Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 4 · Chapter 3

Book of Prayer

Hadith 1675–1714

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1675

Majma al-Zawaid #1675

عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ شُعْبَةُ: قَالَ: "" أَفْضَلُ الْعَمَلِ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ، وَالْجِهَادُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man from the Companions of the Prophet ﷺ narrated: The Messenger of Allah ﷺ was asked, "Which deed is the best?" Shuʿbah said: He ﷺ replied: > **"The best of deeds is prayer at its appointed time, dutifulness to parents, and jihād."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کے ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا : کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سب سے زیادہ فضیلت والا عمل ‘ نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ‘ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ‘ اور جہاد کرنا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

1676

Majma al-Zawaid #1676

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَا عَائِشَةُ، اهْجُرِي الْمَعَاصِيَ ; فَإِنَّهَا خَيْرُ الْهِجْرَةِ، وَحَافِظِي عَلَى الصَّلَوَاتِ ; فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْبِرِّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ يَسَارٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"O ʿĀʾishah! Forsake sins, for that is the finest emigration (hijrah); and guard the prayers, for indeed they are the most virtuous righteousness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عائشہ ! گناہوں سے لاتعلق رہنا ، کیونکہ یہ سب سے بہتر لاتعلقی ہے ‘ اور نماز کی حفاظت کرنا ، کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والی نیکی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یحیی بن یسار ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

1677

Majma al-Zawaid #1677

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ لِوَقْتِهَا، وَأَسْبَغَ لَهَا وُضُوءَهَا، وَأَتَمَّ لَهَا قِيَامَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا - خَرَجَتْ وَهِيَ بَيْضَاءُ مُسْفِرَةٌ تَقُولُ: حَفِظَكَ اللَّهُ كَمَا حَفِظْتَنِي. وَمَنْ صَلَّى لِغَيْرِ وَقْتِهَا، وَلَمْ يُسْبِغْ لَهَا وُضُوءَهَا، وَلَمْ يُتِمَّ لَهَا خُشُوعَهَا وَلَا رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا - خَرَجَتْ وَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ تَقُولُ: ضَيَّعَكَ اللَّهُ كَمَا ضَيَّعَتْنِي. حَتَّى إِذَا كَانَتْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ لُفَّتْ كَمَا يُلَفُّ الثَّوْبُ الْخَلَقُ، ثُمَّ ضُرِبَ بِهَا وَجْهُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ عُبَادَةَ بِنَحْوِ هَذَا فِي بَابِ مَنْ لَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ وَيُسِيءُ رُكُوعَهَا.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever performs the prayers at their appointed times, completes their ablution thoroughly, and fulfills their standing, their humility (khushūʿ), their bowing, and their prostrating—the prayer ascends radiant and luminous, saying: 'May Allah preserve you as you have preserved me.' But whoever prays them outside their appointed times, does not complete their ablution thoroughly, and does not fulfill their humility, their bowing, or their prostrating—the prayer ascends dark and murky, saying: 'May Allah cause you to be lost as you have lost me.' Then, when it reaches wherever Allah wills, it is folded up just as a worn-out garment is folded, and then struck against his face."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص پانچ نمازیں ‘ اُن کے مخصوص وقت میں ادا کرتا ہے ‘ اور اُن کے لئے اچھی طرح وضو کرتا ہے ‘ اُن کے قیام ‘ ان کے خشوع ، ان کے رکوع ‘ اور اُن کے سجود مکمل کرتا ہے ‘ تو جب وہ نماز نکلتی ہے ‘ تو وہ سفید اور روشن ہوتی ہے ‘ اور وہ یہ کہہ رہی ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے ‘ جس طرح تم نے میری حفاظت کی ہے ‘ اور جو شخص نماز کو اُس کے وقت کے علاوہ ادا کرتا ہے ‘ اُس کے لئے اچھی طرح وضو نہیں کرتا ہے ‘ اُس کے خشوع اس کے رکوع ، اس کے سجود کو مکمل نہیں کرتا ہے ‘ تو جب وہ نماز نکلتی ہے ‘ تو وہ سیاہ اور تاریک ہوتی ہے ‘ اور یہ کہتی ہے : اللہ تعالیٰ تمہیں بھی اُسی طرح ضائع کرے ‘ جس طرح تم نے مجھے ضائع کیا ہے ‘ یہاں تک کہ جب وہ اُس مقام پر پہنچتی ہے ‘ جہاں اللہ کو منظور ہوتا ہے ‘ تو اُسے یوں لپیٹ دیا جاتا ہے ‘ جس طرح پرانے کپڑے کو لپیٹ دیا جاتا ہے پھر ( اس نماز کو ) اُس شخص کے منہ پر مار دیا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث جو اس کی مانند ہے ‘ وہ اس باب میں آئے گی ‘ جس میں اس شخص کا بیان ہے ‘ جو نماز مکمل ادا نہیں کرتا اور اس کا رکوع ٹھیک طرح سے نہیں کرتا ہے ۔

1678

Majma al-Zawaid #1678

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ سَبْعَةُ نَفَرٍ - أَرْبَعَةٌ مِنْ مَوَالِينَا، وَثَلَاثَةٌ مِنْ عَرَبِنَا - مُسْنِدِي ظُهُورِنَا إِلَى مَسْجِدِهِ فَقَالَ: "" مَا أَجْلَسَكُمْ؟ "" قُلْنَا: جَلَسْنَا نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ. قَالَ: فَأَرَمَّ قَلِيلًا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ: "" هَلْ تَدْرُونَ مَا يَقُولُ رَبُّكُمْ؟ "" قُلْنَا: لَا. قَالَ: "" فَإِنَّ رَبَّكُمْ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لِوَقْتِهَا، وَحَافَظَ عَلَيْهَا وَلَمْ يُضَيِّعْهَا اسْتِخْفَافًا لَحِقَهَا؛ فَلَهُ عَلَيَّ عَهْدٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَصَلِّهَا لِوَقْتِهَا، وَلَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا، وَضَيَّعَهَا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهَا - فَلَا عَهْدَ لَهُ عَلَيَّ، إِنْ شِئْتُ عَذَّبْتُهُ، وَإِنْ شِئْتُ غَفَرْتُ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْنِدِي ظُهُورِنَا إِلَى قِبْلَةِ مَسْجِدِهِ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الظُّهْرِ، فَقَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ». وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ الْبَجَلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn ʿUjrah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ came out to us while we were seven individuals—four from our freed slaves and three from our Arabs—leaning our backs against his mosque. He asked, "What has caused you to sit here?" We replied, "We sat waiting for the prayer." He paused in silence for a brief moment, then turned toward us and asked: "Do you know what your Lord says?" We replied, "No." He ﷺ said: > **"Indeed, your Lord says: 'Whoever performs the five prayers at their appointed times, guards them, and does not neglect them out of disdain for their right, has a covenant with Me that I shall admit him into Paradise. But whoever does not pray them at their appointed times, does not guard them, and neglects them out of disdain for their right, has no covenant with Me: if I will, I may punish him; and if I will, I may forgive him.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اُس وقت سات افراد تھے ‘ جن میں سے چار کا تعلق موالی سے تھا اور تین کا تعلق عربوں سے تھا ، ہم نے آپ کی مسجد کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی ، آپ نے دریافت کیا : تم لوگ کیوں بیٹھے ہوئے ہو ؟ ہم نے عرض کی : ہم نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں ‘ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تھوڑی دیر ٹھہرے رہے ‘ پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ تمہارا پروردگار کیا فرماتا ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا پروردگار یہ فرماتا ہے : جو شخص پانچ نمازوں کو اُن کے وقت پر ادا کرے گا ‘ اُن کو باقاعدگی سے ادا کرے گا ‘ اور اُن کے حق کو کمتر سمجھتے ہوئے انہیں ضائع نہیں کرے گا ، تو اُس شخص کے لئے میرے ذمہ یہ عہد ہے کہ میں اُسے جنت میں داخل کروں گا ‘ اور جو شخص نماز کو اُس کے مخصوص وقت پر ادا نہیں کرے گا ‘ اس کی حفاظت نہیں کرے گا اس کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ‘ اُسے ضائع کر دے گا ‘ تو اُس شخص کے لئے میرے ذمہ کوئی عہد نہیں ہو گا ‘ اگر میں چاہوں گا ، تو اُسے عذاب دوں گا ‘ اور اگر چاہوں گا ‘ تو اس کی مغفرت کر دوں گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ یہ روایت امام احمد نے بھی نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ ایک مرتبہ ہم اللہ کے رسول کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، ہم نے اپنی پشت مسجد کی قبلہ سمت والی دیوار کے ساتھ لگائی ہوئی تھی اسی دوران نبی اکرم ﷺ ظہر کی نماز کی ادائیگی کے لئے ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ہے عیسیٰ بن مسیب بجلی ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

