عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ - يَعْنِي الْأَوْدِيَّ - قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ أَتَاهُ تِسْعَةُ رَهْطٍ، فَقَالُوا لَهُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، إِمَّا تَقُومُ مَعَنَا وَإِمَّا أَنْ يُخَلُّونَا هَؤُلَاءِ. قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلْ أَقْوَمُ مَعَكُمْ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صَحِيحٌ قَبْلَ أَنْ يَعْمَى. قَالَ: فَانْتَبَذُوا فَتَحَدَّثُوا، فَلَا أَدْرِي مَا قَالُوا. قَالَ: فَجَاءَ يَنْفُضُ ثَوْبَهُ وَيَقُولُ: أُفٍّ وَيَتُفُّ! وَقَعُوا فِي رَجُلٍ [لَهُ عَشْرَ، وَقَعُوا فِي رَجُلٍ] قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا لَا يُخْزِيهِ اللَّهُ أَبَدًا، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» "". فَاسْتَشْرَفَ لَهَا مَنِ اسْتَشْرَفَ قَالَ: "" أَيْنَ عَلِيٌّ؟ "". قَالُوا: فِي الرَّحْلِ يَطْحَنُ قَالَ: "" وَمَا كَانَ أَحَدُكُمْ لِيَطْحَنَ "". قَالَ: فَجَاءَ وَهُوَ أَرْمَدُ لَا يَكَادُ يُبْصِرُ قَالَ: فَنَفَثَ فِي عَيْنَيْهِ، ثُمَّ هَزَّ الرَّايَةَ ثَلَاثًا فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ قَالَ: فَجَاءَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَ: فَبَعَثَ فُلَانًا بِسُورَةِ التَّوْبَةِ، فَبَعَثَ عَلِيًّا خَلْفَهُ فَأَخَذَهَا مِنْهُ قَالَ: "" «لَا يَذْهَبُ بِهَا إِلَّا رَجُلٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ» "". قَالَ: وَقَالَ لِبَنِي عَمِّهِ: "" «أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟ "". فَأَبَوْا، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ». [فَقَالَ: "" أَنْتَ وَلِييِّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ""] قَالَ: وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ خَدِيجَةَ. قَالَ: «وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَوْبَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - وَقَالَ: "" {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33]» "". قَالَ: وَشَرَى عَلِيٌّ نَفْسَهُ، لَبِسَ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعَلِيٌّ نَائِمٌ. قَالَ: وَأَبُو بَكْرٍ يَحْسَبُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ انْطَلَقَ نَحْوَ بِئْرِ مَيْمُونَةَ فَأَدْرِكْهُ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ مَعَهُ الْغَارَ. قَالَ: وَجَعَلَ عَلِيٌّ يُرْمَى بِالْحِجَارَةِ، كَمَا كَانَ يُرْمَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَتَضَوَّرُ قَدْ لَفَّ رَأْسَهُ فِي الثَّوْبِ لَا يُخْرِجُهُ حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ كَشَفَ رَأْسَهُ، فَقَالُوا: إِنَّكَ لَلَئِيمٌ، كَانَ صَاحِبُكَ نَرْمِيهِ لَا يَتَضَوَّرُ وَأَنْتَ تَتَضَوَّرُ، وَقَدِ اسْتَنْكَرْنَا ذَلِكَ. قَالَ: وَخَرَجَ بِالنَّاسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَخْرُجُ مَعَكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا "". فَبَكَى عَلِيٌّ، فَقَالَ لَهُ: "" «أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ، إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَّا وَأَنْتَ خَلِيفَتِي» "". وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنْتَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي» "". قَالَ: وَسَدَّ أَبْوَابَ الْمَسْجِدِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ قَالَ: فَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ، جَنْبٌا، وَهُوَ طَرِيقُهُ لَيْسَ لَهُ طَرِيقٌ غَيْرَهُ. قَالَ: وَقَالَ: "" «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» "". قَالَ: وَأَخْبَرَنَا اللَّهُ [عَزَّ وَجَلَّ - فِي الْقُرْآنِ] أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ عَنْهُمْ، عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ، هَلْ حَدَّثَنَا أَنَّهُ سَخِطَ عَلَيْهِمْ بَعْدُ؟ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ حِينَ قَالَ: ائْذَنْ لِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ: "" وَكُنْتَ فَاعِلًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي بَلْجٍ الْفَزَارِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ لِينٌ.
