Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 10

Book of Virtues and Merits

Hadith 14648–14687

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14648

Majma al-Zawaid #14648

«وَعَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَادَ غَزْوًا، فَدَعَا جَعْفَرًا فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: لَا أَتَخَلَّفُ بَعْدَكَ أَبَدًا، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَانِي، فَعَزَمَ عَلَيَّ لَمَا تَخَلَّفْتُ قَبْلَ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَبَكَيْتُ قَالَ: "" مَا يُبْكِيكَ؟ "". قُلْتُ: يُبْكِينِي خِصَالٌ غَيْرَ وَاحِدَةٍ، تَقُولُ قُرَيْشٌ غَدًا: مَا أَسْرَعَ مَا تَخَلَّفَ عَنِ ابْنِ عَمِّهِ وَخَذَلَهُ. وَتُبْكِينِي خَصْلَةٌ أُخْرَى: كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَتَعَرَّضَ لِلْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ; لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: {وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ} [التوبة: 120] فَكُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَتَعَرَّضَ لِلْأَجْرِ. وَتُبْكِينِي خَصْلَةٌ أُخْرَى: كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَتَعَرَّضَ لِفَضْلِ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَّا قَوْلُكَ: تَقُولُ قُرَيْشٌ: مَا أَسْرَعَ مَا تَخَلَّفَ عَنِ ابْنِ عَمِّهِ وَخَذَلَهُ ; فَإِنَّ لَكَ بِي أُسْوَةً، قَدْ قَالُوا: سَاحِرٌ وَكَاهِنٌ وَكَذَّابٌ. وَأَمَّا قَوْلُكَ: أَتَعَرَّضُ لِلْأَجْرِ مِنَ اللَّهِ ; أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَأَمَّا قَوْلُكَ: أَتَعَرَّضُ لِفَضْلِ اللَّهِ ; فَهَذَانِ بَهَارَانِ مِنْ فُلْفُلٍ جَاءَنَا مِنَ الْيَمَنِ، فَبِعْهُ وَاسْتَمْتِعْ بِهِ أَنْتَ وَفَاطِمَةُ حَتَّى يَأْتِيَكُمَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAli, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ intended an expedition and summoned Jaʿfar, ordering him to remain behind over Madinah. Jaʿfar said he would never stay behind after him, so the Messenger ﷺ sent for ʿAli and pressed him to stay behind before he could speak, and ʿAli wept. When asked what made him weep, he said several traits moved him: that Quraysh would say tomorrow how quickly he stayed behind from his cousin and abandoned him; that he had hoped to expose himself to striving in the way of Allah, for Allah said no ground enraging the disbelievers was trodden nor any gain taken from an enemy except a righteous deed was written for them; and that he had hoped to expose himself to the bounty of Allah. The Messenger ﷺ answered that concerning Quraysh mockery he had in him an example, for they had called him sorcerer, soothsayer, and liar; concerning exposing himself to reward, he should be pleased to be to him like Harun to Musa except that there would be no prophet after him; and concerning exposing himself to bounty, these were two loads of pepper come from Yemen, to sell and enjoy with Faṭimah until Allah gave them of His bounty. > **"What makes you weep. Are you not pleased to be to me like Harun to Musa, except that there will be no prophet after me, so sell this pepper and enjoy it with Faṭimah until Allah gives you of His bounty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے غزوہ میں شرکت کا ارادہ کیا ، تو آپ نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں یہ حکم دیا کہ وہ مدینہ منورہ میں آپ کے نائب کے طور پر رہیں ، تو انہوں نے عرض کی : میں آپ سے پیچھے کبھی نہیں رہوں گا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے پیغام بھیج کر مجھے بلایا اور میرے ساتھ کوئی بات کرنے سے پہلے تاکید کی کہ میں آپ کی جگہ پیچھے رہوں ، تو میں رو پڑا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : مجھے ایک سے زیادہ باتوں کی وجہ سے رونا آ رہا ہے ، کل کو قریش یہ کہیں گے کہ اس نے اپنے چچازاد کو کتنی جلدی چھوڑ دیا اور خود پیچھے رہ گیا ، اور انہیں رسوائی کا شکار کر دیا ، ایک اور بات مجھے رونے پر مجبور کر رہی ہے کہ میں یہ چاہتا تھا کہ خود کو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے پیش کروں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ انہوں نے جس بھی ایسی جگہ پر قدم رکھا کہ جس کے ذریعے وہ کفار کو غیظ و غضب کا شکار کریں ، اور انہوں نے دشمن کو جو بھی نقصان پہنچایا ، تو اس کے بدلے میں ان کے لیے نیک عمل نوٹ کیا جاتا ہے ، بیشک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے ۔‘‘ تو میں یہ چاہتا تھا کہ خود کو اجر کے لئے پیش کروں اور ایک اور بات بھی مجھے رلا رہی ہے کہ میں یہ چاہتا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے کی کوشش کروں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ قریش یہ کہیں گے کہ یہ اپنے چچازاد سے کتنی جلدی پیچھے رہ گیا ، اور اس نے انہیں رسوا کر دیا ، تو تمہارے لئے میری ذات میں نمونہ ہے ۔ انہوں نے ( مجھے بھی تو ) یہ کہا ہے کہ یہ جادوگر ہیں ۔ یہ کاہن ہیں ۔ یہ کذاب ہیں ، جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ میں اللہ کی طرف سے ملنے والا اجر حاصل کرنا چاہتا ہوں تو کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہ نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ، جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ میں اللہ کا فضل حاصل کرنا چاہتا ہوں ، تو یہ اناج کے دو اونٹوں کے وزن جتنا سامان ہے ، جو یمن سے ہمارے پاس آیا ہے ، تم اسے فروخت کر کے اس سے نفع حاصل کرو ، تم اور فاطمہ اسے استعمال کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تم دونوں کے پاس اپنے فضل میں سے مزید کوئی چیز لے آئے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14649

Majma al-Zawaid #14649

«عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: وَجِعْتُ وَجَعًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَنِي فِي مَكَانِهِ، وَقَامَ يُصَلِّي وَأَلْقَى عَلَيَّ طَرَفَ ثَوْبِهِ، ثُمَّ قَالَ: "" قَدْ بَرِئْتَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، لَا بَأْسَ عَلَيْكَ. مَا سَأَلْتُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا سَأَلْتُ لَكَ مِثْلَهُ، وَلَا سَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ غَيْرَ أَنَّهُ قِيلَ لِي: لَا نَبِيَّ بَعْدَكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنِ اخْتُلِفَ فِيهِمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAli, may Allah be pleased with him, reports that he suffered a pain and came to the Prophet ﷺ, who stood him in his place, stood to pray, cast the edge of his garment over him, then said he had recovered O son of Abu Ṭalib with no harm upon him. He added that he had asked Allah for nothing except he asked the like for him, and Allah had granted him all he asked except that it was said to him there would be no prophet after him. > **"You are cured, O son of Abu Ṭalib, there is no harm upon you. I asked nothing of Allah except I asked the like for you, and He granted me all except that it was said there will be no prophet after you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے تکلیف لاحق ہوئی ، میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھے اپنے پاس کھڑا کیا اور پھر آپ کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے ، آپ نے اپنے کپڑے کا ایک حصہ مجھ پر ڈال دیا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے ابن ابوطالب تم ٹھیک ہو گئے ہو تم پر کوئی حرج نہیں ہے ، میں نے اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگی ، تمہارے لئے بھی اس کی مانند چیز مانگی اور میں نے اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگی وہ اس نے مجھے عطا کر دی ، البتہ مجھے یہ کہا گیا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

