وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: «وَقَعَ إِلَيَّ كِتَابٌ فِيهِ اسْتِفْتَاحُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا كَبَّرَ قَالَ: "" إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ لَا مَنْجَا وَلَا مَلْجَأَ مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ "" - ثُمَّ يَقْرَأُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
EnglishUnverified translation
Abū Rāfiʿ رضي الله عنه said: A writing reached me containing the opening [supplication] of the Messenger of Allah ﷺ. When he pronounced the takbīr he would say: > **"Indeed I have turned my face toward the One Who originated the heavens and the earth, upright, and I am not among the polytheists. Indeed my prayer and my sacrifice and my living and my dying are for Allah, Lord of the worlds, Who has no partner, and with that I have been commanded, and I am among the Muslims. O Allah, You are the Sovereign, there is no god but You, glory be to You and praise be to You. You are my Lord and I am Your servant, You have no partner. I have wronged myself and I confess my sin, so forgive me all my sins, for none forgives sins but You. At Your service and aided by Your felicity, and all good is in Your Hands. There is no refuge nor escape from You except to You. I seek Your forgiveness and I repent to You."** Then he would recite.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے ایک تحریر ملی جس میں یہ ذکر تھا کہ نبی اکرم ﷺ جب تکبیر کہتے تھے تو نماز کے آغاز میں آپ کیا پڑھتے تھے ؟ آپ یہ پڑھتے تھے : ’’ بے شک میں نے سیدھے راستے پر گامزن رہتے ہوئے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا ہے ‘ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ‘ اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں بے شک میری نماز میری قربانی میری زندگی ‘ اور میری موت اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں ہے مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے ‘ اور میں مسلمانوں میں سے ایک ہوں اے اللہ ! تو بادشاہ ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ تو ہر عیب سے پاک ہے حمد تیرے لئے مخصوص ہے ‘ تو میرا پروردگار ہے میں تیرا بندہ ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت کر دے کیونکہ گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کرتا ہے میں حاضر ہوں سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ہر قسم کی بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے تیرے مقابلے میں جائے نجات اور جائے پناہ صرف تو ہے میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ‘ اور تیری بارگاہ میں توبہ مغفرت طلب کرتا ہوں “۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس کے بعد نبی اکرم ﷺ تلاوت کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ لیکن تدلیس کرنے والا ہے ‘ اس نے یہ روایت عنعنہ کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