپ بائیں طرف سلام پھیرتے تھے تو اپنا چہرہ اس طرف کر لیتے تھے یہاں تک کہ بائیں طرف سے آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی تھی یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2801

Majma al-Zawaid #2801

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَا بُرَيْدَةَ إِذَا كَانَ حِينَ تَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ فَقُلْ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَتَقْرَأُ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ، وَتَرْكَعُ فَتَقُولُ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِذَا رَفَعْتَ مِنَ الرُّكُوعِ فَقُلْ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، فَإِذَا سَجَدْتَ فَقُلْ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، فَإِذَا رَفَعْتَ مِنَ السُّجُودِ فَقُلْ: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي، إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ، فَإِذَا جَلَسْتَ فِي صَلَاتِكَ فَلَا تَتْرُكَنَّ فِي التَّشَهُّدِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَالصَّلَاةَ عَلَيَّ وَعَلَى جَمِيعِ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ، وَسَلَامْ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَرْزَمِيُّ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"O Buraydah, when you begin the prayer, say: 'Glory be to You, O Allah, and with Your praise; there is no power nor strength except through Allah; there is no god but You; I have wronged myself, so forgive me, for none forgives sins but You.' Then recite whatever is easy for you of the Qurʾān. When you bow, say 'Glory be to my Lord, the Most Great' three times. When you rise from rukūʿ, say: 'Allah hears the one who praises Him; O Allah, our Lord, to You belongs all praise, filling the heavens and filling the earth and filling whatever else You will after that.' When you prostrate, say 'Glory be to my Lord, the Most High' three times, and: 'My face has prostrated to the One who created it and fashioned its hearing and sight; blessed is Allah, the Best of creators.' When you rise from sujūd, say: 'My Lord, forgive me, have mercy upon me, guide me, and provide for me; indeed I am in need of whatever good You send down to me.' When you sit in your prayer, do not omit in the tashahhud: 'There is no god but Allah and I am the Messenger of Allah,' and sending blessings upon me and upon all the prophets of Allah, and peace upon the righteous servants of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے بریدہ جب تم نماز کا آغاز کرو تو یہ پڑھو : ’’ تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! حمد تیرے لئے مخصوص ہے اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے ‘ تو میری مغفرت کر دے بے شک گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے ‘‘۔ ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) پھر جو قرآن تمہیں آتا ہو ‘ تم اس کو پڑھو پھر تم رکوع میں جاؤ اور تین مرتبہ «سبحَانَ رَبِّيَ العظیم» پڑھو جب تم رکوع سے اٹھو تو یہ پڑھو : ’’ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی بات سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی اے اللہ ! اے ہمارے پروردگار حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے ‘ جو اتنی ہو جو آسمانوں کو بھر دے اور زمین کو بھر دے اور ان کے بعد جس چیز کو تو چاہے ‘ اسے بھر دے “۔ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) پھر جب تم سجدے میں جاؤ تو تین مرتبہ «سبحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» پڑھو ( اور یہ پڑھو ) : ” میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدے میں ہے ‘ جس نے اسے پیدا کیا اسے سماعت اور بصارت عطا کی اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے ‘ جو سب سے بہترین خالق ہے ‘‘۔ جب تم سجدے سے سر اٹھاؤ تو یہ پڑھو : ’’ اے میرے پروردگار ! تو میری مغفرت کر دے تو مجھ پر رحم کر تو مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ تو مجھے رزق عطا فرما تو میری طرف جو بھلائی نازل کرے گا میں اس کا محتاج ہوں ‘‘۔ جب تم نماز کے دوران بیٹھو تو تم یہ ترک نہ کرو کہ اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اور مجھ پر اور اللہ کے تمام انبیاء پر درود بھیجو اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام بھیجو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن احمد عرزمی ہے ‘ جسے امام دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

2802

Majma al-Zawaid #2802

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «كَانَ مُعَاذٌ يَتَخَلَّفُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَكَانَ إِذَا جَاءَ أَمَّ قَوْمَهُ وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ يُقَالُ لَهُ: سُلَيْمٌ يُصَلِّي مَعَ مُعَاذٍ فَاحْتُبِسَ مُعَاذٌ عَنْهُمْ لَيْلَةً فَصَلَّى سَلِيمٌ وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ، فَلَمَّا جَاءَ مُعَاذٌ أُخْبِرَ أَنَّ سُلَيْمًا صَلَّى وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ، فَأَخْبَرَ مُعَاذٌ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سُلَيْمٍ سَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ أَعْمَلَ نَهَارِي حَتَّى إِذَا أَمْسَيْتُ أَمْسَيْتُ نَاعِسًا فَيَأْتِينَا مُعَاذٌ وَقَدْ أَبْطَأَ عَلَيْنَا فَلَمَّا احْتُبِسَ عَلَيَّ صَلَّيْتُ وَانْقَلَبْتُ إِلَى أَهْلِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَيْفَ صَنَعْتَ حِينَ صَلَّيْتَ؟ "" قَالَ: قَرَأْتُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ثُمَّ قَعَدْتُ وَتَشَهَّدْتُ وَسَأَلْتُ الْجَنَّةَ وَتَعَوَّذْتُ مِنَ النَّارِ وَصَلَّيْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ انْصَرَفْتُ، وَلَسْتُ أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" هَلْ أُدَنْدِنُ أَنَا وَمُعَاذٌ إِلَّا لِنَدْخُلَ الْجَنَّةَ وَنُعَاذَ مِنَ النَّارِ "" ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى مُعَاذٍ: "" لَا تَكُنْ فَتَّانًا تَفْتِنُ النَّاسَ ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَصَلِّ بِهِمْ قَبْلَ أَنْ يَنَامُوا "" ثُمَّ قَالَ سُلَيْمٌ: سَتَنْظُرُ يَا مُعَاذُ غَدًا إِذَا لَقِينَا الْعَدُوَّ كَيْفَ تَكُونُ أَوْ أَكُونُ أَنَا وَأَنْتَ قَالَ: فَمَرَّ سُلَيْمٌ يَوْمَ أُحُدٍ شَاهِرًا سَيْفَهُ فَقَالَ: يَا مُعَاذُ تَقَدَّمْ فَلَمْ يَتَقَدَّمْ مَعَاذٌ وَتَقَدَّمَ سُلَيْمٌ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَكَانَ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَ مُعَاذٍ يَقُولُ: إِنَّ سُلَيْمًا صَدَقَ اللَّهَ وَكَذَبَ مُعَاذٌ». قُلْتُ: لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ هَذَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَبِيبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ لَا كَلَامَ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh al-Anṣārī رضي الله عنهما said: Muʿādh رضي الله عنه used to remain behind with the Messenger of Allah ﷺ, and when he came he would lead his people in prayer. A man of Banū Salamah called Sulaym used to pray with Muʿādh, but one night Muʿādh was detained from them, so Sulaym prayed alone and left. When Muʿādh came, he was told that Sulaym had prayed alone and departed, and Muʿādh reported that to the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ sent for Sulaym and asked him about it, and he said: I am a man who works through the day until evening comes and I grow drowsy; Muʿādh comes to us, though he had been delayed for us, and when he was detained from me I prayed and returned to my family. The Messenger of Allah ﷺ asked: > **"What did you do when you prayed?"** He said: I recited the Opening of the Book and a sūrah, then I sat, recited the tashahhud, asked for Paradise, sought refuge from the Fire, sent blessings upon the Prophet ﷺ, and then departed; I do not do well your murmured supplication nor the murmured supplication of Muʿādh. The Messenger of Allah ﷺ laughed and said: > **"Do I and Muʿādh murmur our supplication for anything but to enter Paradise and to be protected from the Fire?"** Then he sent word to Muʿādh: > **"Do not be a source of trial, putting the people to trial. Return to them and lead them in prayer before they fall asleep."** Then Sulaym said: O Muʿādh, you shall see tomorrow, when we meet the enemy, how you fare and how I fare. On the day of Uḥud, Sulaym passed by brandishing his sword and said: O Muʿādh, advance! But Muʿādh did not advance, while Sulaym advanced and fought until he was killed. Whenever he was mentioned in the presence of Muʿādh, Muʿādh would say: Sulaym was true to Allah, and Muʿādh lied.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاذ بن جبل نبی اکرم ﷺ کے پاس سے اٹھ کر جاتے تھے جب وہ آتے تھے تو اپنی قوم کی امامت کرتے تھے بنوسلمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جس کا نام سیم تھا وہ حضرت معاذ کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتا تھا ایک مرتبہ حضرت معاذ کو ان لوگوں کے پاس آنے میں دیر ہو گئی سلیم نے اکیلے نماز ادا کی اور چلا گیا جب حضرت معاذ آئے تو انہیں یہ بات بتائی گئی کہ سلیم نے اکیلے نماز ادا کر لی اور چلا گیا حضرت معاذ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات بتائی نبی اکرم ﷺ نے سلیم کو پیغام بھیج کر اس سے اس بارے میں دریافت کیا : تو اس نے کہا میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میں دن بھر کام کرتا رہا یہاں تک کہ شام ہو گئی شام کے وقت مجھے اونگھ آ رہی ہوتی ہے ‘ اس وقت ہمارے پاس حضرت معاذ آ جاتے ہیں اس دن حضرت معاذ کو ہمارے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی جب انہیں آنے میں تاخیر ہو گئی ‘ تو میں نے نماز ادا کی اور اپنے گھر واپس چلا گیا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : جب تم نے نماز ادا کی تھی تو تم نے کیا کیا تھا اس نے جواب دیا : میں نے سورت فاتحہ اور ایک اور سورت پڑھی پھر میں بیٹھ گیا میں تشہد پڑھا میں نے جنت کی دعا مانگی ‘ اور جہنم سے پناہ مانگی میں نے نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا اور پھر نماز ختم کر دی میں آپ کی طرح اور حضرت معاذ کی طرح خوبصورت دعا نہیں کر سکتا راوی کہنے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے آپ نے ارشاد فرمایا : میں اور معاذ بھی یہی دعا کرتے ہیں کہ ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور ہمیں جہنم سے بچا لیا جائے پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاذ کو پیغام بھیجا کہ تم آزمائش کا شکار کرنے والے نہ بنو کہ تم لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کر دو تم ان کی طرف واپس جاؤ اور انہیں نماز پڑھا دیا کرو اس سے پہلے کہ وہ سو جائیں پھر سلیم نے کہا : اے معاذ کل آپ دیکھیں گے کہ جب ہم دشمن کا سامنا کریں گے تو آپ کا کیا عالم ہوتا ہے ‘ اور میرا کیا عالم ہوتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : غزوہ احد کے موقع پر حضرت سلیم آئے تو انہوں نے تلوار لہرائی ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا : اے معاذ آگے بڑھیں لیکن حضرت معاذ رضی اللہ عنہ آگے نہیں ہوئے سلیم آگے بڑھے انہوں نے جنگ میں حصہ لیا یہاں تک کہ شہید ہو گئے جب کبھی بھی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے سامنے ان کا ذکر کیا جاتا تھا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے سلیم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچ کہا اور معاذ نے غلط بیانی کی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت جابر کے حوالے سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ‘ لیکن وہ اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف معاذ بن عبداللہ بن حبیب نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے اس کے بارے میں کلام نہیں کیا گیا ہے ۔