1679

Majma al-Zawaid #1679

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى أَصْحَابِهِ يَوْمًا فَقَالَ لَهُمْ: "" هَلْ تَدْرُونَ مَا يَقُولُ رَبُّكُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى؟ "" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَهَا ثَلَاثًا. قَالَ: "" وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا أَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ صَلَّاهَا لِغَيْرِ وَقْتِهَا إِنْ شِئْتُ رَحِمْتُهُ وَإِنْ شِئْتُ عَذَّبْتُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ قُتَيْبَةَ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَذُكِرَ لَهُ رَاوٍ وَاحِدٌ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ وَلَمْ يَجْرَحْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ passed by his Companions one day and asked them: "Do you know what your Lord, Blessed and Exalted, says?" They replied, "Allah and His Messenger know best." He asked this three times, then said: > **"[Allah says:] 'By My Might and My Majesty, no one performs it at its appointed time except that I shall admit him into Paradise; and whoever prays it outside its appointed time, if I will, I shall have mercy upon him, and if I will, I shall punish him.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ کا گزر ‘ اپنے اصحاب کے پاس سے ہوا ‘ آپ نے اُن سے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ تمہارا پروردگار تبارک و تعالیٰ کیا فرماتا ہے ؟ اُن لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی ، پھر ارشاد فرمایا : تمہارا پروردگار فرماتا ہے : میری عزت اور میرے جلال کی قسم ہے ‘ جو شخص اس نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کرے گا ‘ تو میں اُسے جنت میں داخل کروں گا ‘ اور جو شخص اس کو اس کے مخصوص وقت کے علاوہ ادا کرے گا ، تو اگر میں چاہوں گا ، تو اُس پر رحم کر دوں گا ‘ اور اگر چاہوں گا ‘ تو اسے عذاب دوں گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن قتیبہ ہے ، جس کا ذکر ابن ابو حاتم نے کیا ہے ‘ اس شخص کے حوالے سے ایک راوی کا ذکر کیا گیا ہے ، لیکن کسی نے نہ تو اس راوی کی توثیق کی ہے ‘ اور نہ ہی اس پر جرح کی ہے ۔

1680

Majma al-Zawaid #1680

عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ يُقَالُ لَهُ: عِيَاضٌ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «عَلَيْكُمْ بِذِكْرِ رَبِّكُمْ، وَصَلُّوا صَلَاتَكُمْ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُضَاعِفُ لَكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِيمَنْ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا بَعْدَ هَذَا - إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

ʿIyāḍ رضي الله عنه—a man from the tribe of ʿAbd al-Qays—narrated that he heard the Prophet ﷺ saying: > **"Hold fast to the remembrance of your Lord, and offer your prayer at its earliest time, for indeed Allah, Mighty and Majestic, will multiply your reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ‘ جن کا نام حضرت عیاض رضی اللہ عنہ ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم پر لازم ہے کہ اپنے پروردگار کو یاد کرتے رہو ‘ اور تم نماز اس کے ابتدائی وقت میں ادا کر لینا ‘ اللہ تعالی تمہیں اس کا دگنا اجر عطا کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں احادیث آگے آئیں گی ‘ جو اس شخص کے بارے میں ہیں ‘ جو نماز کو اس کے مخصوص وقت سے تاخیر سے ادا کرتا ہے ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

1681

Majma al-Zawaid #1681

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَمَّنِي جِبْرِيلُ فِي الصَّلَاةِ ; فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ قَامَةً، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ، ثُمَّ جَاءَ الْغَدُ ; فَصَلَّى الظُّهْرَ وَفَيْءُ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلُهُ، وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالْفَيْءُ قَامَتَانِ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلْثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، وَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ كَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ، ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاةُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Jibrīl led me in prayer: he prayed Ẓuhr when the sun declined past the meridian; he prayed ʿAṣr when an object's shadow was equal to its length; he prayed Maghrib when the sun set; he prayed ʿIshāʾ when the twilight disappeared; and he prayed Fajr when dawn broke. Then on the following day, he prayed Ẓuhr when the shadow of everything was equal to its length; he prayed ʿAṣr when an object's shadow was twice its length; he prayed Maghrib when the sun set; he prayed ʿIshāʾ at the end of the first third of the night; and he prayed Ṣubḥ when the sun was on the verge of rising. Then he said: 'The time for prayer is between these two times.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جبرائیل نے ‘ نماز میں میری امامت کی ‘ انہوں نے ظہر کی نماز اس وقت ادا کی ‘ جب سورج ڈھل گیا تھا اور عصر کی نماز اس وقت ادا کی ‘ جب ایک مثل سایہ ہو چکا تھا ، مغرب کی نماز اس وقت ادا کی ‘ جب سورج غروب ہو گیا تھا ، اور عشاء کی نماز اس وقت ادا کی ‘ جب شفق غائب ہو گئی تھی ‘ فجر کی نماز اس وقت ادا کی ‘ جب صبح صادق ہو گئی تھی ، پھر جب وہ اگلے دن آئے ‘ تو انہوں نے ظہر کی نماز اس وقت ادا کی ‘ جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل تھا ، عصر کی نماز اس وقت ادا کی ‘ جب سایہ دو مثل ہو چکا تھا ، مغرب کی نماز اس وقت ادا کی ‘ جب سورج غروب ہو گیا تھا ، عشاء کی نماز ایک تہائی رات گزرنے کے بعد ادا کی ‘ اور صبح کی نماز اس وقت ادا کی ‘ جب سورج نکلنے کے قریب تھا ، پھر انہوں نے یہ بتایا : نماز کا وقت ان دو اوقات کے درمیان ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

