Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 4 · Chapter 13

Book of Prayer

Hadith 2075–2114

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2075

Majma al-Zawaid #2075

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْغُدُوُّ وَالرَّوَاحُ إِلَى الْمَسْجِدِ مِنَ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثِقَةٌ وَفِيهِ اخْتِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Going to the mosque in the morning and evening is part of jihād in the cause of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مساجد کی طرف صبح اور شام کے وقت جانا ‘ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے کا حصہ ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عبدالرحمن ہے وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

2076

Majma al-Zawaid #2076

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عَبْدُ الْحَكَمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Give glad tidings to those who walk in the darkness to the mosques of complete light on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تاریکیوں میں مساجد کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کی خوشخبری دے دو ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحکم بن عبداللہ ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

2077

Majma al-Zawaid #2077

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ بَنِي سَلَمَةَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَبِيعُ دُورَنَا وَنَتَحَوَّلُ إِلَيْكَ، فَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ وَادِيًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اثْبُتُوا فَإِنَّكُمْ أَوْتَادُهَا، وَمَا مِنْ عَبْدٍ يَخْطُو إِلَى الصَّلَاةِ خُطْوَةً إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا». قُلْتُ: لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه narrated that Banū Salamah said, "O Messenger of Allah, should we sell our houses and move near to you, for there is a valley between us and you?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Remain where you are, for indeed you are its anchors (protecting the borders); and no servant takes a step toward prayer except that Allah records a reward for him on account of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنوسلمہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اپنے گھر فروخت کر کے آپ کے پاسں منتقل نہ ہو جائیں ؟ کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان ایک نشیبی علاقہ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنی جگہ پر رہو ! کیونہ تم لوگ کیل ہو ‘ جو بھی بندہ نماز کی طرف قدم اٹھا کر چل کر جاتا ہے ‘ تو اللہ تعالی اس قدم کے عوض میں اس شخص کے لئے اجر نوٹ کرتا ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں بھی مذکور ہے ‘ تاہم وہ اس سیاق کے بغیر ہے یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2078

Majma al-Zawaid #2078

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِنُورٍ تَامٍّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Ḥārithah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Give glad tidings to those who walk in the darkness to the mosques of a complete light on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تاریکی میں مساجد کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کی خوشخبری دے دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

2079

Majma al-Zawaid #2079

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّرَوِيُّ قَالَ الذَّهَبِيُّ: لَا يُعْرَفُ، وَفِي حَدِيثِهِ نَكِرَةٌ قَالَ الْأَزْدِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Give glad tidings to those who walk in the darkness to the mosques of complete light on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں : ( آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ تاریکی میں مساجد کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور ( نصیب ہونے ) کی خوشخبری دے دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن علی شروی ہے امام ذہبی فرماتے ہیں : اس کی شناخت نہیں ہو سکی اس کی حدیث میں منکر ہونا پایا جاتا ہے ازدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔

2080

Majma al-Zawaid #2080

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَيُضِيءُ لِلَّذِينِ يَتَخَلَّلُونَ إِلَى الْمَسَاجِدِ فِي الظُّلَمِ بِنُورٍ سَاطِعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Allah shall illuminate with a radiant light on the Day of Resurrection those who make their way to the mosques through the darkness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تاریکی میں مساجد کی طرف جانے والوں کو اللہ تعالی قیامت کے دن چہکتا ہوا نور عطا فرمائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

2081

Majma al-Zawaid #2081

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ إِلَى الْمَسَاجِدِ فِي الظُّلَمِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Give glad tidings to those who walk to the mosques in the darkness of complete light on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تاریکیوں میں مساجد کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور ( نصیب ہونے ) کی خوشخبری دے دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباس بن عامر ضبی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

2082

Majma al-Zawaid #2082

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ إِلَى الْمَسَاجِدِ فِي الظُّلَمِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ وَأَبُو زُرْعَةَ وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Give glad tidings to those who walk to the mosques in the darkness of complete light on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تاریکیوں میں مساجد کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور ( نصیب ہونے ) کی خوشخبری دے دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن زبرقان ہے ‘ جسے یحییٰ بن معین علی بن مدینی اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے امام بخاری فرماتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے ۔

