Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 4 · Chapter 30

Book of Prayer

Hadith 2755–2794

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2755

Majma al-Zawaid #2755

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَسْجُدُ عَلَى جَبْهَتِهِ مَعَ قُصَاصِ الشَّعْرِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَلَى جَبْهَتِهِ عَلَى قُصَاصِ الشَّعْرِ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ لِاخْتِلَاطِهِ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه narrated: "The Prophet ﷺ used to prostrate upon his forehead along with the forelock of his hair."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کچھ بالوں کے ہمراہ پیشانی پر سجدہ کرتے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ آپ کی پیشانی پر کچھ بال ہوتے تھے “۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عبداللہ بن ابومریم ہے ‘ اور وہ اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ” ضعیف “ ہے ۔

2756

Majma al-Zawaid #2756

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسَجَدُ عَلَى كَوْرِ الْعِمَامَةِ». وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَنْبَسَةَ فَإِنْ كَانَ الرَّازِيَّ فَهُوَ ضَعِيفٌ وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَا أَعْرِفُهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Abī Awfā رضي الله عنه narrated: "I saw the Messenger of Allah ﷺ prostrating upon the fold of the turban."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو عمامہ کے بیچ پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عنبسہ ہے اگر تو راوی ہے ‘ تو پھر یہ ضعیف ہے ‘ اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

2757

Majma al-Zawaid #2757

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا بِالْقَاعِ مِنْ نَمِرَةَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَزَلَهَا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُمْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ مَا تَحْتَ مَنْكِبَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ سَاجِدٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ أَقْرَمٍ كَمَا هُنَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ نَفْسِهِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbaydullāh ibn ʿAbdillāh ibn Aqram narrated from his father from his grandfather, who said: "I was herding sheep at al-Qāʿ in Namirah when I saw the Messenger of Allah ﷺ alight there. He established the prayer and prayed with his Companions, so I prayed with them, and it is as though I am still looking at the redness of what was beneath the shoulders of the Messenger of Allah ﷺ while he was prostrating."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عبداللہ بن اقرم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نمرہ کے میدان میں بکریاں چرا رہا تھا میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ نے وہاں پڑاؤ کیا آپ نے نماز کے لئے اقامت کہلوائی اور اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی تو نبی اکرم ﷺ کے کندھے کے نیچے کی سرخی کا منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ اس وقت سجدے کی حالت میں تھے یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت اقرم کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور اسی طرح نقل کی ہے ‘ جس طرح یہاں مذکور ہے ‘ جب کہ امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے حضرت عبداللہ بن اقرم کے حوالے سے نقل کیا ہے ‘ اور اس روایت کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2758

Majma al-Zawaid #2758

وَعَنْ يَزِيَدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ: «حَدَّثَنِي مَنْ رَأَى ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَجَافَى مِرْفَقَيْهِ حَتَّى كِدْتُ أَنْ أَرَى بَيَاضَ إِبِطَيْهِ». وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ - هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Yazīd ibn Abī Ziyād narrated: "One who saw Ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated to me, saying: 'It is as though I am still looking at him while he was prostrating, keeping his elbows apart until I could almost see the whiteness of his armpits.'"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن ابوزیاد بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ حدیث بیان کی ہے ، جس نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے یہ فرمایا گویا کہ میں اس وقت بھی ان کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ جب وہ سجدے کی حالت میں تھے تو انہوں نے کہنیاں پہلو سے اتنی دور رکھی ہوئی تھیں کہ ان کی بغلوں کی سفیدی میں دیکھ سکتا تھا اس روایت کی سند میں ایک شخص ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے امام طبرانی نے یہ روایت معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ۔

2759

Majma al-Zawaid #2759

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ سَاجِدٍ وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ فَجَلَّهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: لَا تَعْقِصْ فَإِنَّ الشَّعْرَ يَسْجُدُ وَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ أَجْرًا قَالَ: إِنَّمَا عَقَصْتُهُ لِكَيْ لَا يَتَتَرَّبَ قَالَ: إِنْ يَتَتَرَّبْ خَيْرٌ لَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه passed by a man prostrating while his head was tied in a knot, so he untied it. When the man finished, ʿAbdullāh said to him: > **"Do not tie it up, for indeed the hair prostrates, and for you there is a reward for every hair." He said: "I only tied it so that it would not become dusty." He said: "That it become dusty is better for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو سجدے کی حالت میں تھا اور اس نے بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے کھول دیا جب اس شخص نے نماز مکمل کی تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم جوڑا نہ بنایا کرو کیونکہ بال بھی سجدہ کرتے ہیں ، اور تمہیں ہر ایک بال کے عوض میں اجر ملے گا اس شخص نے کہا میں نے یہ جوڑا اس لئے بنایا تھا تاکہ یہ بال خاک آلود نہ ہو جائیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر یہ خاک آلود ہو جائیں تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2760