1682

Majma al-Zawaid #1682

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ذَكَرَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَهُمْ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَاءَهُ، فَصَلَّى بِهِ الصَّلَوَاتِ وَقْتَيْنِ وَقْتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ: "" جَاءَنِي صَلَّى بِي الظُّهْرَ حِينَ كَانَ فَيْئِي مِثْلَ شِرَاكِ نَعْلِي، ثُمَّ جَاءَنِي فَصَلَّى بِي الْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْئِي مِثْلِي، ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْمَغْرِبِ فَصَلَّى بِي سَاعَةَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْعَشَاءِ فَصَلَّى سَاعَةَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْفَجْرِ فَصَلَّى بِي سَاعَةَ بَرِقَ الْفَجْرُ، ثُمَّ جَاءَنِي مِنَ الْغَدِ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ مِثْلِي، ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْعَصْرِ فَصَلَّى بِي حِينَ كَانَ فَيْئِي مِثْلَيَّ، ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْمَغْرِبِ فَصَلَّى بِي حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ - لَمْ يُغَيِّرْهُ عَنْ وَقْتِهِ الْأَوَّلِ - ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْعِشَاءِ فَصَلَّى بِي حِينَ ذَهَبَ ثُلْثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ أَسْفَرَ فِي الْفَجْرِ حَتَّى لَا أَرَى فِي السَّمَاءِ نَجْمًا، ثُمَّ قَالَ: مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَقَالَ: سَمِعَ مِنْهُ أَبُو نُعَيْمٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ ذَلِكَ. وَشَيْخُ الْبَزَّارِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه recounted that the Messenger of Allah ﷺ informed them that Jibrīl عليه السلام came to him and led him in the prayers at two distinct times, with the exception of Maghrib: > **"He came to me and led me in Ẓuhr when my shadow was like the strap of my sandal; then he came to me and led me in ʿAṣr when my shadow was equal to my height; then he came to me for Maghrib and led me the moment the sun set; then he came to me for ʿIshāʾ and prayed the moment the twilight vanished; then he came to me for Fajr and led me the moment the dawn shone forth. Then he came to me the following day and prayed Ẓuhr when the shadow was equal to my height; then he came to me for ʿAṣr and led me when my shadow was twice my height; then he came to me for Maghrib and led me when the sun set—not changing it from its first time; then he came to me for ʿIshāʾ and led me when the first third of the night had passed; then he delayed Fajr until dawn was fully luminous so that I could not see any star in the sky. Then he said: 'Whatever is between these two is the appointed time.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو یہ بات بتائی : حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس آئے اور تمام نمازیں دو مختلف اوقات میں پڑھائیں ‘ البتہ مغرب کی نماز کا معاملہ مختلف ہے ( نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : ) وہ میرے پاس آئے ‘ انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی ‘ جب میرا سایہ میرے جوتے کے تسمے کی مانند ہو چکا تھا ، پھر وہ میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب میرا سایہ ایک مثل ہو گیا تھا ، پھر وہ میرے پاس مغرب کی نماز کے لئے آئے تو انہوں نے مجھے یہ نماز اس وقت پڑھا دی جب سورج غروب ہو گیا تھا ، پھر وہ عشاء کے وقت میرے پاس آئے اور اس وقت نماز پڑھائی جب شفق غروب ہوئی تھی ، پھر وہ فجر کی نماز میں میرے پاس آئے ‘ تو اس وقت نماز پڑھائی ‘ جب صبح صادق ہوئی تھی ‘ جب وہ اگلے دن میرے پاس آئے ‘ تو انہوں نے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی ‘ جب میرا سایہ ایک مثل ہو گیا تھا ، پھر وہ عصر کی نماز کے لئے میرے پاس اس وقت آئے اور انہوں نے مجھے نماز اس وقت پڑھائی ‘ جب میرا سایہ دو مثل ہو گیا تھا ، پھر وہ مغرب کی نماز کے لئے میرے پاس آئے ‘ اور مجھے وہ نماز اس وقت پڑھائی ‘ جب سورج غروب ہو گیا تھا ، اس نماز میں انہوں نے پہلے وقت سے کوئی تبدیلی نہیں کی تھی ‘ پھر وہ عشاء کی نماز کے لئے میرے پاس آئے اور مجھے یہ نماز اس وقت پڑھائی جب رات کا ابتدائی ایک تہائی حصہ رخصت ہو چکا تھا ، پھر انہوں نے فجر کی نماز روشنی میں ادا کی ‘ یہاں تک کہ مجھے آسمان میں کوئی ستارہ دکھائی نہیں دے رہا تھا ، پھر انہوں نے بتایا : ان دونوں کے درمیان ( نمازوں کا مخصوص ) وقت ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ہے ‘ عمر بن عبدالرحمن بن اسید بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ‘ اور یہ بات بیان کی ہے : ابونعیم اور عبداللہ بن نافع نے اس سے سماع کیا ہے ‘ میں نے اپنے والد کو یہی بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے ‘ امام بزار کے استاد ابراہیم بن نصر ہیں ، میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1683

Majma al-Zawaid #1683

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ، وَالْفَجْرُ رُبَّمَا صَلَّاهَا حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَرُبَّمَا أَخَّرَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه narrated: > **"The Prophet ﷺ used to pray Ẓuhr when the sun declined past the meridian, ʿAṣr while the sun was still white and pure, Maghrib when the sun set, and ʿIshāʾ when the twilight vanished; and as for Fajr, he would sometimes pray it as soon as the dawn broke, and sometimes delay it [until the morning became bright]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ظہر کی نماز اس وقت ادا کر لیتے تھے ‘ جب سورج ڈھل جاتا تھا اور عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے ‘ جب سورج چمکدار اور روشن ہوتا تھا ، مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے ‘ جب سورج غروب ہو جاتا تھا اور عشاء اس وقت ادا کرتے تھے ‘ جب شفق غروب ہو جاتی تھی ، فجر کی نماز آپ بعض اوقات اس وقت ادا کرتے تھے ‘ جب صبح صادق ہوتی تھی اور بعض اوقات اُسے ذرا تاخیر کر کے ادا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ‘ اور وہ انتہائی ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1684

Majma al-Zawaid #1684

وَعَنْ بَيَانٍ قَالَ: «قُلْتُ لِأَنَسٍ: حَدِّثْنِي بِوَقْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الصَّلَاةِ. قَالَ: كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ عِنْدَ دَلُوِكِ الشَّمْسِ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتِكُمُ الْأُولَى وَالْعَصْرِ، وَكَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّفَقِ، وَيُصَلِّي الْغَدَاةَ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ حِينَ يَفْتَتِحُ الْبَصَرُ، كُلُّ مَا بَيْنَ ذَلِكَ وَقْتٌ، أَوْ قَالَ: صَلَاةٌ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى هَكَذَا كَمَا هُنَا مِنْ غَيْرِ زِيَادَةٍ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Bayān said: I said to Anas رضي الله عنه, "Narrate to me concerning the times of prayer observed by the Messenger of Allah ﷺ." He said: > **"He used to pray Ẓuhr at the declining of the sun (dalūk al-shams); he prayed ʿAṣr between your first prayer [Ẓuhr] and ʿAṣr; he prayed Maghrib at sunset; he prayed ʿIshāʾ at the vanishing of the twilight; and he prayed the morning prayer (Ghadāh) at the break of dawn when sight begins to distinguish things clearly. All that is between these is the appointed time—or he said: prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بیان ( نامی راوی ) بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ مجھے نبی اکرم ﷺ کی نماز کے وقت کے بارے میں حدیث بیان کیجئے ! تو انہوں نے بتایا : کہ نبی اکرم ﷺ ظہر کی نماز سورج ڈھل جانے کے بعد ادا کر لیتے تھے ‘ اور عصر کی نماز اس درمیانی وقت میں ادا کرتے تھے ‘ جو تمہارا پہلی ( یعنی ظہر کی ) اور عصر کی نماز کا درمیانی وقت ہے ‘ آپ مغرب کی نماز سورج کے غروب ہونے کے بعد ادا کرتے تھے ‘ اور عشاء کی نماز شفق غروب ہونے کے بعد ادا کرتے تھے ‘ صبح کی نماز آپ صبح صادق ہونے کے بعد ادا کر لیتے تھے ‘ جب بینائی کو دکھائی دینا شروع ہوتا ہے ‘ تو ان سب کے درمیان وقت ہے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) نماز ( کی جاتی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اسی طرح کسی اضافے کے بغیر نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

1685

Majma al-Zawaid #1685

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَقَدَّمَ وَأَخَّرَ وَقَالَ: "" الْوَقْتُ مَا بَيْنَهُمَا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ حَفْصَةُ بِنْتُ عَازِبٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهَا.

