Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 12

Book of Virtues and Merits

Hadith 14728–14767

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14728

Majma al-Zawaid #14728

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَيْرٍ، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ "". فَجَاءَ عَلِيٌّ، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ وَإِلَيَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ شَيْخٌ يَرْوِي عَنْهُ سُلَيْمَانُ بْنُ قِرْمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that a bird was brought to the Prophet ﷺ, who supplicated asking Allah to bring him the most beloved of His creation. ʿAli came, and the Prophet ﷺ added and to him. > **"O Allah, bring me the most beloved of Your creation. O Allah, and to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک پرندے ( کا گوشت ) لایا گیا ، تو آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو میرے پاس اپنے نزدیک اپنی مخلوق میں سے پسندیدہ ترین فرد کو لے آ ! تو حضرت علی رضی اللہ عنہ آ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! یہ ( یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ ) میرے نزدیک بھی ( سب سے زیادہ محبوب ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید ہے ، جو ایک بزرگ ہے ، سلیمان بن قرم نے اس سے روایت نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

14729

Majma al-Zawaid #14729

وَعَنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «لَمَّا سَارَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى خَيْبَرَ جَعَلَ عَلِيًّا عَلَى مُقَدِّمَتِهِ، فَقَالَ: "" مَنْ دَخَلَ النَّخْلَ فَهُوَ آمِنٌ "". فَلَمَّا تَكَلَّمَ بِهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَادَى بِهَا عَلِيٌّ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَضْحَكُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا يُضْحِكُكَ؟ "". قَالَ: إِنِّي أُحِبُّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ: "" إِنَّ جِبْرِيلَ يَقُولُ: إِنِّي أُحِبُّكَ "". فَقَالَ: وَبَلَغْتُ أَنْ يُحِبَّنِي جِبْرِيلُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ. وَمَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ جِبْرِيلَ. اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نَصْرُ بْنُ مُزَاحِمٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḍaḥḥak al-Anṣari, may Allah be pleased with him, reports that when the Prophet ﷺ marched to Khaybar he placed ʿAli at the vanguard, who announced that whoever entered the palms was safe. When the Prophet ﷺ spoke it, ʿAli proclaimed it, and the Prophet ﷺ looked at Jibril, peace be upon him, laughing. When the Messenger ﷺ asked what made him laugh, he said he loved him. The Prophet ﷺ told ʿAli that Jibril said he loved him. ʿAli asked whether he had reached that Jibril loved him, and the Prophet ﷺ said yes, and One better than Jibril, Allah the Blessed and Exalted, loved him. > **"Whoever enters the palms is safe. What makes you laugh. Jibril says he loves you, and One better than Jibril loves you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ نے ہر اول دستے کا امیر مقرر کیا ، آپ نے ارشاد فرمایا : جو شخص کھجور کے باغ میں داخل ہو گا ، وہ محفوظ شمار ہو گا ، جب نبی اکرم ﷺ نے اس بارے میں بات چیت کی ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں اسے دہرا دیا ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا کہ وہ ہنس رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کیوں ہنس رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : میں ان سے ( یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ) محبت رکھتا ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جبرائیل یہ کہہ رہا ہے : میں تم سے محبت رکھتا ہوں ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا میری یہ حیثیت ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھ سے محبت رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اور جو جبرائیل سے بہتر ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ ( یعنی وہ بھی تم سے محبت رکھتا ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن مزاحم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14730

Majma al-Zawaid #14730

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ وَهِيَ تَقُولُ: لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ عَلِيًّا أَحَبُّ إِلَيْكَ مِنْ أَبِي مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَقَالَ: يَا بِنْتَ فُلَانَةَ، لَا أَسْمَعُكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرَ ذِكْرِ مَحَبَّةِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Nuʿman ibn Bashir, may Allah be pleased with him, reports that Abu Bakr sought leave upon the Prophet ﷺ and heard the voice of ʿAʾishah, may Allah be pleased with her, saying she knew ʿAli was dearer to him than her father, twice or thrice. Abu Bakr sought leave, entered, made toward her, and said O daughter of so-and-so, he should not hear her raising her voice over the Messenger ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آواز سنی جو یہ کہہ رہی تھیں : میں یہ بات جانتی ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے والد کے مقابلے میں آپ کے زیادہ محبوب ہیں ۔ یہ بات انہوں نے دو یا تین مرتبہ کہی ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، وہ اندر آئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھے ، انہوں نے کہا : اے فلانی کی بیٹی ! آئندہ میں نہ سنوں کہ تم نبی اکرم ﷺ کے سامنے اپنی آواز بلند کر رہی ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبت ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، اور امام طبرانی نے اسے ضعیف سند کے ساتھ نقل کیا ہے ۔

14731

Majma al-Zawaid #14731

عَنْ بُرَيْدَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْحُصَيْبِ - قَالَ: أَبْغَضْتُ عَلِيًّا بُغْضًا لَمْ أُبْغِضْهُ أَحَدًا قَطُّ قَالَ: وَأَحْبَبْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَمْ أُحِبَّهُ إِلَّا عَلَى بُغْضِهِ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -. قَالَ: فَبُعِثَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى جَيْشٍ، فَصَحِبْتُهُ مَا صَحِبْتُهُ إِلَّا بِبُغْضِهِ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: فَأَصَبْنَا سَبَايَا فَكَتَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ابْعَثْ إِلَيْنَا مَنْ يُخَمِّسُهُ. قَالَ: فَبَعَثَ [إِلَيْنَا] عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَفِي السَّبْيِ وَصِيفَةٌ هِيَ أَفْضَلُ السَّبْيِ قَالَ: فَخَمَّسَ وَقَسَّمَ، فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا الْحَسَنِ، مَا هَذَا؟ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْوَصِيفَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي السَّبْيِ فَإِنِّي قَسَّمْتُ وَخَمَّسْتُ، فَصَارَتْ فِي الْخُمْسِ، ثُمَّ صَارَتْ فِي أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ صَارَتْ فِي آلِ عَلِيٍّ فَوَقَعْتُ بِهَا. قَالَ: فَكَتَبَ الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: ابْعَثْنِي مُصَدِّقًا قَالَ: فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ الْكِتَابَ، وَأَقُولُ: صَدَقَ قَالَ: فَأَمْسَكَ يَدِي وَالْكِتَابَ، وَقَالَ: "" أَتُبْغِضُ عَلِيًّا؟ "". قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" فَلَا تُبْغِضُهُ، وَإِنْ كُنْتَ تُحِبُّهُ فَازْدَدْ لَهُ حُبًّا، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ لَنَصِيبُ آلِ عَلِيٍّ فِي الْخُمْسِ أَفْضَلُ مِنْ وَصِيفَةٍ "". قَالَ: فَمَا كَانَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ عَلِيٍّ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ بُرَيْدَةَ -: فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا أَبِي بُرَيْدَةَ. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْجَلِيلِ بْنِ عَطِيَّةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ، وَفِيهِ لِينٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, meaning Ibn al-Ḥuṣayb, may Allah be pleased with him, reports that he hated ʿAli with a hatred he had hated none, and loved a man of Quraysh for no reason except his hatred of ʿAli, may Allah be pleased with him. That man was sent over an army, which Buraydah accompanied for no reason except hatred of ʿAli. They took captives, and the man wrote to the Messenger ﷺ to send one to take the fifth. The Prophet ﷺ sent ʿAli, may Allah be pleased with him, and among the captives was a slave girl, finest of the captives. ʿAli took the fifth, divided, and emerged with his head dripping. When asked O Abu al-Ḥasan what this was, he said had they not seen the slave girl among the captives, for he had divided and taken the fifth, which fell to the household of the Prophet ﷺ then to the family of ʿAli, so he had relations with her. The man wrote to the Prophet ﷺ, and Buraydah asked to be sent to confirm it. While Buraydah read the letter saying it was true, the Prophet ﷺ held his hand and the letter, asking whether he hated ʿAli. When he said yes, he told him not to hate him, and if he loved him to increase in love, for by the One in whose hand was the soul of Muḥammad ﷺ, the share of the family of ʿAli in the fifth was better than a slave girl. After the word of the Messenger ﷺ, none of people became dearer to him than ʿAli. ʿAbdullah, meaning Ibn Buraydah, added that by the One none deserved worship but Him, none stood between him and the Prophet ﷺ in this report except his father Buraydah. > **"Do you hate ʿAli. Then do not hate him, and if you love him increase in love, for by the One in whose hand is the soul of Muḥammad, the share of the family of ʿAli in the fifth is better than a slave girl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اتنا ناپسند کرتا تھا کہ اتنا کسی اور کو ناپسند نہیں کرتا تھا اور میں قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے محبت رکھتا تھا ، میں اس سے صرف اس وجہ سے محبت رکھتا تھا ، کیونکہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا ، میں بھی اس شخص کے ساتھ رہا اور جتنا عرصہ اس کے ساتھ رہا ، وہ شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض ہی رکھتا تھا ، راوی کہتے ہیں : ہمیں کچھ قیدی ملے تو اس امیر نے نبی اکرم ﷺ کو خط لکھا کہ آپ ہماری طرف کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو اس میں سے خمس وصول کر لے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہماری طرف بھیجا ، قیدیوں میں ایک کنیز تھی جو ان قیدیوں میں سب سے بہتر تھی ، راوی کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خمس الگ کیا اور مال کو تقسیم کر دیا ، ایک دن وہ باہر تشریف لائے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ، ہم نے دریافت کیا : اے ابوالحسن اس کی وجہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : تم نے قیدیوں میں موجود اس کنیز کو نہیں دیکھا تھا ، جب میں نے تقسیم کیا اور خمس الگ کیا ، تو وہ کنیز خمس میں آ گئی ، پھر وہ کنیز نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت کے حصے میں آ گئی اور پھر وہ آل علی کے حصے میں آ گئی ، تو میں نے اس کنیز کے ساتھ صحبت کر لی ، راوی کہتے ہیں : تو اس شخص نے نبی اکرم ﷺ کو خط لکھا ، تو میں نے عرض کی : آپ مجھے زکوۃ وصول کرنے والے کے طور پر بھیجیں ، راوی کہتے ہیں : میں خط پڑھ رہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا کہ اس نے ٹھیک کہا ہے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ اور وہ خط پکڑ لیا اور دریافت کیا : کیا تم علی سے بغض رکھتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم علی سے بغض نہ رکھو اور اگر تم اس سے محبت رکھتے تھے ، تو اس سے زیادہ محبت رکھو ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، خمس میں آل علی کا حصہ اس کنیز سے کہیں زیادہ ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کے بعد کوئی بھی میرے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبوب نہیں رہا ۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اس روایت میں میرے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان صرف ایک واسطہ ہے ، اور وہ میرے والد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عبدالجلیل بن عطیہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، ویسے اس نے سماع کی صراحت کی ہے ، اور اس میں کمزوری پائی جاتی ہے ۔