2803

Majma al-Zawaid #2803

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِنَا الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَلَوْ جَعَلْتَ جَنْبَيْهِ فِي الرَّمْضَاءِ لَأَنْضَجَتْهُ، ثُمَّ يُطِيلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى فَلَا يَزَالُ قَائِمًا يَقْرَأُ مَا سَمِعَ خَفْقَ نَعْلٍ مِنَ الْقَوْمِ ثُمَّ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُومُ فِي الثَّانِيَةِ فَيَرْكَعُ رَكْعَةً هِيَ أَقْصَرُ مِنَ الْأُولَى، ثُمَّ يَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الثَّالِثَةَ أَقْصَرَ مِنَ الثَّانِيَةِ وَالرَّابِعَةَ أَقْصَرُ مِنَ الثَّالِثَةِ ثُمَّ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسَ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً قَدْرَ مَا يَسِيرُ السَّائِرُ فَرْسَخَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، وَيُطِيلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى مِنَ الْعَصْرِ وَيَجْعَلُ الثَّانِيَةَ أَقْصَرَ مِنَ الْأُولَى وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ يَقُولُ الْقَائِلُ: غَرَبَتِ الشَّمْسُ أَمْ لَا؟ وَيُطِيلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى مِنَ الْمَغْرِبِ وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ أَقْصَرَ مِنَ الْأُولَى وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الثَّالِثَةَ أَقْصَرَ مِنَ الثَّانِيَةِ وَيُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ شَيْئًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَلَوْ جَعَلْتَ جَنْبًا فِي الرَّمْضَاءِ لَأَنْضَجَتْهُ مَكَانَ جَنْبَيْهِ وَفِيهِ طَرَفَةُ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ الْأَزْدِيُّ: لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ وَفِيهِ مَنْ قِيلَ إِنَّهُ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Abī Awfā رضي الله عنه said: The Prophet ﷺ used to lead us in Ẓuhr when the sun had declined — even if one were to place his sides upon the scorching sand it would cook them — and he would prolong the first rakʿah, remaining standing and reciting for as long as the shuffling of the people's sandals could be heard. Then he would bow, then stand for the second and bow a rakʿah shorter than the first, then make the third rakʿah shorter than the second and the fourth shorter than the third. Then he would pray ʿAṣr while the sun was still white and clear, with time enough for a traveler to journey two or three farsakhs; he would prolong the first rakʿah of ʿAṣr and make the second shorter than the first. He would pray Maghrib when one might still be saying: Has the sun set or not? — prolonging the first rakʿah of Maghrib, making the second shorter than the first and the third shorter than the second. And he would delay the last ʿIshāʾ somewhat. > **"The Prophet ﷺ would prolong the first rakʿah of each prayer and shorten what followed it, pray ʿAṣr while the sun was still white and clear, pray Maghrib just after sunset, and delay the ʿIshāʾ somewhat."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمیں ظہر کی نماز اس وقت پڑھاتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا اگر تم اس کے دونوں پہلوؤں کو ریت میں ڈالتے تو وہ بھن جاتے ، اس وقت آپ پہلی رکعت طویل ادا کرتے تھے ‘ اور اس وقت تک قیام کی حالت میں رہتے تھے جب تک لوگوں کے جوتوں کی آہٹ سنتے رہتے تھے آپ تلاوت کرتے رہتے تھے پھر آپ رکوع میں چلے جاتے تھے پھر آپ دوسری رکعت میں کھڑے ہوتے تھے تو دوسری رکعت آپ پہلی کی بہ نسبت مختصر ادا کرتے تھے پھر آپ تیسری رکعت کو دوسری سے زیادہ مختصر ادا کرتے تھے ‘ اور چوتھی رکعت کو تیسری سے زیادہ مختصر ادا کرتے تھے آپ عصر کی نماز اس وقت ادا کر لیتے تھے جب سورج روشن اور چمک دار ہوتا تھا کہ کوئی شخص اتنی دیر میں دو یا تین فرسخ دور تک جا سکتا تھا آپ عصر کی پہلی رکعت طویل ادا کرتے تھے ‘ اور دوسری رکعت پہلی کی بہ نسبت مختصر ادا کرتے تھے مغرب کی نماز آپ اس وقت ادا کر لیتے تھے جب کہنے والا یہ کہتا تھا کہ کیا سورج غروب ہو چکا ہے کہ نہیں ؟ مغرب کی پہلی رکعت آپ طویل ادا کرتے تھے ‘ اور دوسری رکعت پہلی رکعت سے مختصر ادا کرتے تھے ‘ اور تیسری رکعت دوسری سے مختصر ادا کرتے تھے عشاء کی نماز آپ کچھ تاخیر سے ادا کرتے تھے ۔ یہ روایت بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ اگر تم ایک پہلو ‘‘۔ اس کی سند میں ایک راوی طرفہ حضرمی ہے ازدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا بھی ہے ‘ جس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ مجہول ہے ۔

