وَبِسَنَدِهِ قَالَ: خَطَبَهُمْ عَلِيٌّ فَقَطَعُوا عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا وَهَنْتُ يَوْمَ قَتْلِ عُثْمَانَ، وَضَرَبَ لَهُمْ مَثَلًا ; مَثَلَ ثَلَاثَةِ أَثْوَارٍ وَأَسَدًا اجْتَمَعُوا فِي أَجَمَةٍ: أَسْوَدُ وَأَحْمَرُ وَأَبْيَضُ، وَكَانَ الْأَسَدُ إِذَا أَرَادَ وَاحِدًا مِنْهُمُ اجْتَمَعْنَ عَلَيْهِ، فَامْتَنَعْنَ مِنْهُ، فَقَالَ الْأَسَدُ لِلْأَسْوَدِ وَالْأَحْمَرِ: إِنَّمَا يَفْضَحُنَا فِي أَجَمَتِنَا هَذِهِ وَيَشْهَرُنَا هَذَا الْأَبْيَضُ، فَدَعَانِي حَتَّى آكُلَهُ، فَلَوْنِي عَلَى لَوْنِكُمَا وَلَوْنُكُمَا عَلَى لَوْنِي، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ قَتَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لِلْأَسْوَدِ: إِنَّمَا يَفْضَحُنَا وَيَشْهَرُنَا فِي أَجَمَتِنَا هَذَا الْأَحْمَرُ، فَدَعْنِي حَتَّى آكُلَهُ فَلَوْنِي عَلَى لَوْنِكَ وَلَوْنُكَ عَلَى لَوْنِي، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ لِلْأَسْوَدِ: إِنِّي آكُلُكَ قَالَ: دَعْنِي أُصَوِّتْ ثَلَاثَةَ أَصْوَاتٍ، فَقَالَ: أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ، أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ، أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ. أَلَا إِنَّمَا وَهَنْتُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادِ الَّذِي قَبْلَهُ.
EnglishUnverified translation
With the same chain, ʿAlī addressed them but they cut his address, so he said he was weakened only the day ʿUthmān was killed, striking the parable of three bulls, black, red, and white, with a lion gathered in a thicket. When the lion sought one, they united and repelled him. The lion told the black and red that the white disgraced and exposed them in their thicket, to let him eat it since his colour matched theirs, so they let him and he killed it. Then he told the black the red disgraced them, to let him eat it, and he killed it. Then he told the black he would eat him, who asked to cry thrice that he was eaten the day the white was eaten, thrice, adding indeed he was weakened the day ʿUthmān was killed. > **"I was eaten the day the white was eaten. I was weakened the day ʿUthmān was killed."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا ، تو لوگوں نے ان کا خطبہ درمیان میں رکوا دیا ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن میں کمزور ہو گیا تھا ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے سامنے مثال بیان کی کہ تین بیل ہوتے ہیں ، اور ایک شیر ہوتا ہے وہ ایک جگہ پر اکٹھے ہو جاتے ہیں ، ایک بیل کا رنگ سیاہ ہے ، ایک سرخ ہے اور ایک کا سفید ہے ، شیر جب بھی ان میں سے کسی ایک پر حملہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، تو وہ تینوں شیر کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں ، اور اسے اپنے پاس آنے سے روک دیتے ہیں ، پھر شیر سیاہ اور سرخ بیل سے یہ کہتا ہے کہ ہمارے اس علاقے میں یہ والا سفید بیل ہمیں رسوائی کا شکار کر رہا ہے ، تم مجھے موقع دو میں اسے کھا لیتا ہوں ، کیونکہ میری اور تمہاری رنگت ایک جیسی ہے ، اور تم دونوں کی رنگت میری طرح کی ہے ، پھر وہ شیر اس پر حملہ کر کے اسے مار دیتا ہے اس کو مار دینے کے کچھ عرصہ بعد وہ سیاہ بیل سے کہتا ہے ، یہ سرخ بیل ہمارے اس علاقے میں ہمیں رسوائی اور شرمندگی کا شکار کر رہا ہے ، تم مجھے موقع دو کہ میں اسے کھا لوں کیونکہ میرا رنگ تمہارے رنگ کی مانند ہے ، تمہارا رنگ میرے رنگ کی مانند ہے ، پھر وہ دوسرے بیل پر حملہ کر کے اسے بھی مار دیتا ہے ، پھر وہ سیاہ بیل سے یہ کہتا ہے کہ اب میں تمہیں کھاؤں گا ، تو وہ سیاہ بیل کہتا ہے : تم مجھے موقع دو کہ میں تین مرتبہ بلند آواز میں پکار کر کچھ کہوں ، پھر وہ بیل کہتا ہے : خبردار ! میں اسی دن کھا لیا گیا تھا جس دن سفید بیل کو کھا لیا گیا تھا ، خبردار ! میں اسی دن کھا لیا گیا تھا ، جس دن سفید بیل کو کھا لیا گیا تھا ، خبردار ! میں اسی دن کھا لیا گیا تھا ، جس دن سفید بیل کو کھا لیا گیا تھا ، ( پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) خبردار ! میں اس دن کمزور ہو گیا تھا جس دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اس سند کے ساتھ نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے والی روایت کی سند ہے ۔