EnglishUnverified translation

Al-Barāʾ ibn ʿĀzib رضي الله عنه narrated: A man came to the Prophet ﷺ asking him about the appointed times of prayer. So he instructed Bilāl رضي الله عنه [over two days], who prayed early [on the first day] and delayed [on the second day]. The Prophet ﷺ then said: > **"The time is whatever lies between the two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اور آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ‘ انہوں نے تقدیم بھی کی اور تاخیر بھی کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان دونوں کے درمیان ( نماز کا مخصوص ) وقت ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی خاتون حفصہ بنت عازب ہیں ، میں نے کسی کو اُن کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

1686

Majma al-Zawaid #1686

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا دَلَكَتِ الشَّمْسُ أَذَّنَ بِلَالٌ الظُّهْرَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعَصْرِ حِينَ ظَنَنَّا أَنَّ ظِلَّ الرَّجُلِ أَطْوَلُ مِنْهُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعَشَاءِ حِينَ ذَهَبَ بَيَاضُ النَّهَارِ وَهُوَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْفَجْرِ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ الْغَدَ لِلظَّهْرِ حِينَ دَلَكَتِ الشَّمْسُ، فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ وَصَلَّى، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعَصْرِ فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ وَصَلَّى، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى كَادَ يَغِيبُ بَيَاضُ النَّهَارِ، وَهُوَ الشَّفَقُ فِيمَا نَرَى، ثُمَّ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعِشَاءِ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، فَنِمْنَا ثُمَّ قُمْنَا مِرَارًا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْتَظِرُ هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ؟ فَإِنَّكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا، وَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُ بِتَأْخِيرِ هَذِهِ الصَّلَاةِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ أَوْ أَقْرَبَ مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ "". ثُمَّ أَذَّنَ لِلْفَجْرِ، فَأَخَّرَهَا حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَطْلُعَ، فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى، ثُمَّ قَالَ: "" الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما narrated: A man asked the Messenger of Allah ﷺ about the time of prayer. When the sun declined, Bilāl called the adhān for Ẓuhr, and the Messenger of Allah ﷺ commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. Then he called the adhān for ʿAṣr when we thought that a man's shadow was longer than him, and the Messenger of Allah ﷺ commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. Then he called the adhān for Maghrib when the sun set, and the Messenger of Allah ﷺ commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. Then he called the adhān for ʿIshāʾ when the daylight's whiteness disappeared—which is the twilight—and the Messenger of Allah ﷺ commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. Then he called the adhān for Fajr when dawn broke, and the Messenger of Allah ﷺ commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. On the following day, Bilāl called the adhān for Ẓuhr when the sun declined, but the Messenger of Allah ﷺ delayed it until the shadow of everything was equal to its length, then commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. Then he called the adhān for ʿAṣr, but the Messenger of Allah ﷺ delayed it until the shadow of everything was twice its length, then commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. Then he called the adhān for Maghrib when the sun set, but the Messenger of Allah ﷺ delayed it until the daylight whiteness—which is the twilight in our view—was on the verge of disappearing, then commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. Then he called the adhān for ʿIshāʾ when the twilight disappeared, and we slept and woke up repeatedly until the Messenger of Allah ﷺ came out to us and said: > **"No one among mankind is waiting for this prayer except you. Indeed, you remain in prayer as long as you are awaiting it. Were it not that I would place hardship upon my ummah, I would have commanded that this prayer be delayed until midnight or close to midnight."** Then Bilāl called the adhān for Fajr, and the Prophet ﷺ delayed it until the sun was about to rise, then commanded him, so he called the iqāmah and he ﷺ prayed. Then he ﷺ said: > **"The time is whatever lies between these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : جب سورج ڈھل گیا ، تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ظہر کی اذان دی ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا ‘ انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی ‘ پھر اُنہوں نے عصر کی نماز کے لئے اذان دی ‘ اس وقت جب ہم یہ گمان کر رہے تھے کہ آدمی کا سایہ اس سے زیادہ طویل ہو چکا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا ‘ انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی پھر انہوں نے مغرب کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ‘ جب سورج غروب ہو گیا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی ‘ پھر انہوں نے عشاء کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ‘ جب دن کی سفیدی رخصت ہو گئی تھی ‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس سے مراد شفق ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا ‘ انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی ‘ پھر انہوں نے فجر کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ‘ جب صبح صادق ہوئی تھی نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا ‘ انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی ‘ پھر اگلے دن حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ‘ جب سورج ڈھل گیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اس نماز کو مؤخر کیا ‘ یہاں تک کہ ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا ‘ انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی ‘ پھر انہوں نے عصر کی نماز کے لئے اذان دی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس نماز کو مؤخر کیا ‘ یہاں تک کہ ہر چیز کا سایہ اس سے دو مثل ہو گیا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا ‘ انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی ‘ پھر انہوں نے مغرب کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ‘ جب سورج غروب ہو گیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اس نماز کو مؤخر کیا ، یہاں تک کہ قریب تھا کہ دن کی سفیدی یعنی شفق رخصت ہو جاتی ، جو ہمیں نظر آ رہا تھا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا ‘ انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی ‘ پھر انہوں نے عشاء کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ‘ جب شفق غروب ہوئی تھی ، پھر ہم سو گئے ‘ پھر ہم بیدار ہوئے ایسا کئی مرتبہ ہوا ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ‘ اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے علاوہ لوگوں میں سے کوئی بھی اس نماز کا انتظار نہیں کر رہا ہے ‘ اور تم لوگ جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو ‘ تم نماز کی حالت میں شمار ہو گے ‘ اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ‘ تو میں انہیں یہ نماز نصف رات ‘ یا نصف رات کے قریب تک مؤخر کر کے ادا کرنے کا حکم دیتا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر انہوں نے فجر کی نماز کے لئے اذان دی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے مؤخر کیا ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہو گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا ‘ انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی تو نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کی ‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( نمازوں کا مخصوص ) وقت ان دو کے درمیان ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

