Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 13

Book of Virtues and Merits

Hadith 14768–14807

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14768

Majma al-Zawaid #14768

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: كَانَ عَلِيٌّ عَلَى الْحَقِّ مَنِ اتَّبَعَهُ اتَّبَعَ الْحَقَّ، وَمَنْ تَرَكَهُ تَرَكَ الْحَقَّ، عَهْدٌ مَعْهُودٌ قَبْلَ يَوْمِهِ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَالِكُ بْنُ جَعُونَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, used to say ʿAli was upon truth: whoever followed him followed truth, and whoever left him left truth, a covenant made before this day of his.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ حق پر ہیں ، جو ان کی پیروی کرے گا ، وہ حق کی پیروی کرے گا ، جو انہیں چھوڑ دے گا ، وہ حق کو چھوڑ دے گا ، اور یہ ایک ایسا عہد ہے ، جو اس دن سے پہلے لیا جا چکا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مالک بن جعونہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، دو اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14769

Majma al-Zawaid #14769

وَعَنْ جُرَيِّ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: لَمَّا كَانَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ الَّذِي كَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ انْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَتَيْتُ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ - وَهِيَ مِنْ بَنِي هِلَالٍ - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: مِمَّنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَتْ: مِنْ أَيِّ الْعِرَاقِ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَتْ: مِنْ أَيِّ أَهْلِ الْكُوفَةِ؟ قُلْتُ: مِنْ بَنِي عَامِرٍ قَالَتْ: مَرْحَبًا قُرْبًا عَلَى قُرْبٍ، وَرُحْبًا عَلَى رُحْبٍ، فَمَجِيءُ مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: كَانَ بَيْنَ عَلِيٍّ وَطَلْحَةَ [وَالزُّبَيْرِ] الَّذِي كَانَ، فَأَقْبَلْتُ فَبَايَعْتُ عَلِيًّا. قَالَتْ: فَالْحَقْ بِهِ فَوَاللَّهِ مَا ضَلَّ وَلَا ضُلَّ بِهِ. حَتَّى قَالَتْهَا ثَلَاثًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ جُرَيِّ بْنِ سَمُرَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jurayy ibn Samurah reports that when what occurred between the people of Baṣrah and ʿAli ibn Abi Ṭalib occurred, he set out to Madinah and came to Maymunah bint al-Ḥarith of Banu Hilal, greeting her. When asked whence the man was, he said from the people of Iraq, from Kufah, from Banu ʿAmir. She welcomed kinship upon kinship and ease upon ease, asking what had brought him. He said what had occurred between ʿAli and Ṭalḥah had occurred, so he had come and pledged ʿAli. She told him to join him, for by Allah he had neither strayed nor been led astray, repeating it thrice.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جری بن سمرہ بیان کرتے ہیں : جب اہل بصرہ اور حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلافات ہوئے ، تو میں روانہ ہوا اور میں مدینہ منورہ آ گیا ، میں سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان کا تعلق بنو ہلال سے تھا ، میں نے انہیں سلام کیا ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے بتایا : اہل عراق سے ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : اہل عراق میں سے کن سے ہے ؟ میں نے جواب دیا : اہل کوفہ سے ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : اہل کوفہ میں سے کن سے ہے ؟ میں نے جواب دیا : بنو عامر سے ہے ۔ انہوں نے فرمایا : خوش آمدید ! تم قریبی ہو اور تمہیں خوش آمدید ! تم کس سلسلے میں آئے ہو ؟ میں نے کہا : حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں ، تو میں نے جا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی ، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم ان کے ساتھ رہو ! اللہ کی قسم ! نہ تو وہ گمراہ ہوں گے اور نہ ہی گمراہ کریں گے ۔ یہ بات سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف جری بن سمرہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14770

Majma al-Zawaid #14770

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا لِي أَرَاكَ تَسْتَحِيلُ النَّاسَ اسْتِحَالَةَ الرَّجُلِ إِبِلَهُ؟ أَبِعَهْدٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْ شَيْءٍ رَأَيْتَهُ؟ قَالَ: وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، وَلَا ضَلَلْتُ وَلَا ضُلَّ بِي، بَلْ عَهْدٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - {وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى} [طه: 61]. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ سَهْلٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAli ibn Rabiʿah reports that he heard ʿAli when a man came saying O Commander of the Faithful, why did he see him driving people as a man drove his camels: by covenant from the Messenger ﷺ or something he had seen. ʿAli replied by Allah he had neither lied nor been lied to, neither strayed nor been led astray, but by covenant from the Messenger ﷺ, with the verse that ruined was whoever forged.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سنا ، ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا : اے امیرالمومنین ! کیا وجہ ہے میں آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ لوگوں کو اس طرح پرے کر رہے ہیں ، جس طرح کوئی شخص اپنے اونٹ کو پرے کرتا ہے ، کیا یہ نبی اکرم ﷺ کی طرف سے ملنے والا کوئی عہد ہے ، یا یہ آپ کی ذاتی رائے ہے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! نہ تو میرے ساتھ جھوٹی بات بیان کی گئی اور نہ ہی میں نے جھوٹ بولا ، نہ میں گمراہ ہوا ہوں اور نہ ہی مجھے گمراہ کیا گیا ، بلکہ یہ اللہ کے رسول کی طرف سے عہد ہے ، اور وہ شخص رسوا ہو جائے جو جھوٹا الزام لگائے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن سہل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14771

Majma al-Zawaid #14771

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ: "" «يَا عَلِيُّ، مَنْ فَارَقَنِي فَارَقَ اللَّهَ، وَمَنْ فَارَقَكَ يَا عَلِيُّ فَارَقَنِي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ said to ʿAli O ʿAli, whoever parted from him had parted from Allah, and whoever parted from him O ʿAli had parted from him. > **"O ʿAli, whoever parts from me parts from Allah, and whoever parts from you, O ʿAli, parts from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ اے علی ! جو شخص مجھ سے جدا ہو گا ، وہ اللہ تعالیٰ سے جدا ہو گا ۔ اے علی ! جو شخص تم سے جدا ہو گا ، وہ مجھ سے جدا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14772

Majma al-Zawaid #14772

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا عَلِيُّ، مَعَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَصًا مِنْ عِصِيِّ الْجَنَّةِ، تَذُودُ بِهَا الْمُنَافِقِينَ عَنْ حَوْضِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَائِنِيُّ وَزَيْدٌ الْعَمِّيُّ، وَهُمَا ضَعِيفَانِ وَقَدْ وُثِّقَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ said O ʿAli, with him on the Day of Resurrection would be a staff of Paradise staves, with which he would drive the hypocrites from his Pond. > **"O ʿAli, with you on the Day of Resurrection will be a staff of Paradise staves, with which you will drive the hypocrites from my Pond."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے علی ! قیامت کے دن تمہارے پاس جنت کے عصاؤں میں سے ایک عصا ہو گا ، جس کے ذریعے تم منافق لوگوں کو میرے حوض سے پرے کرو گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلام بن سلیمان مدائنی ہے اور ایک راوی زید عمی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14773

Majma al-Zawaid #14773

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِجَارَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: أَنَا أَذُودُ عَنْ حَوْضِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ الْقَصِيرَتَيْنِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ كَمَا تَذُودُ السُّقَاةُ غَرِيبَةَ الْإِبِلِ عَنْ حِيَاضِهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْجَوْهَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Ijara ibn Qays reports that he heard the Commander of the Faithful ʿAli ibn Abi Ṭalib upon the minbar say he would drive from the Pond of the Messenger ﷺ with these two short hands of his the disbelievers and hypocrites as waterers drove strange camels from their troughs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن اجارہ بن قیس بیان کرتے ہیں : میں نے امیرالمومنین حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ میں اپنے ان دونوں چھوٹے ہاتھوں کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کے حوض سے کافروں اور منافقین کو یوں پرے کروں گا ، جس طرح پانی پلانے والے اجنبی اونٹوں کو اپنے حوض سے پرے کرتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قدامہ جوہری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14774

Majma al-Zawaid #14774

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا تَرْضَى يَا عَلِيُّ إِذَا جَمَعَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ حُفَاةً عُرَاةً مُشَاةً قَدْ قَطَعَ أَعْنَاقَهُمُ الْعَطَشُ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ يُدْعَى إِبْرَاهِيمُ فَيُكْسَى ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ، ثُمَّ يَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ، ثُمَّ يُفَجَّرُ مَثْعَبٌ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَى حَوْضِي، وَحَوْضِي أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ بُصَرَى وَصَنْعَاءَ، فِيهِ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ قِدْحَانٌ مِنْ فِضَّةٍ، فَأَشْرَبُ وَأَتَوَضَّأُ وَأُكْسَى ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ، ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ، ثُمَّ تُدْعَى فَتَشْرَبُ، وَتَتَوَضَّأُ، وَتُكْسَى ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ، فَتَقُومُ مَعِي وَلَا أُدْعَى إِلَى خَيْرٍ إِلَّا دُعِيتَ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ مِيثَمٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAli ibn Abi Ṭalib, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ told him whether he was not pleased that when Allah gathered the prophets in one plain barefoot unclothed walking with thirst cutting their necks, the first called would be Ibrahim, clothed in two white garments, standing at the right of the Throne, then a channel burst from Paradise to his Pond, whose expanse exceeded between Buṣra and Ṣanʿaʾ with silver cups as the stars of heaven. He would drink, perform ablution, be clothed in two white garments, and stand at the right of the Throne, then ʿAli would be called to drink, perform ablution, be clothed in two white garments, and stand with him, never called to any good except called to it with him. > **"Are you not pleased, O ʿAli, that when Allah gathers the prophets in one plain, I shall drink and be clothed and stand at the right of the Throne, then you shall be called to drink and be clothed and stand with me, never called to any good except you are called to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ’’ اے علی ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ جب اللہ تعالیٰ تمام انبیاء کرام کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا یوں کہ ان کے پاؤں میں جوتے نہیں ہوں گے جسم پر لباس نہیں ہوں گے وہ پیدل ہوں گے ، اور پیاس نے ان کی بری حالت کی ہوئی ہو گی سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلایا جائے گا اور انہیں دو سفید کپڑے پہنائے جائیں گے پھر وہ عرش کے دائیں طرف کھڑے ہو جائیں گے پھر جنت میں سے ایک پرنالہ پھوٹے گا جو میرے حوض کی طرف آئے گا ، اور میرا حوض اس سے زیادہ بڑا ہے جتنا بصریٰ اور صنعاء کے درمیان فاصلہ ہے اس کے کنارے پر آسمان کے ستاروں کی تعداد میں چاندی کے بنے ہوئے پیالے ہوں گے میں اس میں سے پیوں گا اور وضو کروں گا ، مجھے دو سفید کپڑے پہنائے جائیں گے پھر میں عرش کے دائیں طرف کھڑا ہو جاؤں گا پھر تمہیں بلایا جائے گا ، اور تم پیو گے اور تم وضو کرو گے ، اور تمہیں دو سفید کپڑے پہنائے جائیں گے تم میرے ساتھ کھڑے ہو جاؤ گے مجھے جس بھی بھلائی کی طرف بلایا جائے گا تمہیں بھی اس بھلائی کی طرف بلایا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عمران بن میثم ہے اور وہ کذاب ہے ۔

14775

Majma al-Zawaid #14775

عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: «كُنْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ [ذَاتِ] الْعَشِيرَةِ، فَلَمَّا نَزَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقَامَ بِهَا، رَأَيْنَا بِهَا نَاسًا مَنْ بَنِي مُدْلِجٍ يَعْمَلُونَ فِي عَيْنٍ لَهُمْ [فِي نَخْلٍ]، فَقَالَ [لِي] عَلِيٌّ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ، هَلْ لَكَ أَنْ أَتِيَ هَؤُلَاءِ فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلُونَ؟ فَجِئْنَاهُمْ فَنَظَرْنَا إِلَى عَمَلِهِمْ سَاعَةً، ثُمَّ غَشِيَنَا النَّوْمُ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ فَاضْطَجَعْنَا فِي صُورٍ مِنْ نَخْلٍ فِي دَقْعَاءَ مِنَ التُّرَابِ فَنِمْنَا، وَاللَّهِ مَا أَهَبَّنَا إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَرِّكُنَا بِرِجْلِهِ، وَقَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْكَ الدَّقْعَاءِ، فَيَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ: "" أَبَا تُرَابٍ "". لِمَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ. ثُمَّ قَالَ: "" أَلَّا أُحَدِّثُكُمَا بِأَشْقَى النَّاسِ رَجُلَيْنِ؟ "". قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" أُحَيْمِرُ ثَمُودَ الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ، وَالَّذِي يَضْرِبُكَ يَا عَلِيُّ هَذِهِ - يَعْنِي قَرْنَهُ - حَتَّى يَبُلَّ مِنْهُ هَذِهِ - يَعْنِي لِحْيَتَهُ -» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ مُوَثَّقُونَ إِلَّا أَنَّ التَّابِعِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَمَّارٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmar ibn Yasir, may Allah be pleased with him, reports that he and ʿAli were two companions in the campaign of Dhāt al-ʿAshirah. When the Messenger ﷺ halted there and stayed, they saw people of Banu Mudlij working at their spring among palms. ʿAli said O Abu al-Yaqẓan, should they go see how they worked. They watched their work a while, then sleep overcame them, so they lay in a palm nursery upon dusty ground and slept. None woke them but the Messenger ﷺ moving them with his foot, dusted from that dust, whereupon the Messenger ﷺ called ʿAli Abu Turab for the dust upon him. He then asked whether he should tell them of the most wretched of people, two men. When they said yes O Messenger of Allah, he said the red man of Thamud who hamstrung the she-camel, and the one who would strike ʿAli here, meaning his forehead, until this, meaning his beard, was wetted from it. > **"O Abu Turab. Shall I not tell you of the most wretched of people, two men: the red man of Thamud who hamstrung the she-camel, and the one who will strike you here until this is wetted from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ غزوہ ذات العشیرہ کے موقع پر ایک دوسرے کے ساتھی تھے جب نبی اکرم ﷺ نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپ وہاں مقیم ہوئے تو وہاں ہم نے بنو مدلج سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو دیکھا جو کھجوروں کے باغ میں اپنے چشمے میں کام کر رہے تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا : اے ابوالیقظان کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ ہم ان لوگوں کے پاس جائیں اور یہ دیکھیں یہ کیسے کام کر رہے ہیں ، تو ہم ان لوگوں کے پاس آئے ہم کچھ دیر ان لوگوں کا کام دیکھتے رہے پھر ہمیں نیند آنے لگی تو میں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے اور ہم کھجوروں کے درختوں کے درمیان میں موجود مٹی پر لیٹ کر سو گئے ، اللہ کی قسم ! ہم اس وقت بیدار ہوئے جب نبی اکرم ﷺ ہمیں اپنے پاؤں کے ذریعے حرکت دے رہے تھے ہم اس مٹی میں خاک آلود ہو چکے ہوئے تھے اس دن نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے ابوتراب ! کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ان پر مٹی دیکھی تھی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں تم دونوں کو ان دو افراد کے بارے میں نہ بتاؤں جو لوگوں میں سب سے زیادہ بدبخت ہیں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قوم ثمود کا وہ نالائق شخص جس نے اونٹنی کے پاؤں کاٹے تھے اور وہ شخص اے علی جو تمہاری اس جگہ پر ضرب لگائے گا ۔ نبی اکرم ﷺ کی مراد پیشانی تھی ، یہاں تک کہ اس کی وجہ سے یہ جگہ گیلی ہو جائے گی ، نبی اکرم ﷺ کی مراد ان کی داڑھی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان تمام روایات کے رجال کی توثیق کی گئی ہے البتہ جو اس کا تابعی ہے اس نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

14776

Majma al-Zawaid #14776

وَعَنْ صُهَيْبٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا لِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: "" «مَنْ أَشْقَى الْأَوَّلِينَ؟ "". قَالَ: الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" صَدَقْتَ "". قَالَ: "" فَمَنْ أَشْقَى الْآخِرِينَ؟ "". قَالَ: لَا عِلْمَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" الَّذِي يَضْرِبُكَ عَلَى هَذِهِ "". وَأَشَارَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى يَافُوخِهِ، فَكَانَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَقُولُ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ: وَدِدْتُ أَنَّهُ قَدِ انْبَعَثَ أَشْقَاكُمْ يُخَضِّبُ هَذِهِ - يَعْنِي لِحْيَتَهُ - مِنْ هَذِهِ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ṣuhayb reports from the Prophet ﷺ that one day he asked ʿAli, may Allah be pleased with him, who the most wretched of the ancients was. When ʿAli said the one who hamstrung the she-camel O Messenger of Allah, he said he had spoken true. He then asked who the most wretched of the later was. When ʿAli said he had no knowledge O Messenger of Allah, he said the one who would strike him here, pointing the Prophet ﷺ to his crown. ʿAli, may Allah be pleased with him, used to say to the people of Iraq that he wished their most wretched had risen to dye this, meaning his beard, from this, placing his hand upon the front of his head. > **"Who is the most wretched of the ancients. You have spoken true. The most wretched of the later is the one who will strike you here."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک دن انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پاؤں کاٹے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے ٹھیک کہا ہے پھر آپ نے دریافت کیا : بعد والوں میں سب سے زیادہ بدنصیب کون ہو گا ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : مجھے اس کا علم نہیں ہے یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا وہ شخص جو تمہیں اس جگہ پر ضرب لگائے گا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی پیشانی کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اہل عراق سے یہ کہا کرتے تھے : میری یہ خواہش ہے کہ تم میں سے سب سے زیادہ بدنصیب شخص آئے اور اس جگہ کو رنگین کر دے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مراد ان کی داڑھی تھی ، یہاں سے لے کر ، انہوں نے اپنا ہاتھ اپنے سر کے آگے والے حصے پر رکھ کر یہ بات ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14777

