Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 11

Book of Virtues and Merits

Hadith 14688–14727

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14688

Majma al-Zawaid #14688

وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ: مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ مِنْ أَصْحَابِكَ ثَلَاثَةً، فَأَحِبَّهُمْ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبُو ذَرٍّ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ. قَالَ: فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ. وَعِنْدَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، فَرَجَا أَنْ يَكُونَ لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ قَالَ: فَأَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُمْ فَهَابَهُ، فَخَرَجَ فَلَقِيَ أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آنِفًا، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ. فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ، فَهِبَتُهُ أَنْ أَسْأَلَهُ، فَهَلْ لَكَ أَنْ تَدْخُلَ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[فَتَسْأَلَهُ]؟ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَسْأَلَهُ فَلَا أَكُونَ مِنْهُمْ، وَيَسُبُّنِي قَوْمِي. ثُمَّ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ قَوْلٍ أَبِي بَكْرٍ. قَالَ: فَلَقِيَ عَلِيًّا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: نَعَمْ. إِنْ كُنْتُ مِنْهُمْ أَحْمَدُ اللَّهَ، وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْهُمْ فَحَمِدْتُ اللَّهَ. فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ أَنَسًا حَدَّثَنِي أَنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ آنِفًا، وَأَنَّ جِبْرِيلَ أَتَاكَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ، فَمَنْ هُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَنْتَ مِنْهُمْ يَا عَلِيُّ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، وَسَيَشْهَدُ مَعَكَ مَشَاهِدَ بَيِّنٌ فَضْلُهَا عَظِيمٌ خَيْرُهَا، وَسَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ، وَهُوَ نَاصِحٌ فَاتَّخِذْهُ لِنَفْسِكَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْكِنْدِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Jaʿfar Muḥammad ibn ʿAli reports from his father from his grandfather that Jibril came to the Prophet ﷺ and said O Muḥammad, Allah loved three of his Companions, so to love them: ʿAli ibn Abi Ṭalib, Abu Dharr, and al-Miqdad ibn al-Aswad. Then Jibril came again and said O Muḥammad, Paradise longed for three of his Companions. Anas ibn Malik was present and hoped it might be for some of the Anṣar, but feared to ask the Messenger ﷺ. He went out, met Abu Bakr, and told him Jibril had said Paradise longed for three of his Companions, asking him to enter and inquire. Abu Bakr feared to ask lest he not be among them and his people revile him. He then said the like to ʿUmar ibn al-Khaṭṭab. Then he met ʿAli, who said yes: if he was among them he would praise Allah, and if not he would still praise Allah. ʿAli entered upon the Messenger ﷺ and said Anas had told him Jibril had said Paradise longed for three of his Companions, asking who they were. The Prophet ﷺ replied that he was among them O ʿAli, along with ʿAmmar ibn Yasir, who would witness scenes of clear virtue and great good, and Salman, who was of the household and sincere, so to take him for himself. > **"You are among them, O ʿAli, along with ʿAmmar ibn Yasir, and Salman of our household, so take him for yourself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام ابوجعفر محمد بن علی ( یعنی امام باقر ) اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : اے حضرت محمد ( ﷺ ) بے شک اللہ تعالیٰ آپ کے اصحاب میں سے تین افراد سے محبت کرتا ہے ، آپ بھی ان سے محبت رکھیں ، علی بن ابوطالب ، ابوذر اور مقداد بن اسود ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور بولے : اے حضرت محمد ﷺ ! بے شک جنت آپ کے اصحاب میں سے تین افراد کی مشتاق ہے ، اس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ تھے ۔ انہیں یہ توقع ہوئی کہ شاید یہ بات بعض انصار کے بارے میں ہو گی ، انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کریں لیکن پھر وہ ہیبت کی وجہ سے نہ پوچھ پائے ، وہ وہاں سے نکلے ، ان کی ملاقات حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، انہوں نے کہا : اے حضرت ابوبکر ! ابھی میں نبی اکرم رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ دیر پہلے موجود تھا ، حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : جنت آپ کے اصحاب میں سے تین افراد کی مشتاق ہے ، تو مجھے یہ توقع ہوئی کہ شاید یہ انصار میں سے کسی کے لئے ہو گا ، لیکن میں ہیبت کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت نہیں کر سکا ، کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ آپ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں اور نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کریں ، تو انہوں نے کہا : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر میں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا ، تو میں ان افراد میں سے ایک نہ ہوا ، تو میری قوم کے لوگ مجھے برا کہیں گے ، پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ملاقات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اللہ سے ہوئی ، تو انہوں نے بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے جواب کی مانند جواب دیا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر ان کی ملاقات حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ٹھیک ہے ، اگر میں ان میں سے ایک ہوا ، تو میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا اور اگر میں ان میں سے ایک نہ ہوا ، تو بھی میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : انس نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ ابھی کچھ دیر پہلے وہ آپ کے پاس موجود تھا ، حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! جنت آپ کے اصحاب میں سے تین افراد کی مشتاق ہے ، تو اے اللہ کے نبی ! وہ لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی ! ان میں سے ایک تم ہو ، عمار بن یاسر ہے ، جو عنقریب تمہارے ساتھ کچھ جنگوں میں حصہ لے گا ، جس سے اس کی فضیلت واضح ہو جائے گی ، جس کی بھلائی بہت زیادہ ہے ، اور ایک فرد سلمان ہے ، جو ہم اہل بیت میں سے ایک ہے ، اور وہ خیرخواہ ہے ، تم اسے اپنے لئے حاصل کر لو ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر بن حمید کندی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14689

Majma al-Zawaid #14689

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يُحِبُّ ثَلَاثَةً مِنْ أَصْحَابِكَ يَا مُحَمَّدُ. ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ. قَالَ أَنَسٌ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهِبْتُهُ، فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنِّي كُنْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ، فَلَعَلَّكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ. ثُمَّ لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ لَقِيتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَقُلْتُ لَهُ كَمَا قُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَسْأَلُهُ، إِنْ كُنْتُ مِنْهُمْ حَمِدْتُ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْهُمْ حَمِدْتُ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَنَسًا حَدَّثَنِي: أَنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاكَ، فَقَالَ: إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ، فَإِنْ كُنْتُ مِنْهُمْ حَمِدْتُ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْهُمْ حَمِدْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ -. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنْتَ مِنْهُمْ أَنْتَ مِنْهُمْ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ،، وَسَيَشْهَدُ مَشَاهِدَ بَيِّنٌ فَضْلُهَا، عَظِيمٌ أَجْرُهَا، وَسَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ فَاتَّخِذْهُ صَاحِبًا» "". قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ طَرَفًا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْكِنْدِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that Jibril came to the Prophet ﷺ and said O Muḥammad, Allah loved three of his Companions, then came again saying Paradise longed for three of his Companions. Anas wished to ask the Messenger ﷺ but feared him, so he met Abu Bakr and told him Jibril had said Paradise longed for three, hoping he might be among them. He then said the like to ʿUmar ibn al-Khaṭṭab, then met ʿAli ibn Abi Ṭalib and told him as he had told them. ʿAli said he would ask: if among them he would praise Allah, and if not he would still praise Allah. He entered upon the Messenger ﷺ and said Anas had told him Jibril had come saying Paradise longed for three of his Companions. The Messenger ﷺ replied that he was among them, along with ʿAmmar ibn Yasir, who would witness scenes of clear virtue and great reward, and Salman of the household, so to take him as companion. > **"You are among them, you are among them, along with ʿAmmar ibn Yasir, and Salman of our household, so take him as companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اے حضرت محمد ( ﷺ ) بے شک اللہ تعالیٰ آپ کے اصحاب میں سے تین افراد سے محبت رکھتا ہے ، اسے حضرت محمد ( ﷺ ) ! پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور بولے : اے حضرت محمد ( ﷺ ) بے شک جنت آپ کے اصحاب میں سے تین افراد کی مشتاق ہے ، حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کروں ، لیکن میں ہیبت کی وجہ سے نہیں پوچھ سکا ، میری ملاقات حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے بتایا : اے حضرت ابوبکر ! میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ بتایا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! بے شک جنت تین افراد کی مشتاق ہے ، تو ہو سکتا ہے آپ ان افراد میں سے ایک ہوں ، پھر میری ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو میں نے انہیں بھی اس کی مانند بات کی ، پھر میری ملاقات حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں بھی وہی بات کی ، جو میں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے کی تھی ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کروں گا ، اگر میں ان افراد میں سے ایک ہوا ، تو میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، اور اگر میں ان افراد میں سے ایک نہ بھی ہوا ، تو بھی میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انس نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور انہوں نے یہ بتایا : جنت آپ کے اصحاب میں سے تین افراد کی مشتاق ہے ، اگر میں ان لوگوں میں سے ایک ہوا ، تو میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، اور اگر میں ان میں سے ایک نہ ہوا ، تو بھی میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم ان میں سے ایک ہو ، تم ان میں سے ایک ہو ، اور ایک فرد عمار بن یاسر ہے ، جو عنقریب جنگوں میں حصہ لے گا ، اور اس کی فضیلت واضح ہو جائے گی ، اور اس کا اجر عظیم ہو گا ، اور ایک فرد سلمان ہے ، جو ہم میں سے یعنی اہل بیت میں سے ہے ، تم اسے ساتھی بنا کے رکھنا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر بن حمید کندی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14690

