Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 4 · Chapter 10

Book of Prayer

Hadith 1955–1994

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1955

Majma al-Zawaid #1955

وَعَنْ الْقَاسِمِ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - قَالَ: أَوَّلُ مَنِ اقْتَبَسَ الْقُرْآنَ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَأَوَّلُ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ يُصَلَّى فِيهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، وَأَوَّلُ مَنْ أَذَّنَ بِلَالٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْجِهَادِ فِي الرَّمْيِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Qāsim ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAbdillāh ibn Masʿūd said: > **"The first to acquire the recitation of the Qurʾān directly from the mouth of the Messenger of Allah ﷺ was ʿAbdullāh ibn Masʿūd; the first to build a mosque for Allah wherein prayer is offered was ʿAmmār ibn Yāsir; and the first to proclaim the Adhān was Bilāl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن عبدالرحن بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ کے رسول کی زبانی جس شخص نے سب سے پہلے قرآن کا علم حاصل کیا وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ‘ اور جس شخص نے سب سے پہلے مسجد بنائی جس میں نماز ادا کی جائے وہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں ‘ اور سب سے پہلے اذان دینے والے شخص حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث مکمل روایت کے طور پر جہاد سے متعلق باب میں تیراندازی سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا اور اس کی سند منقطع ہے ۔

1956

Majma al-Zawaid #1956

وَعَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَتِ امْرَأَتُهُ جَعَلَ يَقُولُ: احْمِلُوهَا وَارْغَبُوا فِي حَمْلِهَا؛ فَإِنَّهَا كَانَتْ تَحْمِلُ وَمَوَالِيهَا بِاللَّيْلِ حِجَارَةَ الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى، وَكُنَّا نَحْمِلُ بِالنَّهَارِ حَجَرَيْنِ حَجَرَيْنِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Abī Awfā رضي الله عنه narrated that when his wife passed away, he began urging the people: > **"Carry her bier and vie eagerly to carry it! For she and her maids used to carry stones by night for the mosque that was founded upon piety (al-Taqwā), while we used to carry two stones at a time during the day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن ابواوفی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب ان کی اہلیہ کا انتقال ہوا تو انہوں نے یہ کہنا شروع کیا اسے اٹھاؤ اور اسے اٹھانے میں دلچسپی رکھو کیونکہ یہ اور اس کی کنیزیں رات کے وقت اس مسجد سے پتھر اٹھایا کرتی تھیں جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے ‘ اور ہم لوگ دن کے وقت دو دو پتھر اٹھایا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابو مالک نخعی ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1957

Majma al-Zawaid #1957

«عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَلْقُطُ الْقَذَى مِنَ الْمَسْجِدِ فَتُوُفِّيَتْ، فَلَمْ يُؤْذَنِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدَفْنِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا مَاتَ لَكُمْ مَيِّتٌ فَآذِنُونِي "" وَصَلَّى عَلَيْهَا وَقَالَ: "" إِنِّي رَأَيْتُهَا فِي الْجَنَّةِ [لَمَّا كَانَتْ] تَلْقُطُ الْقَذَى مِنَ الْمَسْجِدِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ فِي تَرَاجِمِ النِّسَاءِ: الْخَرْقَاءُ السَّوْدَاءُ الَّتِي كَانَتْ تُمِيطُ الْأَذَى عَنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَذَكَرَ بَعْدَ هَذَا الْكَلَامِ إِسْنَادًا عَنْ أَنَسٍ قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَرِجَالُ إِسْنَادِ أَنَسٍ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَإِسْنَادُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ فَائِدٍ وَهُوَ مَجْهُولٌ وَقِيلَ فِيهِ: فَائِدُ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ وَهْمٌ. قُلْتُ: وَحَدِيثُ أَبِي قِرْصَافَةَ فِي الْبَابِ قَبْلَ هَذَا فِي إِخْرَاجِ الْقُمَامَةِ مِنَ الْمَسْجِدِ وَأَنَّهُ مُهُورُ الْحُورِ الْعِينِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that a woman used to clean up specks of dirt and litter from the mosque. When she passed away, the Prophet ﷺ was not notified of her burial. The Prophet ﷺ said: > **"Whenever someone among you dies, inform me."** He then led the funeral prayer over her and said: > **"Indeed, I saw her in Paradise on account of her gathering specks of dirt from the mosque."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک خاتون مسجد سے کوڑا کرکٹ صاف کیا کرتی تھی اس کا انتقال ہو گیا نبی اکرم ﷺ کو اس کے دفن کی اطلاع نہیں دی گئی ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کسی کا انتقال ہو ‘ تو مجھے اطلاع دیا کرو ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کی نماز جنازہ ادا کی اور آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے اس عورت کو جنت میں دیکھا ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے خواتین سے متعلق حالات میں یہ بات ذکر کی ہے کہ یہ ’’ فرقہ ‘‘ نام کی خاتون ہے ‘ جو سیاہ فام تھی یہ اللہ کے رسول کی مسجد میں صفائی کیا کرتی تھی انہوں نے اس کلام کے بعد ایک سند نقل کی ہے ‘ جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہے وہ بیان کرتے ہیں : اس کے بعد راوی نے یہ حدیث ذکر کی ہے ‘ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کی سند کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں جب کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی سند کے رجال میں ایک شخص عبدالعزیز بن فائدہ ہے ‘ جو مجہول ہے ‘ اس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ فائد بن عمر ہے ، لیکن یہ وہم ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوقر صافہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث بھی اس باب سے تعلق رکھتی ہے ‘ جو اس سے پہلے مسجد کی صفائی کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ‘ اس میں یہ مذکور ہے : یہ کام حورعین کا مہر ہے ۔

1958

Majma al-Zawaid #1958

«وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْرَابِيٌّ فَبَايَعَهُ [فِي الْمَسْجِدِ] ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَامَ فَفَشَجَ فَبَالَ، فَهَمَّ النَّاسُ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَقْطَعُوا عَلَى الرَّجُلِ بَوْلَهُ ""، ثُمَّ دَعَا بِهِ فَقَالَ: "" أَلَسْتَ بِمُسْلِمٍ؟ "" قَالَ: بَلَى، قَالَ: "" فَمَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ بُلْتَ فِي الْمَسْجِدِ؟ "" قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا ظَنَنْتُ إِلَّا أَنَّهُ صَعِيدٌ مِنَ الصُّعُدَاتِ فَبُلْتُ فِيهِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَى بَوْلِهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: A bedouin came to the Prophet ﷺ and pledged allegiance to him in the mosque, then turned away. He then stood, spread his legs, and began to urinate. The people rushed toward him to reprimand him, but the Prophet ﷺ said: > **"Do not interrupt the man's urination."** Then he called him over and asked: > **"Are you not a Muslim?"** He replied, "Yes, indeed." He ﷺ asked: > **"Then what prompted you to urinate in the mosque?"** The man said, "By the One Who sent you with the truth, I merely thought it was ordinary open ground like any other, so I urinated in it." The Prophet ﷺ then ordered a large bucket of water, and it was poured over his urine.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے مسجد میں آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا پھر وہ مڑ گیا پھر وہ کھڑا ہوا ‘ اس نے اپنی ٹانگیں پھیلائیں اور پیشاب کرنے لگا لوگ اس کی طرف بڑھنے لگے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس شخص کو پیشاب کرنے کے درمیان نہ روکو پھر آپ نے اس شخص کو بلایا اور فرمایا کیا تم مسلمان نہیں ہو ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم نے مسجد میں پیشاب کیوں کیا ہے ‘ اس شخص نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں نے تو یہی گمان کیا ہے یہ بھی ایک زمین ہے ‘ تو میں نے اس میں پیشاب کر دیا نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا پانی کا ایک ڈول لایا گیا اور اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ ‘ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

