«وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذِ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَعَلَيْكَ ""، قَالَتْ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَقَالَتْ: ثُمَّ دَخَلَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَعَلَيْكَ ""، قَالَتْ: ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ، قَالَتْ: قُلْتُ: بَلِ السَّامُ عَلَيْكَ وَغَضَبُ اللَّهِ، إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ بِمَا لَمْ يُحَيِّهْ بِهِ اللَّهُ؟ قَالَتْ: فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ: "" مَهْ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ، قَالُوا قَوْلًا فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يَضُرَّنَا شَيْئًا، وَلَزِمَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، إِنَّهُمْ لَا يَحْسُدُونَ عَلَى شَيْءٍ كَمَا حَسَدُونَا عَلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا، وَعَلَى الْقِبْلَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا، وَعَلَى قَوْلِنَا خَلْفَ الْإِمَامِ آمِينَ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ شَيْخُ أَحْمَدَ وَقَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ بِسَبَبِ كَثْرَةِ الْغَلَطِ وَالْخَطَأِ، قَالَ أَحْمَدُ: أَمَّا أَنَا فَأُحَدِّثُ عَنْهُ، وَحَدَّثْنَا عَنْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
ʿĀʾishah رضي الله عنها reported: While I was with the Prophet ﷺ, a Jewish man asked permission to enter, and permission was granted to him. He said, "Al-sāmu ʿalayk" (Death be upon you). The Prophet ﷺ replied, "Wa ʿalayk" (And upon you). I intended to speak, but he entered a second time and said the same, and the Prophet ﷺ replied, "Wa ʿalayk." Then he entered a third time and said, "Al-sāmu ʿalayk." I said, "Rather, death be upon you, and the wrath of Allah, O brothers of apes and swine! Do you greet the Messenger of Allah with that which Allah has never greeted him with?" The Prophet ﷺ looked at me and said: > **"Gently! Indeed, Allah does not love foul speech or vulgarity. They uttered words, and we returned them upon them; it will not harm us in the least, but it will cling to them until the Day of Resurrection. Indeed, they do not envy us over anything as much as they envy us over Friday, to which Allah guided us while they went astray from it; and over the Qiblah, to which Allah guided us while they went astray from it; and over our saying 'Āmīn' behind the Imam."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھی اسی دوران ایک یہودی شخص نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم ﷺ نے اسے اجازت عطا کر دی اس نے کہا السام علیک ( یعنی آپ کو موت آئے ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں بھی ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کچھ بات کہنے کا ارادہ کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں پھر وہ دوسری مرتبہ آیا تو اس نے پھر اس کی مانند کلمات کہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر وہ تیسری مرتبہ آیا تو اس نے کہا السام علیک ( یعنی آپ کو موت آئے ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں تو میں نے کہا : بلکہ تمہیں موت آئے اور تم پر اللہ کا غضب نازل ہو تم لوگ بندر اور خنزیروں کے بھائی ہو کیا تم اللہ کے رسول کو اس کے برخلاف طریقے سے سلام کرتے ہو ‘ جس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سلام بھیجا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا رک جاؤ اللہ تعالیٰ بدزبانی اور بدگوئی کو پسند نہیں کرتا ہے ان لوگوں نے ایک بات کہی تھی ہم نے انہیں جواب دے دیا ان کی بات ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ‘ اور ان لوگوں پر قیامت کے دن تک کے لئے لازم ہو جائے گی یہ لوگ کسی بھی چیز کے حوالے سے اتنا حسد نہیں کرتے ہیں جتنا جمعہ کے دن کے حوالے سے ہمارے ساتھ حسد کرتے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالی نے ہماری رہنمائی کر دی اور ان لوگوں کو اسی سے گمراہ کر دیا اور اس قبلہ کے حوالے سے ہم سے حسد کرتے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالی نے ہماری رہنمائی کر دی اور ان لوگوں کو اس کے حوالے سے گمراہ کر دیا اور امام کے پیچھے ہمارے آمین کہنے سے ہم سے حسد کرتے ہیں ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے ‘ جو امام احمد کا ستاد ہے ‘ اس کی بکثرت غلطیوں اور خطاؤں کی وجہ سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے امام احمد فرماتے ہیں : جہاں تک میرا تعلق ہے ‘ تو میں اس کے حوالے سے حدیث روایت کرتا ہوں ‘ اور مجھے اس کے حوالے سے حدیث بیان کی گئی ہیں اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