Majma al-Zawaid #14777

وَعَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنَ سَمُرَةَ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ: "" «مَنْ أَشْقَى ثَمُودَ؟ "". قَالَ: مَنْ عَقَرَ النَّاقَةَ قَالَ: "" فَمَنْ أَشْقَى هَذِهِ الْأُمَّةِ؟ "". قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ قَالَ: "" قَاتِلُكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, meaning Ibn Samurah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ asked ʿAli who the most wretched of Thamud was. When he said the one who hamstrung the she-camel, he asked who the most wretched of this community was. When ʿAli said Allah knew best, he said his killer. > **"Who is the most wretched of Thamud. The one who hamstrung the she-camel. The most wretched of this community is your killer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : قوم ثمود کا سب سے زیادہ بدنصیب شخص کون تھا ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جس نے اونٹنی کے پاؤں کاٹے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اس امت میں سب سے زیادہ بدنصیب شخص کون ہو گا ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا قاتل ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

14778

Majma al-Zawaid #14778

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: "" «إِنَّكَ امْرُؤٌ مُسْتَخْلَفٌ، وَإِنَّكَ مَقْتُولٌ، وَهَذِهِ مَخْضُوبَةٌ مِنْ هَذِهِ "". - يَعْنِي لِحْيَتَهُ مِنْ رَأْسِهِ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir reports that the Messenger ﷺ said to ʿAli, may Allah be pleased with him, that he was a man appointed yet to be slain, with this dyed from this, meaning his beard from his head. > **"You are a man appointed, yet to be slain, with this dyed from this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ تم ایک ایسے شخص ہو جو بعد میں رہ جاؤ گے ، اور تم قتل کر دیے جاؤ گے اور یہ اس سے رنگین ہو جائے گی ۔‘‘ یعنی ان کی داڑھی ان کے سر ( کے خون کے ذریعے رنگین ہو جائے گی ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

14779

Majma al-Zawaid #14779

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي عَائِدًا لِعَلِيٍّ وَكَانَ مَرِيضًا، فَقَالَ لَهُ أَبِي: مَا يُقِيمُكَ بِهَذَا الْمَنْزِلِ لَوْ هَلَكْتَ بِهِ لَمْ يَلِكَ إِلَّا أَعْرَابُ جُهَيْنَةَ، فَلَوْ دَخَلْتَ الْمَدِينَةَ كُنْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ، فَإِنْ أَصَابَكَ مَا تَخَافُ أَوْ نَخَافُ عَلَيْكَ وَلِيَكَ أَصْحَابُكَ. وَكَانَ أَبُو فَضَالَةَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ. فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: إِنِّي لَسْتُ مَيِّتًا مِنْ مَرَضِي هَذَا - أَوْ مِنْ وَجَعِي هَذَا - إِنَّهُ «عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنِّي لَا أَمُوتُ حَتَّى - أَحْسَبَهُ - قَالَ: أُضْرَبُ أَوْ تُخَضَّبُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ» - يَعْنِي ضَارِبَهُ - فَقُتِلَ أَبُو فَضَالَةَ مَعَهُ بِصِفِّينَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Faḍalah ibn Abi Faḍalah al-Anṣari reports that he went out with his father visiting ʿAli when ill. His father asked what kept him in this dwelling: were he to perish in it none but Bedouins of Juhaynah would manage him, so were he to enter Madinah he would be among his companions, and if what he feared befell him his companions would manage him. His father was of the people of Badr. ʿAli told him he would not die of this sickness or pain: the Prophet ﷺ had covenanted to him that he would not die until struck, or this dyed from this, meaning his striker. Abu Faḍalah was later killed with him at Ṣiffin.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فضالہ بن ابوفضالہ انصاری بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گیا ، وہ بیمار تھے ، میرے والد نے ان سے فرمایا : آپ اس جگہ پر کیوں ٹھہرے ہوئے ہیں ، اگر آپ یہاں ہلاکت کا شکار ہو گئے تو صرف جہینہ قبیلے کے دیہاتی لوگ ہی آپ کے کفن دفن کا انتظام کر سکیں گے ، اور اگر آپ شہر میں داخل ہو جائیں گے تو آپ اپنے ساتھیوں کے درمیان موجود رہیں گے ، اگر آپ کو کوئی چیز لاحق ہوئی ، جس کا آپ کو اندیشہ ہے ، یا ہمیں آپ کے حوالے سے کسی چیز کا اندیشہ ہوا تو آپ کے ساتھی آپ کی دیکھ بھال کریں گے ، راوی کہتے ہیں : حضرت ابوفضالہ انصاری رضی اللہ عنہ اہل بدر میں سے ایک تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : میں اپنی اس بیماری کی وجہ سے نہیں مروں گا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) میں اپنی اس تکلیف کی وجہ سے نہیں مروں گا ، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ بتایا تھا کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب تک مجھے ضرب نہیں لگائی جائے گی اور یہ اس کے ذریعے رنگین نہیں ہو جائے گی ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوفضالہ رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام احمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14780

Majma al-Zawaid #14780

وَعَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ: «أَنَّهُ عَادَ عَلِيًّا فِي شَكْوَى اشْتَكَاهَا، فَقَالَ لَهُ: لَقَدْ تَخَوَّفْنَا عَلَيْكَ فِي شَكْوَاكَ هَذِهِ. فَقَالَ: وَلَكِنِّي وَاللَّهِ مَا تَخَوَّفْتُ عَلَى نَفْسِي مِنْهُ؛ لِأَنِّي سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّكَ سَتُضْرَبُ ضَرْبَةً هُنَا، وَضَرْبَةً هَاهُنَا - وَأَشَارَ إِلَى صُدْغِهِ - فَيَسِيلُ دَمُهَا حَتَّى يُخَضِّبَ لِحْيَتَكَ، وَيَكُونَ صَاحِبُهَا أَشْقَاهَا كَمَا كَانَ عَاقِرُ النَّاقَةِ أَشْقَى ثَمُودَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sinan al-Duʾali reports that he visited ʿAli in a complaint of which he complained, telling him they had feared for him in this complaint. ʿAli replied that by Allah he had not feared for himself from it, for he had heard the truthful believed ﷺ say he would be struck a blow here and a blow here, pointing to his temple, whose blood would flow until dyeing his beard, its striker the most wretched as the hamstringer of the she-camel was the most wretched of Thamud. > **"You will be struck a blow here and a blow here, until its blood dyes your beard, and its striker will be the most wretched as the hamstringer of the she-camel was the most wretched of Thamud."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسنان دؤلی بیان کرتے ہیں : وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیماری کے دوران ان کی عیادت کرنے کے لئے گئے ، تو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : ہمیں آپ کی اس بیماری کے حوالے سے آپ کے بارے میں اندیشہ ہے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لیکن اللہ کی قسم ! مجھے اس بیماری کے حوالے سے اپنی ذات کے بارے میں کوئی خوف نہیں ہے ، کیونکہ میں نے حضرت صادق و مصدوق ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم پر یہاں ضرب لگائی جائے گی اور یہاں ضرب لگائی جائے گی ۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی کنپٹی کی طرف اشارہ کیا کہ یہاں سے خون بہے گا اور تمہاری داڑھی کو رنگین کر دے گا ۔ ’’ اور ایسا کرنے والا شخص سب سے زیادہ بدنصیب ہو گا ، جس طرح اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا شخص قوم ثمود کا سب سے زیادہ بدنصیب شخص تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

14781

Majma al-Zawaid #14781

وَعَنْ أَبِي سِنَانٍ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ الدِّيلِيِّ قَالَ: «مَرِضَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مَرَضًا شَدِيدًا حَتَّى أَدْنَفَ، وَخِفْنَا عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنَّهُ بَرَأَ وَنَقِهَ، فَقُلْنَا: هَنِيئًا لَكَ أَبَا الْحَسَنِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَاكَ، قَدْ كُنَّا تَخَوَّفْنَا عَلَيْكَ. قَالَ: لَكِنِّي لَمْ أَخَفْ عَلَى نَفْسِي، أَخْبَرَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنِّي لَا أَمُوتُ حَتَّى أُضْرَبَ عَلَى هَذِهِ - وَأَشَارَ إِلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ الْأَيْسَرِ - فَتُخَضَّبَ هَذِهِ مِنْهَا بِدَمٍ، وَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَقَالَ: "" يَقْتُلُكَ أَشْقَى هَذِهِ الْأُمَّةِ، كَمَا عَقَرَ نَاقَةَ اللَّهِ أَشْقَى بَنِي فُلَانٍ مِنْ ثَمُودَ "". قَالَ: فَنَسَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى فَخِذِهِ الدُّنْيَا دُونَ ثَمُودَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sinan Yazid ibn Murrah al-Dayli reports that ʿAli ibn Abi Ṭalib fell severely ill near death, and they feared for him, then he recovered and convalesced. When they congratulated him O Abu al-Ḥasan with praise to Allah who had healed him, saying they had feared for him, he said he had not feared for himself: the truthful believed ﷺ had told him he would not die until struck upon this, pointing to the front left of his head, dyeing this from it with blood, taking his beard and saying his killer was the most wretched of this community, as the hamstringer of the she-camel of Allah was the most wretched of a clan of Thamud, whom the Messenger ﷺ traced to its nearer thigh apart from Thamud.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسنان یزید بن مرہ دیلی بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ شدید بیمار ہو گئے ، یہاں تک کہ وہ مستقل بیمار رہے ، تو ہمیں ان کے حوالے سے اندیشہ ہوا پھر وہ تندرست اور صحت یاب ہو گئے ، تو ہم نے کہا : اے ابوالحسن ! آپ کو مبارک باد ہو ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے آپ کو عافیت عطا کی ہے ، ہمیں تو آپ کے بارے میں اندیشہ ہو چلا تھا ، تو انہوں نے فرمایا : لیکن مجھے اپنی ذات کے بارے میں اندیشہ نہیں تھا ، حضرت صادق و مصدوق ﷺ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک میرے یہاں ضرب نہیں لگائی جائے گی ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کے آگے والے بائیں حصے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات بیان کی اور خون کے ذریعے یہ جگہ رنگین نہیں ہو گی ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی داڑھی پکڑ کر یہ بات بیان کی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا : تمہیں وہ شخص قتل کرے گا جو اس امت کا سب سے زیادہ بدنصیب ہو گا ، جس طرح اللہ کی بھیجی ہوئی اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا شخص قوم ثمود میں سے بنو فلاں کا سب سے زیادہ بدنصیب شخص تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی نسبت قوم ثمود کی ذیلی شاخ کی طرف کر کے بیان کی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں علی بن مدینی کا والد موجود ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14782

Majma al-Zawaid #14782

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُبَيْعٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَقُولُ: لَتُخَضَّبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، فَمَا يَنْتَظِرُ بِيَ الْأَشْقَى؟ قَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَخْبِرْنَا بِهِ نُبِيرُ عِتْرَتَهُ قَالَ: إِذًا تَقْتُلُونَ بِي غَيْرَ قَاتِلِي. قَالُوا: فَاسْتَخْلِفْ عَلَيْنَا قَالَ: لَا وَلَكِنْ أَتْرُكُكُمْ إِلَى مَا تَرَكَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا: فَمَاذَا تَقُولُ لِرَبِّكَ إِذَا أَتَيْتَهُ؟ قَالَ: أَقُولُ: اللَّهُمَّ تَرَكْتَنِي فِيهِمْ مَا بَدَا لَكَ، ثُمَّ قَبَضْتَنِي إِلَيْكَ وَأَنْتَ فِيهِمْ؛ فَإِنْ شِئْتَ أَصْلَحْتَهُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْسَدْتَهُمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُبَيْعٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Subayʿ reports that he heard ʿAli, peace be upon him, say this would surely be dyed from this, so what did the most wretched await for him. When asked O Commander of the Faithful to tell them of him to destroy his family, he said then they would kill for him other than his killer. When asked to appoint a successor over them, he said no, but to leave them to what the Messenger ﷺ had left them. When asked what he would say to his Lord when he came to Him, he said he would say O Allah, he had left him among them as long as it pleased Him, then He took him to Him while He was among them: if He willed He would set them right, and if He willed He would corrupt them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن سبیع بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : یہ اس کے ذریعے رنگین ہو جائے گی اور میرا انتظار صرف بدنصیب ترین شخص کرے گا ، لوگوں نے کہا : اے امیرالمومنین ! آپ ہمیں اس کے بارے میں بتائیے ، ہم اس کی نسل ہی فنا کر دیں گے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایسی صورت میں تم میرے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرو گے ، لوگوں نے کہا : آپ ہم پر کسی کو اپنا نائب مقرر کر دیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں بلکہ میں تمہیں اسی طرح چھوڑ دوں گا ، جس طرح کی صورت حال میں نبی اکرم ﷺ نے تم لوگوں کو چھوڑا تھا ، لوگوں نے دریافت کیا : جب آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں جائیں گے ، تو آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں کیا کہیں گے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ کہوں گا کہ اے اللہ ! تو نے مجھے ان کے درمیان اس وقت تک رہنے دیا جب تک تو نے مناسب سمجھا ، پھر تو نے مجھے اپنی طرف قبض کر لیا ، لیکن تو ان کے درمیان موجود ہے ، اگر تو چاہے ، تو ان کو ٹھیک رکھ اور اگر تو چاہے تو انہیں خراب کر دے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں البتہ عبداللہ بن سبیع کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

14783

Majma al-Zawaid #14783

وَعَنْ ثَعْلَبَةَ: أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ: وَاللَّهِ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيَّ أَنَّ الْأُمَّةَ سَتَغْدِرُ بِي. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَضُعِّفَ.

EnglishUnverified translation

Thaʿlabah reports that ʿAli said upon the minbar swearing by Allah it was the covenant of the unlettered Prophet ﷺ to him that the community would betray him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثعلبہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر ارشاد فرمایا : اُمی نبی نے مجھے یہ بات بتائی تھی کہ ایک گروہ عنقریب میرے ساتھ غداری کرے گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن قادم ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اور اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ۔

14784

Majma al-Zawaid #14784

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: رَأَيْتُ «النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْتَزَمَ عَلِيًّا وَقَبَّلَهُ وَيَقُولُ: "" بِأَبِي الْوَحِيدُ الشَّهِيدُ!! بِأَبِي الْوَحِيدُ الشَّهِيدُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾishah, may Allah be pleased with her, reports that she saw the Prophet ﷺ embrace ʿAli, kiss him, and say at the cost of his father the lone martyr, at the cost of his father the lone martyr. > **"At the cost of my father, the lone martyr, the lone martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لپٹا لیا ، ان کا بوسہ لیا اور یہ ارشاد فرمایا : میرے باپ کی قسم ! یہ اکیلا ہو گا ، اور شہید ہو گا ، میرے باپ کی قسم ! ایہ اکیلا ہو گا اور شہید ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14785

Majma al-Zawaid #14785

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «قَالَ لِعَلِيٍّ قَبْلَ مَوْتِهِ: "" تُبَرِّئُ ذِمَّتِي وَتُقْتَلُ عَلَى سُنَّتِي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ ضُعَفَاءُ وَقَدْ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abu Rafiʿ, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ said to ʿAli before his death that he would clear his liability and be slain upon his practice. > **"You will clear my liability and be slain upon my practice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے وصال سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ’’ تم میرے ذمہ کو پورا کرو گے ، اور تمہیں میری سنت پر قتل کیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ضعیف راویوں کی ایک جماعت ہے جن کی توثیق کی گئی ہے ۔

14786

Majma al-Zawaid #14786

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَقَدْ وَضَعْتُ قَدَمِي فِي الْغَرْزِ، فَقَالَ لِي: لَا تَقْدَمِ الْعِرَاقَ فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكَ بِهَا ذُبَابُ السَّيْفِ. قَالَ عَلِيٌّ: وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَخْبَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ: فَمَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ مُحَارِبًا يُخْبِرُ بِذَا عَنْ نَفْسِهِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAli, may Allah be pleased with him, reports that ʿAbdullah ibn Salam came to him while he had placed his foot in the stirrup, telling him not to advance to Iraq, fearing the edge of the sword would strike him there. ʿAli replied by Allah the Messenger ﷺ had already told him of it. Abu al-Aswad said he had never seen as that day a warrior informing of this concerning himself.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن سلام میرے پاس آئے ، میں اس وقت اپنا پاؤں رکاب میں رکھ چکا تھا ، انہوں نے مجھ سے کہا : آپ عراق نہ جائیں کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تلوار کی نوک آپ کو نقصان پہنچا دے گی ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اس کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے بتایا ہے ۔ ابواسود کہتے ہیں : میں نے آج جیسا دن نہیں دیکھا ، ایک جنگجو شخص اپنی ذات کے بارے میں اس طرح کی بات بیان کر رہا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن ابواسرائیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔

14787

Majma al-Zawaid #14787

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ كُنْتَ قُلْتَ لِي يَوْمَ أُحُدٍ حِينَ أُخِّرْتُ عَنِ الشَّهَادَةِ: "" إِنَّ الشَّهَادَةَ مِنْ وَرَائِكَ "". قَالَ: "" كَيْفَ خَبَرُكَ إِذَا خُضِّبَتْ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ؟ "". وَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى لِحْيَتِهِ وَرَأْسِهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَمَا إِذْ بَيَّنْتَ لِي مَا بَيَّنْتَ فَلَيْسَ ذَاكَ فِي مَوَاطِنِ الصَّبْرِ، وَلَكِنْ هُوَ فِي مَوَاطِنِ الْبُشْرَى وَالْكَرَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that ʿAli said O Messenger of Allah, he had told him on the Day of Uḥud when kept back from martyrdom that martyrdom lay behind him. The Prophet ﷺ asked how he would fare when this was dyed from this, gesturing with his hand to his beard and head. ʿAli replied that since he had clarified what he clarified, that was no occasion of patience but of glad tidings and honour. > **"Martyrdom lies behind you. How will you fare when this is dyed from this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے غزوہ احد کے دن جب شہادت کو موخر کیا تھا ، تو آپ نے مجھ سے یہ فرمایا تھا کہ شہادت بعد میں ہو گی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہیں کیسے خبر ہو سکتی ہے جبکہ اس کو اس کے ذریعے رنگین کر دیا جائے گا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ ان کی داڑھی اور ان کے سر کی طرف بڑھایا ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جب آپ نے میرے سامنے یہ بات بیان کر دی ہے ، تو پھر یہ تو صبر کی صورت میں ہی ہو سکتا ہے ، لیکن یہ تو خوشخبری اور کرامت بھی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14788