Majma al-Zawaid #14690

«وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذٌ بِيَدِي وَنَحْنُ نَمْشِي فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ إِذْ أَتَيْنَا عَلَى حَدِيقَةٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَحْسَنَهَا مِنْ حَدِيقَةٍ! فَقَالَ: "" إِنَّ لَكَ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنَ مِنْهَا "". ثُمَّ مَرَرْنَا بِأُخْرَى، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَحْسَنَهَا مِنْ حَدِيقَةٍ! قَالَ: "" لَكَ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا "". حَتَّى مَرَرْنَا بِسَبْعِ حَدَائِقَ، كُلُّ ذَلِكَ أَقُولُ: مَا أَحْسَنَهَا، وَيَقُولُ: "" لَكَ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا "". فَلَمَّا خَلَا لِيَ الطَّرِيقُ اعْتَنَقَنِي ثُمَّ أَجْهَشَ بَاكِيًا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: "" ضَغَائِنُ فِي صُدُورِ أَقْوَامٍ لَا يُبْدُونَهَا لَكَ إِلَّا مِنْ بَعْدِي "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي سَلَامَةٍ مِنْ دِينِي؟ قَالَ: "" فِي سَلَامَةٍ مِنْ دِينِكَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عُمَيْرَةَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAli ibn Abi Ṭalib, may Allah be pleased with him, reports that while the Messenger ﷺ held his hand walking in a lane of Madinah, they passed a garden and ʿAli exclaimed how fine it was. The Prophet ﷺ said he had finer than it in Paradise. They passed another and said the like, and the Prophet ﷺ repeated it, until they had passed seven gardens with the same exchange. When the road cleared for him, the Prophet ﷺ embraced him then wept aloud. When asked what made him weep, he said rancour in the hearts of people they would not reveal to him except after him. ʿAli asked whether that would be with safety in his religion, and he said with safety in his religion. > **"You have finer than it in Paradise. Rancour lies in the hearts of people they will not show you except after me, yet with safety in your religion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور ہم مدینہ منورہ کی کسی گلی سے گزر رہے تھے ، اسی دوران ہم ایک باغ کے پاس آ گئے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ باغ کتنا اچھا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے لئے جنت میں اس سے بھی زیادہ عمدہ باغ ہے ، پھر ہم ایک اور باغ کے پاس سے گزرے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ باغ کتنا اچھا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے لئے جنت میں اس سے بھی زیادہ عمدہ باغ ہے ، یہاں تک کہ ہم سات باغوں کے پاس سے گزرے ، ہر ایک کے بارے میں ، میں نے یہی کہا : یہ کتنا اچھا ہے ، اور نبی اکرم ﷺ یہی فرماتے رہے کہ تمہارے لئے جنت میں اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہے ، جب راستہ میرے لئے خالی ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے گلے لگا لیا اور پھر آپ رونے لگے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس دشمنی کی وجہ سے جو کچھ لوگوں کے سینوں میں ہو گی ۔ وہ میرے بعد تمہارے لئے اس کو ظاہر کریں گے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس میں میرا دین سلامت رہے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا دین سلامتی میں رہے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عمیرہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14691

Majma al-Zawaid #14691

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيٌّ فِي حِشَانِ الْمَدِينَةِ، فَمَرَّا بِحَدِيقَةٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْحَدِيقَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: "" حَدِيقَتُكَ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا "". ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِهِ [وَلِحْيَتِهِ]، ثُمَّ بَكَى حَتَّى عَلَا بُكَاؤُهُ، قُلْتُ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: "" ضَغَائِنُ فِي صُدُورِ قَوْمٍ لَا يُبْدُونَهَا لَكَ حَتَّى يَفْقِدُونِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِمْ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَمِنْدَلٌ أَيْضًا فِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that he went out with the Prophet ﷺ and ʿAli in the outskirts of Madinah, passing a garden. ʿAli exclaimed how fine it was O Messenger of Allah, and the Prophet ﷺ said his garden in Paradise was finer. He then gestured with his hand toward his head and beard, then wept until his weeping rose. When asked what made him weep, he said rancour in the hearts of a people they would not reveal to him until they lost him. > **"Your garden in Paradise is finer than it. Rancour lies in the hearts of a people they will not show you until they lose me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں اور نبی اکرم ﷺ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے باغات والے علاقے سے گزر رہے تھے ، ہمارا گزر ایک باغ کے پاس سے ہوا ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ باغ کتنا اچھا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت میں جو تمہارا باغ ہے وہ اس سے زیادہ اچھا ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے سر اور داڑھی کی طرف اشارہ کیا اور پھر آپ رونے لگے ، یہاں تک کہ آپ کے رونے کی آواز بلند ہوئی ، عرض کی گئی : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس دشمنی کی وجہ سے جو کچھ لوگوں کے سینوں میں ہو گی اور وہ لوگ اس دشمنی کو تمہارے لئے اس وقت ظاہر کریں گے جب وہ مجھے غیر موجود پائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی مندل بھی ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

14692

Majma al-Zawaid #14692

«عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ: هَاجَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ ذَاتَ يَوْمٍ قَالَ لِي: "" يَا عَمْرُو، هَلْ أُرِيكَ دَابَّةَ الْجَنَّةِ تَأْكُلُ الطَّعَامَ، وَتَشْرَبُ الشَّرَابَ، وَتَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ؟ "". قَالَ: قُلْتُ: بَلَى بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي. قَالَ: "" هَذَا دَابَّةُ الْجَنَّةِ "". وَأَشَارَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ ضُعَفَاءُ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-Ḥamiq, may Allah be pleased with him, reports that he emigrated to the Messenger ﷺ. One day while with him, the Prophet ﷺ asked whether he should show him a mount of Paradise eating food, drinking drink, and walking in the markets. When he said yes at the cost of his parents, the Prophet ﷺ pointed to ʿAli ibn Abi Ṭalib as that mount of Paradise. > **"O ʿAmr, shall I show you a mount of Paradise eating, drinking, and walking in the markets. This is a mount of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی طرف ہجرت کی ایک دن میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، آپ نے مجھ سے فرمایا : اے عمرو کیا میں تمہیں جنت کا فرد دکھاؤں ، جو کھانا کھاتا ہے اور مشروب پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ جنت کا فرد ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ضعیف راویوں کی ایک جماعت ہے ۔

14693

Majma al-Zawaid #14693

«وَعَنْ سَلْمَى - امْرَأَةِ أَبِي رَافِعٍ - أَنَّهَا قَالَتْ: إِنِّي لَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَسْوَاقِ، فَقَالَ: "" لَيَطْلُعَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". إِذْ سَمِعْتُ الْخَشَفَةَ فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الرَّافِعِيُّ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Salma, wife of Abu Rafiʿ, may Allah be pleased with her, reports that while with the Messenger ﷺ in the markets, he said a man of Paradise would appear to them. She then heard footsteps, and behold it was ʿAli ibn Abi Ṭalib. > **"A man of Paradise will surely appear to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سلمیٰ بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ’’ اسواق ‘‘ کے مقام پر موجود تھی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارے سامنے اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک فرد آئے گا ۔‘‘ راوی خاتون کہتی ہیں اس دوران میں نے کسی کے آنے کی آہٹ سنی تو حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سامنے آ گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل رافعی ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس پر جرح نہیں کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

14694

Majma al-Zawaid #14694

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" النَّظَرُ إِلَى عَلِيٍّ عِبَادَةٌ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ بَدَيْلٍ الْيَامِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah, meaning Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said looking at ʿAli was worship. > **"Looking at ʿAli is worship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ علی کی طرف دیکھنا عبادت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن بدیل یامی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ مستقیم الحدیث ہے ، ایک راوی ابن ابوحاتم ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14695

Majma al-Zawaid #14695

«وَعَنْ طُلَيْقِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: رَأَيْتُ عِمْرَانَ بْنَ الْحُصَيْنِ يَحِدُّ النَّظَرَ إِلَى عَلِيٍّ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" النَّظَرُ إِلَى عَلِيٍّ عِبَادَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ṭulayq ibn Muḥammad reports that he saw ʿImran ibn al-Ḥuṣayn gazing fixedly at ʿAli. When asked, he said he had heard the Messenger ﷺ say looking at ʿAli was worship. > **"Looking at ʿAli is worship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طلیق بن محمد بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مسلسل حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ ان سے اس بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ علی کو دیکھنا عبادت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمران بن خالد خزاعی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14696