2083

Majma al-Zawaid #2083

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ مَشَى فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ إِلَى الْمَسْجِدِ لَقِيَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بِنُورٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever walks in the darkness of the night to the mosque will meet Allah, Mighty and Majestic is He, with light on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص رات کی تاریکی میں چل کر مسجد کی طرف جاتا ہے وہ قیامت کے دن نور کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2084

Majma al-Zawaid #2084

وَلِأَبِي الدَّرْدَاءِ أَيْضًا عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ: «مَنْ مَشَى فِي ظُلْمَةِ لَيْلٍ إِلَى مَسْجِدٍ آتَاهُ اللَّهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه also narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever walks in the darkness of night to a mosque, Allah will grant him light on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء ہی کے حوالے سے امام طبرانی نے یہ روایت نقل کی ہے : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ جو شخص رات کی تاریکی میں چل کر مسجد کی طرف جاتا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے نور عطا کرے گا “۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی جنادہ بن ابوخالد ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

2085

Majma al-Zawaid #2085

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلُمَاتِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِنُورٍ عَظِيمٍ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ عُبَيْدٍ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Give glad tidings to those who walk in the darknesses to the mosques of a magnificent light from Allah on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تاریکیوں میں مساجد کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کی طرف سے عظیم نور ( نصیب ہونے ) کی خوشخبری دے دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عمیر بن عبید ہے ‘ اور وہ منکرالحدیث ہے ۔

2086

Majma al-Zawaid #2086

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «بَشِّرِ الْمُدْلِجِينَ إِلَى الْمَسَاجِدِ فِي الظُّلَمِ بِمَنَابِرَ مِنْ نُورٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَفْزَعُ النَّاسُ وَلَا يَفْزَعُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَلَمَةُ الْعَبْسِيُّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمَا.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Give glad tidings to those who travel early in the darkness to the mosques of pulpits of light on the Day of Resurrection; the people will be stricken with terror while they will not be terrified."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ تاریکیوں میں مساجد کی طرف جانے والوں کو قیامت کے دن نور کے منبر نصیب ہونے کی خوشخبری دے دو جب لوگ خوف زدہ ہوں گے ‘ تو یہ لوگ خوف زدہ نہیں ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : سلمہ عبسی نے اپنے کے اہل خانہ میں سے ایک شخص کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ‘ اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

2087

Majma al-Zawaid #2087

وَعَنْ سَلْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَهُوَ زَائِرُ اللَّهِ، وَحَقٌّ عَلَى الْمَزُورِ أَنْ يُكْرِمَ الزَّائِرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحَدُ إِسْنَادَيْهِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Salmān al-Fārisī رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever performs ablution in his house, perfecting his ablution, and then comes to the mosque, he is a visitor unto Allah; and it is the duty of the host to honor his visitor."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے پھر وہ مسجد میں آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کا مہمان ہوتا ہے ‘ اور میزبان کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ مہمان کی عزت افزائی کرنے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی دو اسناد میں سے ایک سند کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

2088

Majma al-Zawaid #2088

وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنِ اخْتَلَفَ إِلَى هَذِهِ الصَّلَاةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ قَالَ ابْنُ حِبَّانَ: بَطَلَ الِاحْتِجَاجُ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Wāqid al-Laythī رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever frequently attends this prayer, all his previous sins will be forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوواقد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اس نماز کی طرف ( یعنی مسجد کی طرف ) آتا جاتا ہے ‘ اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن محمد بن حسن بن زبالہ ہے ۔ ابن حبان کہتے ہیں : اس سے استدلال کرنا باطل ہے ۔

2089

Majma al-Zawaid #2089

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِذَا أَتَيْتَ الصَّلَاةَ فَأْتِهَا بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ فَصَلِّ مَا أَدْرَكْتَ وَاقْضِ مَا فَاتَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي السَّرِيِّ عَنْ سَعْدٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"When you come to the prayer, come to it with dignity and tranquility; pray whatever portion you catch, and make up whatever you missed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم نماز کی طرف آؤ تو وقار اور سکینت کے ساتھ اس کی طرف آؤ جتنی نماز تمہیں ملے اسے ادا کر لو جو گزر چکی ہوا سے قضاء کر لو ( یعنی بعد میں ادا کر لو ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ابوسری کی حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے میں نے کسی کو اس کا ( یعنی ابوسری ) کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