1959

Majma al-Zawaid #1959

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَانِهِ فَاحْتُفِرَ وَصُبَّ عَلَيْهِ دَلْوٌ مِنْ مَاءٍ»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ سَمْعَانُ بْنُ مَالِكٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated: > **"A bedouin came and urinated in the mosque, so the Prophet ﷺ commanded that his place be dug up and a bucket of water poured over it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی آیا اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا نبی اکرم ﷺ نے اس جگہ کے بارے میں حکم دیا اسے کھودا گیا پھر اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سمعان بن مالک ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

1960

Majma al-Zawaid #1960

عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ كَانَ يُجْمِرُ الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلَّ جُمُعَةٍ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ،، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated: > **"ʿUmar [ibn al-Khaṭṭāb] رضي الله عنه used to perfume the Mosque of the Messenger of Allah ﷺ with incense every Friday."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی مسجد میں ہر جمعہ کے دن دھونی دیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر عمری ہے ‘ جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

1961

Majma al-Zawaid #1961

«عَنْ عُمَرَ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: ""يَنْبَغِي أَنْ نَزِيدَ فِي مَسْجِدِنَا"" مَا زِدْتُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ""إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَزِيدَ فِي قِبْلَتِنَا""، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ""إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَزِيدَ فِي قِبْلَتِكُمْ""، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ نَافِعٍ وَعُمَرَ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar [ibn al-Khaṭṭāb] رضي الله عنه said: > **"Had I not heard the Messenger of Allah ﷺ say: 'It is appropriate that we expand our mosque,' I would never have expanded it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا : ’’ مناسب یہ ہے کہ ہم اپنی مسجد میں اضافہ کر دیں ‘‘ تو میں نے ( مسجد نبوی کی تعمیر نو میں ) اضافہ نہیں کرنا تھا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ بے شک ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے قبلہ میں اضافہ کر دیں ( یعنی مسجد میں توسیع کر دیں ) ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ تاہم اس میں ان کے الفاظ یہ ہیں :’’ میں یہ چاہتا ہوں کہ تم لوگوں کے قبلہ میں اضافہ کر دوں ( یعنی مسجد میں توسیع کر دوں ) ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ عمری ہے ‘ جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے امام احمد کی سند نافع اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے ۔

1962

Majma al-Zawaid #1962

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَبْنُونَ مَسْجِدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَوْسِعُوا مَسْجِدَكُمْ تَمْلَئُوهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِرْهَمٍ، وَرَوَى عَنْهُ شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ وَقَالَ: ثِقَةٌ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالدَّارَقُطْنِيُّ.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ passed by a group of the Anṣār who were building a mosque, and the Prophet ﷺ said: > **"Make your mosque spacious, and you will fill it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے پاس سے ہوا جو مسجد تعمیر کر رہے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تم لوگ مسجد کو کشادہ رکھو اور اسے بھر دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن درہم ہے ‘ جس کے حوالے سے شبابہ بن ہوار نے روایت نقل کی ہے : وہ فرماتے ہیں : یہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے یحیی بن معین اور دارقطنی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

1963

Majma al-Zawaid #1963

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَمَّنْ حَدَّثَهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُنَا أَنْ نَصْنَعَ الْمَسَاجِدَ فِي دُورِنَا وَأَنْ نُصْلِحَ صَنْعَتَهَا وَنُطَهِّرَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah ibn al-Zubayr narrated from one of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ who said: > **"The Messenger of Allah ﷺ used to command us to establish mosques in our neighborhoods, to construct them well, and to keep them purified."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم اپنے محلوں میں مساجد بنائیں اور انہیں اچھی طرح سے بنائیں اور انہیں پاک و صاف رکھیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند صحیح ہے ۔

1964

Majma al-Zawaid #1964

«وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي تَرَكَ دَيْنًا لِيَهُودِيٍّ، فَقَالَ: "" سَآتِيكَ يَوْمَ السَّبْتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ "" وَذَلِكَ فِي زَمَنِ الثَّمَرِ مَعَ اسْتِجْدَادِ النَّخْلِ، فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةَ يَوْمِ السَّبْتِ جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ فِي مَالِي دَنَا إِلَى الرَّبِيعِ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَنَوْتُ بِهِ إِلَى خَيْمَةٍ لِي فَبَسَطْتُ لَهُ نِجَادًا مِنْ شَعْرٍ، وَطَرَحْتُ لَهُ جَدِيَّةً مِنْ قَتَبٍ مِنْ شَعْرٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَكَأَنَّهُ نَظَرَ إِلَى مَا عَمِلَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى جَاءَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ نَظَرَ إِلَى صَاحِبَيْهِ، فَدَخَلَا فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ عِنْدَ رَأْسِهِ وَعُمَرُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما narrated: I said, "O Messenger of Allah, my father left behind a debt owed to a Jewish man." He ﷺ said: > **"I will come to you on Saturday, if Allah wills."** This was during the fruit harvest when fresh dates were being picked. On Saturday morning, the Messenger of Allah ﷺ arrived. When he entered upon me in my date grove, he approached the small stream and performed ablution from it. He then proceeded to the local prayer place (mosque) and prayed two rakʿahs. Afterward, I brought him to a tent belonging to me and spread a hair carpet for him, and placed a cushion stuffed with date-palm fiber for him to lean upon, and he reclined on it. It was not long before Abū Bakr رضي الله عنه arrived; as if having seen what the Prophet of Allah ﷺ had done, he performed ablution and prayed two rakʿahs. Shortly thereafter, ʿUmar رضي الله عنه arrived, and he also made ablution and prayed two rakʿahs, as though following the lead of his two companions. They both entered; Abū Bakr sat near his head, and ʿUmar sat near his feet.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد نے ایک یہودی کا قرض چھوڑا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہفتے کے دن میں تمہاری طرف آؤں گا اگر اللہ نے چاہا راوی کہتے ہیں : یہ پھل اتارنے کے زمانے کی بات ہے ‘ جب درخت سے پھل اتارا جاتا ہے ، جب ہفتے کے دن کی صبح ہوئی ‘ تو نبی اکرم ﷺ میرے ہاں تشریف لائے جب آپ میرے ہاں تشریف لائے تو آپ میرے کھجوروں کے باغ میں بھی آئے آپ صاف پانی کی نالی کی طرف بڑھے آپ نے اس میں سے وضو کیا پھر آپ مسجد کی طرف گئے اور دو رکعات ادا کیں پھر میں آپ کو ساتھ لے کر اپنے خیمے کی طرف آیا میں نے آپ کو بالوں سے بنا ہوا بچھونا بچھا دیا اور آپ کے لئے بالوں سے بنا ہوا تکیہ رکھا جس میں پتے بھرے ہوئے تھے آپ نے اس کے ساتھ ٹیک لگا لی تھوڑی سی دیر کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے یوں لگتا تھا کہ جیسے انہوں نے یہ دیکھ لیا تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے کیا کیا ہے ۔ انہوں نے بھی وضو کر کے دو رکعات ادا کیں تھوڑی سی دیر کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے انہوں نے بھی وضو کر کے دو رکعات ادا کیں گویا کہ انہوں نے پہلے دو حضرات کو دیکھ لیا تھا یہ دونوں حضرات اندر آئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے سرہانے کی طرف بیٹھ گئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ پاؤں کی طرف بیٹھ گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن سلمہ بن ابویزید ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

