Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 4 · Chapter 2

Book of Prayer

Hadith 1635–1674

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1635

Majma al-Zawaid #1635

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: "" «مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said to him: > **"Whoever abandons the prayer deliberately, the covenant of Allah, Mighty and Majestic, is disowned from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ جو شخص جان بوجھ کر نماز ترک کر دیتا ہے ‘ اُس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ‘ وہ تدلیس کرنے والا ہے ‘ اور یہ روایت بھی اس نے عنعنہ کے ساتھ نقل کی ہے ۔

1636

Majma al-Zawaid #1636

وَعَنِ الْمُسَوَّرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ مُسَجًّى فَقُلْتُ: كَيْفَ تَرَوْنَهُ؟ قَالُوا: كَمَا تَرَى. قُلْتُ: أَيْقِظُوهُ بِالصَّلَاةِ ; فَإِنَّكُمْ لَنْ تُوقِظُوهُ لِشَيْءٍ أَفْزَعَ لَهُ مِنَ الصَّلَاةِ. فَقَالُوا: الصَّلَاةَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: هَا اللَّهِ إِذًا! وَلَا حَقَّ فِي الْإِسْلَامِ لِمَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى وَإِنَّ جُرْحَهُ لِيَثْعَبُ دَمًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Miswar ibn Makhramah رضي الله عنه reported: I entered upon ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه while he was covered with a sheet, and I asked, "How do you find him?" They said, "As you see." I said, "Awaken him with the prayer, for you will never awaken him with anything more alarming to him than the prayer." They said, "The prayer, O Commander of the Faithful!" He said: > **"Yes, by Allah, indeed! And there is no share in Islam for whoever abandons the prayer."** He then prayed while his wound was gushing with blood.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اُس وقت انہیں ڈھانپ دیا گیا تھا ‘ میں نے دریافت کیا : تم لوگوں نے انہیں کس حالت میں پایا ہے ؟ لوگوں نے کہا : جیسے آپ دیکھ رہے ہیں ، میں نے کہا : تم انہیں نماز کے حوالے سے جگاؤ ! کیونکہ تم انہیں ‘ اور کسی ایسی چیز کے حوالے سے نہیں جگا سکتے ‘ جو ان کے نزدیک نماز سے زیادہ اہم ہو ‘ تو لوگوں نے کہا : اے امیر المؤمنین ! نماز کا وقت ہو گیا ہے ‘ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! جی ہاں ! ایسے شخص کا اسلام میں کوئی حق نہیں ہے ‘ جو نماز کو ترک کر دیتا ہے ‘ پھر انہوں نے نماز ادا کی ‘ حالانکہ اُن کے زخم سے خون بہہ رہا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

1637

Majma al-Zawaid #1637

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ لَمْ يُصَلِّ فَلَا دِينَ لَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"Whoever does not pray has no religion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص نماز ادا نہیں کرتا ، اُس کا دین نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم ضرار بن صرد ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1638

Majma al-Zawaid #1638

وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ كَفَرَ. وَالْقَاسِمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Qāsim ibn ʿAbd al-Raḥmān reported that ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"Whoever abandons the prayer has disbelieved."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن عبدالرحمن نے ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے : جو شخص نماز ترک کر دے ‘ وہ کفر کا مرتکب ہوتا ہے ۔ قاسم نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

1639

Majma al-Zawaid #1639

وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever abandons the prayer deliberately, his deeds are rendered null and void."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر نماز ترک کر دے ‘ اُس کا عمل ضائع ہو گیا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

1640

Majma al-Zawaid #1640

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي ذِمَّتِهِ ; فَإِنَّهُ مَنْ أَخَفَرَ ذِمَّتَهُ طَلَبَهُ اللَّهُ - تَبَارَكَ - حَتَّى يَكُبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ حَسَّنَ لَهُ بَعْضُهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever performs the Ṣubḥ prayer is under the protection of Allah, Blessed and Exalted. So do not violate Allah's covenant of protection, for whoever violates His protection, Allah will pursue him until He flings him down upon his face."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص صبح کی نماز ادا کر لیتا ہے ‘ تو وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے ‘ تو تم اللہ تعالی کی پناہ کی خلاف ورزی نہ کرو ‘ کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ کی خلاف ورزی کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ اُس سے حساب لے گا ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے چہرے کے بل اوندھا کر دے گا “۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ، بعض نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔

1641

Majma al-Zawaid #1641

وَلِابْنِ عُمَرَ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ: أَنَّ الْحَجَّاجَ أَمَرَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بِقَتْلِ رَجُلٍ، فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ: أَصْلَيْتَ الصُّبْحَ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: نَعَمْ، فَقَالَ: انْطَلِقْ، فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: مَا مَنَعَكَ مِنْ قَتْلِهِ؟ فَقَالَ سَالِمٌ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ كَانَ فِي جِوَارِ اللَّهِ يَوْمَهُ» ""، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَ رَجُلًا قَدْ أَجَارَهُ اللَّهُ. فَقَالَ الْحَجَّاجُ لِابْنِ عُمَرَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: نَعَمْ. وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَانِيِّ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَلَهُ طَرِيقٌ أَطْوَلُ مِنْ هَذِهِ تَأْتِي فِي الْفِتَنِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported: Al-Ḥajjāj ordered Sālim ibn ʿAbdillāh to execute a man. Sālim asked the man, "Did you perform the Ṣubḥ prayer?" The man replied, "Yes." Sālim said to him, "Depart." Al-Ḥajjāj asked him, "What prevented you from killing him?" Sālim replied, "My father narrated to me that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **'Whoever performs the Ṣubḥ prayer is under the protection of Allah for that day.'** And I disliked to kill a man whom Allah has granted protection." Al-Ḥajjāj said to Ibn ʿUmar, "Did you hear this from the Messenger of Allah ﷺ?" Ibn ʿUmar replied, "Yes."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے ‘ معجم کبیر اور معجم اوسط میں ‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : حجاج نے ‘ سالم بن عبداللہ کو ایک شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا ‘ تو سالم نے اس شخص سے دریافت کیا : تم نے صبح کی نماز ادا کی ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سالم نے کہا : تم چلے جاؤ ! حجاج نے ان سے دریافت کیا : تم نے اسے قتل کیوں نہیں کیا ؟ تو سالم نے بتایا : میرے والد ( یعنی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کر لیتا ہے ‘ وہ دن بھر کے لئے اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے “۔ تو سالم نے کہا : میں نے اس بات کو ناپسند کیا ‘ کہ میں ایک ایسے شخص کو قتل کر دوں ‘ جسے اللہ تعالی پناہ دے چکا ہو ‘ حجاج نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں !! اس روایت کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ‘ جسے امام احمد نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ یحیی بن معین نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ، اس روایت کی ایک اور سند بھی ہے ‘ جو اس سے زیادہ طویل ہے ‘ اور وہ فتنوں سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔

1642

Majma al-Zawaid #1642

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «لَمَّا أُصِيبَ عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ فِي بَصَرِهِ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي وَتَدْعُوَ لَنَا بِالْبَرَكَةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَتَحَدَّثُوا بَيْنَهُمْ، فَذَكَرُوا مَالِكَ بْنَ الدُّخْشُمِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَاكَ كَهْفُ الْمُنَافِقِينَ وَمَأْوَاهُمْ، فَأَكْثَرُوا فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَوْلَيْسَ يُصَلِّي؟ "" قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَاةٌ لَا خَيْرَ فِيهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ "" - مَرَّتَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَامِرُ بْنُ يَسَافٍ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported: When ʿItbān ibn Mālik رضي الله عنه suffered loss of his sight, he sent a message to the Messenger of Allah ﷺ saying, "I would love for you to come and pray in my home and supplicate for blessing for us." The Messenger of Allah ﷺ set out with a group of his Companions and entered upon him. They sat talking among themselves and mentioned Mālik ibn al-Dukhshum. A man said, "O Messenger of Allah, that man is a refuge and shelter for the hypocrites!" They spoke much against him, so the Messenger of Allah ﷺ said, "Does he not pray?" They said, "Yes, O Messenger of Allah, but a prayer in which there is no good." The Messenger of Allah ﷺ said twice: > **"I have been forbidden from killing those who pray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی بینائی کمزور ہو گئی ، تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پیغام بھیجا ‘ مجھے یہ بات پسند ہے کہ آپ میرے ہاں تشریف لائیں ‘ اور میرے گھر میں نماز ادا کریں ‘ اور میرے لئے برکت کی دعا کریں ‘ تو نبی اکرم ﷺ اپنے کچھ اصحاب سمیت تشریف لے گئے ، آپ ان کے ہاں گئے ‘ وہ لوگ آپس میں بات چیت کرتے رہے ‘ ان لوگوں نے مالک بن دخشم کا ذکر کیا ، تو ایک شخص بولا : یا رسول اللہ ! وہ منافقین کی پناہ گاہ اور ان کا ٹھکانہ ہے ‘ ان لوگوں کا اس کے ساتھ بڑا تعلق ہے تو نبی اکرم ﷺ سلام نے ارشاد فرمایا : کیا وہ نماز ادا نہیں کرتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! وہ ایسی نماز ادا کرتا ہے ، جس میں کوئی بھلائی نہیں ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ‘ یہ بات آپ ﷺ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عامر بن یساف ہے ‘ اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

1643

Majma al-Zawaid #1643

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ». وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ ضَرْبِ الْمُصَلِّينَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" عَنْ ضَرْبِ ""، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه said: > **"The Messenger of Allah ﷺ forbade the killing of those who pray."** And in another narration: > **"He forbade striking those who pray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نمازیوں کو مارنے سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” مارنے سے “ اس روایت کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

1644

Majma al-Zawaid #1644

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ فَأُصِيبَتْ ذِمَّتُهُ فَقَدِ اسْتُبِيحَ حِمَى اللَّهِ وَأُخْفِرَتْ ذِمَّتُهُ، وَأَنَا طَالِبٌ بِذِمَّتِهِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever performs the morning prayer and his covenant of protection is violated, then the sanctuary of Allah has been breached and His protection infringed upon, and I shall demand restitution on behalf of His covenant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص صبح کی نماز ادا کر لے ‘ اور پھر اس کی پناہ کو نقصان پہنچایا جائے ‘ تو اب اللہ تعالیٰ کی چراہ گاہ کو مباح قرار دیا گیا ہے ‘ اور اس کی پناہ کی خلاف ورزی کی گئی ‘ تو میں اُس کی پناہ کے حوالے سے حساب لوں گا “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ اسے ’’ ثقہ ‘‘ بھی قرار دیا گیا ہے ۔

1645

Majma al-Zawaid #1645

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ، فَإِيَّاكُمْ أَنْ يَطْلُبَكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنْ ذِمَّتِهِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُرِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever performs the morning prayer is under the protection of Allah, so beware lest Allah demand from you anything concerning His protection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص صبح کی نماز ادا کر لیتا ہے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں ہوتا ہے ‘ تو تم لوگ اس چیز سے بچنے کی کوشش کرنا ‘ کہ اللہ تعالیٰ اپنی پناہ کے حوالے سے ‘ تم سے کسی بارے میں حساب لے “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ ‘ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن بشیر مری ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1646

Majma al-Zawaid #1646

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ، فَمَنْ أَخَفَرَ ذِمَّةَ اللَّهِ كَبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ لِوَجْهِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever performs the Ṣubḥ prayer in congregation is under the protection of Allah. So whoever violates the protection of Allah, Allah will fling him on his face into the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص صبح کی نماز با جماعت ادا کر لے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں ہوتا ہے ‘ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ کی خلاف ورزی کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اُسے اوندھا کر کے چہرے کے بل جہنم میں ڈالے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

1647

Majma al-Zawaid #1647

وَلِأَبِي بَكْرَةَ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ. يَابْنَ آدَمَ لَا يَطْلُبْنَكَ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنْ ذِمَّتِهِ» "". وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever performs the morning prayer is under the protection of Allah. O son of Adam, let not Allah seek you out for anything concerning His protection!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ‘ معجم کبیر ہی میں ‘ یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص صبح کی نماز ادا کر لے ‘ وہ اللہ تعالی کی پناہ میں ہوتا ہے ‘ تو اے آدم کی اولاد ! اللہ تعالیٰ اپنی پناہ کے حوالے سے ‘ تم سے حساب نہ لے ‘‘ اس کی سند میں کلام کی گنجائش ہے ۔

1648

Majma al-Zawaid #1648

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ يَمَانٍ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Mālik al-Ashjaʿī reported from his father رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever performs the Ṣubḥ prayer is under the protection of Allah, and his reckoning rests upon Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو مالک اشجعی ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص صبح کی نماز ادا کر لیتا ہے ‘ وہ اللہ تعالی کی پناہ میں ہوتا ہے ‘ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن یمان ہے ‘ جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ‘ صحیح کے رجال ہیں ۔

