وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَعَثَتْ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِمَ عَلَيْهِ، فَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ - وَكَانَ ضِمَامٌ رَجُلًا أَشْعَرَ ذَا غَدِيرَتَيْنِ - فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ: أَيُّكُمُ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ "". قَالَ: مُحَمَّدٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنِّي سَائِلُكَ وَمُغْلِظٌ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَلَا تَجِدَنَّ فِي نَفْسِكَ. قَالَ: "" لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي، فَسَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ "". قَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلَهِكَ وَإِلَهِ مَنْ قَبْلَكَ وَإِلَهِ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ، آللَّهُ بَعَثَكَ إِلَيْنَا رَسُولًا؟ قَالَ: "" اللَّهُمَّ نَعَمْ ""، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلَهِكَ وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنَّ تَأْمُرَنَا أَنْ نَعْبُدَهُ لَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ نَخْلَعَ هَذِهِ الْأَنْدَادَ الَّتِي كَانَ آبَاؤُنَا يَعْبُدُونَ مَعَهُ؟ قَالَ: "" اللَّهُمَّ نَعَمْ "". قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ وَإِلَهَ مَنْ قَبْلَكَ وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنَّ تُصَلِّيَ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ؟ قَالَ: "" اللَّهُمَّ نَعَمْ "". قَالَ: ثُمَّ جَعَلَ يَذْكُرُ فَرَائِضَ الْإِسْلَامِ فَرِيضَةً فَرِيضَةً: الزَّكَاةَ، وَالصِّيَامَ، وَالْحَجَّ، وَشَرَائِعَ الْإِسْلَامِ كُلَّهَا، يُنَاشِدُهُ عِنْدَ كُلِّ فَرِيضَةٍ كَمَا نَاشَدَهُ فِي الَّتِي قَبْلَهَا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَسَأُؤَدِّي هَذِهِ الْفَرَائِضَ وَأَجْتَنِبُ مَا نَهَيْتِنِي عَنْهُ، لَا أَزْيَدَ وَلَا أَنْقُصُ. قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى بَعِيرِهِ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ وَلَّى: "" إِنْ صَدَقَ ذُو الْعَقِيصَتَيْنِ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ "". قَالَ: فَأَتَى بَعِيرَهُ فَأَطْلَقَ عِقَالَهُ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَكَانَ أَوَّلُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ: بِئْسَتِ اللَّاتُ وَالْعُزَّى. قَالُوا: مَهْ يَا ضِمَامُ، اتَّقِ الْبَرَصَ وَالْجُذَامَ، اتَّقِ الْجُنُونَ. قَالَ: وَيْلَكُمْ، إِنَّهُمَا وَاللَّهِ مَا يَضُرَّانِ وَلَا يَنْفَعَانِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ رَسُولًا، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ كِتَابًا اسْتَنْقَذَكُمْ بِهِ مِمَّا كُنْتُمْ فِيهِ، وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِهِ بِمَا أَمَرَكُمْ بِهِ وَنَهَاكُمْ عَنْهُ. قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا أَمْسَى فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَفِي حَاضِرِهِ رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَّا مُسْلِمًا. قَالَ: يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَا سَمِعْنَا بِوَافِدِ قَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْ ضِمَامٍ». قُلْتُ: عَزَاهُ صَاحِبُ الْأَطْرَافِ إِلَى أَبِي دَاوُدَ، وَلَمْ أَجِدْ فِي أَبِي دَاوُدَ إِلَّا طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ.