14650

Majma al-Zawaid #14650

«وَعَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" خَلَّفْتُكَ أَنْ تَكُونَ خَلِيفَتِي "". قَالَ: أَتَخَلَّفُ عَنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAli, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said he had left him behind to be his successor. When ʿAli asked whether he should stay behind from him O Messenger of Allah, he asked whether he was not pleased to be to him like Harun to Musa, except that there would be no prophet after him. > **"I have left you behind to be my successor. Are you not pleased to be to me like Harun to Musa, except that there will be no prophet after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہیں اس لئے پیچھے چھوڑ رہا ہوں تاکہ تم میرے نائب بن جاؤ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں آپ سے پیچھے رہ جاؤں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14651

Majma al-Zawaid #14651

وَعَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنِ سَمُرَةَ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ: "" أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي "".». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نَاصِحٌ الْحَائِكُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, meaning Ibn Samurah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ said to ʿAli that he was to him like Harun to Musa, except that there would be no prophet after him. > **"You are to me like Harun to Musa, except that there will be no prophet after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ’’ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح حائک ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14652

Majma al-Zawaid #14652

«وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ: "" أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ said to ʿAli that he was to him like Harun to Musa, except that there would be no prophet after him. > **"You are to me like Harun to Musa, except that there will be no prophet after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ’’ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے ، جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14653

Majma al-Zawaid #14653

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ: "" إِنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ أَنْ أُقِيمَ أَوْ تُقِيمَ "". فَخَلَّفَهُ. فَقَالَ نَاسٌ: مَا خَلَّفَهُ إِلَّا شَيْءٌ كَرِهَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَتَضَاحَكَ ثُمَّ قَالَ: "" يَا عَلِيُّ، أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا: مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Baraʾ ibn ʿAzib and Zayd ibn Arqam, may Allah be pleased with them both, report that the Messenger ﷺ said to ʿAli when intending to go on campaign that one of them must stay, so he left him behind. Some people said he had left him behind only for something disliked in him. When this reached ʿAli, he came to the Messenger ﷺ and informed him, whereupon he laughed and said O ʿAli, was he not pleased to be to him like Harun to Musa, except that there would be no prophet after him. > **"One of us must stay. O ʿAli, are you not pleased to be to me like Harun to Musa, except that there will be no prophet after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جب جنگ میں حصہ لینے کا ارادہ کیا ، تو آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ’’ یہ بات ضروری ہے کہ یا میں مقیم ہو جاؤں یا تم مقیم رہو ۔‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا ، کچھ لوگوں نے یہ کہا : نبی اکرم ﷺ نے انہیں اس لئے پیچھے چھوڑا ہے کہ کوئی ایسی بات ہوئی ہو گی جو آپ کو ناپسند ہو گی ، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور اس بارے میں اطلاع دی ، تو نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے علی ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ بصری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14654

Majma al-Zawaid #14654

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُمِّ سَلَمَةَ: "" هَذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَحْمُهُ لَحْمِي وَدَمُهُ دَمِي، فَهُوَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُرَنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger ﷺ said to Umm Salamah that this ʿAli ibn Abi Ṭalib, his flesh was his flesh and his blood his blood, and he was to him like Harun to Musa except that there would be no prophet after him. > **"This ʿAli ibn Abi Ṭalib, his flesh is my flesh and his blood is my blood, and he is to me like Harun to Musa except that there will be no prophet after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا : ’’ یہ علی بن ابوطالب ہے اس کا گوشت میرا گوشت ہے ، اور یہ مجھ سے وہی نسبت رکھتا ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حسن بن حسین عرنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14655

Majma al-Zawaid #14655

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا آخَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، فَلَمْ يُؤَاخِ بَيْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ، خَرَجَ عَلِيٌّ مُغْضَبًا حَتَّى أَتَى جَدْوَلًا فَتَوَسَّدَ ذِرَاعَهُ، فَسَفَّتْ عَلَيْهِ الرِّيحُ، فَطَلَبَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى وَجَدَهُ فَوَكَزَهُ بِرِجْلِهِ، فَقَالَ لَهُ: "" قُمْ فَمَا صَلَحْتَ أَنْ تَكُونَ إِلَّا أَبَا تُرَابٍ، أَغَضِبْتَ عَلَيَّ حِينِ آخَيْتُ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَلَمْ أُؤَاخِ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ؟! أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ. أَلَا مَنْ أَحَبَّكَ حُفَّ بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَمَنْ أَبْغَضَكَ أَمَاتَهُ اللَّهُ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَحُوسِبَ بِعَمَلِهِ فِي الْإِسْلَامِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَامِدُ بْنُ آدَمَ الْمَرْوَزِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that when the Prophet ﷺ established brotherhood among his Companions of the Muhajirun and Anṣar but did not pair ʿAli ibn Abi Ṭalib, may Allah be pleased with him, with any of them, ʿAli left angry until he reached a rivulet, pillowed his forearm, and wind blew dust over him. The Prophet ﷺ sought him until he found him, nudged him with his foot, and told him to rise, for nothing suited him but to be Abu Turab. He asked whether he was angry that he had paired the Muhajirun and Anṣar but not paired him with any, then asked whether he was not pleased to be to him like Harun to Musa except that there would be no prophet after him. He added that whoever loved him would be surrounded by security and faith, and whoever hated him Allah would cause to die a pre-Islamic death and reckon him for his deeds in Islam. > **"Rise, for nothing suits you but to be Abu Turab. Are you angry that I paired the Muhajirun and Anṣar and did not pair you. Are you not pleased to be to me like Harun to Musa, except that there will be no prophet after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ، تو آپ نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو کسی کا بھائی قرار نہیں دیا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں نکلے ، یہاں تک کہ وہ ندی کے پاس آئے اور وہاں کلائی کو تکیہ بنا کر لیٹ گئے ، ہوا چلنے کی وجہ سے وہ گردوغبار میں اٹ گئے ، نبی اکرم ﷺ انہیں تلاش کرتے ہوئے آئے ، یہاں تک کہ آپ نے انہیں پایا اور آپ نے انہیں پاؤں مارا اور فرمایا : تم اٹھ جاؤ ! تمہارے لئے موزوں ( نام ) یہی ہے کہ تم ابوتراب ہو ، کیا تم اس بات پر غصے میں ہو کہ میں نے جب مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ، تو میں نے تمہارے اور کسی فرد کے درمیان بھائی چارہ قائم نہیں کیا ؟ کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ، جو شخص تم سے محبت رکھے گا ، وہ امن اور ایمان سے بھر دیا جائے گا ، اور جو شخص تم سے بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے زمانہ جاہلیت کی موت دے گا ، اور اسلام میں اس نے جو عمل کیا ہے اس سے حساب لیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حامد بن آدم مروزی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

