عَنْ بُرَيْدَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْحُصَيْبِ - قَالَ: أَبْغَضْتُ عَلِيًّا بُغْضًا لَمْ أُبْغِضْهُ أَحَدًا قَطُّ قَالَ: وَأَحْبَبْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَمْ أُحِبَّهُ إِلَّا عَلَى بُغْضِهِ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -. قَالَ: فَبُعِثَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى جَيْشٍ، فَصَحِبْتُهُ مَا صَحِبْتُهُ إِلَّا بِبُغْضِهِ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: فَأَصَبْنَا سَبَايَا فَكَتَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ابْعَثْ إِلَيْنَا مَنْ يُخَمِّسُهُ. قَالَ: فَبَعَثَ [إِلَيْنَا] عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَفِي السَّبْيِ وَصِيفَةٌ هِيَ أَفْضَلُ السَّبْيِ قَالَ: فَخَمَّسَ وَقَسَّمَ، فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا الْحَسَنِ، مَا هَذَا؟ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْوَصِيفَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي السَّبْيِ فَإِنِّي قَسَّمْتُ وَخَمَّسْتُ، فَصَارَتْ فِي الْخُمْسِ، ثُمَّ صَارَتْ فِي أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ صَارَتْ فِي آلِ عَلِيٍّ فَوَقَعْتُ بِهَا. قَالَ: فَكَتَبَ الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: ابْعَثْنِي مُصَدِّقًا قَالَ: فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ الْكِتَابَ، وَأَقُولُ: صَدَقَ قَالَ: فَأَمْسَكَ يَدِي وَالْكِتَابَ، وَقَالَ: "" أَتُبْغِضُ عَلِيًّا؟ "". قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" فَلَا تُبْغِضُهُ، وَإِنْ كُنْتَ تُحِبُّهُ فَازْدَدْ لَهُ حُبًّا، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ لَنَصِيبُ آلِ عَلِيٍّ فِي الْخُمْسِ أَفْضَلُ مِنْ وَصِيفَةٍ "". قَالَ: فَمَا كَانَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ عَلِيٍّ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ بُرَيْدَةَ -: فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا أَبِي بُرَيْدَةَ. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْجَلِيلِ بْنِ عَطِيَّةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ، وَفِيهِ لِينٌ.
EnglishUnverified translation
Buraydah, meaning Ibn al-Ḥuṣayb, may Allah be pleased with him, reports that he hated ʿAli with a hatred he had hated none, and loved a man of Quraysh for no reason except his hatred of ʿAli, may Allah be pleased with him. That man was sent over an army, which Buraydah accompanied for no reason except hatred of ʿAli. They took captives, and the man wrote to the Messenger ﷺ to send one to take the fifth. The Prophet ﷺ sent ʿAli, may Allah be pleased with him, and among the captives was a slave girl, finest of the captives. ʿAli took the fifth, divided, and emerged with his head dripping. When asked O Abu al-Ḥasan what this was, he said had they not seen the slave girl among the captives, for he had divided and taken the fifth, which fell to the household of the Prophet ﷺ then to the family of ʿAli, so he had relations with her. The man wrote to the Prophet ﷺ, and Buraydah asked to be sent to confirm it. While Buraydah read the letter saying it was true, the Prophet ﷺ held his hand and the letter, asking whether he hated ʿAli. When he said yes, he told him not to hate him, and if he loved him to increase in love, for by the One in whose hand was the soul of Muḥammad ﷺ, the share of the family of ʿAli in the fifth was better than a slave girl. After the word of the Messenger ﷺ, none of people became dearer to him than ʿAli. ʿAbdullah, meaning Ibn Buraydah, added that by the One none deserved worship but Him, none stood between him and the Prophet ﷺ in this report except his father Buraydah. > **"Do you hate ʿAli. Then do not hate him, and if you love him increase in love, for by the One in whose hand is the soul of Muḥammad, the share of the family of ʿAli in the fifth is better than a slave girl."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اتنا ناپسند کرتا تھا کہ اتنا کسی اور کو ناپسند نہیں کرتا تھا اور میں قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے محبت رکھتا تھا ، میں اس سے صرف اس وجہ سے محبت رکھتا تھا ، کیونکہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا ، میں بھی اس شخص کے ساتھ رہا اور جتنا عرصہ اس کے ساتھ رہا ، وہ شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض ہی رکھتا تھا ، راوی کہتے ہیں : ہمیں کچھ قیدی ملے تو اس امیر نے نبی اکرم ﷺ کو خط لکھا کہ آپ ہماری طرف کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو اس میں سے خمس وصول کر لے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہماری طرف بھیجا ، قیدیوں میں ایک کنیز تھی جو ان قیدیوں میں سب سے بہتر تھی ، راوی کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خمس الگ کیا اور مال کو تقسیم کر دیا ، ایک دن وہ باہر تشریف لائے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ، ہم نے دریافت کیا : اے ابوالحسن اس کی وجہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : تم نے قیدیوں میں موجود اس کنیز کو نہیں دیکھا تھا ، جب میں نے تقسیم کیا اور خمس الگ کیا ، تو وہ کنیز خمس میں آ گئی ، پھر وہ کنیز نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت کے حصے میں آ گئی اور پھر وہ آل علی کے حصے میں آ گئی ، تو میں نے اس کنیز کے ساتھ صحبت کر لی ، راوی کہتے ہیں : تو اس شخص نے نبی اکرم ﷺ کو خط لکھا ، تو میں نے عرض کی : آپ مجھے زکوۃ وصول کرنے والے کے طور پر بھیجیں ، راوی کہتے ہیں : میں خط پڑھ رہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا کہ اس نے ٹھیک کہا ہے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ اور وہ خط پکڑ لیا اور دریافت کیا : کیا تم علی سے بغض رکھتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم علی سے بغض نہ رکھو اور اگر تم اس سے محبت رکھتے تھے ، تو اس سے زیادہ محبت رکھو ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، خمس میں آل علی کا حصہ اس کنیز سے کہیں زیادہ ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کے بعد کوئی بھی میرے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبوب نہیں رہا ۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اس روایت میں میرے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان صرف ایک واسطہ ہے ، اور وہ میرے والد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عبدالجلیل بن عطیہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، ویسے اس نے سماع کی صراحت کی ہے ، اور اس میں کمزوری پائی جاتی ہے ۔