Majma al-Zawaid #14788

وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ - يَعْنِي الْحَنَفِيَّ - عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَنَامِي فَشَكَوْتُ إِلَيْهِ مَا لَقِيتُ مِنْ أُمَّتِهِ مِنَ الْأَوْلَادِ وَاللَّدَدِ فَبَكَيْتُ، فَقَالَ لِي: "" لَا تَبْكِ يَا عَلِيُّ وَالْتَفَتَ "". فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَجُلَانِ يَتَصَعَّدَانِ، وَإِذَا جَلَامِيدُ يُرْضَخُ بِهَا رُءُوسُهُمَا حَتَّى تُفْضَخَ، ثُمَّ يَرْجِعُ - أَوْ قَالَ: يَعُودُ -. قَالَ: فَغَدَوْتُ إِلَى عَلِيٍّ كَمَا كُنْتُ أَغْدُو عَلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْخَرَّازِينَ لَقِيتُ النَّاسَ، فَقَالُوا لِي: قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى هَكَذَا، وَلَعَلَّ الرَّائِيَ هُوَ أَبُو صَالِحٍ رَآهُ لِعَلِيٍّ، وَأَنَّ اللَّذَيْنِ رَآهُمَا ابْنُ مُلْجَمٍ الْقَاتِلُ وَرَفِيقُهُ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ṣaliḥ, meaning al-Ḥanafi, reports from ʿAli that he saw the Prophet ﷺ in his dream and complained to him of what he met from his community of disobedience and contention, whereupon he wept. The Prophet ﷺ told him not to weep O ʿAli but to turn, so he turned to find two men ascending with boulders crushing their heads until split, then returning. The narrator went to ʿAli as he used to go each day until among the tanners he met people telling him the Commander of the Faithful had been killed. > **"Do not weep, O ʿAli, but turn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوصالح حنفی ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے خواب میں نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ، میں نے آپ کے سامنے اس چیز کی شکایت کی جو مجھے آپ کی امت کی طرف سے سامنا کرنا پڑ رہا تھا ، جس کا تعلق انحراف سے تھا ، شدید دشمنی سے تھا ، میں رونے لگا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی ! تم نہ روؤ ! تم مڑ کے دیکھو ، جب میں نے مڑ کے دیکھا تو وہاں دو آدمی تھے جو اوپر چڑھ رہے تھے اور وہاں ایک پتھر تھا جس کے ذریعے ان دونوں کو کچلا جا رہا تھا یہاں تک کہ وہ دوبارہ پہلے کی طرح ہو جاتے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف گیا جس طرح میں روزانہ ان کے پاس جایا کرتا تھا ، یہاں تک کہ جب میں خرازین کے مقام پر تھا ، تو میری لوگوں سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے مجھے بتایا : امیرالمومنین کو شہید کر دیا گیا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اسی طرح نقل کی ہے ، تاہم خواب دیکھنے والے شخص شاید ابوصالح ہیں جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ خواب دیکھا تھا اور جن دو افراد کو انہوں نے دیکھا تھا ان میں سے ایک ابن ملجم تھا ، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا اور دوسرا اس کا ساتھی تھا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14789

Majma al-Zawaid #14789

عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: دَعَاهُمْ عَلِيٌّ إِلَى الْبَيْعَةِ فَجَاءَ فِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلْجَمٍ، وَقَدْ كَانَ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: مَا يَحْبِسُ أَشْقَاهَا؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُخَضَّبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، وَتَمَثَّلَ بِهَذَيْنِ الْبَيْتَيْنِ: اشْدُدْ حَيَازِيمَكَ لِلَمَوْ ... تِ فَإِنَّ الْمَوْتَ آتِيكَ وَلَا تَجْزَعْ مِنَ الْمَوْتِ فَإِنَّ الْمَوْتَ بِوَادِيكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ: عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Ṭufayl reports that ʿAli summoned them to allegiance, among whom came ʿAbd al-Raḥman ibn Muljam, whom he had already seen twice before. He then said what detained the most wretched of them: by the One in whose hand was his soul, this would surely be dyed from this. He recited two verses commanding to gird for death, for death would come, and not to panic of death, for death lay in its valley.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا ، ان آنے والے لوگوں میں ایک شخص عبدالرحمن بن ملجم بھی تھا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سے پہلے دو مرتبہ اسے دیکھ چکے تھے ، پھر انہوں نے فرمایا : اس ( امت ) کے بدنصیب ترین شخص کو کس چیز نے روکا ہوا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اس کو اس کے ذریعے رنگین کر دیا جائے گا ، پھر انہوں نے مثال کے طور پر یہ دو اشعار پڑھے : ’’ اپنے اعضاء کو موت کے لیے باندھ لو ، کیونکہ موت تمہارے پاس آ ہی جائے گی ، اور موت کے حوالے سے اضطراب کا شکار نہ ہو ، کیونکہ موت تمہاری منزل ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14790

Majma al-Zawaid #14790

وَعَنْ عَوَانَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: لَمَّا ضَرَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلْجَمٍ عَلِيًّا وَحُمِلَ إِلَى مَنْزِلِهِ، أَتَاهُ الْعُوَّادُ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: كُلُّ امْرِئٍ مُلَاقٍ مَا يَفِرُّ مِنْهُ، وَالْأَجْلُ مَسَاقُ النَّفْسِ، وَالْهَرَبُ مِنْ آفَاتِهِ، كَمِ اطَّرَدْتُ الْأَنَامَ أَبْحَثُهَا عَنْ مَكْنُونِ هَذَا الْأَمْرِ، فَأَبَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَّا خَفَاءَهُ، هَيْهَاتَ عِلْمٌ مَخْزُونٌ. أَمَّا وَصِيَّتِي إِيَّاكُمْ فَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا تُضَيِّعُوا سُنَّتَهُ، أَقِيمُوا هَذَيْنِ الْعَمُودَيْنِ، وَخَلَاكُمْ ذَمُّ مَا لَمْ تَشْرُدُوا، وَأُحَمِّلُ كُلَّ امْرِئٍ مَجْهُودَهُ، وَخُفِّفَ عَنِ الْجَهَلَةِ بِرَبٍّ رَحِيمٍ، وَدِينٍ قَوِيمٍ، وَإِمَامٍ عَلِيمٍ، كُنَّا فِي رِيَاحٍ وَذُرْيِ أَغْصَانٍ، وَتَحْتَ ظِلِّ غَمَامَةٍ اضْمَحَلَّ مَرْكَزُهَا فَيَحُطُّهَا عَلُوٌّ خَاوَرَكُمْ تَدَنِّي أَيَّامِنَا تِبَاعًا، ثُمَّ هَوَاءً فَسَتَعْقُبُونَ مِنْ بَعْدِهِ جُثَّةً خَوَاءً سَاكِنَةً بَعْدَ حَرَكَةٍ كَاظِمَةً، بَعْدَ نُطُوقِ أَنَّهُ أَبْلَغُ لِلْمُعْتَبِرِينَ مِنْ نُطْقِ الْبَلِيغِ، وَدَاعِيكُمْ دَاعٍ مُرْصَدٌ لِلتَّلَاقِ، غَدًا تَرَوْنَ أَيَّامِي، وَيُكْشَفُ عَنْ سَرَائِرِي، لَنْ يُحَابِيَنِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَّا أَنْ أَتَزَلَّفَهُ بِتَقْوًى فَيَغْفِرَ عَنْ فَرْطِ مَوْعُودٍ، عَلَيْكُمُ السَّلَامُ يَوْمَ اللِّزَامِ إِنْ أَبْقَ فَأَنَا وَلِيُّ دَمِي، وَإِنْ أَفْنَى فَالْفَنَاءُ مِيعَادِي، الْعَفْوُ لِي فَدِيَةٌ وَلَكُمْ حَسَنَةٌ، فَاعْفُوا عَفَا اللَّهُ عَنَّا وَعَنْكُمْ "" أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ "". ثُمَّ قَالَ: عِشْ مَا بَدَا لَكَ قَصْرُكَ الْمَوْتُ ... لَا مَرْحَلٌ عَنْهُ وَلَا فَوْتُ بَيْنَا غِنَى بَيْتٍ وَبَهْجَتِهِ ... زَالَ الْغِنَى وَتَقَوَّضَ الْبَيْتُ يَا لَيْتَ شِعْرِي مَا يُرَادُ بِنَا ... وَلَعَلَّ مَا تُجْدِي لَنَا لَيْتُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ هِشَامٌ الْكَلْبِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAwanah ibn al-Ḥakam reports that when ʿAbd al-Raḥman ibn Muljam struck ʿAli and he was carried to his house, visitors came to him. He praised Allah, extolled Him, invoked blessings upon the Prophet ﷺ, then said every man would meet what he fled from, the term drove the soul, and flight from its ills. How often he had driven people seeking the hidden of this affair, but Allah refused except its concealment: far a stored knowledge. His counsel to them was Allah: to associate nothing with Him, and Muḥammad ﷺ: not to neglect his practice; to uphold these two pillars, with blame removed unless they strayed; each man bore his effort, with the ignorant lightened by a merciful Lord, upright religion, and knowing imam. They had been in winds and scattered branches beneath a cloud whose centre had dissolved, when heights cast them down, their days closing in succession, then air, after which they would leave a hollow lifeless body silent after speech, more eloquent to considerers than eloquent speech. Their caller called watched for meeting: tomorrow they would see his days and his secrets uncovered. Allah would not favour him except he draw near Him with piety, forgiving excess of promise. Peace upon them on the day of reckoning: if he lived he was guardian of his blood, if he perished then perishing was his appointment; pardon was his ransom and their good, so to pardon as Allah pardoned them, with the verse whether they would not love Allah to forgive them, for Allah was Forgiving, Merciful. He then recited verses that however long one lived death was his palace with no departure nor escape, while wealth of a house and its joy vanished and the house collapsed, wondering what was intended by them though wishing availed little.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عوانہ بن حکم بیان کرتے ہیں : جب عبدالرحمن بن ملجم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر وار کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر لایا گیا ، تو عیادت کرنے والے لوگ ان کے پاس آنے لگے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا اور پھر یہ بات بیان کی : کہ ہر آدمی کو اس صورت حال کا سامنا کرنا ہوتا ہے ، جس سے وہ بھاگتا پھرتا ہے ، اور موت جان کو لے جاتی ہے ، اور بھاگنا اُس کی آفات میں سے ایک ہے ، میں کتنے عرصے تک اس مسئلے کے پوشیدہ اسرار کو جان لینے کی کوشش کرتا رہا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہی چاہا کہ وہ پوشیدہ رہے ، یہ پوشیدہ علم دور ہے ، بہرحال تم لوگوں کو میری وصیت اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ ہے کہ تم کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا اور حضرت محمد ﷺ کے بارے میں یہ ہے کہ تم اُن کی سنت کو ضائع نہ کرنا ، تم لوگ ان دونوں ستونوں کو قائم رکھنا اور تم پر کوئی مذمت نہیں ہو گی ، جب تک تم ( اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام سے ) روگردانی نہیں کرتے ، اور میں ہر شخص کو اس کی حیثیت کے مطابق ( عمل کرنے کا ) مکلف قرار دیتا ہوں ، اور رحم کرنے والا پروردگار ، مستقیم ( یا مضبوط ) دین اور علم والے امام ( یعنی پیشوا یعنی نبی اکرم ﷺ ) کے بارے میں جاہل ( یعنی ناواقف ) لوگوں کو ( بہت سے امور میں ) تخفیف دی گئی ہے ۔ ہم ہواؤں کی زد میں رہے اور لہراتی ہوئی ٹہنیوں میں رہے ، اور بادل کے سائے کے نیچے رہے ( یعنی ایسی حالت میں رہے جس کو ثبات اور قرار حاصل نہیں تھا ) اس ( بادل ) کا مرکز چھٹ گیا ہے ( یعنی بادل چلا گیا ) اور بلندی اس کو نیچے کی طرف لے آئی ، ہمارے ایام ایک دوسرے کے پیچھے ( تیزی سے ) گزرتے ہیں ، پھر ہوا ( یعنی فراغت یا کشادگی یا وہم ) ہے ، اور پھر اس کے بعد تمہارے سامنے خالی جسم ہو گا ، جو حرکت کے بعد ساکن اور گویائی کے بعد خاموش ہو چکا ہو گا ، عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے یہ بات بلیغ گفتگو سے زیادہ مؤثر ہے اور تمہیں دعوت دینے والا ایسا فرد ہے جو ( اللہ تعالیٰ ) کی بارگاہ میں حاضری کے لیے تیار ہے ، کل تم میری زندگی کا جائزہ لو گے اور میرے پوشیدہ معاملات سے پردہ ہٹے گا ، اللہ تعالیٰ مجھ پر اسی صورت میں فضل کرے گا جب میں تقویٰ ساتھ لے کر اس کی بارگاہ میں جاؤں گا ، وہ مغفرت کر دے گا جس کا وعدہ ہے ، قیامت کے دن تم پر سلامتی نازل ہو ، اگر میں بچ گیا تو اپنے خون کا میں خود ولی ہوؤں گا اور اگر میں مر گیا ، ویسے مرنا تو میں نے ( کسی نہ کسی دن ) ہے ، تو ( میرے قاتل کو ) معاف کر دینا میرے حق میں فدیہ اور تمہارے حق میں بھلائی ہو گی ، تو تم لوگ معاف کر دینا ، اللہ تعالیٰ ہم سے اور تم سے درگزر کرے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے ، اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے ۔‘‘ پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ’’ جتنا تمہیں اچھا لگے جی لو ، تمہارا انجام بہرحال موت ہے ، جس سے کوئی مفر نہیں ہے اور وہ آ کے ہی رہے گی ( تم زندہ رہو ) گھر کی خوشحالی اور خوشی کے درمیان رہو ، آخرکار یہ خوشحالی ختم ہو جائے گی اور گھر چھوٹ جائے گا ، ہائے افسوس ! ہمارے ساتھ کیا مراد لیا گیا ہے ؟ اور ہمیں جو دیا گیا ہے ، وہ ’’ اے کاش ‘‘ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہشام کلبی ہے اور وہ متروک ہے ۔

