وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا دَلَكَتِ الشَّمْسُ أَذَّنَ بِلَالٌ الظُّهْرَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعَصْرِ حِينَ ظَنَنَّا أَنَّ ظِلَّ الرَّجُلِ أَطْوَلُ مِنْهُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعَشَاءِ حِينَ ذَهَبَ بَيَاضُ النَّهَارِ وَهُوَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْفَجْرِ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ الْغَدَ لِلظَّهْرِ حِينَ دَلَكَتِ الشَّمْسُ، فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ وَصَلَّى، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعَصْرِ فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ وَصَلَّى، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى كَادَ يَغِيبُ بَيَاضُ النَّهَارِ، وَهُوَ الشَّفَقُ فِيمَا نَرَى، ثُمَّ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعِشَاءِ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، فَنِمْنَا ثُمَّ قُمْنَا مِرَارًا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْتَظِرُ هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ؟ فَإِنَّكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا، وَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُ بِتَأْخِيرِ هَذِهِ الصَّلَاةِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ أَوْ أَقْرَبَ مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ "". ثُمَّ أَذَّنَ لِلْفَجْرِ، فَأَخَّرَهَا حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَطْلُعَ، فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى، ثُمَّ قَالَ: "" الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
EnglishUnverified translation
Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما narrated: A man asked the Messenger of Allah ﷺ about the time of prayer. When the sun declined, Bilāl called the adhān for Ẓuhr, and the Messenger of Allah ﷺ commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. Then he called the adhān for ʿAṣr when we thought that a man's shadow was longer than him, and the Messenger of Allah ﷺ commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. Then he called the adhān for Maghrib when the sun set, and the Messenger of Allah ﷺ commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. Then he called the adhān for ʿIshāʾ when the daylight's whiteness disappeared—which is the twilight—and the Messenger of Allah ﷺ commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. Then he called the adhān for Fajr when dawn broke, and the Messenger of Allah ﷺ commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. On the following day, Bilāl called the adhān for Ẓuhr when the sun declined, but the Messenger of Allah ﷺ delayed it until the shadow of everything was equal to its length, then commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. Then he called the adhān for ʿAṣr, but the Messenger of Allah ﷺ delayed it until the shadow of everything was twice its length, then commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. Then he called the adhān for Maghrib when the sun set, but the Messenger of Allah ﷺ delayed it until the daylight whiteness—which is the twilight in our view—was on the verge of disappearing, then commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. Then he called the adhān for ʿIshāʾ when the twilight disappeared, and we slept and woke up repeatedly until the Messenger of Allah ﷺ came out to us and said: > **"No one among mankind is waiting for this prayer except you. Indeed, you remain in prayer as long as you are awaiting it. Were it not that I would place hardship upon my ummah, I would have commanded that this prayer be delayed until midnight or close to midnight."** Then Bilāl called the adhān for Fajr, and the Prophet ﷺ delayed it until the sun was about to rise, then commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. Then he ﷺ said: > **"The time is whatever lies between these two."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : جب سورج ڈھل گیا ، تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ظہر کی اذان دی ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا ‘ انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی ‘ پھر اُنہوں نے عصر کی نماز کے لئے اذان دی ‘ اس وقت جب ہم یہ گمان کر رہے تھے کہ آدمی کا سایہ اس سے زیادہ طویل ہو چکا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا ‘ انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی پھر انہوں نے مغرب کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ‘ جب سورج غروب ہو گیا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی ‘ پھر انہوں نے عشاء کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ‘ جب دن کی سفیدی رخصت ہو گئی تھی ‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس سے مراد شفق ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا ‘ انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی ‘ پھر انہوں نے فجر کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ‘ جب صبح صادق ہوئی تھی نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا ‘ انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی ‘ پھر اگلے دن حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ‘ جب سورج ڈھل گیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اس نماز کو مؤخر کیا ‘ یہاں تک کہ ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا ‘ انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی ‘ پھر انہوں نے عصر کی نماز کے لئے اذان دی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس نماز کو مؤخر کیا ‘ یہاں تک کہ ہر چیز کا سایہ اس سے دو مثل ہو گیا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا ‘ انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی ‘ پھر انہوں نے مغرب کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ‘ جب سورج غروب ہو گیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اس نماز کو مؤخر کیا ، یہاں تک کہ قریب تھا کہ دن کی سفیدی یعنی شفق رخصت ہو جاتی ، جو ہمیں نظر آ رہا تھا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا ‘ انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی ‘ پھر انہوں نے عشاء کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ‘ جب شفق غروب ہوئی تھی ، پھر ہم سو گئے ‘ پھر ہم بیدار ہوئے ایسا کئی مرتبہ ہوا ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ‘ اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے علاوہ لوگوں میں سے کوئی بھی اس نماز کا انتظار نہیں کر رہا ہے ‘ اور تم لوگ جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو ‘ تم نماز کی حالت میں شمار ہو گے ‘ اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ‘ تو میں انہیں یہ نماز نصف رات ‘ یا نصف رات کے قریب تک مؤخر کر کے ادا کرنے کا حکم دیتا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر انہوں نے فجر کی نماز کے لئے اذان دی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے مؤخر کیا ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہو گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا ‘ انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کی ‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( نمازوں کا مخصوص ) وقت ان دو کے درمیان ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