2804

Majma al-Zawaid #2804

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ فِي الْحَسَنَاتِ؟ "" قَالُوا: بَلَى قَالَ: "" إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَعَدِّلُوا صُفُوفَكُمْ وَأَقِيمُوهَا وَسُدُّوا الْخَلَلَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ وَرَاءَ ظَهْرِي، فَإِذَا قَالَ الْإِمَامُ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَقُولُوا: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ "". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ""خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ مُقَدَّمُهَا وَشَرُّهَا مُؤَخَّرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ مُؤَخَّرُهَا وَشَرُّهًا مُقَدَّمُهَا». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ أَيْضًا بِتَمَامِهِ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ وَقَدْ سَبَقَ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Shall I not guide you to that by which Allah expiates sins and increases good deeds? Perfecting ablution despite hardship, taking many steps to the mosques, and waiting for one prayer after another. Indeed the angels say: 'O Allah, forgive him; O Allah, have mercy upon him.' When you stand for prayer, straighten your rows and establish them and close the gaps, for indeed I see you from behind my back. When the imām says 'Allāhu Akbar,' say 'Allāhu Akbar'; when he bows, bow; and when he says 'Samiʿa Allāhu liman ḥamidah,' say 'Allāhumma Rabbanā laka al-ḥamd.'"** And the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The best rows of the men are the foremost of them and the worst are the rearmost, while the best rows of the women are the rearmost of them and the worst are the foremost."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ۔ کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جس کے ذریعے اللہ تعالی گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ‘ اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا زیادہ قدموں کے ساتھ چل کر مساجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا فرشتے یہ کہتے ہیں : اے اللہ ! تو اس پر رحم کر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنی صفیں برابر کر لو اور انہیں ٹھیک کر دو اور خالی جگہ پر کر دو کیونکہ میں تم لوگوں کو اپنی پشت کے پیچھے بھی دیکھتا ہوں جب امام اللہ اکبر کہے ‘ تو تم لوگ بھی اللہ اکبر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب وہ «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ» پڑھے تو تم «اللَّهُم رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» پڑھو نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : مردوں کی سب سے بہتر صف سب سے پہلے والی ہے ‘ اور سب سے کم بہتر سب سے پیچھے والی ہے ‘ اور عورتوں کی سب سے بہتر صف سب سے پیچھے والی ہے ‘ اور سب سے کم بہتر سب سے آگے والی ہے “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے امام احمد نے یہ روایت مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے یہ روایت پہلے گزر چکی ہے ۔

2805

Majma al-Zawaid #2805

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: «شَهِدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَى بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ فَأَكْفَأَ عَلَى يَمِينِهِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَمَسَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ بِهَا يَسَارَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْمَاءِ فَحَفَنَ بِهَا حَفْنَةً مِنَ الْمَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّيْهِ فِي الْإِنَاءِ فَرَفَعَهُمَا إِلَى وَجْهِهِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ بَاطِنَ أُذُنَيْهِ وَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي دَاخِلٍ وَمَسَحَ ظَاهِرَ رَقَبَتِهِ وَبَاطِنَ لِحْيَتِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ بِهَا ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى حَتَّى جَاوَزَ الْمِرْفَقَ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَسَارَهُ بِيَمِينِهِ حَتَّى جَاوَزَ الْمِرْفَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا وَظَاهِرَ أُذُنَيْهِ ثَلَاثًا وَظَاهِرَ رَقَبَتِهِ - وَأَظُنُّهُ قَالَ -: وَظَاهِرَ لِحْيَتِهِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ بِيَمِينِهِ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَفَصَلَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَرَفَعَ الْمَاءَ حَتَّى جَاوَزَ الْكَعْبَ ثُمَّ رَفَعَهُ فِي السَّاقِ ثُمَّ فَعَلَ بِالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَمَلَأَ بِهَا يَدَهُ ثُمَّ وَضَعَهَا عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى انْحَدَرَ الْمَاءُ مِنْ جَوَانِبِهِ وَقَالَ: ""هَذَا تَمَامُ الْوُضُوءِ "" وَلَمْ أَرَهُ يُنَشِّفُ بِثَوْبٍ، ثُمَّ نَهَضَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ فِي الْمِحْرَابِ - يَعْنِي مَوْضِعَ الْمِحْرَابِ - فَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ وَعِنْدَ صَدْرِهِ ثُمَّ افْتَتَحَ الْقِرَاءَةَ فَجَهَرَ بِـ ""الْحَمْدُ"" ثُمَّ فَرَغَ مِنْ سُورَةِ ""الْحَمْدُ"" فَقَالَ: "" آمِينَ "" حَتَّى سَمِعَ مَنْ خَلْفَهُ ثُمَّ قَرَأَ سُورَةً أُخْرَى ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى حَاذَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ رَكَعَ فَجَعَلَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَأَمْهَلَ فِي الرُّكُوعِ حَتَّى اعْتَدَلَ وَصَارَ صُلْبُهُ لَوْ وُضِعَ عَلَيْهِ قَدَحٌ مِنَ الْمَاءِ مَا انْكَفَأَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخُشُوعٍ وَقَالَ: "" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ""، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِشَحْمَةِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ انْحَطَّ لِلسُّجُودِ بِالتَّكْبِيرِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِشَحْمَةَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ أَثْبَتَ جَبْهَتَهُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى إِنِّي أَرَى أَنْفَهُ فِي الرَّمْلِ، وَقَوَّسَ بِذِرَاعَيْهِ وَرَأْسِهِ وَبَسَطَ فَخِذَهُ الْيَسَارَ وَنَصَبَ الْيُمْنَى كَمَا أَثْبَتَ أَصَابِعَ رِجْلِهِ وَلَمْ يُمْهِلْ بِالسُّجُودِ، وَرَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ بِالتَّكْبِيرِ إِلَى أَنْ حَاذَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ وَجَلَسَ جِلْسَةً خَفِيفَةً فَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ وَبَعْضِ فَخِذِهِ وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ ثُمَّ انْحَطَّ سَاجِدًا بِمِثْلِ ذَلِكَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ بِالتَّكْبِيرِ بِيَدَيْهِ إِلَى أَنْ حَاذَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ وَإِلَى أَنِ اعْتَدَلَ فِي قِيَامِهِ وَرَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَفْعَلُ فِيهِنَّ مَا فَعَلَ فِي هَذِهِ ثُمَّ جَلَسَ جِلْسَةً فِي التَّشَهُّدِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْسَرِ، وَسَلَّمَ عَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ: فِيهِ بَعْضُ النَّظَرِ وَقَالَ الذَّهَبِيُّ: لَهُ مَنَاكِيرُ.

