Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 4 · Chapter 1

Book of Prayer

Hadith 1595–1634

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1595

Majma al-Zawaid #1595

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ عَلِمَ أَنَّ الصَّلَاةَ حَقٌّ وَاجِبٌ دَخَلَ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ فِي زِيَادَاتِهِ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «حَقٌّ مَكْتُوبٌ وَاجِبٌ» ""، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn ʿAffān رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever knows that prayer is a binding truth and obligation shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جو شخص یہ بات جان لے ‘ کہ نماز حق اور واجب ہے ‘ وہ جنت میں داخل ہو گا ‘‘۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے اپنی ’’ زیادات ‘‘ میں نقل کی ہے ‘ اسے امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کیا ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ حق ہے ‘ لازم کی گئی ہے ‘ واجب ہے ‘‘۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1596

Majma al-Zawaid #1596

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَى الْعِبَادِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَرَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ. وَتَأْتِي فِي صَلَاةِ السَّفَرِ أَحَادِيثُ فِي فَرْضِ الصَّلَاةِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that she heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Indeed, Allah has obligated upon His servants five prayers in every day and night."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ‘ ہر دن اور رات میں ‘ بندوں پر پانچ نمازیں فرض قرار دی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ‘ اپنے استاد محمد بن راشد کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ میں اُن سے واقف نہیں ہوں رؤاد بن جراح نامی راوی کو امام احمد نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور ابن حبان نے بھی ” ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، نماز کی فرضیت کے بارے میں ‘ احادیث آگے چل کر ‘ سفر کی نماز سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

1597

Majma al-Zawaid #1597

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ أَوَّلَ مَا افْتَرَضَ اللَّهُ - تَعَالَى - عَلَى النَّاسِ مِنْ دِينِهِمُ الصَّلَاةُ، وَآخَرُ مَا يَبْقَى الصَّلَاةُ، وَأَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ، يَقُولُ اللَّهُ: انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي، فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ تَامَّةً، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً قَالَ: انْظُرُوا هَلْ لَهُ مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَإِنْ وُجِدَ لَهُ تَطَوُّعٌ تَمَّتِ الْفَرِيضَةُ مِنَ التَّطَوُّعِ، ثُمَّ قَالَ: انْظُرُوا هَلْ زَكَاتُهُ تَامَّةٌ؟ فَإِنْ وُجِدَتْ زَكَاتُهُ تَامَّةً كُتِبَتْ تَامَّةً، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً قَالَ: انْظُرُوا هَلْ لَهُ صَدَقَةٌ؟ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ تَمَّتْ لَهُ زَكَاتُهُ مِنَ الصَّدَقَةِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ عَدِيٍّ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, the first thing that Allah the Exalted obligated upon people from their religion is the prayer, the last thing that remains is the prayer, and the first thing for which the servant will be brought to account is the prayer. Allah will say: 'Look into the prayer of My servant: if it is complete, let it be recorded as complete; and if it is deficient, He will say: Look, does he have any voluntary prayers?' If voluntary prayers are found for him, the obligatory prayer will be completed from the voluntary prayers. Then He will say: 'Look, is his zakah complete?' If his zakah is found to be complete, it will be recorded as complete; and if it is deficient, He will say: 'Look, does he have any voluntary charity?' If he has voluntary charity, his zakah will be completed from the voluntary charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے بندوں پر ‘ اُن کے دین کے حوالے سے ‘ سب سے پہلے اُن پر نماز فرض کی ہے ‘ اور آخری باقی رہ جانے والی چیز بھی نماز ہے ‘ بندے سے سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا ‘ وہ نماز ہے ‘ اللہ تعالی ( فرشتوں سے ) فرمائے گا : میرے بندے کی نماز کا جائزہ لو ! اگر وہ مکمل ہوئی ، تو وہ مکمل نوٹ کی جائے گی ‘ اور اگر وہ ناقص ہوئی ‘ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم اس بات کا جائزہ لو ! کہ کیا اس کی کوئی نفل نماز ہے ؟ اگر اس کی کوئی نفل نماز مل گئی ‘ تو نفل کے ذریعے اُس کے فریضے کو مکمل کر دیا جائے گا ‘ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اس بات کا جائزہ لو ! کہ کیا اس کی زکوٰۃ مکمل ہے ؟ تو اگر اس بندے کی زکوٰۃ مکمل پائی گئی ‘ تو وہ مکمل نوٹ کی جائے گی ‘ اور اگر وہ ناقص ہوئی ‘ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اس بات کا جائزہ لو ! کہ کیا اس نے کوئی صدقہ کیا ہے ؟ اگر اس کا کوئی صدقہ ہوا ‘ تو صدقے کے ذریعے اس کی زکوٰۃ کو مکمل کیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ‘ جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ یحییٰ بن معین اور ابن عدی نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

1598

Majma al-Zawaid #1598

وَعَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ قَالَ: سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ: رُكُوعِهِنَّ، وَسُجُودِهِنَّ، وَمَوَاقِيتِهِنَّ، وَعَلِمَ أَنَّهُنَّ حَقٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ - دَخَلَ الْجَنَّةَ "" أَوْ قَالَ: "" وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ "" أَوْ قَالَ: "" حَرُمَ عَلَى النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ḥanẓalah al-Kātib رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever safeguards the five prayers—their bowings, their prostrations, and their appointed times—and knows that they are a truth from Allah, shall enter Paradise"**—or he said: **"Paradise is guaranteed for him,"** or he said: **"he is forbidden to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص پانچ نمازوں ‘ اُن کے رکوع ‘ اُن کے سجود اور اُن کے اوقات کی حفاظت کرے گا ‘ اور یہ بات جان لے گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا حق ہے ‘ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ جہنم پر حرام ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