1649

Majma al-Zawaid #1649

وَعَنِ الْحَارِثِ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ: «جَلَسَ عُثْمَانُ يَوْمًا وَجَلَسْنَا مَعَهُ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ فَدَعَا بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ - أَظُنُّهُ يَكُونُ فِيهِ مُدٌّ - فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ: "" مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ - غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصُّبْحِ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الظُّهْرِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ صَلَّى الْعَشَاءَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيَّنَهَا وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ لَعَلَّهُ يَبِيتُ يَتَمَرَّغُ لَيْلَتَهُ، ثُمَّ إِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الصُّبْحَ - غُفِرَ لَهُ مَا بَيَّنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَهُنَّ الْحَسَنَاتُ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ "". قَالُوا: هَذِهِ الْحَسَنَاتُ، فَمَا الْبَاقِيَاتُ يَا عُثْمَانُ؟ قَالَ: هُنَّ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَارِثِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥārith, the freed slave of ʿUthmān, reported: ʿUthmān ibn ʿAffān رضي الله عنه was seated one day and we were seated with him. The muezzin arrived, so ʿUthmān called for water in a vessel—I reckon it contained a mudd—and performed ablution. He then said: I saw the Messenger of Allah ﷺ perform ablution like this ablution of mine, after which he said: > **"Whoever performs ablution like this ablution of mine, then stands and performs the Zuhr prayer, whatever occurred between it and the Ṣubḥ prayer will be forgiven for him. Then, when he performs ʿAṣr, whatever occurred between it and the Zuhr prayer will be forgiven for him. Then, when he performs Maghrib, whatever occurred between it and the ʿAṣr prayer will be forgiven for him. Then, when he performs ʿIshāʾ, whatever occurred between it and the Maghrib prayer will be forgiven for him. Thereafter, he might spend his night tossing and turning; then if he stands, performs ablution, and prays the Ṣubḥ prayer, whatever occurred between it and the ʿIshāʾ prayer will be forgiven for him. And these are the good deeds that eliminate evil deeds."** They said, "These are the good deeds; so what are the enduring righteous deeds (al-Bāqiyāt al-Ṣāliḥāt), O ʿUthmān?" He replied: "They are: *Lā ilāha illā Allāh* (there is no deity worthy of worship except Allah), *Subḥānallāh* (Glory be to Allah), *Al-ḥamdu lillāh* (All praise is due to Allah), *Allāhu akbar* (Allah is the Greatest), and *Lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh* (There is no power and no strength except with Allah)."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارث ‘ جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : ایک دن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے ‘ ہم بھی ان کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے ‘ اس دوران مؤذن آیا ‘ تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے پانی کا برتن منگوایا ‘ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : اس برتن میں ایک ’’ مد ‘‘ پانی تھا ، انہوں نے وضو کیا ، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے اس وضو کی طرح ‘ وضو کرتے ہوئے دیکھا ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے ‘ اور پھر کھڑا ہو کر ‘ ظہر کی نماز ادا کرے ‘ تو اس شخص کے صبح کی نماز سے لے کے ظہر تک کے ‘ درمیان کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘ پھر جب وہ عصر کی نماز ادا کر لے ‘ تو اس شخص کے ظہر سے لے کر عصر تک کے درمیانی گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘ پھر جب وہ مغرب کی نماز ادا کر لے ‘ تو اس کے عصر سے لے کر مغرب تک کے درمیانی گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘ پھر جب وہ عشاء کی نماز ادا کر لے ‘ تو اس کے مغرب سے لے کر عشاء تک کے درمیانی گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘ اور پھر وہ ایسی حالت میں رات بسر کرتا ہے کہ لوٹ پوٹ ہوتا ہے ، پھر اگر وہ کھڑا ہو کر وضو کر کے صبح کی نماز ادا کرتا ہے ‘ تو اس شخص کے عشاء کی نماز سے لے کر صبح تک کے درمیانی گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘ یہ وہ ’’ حسنات ‘‘ ( یعنی نیکیاں ) ہیں ، جو گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں “۔ لوگوں نے عرض کی : اے حضرت عثمان ! یہ ’’ حسنات ‘‘ ہیں ‘ تو ’’ باقیات ‘‘ سے کیا مراد ہو گی ؟ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ یہ کلمات ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ‘ ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ‘ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف حارث بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا غلام ہے ‘ ویسے وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ۔

1650

Majma al-Zawaid #1650

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُونَ: «كَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَفْضَلَ مِنَ الْآخَرِ، فَتُوُفِّيَ الَّذِي هُوَ أَفْضَلُهُمْ وَعُمِّرَ الْآخَرُ بَعْدَهُ ثُمَّ تُوُفِّيَ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضْلُ الْأَوَّلِ عَلَى الْآخَرِ فَقَالَ: "" أَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي؟ "" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَا يُدْرِيكَ مَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ؟ ""، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: "" إِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَاةِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ بِبَابِ رَجُلٍ غَمْرٍ عَذْبٍ، يَقْتَحِمُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، فَمَاذَا تَرَوْنَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ؟» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ عُمِّرَ الْآخَرُ بَعْدَهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀmir ibn Saʿd ibn Abī Waqqāṣ reported: I heard Saʿd and several people among the Companions of the Prophet ﷺ say: There were two brothers during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ, and one of them was regarded as more virtuous than the other. The more virtuous one passed away first, and the other brother lived after him for forty nights and then died. The virtue of the first brother over the other was mentioned to the Messenger of Allah ﷺ, so he said, "Did he not use to pray?" They said, "Indeed he did, O Messenger of Allah." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"What makes you realize what his prayer has earned him? The parable of the prayer is only like that of an abundant, sweet running river at a man's door, into which he plunges five times every day. What do you see remaining of his dirt?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو ‘ اور نبی اکرم ﷺ کے کچھ اصحاب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں دو افراد تھے ‘ وہ دونوں بھائی تھے ‘ اُن میں سے ایک دوسرے سے فضیلت رکھتا تھا ، اس شخص کا انتقال ہو گیا ، جو فضیلت رکھتا تھا ، اس کے انتقال کے بعد اس کے دوسرے بھائی کو مزید کچھ زندگی نصیب ہوئی ، پھر اُس کا بھی انتقال ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ کے سامنے پہلے بھائی کی دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا وہ ( یعنی جو بھائی بعد میں فوت ہوا ہے ) وہ بعد میں نماز ادا نہیں کرتا تھا ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تمہیں کیا پتہ ؟ کہ اس کی نماز نے اسے کہاں تک پہنچا دیا ہے ؟‘‘ پھر اس وقت نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ نماز کی مثال ‘ اس نہر کی مانند ہے ‘ جو کسی شخص کے دروازے کے پاس سے گزرتی ہے ‘ وہ میٹھے اور صاف پانی کی نہر ہوتی ہے ‘ وہ شخص اُس میں پانچ مرتبہ ڈبکی لگاتا ہے ‘ تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اس کا میل باقی رہ گیا ہو گا ؟“ ۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ اُس کے بعد ‘ دوسرے بھائی کو ‘ چالیس دن تک مزید زندگی ملی ‘‘۔ امام احمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

1651

Majma al-Zawaid #1651

وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَأَخَذَ غُصْنًا مِنْهَا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا عُثْمَانَ، أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَذَا؟ قُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُهُ؟ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا مَعَهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ، وَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ، فَقَالَ: "" يَا سَلْمَانُ، أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَذَا؟ "" قُلْتُ "" وَلِمَ تَفْعَلُهُ؟ قَالَ: "" إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ - تَحَاتَّتْ خَطَايَاهُ كَمَا يَتَحَاتُّ هَذَا الْوَرَقُ ""، وَقَالَ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} [هود: 114]». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ. وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿUthmān al-Nahdī reported: I was with Salmān al-Fārisī رضي الله عنه under a tree. He took hold of a dry branch from it and shook it until its leaves fell away. He then said, "O Abū ʿUthmān, will you not ask me why I did this?" I asked, "And why did you do it?" He said: "Thus did the Messenger of Allah ﷺ do while I was with him under a tree. He took hold of a dry branch from it and shook it until its leaves fell away, and then said: 'O Salmān, will you not ask me why I did this?' I asked, 'And why did you do it?' He ﷺ replied: > **'Indeed, when a Muslim performs ablution and excels in his ablution, then performs the five prayers, his sins fall away just as these leaves fall away.'** And he recited: {And establish prayer at the two ends of the day and at the approach of the night. Indeed, good deeds do away with misdeeds. That is a reminder for those who remember} [Hūd: 114]."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو عثمان بیان کرتے ہیں : میں ، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ‘ ایک درخت کے نیچے موجود تھا ، انہوں نے ایک خشک شاخ کو پکڑا ‘ اُسے ہلایا ‘ تو اس کے پتے گر گئے ‘ پھر انہوں نے فرمایا : اے ابوعثمان ! کیا تم مجھ سے دریافت نہیں کرو گے ؟ کہ میں نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا تھا ، میں اُس وقت آپ ﷺ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے موجود تھا ، آپ ﷺ نے ایک خشک شاخ پکڑی ‘ اُسے ہلایا ‘ یہاں تک کہ اُس کے پتے گر گئے ‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے سلمان ! کیا تم مجھ سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی مسلمان وضو کرتے ہوئے ‘ اچھی طرح وضو کرے اور پھر پانچ نمازیں ادا کرے ‘ تو اُس کے گناہ یوں گر جاتے ہیں جس طرح یہ پتے گر گئے ہیں ‘‘۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ دن کے دونوں حصوں میں ، نماز قائم کرو ‘ اور رات کے کچھ حصے میں بھی ‘ بے شک نیکیاں ‘ برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں ، اور یہ چیز نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام احمد کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ‘ اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