Majma al-Zawaid #2760

وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَسْجُدُ عَلَى عِمَامَتِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَكَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ ضَعِيفٌ وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ: كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ رَوَى عَنْهُ: أَبُو تُمَيْلَةَ، وَقَالَ فِي كِتَابِ الضُّعَفَاءِ: كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ هُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَرْوِي عَنْ أَنَسٍ مَا لَيْسَ مِنْ حَدِيثِهِ يَضَعُ عَلَيْهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ غَيْرُ ابْنِ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Kathīr ibn Sulaym narrated: "I saw Anas ibn Mālik رضي الله عنه prostrating upon his turban."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کثیر بن سلیم بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو اپنے عمامے پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے کثیر بن سلیم نامی راوی ” ضعیف “ ہے ۔ ابن حبان نے کتاب ’’ التقات ‘‘ میں یہ بات بیان کی ہے کثیر بن سلیم نے ضحاک بن مزاحم سے روایات نقل کی ہیں ‘ اور اس سے ابوتمیلہ نے روایات نقل کی ہیں انہوں نے کتاب ’’ الضعفاء ‘‘ میں یہ بات بیان کی ہے کثیر بن سلیم وہ شخص ہے ‘ جسے کثیر بن عبداللہ کہا جاتا ہے اس نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایسی روایات نقل کی ہیں جو ان سے منقول نہیں ہیں یہ ان کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ابن حبان کے علاوہ اور کسی نے اس کی توثیق نہیں کی ہے ۔

2761

Majma al-Zawaid #2761

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا يَمْسَحُ الرَّجُلُ جَبْهَتَهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ، وَلَا بَأْسَ أَنْ يَمْسَحَ الْعَرَقَ عَنْ صُدْغَيْهِ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا دَامَ أَثَرُ السُّجُودِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ مُدْرِكٍ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah ibn al-Asqaʿ رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"A man should not wipe his forehead until he finishes his prayer, and there is no harm in wiping sweat from his temples; for indeed the angels invoke blessings upon him as long as the trace of prostration remains between his eyes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ آدمی اپنی پیشانی کو اس وقت تک صاف نہ کرے جب تک وہ نماز سے فارغ نہیں ہو جاتا البتہ کنپٹیوں سے پسینہ پونچھنے میں کوئی حرج نہیں ہے فرشتے آدمی کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک سجدے کا نشان ( یعنی خاک وغیرہ ) اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ( یعنی پیشانی پر ) دکھائی دیتا رہتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن مدرک ہے ‘ اور وہ کذاب ہے ۔

2762

Majma al-Zawaid #2762

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ لَمْ يَلْزَقْ أَنْفَهُ مَعَ جَبْهَتِهِ بِالْأَرْضِ إِذَا سَجَدَ لَمْ تَجُزْ صَلَاتُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَإِنْ كَانَ فِي بَعْضِهِمُ اخْتِلَافٌ مِنْ أَجْلِ التَّشَيُّعِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated from the Messenger of Allah ﷺ that he ﷺ said: > **"Whoever does not press his nose to the ground along with his forehead when he prostrates, his prayer is not valid."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ جو شخص سجدے میں جاتے ہوئے اپنی ناک کو پیشانی کے ساتھ زمین پر نہیں رکھتا ہے ‘ اس کی نماز درست نہیں ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے کیونکہ وہ شیعہ ہیں ۔

2763

Majma al-Zawaid #2763

وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ مَنْ لَا يُصِيبُ أَنْفُهُ الْأَرْضَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَافِلَانِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Umm ʿAṭiyyah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Allah does not accept the prayer of one whose nose does not touch the ground."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز قبول نہیں کرتا جس کی ناک ( سجدے میں ) زمین سے نہیں لگتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن محمد بن قافلانی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

2764

Majma al-Zawaid #2764

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيُبَاشِرْ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَفُكَّ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَهُ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قُلْتُ: وَهَذَا مِنْهَا.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When one of you prostrates, let him place his palms directly upon the ground; perhaps Allah will free him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب کوئی شخص سجدے میں جائے تو وہ اپنی ہتھیلیاں زمین کے ساتھ ملائے تاکہ اللہ تعالی قیامت کے دن اسے نجات نصیب کرے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن محمد محاربی ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں ۔ اس کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں جو اس نے ابوذئب سے نقل کی ہیں ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت بھی ان میں سے ایک ہے ۔

2765

Majma al-Zawaid #2765

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ حَتَّى إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ ذَلِكَ فِي جَبْهَتِهِ وَأَرْنَبَتِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سُوِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated: "The Messenger of Allah ﷺ prostrated on a rainy day, such that I was indeed looking at the trace of that upon his forehead and the tip of his nose."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک بارش والے دن نبی اکرم ﷺ سجدے میں گئے یہاں تک کہ میں نے کیچڑ کا نشان آپ کی پیشانی اور ناک پر دیکھا یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

2766

Majma al-Zawaid #2766

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُمَكِّنُ أَنْفَهُ مِنَ الْأَرْضِ كَمَا يُمَكِّنُ جَبْهَتَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Juḥayfah رضي الله عنه narrated: "I saw the Messenger of Allah ﷺ pressing his nose firmly to the ground just as he pressed his forehead."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ( سجدہ کرتے ہوئے ) اپنی ناک کو زمین پر یوں جما کے رکھتے تھے جس طرح آپ اپنی پیشانی کو جما کے رکھتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