14732

Majma al-Zawaid #14732

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثَيْنِ إِلَى الْيَمَنِ، عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعَلَى الْآخَرِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ: "" إِذَا الْتَقَيْتُمْ فَعَلِيٌّ عَلَى النَّاسِ، وَإِنِ افْتَرَقْتُمَا فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى جُنْدِهِ "". قَالَ: فَلَقِينَا بَنِي زَيْدٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَاقْتَتَلْنَا، فَظَهَرَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ، فَقَتَلْنَا الْمُقَاتِلَةَ، وَسَبَيْنَا الذُّرِّيَّةَ، فَاصْطَفَى عَلِيٌّ امْرَأَةً مِنَ السَّبْيِ لِنَفْسِهِ. قَالَ بُرَيْدَةُ: فَكَتَبَ مَعِي خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُخْبِرُهُ بِذَلِكَ، فَلَمَّا أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَفَعْتُ الْكِتَابَ فَقُرِئَ عَلَيْهِ، فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مَكَانُ الْعَائِذِ، بَعَثْتَنِي مَعَ رَجُلٍ وَأَمَرْتَنِي أَنْ أُطِيعَهُ فَفَعَلْتُ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَقَعْ فِي عَلِيٍّ؛ فَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بَعْدِي» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ sent two expeditions to Yemen, over one ʿAli ibn Abi Ṭalib, may Allah be pleased with him, and over the other Khalid ibn al-Walid, saying when they met ʿAli was over the people, and when separated each was over his troops. They met Banu Zayd of Yemen, fought, Muslims prevailed over the polytheists, killing fighters and taking offspring captive, and ʿAli chose a woman of the captives for himself. Khalid ibn al-Walid wrote with Buraydah to the Messenger ﷺ informing him of it. When Buraydah brought the letter and it was read to the Prophet ﷺ, he saw anger in his face. Buraydah said O Messenger of Allah, this was the place of one seeking refuge: he had sent him with a man ordering obedience, which he had done as sent. The Messenger ﷺ replied not to speak against ʿAli, for he was from him and he from him, and he was their guardian after him. > **"When you meet, ʿAli is over the people, and when you separate, each of you is over his troops. Do not speak against ʿAli, for he is from me and I am from him, and he is your guardian after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یمن کی طرف دو مہمات کو بھیجا ، ان میں سے ایک کے امیر حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے اور دوسری کے امیر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم ایک دوسرے سے ملو ، تو علی سب لوگوں کا امیر ہو گا ، اور جب تم دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جاؤ تو تم میں سے ہر ایک اپنے لشکر کا امیر ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : ہماری ملاقات اہل یمن سے تعلق رکھنے والے بنو زید سے ہوئی ، ہم نے لڑائی کی ، مسلمان مشرکین پر غالب آ گئے ، ہم نے جنگجو افراد کو قتل کر دیا اور بال بچوں کو قیدی بنا لیا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قیدیوں میں سے ایک کنیز اپنے لئے منتخب کر لی ، حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے میرے ہاں نبی اکرم ﷺ کو خط لکھا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، جب میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ خط آپ کے حوالے کیا ، اور وہ خط آپ کے سامنے پڑھا گیا ، تو میں نے نبی اکرم ﷺ کے چہرے پر ناراضگی کے آثار دیکھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ پناہ مانگنے والے کا مقام ہے ، آپ نے مجھے ایک شخص کے ساتھ بھیجا اور آپ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اس کی اطاعت کروں ، تو میں نے ایسا کیا ، جس حکم کے ہمراہ مجھے بھیجا گیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم علی پر تنقید نہ کرو کیونکہ وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ، اور وہ میرے بعد تمہارا ولی ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے بھی اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح کندی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، امام احمد کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

14733

Majma al-Zawaid #14733

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا أَمِيرًا عَلَى الْيَمَنِ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْجَبَلِ، فَقَالَ: "" إِنِ اجْتَمَعْتُمَا فَعَلِيٌّ عَلَى النَّاسِ "". فَالْتَقَوْا وَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ مَا لَمْ يُصِيبُوا مِثْلَهُ، وَأَخَذَ عَلِيٌّ جَارِيَةً مِنَ الْخُمْسِ، فَدَعَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بُرَيْدَةَ، فَقَالَ: اغْتَنِمْهَا فَأَخْبِرِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا صَنَعَ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، وَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَنْزِلِهِ، وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى بَابِهِ فَقَالُوا: مَا الْخَبَرُ يَا بُرَيْدَةَ؟ فَقُلْتُ: خَيْرًا، فَتَحَ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ. فَقَالُوا: مَا أَقْدَمَكَ؟ قُلْتُ: جَارِيَةٌ أَخَذَهَا عَلِيٌّ مِنَ الْخُمْسِ، فَجِئْتُ لِأُخْبِرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: فَأَخْبِرِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّهُ يَسْقُطُ مِنْ عَيْنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْمَعُ الْكَلَامَ فَخَرَجَ مُغْضَبًا، فَقَالَ: "" «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَنْتَقِصُونَ عَلِيًّا؟ مَنْ تَنَقَّصَ عَلِيًّا فَقَدْ تَنَقَّصَنِي، وَمَنْ فَارَقَ عَلِيًّا فَقَدْ فَارَقَنِي؛ إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، خُلِقَ مِنْ طِينَتِي، وَخُلِقْتُ مِنْ طِينَةِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَنَا أَفْضَلُ مِنْ إِبْرَاهِيمَ ذَرِّيَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ، وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ. يَا بُرَيْدَةُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ لِعَلِيٍّ أَكْثَرَ مِنَ الْجَارِيَةِ الَّتِي أَخَذَ، وَأَنَّهُ وَلِيُّكُمْ بَعْدِي؟ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِالصُّحْبَةِ إِلَّا بَسَطْتَ يَدَكَ فَبَايَعَتْنِي عَلَى الْإِسْلَامِ جَدِيدًا. قَالَ: فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى بَايَعْتُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَحُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ sent ʿAli as commander over Yemen and Khalid ibn al-Walid over the mountain, saying if they gathered ʿAli was over the people. They met, gained spoils like none before, and ʿAli took a slave girl from the fifth. Khalid ibn al-Walid summoned Buraydah, telling him to seize it and inform the Prophet ﷺ of what he had done. Buraydah arrived at Madinah, entered the mosque while the Messenger ﷺ was in his house with some Companions at his door. When asked the news O Buraydah, he said good: Allah had granted Muslims victory. When asked what had brought him, he said a slave girl ʿAli had taken from the fifth, come to inform the Prophet ﷺ. They told him to inform the Prophet ﷺ, for he would fall from his eye, while the Messenger ﷺ heard the talk and emerged angry, saying what was with people who belittled ʿAli: whoever belittled ʿAli had belittled him, and whoever parted from ʿAli had parted from him. ʿAli was from him and he from him, created from his clay while he was created from the clay of Ibrahim, and he was better than Ibrahim, offspring one from another, and Allah was Hearing, Knowing. O Buraydah, did he not know ʿAli held more than the slave girl he took, and that he was their guardian after him. Buraydah said O Messenger of Allah, by companionship, to extend his hand and pledge him anew upon Islam. He did not part until he had pledged him upon Islam. > **"What is with people who belittle ʿAli. Whoever belittles ʿAli belittles me, and whoever parts from ʿAli parts from me. ʿAli is from me and I am from him. Did you not know ʿAli holds more than the slave girl he took, and that he is your guardian after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا ، آپ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو پہاڑ کا امیر بنا کر بھیجا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم دونوں اکٹھے ہو گئے ، تو علی لوگوں کا امیر ہو گا ، وہ لوگ اکٹھے ہوئے ، انہیں مال غنیمت حاصل ہوا ، اس طرح کا مال غنیمت انہیں پہلے کبھی حاصل نہیں ہوا تھا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مال خمس میں سے ایک کنیز لے لی ، تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : تم اس موقع کو غنیمت سمجھو اور نبی اکرم ﷺ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے طرز عمل کے بارے میں بتاؤ ، میں مدینہ منورہ آیا ، میں مسجد میں داخل ہوا ۔ نبی اکرم ﷺ اپنے گھر میں موجود تھے ، نبی اکرم ﷺ کے کچھ اصحاب آپ کے دروازے پر موجود تھے ، لوگوں نے دریافت کیا : کیا خبر ہے ؟ میں نے کہا : بھلائی کی بات ہے ، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب کی ہے ، ان لوگوں نے دریافت کیا : پھر تم کیوں آ گئے ہو ؟ میں نے کہا : ایک کنیز کی وجہ سے آیا ہوں ، جسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مال خمس میں سے وصول کر لیا ہے ، اور میں اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کو بتانے آیا ہوں ، لوگوں نے کہا : تم نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتا دینا کیونکہ اس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مرتبہ نبی اکرم ﷺ کی نظر میں کم ہو جائے گا ، نبی اکرم ﷺ یہ بات چیت سن رہے تھے ، آپ غصے کے عالم میں باہر تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : لوگوں کا کیا معاملہ ہے کہ وہ علی کی تنقیص کرنا چاہتے ہیں ، جو شخص علی کی تنقیص کرتا ہے وہ میری تنقیص کرتا ہے ، اور جو شخص علی سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتا ہے ، وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتا ہے ، بے شک علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔ اسے میری طینت سے پیدا کیا گیا ہے ، اور مجھے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طینت سے پیدا کیا گیا ہے ، اور میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ فضیلت رکھتا ہوں اور یہ سب ایک دوسرے کی ذریت ہیں ، اور اللہ تعالیٰ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے ۔ اسے بریدہ ! کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ علی کا حصہ اس کنیز سے زیادہ ہے ، جو اس نے لی ہے ، اور وہ میرے بعد تم لوگوں کا ولی ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول الله ! صحبت کا واسطہ ہے آپ اپنا دست مبارک آگے کیجئے ، تاکہ میں نئے سرے سے اسلام کی بیعت کروں ، راوی کہتے ہیں : تو میں اس وقت تک نبی اکرم ﷺ سے جدا نہیں ہوا جب تک میں نے دوبارہ نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر اسلام کی بیعت نہیں کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی حسین اشقر ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ۔