EnglishUnverified translation
ʿAmr ibn Maymun al-Awdi reports that he was sitting with Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, when nine men came and said either to rise with them or to leave them alone with these people. Ibn ʿAbbas, then healthy before his blindness, said he would rise with them. They withdrew and spoke words he did not know, then Ibn ʿAbbas returned brushing his garment, exclaiming in disgust that they had attacked a man of ten virtues: that the Prophet ﷺ had said he would send a man Allah would never disgrace, who loved Allah and His Messenger, and all aspired to it, then asked where ʿAli was. They said he was at the baggage grinding, and he remarked none of them would grind. ʿAli came bleary-eyed hardly seeing, so the Prophet ﷺ spat in his eyes, shook the banner thrice, and gave it to him, whereupon he brought Ṣafiyyah bint Ḥuyayy. The Prophet ﷺ had sent someone with Surat al-Tawbah, then sent ʿAli after him to take it, saying none should bear it except a man from him while he was from him. He asked his cousins which of them would ally with him in this world and the next, and they refused, but ʿAli said he would ally with him in this world and the next, so he said he was his ally in this world and the next. He was the first of people to accept Islam after Khadijah. The Messenger ﷺ took his garment, placed it over ʿAli, Faṭimah, Ḥasan, and Ḥusayn, may Allah be pleased with them, and recited that Allah only wished to remove impurity from the household and purify them. ʿAli sold himself, wearing the garment of the Messenger ﷺ and sleeping in his place while the polytheists pelted him thinking him the Messenger ﷺ. Abu Bakr came while ʿAli slept, called O Prophet of Allah, and ʿAli told him the Prophet ﷺ had gone toward the well of Maymunah, so Abu Bakr went and entered the cave with him. ʿAli kept being pelted with stones as the Messenger ﷺ had been, writhing with his head wrapped until morning, when he uncovered it and they called him mean for writhing while his companion had not, which they found strange. The Prophet ﷺ went out with the people to Tabuk, and ʿAli asked to go with him, but the Prophet ﷺ said no. ʿAli wept, so he asked whether he was not pleased to be to him like Harun to Musa except that he was no prophet, for none should go except he was his successor. The Messenger ﷺ also told him he was the guardian of every believer after him. He closed the doors of the mosque except the door of ʿAli, through which he entered the mosque even in impurity as it was his only path. He said whomever he was master of, ʿAli was his master. Allah had informed them He was pleased with the companions of the tree, knowing what was in their hearts, yet never told them He became angry with them after. The Messenger ﷺ also told ʿUmar when he sought leave to strike a neck that he would do it, asking what he knew, for perhaps Allah had looked upon the people of Badr and said to do as they wished. > **"I shall send a man Allah will never disgrace, who loves Allah and His Messenger. Where is ʿAli. None shall bear it except a man from me while I am from him. Which of you will ally with me in this world and the next. You are my ally in this world and the next. Are you not pleased to be to me like Harun to Musa, except that you are no prophet, for none should go except you are my successor. You are the guardian of every believer after me. Whomever I am his master, ʿAli is his master."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عمرو بن میمون اودی بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران نو افراد ان کے پاس آئے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : اے ابن عباس ! یا تو آپ اٹھ کر ہمارے ساتھ جائیں یا پھر یہ ہے کہ ہمیں خلوت کا موقع دیں ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : بلکہ میں اٹھ کر تمہارے ساتھ جاتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : وہ ان دنوں تندرست تھے اور ان کی بینائی ابھی رخصت نہیں ہوئی تھی ، راوی کہتے ہیں : وہ لوگ الگ چلے گئے اور آپس میں بات چیت کرتے رہے ، مجھے پتہ نہیں چلا کہ ان لوگوں نے کیا بات کی ہے ، راوی کہتے ہیں : لیکن کچھ دیر بعد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنا کپڑا جھاڑتے ہوئے آئے اور بولے : آف ہے ، وہ مسلسل یہی کہتے ہوئے جا رہے تھے کہ آف ہے ، وہ لوگ ایک ایسے شخص پر تنقید کر رہے تھے ، جس میں دس خصوصیات ہیں ۔ وہ لوگ ایک ایسے شخص پر تنقید کر رہے تھے جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا : میں ایک ایسے شخص کو ضرور بھیجوں گا ، جسے اللہ تعالیٰ کبھی رسوا نہیں کرے گا ، وہ شخص اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، تو اس دن ہر شخص اس بات کا منتظر رہا کہ شاید اسے یہ موقع ملے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : علی کہاں ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : وہ اپنی رہائشی جگہ پر آٹا پیس رہے ہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی ایک آٹا نہیں پیس سکتا ، راوی کہتے ہیں : پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، تو انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی ، اور وہ ٹھیک طرح سے دیکھ نہیں سکتے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن لگایا ، پھر تین مرتبہ جھنڈا لہرا کر وہ جھنڈا انہیں دے دیا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا آئیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فلاں صاحب کو سورت توبہ کے ہمراہ بھیجا تھا ، پھر آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے بھیجا ، انہوں نے سورت توبہ والا حکم ان سے حاصل کر لیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس حکم کو لے کر صرف وہ فرد جا سکتا ہے ، جس کا مجھ سے تعلق ہو ، اور میرا اس سے تعلق ہو ( یعنی خاندانی تعلق ہو ) ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے چچازاد افراد سے فرمایا : تم میں سے کون دنیا اور آخرت میں میرا ولی بنے گا ؟ تو ان لوگوں نے اس بات کو نہیں مانا ، راوی کہتے ہیں : تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں دنیا اور آخرت میں آپ کا ولی بنوں گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم دنیا اور آخرت میں میرے ولی ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد لوگوں میں اسلام قبول کرنے والے سب سے پہلے فرد ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے اپنا کپڑا لیا اور وہ کپڑا حضرت علی رضی اللہ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر رکھا اور ارشاد فرمایا : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اے اہل بیت اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے ، اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی ذات کا سودا کر لیا تھا ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا لباس پہنا اور پھر آپ کی جگہ سو گئے تھے ، مشرکین نبی اکرم ﷺ کو پتھر مارا کرتے تھے ، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سو رہے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ سمجھے کہ شاید یہ اللہ کے نبی ہیں ، تو انہوں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اللہ کے نبی تشریف لے جا چکے ہیں ، آپ بئر میمونہ کی طرف تشریف لے گئے ہیں ، اور آپ وہاں پہنچ جائیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے گئے اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غار میں داخل ہو گئے ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اسی طرح پتھر مارے جاتے رہے ، جس طرح نبی اکرم ﷺ کو مارے جاتے تھے ، لیکن وہ کروٹیں بدلتے رہے ۔ انہوں نے اپنا سر لحاف میں چھپایا ہوا تھا اور صبح ہونے تک وہ لحاف سے باہر نہیں نکلے ، پھر انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹایا ، تو لوگوں نے کہا : یہ تو دوسرے فرد ہیں ، تمہارے آقا کو جو ہم کنکریاں مارتے تھے ، تو وہ پہلو نہیں بدلتے تھے ، جبکہ تم پہلو بدل رہے تھے ۔ ہمیں اسی سے اندازہ ہو گیا تھا کہ صورت حال مختلف ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : نبی اکرم ﷺ لوگوں کو ساتھ لے کر غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے گئے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : میں بھی آپ کے ساتھ جاتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : جی نہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ رونے لگے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو ، جو حضرت بارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی ، البتہ یہ ہے کہ تم میرے بعد نبی نہیں ہو گے ، کسی کے لئے بھی یہ بات مناسب نہیں ہے کہ جب میں جاؤں ( تو وہ میرا نائب بن جائے ) البتہ تم میرے نائب ہو گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی فرمایا تھا : ’’ تم میرے بعد ہر مومن کے ولی ہو ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخصوص دروازے کے علاوہ مسجد کے تمام دروازوں کو بند کروا دیا تھا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بھی بتایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں مسجد میں داخل ہو سکتے تھے ، کیونکہ وہ ان کا راستہ تھا ، ان کا اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ بات بتائی ہے کہ وہ ان صحابہ کرام سے راضی ہے ، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے ، جو ان کے دلوں میں ہے ، تو کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ وہ اس کے بعد بھی ان لوگوں پر ناراض ہوا ہو ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات بھی بتائی کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا تھا ، جس وقت انہوں نے یہ اجازت مانگی تھی کہ آپ مجھے اجازت دیں ، تو میں اس کی گردن اڑا دیتا ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم ایسا کرو گے ؟ تمہیں کیا پتہ ؟ شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا ہو اور یہ فرما دیا ہو : تم جو چاہو عمل کر لو ۔‘‘ ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے کہنے کا مطلب یہ تھا : بیعت رضوان اور غزوہ بدر میں شرکت کرنے کا شرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے ، تو وہ بھی اس فضیلت میں شامل ہوں گے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف ابوبلج فزاری کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