وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَسْوَاقِ وَبِلَالٌ مَعَهُ فَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ: "" يَا بِلَالُ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ""، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ: "" يَا بِلَالُ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ""، فَدَخَلَ فَجَلَسَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ: "" ائْذَنْ لَهُ يَا بِلَالُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوًى تُصِيبُهُ ""، فَدَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ قُبَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
EnglishUnverified translation
Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated: "The Messenger of Allah ﷺ halted at the marketplace area accompanied by Bilāl رضي الله عنه. He sat dangling his legs into the well and uncovered his thighs. Abū Bakr رضي الله عنه arrived seeking permission to enter, and the Prophet ﷺ said: 'O Bilāl, permit him and give him glad tidings of Paradise.' Abū Bakr entered, sat to the right of the Messenger of Allah ﷺ, dangled his legs into the well, and uncovered his thighs. Then ʿUmar رضي الله عنه arrived seeking permission to enter, and the Prophet ﷺ said: 'O Bilāl, permit him and give him glad tidings of Paradise.' ʿUmar entered, sat to the left of the Messenger of Allah ﷺ, dangled his legs into the well, and uncovered his thighs. Then ʿUthmān رضي الله عنه arrived seeking permission to enter, and the Prophet ﷺ said:" > **"Permit him, O Bilāl, and give him glad tidings of Paradise upon a calamity that shall afflict him."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بازار میں ٹھہر گئے حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ساتھ تھے نبی اکرم ﷺ نے دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا دیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا دیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے اجازت مانگی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اے بلال ! انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور نبی اکرم ﷺ کے دائیں طرف بیٹھ گئے انہوں نے بھی اپنی ٹانگیں کنویں میں لٹکا دیں اور اپنے زانوں سے کپڑا ہٹا دیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے بھی اجازت مانگی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے بلال ! اسے اجازت دے دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو وہ اندر آئے اور نبی اکرم ﷺ کے بائیں طرف بیٹھ گئے انہوں نے بھی اپنی ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے اجازت مانگی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے بلال ! اسے بھی اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری دے دو لیکن اسے ایک آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اندر آئے تو نبی اکرم ﷺ کے مد مقابل بیٹھ گئے انہوں نے کنویں میں ٹانگیں لٹکا لیں اور اپنے زانوں سے کپڑا ہٹا لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