14734

Majma al-Zawaid #14734

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَخَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَحْدَهُ، وَجَمَعَهُمَا فَقَالَ: "" إِذَا اجْتَمَعْتُمَا فَعَلَيْكُمْ عَلِيٌّ "". قَالَ: فَأَخَذَا يَمِينًا وَيَسَارًا، فَدَخَلَ عَلِيٌّ، وَأَبْعَدَ وَأَصَابَ سَبْيًا، وَأَخَذَ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ. قَالَ بُرَيْدَةُ: وَكُنْتُ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ بُغْضًا لِعَلِيٍّ قَالَ: فَأَتَى رَجُلٌ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَذَكَرَ أَنَّهُ أَخَذَ جَارِيَةً مِنَ الْخُمْسِ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟! ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، ثُمَّ تَتَابَعَتِ الْأَخْبَارُ عَلَى ذَلِكَ، فَدَعَانِي خَالِدٌ، فَقَالَ: يَا بُرَيْدَةُ، قَدْ عَرَفْتَ الَّذِي صَنَعَ، فَانْطَلِقْ بِكِتَابِي هَذَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَتَبَ إِلَيْهِ فَانْطَلَقْتُ بِكِتَابِهِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ الْكِتَابَ بِشِمَالِهِ وَكَانَ كَمَا قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يَقْرَأُ وَلَا يَكْتُبُ، إِذَا تَكَلَّمْتُ طَأْطَأْتُ رَأْسِي حَتَّى أَفْرُغَ مِنْ حَاجَتِي، فَطَأْطَأْتُ رَأْسِي فَتَكَلَّمْتُ، فَوَقَعْتُ فِي عَلِيٍّ حَتَّى فَرَغْتُ، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضِبَ غَضَبًا لَمْ أَرَهُ غَضِبَ مِثْلَهُ إِلَّا يَوْمَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ، فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ: "" «يَا بُرَيْدَةُ، أَحِبَّ عَلِيًّا فَإِنَّمَا يَفْعَلُ مَا أُمِرَ بِهِ» "". فَقُمْتُ وَمَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Buraydah reports from ʿAli that the Messenger ﷺ sent ʿAli ibn Abi Ṭalib and Khalid ibn al-Walid each alone, then joined them saying when they gathered ʿAli was over them. They took right and left, ʿAli entered far, took captives, and took a slave girl of the captives. Buraydah said he was among the most intense in hatred of ʿAli. A man came to Khalid ibn al-Walid mentioning he had taken a slave girl from the fifth, asking what this was, then another came, then another, reports following upon it. Khalid summoned Buraydah, saying he knew what had been done, to carry his letter to the Messenger ﷺ. He set out with his letter until entering upon the Messenger ﷺ, who took the letter in his left, being as Allah described neither reading nor writing. Buraydah lowered his head when speaking until finishing his need, so he lowered his head, spoke, and attacked ʿAli until finished. He then raised his head and saw the Messenger ﷺ angry with an anger he had never seen except on the days of Qurayẓah and al-Naḍir. He looked at him and said O Buraydah, to love ʿAli, for he did only what he was ordered. Buraydah rose with none of people dearer to him than him. > **"O Buraydah, love ʿAli, for he does only what he is ordered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن بریدہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو الگ الگ لشکروں کا امیر بنا کر بھیجا اور پھر ان دونوں کو اکٹھا ہونے کے حوالے سے یہ فرمایا کہ جب تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ تو علی تم لوگوں کا امیر ہو گا ، راوی کہتے ہیں : ان دونوں حضرات نے دائیں اور بائیں حصے کے لشکر کو لیا ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اس علاقے میں داخل ہوئے اور دور تک گئے ، وہاں انہیں قیدی ملے ، انہوں نے قیدیوں میں سے ایک کنیز کو حاصل کر لیا ، حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے شدید بغض رکھتا تھا ، راوی کہتے ہیں : ایک شخص حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور یہ بات ذکر کی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خمس میں سے ایک کنیز لے لی ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : یہ کیسے ہوا ؟ پھر ایک اور شخص آیا ، پھر ایک اور شخص آیا ، پھر لگاتار اس بارے میں اطلاعات آنے لگیں ، تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا اور فرمایا : اے بریدہ ! تمہیں یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا ہے ، تم میرا یہ مکتوب لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس جاؤ ، پھر حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو خط لکھا ، میں وہ مکتوب لے کے گیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے اس مکتوب کو لیا ، نبی اکرم ﷺ کی یہ شان تھی جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : نہ آپ نے باقاعدہ پڑھنا سیکھا تھا اور نہ لکھنا سیکھا تھا ، میری یہ عادت تھی کہ جب میں بات کرتا تھا تو بات پوری ہونے تک اپنے سر کو جھکا کے رکھتا تھا ، تو میں نے اپنے سر کو جھکا لیا ، اور بات چیت شروع کی ، یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کی ، یہاں تک کہ میں اس سے فارغ ہوا ، پھر میں نے اپنے سر کو اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ شدید غصے کے عالم میں ہیں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس طرح کے غصے کے عالم میں کبھی نہیں دیکھا تھا ، البتہ جنگ قریظہ اور جنگ نضیر کے موقع پر ایسا ہوا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے میری طرف دیکھا اور پھر ارشاد فرمایا : اے بریدہ ! علی سے محبت رکھو کیونکہ اس نے وہی کیا ہے جس کا اسے حکم دیا گیا ( یا جس کی اسے اجازت دی گئی ) راوی کہتے ہیں : تو میں اٹھا تو اس وقت میرے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبوب اور کوئی نہیں تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں ضعیف راوی بھی ہیں جنہیں ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔

14735

Majma al-Zawaid #14735

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: اشْتَكَى عَلِيًّا النَّاسُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِينَا خَطِيبًا، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" «أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تَشْكُوا عَلِيًّا؛ فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَخْشَنُ فِي ذَاتِ اللَّهِ أَوْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that people complained of ʿAli, so the Messenger ﷺ stood among them addressing and he heard him say O people, not to complain of ʿAli, for by Allah he was severe in the cause of Allah or in the way of Allah. > **"O people, do not complain of ʿAli, for by Allah he is severe in the cause of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شکایت کی ، تو نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اے لوگو ! علی کی شکایت نہ کرو ، اللہ کی قسم ! وہ اللہ کی ذات کے بارے میں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اللہ کی راہ میں سب سے زیادہ مضبوط ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14736

Majma al-Zawaid #14736

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ - قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَلِيٍّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - إِلَى الْيَمَنِ، فَجَفَانِي فِي سَفَرِي ذَلِكَ، حَتَّى وَجَدْتُ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَظْهَرْتُ شِكَايَتَهُ فِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى سَمِعَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا رَآنِي أَمَدَّ لِي عَيْنَيْهِ - يَقُولُ: حَدَّدَ إِلَيَّ النَّظَرَ - حَتَّى إِذَا جَلَسْتُ قَالَ: "" «يَا عَمْرُو، وَاللَّهِ لَقَدْ آذَيْتَنِي "". قُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ أَذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: "" بَلَى، مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَالْبَزَّارُ أَخْصَرَ مِنْهُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Shas al-Aslami, among the companions of al-Ḥudaybiyah, reports that he went out with ʿAli, peace be upon him, to Yemen, who treated him coldly in that journey until he found it heavy within himself. When he arrived at Madinah he openly complained of him in the mosque until the Messenger ﷺ heard of it. One morning he entered the mosque while the Messenger ﷺ sat among some Companions. When he saw him he fixed his eyes upon him with a stare until he sat, then said O ʿAmr, by Allah he had harmed him. ʿAmr said he sought refuge in Allah from harming him O Messenger of Allah, but the Prophet ﷺ said yes: whoever harmed ʿAli had harmed him. > **"O ʿAmr, by Allah you have harmed me. Whoever harms ʿAli has harmed me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن شاس اسلمی رضی اللہ عنہ جو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل رکھتے ہیں ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن جانے کے لئے روانہ ہوا ، سفر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھ زیادتی کی ، مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنے من میں الجھن محسوس ہوئی ، جب میں مدینہ منورہ آیا تو میں نے مسجد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے شکایت کا اظہار کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس بات کو سن لیا ، اگلے دن میں مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، جب آپ نے مجھے ملاحظہ کیا ، تو آپ نے مجھ پر نگاہیں مذکور رکھیں ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ میری طرف تیز نظروں سے دیکھا ، جب میں بیٹھ گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عمرو ! اللہ کی قسم ! تم نے مجھے اذیت دی ہے ، میں نے عرض کی : میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ آپ کو اذیت دوں ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! جس نے علی کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے اس سے زیادہ مختصر روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