1965

Majma al-Zawaid #1965

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ السَّدُوسِيِّ أَنَّهُ جَاءَ بِإِدَاوَةٍ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ غَسَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجْهَهُ وَمَضْمَضَ فِيهِ وَبَزَقَ فِي الْمَاءِ ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ مَلَأَ الْإِدَاوَةَ وَقَالَ: "" لَا تَرِدَنَّ مَاءً إِلَّا مَلَأْتَ الْإِدَوَاةَ عَلَى مَا بَقِيَ فِيهَا فَإِنِ أَتَيْتَ بِلَادَكَ فَرُشَّ بِهِ تِلْكَ الْبُقْعَةَ وَاتَّخِذْهُ مَسْجِدًا "" قَالَ: فَاتَّخَذُوهُ مَسْجِدًا، قَالَ عُمَرُ: وَقَدْ صَلَّيْتُ أَنَا فِيهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَعُمَرُ بْنُ شَقِيقٍ ذَكَرَهُ هُوَ وَأَبَوْهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِمَا جَرْحًا وَلَا غَيْرَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmayr al-Sadūsī narrated that he brought a small water-skin from the Prophet ﷺ, wherein the Prophet ﷺ had washed his face, rinsed his mouth, spat into the water, washed his hands, and then filled the skin, saying: > **"Whenever you stop by any water source, replenish the water-skin upon whatever remains in it. Then when you reach your land, sprinkle it over that designated plot and adopt it as a mosque."** They consequently adopted it as a mosque. ʿUmar [ibn Shaqīq] said, "And I indeed have prayed in it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمیر سدوسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ سے پانی کا ایک برتن لے کر آئے نبی اکرم ﷺ نے اپنا چہرہ دھویا تھا اس میں کلی کی تھی اور پانی میں لعاب دہن ڈالا تھا پھر آپ نے دونوں ہاتھ دھو کر برتن کو بھر دیا تھا آپ نے ارشاد فرمایا : تم راستے میں جب بھی کسی پانی کے پاس سے گزرو تو اس برتن میں جو پانی بچ گیا ہو اس میں مزید پانی شامل کر لو جب تم اپنے علاقے میں پہنچو تو اس پانی کو اس جگہ پر چھڑک دینا اور وہاں مسجد بنا دیا راوی کہتے ہیں : تو ان لوگوں نے اس جگہ کو مسجد بنایا عمر نامی راوی کہتے ہیں : میں نے وہاں نماز ادا کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے عمر بن شقیق نامی راوی اور اس کے والد کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ‘ اور ان دونوں کے بارے میں کسی جرح وغیرہ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

1966

Majma al-Zawaid #1966

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ عِيسَى الْخُزَاعِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا بَنَيْتَ مَسْجِدَ صَنْعَاءَ فَاجْعَلْهُ عَنْ يَمِينِ جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ صِيرٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn ʿĪsā al-Khuzāʿī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When you build the Mosque of Ṣanʿāʾ, construct it to the right of the mountain called Ṣayr [Ḍayn]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن عیسیٰ خزاعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب تم صنعاء کی مسجد تعمیر کرو گے ‘ تو اسے اس پہاڑ کے دائیں طرف بنانا جس کا نام ’’ صیر ‘‘ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

1967

Majma al-Zawaid #1967

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي وَهُوَ بِمَكَّةَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَالْكَعْبَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَبَعْدَ مَا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ صُرِفَ إِلَى الْكَعْبَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: > **"The Messenger of Allah ﷺ used to pray while in Makkah toward Bayt al-Maqdis (Jerusalem) with the Kaʿbah placed in front of him. After migrating to Madinah, he prayed toward it for sixteen months, after which he was directed toward the Kaʿbah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نماز ادا کر رہے تھے آپ اس وقت مکہ میں تھے آپ اس وقت بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرتے تھے جب کہ خانہ کعبہ آپ کے سامنے ہوتا تھا مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد آپ سولہ ماہ تک ( بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے ) پھر آپ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ۔ یہ روایت امام احمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

1968

Majma al-Zawaid #1968

«وَعَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ: كُنَّا نَغْدُو عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَمُرُّ بِالْمَسْجِدِ فَنُصَلِّي فِيهِ، فَمَرَرْنَا يَوْمًا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: لَقَدْ حَدَثَ الْيَوْمَ أَمْرٌ عَظِيمٌ، فَدَنَوْتُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ} [البقرة: 144] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ، وَإِلَى جَنْبِي صَاحِبٌ لِي فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: ارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ: حَتَّى نَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى بِالنَّاسِ يَوْمَئِذٍ الظُّهْرَ إِلَى الْكَعْبَةِ». قُلْتُ: رَوَى النَّسَائِيُّ مِنْهُ: كُنَّا نَمُرُّ بِالْمَسْجِدِ فَنُصَلِّي فِيهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: تَعَالَ حَتَّى نَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَكُونَ أَوَّلَ مَنْ صَلَّى فَتَوَارَيْنَا فَصَلَّيْنَاهُمَا، ثُمَّ نَزَلَ» فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي التَّفْسِيرِ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ - كَاتِبُ اللَّيْثِ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd ibn al-Muʿallā رضي الله عنه narrated: During the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ, we used to head out early in the morning and pass by the mosque to pray therein. One day we passed by while the Messenger of Allah ﷺ was seated upon the pulpit, and he said: > **"Indeed, a momentous matter has taken place today."** I drew closer to the Prophet ﷺ, and he recited this verse: *{We have certainly seen the turning of your face toward the heaven, and We will surely turn you to a qiblah with which you will be pleased...}* [al-Baqarah: 144] until he finished the verse. Beside me was a companion of mine, so I said to him, "Bow two rakʿahs!" He replied, "Not until we observe what he does." The Messenger of Allah ﷺ then descended and led the people that day in the Ẓuhr prayer facing toward the Kaʿbah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ہم لوگ صبح کے وقت روانہ ہوتے تھے ‘ اور ہم کسی مسجد کے پاس سے گزرتے تھے تو اس میں نماز ادا کر لیتے تھے ایک دن ہم گزرے نبی اکرم ﷺ اس وقت منبر پر تشریف فرما تھے آپ نے ارشاد فرمایا : آج ایک عظیم واقعہ رونما ہوا ہے راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے قریب ہو گیا آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” ہم آسمان میں تمہارے چہرے کا اوپر کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں “۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ پوری آیت تلاوت کی میرے پہلو میں میرا ساتھی موجود تھا میں نے اپنے ساتھی سے کہا تم دو رکعات ادا کر لو اس نے کہا جی نہیں جب تک میں اس بات کا جائزہ نہیں لیتا کہ نبی اکرم ﷺ کیا کرتے ہیں پھر نبی اکرم ﷺ منبر سے نیچے اترے آپ نے لوگوں کو اس دن ظہر کی نماز خانہ کعبہ کی طرف رُخ کر کے پڑھائی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی نے اس کا یہ حصہ نقل کیا ہے : ہم مسجد کے پاس سے گزرتے تھے تو اس میں نماز ادا کر لیتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے اپنے ساتھی سے کہا آؤ ہم نبی اکرم ﷺ کے منبر سے نیچے اترنے سے پہلے دو رکعات ادا کر لیں تو ہم نماز ادا کرنے والے پہلے فرد بن جائیں گے ‘ تو ہم ذرا ہٹ گئے تو ہم نے یہ دو رکعات ادا کر لیں پھر نبی اکرم ﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے ... اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث سورۃ بقرہ کی تفسیر سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ‘ جو لیث کا کاتب ہے ‘ اسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے عبدالملک بن شعیب بن لیث کہتے ہیں : یہ ’’ ثقہ ‘‘ اور مامون ہے ۔