1599

Majma al-Zawaid #1599

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَعَثَتْ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِمَ عَلَيْهِ، فَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ - وَكَانَ ضِمَامٌ رَجُلًا أَشْعَرَ ذَا غَدِيرَتَيْنِ - فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ: أَيُّكُمُ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ "". قَالَ: مُحَمَّدٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنِّي سَائِلُكَ وَمُغْلِظٌ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَلَا تَجِدَنَّ فِي نَفْسِكَ. قَالَ: "" لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي، فَسَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ "". قَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلَهِكَ وَإِلَهِ مَنْ قَبْلَكَ وَإِلَهِ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ، آللَّهُ بَعَثَكَ إِلَيْنَا رَسُولًا؟ قَالَ: "" اللَّهُمَّ نَعَمْ ""، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلَهِكَ وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنَّ تَأْمُرَنَا أَنْ نَعْبُدَهُ لَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ نَخْلَعَ هَذِهِ الْأَنْدَادَ الَّتِي كَانَ آبَاؤُنَا يَعْبُدُونَ مَعَهُ؟ قَالَ: "" اللَّهُمَّ نَعَمْ "". قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ وَإِلَهَ مَنْ قَبْلَكَ وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنَّ تُصَلِّيَ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ؟ قَالَ: "" اللَّهُمَّ نَعَمْ "". قَالَ: ثُمَّ جَعَلَ يَذْكُرُ فَرَائِضَ الْإِسْلَامِ فَرِيضَةً فَرِيضَةً: الزَّكَاةَ، وَالصِّيَامَ، وَالْحَجَّ، وَشَرَائِعَ الْإِسْلَامِ كُلَّهَا، يُنَاشِدُهُ عِنْدَ كُلِّ فَرِيضَةٍ كَمَا نَاشَدَهُ فِي الَّتِي قَبْلَهَا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَسَأُؤَدِّي هَذِهِ الْفَرَائِضَ وَأَجْتَنِبُ مَا نَهَيْتِنِي عَنْهُ، لَا أَزْيَدَ وَلَا أَنْقُصُ. قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى بَعِيرِهِ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ وَلَّى: "" إِنْ صَدَقَ ذُو الْعَقِيصَتَيْنِ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ "". قَالَ: فَأَتَى بَعِيرَهُ فَأَطْلَقَ عِقَالَهُ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَكَانَ أَوَّلُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ: بِئْسَتِ اللَّاتُ وَالْعُزَّى. قَالُوا: مَهْ يَا ضِمَامُ، اتَّقِ الْبَرَصَ وَالْجُذَامَ، اتَّقِ الْجُنُونَ. قَالَ: وَيْلَكُمْ، إِنَّهُمَا وَاللَّهِ مَا يَضُرَّانِ وَلَا يَنْفَعَانِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ رَسُولًا، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ كِتَابًا اسْتَنْقَذَكُمْ بِهِ مِمَّا كُنْتُمْ فِيهِ، وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِهِ بِمَا أَمَرَكُمْ بِهِ وَنَهَاكُمْ عَنْهُ. قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا أَمْسَى فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَفِي حَاضِرِهِ رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَّا مُسْلِمًا. قَالَ: يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَا سَمِعْنَا بِوَافِدِ قَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْ ضِمَامٍ». قُلْتُ: عَزَاهُ صَاحِبُ الْأَطْرَافِ إِلَى أَبِي دَاوُدَ، وَلَمْ أَجِدْ فِي أَبِي دَاوُدَ إِلَّا طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported: The tribe of Banū Saʿd ibn Bakr dispatched Ḍimām ibn Thaʿlabah as an emissary to the Messenger of Allah ﷺ. He arrived, made his camel kneel at the door of the mosque, hobbled it, and entered the mosque while the Messenger of Allah ﷺ was seated among his Companions. Ḍimām was a hairy man with two braided locks. He approached until he stood before the Messenger of Allah ﷺ among his Companions and asked, "Which of you is the son of ʿAbd al-Muṭṭalib?" The Messenger of Allah ﷺ replied, "I am the son of ʿAbd al-Muṭṭalib." He asked, "Muḥammad?" He ﷺ replied, "Yes." He said, "O son of ʿAbd al-Muṭṭalib, I shall question you and be stern in questioning, so harbor no resentment in yourself." He ﷺ said, "I harbor no resentment; ask whatever seems fit to you." He said, "I adjure you by Allah—your God, the God of those before you, and the God of whoever comes after you—did Allah send you as a Messenger to us?" He ﷺ replied, "O Allah, yes." He said, "I adjure you by Allah—your God and the God of whoever comes after you—did Allah command you to instruct us to worship Him alone, associating nothing with Him, and to cast off these rivals that our forefathers used to worship alongside Him?" He ﷺ replied, "O Allah, yes." He said, "I adjure you by Allah—your God, the God of those before you, and the God of whoever comes after you—did Allah command you to perform these five prayers?" He ﷺ replied, "O Allah, yes." He then continued mentioning the obligatory duties of Islam one by one: zakah, fasting, pilgrimage, and all the laws of Islam, adjuring him at each obligation as he had adjured him concerning the one before it. When he finished, he said, "I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah, and I bear witness that Muḥammad is the Messenger of Allah. I shall fulfill these obligations and avoid what you have forbidden me, neither adding nor diminishing anything." He then turned back toward his camel. As he turned away, the Messenger of Allah ﷺ said: > **"If the man with the two braided locks has spoken the truth, he will enter Paradise."** Ḍimām reached his camel, untied its hobble, and rode until he reached his people. When they gathered around him, the first words he spoke were: "Wretched are al-Lāt and al-ʿUzzā!" They cried: "Hold, O Ḍimām! Beware of leprosy, beware of vitiligo, beware of madness!" He said: "Woe to you! By Allah, they can neither harm nor benefit. Allah has sent a Messenger and revealed to him a Book by which He has rescued you from that which you were upon. I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah alone, without partner, and that Muḥammad is His servant and Messenger. I have brought to you from him that which he has commanded you with and that which he has forbidden you from." By Allah, by that evening there was not a single man or woman in his settlement who had not embraced Islam. Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: "We never heard of an emissary of any people more virtuous than Ḍimām."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنو سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو وافد ( یعنی نمائندے کے طور پر ) نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجا ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اُس نے مسجد کے دروازے پر اپنے اونٹ کو بٹھایا اور پھر اُسے باندھ دیا ، پھر وہ مسجد میں داخل ہوا ‘ نبی اکرم ﷺ اس وقت اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ‘ ضمام ایک ایسا شخص تھا ، جس کے بال زیادہ تھے ‘ اور اس نے زلفیں رکھی ہوئی تھیں ، وہ آیا اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے درمیان موجود ‘ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، اُس نے دریافت کیا : آپ لوگوں میں سے جناب عبدالمطلب کے صاحبزادے کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں عبدالمطلب کا صاحبزادہ ہوں ، اُس نے دریافت کیا : آپ حضرت محمد ﷺ ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا : جناب عبدالمطلب کے صاحبزادے ! میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں ‘ سوال کرتے ہوئے میرے لہجے میں سختی ہو سکتی ہے ‘ تو آپ اس بات کا برا نہ منائیے گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں برا نہیں مناؤں گا ، تمہیں جو مناسب لگتا ہے ‘ تم پوچھو ! اس نے کہا : میں آپ کو اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، جو آپ کا معبود ہے ‘ اور آپ سے پہلے والوں کا معبود ہے ‘ اور آپ کے بعد جو لوگ بھی ہوں گے ‘ اُن کا معبود ہے ‘ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہماری طرف رسول بنا کر مبعوث کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ جانتا ہے ‘ جی ہاں ! اس نے کہا : میں آپ کو اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ‘ جو آپ کا بھی معبود ہے ‘ اور ہر اس فرد کا معبود ہے ‘ جو آپ کے بعد ہو گا ، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ ہمیں اس بات کا حکم دیں کہ ہم اُسی کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں ‘ اور اپنے ان باطل معبودوں سے الگ ہو جائیں ‘ جن کی ہمارے آباؤ اجداد ‘ اللہ تعالیٰ کے ہمراہ عبادت کیا کرتے تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ جانتا ہے ‘ ایسا ہی ہے ‘ اُس نے کہا : میں آپ کو اُس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ‘ جو آپ کا معبود ہے ‘ اور آپ سے پہلے والوں کا اور آپ کے بعد جتنے بھی ہوں گے ‘ اُن کا معبود ہے ‘ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ نے یہ پانچ نمازیں ادا کرنی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! راوی بیان کرتے ہیں : پھر اُس شخص نے اسلام کے فرائض کو ایک ‘ ایک کر کے ذکر کیا ‘ زکوۃ ‘ روزوں ‘ حج اور شریعت کے تمام بنیادی احکام کا ذکر کیا اور ہر فرض کا ذکر کرتے ہوئے ‘ اُس نے نبی اکرم ﷺ کو اللہ کا واسطہ دیا ‘ اور جس طرح اُس سے پہلے والے فرض کے بارے میں ‘ اُس نے نبی اکرم ﷺ کو واسطہ دے کر دریافت کیا تھا ، جب وہ اس بات سے فارغ ہوا ‘ تو وہ بولا : کہ میں اس کی بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، میں آگے چل کر یہ فرائض سرانجام دوں گا ‘ اور آپ نے مجھے جن چیزوں سے منع کیا ہے ‘ اُن سے اجتناب کروں گا میں ان احکام میں کوئی کمی یا کوئی اضافہ نہیں کروں گا ‘ راوی کہتے ہیں : پھر وہ اپنے اونٹ کی طرف جانے کے لئے مڑ گیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ مڑ گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر یہ زلفوں والا شخص سچ کہہ رہا ہے ‘ تو یہ جنت میں داخل ہو گا ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ شخص اپنے اونٹ کے پاس آیا ‘ اُس نے اپنے اونٹ کی رسی کھولی ‘ پھر وہ وہاں سے روانہ ہوا ‘ یہاں تک کہ وہ اپنی قوم کے پاس آیا ، لوگ اکھٹے ہو کر اس کے پاس آئے ‘ تو اس نے جو سب سے پہلی بات کی وہ یہ کہی : لات اور عزیٰ بہت برے ہیں ، اُن لوگوں نے کہا : اے ضمام رک جاؤ ! تم برص اور جذام سے بچ کے رہو ! تم جنون سے بچ کے رہو ! اُس نے کہا : تم لوگوں کا ستیاناس ہو ‘ اللہ کی قسم ! یہ دونوں نہ تو کوئی نقصان دے سکتے ہیں ‘ اور نہ کوئی نفع دے سکتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے رسول کو مبعوث کیا ہے ‘ اور ان پر کتاب نازل کی ہے ‘ تاکہ وہ اُس رسول کے ذریعے تمہیں اس چیز ( یعنی شرک ) سے بچائے ، جس میں تم مبتلا ہو ‘ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ صرف وہی معبود ہے ‘ اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، میں ان کے پاس سے تمہارے پاس وہ چیز لے کے آیا ہوں ‘ جس کا انہوں نے تمہیں حکم دیا ہے ‘ اور جس چیز سے انہوں نے تمہیں منع کیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! اس دن شام ہونے سے پہلے ‘ وہاں جتنے بھی مرد اور عورت موجود تھے ۔ ان میں سے ہر ایک مسلمان ہو گیا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کسی بھی قوم کے نمائندے کے بارے میں ‘ ہم نے یہ نہیں سنا ‘ جو ضمام سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ’’ اطراف ‘‘ کے مصنف نے اس روایت کی نسبت امام ابوداؤد کی طرف کی ہے ‘ لیکن میں نے سنن ابوداؤد میں یہ روایت نہیں پائی ‘ اس کا صرف ابتدائی حصہ پایا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1600