14656

Majma al-Zawaid #14656

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَكْتُوبٌ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، عَلِيٌّ أَخُو رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يُخْلَقَ الْخَلْقُ بِأَلْفَيْ سَنَةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَشْعَثُ ابْنُ عَمِّ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَلَمْ أَعْرِفْهُ. وَيَأْتِي حَدِيثُ الْمُؤَاخَاةِ بَيْنَ الصَّحَابَةِ فِي مَنَاقِبِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn ʿAbdillah, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger ﷺ said it was written upon the gate of Paradise that none deserved worship but Allah, Muḥammad was the Messenger of Allah, and ʿAli was the brother of the Messenger ﷺ, two thousand years before creation. > **"It is written upon the gate of Paradise: none deserves worship but Allah, Muḥammad is the Messenger of Allah, and ʿAli is the brother of the Messenger, two thousand years before creation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت کے دروازے پر یہ لکھا ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور حضرت محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، علی ، اللہ کے رسول کا بھائی ہے ، اور یہ بات آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے ( طے ہو چکی تھی ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اشعث ہے ، جو حسن بن صالح کا چچازاد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اس میں ایسا راوی بھی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ آگے چل کر صحابہ کرام کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنے سے متعلق حدیث آئے گی جو صحابہ کرام کی جماعت کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گی ۔

14657

Majma al-Zawaid #14657

«عَنْ أَبِي أُمَامَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخَى بَيْنَ النَّاسِ، وَآخَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ بِشْرِ بْنِ عَوْنٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ established brotherhood among the people and established brotherhood between himself and ʿAli, may Allah be pleased with him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ، تو آپ نے اپنے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے بشر بن عون کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14658

Majma al-Zawaid #14658

«عَنْ شَرَاحِيلَ بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَلِيٍّ: "" أَبْشِرْ يَا عَلِيُّ ; حَيَاتُكَ مَعِي، وَمَوْتُكَ مَعِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Sharaḥil ibn Murrah, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger ﷺ say to ʿAli to receive glad tidings, for his life was with him and his death with him. > **"Receive glad tidings, O ʿAli, your life is with me and your death is with me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شراحیل بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اے علی ! تم یہ خوشخبری حاصل کرو کہ تمہاری زندگی میرے ساتھ ہو گی اور تمہاری موت میرے ساتھ ہو گی ( یعنی تم مرنے کے بعد بھی میرے ساتھ رہو گے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14659

Majma al-Zawaid #14659

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا زَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا فَاطِمَةَ قَالَتْ فَاطِمَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَوَّجَتْنِي مِنْ رَجُلٍ فَقِيرٍ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَا تَرْضَيْنَ يَا فَاطِمَةُ أَنَّ اللَّهَ اخْتَارَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ رَجُلَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَبَاكِ وَالْآخَرُ زَوْجَكِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ. قَالَ الذَّهَبِيُّ: إِبْرَاهِيمُ هَذَا لَا يُعْرَفُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ضَعِيفٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that when the Prophet ﷺ married ʿAli to Faṭimah, Faṭimah said O Messenger of Allah, he had married her to a poor man with nothing. The Messenger ﷺ asked whether she was not pleased that Allah had chosen two men among the people of the earth, one her father and the other her husband. > **"Are you not pleased, O Faṭimah, that Allah chose two men, one your father and the other your husband."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کی ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایک ایسے شخص سے میری شادی کی ہے ، جو غریب ہے ، اور اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے فاطمہ ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اہل زمین میں سے دو افراد کو منتخب کیا ، ان میں سے ایک تمہارا باپ ہے اور دوسرا تمہارا شوہر ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ابراہیم بن حجاج کے حوالے سے امام عبدالرزاق سے نقل کی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : ابراہیم نامی یہ راوی معروف نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ انہوں نے اسے ایک اور ضعیف سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے ۔

14660

Majma al-Zawaid #14660

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا أَنْزَلَ اللَّهُ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِلَّا عَلَى أَمِيرِهَا وَشَرِيفِهَا، وَلَقَدْ عَاتَبَ اللَّهُ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَيْرِ مَكَانٍ، وَمَا ذَكَرَ عَلِيًّا إِلَّا بِخَيْرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ رَاشِدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that whenever Allah sent down O you who believe, ʿAli was its leader and noblest. Allah reproached the Companions of Muḥammad ﷺ in more than one place, but mentioned ʿAli only with good.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب بھی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اے ایمان والو ........‘‘۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اہل ایمان کے امیر اور ان کے معزز ترین فرد تھے ، اللہ تعالیٰ نے ایک سے زیادہ جگہ پر نبی اکرم ﷺ کے اصحاب پر عتاب کیا لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر صرف بھلائی کے حوالے سے ہی کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن راشد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14661

Majma al-Zawaid #14661

وَعَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ: أَنَّ أُمَّهُ وَخَالَتَهُ دَخَلَتَا عَلَى عَائِشَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: قَالَتَا: فَأَخْبِرِينَا عَنْ عَلِيٍّ قَالَتْ: عَنْ أَيٍّ شَيْءٍ تَسْأَلَنَّ؟ عَنْ رَجُلٍ وُضِعَ [يَدَهُ] مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَوْضِعًا، فَسَالَتْ نَفْسُهُ فِي يَدِهِ فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ؟ وَاخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ، فَقَالَ: إِنَّ أَحَبَّ الْبِقَاعِ إِلَى اللَّهِ مَكَانٌ قَبَضَ فِيهِ نَبِيَّهُ. قَالَتَا: فَلِمَ خَرَجْتِ عَلَيْهِ؟ قَالَتْ: أَمْرٌ قُضِيَ، وَوَدِدْتُ أَنْ أَفْدِيَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِمْ، وَأُمُّ جُمَيْعٍ وَخَالَتُهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا.

EnglishUnverified translation

Jumayʿ ibn ʿUmayr reports that his mother and maternal aunt entered upon ʿAʾishah, may Allah be pleased with her, and the narration continues until they said to tell them about ʿAli. She asked concerning what they asked: concerning a man whose hand was placed from the Messenger ﷺ in such a position that his soul flowed into his hand and he wiped his face with it. When they differed over his burial, he said the most beloved spot to Allah was where He took His prophet. They asked why she had gone out against him, and she said it was a decreed matter, and she wished she could ransom him with all upon earth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جمیع بن عمیر بیان کرتے ہیں : ان کی والدہ اور ان کی خالہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں ........ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر وہ یہ الفاظ نقل کرتے ہیں : ان دونوں خواتین نے کہا : آپ ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیں ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم کس حوالے سے سوال کر رہی ہو ؟ ایک ایسے شخص کے بارے میں جس نے اپنا ہاتھ نبی اکرم ﷺ پر یوں رکھا تھا کہ نبی اکرم ﷺ کا وصال ان کے ہاتھوں میں ہوا ، لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو دفن کرنے کے بارے میں اختلاف کیا ، تو ان صاحب نے یہ کہا : اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ وہ ہوتی ہے ، جس میں اس کے نبی کی روح کو قبض کیا گیا ہو ۔ ان دونوں خواتین نے کہا : پھر آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ کیوں کی تھی ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : یہ تقدیر کا ایک فیصلہ تھا ، میری یہ خواہش ہے کہ میں اس کے فدیے کے طور پر روئے زمین پر موجود ہر چیز دے دوں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، ام جمیع اور جمیع کی خالہ ، میں ان دونوں خواتین سے واقف نہیں ہوں ۔