2090

Majma al-Zawaid #2090

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَأْتُوا وَعَلَيْكُمُ السَكِينَةُ فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ وَاقْضُوا مَا سُبِقْتُمْ» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَلَهُ طَرِيقٌ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ حَمَّادٌ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When you come to the prayer, come with tranquility upon you; pray whatever portion you catch, and make up whatever you were preceded in."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تم نماز کے لئے آؤ تو تم ایسی حالت میں آؤ کہ تم پر سکون ہو جتنی نماز تمہیں ملے اسے ادا کر لو جو پہلے گزر چکی ہو اسے بعد میں ادا کر لو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ‘ اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں تاہم اس میں الفاظ ہیں حماد بیان کرتے ہیں : میرے علم کے مطابق انہوں نے نبی اکرم ﷺ تک ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ۔

2091

Majma al-Zawaid #2091

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: «بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ خَلْفَهُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: "" مَا شَأْنُكُمْ؟ "" قَالُوا: أَسْرَعْنَا إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ: "" فَلَا تَفْعَلُوا، لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ مَا أَدْرَكَ، وَلْيَقْضِ مَا فَاتَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَهُوَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ بِلَفْظِ: "" وَمَا سَبَقَكُمْ فَأَتِمُّوا"".

EnglishUnverified translation

Abū Qatādah رضي الله عنه narrated: While we were praying with the Messenger of Allah ﷺ, he heard the clamor of men behind him. When he finished his prayer, he asked, "What was the matter with you?" They said, "We rushed to catch the prayer." He said: > **"Do not do so. Let each of you pray whatever portion he catches, and make up whatever he missed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے آپ نے اپنے پیچھے ( تیزی سے ) چل کر آنے کی آواز سنی جب آپ نے نماز مکمل کی تو دریافت کیا : تم لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم نماز کی طرف جلدی آنا چاہ رہے تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ایسا نہ کرو تم میں سے کوئی شخص جتنی نماز اسے ملے وہ ادا کر لے اور جو پہلے گزر چکی ہو وہ بعد میں مکمل کر لے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ‘ اور روایت کے یہ الفاظ متفق علیہ ہیں جو پہلے گزر چکی ہو اسے مکمل کر لو ‘‘۔

2092

Majma al-Zawaid #2092

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: «كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نُرِيدُ الصَّلَاةَ، فَكَانَ يُقَارِبُ الْخُطَا فَقَالَ: "" أَتَدْرُونَ لِمَ أُقَارِبُ الْخُطَا؟ "" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: "" لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي الصَّلَاةِ مَا دَامَ فِي طَلَبِ الصَّلَاةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَلَهُ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: "" إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِتَكْثِيرِ خُطَايَ فِي طَلَبِ الصَّلَاةِ "". وَفِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ نِبْرَاسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرَوَاهُ مَوْقُوفًا عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thābit رضي الله عنه narrated: I was walking with the Prophet ﷺ on our way to the prayer, and he was taking short steps. He asked, "Do you know why I am taking short steps?" I replied, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"The servant remains in prayer as long as he is in pursuit of the prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا ہمارا نماز کا ارادہ تھا نبی اکرم ﷺ چھوٹے قدم اٹھا رہے تھے آپ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو میں چھوٹے قدم کیوں اٹھا رہا ہوں ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بندہ مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے ‘ جب تک وہ نماز کی طلب میں ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ان صحابی کے حوالے سے ایک اور روایت میں یہ الفاظ منقول ہیں : میں نے ایسا اس لئے کیا ہے تاکہ نماز کی طلب میں میرے قدم زیادہ ہو جائیں ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ضحاک بن نبراس ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے مصنف نے اسے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ پر ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