14791

Majma al-Zawaid #14791

وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَاشِدٍ قَالَ: كَانَ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مُلْجَمٍ - لَعَنَهُ اللَّهُ وَأَصْحَابَهُ -: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُلْجَمٍ، وَالْبُرَكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَعُمَرَ بْنَ بَكْرٍ التَّمِيمِيَّ، اجْتَمَعُوا بِمَكَّةَ فَذَكَرُوا أَمْرَ النَّاسِ وَعَابُوا عَلَيْهِمْ عَمَلَ وُلَاتِهِمْ، ثُمَّ ذَكَرُوا أَهْلَ النَّهْرَوَانِ فَتَرَحَّمُوا عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا نَصْنَعُ بِالْبَقَاءِ بَعْدَهُمْ شَيْئًا؟ إِخْوَانُنَا الَّذِينَ كَانُوا دُعَاةَ النَّاسِ لِعِبَادَةِ رَبِّهِمْ، الَّذِينَ كَانُوا لَا يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، فَلَوْ شَرَيْنَا أَنْفُسَنَا فَأَتَيْنَا أَئِمَّةَ الضَّلَالَةِ فَالْتَمَسْنَا قَتْلَهُمْ فَأَرَحْنَا مِنْهُمُ الْبِلَادَ، وَثَأَرْنَا بِهِمْ إِخْوَانَنَا. قَالَ ابْنُ مُلْجَمٍ - وَكَانَ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ -: أَنَا أَكْفِيكُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ. وَقَالَ الْبُرَكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَا أَكْفِيكُمْ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ. وَقَالَ عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ التَّمِيمِيُّ: أَنَا أَكْفِيكُمْ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ. فَتَعَاهَدُوا وَتَوَاثَقُوا بِاللَّهِ أَنْ لَا يَنْكُصَ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَنْ صَاحِبِهِ الَّذِي تَوَجَّهَ إِلَيْهِ حَتَّى يَقْتُلَهُ أَوْ يَمُوتَ دُونَهُ، فَأَخَذُوا أَسْيَافَهُمْ فَسَمُّوهَا، اتَّعَدُوا لِسَبْعَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ أَنْ يَثِبَ كُلُّ وَاحِدٍ عَلَى صَاحِبِهِ الَّذِي تَوَجَّهَ إِلَيْهِ. وَأَقْبَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ إِلَى الْمِصْرِ الَّذِي فِيهِ صَاحِبُهُ الَّذِي يَطْلُبُ، فَأَمَّا ابْنُ مُلْجَمٍ الْمُرَادِيُّ فَأَتَى أَصْحَابَهُ بِالْكُوفَةِ، وَكَاتَمَهُمْ أَمْرَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُظْهِرُوا شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ، وَأَنَّهُ لَقِيَ أَصْحَابَهُ مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ وَقَدْ قَتَلَ عَلِيٌّ مِنْهُمْ عِدَّةً يَوْمَ النَّهْرِ، فَذَكَرُوا قَتْلَاهُمْ فَتَرَحَّمُوا عَلَيْهِمْ. قَالَ: وَلَقِيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ يُقَالُ لَهَا: قَطَامِ بِنْتُ الشِّحْنَةِ، وَقَدْ قَتَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَبَاهَا وَأَخَاهَا يَوْمَ النَّهْرِ، وَكَانَتْ فَائِقَةَ الْجَمَالِ، فَلَمَّا رَآهَا الْتَبَسَتْ بِعَقْلِهِ وَنَسِيَ حَاجَتَهُ الَّتِي جَاءَ لَهَا فَخَطَبَهَا، فَقَالَتْ: لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تَشْفِيَنِي قَالَ: وَمَا تَشَائِينَ؟ قَالَتْ: ثَلَاثَةُ آلَافٍ، وَعَبْدٌ وَقَيْنَةٌ، وَقَتْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: هُوَ مَهْرٌ لَكِ، فَأَمَّا قَتْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَمَا أَرَاكِ ذَكَرْتِيهِ وَأَنْتِ تُرِيدِينَهُ. قَالَتْ: بَلَى، فَالْتَمِسْ غُرَّتَهُ فَإِنْ أَصَبْتَهُ شَفَيْتَ نَفْسَكَ وَنَفْسِي، وَنَفَعَكَ مَعِي الْعَيْشُ، وَإِنْ قُتِلْتَ فَمَا عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَزِبْرِجِ أَهْلِهَا. فَقَالَ: مَا جَاءَ بِي إِلَى هَذَا الْمِصْرِ إِلَّا قَتْلُ عَلِيٍّ. قَالَتْ: فَإِذَا أَرَدْتَ ذَلِكَ فَأَخْبِرْنِي حَتَّى أَطْلُبَ لَكَ مَنْ يَشُدُّ ظَهْرَكَ وَيُسَاعِدُكَ عَلَى أَمْرِكَ، فَبَعَثَتْ إِلَى رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهَا مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ يُقَالُ لَهُ: وَرْدَانُ، فَكَلَّمَتْهُ فَأَجَابَهَا، وَأَتَى ابْنُ مُلْجَمٍ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ يُقَالُ لَهُ: شَبِيبُ بْنُ نَجْدَةَ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ لَكَ فِي شَرَفِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَتْلُ عَلِيٍّ قَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ؛ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِدًّا، كَيْفَ تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ؟ قَالَ: أَكْمُنُ لَهُ فِي السَّحَرِ فَإِذَا خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الْغَدَاةِ شَدَدْنَا عَلَيْهِ فَقَتَلْنَاهُ، فَإِنْ نَجَوْنَا شَفَيْنَا أَنْفُسَنَا وَأَدْرَكْنَا ثَأْرَنَا، وَإِنْ قُتِلْنَا فَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَزِبْرِجِ أَهْلِهَا. قَالَ: وَيْحَكَ! لَوْ كَانَ غَيْرَ عَلِيٍّ كَانَ أَهْوَنَ عَلَيَّ، قَدْ عَرَفْتَ بَلَاءَهُ فِي الْإِسْلَامِ، وَسَابِقَتَهُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا أَجِدُنِي أَشْرَحُ لِقَتْلِهِ. قَالَ: أَمَا تَعْلَمُ أَنَّهُ قَتَلَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ الْعُبَّادَ الْمُصَلِّينَ؟ قَالَ: نَعَمْ نَقْتُلُهُ بِمَا قَتَلَ مِنْ إِخْوَانِنَا، فَأَجَابَهُ فَجَاءُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى قَطَامِ وَهِيَ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ مُعْتَكِفَةً فِيهِ، فَقَالُوا لَهَا: قَدِ اجْتَمَعَ رَأْيُنَا عَلَى قَتْلِ عَلِيٍّ. قَالَ: فَإِذَا أَرَدْتُمْ ذَلِكَ فَأْتُونِي، فَقَالَ: هَذِهِ اللَّيْلَةُ الَّتِي وَاعَدْتُ فِيهَا صَاحِبَيَّ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا صَاحِبَهُ، فَدَعَتْ لَهُمْ بِالْحَرِيرِ فَعَصَّبَتْهُمْ، وَأَخَذُوا أَسْيَافَهُمْ، وَجَلَسُوا مُقَابِلَ السُّدَّةِ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْهَا عَلِيٌّ، فَخَرَجَ [عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَجَعَلَ يَقُولُ: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَشَدَّ عَلَيْهِ شَبِيبٌ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ فَوَقَعَ السَّيْفُ بِعَضَادَتَيِ الْبَابِ أَوْ بِالطَّاقِ فَشَدَّ عَلَيْهِ ابْنُ مُلْجَمٍ فَضَرَبَهُ عَلَى قَرْنِهِ وَهَرَبَ، حَتَّى وَرَدَ أَنَّ حَتَّى دَخَلَ مَنْزِلَهُ، وَدَخَلَ رَجُلٌ مَنْ بَنِي أُمِّهِ وَهُوَ يَنْزِعُ السَّيْفَ وَالْحَدِيدَ عَنْ صَدْرِهِ، فَقَالَ: مَا هَذَا السَّيْفُ وَالْحَدِيدُ؟ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ، فَذَهَبَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَجَاءَ بِسَيْفِهِ فَضَرَبَهُ حَتَّى قَتَلَهُ، وَخَرَجَ شَبِيبٌ نَحْوَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ، فَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ إِلَّا أَنَّ رَجُلًا [مِنْ حَضْرَمَوْتَ] يُقَالُ لَهُ: عُوَيْمِرٌ ضَرَبَ رِجْلَهُ بِالسَّيْفِ، فَصَرَعَهُ وَجَثَمَ عَلَيْهِ الْحَضْرَمِيُّ، فَلَمَّا رَأَى النَّاسَ قَدْ أَقْبَلُوا فِي طَلَبِهِ وَسَيْفُ شَبِيبٍ فِي يَدِهِ خَشِيَ عَلَى نَفْسِهِ فَتَرَكَهُ فَنَجَا بِنَفْسِهِ، وَنَجَا شَبِيبٌ فِي غِمَارِ النَّاسِ. وَخَرَجَ ابْنُ مُلْجَمٍ، فَشَدَّ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ [أَهْلِ] هَمَذَانَ يُكَنَّى: أَبَا أُدُمَا، فَضَرَبَ رِجْلَهُ فَصَرَعَهُ، وَتَأَخَّرَ عَلِيٌّ، وَدَفَعَ فِي ظَهْرِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ بْنِ أَبِي وَهْبٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ الْغَدَاةَ، وَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ. وَذَكَرُوا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ حُنَيْفٍ قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُصَلِّي تِلْكَ اللَّيْلَةَ [الَّتِي ضُرِبَ فِيهَا عَلِيٌّ] فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ قَرِيبًا مِنَ السُّدَّةِ فِي رِجَالٍ كَثِيرَةٍ مَنْ أَهْلِ الْمِصْرِ مَا فِيهِمْ إِلَّا قِيَامٌ وَرُكُوعٌ وَسُجُودٌ، مَا يَسْأَمُونَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ إِلَى آخِرِهِ، إِذْ خَرَجَ عَلِيٌّ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، وَجَعَلَ يُنَادِي: أَيُّهَا النَّاسُ، الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَمَا أَدْرِي أَتَكَلَّمُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ، أَوْ نَظَرْتُ إِلَى بَرِيقِ السَّيْفِ، وَسَمِعْتُ: الْحُكْمُ لِلَّهِ لَا لَكَ يَا عَلِيُّ وَلَا لِأَصْحَابِكَ. فَرَأَيْتُ سَيْفًا، وَرَأَيْتُ نَاسًا، وَسَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: لَا يَفُوتُكُمُ الرَّجُلُ. وَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ. فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أُخِذَ ابْنُ مُلْجَمٍ، فَأُدْخِلَ عَلَى عَلِيٍّ، فَدَخَلْتُ فِيمَنْ دَخَلَ مِنَ النَّاسِ، فَسَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، إِنْ هَلَكْتُ فَاقْتُلُوهُ كَمَا قَتَلَنِي، وَإِنْ بَقِيتُ رَأَيْتُ فِيهِ رَأْيِي. وَلَمَّا أُدْخِلَ ابْنُ مُلْجَمٍ عَلَى عَلِيٍّ قَالَ لَهُ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ، أَلَمْ أُحْسِنْ إِلَيْكَ؟ أَلَمْ أَفْعَلْ بِكَ؟ قَالَ: بَلَى قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ: شَحَذْتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يَقْتُلَ بِهِ شَرَّ خَلْقِهِ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ: مَا أُرَاكَ إِلَّا مَقْتُولًا بِهِ، وَمَا أُرَاكَ إِلَّا مِنْ شَرِّ خَلْقِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -. وَكَانَ ابْنُ مُلْجَمٍ مَكْتُوفًا بَيْنَ يَدَيِ الْحَسَنِ إِذْ نَادَتْهُ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عَلِيٍّ وَهِيَ تَبْكِي: يَا عَدُوَّ اللَّهِ، [إِنَّهُ] لَا بَأْسَ عَلَى أَبِي، وَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مُخْزِيكَ. قَالَ: فَعَلَامَ تَبْكِينَ، وَاللَّهِ لَقَدِ اشْتَرَيْتُهُ بِأَلْفٍ، وَسَمَمْتُهُ بِأَلْفٍ، وَلَوْ كَانَتْ هَذِهِ الضَّرْبَةُ لِجَمِيعِ أَهْلِ مِصْرَ مَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ سَاعَةً، وَهَذَا أَبُوكِ بَاقِيًا حَتَّى الْآنَ. فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ: إِنْ بَقِيتُ رَأَيْتُ فِيهِ رَأْيِي، وَلَئِنْ هَلَكْتُ مِنْ ضَرْبَتِي هَذِهِ فَاضْرِبْهُ ضَرْبَةً وَلَا تُمَثِّلْ بِهِ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «يَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ وَلَوْ بِالْكَلْبِ الْعَقُورِ». وَذُكِرَ أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ دَخَلَ عَلَى عَلِيٍّ يَسْأَلُ بِهِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ فَقَدْنَاكَ وَلَا نَفْقِدُكَ فَنُبَايِعُ الْحَسَنَ؟ قَالَ: مَا آمُرُكُمْ وَلَا أَنْهَاكُمْ، أَنْتُمْ أَبْصَرُ. فَلَمَّا قُبِضَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بَعَثَ الْحَسَنُ إِلَى ابْنِ مُلْجَمٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ مُلْجَمٍ: هَلْ لَكَ فِي خَصْلَةٍ، إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَعْطَيْتُ اللَّهَ عَهْدًا إِلَّا وَفَيْتُ بِهِ، إِنِّي كُنْتُ أَعْطَيْتُ اللَّهَ عَهْدًا أَنْ أَقْتُلَ عَلِيًّا وَمُعَاوِيَةَ أَوْ أَمُوتَ دُونَهُمَا، فَإِنْ شِئْتَ خَلَّيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَلَكَ اللَّهُ عَلَى إِنْ لَمْ أَقْتُلْهُ أَنْ آتِيَكَ حَتَّى أَضَعَ يَدِي فِي يَدِكَ، فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ: لَا وَاللَّهِ أَوْ تُعَايِنُ النَّارَ، فَقَدَّمَهُ فَقَتَلَهُ، فَأَخَذَهُ النَّاسُ فَأَدْرَجُوهُ فِي بَوَارٍ، ثُمَّ أَحْرَقُوهُ بِالنَّارِ. وَقَدْ كَانَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُلْفِيَنَّكُمْ تَخُوضُونَ دِمَاءَ الْمُسْلِمِينَ تَقُولُونَ: قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا لَا يُقْتَلْ بِي إِلَّا قَاتِلِي. وَأُمًّا الْبُرَكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَعَدَ لِمُعَاوِيَةَ، فَخَرَجَ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَشَدَّ عَلَيْهِ بِسَيْفِهِ، وَأَدْبَرَ مُعَاوِيَةُ هَارِبًا، فَوَقَعَ السَّيْفُ فِي إِلْيَتِهِ فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي خَبَرًا أُبَشِّرُكَ بِهِ، فَإِنْ أَخْبَرْتُكَ أَنَافِعِي ذَلِكَ عِنْدَكَ؟ قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: إِنَّ أَخًا لِي قَتَلَ عَلِيًّا [فِي هَذِهِ] اللَّيْلَةَ. قَالَ: فَلَعَلَّهُ لَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ. قَالَ: بَلَى؛ إِنَّ عَلِيًّا يَخْرُجُ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ يَحْرُسُهُ، فَأَمَرَ بِهِ مُعَاوِيَةُ فَقُتِلَ، فَبَعَثَ إِلَى السَّاعِدِيِّ - وَكَانَ طَبِيبًا - فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ ضَرْبَتَكَ مَسْمُومَةٌ فَاخْتَرْ مِنِّي إِحْدَى خَصْلَتَيْنِ؛ إِمَّا أَنْ أَحْمِيَ حَدِيدَةً فَأَضَعُهَا فِي مَوْضِعِ السَّيْفِ، وَإِمَّا أَنْ أَسْقِيَكَ شَرْبَةً تَقْطَعُ مِنْكَ الْوَلَدَ وَتَبْرَأُ مِنْهَا؛ فَإِنَّ ضَرْبَتَكَ مَسْمُومَةٌ. فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَمَّا النَّارُ: فَلَا صَبْرَ لِي عَلَيْهَا، وَأَمَّا انْقِطَاعُ الْوَلَدِ: فَإِنَّ فِي يَزِيدَ وَعَبْدِ اللَّهِ وَوَلَدُهُمَا مَا تَقَرُّ بِهِ عَيْنِي. فَسَقَاهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الشَّرْبَةَ فَبَرَأَ، فَلَمْ يُولَدْ لَهُ بَعْدُ. فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْمَقْصُورَاتِ وَقِيَامِ الشُّرْطِ عَلَى رَأْسِهِ. وَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ: أَيْ بَنِيَّ، أُوصِيكُمَا بِتَقْوَى اللَّهِ، وَ [إِقَامَ] الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ عِنْدَ مَحَلِّهَا، وَحُسْنِ الْوُضُوءِ؛ فَإِنَّهُ لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ إِلَّا بِطَهُورٍ. وَأُوصِيكُمْ بِغَفْرِ الذَّنْبِ، وَكَظْمِ الْغَيْظِ، وَصِلَةِ الرَّحِمِ، وَالْحِلْمِ عَنِ الْجَاهِلِ، وَالتَّفَقُّهِ فِي الدِّينِ، وَالتَّثَبُّتِ فِي الْأَمْرِ، وَتَعَاهُدِ الْقُرْآنِ، وَحُسْنِ الْجِوَارِ، وَالْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَاجْتِنَابِ الْفَوَاحِشِ. قَالَ: ثُمَّ نَظَرَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ فَقَالَ: هَلْ حَفِظْتَ مَا أَوْصَيْتُ بِهِ أَخَوَيْكَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: إِنِّي أُوصِيكَ بِمِثْلِهِ، وَأُوصِيكَ بِتَوْقِيرِ أَخَوَيْكَ لِعِظَمِ حَقِّهِمَا عَلَيْكَ، وَتَزْيِينِ أَمْرِهِمَا، وَلَا تَقْطَعْ أَمْرًا دُونَهُمَا. ثُمَّ قَالَ لَهُمَا: أُوصِيكُمَا بِهِ؛ فَإِنَّهُ شَقِيقُكُمَا وَابْنُ أَبِيكُمَا، وَقَدْ عَلِمْتُمَا أَنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُحِبُّهُ. ثُمَّ أَوْصَى فَكَانَتْ وَصِيَّتُهُ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَوْصَى أَنْ يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ. ثُمَّ إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ. ثُمَّ أُوصِيكُمَا يَا حَسَنُ وَيَا حُسَيْنُ، وَيَا جَمِيعَ أَهْلِي وَوَلَدِي، وَمَنْ بَلَغَهُ كِتَابِي: بِتَقْوَى اللَّهِ رَبِّكُمْ، {وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102]، {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا} [آل عمران: 103]؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ صَلَاحَ ذَاتِ الْبَيْنِ أَعْظَمُ مِنْ عَامَّةِ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ» "". وَانْظُرُوا إِلَى ذَوِي أَرْحَامِكُمْ، فَصِلُوهُمْ يُهَوِّنِ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الْحِسَابَ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْأَيْتَامِ لَا يَضِيعُنَّ بِحَضْرَتِكُمْ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الصَّلَاةِ؛ فَإِنَّهَا عَمُودُ دِينِكُمْ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الزَّكَاةِ فَإِنَّهَا تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ فَأَشْرَكُوهُمْ فِي مَعَايِشِكُمْ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْقُرْآنِ لَا يَسْبِقَنَّكُمْ بِالْعَمَلِ بِهِ غَيْرُكُمْ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي بَيْتِ رَبِّكُمْ لَا يَخْلُوَنَّ مَا بَقِيتُمْ؛ فَإِنَّهُ إِنْ تُرِكَ لَمْ تُنَاظَرُوا. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي ذِمَّةِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا تُظْلَمَنَّ بَيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي جِيرَانِكُمْ فَإِنَّهُمْ وَصِيَّةُ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِهِمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُمْ» "". وَاللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّهُ أَوْصَى بِهِمْ. وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الضَّعِيفَيْنِ مِنَ النِّسَاءِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ [فِإِنَّ آخِرَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَالَ: "" أُوصِيكُمْ بِالضَّعِيفَيْنِ؛ النِّسَاءَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ""]. الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ لَا تَخَافُنَّ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ؛ اللَّهُ يَكْفِيكُمْ مَنْ أَرَادَكُمْ وَبَغَى عَلَيْكُمْ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ. وَلَا تَتْرُكُوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ؛ فَيُوَلَّى أَمْرَكُمْ شِرَارُكُمْ، ثُمَّ تَدْعُونَ وَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ. عَلَيْكُمْ بِالتَّوَاصُلِ وَالتَّبَادُلِ، إِيَّاكُمْ وَالتَّقَاطُعَ وَالتَّدَابُرَ وَالتَّفَرُّقَ "" وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ "". حَفِظَكُمُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ، وَحَفِظَ فِيكُمْ نَبِيَّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. أَسَتُودِعُكُمُ اللَّهَ، وَأَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ. ثُمَّ لَمْ يُنْطِقْ إِلَّا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حَتَّى قُبِضَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَةِ أَرْبَعِينَ، وَغَسَّلَهُ الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ الْحَسَنُ تِسْعَ تَكْبِيرَاتٍ، وَوَلِيَ الْحَسَنُ عَمَلَهُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ. وَكَانَ ابْنُ مُلْجَمٍ قَبْلَ أَنْ يَضْرِبَ عَلِيًّا قَعَدَ فِي بَنِي بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ إِذْ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةِ أَبْجَرَ بْنِ جَابِرٍ الْعِجْلِيِّ أَبِي حَجَّارٍ - وَكَانَ نَصْرَانِيًّا - وَالنَّصَارَى حَوْلَهُ وَنَاسٌ مَعَ حَجَّارٍ بِمَنْزِلَتِهِ يَمْشُونَ بِجَانِبِ إِمَامِهِمْ: شَقِيقِ بْنِ ثَوْرٍ السُّلَمِيِّ، فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَأُخْبِرَ، ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ: لَئِنْ كَانَ حَجَّارُ بْنُ أَبْجَرَ مُسْلِمًا ... لَقَدْ بُوعِدَتْ مِنْهُ جِنَازَةُ أَبْجَرِ وَإِنْ كَانَ حَجَّارُ بْنُ أَبْجَرَ كَافِرًا ... فَمَا مِثْلُ هَذَا مِنْ كَفُورٍ بِمُنْكَرِ أَتَرْضَوْنَ هَذَا إِنَّ قِسًّا وَمُسْلِمًا ... جَمِيعًا لَدَى نَعْشٍ فَيَا قُبْحَ مَنْظَرِ. وَقَالَ ابْنُ [أَبِي] عَيَّاشٍ الْمُرَادِيُّ: وَلَمْ أَرَ مَهْرًا سَاقَهُ ذُو سَمَاحَةٍ ... كَمَهْرِ قَطَامٍ بَيِّنًا غَيْرَ مُعْجَمِ ثَلَاثَةُ آلَافٍ وَعَبْدٌ وَقَيْنَةٌ ... وَضَرْبُ عَلِيٍّ بِالْحُسَامِ الْمُصَمِّمِ وَلَا مَهْرَ أَغْلَى مِنْ عَلِيٍّ وَإِنْ غَلَا ... وَلَا قَتْلَ إِلَّا دُونَ قَتْلِ ابْنِ مُلْجَمٍ. وَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ: أَلَا أَبْلِغْ مُعَاوِيَةَ بْنَ حَرْبٍ ... فَلَا قَرَّتْ عُيُونُ الشامِتِينَا أَفِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَجَعْتُمُونَا ... بِخَيْرِ الناسِ طُرًّا أَجْمَعِينَا قَتَلْتُمْ خَيْرَ مَنْ رَكِبَ الْمَطَايَا ... وَحَلَّسَهَا وَمَنْ رَكِبَ السَّفِينَا وَمَنْ لَبِسَ النِّعَالَ وَمَنْ حَذَاهَا ... وَمَنْ قَرَأَ الْمَثَانِيَ وَالْمِئِينَا لَقَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ حِينَ كَانَتْ ... بِأَنَّكَ خَيْرُهَا حَسَبًا وَدِينَا. وَأُمَّا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ فَقَعَدَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ الَّتِي ضُرِبَ فِيهَا مُعَاوِيَةُ، فَلَمْ يَخْرُجْ [كَانَ] وَاشْتَكَى فِيهَا بَطْنَهُ، فَأَمَرَ خَارِجَةَ بْنَ حَبِيبٍ - وَكَانَ صَاحِبَ شُرْطَتِهِ - وَكَانَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ فَخَرَجَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَشَدَّ عَلَيْهِ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلَهُ [فَأُخِذَ]، وَأُدْخِلَ عَلَى عَمْرٍو، فَلَمَّا رَآهُمْ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ بِالْإِمْرَةِ فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ: مَنْ قَتَلْتُ؟ قَالُوا: خَارِجَةَ قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ يَا فَاسِقُ مَا ضَمِدْتُ غَيْرَكَ. قَالَ عَمْرٌو: أَرَدْتَنِي وَاللَّهُ أَرَادَ خَارِجَةَ، وَقَدَّمَهُ وَقَتَلَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ: وَقْتُكَ وَأَسْبَابُ الْأُمُورِ كَثِيرَةٌ مَنِيَّةُ شَيْخٍ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ ... فَيَا عَمْرُو مَهْلًا إِنَّمَا أَنْتَ عَمُّهُ وَصَاحِبُهُ دُونَ الرِّجَالِ الْأَقَارِبِ نَجَوْتَ وَقَدْ بَلَّ الْمُرَادِيُّ سَيْفَهُ مِنَ ابْنِ أَبِي شَيْخِ الْأَبَاطِحِ طَالِبِ ... وَيَضْرِبُنِي بِالسَّيْفِ آخَرُ مِثْلُهُ فَكَانَتْ عَلَيْهِ تِلْكَ ضَرْبَةُ لَازِبِ وَأَنْتَ تُنَاغِي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ بِمِصْرِكَ بِيضًا كَالظِّبَاءِ الشَّوَارِبِ. وَكَانَ الَّذِي ذَهَبَ بِنَعْيِهِ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ الزُّهْرِيُّ، وَكَانَ الْحَسَنُ قَدْ بَعَثَ قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ حَتَّى نَزَلَ بِإِيلَيَاءَ فِي ذَلِكَ الْعَامِ، وَخَرَجَ الْحَسَنُ حَتَّى نَزَلَ فِي الْقُصُورِ الْبِيضِ فِي الْمَدَائِنِ، وَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ حَتَّى نَزَلَ مَسْكَنَ. وَكَانَ عَلَى الْمَدَائِنِ عَمُّ الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: سَعْدُ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ لَهُ الْمُخْتَارُ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ -: هَلْ لَكَ فِي الْغِنَى وَالشَّرَفِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: تُوثِقُ الْحَسَنَ وَتَسْتَأْمِرُ بِهِ إِلَى مُعَاوِيَةَ. فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: عَلَيْكَ لَعْنَةُ اللَّهِ أَأَثِبُ عَلَى ابْنِ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُوثِقُهُ؟ [بِئْسَ الرَّجُلُ أَنْتَ]. فَلَمَّا رَأَى الْحَسَنُ تَفَرُّقَ النَّاسِ عَنْهُ، بَعَثَ إِلَى مُعَاوِيَةَ يَطْلُبُ الصُّلْحَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَمُرَةَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، فَقَدِمَا عَلَى الْحَسَنِ بِالْمَدَائِنِ فَأَعْطَيَاهُ مَا أَرَادَ، وَصَالَحَاهُ، ثُمَّ قَامَ الْحَسَنُ فِي النَّاسِ فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، إِنَّمَا يَسْتَخِي بِنَفْسِي عَنْكُمْ ثَلَاثٌ: قَتْلُكُمْ أَبِي، وَطَعْنُكُمْ إِيَّايَ، وَانْتِهَابِكُمْ مَتَاعِي. وَدَخَلَ فِي طَاعَةِ مُعَاوِيَةَ، وَدَخَلَ الْكُوفَةَ فَبَايَعَهُ النَّاسُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ismaʿil ibn Rashid reports the account of Ibn Muljam, may Allah curse him and his companions: that ʿAbd al-Raḥman ibn Muljam, al-Burk ibn ʿAbdillah, and ʿUmar ibn Bakr al-Tamimi gathered at Makkah, discussed the affairs of people, criticised the conduct of their rulers, then mentioned the people of al-Nahrawan with mercy, saying by Allah what would they do remaining after them: their brothers who had summoned people to worship their Lord fearing no blame in Allah. Were they to sell themselves, come to the imams of misguidance, seek to kill them, relieve the lands of them, and avenge their brothers. Ibn Muljam of Egypt said he would suffice them against ʿAli ibn Abi Ṭalib; al-Burk ibn ʿAbdillah said he would suffice them against Muʿawiyah ibn Abi Sufyan; ʿAmr ibn Bakr al-Tamimi said he would suffice them against ʿAmr ibn al-ʿAṣ. They pledged and covenanted by Allah none would turn from his target until killing him or dying before him, took poisoned swords, and appointed the seventeenth passed of Ramaḍan for each to assault his target. Each set out to the city of his target. Ibn Muljam al-Muradi came to his companions at Kufah concealing his affair, met his companions of Taym al-Ribab whom ʿAli had killed in number on the Day of the River, and they mourned their slain. That day he met a woman of Taym al-Ribab called Qaṭam bint al-Shiḥnah, whose father and brother ʿAli had killed on the Day of the River, surpassingly beautiful. Seeing her distracted his mind and he forgot his need, proposing to her. She said she would not marry until he healed her: he asked what she desired, and she said three thousand, a slave and singing girl, and the killing of ʿAli ibn Abi Ṭalib. He said it was her dowry, though doubting she meant the killing of ʿAli. She said yes: to seek his unguarded moment, for if he struck him he would heal himself and her, and life with her would benefit him, while if killed what was with Allah was better than this world and its splendour. He said only the killing of ʿAli had brought him to this city. She told him to inform her to seek helpers to strengthen and aid him, sending for Wardān of her people of Taym al-Ribab, who agreed, while Ibn Muljam approached Shabib ibn Najdah of Ashjaʿ asking whether he desired the honour of this world and the next in killing ʿAli. When Shabib exclaimed at the enormity and how he could kill him, he proposed ambush in the dawn: when ʿAli emerged for morning prayer they would assault and kill him; if they escaped they would heal themselves and attain vengeance, if killed what was with Allah was better. Shabib said had it been other than ʿAli it would be easier, knowing his tribulation in Islam and precedence with the Prophet ﷺ, finding no ease for his killing. Ibn Muljam reminded him he had killed the worshipping praying people of al-Nahrawan, so they agreed to kill him for their brothers. They entered upon Qaṭam in the great mosque in retreat, agreeing upon the killing of ʿAli. On the appointed night she bound them with silk, they took swords and sat opposite the door from which ʿAli emerged. ʿAli, may Allah be pleased with him, emerged for morning prayer calling prayer, prayer, whereupon Shabib assaulted but his sword struck the doorposts or arch, then Ibn Muljam assaulted striking his crown and fled. Others seized killers in the ensuing tumult, Jaʿdah ibn Hubayrah led morning prayer, and people crowded from every side. Muḥammad ibn Ḥunayf swore he prayed that night near the door among many townspeople in standing, bowing, and prostration unwearied from first to last, until ʿAli emerged calling O people, prayer, prayer. Whether he spoke the words or saw the gleam of swords, he heard judgment belongs to Allah, not to ʿAli nor his companions, saw swords and people, heard ʿAli say not to let the man escape, and people crowded from every side. He did not move until Ibn Muljam was seized and brought to ʿAli. When brought, ʿAli asked O enemy of Allah, had he not done good to him: he said yes. He asked what had carried him to this: he said he had sharpened it forty mornings asking Allah to kill with it the worst of His creation. ʿAli told him he saw none killed by it but him, and none but among the worst of Allah's creation. Ibn Muljam stood bound before al-Ḥasan when Umm Kulthum daughter of ʿAli wept calling O enemy of Allah, no harm upon her father while Allah would disgrace him. He asked why she wept: by Allah he had bought it for a thousand and poisoned it for a thousand, and were this blow upon all townspeople none would survive an hour, yet her father still lived. ʿAli told al-Ḥasan if he lived he would judge concerning him, and if he perished of this blow to strike him one blow without mutilation, for he had heard the Messenger ﷺ forbid mutilation even of a rabid dog. Jundab ibn ʿAbdillah entered asking ʿAli, if they lost him yet not lost him, should they pledge al-Ḥasan. He said he neither commanded nor forbade them; they knew best. When ʿAli, may Allah be pleased with him, passed, al-Ḥasan sent for Ibn Muljam, who offered a trait: by Allah he never gave Allah a covenant except he fulfilled it, having covenanted to kill ʿAli and Muʿawiyah or die before them, so if al-Ḥasan freed him to Muʿawiyah, by Allah if he did not kill him he would return to place his hand in his. Al-Ḥasan swore by Allah no until he faced the Fire, brought him forward and killed him, whereupon people wrapped him in mats and burned him with fire. ʿAli, may Allah be pleased with him, had said O sons of ʿAbd al-Muṭṭalib, not to find them plunging into Muslim blood saying the Commander of the Faithful was killed: none should be killed for him except his killer. As for al-Burk ibn ʿAbdillah, he waited for Muʿawiyah emerging for morning prayer, assaulted with his sword while Muʿawiyah fled, the sword striking his buttock. He claimed news to gladden him: if he told him would it benefit him. When asked what, he said his brother had killed ʿAli that night. Muʿawiyah doubted his power, but he said ʿAli emerged with none guarding him, so Muʿawiyah ordered him killed. He summoned al-Saʿidi the physician, who said his wound was poisoned: to choose heated iron placed upon the sword's place, or a draught cutting offspring yet healing him, for the wound was poisoned. Muʿawiyah said no patience for fire, while in Yazid, ʿAbdullah, and their children was0 coolness of his eye, so he drank the draught that night and healed, with none born to him after. Thereafter Muʿawiyah ordered screened enclosures and guards standing over him. ʿAli counselled al-Ḥasan, al-Ḥusayn, and Muḥammad ibn al-Ḥanafiyyah with piety, prayer at its time, charity at its place, good ablution, forgiveness of faults, restraint of anger, joining kin, forbearance toward the ignorant, understanding in religion, deliberation in affairs, care of the Qurʾan, good neighbourliness, commanding right, forbidding wrong, and avoiding indecencies, enjoining honour to the brothers and no decision without them. His testament witnessed none deserved worship but Allah alone without partner and Muḥammad was His servant and Messenger sent with guidance and true religion to prevail over all religion though polytheists disliked; his prayer, rites, life, and death belonged to Allah Lord of worlds without partner, as commanded among the Muslims. He counselled al-Ḥasan, al-Ḥusayn, all family, children, and whomever his letter reached with piety to their Lord, dying only as Muslims, holding to the rope of Allah together without division, for he had heard the Messenger ﷺ say rectifying relations surpassed general prayer and fasting. To join kin easing reckoning; Allah in orphans not neglected in their presence; Allah in prayer, pillar of their religion; Allah in charity extinguishing the anger of the Lord; Allah in poor and needy shared in livelihood; Allah in the Qurʾan lest others precede in acting by it; Allah in striving with wealth and selves; Allah in the house of their Lord never left while they remained, for if abandoned they would not be respited; Allah in the covenant of their Prophet ﷺ not wronged among them; Allah in neighbours, the counsel of their Prophet ﷺ, for Jibril kept counselling of them until he thought he would bequeath them; Allah in the Companions of their Prophet ﷺ, for he had counselled of them; Allah in the two weak of women and what their right hands possessed, the last word of the Prophet ﷺ commending the two weak. Prayer, prayer, fearing no blame in Allah, Allah sufficing whoever intended and transgressed them, speaking good to people as Allah commanded. Not to abandon commanding right and forbidding wrong lest their worst rule them, then they supplicated unanswered. Upon connection and exchange, beware severance, turning backs, and division, with the verse to cooperate in righteousness and piety not in sin and aggression, fearing Allah severe in punishment. May Allah preserve them of the household and preserve in them their Prophet ﷺ. He entrusted them to Allah and greeted them with peace. Then he uttered only none deserved worship but Allah until taken in Ramaḍan of year forty, washed by al-Ḥasan, al-Ḥusayn, and ʿAbdullah ibn Jaʿfar, shrouded in three garments without shirt, with al-Ḥasan pronouncing nine takbirs over him, then al-Ḥasan managed affairs six months. Poems were recited on the dowry of Qaṭam, the killing of the best of people in the sacred month, and the escape of ʿAmr ibn al-ʿAṣ when his police chief Kharijah ibn Ḥabib was killed in his place, with Muʿawiyah's verses to ʿAmr thereupon. The bearer of his death news was Sufyan ibn ʿAbd Shams; al-Ḥasan sent Qays ibn Saʿd ibn ʿUbadah with twelve thousand in his vanguard; Muʿawiyah halted at Iliyaʾ that year; al-Ḥasan halted at the white palaces in al-Madaʾin; Muʿawiyah halted at Maskan. Al-Mukhtar ibn Abi ʿUbayd, then a young lad, proposed to his uncle Saʿd ibn Masʿud governing al-Madaʾin to bind al-Ḥasan and seek authority through him to Muʿawiyah, but Saʿd cursed him for assaulting the son of the daughter of the Messenger ﷺ. When al-Ḥasan saw people disperse from him, he sent to Muʿawiyah seeking truce, who sent ʿAbdullah ibn ʿAmir and ʿAbdullah ibn Samurah, who came to al-Ḥasan at al-Madaʾin, granted what he sought, and made peace. Al-Ḥasan then stood among people saying O people of Iraq, only three of himself kept him from them: their killing his father, stabbing him, and plundering his goods. He entered the obedience of Muʿawiyah, entered Kufah, and people pledged him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسماعیل بن راشد بیان کرتے ہیں : ابن ملجم ، اللہ تعالیٰ ، اُس پر اور اُس کے اصحاب پر لعنت کرے ! اس کا واقعہ یہ ہے کہ عبدالرحمن بن ملجم ، برک بن عبداللہ اور عمرو بن بکر تمیمی مکہ میں اکٹھے ہوئے ، انہوں نے لوگوں کی صورت حال کے بارے میں گفتگو کی اور حکمرانوں کے طرز عمل پر تنقید کی ، پھر اُنہوں نے نہروان کے رہنے والے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے اُن کے لیے دعائے رحمت کی اور یہ کہا : اللہ کی قسم ! ہم اپنے اُن ساتھیوں کے بعد کیسے باقی رہ سکتے ہیں ، یہ ہمارے وہ دوست تھے جو لوگوں کو اپنے پروردگار کی عبادت کرنے کی دعوت دیتے تھے ، اور یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے تھے ، اگر ہم اپنی جانوں کا سودا کر لیں اور گمراہی کے پیشواؤں کے پاس جائیں اور انہیں قتل کرنے کی کوشش کریں ، تو پھر ہم اس کے ذریعے شہروں کو راحت پہنچائیں گے اور اپنے بھائیوں کو جوش دلا دیں گے ۔ ابن ملجم ، جو اہل مصر میں سے تھا ، اُس نے کہا : میں علی بن ابوطالب ( کو شہید کرنے ) کا ذمہ لیتا ہوں ، برک بن عبداللہ نے کہا : میں معاویہ بن ابوسفیان کا ذمہ لیتا ہوں ، عمرو بن بکر تمیمی نے کہا : میں عمرو بن العاص کا ذمہ لیتا ہوں ۔ پھر انہوں نے اللہ کے نام پر یہ معاہدہ کیا اور طے کیا کہ ان میں سے ہر شخص ان صاحب کو قتل کرنے کی بھرپور کوشش کرے گا جن کی طرف وہ جا رہا ہے ، یہاں تک کہ انہیں قتل کر دے گا ، یا پھر خود مر جائے گا ، انہوں نے تلواریں لیں ، اور انہیں زہر آلود کیا اور یہ طے کیا کہ سترہ رمضان کو ( اپنے اپنے مطلوبہ فرد پر حملہ کرنا ہے ) اور یہ طے کیا کہ سترہ رمضان کو ہر اُس شخص پر حملہ کرنا ہے ، جس کے بارے میں اُنہوں نے طے کیا ہے کہ وہ اُس کی طرف جا رہا ہے ۔ تو اُن میں سے جس شخص نے جس شہر میں جانا تھا وہ اس شہر میں چلا گیا ۔ ابن ملجم مرادی اپنے ساتھیوں کے پاس کوفہ آیا ، اُس نے اپنے مقصد کو پوشیدہ رکھا کہ کہیں اُس کے مقصد میں سے کوئی چیز ظاہر نہ ہو جائے ، وہ تیم رباب قبیلے سے تعلق رکھنے والے اپنے ساتھیوں سے ملا اور حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے اس قبیلے کے لوگوں کو نہروان کی جنگ میں قتل کیا تھا ۔ اُن لوگوں نے اپنے مقتولین کا ذکر کرتے ہوئے اُن کے لیے دعائے رحمت کی ۔ عبدالرحمن کی ملاقات اُسی دن تیم رباب قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک عورت سے ہوئی ، جس کا نام قطام بنت شحنہ تھا ، حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے نہروان کی جنگ میں اُس کے باپ کو اور اُس کے بھائی کو قتل کیا تھا ، وہ بڑی خوبصورت عورت تھی ، جب عبدالرحمن نے اُسے دیکھا تو اُس سے بہت متاثر ہوا اور وہ اپنے اس مقصد کو بھول گیا جس کے لیے آیا تھا ، اُس نے اُس عورت کو شادی کا پیغام دیا تو اُس عورت نے کہا : میں اُس وقت تک شادی نہیں کروں گی جب تک تم مجھے سکون نہیں دے سکتے ، عبدالرحمن نے دریافت کیا : تم کیا چاہتی ہو ؟ اُس عورت نے کہا : تین ہزار درہم ، ایک غلام اور ایک کنیز اور علی بن ابوطالب کا قتل ۔ تو عبدالرحمن : نے کہا : یہ تمہارا مہر طے ہوا جو تم نے لینا ہے جہاں تک علی بن ابوطالب کے قتل کا تعلق ہے ، تو میرا یہ خیال نہیں تھا کہ تم میرے سامنے اس بات کا بھی ذکر کرو گی اور تم یہ چاہتی ہو گی ۔ تو اُس عورت نے کہا : جی ہاں ! ( میں یہ چاہتی ہوں ) تم انہیں قتل کرنے کی کوشش کرو ، اگر تم کامیاب ہو گئے تو تم اپنے آپ کو اور مجھے شفاء دے دو گے اور پھر میرے ساتھ بھرپور زندگی گزارو گے اور اگر تم مارے گئے تو جو کچھ اللہ کی بارگاہ میں ہے وہ دنیا اور دنیا کی آرائش و زیبائش سے کہیں زیادہ بہتر ہے ۔ تو عبدالرحمن نے کہا : میں اس شہر میں صرف حضرت علی کو قتل کرنے کے لیے ہی آیا ہوں ، اُس عورت نے کہا : اگر تمہارا یہ ارادہ ہے تو تم مجھے بتاؤ ! تاکہ میں تمہارے لیے ضروری چیزوں کا بندوبست کروں ، جس کے نتیجہ میں تمہارے لیے یہ کام آسان ہو ۔ تو اُس نے اپنی قوم تیم رباب قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی طرف پیغام بھیجا ، اُس شخص کا نام وردان تھا ، اُس عورت نے اُس شخص کے ساتھ اس بارے میں بات کی تو اُس نے اس کی بات مان لی ۔ ابن ملجم اشجع قبیلے کے ایک شخص کے پاس آیا جس کا نام شبیب بن نجدہ تھا ، اُس نے شبیب سے کہا : کیا تم دنیا اور آخرت میں مرتبہ و مقام چاہتے ہو ؟ شبیب نے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ ابن ملجم نے کہا : علی کو قتل کر کے ! شبیب نے کہا : تمہاری ماں تمہیں روئے ! تم ایک غلط ارادہ رکھتے ہو ! تم انہیں کیسے قتل کر سکتے ہو ؟ ابن ملجم نے کہا : میں نے ان کے لیے زہر میں بجھا ہوا ہتھیار تیار کیا ہے ، جب وہ صبح کی نماز کے لیے نکلیں گے تو ہم اُن پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دیں گے ، اگر ہم بچ گئے تو ہمارا ذہن بھی مطمئن ہو گا اور ہمارا مقصد بھی حاصل ہو چکا ہو گا اور اگر ہمیں مار دیا گیا تو جو کچھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہے ، وہ دنیا اور دنیا کی ساری زیب و زینت سے زیادہ بہتر ہے ۔ شبیب نے کہا : تمہارا ستیا ناس ہو ! اگر یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بجائے کسی اور کا معاملہ ہوتا ، تو میرے لیے آسان ہوتا ، چونکہ اسلام کے سلسلے میں اُن کی جو خدمات ہیں ، وہ مجھے پتا ہیں ، اس کے علاوہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شروع سے وقت گزارا ہے ، اس لیے میں اُن کے قتل کے منصوبے سے مطمئن نہیں ہوں ۔ ابن ملجم نے کہا : کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ انہوں نے اہل نہروان کو قتل کیا تھا ، جو عبادت گزار اور نمازی لوگ تھے ۔ شبیب نے کہا : جی ہاں ! تو ابن ملجم نے کہا : پھر حضرت علی کا قتل اس چیز کے بدلے میں ہو گا ، جو اُنہوں نے ہمارے بھائیوں کو قتل کیا تھا ، اس پر شبیب نے اُس کی بات مان لی ، پھر یہ لوگ آئے اور قطام نامی عورت کے پاس آئے ، جو بڑی مسجد میں اعتکاف کیے ہوئے تھی ، انہوں نے اس عورت سے کہا : اب ہم نے حضرت علی کو قتل کرنے کے بارے میں منصوبہ طے کر لیا ہے ۔ اُس عورت نے کہا : جب تم نے یہ ارادہ کر لیا ہے تو پھر تم میرے پاس آؤ ۔ وہ آیا ، ابن ملجم نے کہا : یہ وہ راز ہے جس کے بارے میں ، میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ ہم میں سے ہر ایک شخص اپنے متعلقہ فرد کو قتل کر دے گا ۔ تو اُس عورت نے اُن لوگوں کے لیے ریشمی کپرا منگوایا اور اُس کی انہیں پٹیاں باندھیں اور انہوں نے اپنی تلواریں لیں اور اس راستے کے مدمقابل آ کر بیٹھ گئے ، جس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نکلتے تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لیے نکلے ، وہ بلند آواز میں پکارتے ہوئے جا رہے تھے : نماز ، نماز ۔ شبیب نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا اور آپ کو تلوار ماری ، تو وہ تلوار دروازے کی چوکھٹ پر لگی ، پھر ابن ملجم نے آپ پر حملہ کیا اور آپ پر تلوار ماری ، جو آپ کی پیشانی پر لگی ۔ تو وردان وہاں سے بھاگ گیا اور گھر چلا گیا ، اُس کا ، ماں کی طرف سے شریک بھائی گھر میں آیا ، تو وردان اُس وقت تلوار اور ریشمی پٹی اُتار رہا تھا ، اُس نے دریافت کیا : یہ تلوار اور ریشمی پٹی کہاں سے آئی ؟ تو اُس نے اُسے اس صورت حال کے بارے میں بتایا ، تو اُس کا وہ بھائی اپنے گھر گیا اور اپنی تلوار لے کر آیا اور اُس نے وردان کو مارا ، یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا ۔ شبیب نامی شخص کندہ کے دروازوں کی طرف چلا گیا تو لوگوں نے اُس پر حملہ کر دیا ۔ حضرموت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص عویمر تھا ، اُس نے شبیب کی ٹانگ پر تلوار ماری اور اُسے پچھاڑ دیا ، پھر وہ حضرمی شخص اس پر غالب آ گیا ، جب لوگوں نے دیکھا تو وہ اُس کی تلاش میں آگے آئے ۔ شبیب کی تلوار اُس کے ہاتھ میں تھی ، اُسے اپنی جان کا خدشہ ہوا تو اُس نے اسے چھوڑ دیا اور خود کو بچا لیا ، جبکہ شبیب نامی شخص لوگوں کے ہجوم میں بچ گیا ۔ ابن ملجم نکلا تو اہل ہمدان میں سے ایک شخص نے اُس پر حملہ کر دیا ، جس کی کنیت ابوادم تھی ، اُس نے ابن ملجم کی ٹانگ پر حملہ کر کے اُسے زخمی کیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹے ، آپ نے جعدہ بن ہبیرہ بن ابووہب کو آگے کیا ، انہوں نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی ، تو ہر طرف سے لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا ۔ راویوں نے یہ بات ذکر کی ہے : محمد بن حنیف نے یہ بات بیان کی ہے : اللہ کی قسم ! جس رات حضرت علی رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوا ، اُس رات میں نے بڑی مسجد میں نماز ادا کی تھی ، اُس وقت اُس راستے کے قریب اہلِ مصر سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ تھے اور وہ سب نوافل ادا کرنے والے ، رکوع و سجود کرنے والے لوگ تھے ۔ یہ لوگ رات کے ابتدائی حصے سے لے کر آخری حصے تک مسلسل عبادت کرتے رہے ، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو آپ نے بلند آواز میں پکارا : اے لوگو ! نماز ، نماز ۔ مجھے پتا بھی نہیں چلا کہ میں اُن کے کلام کی طرف متوجہ ہوں ، یا میں تلواروں کی چمک کی طرف دیکھوں ، اسی دوران میں نے یہ آواز سنی : اے علی ! فیصلہ اللہ کا ہوتا ہے ، آپ کا یا آپ کے ساتھیوں کا نہیں ہوتا ۔ پھر مجھے تلوار نظر آئی ، پھر میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا ، پھر میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : یہ شخص تم سے بچ کر نکلنے نہ پائے ۔ تو لوگوں نے اُس شخص کو گھیر لیا ، تھوڑی ہی دیر میں ابن ملجم نامی شخص کو پکڑ لیا گیا ، اُسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا ، میں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، تو میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : جان کا بدلہ جان ہے ، اگر میں مر جاؤں تو تم لوگ اسے بھی قتل کر دینا جس طرح اس نے مجھے قتل کیا ہے ، اور اگر میں بچ گیا تو میں اس کے بارے میں کوئی دوسرا فیصلہ کروں گا ۔ جب ابن ملجم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! کیا میں نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا تھا ! کیا میں نے تمہارا خیال نہیں رکھا ؟ اُس نے کہا : جی ہاں ! تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر تم نے اس طرح کیوں کیا ؟ اُس نے کہا : میں نے اس خنجر کو چالیس دن تک زہر میں بھگو کر رکھا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ وہ اس کے ذریعے اپنی مخلوق کے سب سے بدتر فرد کو قتل کروا دے ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرا یہ خیال ہے کہ تم بھی اسی کے ذریعے قتل ہو گے اور تمہارے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تم اللہ کی مخلوق کے سب سے بدتر فرد ہو ۔ ابن ملجم کے ہاتھ کندھوں پر بندھے ہوئے تھے اور وہ اُس وقت حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے آگے تھا ، اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے بلند آواز میں اُسے مخاطب کیا ، وہ رو رہی تھیں ، اُنہوں نے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! میرے والد کو تو کچھ نہیں ہو گا لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں رسوا کرے گا ! تو ابن ملجم نے کہا : تو پھر تم کیوں رو رہی ہو ؟ اللہ کی قسم ! میں نے ایک ہزار درہم کے عوض یہ ہتھیار خریدا ہے ، اور ایک ہزار درہم کے عوض اسے زہر آلود کیا ہے ، اگر اس کی ایک ضرب اہل عرب کو لگ جائے تو ان میں سے کوئی بھی شخص ایک گھڑی کے لیے بھی زندہ نہ رہے ، لیکن تمہارے والد ابھی تک زندہ ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اگر میں بچ گیا تو اس کے بارے میں میرا جو بھی فیصلہ ہو گا ، سو ہو گا اور اگر میں اس حملہ کی وجہ سے مر گیا تو تم لوگ بھی اسے ایک ہی مرتبہ ضرب لگانا ، اس کا مثلہ نہ کرنا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو مثلہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، خواہ کوئی باؤلا کتا ہی کیوں نہ ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جندب بن عبداللہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کرتے ہوئے عرض کی : اے امیرالمؤمنین ! اللہ نہ کرے کہ ہم آپ کو کھو دیں ! لیکن اگر ہم نے آپ کو کھو دیا ، تو کیا ہم حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نہ تو تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں ، تم لوگ خود سمجھدار ہو ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ابن ملجم کو بلوایا ، اسے اُن کے پاس لایا گیا ، ابن ملجم نے اُن سے کہا : کیا آپ میری ایک خوبی کو مانیں گے ، اللہ کی قسم ! میں نے اللہ تعالیٰ سے جو بھی عہد کیا اُسے پورا کیا اور میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا تھا کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو قتل کر دوں گا ، یا پھر انہیں قتل کرتے ہوئے مارا جاؤں گا ، اب اگر آپ چاہیں ، تو مجھے چھوڑ دیں ، میرے ذمہ یہ بات اللہ کے نام پر لازم ہے کہ اگر میں ( حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے بعد ) مارا نہ گیا تو میں آپ کے پاس آؤں گا اور اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں رکھ دوں گا ۔ تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اُس سے کہا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! تمہیں اب آگ کا سامنا کرنا ہو گا ، پھر اُسے قتل کر دیا گیا ۔ لوگوں نے اُسے پکڑ کر اسے ایک بوری میں ڈالا اور اُسے آگ کے ذریعے جلا دیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ فرما دیا تھا کہ اے بنو عبدالمطلب ! میں تم لوگوں کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ تم لوگ مسلمانوں کا خون بہانا شروع کر دو اور تم یہ کہتے پھرو کہ امیرالمؤمنین قتل کر دیئے گئے ہیں ! امیرالمؤمنین قتل کر دیئے گئے ہیں ! خبردار ! میرے بدلے میں صرف میرے قاتل کو قتل کیا جائے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جہاں تک برک بن عبداللہ کا تعلق ہے ، تو وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے انتظار میں بیٹھ گیا ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو اُس نے اپنی تلوار کے ذریعے اُن پر حملہ کر دیا ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پیچھے کی طرف بھاگے ، وہ تلوار ان کی پشت پر لگی ، برک نے کہا : میرے پاس ایک خبر ہے جس کے ذریعے میں آپ کو خوشخبری سنانا چاہتا ہوں اور اگر وہ بات میں نے آپ کو بتا دی تو مجھے آپ کی طرف سے بہت انعام و اکرام ملے گا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیا بات ہے ؟ تو اُس نے کہا : میرے ایک بھائی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس گزشتہ رات قتل کر دیا ہو گا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ ایسا نہیں کر سکا ہو گا ، اُس نے کہا : جی ہاں ! کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب نکلتے ہیں ، تو اُن کے ساتھ کوئی حفاظت کے لیے نہیں ہوتا ۔ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت اُسے قتل کر دیا گیا ، اُنہوں نے ساعدی کو بلوایا جو ایک طبیب تھا ، اُس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا جائزہ لینے کے بعد کہا : آپ پر جو ضرب لگائی گئی ہے ، وہ زہر آلود ہے ، آپ دو میں سے ایک چیز اختیار کر لیں ، یا تو یہ ہے کہ میں لوہا گرم کر کے اُسے اس جگہ پر لگاتا ہوں جہاں تلوار لگی ہے ، یا پھر میں آپ کو ایک ایسا مشروب پلاتا ہوں جس کے ذریعے آپ ٹھیک ہو جائیں گے لیکن آگے آپ کے ہاں اولاد نہیں ہو گی ، کیونکہ آپ کو جو ضرب لگائی گئی ہے وہ زہر آلود ہے ۔ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : جہاں تک آگ کا تعلق ہے تو وہ میں برداشت نہیں کر سکوں گا ، البتہ جہاں تک اولاد کا سلسلہ منقطع ہونے کا تعلق ہے تو یزید میرا بیٹا ہے ، عبداللہ میرا بیٹا ہے ، اور پھر ان کی اولاد ہے ، جس کے ذریعے میری آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے ۔ تو اُس طبیب نے اُس رات انہیں وہ مشروب پلا دیا ، اس کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ٹھیک ہو گئے لیکن اُس کے بعد ان کی کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ۔ اب محراب میں اور اُن کے سرہانے حفاظتی لوگ کھڑے ہوا کریں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کو یہ تلقین کی تھی : اے میرے بیٹو ! میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں اور نماز کو وقت پر ادا کرنے کی اور زکوۃ کی اس کی جگہ پر استعمال کرنے کی اور اچھی طرح سے وضو کرنے کی تلقین کرتا ہوں ، کیونکہ وضو کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی اور میں تمہیں جرم معاف کرنے ، غصہ پر قابو رکھنے ، صلہ رحمی کرنے ، جہالت کے مقابلے میں بردباری کا مظاہرہ کرنے ، دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے ، معاملات میں ثابت قدمی اختیار کرنے ، قرآن کو باقاعدگی سے پڑھنے ، پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے ، نیکی کا حکم دینے ، برائی سے منع کرنے اور فحش چیزوں سے اجتناب کرنے کی تلقین کرتا ہوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے محمد بن حنفیہ کی طرف دیکھا اور دریافت کیا : میں نے تمہارے بھائیوں کو جو نصیحت کی ہے ، کیا تم نے وہ یاد رکھی ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں بھی اس کی مانند تلقین کرتا ہوں اور اس کے ہمراہ یہ بھی تلقین کرتا ہوں کہ تم اپنے دونوں بھائیوں کی تعظیم کرنا ، کیونکہ ان دونوں کا حق تم پر زیادہ ہے ، اور ان دونوں کا معاملہ زیادہ آراستہ ہے ، اور تم ان کے بغیر کوئی کام منقطع نہ کرنا ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما سے فرمایا : میں اس ( محمد بن حنفیہ ) کے بارے میں تم دونوں کو تلقین کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہارا سوتیلا بھائی ہے ، تمہارے باپ کا بیٹا ہے ، اور تم دونوں یہ بات جانتے ہو کہ تمہارا باپ اس سے محبت کرتا ہے ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وصیت کی ، اُن کی وصیت کے الفاظ یہ تھے : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے آغاز کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ! یہ وہ وصیت ہے ، جو علی بن ابوطالب نے کی ہے ، اُس نے وصیت کرتے ہوئے پہلے اس بات کی گواہی دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہی ایک معبود ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اُس کے بندے اور رسول ہیں ، جنہیں اُس نے ہدایت اور دین حق کے ہمراہ بھیجا تھا تاکہ اُس دین کو دیگر تمام ادیان پر غالب کر دے اگرچہ یہ بات مشرکین کو ناپسند ہو ، بے شک میری نماز ، میری قربانی م میری زندگی اور میری موت م اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، جس کا کوئی شریک نہیں ہے ، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا اور میں مسلمان ہوں ۔ اے حسن ! اور اے حسین ! میں تم دونوں کو یہ تلقین کرتا ہوں اور اپنی تمام اہل خانہ اور اپنی اولاد کو یہ تلقین کرتا ہوں ، جس تک بھی میری یہ تحریر پہنچے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا ، جو تمہارا پروردگار ہے ، اور تم مرتے وقت مسلمان ہی ہونا ، اور تم سب مضبوطی سے اللہ کی رسی کو پکڑے رکھنا اور فرقوں میں تقسیم نہ ہونا ، کیونکہ میں نے حضرت ابوالقاسم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ آپس میں صلح رکھنا نفل نمازوں اور روزوں سے زیادہ بہتر ہے ‘‘ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کا جائزہ لینا اور اُن کے ساتھ صلہ رحمی کرنا ، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے حساب کو آسان کر دے گا اور یتیموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا کہ تم اُن کی موجودگی کو ضائع نہ کرنا ، نماز کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا خیال رکھنا کیونکہ یہ تمہارے دین کا ستون ہے ، زکوۃ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی کرنا کیونکہ یہ پروردگار کے غضب کو ختم کر دیتی ہے ، غریبوں اور مسکینوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور انہیں اپنی ضروریات زندگی میں شریک رکھنا ، قرآن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا خیال رکھنا کیونکہ تمہارے علاوہ کوئی اور شخص اُس پر عمل کرنے کے حوالے سے سبقت نہ لے جائے ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی کرنا ، جو جہاد اپنی جانوں اور مالوں کے ذریعے ہوتا ہے ، اور اپنے پروردگار کے گھر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا خیال رکھنا اور اپنے نبی ﷺ کے اہل ذمہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا خیال رکھنا ، تمہارے سامنے اُن کے ساتھ ظلم نہ کیا جائے ، اپنے پڑوسیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا خیال رکھنا کیونکہ اُن کے بارے میں تمہارے نبی ﷺ نے نصیحت کی ہے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ان ( پڑوسیوں ) کے بارے میں جبریل مجھے مسلسل تلقین کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ یہ انہیں وارث بھی قرار دیں گے ۔‘‘ اپنے نبی ﷺ کے اصحاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا خیال رکھنا کیونکہ اُن کے بارے میں وصیت کی گئی ہے اور کمزور لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا خیال رکھنا یعنی اپنی خواتین اور اپنے غلاموں اور کنیزوں کے بارے میں کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے سب سے آخر میں جو بات ارشاد فرمائی تھی ، وہ یہ فرمایا تھا : ’’ میں دو ضعیف قسم کے لوگوں کے بارے میں تمہیں تلقین کرتا ہوں ، خواتین ( بیویاں ) اور وہ لوگ جو تمہاری زیر ملکیت ( یعنی غلام اور کنیزیں ) ہیں ۔‘‘ اور نماز کا خیال رکھنا اور نماز کا خیال رکھنا ۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ہرگز خوفزدہ نہ ہونا ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اُن لوگوں کے حوالے سے کفایت کرے گا جو تمہیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور تمہارے خلاف سرکشی کرتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ اچھی طرح سے بات چیت کرنا جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کو ترک نہ کرنا ورنہ تمہارے بڑے لوگ تمہارے معاملے کے نگران بن جائیں گے ، پھر تم لوگ دعا کرو گے اور وہ قبول نہیں ہو گی ۔ تم پر لازم ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ صلہ رحمی کرنا ، ایک دوسرے پر خرچ کرنا اور تم لوگ ایک دوسرے سے قطع تعلقی اور ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کرنے اور آپس میں گروہوں میں تقسیم ہونے سے بچنا ، تم نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون اور گناہ اور سرکشی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون نہ کرنا ۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا بے شک اللہ تعالیٰ زبردست سزا دینے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل بیت ہونے کے طور پر تمہاری حفاظت کی ہے ، اور تمہارے درمیان تمہارے نبی ﷺ کی حفاظت کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان پر درود و سلام نازل کرے ! میں تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں اور تم سب کو سلام کہتا ہوں ۔ اُس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوئی گفتگو نہیں کی ، صرف آپ نے لا الہ الا اللہ پڑھا ، یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا ، یہ رمضان کے مہینے کی 40 ہجری کی بات ہے ۔ حضرت امام حسن ، حضرت امام حسین اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو غسل دیا ، انہیں تین کپڑوں میں کفن دیا گیا ، جن میں قمیص نہیں تھی ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اُن کی نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے اُس میں نو تکبیریں پڑھیں ۔ پھر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ چھ ماہ تک مسلمانوں کے امیر رہے ۔ ابن ملجم حضرت علی رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے سے پہلے ایک مرتبہ بنو بکر بن وائل کے درمیان کہیں بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران وہاں سے ابجر بن جابر عجلی ابوحجار کا جنازہ گزرا ، جو عیسائی تھا ، اُس کے جنازے کے آس پاس عیسائی لوگ بھی موجود تھے اور اس کے ہمراہ کچھ لوگ حجار کے ساتھ اُس کے گھر میں موجود تھے ، وہ لوگ ایک طرف چل رہے تھے ، اُن سب کے آگے شقیق بن ثور سلمی تھا ، جب ابن ملجم نے اُن لوگوں کو دیکھا تو اُس نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اُسے اس بارے میں بتایا گیا تو اُس نے یہ شعر پڑھے : ’’ اگر حجار بن ابجر مسلمان ہوتا تو ابجر کا جنازہ اس سے دور کر دیا جاتا ، اور اگر حجار بن ابجر کافر ہے ، تو پھر کسی کافر کی طرف سے اس طرح کے منکر کی کیا مثال دی جائے ، کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ عیسائی اور مسلمان ایک میت کے گرد اکٹھے ہوں ، تو یہ کتنا برا منظر ہے ‘‘ ابن ابوعیاش مرادی نے کہا ہے : ’’ میں نے ایسا کوئی مہر نہیں دیکھا جو کسی بھی صاحب حیثیت شخص نے ادا کیا ہو ، جیسا مہر قطام نامی عورت کا ہے ، تین ہزار ( کی رقم ) ایک غلام ، ایک کنیز اور مضبوط تلوار کے ذریعے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ضرب لگانا ( اُس عورت کا مہر ہے ) کوئی بھی مہر کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو ، مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ نہیں ہو سکتا ، اور ہر قتل ابن ملجم کے قتل سے کم ہی ہو گا ۔‘‘ ابواسود دؤلی نے کہا : ’’ معاویہ بن حرب کو خبر پہنچا دو ، اور اہل شام کی آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوں ، تم نے حرمت والے مہینے میں ، ہمیں ایک ایسی ہستی کے حوالے سے تکلیف پہنچائی ہے ، جو سب لوگوں سے بہتر تھے ، تم نے سواریوں اور کشتیوں میں سوار ہونے والوں میں سے سب سے زیادہ بہتر شخص کو قتل کیا ہے ، تم جوتا پہننے والوں اور اسے گانٹھنے والوں ، مثانی ( سورہ فاتحہ ) اور دو سو آیات والی سورتوں کی تلاوت کرنے والوں ( میں سے سب سے زیادہ بہتر شخص کو قتل کیا ہے ) ( اے حضرت علی رضی اللہ عنہ ! ) قریش جہاں کہیں بھی ہوں ، وہ یہ بات جانتے ہیں کہ آپ ان میں حسب اور دین کے حوالے سے سب سے بہتر تھے ‘‘ جہاں تک عمرو بن ابوبکر نامی شخص کا تعلق ہے ، تو وہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے کے لیے تیار بیٹھا تھا ، یہ اسی رات کی بات ہے جس رات میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر بھی حملہ ہوا تھا ، تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اس صبح ( نماز پڑھانے کے لیے ) تشریف نہیں لائے ، کیونکہ اُن کے پیٹ میں درد تھا ، اُنہوں نے خارجہ بن ابوحبیب کو ہدایت کی جو اُن کے سپاہیوں کا نگران تھا ، اُس کا تعلق بنو عامر بن لؤی سے تھا ، وہ آیا اور اُس نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، تو عمرو بن ابوبکر نے اُس پر حملہ کر دیا ، وہ یہ سمجھا کہ شاید یہی حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں ، اُس نے تلوار کے ذریعے حملہ کر کے اُسے قتل کر دیا ۔ پھر عمرو کو پکڑ لیا گیا اور اُسے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا ، جب اُس نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو امیر کہہ کر سلام کر رہے ہیں ، تو اُس نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں ۔ تو اُس نے دریافت کیا : میں نے کس کو قتل کیا ہے ؟ تو لوگوں نے کہا : خارجہ بن ابوحبیب کو ۔ تو اُس نے کہا : اے فاسق ! اللہ کی قسم ! میں تو تمہیں قتل کرنا چاہتا تھا ۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! تم مجھے چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے خارجہ کے بارے میں فیصلہ کر دیا ، پھر اُسے بھی قتل کر دیا ۔ اس بات کی اطلاع حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے خط میں یہ شعر لکھے : ’’ ویسے تو امور کے اسباب بہت زیادہ ہوتے ہیں ، لیکن آپ کو ( بنو ) لؤی بن غالب سے تعلق رکھنے والے ایک بوڑھے کی امید نے بچا لیا ، تو اے عمرو ! دھیان رکھیں ، آپ اس کے چچا ہیں اور دیگر تمام رشتہ داروں کے مقابلے میں اس کے قریبی ساتھی ہیں ، آپ بچ گئے ، حالانکہ مرادی نے اپنی تلوار کو وادی بطحاء کے بزرگ جناب ابوطالب کے صاحبزادے ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کے خون سے تر کر لیا ، اور اس کی مانند ایک شخص نے مجھ پر بھی حملہ کیا ، لیکن ان ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) پر تو یہ ضرب کارگر ہوئی ، اور آپ اپنے ہاں مصر میں روزانہ وحشی ہرنیوں کی طرح ڈھال سے بات چیت کرتے ہیں ‘‘ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے قیس بن سعد بن عبادہ کو اپنے آگے بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ بھیج دیا ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی نکلے اور انہوں نے اسی سال ’’ ایلیاء ‘‘ کے مقام پر پڑاؤ کیا ، پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نکلے انہوں نے مدائن میں سفید محلات کے پاس پڑاؤ کیا ، پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نکلے اور انہوں نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، اُن دنوں مدائن کا حکمران مختار بن ابوعبید کا چچا تھا ، جس کا نام سعد بن مسعود تھا ۔ مختار جو ان دنوں لڑکا تھا ، اُس نے اپنے چچا سے کہا : کیا تم خوشحالی اور مرتبہ و مقام چاہتے ہو ؟ اُس کے چچا نے کہا : وہ کیسے ؟ مختار نے کہا : تم حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ کے انہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دو ۔ تو سعد نے اُس سے کہا : تم پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ! کیا میں اللہ کے رسول ﷺ کے نواسے کو پکڑ لوں اور انہیں باندھ دوں ؟ تم انتہائی برے آدمی ہو ۔ جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ انہیں چھوڑ کر جا رہے ہیں ، تو انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور صلح کیلئے کہا ۔ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اُن کی طرف عبداللہ بن عامر اور عبداللہ بن سمرہ بن حبیب بن عبدشمس کو بھیجا ، یہ حضرات مدائن میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے طے شدہ اصولوں کے مطابق صلح کر لی ۔ پھر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا : اے اہل عراق ! مجھے تم سے تین شکایتیں ہیں ! تم لوگوں نے میرے والد کو قتل کروایا ، تم لوگوں نے مجھے طعنے دیئے اور تم لوگوں نے میرا ساز و سامان لوٹ لیا ۔ پھر وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی اطاعت میں داخل ہو گئے ۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں حضرات پر رحم کرے ! پھر وہ کوفہ تشریف لائے تو لوگوں نے اُن کی بیعت کر لی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور یہ مرسل ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14792