14662

Majma al-Zawaid #14662

«عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ أَنْ كَانَ عَلِيٌّ لَأَقْرَبَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَتْ: عُدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَدَاةً بَعْدِ غَدَاةٍ يَقُولُ: "" جَاءَ عَلِيٌّ؟ "". مِرَارًا. قَالَتْ: وَأَظُنُّهُ كَانَ بَعَثَهُ فِي حَاجَةٍ. قَالَتْ: فَجَاءَ بَعْدُ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ حَاجَّةً، فَخَرَجْنَا مِنَ الْبَيْتِ، فَقَعَدْنَا عِنْدَ الْبَيْتِ وَكُنْتُ مِنْ أَدْنَاهُمْ إِلَى الْبَابِ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ عَلِيٌّ فَجَعَلَ يُسَارُّهُ وَيُنَاجِيهِ، ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ، وَكَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِهِ عَهْدًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ قُبِضَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ». وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أُمِّ مُوسَى، وَهِيَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, swears by the One she swears by that ʿAli was the closest of people in final counsel with the Messenger ﷺ. She said they visited the Messenger ﷺ morning after morning while he kept asking whether ʿAli had come, several times, thinking he had sent him on some need. When he came later, thinking he had some private need with him, they left the house and sat by it, she nearest to the door, whereupon ʿAli bent over him, confiding and speaking privately, then the Messenger ﷺ passed away that very day, and ʿAli was the closest of people in counsel with him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے نام کا میں حلف اٹھاتی ہوں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے سب سے زیادہ قریب رہے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم روزانہ نبی اکرم ﷺ کی عیادت کے لئے جایا کرتی تھیں ، آپ نے فرمایا : علی آ گیا ؟ آپ نے چند مرتبہ یہ بات دریافت کی : سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں مجھے اندازہ ہو گیا کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں کسی کام کے سلسلے میں بھیجا ہوا ہے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : بعد میں جب وہ آئے تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ شاید نبی اکرم ﷺ کو ان سے کوئی خاص کام ہے ، تو ہم خواتین گھر سے نکل آئیں اور گھر سے باہر بیٹھ گئیں ( یا کمرے سے باہر بیٹھ گئیں ) تو میں ان خواتین میں دروازے کے سب سے زیادہ قریب تھی ، میں نے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ پر جھک گئے اور نبی اکرم ﷺ نے سرگوشی میں ان کے ساتھ کوئی بات چیت کی ، پھر اسی دن نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے سب سے زیادہ قریب تھے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جس دن نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا ، اس دن آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف اُم موسیٰ نامی خاتون کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ خاتون ثقہ ہے ۔

14663

Majma al-Zawaid #14663

«عَنْ ذُؤَيْبٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا حُضِرَ قَالَتْ صَفِيَّةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِكَ أَهْلٌ تَلْجَأُ إِلَيْهِمْ وَإِنَّكَ أَجْلَبْتَ أَهْلِي، فَإِنْ حَدَثَ حَدَثٌ فَإِلَى مَنْ؟ قَالَ: "" إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Dhuʾayb reports that when the Prophet ﷺ was approached by death, Ṣafiyyah said O Messenger of Allah, every woman among his wives had family to turn to while he had removed her own family, so if something occurred to whom should she turn. He replied to ʿAli ibn Abi Ṭalib. > **"To ʿAli ibn Abi Ṭalib."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ذؤیب بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا آخری وقت قریب آیا تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی ازواج میں سے ہر ایک خاتون کے اہل خانہ موجود ہیں ۔ وہ خاتون ان کی پناہ حاصل کر لے گی اور میرے اہل خانہ نہیں ہیں ، تو اگر کوئی ضرورت پیش آ گئی ، تو میں کس کی طرف رجوع کروں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : علی بن ابوطالب کی طرف ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14664

Majma al-Zawaid #14664

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهِدَ إِلَى عَلِيٍّ سَبْعِينَ عَهْدًا لَمْ يَعْهَدْهَا إِلَى غَيْرِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that they used to say the Messenger ﷺ had confided to ʿAli seventy covenants he had confided to none other.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بطور خاص ستر ایسے عہد کیے تھے جو آپ نے ان کے علاوہ کسی اور کے ساتھ نہیں کیے ۔ ( یہاں عہد کرنے سے مراد مخصوص قسم کی تلقین کرنا بھی ہو سکتا ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14665

Majma al-Zawaid #14665

«وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَاجْتَمَعَ لَهُ ثَلَاثُونَ رَجُلًا فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا. قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ: "" مَنْ يَضْمَنُ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي، وَيَكُونُ مَعِي فِي الْجَنَّةِ، وَيَكُونُ خَلِيفَتِي فِي أَهْلِي؟ "". فَقَالَ رَجُلٌ لَمْ يُسِمِّهِ شَرِيكٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْتَ كُنْتَ بَحْرًا مَنْ يَقُومُ بِهَذَا؟ قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِآخَرَ: فَعَرَضَ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي عَلَامَةِ النُّبُوَّةِ فِي آيَتِهِ فِي الطَّعَامِ.

EnglishUnverified translation

ʿAli, may Allah be pleased with him, reports that when the verse warning his nearest kin was revealed, the Messenger ﷺ gathered thirty men of his household, who ate and drank, then asked them who would guarantee his debts and promises, be with him in Paradise, and be his successor among his family. A man unnamed by Sharik replied that he was a sea, so who could undertake this. He repeated it to another, then presented it to his household, whereupon ʿAli said he would. > **"Who will guarantee my debts and promises, be with me in Paradise, and be my successor among my family."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اور تم اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈراؤ “۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اہل خانہ کو جمع کیا ، تیس افراد آپ کے پاس جمع ہوئے ، ان لوگوں نے کھایا پیا ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے فرمایا : کون شخص میرے قرض اور میرے وعدوں کے حوالے سے میرا ساتھ دے گا ، اور وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا ، اور میرے اہل خانہ کے بارے میں میرا خلیفہ ہو گا ، تو ایک شخص نے کہا : شریک نامی راوی نے اس کا نام بیان نہیں کیا ، یا رسول اللہ ! آپ تو سمندر ہیں ، کون ایسا کر سکتا ہے ؟ پھر انہوں نے دوسری مرتبہ یہ کہا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے اہل بیت کے سامنے یہ پیش کش رکھی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ایسا کروں گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔ اس سے پہلے اس حدیث کے مختلف طرق نبوت کی علامات سے متعلق باب میں کھانے کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کے معجزات سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔

14666

Majma al-Zawaid #14666

«عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ: "" اضْمَنْ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي "". قَالَ: لَا أُطِيقُ ذَلِكَ، فَوَقَعَ بِهِ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: فَعَلَ اللَّهُ بِكَ مِنْ شَيْخٍ، بِدْعُوكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِتَقْضِيَ عَنْهُ دَيْنَهُ وَمَوَاعِيدَهُ. فَقَالَ: دَعْنِي عَنْكَ فَإِنَّ ابْنَ أَخِي يُبَارِي الرِّيحَ. فَدَعَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: "" اضْمَنْ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي "". فَقَالَ: نَعَمْ، هِيَ عَلَيَّ. فَضَمِنَهَا عَنْهُ. فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ مَالٌ قَالَ: هَذَا مَالُ اللَّهِ وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَحَقُّ مَا قَضَى عَنْ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَدَعَا النَّاسَ، فَقَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَيْنٌ أَوْ مَوْعُودٌ فَلْيَأْخُذْ، وَكَانَ فِيمَنْ جَاءَ جَابِرٌ، فَقَالَ: قَدْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا جَاءَنَا مَالٌ حَثْوَنَا لَكَ هَكَذَا وَهَكَذَا "". فَقَالَ لَهُ: خُذْ كَمَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ كَمَا أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ عِدَةُ جَابِرٍ بِنَحْوِهَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn ʿAbdillah, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger ﷺ summoned al-ʿAbbas ibn ʿAbd al-Muṭṭalib and asked him to guarantee his debts and promises. He said he could not bear it, whereupon his son ʿAbdullah ibn ʿAbbas rebuked him, saying the Messenger ﷺ had invited him to settle his debts and promises. Al-ʿAbbas told him to leave him, for his nephew outstripped the wind in generosity. The Prophet ﷺ then summoned ʿAli ibn Abi Ṭalib, who agreed that it was upon him and guaranteed it. When wealth later came to Abu Bakr, he declared it the wealth of Allah and what He had granted the Muslims, rightfully used to settle for His Prophet ﷺ, and invited whoever held a debt or promise from the Messenger ﷺ to take it. Among those who came was Jabir, who said the Messenger ﷺ had promised to scoop for him such and such when wealth came. Abu Bakr told him to take as the Messenger ﷺ had told him, so he took three scoops as the Messenger ﷺ had commanded.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : آپ مجھے اس بات کی ضمانت دیں گے کہ میرے قرض کو ادا کر دیں اور میرے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کریں ، تو انہوں نے کہا : میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ، اُن کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان پر تنقید کی اور یہ کہا : اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ یہ کرے ، اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کو یہ کہا ہے کہ آپ ان کی طرف سے قرض کو ادا کر دیں اور ان کے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کریں ، تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : تم مجھے چھوڑ دو ! کیونکہ تمہارے چچا زاد ( سخاوت اور نفع رسانی کے حوالے سے ) ہوا کو مات دیتے ہیں ( یعنی ان کی سخاوت کی وجہ سے ان کے وعدے بہت زیادہ ہوں گے ) پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : تم مجھے ضمانت دو کہ قرض کو ادا کر دو گے اور میرے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کر دو گے ، انہوں نے عرض کی : ٹھیک ہے ! یہ میرے ذمہ ہوا ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی طرف سے اس چیز کی ضمانت دی ۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ( کے عہد خلافت میں ) ان کے پاس مال آیا تو انہوں نے فرمایا : یہ اللہ کا مال ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مال فئے کے طور پر عطا کیا ہے ، اور یہ بات ضروری ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی طرف سے ادائیگیاں کر دی جائیں ، انہوں نے لوگوں کو بلایا اور فرمایا : جس شخص نے نبی اکرم ﷺ سے کوئی قرض واپس لینا ہو یا جس کے ساتھ نبی اکرم ﷺ نے وعدہ کیا ہو ، وہ وصولی کر لے تو آنے والے لوگوں میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ۔ انہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے یہ فرمایا تھا کہ جب ہمارے پاس کوئی مال آئے گا ، تو ہم تمہیں دونوں ہاتھ بھر کے دیں گے ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : نبی اکرم ﷺ نے تم سے جس طرح ارشاد فرمایا تھا : تم اس طرح وصولی کر لو ، تو انہوں نے تین مرتبہ دونوں ہاتھ بھر کے مال لیا ، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت میں سے صرف یہ حصہ منقول ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کا جو وعدہ تھا ( اور جس طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے پورا کیا ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14667

Majma al-Zawaid #14667

وَعَنْ أَنَسٍ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" عَلِيٌّ يَقْضِي دَيْنِي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that ʿAli would settle his debt. > **"ʿAli will settle my debt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ علی میرا قرض ادا کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14668

Majma al-Zawaid #14668

«وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ وَصِيًّا فَمَنْ وَصِيُّكَ؟ فَسَكَتَ عَنِّي، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ رَآنِي فَقَالَ: "" يَا سَلْمَانُ "". فَأَسْرَعْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ: لَبَّيْكَ. قَالَ: "" تَعْلَمُ مَنْ وَصِيُّ مُوسَى؟ "". قَالَ: نَعَمْ، يُوشَعُ بْنُ نُونٍ. قَالَ: "" لِمَ؟ "". قُلْتُ: لِأَنَّهُ كَانَ أَعْلَمَهُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ: "" فَإِنَّ وَصِيِّي، وَمَوْضِعَ سِرِّي، وَخَيْرَ مَنْ أَتْرُكُ بَعْدِي، وَيُنْجِزُ عِدَتِي، وَيَقْضِي دَيْنِي: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: [قَوْلُهُ]: "" «وَصِيِّي "" [يَعْنِي] أَنَّهُ أَوْصَاهُ بِأَهْلِهِ لَا بِالْخِلَافَةِ». وَقَوْلُهُ: "" «وَخَيْرُ مَنْ أَتْرُكُ بَعْدِي [يَعْنِي] مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». وَفِي إِسْنَادِهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Salman, may Allah be pleased with him, reports that he asked O Messenger of Allah, every prophet had a successor, so who was his successor. He remained silent, then later saw him and called O Salman. Salman hastened to him saying at his service. He asked whether he knew the successor of Musa, and Salman said yes, Yushaʿ ibn Nun. When asked why, Salman said because he was the most knowledgeable among them that day, whereupon the Prophet ﷺ said his successor, keeper of his secret, best of those he left behind, fulfiller of his promise, and settler of his debt was ʿAli ibn Abi Ṭalib. > **"Do you know the successor of Musa. My successor, keeper of my secret, best of those I leave behind, fulfiller of my promise and settler of my debt is ʿAli ibn Abi Ṭalib."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے ، تو آپ کا وصی کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ، اس کے بعد جب آپ نے مجھے دیکھا ، تو آپ نے فرمایا : اے سلمان ! میں جلدی سے آپ کے پاس آیا ، میں نے عرض کی : میں حاضر ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصی کون تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت یوشع بن نون علیہ السلام تھے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیوں تھے ؟ میں نے عرض کی : کیونکہ اس وقت وہ ان لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھتے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرا وصی اور میرے راز کا رازدان اور اپنے بعد میں جن لوگوں کو چھوڑ دوں گا ، ان میں سے سب سے زیادہ بہتر شخص وہ ہے ، جو میرے وعدے کو پورا کرے گا ، میرے قرض کو ادا کرے گا ، اور وہ علی بن ابوطالب ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان :” میرا وصی ۔‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اپنے اہلخانہ کے بارے میں وصی مقرر کیا تھا ، یہ مراد نہیں ہے کہ خلافت کے بارے میں وصی مقرر کیا تھا اور نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان : ’’ جسے میں اپنے بعد چھوڑوں گا ان میں سب سے بہتر ۔‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کے اہل بیت میں سے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14669