EnglishUnverified translation
ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported: The tribe of Banū Saʿd ibn Bakr dispatched Ḍimām ibn Thaʿlabah as an emissary to the Messenger of Allah ﷺ. He arrived, made his camel kneel at the door of the mosque, hobbled it, and entered the mosque while the Messenger of Allah ﷺ was seated among his Companions. Ḍimām was a hairy man with two braided locks. He approached until he stood before the Messenger of Allah ﷺ among his Companions and asked, "Which of you is the son of ʿAbd al-Muṭṭalib?" The Messenger of Allah ﷺ replied, "I am the son of ʿAbd al-Muṭṭalib." He asked, "Muḥammad?" He ﷺ replied, "Yes." He said, "O son of ʿAbd al-Muṭṭalib, I shall question you and be stern in questioning, so harbor no resentment in yourself." He ﷺ said, "I harbor no resentment; ask whatever seems fit to you." He said, "I adjure you by Allah—your God, the God of those before you, and the God of whoever comes after you—did Allah send you as a Messenger to us?" He ﷺ replied, "O Allah, yes." He said, "I adjure you by Allah—your God and the God of whoever comes after you—did Allah command you to instruct us to worship Him alone, associating nothing with Him, and to cast off these rivals that our forefathers used to worship alongside Him?" He ﷺ replied, "O Allah, yes." He said, "I adjure you by Allah—your God, the God of those before you, and the God of whoever comes after you—did Allah command you to perform these five prayers?" He ﷺ replied, "O Allah, yes." He then continued mentioning the obligatory duties of Islam one by one: zakah, fasting, pilgrimage, and all the laws of Islam, adjuring him at each obligation as he had adjured him concerning the one before it. When he finished, he said, "I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah, and I bear witness that Muḥammad is the Messenger of Allah. I shall fulfill these obligations and avoid what you have forbidden me, neither adding nor diminishing anything." He then turned back toward his camel. As he turned away, the Messenger of Allah ﷺ said: > **"If the man with the two braided locks has spoken the truth, he will enter Paradise."** Ḍimām reached his camel, untied its hobble, and rode until he reached his people. When they gathered around him, the first words he spoke were: "Wretched are al-Lāt and al-ʿUzzā!" They cried: "Hold, O Ḍimām! Beware of leprosy, beware of vitiligo, beware of madness!" He said: "Woe to you! By Allah, they can neither harm nor benefit. Allah has sent a Messenger and revealed to him a Book by which He has rescued you from that which you were upon. I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah alone, without partner, and that Muḥammad is His servant and Messenger. I have brought to you from him that which he has commanded you with and that which he has forbidden you from." By Allah, by that evening there was not a single man or woman in his settlement who had not embraced Islam. Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: "We never heard of an emissary of any people more virtuous than Ḍimām."
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنو سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو وافد ( یعنی نمائندے کے طور پر ) نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجا ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اُس نے مسجد کے دروازے پر اپنے اونٹ کو بٹھایا اور پھر اُسے باندھ دیا ، پھر وہ مسجد میں داخل ہوا ‘ نبی اکرم ﷺ اس وقت اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ‘ ضمام ایک ایسا شخص تھا ، جس کے بال زیادہ تھے ‘ اور اس نے زلفیں رکھی ہوئی تھیں ، وہ آیا اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے درمیان موجود ‘ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، اُس نے دریافت کیا : آپ لوگوں میں سے جناب عبدالمطلب کے صاحبزادے کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں عبدالمطلب کا صاحبزادہ ہوں ، اُس نے دریافت کیا : آپ حضرت محمد ﷺ ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا : جناب عبدالمطلب کے صاحبزادے ! میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں ‘ سوال کرتے ہوئے میرے لہجے میں سختی ہو سکتی ہے ‘ تو آپ اس بات کا برا نہ منائیے گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں برا نہیں مناؤں گا ، تمہیں جو مناسب لگتا ہے ‘ تم پوچھو ! اس نے کہا : میں آپ کو اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، جو آپ کا معبود ہے ‘ اور آپ سے پہلے والوں کا معبود ہے ‘ اور آپ کے بعد جو لوگ بھی ہوں گے ‘ اُن کا معبود ہے ‘ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہماری طرف رسول بنا کر مبعوث کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ جانتا ہے ‘ جی ہاں ! اس نے کہا : میں آپ کو اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ‘ جو آپ کا بھی معبود ہے ‘ اور ہر اس فرد کا معبود ہے ‘ جو آپ کے بعد ہو گا ، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ ہمیں اس بات کا حکم دیں کہ ہم اُسی کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں ‘ اور اپنے ان باطل معبودوں سے الگ ہو جائیں ‘ جن کی ہمارے آباؤ اجداد ‘ اللہ تعالیٰ کے ہمراہ عبادت کیا کرتے تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ جانتا ہے ‘ ایسا ہی ہے ‘ اُس نے کہا : میں آپ کو اُس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ‘ جو آپ کا معبود ہے ‘ اور آپ سے پہلے والوں کا اور آپ کے بعد جتنے بھی ہوں گے ‘ اُن کا معبود ہے ‘ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ نے یہ پانچ نمازیں ادا کرنی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! راوی بیان کرتے ہیں : پھر اُس شخص نے اسلام کے فرائض کو ایک ‘ ایک کر کے ذکر کیا ‘ زکوۃ ‘ روزوں ‘ حج اور شریعت کے تمام بنیادی احکام کا ذکر کیا اور ہر فرض کا ذکر کرتے ہوئے ‘ اُس نے نبی اکرم ﷺ کو اللہ کا واسطہ دیا ‘ اور جس طرح اُس سے پہلے والے فرض کے بارے میں ‘ اُس نے نبی اکرم ﷺ کو واسطہ دے کر دریافت کیا تھا ، جب وہ اس بات سے فارغ ہوا ‘ تو وہ بولا : کہ میں اس کی بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، میں آگے چل کر یہ فرائض سرانجام دوں گا ‘ اور آپ نے مجھے جن چیزوں سے منع کیا ہے ‘ اُن سے اجتناب کروں گا میں ان احکام میں کوئی کمی یا کوئی اضافہ نہیں کروں گا ‘ راوی کہتے ہیں : پھر وہ اپنے اونٹ کی طرف جانے کے لئے مڑ گیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ مڑ گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر یہ زلفوں والا شخص سچ کہہ رہا ہے ‘ تو یہ جنت میں داخل ہو گا ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ شخص اپنے اونٹ کے پاس آیا ‘ اُس نے اپنے اونٹ کی رسی کھولی ‘ پھر وہ وہاں سے روانہ ہوا ‘ یہاں تک کہ وہ اپنی قوم کے پاس آیا ، لوگ اکھٹے ہو کر اس کے پاس آئے ‘ تو اس نے جو سب سے پہلی بات کی وہ یہ کہی : لات اور عزیٰ بہت برے ہیں ، اُن لوگوں نے کہا : اے ضمام رک جاؤ ! تم برص اور جذام سے بچ کے رہو ! تم جنون سے بچ کے رہو ! اُس نے کہا : تم لوگوں کا ستیاناس ہو ‘ اللہ کی قسم ! یہ دونوں نہ تو کوئی نقصان دے سکتے ہیں ‘ اور نہ کوئی نفع دے سکتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے رسول کو مبعوث کیا ہے ‘ اور ان پر کتاب نازل کی ہے ‘ تاکہ وہ اُس رسول کے ذریعے تمہیں اس چیز ( یعنی شرک ) سے بچائے ، جس میں تم مبتلا ہو ‘ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ صرف وہی معبود ہے ‘ اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، میں ان کے پاس سے تمہارے پاس وہ چیز لے کے آیا ہوں ‘ جس کا انہوں نے تمہیں حکم دیا ہے ‘ اور جس چیز سے انہوں نے تمہیں منع کیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! اس دن شام ہونے سے پہلے ‘ وہاں جتنے بھی مرد اور عورت موجود تھے ۔ ان میں سے ہر ایک مسلمان ہو گیا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کسی بھی قوم کے نمائندے کے بارے میں ‘ ہم نے یہ نہیں سنا ‘ جو ضمام سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ’’ اطراف ‘‘ کے مصنف نے اس روایت کی نسبت امام ابوداؤد کی طرف کی ہے ‘ لیکن میں نے سنن ابوداؤد میں یہ روایت نہیں پائی ‘ اس کا صرف ابتدائی حصہ پایا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