2093

Majma al-Zawaid #2093

وَعَنْ ثَابِتٍ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ بِالزَّاوِيَةِ إِذْ سَمِعَ الْأَذَانَ ثُمَّ قَارَبَ فِي الْخُطَا حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَشَى بِي هَذِهِ الْمِشْيَةَ، فَقَالَ: أَتَدْرِي يَا ثَابِتُ لِمَ مَشَيْتُ بِكَ هَذِهِ الْمِشْيَةَ؟ "" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: "" لِيَكْثُرَ عَدَدُ الْخُطَا فِي طَلَبِ الصَّلَاةِ"". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَسْقَطَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَقَدْ رَوَاهُ أَنَسٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَفِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ نِبْرَاسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Thābit narrated: I was walking with Anas ibn Mālik رضي الله عنه at al-Zāwiyah when he heard the adhān. He then began taking short steps until I entered the mosque. He then said: Indeed, the Messenger of Allah ﷺ once walked with me in this exact manner and asked, "Do you know, O Anas, why I walked with you in this manner?" I replied, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"So that the number of steps in pursuit of the prayer may be multiplied."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثابت بیان کرتے ہیں : میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ ’’ زاویہ ‘‘ میں چلتا ہوا جا رہا تھا انہوں نے اذان کی آواز سنی پھر چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے چل پڑے یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہوا پھر انہوں نے بتایا ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ بھی اسی طریقے سے چلتے ہوئے تشریف لے گئے آپ نے دریافت کیا : اے انس ! کیا تم جانتے ہو ؟ میں اس طرح سے چل کے کیوں آیا ہوں ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تاکہ نماز کی طلب میں قدموں کی تعداد زیادہ ہو جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے اس میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا حالانکہ یہ روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ضحاک بن نبر اس ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

2094

Majma al-Zawaid #2094

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ سَعَى إِلَى الصَّلَاةِ فَقِيلَ لَهُ: فَقَالَ: أَوَلَيْسَ أَحَقُّ مَا سَعَيْتُمْ إِلَيْهِ الصَّلَاةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَسَلَمَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn Kuhayl narrated that ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه hastened toward the prayer, so he was questioned regarding that, whereupon he said: > **"Is not the prayer the most deserving thing toward which you should hasten?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلمہ بن کہیل بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نماز کی طرف تیزی سے چلتے ہوئے جا رہے تھے ان سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : کیا نماز ایسی چیز نہیں ہے ، جس کی طرف سب سے زیادہ تیزی کرنی چاہیے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے سلمہ نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

2095

Majma al-Zawaid #2095

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ طَيِّءٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَجَعَلَ يُهَرْوِلُ فَقِيلَ لَهُ: أَتَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ تَنْهَى عَنْهُ؟ قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ حَدَّ الصَّلَاةِ وَالتَّكْبِيرَةَ الْأُولَى. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ كَمَا تَرَاهُ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ بَعْدُ بِأَبْوَابٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.

EnglishUnverified translation

A man from the tribe of Ṭayyiʾ narrated from his father that ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه went out toward the mosque and began jogging. It was said to him, "Do you do this when you yourself forbid it?" He replied: > **"I only intended to catch the initial portion of the prayer and the opening takbīr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طے قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد کی طرف جانے کے لئے نکلے ‘ تو تیز قدموں سے چلنے لگے ان سے کہا گیا آپ ایسا کر رہے ہیں حالانکہ آپ خود اس سے منع کرتے ہیں تو انہوں نے فرمایا : میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ نماز کے آغاز اور تکبیر اولی میں پہنچ جاؤں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں ۔ میں یہ کہتا ہوں ، نماز کی طرف چل کر جانے کے بارے میں احادیث کچھ ابواب کے بعد آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

2096

Majma al-Zawaid #2096

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «كَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَالَ: "" اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ""وَإِذَا خَرَجَ قَالَ: "" اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه narrated: > **"When entering the mosque, the Prophet ﷺ used to say: 'O Allah, open for me the gates of Your mercy' (Allāhumma-ftaḥ lī abwāba raḥmatik); and when exiting, he would say: 'O Allah, open for me the gates of Your bounty' (Allāhumma-ftaḥ lī abwāba faḍlik)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب مسجد میں داخل ہوتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : ’’ اے اللہ ! تو میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ‘‘۔ ( اور جب آپ مسجد سے ) باہر تشریف لاتے تھے تو یہ پڑھتے تھے ۔ ’’ اے اللہ ! میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ ہے ‘ اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