Majma al-Zawaid #14669

قَدْ تَقَدَّمَ فِي إِسْلَامِهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِفَاطِمَةَ: "" أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ زَوَّجْتُكِ أَقْدَمَ أُمَّتِي سِلْمًا، وَأَكْثَرَهُمْ عِلْمًا، وَأَعْظَمَهُمْ حِلْمًا»؟ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِرِجَالٍ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

It was already mentioned in the chapter of his acceptance of Islam that the Prophet ﷺ said to Faṭimah asking whether she was not pleased that he had married her to the earliest of his community in submission, the most knowledgeable among them, and the greatest in forbearance. > **"Are you not pleased that I married you to the earliest of my community in submission, the most knowledgeable among them, and the greatest in forbearance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے متعلق باب میں یہ بات گزر چکی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ فرمایا تھا : ’’ کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہارا شوہر میری امت میں اسلام قبول کرنے کے حوالے سے مقدم ہے ، علم کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہے ، اور بردباری کے اعتبار سے سب سے بڑھ کر ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے ایسے رجال کے حوالے سے نقل کی ہے جن کی توثیق کی گئی ہے ۔

14670

Majma al-Zawaid #14670

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ، وَعَلِيٌّ بَابُهَا، فَمَنْ أَرَادَ الْعِلْمَ فَلْيَأْتِهِ مِنْ بَابِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ صَالِحٍ الْهَرَوِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger ﷺ said he was the city of knowledge and ʿAli its gate, so whoever sought knowledge should come to it through its gate. > **"I am the city of knowledge and ʿAli is its gate, so whoever seeks knowledge let him come through its gate."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے ، جو شخص علم تک آنا چاہتا ہو ، تو وہ اس کے دروازے کی طرف سے اس کے پاس آئے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن صالح ہروی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14671

Majma al-Zawaid #14671

«عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: كَانَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْوَابٌ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ. قَالَ: فَقَالَ يَوْمًا: "" سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ "". قَالَ: فَتَكَلَّمَ أُنَاسٌ فِي ذَلِكَ. قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: "" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَمَرْتُ بِسَدِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ، فَقَالَ فِيهِ قَائِلُكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا سَدَدْتُ شَيْئًا وَلَا فَتَحْتُهُ وَلَكِنِّي أُمِرْتُ بِشَيْءٍ فَاتَّبَعْتُهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam, may Allah be pleased with him, reports that some Companions of the Messenger ﷺ had doors opening into the mosque. One day the Prophet ﷺ ordered these doors closed except the door of ʿAli. Some people spoke about it, so the Messenger ﷺ rose, praised Allah, and said he had ordered these doors closed except the door of ʿAli while their speaker had objected, but by Allah he had closed nothing nor opened anything on his own; he was commanded something and followed it. > **"Close these doors except the door of ʿAli, for I closed nothing nor opened anything but followed what I was commanded."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے کچھ اصحاب کے مخصوص دروازے تھے جو مسجد میں کھلتے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ان دروازوں کو بند کر دو البتہ علی کے دروازے کو رہنے دو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے ، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ امابعد ! میں نے تمام دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا اور علی کے دروازے کو کھلا رکھنے کو کہا ، اس کے بارے میں تم میں سے کسی نے کچھ کہا ، اللہ کی قسم ! میں نے کوئی بھی چیز بند نہیں کی اور کوئی بھی چیز کھولی نہیں ( یعنی اپنی طرف سے ایسا نہیں کیا ) بلکہ مجھے جو حکم دیا گیا ہے ، میں نے اس کی پیروی کی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ثقہ کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14672

Majma al-Zawaid #14672

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الرَّقِيمِ الْكِنَانِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ زَمَنَ الْجَمَلِ، فَلَقِينَا سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ بِهَا، فَقَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَدِّ الْأَبْوَابِ الشَّارِعَةِ فِي الْمَسْجِدِ، وَتَرَكَ بَابَ عَلِيٍّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَزَادَ: «قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَدَدْتَ أَبْوَابَنَا كُلَّهَا إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ قَالَ: "" مَا أَنَا سَدَدْتُ أَبْوَابَكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ سَدَّهَا». وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn al-Raqim al-Kinani reports that they went to Madinah at the time of the Camel and met Saʿd ibn Malik there, who said the Messenger ﷺ had ordered the doors opening into the mosque closed and left the door of ʿAli. In an addition the people asked why he had closed all their doors except the door of ʿAli, and he replied he had not closed their doors but Allah had closed them. > **"I did not close your doors, but Allah closed them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن رقیم کنانی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ جنگ جمل کے زمانے میں مدینہ منورہ گئے ، ہماری ملاقات وہاں حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو انہوں نے فرمایا : مسجد میں کھلنے والے تمام دروازوں کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم دیا تھا کہ ان کو بند کر دیا جائے ، صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کو رہنے دیا گیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمارے تمام دروازے بند کر دیے ، صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دروازے رہنے دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے تمہارے دروازوں کو بند نہیں کروایا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بند کروایا ہے ۔‘‘ امام احمد کی سند حسن ہے ۔

14673

Majma al-Zawaid #14673

«وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي، فَقَالَ: "" إِنَّ مُوسَى سَأَلَ رَبَّهُ أَنْ يَظْهَرَ مَسْجِدُهُ بِهَارُونَ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ يَظْهَرَ مَسْجِدِي بِكَ وَبِذُرِّيَّتِكَ "". ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ: "" أَنْ سُدَّ بَابِكَ "". فَاسْتَرْجَعَ، ثُمَّ قَالَ: سَمْعٌ وَطَاعَةٌ، فَسَدَّ بَابَهُ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى الْعَبَّاسِ بِمِثْلِ ذَلِكَ. ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا أَنَا سَدَدْتُ أَبْوَابَكُمْ وَفَتَحْتُ بَابَ عَلِيٍّ، وَلَكِنَّ اللَّهَ فَتَحَ بَابَ عَلِيٍّ، وَسَدَّ أَبْوَابَكُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAli ibn Abi Ṭalib, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ took his hand and said Musa had asked his Lord to strengthen his mosque through Harun, while he had asked his Lord to strengthen his mosque through him and his offspring. He then sent to Abu Bakr to close his door, who answered hearing and obeying and closed it, then sent the like to ʿUmar and to al-ʿAbbas. The Messenger ﷺ then said he had not closed their doors and opened the door of ʿAli, but Allah had opened the door of ʿAli and closed theirs. > **"Musa asked his Lord to strengthen his mosque through Harun, and I asked my Lord to strengthen my mosque through you and your offspring. I did not close your doors and open the door of ʿAli, but Allah opened the door of ʿAli and closed yours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا : ’’ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی کہ وہ حضرت ہارون علیہ السلام کے ذریعے ان کی مسجد کو غالب کرے اور میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی ہے کہ وہ تمہارے ذریعے اور تمہاری ذریت کے ذریعے میری مسجد کو غالب کرے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ تم اپنا دروازہ بند کر دو ، انہوں نے رجوع کی درخواست کی اور پھر یہ کہا : اس بات کی اطاعت و فرمانبرداری ہو گی ، انہوں نے اپنا دروازہ بند کر دیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا پھر آپ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف اس کی مانند پیغام بھیجا ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے تم لوگوں کے دروازے بند نہیں کیے اور علی کا دروازہ کھلا نہیں رہنے دیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے علی کے دروازے کو کھلا رہنے دیا ہے ، اور تمہارے دروازے بند کروائے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14674