2767

Majma al-Zawaid #2767

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِذَا صَلَّيْتَ فَلَا تَبْسُطْ ذِرَاعَيْكَ بَسْطَ السَّبُعِ، وَادْعَمَ عَلَى رَاحَتَيْكَ وَجَافِ مِرْفَقَيْكَ عَنْ ضَبْعَيْكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When you pray, do not spread your forearms as the beast of prey spreads them; rest upon your two palms and keep your elbows away from your sides."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تم نماز ادا کرو تو اپنی کلائیاں یوں نہ بچھا لو جس طرح درندے بچھاتے ہیں تم اپنی سیرین کے بل بیٹھو اور اپنی کہنیاں پہلو سے دور رکھو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2768

Majma al-Zawaid #2768

وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَعْتَدِلَ فِي السُّجُودِ وَلَا نَسْتَوْفِزَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah رضي الله عنه narrated: "The Messenger of Allah ﷺ commanded us to be balanced in sujūd and not to squat upon the heels with the feet erect."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم سجدے میں اعتدال سے کام لیں اور ( پاؤں کھڑا کر کے ) ایڑیوں کے بل نہ بیٹھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

2769

Majma al-Zawaid #2769

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَسْجُدُ مُضْطَجِعًا وَلَا مُتَوَرِّكًا، فَإِنَّهُ إِذَا أَحْسَنَ السُّجُودَ سَجَدَ كُلُّ عُضْوٍ فِيهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: "When one of you prostrates, let him not prostrate sprawled out nor sitting in tawarruk, for indeed when he perfects the sujūd, every limb in him prostrates."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب کوئی شخص سجدے میں جائے تو وہ لیٹ کر ‘ یا تورک کے طور پر بیٹھ کر سجدہ نہ کرے کیونکہ جب وہ اچھے طریقے سے سجدہ کرے گا ‘ تو اس کا ہر عضو بھی وہ سجدہ کرے گا ( یا اس کا ہر عضو اس سجدے میں شریک ہو گا ) یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

2770

Majma al-Zawaid #2770

وَعَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُصَلِّي بِمَكَّةَ فَلَمَّا سَجَدَ جَافَى حَتَّى رَأَيْتُ غُضُونَ إِبِطِهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Aʿmash narrated: "I saw Anas ibn Mālik رضي الله عنه praying in Makkah, and when he prostrated he kept apart until I saw the folds of his armpit."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اعمش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو مکہ میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا جب وہ سجدے میں گئے تو انہوں نے بازؤں کو پہلو سے الگ رکھا یہاں تک کہ مجھے ان کے پیٹ کی سلوٹیں دکھائی دے گئیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

2771

Majma al-Zawaid #2771

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ إِذَا كَانَ سَاجِدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated from the Prophet ﷺ that he ﷺ said: > **"The closest the servant is to his Lord is when he is prostrating."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بندہ اپنے پروردگار کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے ‘ جب وہ سجدے کی حالت میں ہوتا ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم ہے وہ ضعیف ہے ‘ اور منکر الحدیث ہے ۔

2772

Majma al-Zawaid #2772

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1] كَانَ يُكَبِّرُ إِذَا قَرَأَهَا وَيَرْكَعُ وَيَقُولُ: "" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِي إِسْنَادِ الثَّلَاثَةِ أَبُو عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا حَمَّادًا وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated: "When there was revealed upon the Messenger of Allah ﷺ: {When the help of Allah comes and the victory} [al-Naṣr: 1], whenever he recited it he would say the takbīr and bow, and he would say: > **"Glory be to You, O Allah, and with Your praise. O Allah, forgive me; indeed, You are the Most Relenting, the Most Merciful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’ جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آ گئی ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ جب بھی اس کو پڑھتے تو تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جاتے تھے ‘ اور یہ پڑھتے تھے : ’’ تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے بے شک تو توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت احمد امام ابویعلیٰ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تینوں کی سند میں یہ بات مذکور ہے ‘ اسے ابوعبیدہ نے اپنے والد سے روایت کیا ہے حالانکہ انہوں نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف حماد نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

2773

Majma al-Zawaid #2773

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَإِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا اللَّهَ، وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِي الْمَسْأَلَةِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ وَأَبُو يَعْلَى مَوْقُوفًا وَالْبَزَّارُ - قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: "" «إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ» "" فَقَطْ - وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجَمِيعِ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, I have been forbidden from reciting in rukūʿ and sujūd; so when you bow, magnify Allah, and when you prostrate, strive in asking, for it is worthy that you be answered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں رکوع یا سجدے میں قرأت کروں جب تم لوگ رکوع کرو تو اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اعتراف کرو اور جب تم سجدہ کرو تو اہتمام کے ساتھ دعا مانگو یہ اس لائق ہو گا کہ وہ تمہارے لئے قبول ہو “۔ یہ روایت عبداللہ نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اسے ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کیا ہے امام بزار نے بھی اسے نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا یہ حصہ مذکور ہے : ’’ مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں رکوع اور سجدے میں قرأت کروں ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق بن حارث ہے ‘ اور تمام حضرات کے نزدیک وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