2097

Majma al-Zawaid #2097

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «عَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَقُولُ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَافْتَحْ لَنَا أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ "" وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" اللَّهُمَّ افْتَحْ لَنَا أَبْوَابَ فَضْلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated: > **"The Messenger of Allah ﷺ taught al-Ḥasan ibn ʿAlī that whenever he enters the mosque, he should invoke blessings upon the Prophet ﷺ and say: 'O Allah, forgive us our sins and open for us the gates of Your mercy' (Allāhumma-ghfir lanā dhunūbanā wa-ftaḥ lanā abwāba raḥmatik); and when he exits, he should invoke blessings upon the Prophet ﷺ and say: 'O Allah, open for us the gates of Your bounty' (Allāhumma-ftaḥ lanā abwāba faḍlik)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کی تعلیم دی کہ جب وہ مسجد میں داخل ہوں تو نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجیں اور یہ پڑھیں : ’’ اے اللہ ! تو ہمارے گناہوں کی مغفرت کر دے اور ہمارے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ‘‘۔ اور جب وہ مسجد سے باہر آئیں تو نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجیں اور یہ پڑھیں : اے اللہ ! تو ہمارے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سالم بن عبدالاعلیٰ ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

2098

Majma al-Zawaid #2098

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ الْمَسَاجِدَ وَلْيَخْرُجْنَ تَفِلَاتٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Khālid al-Juhanī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Do not prevent the female servants of Allah from the mosques, but let them go out unperfumed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کی کنیزوں کو مساجد میں جانے سے منع نہ کرو البتہ وہ خوش لگائے بغیر نکلیں گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

2099

Majma al-Zawaid #2099

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Do not prevent the female servants of Allah from the mosques of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کی کنیزوں کو اللہ تعالیٰ کی مساجد سے منع نہ کرو ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

2100

Majma al-Zawaid #2100

وَلِعُمَرَ عِنْدَ أَحْمَدَ عَنْ سَالِمٍ قَالَ: «كَانَ عُمَرُ رَجُلًا غَيُورًا فَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ تَبِعَتْهُ عَاتِكَةُ بِنْتُ زَيْدٍ فَكَانَ يَكْرَهُ خُرُوجَهَا وَيَكْرَهُ مَنْعَهَا، وَكَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا تَمْنَعُوهُنَّ». وَسَالِمٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ.

EnglishUnverified translation

Sālim narrated regarding ʿUmar رضي الله عنه: ʿUmar was a man of intense protective jealousy (ghayrah). When he went out to the prayer, ʿĀtikah bint Zayd [his wife] would follow him. He disliked her going out, yet he disliked preventing her because he used to narrate that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When your women seek permission from you to go to the prayer, do not prevent them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام احمد نے سالم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ تیز مزاج کے آدمی تھے ایک مرتبہ وہ نماز کے لئے نکلے ‘ تو عاتکہ بنت زید ( جو ان کی اہلیہ تھیں ) وہ ان کے پیچھے آئیں حضرت عمر اس خاتون کے نکلنے کو ناپسند کرتے تھے ‘ اور اسے منع کرنے کو بھی ناپسند کرتے تھے وہ یہ حدیث بیان کرتے تھے : ’’ جب تمہاری خواتین نماز کے لئے جانے کے لئے تم سے اجازت مانگیں تو تم انہیں منع نہ کرو ‘‘۔ سالم نامی راوی نے حضرت عمر بھی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

2101

Majma al-Zawaid #2101

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ «سُئِلَ عَنِ الْعَجَائِزِ أَكُنَّ يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَالشَّوَابُّ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَزَادَ: "" «كُنَّ يُصَلِّينَ خَلْفَ مَنَاكِبِنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» - "". وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه was asked whether elderly women used to attend the prayer with the Messenger of Allah ﷺ. He replied: > **"Yes, and young women as well; they used to pray behind our shoulders with the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان سے بوڑھی عورتوں کے بارے میں دریافت گا گیا : کیا وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز با جماعت میں شریک ہوتی تھیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اور جوان عورتیں بھی شریک ہوتی تھیں ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ وہ ہمارے پیچھے ( کھڑی ہو کر ) نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز میں شریک ہوتی تھیں ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