1687

Majma al-Zawaid #1687

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ - أَوْ بَشِيرِ بْنِ أَبِي مَسْعُودٍ - كِلَاهُمَا قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ دَلَكَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، صَلِّ الظُّهْرَ، فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَاهُ جِبْرِيلُ حِينَ كَانَ ظِلُّ الشَّيْءِ مِثْلَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، صَلِّ الْعَصْرَ، فَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَتَاهُ جِبْرِيلُ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، صَلِّ الْمَغْرِبَ، فَصَلَّى. ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ [الْأَحْمَرُ] فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ، فَقَامَ فَصَلَّى. ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ بَسَقَ الْفَجْرُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ، فَقَامَ فَصَلَّى. ثُمَّ أَتَاهُ الْغَدَ وَظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلُهُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُمْ فَصَلِّ الظُّهْرَ، فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ. ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، صَلِّ الْعَصْرَ، فَقَامَ فَصَلَّى. ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، صَلِّ الْمَغْرِبَ، فَقَامَ فَصَلَّى. ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُمْ فَصَلِّ. ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ أَسْفَرَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، صَلِّ الصُّبْحَ، فَقَامَ فَصَلَّى. ثُمَّ قَالَ: مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ أَصْلُهُ مِنْ غَيْرِ بَيَانٍ لِأَوَّلِ الْوَقْتِ وَآخِرِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ وَمُسْلِمٌ وَجَمَاعَةٌ، وَوَثَّقَهُ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ فِي رِوَايَةٍ، وَكَذَلِكَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ، وَضَعَّفَهُ فِي رِوَايَاتٍ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Masʿūd al-Anṣārī or Bashīr ibn Abī Masʿūd رضي الله عنهما—both of whom had the honor of the Prophet's ﷺ companionship—narrated: Jibrīl عليه السلام came to the Prophet ﷺ when the sun declined past the meridian and said, "O Muḥammad, pray Ẓuhr." So he stood and prayed Ẓuhr. Then Jibrīl came to him when the shadow of an object was equal to its length and said, "O Muḥammad, pray ʿAṣr." So he stood and prayed. Then Jibrīl came to him when the sun set and said, "O Muḥammad, pray Maghrib." So he prayed. Then he came to him when the red twilight vanished and said, "O Muḥammad, stand and pray ʿIshāʾ." So he stood and prayed. Then he came to him when dawn broke and said, "O Muḥammad, stand and pray Ṣubḥ." So he stood and prayed. Then he came to him on the following day when the shadow of everything was equal to its length and said, "O Muḥammad, stand and pray Ẓuhr." So he stood and prayed Ẓuhr. Then he came to him when the shadow of everything was twice its length and said, "O Muḥammad, pray ʿAṣr." So he stood and prayed. Then he came to him when the sun set—at that exact same time—and said, "O Muḥammad, pray Maghrib." So he stood and prayed. Then he came to him when a period of the night had elapsed and said, "O Muḥammad, stand and pray." Then he came to him when dawn had grown fully luminous and said, "O Muḥammad, pray Ṣubḥ." So he stood and prayed. Then he said: > **"Whatever is between these two is the appointed time."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) حضرت بشیر بن ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ‘ یہ دونوں صحابی ہونے کا شرف حاصل رکھتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ اُس وقت جب سورج ڈھل گیا تھا ، انہوں نے کہا : اے حضرت محمد ! آپ ظہر کی نماز ادا کر لیں ، تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے ، آپ ﷺ نے ظہر کی نماز ادا کر لی پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس اس وقت آئے ‘ جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو چکا تھا ‘ انہوں نے کہا : اے حضرت محمد ! آپ عصر کی نماز ادا کر لیں ، نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے نماز ادا کر لی ‘ پھر حضرت جبرائیل نبی اکرم ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو گیا تھا انہوں نے کہا : اے حضرت محمد ! آپ مغرب کی نماز ادا کر لیں ، نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب شفق یعنی سرخی غروب ہو گئی تھی اور بولے : اے حضرت محمد ! آپ اُٹھیں اور عشاء کی نماز ادا کر لیں ، نبی اکرم ﷺ اٹھے اور عشاء کی نماز ادا کر لی ‘ پھر وہ آپ کے اس وقت آئے جب صبح صادق ہوئی تھی ، انہوں نے کہا : اے حضرت محمد ! آپ اٹھیں اور صبح کی نماز ادا کر لیں ۔ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے نماز ادا کر لی ۔ پھر اگلے دن وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو چکا تھا ، انہوں نے کہا : آے حضرت محمد ! آپ انھیں اور ظہر کی نماز ادا کر لیں ۔ نبی اکرم ﷺ اٹھے اور آپ نے ظہر کی نماز کر لی پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو گیا تھا انہوں نے کہا : اے حضرت محمد ! آپ عصر کی نماز ادا کر لیں ، نبی اکرم ﷺ اٹھے اور آپ نے عصر کی نماز ادا کر لی ‘ پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو گیا تھا ‘ ( دونوں دنوں میں ) یہ ایک ہی وقت ہے ‘ انہوں نے کہا : اے حضرت محمد ! آپ مغرب کی نماز ادا کر لیں ، نبی اکرم ﷺ اٹھے اور آپ نے مغرب کی نماز ادا کر لی ‘ پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے ‘ جب رات کا کچھ حصہ گزر چکا تھا ، انہوں نے کہا : اے حضرت محمد ! آپ اٹھیں اور عشاء کی نماز ادا کر لیں ‘ پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب صبح روشن ہو چکی تھی ‘ انہوں نے کہا : اے حضرت محمد ! آپ صبح کی نماز ادا کر لیں ’ نبی اکرم ﷺ اٹھے اور آپ نے صبح کی نماز ادا کر لی ‘ پھر انہوں نے بتایا : ان دو کے درمیان ( نمازوں کا مخصوص ) وقت ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ’’ صحیح ‘‘ میں اس کی اصل موجود ہے ، جس میں ابتدائی اور آخری وقت کا بیان نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے ‘ جسے علی بن مدینی ‘ امام مسلم اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جب کہ ایک روایت کے مطابق عمرو بن علی نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے بھی اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ جب کہ دیگر روایات کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ تاہم اکثر محدثین نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

1688

Majma al-Zawaid #1688

وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: «كُنْتُ أَقُودُ مَوْلَايَ قَيْسَ بْنَ السَّائِبِ فَيَقُولُ: أَدَلَكَتِ الشَّمْسُ؟ فَإِذَا قُلْتُ: نَعَمْ، صَلَّى الظُّهْرَ وَيَقُولُ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَفْعَلُ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ [حَيَّةٌ]، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَالصَّائِمُ يَتَمَارَى أَنْ يُفْطِرَ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْفَجْرَ حِينَ يَتَغَشَّى النُّورُ السَّمَاءَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا وَفِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ: وَيُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ. وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ، رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ، وَضَعَّفَهُ بَقِيَّةُ النَّاسِ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Mujāhid said: I used to lead the mount of my master, Qays ibn al-Sāʾib رضي الله عنه, and he would ask, "Has the sun declined?" When I said, "Yes," he would pray Ẓuhr and say: > **"Thus did the Messenger of Allah ﷺ do: the Prophet ﷺ used to pray ʿAṣr while the sun was white and vibrant; he used to pray Maghrib while the fasting person might still doubt whether it was time to break his fast; and he used to pray Fajr when light enveloped the sky."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد بیان کرتے ہیں : میں اپنے آقا حضرت قیس بن سائب رضی اللہ عنہ کے سواری کے جانور کو لے کر چل رہا تھا ، انہوں نے دریافت کیا : سورج ڈھل گیا ہے ؟ جب میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے ظہر کی نماز ادا کر لی ‘ اور یہ بات بتائی : نبی اکرم ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ عصر کی نماز اُس وقت ادا کرتے تھے جب سورج روشن اور چمکدار ہوتا تھا ، نبی اکرم ﷺ مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے ‘ جب روزہ دار اس شبہ کا شکار ہوتا تھا کہ شاید اس کی افطاری کا وقت ہو گیا ہے ‘ اور نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے ‘ جب روشنی آسمان کو ڈھانپ لیتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ‘ البتہ معجم اوسط میں انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ آپ ﷺ عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کرتے تھے “۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے ‘ جس سے شعبہ اور سفیان نے روایات نقل کی ہیں ‘ باقی لوگوں نے یعنی امام احمد ‘ یحییٰ بن معین اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

