وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَؤُمُّ قَوْمَهُ فَدَخَلَ حَرَامٌ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَ نَخْلَةً، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِيُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا رَأَى مُعَاذًا طَوَّلَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ، فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ الصَّلَاةَ قِيلَ لَهُ: إِنَّ حَرَامًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَآكَ طَوَّلْتَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ، أَفَعَجِلَ عَنْ صَلَاتِهِ مِنْ أَجْلِ سَقْيِ نَخْلَةٍ! قَالَ: فَجَاءَ حَرَامٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَاذٌ عِنْدَهُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَسْقِيَ نَخْلًا لِي فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ لِأُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ فَلَمَّا طَوَّلَ تَجَوَّزْتُ وَلَحِقْتُ بِنَخْلِي أَسْقِيهِ فَزَعَمَ أَنِّي مُنَافِقٌ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ: "" أَفَتَّانٌ أَنْتَ، أَنْتَ لَا تُطَوِّلْ بِهِمُ، اقْرَأْ بِسَبِّحِّ اسْمَ رَبِّكَ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهِمَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Anas ibn Mālik رضي الله عنه said: "Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه used to lead his people in prayer, when Ḥarām entered while intending to water his palm trees. He entered the mosque to pray with the people, but when he saw Muʿādh prolonging, he shortened his own prayer and caught up with his palms to water them. When Muʿādh finished the prayer, it was said to him that Ḥarām had entered the mosque and, seeing him prolong, had shortened his prayer and gone to water his palms. He said: 'He is a hypocrite! Did he hasten away from his prayer for the sake of watering palms!' Ḥarām then came to the Prophet ﷺ, with Muʿādh in his presence, and said: 'O Prophet of Allah, I intended to water my palms, so I entered the mosque to pray with the people, but when he prolonged, I shortened and caught up with my palms to water them, yet he claims I am a hypocrite.' The Prophet ﷺ turned to Muʿādh and said:" > **"Are you a trial, are you? Do not prolong for them. Recite 'Glorify the Name of your Lord' [al-Aʿlā], 'By the sun and its brightness' [al-Shams], and the like of them."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے افراد کی امامت کر رہے تھے اسی دوران حرام نامی ایک صاحب مسجد میں داخل ہوئے ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اپنی کھجوروں کو پانی دیں گے وہ مسجد میں داخل ہوئے تاکہ لوگوں کے ساتھ نماز ادا کر لیں جب انہوں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نماز کو طول دے رہے ہیں تو انہوں نے مختصر نماز ادا کی اور اپنی کھجوروں کو پانی دینے چلے گئے جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو انہیں یہ بتایا گیا کہ حضرت حرام رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے تھے جب انہوں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے نماز کو طول دیا ہے ‘ تو انہوں نے مختصر نماز ادا کی اور اپنے کھجوروں کے باغ میں پانی دینے چلے گئے تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا وہ منافق ہے کیا اس نے کھجوروں کو پانی دینے کی خاطر نماز میں جلدی کی تھی ؟ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت حرام رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ۔ حضرت حرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اپنے کھجوروں کے باغ کو پانی دوں گا میں مسجد میں داخل ہوا تاکہ لوگوں کے ساتھ نماز ادا کر لوں جب انہوں نے نماز کو طول دیا تو میں نے مختصر نماز ادا کی اور اپنے کھجوروں کے باغ میں چلا گیا تاکہ وہاں پانی دوں ان کا یہ کہنا ہے کہ میں منافق ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیا تم آزمائش کا شکار کرتے ہو ؟ تم ان کو نماز پڑھاتے ہوئے طویل نماز نہ پڑھاؤ تم سورہ الاعلیٰ سورہ والشمس اور اس جیسی دیگر سورتوں کی تلاوت کیا کرو ! یہ روایت امام احمد اور امام بزرا نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