1969

Majma al-Zawaid #1969

وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَصَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَكَثِيرٌ ضَعِيفٌ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ.

EnglishUnverified translation

Kathīr ibn ʿAbdillāh [ibn ʿAmr ibn ʿAwf] narrated from his father, from his grandfather [ʿAmr ibn ʿAwf al-Muzanī رضي الله عنه], who said: > **"We were with the Messenger of Allah ﷺ when he arrived in Madinah, and he prayed toward Bayt al-Maqdis for seventeen months, after which the direction was redirected toward the Kaʿbah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کثیر بن عبداللہ بن عوف اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرتے رہے پھر آپ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے کثیر نامی راوی ’’ ضعیف ‘‘ ہے امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔

1970

Majma al-Zawaid #1970

«وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَهُوَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَانْصَرَفَ بِوَجْهِهِ إِلَى الْكَعْبَةِ، (فَقَالَ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ {مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا} [البقرة: 142] قُلْتُ: حَدِيثُ أَنَسٍ فِي الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَهُنَا الظُّهْرُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ضَعَّفَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ، وَوَثَّقَهُ أَبُو نُعَيْمٍ الْحَافِظُ وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: شَيْخٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ turned toward Bayt al-Maqdis while praying Ẓuhr, and then he turned his face toward the Kaʿbah. Thereupon, the foolish among the people said: > **"'{What has turned them from their Qiblah which they used to face?}' [Al-Baqarah: 142]"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا آپ ظہر کی نماز ادا کر رہے تھے نماز کے دوران آپ نے اپنا چہرہ خانہ کعبہ کی طرف پھیر لیا تو لوگوں میں سے بے وقوف لوگوں نے یہ کہا ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ’’ ان لوگوں کو ان کے قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا ہے ، جس قبلہ پر یہ پہلے تھے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ‘ تاہم وہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ یہ صبح کی نماز کا واقعہ ہے ‘ جب کہ یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ یہ ظہر کی نماز کا واقعہ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عثمان سعید ہے ‘ جسے یحیی القطان اور یحییٰ بن معین اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے حافظ ابونعیم نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ بزرگ ہے ۔

1971

Majma al-Zawaid #1971

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «جَاءَ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ، وَالْإِمَامُ فِي الصَّلَاةِ قَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ الْمُنَادِي: قَدْ حُوِّلَتِ الْقِبْلَةُ إِلَى الْكَعْبَةِ فَصَلَّوُا الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ إِلَى الْكَعْبَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported: The announcer of the Messenger of Allah ﷺ arrived while the Imam was in prayer, having already prayed two rakʿahs. The announcer proclaimed: > **"The Qiblah has indeed been redirected toward the Kaʿbah, so perform the remaining two rakʿahs facing the Kaʿbah!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا منادی ( کچھ لوگوں کے پاس ) آیا اور بولا قبلہ کا رخ بدل دیا گیا ہے امام اس وقت نماز کی حالت میں تھا اس نے دو رکعات ادا کر لی ہوئی تھیں اس منادی نے کہا : قبلہ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ہے ‘ تو تم باقی کی دو رکعات خانہ کعبہ کی طرف رُخ کر کے ادا کرو ‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

1972

Majma al-Zawaid #1972

وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعِشَاءِ حِينَ صُرِفَتِ الْقِبْلَةُ، فَدَارَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدُرْنَا مَعَهُ فِي رَكْعَتَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُسَيْنٍ أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmārah ibn Ruʾaybah رضي الله عنه reported: We were with the Messenger of Allah ﷺ in one of the two evening prayers when the Qiblah was redirected. > **"The Prophet ﷺ turned, and we turned along with him during two rakʿahs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عماره بن رویبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں شام کی دو نمازوں میں سے ایک ادا کر رہے تھے جب آپ کا رخ قبلہ کی طرف پھیر دیا گیا نبی اکرم ﷺ گھوم گئے آپ کی اقتداء میں ہم بھی گھوم گئے یہ دور رکعات ادا کرنے کی بعد کی بات ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن حسین ابومالک نخعی ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1973

Majma al-Zawaid #1973

«وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَوْسٍ وَكَانَ قَدْ صَلَّى إِلَى الْقِبْلَتَيْنِ جَمِيعًا قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ فِي إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعِشَاءِ إِذْ نَادَى مُنَادٍ بِالْبَابِ: إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَأَشْهَدُ عَلَى إِمَامِنَا أَنَّهُ حُوِّلَ إِلَى الْكَعْبَةِ، وَالرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَصَلَّى بَعْضُنَا هَا هُنَا وَبَعْضُنَا هَا هُنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي لَفِي مَنْزِلِي إِذَا مُنَادٍ يُنَادِي عَلَى الْبَابِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿUmārah ibn Aws رضي الله عنه—who had prayed toward both Qiblahs—reported: While we were in one of the two evening prayers, a caller called out at the door: "The Qiblah has indeed been redirected to the Kaʿbah!" > **"I bear witness that our Imam turned toward the Kaʿbah, and the men, women, and children turned as well, such that some of us were praying here and some of us there."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمارہ بن اوس رضی اللہ عنہ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کی ہوئی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ہم شام کی دو نمازوں میں سے ایک نماز پڑھ رہے تھے اسی دوران ( مسجد کے دروازے پر ) منادی نے پکار کر کہا قبلہ ‘ خانہ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا ہے ‘ تو میں اپنے امام کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ ان کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا مردوں عورتوں بچوں نے بھی ایسا ہی کیا تو ہم میں سے بعض نے اس طرف رُخ کر کے نماز ادا کی اور بعض نے اس طرف رخ کر کے نماز ادا کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور امام ابویعلیٰ نے بھی اسے نقل کیا ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ وہ فرماتے ہیں : میں اپنے گھر میں موجود تھا جب دروازے پر منادی نے پکا کر کہا ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ اور ثوری نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