EnglishUnverified translation

Wāʾil ibn Ḥujr رضي الله عنه said: I witnessed the Prophet ﷺ when a vessel containing water was brought to him. He poured water over his right hand three times, then immersed his right hand in the vessel and washed his left hand with it three times. Then he put his right hand into the water and scooped a handful, rinsed his mouth and sniffed water into his nose three times and blew it out three times. Then he put both his hands into the vessel, raised them to his face, and washed his face three times; he washed the inner part of his ears, inserting his fingers inside, and wiped the outer part of his neck and the underside of his beard three times. Then he put his right hand into the vessel and washed his right forearm with it beyond the elbow three times, then washed his left forearm with his right hand beyond the elbow three times. Then he wiped his head three times, the outer part of his ears three times, and the outer part of his neck — and I think he said — the outer part of his beard three times. Then he washed his right foot with his right hand three times, separating between the toes, raising the water beyond the ankle and up the shin, then did the same with the left. Then he took a handful of water, filled his hand with it, placed it upon his head until the water ran down from its sides, and said: > **"This is the complete ablution."** Wāʾil said: I did not see him drying himself with a cloth. Then he rose toward the mosque and entered the miḥrāb — meaning the place of the miḥrāb — and the people formed rows behind him and to his right and left. He raised his hands until they were level with the lobes of his ears, then placed his right hand over his left at his chest, then began the recitation, reciting "al-Ḥamd" aloud. When he finished Sūrat al-Ḥamd he said "Āmīn" until those behind him heard, then he recited another sūrah. Then he raised his hands with the takbīr until they were level with the lobes of his ears, then bowed, placing his hands upon his knees, spreading his fingers, and paused in rukūʿ until he was balanced, so that his back — had a cup of water been placed upon it — would not spill. Then he raised his head ﷺ with reverence and said "Samiʿa Allāhu liman ḥamidah," then raised his hands until they were level with the lobes of his ears, then went down into sujūd with the takbīr, raising his hands until they were level with the lobes of his ears. He fixed his forehead firmly upon the ground until I could see his nose in the dust, arched his forearms and head, spread his left thigh, kept the right upright as he fixed the toes of his feet, and did not linger in sujūd. He raised his head, raising his hands with the takbīr until they were level with the lobes of his ears, sat a light sitting, placing his right palm upon his knee and part of his thigh, forming a circle with his finger. Then he went down prostrating again likewise, then raised his head with the takbīr, his hands rising until they were level with the lobes of his ears, until he stood upright and every bone returned to its place. Then he prayed four rakʿahs doing in them as he had done in this one, then sat for the tashahhud likewise, then gave salām to his right until the whiteness of his left cheek could be seen, and to his left until the whiteness of his right cheek could be seen.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وائل بن حجر بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا آپ کے پاس ایک برتن لایا گیا جس میں کچھ پانی موجود تھا آپ نے اسے دائیں ہاتھ پر انڈیلا اور تین مرتبہ اسے دھویا پھر آپ نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس کے ذریعے بائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس کے ذریعے پانی کا چلو لے کر تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا آپ نے تین مرتبہ ناک صاف کیا پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کیے اور ان دونوں کو چہرے کی طرف بلند کر کے چہرے کو تین مرتبہ دھویا آپ نے کانوں کے اندرونی حصے کو بھی دھویا اور دو انگلیاں اندرونی حصے میں داخل کیں آپ نے گردن کے بیرونی حصے اور داڑھی کے نیچے والے حصے پر تین مرتبہ مسح کیا پھر آپ نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس کے ذریعے اپنا دایاں بازو دھویا یہاں تک کہ کہنیوں کے اوپر تک دھویا ایسا آپ نے تین مرتبہ کیا پھر آپ نے دائیں ہاتھ کے ذریعے بایاں بازو کہنیوں سے آگے تک تین مرتبہ دھویا پھر آپ نے اپنے سر پر تین مرتبہ مسح کیا کانوں کے بیرونی حصے پر تین مرتبہ مسح کیا اور گردن پر مسح کیا راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات بھی بیان کی تھی داڑھی کے بیرونی حصے پر مسح کیا پھر آپ نے اپنا دایاں پاؤں دائیں ہاتھ کے ذریعے تین مرتبہ دھویا آپ نے اپنی انگلیوں کو کھلا کر کے ( اچھی طرح دھویا ) پھر آپ نے پانی بلند کیا یہاں تک کہ ٹخنوں سے اوپر تک لے گئے پھر آپ نے اسے بلند کیا اور پنڈلی تک لے گئے پھر آپ نے بائیں ٹانگ کے ساتھ بھی اسی طرح کیا پھر آپ نے پانی کا چلو لیا اس کے ذریعے اپنے دونوں ہاتھ بھرے اور پھر اسے اپنے سر پر ڈال لیا یہاں تک کہ وہ پانی آپ کے اطراف سے بہنے لگا آپ نے ارشاد فرمایا یہ مکمل وضو ہے راوی کہتے ہیں : میں نے آپ کو کپڑے کے ذریعے جسم خشک کرتے ہوئے نہیں دیکھا پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور محراب میں داخل ہوئے راوی کہتے ہیں : یعنی اس جگہ پر جہاں اب محراب ہے لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بنا لی آپ کے دائیں طرف اور بائیں طرف صف بنا لی پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ آپ ان دونوں کو کانوں کی لو کے برابر تک لے آئے پھر آپ نے سینے کے پاس دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ دیا اور تلاوت کرنی شروع کی آپ نے الحمدللہ سے بلند آواز میں تلاوت شروع کی جب آپ سورت فاتحہ پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے آمین کہا یہاں تک کہ آپ کے پیچھے موجود افراد نے اس کی آواز سنی پھر آپ نے ایک اور سورت کی تلاوت کی پھر آپ نے تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ انہیں کانوں کی لو تک لے آئے پھر آپ رکوع میں گئے پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے اور اپنی انگلیوں کو کشادہ رکھا آپ رکوع میں ٹھہرے رہے ‘ یہاں تک کہ آپ کا ہر عضو برابر ہو گیا اور آپ کی پشت کی یہ حالت تھی کہ اگر اس پر پانی کا پیالہ رکھا جاتا تو وہ پانی نہ چھلکتا پھر آپ نے خشوع کے ساتھ اپنے سر کو اٹھایا اور «سمع اللہ لمن حمدہ» کہا پھر آپ نے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ انہیں کانوں کی لو تک لے آئے پھر آپ نے سجدے میں جانے کے لئے تکبیر کہتے ہوئے جھکے آپ نے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ انہیں دونوں کانوں کی لو تک لے آئے پھر آپ نے اپنی پیشانی کو زمین پر جما کے رکھا یہاں تک کہ میں نے آپ کی ناک کو ریت میں دیکھا آپ نے اپنی کلائیوں کو قوس کی شکل میں کر لیا اور اپنے سر کو بھی رکھا آپ نے اپنے بائیں زانوں کو بچا لیا اور دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیا جس طرح پاؤں کی انگلیوں کو کھڑا کیا جاتا ہے آپ سجدے میں زیادہ دیر نہیں رہے پھر آپ نے اپنے سر کو اٹھایا اور تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند کیے اور انہیں کانوں کی لو تک لے آئے آپ ذرا سی دیر کے لئے بیٹھے اور آپ نے اپنی دائیں ہتھیلی اپنے گھٹنے پر اور زانوں کے کچھ حصے پر رکھی آپ نے اپنی انگلی کے ذریعے حلقہ بنایا اور پھر آپ سجدے میں جانے کے لئے جھک گئے آپ نے اس کی مانند سجدہ کیا پھر آپ نے تکبیر کہتے ہوئے اپنے سر کو اٹھایا اور دونوں ہاتھ کانوں کی لو تک لے آئے یہاں تک کہ آپ قیام میں سیدھے کھڑے ہو گئے اور ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی آپ نے چار رکعات ادا کیں جن میں آپ نے اسی طرح کیا جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا پھر آپ تشہد میں بیٹھ گئے جو اس کی مانند تھا پھر آپ نے دائیں طرف سلام پھیرا یہاں تک کہ آپ کے بائیں رخسار کی سفیدی دکھائی دینے لگی پھر آپ نے بائیں طرف سلام پھیرا یہاں تک کہ آپ کے دائیں رخسار کی سفیدی دکھائی دینے لگی ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) صحیح اور دیگر کتابوں میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجر ہے امام بخاری فرماتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے امام ذہبی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں ۔