Majma al-Zawaid #14696

عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ - يَعْنِي الْأَوْدِيَّ - قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ أَتَاهُ تِسْعَةُ رَهْطٍ، فَقَالُوا لَهُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، إِمَّا تَقُومُ مَعَنَا وَإِمَّا أَنْ يُخَلُّونَا هَؤُلَاءِ. قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلْ أَقْوَمُ مَعَكُمْ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صَحِيحٌ قَبْلَ أَنْ يَعْمَى. قَالَ: فَانْتَبَذُوا فَتَحَدَّثُوا، فَلَا أَدْرِي مَا قَالُوا. قَالَ: فَجَاءَ يَنْفُضُ ثَوْبَهُ وَيَقُولُ: أُفٍّ وَيَتُفُّ! وَقَعُوا فِي رَجُلٍ [لَهُ عَشْرَ، وَقَعُوا فِي رَجُلٍ] قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا لَا يُخْزِيهِ اللَّهُ أَبَدًا، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» "". فَاسْتَشْرَفَ لَهَا مَنِ اسْتَشْرَفَ قَالَ: "" أَيْنَ عَلِيٌّ؟ "". قَالُوا: فِي الرَّحْلِ يَطْحَنُ قَالَ: "" وَمَا كَانَ أَحَدُكُمْ لِيَطْحَنَ "". قَالَ: فَجَاءَ وَهُوَ أَرْمَدُ لَا يَكَادُ يُبْصِرُ قَالَ: فَنَفَثَ فِي عَيْنَيْهِ، ثُمَّ هَزَّ الرَّايَةَ ثَلَاثًا فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ قَالَ: فَجَاءَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَ: فَبَعَثَ فُلَانًا بِسُورَةِ التَّوْبَةِ، فَبَعَثَ عَلِيًّا خَلْفَهُ فَأَخَذَهَا مِنْهُ قَالَ: "" «لَا يَذْهَبُ بِهَا إِلَّا رَجُلٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ» "". قَالَ: وَقَالَ لِبَنِي عَمِّهِ: "" «أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟ "". فَأَبَوْا، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ». [فَقَالَ: "" أَنْتَ وَلِييِّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ""] قَالَ: وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ خَدِيجَةَ. قَالَ: «وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَوْبَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - وَقَالَ: "" {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33]» "". قَالَ: وَشَرَى عَلِيٌّ نَفْسَهُ، لَبِسَ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعَلِيٌّ نَائِمٌ. قَالَ: وَأَبُو بَكْرٍ يَحْسَبُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ انْطَلَقَ نَحْوَ بِئْرِ مَيْمُونَةَ فَأَدْرِكْهُ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ مَعَهُ الْغَارَ. قَالَ: وَجَعَلَ عَلِيٌّ يُرْمَى بِالْحِجَارَةِ، كَمَا كَانَ يُرْمَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَتَضَوَّرُ قَدْ لَفَّ رَأْسَهُ فِي الثَّوْبِ لَا يُخْرِجُهُ حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ كَشَفَ رَأْسَهُ، فَقَالُوا: إِنَّكَ لَلَئِيمٌ، كَانَ صَاحِبُكَ نَرْمِيهِ لَا يَتَضَوَّرُ وَأَنْتَ تَتَضَوَّرُ، وَقَدِ اسْتَنْكَرْنَا ذَلِكَ. قَالَ: وَخَرَجَ بِالنَّاسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَخْرُجُ مَعَكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا "". فَبَكَى عَلِيٌّ، فَقَالَ لَهُ: "" «أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ، إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَّا وَأَنْتَ خَلِيفَتِي» "". وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنْتَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي» "". قَالَ: وَسَدَّ أَبْوَابَ الْمَسْجِدِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ قَالَ: فَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ، جَنْبٌا، وَهُوَ طَرِيقُهُ لَيْسَ لَهُ طَرِيقٌ غَيْرَهُ. قَالَ: وَقَالَ: "" «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» "". قَالَ: وَأَخْبَرَنَا اللَّهُ [عَزَّ وَجَلَّ - فِي الْقُرْآنِ] أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ عَنْهُمْ، عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ، هَلْ حَدَّثَنَا أَنَّهُ سَخِطَ عَلَيْهِمْ بَعْدُ؟ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ حِينَ قَالَ: ائْذَنْ لِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ: "" وَكُنْتَ فَاعِلًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي بَلْجٍ الْفَزَارِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ لِينٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Maymun al-Awdi reports that he was sitting with Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, when nine men came and said either to rise with them or to leave them alone with these people. Ibn ʿAbbas, then healthy before his blindness, said he would rise with them. They withdrew and spoke words he did not know, then Ibn ʿAbbas returned brushing his garment, exclaiming in disgust that they had attacked a man of ten virtues: that the Prophet ﷺ had said he would send a man Allah would never disgrace, who loved Allah and His Messenger, and all aspired to it, then asked where ʿAli was. They said he was at the baggage grinding, and he remarked none of them would grind. ʿAli came bleary-eyed hardly seeing, so the Prophet ﷺ spat in his eyes, shook the banner thrice, and gave it to him, whereupon he brought Ṣafiyyah bint Ḥuyayy. The Prophet ﷺ had sent someone with Surat al-Tawbah, then sent ʿAli after him to take it, saying none should bear it except a man from him while he was from him. He asked his cousins which of them would ally with him in this world and the next, and they refused, but ʿAli said he would ally with him in this world and the next, so he said he was his ally in this world and the next. He was the first of people to accept Islam after Khadijah. The Messenger ﷺ took his garment, placed it over ʿAli, Faṭimah, Ḥasan, and Ḥusayn, may Allah be pleased with them, and recited that Allah only wished to remove impurity from the household and purify them. ʿAli sold himself, wearing the garment of the Messenger ﷺ and sleeping in his place while the polytheists pelted him thinking him the Messenger ﷺ. Abu Bakr came while ʿAli slept, called O Prophet of Allah, and ʿAli told him the Prophet ﷺ had gone toward the well of Maymunah, so Abu Bakr went and entered the cave with him. ʿAli kept being pelted with stones as the Messenger ﷺ had been, writhing with his head wrapped until morning, when he uncovered it and they called him mean for writhing while his companion had not, which they found strange. The Prophet ﷺ went out with the people to Tabuk, and ʿAli asked to go with him, but the Prophet ﷺ said no. ʿAli wept, so he asked whether he was not pleased to be to him like Harun to Musa except that he was no prophet, for none should go except he was his successor. The Messenger ﷺ also told him he was the guardian of every believer after him. He closed the doors of the mosque except the door of ʿAli, through which he entered the mosque even in impurity as it was his only path. He said whomever he was master of, ʿAli was his master. Allah had informed them He was pleased with the companions of the tree, knowing what was in their hearts, yet never told them He became angry with them after. The Messenger ﷺ also told ʿUmar when he sought leave to strike a neck that he would do it, asking what he knew, for perhaps Allah had looked upon the people of Badr and said to do as they wished. > **"I shall send a man Allah will never disgrace, who loves Allah and His Messenger. Where is ʿAli. None shall bear it except a man from me while I am from him. Which of you will ally with me in this world and the next. You are my ally in this world and the next. Are you not pleased to be to me like Harun to Musa, except that you are no prophet, for none should go except you are my successor. You are the guardian of every believer after me. Whomever I am his master, ʿAli is his master."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن میمون اودی بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران نو افراد ان کے پاس آئے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : اے ابن عباس ! یا تو آپ اٹھ کر ہمارے ساتھ جائیں یا پھر یہ ہے کہ ہمیں خلوت کا موقع دیں ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : بلکہ میں اٹھ کر تمہارے ساتھ جاتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : وہ ان دنوں تندرست تھے اور ان کی بینائی ابھی رخصت نہیں ہوئی تھی ، راوی کہتے ہیں : وہ لوگ الگ چلے گئے اور آپس میں بات چیت کرتے رہے ، مجھے پتہ نہیں چلا کہ ان لوگوں نے کیا بات کی ہے ، راوی کہتے ہیں : لیکن کچھ دیر بعد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنا کپڑا جھاڑتے ہوئے آئے اور بولے : آف ہے ، وہ مسلسل یہی کہتے ہوئے جا رہے تھے کہ آف ہے ، وہ لوگ ایک ایسے شخص پر تنقید کر رہے تھے ، جس میں دس خصوصیات ہیں ۔ وہ لوگ ایک ایسے شخص پر تنقید کر رہے تھے جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا : میں ایک ایسے شخص کو ضرور بھیجوں گا ، جسے اللہ تعالیٰ کبھی رسوا نہیں کرے گا ، وہ شخص اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، تو اس دن ہر شخص اس بات کا منتظر رہا کہ شاید اسے یہ موقع ملے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : علی کہاں ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : وہ اپنی رہائشی جگہ پر آٹا پیس رہے ہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی ایک آٹا نہیں پیس سکتا ، راوی کہتے ہیں : پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، تو انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی ، اور وہ ٹھیک طرح سے دیکھ نہیں سکتے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن لگایا ، پھر تین مرتبہ جھنڈا لہرا کر وہ جھنڈا انہیں دے دیا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا آئیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فلاں صاحب کو سورت توبہ کے ہمراہ بھیجا تھا ، پھر آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے بھیجا ، انہوں نے سورت توبہ والا حکم ان سے حاصل کر لیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس حکم کو لے کر صرف وہ فرد جا سکتا ہے ، جس کا مجھ سے تعلق ہو ، اور میرا اس سے تعلق ہو ( یعنی خاندانی تعلق ہو ) ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے چچازاد افراد سے فرمایا : تم میں سے کون دنیا اور آخرت میں میرا ولی بنے گا ؟ تو ان لوگوں نے اس بات کو نہیں مانا ، راوی کہتے ہیں : تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں دنیا اور آخرت میں آپ کا ولی بنوں گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم دنیا اور آخرت میں میرے ولی ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد لوگوں میں اسلام قبول کرنے والے سب سے پہلے فرد ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے اپنا کپڑا لیا اور وہ کپڑا حضرت علی رضی اللہ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر رکھا اور ارشاد فرمایا : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اے اہل بیت اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے ، اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی ذات کا سودا کر لیا تھا ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا لباس پہنا اور پھر آپ کی جگہ سو گئے تھے ، مشرکین نبی اکرم ﷺ کو پتھر مارا کرتے تھے ، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سو رہے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ سمجھے کہ شاید یہ اللہ کے نبی ہیں ، تو انہوں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اللہ کے نبی تشریف لے جا چکے ہیں ، آپ بئر میمونہ کی طرف تشریف لے گئے ہیں ، اور آپ وہاں پہنچ جائیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے گئے اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غار میں داخل ہو گئے ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اسی طرح پتھر مارے جاتے رہے ، جس طرح نبی اکرم ﷺ کو مارے جاتے تھے ، لیکن وہ کروٹیں بدلتے رہے ۔ انہوں نے اپنا سر لحاف میں چھپایا ہوا تھا اور صبح ہونے تک وہ لحاف سے باہر نہیں نکلے ، پھر انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹایا ، تو لوگوں نے کہا : یہ تو دوسرے فرد ہیں ، تمہارے آقا کو جو ہم کنکریاں مارتے تھے ، تو وہ پہلو نہیں بدلتے تھے ، جبکہ تم پہلو بدل رہے تھے ۔ ہمیں اسی سے اندازہ ہو گیا تھا کہ صورت حال مختلف ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : نبی اکرم ﷺ لوگوں کو ساتھ لے کر غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے گئے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : میں بھی آپ کے ساتھ جاتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : جی نہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ رونے لگے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو ، جو حضرت بارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی ، البتہ یہ ہے کہ تم میرے بعد نبی نہیں ہو گے ، کسی کے لئے بھی یہ بات مناسب نہیں ہے کہ جب میں جاؤں ( تو وہ میرا نائب بن جائے ) البتہ تم میرے نائب ہو گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی فرمایا تھا : ’’ تم میرے بعد ہر مومن کے ولی ہو ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخصوص دروازے کے علاوہ مسجد کے تمام دروازوں کو بند کروا دیا تھا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بھی بتایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں مسجد میں داخل ہو سکتے تھے ، کیونکہ وہ ان کا راستہ تھا ، ان کا اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ بات بتائی ہے کہ وہ ان صحابہ کرام سے راضی ہے ، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے ، جو ان کے دلوں میں ہے ، تو کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ وہ اس کے بعد بھی ان لوگوں پر ناراض ہوا ہو ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات بھی بتائی کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا تھا ، جس وقت انہوں نے یہ اجازت مانگی تھی کہ آپ مجھے اجازت دیں ، تو میں اس کی گردن اڑا دیتا ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم ایسا کرو گے ؟ تمہیں کیا پتہ ؟ شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا ہو اور یہ فرما دیا ہو : تم جو چاہو عمل کر لو ۔‘‘ ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے کہنے کا مطلب یہ تھا : بیعت رضوان اور غزوہ بدر میں شرکت کرنے کا شرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے ، تو وہ بھی اس فضیلت میں شامل ہوں گے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف ابوبلج فزاری کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔

14697

Majma al-Zawaid #14697

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ لِعَلِيٍّ ثَمَانِي عَشْرَةَ مَنْقَبَةً مَا كَانَتْ لِأَحَدٍ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that ʿAli held eighteen virtues no one else of this community held.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ میں اٹھارہ ایسی خصوصیات ہیں جو اس امت کے کسی بھی فرد میں نہیں ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14698

Majma al-Zawaid #14698

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرُ النَّاسِ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرَ، وَلَقَدْ أُوتِيَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ ثَلَاثَ خِصَالٍ لَأَنْ يَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ: زَوَّجَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ، وَوَلَدَتْ لَهُ، وَسَدَّ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَهُ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that in the time of the Messenger ﷺ they used to say the best of people, then Abu Bakr, then ʿUmar. Yet the son of Abu Ṭalib had been given three traits, any one of which would be dearer to him than red camels: the Messenger ﷺ married him his daughter who bore him children, closed all doors except his in the mosque, and gave him the banner on the Day of Khaybar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ہم یہ کہتے تھے کہ اللہ کے رسول سب لوگوں میں سب سے بہتر ہیں ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ پھر حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو تین خصوصیات عطا کی گئیں ، ان میں سے کوئی ایک خصوصیت بھی میرے اندر ہوتی تو یہ میرے لئے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسندیدہ تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کی شادی اپنی صاحبزادی کے ساتھ کی تھی اور ان کی صاحبزادی نے ان کی اولاد کو جنم دیا ، نبی اکرم ﷺ نے ان کے مخصوص دروازے کے علاوہ مسجد کے تمام دروازوں کو بند کروا دیا اور نبی اکرم ﷺ نے غزوہ خیبر کے موقع پر جھنڈا انہیں عطا کیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14699

Majma al-Zawaid #14699

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَقَدْ أُعْطِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثَلَاثَ خِصَالٍ، لَأَنْ يَكُونَ لِي خَصْلَةٌ مِنْهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْطَى حُمْرَ النَّعَمِ. قِيلَ: وَمَا هِيَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: تَزْوِيجُهُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسُكْنَاهُ الْمَسْجِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَحِلُّ فِيهِ مَا يَحِلُّ لَهُ، وَالرَّايَةُ يَوْمَ خَيْبَرَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ نَجِيحٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that ʿUmar ibn al-Khaṭṭab said ʿAli ibn Abi Ṭalib had been given three traits, any one of which would be dearer to him than being given red camels. When asked what they were O Commander of the Faithful, he said the marriage to Faṭimah daughter of the Messenger ﷺ, residence in the mosque with the Messenger ﷺ with what was lawful for him therein, and the banner on the Day of Khaybar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ’’ علی بن ابوطالب کو تین ایسی خصوصیات عطا کی گئی ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک خصوصیت میرے لئے ہوتی تو یہ چیز میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ تھی کہ مجھے سرخ اونٹ دے دیتے جاتے ، پوچھا گیا : اے امیرالمومنین ! وہ چیزیں کیا ہیں ؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کی شادی نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی ، وہ دونوں مسجد میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایسی حالت میں رہ سکتے تھے کہ اور کسی کے لئے اس حالت میں مسجد میں آنا جائز نہیں ہے ، اور غزوہ خیبر کے موقع پر جھنڈا انہیں دیا گیا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر بن نجیح ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14700

Majma al-Zawaid #14700

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَوْحَى إِلَيَّ فِي عَلِيٍّ ثَلَاثَةَ أَشْيَاءَ لَيْلَةَ أُسَرِيَ بِي: أَنَّهُ سَيِّدُ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِمَامُ الْمُتَّقِينَ، وَقَائِدُ الْغِرِّ الْمُحَجَّلِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ النَّخَعِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ جَامِعَةٌ فِي بَابِ مَنْ يُحِبُّهُ وَغَيْرَ ذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿUkaym reports that the Messenger ﷺ said Allah had revealed to him concerning ʿAli three things on the night he was taken by night: that he was the chief of the believers, the imam of the godfearing, and the leader of the brightly radiant. > **"Allah revealed to me concerning ʿAli that he is the chief of the believers, the imam of the godfearing, and the leader of the brightly radiant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حکیم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے علی کے بارے میں میری طرف تین چیزیں اس رات وحی کی تھیں ، جس رات مجھے معراج کروائی گئی تھی ( وہ تین باتیں یہ ہیں : ) وہ اہل ایمان کا سردار ہے ، وہ پرہیزگاروں کا امام ہے ، اور وہ چمک دار روشن پیشانی والوں کا قائد ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سوادہ نخعی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس بارے میں کچھ احادیث اس باب میں آئیں گی جو اس شخص کے بارے میں ہے ، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، اور دوسری جگہ پر آئیں گی ۔

14701

Majma al-Zawaid #14701

وَعَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِي بَابَ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَيَقُولُ: "" {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33]» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Ḥamraʾ, may Allah be pleased with him, reports that he saw the Messenger ﷺ come to the door of ʿAli and Faṭimah for six months, reciting that Allah only wished to remove impurity from the household and purify them. > **"Allah only wishes to remove impurity from you, O household, and to purify you thoroughly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحمراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ چھ ماہ تک حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر آتے رہے ، اور آپ یہ پڑھتے تھے : ’’ اے اہل بیت اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ تم سے گندگی کو دور کر دے ، اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

14702

Majma al-Zawaid #14702

وَعَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ خَادِمِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَمَّا أُسْرِيَ بِي إِلَى السَّمَاءِ، دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَرَأَيْتُ فِي سَاقِ الْعَرْشِ مَكْتُوبًا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، أَيَّدْتُهُ بِعَلِيٍّ وَنَصَرْتُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Ḥamraʾ, servant of the Prophet ﷺ, reports that he heard the Prophet ﷺ say when he was taken to heaven he entered Paradise and saw written on the leg of the Throne that none deserved worship but Allah, Muḥammad was the Messenger of Allah, whom He had strengthened by ʿAli and aided. > **"When I was taken to heaven, I entered Paradise and saw written on the leg of the Throne: none deserves worship but Allah, Muḥammad is the Messenger of Allah, whom I strengthened by ʿAli and aided."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کے خادم حضرت ابوحمراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جس رات مجھے آسمان کی طرف معراج کروائی گئی ، میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے عرش کے پائے پر یہ لکھا ہوا دیکھا : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں ، میں نے علی کے ذریعے ان کی تائید کی ہے ، اور ان کی مدد کی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14703

Majma al-Zawaid #14703

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «يَقُولُ لِعَلِيٍّ: "" اللَّهُ زَيَّنَكَ بِزِينَةٍ لَمْ يُزَيِّنِ الْعِبَادَ بِزِينَةٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهَا، وَهِيَ زِينَةُ الْأَبْرَارِ: الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا، جَعَلَكَ لَا تَمْلِكُ مِنَ الدُّنْيَا شَيْئًا، وَجَعَلَهَا لَا تَنَالُ مِنْكَ شَيْئًا، وَوَهَبَ لَكَ حُبَّ الْمَسَاكِينِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ جُمَيْعٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmar ibn Yasir, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger ﷺ say to ʿAli that Allah had adorned him with an adornment dearer to Him than any adornment of servants, the adornment of the righteous: abstinence in this world, made so he owned nothing of it and it gained nothing of him, and granted him love of the poor. > **"Allah has adorned you with an adornment dearer to Him than any other, the adornment of the righteous: abstinence in this world and love of the poor."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسی زینت کے ذریعے آراستہ کیا ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو ایسی زینت کے ذریعے آراستہ نہیں کیا ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس زینت سے زیادہ پسندیدہ ہو ( جس زینت سے اس نے تمہیں آراستہ کیا ہے ) اور وہ نیک لوگوں کی زینت ہے ، اور وہ چیز دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنا ہے ، اس نے تمہیں ایسا بنایا ہے کہ تم دنیا میں سے کسی چیز کے مالک نہیں ہو گے ، اور اس نے دنیا کو ایسا بنایا ہے کہ وہ تم سے کوئی چیز نہیں پا سکے گی اور اس نے تمہیں غریبوں کے ساتھ محبت رکھنا ہبہ کیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جمیع ہے اور وہ متروک ہے ۔