2102

Majma al-Zawaid #2102

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ قَالَتْ: «أَدْرَكْتُ الْقَوَاعِدَ وَهُنَّ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَرَائِضَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah bint Ḥakīm رضي الله عنها narrated: > **"I witnessed elderly women praying the obligatory prayers with the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ام سلمہ بنت حکیم بیان کرتی ہیں : میں نے عمر رسیدہ خواتین کو پایا ہے ‘ جو نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں فرض نماز میں شریک ہوا کرتی تھیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

2103

Majma al-Zawaid #2103

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْغَدَاةَ ثُمَّ يَخْرُجْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated: > **"The women used to pray the Dawn prayer (al-Ghadāh) with the Messenger of Allah ﷺ, and then depart wrapped in their woolen garments (murūṭ)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : خواتین نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں صبح کی نماز میں شریک ہوتی تھیں ۔ اور پھر وہ چادروں میں منہ چھپا کر نکل جاتی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں محمد بن عمرو بن علقمہ کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

2104

Majma al-Zawaid #2104

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ، أَوْ فِي جِنَازَةِ قَتِيلٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ إِلَّا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ» "". وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is no good in a gathering of women except in the mosque, or at the funeral of one who was killed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ خواتین کی جماعت ( یا اکٹھے ہونے ) میں بھلائی نہیں ہے البتہ مسجد میں ( ان کے باجماعت نماز ادا کرنے کا ) معاملہ مختلف ہے یا کسی مقتول کے جنازے میں ( ان کے اکھٹے ہونے ) کا معاملہ مختلف ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ خواتین کی جماعت ( یا اکٹھے ہونے ) میں کوئی بھلائی نہیں ہے البتہ با جماعت نماز والی مسجد کا معاملہ مختلف ہے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

2105

Majma al-Zawaid #2105

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «خَيْرُ مَسَاجِدِ النِّسَاءِ قَعْرُ بُيُوتِهِنَّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَلَفْظُهُ: "" «خَيْرُ صَلَاةِ النِّسَاءِ فِي قَعْرِ بُيُوتِهِنَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The best places of prayer (masājid) for women are the innermost parts of their homes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ خواتین کی مساجد میں سب سے بہتر ‘ اُن کے گھر کا اندرونی حصہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : خواتین کی سب سے بہتر نماز وہ ہے ‘ جو گھر کے انتہائی اندورنی حصے میں ادا کی جائے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

2106

Majma al-Zawaid #2106

وَعَنْ أُمِّ حُمَيْدٍ - امْرَأَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ - أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ الصَّلَاةَ مَعَكَ قَالَ: "" قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ تُحِبِّينَ الصَّلَاةَ مَعِي، وَصَلَاتُكِ فِي بَيْتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي حُجْرَتِكِ، وَصَلَاتُكِ فِي حُجْرَتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي دَارِكِ، وَصَلَاتُكِ فِي دَارِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ، وَصَلَاتُكَ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِي "" قَالَتْ: فَأَمَرَتْ فَبُنِيَ لَهَا مَسْجِدٌ فِي أَقْصَى بَيْتٍ فِي بَيْتِهَا وَأَظْلَمِهِ فَكَانَتْ تُصَلِّي فِيهِ حَتَّى لَقِيَتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Umm Ḥumayd رضي الله عنها—the wife of Abū Ḥumayd al-Sāʿidī رضي الله عنه—came to the Prophet ﷺ and said, "O Messenger of Allah, I love praying alongside you." He ﷺ said: > **"I know that you love praying with me, yet your prayer in your private room is better than your prayer in your inner room, and your prayer in your inner room is better than your prayer in your house courtyard, and your prayer in your house courtyard is better than your prayer in the mosque of your people, and your prayer in the mosque of your people is better than your prayer in my mosque."** [She then gave orders and a place of prayer was established for her in the innermost and darkest part of her home, where she continued to pray until she met Allah, Mighty and Majestic.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اُم حمید رضی اللہ عنہا جو حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کو پسند کرتی ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کا پتہ ہے کہ تم میری اقتداء میں نماز ادا کرنے کو پسند کرتی ہو لیکن تمہارا اپنے گھر میں نماز ادا کرنا تمہارے لئے باہر والے کمرے میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے ‘ اور تمہارا باہر والے کمرے میں نماز ادا کرنا تمہارے لئے صحن میں نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ‘ اور تمہارا صحن میں نماز ادا کرنا تمہارے اپنی قوم کی مسجد میں نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ‘ اور تمہارا اپنی قوم کی مسجد میں نماز ادا کرنا میری مسجد میں نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ۔ راوی خاتون بیان کرتی ہیں : سیدہ ام حمید رضی اللہ عنہا نے حکم دیا ان کے لئے گھر کے انتہائی اندرونی اور تاریک ترین حصے میں نماز کے لئے جگہ مخصوص کی گئی وہ خاتون اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک اسی جگہ پر نماز ادا کرتی تھیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن سوید انصاری کا معاملہ مختلف ہے ۔ ابن حبان نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