2806

Majma al-Zawaid #2806

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «إِذَا كَانَ فِي صَلَاتِهِ رَفَعَ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا كَبَّرَ أَرْسَلَهُمَا ثُمَّ سَكَتَ وَرُبَّمَا رَأَيْتُهُ يَضَعُ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ سَكَتَ فَإِذَا خَتَمَ السُّورَةَ سَكَتَ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْكَعُ، وَكُنَّا لَا نَرْكَعُ حَتَّى نَرَاهُ رَاكِعًا ثُمَّ يَسْتَوِي قَائِمًا مِنْ رُكُوعِهِ حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عُضْوٍ مَكَانَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَخِرُّ سَاجِدًا، وَكَانَ يُمَكِّنُ جَبْهَتَهُ وَأَنْفَهُ مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ يَقُومُ كَأَنَّهُ السَّهْمُ لَا يَعْتَمِدُ عَلَى يَدَيْهِ، وَكَانَ إِذَا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ اعْتَمَدَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُمْنَى وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ إِذَا دَعَا وَكَانَ إِذَا سَلَّمَ أَسْرَعَ الْقِيَامَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْخَصِيبُ بْنُ جَحْدَرٍ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه said: When the Messenger of Allah ﷺ was in his prayer, he would raise his hands opposite his ears; when he pronounced the takbīr he would let them fall, then remain silent. Sometimes I saw him place his right hand over his left. When he finished the Opening of the Book he would pause, and when he completed the sūrah he would pause. Then he would raise his hands opposite his ears, pronounce the takbīr, and bow — and we would not bow until we saw him bowing. Then he would stand straight from rukūʿ until every limb returned to its place. Then he would raise his hands opposite his ears, pronounce the takbīr, and fall prostrate, pressing his forehead and nose firmly upon the ground. Then he would rise as though he were an arrow, not leaning upon his hands. When he sat at the end of his prayer, he would rest upon his left thigh, with his right hand upon his right thigh, gesturing with his finger when he supplicated. And when he gave the salām, he would rise swiftly. > **"When the Messenger of Allah ﷺ was in his prayer, he would raise his hands opposite his ears, pause after the recitation, stand straight from rukūʿ until every limb returned to its place, press his forehead and nose firmly upon the ground in sujūd, rest upon his left thigh at the end of his prayer gesturing with his finger, and rise swiftly after the salām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب نماز میں ہوتے تھے تو آپ دونوں ہاتھ کانوں کے برابر تک بلند کرتے تھے جب آپ تکبیر کہہ دیتے تھے تو ان دونوں کو چھوڑ دیتے تھے پھر آپ خاموش رہتے تھے بعض اوقات میں نے آپ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ لیتے تھے جب آپ سورت فاتحہ پڑھ کر فارغ ہوتے تھے تو خاموش رہتے تھے جب آپ سورت ختم کرتے تھے تو کچھ دیر کے لئے خاموش ہو جاتے تھے پھر آپ اپنے دونوں ہاتھ کانوں کے برابر تک بلند کرتے تھے پھر تکبیر کہتے ہوئے رکوع میں چلے جاتے تھے ہم اس وقت تک رکوع میں نہیں جاتے تھے جب تک ہم آپ کو رکوع کی حالت میں دیکھ نہیں لیتے تھے پھر آپ رکوع سے سیدھے کھڑے ہو جاتے تھے یہاں تک کہ ہر ایک عضو اپنی جگہ پر آ جاتا تھا پھر آپ اپنے دونوں ہاتھ کانوں کے برابر تک بلند کرتے تھے پھر آپ تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے جاتے تھے آپ پیشانی اور ناک کو زمین پر جما کر رکھتے تھے پھر آپ یوں اٹھتے تھے جیسے آپ کوئی تیر ہوں آپ اپنے ہاتھ کے ذریعے سہارا نہیں لیتے تھے جب آپ نماز کے آخر میں بیٹھتے تھے تو بائیں زانوں کو بچھا لیتے تھے دایاں ہاتھ دائیں زانوں پر رکھتے تھے ‘ اور انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے تھے جب دعا کرتے تھے جب آپ سلام پھیر لیتے تھے تو جلدی سے کھڑے ہو جاتے تھے یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی خصیب بن جحدر ہے ‘ اور وہ کذاب ہے ۔

2807

Majma al-Zawaid #2807

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَكَعَ فَرَّجَ أَصَابِعَهُ وَإِذَا سَجَدَ ضَمَّ أَصَابِعَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Wāʾil ibn Ḥujr رضي الله عنه said: When the Messenger of Allah ﷺ bowed he would spread his fingers apart, and when he prostrated he would join his fingers together. > **"When the Messenger of Allah ﷺ bowed he spread his fingers apart, and when he prostrated he joined them together."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وائل بن حجر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب رکوع میں جاتے تھے تو اپنی انگلیوں کو کشادہ رکھتے تھے ‘ اور جب آپ سجدے میں جاتے تھے تو آپ اپنی انگلیاں ملا کے رکھتے تھے یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

2808

Majma al-Zawaid #2808

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى فَرْشَحَ أَصَابِعَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: When the Messenger of Allah ﷺ prayed, he would spread his fingers wide. > **"When the Messenger of Allah ﷺ prayed, he would spread his fingers wide."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب نماز ادا کرتے تھے تو اپنی انگلیوں کو کشادہ رکھتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن ولید ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔

2809

Majma al-Zawaid #2809

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنِ ابْنِ أُمِّ سُلَيْمٍ - يَعْنِي: أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: I never saw anyone whose prayer more resembled the prayer of the Messenger of Allah ﷺ than that of the son of Umm Sulaym — meaning Anas ibn Mālik رضي الله عنه. > **"I never saw anyone whose prayer more resembled the prayer of the Messenger of Allah ﷺ than that of Anas ibn Mālik."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے سے زیادہ بہتر طور پر ‘ نبی اکرم ﷺ کی نماز کے مطابق نماز ادا کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مراد حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

2810

Majma al-Zawaid #2810

وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا فِي الصَّلَاةِ وَرَفَعْنَا رُءُوسَنَا مِنَ السُّجُودِ أَنْ نَطْمَئِنَّ عَلَى الْأَرْضِ جُلُوسًا وَلَا نَسْتَوْفِزَ عَلَى أَطْرَافِ الْأَقْدَامِ». رَوَاهُ بِتَمَامِهِ هَكَذَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ وَقَدْ تَكَلَّمَ الْأَزْدِيُّ وَابْنُ حَزْمٍ فِي بَعْضِ رِجَالِهِ بِمَا لَا يَقْدَحُ.