14704

Majma al-Zawaid #14704

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ظِلٍّ بِالْمَدِينَةِ وَنَحْنُ نَطْلُبُ عَلِيًّا إِذِ انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطٍ، فَنَظَرْنَا إِلَى عَلِيٍّ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْأَرْضِ وَقَدِ اغْبَرَّ، فَقَالَ: "" لَا أَلُومُ النَّاسَ يُكَنُّونَكَ أَبَا تُرَابٍ "". فَلَقَدْ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَغَيَّرَ وَجْهُهُ، وَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ. فَقَالَ: "" أَلَا أُرْضِيكَ يَا عَلِيُّ؟ "". قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ،. قَالَ: "" أَنْتَ أَخِي وَوَزِيرِي تَقْضِي دَيْنِي، وَتُنْجِزُ مَوْعُودِي، وَتُبْرِئُ ذِمَّتِي، فَمَنْ أَحَبَّكَ فِي حَيَاةٍ مِنِّي فَقَدْ قَضَى نَحْبَهُ، وَمَنْ أَحَبَّكَ فِي حَيَاةٍ مِنْكَ بَعْدِي خَتَمَ اللَّهُ لَهُ بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَأَمَّنَهُ يَوْمَ الْفَزَعِ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يُبْغِضُكَ يَا عَلِيُّ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً يُحَاسِبُهُ اللَّهُ بِمَا عَمِلَ فِي الْإِسْلَامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that while with the Messenger ﷺ in shade at Madinah seeking ʿAli, they reached a wall and saw ʿAli sleeping dusty upon the ground. The Prophet ﷺ said he did not blame people for nicknaming him Abu Turab. Seeing ʿAli's face change and the remark weigh upon him, he asked whether he should please him O ʿAli. When he said yes O Messenger of Allah, he said he was his brother and minister, settling his debts, fulfilling his pledges, and clearing his liability. Whoever loved him in life from him had fulfilled his vow, whoever loved him in life from him after him Allah would seal for him with security and faith and shelter him on the day of terror, and whoever died hating him O ʿAli died a pre-Islamic death reckoned by Allah for his deeds in Islam. > **"I do not blame people for nicknaming you Abu Turab. Shall I not please you, O ʿAli. You are my brother and minister, settling my debts, fulfilling my pledges, and clearing my liability."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ میں ایک سائے میں تھا ، ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تلاش کر رہے تھے اسی دوارن ہم ایک باغ تک پہنچے ، ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ زمین پر سوئے ہوئے تھے اور غبار آلود ہو چکے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں لوگوں کو اس بات پر ملامت نہیں کروں گا کہ اگر وہ تمہاری کنیت ابوتراب رکھ دیں ، راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کا چہرہ متغیر ہو چکا تھا ، یہ بات نبی اکرم ﷺ کو گراں گزری ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے علی ! کیا میں تمہیں راضی نہ کر دوں ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میرے بھائی اور میرے وزیر ہو ، تم میرا قرض ادا کرو گے ، میرے وعدے پورے کرو گے ، میرے ذمہ کو پورا کرو گے ، جو شخص میری زندگی میں تم سے محبت رکھے گا ، وہ اپنا فرض پورا کر دے گا ، اور جو شخص میرے بعد تمہاری زندگی میں تم سے محبت رکھے گا یا ( جو شخص میرے بعد زندگی بھر تم سے محبت رکھے گا ) اللہ تعالیٰ اس کے لئے امن اور ایمان کی مہر لگا دے گا ، اور اسے گھبراہٹ والے دن امان میں رکھے گا ، اور جو شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ تم سے بغض رکھتا ہو اے علی ! تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا ، اور اللہ تعالیٰ اس سے اس کام کا محاسبہ کرے گا جو اس نے اسلام میں عمل کیا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14705

Majma al-Zawaid #14705

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «طَلَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَنِي فِي جَدْوَلٍ نَائِمًا، فَقَالَ: "" قُمْ مَا أَلُومُ النَّاسَ يُسَمُّونَكَ أَبَا تُرَابٍ "". قَالَ: فَرَآنِي كَأَنِّي وَجَدْتُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لِي: "" وَاللَّهِ لَأُرْضِيَنَّكَ، أَنْتَ أَخِي وَأَبُو وَلَدِي، تُقَاتِلُ عَنْ سُنَّتِي، وَتُبَرِّئُ ذِمَّتِي، مَنْ مَاتَ فِي عَهْدِي فَهُوَ كَنْزُ اللَّهِ، وَمَنْ مَاتَ فِي عَهْدِكَ فَقَدْ قَضَى نَحْبَهُ، وَمَنْ مَاتَ يُحِبُّكَ بَعْدَ مَوْتِكَ خَتَمَ اللَّهُ بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ، مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ أَوْ غَرَبَتْ، وَمَنْ مَاتَ يُبْغِضُكَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَحُوسِبَ بِمَا عَمِلَ فِي الْإِسْلَامِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ زَكَرِيَّا الْأَصْبَهَانِيُّ (*)، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAli, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ sought him and found him sleeping in a rivulet, telling him to rise and not blaming people for calling him Abu Turab. Seeing as though he found it heavy within himself, the Prophet ﷺ swore by Allah he would please him: he was his brother and father of his children, fighting for his practice and clearing his liability. Whoever died in his covenant was a treasure of Allah, whoever died in his covenant after him had fulfilled his vow, whoever died loving him after his death Allah would seal with security and faith as long as sun rose and set, and whoever died hating him died a pre-Islamic death reckoned for his deeds in Islam. > **"Rise, I do not blame people for calling you Abu Turab. By Allah, I shall please you: you are my brother and father of my children, fighting for my practice and clearing my liability."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے تلاش کیا ، تو آپ نے مجھے ایک جگہ پر سوئے ہوئے پایا ، آپ نے فرمایا : تم اٹھو میں لوگوں کو اس بات پر ملامت نہیں کروں گا کہ اگر وہ تمہیں ابوتراب کا نام دے دیں ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے ملاحظہ فرمایا کہ جیسے اس حوالے سے مجھے الجھن ہوئی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اٹھو ! اللہ کی قسم ! میں تمہیں راضی کر دوں گا ، تم میرے بھائی ہو اور میرے بچوں کے باپ ہو ، تم میری سنت کی خاطر جنگ کرو گے ، میرے ذمہ کو ادا کرو گے ، جو شخص میرے عہد میں مرے گا ، تو وہ اللہ تعالیٰ کا خزانہ ہو گا ، اور جو شخص تمہارے عہد میں مرے گا ، تو وہ اپنے فرض کو پورا کر دے گا ، اور جو شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ تمہارے مرنے کے بعد بھی وہ تم سے محبت رکھتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے امن اور ایمان کی مہر لگا دے گا ، ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک سورج طلوع ہوتا رہے گا ، یا غروب ہوتا رہے گا ، اور جو شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ تم سے بغض رکھتا ہو ، تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا ، اور اس نے جو زمانہ اسلام میں عمل کیا ہو گا اس کا حساب کر لیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی زکریا اصبہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14706

Majma al-Zawaid #14706

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: مَا رَمَدْتُ وَلَا صَدَّعْتُ مُنْذُ مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجْهِي، وَتَفَلَ فِي عَيْنِي، يَوْمَ خَيْبَرَ حِينَ أَعْطَانِي الرَّايَةَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أُمِّ مُوسَى، وَحَدِيثُهَا مُسْتَقِيمٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAli, may Allah be pleased with him, reports that he had suffered neither ophthalmia nor headache since the Messenger ﷺ wiped his face and spat in his eye on the Day of Khaybar when giving him the banner.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب خیبر کے دن نبی اکرم ﷺ نے مجھے جھنڈا عطا کیا اس وقت جب نبی اکرم ﷺ نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور میری آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا ، اس کے بعد مجھے کبھی آشوب چشم کی یا سر درد کی شکایت نہیں ہوئی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام احمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف اُم موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث مستقیم ہے ۔

14707

Majma al-Zawaid #14707

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فِي الْحَرِّ الشَّدِيدِ وَعَلَيْهِ ثِيَابُ الشِّتَاءِ، وَخَرَجَ عَلَيْنَا فِي الشِّتَاءِ وَعَلَيْهِ ثِيَابُ الصَّيْفِ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءِ مَشْرَبِهِ، ثُمَّ مَسَحَ الْعَرَقَ عَنْ جَبْهَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى، بَيْتِهِ، فَقُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتَاهُ، أَمَا رَأَيْتَ مَا صَنَعَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ؟ خَرَجَ عَلَيْنَا فِي الشِّتَاءِ عَلَيْهِ ثِيَابُ الصَّيْفِ، وَخَرَجَ عَلَيْنَا فِي الصَّيْفِ وَعَلَيْهِ ثِيَابُ الشِّتَاءِ؟ فَقَالَ أَبُو لَيْلَى: مَا فَطِنْتُ، فَأَخَذَ بِيَدِ ابْنِهِ فَأَتَى عَلِيًّا، فَقَالَ لَهُ الَّذِي صَنَعَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ بَعَثَنِي وَأَنَا أَرْمَدُ فَبَزَقَ فِي عَيْنِي، ثُمَّ قَالَ: "" افْتَحْ عَيْنَيْكَ "". فَفَتَحْتُهُمَا فَمَا اشْتَكَيْتُهُمَا حَتَّى السَّاعَةَ، وَدَعَا لِي فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ» "". فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا حَتَّى يَوْمِي هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥman ibn Abi Layla reports that ʿAli ibn Abi Ṭalib came out to them in intense heat wearing winter clothes, and came out to them in winter wearing summer clothes. He then called for water from his drink, wiped sweat from his forehead, and returned to his house. The narrator told his father Abu Layla whether he had seen what the Commander of the Faithful did, going out in winter in summer clothes and in summer in winter clothes. Abu Layla said he had not noticed, so he took his son's hand to ʿAli and told him what he had done. ʿAli replied that the Messenger ﷺ had sent him while bleary-eyed, spat in his eye, told him to open his eyes, which he opened and never complained of them since, and supplicated for him asking Allah to remove heat and cold from him, so he had felt neither heat nor cold to that day. In another wording Suwayd ibn Ghafalah said they met ʿAli wearing two garments in winter and warned him not to be deceived by their land, for it was intensely cold unlike his. He said he had been cold-sensitive, but when the Messenger ﷺ sent him to Khaybar he said he was bleary-eyed, so he spat in his eye, and since then he felt neither heat nor cold nor bleary eyes. > **"Open your eyes. O Allah, remove from him heat and cold."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں : ایک شدید گرمی کے دن حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ، اس وقت انہوں نے سردی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ایک مرتبہ سردی کے موسم میں وہ ہمارے پاس تشریف لائے ، تو انہوں نے گرمی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ، پھر ایک مرتبہ وہ اپنے بالاخانے سے پانی لے کے آئے ، پھر انہوں نے اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا ، پھر وہ اپنے گھر واپس چلے گئے ، میں نے اپنے والد سے کہا : اے ابا جان کیا آپ نے دیکھا جو امیرالمومنین نے کیا ہے ؟ وہ ہمارے پاس سردی میں تشریف لائے تھے ، تو انہوں نے گرمی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ، اور وہ ہمارے پاس گرمی میں تشریف لائے تھے ، تو انہوں نے سردی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ، تو حضرت ابولیلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے ٹھیک نوٹ کیا ہے ، پھر انہوں نے اپنے صاحبزادے کا ہاتھ پکڑا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کے طرز عمل کے بارے میں دریافت کیا ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا : نبی اکرم ﷺ نے مجھے بھیجا ۔ اس وقت مجھے آشوب چشم کی شکایت تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے میری آنکھوں میں اپنا لعاب دہن ڈالا ، پھر آپ نے فرمایا : اپنی دونوں آنکھوں کو کھولو ، تو میں نے اپنی آنکھوں کو کھولا تو اس وقت سے لے کر آج تک مجھے آنکھوں میں کبھی شکایت نہیں ہوئی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے دعا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! اس سے گرمی اور سردی کو دور کر دے ! اس کے بعد آج کے دن تک مجھے کبھی گرمی یا سردی محسوس نہیں ہوئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14708

Majma al-Zawaid #14708

وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عِنْدَهُ: عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: لَقِينَا عَلِيًّا وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ فِي الشِّتَاءِ، فَقُلْنَا: لَا تَغْتَرُّ بِأَرْضِنَا هَذِهِ فَإِنَّ أَرْضَنَا هَذِهِ مُقِرَّةٌ لَيْسَتْ مِثْلَ أَرْضِكَ. قَالَ: فَإِنِّي كُنْتُ مَقْرُورًا، فَلَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى خَيْبَرَ قُلْتُ: إِنِّي أَرْمَدُ، فَتَفَلَ فِي عَيْنِي، فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا وَلَا رَمَدَتْ عَيْنَايَ.