1689

Majma al-Zawaid #1689

وَعَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ عَنْ وَقْتِ الظُّهْرِ فَقَالَ: أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ ظِلَّهُ إِلَى أَنْ يَصِيرَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، وَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الْعَصْرِ فَقَالَ: صَلِّهَا وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ، وَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الْمَغْرِبِ فَقَالَ: إِذَا وَقَعَتِ الشَّمْسُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlqamah narrated that a man asked ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه about the time of Ẓuhr, and he said: > **"It begins when a man's shadow is directly underfoot until the shadow of everything becomes equal to its length."** The man then asked him about the time of ʿAṣr, and he said: > **"Pray it while the sun is still white and vibrant."** And he asked him about the time of Maghrib, and he said: > **"When the sun has set."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ظہر کی نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : یہ کہ آدمی کا سایہ جب اس کے پاؤں میں ہو ‘ اُس وقت سے لے کر جب تک ہر چیز کا سایہ ایک مثل نہیں ہو جاتا ، اُس کے درمیان ( کا وقت ہے ) اُس شخص نے ان سے عصر کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : تم یہ نماز اس وقت ادا کرنا ‘ جب سورج روشن اور چمکدار ہو ‘ اس شخص نے ان سے مغرب کے وقت کے بارے میں دریافت کیا :‘ تو انہوں نے فرمایا : جب سورج غروب ہو جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم ضرار بن صرد ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1690

Majma al-Zawaid #1690

وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ لِلصَّلَاةِ وَقْتًا كَوَقْتِ الْحَجِّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَقَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Qatādah reported that Ibn Masʿūd رضي الله عنه used to say: > **"Indeed, prayer has an appointed time just like the appointed time for Ḥajj."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حج کے مخصوص وقت کی طرح ‘ ہر نماز کا مخصوص نام وقت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ قتادہ نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ‘ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1691

Majma al-Zawaid #1691

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شِدَّةَ الرَّمْضَاءِ، فَلَمْ يُشْكِنَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"We complained to the Messenger of Allah ﷺ about the intense heat of the sun-baked ground [during the midday prayer], but he did not grant us relief [by delaying it further]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ریت کے گرم ہونے کی شکایت کی ‘ تو آپ ﷺ نے ہماری شکایت کو قبول نہیں کیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1692

Majma al-Zawaid #1692

وَلَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ: «شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ بِالْهَاجِرَةِ، فَلَمْ يُشْكِنَا». وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated: > **"We complained to the Messenger of Allah ﷺ about praying in the scorching midday heat (al-hājirah), but he did not grant us relief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ روایت نقل کی ہے : ہم نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں دوپہر کی نماز کی شکایت کی ‘ تو آپ ﷺ نے ہماری شکایت کو قبول نہیں کیا ۔ اس روایت کے رجال بھی ” ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1693

Majma al-Zawaid #1693

وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا عَبْدُ اللَّهِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، فَقُلْتُ لِسُلَيْمَانَ: الظُّهْرُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هَذَا - وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ - مِيقَاتُ هَذِهِ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Masrūq said: ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه led us in prayer when the sun declined past the meridian. I asked Sulaymān, "Is this Ẓuhr?" He replied, "Yes." ʿAbdullāh رضي الله عنه said: > **"By the One besides Whom there is no deity worthy of worship, this is the appointed time of this prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی ‘ اُس وقت جب سورج ڈھل گیا تھا ، تو میں نے سلیمان سے کہا : یہ ظہر کی نماز ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں !! حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ یہ اس نماز کا مخصوص وقت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1694

Majma al-Zawaid #1694

وَعَنْ خَشْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْجَنَادِبُ تَتَقَافَزُ مِنْ حَرِّ الرَّمْضَاءِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Khashf ibn Mālik reported: > **"ʿAbdullāh [ibn Masʿūd] رضي الله عنه used to pray Ẓuhr while the grasshoppers were leaping violently from the heat of the scorching ground."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خشف بن مالک بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز اُس وقت ادا کر لیتے تھے ‘ جب ریت کی تپش کی وجہ سے ’’ جندب ‘‘ ( نام کی ٹڈیاں ) ایک دوسرے پر سوار ہو رہی ہوتی ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

1695

Majma al-Zawaid #1695

وَعَنْ خَبَّابٍ قَالَ: «شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَرَّ الرَّمْضَاءِ، فَلَمْ يُشْكِنَا وَقَالَ: "" إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَلُّوا» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ: "" «إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَلُّوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Khabbāb رضي الله عنه said: We complained to the Messenger of Allah ﷺ about the heat of the scorching stones, but he did not grant us relief, and he said: > **"When the sun declines past the meridian, then pray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ریت کے گرم ہونے کی شکایت کی ‘ تو آپ ﷺ نے ہماری شکایت کو قبول نہیں کیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب سورج ڈھل جائے ‘ تو تم لوگ نماز ادا کر لو ! ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں بھی مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :” جب سورج ڈھل جائے ‘ تو تم لوگ نماز ادا کر لو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1696

Majma al-Zawaid #1696

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَأْخُذُ أَحَدُنَا الْحَصَى فِي يَدِهِ، فَإِذَا بَرَدَ وَضَعَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه narrated: > **"We used to pray with the Messenger of Allah ﷺ, and one of us would hold pebbles in his hand [to cool them]; once they had cooled, he would place them down and prostrate upon them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے ‘ تو ہم میں سے کوئی ایک شخص کنکریاں اپنے ہاتھ میں رکھتا تھا ‘ جب وہ ٹھنڈی ہو جاتی تھیں ، تو پھر وہ انہیں رکھ کر اُس پر سجدہ کرتا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

1697

Majma al-Zawaid #1697

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّمْضَاءَ، فَلَمْ يُشْكِنَا وَقَالَ: "" أَكْثَرُوا مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ; فَإِنَّهَا تَدْفَعُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ بَابًا مِنَ الضُّرِّ، أَدْنَاهَا الْهَمُّ» "". قُلْتُ: لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي الصَّلَاةِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَغَيْرِهِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بَلْهَطُ ضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما said: We complained to the Messenger of Allah ﷺ about the scorching ground, but he did not grant us relief, and he said: > **"Abundantly recite: 'Lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh' (There is no power and no might except with Allah), for indeed it wards off ninety-nine gates of distress, the least of which is grief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ریت کے گرم ہونے کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے ہماری شکایت کو قبول نہیں کیا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تم لوگ کثرت کے ساتھ لا حول ولا قوة الا باللہ پڑھو ! کیونکہ یہ نقصان کے ننانوے دروازے دور کر دیتا ہے ‘ جن میں سے سب سے کمتر ‘ سخت ترین پریشانی ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ایک حدیث ‘ جو گرمی کی شدت میں نماز ادا کرنے کے بارے میں ہے ‘ وہ امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ‘ اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ” بلہط “ ہے ، جسے عقیلی نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اور ابن حبان نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

1698

Majma al-Zawaid #1698

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا كَانَ الْفَيْءُ ذِرَاعًا وَنِصْفًا إِلَى ذِرَاعَيْنِ فَصَلُّوا الظُّهْرَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When the shadow reaches a cubit and a half up to two cubits, then offer the Ẓuhr prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب سایہ ڈیڑھ گز سے دو گز تک ہو جائے ‘ تو تم ظہر کی نماز ادا کر لو ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ‘ اور وہ کذاب ہے ۔

