عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ «أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ جَمَعَ قَوْمَهُ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَشْعَرِيِّينَ اجْتَمِعُوا وَاجْمَعُوا نِسَاءَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ أُعَلِّمْكُمْ صَلَاةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاجْتَمَعُوا وَجَمَعُوا نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ وَأَرَاهُمْ كَيْفَ يَتَوَضَّأُ فَأَحْصَى الْوُضُوءَ أَمَاكِنَهُ حَتَّى لَمَّا أَنْ فَاءَ الْفَيْءُ وَانْكَسَرَ الظِّلُّ قَامَ فَأَذَّنَ وَصَفَّ الرِّجَالَ فِي أَدْنَى الصَّفِّ وَصَفَّ الْوِلْدَانَ خَلْفَهُمْ وَصَفَّ النِّسَاءَ خَلْفَ الْوِلْدَانِ ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ ; فَتَقَدَّمَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَكَبَّرَ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ يُسِرُّهُمَا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَاسْتَوَى قَائِمًا ثُمَّ كَبَّرَ وَخَرَّ سَاجِدًا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ فَانْتَهَضَ قَائِمًا فَكَانَ تَكْبِيرُهُ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ سِتَّ تَكْبِيرَاتٍ وَكَبَّرَ حِينَ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَى قَوْمِهِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: احْفَظُوا تَكْبِيرِي وَتَعَلَّمُوا رُكُوعِي وَسُجُودِي فَإِنَّهَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي كَانَ يُصَلِّي لَنَا كَذِي السَّاعَةِ مِنَ النَّهَارِ» - وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَتَأْتِي بَقِيَّتُهُ فِي الزُّهْدِ فِي الْمَحَبَّةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
EnglishUnverified translation
ʿAbd al-Raḥmān ibn Ghanm narrated that Abū Mālik al-Ashʿarī رضي الله عنه gathered his people and said: "O company of Ashʿarīs, gather together, and gather your women and your children; I shall teach you the prayer of the Prophet ﷺ." So they gathered, and they gathered their women and their children, and he showed them how he performed ablution, accounting for the ablution in its places, until when the shade declined and the shadow broke, he stood and called the adhān. He arranged the men in the nearest row, arranged the boys behind them, and arranged the women behind the boys. Then he established the prayer, stepped forward, raised his hands, and said the takbīr. He recited the Fātiḥah of the Book and a sūrah, saying them quietly. Then he said the takbīr and bowed, saying three times: "Glory be to Allah and with His praise." Then he said: "Samiʿa Allāhu liman ḥamidah," and stood upright. Then he said the takbīr and fell prostrating. Then he said the takbīr and raised his head. Then he said the takbīr and prostrated. Then he said the takbīr and rose standing. His takbīr in the first rakʿah was six takbīrs, and he said the takbīr when he stood for the second rakʿah. When he finished his prayer, he turned to his people with his face and said: > **"Memorize my takbīr and learn my rukūʿ and my sujūd, for indeed it is the prayer of the Messenger of Allah ﷺ with which he used to pray for us at this hour of the day."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں : حضرت ابومالک اشعری نے اپنی قوم کے افراد کو جمع کیا اور بولے اے اشعر قبیلے کے افراد تم لوگ اکھٹے ہو جاؤ اور اپنی خواتین اور اپنے بچوں کو بھی اکھٹا کر لو تاکہ میں تمہیں نبی اکرم ﷺ کے نماز کے طریقے کی تعلیم دوں وہ لوگ اکھٹے ہو گئے انہوں نے اپنی خواتین اور بچوں کو بھی اکھٹا کر لیا تو حضرت ابومالک اشعری نے انہیں کر کے دکھایا کہ نبی اکرم ﷺ کیسے وضو کرتے تھے انہوں نے وضو کے تمام اعضاء کا مکمل حساب رکھا یہاں تک کہ سایہ ڈھل گیا اور سایہ ٹوٹ گیا تو وہ کھڑے ہوئے انہوں نے اذان دی مردوں نے امام کے قریب ترین صف بنا لی پھر بچوں نے صف بنائی اور ان کے پیچھے خواتین نے صف بنائی جو بچوں کی صف کے پیچھے تھی پھر حضرت ابومالک اشعری نے نماز پڑھائی وہ آگے بڑھے انہوں نے دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہی اور سورہ فاتحہ پڑھی اور اس کے ساتھ ایک سورت پڑھی انہوں نے ان دونوں کو پست آواز میں پڑھا پھر انہوں نے تکبیر کہی اور رکوع میں چلے گئے اور «سبحان اللہ و بحمدہ» تین مرتبہ پڑھا پھر انہوں نے «سمع الله لمن حمدہ» پڑھا اور سیدھے کھڑے ہو گئے پھر انہوں نے تکبیر کہی اور سجدے میں چلے گئے پھر انہوں نے تکبیر کہی اور اپنے سر کو اٹھا لیا پھر تکبیر کہی اور سجدے میں چلے گئے پھر تکبیر کہی اور سیدھے کھڑے ہو گئے تو یوں ان کی پہلی رکعت میں چھ تکبیریں تھیں پھر جب وہ دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے تو انہوں نے اس وقت بھی تکبیر کہی جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو انہوں نے لوگوں کی طرف رُخ کیا اور بولے میرے تکبیر کہنے کو یاد رکھنا اور میرے رکوع اور سجود کے طریقے کا علم حاصل کر لو کیونکہ یہ نبی اکرم ﷺ کی نماز کا وہ طریقہ ہے ‘ جس طریقے کے مطابق آپ ہمیں دن کے وقت نماز پڑھایا کرتے تھے ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ اس روایت کا بقیہ حصہ محبت سے متعلق باب میں زہد سے متعلق بیان میں آئے گا اگر اللہ نے چاہا یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