1974

Majma al-Zawaid #1974

«وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: صُرِفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الشَّامِ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَصَلَّى إِلَى الْكَعْبَةِ فِي رَجَبٍ عَلَى رَأْسِ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported: > **"The Messenger of Allah ﷺ was redirected from the direction of al-Shām toward the Kaʿbah, so he prayed toward the Kaʿbah in Rajab, at the turn of seventeen months after his arrival in Medina."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا رخ شام ( یعنی بیت المقدس ) سے قبلہ کی طرف پھیر دیا گیا تو آپ نے رجب کے مہینے میں مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد سترہویں مہینے میں خانہ کعبہ کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1975

Majma al-Zawaid #1975

«وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَلَمَّا حَوَّلَ انْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى أَهْلِ قُبَاءٍ فَوَجَدَهُمْ يُصَلُّونَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمِرَ أَنْ يُصَلَّى إِلَى الْكَعْبَةِ، فَاسْتَدَارَ إِمَامُهُمْ حَتَّى اسْتَقْبَلَ بِهِمُ الْقِبْلَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه reported: The Prophet ﷺ used to pray toward Bayt al-Maqdis. When the Qiblah was redirected, a man went to the people of Qubāʾ and found them praying the morning prayer. He said, "Indeed, the Messenger of Allah ﷺ has been commanded to pray toward the Kaʿbah." > **"Thereupon, their Imam turned around until he faced the Qiblah along with them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرتے رہے ‘ جب آپ کا رخ تبدیل کر دیا گیا تو ایک شخص اہل قباء کی طرف گیا اس نے ان لوگوں کو صبح کی نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو اس نے بتایا نبی اکرم ﷺ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ خانہ کعبہ کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کریں تو ان لوگوں کا امام گھوم گیا یہاں تک کہ انہوں نے قبلہ کی طرف رُخ کر لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1976

Majma al-Zawaid #1976

«وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ مَكَّةَ يَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا بِهِ قَوْلًا بِلَا عَمَلٍ، وَالْقِبْلَةُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَيْنَا نَزَلَتِ الْفَرَائِضُ وَنَسَخَتِ الْمَدِينَةُ مَكَّةَ، وَالْقَوْلُ فِيهَا، وَنَسَخَ الْبَيْتُ الْحَرَامُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَصَارَ الْإِيمَانُ قَوْلًا وَعَمَلًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ عِمْرَانَ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هُوَ مِثْلُ الْوَاقِدِيِّ وَالْوَاقِدِيُّ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn Ḥunayf رضي الله عنه reported: > **"Before coming to Medina, the Messenger of Allah ﷺ used to call the people in Mecca to faith in Allah and belief in Him as speech without deeds, while the Qiblah was toward Bayt al-Maqdis. When he emigrated to us, the obligatory duties were revealed; Medina abrogated Mecca and what had been commanded in it, and the Sacred House (al-Bayt al-Ḥarām) abrogated Bayt al-Maqdis, so faith became speech and action together."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مکہ سے ( مدینہ منورہ ) تشریف لانے سے پہلے لوگوں کو اللہ تعالی پر ایمان رکھنے اور اس بات کی قول کے ذریعے تصدیق کرنے کی طرف دعوت دیتے تھے جس میں عمل شامل نہیں ہوتا تھا اس وقت قبلہ بیت المقدس کی طرف تھا جب آپ ہجرت کر کے ہماری طرف آ گئے تو فرائض کا حکم نازل ہوا اور مدینہ منورہ کے احکام نے مکہ کے احکام کو منسوخ کر دیا اور بیت الحرام سے متعلق حکم نے بیت المقدس کے حکم کو منسوخ کر دیا تو اب ایمان قول اور عمل کا مجموعہ بن گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن عمران ہے ابوحاتم کہتے ہیں ۔ یہ واقدی کی مانند ہے ‘ اور واقدی متروک ہے ۔

1977

Majma al-Zawaid #1977

«وَعَنْ تَوِيلَةَ بِنْتِ أَسْلَمَ - وَهِيَ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ - قَالَتْ: إِنَّا لَبِمَقَامِنَا نُصَلِّي فِي بَنِي حَارِثَةَ فَقَالَ عَبَّادُ بْنُ بِشْرِ بْنِ قِبْطِيٍّ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ وَالْكَعْبَةَ فَتَحَوَّلَ الرِّجَالُ مَكَانَ النِّسَاءِ وَالنِّسَاءُ مَكَانَ الرِّجَالِ فَصَلَّوُا الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ نَحْوَ الْكَعْبَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Tuwaylah bint Aslam رضي الله عنها—who was among those women who gave the pledge of allegiance—reported: While we were at our place praying among Banū Ḥārithah, ʿAbbād ibn Bishr ibn Qayẓī arrived and said, "The Messenger of Allah ﷺ has indeed turned toward the Sacred House and the Kaʿbah." > **"So the men shifted to the place of the women, and the women shifted to the place of the men, and they prayed the remaining two rakʿahs facing the Kaʿbah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ تویلہ بنت اسلم رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر اسلام قبول کرنے والی خواتین میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتی ہیں : ہم بنو حارثہ کے علاقے میں اپنی جگہ پر نماز ادا کر رہے تھے کہ عباد بن بشر بن قبطی نے یہ کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے بیت الحرام اور خانہ کعبہ کی طرف رُخ کر لیا ہے ‘ تو مرد گھوم کر خواتین کی جگہ آ گئے اور خواتین مردوں کی جگہ چلی گئیں تو ان لوگوں نے باقی کی دو رکعات خانہ کعبہ کی طرف رُخ کر کے ادا کیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1978

Majma al-Zawaid #1978

«وَعَنْ تَوِيلَةَ بِنْتِ مُسْلِمٍ قَالَتْ: صَلَّيْنَا الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فِي مَسْجِدِ بَنِي حَارِثَةَ فَاسْتَقْبَلْنَا مَسْجِدَ إِيلِيَاءَ فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَاءَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ، فَتَحَوَّلُ الرِّجَالُ مَكَانَ النِّسَاءِ وَالنِّسَاءُ مَكَانَ الرِّجَالِ فَصَلَّيْنَا السَّجْدَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ وَنَحْنُ مُسْتَقْبِلُو الْبَيْتَ الْحَرَامَ، فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أُولَئِكَ رِجَالٌ آمَنُوا بِالْغَيْبِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَسْوَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Tuwaylah bint Muslim رضي الله عنها reported: We prayed Ẓuhr or ʿAṣr in the mosque of Banū Ḥārithah, facing the Mosque of Īliyāʾ (Jerusalem), and we had prayed two rakʿahs when someone came to tell us that the Messenger of Allah ﷺ had faced toward the Sacred House. So the men shifted to the place of the women, and the women shifted to the place of the men, and we prayed the remaining two prostrations (rakʿahs) facing the Sacred House. A man from Banū Ḥārithah then narrated to me that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Those are men who believed in the unseen."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ تویله بنت مسلم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم نے بنو حارثہ کی مسجد میں ظہر یا شاید عصر کی نماز ادا کی ہم نے مسجد ایلیاء کی طرف رُخ کیا ہوا تھا ہم دو رکعات ادا کر چکے تھے اسی دوران ایک شخص ہمارے پاس آیا جس نے ہمیں یہ بتایا : نبی اکرم ﷺ نے بیت الحرام کی طرف رخ کر لیا ہے ‘ تو مرد گھوم کر عورتوں کی جگہ پر آ گئے اور عورتیں مردوں کی جگہ چلی گئیں ہم نے باقی کی دو رکعات بیت الحرم کی طرف رُخ کر کے ادا کیں ۔ بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مجھے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا : کہ یہ وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس اسواری ہے جو ضعیف اور متروک ہے ۔