14737

Majma al-Zawaid #14737

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا أَمِيرًا عَلَى الْيَمَنِ وَخَرَجَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ: عَمْرُو بْنُ شَاسٍ الْأَسْلَمِيُّ، فَرَجَعَ وَهُوَ يَذُمُّ عَلِيًّا وَيَشْكُوهُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" اخْسَأْ يَا عَمْرُو، هَلْ رَأَيْتَ مِنْ عَلِيٍّ جَوْرًا فِي حُكْمِهِ أَوْ أَثَرَةً فِي قَسْمِهِ؟ "". قَالَ: اللَّهُمَّ لَا. قَالَ: "" فَعَلَامَ تَقُولُ الَّذِي بَلَغَنِي؟ "". قَالَ: بُغْضَهُ، لَا أَمْلِكُ. قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: "" مَنْ أَبْغَضَهُ فَقَدْ أَبْغَضَنِي، وَمَنْ أَبْغَضَنِي فَقَدْ أَبْغَضَ اللَّهَ، وَمَنْ أَحَبَّهُ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَحَبَّنِي فَقَدْ أَحَبَّ اللَّهَ تَعَالَى» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ رِجَالٌ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Rafiʿ, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ sent ʿAli as commander over Yemen, with whom went a man of Aslam called ʿAmr ibn Shas al-Aslami. He returned blaming ʿAli and complaining of him, so the Messenger ﷺ sent for him and said away with you O ʿAmr, had he seen injustice from ʿAli in his judgment or favouritism in his division. When he said no by Allah, he asked then upon what he said what had reached him. He said hatred he could not control. The Messenger ﷺ grew angry until known in his face, then said whoever hated him had hated him, and whoever hated him had hated Allah, and whoever loved him had loved him, and whoever loved him had loved Allah. > **"Away with you, O ʿAmr, did you see injustice from ʿAli in his judgment or favouritism in his division. Whoever hates him hates me, and whoever hates me hates Allah, and whoever loves him loves me, and whoever loves me loves Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا ، ان کے ساتھ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بھی روانہ ہوا ، جس کا نام عمرو بن شاس اسلمی تھا ، جب وہ شخص واپس آیا تو وہ شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مذمت کر رہا تھا اور ان کی شکایت کر رہا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کو پیغام بھیج کر بلایا اور فرمایا : اے عمرو ! تم پرے ہو جاؤ ! کیا تم نے علی کو فیصلہ دیتے ہوئے کوئی زیادتی کرتے ہوئے دیکھا ہے یا تقسیم کرتے ہوئے کوئی ترجیحی سلوک کرتے ہوئے دیکھا ہے ، اس شخص نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، جی نہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم کس بنیاد پر وہ باتیں کہہ رہے ہو جو مجھ تک پہنچی ہیں ، اس شخص نے کہا : ان سے بغض رکھنے کی وجہ سے ، جس کا میں مالک نہیں ہوں ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے ، یہاں تک کہ غصے کے اثرات آپ ﷺ کے چہرے پر محسوس ہوئے ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اس سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے ، اور جو شخص مجھ سے بغض رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے بغض رکھتا ہے ، اور جو شخص اس سے محبت رکھتا ہے ، وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے ، اور جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے رجال ہیں جن کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔

14738

Majma al-Zawaid #14738

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: «كُنْتُ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ أَنَا وَرَجُلَيْنِ مَعِي، فَنِلْنَا مِنْ عَلِيٍّ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضْبَانَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، فَتَعَوَّذْتُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِهِ، فَقَالَ: "" مَا لَكَمَ وَمَا لِي؟ مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَحْمُودِ بْنِ خِدَاشٍ وَقَنَانٍ، وَهُمَا ثِقَتَانِ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abi Waqqaṣ, may Allah be pleased with him, reports that he sat in the mosque with two men beside him, and they spoke against ʿAli. The Messenger ﷺ approached angry with anger known in his face, so Saʿd sought refuge in Allah from his anger. The Prophet ﷺ asked what was with them and him: whoever harmed ʿAli had harmed him. > **"What is with you and me. Whoever harms ʿAli has harmed me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ، میں تھا اور میرے ساتھ دو افراد تھے ، ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کرنے لگے ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ یہ تشریف لائے ، آپ غصے کے عالم میں تھے اور آپ کے چہرے سے غصے کا اظہار ہو رہا تھا ، میں نے نبی اکرم ﷺ کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگی ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارا میرے ساتھ کیا واسطہ ہے ، جس نے علی کو اذیت دی ، اس نے مجھے اذیت دی ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف محمود بن خداش اور قنان کا معاملہ مختلف ہے یہ دونوں ثقہ ہیں ۔

14739

Majma al-Zawaid #14739

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ أَنَّهُ أَتَى سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ: بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تَعْرِضُونَ عَلَيَّ سَبَّ عَلِيٍّ بِالْكُوفَةِ، فَهَلْ سَبَبْتَهُ؟ قَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ، وَالَّذِي نَفْسُ سَعْدٍ بِيَدِهِ، لَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي عَلِيٍّ شَيْئًا لَوْ وُضِعَ الْمِنْشَارُ عَلَى مَفْرِقِي مَا سَبَبْتُهُ أَبَدًا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr ibn Khalid ibn ʿUrfuṭah reports that he came to Saʿd ibn Malik and asked whether it had reached him that they proposed reviling ʿAli at Kufah, and whether he had reviled him. He said refuge in Allah: by the One in whose hand was the soul of Saʿd, he had heard the Messenger ﷺ say concerning ʿAli words such that were a saw placed upon his parting he would never revile him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن خالد بن عرفطہ بیان کرتے ہیں : وہ حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ لوگ کوفہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے آئے اور انہیں برا بھلا کہا ، تو کیا آپ نے انہیں برا بھلا کہا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس بات سے اللہ کی پناہ ہے ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضے میں سعد کی جان ہے ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : اگر میری مانگ پر آری رکھ دی جائے ، تو بھی میں کبھی بھی انہیں برا نہیں کہوں گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14740

Majma al-Zawaid #14740

وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ لِي: أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيكُمْ؟ قُلْتُ: مَعَاذَ اللَّهِ، أَوْ سُبْحَانَ اللَّهِ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا. قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu ʿAbdillah al-Jadali reports that he entered upon Umm Salamah, may Allah be pleased with her, who asked whether the Messenger ﷺ was reviled among them. He said refuge in Allah, or glory be to Allah, or some such word. She said she had heard the Messenger ﷺ say whoever reviled ʿAli had reviled him. > **"Whoever reviles ʿAli has reviled me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبداللہ جدلی بیان کرتے ہیں : میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے مجھ سے فرمایا : کیا تم لوگوں کے درمیان اللہ کے رسول کو برا کہا جاتا ہے ؟ میں نے عرض کی : اس بات سے اللہ کی پناہ ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) سبحان اللہ ، یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ کہا ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جس نے علی کو برا کہا ، تحقیق اس نے مجھے برا کہا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ابوعبداللہ جدلی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14741

Majma al-Zawaid #14741

وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ قَالَ: قَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيكُمْ؟ قُلْتُ: أَنَّى يُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَتْ: أَلَيْسَ يُسَبُّ عَلِيٌّ وَمَنْ يُحِبُّهُ؟ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu ʿAbdillah al-Jadali reports that Umm Salamah, may Allah be pleased with her, asked him O Abu ʿAbdillah, was the Messenger ﷺ reviled among them. When he asked how the Messenger ﷺ could be reviled, she asked whether ʿAli and those who loved him were not reviled, while the Messenger ﷺ had loved him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبداللہ جدلی بیان کرتے ہیں : سید ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا : اے ابوعبداللہ ! کیا تم لوگوں کے درمیان اللہ کے رسول کو برا کہا جاتا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول کو کیسے برا کہا جا سکتا ہے ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اور ان سے محبت رکھنے والوں کو برا نہیں کہا جاتا ؟ حالانکہ نبی اکرم ﷺ ان سے محبت رکھتے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے بھی اسے نقل کیا ہے ، امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوعبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14742

Majma al-Zawaid #14742

وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْدَهُ بِإِسْنَادٍ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarani then narrated with a trustworthy chain to Umm Salamah, from the Prophet ﷺ, the like of the report that whoever reviled ʿAli had reviled him. > **"Whoever reviles ʿAli has reviled me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے اس کے بعد سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا تک ثقہ رجال کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔

14743

Majma al-Zawaid #14743

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَسُبُّوا عَلِيًّا؛ فَإِنَّهُ مَمْسُوسٌ فِي ذَاتِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ بِشْرٍ أَوْ بَشِيرٍ مُتَأَخِّرٌ لَيْسَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn ʿUjrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ said not to revile ʿAli, for he was devoted in the cause of Allah. > **"Do not revile ʿAli, for he is devoted in the cause of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ علی کو برا نہ کہو ! کیونکہ وہ اللہ کی ذات کے بارے میں خود سے بے پرواہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن بشر یا شاید بشیر ہے ، جو متاخر ہے ، یہ وہ نہیں ہے ، جس نے ابوعبدالرحمن حبلی سے روایات نقل کی ہیں ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

14744

Majma al-Zawaid #14744

وَعَنْ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: لَقَدْ سَبَّ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ عَلِيًّا سَبًّا قَبِيحًا رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: مُعَاوِيَةُ [يَعْنِي]: بْنَ حُدَيْجٍ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ. قَالَ [نَعَمْ؛ قَالَ]: إِذَا رَأَيْتَهُ فَائْتِنِي بِهِ. قَالَ: فَرَآهُ عِنْدَ دَارِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، فَأَرَاهُ إِيَّاهُ قَالَ: أَنْتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ حُدَيْجٍ؟ فَسَكَتَ فَلَمْ يُجِبْهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: أَنْتَ السَّابُّ عَلِيًّا عِنْدَ ابْنِ آكِلَةِ الْأَكْبَادِ؟ أَمَا لَئِنْ وَرَدْتَ عَلَيْهِ الْحَوْضَ - وَمَا أُرَاكَ تَرِدُهُ - لَتَجِدَنَّهُ مُشَمِّرًا حَاسِرًا عَنْ ذِرَاعَيْهِ، يَذُودُ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ عَنْ حَوْضِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[كَمَا تُذَادُ غَرِيبَةُ الْإِبِلِ عَنْ صَاحِبِهَا] قَوْلُ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