Majma al-Zawaid #14674

«وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" انْطَلِقْ، فَمُرْهُمْ فَلْيَسُدُّوا أَبْوَابَهُمْ "". فَانْطَلَقْتُ، فَقُلْتُ لَهُمْ فَفَعَلُوا إِلَّا حَمْزَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ فَعَلُوا إِلَّا حَمْزَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قُلْ لِحَمْزَةَ فَلْيُحَوِّلْ بَابَهُ "". فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكَ أَنْ تُحَوِّلَ بَابَكَ. فَحَوَّلَهُ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَقَالَ: "" ارْجِعْ إِلَى بَيْتِكَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ وَقَدْ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿAli, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ told him to go order them to close their doors. He went and told them, and they did so except Ḥamzah. When he reported that all had done so except Ḥamzah, the Messenger ﷺ told him to tell Ḥamzah to move his door. He conveyed that the Messenger ﷺ ordered him to move his door, so he moved it. When ʿAli returned to him while he was standing in prayer, he told him to return to his house. > **"Go and order them to close their doors. Tell Ḥamzah to move his door. Return to your house."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم جاؤ اور انہیں یہ ہدایت کرو کہ وہ اپنے دروازے بند کر دیں ۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں گیا ۔ میں نے ان لوگوں کو کہا ، ان لوگوں نے ایسا کر لیا ، صرف حمزہ نے ایسا نہیں کیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حمزہ کے علاوہ باقی سب لوگوں نے ایسا کر لیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم حمزہ سے یہ کہو کہ اپنا دروازہ منتقل کر لے ، میں نے آ کے کہا : اللہ کے رسول نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اپنا دروازہ منتقل کر لیں ، تو انہوں نے اسے منتقل کر لیا ، پھر میں جب واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو آپ کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے ، آپ نے فرمایا : تم اپنے گھر واپس چلے جاؤ ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں جن کی توثیق کی گئی ہے ۔

14675

Majma al-Zawaid #14675

وَعَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْعَرَارِ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ، فَقَالَ: أَمَّا عَلِيٌّ ; فَلَا تَسْأَلُوا عَنْهُ، انْظُرُوا إِلَى مَنْزِلِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنَّهُ سَدَّ أَبْوَابَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَقَرَّ بَابَهُ، وَأَمَّا عُثْمَانُ ; فَإِنَّهُ أَذْنَبَ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ذَنْبًا عَظِيمًا فَعَفَا اللَّهُ عَنْهُ، وَأَذْنَبَ فِيكُمْ ذَنْبًا دُونَ ذَلِكَ فَقَتَلْتُمُوهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Al-ʿAlaʾ ibn al-ʿArar reports that Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, was asked about ʿAli and ʿUthman. He said as for ʿAli, not to ask about him but to look at his station with the Messenger ﷺ, for he had closed their doors in the mosque and confirmed his. As for ʿUthman, he had committed a great fault on the day the hosts met yet Allah pardoned him, then committed a lesser fault among them and they killed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علاء بن عرار بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : جہاں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے ، تو تم ان کے بارے میں نہ پوچھو ، تم یہ دیکھو کہ نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں ان کی قدر و منزلت کیسی تھی ؟ نبی اکرم ﷺ نے مسجد میں موجود ہمارے تمام دروازے بند کروا دیے تھے ، صرف ان کے دروازے کو کھلا رہنے دیا تھا ، جہاں تک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے ، تو انہوں نے جب دو گروہ ملے تھے اس دن بڑے گناہ کا ارتکاب کیا تھا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر کیا اور انہوں نے تمہارے درمیان اس سے چھوٹے گناہ کا ارتکاب کیا اور تم لوگوں نے انہیں شہید کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14676

Majma al-Zawaid #14676

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَدِّ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -. فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْرَ مَا أَدْخُلُ أَنَا وَحْدِي وَأَخْرُجُ قَالَ: "" مَا أَمَرْتُ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ "". فَسَدَّهَا كُلَّهَا غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ. قَالَ: وَرُبَّمَا مَرَّ وَهُوَ جُنُبٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samurah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ ordered all doors closed except the door of ʿAli, may Allah be pleased with him. Al-ʿAbbas asked for passage enough to enter and exit alone, but the Prophet ﷺ said he had not been commanded any of that. All were closed except the door of ʿAli, through which he sometimes passed while in major ritual impurity.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخصوص دروازے کے علاوہ باقی دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اتنی مقدار کی اجازت دے دیں ، جس میں سے ، میں اکیلا داخل ہو سکوں اور باہر جا سکوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخصوص دروازے کے علاوہ باقی تمام دروازے بند کروا دیے ، راوی بیان کرتے ہیں : بعض اوقات حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں سے ایسی حالت میں گزر جاتے تھے کہ وہ جنابت کی حالت میں ہوتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14677

Majma al-Zawaid #14677

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَخْرَجَ أَهْلَ الْمَسْجِدِ وَتَرَكَ عَلِيًّا قَالَ النَّاسَ فِي ذَلِكَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا أَنَا أَخْرَجْتُكُمْ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي، وَلَا أَنَا تَرَكْتُهُ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَخْرَجَكُمْ وَتَرَكَهُ، إِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ مَأْمُورٌ مَا أُمِرْتُ بِهِ فَعَلْتُ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ اخْتُلِفَ فِيهِمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that when the people of the mosque were removed and ʿAli left, people spoke about it until it reached the Prophet ﷺ, who said he had not removed them by himself nor left him by himself, but Allah had removed them and left him. He was only a commanded servant doing what he was ordered, following only what was revealed to him. > **"I did not remove you by myself nor leave him by myself, but Allah removed you and left him. I am only a commanded servant, I follow only what is revealed to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب اہل مسجد کو نکال دیا گیا ، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا گیا ، تو لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے تم لوگوں کو اپنی طرف سے نہیں نکالا ہے ، اور نہ ہی علی کو اپنی طرف سے چھوڑا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو نکالا ہے ، اور اسے رہنے دیا ہے ، میں حکم کا پابند بندہ ہوں ، مجھے جو حکم دیا جاتا ہے ، میں ویسا ہی کرتا ہوں ، میں صرف اس بات کی پیروی کرتا ہوں ، جو میری طرف وحی کی جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

14678

Majma al-Zawaid #14678

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ مُرْسَلًا قَالَ: «كَانَ قَوْمٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ عَلِيٌّ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلِيٌّ خَرَجُوا، فَمَا خَرَجُوا تَلَاوَمُوا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: وَاللَّهِ مَا أَخْرَجَنَا فَارْجِعُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَاللَّهِ مَا أَدْخَلْتُهُ وَأَخْرَجْتُكُمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَدْخَلَهُ وَأَخْرَجَكُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAli reports from Ibrahim ibn Saʿd from his father, and also in disconnected form, that some people were with the Prophet ﷺ when ʿAli entered, whereupon they left. After leaving they blamed one another, swearing by Allah they had not been expelled, so to return. The Prophet ﷺ swore by Allah that he had neither admitted him nor expelled them, but Allah had admitted him and expelled them. > **"By Allah, I did not admit him and expel you, but Allah admitted him and expelled you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن علی نے ابراہیم بن سعد کے حوالے سے ان کے والد سے روایت نقل کی ہے ، اور محمد بن علی کے حوالے سے یہ مرسل روایت بھی منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اندر آئے ، تو وہ لوگ باہر چلے گئے ، جب وہ لوگ باہر چلے گئے ، تو انہوں نے ایک دوسرے کو ملامت کی اور ایک دوسرے سے کہا : اللہ کی قسم ! ہمیں نکالا نہیں گیا ، تو تم لوگ واپس چلو ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! نہ تو میں نے اسے اندر داخل کروایا اور نہ ہی تم لوگوں کو نکالا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اندر داخل کروایا اور تم لوگوں کو نکال دیا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14679