EnglishUnverified translation

In another wording with Suwayd ibn Ghafalah, ʿAli said he had been sensitive to cold, but when the Messenger ﷺ sent him to Khaybar and he complained of ophthalmia, he spat in his eye, after which he felt neither heat nor cold and his eyes never suffered ophthalmia.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں : ہماری ملاقات حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، ان کے جسم پر دو کپڑے تھے ، یہ سردی کے موسم کی بات ہے ، ہم نے کہا : جناب آپ ہمارے اس علاقے کے حوالے سے غلط فہمی کا شکار نہ ہوں ، کیونکہ ہمارا یہ علاقہ آپ کے علاقے کی طرح نہیں ہے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ایسا شخص تھا جسے سردی لگی ہوئی تھی ( یا سردی زیادہ لگتی تھی ) جب نبی اکرم ﷺ نے مجھے خیبر بھیجا تھا ، تو میں نے عرض کی : مجھے آشوب چشم کی شکایت ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے میری آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا ، اس کے بعد مجھے نہ کبھی گرمی محسوس ہوئی ، نہ سردی محسوس ہوئی اور نہ ہی کبھی آشوب چشم کی شکایت ہوئی ۔

14709

Majma al-Zawaid #14709

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَحَّلَ عَيْنَ عَلِيٍّ بِرِيقِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُعَلَّى بْنُ عِرْفَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah, meaning Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that he saw the Messenger ﷺ line the eye of ʿAli with his saliva.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھ میں اپنا لعاب دہن سرمے کے طور پر لگایا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عرفان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14710

Majma al-Zawaid #14710

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ رَجَعْتُ مِنْ جِنَازَةٍ قَوْلًا مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِ الدُّنْيَا جَمِيعًا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ أَبُو حَرِيزٍ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِي وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAli, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ said to him when he returned from a funeral words he would not exchange for the entire world.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں جنازے سے واپس آیا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس بات کے عوض میں مجھے ساری دنیا مل جائے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحریز ہے ، جسے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ابن مدینی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14711

Majma al-Zawaid #14711

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ: أَنَّ عَلِيًّا قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنِّي لَأَرْبِطُ الْحَجَرُ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ، وَإِنَّ صَدَقَةَ مَالِي لَتَبْلُغُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Kaʿb al-Quraẓi reports that ʿAli said he had seen himself with the Messenger ﷺ binding a stone upon his belly from hunger, while his charity from his wealth reached forty thousand dinars.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا اور میں نے بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا تھا اور اب میرے مال کی زکوۃ چالیس ہزار دینار تک پہنچتی ہے ۔

14712

Majma al-Zawaid #14712

وَفِي رِوَايَةٍ: وَإِنَّ صَدَقَتِي الْيَوْمَ لَأَرْبَعُونَ أَلْفًا. رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُ الرِّوَايَتَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَلَكِنِ اخْتُلِفَ فِي سَمَاعِ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ مِنْ عَلِيٍّ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

In another wording ʿAli said his charity today was forty thousand.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : آج میری زکوۃ چالیس ہزار تک پہنچتی ہے ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ، دونوں روایات کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف شریک بن عبداللہ نخعی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ، تاہم محمد بن کعب کے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سماع کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

14713

Majma al-Zawaid #14713

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ قَتَلُوا أَخِي قَالَ: "" لَأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولِهِ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولِهِ، يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ، فَيُمَكِّنُكَ مِنْ قَاتِلِ أَخِيكَ "". فَاسْتَشْرَفَ لِذَلِكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ فَعَقَدَ لَهُ اللِّوَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرْمَدُ كَمَا تَرَى - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ رَمَدٌ - فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ فَمَا رَمَدَتْ بَعْدَ يَوْمِهِ فَمَضَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَاهِلِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that a man of the Anṣar came to the Messenger ﷺ saying the Jews had killed his brother. The Prophet ﷺ promised to hand the banner to a man who loved Allah and His Messenger and was loved by them, through whom Allah would grant victory and empower him over his brother's killer. The Companions of the Messenger ﷺ aspired to it, so he sent for ʿAli and tied the standard for him. ʿAli said he was bleary-eyed as could be seen that day, so the Prophet ﷺ spat in his eyes and they never suffered ophthalmia after, then he went forth. > **"I shall hand the banner to a man who loves Allah and His Messenger and is loved by Allah and His Messenger, through whom Allah will grant victory."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہودیوں نے میرے بھائی کو شہید کر دیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا ، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح نصیب کر دے گا ، اور تمہیں تمہارے بھائی کے قاتل پر قابو دیدے گا ۔‘‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب اس بات کے لئے خواہش مند رہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور آپ نے ان کے لئے جھنڈا باندھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں مجھے آشوب چشم کی شکایت ہے ، راوی کہتے ہیں : اس وقت انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا تو اس کے بعد انہیں کوئی شکایت نہیں رہی ، اور پھر وہ چلے گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن سہل بن علی باہلی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14714

Majma al-Zawaid #14714

وَعَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: حَدِّثْنِي عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ: "" «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ» "". فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَحْتَضِنُهَا، وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَرْمَدَ مِنْ دُخَانِ الْحِصْنِ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، فَلَا وَاللَّهِ مَا تَنَامَتِ الْخَيْلُ حَتَّى فَتَحَهَا اللَّهُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Jumayʿ ibn ʿUmayr reports that he asked ʿAbdullah ibn ʿUmar to narrate to him about ʿAli. He said he had heard the Messenger ﷺ say on the Day of Khaybar that he would give the banner to a man who loved Allah and His Messenger and was loved by them. It was as though he still saw it with the Messenger ﷺ embracing it, while ʿAli ibn Abi Ṭalib was bleary from fortress smoke, so he handed it to him, and by Allah the horses had not yet rested before Allah granted him victory. > **"I shall give the banner to a man who loves Allah and His Messenger and is loved by Allah and His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جمیع بن عمیر بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا : آپ مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو غزوہ خیبر کے دن یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : یہ منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس وہ جھنڈا تھا ، آپ نے اسے اپنے ساتھ لگایا ہوا تھا ، اس وقت حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو قلعے کے دھوئیں کی وجہ سے آشوب چشم کی شکایت تھی ، نبی اکرم ﷺ نے وہ جھنڈا ان کے حوالے کیا ، تو اللہ کی قسم ! ابھی گھڑ سوار زیادہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر قلعے کو فتح کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جمیع بن عمیر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

14715

Majma al-Zawaid #14715

وَعَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ» "". فَدَعَا عَلِيًّا فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Layla, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ said he would give the banner to a man who loved Allah and His Messenger and was loved by them, then summoned ʿAli and gave it to him. > **"I shall give the banner to a man who loves Allah and His Messenger and is loved by Allah and His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابولیلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور وہ جھنڈا انہیں دے دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14716

Majma al-Zawaid #14716

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولَهُ "". فَأَعْطَاهَا عَلِيًّا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَفِي أَحْسَنِهَا مُعْتَمِرُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿImran ibn Ḥuṣayn, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ said he would give the banner to a man who loved Allah and His Messenger and was loved by them, then gave it to ʿAli. > **"I shall give the banner to a man who loves Allah and His Messenger and is loved by Allah and His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو نبی اکرم ﷺ نے وہ ( جھنڈا ) حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دے دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے سب سے عمدہ سند میں ایک راوی معتمر بن ابوسری عسقلانی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14717

Majma al-Zawaid #14717

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: أَبَا بَكْرٍ - فَرَجَعَ مُنْهَزِمًا وَمَنْ مَعَهُ. فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ بَعْثَ عُمَرَ فَرَجَعَ مُنْهَزِمًا يُجَبِّنُ أَصْحَابَهُ، وَيُجَبِّنُهُ أَصْحَابُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًّا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، لَا يَرْجِعُ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ "". فَثَارَ النَّاسُ فَقَالَ: "" أَيْنَ عَلِيٌّ؟ "". فَإِذَا هُوَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ، ثُمَّ دَفَعَ إِلَيْهِ الرَّايَةَ فَهَزَّهَا فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ لَيْسَ بِشَيْءٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger ﷺ sent to Khaybar, he thought Abu Bakr, who returned defeated with those with him. Next day he sent ʿUmar, who returned defeated, calling his companions cowardly and called cowardly by them. The Messenger ﷺ then said next morning he would give the banner to a man who loved Allah and His Messenger and was loved by them, who would not return until Allah granted him victory. The people surged, and he asked where ʿAli was. He was complaining of his eyes, so he spat in them, handed him the banner, which he shook, and Allah granted him victory. > **"Tomorrow I shall give the banner to a man who loves Allah and His Messenger and is loved by Allah and His Messenger, who will not return until Allah grants him victory. Where is ʿAli."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خیبر کی طرف ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو وہ اور ان کے ساتھی پسپا ہو کر واپس آ گئے اگلے دن نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو وہ پسا ہو کر واپس آ گئے ۔ ان کے اصحاب نے بزدلی دکھائی تھی ، ان کے اصحاب نے انہیں بھی بزدلی دکھانے پر مجبور کر دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں ۔ وہ اس وقت تک واپس نہیں آئے گا ، جب تک اللہ تعالیٰ اسے فتح نصیب نہیں کر دے گا ۔‘‘ تو سب لوگ اکٹھے ہو کر آئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : علی کہاں ہے ؟ اس وقت انہیں آنکھوں میں تکلیف کی شکایت تھی ، اس وقت نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا ، پھر انہیں جھنڈا دیا ، انہوں نے اس جھنڈے کو لہرایا ، تو اللہ تعالیٰ انہیں فتح نصیب کر دی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے ، اور وہ متروک ہے وہ کوئی چیز نہیں ہے ۔