EnglishUnverified translation

Abu Kathir reports that he sat with al-Ḥasan ibn ʿAli when a man came and said a man called Muʿawiyah, meaning Ibn Ḥudayj, had reviled ʿAli foully in the presence of Muʿawiyah, whom al-Ḥasan did not know. Al-Ḥasan told him to bring him when he saw him. When he saw him by the house of ʿAmr ibn Ḥurayth, he showed him to al-Ḥasan, who asked whether he was Muʿawiyah ibn Ḥudayj. He stayed silent and answered nothing thrice, then al-Ḥasan asked whether he was the one reviling ʿAli before the son of the liver-eater: if he came to him at the Pond, though he did not think he would come to him, he would find him with sleeves rolled and forearms bared, driving the disbelievers and hypocrites from the Pond of the Messenger ﷺ as strange camels were driven from their owner's water, by the word of the truthful believed Muḥammad ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوکثیر بیان کرتے ہیں : میں حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برے طریقے سے برا کہا گیا ، ایک شخص نے برا کہا تھا ، جس کا نام معاویہ بن حدیج تھا ، وہ اس سے واقف نہیں تھے ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کہا : جب تم اس شخص کو دیکھو تو اسے میرے پاس لے کے آنا ، جب اس شخص نے ان صاحب کو عمرو بن حریث کے گھر کے پاس دیکھا ، تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو وہ صاحب دکھائے ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم معاویہ بن حدیج ہو ؟ وہ خاموش رہے ۔ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کہا : تم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کلیجے کھانے والی عورت کے بیٹے کے پاس برا کہہ رہے تھے ، کیا ایسا نہیں ہو گا کہ تم حوض پر ان کے پاس آؤ گے ، ویسے تمہارے بارے میں میری یہ رائے نہیں ہے کہ تم ان کے پاس جاؤ گے ، تو تم ان کو پاؤ گے کہ انہوں نے کلائیاں چڑھائی ہوئی ہوں گی اور کافروں اور منافقین کو اللہ کے رسول کے حوض سے پیچھے کر رہے ہوں گے ، جس طرح اجنبی اونٹ کو پرے کیا جاتا ہے ، اور یہ بات صادق و مصدوق حضرت محمد ( ﷺ ) کا فرمان ہے ۔

14745

Majma al-Zawaid #14745

وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ - مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ - قَالَ: حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَحَجَّ مَعَهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ حُدَيْجٍ - وَكَانَ مِنْ أَسَبِّ النَّاسِ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - فَمَرَّ فِي الْمَدِينَةِ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ جَالِسٌ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ: وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ - مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ - وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَالْآخَرُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

In another wording from ʿAli ibn Abi Ṭalḥah, freedman of Banu Umayyah, Muʿawiyah ibn Abi Sufyan performed Ḥajj accompanied by Muʿawiyah ibn Ḥudayj, among the most reviling of people toward ʿAli ibn Abi Ṭalib. He passed through Madinah in the mosque of the Messenger ﷺ while al-Ḥasan ibn ʿAli sat there, and the like was mentioned with the addition that ruined was whoever forged lies.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں علی بن ابوطلحہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، جو بنوامیہ کا غلام تھا ، وہ بیان کرتا ہے : حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ حج کے لئے گئے ۔ ان کے ساتھ معاویہ بن حدیج بھی حج کے لئے گئے تھے ، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو برا کہا کرتے تھے ۔ ان کا گزر نبی اکرم ﷺ کی مسجد سے ہوا ، حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما وہاں تشریف فرما تھے ....... اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ تحقیق وہ شخص رسوا ہو گیا جس نے جھوٹا الزام لگایا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی علی بن ابوطلحہ ہے ، جو بنوامیہ کا غلام ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور دوسری سند ضعیف ہے ۔

14746

Majma al-Zawaid #14746

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نُجَيٍّ: أَنَّ عَلِيًّا أُتِيَ يَوْمَ الْبَصِيرِ بِذَهَبٍ وَفِضَّةٍ، فَقَالَ: ابْيَضِّي وَاصْفَرِّي وَغُرِّي غَيْرِي غُرِّي أَهْلَ الشَّامِ غَدًا إِذَا ظَهَرُوا عَلَيْكِ، فَشَقَّ قَوْلُهُ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ قَالَ: إِنَّ خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَا عَلِيُّ، إِنَّكَ سَتَقْدَمُ عَلَى اللَّهِ وَشِيعَتُكَ رَاضِينَ مَرْضِيِّينَ، وَيَقْدَمُ عَلَيْكَ عَدُوُّكَ غِضَابًا مُقْمَحِينَ» "". ثُمَّ جَمَعَ عَلِيٌّ يَدَهُ إِلَى عُنُقِهِ يُرِيهِمُ الْإِقْمَاحَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Abi Najih reports that ʿAli was brought gold and silver on the day of al-Baṣir, whereupon he said to become white and yellow and deceive other than him, to deceive the people of Syria tomorrow when they prevailed over it. His saying weighed upon people and was mentioned to him, so he called among the people and they entered upon him. He said his close friend ﷺ had told him O ʿAli, he would come to Allah with his partisans pleased and pleasing, while his enemy would come upon him angry with heads raised. ʿAli then joined his hand to his neck showing them the raising. > **"Become white and yellow and deceive other than me. O ʿAli, you will come to Allah with your partisans pleased and pleasing, while your enemy will come upon you angry with heads raised."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابونجیح بیان کرتے ہیں :” بصیر ‘‘ کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس سونا اور چاندی لائے گئے تو انہوں نے فرمایا : یہ چاندی اور یہ سونا ، تم میرے علاوہ کسی اور کو غلط فہمی کا شکار کرو ! کل کو جب اہل شام تم پر غالب آ جائیں گے تو تم انہیں دھوکہ دینا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ بات لوگوں کو گراں گزری ، انہوں نے اس بات کا تذکرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے کیا ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کروایا ، لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتایا : میرے خلیل ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : ’’ اے علی ! بے شک تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو گے کہ تم اور تمہارے ساتھی راضی ہوں گے ، اور ان سے راضی ہوا گیا ہو گا ، اور پھر تمہارا دشمن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو گا کہ وہ غصے میں ہوں گے ، اور سر اٹھائے ہوئے ہوں گے ۔‘‘ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ گردن کی طرف لے جا کے ان لوگوں کو دکھایا کہ ایسے اُن کے سر اٹھے ہوئے ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14747

Majma al-Zawaid #14747

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ: "" «مَنْ أَحَبَّهُ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَحَبَّنِي فَقَدْ أَحَبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَهُ فَقَدْ أَبْغَضَنِي، وَمَنْ أَبْغَضَنِي فَقَدْ أَبْغَضَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ -» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ حَرْبِ بْنِ الْحَسَنِ الطَّحَّانِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْلَى، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Rafiʿ, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ said concerning ʿAli that whoever loved him had loved him, and whoever loved him Allah had loved; whoever hated him had hated him, and whoever hated him had hated Allah. > **"Whoever loves him loves me, and whoever loves me Allah loves; whoever hates him hates me, and whoever hates me hates Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا : ” بے شک جس نے علی سے محبت رکھی ، اس نے مجھ سے محبت رکھی ، اور جس نے مجھ سے محبت رکھی ، اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھے گا ، اور جو شخص اس سے بغض رکھے گا اس نے مجھ سے بغض رکھا ، اور جو مجھ سے بغض رکھے گا ، وہ اللہ تعالیٰ سے بغض رکھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے حرب بن حسن طحان کی یحییٰ بن یعلیٰ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔

14748

Majma al-Zawaid #14748

وَبِسَنَدِهِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ عَلِيًّا مَبْعَثًا، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَجِبْرِيلُ عَنْكَ رَاضُونَ» ".

EnglishUnverified translation

With the same chain it is reported that the Messenger ﷺ sent ʿAli on an expedition, and when he returned the Messenger ﷺ told him Allah, His Messenger, and Jibril were pleased with him. > **"Allah, His Messenger, and Jibril are pleased with you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایک مہم پر بھیجا ، جب وہ واپس آئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : ’’ اللہ اور اس کا رسول اور جبرائیل ، تم سے راضی ہیں ۔‘‘

14749

Majma al-Zawaid #14749

وَبِسَنَدِهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ: " «أَنْتَ وَشِيعَتُكَ تَرِدُونَ عَلَى الْحَوْضِ رُوَاةً مَرْوِيِّينَ، مُبْيَضَّةٌ وُجُوهُكُمْ، وَإِنَّ عَدُوَّكَ يَرِدُونَ عَلَى الْحَوْضِ ظِمَاءً مُقْمَحِينَ» ".

EnglishUnverified translation

With the same chain it is reported that the Messenger ﷺ said to ʿAli that he and his partisans would come to the Pond quenched and watered with whitened faces, while his enemy would come to the Pond thirsty with heads raised. > **"You and your partisans will come to the Pond quenched and watered with whitened faces, while your enemy will come to the Pond thirsty with heads raised."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ تم اور تمہارے ساتھی حوض پر میرے پاس ایسی حالت میں آئیں گے کہ تم لوگ سیر ہو جاؤ گے ، اور تمہارے چہرے روشن ہوں گے ، اور تمہارا دشمن حوض پر میرے پاس ایسی حالت میں آئے گا کہ وہ پیاسے ہوں گے ، اور ان کے سر اوپر کی طرف اٹھے ہوئے ہوں گے ۔‘‘

14750

Majma al-Zawaid #14750

وَبِسَنَدِهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ: " «أَمَا تَرْضَى أَنَّكَ أَخِي وَأَنَا أَخُوكَ» ".

EnglishUnverified translation

With the same chain it is reported that the Messenger ﷺ said to ʿAli asking whether he was not pleased that he was his brother while he was his brother. > **"Are you not pleased that you are my brother while I am your brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم میرے بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں ۔‘‘

14751

Majma al-Zawaid #14751

وَبِسَنَدِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «إِنَّ أَوَّلَ أَرْبَعَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: أَنَا، وَأَنْتَ، وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، وَذَرَارِينَا خَلْفَ ظُهُورِنَا، وَأَزْوَاجُنَا خَلْفَ ذَرَارِينَا، وَشِيعَتُنَا عَنْ أَيْمَانِنَا وَعَنْ شَمَائِلِنَا» ".