Majma al-Zawaid #14792

عَنْ أَبِي يَحْيَى قَالَ: لَمَّا ضَرَبَ ابْنُ مُلْجَمٍ عَلِيًّا - عَلَيْهِ السَّلَامُ - الضَّرْبَةَ قَالَ: افْعَلُوا بِهِ كَمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَفْعَلَ بِرَجُلٍ أَرَادَ قَتْلَهُ، فَقَالَ: "" اقْتُلُوهُ، ثُمَّ حَرِّقُوهُ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ ظَبْيَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Yaḥya reports that when Ibn Muljam struck ʿAli, peace be upon him, the blow, ʿAli said to do with him as the Messenger ﷺ had intended to do with a man who sought to kill him: to kill him, then burn him. > **"Kill him, then burn him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابویحیی بیان کرتے ہیں : جب ابن ملجم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ضرب لگائی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اس کے ساتھ وہی کرنا جو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے ساتھ کیا ہے ، جسے قتل کرنے کا آپ ﷺ نے ارادہ کیا تھا آپ ﷺ نے فرمایا تھا : تم لوگ اسے قتل کر دو اور پھر اسے جلا دینا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ظبیان ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14793

Majma al-Zawaid #14793

وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، عِذَارَ عَامٍ وَاحِدٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَالَ يَعْقُوبُ بْنُ شَيْبَةَ: لَا بَأْسَ بِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Musa ibn Ṭalḥah reports that ʿAli, al-Zubayr, and Saʿd ibn Abi Waqqaṣ were of one year at weaning, born in the same year.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ایک ہی سال میں پیدا ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے اور وہ متروک ہے ، یعقوب بن شیبہ کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14794

Majma al-Zawaid #14794

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: تُوُفِّيَ عَلِيٌّ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ. [رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ] وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAli ibn al-Ḥusayn reports that ʿAli passed away at fifty-eight years.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام محمد بن علی بن حسین ( یعنی امام باقر ) بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتقال اٹھاون سال کی عمر میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14795

Majma al-Zawaid #14795

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: قُتِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَوْمٍ الْجُمُعَةِ يَوْمَ سَبْعَ عَشْرَةَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ سَنَةَ أَرْبَعِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yaḥya ibn Bukayr reports that ʿAli ibn Abi Ṭalib was killed on Friday, the seventeenth day of Ramaḍan, in year forty.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن سترہ رمضان المبارک من چالیس ہجری میں شہید کیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14796

Majma al-Zawaid #14796

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: قُتِلَ عَلِيٌّ سَنَةَ أَرْبَعِينَ، وَكَانَتْ خِلَافَتُهُ خَمْسَ سِنِينَ وَسِتَّةَ أَشْهُرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr ibn Abi Shaybah reports that ʿAli was killed in year forty, his caliphate lasting five years and six months.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن ابوشیبہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چالیس ہجری میں شہید کیا گیا ان کی خلافت کی مدت پانچ سال اور چھ ماہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14797

Majma al-Zawaid #14797

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ: قُتِلَ عَلِيٌّ سَنَةَ أَرْبَعِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Muḥammad ibn ʿAqil reports that ʿAli was killed in year forty.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سن چالیس ہجری میں شہید کیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے ۔