1652

Majma al-Zawaid #1652

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ عَذْبٍ جَارٍ - أَوْ غَمْرٍ - عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، مَا يَبْقَى عَلَيْهِ مِنْ دَرَنِهِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"The parable of the five prayers is like that of a sweet, flowing—or abundant—river at the door of one of you, in which he bathes five times every day; what would remain upon him of his dirt?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ پانچ نمازوں کی مثال ‘ صاف پانی کی نہر کی مانند ہے ‘ جو کسی شخص کے دروازے سے گزرتی ہے ‘ اور وہ روزانہ اس میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہے ‘ تو اس پر کوئی میل باقی نہیں رہ جاتا ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن زبرقان ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

1653

Majma al-Zawaid #1653

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «إِنَّ كُلَّ صَلَاةٍ تَحُطُّ مَا بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ خَطِيئَةٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb al-Anṣārī رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ used to say: > **"Indeed, every prayer sheds whatever sins preceded it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک ہر نماز اپنے سے پہلے کے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

1654

Majma al-Zawaid #1654

وَعَنْ أَبِي الرَّصَافَةِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ بَاهِلَةَ أَعْرَابِيٍّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ، فَيَقُومُ فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، وَيُصَلِّي فَيُحْسِنُ الصَّلَاةَ - إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيَّنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ كَانَتْ قَبْلَهَا مِنْ ذُنُوبِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو الرَّصَافَةِ لَمْ أَرَ فِيهِ جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا.

EnglishUnverified translation

Abū al-Raṣāfah, a Bedouin from the people of the Levant belonging to Bāhilah, reported from Abū Umāmah رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"No Muslim person reaches the time of a prescribed prayer, stands, performs ablution and excels in it, and prays and excels in his prayer, except that whatever sins were between it and the prayer before it are forgiven for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابورصافہ ‘ جن کا تعلق اہل شام سے ہے ‘ اور وہ باہلہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک دیہاتی ہیں ‘ انہوں نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ جس بھی مسلمان شخص کے سامنے فرض نماز کا وقت آ جائے ‘ اور وہ اُٹھ کر وضو کرے اور وہ اچھی طرح وضو کرے ‘ اور نماز ادا کرے تو اچھی طرح نماز ادا کرے ‘ اُس شخص کے اس نماز اور اس سے پہلے والی نماز کے درمیان کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ ابورصافہ نامی راوی کے بارے میں ، میں نے کوئی جرح یا کوئی تعدیل نہیں دیکھی ہے ۔

1655

Majma al-Zawaid #1655

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهَا "" ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَعْتَمِلُ، فَكَانَ بَيْنَ مَنْزِلِهِ وَمُعْتَمَلِهِ خَمْسَةُ أَنْهَارٍ، فَإِذَا أَتَى مُعْتَمَلَهُ عَمِلَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ فَأَصَابَهُ الْوَسَخُ أَوِ الْعَرَقُ، فَكُلَّمَا مَرَّ بِنَهْرٍ اغْتَسَلَ، مَا كَانَ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ؟ فَكَذَلِكَ الصَّلَاةُ ; كُلَّمَا عَمِلَ خَطِيئَةً فَدَعَا وَاسْتَغْفَرَ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ قَبْلَهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَزَادَ فِيهِ: "" «ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً اسْتَغْفِرَ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا كَانَ قَبْلَهَا» "". وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرَيْظٍ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"The five prayers are an expiation for what is between them."** The Messenger of Allah ﷺ then said: > **"What do you think if a man were working, and between his home and his workplace were five rivers, so that when he reached his workplace he worked as Allah willed, becoming soiled with dirt or sweat, and each time he passed by a river he bathed—what would that leave of his dirt? Such is the prayer: whenever he commits a misdeed, then supplicates and seeks forgiveness, whatever preceded it is forgiven for him."** And in another narration: > **"Then he performs a prayer and seeks forgiveness, and Allah forgives him whatever preceded it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ پانچ نمازیں ‘ اپنے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کہ اگر کوئی شخص کام پر جاتا ہو ‘ اور اس کی رہائش گاہ اور کام کی جگہ کے درمیان پانچ نہریں آتی ہوں ‘ جب وہ اپنے کام کی جگہ پر آئے ‘ تو جو اللہ کو منظور ہو ‘ وہ کام کر لے ‘ تو اُسے میل لگ جائے اور پسینہ آ جائے ‘ پھر وہ جس بھی نہر کے پاس سے گزرے تو وہ غسل کر لے ‘ تو کیا اُس کا کوئی میل باقی رہے گا ؟ نمازوں کی مثال بھی اسی طرح ہے ‘ جب بھی انسان خطا کرتا ہے ‘ تو پھر دعا کرتا ہے ‘ اور مغفرت طلب کرتا ہے ‘ تو اُس کے پہلے والے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے ‘ امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں :’’ پھر وہ نماز ادا کرتا ہے ‘ اور مغفرت طلب کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے پہلے والے گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے “۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن قریظ ہے ‘ جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

1656

Majma al-Zawaid #1656

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ الْحَقَائِقَ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مِنَ الذُّنُوبِ مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, these five verified prayers are expiations for the sins committed between them, so long as major sins are avoided."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ یہ پانچ نمازیں حق ہیں ، اور ( ان کے ) درمیان کیے جانے والے گناہوں کا کفارہ ہیں ، جب کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا گیا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ ہے ‘ اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

1657

Majma al-Zawaid #1657

وَعَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيَّنَهَا مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ» ""، وَقَالَ: "" «مِنَ الْجُمْعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ وَلَا مُسْلِمَةٌ يَسْأَلُ اللَّهُ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ» "". قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَنَهْرٍ غَمْرٍ بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ فِيهِ خَمْسَ مَرَّاتٍ، فَمَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ؟» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرِّفَادِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"The five prayers, and Friday to the next Friday, are expiations for what is between them, as long as major sins are avoided."** And he ﷺ said: > **"In Friday there is an hour wherein no Muslim man or woman asks Allah for good except that He grants it to them."** And the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The parable of the five prayers is like an abundant river at the door of one of you, in which he bathes five times every day; what would remain of his dirt?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ پانچ نمازیں ‘ اور ایک جمعہ دوسرے جمعے تک ‘ یہ درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں ، جب کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا گیا ہو ‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے : جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے ، جس میں کوئی مسلمان مرد ‘ یا مسلمان عورت ‘ اللہ تعالیٰ سے جو بھی بھلائی مانگتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ وہ ( بھلائی ) اُسے عطا کر دیتا ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ پانچ نمازوں کی مثال ‘ صاف پانی کی اس نہر کی مانند ہے ‘ جو کسی شخص کے دروازے کے پاس موجود ہو ‘ اور وہ شخص روزانہ اس میں پانچ مرتبہ غسل کرے ‘ تو کیا اس کا میل باقی رہ جائے گا ؟“ ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی زائدہ بن ابورفاد ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