Majma al-Zawaid #1600

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا غُلَامَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، [فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ "" فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَخْوَالِكَ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، وَأَنَا رَسُولُ قَوْمِي إِلَيْكَ وَوَافِدُهُمْ وَإِنِّي سَائِلُكَ فَمُشْتَدَّةٌ مَسْأَلَتِي إِيَّاكَ، وَمُنَاشِدُكَ فَمُشْتَدَّةٌ مُنَاشَدَتِي إِيَّاكَ] فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "" دُونَكَ يَا أَخَا بَنِي سَعْدٍ ""، فَقَالَ: مَنْ خَلَقَكَ؟ وَمَنْ خَلَقَ مَنْ قَبْلَكَ؟ وَمَنْ هُوَ خَالِقُ مَنْ بَعْدَكَ؟ قَالَ: "" اللَّهُ "". قَالَ: فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ، أَهْوَ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ، وَأَجْرَى بَيْنَهُنَّ الرِّزْقَ؟ قَالَ: "" اللَّهُ "". قَالَ: فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ، أَهْوَ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا فِي كِتَابِكَ وَأَمَرَتْنَا رُسُلُكَ أَنْ نُصَلِّيَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ لِمَوَاقِيتِهَا، فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ، أَهْوَ أَمَرَكَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا فِي كِتَابِكَ وَأَمَرَتْنَا [رُسُلُكَ أَنْ نَصُومَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ أَهُوَ أَمَرَكَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "" قَالَ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا فِي كِتَابِكَ وَأَمَرَتْنَا] رُسُلُكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِنَا فَتَجْعَلَهُ فِي فُقَرَائِنَا، فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ، أَهْوَ أَمَرَكَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: أَمَّا الْخَامِسَةُ فَلَسْتُ بِسَائِلِكَ عَنْهَا وَلَا أَرَبَ لِي فِيهَا - يَعْنِي الْفَوَاحِشَ - ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأَعْمَلَنَّ بِهَا وَمَنْ أَطَاعَنِي مِنْ قَوْمِي، ثُمَّ رَجَعَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ] ثُمَّ قَالَ: "" لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported: A Bedouin from Banū Saʿd ibn Bakr came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "Peace be upon you, O son of ʿAbd al-Muṭṭalib." The Prophet ﷺ said to him, "And upon you be peace." The man said, "I am a man from your maternal kin of Banū Saʿd ibn Bakr, and I am the emissary and representative of my people to you. I will ask you, and my inquiry will be stern; I will adjure you, and my adjuration will be forceful." The Prophet ﷺ said to him, "Proceed as you wish, O brother of Banū Saʿd." He asked, "Who created you, who created those before you, and who is the Creator of those after you?" He ﷺ replied, "Allah." The man said, "Then I adjure you by Him: did He send you?" He ﷺ replied, "Yes." He asked, "Who created the seven heavens and the seven earths, and caused sustenance to flow between them?" He ﷺ replied, "Allah." The man said, "Then I adjure you by Him: did He send you?" He ﷺ replied, "Yes." The man said, "We have found in your scripture, and your emissaries instructed us, to pray five prayers during the night and the day at their appointed times. I adjure you by Him: did He command you with that?" He ﷺ replied, "Yes." The man said, "We have found in your scripture, and your emissaries instructed us, to fast the month of Ramadan. I adjure you by Him: did He command you with that?" He ﷺ replied, "Yes." The man said, "We have found in your scripture, and your emissaries instructed us, that you take from the surplus of our wealth and distribute it among our poor. I adjure you by Him: did He command you with that?" He ﷺ replied, "Yes." The man said, "As for the fifth—meaning immoralities—I shall not ask you concerning it, for I have no desire for it." He then said, "By the One Who sent you with the truth, I will certainly act upon them, as will whoever obeys me among my people!" The man then departed. The Messenger of Allah ﷺ smiled until his molars showed, and then said: > **"If he has spoken the truth, he shall certainly enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والا ایک دیہاتی ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : اسے اولاد عبدالمطلب سے تعلق رکھنے والے نوجوان ! آپ پر سلام ہو ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تم پر بھی سلام ہو ‘ اس نے کہا : میں آپ کے ننھیالی عزیز بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والا شخص ہوں ‘ اور میں اپنی قوم کے قاصد اور اُن کے نمائندے کے طور پر آپ کے پاس آیا ہوں ، میں آپ سے کچھ سوالات کروں گا ‘ آپ سے کیے جانے والے سوالات میں ‘ لہجہ تیز ہو سکتا ہے ‘ اور آپ کے ساتھ ہونے والے مکالمے میں کچھ شدت ہو سکتی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : اے بنو سعد سے تعلق رکھنے والے فرد ! تم بولو ! اس نے دریافت کیا : آپ کو کس نے پیدا کیا ہے ‘ اور آپ سے پہلے لوگوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اور آپ کے بعد والوں کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : اللہ تعالی اس نے کہا : پھر میں آپ کو اسی کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ‘ کہ کیا آپ کو اس نے مبعوث کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : سات آسمانوں اور سات زمینوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اور ان کے درمیان رزق کس نے جاری کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے ‘ اُس نے کہا : پھر میں آپ کو اسی کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں ، کیا اُسی نے آپ کو مبعوث کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس نے کہا : آپ کے مکتوب میں ہم نے یہ بات پائی ہے ‘ اور آپ کے قاصدوں نے ہمیں یہ حکم دیا ہے : کہ ہم دن اور رات میں پانچ نمازیں ان کے مخصوص اوقات میں ادا کریں ، میں آپ کو اُسی ذات کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ‘ کہ کیا اُس نے آپ کو اس چیز کا حکم دیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! اس شخص نے کہا : ہم نے آپ کے مکتوب میں یہ بات پائی ہے ‘ اور آپ کے قاصدوں نے ہمیں یہ حکم دیا ہے : کہ ہم رمضان کے مہینے کے روزے رکھیں ، تو میں آپ کو اُسی ذات کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ؛ کیا اُس نے آپ کو اس بات کا بھی حکم دیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس نے کہا : ہم نے آپ کے مکتوب میں یہ بات پائی ہے ‘ اور آپ کے قاصدوں نے ہمیں یہ بات بتائی ہے : کہ ہم اپنے اموال میں سے کچھ حصہ لے کر اُسے اپنے غریبوں میں تقسیم کر دیں ، میں آپ کو اسی ذات کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں : کیا اُس نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا : جہاں تک پانچویں چیز کا تعلق ہے ‘ تو اس کے بارے میں ، میں آپ سے سوال نہیں کروں گا ‘ اور نہ ہی اس بات میں مجھے دلچسپی ہے ‘ راوی کہتے ہیں : اس کی مراد ’’ فواحش ‘‘ تھی ، پھر اُس نے کہا : اُس ذات قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ میں اُن چیزوں پر عمل کروں گا ‘ اور میری قوم میں سے ‘ جو شخص بھی میری اطاعت کرے گا ‘ وہ بھی اس پر عمل کرے گا ‘ پھر وہ شخص واپس چلا گیا ، تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دیئے ‘ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے ‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر یہ سچ کہہ رہا ہے ‘ تو یہ ضرور جنت میں داخل ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ اور وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