Majma al-Zawaid #14679

عَنْ خَارِجَةَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ: "" لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُجْنِبَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرُكَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَخَارِجَةُ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Kharijah ibn Saʿd reports from his father Saʿd, may Allah be pleased with him, that the Messenger ﷺ said to ʿAli that it was not lawful for anyone to be in major impurity in this mosque except him and him. > **"It is not lawful for anyone to be in major impurity in this mosque except me and you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خارجہ بن سعد اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ میرے اور تمہارے علاوہ اور کسی کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ مسجد میں جنابت کی حالت میں آئے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، خارجہ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14680

Majma al-Zawaid #14680

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَفْضَلَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ صَالِحٌ جَزَرَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah, meaning Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that they used to say the best of the people of Madinah was ʿAli ibn Abi Ṭalib.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم لوگ یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ اہل مدینہ میں سب سے زیادہ فضیلت والے فرد حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سکن ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور صالح جزرہ نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14681

Majma al-Zawaid #14681

وَعَنْهُ قَالَ: «قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعِينَ سُورَةً، وَخَتَمْتُ الْقُرْآنَ عَلَى خَيْرِ النَّاسِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ: وَخَتَمْتُ إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that he recited seventy chapters before the Messenger ﷺ and completed the Qurʾan before the best of people, ʿAli ibn Abi Ṭalib.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے ستر سورتیں تلاوت کی ہیں ، اور میں نے لوگوں میں سب سے بہتر حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے سامنے پورا قرآن ختم کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں مذکور ہے ، تاہم اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے پورا قرآن ختم کرنے والا حصہ نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14682

Majma al-Zawaid #14682

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ سَيِّدُ الْعَرَبِ؟ "". قَالُوا: أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: "" أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وَعَلِيٌّ سَيِّدُ الْعَرَبِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَاقَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَهْتَمِ ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ asked who the chief of the Arabs was. They said he was O Messenger of Allah, whereupon he said he was the chief of the children of Adam and ʿAli was the chief of the Arabs. > **"Who is the chief of the Arabs. I am the chief of the children of Adam and ʿAli is the chief of the Arabs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : عربوں کا سردار کون ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور علی ، عربوں کا سردار ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خاقان بن عبداللہ بن اہتم ہے ، جسے امام ابوداؤد نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

14683

Majma al-Zawaid #14683

«عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا غَضِبَ لَمْ يَجْتَرِئْ أَحَدٌ أَنْ يُكَلِّمَهُ إِلَّا عَلِيٌّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَسَقَطَ مِنْهُ التَّابِعِيُّ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reports that when the Messenger ﷺ was angry, none dared speak to him except ʿAli.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ جب غصے میں ہوتے تھے تو کسی کو آپ سے بات کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی البتہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند سے تابعی کا نام ساقط ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن اشقر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14684

Majma al-Zawaid #14684

عَنْ زَاذَانَ: أَنَّ عَلِيًّا حَدَّثَ بِحَدِيثٍ فَكَذَّبَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَدْعُو عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا قَالَ: ادْعُ، فَدَعَا عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْرَحْ حَتَّى ذَهَبَ بَصَرُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمَّارٌ الْحَضْرَمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zadhan reports that ʿAli narrated a report which a man denied, whereupon ʿAli said he would supplicate against him if he was lying. The man told him to do so, so he supplicated against him, and he had not left before his sight was gone.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زاذان بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک بات بیان کی ، ایک شخص نے انہیں جھٹلا دیا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اگر تم جھوٹے ہوئے تو میں تمہارے لئے دعائے ضرر کروں گا ، اس نے کہا : آپ کر دیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کے خلاف دعائے ضرر کی ، تو کچھ ہی عرصہ گزرنے کے بعد اس شخص کی بینائی رخصت ہو گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمار حضرمی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14685

Majma al-Zawaid #14685

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ تَحْتِ هَذَا الصُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". قَالَ: فَطَلَعَ أَبُو بَكْرٍ، فَهَنَّأْنَاهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثُمَّ لَبِثَ هُنَيْهَةً، ثُمَّ قَالَ: "" يَطْلُعُ مِنْ تَحْتِ هَذَا الصُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". فَطَلَعَ عُمَرُ، فَهَنَّأْنَاهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثُمَّ قَالَ: "" يَطْلُعُ مِنْ تَحْتِ هَذَا الصُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا "". ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: فَطَلَعَ عَلِيٌّ.»

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ said a man of Paradise would appear to them from beneath this cluster of date palms. Abu Bakr appeared, and they congratulated him with what the Messenger ﷺ had said. After a while he said again that a man of Paradise would appear from beneath this cluster, and ʿUmar appeared, and they congratulated him. He then said a man of Paradise would appear from beneath this cluster, adding O Allah, if You willed You would make him ʿAli, repeating it thrice, whereupon ʿAli appeared. > **"A man of Paradise will appear to you from beneath this cluster. O Allah, if You will, make him ʿAli."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کھجوروں کے ان درختوں کے نیچے سے تمہارے سامنے اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آئے گا ، راوی کہتے ہیں : تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سامنے آئے ، ہم نے انہیں نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے حوالے سے مبارک باد دی ، پھر کچھ دیر گزرنے کے بعد نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کھجور کے ان درختوں کے نیچے سے اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص سامنے آئے گا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سامنے آئے ، ہم نے انہیں نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے حوالے سے مبارک باد دی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بھجور کے ان درختوں کے نیچے سے اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص سامنے آئے گا ، اے اللہ ! اگر تو چاہے تو اسے علی بنا دے ! یہ بات آپ نے تین مرتبہ کہی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سامنے آ گئے ۔‘‘

14686

Majma al-Zawaid #14686

وَفِي رِوَايَةٍ: "" اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

In another wording the supplication was O Allah, make him ʿAli, when announcing the man of Paradise from beneath the date palms. > **"O Allah, make him ʿAli."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اے اللہ ! تو اسے علی بنا دے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14687

Majma al-Zawaid #14687

«عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". فَدَخَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَسَلَّمَ وَصَعِدَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that while sitting with the Prophet ﷺ, he said a man of Paradise would appear to them, whereupon ʿAli ibn Abi Ṭalib entered, greeted, and ascended. > **"A man of Paradise will appear to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے فرمایا : اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تمہارے سامنے آئے گا ، تو حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اندر تشریف لائے ، انہوں نے سلام کیا اور اوپر چڑھ گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور وہ دونوں ضعیف ہیں ۔