1658

Majma al-Zawaid #1658

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الصُّبْحَ غَسَلَتْهَا، ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ غَسَلَتْهَا، ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ غَسَلَتْهَا، ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ غَسَلَتْهَا، ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ غَسَلَتْهَا، ثُمَّ تَنَامُونَ فَلَا يُكْتَبُ عَلَيْكُمْ حَتَّى تَسْتَيْقِظُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ إِلَّا أَنَّهُ مَوْقُوفٌ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ الْمَوْقُوفِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرِجَالُ الْمَرْفُوعِ فِيهِمْ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"You burn, you burn [with sins]! Then when you pray the Ṣubḥ prayer, it washes it away. Then you burn, you burn! Then when you pray Zuhr, it washes it away. Then you burn, you burn! Then when you pray ʿAṣr, it washes it away. Then you burn, you burn! Then when you pray Maghrib, it washes it away. Then you burn, you burn! Then when you pray ʿIshāʾ, it washes it away. Then you sleep, and nothing is recorded against you until you awaken."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم جل جاتے ہو ‘ تم جل جاتے ہو ‘ جب تم صبح کی نماز ادا کر لیتے ہو ‘ تو وہ اُسے دھو دیتی ہے ‘ پھر تم جل جاتے ہو ‘ تم جل جاتے ہو ‘ جب تم ظہر کی نماز ادا کر لیتے ہو ‘ تو وہ اُسے دھو دیتی ہے ‘ پھر تم جل جاتے ہو ‘ تم جل جاتے ہو ‘ جب تم عصر کی نماز ادا کرتے ہو ‘ تو وہ اسے دھو دیتی ہے ، پھر تم جل جاتے ہو ‘ جل جاتے ہو ‘ جب تم مغرب کی نماز ادا کرتے ہو ‘ تو وہ اُسے دھو دیتی ہے ، پھر تم جل جاتے ہو ‘ جل جاتے ہو جب تم عشاء کی نماز ادا کرتے ہو ‘ تو وہ اسے دھو دیتی ہے پھر تم سو جاتے ہو ‘ تو تمہارے خلاف کوئی بات نوٹ نہیں کی جاتی ‘ جب تک تم بیدار نہیں ہو جاتے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ‘ تاہم معجم کبیر میں یہ روایت ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر منقول ہے ‘ اور ’’ موقوف ‘‘ روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ‘ ’’ مرفوع ‘‘ کے رجال میں ‘ ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ‘ اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

1659

Majma al-Zawaid #1659

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ لِلَّهِ مَلِكًا يُنَادِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ: يَا بَنِي آدَمَ، قُومُوا إِلَى نِيرَانِكُمُ الَّتِي أَوْقَدْتُمُوهَا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَأَطْفِئُوهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ زُهَيْرٍ الْقُرَشِيُّ. قُلْتُ: وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ رَوَى عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعْدٍ السَّمَّانُ، وَرَوَى عَنْهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُخْرَمِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Allah has an angel who proclaims at every prayer: 'O children of Adam, rise up toward your fires that you have kindled against yourselves, and extinguish them!'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے ‘ جو ہر نماز کے وقت یہ اعلان کرتا ہے : اے بنی آدم ! اپنی آگ کی طرف اُٹھ کر جاؤ ! جسے تم نے اپنی ذات کے خلاف جلایا ہے ‘ اور اسے بجھا دو ! ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : یحیی بن زہیر قرشی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ، میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ البتہ اس نے ازہر بن سعد سمان سے روایت نقل کی ہے ‘ جب کہ اس سے یعقوب بن اسحاق مخرمی نے روایات نقل کی ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

1660

Majma al-Zawaid #1660

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «يُبْعَثُ مُنَادٍ عِنْدَ حَضْرَةِ كُلِّ صَلَاةٍ فَيَقُولُ: يَا بَنِي آدَمَ، قُومُوا فَأَطْفِئُوا عَنْكُمْ مَا أَوْقَدْتُمْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَيَقُومُونَ فَيَتَطَهَّرُونَ [وَتَسْقُطُ عَنْهُمْ خَطَيَاهُمْ مِنْ أَعْيُنِهِمْ] وَيُصَلُّونَ، فَيُغْفَرُ لَهُمْ مَا بَيْنَهُمَا، [ثُمَّ يُوقِدُونَ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ صَلَاةِ الْأُولَى نَادَى: يَا بَنِي آدَمَ قُومُوا فَاطْفِئُوا مَا أَوْقَدْتُمْ عَلَى أَنْفُسِكِمْ، فَيَقُومُونَ، فَيَتَطَهَّرُونَ، وَيُصَلُّونَ فَيُغْفَرُ لَهُمْ مَا بَيْنَهُمَا] فَإِذَا حَضَرَتِ الْعَصْرُ فَمِثْلُ ذَلِكَ، فَإِذَا حَضَرَتِ الْمَغْرِبُ فَمِثْلُ ذَلِكَ، فَإِذَا حَضَرَتِ الْعَتَمَةُ فَمِثْلُ ذَلِكَ، فَيَنَامُونَ فَيُغْفَرُ لَهُمْ [ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] ; فَمُدْلِجٌ فِي خَيْرٍ، وَمُدْلِجٌ فِي شَرٍّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ وَثَّقَهُ أَيُّوبُ وَسَلْمٌ الْعَلَوِيُّ، وَضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"A caller is dispatched at the arrival of every prayer and proclaims: 'O children of Adam, rise and extinguish what you have kindled against yourselves!' So they rise, purify themselves—and their misdeeds fall away from their eyes—and pray, so whatever was between the two prayers is forgiven for them. Then they kindle [sins] in the time between that; when the first prayer (Zuhr) arrives, he proclaims: 'O children of Adam, rise and extinguish what you have kindled against yourselves!' So they rise, purify themselves, and pray, and whatever was between the two is forgiven for them. When ʿAṣr arrives, the like occurs; when Maghrib arrives, the like occurs; and when ʿIshāʾ arrives, the like occurs. Then they sleep, having been forgiven."** The Messenger of Allah ﷺ then said: > **"Thus, there is one who journeys into goodness, and one who journeys into evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہر نماز کے وقت ایک منادی کو بھیجا جاتا ہے ‘ جو یہ کہتا ہے : اے اولاد آدم ! تم اُٹھو ! اور اپنے خلاف تم نے جو کچھ جلایا ہے ‘ اسے بجھا دو ! لوگ اٹھتے ہیں طہارت حاصل کرتے ہیں ، تو ان کی آنکھوں سے ان کے گناہ گر جاتے ہیں ‘ وہ لوگ نماز ادا کرتے ہیں ، تو ان کے دو نمازوں کے درمیان کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘ پھر وہ اگلی نماز تک کے درمیان کے عرصے میں آگ جلاتے ہیں ، جب اگلی نماز کا وقت ہوتا ہے ‘ تو فرشتہ پکار کر کہتا ہے : اے اولاد آدم ! اُٹھو اور اس چیز کو بجھا دو ! جو تم نے اپنی ذات کے خلاف بجھائی ہے ‘ وہ اٹھتے ہیں طہارت حاصل کرتے ہیں ، نماز ادا کرتے ہیں ، تو ان کے دونوں نمازوں کے درمیان کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘ جب عصر کی نماز کا وقت ہوتا ہے ‘ تو ایسا ہی ہوتا ہے ‘ جب مغرب کی نماز کا وقت ہوتا ہے ، تو ایسا ہی ہوتا ہے ‘ جب عشاء کی نماز کا وقت ہوتا ہے ‘ تو بھی ایسا ہی ہوتا ہے ، پھر جب وہ لوگ سوتے ہیں ، تو ان کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ تو کوئی بھلائی کے عالم میں رات کرتا ہے ‘ اور کوئی برائی کے عالم میں رات کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے ، جسے ایوب اور سلم علوی نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ جب کہ شعبہ ‘ امام احمد ‘ یحیی بن معین اور ابو حاتم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