1601

Majma al-Zawaid #1601

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ «أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَلَمَّا جَاوَزَهُمْ قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا فِي اللَّهِ. فَقَالَ أَهْلُ الْمَجْلِسِ: بِئْسَ وَاللَّهِ مَا قُلْتَ، أَمَا وَاللَّهِ لِنُنْبِئَنَّهُ، قُمْ يَا فُلَانُ - رَجُلًا مِنْهُمْ - فَأَخْبِرْهُ، فَأَدْرَكَهُ رَسُولُهُمْ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَرَرْتُ بِمَجْلِسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ فُلَانٌ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا السَّلَامَ، فَلَمَّا جَاوَزْتُهُمْ أَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فُلَانًا قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا الرَّجُلَ فِي اللَّهِ، فَادْعُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَلْهُ عَلَى مَا يُبْغِضُنِي، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ عَمَّا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ، فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ وَقَالَ: قَدْ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" فَلِمَ تُبْغِضُهُ؟ "" فَقَالَ: أَنَا جَارُهُ، وَأَنَا بِهِ خَابِرٌ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُصَلِّي صَلَاةً قَطُّ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ الَّتِي يُصَلِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ. قَالَ: سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ رَآنِي قَطُّ أَخَّرْتُهَا عَنْ وَقْتِهَا، أَوْ أَسَأْتُ الْوُضُوءَ لَهَا، أَوْ أَسَأْتُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فِيهَا؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ، [ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ] مَا رَأَيْتُهُ يَصُومُ قَطُّ إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ الَّذِي يَصُومُهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ. قَالَ: سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ رَآنِي قَطُّ فَرَّطْتُ فِيهِ أَوِ انْتَقَصْتُ مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: لَا. ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُعْطِي سَائِلًا قَطُّ، وَلَا رَأَيْتُهُ يُنْفِقُ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا فِي شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا هَذِهِ الصَّدَقَةَ الَّتِي يُؤَدِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ. قَالَ: فَسَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ كَتَمْتُ مِنَ الزَّكَاةِ شَيْئًا قَطُّ أَوْ مَاكَسْتُ فِيهَا طَالِبَهَا؟ قَالَ: فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: لَا. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" قُمْ، إِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ خَيْرٌ مِنْكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ أَثْبَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ṭufayl ʿĀmir ibn Wāthilah رضي الله عنه reported: A man passed by a gathering of people and greeted them with peace, and they returned his greeting. When he passed beyond them, one of them said, "By Allah, I hate this man for the sake of Allah." The people of the gathering said, "By Allah, foul is what you have said! By Allah, we will surely inform him. Rise, O so-and-so, and inform him." Their messenger caught up to the man and told him what had been said. The man turned back and went to the Messenger of Allah ﷺ, saying, "O Messenger of Allah, I passed by a gathering of Muslims among whom was so-and-so; I greeted them and they returned my greeting, but when I moved past, a man caught up to me and told me that so-and-so said: 'By Allah, I hate this man for the sake of Allah.' Call him, O Messenger of Allah, and ask him why he hates me." The Messenger of Allah ﷺ summoned him and asked him about what the man had reported. The man admitted it, saying, "I indeed said that to him, O Messenger of Allah." The Messenger of Allah ﷺ asked, "Why do you hate him?" He replied, "I am his neighbor and well-acquainted with him. By Allah, I have never seen him pray any prayer at all except these prescribed obligatory prayers which both the righteous and the wicked perform." The first man said, "Ask him, O Messenger of Allah: has he ever seen me delay it past its appointed time, or perform poor ablution for it, or perform bowing and prostration poorly in it?" The Messenger of Allah ﷺ asked him, and he replied, "No, by Allah." The second man then said, "By Allah, I have never seen him fast at all except this month which both the righteous and the wicked fast." The first man said, "Ask him, O Messenger of Allah: has he ever seen me neglect anything in it or diminish any of its rights?" The Messenger of Allah ﷺ asked him, and he replied, "No." The second man then said, "By Allah, I have never seen him give anything to a petitioner, nor have I seen him spend anything of his wealth in the cause of Allah except this zakah which both the righteous and the wicked discharge." The first man said, "Ask him, O Messenger of Allah: have I ever concealed anything of zakah or haggled with the one collecting it?" The Messenger of Allah ﷺ asked him, and he replied, "No." Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said to the accusing neighbor: > **"Depart, for I do not know, perhaps he is better than you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا گزر ، کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا ‘ اُس نے ان کو سلام کیا ‘ لوگوں نے اُسے جواب دیا : جب وہ اُن لوگوں سے آگے چلا گیا ، تو ان افراد میں سے ایک شخص نے یہ کہا : اللہ کی قسم ! میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر ‘ اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں ، حاضرین محفل نے کہا : اللہ کی قسم ! تم نے بری بات کہی ہے ‘ اللہ کی قسم ! میں اس شخص کو اس بارے میں ضرور بتاؤں گا ‘ پھر انہوں نے اپنے میں سے ایک فرد سے یہ کہا : اے فلاں ! تم اُٹھو اور اسے اس بارے میں بتا دو ! ان لوگوں کا قاصد دوسرے شخص کے پاس گیا ‘ اور اس شخص کے قول کے بارے میں اسے بتایا ، تو وہ شخص مڑا ‘ اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں مسلمانوں کی ایک محفل کے پاس سے گزرا ‘ جن میں فلاں شخص موجود تھا ، میں نے ان لوگوں کو سلام کیا ‘ اُن لوگوں نے سلام کا جواب دیا :‘ جب میں ان لوگوں سے آگے چلا گیا ‘ تو اُس کے بعد اُن میں سے ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھے بتایا : فلاں شخص نے یہ کہا ہے : اللہ کی قسم ! میں اللہ کی ذات کی خاطر اس شخص سے بغض رکھتا ہوں یا رسول اللہ ! آپ اُسے بلوائیے اور اس سے دریافت کیجئے کہ وہ کس وجہ سے مجھ سے بغض رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے اس دوسرے شخص کو بلوایا اور اس سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا : جو پہلے شخص نے آپ ﷺ کو بتایا تھا ، تو دوسرے شخص نے اس بات کا اعتراف کر لیا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اس شخص کے لئے یہ بات کہی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کیوں اس سے بغض رکھتے ہو ؟ اس دوسرے شخص نے جواب دیا : میں اس کا پڑوسی ہوں ‘ اور میں اس کے بارے میں بتاتا ہوں ‘ اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ‘ یہ صرف فرض نماز ادا کرتا ہے ، جسے ہر نیک اور گنہگار پڑھ لیتا ہے ‘ تو پہلے شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ اس سے یہ پوچھ لیں کہ کیا اس نے مجھے کبھی دیکھا ہے کہ میں نے نماز کو اس کے مخصوص وقت سے تاخیر سے ادا کیا ہو ؟ یا میں نے نماز کے لئے وضو کرتے ہوئے غلطی کی ہو ؟ یا نماز کے دوران رکوع ‘ یا سجدے میں غلطی کی ہو ؟ نبی اکرم ﷺ نے دوسرے شخص سے دریافت کیا : تو اس نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ( یعنی میں نے اسے کبھی ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ) پھر اس دوسرے شخص نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی ( کوئی نفلی روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ‘ یہ صرف اس مخصوص مہینے کے روزے رکھتا ہے ، جس کے روزے ہر نیک اور گنہگار رکھ لیتا ہے ‘ تو پہلے شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ اس سے یہ پوچھیے کہ کیا اس نے مجھے کبھی ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ میں نے روزے کے بارے میں افراط سے کام لیا ہو ؟ یا روزے کے حق کے حوالے سے کوئی کمی کی ہو ؟ نبی اکرم ﷺ نے دوسرے شخص سے دریافت کیا : تو اُس نے جواب دیا : جی نہیں ! ( یعنی میں نے اسے کبھی ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ) پھر اس دوسرے شخص نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی کسی مانگنے والے کو کچھ دیتے ہوئے نہیں دیکھا ‘ اور نہ ہی میں نے اسے کبھی اپنے مال میں سے ‘ اللہ کی راہ میں کوئی چیز خرچ کرتے ہوئے دیکھا ہے ‘ البتہ اس زکوٰۃ کا معاملہ مختلف ہے ‘ جسے ہر نیک اور گنہگار شخص ادا کرتا ہے ‘ تو پہلے شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! ! آپ اس سے پوچھیے ! کہ کیا میں نے زکوٰۃ میں سے کوئی چیز چھپائی ہے ؟ یا میں نے زکوٰۃ وصول کرنے والے شخص کے ساتھ کبھی کوئی جھگڑا کیا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دوسرے شخص سے اس بارے میں دریافت کیا : تو اس نے جواب دیا : جی نہیں ! تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تم اُٹھ جاؤ ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ شخص تم سے زیادہ بہتر ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور امام احمد کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ اور ثبت ہیں ۔

1602

Majma al-Zawaid #1602

«وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ قَوْقَلَ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَةَ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ - أَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: وَاللَّهُ لَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Nuʿmān ibn Qawqal رضي الله عنه reported: He came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah, tell me: if I perform the prescribed obligatory prayers, fast Ramadan, treat as forbidden what is unlawful, and treat as permissible what is lawful, without adding anything to that—shall I enter Paradise?" The Prophet ﷺ said: > **"Yes."** Al-Nuʿmān said, "By Allah, I shall never add anything to that!"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن قوقل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر میں فرض نماز ادا کروں ، رمضان کے روزے رکھوں ، حرام کو حرام سمجھوں ‘ حلال کو حلال سمجھوں اور میں اس پر کوئی اضافہ نہ کروں ، تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو ان صاحب نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ اور یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ہونے کے طور پر مذکور ہے ۔

1603

Majma al-Zawaid #1603

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «حَلَفَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَا يَتَطَوَّعُ بِشَيْءٍ أَبَدًا، وَلَا يَتْرُكُ شَيْئًا مِمَّا كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَا تَنْقِمُونَ مِنْ رَجُلٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ، وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَأَبُو حَاتِمٍ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported: A man from the Anṣār took an oath that he would never perform any voluntary deed whatsoever, nor would he ever leave anything of what Allah had prescribed upon him. The Prophet ﷺ said: > **"Why do you criticize a man who, if he were to swear an oath by Allah, Allah would surely fulfill it?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے یہ حلف اٹھایا کہ وہ کبھی بھی کوئی نفلی کام نہیں کرے گا ‘ اور اللہ تعالیٰ نے ‘ جو چیز اس پر فرض قرار دی ہے ‘ اس میں سے کچھ بھی ترک نہیں کرے گا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ ایک ایسے شخص پر اعتراض کر رہے ہو ‘ کہ اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ‘ تو اللہ تعالی اس بات کو پورا کر دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ‘ جسے امام احمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جب کہ دحیم اور ابوحاتم نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

1604

Majma al-Zawaid #1604

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا يَنْتَقِصُ أَحَدُكُمْ مِنْ صَلَاتِهِ شَيْئًا إِلَّا أَتَمَّهَا اللَّهُ مِنْ سُبْحَتِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Muʿāwiyah ibn Ḥudayj said: I heard a man from Kindah say: A man from the Anṣār among the Companions of the Messenger of Allah ﷺ narrated to me that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"None of you leaves any deficiency in his prayer except that Allah completes it through his voluntary prayers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن معاویہ بن خدیج بیان کرتے ہیں : میں نے کندہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ کہتا ہے : میں نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ فرماتے ہیں : اُنہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص اپنی نماز میں کوئی کمی کرے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اُس کمی کو اُس کے نوافل میں سے مکمل کر دے گا “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