EnglishUnverified translation

Samurah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ used to command us, when we were in prayer and raised our heads from sujūd, to settle ourselves seated upon the ground and not to remain perched upon the tips of the feet. > **"When you raise your heads from sujūd, settle yourselves seated upon the ground and do not remain perched upon the tips of the feet."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ حکم دیتے کہ جب ہم نماز ادا کر رہے ہوں ‘ اور سجدوں سے اپنے سر کو اٹھائیں تو ہم زمین پر اطمینان کے ساتھ بیٹھ جائیں ہم قدموں کے کناروں پر ایڑیوں کے بل نہ بیٹھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مکمل روایت کے طور پر اسی طرح نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ازدی اور ابن حزم نے اس کے بعض رجال کے بارے میں کلام کیا ہے ‘ جو قدح کا باعث نہیں بنتا ہے ۔

2811

Majma al-Zawaid #2811

وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْإِقْعَاءِ فِي الصَّلَاةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَلَامُ بْنُ أَبِي خُبْزَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ forbade sitting in the manner of iqʿāʾ during prayer. > **"The Messenger of Allah ﷺ forbade iqʿāʾ in prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نماز میں اقعاء کے طور پر بیٹھنے سے منع کیا ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلام بن ابوخبزہ ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

2812

Majma al-Zawaid #2812

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: رَمَقْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي الصَّلَاةِ فَرَأَيْتُهُ يَنْهَضُ وَلَا يَجْلِسُ، قَالَ: يَنْهَضُ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَالثَّالِثَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Yazīd said: I observed ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه in prayer and saw him rise without sitting — he would rise upon the fronts of his feet in the first and third rakʿahs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نماز کا جائزہ لیا تو میں نے انہیں دیکھا کہ وہ اٹھتے تھے ‘ اور بیٹھتے نہیں تھے راوی کہتے ہیں : یعنی وہ پہلی رکعت کے بعد اور تیسری رکعت کے بعد اپنے قدموں کے اگلے حصے کے بل اٹھتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

2813

Majma al-Zawaid #2813

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَوَّلُ شَيْءٍ يُرْفَعُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْخُشُوعُ حَتَّى لَا تَرَى فِيهَا خَاشِعًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"The first thing to be removed from this Ummah is reverent humility [khushūʿ], until you will see no humble person among them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : اس امت میں سے جو چیز سب سے پہلے اٹھا لی جائے گی وہ خشوع ہے یہاں تک کہ تم اس ( امت ) میں کسی خشوع والے شخص کو نہیں دیکھو گے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

2814

Majma al-Zawaid #2814

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَوَّلُ مَا يُرْفَعُ مِنَ النَّاسِ الْخُشُوعُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ دَاوُدَ الْقَطَّانُ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالنَّسَائِيُّ وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Shaddād ibn Aws رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The first thing to be removed from the people is reverent humility."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ لوگوں میں سے سب سے پہلے خشوع کو اٹھا لیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمران بن داؤد القطان ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے امام احمد اور ابن حبان نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

2815

Majma al-Zawaid #2815

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ خَفَضَ فِيهَا صَوْتَهُ وَيَدَهُ وَبَصَرَهُ. وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿUbaydah said: ʿAbdullāh رضي الله عنه, when he stood for prayer, would lower his voice, his hands, and his gaze therein.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو اس میں اپنی آواز ‘ ہاتھوں اور آنکھوں کو پست رکھتے تھے ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔

2816

Majma al-Zawaid #2816

وَعَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا صَلَّى كَأَنَّهُ ثَوْبٌ مُلْقًى. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَالْأَعْمَشُ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Aʿmash said: When ʿAbdullāh رضي الله عنه prayed, he was as though he were a garment cast down.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اعمش بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ جب نماز ادا کرتے تھے تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی کپڑا ڈال دیا گیا ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اعمش نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

2817

Majma al-Zawaid #2817

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَارُّوا الصَّلَاةَ يَقُولُ: اسْكُنُوا اطْمَئِنُّوا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: Observe dignity in the prayer — that is, be still and tranquil.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نماز میں وقار کے ساتھ رہو وہ یہ فرماتے ہیں : تم لوگ پرسکون اور اطمینان کے ساتھ رہو یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

2818

Majma al-Zawaid #2818

وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِذَا صَلَّى كَأَنَّهُ كَعْبٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَتَأْتِي عَلَامَاتُ قَبُولِ الصَّلَاةِ بَعْدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAṭāʾ said: When Ibn al-Zubayr رضي الله عنهما prayed, he was as though he were a solid block, utterly still.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن زبیر جب نماز ادا کرتے تھے تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ بے جان چیز ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں میں یہ کہتا ہوں : نماز کی قبولیت کی علامات سے متعلق روایات آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

2819

Majma al-Zawaid #2819

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «مَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ كُلِّهِنَّ إِلَّا فِي الْوِتْرِ، وَكَانَ إِذَا حَارَبَ يَقْنُتُ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهِنَّ يَدْعُو عَلَى الْمُشْرِكِينَ وَلَا قَنَتَ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ وَلَا عُثْمَانُ حَتَّى مَاتُوا، وَلَا قَنَتَ عَلِيٌّ حَتَّى حَارَبَ أَهْلَ الشَّامِ وَكَانَ يَقْنُتُ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهِنَّ وَكَانَ مُعَاوِيَةُ يَدْعُو عَلَيْهِ أَيْضًا يَدْعُو كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى الْآخَرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ شَيْءٌ مُدْرَجٌ عَنْ غَيْرِ ابْنِ مَسْعُودٍ بِيَقِينٍ هُوَ قُنُوتُ عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ فِي حَالِ حَرْبِهِمَا فَإِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ مَاتَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ وَهُوَ صَدُوقٌ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَعْمَى وَاخْتَلَطَ عَلَيْهِ حَدِيثُهُ وَكَانَ يُلَقَّنُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ never recited the qunūt in any of the prayers at all except in the witr. But when he was at war, he would recite the qunūt in all the prayers, supplicating against the polytheists. Neither Abū Bakr, nor ʿUmar, nor ʿUthmān رضي الله عنهم ever recited the qunūt until they died. Nor did ʿAlī رضي الله عنه recite the qunūt until he fought the people of Syria, when he would recite the qunūt in all the prayers, while Muʿāwiyah would supplicate against him likewise — each of the two supplicating against the other. > **"The Messenger of Allah ﷺ never recited the qunūt in any of the prayers except in the witr, but when he was at war he would recite the qunūt in all of them, supplicating against the polytheists."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے تمام نمازوں میں سے کسی میں بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی صرف آپ وتر میں اسے پڑھتے تھے جب آپ جنگ میں حصہ لیتے تھے تو تمام نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھتے تھے جس میں آپ مشرکین کے خلاف دعائے ضرر کرتے تھے ( حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں ) حضرت ابوبکر نے حضرت عمر نے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مرتے دم تک قنوت نازلہ نہیں پڑھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی قنوت نازلہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ جب انہوں نے اہل شام کے ساتھ جنگ کی تو وہ تمام نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھا کرتے تھے جب کہ حضرت معاویہ ان کے خلاف دعا کیا کرتے تھے ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کے خلاف دعا کرتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس میں کچھ حصہ درج کیا گیا ہے ‘ جو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بجائے کسی اور کا ہے ‘ اور یہ بات یقینی ہے وہ حصہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ کا جنگ کے دوران قنوت نازلہ پڑھنے سے متعلق حصہ ہے کیونکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہو گیا تھا اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر یمامی ہے ‘ اور وہ صدوق ہے ‘ تاہم وہ نابینا تھا اور اس کی حدیث اس کے لئے اختلاط کا شکار بنتی تھی اور اسے تلقین کی جاتی تھی ۔