1661

Majma al-Zawaid #1661

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ الصَّلَوَاتِ هُنَّ الْحَسَنَاتُ، وَكَفَّارَةُ مَا بَيْنَ الْأُولَى وَالْعَصْرِ صَلَاةُ الْعَصْرِ، وَكَفَّارَةُ [مَا] بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ، وَكَفَّارَةُ مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ إِلَى الْعَتَمَةِ صَلَاةُ الْعَتَمَةِ، ثُمَّ يَأْوِي الْمُسْلِمُ إِلَى فِرَاشِهِ لَا ذَنْبَ لَهُ مَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ، ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ} [هود: 114]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"Indeed, the prayers are the good deeds: the expiation for what is between the first prayer (Zuhr) and ʿAṣr is the ʿAṣr prayer; the expiation for what is between ʿAṣr and Maghrib is the Maghrib prayer; and the expiation for what is between Maghrib and ʿIshāʾ is the ʿIshāʾ prayer. Then the Muslim retires to his bed without any sin upon him, as long as major sins are avoided."** He then recited: {Indeed, good deeds do away with misdeeds} [Hūd: 114].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ بے شک نمازیں ہی نیکیاں ہیں ، اور پہلی نماز ( یعنی ظہر کی نماز سے لے کر عصر کی نماز کے درمیان کا کفارہ عصر کی نماز بن جاتی ہے ‘ عصر کی نماز سے لے کر مغرب کی نماز کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ مغرب کی نماز بن جاتی ہے ‘ مغرب سے لے کر عشاء تک کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ عشاء کی نماز بن جاتی ہے ، پھر مسلمان بستر پر آتا ہے ‘ تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا ‘ یہ اس وقت ہوتا ہے ‘ جب کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا گیا ہو ‘ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” ’’ بے شک نیکیاں ‘ گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

1662

Majma al-Zawaid #1662

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ - يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الصَّلَوَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ ; قَالَ اللَّهُ: {إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ} [هود: 114]» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا. قُلْتُ: وَهَذَا مِنْ رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Mālik al-Ashʿarī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The prayers are expiations for what is between them; Allah has said: {Indeed, good deeds do away with misdeeds} [Hūd: 114]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ نمازیں درمیان میں کیے جانے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک نیکیاں ‘ گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے ‘ امام ابوحاتم بیان کرتے ہیں : اس نے اپنے والد سے کوئی چیز نہیں سنی ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت اس نے اپنے والد سے نقل کی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1663

Majma al-Zawaid #1663

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ سَلْمَانَ لِيَنْظُرَ مَا اجْتِهَادُهُ. قَالَ: فَقَامَ يُصَلِّي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ - فَكَأَنَّهُ لَمْ يَرَ الَّذِي كَانَ يَظُنُّ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ سَلْمَانُ: حَافَظُوا عَلَى هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ; فَإِنَّهُنَّ كَفَّارَاتٌ لِهَذِهِ الْجِرَاحَاتِ مَا لَمْ تُصِبِ الْمَقْتَلَةَ، فَإِذَا صَلَّى النَّاسُ الْعِشَاءَ صَدَرُوا عَنْ ثَلَاثِ مَنَازِلَ: مِنْهُمْ مَنْ عَلَيْهِ وَلَا لَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَهُ وَلَا عَلَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَا لَهُ وَلَا عَلَيْهِ ; فَرَجُلٌ اغْتَنَمَ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ وَغَفْلَةِ النَّاسِ فَرَكِبَ فَرَسَهُ فِي الْمَعَاصِي، فَذَلِكَ عَلَيْهِ وَلَا لَهُ، وَمَنْ لَهُ وَلَا عَلَيْهِ: فَرَجُلٌ اغْتَنَمَ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ وَغَفْلَةَ النَّاسِ فَقَامَ يُصَلِّي، فَذَلِكَ لَهُ وَلَا عَلَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَهُ وَلَا عَلَيْهِ: فَرَجُلٌ صَلَّى ثُمَّ نَامَ، فَذَلِكَ لَا لَهُ وَلَا عَلَيْهِ، إِيَّاكَ وَالْحَقْحَقَةَ، وَعَلَيْكَ بِالْقَصْدِ وَالدَّوَامِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Ṭāriq ibn Shihāb reported: He stayed overnight with Salmān al-Fārisī رضي الله عنه to observe his exertion in worship. Salmān arose to pray during the latter part of the night—as though Ṭāriq did not see what he had expected—and mentioned that to him. Salmān said: "Safeguard these five prayers, for indeed they are expiations for these wounds (minor sins) as long as fatal sins (such as murder) are avoided. When the people perform the ʿIshāʾ prayer, they disperse into three categories: one for whom it is a liability and not an asset, one for whom it is an asset and not a liability, and one for whom it is neither an asset nor a liability. As for the one for whom it is a liability and not an asset: a man who seized the darkness of the night and the heedlessness of people, mounting his steed in acts of disobedience; that is against him and not for him. As for the one for whom it is an asset and not a liability: a man who seized the darkness of the night and the heedlessness of people, standing up to pray; that is for him and not against him. And as for the one for whom it is neither an asset nor a liability: a man who prayed and then slept; that is neither for him nor against him. Beware of over-exhausting yourself in worship (al-ḥaqḥaqah), and adhere to moderation and consistency."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ وہ رات کے وقت حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے ‘ تاکہ اُن کی رات کی عبادت کا جائزہ لیں ‘ راوی بیان کرتے ہیں : وہ رات کے آخری حصے میں اُٹھ کر نماز ادا کرنے لگے ‘ تو یہ چیز ان کی توقع کے برخلاف تھی ‘ تو انہوں نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ، تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ ان پانچ نمازوں کی حفاظت کرو ! کیونکہ یہ ان زخموں ( یعنی گناہوں ) کا کفارہ بن جاتی ہیں ، جب کہ قتل کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو ‘ جب لوگ عشاء کی نماز ادا کر لیتے ہیں ، تو وہ تین حیثیتوں میں واپس آتے ہیں ، ان میں سے کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں ، جن کے ذمہ کچھ ہوتا ہے ‘ اور ان کے حق میں کچھ نہیں ہوتا ‘ کچھ وہ ہوتے ہیں جن کے حق میں کچھ ہوتا ہے ‘ اور ان کے خلاف کچھ نہیں ہوتا ‘ اور کچھ وہ ہوتے ہیں ، جن کے حق میں کچھ نہیں ہوتا ‘ اور جن کے خلاف بھی کچھ نہیں ہوتا ‘ تو جو شخص رات کی تاریکیوں اور لوگوں کی غفلت کو غنیمت شمار کرے گا ‘ وہ گناہوں کے بارے میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو جائے گا ‘ یہ وہ شخص ہے ، جس کے خلاف کچھ ہوتا ہے ‘ اس کے حق میں کچھ نہیں ہوتا ‘ اور جس شخص کے حق میں کچھ ہوتا ہے ‘ اور اس کے خلاف کچھ نہیں ہوتا ‘ وہ ایک ایسا شخص ہے ‘ جو رات کی تاریکی اور لوگوں کی غفلت کو غنیمت شمار کرتا ہے ‘ اور اٹھ کر نماز ادا کرتا ہے ‘ تو یہ وہ شخص جس کے حق میں کچھ ہوتا ہے ‘ اور اس کے خلاف کچھ نہیں ہوتا ‘ اور کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جن کے حق میں کچھ نہیں ہوتا اور ان کے خلاف بھی کچھ نہیں ہوتا ، تو یہ وہ شخص ہے ‘ جو نماز ادا کر کے سو جاتا ہے ‘ تو یہ وہ شخص ہے کہ جس کے حق میں کچھ نہیں ہوتا اور اس کے خلاف بھی کچھ نہیں ہوتا ، تو تم انتہاء پسندی سے بچنے کی کوشش کرو ! اور میانہ روی اور باقاعدگی کو اختیار کرو ! یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1664