2107

Majma al-Zawaid #2107

وَعَنْ أُمِّ حُمَيْدٍ قَالَتْ: قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ يَمْنَعُنَا أَزْوَاجُنَا أَنْ نُصَلِّيَ مَعَكَ وَنُحِبُّ الصَّلَاةَ مَعَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" صَلَاتُكُنَّ فِي بُيُوتِكُنَّ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِكُنَّ فِي حُجُرِكُنَّ، وَصَلَاتُكُنَّ فِي حُجُرِكُنَّ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِكُنَّ فِي دَوْرِكُنَّ، وَصَلَاتُكُنَّ فِي دَوْرِكُنَّ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِكُنَّ فِي الْجَمَاعَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Ḥumayd رضي الله عنها narrated: I said, "O Messenger of Allah, our husbands prevent us from praying alongside you, though we love praying with you." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Your prayer in your innermost rooms is better than your prayer in your outer chambers; and your prayer in your outer chambers is better than your prayer in your courtyards; and your prayer in your courtyards is better than your prayer in the congregation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام حمید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے شوہر ہمیں آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنے سے منع کرتے ہیں ‘ اور ہم خواتین آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کو پسند کرتی ہیں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم خواتین کا اپنے گھروں میں نماز ادا کرنا تمہارے بیرونی کمرے میں نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ‘ اور تمہارا بیرونی کمرے میں نماز ادا کرنا تمہارے صحن میں نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ‘ اور تمہارا صحن میں نماز ادا کرنا تمہارے جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

2108

Majma al-Zawaid #2108

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا، وَصَلَاتُهَا فِي حُجْرَتِهَا خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهَا فِي دَارِهَا، وَصَلَاتُهَا فِي دَارِهَا خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهَا خَارِجُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا زَيْدَ بْنَ الْمُهَاجِرِ فَإِنَّ ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ لَمْ يَذْكُرْ عَنْهُ رَاوِيًا غَيْرَ ابْنِهِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"A woman's prayer in her innermost room is better than her prayer in her outer room; her prayer in her outer room is better than her prayer in her courtyard; and her prayer in her courtyard is better than her prayer outside."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عورت کا گھر کے اندورنی حصے میں نماز ادا کرنا اس کے بیرونی کمرے میں نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ‘ اور اس کا بیرونی کمرے میں نماز ادا کرنا اس کے صحن میں نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ‘ اور اس کا صحن میں نماز ادا کرنا اس کے گھر سے باہر نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف زید بن مہاجر کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ ابن ابوحاتم نے اس کے حوالے سے روایت کرنے والے کسی بھی شخص کا ذکر نہیں کیا صرف اس کے بیٹے محمد بن زید کا ذکر کیا ہے ۔

2109

Majma al-Zawaid #2109

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا، وَصَلَاتُهَا فِي حُجْرَتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي دَارِهَا، وَصَلَاتُهَا فِي دَارِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِيمَا سِوَاهَا ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"A woman's prayer in her innermost room is more virtuous than her prayer in her outer room; her prayer in her outer room is more virtuous than her prayer in her courtyard; and her prayer in her courtyard is more virtuous than her prayer anywhere else." He then added: "Indeed, when a woman goes out, Satan elevates his gaze toward her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عورت کا اپنے گھر کے اندرونی حصے میں نماز ادا کرنا اس کے بیرونی کمرے میں نماز ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ‘ اور اس کا بیرونی کمرے میں نماز ادا کرنا اس کے صحن میں نماز ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ‘ اور اس کا صحن میں نماز ادا کرنا اس کے علاوہ کہیں ‘ اور نماز ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : جب عورت ( اپنے گھر سے باہر ) نکلتی ہے ‘ تو شیطان اسے جھانک کر دیکھتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