2820

Majma al-Zawaid #2820

«وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَهْرًا يَدْعُو عَلَى عُصَيَّةَ وَذَكْوَانَ، فَلَمَّا ظَهَرَ عَلَيْهِمْ تَرَكَ الْقُنُوتَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الْأَعْوَرُ الْقَصَّابُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ recited the qunūt for a month, supplicating against ʿUṣayyah and Dhakwān; then, when he prevailed over them, he abandoned the qunūt. > **"The Messenger of Allah ﷺ recited the qunūt for a month supplicating against ʿUṣayyah and Dhakwān, then abandoned it when he prevailed over them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک ماہ تک قنوت نازلہ پڑھی تھی جس میں آپ عصیہ اور ذکوان قبیلوں کے خلاف دعا کرتے رہے ‘ جب آپ کو ان پر غلبہ حاصل ہو گیا تو آپ نے قنوت نازلہ پڑھنی ترک کر دی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ اعورقصاب ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

2821

Majma al-Zawaid #2821

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «أَرَأَيْتُمْ قِيَامَكُمْ عِنْدَ فَرَاغِ الْإِمَامِ مِنَ السُّورَةِ هَذَا الْقُنُوتَ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَبِدْعَةٌ مَا فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْرَ شَهْرٍ ثُمَّ تَرَكَهُ أَرَأَيْتُمْ رَفْعَكُمْ أَيْدِيَكُمْ فِي الصَّلَاةِ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَبِدْعَةٌ مَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَذَا قَطُّ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ مَنْكِبَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَالنَّسَائِيُّ وَوَثَّقَهُ أَيُّوبُ وَابْنُ عَدِيٍّ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما said: Do you suppose that your standing when the imām finishes the sūrah is the qunūt? By Allah, it is an innovation. The Messenger of Allah ﷺ never did it except for a single month, then abandoned it. And do you suppose that your raising your hands in prayer is correct? By Allah, it is an innovation. The Messenger of Allah ﷺ never raised beyond this — and he raised his hands to the level of his shoulders. > **"The qunūt after the sūrah is an innovation; the Messenger of Allah ﷺ did it only for a month and then abandoned it. And raising the hands beyond the shoulders in prayer is an innovation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں : کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ سورت کی تلاوت سے فارغ ہونے کے بعد تمہارا قیام قنوت ہے اللہ کی قسم یہ بدعت ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ایسا نہیں کیا تھا آپ نے صرف ایک ماہ تک ایسا کیا تھا پھر آپ نے اسے ترک کر دیا تھا کیا تم لوگ یہ سمجھے ہو کہ نماز کے دوران تمہارا ہاتوں کو بلند کرنا ( ٹھیک ہے ) اللہ کی قسم یہ بدعت ہے اللہ کے رسول نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک بلند کیے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حرب ہے ‘ جسے امام احمد یحییٰ بن معین ابوزرعہ ابوحاتم اور امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے ایوب اور ابن عدی نے اسے ” ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

2822

Majma al-Zawaid #2822

وَعَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عُمَرَ فَلَمْ يَقْنُتْ فَقُلْتُ: مَا مَنَعَكَ مِنَ الْقُنُوتِ؟ فَقَالَ: إِنِّي لَا أَحْفَظُهُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mijlaz said: I prayed behind Ibn ʿUmar رضي الله عنهما and he did not recite the qunūt. I said: What prevented you from the qunūt? He said: I do not recall it from any of my companions.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومجلز بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر کے پیچھے نماز ادا کی تو انہوں نے قنوت نازلہ نہیں پڑھی میں نے دریافت کیا : کس چیز نے آپ کو قنوت پڑھنے سے روکے رکھا ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے اپنے اصحاب میں سے کسی کے حوالے سے یہ بات یاد نہیں ہے ( کہ وہ ایسا کرتا ہو ) یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2823

Majma al-Zawaid #2823

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، وَإِذَا قَنَتَ فِي الْوِتْرِ قَنَتَ قَبْلَ الرَّكْعَةِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه would not recite the qunūt in the dawn prayer, and when he recited the qunūt in the witr he would recite it before the rakʿah of bowing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ صبح کی نماز میں قنوت نازلہ نہیں پڑھتے تھے ‘ اور جب وہ وتر میں قنوت پڑھتے تھے تو رکوع میں جانے سے پہلے پڑھتے تھے ۔

2824

Majma al-Zawaid #2824

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَقْنُتُ فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ إِلَّا فِي الْوِتْرِ قَبْلَ الرَّكْعَةِ. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

And in a narration from him also: ʿAbdullāh رضي الله عنه would not recite the qunūt in any of the prayers except in the witr, before the rukūʿ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کسی بھی نماز میں قنوت نازلہ نہیں پڑھتے تھے وہ صرف وتر میں رکوع سے پہلے ( دعائے قنوت پڑھتے تھے ) یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔

2825

Majma al-Zawaid #2825

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ حِينَ يَفْرُغُ مِنَ الْقِرَاءَةِ ثُمَّ إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقُنُوتِ كَبَّرَ وَرَكَعَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh رضي الله عنه would pronounce the takbīr when he finished the recitation, and when he finished the qunūt he would pronounce the takbīr and bow.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ قرأت سے فارغ ہونے کے بعد تکبیر کہتے تھے ‘ ( پھر دعائے قنوت پڑھتے تھے ) اور قنوت سے فارغ ہونے کے بعد پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں جاتے تھے یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ اور وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

2826

Majma al-Zawaid #2826

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ دَعَا عَلَى قَوْمٍ وَدَعَا لِقَوْمٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ recited the qunūt in the Fajr prayer, supplicating against one people and supplicating for another. > **"The Messenger of Allah ﷺ recited the qunūt in the Fajr prayer, supplicating against one people and supplicating for another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھتے تھے جس میں آپ کسی قوم کے خلاف دعا کرتے تھے ‘ اور کسی قوم کے حق میں دعا کرتے تھے یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2827

Majma al-Zawaid #2827

وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: «فَرَّ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَسَلَمَةُ بْنُ هِشَامٍ وَالْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِيَاشٌ وَسَلَمَةُ مُتَكَفِّلَانِ مُرْتَدِفَانِ عَلَى بَعِيرٍ وَالْوَلِيدُ يَسُوقُ بِهِمَا فَكُلِمَتْ إِصْبَعُ الْوَلِيدِ فَقَالَ: هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ ... وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ فَعَلِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخْرَجِهِمْ إِلَيْهِ وَشَأْنِهِمْ قَبْلَ أَنْ نَعْلَمَ فَصَلَّى الصُّبْحَ فَرَكَعَ أَوَّلَ رَكْعَةٍ مِنْهَا فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ دَعَا لَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحٌ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Malik ibn Abī Bakr said: ʿAyyāsh ibn Abī Rabīʿah, Salamah ibn Hishām, and al-Walīd ibn al-Walīd ibn al-Mughīrah fled from the polytheists toward the Messenger of Allah ﷺ — ʿAyyāsh and Salamah riding together upon one camel with al-Walīd driving them on — when the finger of al-Walīd was wounded, and he said: "Are you but a finger that has bled, and what you met was in the path of Allah." The Prophet ﷺ came to know of their setting out toward him and of their affair before we knew, so he prayed the morning prayer, bowed the first rakʿah of it, and when he raised his head he supplicated for them before prostrating, saying: > **"O Allah, save ʿAyyāsh ibn Abī Rabīʿah; O Allah, save Salamah ibn Hishām; O Allah, save al-Walīd ibn al-Walīd; O Allah, save the oppressed among the believers; O Allah, make Your grip severe upon Muḍar, and make those years upon them like the years of Yūsuf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن ابوبکر بیان کرتے ہیں : حضرت عیاش بن ابوربیعہ حضرت سلمہ بن ہشام حضرت ولید بن ولید بن مغیرہ مشرکین سے فرار ہو کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عیاش اور حضرت سلمہ اونٹ پر آگے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ‘ اور حضرت ولید ان دونوں کو ہانک کر لا رہے تھے ولید کی انگلی زخمی ہو گئی ‘ تو انہوں نے کہا : ’’ تم صرف ایک انگلی ہو جو خون آلود ہوئی ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں تمہیں اس چیز کا سامنا کرنا پڑا ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ کو ان کے نکل کر اپنی طرف آنے اور ان کے معاملے کا ہم سے پہلے پتہ چل گیا نبی اکرم ﷺ نے صبح کی نماز ادا کی آپ نے پہلی رکعت ادا کی جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو سجدے میں جانے سے پہلے آپ نے ان لوگوں کے لئے دعا کی : ” اے اللہ ! عیاش بن ابوربیعہ کو نجات عطا فرما اے اللہ ! سلمہ بن ہشام کو نجات عطا فرما اے اللہ ! ولید بن ولید کو نجات عطا فرما اے اللہ ! کمزور مومنین کو نجات عطا فرما اے اللہ ! مضر قبیلے پر اپنی سختی مسلط کر دے اور ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی قحط سالی مقرر کر دے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے یہ روایت مرسل اور صحیح ہے ‘ اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