Majma al-Zawaid #1664

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ تُكَفِّرُ مَا قَبْلَهَا إِلَى الصَّلَاةِ الْأُخْرَى، وَالْجُمْعَةُ تَكْفُرُ مَا قَبِلَهَا إِلَى الْجُمْعَةِ الْأُخْرَى، وَشَهْرُ رَمَضَانَ يُكَفِّرُ مَا قَبْلُهُ إِلَى شَهْرِ رَمَضَانَ، وَالْحَجُّ يُكَفِّرُ مَا قَبْلُهُ إِلَى الْحَجِّ ""، ثُمَّ قَالَ: "" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَنْ تَحُجَّ إِلَّا مَعَ زَوْجٍ أَوْ ذِي مَحْرَمٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَدَقَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"The obligatory prayer expiates what preceded it up until the next prayer; Friday expiates what preceded it up until the next Friday; the month of Ramadan expiates what preceded it up until the next Ramadan; and Hajj expiates what preceded it up until the next Hajj."** He ﷺ then said: > **"It is not permissible for a Muslim woman to perform Hajj except in the company of a husband or a mahram (unmarriageable male relative)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ فرض نماز ‘ اُس سے پہلے کی دوسری نماز کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ‘ اور جمعہ اُس سے پہلے والے جمعہ کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ‘ اور رمضان کا مہینہ اُس سے پہلے والے رمضان کے مہینے تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ‘ اور حج اس سے پہلے والے حج کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی : کسی مسلمان عورت کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ حج کے لئے جائے ‘ البتہ اگر اُس کا شوہر ‘ یا کوئی محرم عزیز ساتھ ہو ‘ تو حکم مختلف ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صدقہ ہے ‘ اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

1665

Majma al-Zawaid #1665

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ عَذْبٍ يَجْرِي عِنْدَ بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، فَمَاذَا يَبْقَى عَلَيْهِ مِنَ الدَّرَنِ؟» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The parable of the five prayers is like that of a sweet river flowing at the door of one of you, in which he bathes five times every day; what would remain upon him of dirt?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ پانچ نمازوں کی مثال ‘ صاف پانی کی اس نہر کی طرح ہے ‘ جو کسی شخص کے دروازے کے پاس بہتی ہے ‘ اور وہ شخص روزانہ اس میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہے ‘ تو کیا اس کا میل باقی رہ جائے گا ؟“ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ‘ اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔

1666

Majma al-Zawaid #1666

وَعَنْ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ وَهُوَ يَتَفَلَّى فِي الْمَسْجِدِ وَيَدْفِنُ الْقَمْلَ فِي الْحَصَى، فَقُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ، إِنَّ رَجُلًا حَدَّثَنِي عَنْكَ أَنَّكَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ غَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهِهِ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى صَلَاةٍ مَفْرُوضَةٍ - غَفَرَ اللَّهُ لَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَا مَشَتْ إِلَيْهِ رِجْلَاهُ، وَقَبَضَتْ عَلَيْهِ يَدَاهُ، وَسَمِعَتْ إِلَيْهِ أُذُنَاهُ، وَنَظَرَتْ إِلَيْهِ عَيْنَاهُ، وَحَدَّثَ بِهِ نَفْسَهُ مِنْ سُوءٍ ""، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِرَارًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي مُسْلِمٍ الثَّعْلَبِيِّ عَنْهُ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Muslim al-Thaʿlabī reported: I entered upon Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه while he was in the mosque removing lice and burying them in the pebbles. I said, "O Abū Umāmah, a man narrated to me from you that you heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **'Whoever performs ablution and completes it thoroughly—washing his hands and his face, and wiping over his head and his ears—then stands up for an obligatory prayer, Allah forgives him on that day whatever his feet walked toward, whatever his hands grasped, whatever his ears listened to, whatever his eyes looked at, and whatever evil thoughts occurred within his soul.'**" Abū Umāmah said, "By Allah, I have indeed heard it from the Prophet ﷺ repeatedly!"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومسلم بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ وہ اس وقت مسجد میں جوئیں نکال رہے تھے ‘ اور جوؤں کو کنکریوں میں دفن کر رہے تھے ‘ میں نے کہا : اے حضرت ابوامامہ ! ایک شخص نے مجھے آپ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ آپ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے ‘ اور اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو دھو لے ‘ اور اپنے سر اور اپنے کانوں کا مسح کر لے ‘ اور پھر اُٹھ کر فرض نماز ادا کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے ‘ اُس دن کے ان گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ‘ جس کی طرف اس کے پاؤں چل کر گئے ہوں ، یا جنہیں اُس کے ہاتھوں نے پکڑا ہو ‘ یا جس کو اُس کے کانوں نے سنا ہو ‘ یا جس کی طرف اُس کی آنکھوں نے دیکھا ہو ‘ یا جو اُس نے اپنے من میں بُرا سوچا ہو ‘‘۔ تو حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات کئی مرتبہ سنی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابو مسلم ثعلبی کی اُن سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور میں نے کسی کو اس راوی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1667

Majma al-Zawaid #1667

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْخَلِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، وَهُوَ مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The five prayers, and Friday to Friday, are expiations for what is between them, as long as major sins are avoided."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ پانچ نمازیں ‘ ایک جمعہ ‘ دوسرے جمعہ تک ‘ اُن کے درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں ، جب کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا گیا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن ذکریا ہے ‘ اور وہ متروک اور کذاب ہے ۔

1668

Majma al-Zawaid #1668

وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْمُسْلِمُ يُصَلِّي وَخَطَايَاهُ مَرْفُوعَةٌ عَلَى رَأْسِهِ، كُلَّمَا سَجَدَ تَحَاتَّتْ عَنْهُ، فَيَفْرَغُ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدْ تَحَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ أَشْعَثَ السَّعْدَانِيُّ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Salmān al-Fārisī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The Muslim prays while his sins are placed upon his head; whenever he prostrates, they fall away from him, so he finishes his prayer with his sins having fallen away from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مسلمان جب نماز ادا کرتا ہے ‘ تو اس کے گناہ اُس کے سر پر رکھ دیے جاتے ہیں ، جب بھی وہ سجدے میں جاتا ہے ‘ تو وہ اس سے گر جاتے ہیں ، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوتا ہے ‘ تو اس کے گناہ اس سے گر چکے ہوتے ہیں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم صغیر میں ، جب کہ امام بزار نے بھی نقل ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن اشعث سعدانی ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

1669

Majma al-Zawaid #1669

وَعَنْ سَلْمَانَ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وُضِعَتْ ذُنُوبُهُ عَلَى رَأْسِهِ، فَتُفَرَّقَ عَنْهُ كَمَا تُفَرَّقُ عُرُوقُ الشَّجَرَةِ يَمِينًا وَشِمَالًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَأَحْمَدُ وَغَيْرُهُمْ، وَوَثَّقَهُ سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Salmān al-Fārisī رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Indeed, when the believing servant stands up for prayer, his sins are placed upon his head, and then they disperse from him just as the branches of a tree disperse to the right and to the left."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ مومن بندہ ‘ جب نماز ادا کرنے کے لئے اُٹھتا ہے ‘ تو اس کے گناہ اُس کے سر پر رکھ دیے جاتے ہیں ‘ اور پھر وہ گناہ اس سے یوں الگ ہو جاتے ہیں ، جس طرح درخت کی شاخیں دائیں بائیں ہو جاتی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے ‘ جسے شعبہ ‘ امام احمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ مسلم علوی اور دیگر حضرات نے اُسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