1699

Majma al-Zawaid #1699

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ أَذَّنَ بِالظُّهْرِ وَعُمَرُ بِمَكَّةَ، وَرَفَعَ صَوْتَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا مَحْذُورَةَ، أَمَا خِفْتَ أَنْ تَنْشَقَّ مُرَيْطَاؤُكَ؟ قَالَ: أَحْبَبْتُ أَنْ أُسْمِعَكَ، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ: "" «أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، وَإِنَّ جَهَنَّمَ تَحَاجَّتْ حَتَّى أَكَلَ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَاسْتَأْذَنَتِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي نَفْسَيْنِ فَأَذِنَ لَهَا، فَشِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، وَشَدَّةُ الزَّمْهَرِيرِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَقَالَ: "" «إِنَّ جَهَنَّمَ قَالَتْ: أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا» "" وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ نُسِبَ إِلَى وَضْعِ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه narrated: Abū Maḥdhūrah called the adhān for Ẓuhr while ʿUmar was in Makkah, raising his voice loudly when the sun declined past the meridian. ʿUmar said, "O Abū Maḥdhūrah! Did you not fear that your throat would rupture?" He replied, "I wanted you to hear it." ʿUmar رضي الله عنه then said: Indeed, I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: > **"Cool down the prayer when the heat intensifies, for severe heat is from the simmering flare of Hell. Hell disputed within itself until its parts consumed one another, so it sought permission from Allah, Mighty and Majestic, for two breaths, and He granted it permission: thus, the severity of heat is from its simmering heat, and the severity of bitter frost is from its freezing cold (zamharīr)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے مکہ میں ظہر کی نماز کے لئے اذان دی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اس وقت مکہ میں موجود تھے ‘ انہوں نے آواز کو بلند رکھا ‘ یہ اس وقت کی بات ہے ‘ جب سورج ڈھل گیا تھا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابومحذورہ ! کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ نہیں ہوا کہ تم ( آواز کو زیادہ بلند کرنے کی وجہ سے ) اپنے گلے کی رگوں کو چیر دو گے ؟ تو انہوں نے کہا : مجھے یہ بات اچھی لگی کہ میں اس کی آواز آپ تک پہنچاؤں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا : کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب گرمی شدید ہو ‘ تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرو ‘ کیونکہ گرمی ، جہنم کی تپش کا حصہ ہے ، جہنم بھڑک رہی ہوتی ہے ‘ یہاں تک کہ اُس کا ایک حصہ دوسرے کو کھا لیتا ہے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ سے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت لیتی ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے اجازت دے دیتا ہے ‘ تو گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے ‘ اور سردی کی شدت اُس کی ٹھنڈک کا حصہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ جہنم نے یہ کہا : میرا ایک حصہ دوسرے کو کھا رہا ہے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے ، جس کی نسبت حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی گئی ہے ۔

1700

Majma al-Zawaid #1700

وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ ; فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْقَاسِمُ بْنُ صَفْوَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْقَاسِمُ بْنُ صَفْوَانَ لَا يُعْرَفُ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Al-Qāsim ibn Ṣafwān narrated from his father رضي الله عنه that the Prophet ﷺ said: > **"Delay the Ẓuhr prayer until it cools, for indeed the severity of heat is from the raging heat of Hell."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن صفوان نے ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت میں ادا کرو ! کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور قاسم بن صفوان نامی راوی کو ابن حبان نے ” ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : قاسم بن صفوان نامی راوی کی شناخت صرف اسی حدیث میں ہو سکی ہے ۔

1701

Majma al-Zawaid #1701

وَعَنْ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ حَجَّاجَ بْنَ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيَّ - وَكَانَ إِمَامَهُمْ - يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ - وَكَانَ حَجَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ حَجَّاجٌ: أَرَاهُ [عَبْدُ اللَّهِ] عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Shuʿbah said: I heard Ḥajjāj ibn Ḥajjāj al-Aslamī—who was their imam—narrating from his father, who had performed Ḥajj with the Messenger of Allah ﷺ, from a Companion of the Prophet ﷺ [deemed to be ʿAbdullāh ibn Masʿūd], who reported that the Prophet ﷺ said: > **"Indeed, the severity of heat is from the raging heat of Hell; therefore, when the heat intensifies, delay the prayer until it cools."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شعبہ بیان کرتے ہیں : میں نے حجاج بن حجاج اسلمی کو ‘ جو ان لوگوں کے امام تھے ‘ انہیں اپنے والد کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا : اُن کے والد نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج کیا تھا ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کے ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : حجاج نامی راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ‘ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے ‘ تو جب گرمی شدید ہو ‘ تو نماز ٹھنڈے وقت میں ادا کرو ! “۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1702

Majma al-Zawaid #1702

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Indeed, the severity of heat is from the raging heat of Hell, so delay the prayer until it cools."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ میں سے ہے ‘ تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1703

Majma al-Zawaid #1703

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَبْرِدُوا بِصَلَاةِ الظُّهْرِ ; فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAbasah رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Delay the Ẓuhr prayer until it cools, for indeed the severity of heat is from the raging heat of Hell."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت میں ادا کرو ! کیونکہ گرمی کی شدت ‘ جہنم کی تپش کا حصہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے ‘ اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

1704

Majma al-Zawaid #1704

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: تَطْلُعُ الشَّمْسُ مِنْ جَهَنَّمَ فِي قَرْنِ شَيْطَانٍ أَوْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، فَمَا تَرْتَفِعُ مِنْ قَصَبَةٍ إِلَّا فُتِحَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ النَّارِ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا كُلُّهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي الْأَوْقَاتِ الَّتِي يُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"The sun rises from Hell upon the horn of Satan—or between the two horns of Satan—and it does not rise by the span of a reed except that a gate among the gates of the Fire is opened; then when the heat reaches its peak, all of its gates are opened wide."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سورج ‘ جہنم سے ‘ شیطان کے سینگ میں ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ‘ جیسے ہی وہ ایک قصبہ ( پیمائش کا مخصوص پیمانہ ) جتنا بلند ہوتا ہے ‘ تو جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے ‘ یہاں تک کہ جب تک گرمی شدید ہو جائے ، تو اُس وقت اس کے تمام دروازے کھول دیے گئے ہوتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ‘ یہ ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ‘ اور وہ روایت اس باب میں آئے گی ‘ جس میں اُن اوقات کا تذکرہ ہے ، جن میں نماز ادا کرنا مکروہ قرار دیا گیا ہے ۔

1705

Majma al-Zawaid #1705

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَارِيَةٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ سَلِيطٍ عَنْهُ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ ابْنَ سَلِيطٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Jāriyah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Delay Ẓuhr until it cools."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن جاریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ظہر کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرو ! ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابن سلیط کی حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ میں نے کسی کو ابن سلیط کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

1706

Majma al-Zawaid #1706

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ فِي أَيَّامِ الشِّتَاءِ، وَمَا نَدْرِي أَمَا مَضَى مِنَ النَّهَارِ أَكْثَرُ أَوْ مَا بَقِيَ». قُلْتُ: لِأَنَسٍ حَدِيثٌ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ فِي تَقْدِيمِهَا فِي السَّفَرِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْتَحِلَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ رِوَايَةِ مُوسَى أَبِي الْعَلَاءِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated: > **"The Messenger of Allah ﷺ used to pray Ẓuhr during the winter days at such a time that we could not tell whether more of the day had elapsed or more remained."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ گرمی میں ظہر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے کہ ہمیں اندازہ نہیں ہو پاتا تھا ‘ کہ دن کا زیادہ حصہ گزر چکا ہے ‘ یا باقی رہ گیا ہے ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ‘ جس میں یہ بات ذکر کی گئی ہے : کہ جب نبی اکرم ﷺ نے سفر کے دوران روانہ ہونا ہوتا تھا ، تو آپ ﷺ اس نماز کو جلدی ادا کر لیتے تھے ۔ ب یہ روایت امام احمد نے موسیٰ ابوالعلاء کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