2828

Majma al-Zawaid #2828

وَعَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: «صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَجْرَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَالَ: "" اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانًا وَرِعْلًا وَذَكْوَانًا وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا "" ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَسْتُ قُلْتُ هَذَا وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَهُ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ: فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Khufāf ibn Īmāʾ ibn Raḥaḍah al-Ghifārī رضي الله عنه said: The Prophet ﷺ led us in Fajr, and when he raised his head from the last rakʿah he said: > **"O Allah, curse Liḥyān, Riʿl, Dhakwān, and ʿUṣayyah, who disobeyed Allah and His Messenger. Aslam — may Allah grant it peace — and Ghifār — may Allah forgive it."** Then he fell prostrate. When he completed the prayer, he turned to the people with his face and said: > **"O people, it is not I who said this; rather Allah, Mighty and Majestic, said it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب آپ نے آخری رکعت ( کے رکوع سے ) سر اٹھایا تو یہ دعا کی ” اے اللہ ! الحیان ، رعل ، ذکوان اور عصیہ قبیلے پر لعنت کر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے ‘ اسلم قبیلے کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور غفار قبیلے کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے پھر نبی اکرم ﷺ سجدے میں چلے گئے جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے لوگوں کی طرف رُخ کیا اور ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں نے ( اپنی طرف سے ) اس طرح نہیں کہا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کہی ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ‘ تاہم اس میں یہ والا حصہ نہیں ہے ” جب آپ نے نماز مکمل کی ‘‘ اس کے بعد سے لے کر آخر تک کا حصہ نہیں ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ اور وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2829

Majma al-Zawaid #2829

وَعَنِ الْبَرَاءِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ كَانَ لَا يُصَلِّي صَلَاةً مَكْتُوبَةً إِلَّا قَنَتَ فِيهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Al-Barāʾ رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ would not pray any prescribed prayer without reciting the qunūt therein. > **"The Prophet ﷺ would not pray any prescribed prayer without reciting the qunūt therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جو بھی فرض نماز ادا کرتے تھے اس میں قنوت نازلہ پڑھتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

2830

Majma al-Zawaid #2830

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّمَا أَقْنُتُ لِتَدْعُوا رَبَّكُمْ وَتَسْأَلُوهُ حَوَائِجَكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I recite the qunūt only so that you may supplicate to your Lord and ask Him for your needs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں قنوت نازلہ اس لئے پڑھتا ہوں تاکہ تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا مانگو اور اس سے اپنی ضروریات کا سوال کرو ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

2831

Majma al-Zawaid #2831

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: لَمْ يَرَوِهِ عَنْ عَلْقَمَةَ إِلَّا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ قُلْتُ: وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ used to say in his supplication: > **"O Allah, guide me among those You have guided, grant me well-being among those You have granted well-being, take me into Your care among those You have taken into Your care, bless for me what You have granted me, and shield me from the evil of what You have decreed. For indeed You decree and none decrees against You, and indeed none whom You befriend is ever humiliated. Blessed are You, our Lord, and Exalted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ دعا میں یہ کہا کرتے تھے : اے اللہ ! جنہیں تو نے ہدایت نصیب کی ہے ان میں مجھے بھی ہدایت عطا فرما جنہیں تو نے عافیت عطا کی ہے ان میں مجھے بھی عافیت عطا فرما جن کا تو نگران بنا ہے ان کے ساتھ میرا بھی نگران بن جا تو نے جو کچھ عطا کیا ہے ‘ اس کے بارے میں میرے لئے برکت رکھ دے اور تو نے جو فیصلہ کیا ہے ‘ اس کے شر سے مجھے بچا لے کیونکہ تو فیصلہ دیتا ہے ‘ اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں دیا جاتا اور جس کا تو نگہبان بن جائے وہ ذلیل نہیں ہوتا اے ہمارے پروردگار تو برکت والا ہے ‘ اور بلند و برتر ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں : علقمہ کے حوالے سے اس روایت کو صرف ابوحفص عمر نامی راوی نے نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

2832

Majma al-Zawaid #2832

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «نَهَى عَنِ الْقُنُوتِ فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ forbade the qunūt in the ʿIshāʾ prayer. > **"The Prophet ﷺ forbade the qunūt in the ʿIshāʾ prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عشاء کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھنے سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن عبدالرحمن ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

2833

Majma al-Zawaid #2833

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ وَيَجْعَلُ الْقُنُوتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ التِّرْمِذِيُّ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: لَيْسَ بِثِقَةٍ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ وَفِيهِ الْقُنُوتُ فِي مَنَاقِبِ خَدِيجَةَ أَوْ عَلِيٍّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْأَدْعِيَةِ فِي دُعَاءِ الْمَرْءِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ would pray the witr as three rakʿahs, placing the qunūt before the rukūʿ. > **"The Prophet ﷺ would pray the witr as three rakʿahs, placing the qunūt before the rukūʿ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تین رکعات وتر ادا کرتے تھے ‘ اور دعاء قنوت وتر سے پہلے پڑھتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سہل بن عباس ترمذی ہے امام دارقطنی فرماتے ہیں : یہ ’’ ثقہ ‘‘ نہیں ہے علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث آگے آئے گی ‘ جس میں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ جس میں قنوت کا ذکر کیا گیا ہے وہ حدیث سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث دعاؤں سے متعلق باب میں آئے گی جو اس باب میں آئے گی کہ آدمی کو اپنے بھائی کے لئے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرنی چاہیے اگر اللہ نے چاہا ۔

2834

Majma al-Zawaid #2834

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَنَتَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَ الرُّكُوعِ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَدْعُو فِي قُنُوتِهِ عَلَى الْكَفَرَةِ قَالَ: وَسَمِعَتُهُ يَقُولُ: ""وَاجْعَلْ قُلُوبَهُمْ كَقُلُوبِ نِسَاءٍ كَوَافِرَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ حَنْظَلَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ السَّدُوسَيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ وَجَمَاعَةٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ recited the qunūt in the morning prayer after the rukūʿ. He said: I heard him supplicating in his qunūt against the disbelievers, and I heard him saying: > **"Make their hearts like the hearts of disbelieving women."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی تھی راوی کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو قنوت نازلہ میں کافروں کے خلاف دعا کرتے ہوئے سنا میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! ان کے دلوں کو کافر عورتوں کے دلوں کی طرح کر دے ‘‘۔ یہ روایت ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حنظلہ بن عبیداللہ سدوسی ہے ‘ جسے امام احمد ابن مدینی اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