EnglishUnverified translation

With the same chain it is reported that the Messenger ﷺ said the first four to enter Paradise were he, ʿAli, al-Ḥasan, and al-Ḥusayn, with their offspring behind them, their wives behind their offspring, and their partisans to their right and left. > **"The first four to enter Paradise are I, you, al-Ḥasan, and al-Ḥusayn, with our offspring behind us, our wives behind our offspring, and our partisans to our right and left."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں جنت میں داخل ہونے والے پہلے چار افراد میں ایک ہوں ، میں ہوؤں گا ، تم ہو گے ، حسن ہو گا ، حسین ہو گا اور ہماری اولاد ہماری پشت کے پیچھے ہو گی اور ہماری بیویاں ہماری اولاد کے پیچھے ہوں گی اور ہمارے ساتھی ہمارے دائیں طرف اور بائیں طرف ہوں گے ۔‘‘

14752

Majma al-Zawaid #14752

وَبِسَنَدِهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ: " «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ يَقُولَ فِيكَ طَوَائِفُ مِنْ أُمَّتِي بِمَا قَالَتِ النَّصَارَى فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لَقُلْتُ فِيكَ الْيَوْمَ مَقَالًا لَا تَمُرُّ بِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا أَخَذَ التُّرَابَ مِنْ أَثَرِ قَدَمَيْكَ يَطْلُبُ بِهِ الْبَرَكَةَ» ".

EnglishUnverified translation

With the same chain it is reported that the Messenger ﷺ said to ʿAli swearing by the One in whose hand was his soul that were it not that groups of his community would say concerning him what the Christians said concerning ʿIsa son of Maryam, he would say concerning him that day words such that no Muslim he passed except would take dust from his footsteps seeking blessing. > **"By the One in whose hand is my soul, were it not that groups of my community will say concerning you what the Christians said concerning ʿIsa son of Maryam, I would say concerning you words such that no Muslim you passed except would take dust from your footsteps seeking blessing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا کہ تمہارے بارے میں میری امت کے مختلف گروہ وہ بات کریں گے جو عیسائی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں کہتے تھے ، تو میں نے تمہارے بارے میں ایک بات کہنی تھی کہ مسلمانوں میں جو بھی شخص گزرتا ، وہ تمہارے قدموں کے نیچے سے مٹی لے لیتا اور اس کے ذریعے برکت حاصل کرتا ۔‘‘

14753

Majma al-Zawaid #14753

عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا أَنَسُ، انْطَلِقْ فَادْعُ لِي سَيِّدَ الْعَرَبِ "". - يَعْنِي عَلِيًّا - فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَلَسْتَ سَيِّدَ الْعَرَبِ؟ قَالَ: "" أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وَعَلِيٌّ سَيِّدُ الْعَرَبِ "". فَلَمَّا جَاءَ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْأَنْصَارِ فَأَتَوْهُ، فَقَالَ لَهُمْ: "" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا؟ "". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" هَذَا عَلِيٌّ فَأَحِبُّوهُ بِحُبِّي، وَأَكْرِمُوهُ بِكَرَامَتِي؛ فَإِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي بِالَّذِي قُلْتُ لَكُمْ عَنِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الضبي (*)، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan ibn ʿAli, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger ﷺ said O Anas, go summon for him the chief of the Arabs, meaning ʿAli. ʿAʾishah asked whether he was not the chief of the Arabs, and he replied he was the chief of the children of Adam while ʿAli was the chief of the Arabs. When ʿAli came, the Messenger ﷺ sent for the Anṣar, who came to him, and told them O company of Anṣar, should he not guide them to what if they held fast they would never stray after. When they said yes O Messenger of Allah, he said this was ʿAli, so to love him for his love and honour him for his honour, for Jibril, peace be upon him, had commanded him with what he told them from Allah. > **"O Anas, go summon for me the chief of the Arabs. I am the chief of the children of Adam and ʿAli is the chief of the Arabs. O company of Anṣar, shall I not guide you to what if you hold fast you will never stray after. This is ʿAli, so love him for my love and honour him for my honour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے انس ! جاؤ عربوں کے سردار کو میرے پاس بلا کے لاؤ ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ کی مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : کیا آپ عربوں کے سردار نہیں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور علی ، عربوں کا سردار ہے ۔‘‘ جب وہ آئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے انصار کو پیغام بھیجا ، وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں کہ جب تم اسے مضبوطی سے تھام لو گے ، تو اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے ، ان لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ علی ہے ، تم میرے ساتھ محبت کی وجہ سے اس سے محبت رکھو اور میری عزت کی وجہ سے اس کی عزت افزائی کرو ، کیونکہ جبرائیل نے مجھے یہ کہا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں یہ بات بتا دوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم ضبی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14754

Majma al-Zawaid #14754

وَعَنْ سَلْمَانَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ: "" «مُحِبُّكَ مُحِبِّي، وَمُبْغِضُكَ مُبْغِضِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ الطَّوِيلُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Salman, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said to ʿAli that whoever loved him loved him, and whoever hated him hated him. > **"Whoever loves you loves me, and whoever hates you hates me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ تم سے محبت رکھنے والا مجھ سے محبت رکھنے والا ہو گا ، اور تم سے بغض رکھنے والا مجھ سے بغض رکھنے والا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک طویل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ازدی نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔

14755

Majma al-Zawaid #14755

وَعَنْ أَبِي مَرْيَمَ الثَّقَفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَلِيٍّ: "" «يَا عَلِيُّ، طُوبَى لِمَنْ أَحَبَّكَ وَصَدَقَ فِيكَ، وَوَيْلٌ لِمَنْ أَبْغَضَكَ وَكَذَبَ فِيكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Maryam al-Thaqafi, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger ﷺ say to ʿAli O ʿAli, glad tidings for whoever loved him and spoke truth concerning him, and woe for whoever hated him and lied concerning him. > **"O ʿAli, glad tidings for whoever loves you and speaks truth concerning you, and woe for whoever hates you and lies concerning you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومریم ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اے علی ! اس شخص کے لئے مبارک باد ہے جو تم سے محبت رکھے اور تمہارے بارے میں سچ کہے اور اس شخص کے لئے بربادی ہے ، جو تم سے بغض رکھے اور تمہارے بارے میں جھوٹ کہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن حزور ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14756

Majma al-Zawaid #14756

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: "" «إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - زَيَّنَكَ بِزِينَةٍ لَمْ يُزَيِّنِ الْعِبَادَ بِزِينَةٍ مِثْلِهَا، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَبَّبَ إِلَيْكَ الْمَسَاكِينَ وَالدُّنُوَّ مِنْهُمْ، وَجَعَلَكَ لَهُمْ إِمَامًا تَرْضَى بِهِمْ، وَجَعَلَهُمْ لَكَ أَتْبَاعًا يَرْضَوْنَ بِكَ، فَطُوبَى لِمَنْ أَحَبَّكَ وَصَدَّقَ عَلَيْكَ، وَوَيْلٌ لِمَنْ أَبْغَضَكَ وَكَذَبَ عَلَيْكَ. فَأَمَّا مَنْ أَحَبَّكَ وَصَدَّقَ عَلَيْكَ فَهُمْ جِيرَانُكَ فِي دَارِكَ، وَرُفَقَاؤُكَ فِي جَنَّتِكَ، وَأَمَّا مَنْ أَبْغَضَكَ وَكَذَبَ عَلَيْكَ فَإِنَّهُ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُوقِفَهُمْ مَوَاقِفَ الْكَذَّابِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmar ibn Yasir, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger ﷺ say to ʿAli ibn Abi Ṭalib that Allah had adorned him with an adornment beyond any adornment of servants: Allah had made the poor beloved to him and nearness to them, made him an imam for them pleased with them, and made them followers for him pleased with him. Glad tidings for whoever loved him and spoke truth of him, woe for whoever hated him and lied of him. Those who loved him and spoke truth of him would be his neighbours in his abode and companions in his Paradise, while those who hated him and lied of him Allah would halt at the stations of liars. > **"Allah has adorned you with an adornment beyond any adornment of servants. Glad tidings for whoever loves you and speaks truth of you, and woe for whoever hates you and lies of you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ایسی زینت کے ذریعے آراستہ کیا ہے کہ اس نے اس جیسی زینت کے ذریعے اپنے بندوں کو آراستہ نہیں کیا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے نزدیک مسکینوں کو محبوب کر دیا ہے ، اور ان کے قریب رہنا محبوب کر دیا ہے ، اس نے تمہیں ان لوگوں کے لئے امام بنایا ہے ، تم ان سے راضی ہو اور اس نے ان لوگوں کو تمہارا پیروکار بنایا ہے ، اور وہ تم سے راضی ہیں ، تو اس شخص کے لئے مبارک باد ہے ، جو تم سے محبت رکھتا ہے ، اور تمہارے بارے میں سچ بولتا ہے ، اور اس شخص کے لئے بربادی ہے ، جو تم سے بغض رکھتا ہے ، اور تمہارے بارے میں جھوٹ بولتا ہے ، جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جو تم سے محبت رکھتا ہے اور تمہارے بارے میں سچ بولتا ہے ، تو ایسے لوگ تمہاری جگہ پر تمہارے پڑوسی ہوں گے ، اور جنت میں تمہارے ساتھی ہوں گے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو تم سے بغض رکھتے ہیں ، اور جو تمہارے خلاف جھوٹ بولتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ انہیں جھوٹے لوگوں کے مقام پر ٹھہرائے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن حزور ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14757

Majma al-Zawaid #14757

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ أَحَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَحَبَّنِي فَقَدْ أَحَبَّ اللَّهَ، وَمَنْ أَبْغَضَ عَلِيًّا فَقَدْ أَبْغَضَنِي، وَمَنْ أَبْغَضَنِي فَقَدْ أَبْغَضَ اللَّهَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, testifies that she heard the Messenger ﷺ say whoever loved ʿAli had loved him, and whoever loved him had loved Allah; whoever hated ʿAli had hated him, and whoever hated him had hated Allah. > **"Whoever loves ʿAli loves me, and whoever loves me loves Allah; whoever hates ʿAli hates me, and whoever hates me hates Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں یہ گواہی دیتی ہوں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص علی سے محبت رکھے گا ، وہ مجھ سے محبت رکھے گا ، اور جو مجھ سے محبت رکھے گا ، وہ اللہ سے محبت رکھے گا ، اور جو علی سے بغض رکھے گا ، وہ مجھ سے بغض رکھے گا ، اور جو مجھ سے بغض رکھے گا ، وہ اللہ سے بغض رکھے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14758