14798

Majma al-Zawaid #14798

عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَذَكَرَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - خَاتَمَ الْأَوْصِيَاءِ، وَوَصِيَّ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَمِينَ الصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَقَدْ فَارَقَكُمْ رَجُلٌ مَا سَبَقَهُ الْأَوَّلُونَ، وَلَا يُدْرِكُهُ الْآخِرُونَ، لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْطِيهِ الرَّايَةَ، فَيُقَاتِلُ جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِهِ، فَمَا يَرْجِعُ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَلَقَدْ قَبَضَهُ اللَّهُ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا وَصِيُّ مُوسَى، وَعُرِجَ بِرُوحِهِ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي عُرِجَ فِيهَا بِرُوحِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَفِي اللَّيْلَةِ الَّتِي أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِيهَا الْفُرْقَانَ، وَاللَّهِ مَا تَرَكَ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً، وَمَا فِي بَيْتِ مَالِهِ إِلَّا سَبْعُمِائَةٍ وَخَمْسُونَ دِرْهَمًا فَضَلَتْ مِنْ عَطَائِهِ، أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ بِهَا خَادِمًا لِأُمِّ كُلْثُومٍ. ثُمَّ قَالَ: مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي، وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ قَوْلُ يُوسُفَ: {وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ} [يوسف: 38] ثُمَّ أَخَذَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: أَنَا ابْنُ الْبَشِيرِ، أَنَا ابْنُ النَّذِيرِ، وَأَنَا ابْنُ النَّبِيِّ، أَنَا ابْنُ الدَّاعِي إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ، وَأَنَا ابْنُ السَّرَاجِ الْمُنِيرِ، وَأَنَا ابْنُ الَّذِي أُرْسِلَ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، وَأَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ الَّذِينَ أَذْهَبَ اللَّهُ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرَهُمْ تَطْهِيرًا، وَأَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ الَّذِينَ افْتَرَضَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مَوَدَّتَهُمْ وَوِلَايَتَهُمْ؛ فَقَالَ فِيمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} [الشورى: 23])

EnglishUnverified translation

Abu al-Ṭufayl reports that al-Ḥasan ibn ʿAli ibn Abi Ṭalib addressed them, praising Allah and extolling Him, mentioning the Commander of the Faithful ʿAli, may Allah be pleased with him, as seal of successors, legatee of prophets, and trustee of the truthful and martyrs. He then said O people, a man had parted them unmatched by the first and unreached by the last: the Messenger ﷺ used to give him the banner, with Jibril fighting at his right and Mikaʾil at his left, never returning until Allah granted him victory. Allah took him on the night the legatee of Musa was taken, his spirit ascended on the night the spirit of ʿIsa son of Maryam ascended, on the night Allah sent down the Criterion. By Allah he left neither gold nor silver, with only seven hundred and fifty dirhams remaining of his stipend in his treasury, intended to buy a servant for Umm Kulthum. He then said whoever knew him knew him, and whoever did not: he was al-Ḥasan son of Muḥammad ﷺ. He recited the saying of Yusuf that he had followed the creed of his fathers Ibrahim, Isḥaq, and Yaʿqub, then took to the Book of Allah, saying he was son of the bringer of glad tidings, son of the warner, son of the Prophet, son of the summoner to Allah by His leave, son of the luminous lamp, son of the one sent as mercy to worlds, of the household from whom Allah removed impurity and purified, of the household whose affection and loyalty Allah had obligated, with the verse revealed to Muḥammad ﷺ to ask no reward but affection for kin. In another wording Yushaʿ ibn Nun the lad of Musa was killed therein, on the twenty-seventh night of Ramaḍan, or the twenty-first of Ramaḍan, with Jibril fighting at his right when battle grew fierce.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوطفیل بیان کرتے ہیں : حضرت امام حسن بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی انہوں نے امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا کہ وہ خاتم الاوصیاء ہیں ، اور انبیاء کے وصی ہیں ، صدیقین اور شہداء کے امین ہیں ، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی : ’’ اے لوگو تم سے ایک ایسا شخص جدا ہو گیا ہے پہلے والے لوگ اس سے سبقت نہیں لے جا سکتے اور بعد والے لوگ اس تک پہنچ نہیں سکتے نبی اکرم ﷺ اسے جھنڈا دیتے تھے اور جبرائیل اس کے دائیں طرف اور میکائیل اس کے بائیں طرف لڑائی میں حصہ میں لیتے تھے ، تو وہ اس وقت تک واپس نہیں آتا تھا جب تک اللہ تعالیٰ اسے فتح نصیب نہیں کر دیتا تھا ، اللہ تعالیٰ نے ان کی روح ایسی رات میں قبض کی ہے جس رات میں اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصی کی روح قبض کی تھی اور ان کی روح کو اس رات میں اوپر لے گیا ہے ، جس رات میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی روح اوپر گئی تھی اور اس رات میں جس میں اللہ تعالیٰ نے فرقان نازل کیا اللہ کی قسم ! انہوں نے کوئی سونا یا چاندی نہیں چھوڑا ان کے گھر میں صرف سات سو پچاس درہم تھے جو ان کی تنخواہ میں سے بچے ہوئے تھے اور ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اس کے ذریعے ام کلثوم کے لئے کوئی خادم خرید لیں گے ۔‘‘ پھر امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو شخص مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے ، اور جو مجھے نہیں پہچانتا تو میں حضرت محمد ( ﷺ ) کا نواسہ حسن ہوں ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی جو حضرت یوسف علیہ السلام کا قول ہے : ’’ اور میں نے اپنے آباء ابراہیم اسحاق اور یعقوب کی پیروی کی ۔‘‘ پھر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اللہ کی کتاب کے الفاظ استعمال کرنا شروع کیے ، میں بشیر کا بیٹا ہوں ، نذیر کا بیٹا ہوں ، نبی کا بیٹا ہوں ، اللہ کے اذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والے کا بیٹا ہوں ، میں سراج منیر کا بیٹا ہوں ، میں اس شخص کا بیٹا ہوں جسے تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ، میں اس گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں جن سے اللہ تعالیٰ نے گندگی کو دور کر دیا اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دیا ، میں اس گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں جن سے محبت رکھنا اور دوستی رکھنا اللہ تعالیٰ نے لازم قرار دیا ہے ، اس نے حضرت محمد ( ﷺ ) پر جو چیز نازل کی ہے ۔ اس میں یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم یہ فرما دو کہ میں اس بارے میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ہوں ، البتہ رشتے کے حوالے سے محبت مانگتا ہوں ۔‘‘

14799

Majma al-Zawaid #14799

وَفِي رِوَايَةٍ: وَفِيهَا قُتِلَ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ فَتَى مُوسَى. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ. وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَيُعْطِيهِ الرَّايَةَ، فَإِذَا حُمَّ الْوَغَى فَقَاتَلَ جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ: وَكَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ. وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ، وَبَعْضُ طُرُقِ الْبَزَّارِ، وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ، حِسَانٌ.

EnglishUnverified translation

In another wording Yushaʿ ibn Nun the lad of Musa was killed therein. Al-Ṭabarani narrated it briefly except that he said the twenty-seventh night of Ramaḍan; Abu Yaʿla briefly; al-Bazzar likewise except that he said he gave him the banner, and when battle grew fierce Jibril fought at his right; it was the twenty-first of Ramaḍan.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اسی رات میں حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو شہید کیا گیا تھا ، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : رمضان کی ستائیسویں رات ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ انہیں جھنڈا دے دیتے تھے جب جنگ چھڑ جاتی تھی ، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کے دائیں طرف جنگ کرتے تھے ، اور اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ رمضان کی اکیسویں رات تھی ( جب حضرت علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام احمد کی سند اور امام بزار کی سند کے بعض طرق اور معجم کبیر میں امام طبرانی کی سند یہ سب حسن ہیں ۔

14800

Majma al-Zawaid #14800

عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ مَعْمَرِ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ. وَأُمُّهُ: الصَّعْبَةُ بِنْتُ الْحَضْرَمِيِّ، وَإِنَّمَا قِيلَ لَهُ: الْحَضْرَمِيُّ؛ لِأَنَّهُ كَانَ بِبِلَادِ حَضْرَمَوْتَ، قَتَلَ بِهَا: عَمْرَو بْنَ نَاهِضٍ الْحِمْيَرِيَّ، ثُمَّ هَرَبَ إِلَى مَكَّةَ فَحَالَفَ حَرْبَ بْنَ أُمَيَّةَ. وَاسْمُ الْحَضْرَمِيِّ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ أَكْبَرَ بْنِ بُكَيْرِ بْنِ عَوْفِ بْنِ مَالِكِ بْنِ عَرِيفِ بْنِ الْخَزْرَجِ بْنِ إِيَادِ بْنِ الصَّدِفِ بْنِ حَضْرَمَوْتَ بْنِ قَحْطَانَ مِنْ كِنْدَةَ. وَالصَّعْبَةُ: أُخْتُ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، وَأُمُّهَا عَاتِكَةُ بِنْتُ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ بْنِ قُصَيِّ بْنِ كِلَابِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu ʿUbaydah Maʿmar ibn al-Muthanna reports that Ṭalḥah ibn ʿUbaydillah was son of ʿUthman ibn ʿAmir ibn Kaʿb ibn Saʿd ibn Taym ibn Murrah ibn Kaʿb ibn Luʾayy ibn Ghalib ibn Fihr ibn Malik. His mother was al-Ṣaʿbah daughter of al-Ḥaḍrami, called al-Ḥaḍrami for dwelling in Ḥaḍramawt, where he killed ʿAmr ibn Nahid al-Ḥimyari then fled to Makkah and allied with Ḥarb ibn Umayyah. The name of al-Ḥaḍrami was ʿAbdullah ibn ʿAmir ibn Rabiʿah of Kinda. Al-Ṣaʿbah was sister of al-ʿAlaʾ ibn al-Ḥaḍrami, her mother ʿAtikah daughter of Wahb of Quṣayy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبیدہ معمر بن مثنی بیان کرتے ہیں : ( حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا نسب یہ ہے : ) ’’ حضرت طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عامر بن كعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک ۔‘‘ ان کی والدہ کا نام صعبہ بنت حضری ہے ان صاحب کے لئے لفظ حضرمی استعمال کیا گیا ہے ، کیونکہ وہ حضرموت کے رہنے والے تھے اور اس علاقے میں انہوں نے عمرو بن ناہض حمیری کو قتل کر دیا تھا ، پھر وہ صاحب بھاگ کر مکہ آ گئے اور وہاں انہوں نے حرب بن امیہ کے ساتھ حلیف ہونے کا معاہدہ کیا ۔ حضرمی نامی صاحب کا نام عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بن اکبر بن بکیر بن عوف بن مالک عریف بن خزرج بن ایاد بن صدف بن حضرموت بن قحطان ہے ، اور وہ کندہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ صعبہ نامی خاتون حضرت علاء بن حضری کی بہن ہیں اس خاتون کی والدہ کا نام عاتکہ بنت وہب بن عبد بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

14801

Majma al-Zawaid #14801

عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: كَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبْيَضَ يَضْرِبُ إِلَى الْحُمْرَةِ مَرْبُوعًا، هُوَ إِلَى الْقِصَرِ أَقْرَبُ، رَحْبَ الصَّدْرِ، عَرِيضَ الْمَنْكِبَيْنِ، إِذَا الْتَقَتِ الْتَفَّتْ جَمِيعًا، ضَخْمَ الْقَدَمَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Musa ibn Ṭalḥah reports that Ṭalḥah ibn ʿUbaydillah was white inclining to red, of medium stature nearer short, broad-chested, wide-shouldered closing together when met, large-footed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں : ’’ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سفید رنگت کے مالک تھے جو سرخی مائل تھی وہ درمیانے قد کے مالک تھے تاہم وہ کچھ کوتاہ قامت محسوس ہوتے تھے ۔ ان کا سینہ چوڑا تھا ، دونوں کندھے کشادہ تھے جب وہ توجہ کرتے تھے تو مکمل طور پر متوجہ ہو جاتے تھے ۔ ان کے دونوں پاؤں بڑے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14802

Majma al-Zawaid #14802

وَعَنِ الْوَاقِدِيِّ قَالَ: كَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ آدَمَ كَثِيرَ الشِّعْرِ، لَيْسَ بِالْجَعْدِ وَلَا بِالسَّبْطِ، حَسَنَ الْوَجْهِ، دَقِيقَ الْعِرْنَيْنِ، إِذَا مَشَى أَسْرَعَ، وَكَانَ لَا يُغَيِّرُ شَيْبَةَ، قُتِلَ يَوْمَ الْجَمَلِ فِي جُمَادَى سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى الْوَاقِدِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Waqidi reports that Ṭalḥah ibn ʿUbaydillah was wheat-complexioned, abundantly haired neither curly nor lank, handsome-faced, fine-nosed, quick when walking, never dyeing his grey hair. He was killed on the Day of the Camel in Jumada in year thirty-six.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

واقد بیان کرتے ہیں : حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ گندمی رنگت کے مالک تھے ۔ ان کے بال زیادہ تھے ۔ ان کے بال نہ بالکل گھنگریالے تھے اور نہ ہی بالکل سیدھے تھے وہ خوبصورت چہرے کے مالک تھے ۔ ان کی ناک پتلی تھی ، جب وہ چلتے تھے تو تیزی سے چلتے تھے ، وہ سفید بالوں پر خضاب نہیں لگاتے تھے ۔ جمادی الاول کے مہینے میں ، سن چھتیس ہجری میں وہ جنگ جمل میں شہید ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور واقدی تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14803

Majma al-Zawaid #14803

عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا قَطُّ أَعْطَى الْجَزِيلَ مِنَ الْمَالِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ مِنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ. قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ أَهْلُهُ يَقُولُونَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّاهُ الْفَيَّاضُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Qabiṣah ibn Jabir reports that he never saw a man give lavish wealth unasked like Ṭalḥah ibn ʿUbaydillah. Sufyan said his family said the Messenger ﷺ had named him al-Fayyaḍ, the lavish.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قبیصہ بن جابر بیان کرتے ہیں : میں نے کبھی کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جس نے ( کسی کو ) مانگے بغیر حضرت طلحہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ مال دیا ہو ۔ سفیان کہتے ہیں ان کے اہل خانہ کا یہ بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں ’’ فیاض ‘‘ کا نام دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

14804

Majma al-Zawaid #14804

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: «سَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ: "" طَلْحَةَ الْخَيْرِ "". وَفِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ذِي الْعَشِيرَةِ: "" طَلْحَةَ الْفَيَّاضَ "". وَيَوْمَ حُنَيْنَ: "" طَلْحَةَ الْجُودِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: بِالسِّينِ وَالشِّينِ جَمِيعًا، فَالسِّينُ مِنَ الْعُسْرَةِ وَبِالشِّينِ مَوْضِعٌ. وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ الطَّلْحِيُّ وُثِّقَ وَضُعِّفَ.

EnglishUnverified translation

Ṭalḥah ibn ʿUbaydillah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ named him on the Day of Uḥud Ṭalḥah al-Khayr, in the campaign of Tabuk, of Dhu al-ʿAshirah, Ṭalḥah al-Fayyaḍ, and on the Day of Ḥunayn Ṭalḥah al-Jud. > **"On Uḥud you are Ṭalḥah al-Khayr, on Tabuk Ṭalḥah al-Fayyaḍ, and on Ḥunayn Ṭalḥah al-Jud."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احد کے دن نبی اکرم ﷺ نے مجھے ’’ طلحہ الخیر ‘‘ کا نام دیا تھا اور غزوہ تبوک ذوالعشیرہ میں ’’ طلحہ فیاض “ کا نام دیا تھا اور جنگ حنین میں ” طلحہ الجود “ کا نام دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ کہا ہے کہ یہ لفظ ( ذوالعشیرہ ) سین اور شین دونوں کے ساتھ منقول ہے ، اگر سین ہو تو یہ لفظ عسرت سے منقول ہو گا اور اگر شین ہو تو یہ ایک جگہ کا نام ہے ۔ اس روایت میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی سلیمان بن ایوب طلحی ہے اسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ، اور ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ۔

14805

Majma al-Zawaid #14805

وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ: أَنَّ طَلْحَةً نَحَرَ جَزُورًا، وَحَفَرَ بِئْرًا، يَوْمَ ذِي قَرَدٍ، فَأَطْعَمَهُمْ وَسَقَاهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا طَلْحَةُ الْفَيَّاضُ "". فَسُمِّيَ: طَلْحَةَ الْفَيَّاضَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Musa ibn Ṭalḥah reports that Ṭalḥah slaughtered a camel and dug a well on the Day of Dhu Qarad, feeding and watering them, whereupon the Prophet ﷺ said O Ṭalḥah al-Fayyaḍ, so he was named Ṭalḥah al-Fayyaḍ. > **"O Ṭalḥah al-Fayyaḍ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں : حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ قربان کیا انہوں نے غزوہ ذی قرد کے موقع پر ایک کنواں کھدوایا انہوں نے لوگوں کو کھانا کھلایا اور پانی پلایا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے طلحہ الفیاض ! تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ’’ طلحہ فیاض ‘‘ کا نام دیا ( یا حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا نام فیاض رکھا گیا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

14806

Majma al-Zawaid #14806

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: «ابْتَاعَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بِئْرًا بِنَاحِيَةِ الْجَبَلِ، فَنَحَرَ جَزُورًا، فَأَطْعَمَ النَّاسَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنْتَ يَا طَلْحَةُ الْفَيَّاضُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwaʿ, may Allah be pleased with him, reports that Ṭalḥah ibn ʿUbaydillah bought a well by the mountain, slaughtered a camel, and fed people, whereupon the Prophet ﷺ said he was O Ṭalḥah al-Fayyaḍ. > **"You are, O Ṭalḥah, al-Fayyaḍ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے پہاڑ کے دامن میں ایک کنواں خریدا انہوں نے ایک اونٹ قربان کیا اور لوگوں کو کھانا کھلایا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے طلحہ ! تم فیاض ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔

14807

Majma al-Zawaid #14807

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: كَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُكَنَّى: أَبَا مُحَمَّدٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yaḥya ibn Bukayr reports that Ṭalḥah ibn ʿUbaydillah was nicknamed Abu Muḥammad.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابومحمد تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