2774

Majma al-Zawaid #2774

«وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّهَا فَقَدَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَضْجَعِهِ فَلَمَسَتْهُ بِيَدِهَا فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ: "" رَبِّ أَعْطِ نَفْسِي، تَقْوَاهَا زَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that she missed the Prophet ﷺ from his resting place, so she felt for him with her hand, and it fell upon him while he was prostrating and saying: > **"My Lord, grant my soul its piety and purify it; You are the best of those who purify it. You are its Guardian and its Master."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو بستر پر غیر موجود پایا تو اپنے ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کو تلاش کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ نبی اکرم ﷺ پر آیا تو آپ اس وقت سجدے کی حالت میں تھے ‘ اور یہ کہہ رہے تھے : ” اے میرے پروردگارا ! تو میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا کر دے اور اسے پاک کر دے بے شک تو سب سے بہتر ہے ‘ جو اس کو پاک کرے تو اس کا ولی ہے ‘ اور اس کا آقا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2775

Majma al-Zawaid #2775

«وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَتْ لَيْلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْسَلَّ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ انْسَلَّ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَخَرَجْتُ غَيْرَى فَإِذَا أَنَا بِهِ سَاجِدًا كَالثَّوْبِ الطَّرِيحِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" سَجَدَ لَكَ سَوَادِي وَخَيَالِي وَآمَنَ بِكَ فُؤَادِي رَبِّ هَذِهِ يَدِي وَمَا جَنَيْتُ عَلَى نَفْسِي، يَا عَظِيمُ تُرْجَى لِكُلِّ عَظِيمٍ فَاغْفِرِ الذَّنْبَ الْعَظِيمَ "" قَالَتْ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: "" مَا أَخْرَجَكِ؟ "" قَالَتْ: ظَنًّا ظَنَنْتُهُ قَالَ: "" إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ، فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ، إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ الَّتِي سَمِعْتِ فَقُولِيهَا فِي سُجُودِكِ، فَإِنَّهُ مَنْ قَالَهَا لَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى يُغْفَرَ - أَظُنُّهُ قَالَ - لَهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated: "It was my night with the Messenger of Allah ﷺ, so he slipped away, and I thought he had slipped away to one of his wives, so I went out in jealousy—and behold, there he was, prostrating like a cast-off garment. I heard him saying: > **"My dark form and my shadow have prostrated to You, my heart has believed in You. My Lord, here is my hand and what I have committed against myself. O Tremendous One, hoped in for every tremendous matter, forgive the tremendous sin."** She said: "Then he raised his head and said: > **"What has brought you out?"** She said: 'A thought that I thought.' He ﷺ said: > **"Indeed, some thought is sin, so seek Allah's forgiveness. Jibrīl came to me and commanded me to say these words that you have heard, so say them in your prostration; for whoever says them will not raise his head until he is forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کا میرے ہاں رہنے کا مخصوص دن تھا نبی اکرم ﷺ بستر سے نکلے میں یہ سمجھی کہ شاید آپ اپنی کسی اور زوجہ محترمہ کے پاس جائیں گے میں بھی نکلی تو میں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ سجدے کی حالت میں ہیں یوں جیسے کپڑا ڈالا گیا ہوتا ہے میں نے آپ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا : ” میرے وجود اور میرے خیال نے تیرے لئے سجدہ کیا ہے میرا دل تجھ پر ایمان لایا ہے اے میرے پروردگار ! یہ میرا ہاتھ ہے ‘ اور وہ ہے جو میں نے اپنے خلاف جس جرم کا ارتکاب کیا ہے اے عظیم ذات ہر عظیم چیز کے لئے تجھ سے امید رکھی جاتی ہے ‘ تو بڑے گناہ کی مغفرت کر دے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور دریافت کیا : تم کیوں باہر آئی ہو ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : ایک گمان میرے ذہن میں آیا تھا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بعض گمان گناہ ہوتے ہیں تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو جبرائیل میرے پاس آئے تھے انہوں نے مجھے یہ کہا تھا کہ میں ان کلمات کو پڑھوں جو کلمات تم نے ابھی سنے ہیں تم بھی سجدے میں ان کو پڑھا کرو کیونکہ جو شخص ان کلمات کو پڑھے گا ‘ اس کے سر اٹھانے سے پہلے اس کی مغفرت ہو جائے گی ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے ‘ جسے دحیم نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے امام بخاری امام مسلم یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

2776

Majma al-Zawaid #2776

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: "" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ "" ثَلَاثًا وَفِي سُجُودِهِ: "" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى "" ثَلَاثًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، قَالَ الْبَزَّارُ: لَا يُرْوَى عَنْ جُبَيْرٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَعَبْدُ الْعَزِيزُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ صَالِحٌ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Muṭʿim رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ used to say in his rukūʿ three times: > **"Glory be to my Lord, the Tremendous,"** and in his sujūd three times: > **"Glory be to my Lord, the Most High."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ رکوع میں تین مرتبہ «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» پڑھا کرتے تھے ‘ اور سجدے میں تین مرتبہ «سُبحَانَ رَبِّي الأغلى» پڑھا کرتے تھے یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام بزار بیان کرتے ہیں : حضرت جبیر کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے ‘ جو صالح ہے ‘ لیکن قوی نہیں ہے ۔