1605

Majma al-Zawaid #1605

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلَاتُهُ، فَإِنْ كَانَ أَتَمَّهَا كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَتَمَّهَا قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ: هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ تُكْمِلُوا بِهَا فَرِيضَتَهُ، ثُمَّ الزَّكَاةُ كَذَلِكَ، ثُمَّ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ» "". قُلْتُ: رَوَى النَّسَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَ هَذَا، فَلَا أَدْرِي أَهْوَ هَذَا أَمْ لَا، وَقَدْ ذَكَرَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي تَرْجَمَةِ رَجُلٍ غَيْرِ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn Yaʿmur reported from a man among the Companions of the Messenger of Allah ﷺ that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The first deed for which the servant will be held to account is his prayer. If he completed it, it will be recorded for him as complete; and if he did not complete it, Allah, Mighty and Majestic, will say: 'Look, do you find any voluntary prayers for My servant with which to complete his obligatory prayer?' Then zakah will be treated likewise, and then all deeds will be accounted for in that manner."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحییٰ بن یعمر نے ‘ ایک صحابی کے حوالے سے ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ بندے سے ‘ سب سے پہلے اس کی نماز کے حوالے سے حساب لیا جائے گا ‘ اگر وہ مکمل ہو گی ، تو اسے مکمل نوٹ کیا جائے گا ‘ اور اگر وہ مکمل نہیں ہو گی ‘ تو اللہ تعالی ( فرشتوں سے ) یہ فرمائے گا : کہ کیا تم میرے بندے کی کوئی نفل نماز پاتے ہو ؟ جس کے ذریعے تم فرض نماز کو مکمل کر دو ‘ پھر زکوٰۃ کا معاملہ بھی اسی طرح ہو گا ‘ اور پھر دیگر تمام اعمال کا معاملہ بھی اس طرح ہو گا “۔ علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی نے یحییٰ بن یعمر کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ مجھے نہیں معلوم کہ کیا وہ یہی حدیث ہے ؟ یا اس کے علاوہ کوئی اور ہے ؟ اس روایت کو امام احمد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ایک اور شخص کے حوالے سے نقل کیا ہے ‘ اور اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

1606

Majma al-Zawaid #1606

وَعَنْ عَائِذِ بْنِ قُرْطٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يُتِمَّهَا زِيدَ عَلَيْهَا مِنْ سُبْحَاتِهِ حَتَّى تَتِمَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾidh ibn Qurt رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever performs a prayer and does not complete it, additions will be made to it from his voluntary prayers until it is perfected."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائذ بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص نماز ادا کرے اور اسے مکمل نہ کرے ‘ تو اس کے نوافل میں سے ‘ اس کی ( نماز ) میں اضافہ کیا جائے گا ‘ یہاں تک کہ وہ ( فرض نماز ) مکمل ہو جائے گی “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1607

Majma al-Zawaid #1607

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يُتِمَّهَا زِيدَ عَلَيْهَا مَنْ سُبْحَتِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Qurt رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever performs a prayer and does not complete it, it will be supplemented from his voluntary prayers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص نماز ادا کرے ‘ اور اسے مکمل ادا نہ کرے ‘ تو اس کے نوافل میں سے اُس ( فرض نماز ) میں اضافہ کیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1608

Majma al-Zawaid #1608

وَعَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الصَّلَاةُ، فَإِنْ صَلَحَتْ صَلَحَ لَهُ سَائِرُ عَمَلِهِ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَسَدَ سَائِرُ عَمَلِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَهُ أَحَادِيثُ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا. وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: رُبَّمَا أَخْطَأَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"The first deed for which the servant will be brought to account on the Day of Resurrection is the prayer. If it is sound, the rest of his deeds will be sound; and if it is corrupt, the rest of his deeds will be corrupt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ قیامت کے دن ‘ بندے سے سب سے پہلے نماز کے بارے میں حساب لیا جائے گا ، اگر وہ ٹھیک ہو گی ، تو اس بندے کے دیگر تمام اعمال بھی ٹھیک ہوں گے ‘ اور اگر وہ خراب ہو گی ‘ تو اُس کے دیگر تمام اعمال بھی خراب ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عثمان ہے ‘ امام بخاری فرماتے ہیں : اس کے حوالے سے ایسی احادیث منقول ہیں ، جن کی متابعت نہیں کی گئی ہے ‘ ابن حبان نے اس راوی کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ اور یہ بات بیان کی ہے : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ۔

1609

Majma al-Zawaid #1609

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَوَّلُ مَا يُسْأَلُ عَنْهُ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُنْظَرُ فِي صَلَاتِهِ، فَإِنْ صَلَحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيُّ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: عَامَّةُ حَدِيثِهِ تَابَعَهُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The first matter about which the servant will be questioned on the Day of Resurrection is that his prayer will be inspected: if it is sound, he has succeeded; and if it is corrupt, he has failed and lost."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قیامت کے دن ‘ بندے سے سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں سوال کیا جائے گا ‘ وہ یہ ہے کہ اُس کی نماز کا جائزہ لیا جائے گا ‘ اگر وہ ٹھیک ہوئی ‘ تو وہ بندہ کامیاب ہو جائے گا ‘ اور اگر وہ خراب ہوئی ، تو وہ بندہ رُسوائی اور خسارے کا شکار ہو جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی خلید بن علج ہے ‘ جسے امام احمد ‘ امام نسائی اور امام دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اور امام ابن عدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ زیادہ تر احادیث کی دیگر راویوں نے متابعت کی ہے ۔

1610

Majma al-Zawaid #1610

وَعَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - أَرَاهُ ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ الْعَبْدَ الْمَمْلُوكَ لِيُحَاسَبُ بِصَلَاتِهِ، فَإِذَا نَقَصَ مِنْهَا قِيلَ لَهُ: لِمَ نَقَصْتَ مِنْهَا؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ سَلَّطْتَ عَلَيَّ مَلِيكًا شَغَلَنِي عَنْ صَلَاتِي، فَيَقُولُ: قَدْ رَأَيْتُكَ تَسْرِقُ مِنْ مَالِهِ لِنَفْسِكَ، فَهَلَّا سَرَقْتَ مِنْ عَمَلِكَ لِنَفْسِكَ؟ فَيَجِبُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِ الْحُجَّةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، وَثَّقَهُ عُثْمَانُ وَأَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan reported from Abū Hurayrah رضي الله عنه—and he regarded it as traced back to the Prophet ﷺ—that he said: > **"An enslaved servant will surely be held to account for his prayer. When there is a deficiency in it, it will be said to him: 'Why did you fall short in it?' He will reply: 'O Lord, You placed over me a master who preoccupied me from my prayer.' So Allah will say: 'I saw that you would steal from his wealth for yourself; could you not then have stolen from your work for your own soul?' Thus Allah's conclusive argument will be established against him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری نے ‘ حضرت ابوہریرہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میرا خیال ہے انہوں نے اسے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ذکر کیا ہے ( یعنی نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ غلام بندے سے ‘ اُس کی نماز کے بارے میں حساب لیا جائے گا ‘ جب اس میں کوئی کمی ہو گی ‘ تو اس سے کہا جائے گا : تم نے اس میں کیوں کمی کی ؟ تو وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار !! تو نے مجھ پر ایک ایسا فرض مسلط کر دیا تھا ، جس نے مجھے نماز سے غافل کر دیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے تمہیں دیکھا تھا کہ تم اس کے ( یعنی اپنے مالک کے ) مال میں سے ‘ اپنی ذات کے لئے چوری کر لیتے تھے ‘ تو کیا تم اپنے عمل میں سے ‘ اپنی ذات کے لئے چوری نہیں کر سکتے تھے ؟ ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) تو اس کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت لازم ہو جائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ‘ جسے عثمان ‘ امام احمد اور ایک جماعت نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

1611

Majma al-Zawaid #1611

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ ذَكَرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَقَالَ: "" مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا وَبُرْهَانًا وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ نُورٌ وَلَا بُرْهَانٌ وَلَا نَجَاةٌ، وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ فِرْعَوْنِ وَهَامَانَ وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ mentioned the prayer one day and said: > **"Whoever safeguards it, it will be for him a light, a proof, and salvation on the Day of Resurrection; and whoever does not safeguard it, he will have neither light, nor proof, nor salvation, and on the Day of Resurrection he will be alongside Pharaoh, Hāmān, and Ubayy ibn Khalaf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس کی حفاظت کرے گا ‘ یہ اس کے لئے قیامت کے دن نور ‘ برہان اور نجات کا باعث ہو گی ‘ اور جو شخص اس کی حفاظت نہیں کرے گا ‘ تو اُس کے لئے نہ کوئی نور ہو گا ‘ اور نہ برہان ہو گی ‘ اور نہ نجات ہو گی ‘ اور ایسا شخص قیامت کے دن فرعون ‘ ہامان اور اُبی بن خلف کے ساتھ ہو گا “۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور امام احمد کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1612

