وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ «أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ أَزْوَاجِهِ وَعَائِشَةُ، عِنْدَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ قَالَ: "" وَعَلَيْكُمْ ""، فَجَلَسُوا فَتَحَدَّثُوا وَقَدْ فَهِمَتْ عَائِشَةُ تَحِيَّتَهُمُ الَّتِي حَيَّوْا بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَجْمَعَتْ غَضَبًا وَتَبَصَّرَتْ فَلَمْ تَمْلِكْ غَيْظَهَا فَقَالَتْ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَغَضَبُ اللَّهِ وَلَعْنَتُهُ بِهَذَا تُحَيُّونَ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ خَرَجُوا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا قُلْتِ؟ "" قَالَتْ: أَوَ لَمَ تَسْمَعْ كَيْفَ حَيَّوْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ وَاللَّهِ مَا مَلَكْتُ نَفْسِي حِينَ سَمِعْتُ تَحِيَّتَهُمْ إِيَّاكَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا جَرَمَ كَيْفَ رَأَيْتِ رَدَدْتِ عَلَيْهِمْ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ سَئِمُوا دِينَهُمْ وَهُمْ قَوْمُ حَسَدٍ، وَلَمْ يَحْسُدُوا الْمُسْلِمِينَ عَلَى أَفْضَلِ مِنْ ثَلَاثٍ: رَدُّ السَّلَامِ، وَإِقَامَةُ الصُّفُوفِ، وَقَوْلُهُمْ خَلْفَ إِمَامِهِمْ فِي الْمَكْتُوبَةِ: آمِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
EnglishUnverified translation
Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه narrated that the Prophet of Allah ﷺ was sitting in the house of one of his wives, with ʿĀʾishah beside him, when a group of Jews entered upon him and said: Death be upon you, O Muḥammad. He said: > **"And upon you."** They sat and conversed, and ʿĀʾishah had understood the greeting with which they had greeted the Prophet ﷺ, so she gathered her anger and watched, and she could not restrain her rage, so she said: Rather, death be upon you, along with the anger of Allah and His curse; is this how you greet the Prophet of Allah ﷺ? Then they left, so the Prophet ﷺ said to her: > **"What carried you to say what you said?"** She said: Did you not hear how they greeted you, O Messenger of Allah? By Allah, I could not control myself when I heard their greeting to you. So the Prophet ﷺ said: > **"There is no harm; did you not see how I answered them? Indeed, the Jews are a people weary of their religion, and they are a people of envy, and they have not envied the Muslims for anything better than three things: returning the salām, establishing the rows, and their saying Amīn behind their imām in the prescribed prayer."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنی ازواج میں سے کسی ایک کے گھر میں موجود تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں کچھ یہودی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا : اے حضرت محمد ﷺ آپ کو موت آئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں بھی آئے وہ لوگ بیٹھ گئے اور بات چیت کرنے لگے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے سلام کرنے کے طریقے کی سمجھ آ گئی جن الفاظ کے ذریعے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو شدید غصہ آیا وہ دیکھتی رہیں پھر انہیں اپنے اوپر قابو نہیں رہا تو انہوں نے کہا بلکہ تم لوگوں کو موت آئے اللہ کا غضب اور اس کی لعنت تم پر ہو تم لوگ اس طریقے سے اللہ کے نبی کو سلام کرتے ہو پھر وہ لوگ وہاں سے چلے گئے تو نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم نے جو کچھ کہا تھا وہ کیوں کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : کیا آپ نے سنا نہیں کہ انہوں نے کس طریقے سے آپ کو سلام کیا تھا ۔ اللہ کی قسم ! جب میں نے ان کے اس سلام کو سنا تو میں خود پر قابو نہیں رکھ سکی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کوئی مسئلہ نہیں ہے تم نے دیکھا نہیں کہ میں نے انہیں کیسے جواب دیا تھا : یہودی ایسے لوگ ہیں جو اپنے دین سے اکتاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں ‘ اور یہ حسد کرنے والے لوگ ہیں یہ تین چیزوں سے زیادہ اور کسی چیز کے حوالے سے مسلمانوں کے ساتھ حسد نہیں رکھتے سلام کا جواب دینا صفیں قائم کرنا اور ان لوگوں ( یعنی مسلمانوں ) کا فرض نماز میں امام کے پیچھے آمین کہنا یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