2777

Majma al-Zawaid #2777

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «كَانَ يُسَبِّحُ فِي رُكُوعِهِ: "" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ "" ثَلَاثًا وَفِي سُجُودِهِ: "" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى "" ثَلَاثًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ الْبَزَّارُ: لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَبِي بَكْرَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بِكْرَةَ صَالِحُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ used to glorify in his rukūʿ three times: > **"Glory be to my Lord, the Tremendous,"** and in his sujūd three times: > **"Glory be to my Lord, the Most High."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ رکوع میں تین مرتبہ «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ» پڑھا کرتے تھے ‘ اور سجدے میں تین مرتبہ «سبحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَی» پڑھا کرتے تھے یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام بزار کہتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق حضرت ابوبکرہ کے حوالے سے یہ حدیث صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے عبدالرحمن بن ابوبکرہ نامی راوی صالح الحدیث ہے ۔

2778

Majma al-Zawaid #2778

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثًا وَفِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"Indeed, part of the Sunnah is that a man say in his rukūʿ three times: 'Glory be to my Lord, the Tremendous,' and in his sujūd three times: 'Glory be to my Lord, the Most High.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن مسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سنت یہ ہے کہ آدمی رکوع میں تین مرتبہ «سبحان ربی العظیم پڑھے اور سجدے میں تین مرتبہ «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَی» پڑھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے ‘ اور وہ محدثین کے نزدیک ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

2779

Majma al-Zawaid #2779

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي سُجُودِهِ إِذَا سَجَدَ: "" سَجَدَ لَكَ سَوَادِي وَخَيَالِي وَآمَنَ بِكَ فُؤَادِي، أَبُوءُ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، هَذِهِ يَدِي وَمَا جَنَيْتُ عَلَى نَفْسِي». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated: "When the Messenger of Allah ﷺ prostrated, he would say in his sujūd: > **"My dark form and my shadow have prostrated to You, my heart has believed in You. I acknowledge Your blessing upon me; here is my hand and what I have committed against myself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سجدے میں جاتے تو سجدے میں یہ پڑھتے تھے : ’’ میری ذات اور میرے خیال نے تیرے لئے سجدہ کیا ہے میرا دل تجھ پر ایمان لایا ہے میں اپنے اوپر تیری نعمت کا اعتراف کرتا ہوں یہ میرا ہاتھ ہے ‘ اور وہ چیز ہے ‘ جو میں نے اپنے خلاف جرم کا ارتکاب کیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2780

Majma al-Zawaid #2780

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فَلَمَّا رَكَعَ قَالَ: "" سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَفِيهِ بَعْضُ كَلَامٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Mālik al-Ashʿarī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ prayed, and when he bowed he said three times: > **"Glory be to Allah and with His praise,"** then he raised his head.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کی جب آپ رکوع میں گئے تو آپ نے «سبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ» تین مرتبہ پڑھا پھر آپ نے اپنے سر کو اٹھایا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، جس کے بارے میں کچھ کلام کیا گیا ہے ایک سے زیادہ حضرات نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے ۔

2781

Majma al-Zawaid #2781

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: «رَمَقْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَمَعْتُ إِلَيْهِ فَكَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ أَنْ يَقُولَ: "" سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَغَيْرُهُمَا وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَدُحَيْمٌ وَغَيْرُهُمَا.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Abī Sufyān رضي الله عنه narrated: "I observed the Prophet ﷺ closely and listened to him, and most of his prayer consisted of saying: > **"Glory be to the Lord of the worlds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی نماز کا بغور جائزہ لینا شروع کیا میں نے آپ کو غور سے سنا تو آپ زیادہ تر نمازوں میں «سبحَانَ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ» پڑھا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ‘ جسے امام بخاری امام مسلم اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے امام ابوحاتم اور دحیم اور دیگر حضرات نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

2782

Majma al-Zawaid #2782

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ وَهُوَ رَاكِعٌ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Ziyād al-Asadī narrated that he heard ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه saying while bowing: > **"There is no power nor strength except through Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن زیاد اسدی بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو رکوع کے دوران یہ پڑھتے ہوئے سنا : «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

2783

Majma al-Zawaid #2783

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُسَوِّي الْحَصَى بِيَدِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ وَهُوَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Yazīd narrated: "ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه would level the pebbles with his hand a single time when he intended to prostrate, and he would say in his sujūd: > **"Here I am at Your service, and blessedness is from You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہاتھ کے ذریعے ایک مرتبہ کنکریاں برابر کرتے تھے جب وہ سجدے میں جانے لگتے تھے ‘ اور وہ سجدے میں یہ پڑھتے تھے : ’’ میں حاضر ہوں ‘ اور سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