14718

Majma al-Zawaid #14718

عَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ - وَكَانَ يَسْمُرُ مَعَهُ -: إِنَّ النَّاسَ قَدْ أَنْكَرُوا مِنْكَ أَنْ تَخْرُجَ فِي الْحَرِّ فِي الثَّوْبِ الْمَحْشُوِّ، وَفِي الشِّتَاءِ فِي الْمُلَاءَتَيْنِ الْخَفِيفَتَيْنِ؟! فَقَالَ عَلِيٌّ: أَوَلَمْ تَكُنْ مَعَنَا؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: «فَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا أَبَا بَكْرٍ فَعَقَدَ لَهُ لِوَاءً ثُمَّ بَعَثَهُ، فَسَارَ بِالنَّاسِ فَانْهَزَمَ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ وَرَجَعَ، فَدَعَا عُمَرَ فَعَقَدَ لَهُ لِوَاءً فَسَارَ، ثُمَّ رَجَعَ مُنْهَزِمًا بِالنَّاسِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولَهُ، يَفْتَحُ اللَّهُ لَهُ لَيْسَ بِفَرَّارٍ "". فَأَرْسَلَ فَأَتَيْتُهُ وَأَنَا لَا أُبْصِرُ شَيْئًا، فَتَفَلَ فِي عَيْنِي فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ اكْفِهِ أَلَمَ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ» "". فَمَا آذَانِي حَرٌّ وَلَا بَرْدٌ بَعْدُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Layla reports that he said to ʿAli, with whom he used to converse at night, that people found it strange he went out in heat in stuffed garments and in winter in two light wraps. ʿAli asked whether he had not been with them, and when he said yes, ʿAli said the Prophet ﷺ had summoned Abu Bakr, tied a standard for him and sent him, but he marched with the people, was defeated, and returned. He then summoned ʿUmar, tied a standard, and he marched and returned defeated with the people. The Messenger ﷺ then said he would give the banner to a man who loved Allah and His Messenger and was loved by them, through whom Allah would grant victory, who was no fleer. He sent for ʿAli, who came seeing nothing, so he spat in his eye and said O Allah, spare him pain of heat and cold, after which neither heat nor cold ever harmed him. > **"I shall give the banner to a man who loves Allah and His Messenger and is loved by Allah and His Messenger, through whom Allah will grant victory, who is no fleer. O Allah, spare him pain of heat and cold."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابولیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : راوی کہتے ہیں : وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رات کے وقت بات چیت کر رہے تھے ( انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا ) لوگ اس حوالے سے آپ پر اعتراض کرتے ہیں کہ آپ گرمی کے موسم میں سردیوں والے کپڑے پہن کر باہر آ جاتے ہیں ، اور سردیوں کے موسم میں ہلکے کپڑے پہن کے آ جاتے ہیں ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم ہمارے ساتھ نہیں تھے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا تھا ، ان کے لئے جھنڈا باندھا تھا اور پھر انہیں بھیجا تھا ، وہ لوگوں کو لے کر گئے تھے ، لیکن پسپا ہو کے واپس آ گئے تھے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا تھا ، ان کے لئے جھنڈا باندھا تھا ، وہ بھی گئے تھے اور پھر لوگوں کے ساتھ پسپا ہو کر واپس آ گئے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا ۔‘‘ ’’ میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اسے فتح نصیب کرے گا ، اور وہ فرار نہیں ہو گا ( یعنی لوٹ کے واپس نہیں آئے گا ِ) ۔‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے پیغام بھیجا ، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، میں کوئی چیز نہیں دیکھ سکتا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے میری آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا ، پھر آپ نے دعا کی : ’’ اے اللہ ! گرمی اور سردی کی تکلیف کے حوالے سے اس کے لئے کفایت کر دے ۔‘‘ ( حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو اس کے بعد کبھی بھی گرمی یا سردی نے مجھے اذیت نہیں دی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14719

Majma al-Zawaid #14719

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّايَةَ فَهَزَّهَا، ثُمَّ قَالَ: "" مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا؟ "". فَجَاءَ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ: أَنَا، فَقَالَ: "" أَمِطْ "". ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: أَنَا، فَقَالَ: "" أَمِطْ "". ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ: أَنَا، فَقَالَ: "" أَمِطْ "". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَالَّذِي أَكْرَمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ لَأُعْطِيَنَّهَا رَجُلًا لَا يَفِرُّ، هَاكَ يَا عَلِيُّ "". فَقَبَضَهَا، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَدَكَ وَخَيْبَرَ، وَجَاءَ بِعَجْوَتِهَا وَقَدِيدِهَا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ يُخْطِئُ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ took the banner, shook it, and asked who would take it by its right. Al-Zubayr came saying he would, but he told him to withdraw. Another man rose saying he would, but he told him to withdraw. Then another rose saying he would, but he told him to withdraw. The Messenger ﷺ then swore by the One who honoured the face of Muḥammad that he would give it to a man who would not flee, saying here ʿAli. He seized it and went until Allah granted him victory over Fadak and Khaybar, bringing its ʿajwah dates and dried meat. > **"Who will take it by its right. Withdraw. By the One who honoured the face of Muḥammad, I shall give it to a man who will not flee. Here, O ʿAli."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جھنڈا پکڑ کر اسے لہرایا اور پھر فرمایا : کون اس کے حق کے ہمراہ اسے لے گا ؟ تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے کہا : میں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پیچھے ہٹ جاؤ ، پھر ایک اور صاحب آئے ، انہوں نے کہا : میں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پیچھے ہٹ جاؤ ۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے کہا : میں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پیچھے ہٹ جاؤ ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے محمد کو عزت عطا کی ہے ، میں یہ جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جو فرار نہیں ہو گا ، علی آگے آئے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وہ جھنڈا لیا ، پھر وہ گئے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فدک اور خیبر ان کے لئے فتح کر دیا ، تو وہ وہاں کی عجوہ اور قدید کھجوریں لے کے آئے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن عصمہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے لیکن غلطی کر جاتا ہے ۔

14720

Majma al-Zawaid #14720

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَبْعَثُ عَلِيًّا مَبْعَثًا إِلَّا أَعْطَاهُ الرَّايَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan ibn ʿAli, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger ﷺ never sent ʿAli on an expedition except he gave him the banner.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جب بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کسی مہم پر بھیجا ۔ آپ ﷺ نے انہیں جھنڈا عطا کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14721

Majma al-Zawaid #14721

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّايَةَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger ﷺ handed the banner to ʿAli ibn Abi Ṭalib when he was twenty years old.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو جھنڈا اس وقت عطا کیا جب ان کی عمر بیس سال تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14722

Majma al-Zawaid #14722

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا} [مريم: 96] قَالَ: مَحَبَّةٌ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا وَلَكِنَّ الضَّحَّاكَ قِيلَ: إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that the verse that the Most Merciful would place affection for those who believed and did righteous deeds was revealed concerning ʿAli ibn Abi Ṭalib, meaning love in the hearts of the believers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ آیت حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی : ’’ بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ، عنقریب رحمان ان کے لئے محبت پیدا کر دے گا ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ اہل ایمان کے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عمارہ ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم ضحاک نامی راوی کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اس نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔

14723

Majma al-Zawaid #14723

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كُنْتُ أَخْدِمُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدَّمَ فَرْخًا مَشْوِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ الْخَلْقِ إِلَيْكَ وَإِلَيَّ، يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا الْفَرْخِ ". فَجَاءَ عَلِيٌّ وَدَقَّ الْبَابَ، فَقَالَ أَنَسٌ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: عَلِيٌّ، فَقُلْتُ: النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حَاجَةٍ فَانْصَرَفَ، ثُمَّ تَنَحَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَكَلَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ الْخَلْقِ إِلَيْكَ وَإِلَيَّ، يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا الْفَرْخِ ". فَجَاءَ عَلِيٌّ، فَدَقَّ الْبَابَ دَقًّا شَدِيدًا، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " يَا أَنَسُ مَنْ هَذَا؟ ". قُلْتُ: عَلِيٌّ. قَالَ: " أَدْخِلْهُ ". فَدَخَلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَقَدْ سَأَلْتُ اللَّهَ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَنِي بِأَحَبِّ الْخَلْقِ إِلَيْهِ وَإِلَيَّ يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا الْفَرْخِ ". فَقَالَ عَلِيٌّ: وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ جِئْتُ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَرُدُّنِي أَنَسٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " يَا أَنَسُ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ ". قَالَ: أَحْبَبْتُ أَنْ تُدْرِكَ الدَّعْوَةُ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَا يُلَامُ الرَّجُلُ عَلَى حُبِّ قَوْمِهِ» ".