1707

Majma al-Zawaid #1707

عَنْ أَبِي أَرْوَى قَالَ: «كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْعَصْرِ بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ آتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ، وَهِيَ عَلَى قَدْرِ فَرْسَخَيْنِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو وَاقَدٍ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالدَّارَقُطْنِيُّ وَجَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Arwā رضي الله عنه said: > **"I used to pray the ʿAṣr prayer with the Prophet ﷺ in Madīnah, and then I would reach Dhū al-Ḥulayfah before the sun set—and it is a distance of two parasangs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابواروی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں عصر کی نماز ادا کرتا تھا ، پھر میں سورج غروب ہونے سے پہلے ’’ ذوالحلیفہ ‘‘ آ جاتا تھا ‘ اور یہ جگہ دو فرسخ کے فاصلے پر ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ امام احمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ‘ اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن محمد ابوواقد ہے ‘ جسے امام احمد نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ جب کہ یحیی بن معین امام دارقطنی اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

1708

Majma al-Zawaid #1708

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُ بِتَأْخِيرِ الْعَصْرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ قِصَّةٌ، وَلَمْ يُسَمِّ تَابِعِيَّهُ، وَقَدْ سَمَّاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَافِعٍ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ نَافِعٍ الْكُلَاعِيُّ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَذَكَرَهُ فِي الضُّعَفَاءِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Rāfiʿ ibn Khadīj رضي الله عنه narrated: > **"The Messenger of Allah ﷺ used to command the delaying of the ʿAṣr prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کا حکم دیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام احمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ جس میں پورا واقعہ ذکر ہوا ہے ۔ انہوں نے اس روایت کے تابعی کا نام بیان نہیں کیا ہے ‘ امام طبرانی نے اس کا نام عبداللہ بن رافع بیان کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن نافع کلاعی ہے ‘ جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ اور انہوں نے اس راوی کا ذکر کتاب ’’ الضعفاء ‘‘ میں بھی کیا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

1709

Majma al-Zawaid #1709

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُؤَخِّرُ الْعَصْرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Yazīd reported: > **"Ibn Masʿūd رضي الله عنه used to delay the ʿAṣr prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1710

Majma al-Zawaid #1710

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ أَبْعَدَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ دَارًا مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو لَبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ - مِنْ أَهْلِ قُبَاءٍ - وَأَبُو عَبَسِ بْنُ جَبْرٍ - وَمَسْكَنُهُ فِي بَنِي حَارِثَةَ - فَيُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَصْرَ، ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلَّوْا لِتَعْجِيلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْعَصْرِ». قُلْتُ: لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي تَعْجِيلِ الْعَصْرِ غَيْرِ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ، إِلَّا ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه said: > **"The two men from the Anṣār whose dwellings were farthest from the mosque of the Messenger of Allah ﷺ were Abū Lubābah ibn ʿAbd al-Mundhir—from the people of Qubāʾ—and Abū ʿAbs ibn Jabr, whose dwelling was among Banū Ḥārithah. They would both pray ʿAṣr with the Messenger of Allah ﷺ and then return to their respective clans while their people had not yet prayed, owing to the promptness of the Messenger of Allah ﷺ in offering the ʿAṣr prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے جن دو افراد کے گھر ‘ اللہ کے رسول کی مسجد سے سب سے زیادہ دور تھے ‘ وہ افراد یہ ہیں : حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ جن کا تعلق قباء سے ہے ‘ اور حضرت ابو عبس بن جبر رضی اللہ عنہ جن کی رہائش گاہ بنو حارثہ کے محلے میں تھی ، لیکن یہ دونوں صاحبان نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں عصر کی نماز ادا کرتے تھے ‘ اور پھر یہ دونوں اپنی قوم میں واپس چلے جاتے تھے ‘ اور اُن لوگوں نے ابھی تک نماز ادا نہیں کی ہوتی تھی ‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی اکرم ﷺ عصر کی نماز جلدی ادا کر لیتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں بھی مذکور ہے ‘ جو عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کے بارے میں ہے ‘ لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ معجم کبیر کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ‘ صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے ‘ وہ تدلیس کرنے والا ہے ‘ اور اس نے یہ روایت ’’ عنعنہ ‘‘ کے ساتھ نقل کی ہے ۔

1711

Majma al-Zawaid #1711

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ بِقَدْرِ مَا يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَى بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَيَرْجِعُ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ». قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated: > **"The Messenger of Allah ﷺ used to pray ʿAṣr early enough that a man could walk all the way to Banū Ḥārithah ibn al-Ḥārith and return before the sun set."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عصر کی نماز اس وقت ادا کر لیتے تھے کہ اگر کوئی شخص اُس کے بعد بنو حارثہ بن حارث کے محلے میں جاتا ، تو سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں سے واپس بھی آ سکتا تھا ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس روایت پر کلام اس سے پہلے گزر چکا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

1712

Majma al-Zawaid #1712

وَلَهُ عِنْدَ أَبِي يَعْلَى وَالْبَزَّارِ: «كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَآتِي عَشِيرَتِي فَأَقُولُ لَهُمْ: قُومُوا فَصَّلُوا، فَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated: > **"We used to pray with the Prophet ﷺ, and then I would go to my clan and say to them: 'Stand and pray, for the Messenger of Allah ﷺ has already prayed!'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کے حوالے سے ‘ امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے یہ روایت نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کرتا تھا ، پھر میں اپنے خاندان میں آ جاتا تھا اور اُن سے یہ کہتا تھا : تم لوگ اُٹھو اور نماز ادا کر لو ! اللہ کے رسول ﷺ نماز ادا کر چکے ہیں ۔ اس روایت کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1713

Majma al-Zawaid #1713

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ - يَعْنِي الْعَصْرَ - فُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا، فَمَنْ حَافَظَ [مِنْكُمُ الْيَوْمَ] عَلَيْهَا أُعْطِيَ أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يُرَى الشَّاهِدُ، - يَعْنِي النَّجْمَ» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Indeed, this prayer—meaning ʿAṣr—was made obligatory upon those who came before you, but they neglected it. So whoever among you preserves it today shall be given his reward twice over. And there is no prayer after it until the witness is seen—meaning the star."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک یہ نماز ( راوی کہتے ہیں : یعنی عصر کی نماز ) تم سے پہلے لوگوں پر فرض قرار دی گئی تھی ، لیکن انہوں نے اُسے ضائع کر دیا ‘ تم میں سے آج جو اس کی حفاظت کرے گا ‘ اُسے اس کا دگنا اجر دیا جائے گا ‘ اور پھر اس کے بعد کوئی ( نفل ) نماز ادا نہیں کی جائے گی ‘ یہاں تک ’’ شاہد ‘‘ دکھائی دے ‘‘ ( راوی کہتے ہیں : اس سے مراد ستارہ ہے ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ تدلیس کرنے والا ہے ۔

1714

Majma al-Zawaid #1714

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - أَظُنُّهُ ابْنَ عَمْرٍو. قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ أَحْيَانًا يَرْفَعُهُ وَأَحْيَانًا لَا يَرْفَعُهُ - قَالَ: «وَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ يَحْضُرْ وَقْتُ الْمَغْرِبِ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb reported from ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما, who said: > **"The time for ʿAṣr remains valid as long as the time for Maghrib has not arrived."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوایوب نے ‘ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : شعبہ نامی راوی کہتے ہیں : بعض اوقات انہوں نے اسے ” مرفوع ‘‘ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ‘ اور بعض اوقات اسے ’’ مرفوع ‘‘ روایت کے طور پر نقل نہیں کیا ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : ’’ عصر کی نماز کا وقت ‘ اُس وقت تک رہتا ہے ، جب تک مغرب کا وقت شروع نہیں ہو جاتا ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