Majma al-Zawaid #14758

وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَاهَى بِكُمْ، وَغَفَرَ لَكُمْ عَامَّةً وَلِعَلِيٍّ خَاصَّةً، وَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ غَيْرَ مُحَابٍ لِقَرَابَتِي، هَذَا جِبْرِيلُ يُخْبِرُنِي أَنَّ السَّعِيدَ حَقَّ السَّعِيدِ مَنْ أَحَبَّ عَلِيًّا فِي حَيَاتِهِ وَبَعْدَ مَوْتِهِ، وَأَنَّ الشَّقِيَّ كُلَّ الشَّقِيِّ مَنْ أَبْغَضَ عَلِيًّا فِي حَيَاتِهِ وَبَعْدَ مَوْتِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Faṭimah daughter of the Messenger ﷺ, may Allah be pleased with her, reports that the Messenger ﷺ came out to them on the evening of ʿArafah and said Allah had boasted of them, forgiven them generally and ʿAli specifically. He was the Messenger of Allah to them without favouring his kin: Jibril informed him the truly fortunate was whoever loved ʿAli in his life and after his death, and the utterly wretched was whoever hated ʿAli in his life and after his death. > **"Allah has boasted of you and forgiven you generally and ʿAli specifically. I am the Messenger of Allah to you without favouring my kin. The truly fortunate is whoever loves ʿAli in his life and after his death, and the utterly wretched is whoever hates ʿAli in his life and after his death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : عرفہ کی شام نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر فخر کا اظہار کیا اور تم لوگوں کی عمومی طور پر اور علی کی بطور خاص مغفرت کر دی ہے ، میں تم لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں ، میں اپنے رشتے داروں کے لئے امتیازی سلوک کرنے والا نہیں ہوں ، یہ جبرائیل مجھے بتا رہے ہیں کہ وہ شخص حقیقی طور پر سعادت مند ہے ، جو علی کے ساتھ اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی محبت رکھے ، اور وہ شخص مکمل طور پر بدنصیب ہے ، جو اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی علی سے بغض رکھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14759

Majma al-Zawaid #14759

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: وَاللَّهِ مَا كُنَّا نَعْرِفُ مُنَافِقِينَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِبُغْضِهِمْ عَلِيًّا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مَا كُنَّا نَعْرِفُ مُنَافِقِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ. بِأَسَانِيدَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn ʿAbdillah, may Allah be pleased with them both, swears by Allah that on the covenant of the Messenger ﷺ they knew their hypocrites only by their hatred of ʿAli. In another wording they, the Anṣar, knew their hypocrites by it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ہم اپنے درمیان منافقین کو اس بات کے حوالے سے پہچان لیتے تھے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ ہم انصار کے لوگ منافقین کو اس حوالے سے پہچان لیتے تھے ‘‘ اس کی تمام اسناد ضعیف ہیں ۔

14760

Majma al-Zawaid #14760

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَ: "" لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُكُ إِلَّا مُنَافِقٌ، مَنْ أَحَبَّكَ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَكَ فَقَدْ أَبْغَضَنِي، وَحَبِيبِي حَبِيبُ اللَّهِ، وَبَغِيضِي بَغِيضُ اللَّهِ، وَيْلٌ لِمَنْ أَبْغَضَكَ بَعْدِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ فِي تَرْجَمَةِ أَبِي الْأَزْهَرِ: أَحْمَدَ بْنِ الْأَزْهَرِ النَّيْسَابُورِيَّ: أَنَّ مَعْمَرًا كَانَ لَهُ ابْنُ أَخٍ رَافِضِيٌّ فَأَدْخَلَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كُتُبِهِ، وَكَانَ مَعْمَرٌ مَهِيبًا لَا يُرَاجَعُ وَسَمِعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger ﷺ looked at ʿAli and said none loved him except a believer and none hated him except a hypocrite. Whoever loved him had loved him, whoever hated him had hated him; his beloved was the beloved of Allah, his hated the hated of Allah; woe for whoever hated him after him. > **"None loves you but a believer and none hates you but a hypocrite. Whoever loves you loves me, and whoever hates you hates me; my beloved is the beloved of Allah and my hated is the hated of Allah. Woe for whoever hates you after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور فرمایا : ’’ کوئی مومن ہی تم سے محبت رکھے گا ، اور کوئی منافق ہی تم سے بغض رکھے گا ، جو شخص تم سے محبت رکھے گا ، وہ مجھ سے محبت رکھے گا ، اور جو شخص تم سے بغض رکھے گا ، وہ مجھ سے بغض رکھے گا ، میرا حبیب اللہ کا حبیب ہے ، اور میرا ناپسندیدہ شخص اللہ کا ناپسندیدہ شخص ہے ، اس شخص کے لئے بربادی ہے ، جو میرے بعد تم سے بغض رکھے گا ۔ ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم ابوازہر احمد بن ازہر نیشاپوری کے حالات میں بات تحریر ہے کہ معمر کا ایک بھتیجا تھا ، جو رافضی تھا اس نے یہ روایت ان کی تحریروں میں داخل کر دی ہے ، اور معمر ایک بارعب شخص تھے ۔ انہیں نظرثانی کے لئے نہیں کہا جاتا تھا ، امام عبدالرزاق نے ان سے سماع کیا ہے ۔

14761

Majma al-Zawaid #14761

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ: "" «لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ، حَرَقَ أَحْمَدُ حَدِيثَهُ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ هِشَامٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImran ibn al-Ḥuṣayn, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ said to ʿAli that none loved him except a believer and none hated him except a hypocrite. > **"None loves you but a believer and none hates you but a hypocrite."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ صرف کوئی مومن ہی تم سے محبت رکھے گا ، اور صرف کوئی منافق ہی تم سے بغض رکھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، امام احمد نے اس کی نقل کردہ حدیث کو جلا دیا تھا ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن معین نے اسے ثقہ کہا ہے ، ایک راوی عثمان بن ہشام ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14762

Majma al-Zawaid #14762

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" «إِنَّ فِيكَ مَثَلًا مِنْ عِيسَى، أَبْغَضَتْهُ الْيَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ، وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي لَيْسَ بِهِ» "". أَلَا وَإِنَّهُ يَهْلِكُ فِيَّ اثْنَانِ: مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ، وَمُبْغِضٌ: يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي، أَلَا وَإِنِّي لَسْتُ بِنَبِيٍّ، وَلَا يُوحَى إِلَيَّ؛ وَلَكِنِّي أَعْمَلُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ مَا اسْتَطَعْتُ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ فَحَقٌّ عَلَيْكُمْ طَاعَتِي فِيمَا أَحْبَبْتُمْ وَكَرِهْتُمْ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَأَبُو يَعْلَى أَتَمَّ مِنْهُ، وَفِي إِسْنَادِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي يَعْلَى الْحَكْمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAli ibn Abi Ṭalib, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ summoned him and said in him was a likeness of ʿIsa: the Jews hated him until they slandered his mother, and the Christians loved him until they raised him to a station not his. Two would perish concerning him: an extravagant lover praising him with what was not in him, and a hater whose hatred carried him to slander him. He was no prophet nor revelation came to him, but he acted by the Book of Allah and the practice of His Prophet as he could, so whatever he commanded of obedience to Allah, obedience to him in loved and disliked was due. > **"In you is a likeness of ʿIsa: the Jews hated him until they slandered his mother, and the Christians loved him until they raised him to a station not his. I am no prophet nor is revelation sent to me, but I act by the Book of Allah and the practice of His Prophet."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا : ’’ تمہارے اندر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے طرح کا ایک پہلو پایا جاتا ہے ، یہودیوں نے ان سے بغض رکھا تو ان کی والدہ پر بھی الزام لگا دیا اور عیسائیوں نے ان سے محبت رکھی تو انہیں ایسے مقام پر پہنچا دیا ، جو ان کا نہیں تھا ۔‘‘ ( پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) خبردار میرے بعد دو قسم کے لوگ ہلاکت کا شکار ہوں گے ، محبت رکھنے والا ایسا شخص جو افراط سے کام لے گا ، اور وہ مجھے ایسی چیزوں سے منسوب کر دے گا جو مجھ میں نہیں ہیں ، اور بغض رکھنے والا وہ شخص کہ اس کی میرے ساتھ دشمنی اسے اس بات پر مجبور کر دے گی کہ وہ مجھ پر جھوٹا الزام لگائے ، خبردار ! میں نہ تو نبی ہوں اور نہ ہی میری طرف وحی کی جاتی ہے ، بلکہ میں اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت پر اپنی استطاعت کے مطابق عمل کرتا ہوں ، میں اللہ کی اطاعت کے بارے میں تمہیں جو حکم دوں ، تو تم پر یہ لازم ہے کہ تم میری اطاعت کرو ، خواہ تمہیں یہ بات پسند ہو یا ناپسند ہو ۔ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اور بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ابویعلیٰ نے اسے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، عبداللہ اور ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، بزار کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر قرشی کوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14763