2784

Majma al-Zawaid #2784

وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ وَشَدَّادُ بْنُ الْأَزْمَعِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: اخْتَلَفَا فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ لَا رَبَّ غَيْرُكَ، وَقَالَ شَدَّادٌ: كَانَ يَقُولُ: سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِوَايَةُ أَبِي الْأَسْوَدِ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ وَشَدَّادٌ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Aswad and Shaddād ibn al-Azmaʿ narrated from Ibn Masʿūd رضي الله عنه: They differed, for Abū al-Aswad said: "ʿAbdullāh would say in his sujūd: > **"Glory be to You, O Allah; there is no Lord but You,"** while Shaddād said: "He would say: > **"Glory be to You; there is no god but You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسود اور شداد بن ازمع کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے راوی بیان کرتے ہیں : ان دونوں حضرات کا اختلاف ہوا ہے ابواسود کا یہ کہنا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سجدے میں یہ پڑھتے تھے ’’ تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! تیرے علاوہ اور کوئی رب نہیں ہے ‘‘۔ جب کہ شداد کہتے ہیں : وہ یہ پڑھا کرتے تھے ’’ تو ہر عیب سے پاک ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابواسود کی روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں جب کہ شداد کو ابن حبان نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

2785

Majma al-Zawaid #2785

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ فَيَقُولُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا غَفَرَ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ هَذَا وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمَا.

EnglishUnverified translation

Abū Mālik narrated from his father from the Prophet ﷺ that he ﷺ said: > **"There is no servant who prostrates and says: 'My Lord, forgive me,' three times, except that he is forgiven before he raises his head."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومالک نے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ جو بھی بندہ سجدے میں جا کے یہ پڑھتا ہے : ’’ اے میرے پروردگار ! تو میری مغفرت کر دے ‘‘۔ اگر وہ تین مرتبہ یہ پڑھ لے تو اس کے سر کو اٹھانے سے پہلے اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں محمد بن جابر کی حضرت ابومالک کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ‘ اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

2786

Majma al-Zawaid #2786

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ: احْمِلُوا حَوَائِجَكُمْ عَلَى الْمَكْتُوبَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَعَمْرٌو لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Dīnār narrated that Ibn Masʿūd رضي الله عنه used to say: > **"Place your needs upon the prescribed prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمروبن دینار بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرمایا کرتے تھے اپنی ضرورتوں کو فرض نمازوں پر لادا کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عمرو بن دینار نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2787

Majma al-Zawaid #2787

وَعَنْ أَبِي خَالِدٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فُلَانٌ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ رَاكِعٌ وَيَقْرَأُ وَهُوَ سَاجِدٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ رِجَالًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيهِمْ فَإِذَا دَخَلَ فِي الْقَلْبِ وَرَسَخَ فِيهِ نَفَعَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا خَالِدٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Khālid, a man from among the companions of ʿAbdullāh, narrated: "A man came to ʿAbdullāh and said: 'O Abā ʿAbd al-Raḥmān, so-and-so recites the Qurʾān while bowing and recites while prostrating.' So ʿAbdullāh said: > **"There are men who recite the Qurʾān and it does not pass beyond their collarbones; but when it enters the heart and becomes firmly rooted therein, it benefits."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوخالد جو حضرت عبداللہ کے شاگردوں میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت عبداللہ کے پاس آیا اور بولا : اے ابوعبدالرحمن فلاں شخص رکوع کی حالت میں قرآن پڑھتا ہے ‘ جب وہ سجدے کی حالت میں ہوتا ہے ‘ تو اس وقت بھی قرآن پڑھتا ہے ‘ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا کہ وہ ( حلق سے آگے جا کر ) دل میں داخل ہوتا اور اس میں پختہ ہو جاتا اور نفع دیتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں البتہ ابوخالد نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔

2788

Majma al-Zawaid #2788

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ «أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ جَمَعَ قَوْمَهُ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَشْعَرِيِّينَ اجْتَمِعُوا وَاجْمَعُوا نِسَاءَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ أُعَلِّمْكُمْ صَلَاةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاجْتَمَعُوا وَجَمَعُوا نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ وَأَرَاهُمْ كَيْفَ يَتَوَضَّأُ فَأَحْصَى الْوُضُوءَ أَمَاكِنَهُ حَتَّى لَمَّا أَنْ فَاءَ الْفَيْءُ وَانْكَسَرَ الظِّلُّ قَامَ فَأَذَّنَ وَصَفَّ الرِّجَالَ فِي أَدْنَى الصَّفِّ وَصَفَّ الْوِلْدَانَ خَلْفَهُمْ وَصَفَّ النِّسَاءَ خَلْفَ الْوِلْدَانِ ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ ; فَتَقَدَّمَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَكَبَّرَ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ يُسِرُّهُمَا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَاسْتَوَى قَائِمًا ثُمَّ كَبَّرَ وَخَرَّ سَاجِدًا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ فَانْتَهَضَ قَائِمًا فَكَانَ تَكْبِيرُهُ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ سِتَّ تَكْبِيرَاتٍ وَكَبَّرَ حِينَ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَى قَوْمِهِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: احْفَظُوا تَكْبِيرِي وَتَعَلَّمُوا رُكُوعِي وَسُجُودِي فَإِنَّهَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي كَانَ يُصَلِّي لَنَا كَذِي السَّاعَةِ مِنَ النَّهَارِ» - وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَتَأْتِي بَقِيَّتُهُ فِي الزُّهْدِ فِي الْمَحَبَّةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Ghanm narrated that Abū Mālik al-Ashʿarī رضي الله عنه gathered his people and said: "O company of Ashʿarīs, gather together, and gather your women and your children; I shall teach you the prayer of the Prophet ﷺ." So they gathered, and they gathered their women and their children, and he showed them how he performed ablution, accounting for the ablution in its places, until when the shade declined and the shadow broke, he stood and called the adhān. He arranged the men in the nearest row, arranged the boys behind them, and arranged the women behind the boys. Then he established the prayer, stepped forward, raised his hands, and said the takbīr. He recited the Fātiḥah of the Book and a sūrah, saying them quietly. Then he said the takbīr and bowed, saying three times: "Glory be to Allah and with His praise." Then he said: "Samiʿa Allāhu liman ḥamidah," and stood upright. Then he said the takbīr and fell prostrating. Then he said the takbīr and raised his head. Then he said the takbīr and prostrated. Then he said the takbīr and rose standing. His takbīr in the first rakʿah was six takbīrs, and he said the takbīr when he stood for the second rakʿah. When he finished his prayer, he turned to his people with his face and said: > **"Memorize my takbīr and learn my rukūʿ and my sujūd, for indeed it is the prayer of the Messenger of Allah ﷺ with which he used to pray for us at this hour of the day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں : حضرت ابومالک اشعری نے اپنی قوم کے افراد کو جمع کیا اور بولے اے اشعر قبیلے کے افراد تم لوگ اکھٹے ہو جاؤ اور اپنی خواتین اور اپنے بچوں کو بھی اکھٹا کر لو تاکہ میں تمہیں نبی اکرم ﷺ کے نماز کے طریقے کی تعلیم دوں وہ لوگ اکھٹے ہو گئے انہوں نے اپنی خواتین اور بچوں کو بھی اکھٹا کر لیا تو حضرت ابومالک اشعری نے انہیں کر کے دکھایا کہ نبی اکرم ﷺ کیسے وضو کرتے تھے انہوں نے وضو کے تمام اعضاء کا مکمل حساب رکھا یہاں تک کہ سایہ ڈھل گیا اور سایہ ٹوٹ گیا تو وہ کھڑے ہوئے انہوں نے اذان دی مردوں نے امام کے قریب ترین صف بنا لی پھر بچوں نے صف بنائی اور ان کے پیچھے خواتین نے صف بنائی جو بچوں کی صف کے پیچھے تھی پھر حضرت ابومالک اشعری نے نماز پڑھائی وہ آگے بڑھے انہوں نے دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہی اور سورہ فاتحہ پڑھی اور اس کے ساتھ ایک سورت پڑھی انہوں نے ان دونوں کو پست آواز میں پڑھا پھر انہوں نے تکبیر کہی اور رکوع میں چلے گئے اور «سبحان اللہ و بحمدہ» تین مرتبہ پڑھا پھر انہوں نے «سمع الله لمن حمدہ» پڑھا اور سیدھے کھڑے ہو گئے پھر انہوں نے تکبیر کہی اور سجدے میں چلے گئے پھر انہوں نے تکبیر کہی اور اپنے سر کو اٹھا لیا پھر تکبیر کہی اور سجدے میں چلے گئے پھر تکبیر کہی اور سیدھے کھڑے ہو گئے تو یوں ان کی پہلی رکعت میں چھ تکبیریں تھیں پھر جب وہ دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے تو انہوں نے اس وقت بھی تکبیر کہی جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو انہوں نے لوگوں کی طرف رُخ کیا اور بولے میرے تکبیر کہنے کو یاد رکھنا اور میرے رکوع اور سجود کے طریقے کا علم حاصل کر لو کیونکہ یہ نبی اکرم ﷺ کی نماز کا وہ طریقہ ہے ‘ جس طریقے کے مطابق آپ ہمیں دن کے وقت نماز پڑھایا کرتے تھے ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ اس روایت کا بقیہ حصہ محبت سے متعلق باب میں زہد سے متعلق بیان میں آئے گا اگر اللہ نے چاہا یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

2789

Majma al-Zawaid #2789

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: «فَصَلَّى الظُّهْرَ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَكَبَّرَ اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً».

EnglishUnverified translation

In a narration from him: "He prayed the Ẓuhr prayer, recited the Fātiḥah of the Book, and said twenty-two takbīrs."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : تو انہوں نے ظہر کی نماز ادا کی اور سورت فاتحہ کی تلاوت کی اور بائیس تکبیریں کہیں ۔

2790

Majma al-Zawaid #2790

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّهُ كَانَ يُسَوِّي بَيْنَ الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي الْقِرَاءَةِ وَالْقِيَامِ وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى هِيَ أَطْوَلَهُنَّ لِكَيْ يَثُوبَ النَّاسُ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَكَعَ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا نَهَضَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ إِذَا كَانَ جَالِسًا». رَوَاهَا كُلَّهَا أَحْمَدُ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهَا فِي الْكَبِيرِ فِي طُرُقِهَا كُلِّهَا شَهَرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَهُوَ ثِقَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

