«وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: شَهِدْنَا الْمَوْسِمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَلَغْنَا مَكَانًا يُقَالُ لَهُ: غَدِيرُ خُمٍّ، فَنَادَى: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَاجْتَمَعْنَا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَطَنَا فَقَالَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، بِمَ تَشْهَدُونَ "". قَالُوا: نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ: "" ثُمَّ مَهْ؟ "". قَالُوا: وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. قَالَ: "" فَمَنْ وَلِيُّكُمْ؟ "". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَانَا قَالَ: "" مَنْ وَلِيُّكُمْ؟ "". ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى عَضُدِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَقَامَهُ، فَنَزَعَ عَضُدُهُ فَأَخَذَ بِذِرَاعَيْهِ، فَقَالَ: "" مَنْ يَكُنِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ، اللَّهُمَّ مَنْ أَحَبَّهُ مِنَ النَّاسِ فَكُنْ لَهُ حَبِيبًا، وَمَنْ أَبْغَضَهُ فَكُنْ لَهُ مُبْغِضًا، اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أَجِدُ أَحَدًا أَسَتَوْدِعُهُ فِي الْأَرْضِ بَعْدَ الْعَبْدَيْنِ الصَّالِحَيْنِ غَيْرَكَ ; فَاقْضِ لَهُ بِالْحُسْنَى». قَالَ بِشْرٌ: قُلْتُ: مَنْ هَذَيْنِ الْعَبْدَيْنِ الصَّالِحَيْنِ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهُوَ لَيِّنٌ، وَمَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ أَيْضًا.
EnglishUnverified translation
Jarir, may Allah be pleased with him, reports that they witnessed the season of the Farewell Pilgrimage with the Messenger ﷺ until they reached a place called Ghadir Khumm, where prayer in congregation was announced and the Muhajirun and Anṣar gathered. The Messenger ﷺ stood among them and asked what they testified to, and they said they testified none deserved worship but Allah. He asked then what, and they said Muḥammad was His servant and Messenger. He asked who their guardian was, and they said Allah and His Messenger were their masters. He asked again who their guardian was, then struck his hand to the upper arm of ʿAli, may Allah be pleased with him, raised him, freed his upper arm and took his forearms, and said whomever Allah and His Messenger were master of, this one was his master, with supplication to befriend whoever befriended him, oppose whoever opposed him, love among people whoever loved him, and hate whoever hated him. He added that he found none on earth to entrust after the two righteous servants except him, so to decree good for him. When asked who the two righteous servants were, the narrator said he did not know. > **"Whomever Allah and His Messenger are his master, this one is his master. O Allah, befriend whoever befriends him, oppose whoever opposes him, love whoever loves him, and hate whoever hates him."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ، ہم ایک جگہ پہنچے جسے غدیر خم کہا جاتا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اعلان کروایا کہ سب لوگ اکٹھے ہو جائیں ، یعنی ہم مہاجرین اور انصار اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! تم کس بات کی گواہی دیتے ہو ؟ ہم نے عرض کی : ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اور کس بات کی گواہی دیتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اس بات کی کہ حضرت محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارا ولی کون ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول ہمارے مولیٰ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا ولی کون ہے ؟ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بازو پر رکھا ، انہیں کھڑا کیا ، پھر ان کے بازو کو چھوڑا اور ان کی کلائی کو پکڑ لیا اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ’’ اللہ اور اس کا رسول جس کے مولیٰ ہوں ، تو یہ بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ، اے اللہ ! لوگوں میں سے جو شخص اس سے محبت رکھے ، تو اس شخص کے لئے محبت کرنے والا ہو جانا ، اور جو شخص اس سے بغض رکھے ، تو اس کے لئے غصہ کرنے والا ہو جانا ، اے اللہ ! دو نیک لوگوں کے بعد مجھے تیرے علاوہ اور کوئی ایسا نہیں ملتا ، زمین میں اس کو میں جس کے سپرد کروں ، تو اس کے بارے میں بھلائی کا فیصلہ دینا ۔‘‘ بشر نامی راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا : وہ دو نیک بندے کون تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حرب ہے ، اور وہ کمزور ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی بھی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