Majma al-Zawaid #14763

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا مِنْ بَعْضِ بُيُوتِ نِسَائِهِ قَالَ: فَقُمْنَا مَعَهُ فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ، فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا عَلِيٌّ يَخْصِفُهَا، وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَضَيْنَا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ يَنْتَظِرُهُ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ: "" إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ هَذَا الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ "". فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِينَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ: "" لَا. وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ "". قَالَ: فَجِئْنَا نُبَشِّرُهُ قَالَ: فَكَأَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid, may Allah be pleased with him, reports that they sat awaiting the Messenger ﷺ, who emerged from one of his wives' houses. They rose with him, his sandal broke, and ʿAli stayed behind to mend it while the Messenger ﷺ went on with them. He then stopped awaiting him and they stopped with him, saying among them was one who would fight for the interpretation of this Qurʾan as he had fought for its revelation. They looked up, among them Abu Bakr and ʿUmar, but he said no: it was the mender of the sandal. They came to give him glad tidings, as though he had already heard it. > **"Among you is one who will fight for the interpretation of this Qurʾan as I fought for its revelation. No, but it is the mender of the sandal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ بیٹھے ہوئے نبی اکرم ﷺ کا انتظار کر رہے تھے ، آپ اپنی ایک زوجہ محترمہ کے گھر سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، آپ کا جوتا ٹوٹ گیا تھا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی خاطر پیچھے رہ گئے تھے ، وہ اسے مرمت کر رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، آپ کے ساتھ ہم بھی گئے ، پھر نبی اکرم ﷺ کھڑے ہو کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگے ، آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے رہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے بعض ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اس قرآن کی تفسیر کے حوالے سے ( بدمذہبوں کے ساتھ ) جنگ کریں گے ، جس طرح میں نے اس کے نزول کے حوالے سے جنگ کی ہے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : ہم نے تمام افراد کو دیکھنا شروع کیا ، ہمارے درمیان حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ کام وہ شخص کرے گا جو جوتوں کو مرمت کر رہا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم آئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دی تو یوں لگا جیسے وہ یہ بات سن چکے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14764

Majma al-Zawaid #14764

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ نَائِمٌ أَوْ يُوحَى إِلَيْهِ، وَإِذَا حَيَّةٌ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهَا فَأُوقِظَهُ، فَاضْطَجَعْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَيَّةِ، فَإِنْ كَانَ شَيْءٌ كَانَ بِي دُونَهُ، فَاسْتَيْقَظَ، وَهُوَ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ: {إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا} [المائدة: 55] الْآيَةَ. قَالَ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ "". فَرَآنِي إِلَى جَانِبِهِ قَالَ: "" مَا أَضْجَعَكَ هَهُنَا؟ "". قُلْتُ: لِمَكَانِ هَذِهِ الْحَيَّةِ قَالَ: "" قُمْ إِلَيْهَا فَاقْتُلْهَا "". فَقَتَلْتُهَا، فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ: "" يَا أَبَا رَافِعٍ، سَيَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يُقَاتِلُونَ عَلِيًّا، حَقٌّ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى جِهَادُهُمْ، فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ جِهَادَهُمْ بِيَدِهِ فَبِلِسَانِهِ، فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ لَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ شَيْءٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَيَحْيَى بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفُرَاتِ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Rafiʿ, may Allah be pleased with him, reports that he entered upon the Messenger ﷺ while he slept or revelation came to him, with a snake at the side of the house. Disliking to kill it lest he wake him, he lay between him and the snake, so if anything came it would be upon him rather than him. The Prophet ﷺ awoke reciting the verse that their guardian was Allah, His Messenger, and those who believed. He praised Allah, saw him beside him, and asked what had laid him there. When he said the place of this snake, he told him to rise and kill it, which he did. He praised Allah, took his hand, and said O Abu Rafiʿ, after him would be a people fighting ʿAli, upon Allah the duty of striving against them: whoever could not strive with his hand then with his tongue, whoever could not with his tongue then with his heart, with nothing beyond that. > **"All praise is due to Allah. Rise and kill it. O Abu Rafiʿ, after me will be a people fighting ʿAli, upon Allah the duty of striving against them: whoever cannot with his hand then with his tongue, whoever cannot with his tongue then with his heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت سو رہے تھے یا شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی ، گھر کے کونے میں ایک سانپ موجود تھا ، مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اسے قتل کر کے آپ کو بیدار کر دوں ، تو میں نبی اکرم ﷺ اور سانپ کے درمیان لیٹ گیا کہ اگر کچھ ہوا بھی تو نبی اکرم ﷺ کو نہیں ہو گا ، مجھے ہو گا ، جب نبی اکرم ﷺ بیدار ہوئے تو آپ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے : ’’ بے شک تمہارا ولی اللہ ہے ، اور اس کا رسول ہے ، اور ایمان والے ہیں ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے الحمدللہ کہا اور پھر جب آپ نے مجھے اپنے پہلو کی طرف دیکھا ، تو فرمایا : تم یہاں کیوں لیٹے ہوئے ہو ؟ میں نے عرض کی : اس سانپ کی وجہ سے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اٹھ کر اس کے پاس جاؤ اور اسے قتل کر دو ! میں نے اس سانپ کو قتل کر دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا : ’’ اے ابورافع ! میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے جو علی کے ساتھ جنگ کریں گے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ( لوگوں پر ) یہ لازم ہے کہ وہ ان کے ساتھ جہاد کریں ، جو شخص ان کے ساتھ اپنے ہاتھ کے ذریعے جہاد کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ اپنی زبان کے ذریعے ایسا کرے ، جو اپنی زبان کے ذریعے ایسا نہ کر سکتا ہو ، وہ اپنے دل کے حوالے سے ایسا کرے ، اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ بن ابورافع ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ، اور ایک راوی یحیی بن حسین فرات ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

14765

Majma al-Zawaid #14765

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يَقُولُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: {أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ} [آل عمران: 144] وَاللَّهِ لَا نَنْقَلِبُ عَلَى أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ تَعَالَى، وَاللَّهِ لَئِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ لَأُقَاتِلَنَّ عَلَى مَا قَاتَلَ عَلَيْهِ حَتَّى أَمُوتَ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخُوهُ وَوَلِيُّهُ وَابْنُ عَمِّهِ وَوَارِثُهُ، فَمَنْ أَحَقُّ بِهِ مِنِّي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that ʿAli used to say in the lifetime of the Messenger ﷺ that Allah said if he died or was killed they would turn upon their heels. By Allah they would not turn upon their heels after Allah had guided them: by Allah, if he died or was killed he would fight upon what he had fought until he died. By Allah he was his brother, guardian, cousin, and heir, so who was more entitled to him than him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ فرمایا کرتے تھے : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ اگر وہ مر جائے یا قتل ہو جائے تو کیا تم ایڑیوں کے بل پلٹ جاؤ گے ۔‘‘ ( حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : ) اللہ کی قسم ! ہم ایڑیوں کے بل نہیں پلٹیں گے ، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت عطا کر دی ہے ، اگر نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو جائے یا آپ ﷺ شہید ہو جائیں تو میں اس چیز کی بنیاد پر جہاد کروں گا ، جس کی بنیاد پر نبی اکرم ﷺ لڑائی کیا کرتے تھے ، اور مرتے دم تک ایسا کرتا رہوں گا ، اللہ کی قسم ! میں نبی اکرم ﷺ کا بھائی ہوں ، آپ کا ولی ہوں ، آپ کا چچازاد ہوں اور آپ کا وارث ہوں ۔ اس حوالے سے کون مجھ سے زیادہ حق رکھتا ہے ؟ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14766

Majma al-Zawaid #14766

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ انْصَرَفَ إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرَهَا سَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ ثَمَانِ عَشْرَةَ فَلَمْ يَفْتَتِحْهَا، ثُمَّ أَوْغَلَ رَوْحَةً أَوْ غَدْوَةً، ثُمَّ نَزَلَ، ثُمَّ هَجَرَ، فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ، وَأُوصِيكُمْ بِعِتْرَتِي خَيْرًا، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَلَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِمْ رَجُلًا مِنِّي أَوْ لِنَفْسِي فَلَيَضْرِبَنَّ أَعْنَاقَ مُقَاتِلِيهِمْ وَلَيَسْبِيَنَّ ذَرَارِيَّهُمْ "". قَالَ: فَرَأَى النَّاسُ أَنَّهُ أَبُو بَكْرٍ أَوْ عُمَرُ، وَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: "" هَذَا هُوَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ جَبْرٍ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ الْجُوزَجَانِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥman ibn ʿAwf, may Allah be pleased with him, reports that when the Messenger ﷺ conquered Makkah he turned to al-Ṭaʾif, besieging it seventeen or eighteen nights without conquering it, then went on an evening or morning journey, halted, then rested at midday, saying O people, he was their forerunner, commending his family to them with good, with their appointment at the Pond. By the One in whose hand was his soul, they would establish prayer and give charity, or he would send to them a man from him or of himself to strike the necks of their fighters and take their offspring captive. People thought it was Abu Bakr or ʿUmar, but he took the hand of ʿAli and said this was he. > **"O people, I am your forerunner and I commend my family to you with good, and your appointment is the Pond. I shall send to them a man from me. This is he."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے مکہ فتح کیا ، تو اس کے بعد آپ طائف کی طرف چلے گئے ، وہاں آپ نے سترہ دن یا شاید اٹھارہ دن تک محاصرہ کیے رکھا ، لیکن وہ شہر فتح نہیں ہوا ، پھر آپ صبح کے وقت یا شاید شام کے وقت تیزی سے روانہ ہوئے ، پھر آپ نے پڑاؤ کیا ، اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! بے شک میں تم لوگوں کا پیشرو ہوؤں گا ، اور بے شک میں تمہیں اپنی عترت کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتا ہوں ، تم سے ملنے کی جگہ حوض ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، وہ لوگ ( یعنی دشمن ) نماز قائم کریں گے اور زکوۃ ادا کریں گے ، یا پھر میں ان کی طرف اپنے میں سے ایک شخص کو بھیجوں گا جو ان کے جنگجو لوگوں کی گردنیں اڑا دے گا ، اور ان کے بال بچوں کو قیدی بنا لے گا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : لوگ یہ سمجھے کہ شاید حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہوں گے ، لیکن نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا : وہ یہ ہو گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن جبر ہے ، جسے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جرجانی نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14767

Majma al-Zawaid #14767

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «عَلِيٌّ مَعَ الْقُرْآنِ وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ لَا يَفْتَرِقَانِ حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reports that she heard the Messenger ﷺ say ʿAli was with the Qurʾan and the Qurʾan with ʿAli, never parting until they came to him at the Pond. > **"ʿAli is with the Qurʾan and the Qurʾan is with ʿAli, never parting until they come to me at the Pond."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ علی قرآن کے ساتھ ہو گا ، اور قرآن علی کے ساتھ ہو گا ، اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواسود ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