Majma al-Zawaid #1612

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا سَهْمَ فِي الْإِسْلَامِ لِمَنْ لَا صَلَاةَ لَهُ، وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is no share in Islam for whoever has no prayer, and there is no prayer for whoever has no ablution."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اس شخص کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے ‘ جس کی نماز نہ ہو ‘ اور اس شخص کی نماز نہیں ہوتی ، جس کا وضو نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید ہے ، جس کے ” ضعیف “ ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

1613

Majma al-Zawaid #1613

وَعَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْإِسْلَامُ ثَمَانِيَةُ أَسْهُمٍ، الْإِسْلَامُ سَهْمٌ وَالصَّلَاةُ سَهْمٌ» "". وَقَدْ تَقَدَّمَ بِتَمَامِهِ وَأَحَادِيثُ أُخَرُ فِي الْإِيمَانِ، وَحَدِيثُ حُذَيْفَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Islam consists of eight shares: Islam (the confession of faith) is a share, and prayer is a share..."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اسلام کے آٹھ حصے ہیں ‘ اسلام ( یعنی ایمان کا زبانی اقرار ) ایک حصہ ہے ‘ نماز ایک حصہ ہے ‘‘۔ اس سے پہلے یہ حدیث مکمل گزر چکی ہے ‘ اور دیگر احادیث بھی ایمان سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ‘ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

1614

Majma al-Zawaid #1614

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا طُهُورَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا صَلَاةَ لَهُ، إِنَّمَا مَوْضِعُ الصَّلَاةِ مِنَ الدِّينِ كَمَوْضِعِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ الْحُسَيْنُ ابْنُ الْحَكَمِ الْحِبَرِيُّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is no faith for the one who has no trustworthiness, no prayer for the one who has no purification, and no religion for the one who has no prayer. Indeed, the position of prayer in religion is like the position of the head to the body."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اس شخص کا ایمان نہیں ہے ‘ جس کی امانت نہ ہو اور اس شخص کی نماز نہیں ہوتی ، جس کی طہارت نہ ہو ‘ اور اس شخص کا دین نہیں ہوتا ‘ جس کی نماز نہ ہو ‘ دین میں نماز کو وہی حیثیت حاصل ہے ‘ جو جسم میں سر کو حاصل ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : حسین بن حکم خبری نامی راوی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔

1615

Majma al-Zawaid #1615

وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَا صَلَاةَ لَهُ ""، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: مَنْ سَمِعَ هَذَا مِنْ أَبِي الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ وَاللَّهِ مَا بَعُدَ الْعَهْدُ وَمَا نَسِيتُ، إِنَّمَا قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ جَاءَ بِصَلَوَاتِ الْخَمْسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَدْ حَافَظَ عَلَى وُضُوئِهَا وَمَوَاقِيتِهَا وَرُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا لَمْ يَنْقُضْ مِنْهَا شَيْئًا - جَاءَ وَلَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُ، وَمَنْ جَاءَ قَدِ انْتَقَصَ مِنْهُنَّ شَيْئًا فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ رَحِمَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا عِيسَى بْنُ وَاقِدٍ. قُلْتُ: وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Salamah reported from Abū Hurayrah رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever does not pray Witr has no prayer." When news of this reached ʿĀʾishah رضي الله عنها, she said: "Who heard this from Abū al-Qāsim ﷺ? By Allah, the era is not distant, nor have I forgotten! Abū al-Qāsim ﷺ only said: > **'Whoever comes on the Day of Resurrection with the five prayers, having preserved their ablution, their appointed times, their bowings, and their prostrations, without compromising anything of them, will arrive possessing a covenant with Allah that He will not punish him. And whoever comes having fallen short in them will have no covenant with Allah: if He wills, He will have mercy on him, and if He wills, He will punish him.'**"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ نے ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ جس شخص نے وتر ادا نہ کیے ہوں ‘ اُس کی نماز نہیں ہوتی ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس روایت کے بارے میں پتہ چلا ‘ تو انہوں نے فرمایا : حضرت ابوالقاسم ﷺ سے یہ روایت کس نے سنی ہے ؟ اللہ کی قسم ! نہ تو زیادہ عرصہ گزرا ہے ‘ اور نہ ہی میں بات بھولی ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : ’’ جو شخص قیامت کے دن پانچ نمازیں لے کے آئے گا ‘ یوں کہ اُس نے ان نمازوں کے وضو ‘ اُن کے اوقات ‘ ان کے رکوع اور ان کے سجود کی حفاظت کی ہو ‘ اور اس میں کوئی کمی نہ کی ہو ‘ تو جب وہ شخص آئے گا ‘ تو اس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ عہد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اُسے عذاب نہیں دے گا ‘ اور جو شخص ایسی حالت میں آئے کہ اس نے ان نمازوں میں کسی حوالے سے کوئی کمی کی ہو ‘ تو اس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی عہد نہیں ہو گا ‘ اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا ‘ تو اس پر رحم کرے گا ‘ اور اگر چاہے گا ‘ تو اسے عذاب دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں ۔ محمد بن عمرو نامی راوی کے حوالے سے ‘ اس روایت کو صرف عیسیٰ بن واقد نے نقل کیا ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

1616

Majma al-Zawaid #1616

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «ثَلَاثٌ مَنْ حَفِظَهُنَّ فَهُوَ وَلِيٌّ حَقًّا، وَمَنْ ضَيَّعَهُنَّ فَهُوَ عَدُوٌّ حَقًّا: الصَّلَاةُ، وَالصِّيَامُ، وَالْجَنَابَةُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Three things, whoever preserves them is truly an ally of Allah, and whoever neglects them is truly an enemy: prayer, fasting, and ritual purification from major impurity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جو شخص ان کی حفاظت کرے گا ‘ تو وہ در حقیقت ولی ہو گا ‘ اور جو شخص ان کو ضائع کرے گا ‘ وہ درحقیقت دشمن ہو گا ، نماز ‘ روزہ اور جنابت ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

1617

Majma al-Zawaid #1617

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ مِنْ أُمَّتِهِ: "" «اكْفُلُوا لِي بِسِتٍّ أَكْفُلْ لَكُمْ بِالْجَنَّةِ "". قُلْتُ: مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" الصَّلَاةُ، وَالزَّكَاةُ، وَالْأَمَانَةُ، وَالْفَرْجُ، وَالْبَطْنُ، وَاللِّسَانُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ. قُلْتُ: وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said to those around him from his Ummah: > **"Guarantee for me six things, and I will guarantee Paradise for you."** I said, "What are they, O Messenger of Allah?" He ﷺ replied: > **"Prayer, zakah, trustworthiness, chastity of the private parts, restraining the belly, and guarding the tongue."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے آس پاس موجود اپنی امت کے افراد سے فرمایا : تم لوگ مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو ! میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ‘ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نماز ‘ زکوۃ ‘ امانت ‘ شرمگاہ ‘ پیٹ اور زبان ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ وہ یہ فرماتے ہیں : یہ روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے ‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند حسن ہے ۔

1618

Majma al-Zawaid #1618

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ كَانَ أَوَّلًا يُعَلِّمُنَا الصَّلَاةَ، أَوْ قَالَ: عَلِّمْهُ الصَّلَاةَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Mālik al-Ashjaʿī reported from his father رضي الله عنه: > **"Whenever a person embraced Islam, the Messenger of Allah ﷺ would first teach us the prayer"**—or he said: **"would teach him the prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشجعی رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ سب سے پہلے ہمیں نماز کی تعلیم دیتے تھے ‘ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : اسے نماز کی تعلیم دیتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے مجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

1619

Majma al-Zawaid #1619

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَى الْعِبَادِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that she heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Indeed, Allah has obligated upon His servants five prayers in every day and night."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر دن اور رات میں ‘ بندوں پر پانچ نمازیں فرض قرار دی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

1620

Majma al-Zawaid #1620

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَا: «أَوَّلُ صَلَاةٍ فُرِضَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الظُّهْرُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَاسِينُ الزَّيَّاتُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah and Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنهما said: > **"The first prayer that was made obligatory upon the Messenger of Allah ﷺ was Zuhr (the Noon prayer)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ جو نماز ‘ نبی اکرم ﷺ پر سب سے پہلے فرض کی گئی ‘ وہ ظہر کی نماز ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یسین زیات ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