In another narration from him, from the Messenger of Allah ﷺ: He used to equalize the four rakʿahs in recitation and standing, and he would make the first rakʿah the longest of them so that the people might join; he would say the takbīr whenever he prostrated and whenever he bowed, and he would say the takbīr whenever he rose between the two rakʿahs after sitting.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : کہ نبی اکرم ﷺ چاروں رکعات میں قرآءت اور قیام ایک جتنا کرتے تھے تاہم آپ پہلی رکعت کو باقیوں کی بہ نسبت طویل ادا کرتے تھے تاکہ لوگوں کی تعداد زیادہ ہو جائے جب بھی آپ سجدے میں جاتے تھے ‘ اور جب بھی آپ رکوع میں جاتے تھے تو تکبیر کہتے تھے ‘ اور جب آپ دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھنے کے بعد اٹھتے تھے تو اس وقت بھی تکبیر کہتے تھے یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں امام طبرانی نے ان میں سے کچھ معجم کبیر میں نقل کی ہیں ان سب کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے جن کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اور وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے اگر اللہ نے چاہا ۔

2791

Majma al-Zawaid #2791

وَعَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ: «جَلَسْنَا إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى فَقَالَ: أَلَا أُرِيكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: فَقُلْنَا: بَلَى فَقَامَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ رَفَعَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ رَفَعَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ رَفَعَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ كَمَا صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn al-Qāsim narrated: "We sat with ʿAbd al-Raḥmān ibn Abzā رضي الله عنه, and he said: 'Shall I not show you the prayer of the Messenger of Allah ﷺ?' He said: 'So we said: Yes indeed.' Then he stood, said the takbīr, recited, then bowed, placing his hands upon his knees until every bone took its place. Then he rose until every bone took its place. Then he prostrated until every bone took its place. Then he raised until every bone took its place. Then he prostrated until every bone took its place. Then he rose and did in the second rakʿah as he had done in the first rakʿah. Then he said: > **"Such is the prayer of the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن قاسم بیان کرتے ہیں : ہم حضرت عبدالرحمن بن ابزی کے پاس بیٹھے تو انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں نبی اکرم ﷺ کی نماز ( ادا کر کے ) نہ دکھاؤں راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا جی ہاں ! تو وہ کھڑے ہوئے انہوں نے تکبیر کہی پھر انہوں نے قرآءت کی پھر وہ رکوع میں گئے تو انہوں نے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لئے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی پھر وہ اٹھے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی پھر وہ سجدے میں گئے ‘ یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی پھر انہوں نے سر اٹھایا یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی پھر وہ سجدے میں گئے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی پھر وہ اٹھے اور انہوں نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا پھر انہوں نے بتایا نبی اکرم ﷺ کی نماز اس طرح ہوتی تھی یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2792

Majma al-Zawaid #2792

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خَلِّلْ أَصَابِعَ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ "" - يَعْنِي إِسْبَاغَ الْوُضُوءِ وَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُ: "" إِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ - أَوْ يَطْمَئِنَّا - وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ» "". قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ التَّخْلِيلَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: "A man asked the Prophet ﷺ about something concerning the prayer, so the Messenger of Allah ﷺ said to him: > **"Interlace the fingers of your hands and your feet"—meaning the completion of ablution—and among what he said to him was: "When you bow, place your palms upon your knees until you are tranquil, and when you prostrate, press your forehead firmly to the ground until you feel the hardness of the ground."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے نماز سے متعلق کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کی انگلیوں کے درمیان خلال کرو راوی کہتے ہیں : یعنی اس سے مراد یہ ہے کہ اچھی طرح وضو کرو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو جو فرمایا تھا اس میں یہ بات بھی تھی کہ جب تم رکوع میں جاؤ تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو یہاں تک کہ تم اطمینان کی حالت میں آ جاؤ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) اور جب تم سجدے میں جاؤ تو اپنی پیشانی کو زمین پر جما کر رکھو یہاں تک کہ تمہیں زمین کی سختی محسوس ہو ‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت میں سے خلال کرنے والا حصہ نقل کیا ہے یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ‘ اور وہ ” ضعیف ‘‘ ہے ۔

2793

Majma al-Zawaid #2793

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه narrated: "The Prophet ﷺ used to say the takbīr whenever he lowered himself and whenever he rose."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہر مرتبہ جھکتے ہوئے اور اٹھتے ہوئے تکبیر کہتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2794

Majma al-Zawaid #2794

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ نَقَصَ التَّكْبِيرَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: نَقَصُوهَا نَقَصَهُمُ اللَّهُ، «لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ وَكُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَفَعَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ ثُوَيْرُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated: "The first to reduce the takbīr was al-Walīd ibn ʿUqbah." So ʿAbdullāh said: "They reduced it; may Allah reduce them. > **"I saw the Messenger of Allah ﷺ saying the takbīr whenever he bowed, whenever he prostrated, and whenever he rose."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سب سے پہلے تکبیر میں کمی ولید بن عقبہ نے کی تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان لوگوں نے کمی کی ہے اللہ تعالیٰ ان کو کمی نصیب کرے کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ہے کہ جب بھی آپ رکوع میں جاتے تھے جب بھی سجدے میں جاتے تھے جب بھی اٹھتے تھے تو ہر مرتبہ تکبیر کہتے تھے یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ثویر بن ابوفاختہ ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