وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَاسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ فَرَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ ثُمَّ مَشَى إِلَيْهَا فَحَكَّهَا فَفَعَلَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ فِي مَقَامٍ عَظِيمٍ بَيْنَ يَدَيْ رَبٍّ عَظِيمٍ، يَسْأَلُ أَمْرًا عَظِيمًا؛ الْفَوْزَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّجَاةَ مِنَ النَّارِ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ يَقُومُ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مُسْتَقْبِلَ رَبِّهِ، وَمَلَكُهُ عَنْ يَمِينِهِ وَقَرِينُهُ عَنْ يَسَارِهِ، فَلَا يَتْفُلَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ ثُمَّ لْيَعْرُكْ فَلْيَشْدُدْ عَرْكَهُ، فَإِنَّمَا يَعْرُكُ أُذُنَ الشَّيْطَانِ، وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَوْ يَنْكَشِفُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ الْحُجُبُ أَوْ يُؤْذَنُ فِي الْكَلَامِ لَشَكَا مَا يَلْقَى مِنْ ذَلِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Abū Umāmah رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ stood one day and commenced the prayer. He saw phlegm in the direction of the Qiblah, so he removed his sandals, walked toward it, and scraped it off; he did this three times. When he completed his prayer, he turned his face toward the people, praised and glorified Allah, and then said: > **"O people, when any one of you stands in prayer, he stands in a momentous station before a Magnificent Lord, asking for a momentous matter: attaining Paradise and salvation from the Fire. Indeed, when one of you stands in prayer, he stands before Allah, Mighty and Majestic, facing his Lord, with his recording angel on his right and his devilish companion on his left. Therefore, let none of you spit in front of him nor to his right, but rather to his left or beneath his foot; then let him rub it firmly, for he is indeed rubbing it into the ear of Satan. By the One Who sent me with the truth, were the veil between you and him to be removed, or were he permitted to speak, he would surely complain of the agony he suffers from that!"**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے آپ نے نماز شروع کی تو آپ کو قبلہ کی سمت میں تھوک لگا ہوا نظر آیا آپ نے اپنا جوتا اتارا پھر چلتے ہوئے اس کی طرف گئے اور اسے کھرچ دیا ایسا آپ نے تین مرتبہ کیا جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ اپنا چرہ پھیر کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! جب تم میں سے کوئی ایک شخص نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے عظیم پروردگار کے سامنے ایک اہم جگہ پر کھڑا ہوتا ہے ‘ اور وہ عظیم چیز کے بارے میں مانگتا ہے ‘ جو جنت کے ذریعے کامیابی ہے ‘ اور جہنم سے نجات ہے ‘ تو جب تم میں سے کوئی ایک شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے ‘ اس کا رخ اس کے پروردگار کے سامنے ہوتا ہے فرشتہ اس کے دائیں طرف ہوتا ہے ‘ اس کا قرین اس کے بائیں طرف ہوتا ہے ‘ تو کوئی بھی شخص اپنے سامنے کی طرف یا اپنے دائیں طرف ہرگز نہ تھوکے اسے بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہیے اور پھر کوئی شاخ لے کر اسے اچھی طرح سے صاف کر دینا چاہئے ۔ اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اگر تمہارے اور اس کے درمیان موجود حجابات کو ختم کر دیا جائے یا اسے کلام کرنے کی اجازت دی جائے تو وہ اس بات کی شکایت کرے گا کہ اسے اس صورت حال کا جو سامنا کرنا پڑا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عبیداللہ بن زحر کی علی بن یزید کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