1621

Majma al-Zawaid #1621

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «أَوَّلُ صَلَاةٍ رَكَعْنَا فِيهَا الْعَصْرُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذَا؟ فَقَالَ: "" بِهَذَا أُمِرْتُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ، فَإِنْ كَانَ هُوَ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ فَهُوَ ثِقَةٌ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ، وَلَمْ أَجِدْ أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ فِي الْمِيزَانِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه said: "The first prayer in which we performed bowing was ʿAṣr. I asked, 'O Messenger of Allah, what is this?' He ﷺ replied: > **'I have been commanded with this.'**"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو نماز ہم نے سب سے پہلے ادا کی ‘ وہ عصر کی نماز ہے ( یا شاید یہ ترجمہ ہو گا : جس نماز میں ہم نے سب سے پہلے رکوع کیا ‘ وہ عصر کی نماز ہے ) ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوعبدالرحیم ہے ‘ اگر تو یہ خالد بن یزید ہے ‘ تو پھر یہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ اور صحیح کے رجال میں سے ہے ‘ میں نے ” میزان الاعتدال ‘‘ میں ابوعبدالرحیم کا ذکر نہیں پایا ہے ‘ یہ شخص مجہول ہے ۔

1622

Majma al-Zawaid #1622

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: «تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ: "" اللَّهَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ، اللَّهَ اللَّهَ وَالصَّلَاةَ ""، فَكَانَ ذَلِكَ آخَرَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ غَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Rāfiʿ رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ passed away while his head was in the lap of ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه, and he was saying to ʿAlī: > **"[Fear] Allah regarding those whom your right hands possess; [fear] Allah, Allah regarding the prayer!"** That was the last speech spoken by the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا ‘ تو اس وقت آپ کا سر مبارک حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا ‘ اور آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا : اپنے زیر ملکیت لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا ) اور نماز کے بارے میں اللہ تعالیٰ ( کے حکم کی پابندی کرنا ) راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جو آخری کلام ارشاد فرمایا تھا ‘ وہ یہ تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عنسان بن عبداللہ ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1623

Majma al-Zawaid #1623

وَعَنْ وَاصِلٍ قَالَ: أَدْرَكْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَالُ لَهُ: نَاجِيَةُ الطَّفَاوِيُّ وَهُوَ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: إِنَّكِ لِفَاجِرَةٌ، أَوْ لَقَدْ جِئْتِ مِنْ عِنْدِ رَجُلٍ فَاجِرٍ. قَالَتْ: بَلْ جِئْتِ مِنْ عِنْدِ رَجُلٍ فَاجِرٍ، زَوَّجَنِي أَهْلِي وَأَنَا جَارِيَةٌ بِكْرٌ، تَزَوَّجَنِي رَجُلٌ مَنْ بَنِي تَمِيمٍ كَانَ يَأْتِي عَلَيْهِ أَيَّامٌ لَا يَمَسُّ الْمَاءَ وَلَا يُصَلِّي، وَيَجِيءُ بَعْدَ الثَّلَاثِ فَيَتَوَضَّأُ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَنْقُرُ نَقْرَتَيْنِ وَيَقُولُ: (حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ)، فَقَالَ لَهَا نَاجِيَةُ: «صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَ صَلَوَاتٍ: الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعَشَاءَ وَالصُّبْحَ»، فَأَتَتْ أَهْلَهَا فَقَالَتْ: أَنْقِذُونِي مِنْ زَوْجِي، فَإِنَّهُ رَجُلٌ فَاجِرٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْغَنَوِيُّ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: هُوَ عِنْدِي أَقْرَبُ إِلَى الصِّدْقِ مِنْهُ إِلَى الضَّعْفِ. قُلْتُ: الَّذِينَ ضَعَّفُوهُ كَلَامُهُمْ فِيهِ لِينٌ.

EnglishUnverified translation

Wāṣil reported: I met a man from among the Companions of the Prophet ﷺ named Nājiyah al-Ṭufāwī رضي الله عنه who used to transcribe copies of the Qur'an. A woman came to him and said, "I have come to ask you concerning the prayer." He said, "You must be a wicked woman, or you have come from a wicked man!" She said, "Rather, I have come from a wicked man. My family married me off when I was a young virgin to a man from Banū Tamīm. Days would pass by him wherein he would neither touch water nor pray. Then he would come after three days, perform ablution with water, peck two prostrations, and recite: {Maintain with care the [obligatory] prayers and [in particular] the middle prayer and stand before Allah, devoutly obedient}." Nājiyah said to her: > **"The Messenger of Allah ﷺ prayed five prayers: Zuhr, ʿAṣr, Maghrib, ʿIshāʾ, and Ṣubḥ."** The woman then went back to her family and said, "Rescue me from my husband, for he is indeed a wicked man!"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

واصل بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صاحب کو پایا ہے ، جن کا نام حضرت ناجیہ طفاوی رضی اللہ عنہ تھا ‘ وہ قرآن مجید کی کتابت کرتے تھے ‘ ایک عورت اُن کے پاس آئی اور بولی : میں آپ سے نماز کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئی ہوں ، تو انہوں نے فرمایا : تم ایک گنہگار عورت ہو ‘ یا تم ایک گنہگار شخص کے پاس سے آئی ہو ‘ اُس عورت نے عرض کی : جی نہیں ! بلکہ میں گنہگار شخص کے پاس سے آئی ہوں ‘ میرے گھر والوں نے میری شادی کر دی تھی ، میں ان دنوں کنواری لڑکی تھی ، بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے میرے ساتھ شادی کی تھی ، جس پر کئی دن اس طرح گزر جاتے ہیں کہ وہ اس دوران پانی استعمال نہیں کرتا اور نماز ادا نہیں کرتا ، پھر تین دن گزرنے کے بعد وہ آتا ہے ‘ اور پانی کے ذریعے وضو کرتا ہے ، پھر دو مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے ‘ اور یہ کہتا ہے : ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ نمازوں کی حفاظت کرو ‘ اور درمیانی نماز کی ‘ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ کھڑے رہو ‘‘۔ تو حضرت ناجیہ طفاوی رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے فرمایا : اللہ کے رسول نے پانچ نمازیں ادا کی ہیں ، ظہر ‘ عصر ‘ مغرب ‘ عشاء اور صبح ( یعنی فجر کی نماز ) وہ عورت اپنے گھر والوں کے پاس گئی ‘ اور بولی : تم لوگ مجھے میرے شوہر سے الگ کروا دو ! کیونکہ وہ ایک گنہگار شخص ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی براء بن عبداللہ عننوی ہے ‘ جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ ابن عدی کہتے ہیں : میرے نزدیک وہ شخص ضعیف ہونے کے قریب ہونے کی بہ نسبت سچا ہونے کے زیادہ قریب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جن حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اس راوی کے بارے میں اُن کا کلام کمزور ہے ۔

1624

Majma al-Zawaid #1624

وَعَنْ بَيْجَرَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: «أَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمْنَا وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَضَعَ عَنَّا الْعَتَمَةَ. قَالَ: "" صَلَاةُ الْعَتَمَةِ؟ "" قُلْنَا: إِنَّا نُشْغَلُ بِحَلْبِ إِبِلِنَا. قَالَ: "" إِنَّكُمْ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - سَتَحْلِبُونَ وَتُصَلُّونَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ الرَّحَّالِ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ بَيْجَرَةَ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ الرَّحَّالَ وَلَا أَبَاهُ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Bayḥarah ibn ʿĀmir رضي الله عنه reported: We came to the Prophet ﷺ, embraced Islam, and asked him to relieve us from the ʿAtamah (late evening) prayer. He asked, **"The ʿAtamah prayer?"** We said, "We are preoccupied with milking our camels." He ﷺ said: > **"Indeed, if Allah wills, you will both milk [your camels] and pray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بچرہ بن عامر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے اسلام قبول کیا ‘ ہم نے آپ ﷺ سے یہ درخواست کی : کہ آپ ہمیں عشاء کی نماز معاف کر دیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا ہے : عشاء کی نماز کیوں ؟ ہم نے عرض کی : ہم اس وقت اپنے اونٹوں کا دودھ دوہنے میں مصروف ہوتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر اللہ نے چاہا ‘ تو تم لوگ دودھ بھی دوہ لو گے اور نماز بھی پڑھ لو گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں رحال بن منذر کے حوالے سے ‘ اُس کے والد کے حوالے سے ‘ اس کے دادا حضرت بچرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ‘ میں نے کسی کو رحال ‘ یا اُس کے والد کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