1979

Majma al-Zawaid #1979

«وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذِ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَعَلَيْكَ ""، قَالَتْ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَقَالَتْ: ثُمَّ دَخَلَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَعَلَيْكَ ""، قَالَتْ: ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ، قَالَتْ: قُلْتُ: بَلِ السَّامُ عَلَيْكَ وَغَضَبُ اللَّهِ، إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ بِمَا لَمْ يُحَيِّهْ بِهِ اللَّهُ؟ قَالَتْ: فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ: "" مَهْ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ، قَالُوا قَوْلًا فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يَضُرَّنَا شَيْئًا، وَلَزِمَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، إِنَّهُمْ لَا يَحْسُدُونَ عَلَى شَيْءٍ كَمَا حَسَدُونَا عَلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا، وَعَلَى الْقِبْلَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا، وَعَلَى قَوْلِنَا خَلْفَ الْإِمَامِ آمِينَ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ شَيْخُ أَحْمَدَ وَقَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ بِسَبَبِ كَثْرَةِ الْغَلَطِ وَالْخَطَأِ، قَالَ أَحْمَدُ: أَمَّا أَنَا فَأُحَدِّثُ عَنْهُ، وَحَدَّثْنَا عَنْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported: While I was with the Prophet ﷺ, a Jewish man asked permission to enter, and permission was granted to him. He said, "Al-sāmu ʿalayk" (Death be upon you). The Prophet ﷺ replied, "Wa ʿalayk" (And upon you). I intended to speak, but he entered a second time and said the same, and the Prophet ﷺ replied, "Wa ʿalayk." Then he entered a third time and said, "Al-sāmu ʿalayk." I said, "Rather, death be upon you, and the wrath of Allah, O brothers of apes and swine! Do you greet the Messenger of Allah with that which Allah has never greeted him with?" The Prophet ﷺ looked at me and said: > **"Gently! Indeed, Allah does not love foul speech or vulgarity. They uttered words, and we returned them upon them; it will not harm us in the least, but it will cling to them until the Day of Resurrection. Indeed, they do not envy us over anything as much as they envy us over Friday, to which Allah guided us while they went astray from it; and over the Qiblah, to which Allah guided us while they went astray from it; and over our saying 'Āmīn' behind the Imam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھی اسی دوران ایک یہودی شخص نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم ﷺ نے اسے اجازت عطا کر دی اس نے کہا السام علیک ( یعنی آپ کو موت آئے ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں بھی ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کچھ بات کہنے کا ارادہ کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں پھر وہ دوسری مرتبہ آیا تو اس نے پھر اس کی مانند کلمات کہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر وہ تیسری مرتبہ آیا تو اس نے کہا السام علیک ( یعنی آپ کو موت آئے ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں تو میں نے کہا : بلکہ تمہیں موت آئے اور تم پر اللہ کا غضب نازل ہو تم لوگ بندر اور خنزیروں کے بھائی ہو کیا تم اللہ کے رسول کو اس کے برخلاف طریقے سے سلام کرتے ہو ‘ جس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سلام بھیجا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا رک جاؤ اللہ تعالیٰ بدزبانی اور بدگوئی کو پسند نہیں کرتا ہے ان لوگوں نے ایک بات کہی تھی ہم نے انہیں جواب دے دیا ان کی بات ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ‘ اور ان لوگوں پر قیامت کے دن تک کے لئے لازم ہو جائے گی یہ لوگ کسی بھی چیز کے حوالے سے اتنا حسد نہیں کرتے ہیں جتنا جمعہ کے دن کے حوالے سے ہمارے ساتھ حسد کرتے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالی نے ہماری رہنمائی کر دی اور ان لوگوں کو اسی سے گمراہ کر دیا اور اس قبلہ کے حوالے سے ہم سے حسد کرتے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالی نے ہماری رہنمائی کر دی اور ان لوگوں کو اس کے حوالے سے گمراہ کر دیا اور امام کے پیچھے ہمارے آمین کہنے سے ہم سے حسد کرتے ہیں ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے ‘ جو امام احمد کا ستاد ہے ‘ اس کی بکثرت غلطیوں اور خطاؤں کی وجہ سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے امام احمد فرماتے ہیں : جہاں تک میرا تعلق ہے ‘ تو میں اس کے حوالے سے حدیث روایت کرتا ہوں ‘ اور مجھے اس کے حوالے سے حدیث بیان کی گئی ہیں اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1980

Majma al-Zawaid #1980

«عَنْ جَابِرِ بْنِ أُسَامَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَصْحَابِهِ بِالسُّوقِ فَقُلْتُ: أَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالُوا: يُرِيدُ أَنْ يَخُطَّ لِقَوْمِكَ مَسْجِدًا قَالَ: فَأَتَيْتُ وَقَدْ خَطَّ لَهُمْ مَسْجِدًا وَغَرَزَ فِي قِبْلَتِهِ خَشَبَةً فَأَقَامَهَا قِبْلَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَبِيبٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn Usāmah al-Juhanī رضي الله عنه reported: I met the Messenger of Allah ﷺ among his Companions in the marketplace, and I asked, "Where does the Messenger of Allah ﷺ intend to go?" They said, "He intends to mark out a mosque for your people." He said: > **"I came and he had already marked out a mosque for them and planted a piece of wood in the direction of its Qiblah, establishing it as the Qiblah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن اسامہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری بازار میں نبی اکرم ﷺ سے ملاقات ہوئی آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی موجود تھے میں نے عرض کی : اللہ کے رسول کہاں جا رہے ہیں ؟ لوگوں نے بتایا آپ کا ارادہ یہ ہے آپ ﷺ تمہاری قوم کے لئے مسجد کا نشان مقرر کر دیں راوی کہتے ہیں : میں آیا تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے لئے مسجد کا نشان بنوا دیا تھا اور قبلہ کی سمت میں ایک لکڑی گاڑ دی گئی تھی اور اس کو قبلہ کے رخ میں کھڑا کر دیا گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن عبداللہ بن حبیب ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