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that he served the Messenger ﷺ when a roast chick was presented. The Messenger ﷺ supplicated asking Allah to bring him the most beloved of creation to Him and to him to eat this chick with him. ʿAli came and knocked, and Anas asked who it was. When he said ʿAli, Anas said the Prophet ﷺ was occupied, so he left. The Messenger ﷺ moved aside and ate, then repeated the supplication. ʿAli came again knocking hard, and the Messenger ﷺ heard and asked Anas who it was. When he said ʿAli, he told him to admit him. The Messenger ﷺ said he had asked Allah thrice to bring him the most beloved of creation to Him and to him to eat the chick with him. ʿAli said he had indeed come thrice, each time turned back by Anas. The Messenger ﷺ asked Anas what had carried him to do so, and he said he had loved the call to reach a man of his people. The Messenger ﷺ said a man was not blamed for loving his people. > **"O Allah, bring me the most beloved of creation to You and to me to eat this chick with me. Admit him. A man is not blamed for loving his people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا آپ کی خدمت میں ایک پرندے کا بھنا ہوا گوشت آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : اے اللہ ! تو میرے پاس اس فرد کو لے آ ! جو تیری مخلوق میں تیرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے ، تاکہ میرے ساتھ وہ اس پرندے کا گوشت کھائے ، راوی کہتے ہیں : تو اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے دروازے پر دستک دی ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : علی ، میں نے عرض کی : نبی اکرم ﷺ مصروف ہیں ۔ وہ واپس چلے گئے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے کھانا شروع کیا ، تو آپ نے یہ کہا : اے اللہ ! تو اپنے نزدیک اپنی مخلوق میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ بندے کو میرے پاس لے آ ! تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے دروازہ زور سے کھٹکھٹایا ، نبی اکرم ﷺ نے آواز سن لی ، آپ نے دریافت کیا : اے انس کون ہے ؟ میں نے عرض کی : حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے اندر آنے کے لئے کہو ، وہ اندر آئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے تین مرتبہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی : وہ میرے پاس اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ پسندیدہ بندے کو لے آئے تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یا رسول اللہ ! میرا بھی یہی معاملہ ہے ، میں تین مرتبہ آیا ، ہر مرتبہ انس نے مجھے واپس کر دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے انس تم نے جو کیا ہے ، ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے عرض کی : میری یہ خواہش تھی کہ آپ کی یہ دعا میری قوم سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کو نصیب ہو ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : آدمی کو اپنی قوم سے محبت کے حوالے سے ملامت نہیں کی جا سکتی ۔

14724

Majma al-Zawaid #14724

وَفِي رِوَايَةٍ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَائِطٍ وَقَدْ أُتِيَ بِطَائِرٍ».

EnglishUnverified translation

In another wording Anas was with the Prophet ﷺ in a garden when a bird was brought.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک باغ میں موجود تھا ایک پرندہ لایا گیا ۔

14725

Majma al-Zawaid #14725

وَفِي رِوَايَةٍ: «أَهْدَتْ أُمُّ أَيْمَنَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَائِرًا بَيْنَ رَغِيفَيْنِ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ "". فَجَاءَتْهُ بِالطَّائِرِ». قُلْتُ: عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَرَدَّهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَرَدَّهُ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَذِنَ لَهُ». وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ حَمَّادُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي أَحَدِ أَسَانِيدِ الْأَوْسَطِ أَحْمَدُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ أَبِي طَيْبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

In another wording Umm Ayman gifted the Prophet ﷺ a bird between two loaves. When the Prophet ﷺ came he asked whether they had anything, so she brought him the bird. A shorter wording mentions Abu Bakr coming and turned back, then ʿUmar coming and turned back, then ʿAli coming and admitted.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدہ ام ایمن ہی رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کو ایک پرندہ تحفے کے طور پر دیا ، جس کے ساتھ دو روٹیاں بھی تھیں ، نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، تو آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ، تو اس پرندے کا گوشت آپ کے سامنے پیش کیا گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے بھی اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، انہیں واپس کر دیا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہیں واپس کر دیا ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے ، تو آپ نے انہیں اجازت دے دی ۔ کبیر کی سند میں ایک راوی حماد بن مختار ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، اوسط کی اسانید میں سے ایک سند میں ایک راوی احمد بن عیاض بن ابوطیبہ ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، امام ابویعلیٰ کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

14726

Majma al-Zawaid #14726

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَطْيَارٌ، فَقَسَّمَهَا بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَصَابَ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْهَا ثَلَاثَةٌ، فَأَصْبَحَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ - صَفِيَّةَ أَوْ غَيْرِهَا - فَأَتَتْهُ بِهِنَّ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا "". فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَجَاءَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا أَنَسُ، انْظُرْ مَنْ عَلَى الْبَابِ "". فَنَظَرْتُ فَإِذَا عَلِيٌّ، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حَاجَةٍ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" انْظُرْ مَنْ عَلَى الْبَابِ؟ "". فَإِذَا عَلِيٌّ، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا فَدَخَلَ يَمْشِي وَأَنَا خَلْفَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ حَبَسَكَ رَحِمَكَ اللَّهُ؟ "". فَقَالَ: هَذَا آخِرَ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ يَرُدُّنِي أَنَسٌ يَزْعُمُ أَنَّكَ عَلَى حَاجَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْتُ دُعَاءَكَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَكُونَ مِنْ قَوْمِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ الرَّجُلَ قَدْ يُحِبُّ قَوْمَهُ، إِنَّ الرَّجُلَ قَدْ يُحِبُّ قَوْمَهُ "". قَالَهَا ثَلَاثًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَلْمَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that birds were gifted to the Messenger ﷺ, which he divided among his wives, each receiving three. In the morning he was with one of his wives, Ṣafiyyah or another, who brought them to him, whereupon he supplicated asking Allah to bring him the most beloved of His creation to eat with him from this. Anas prayed within himself for a man of the Anṣar. ʿAli, may Allah be pleased with him, came, and the Messenger ﷺ told Anas to see who was at the door. Anas looked, found ʿAli, and said the Messenger ﷺ was occupied. He returned to stand before the Messenger ﷺ, who again told him to see who was at the door. It was ʿAli again, until this happened thrice, then he entered walking with Anas behind him. The Prophet ﷺ asked what had detained him, and he said this was the third time Anas had turned him back claiming occupation. The Messenger ﷺ asked Anas what had carried him to do so, and he said he had heard his supplication and loved it to be from his people. The Messenger ﷺ repeated thrice that a man might indeed love his people. > **"O Allah, bring me the most beloved of Your creation to eat with me from this. Look who is at the door. What detained you, may Allah have mercy on you. A man may indeed love his people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ پرندے تحفے کے طور پر پیش کیے گئے ، آپ نے وہ اپنی ازواج کے درمیان تقسیم کر دیے ، ان میں سے ہر ایک زوجہ محترمہ کے حصے میں تین پرندے آئے ، نبی اکرم ﷺ صبح کے وقت اپنی ایک زوجہ محترمہ کے پاس موجود تھے ، شاید وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں یا کوئی اور تھیں ، وہ ان پرندوں کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کے آئیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : اے اللہ ! تو میرے پاس اپنی مخلوق میں سے اپنے نزدیک پسندیدہ ترین بندے کو لے آ ، تاکہ وہ میرے ساتھ اس کو کھائے ( راوی کہتے ہیں : ) میں نے سوچا اے اللہ ! تو اسے انصار سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد بنا دے ، تو اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ آ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے انس دیکھو دروازے پر کون ہے ، میں نے دیکھا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے کہا : اللہ کے رسول مصروف ہیں ، پھر میں آیا اور نبی اکرم ﷺ کے پاس کھڑا ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم دیکھو دروازے پر کون ہے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اندر آ گئے ، میں ان کے پیچھے موجود تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے تمہیں کس نے روک لیا تھا ، انہوں نے فرمایا : ایسا تیسری مرتبہ ہوا ہے ، انس مجھے واپس کر دیتا تھا ، اس کا یہ کہنا تھا کہ آپ مصروف ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( اے انس ) تم نے ایسا کیوں کیا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کی دعا کو سنا تو میری یہ خواہش تھی کہ وہ فرد میری قوم سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص ہو ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : آدمی اپنی قوم سے محبت رکھتا ہے ، آدمی اپنی قوم سے محبت رکھتا ہے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن سلمان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14727

Majma al-Zawaid #14727

وَعَنْ سَفِينَةَ - وَكَانَ خَادِمًا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَوَائِرُ فَصَنَعْتُ لَهُ بَعْضَهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَيْتُهُ بِهِ، فَقَالَ: "" مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا؟ "". فَقُلْتُ: مِنَ الَّتِي أَتَيْتُ بِهِ أَمْسَ، فَقَالَ: "" أَلَمْ أَقُلْ لَكَ لَا تَدَّخِرَنَّ لِغَدٍ طَعَامًا، لِكُلِّ يَوْمٍ رِزْقُهُ؟ "". ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ أَدْخِلْ عَلَيَّ أَحَبَّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا الطَّيْرِ "". فَدَخَلَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ وَإِلَيَّ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Safinah, servant of the Messenger ﷺ, reports that birds were gifted to the Messenger ﷺ, of which he prepared some. In the morning he brought it to him, who asked whence it was. When he said from what had been brought yesterday, the Prophet ﷺ asked whether he had not told him not to store food for tomorrow, for each day had its provision. He then supplicated asking Allah to admit to him the most beloved of His creation to eat with him from this bird. ʿAli, may Allah be pleased with him, entered, and the Prophet ﷺ added and to him. > **"Whence is this. Did I not tell you not to store food for tomorrow, for each day has its provision. O Allah, admit to me the most beloved of Your creation to eat with me from this bird. O Allah, and to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے خادم ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ پرندے تحفے کے طور پر پیش کیے گئے ، میں نے ان میں سے کچھ آپ کے لئے تیار کیے ، صبح کے وقت میں انہیں لے کے آپ کے پاس آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کہاں سے آئے ہیں ، میں نے عرض کی : یہ وہی ہیں جو گزشتہ شام آپ کے پاس لائے گئے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم نے کل کے لئے کھانے کی کوئی چیز سنبھال کے نہیں رکھنی ہے ، ہر دن کے لئے مخصوص رزق ہوتا ہے ، پھر آپ نے دعا کی : اے اللہ ! میرے پاس اپنی مخلوق میں سے اپنے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ترین فرد کو لے آ ! تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اندر آئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! یہ ( یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ ) میرے نزدیک بھی ( سب سے زیادہ محبوب ہے ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