1625

Majma al-Zawaid #1625

وَعَنْ أَبِي الْبَخْتِرِيِّ قَالَ: أَصَابَ سَلْمَانُ جَارِيَةً، فَقَالَ لَهَا بِالْفَارِسِيَّةِ: صَلِّي. قَالَتْ: لَا. قَالَ: اسْجُدِي وَاحِدَةً. قَالَتْ: لَا. قِيلَ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، وَمَا تُغْنِي عَنْهَا سَجْدَةٌ؟ قَالَ: إِنَّهَا لَوْ صَلَّتْ صَلَّتْ، وَلَيْسَ مِنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ أَبُو نُعَيْمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abū al-Bakhtarī reported: Salmān al-Fārisī رضي الله عنه had intimate relations with a slave-girl and then said to her in Persian, "Pray." She replied, "No." He said, "Perform a single prostration." She replied, "No." It was said to him, "O Abū ʿAbdillāh, what benefit will a single prostration be to her?" Salmān said: > **"If she had prayed, she would have prayed; and the one who has a share in Islam is not like the one who has no share."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو بختری بیان کرتے ہیں : حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ایک کنیز کے ساتھ صحبت کی ‘ اور پھر فارسی میں اُس عورت سے کہا : تم نماز پڑھ لو ! اُس نے جواب دیا : جی نہیں ! حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا : تم ایک سجدہ کر لو ! اس نے جواب دیا : جی نہیں ! حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : اے ابوعبداللہ ! ایک سجدہ اس عورت کے کس کام آئے گا ؟ تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر یہ نماز پڑھ لیتی ‘ تو پڑھ لیتی اُس شخص کا جس کا اسلام میں کوئی حصہ ہو ‘ وہ اُس شخص کی مانند نہیں ہے ، جس کا کوئی حصہ نہ ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ابونعیم ہے ‘ اور وہ انتہائی ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1626

Majma al-Zawaid #1626

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «عَلِّمُوا أَوْلَادَكُمُ الصَّلَاةَ إِذَا بَلَغُوا سَبْعًا، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا إِذَا بَلَغُوا عَشْرًا، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَوْفِيُّ، قِيلَ فِيهِ: لَيِّنُ الْحَدِيثِ وَنَحْوُ ذَلِكَ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Teach your children the prayer when they reach seven years of age, discipline them for it when they reach ten, and separate them in their sleeping places."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اپنی اولاد کو نماز کی تعلیم دو ! جب وہ سات سال کے ہو جائیں اور ‘ جب وہ دس سال کے ہو جائیں ، تو نماز ( ترک کرنے ) کے حوالے سے اُن کی پٹائی کرو اور ان کے بستر الگ کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن عوفی ہے ، جس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے : یہ حدیث میں کمزور ہے یا اس کی مانند کلمات کہے گئے ہیں ، میں نے ایسے کسی شخص کو نہیں پایا ، جس نے اُس کی توثیق کی ہو ۔

1627

Majma al-Zawaid #1627

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: وَجَدْنَا صَحِيفَةً فِي قِرَابِ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ وَفَاتِهِ، فِيهَا مَكْتُوبٌ: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَفَرِّقُوا بَيْنَ مَضَاجِعِ الْغِلْمَانِ وَالْجَوَارِي وَالْأُخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ لِسَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوا أَبْنَاءَكُمْ عَلَى الصَّلَاةِ سَبْعًا، مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ قَوْمِهِ - أَوْ إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ - مَلْعُونٌ مَنِ اقْتَطَعَ شَيْئًا مِنْ تُخُومِ الْأَرْضِ» "". يَعْنِي بِذَلِكَ طُرُقَ الْمُسْلِمِينَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ غَسَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ نَافِعٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمَا.

EnglishUnverified translation

Abū Rāfiʿ رضي الله عنه reported: After the passing of the Messenger of Allah ﷺ, we found a parchment in the scabbard of his sword wherein was written: > **"In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful: Separate the sleeping places of boys and girls, and brothers and sisters, at seven years of age; discipline your children for the prayer at seven; accursed, accursed is the one who claims lineage to other than his own people—or to other than his emancipators; and accursed is the one who unlawfully seizes any portion of land boundaries [meaning the public roads of the Muslims]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد ‘ ہم نے نبی اکرم ﷺ کی تلوار کی میان میں ایک صحیفہ موجود پایا ‘ جس میں یہ تحریر تھا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ‘ جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ‘ سات سال کی عمر میں بچوں اور بچیوں ، بھائیوں اور بہنوں کے بستر الگ کر دو ‘ اور نماز کی وجہ سے سات سال کی عمر میں ، اپنے بچوں کی پٹائی کرو ‘ وہ شخص ملعون ہے ‘ ملعون ہے ‘ جو اپنی قوم کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کا دعوی کرے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنے آزاد کرنے والے آقاؤں کی بجائے ‘ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے ‘ اور وہ شخص ملعون ہے ‘ جو زمین کا کوئی بھی ٹکڑا ہتھیا لیتا ہے ‘‘۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ تھی کہ مسلمانوں کے راستے میں سے کوئی چیز ہتھیا لیتا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عنسان بن عبیداللہ نے یوسف بن نافع سے روایت کیا ہے ‘ اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

1628

Majma al-Zawaid #1628

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا عَرَفَ الْغُلَامُ يَمِينَهُ مِنْ شَمَالِهِ فَمُرُوهُ بِالصَّلَاةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَقَالَ فِي الْأَوْسَطِ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الصَّغِيرِ: لَا يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبِيبٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Khubayb رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"When a young boy knows his right hand from his left, then command him to pray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب بچے کو بائیں کے مقابلے میں دائیں کی سمجھ آنے لگے ‘ تو اُسے نماز کا حکم دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ معجم اوسط میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : کہ یہ روایت نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ‘ جب کہ معجم صغیر میں انہوں نے یہ بات نقل کی ہے : یہ روایت صرف حضرت عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1629

Majma al-Zawaid #1629

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مُرُوهُمْ بِالصَّلَاةِ لِسَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا لِثَلَاثَ عَشْرَةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Command them to pray at seven years of age, and discipline them for it at thirteen."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ انہیں سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو ‘ اور تیرہ سال کی عمر میں نماز کے حوالے سے اُن کی پٹائی کرو ! “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی روایت میں ایک راوی داؤد بن محبر ہے ‘ جسے امام احمد ‘ امام بخاری اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ یحیی بن معین نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

1630

Majma al-Zawaid #1630

وَعَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ: «قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا حَفِظْتَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثِ الْقُنُوتِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ḥawrāʾ reported: I said to al-Ḥasan ibn ʿAlī رضي الله عنهما, "What do you remember from the Prophet ﷺ?" He replied: > **"The five prayers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحوراء بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کیا بات یاد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : پانچ نمازیں یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ جب کہ امام احمد نے اسے قنوت سے متعلق حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے ‘ اور اس روایت کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1631

Majma al-Zawaid #1631

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: حَافَظُوا عَلَى أَبْنَائِكُمْ فِي الصَّلَاةِ وَعَوِّدُوهُمُ الْخَيْرَ ; فَإِنَّ الْخَيْرَ عَادَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"Keep watchful care over your children regarding the prayer and accustom them to goodness, for indeed goodness is a habit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اپنے بچوں کو نماز کا عادی بناؤ ! اور انہیں بھلائی کا عادی بناؤ ! کیونکہ بھلائی عادت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم ضرار بن صرد ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

1632

Majma al-Zawaid #1632

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا قَامَ بَصَرِي قِيلَ: نُدَاوِكَ وَتَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامًا؟ قَالَ: لَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» "" .. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ مَحْمُودٍ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَقَالَ: رَوَى عَنْهُ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَسَعْدَانُ بْنُ يَزِيدَ. قُلْتُ: وَرَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخْرَمِيُّ وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: When my eyesight failed, it was said to me, "We can treat your eyes, but you must leave the prayer for a few days." He said: "No, for indeed the Messenger of Allah ﷺ said: > **'Whoever abandons the prayer will meet Allah while He is angry with him.'**"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں : جب میری بینائی کمزور ہو گئی ، تو یہ کہا گیا : ہم آپ کا علاج کرتے ہیں ، آپ کچھ دن تک نماز ترک کر دیں ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ جو شخص نماز ترک کر دے گا ‘ جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا “۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی سہل بن محمود ہے ، جس کا ذکر ابن ابو حاتم نے کیا ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : احمد بن ابراہیم دورقی اور سعدان بن یزید نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : محمد بن عبداللہ مخرمی نے اس سے روایت نقل کی ہے ‘ اس کے بارے میں کسی نے کلام نہیں کیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

1633

Majma al-Zawaid #1633

وَعَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَتْرُكِ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا ; فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ مَكْحُولًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُمِّ أَيْمَنَ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Makḥūl reported from Umm Ayman رضي الله عنها that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Do not abandon the prayer deliberately, for indeed, whoever abandons the prayer deliberately, the protection of Allah and His Messenger is disowned from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مکول نے ‘ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ تم جان بوجھ کر نماز ترک نہ کرنا ‘ کیونکہ جو شخص جان بوجھ کر نماز ترک کر دیتا ہے ‘ اس سے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ‘ البتہ مکحول نامی راوی نے سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

1634

Majma al-Zawaid #1634

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ كَفَرَ جِهَارًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي دَاوُدَ، فَإِنِّي لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْبَغْدَادِيُّ، فَلَا أَدْرِي هُوَ هَذَا أَمْ لَا.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever abandons the prayer deliberately has committed open disbelief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر نماز ترک کرتا ہے ‘ وہ کھلے عام کفر کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ صرف محمد بن ابوداؤد نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ ابن حبان نے کتاب ’’ الثقات “ میں محمد بن ابوداود بغدادی کا ذکر کیا ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ یہ وہی ہے یا وہ نہیں ہے ؟