1670

Majma al-Zawaid #1670

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جُمِعَتْ ذُنُوبُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ، فَإِذَا رَكَعَ تَفَرَّقَتْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"When a servant stands to pray, his sins are gathered upon his neck; then whenever he bows in rukūʿ, they disperse and fall away."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بندہ جب نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے ‘ تو اُس کے گناہ اکھٹے کر کے اُس کی گردن پر رکھ دیے جاتے ہیں ، اور جب وہ رکوع میں جاتا ہے ‘ تو وہ ( گناہ ) گر جاتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم ہے ‘ اور وہ انتہائی ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1671

Majma al-Zawaid #1671

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا مِنْ حَالَةٍ يَكُونُ عَلَيْهَا الْعَبْدُ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يَرَاهُ سَاجِدًا يُعَفِّرُ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ عُثْمَانَ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ عُثْمَانُ. قُلْتُ: وَعُثْمَانُ بْنُ الْقَاسِمِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَلَمْ يَرْفَعْ فِي نَسَبِهِ وَأَبُوهُ، فَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is no state in which a servant can be that is more beloved to Allah than seeing him prostrating, rubbing his face in the dust [in devotion]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بندہ کسی بھی حالت میں ‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اُس سے زیادہ محبوب نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو سجدے کی حالت میں دیکھے ‘ کہ اُس نے اپنی پیشانی مٹی میں رکھی ہوئی ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ‘ عثمان بن قاسم کے حوالے سے ‘ اُن کے والد سے نقل کی ہے ‘ اور یہ بات بیان کی ہے : عثمان نامی راوی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : عثمان بن قاسم نامی راوی کا تذکرہ امام ابن حبان نے کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ اور اس کے نسب میں اس کے باپ سے اوپر کا تذکرہ نہیں کیا ، تو میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

1672

Majma al-Zawaid #1672

وَعَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ ذَنْبًا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ. فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ قَامَ الرَّجُلُ فَأَعَادَ الْقَوْلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَلَيْسَ قَدْ صَلَيْتَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ وَأَحْسَنْتَ لَهَا الطَّهُورَ؟ "" قَالَ: بَلَى قَالَ: "" فَإِنَّهَا كَفَّارَةُ ذَنْبِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ. وَالْحَارِثُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥārith reported from ʿAlī رضي الله عنه, who said: We were with the Prophet ﷺ in the mosque awaiting the prayer when a man stood up and said, "I have committed a sin." The Prophet ﷺ turned away from him. When the Prophet ﷺ finished the prayer, the man stood up and repeated what he had said. The Prophet ﷺ said: > **"Did you not pray this prayer with us and perform its purification properly?" The man replied, "Yes." He ﷺ said: "Then indeed, it is an expiation for your sin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارث نے ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : ’’ ہم مسجد میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ موجود تھے ‘ اور نماز کا انتظار کر رہے تھے ‘ ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا : میں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اُس سے منہ موڑ لیا ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے نماز مکمل کی ‘ تو وہ شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے اپنی بات دہرائی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے ہمارے ساتھ یہ نماز ادا نہیں کی ہے ؟ اور کیا تم نے اس کے لئے اچھی طرح وضو نہیں کیا تھا ؟ اُس نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ تمہارے گناہ کا کفارہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ حارث نامی راوی ” ضعیف “ ہے ۔

1673

Majma al-Zawaid #1673

وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ بِالشَّامِ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ يَا بُنَيَّ إِلَى هَذِهِ الْبَلْدَةِ؟ وَمَا عَنَاكَ إِلَيْهَا؟ قَالَ: مَا جَاءَ بِي إِلَّا صِلَةُ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَبِي، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَجْلَسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: بِئْسَ سَاعَةُ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا، فَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا مَفْرُوضَةً أَوْ غَيْرَ مَفْرُوضَةٍ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ - إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ. قُلْتُ: وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Yūsuf ibn ʿAbdillāh ibn Salām said: I came to Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه in the Levant (al-Shām), and he asked, "What brought you to this land, my son, and what purpose directed you here?" I replied, "Nothing brought me except maintaining the bond that existed between you and my father." He took my hand, seated me before him, and said: "Wretched is the hour in which a lie is attributed to the Messenger of Allah ﷺ! I heard the Prophet ﷺ saying: > **"There is no Muslim who commits a sin, then performs ablution, then prays two or four rakʿahs—whether obligatory or non-obligatory—and then seeks Allah's forgiveness, except that Allah forgives him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یوسف بن عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں : میں شام میں ‘ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ انہوں نے دریافت کیا : اے میرے بیٹے ! تم اس شہر میں کس سلسلے میں آئے ہو ؟ اور یہاں آنے کے حوالے سے تمہارا مقصد کیا ہے ؟ تو یوسف نے جواب دیا : میں صرف اس لئے آیا ہوں ، تاکہ اُس تعلق کا خیال رکھوں ، جو آپ کے اور میرے والد کے درمیان تھا ‘ تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا ‘ اور مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا اور بولے : وہ گھڑی بری ہو ‘ جس میں نبی اکرم ﷺ کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کئی گئی ہو ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو بھی مسلمان کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر وضو کر کے دو رکعات یا چار رکعات ادا کر لیتا ہے خواہ وہ ( دو یا چار رکعات ) فرض ہوں ، یا فرض نہ ہوں ‘ اور پھر وہ ( مسلمان ) اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اُس کی مغفرت کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : صدقہ بن ابوسہل نامی راوی اسے روایت کرنے میں منفرد ہے ، میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

1674

Majma al-Zawaid #1674

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُهُ عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" الصَّلَاةُ "". قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: "" الصَّلَاةُ "". قَالَ: الصَّلَاةُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا غَلَبَ عَلَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "". قَالَ الرَّجُلُ: فَإِنَّ لِي وَالِدَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" آمُرُكَ بِالْوَالِدَيْنِ خَيْرًا "". قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَأُجَاهِدَنَّ وَلَأَتْرُكُنَّهُمَا. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَنْتَ أَعْلَمُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ حَسَّنَ لَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ الصَّلَاةِ أَيْضًا فِي فَضْلِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما narrated that a man came to the Prophet ﷺ asking him about the best of deeds. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Prayer." The man asked, "Then what?" He ﷺ replied: "Prayer." The man asked again, and he repeated: "Prayer," three times. When the man pressed further, the Messenger of Allah ﷺ said: "Jihād in the path of Allah." The man said, "Indeed, I have two living parents." The Messenger of Allah ﷺ said: "I enjoin you to treat your parents well." The man said, "By the One Who sent you with the truth as a Prophet, I shall certainly wage jihād and leave them behind!" The Messenger of Allah ﷺ said: "You know best."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اور آپ ﷺ سے سب سے زیادہ فضیلت والے عمل کے بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نماز ‘ اُس نے دریافت کیا : پھر کون سا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نماز ‘ تین مرتبہ آپ ﷺ نے نماز فرمایا ، پھر جب اُس نے دوبارہ یہی سوال کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اُس سے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا ، اُس شخص نے کہا : میرے والدین موجود ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں والدین کے ساتھ بھلائی کا حکم دیتا ہوں ، اُس شخص نے کہا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ نبی بنا کر مبعوث کیا ہے ‘ میں جہاد میں ضرور حصہ لوں گا ‘ اور اُن دونوں کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم زیادہ بہتر جانتے ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ امام ترمذی نے اس کے حوالے سے منقول روایت کو حسن قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) نماز کی فضیلت کے بارے میں احادیث ’’ نفل نماز کی فضیلت ‘‘ سے متعلق باب میں بھی آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