2110

Majma al-Zawaid #2110

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: «رَأَيْتُ النِّسَاءَ الْقَوَاعِدَ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sulaymān ibn Abī Ḥathmah narrated from his mother رضي الله عنها, who said: > **"I saw the elderly women praying alongside the Messenger of Allah ﷺ in the mosque."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن ابوحثمہ اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے ان خواتین کو دیکھا ہے ‘ جو نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں مسجد میں نماز ادا کرتی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابو مخارق ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

2111

Majma al-Zawaid #2111

وَعَنْهَا قَالَتْ: «رَأَيْتُ نِسَاءً مِنَ الْقَوَاعِدِ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَرَائِضَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

She [the mother of Sulaymān ibn Abī Ḥathmah] رضي الله عنها also narrated: > **"I saw women from among the elderly praying the obligatory prayers alongside the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس خاتون کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتی ہیں : میں نے ان خواتین کو دیکھا ہے جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں فرض نمازیں ادا کی ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلیٰ ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

2112

Majma al-Zawaid #2112

وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ أَبِي حَكِيمٍ أَنَّهَا قَالَتْ: «أَدْرَكْتُ الْقَوَاعِدَ وَهُنَّ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Sulaym bint Abī Ḥakīm رضي الله عنها narrated: > **"I witnessed elderly women praying alongside the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ام سلیم بنت ابوحکیم بیان کرتی ہیں : میں نے ان خواتین کا زمانہ پایا ہے جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

2113

Majma al-Zawaid #2113

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا صَلَّتِ امْرَأَةٌ فِي مَوْضِعٍ خَيْرٌ لَهَا مِنْ قَعْرِ بَيْتِهَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ أَوْ مَسْجِدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا امْرَأَةً تَخْرُجُ فِي مَنْقَلَيْهَا، يَعْنِي: خُفَّيْهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"No woman prays in a place that is better for her than the innermost part of her home, except if it be al-Masjid al-Ḥarām or the Mosque of the Prophet ﷺ, or an elderly woman who goes out shuffling in her leather socks (khuffayn)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عورت کسی بھی ایسی جگہ پر نماز ادا نہیں کرے گی جو اس کے لئے گھر کے انتہائی اندرونی حصے سے زیادہ بہتر ہو البتہ مسجد حرام یا مسجد نبوی کا معاملہ مختلف ہے البتہ اس عورت کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو منتقل میں نکلتی ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) یعنی موزے پہن کر نکلتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

2114

Majma al-Zawaid #2114

وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ كَانَ يَحْلِفُ فَيَبْلُغُ فِي الْيَمِينِ: مَا مِنْ مُصَلًّى لِلْمَرْأَةِ خَيْرٌ مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، إِلَّا امْرَأَةً قَدْ يَئِسَتْ مِنَ الْبُعُولَةِ وَهِيَ فِي مَنْقَلَيْهَا قُلْتُ: مَا مَنْقَلَيْهَا؟ قَالَ: امْرَأَةٌ عَجُوزٌ قَدْ تَقَارَبَ خَطْوُهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه also used to swear with solemn emphasis: > **"There is no place of prayer better for a woman than her home—except during Ḥajj or ʿUmrah—save for an elderly woman who has lost all desire for marriage and walks taking short, shuffling steps."** [The sub-narrator asked: "What is meant by 'shuffling steps' (*fī manqalayhā*)?" He replied: "An old woman whose stride has become shortened."]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے بارے میں یہ بات بھی منقول ہے : وہ حلف اٹھاتے تھے ‘ اور یمین کے طور پر اٹھاتے تھے کہ عورت کے لئے نماز ادا کرنے کی کوئی بھی جگہ اس کے گھر سے زیادہ بہتر نہیں ہے البتہ حج اور عمرے کا معاملہ مختلف ہے ‘ تاہم اس عورت کا معاملہ بھی مختلف ہے ‘ جو عمر رسیدگی کی وجہ سے مایوس ہو چکی ہو اور جو منقل میں چلے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اس کے منقل میں چلنے سے مراد کیا ہے ‘ استاد نے جواب دیا : ایسی بوڑھی عورت جو چھوٹے قدم اٹھاتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