1981

Majma al-Zawaid #1981

«عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي يَوْمِ غَيْمٍ فِي سَفَرٍ إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ وَسَلَّمَ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْنَا إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ! فَقَالَ: "" قَدْ رُفِعَتْ صَلَاتُكُمْ بِحَقِّهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو عَبْلَةَ وَالِدُ إِبْرَاهِيمَ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَاسْمُهُ شِمْرُ بْنُ يَقْظَانَ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported: We prayed with the Messenger of Allah ﷺ on a cloudy day during a journey facing other than the Qiblah. When he completed the prayer and pronounced the taslīm, the sun appeared. We said, "O Messenger of Allah, we prayed facing other than the Qiblah!" He ﷺ said: > **"Your prayer has indeed been elevated with its full merit to Allah, Mighty and Majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے سفر کے دوران بادل والے دن میں نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی جس میں رُخ قبلہ کی طرف نہیں تھا جب نبی اکرم ﷺ نے نماز مکمل کر لی اور سلام پھیر دیا تو سورج روشن ہو گیا ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے قبلہ کی طرف کے علاوہ رُخ کر کے نماز ادا کی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کی نماز اس کے حق کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اٹھا لی گئی ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابو عبلہ ہے ‘ جو ابراہیم کا والد ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ انتقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ اس کا نام شمر بن یقظان ہے ۔

1982

Majma al-Zawaid #1982

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّهُ كَرِهَ الصَّلَاةَ فِي الْمِحْرَابِ وَقَالَ: إِنَّمَا كَانَتْ لِلْكَنَائِسِ فَلَا تَشَبَّهُوا بِأَهْلِ الْكِتَابِ، يَعْنِي أَنَّهُ كَرِهَ الصَّلَاةَ فِي الطَّاقِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه disliked praying inside the prayer niche (al-miḥrāb), and he said: > **"These belong only to churches, so do not imitate the People of the Book."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ محراب میں نماز ادا کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے وہ یہ فرماتے تھے : یہ ( یعنی محراب ) گرجا گھروں میں ہوتی ہے ‘ تو تم لوگ اہل کتاب کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یعنی وہ طاق میں نماز ادا کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1983

Majma al-Zawaid #1983

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَابِرٍ الْأَلْهَانِيِّ قَالَ: دَخَلَ الْمَسْجِدَ حَابِسُ بْنُ سَعْدٍ الطَّائِيُّ مِنَ السَّحَرِ، وَقَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَى النَّاسَ يُصَلُّونَ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: مُرَاءُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، أَرْعِبُوهُمْ فَمَنْ أَرْعَبَهُمْ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَأَتَاهُمُ النَّاسُ فَأَخْرَجُوهُمْ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ مِنَ السَّحَرِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَابِرٍ الْأَلْهَانِيُّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Ghābir al-Alhānī reported: Ḥābis ibn Saʿd al-Ṭāʾī رضي الله عنه—who had lived during the time of the Prophet ﷺ—entered the mosque in the pre-dawn hour (al-saḥar) and saw people praying in the front portion of the mosque. He said, "Show-offs, by the Lord of the Kaʿbah! Chase them away, for whoever chases them away has obeyed Allah and His Messenger!" So the people approached them and turned them out. He then said: > **"Indeed, the angels pray in the front portion of the mosque during the pre-dawn hours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن غابر الہانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت حابس بن سعد طائی رضی اللہ عنہ سحری کے وقت مسجد میں داخل ہوئے انہیں نبی اکرم ﷺ کا زمانہ نصیب ہوا تھا انہوں نے مسجد کے آگے والے حصے میں کچھ لوگوں کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا : رب کعبہ کی قسم یہ دکھاوا کرنے والے لوگ ہیں انہیں بھگاؤ جو شخص انہیں بھگائے گا وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا ‘ تو کچھ لوگ ان لوگوں کے پاس گئے ( یا حضرت حابس بن سعد رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس گئے ) اور انہیں وہاں سے نکال دیا پھر حضرت حابس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بے شک فرشتے سحری کے وقت مسجد کے آگے والے حصے میں نماز ادا کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن غابر الہانی ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

1984

Majma al-Zawaid #1984

عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ: حَدَّثْتُ نَفْسِي أَنْ أُصَلِّي خَلْفَ كُلِّ سَارِيَةٍ مِنْ مَسْجِدِ الْكُوفَةِ رَكْعَتَيْنِ، فَبَيْنَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ أَنَا بِابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَيْتُهُ لِأُخْبِرَهُ بِأَمْرِي فَسَبَقَنِي رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي أَصْنَعُ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَوْ يَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ - جَلَّ وَعَزَّ - عِنْدَ أَدْنَى سَارِيَةٍ مَا جَاوَزَهَا حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Murrah al-Hamdānī reported: I told myself that I would pray two rakʿahs behind every single pillar in the Mosque of Kūfah. While I was praying, Ibn Masʿūd رضي الله عنه was present in the mosque, so I went to inform him of what I was doing, but another man preceded me and told him what I was doing. Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"If he only knew that Allah, Majestic and Mighty, is near the closest pillar, he would not have passed beyond it until completing his prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مرہ ہمدانی بیان کرتے ہیں : میں نے یہ طے کیا کہ میں مسجد کوفہ کے ہر ایک ستون کے پاس دو رکعات ادا کروں گا میں اس طرح نماز ادا کر رہا تھا اسی دوران حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لے آئے میں ان کے پاس آیا تاکہ انہیں اپنے معاملے کے بارے میں بتاؤں تو ایک شخص مجھ سے پہلے ان کے پاس پہنچ گیا اس نے انہیں میرے طرز عمل کے بارے میں بتایا تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر یہ شخص یہ بات جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ قریبی ستون کے پاس بھی ہے ‘ تو وہ نماز مکمل کرنے سے پہلے اس ستون سے آگے نہ جاتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

1985

Majma al-Zawaid #1985

عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «فَضْلُ الدَّارِ الْقَرِيبَةِ مِنَ الْمَسْجِدِ عَلَى الدَّارِ الشَّاسِعَةِ كَفَضْلِ الْغَازِي عَلَى الْقَاعِدِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah ibn al-Yamān رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The superiority of a house close to the mosque over a distant house is like the superiority of a warrior in the path of Allah over one who stays behind."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مسجد کے قریب موجود گھر کو دور موجود گھر پر وہی فضیلت حاصل ہے ‘ جو غازی کو بیٹھے رہ جانے والے شخص پر حاصل ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

1986

Majma al-Zawaid #1986

«عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: نُهِينَا أَنْ نُصَلِّيَ فِي مَسْجِدٍ مُشْرِفٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported: > **"We were forbidden from praying in an elevated, ostentatious mosque."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمیں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ ہم اونچی مسجد میں نماز ادا کریں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ اور وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ تاہم وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

1987

Majma al-Zawaid #1987

«وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَانَا - أَوْ نُهِينَا - أَنْ نُصَلِّيَ فِي مَسْجِدٍ مُشْرِفٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported: > **"He forbade us—or we were forbidden—from praying in an elevated, ostentatious mosque."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : انہوں نے ہمیں منع کیا ہے ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہمیں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ ہم اونچی مسجد میں نماز ادا کریں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف لیث بن ابوسلیم کا معاملہ مختلف ہے وہ ’’ ثقہ ‘‘ اور تدلیس کرنے والا شخص ہے یہ روایت اس نے عنعنہ کے ساتھ نقل کی ہے ۔

1988

Majma al-Zawaid #1988

«وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ: إِلَى مَتَى يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى هَذَا الْجَرِيدِ؟ فَجَمَعُوا لَهُ دَنَانِيرَ فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: نُصْلِحُ هَذَا الْمَسْجِدَ وَنُزَيِّنُهُ، فَقَالَ: "" لَيْسَ لِي رَغْبَةٌ عَنْ أَخِي مُوسَى، عَرِيشٌ كَعَرِيشِ مُوسَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ خِرَاشٍ فِي رِوَايَةٍ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه reported: The Anṣār said, "Until when will the Messenger of Allah ﷺ pray toward these palm branches?" So they gathered dinars and brought them to the Prophet ﷺ, saying, "Let us renovate and adorn this mosque." He ﷺ said: > **"I have no desire to turn away from the path of my brother Moses (Mūsā); rather, let it be a thatch-roof like the thatch-roof of Moses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار نے سوچا نبی اکرم ﷺ کب تک کھجور کی اس شاخ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہیں گے ان لوگوں نے اس کے لئے دینار جمع کیے اور وہ دینار لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : اس رقم کے ذریعے ہم مسجد کو ٹھیک کر دیں گے اور اسے آراستہ کر دیں گے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات میں دلچسپی نہیں ہے کہ میں اپنے بھائی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے طریقے سے منہ موڑوں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چھپر کی طرح چھپر ( یعنی شاخوں سے بنی ہوئی چھت ) ہونا چاہیے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان ہے ‘ جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جب کہ عجلی ابن حبان اور ایک روایت کے مطابق ابن خراش نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

1989

Majma al-Zawaid #1989

«عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ فَنَزَلْنَا فِي مَكَانٍ كَثِيرِ الثُّومِ، وَإِنَّ أُنَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَصَابُوا مِنْهُ، ثُمَّ جَاءُوا إِلَى الْمُصَلَّى يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَهَاهُمْ عَنْهَا، ثُمَّ جَاءُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى الْمُصَلَّى فَوَجَدَ رِيحَهَا مِنْهُمْ فَقَالَ: "" مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ أَبُو الزَّيَّاتِ وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Maʿqil ibn Yasār رضي الله عنه reported: We were with the Prophet ﷺ on a journey and stopped at a place where garlic grew in abundance. Some of the Muslims consumed it, and then they came to the prayer place to pray with the Prophet ﷺ, but he forbade them from it. Later, they came again to the prayer place and he noticed its odor emanating from them, so he ﷺ said: > **"Whoever eats from this plant must never approach our mosque."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ہم نے ایک ایسی جگہ پر پڑاؤ کیا جہاں لہسن بہت زیادہ تھا مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے اسے حاصل کیا جب وہ لوگ نماز کی جگہ پر آئے تاکہ نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کریں تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا پھر اس کے بعد جب وہ لوگ نماز ادا کرنے کی جگہ پر آئے اور نبی اکرم ﷺ کو ان لوگوں سے لہسن کی بو محسوس ہوئی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے اس درخت میں سے کھایا ہو وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آئے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوزیاد ہے ‘ اور وہ مجہول ہے ۔

1990

Majma al-Zawaid #1990

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْخَضْرَاوَاتِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ وَالْفُجْلِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا؛ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: "" وَالْفُجْلِ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ الْبَرَاءُ الْبَصْرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever eats from these vegetables—garlic, onions, leeks, and radishes—must never approach our mosque; for indeed, the angels are offended by that which offends the children of Adam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جو شخص ان سبزیوں لہسن پیاز ، گندنہ اور فجل ( شاید اس سے مراد چقندر ہے ) کو کھا لے وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آئے کیونکہ جس چیز سے انسانوں کو اذیت ہوتی ہے فرشتوں کو بھی اس سے اذیت ہوتی ہے ‘‘۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : فجل ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن راشد البراء بصری ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے وہ یہ فرماتے ہیں : یہ غلطی بھی کرتا ہے ‘ اور ( دوسروں کے ) برخلاف بھی نقل کرتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

1991

Majma al-Zawaid #1991

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا، وَلْيَأْتِنِي أَمْسَحْ وَجْهَهُ وَأُعَوِّذْهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ سَلَامُ بْنُ أَبِي خُبْزَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever eats from these two plants—garlic and onions—must never approach our place of prayer; and let him come to me so that I may wipe his face and seek refuge for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص ان دو درختوں لہسن اور پیاز میں سے کھا لے وہ ہماری نماز کی جگہ کے ہرگز قریب نہ آئے اور جب وہ میرے پاس آئے گا ‘ تو میں اس کے چہرے پر ہاتھ پھیروں گا ‘ اور اسے دم کروں گا ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلام بن ابو خبزہ ہے ‘ اور وہ انتہائی ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

1992

Majma al-Zawaid #1992

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْمُنْكَرَةِ - يَعْنِي الثُّومَ - فَلْيَجْلِسْ فِي بَيْتِهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مَجَاهِيلُ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn Samurah رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever eats from this offensive herb—meaning garlic—let him remain in his home."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ میں رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص اس ناگوار سبزی کو کھا لے ( نبی اکرم ﷺ کی مراد لہسن تھا ) تو وہ اپنے گھر میں بیٹھا رہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس میں مجہول راوی ہے ۔

1993

Majma al-Zawaid #1993

«وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ وَقَعَ النَّاسُ فِي الثُّومِ فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي الْقَاسِمِ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه reported: When the Messenger of Allah ﷺ conquered Khaybar, the people came upon garlic and began eating it. Thereupon, the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever eats from this offensive herb must never approach our mosque."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے خیبر فتح کیا تو لوگوں کو لہسن ملا انہوں نے وہ کھانا شروع کر دیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ بدبودار سبزی کھا لے وہ ہماری مسجد ( یا نماز کی مخصوص جگہ ) کے قریب ہرگز نہ آئے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام ابوالقاسم کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے میں نے کسی کو اس شخص کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1994

Majma al-Zawaid #1994

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِيَّاكُمْ وَهَاتَيْنِ الْبَقْلَتَيْنِ الْمُنْتِنَتَيْنِ أَنْ تَأْكُلُوهُمَا وَتَدْخُلُوا مَسَاجِدَنَا، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ آكِلُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا بِالنَّارِ قَتْلًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Beware of these two foul-smelling plants, that you should eat them and enter our mosques! If you must eat them, then extinguish their odor thoroughly with fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم لوگ ان دو بدبودار سبزیوں سے بچ کے رہو کہ انہیں کھاؤ اور پھر ہماری مسجد میں داخل ہو جاؤ اگر تم نے ان دونوں کو ضرور کھانا ہے ‘ تو آگ کے ذریعے انہیں ( یعنی ان کی بدبو کو ) مار دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