«وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجِسْرِيِّ قَالَ: دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ، فَقَالَتْ لِي: هَذِهِ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَنْشُدُكِ اللَّهَ أَنْ تُصَدِّقِينِي بِكَذِبٍ، أَوْ تُكَذِّبِينِي بِصِدْقٍ [قُلْتِهِ]: تَعْلَمِينَ أَنِّي كُنْتُ أَنَا وَأَنْتِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ لَكِ: أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ؟ قُلْتِ: لَا أَدْرِي، ثُمَّ أَفَاقَ قَالَ: "" افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ "". ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ لَكِ: أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ؟ قُلْتِ: لَا أَدْرِي، ثُمَّ أَفَاقَ قَالَ: "" افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ "" فَقُلْتُ لَكِ: أَبِي أَوْ أَبُوكِ؟ قُلْتِ: لَا أَدْرِي، فَفَتَحْنَا لَهُ الْبَابَ فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" ادْنُهْ "". فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي أَنَا وَأَنْتِ مَا هُوَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: "" أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" ادْنُهْ "". فَأَكَبَّ عَلَيْهِ أُخْرَى مِثْلَهَا، فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: "" أَفَهِمَتْ مَا قُلْتُ لَكَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" ادْنُهْ "". فَأَكَبَّ عَلَيْهِ إِكْبَابًا شَدِيدًا فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: "" أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ؟ "". قَالَ: [نَعَمْ] سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي. فَقَالَ لَهُ: "" اخْرُجْ "". قَالَ: فَقَالَتْ حَفْصَةُ: اللَّهُمَّ نَعَمْ - أَوْ قَالَتْ: اللَّهُمَّ صِدْقٌ» -. قُلْتُ: لِعَائِشَةَ وَحْدَهَا حَدِيثٌ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ كُلُّهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ: فَقَالَ: "" «يَا عُثْمَانُ، عَسَى أَنْ يُقَمِّصَكَ اللَّهُ قَمِيصًا، فَانْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ "". ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. فَقَالَ لَهَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَيْنَ كُنْتِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ؟ فَقَالَتْ: نَسِيتُهُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ حَتَّى قُتِلَ الرَّجُلُ».
EnglishUnverified translation
Abū ʿAbdillāh al-Jisrī reports visiting ʿĀʾishah while Ḥafṣah bint ʿUmar, may Allah be pleased with them both, was with her. ʿĀʾishah, may Allah be pleased with her, told him this was Ḥafṣah, wife of the Prophet ﷺ, then adjured Ḥafṣah by Allah to confirm or correct her: both had been with the Messenger ﷺ when he fainted, ʿĀʾishah asked whether he had passed, Ḥafṣah said she did not know, then he awoke saying open the door for him. After a second faint and awakening with the same command, ʿĀʾishah asked whether he meant her father or Ḥafṣah's father, Ḥafṣah said she did not know, then they opened the door and it was ʿUthmān ibn ʿAffān. When the Prophet ﷺ saw him he said draw near, ʿUthmān leaned over him and he confided something neither woman knew, then raised his head asking whether he understood, and ʿUthmān said yes. This occurred a second and then a third time with intense leaning, each with private counsel, each confirmed by ʿUthmān saying his ears had heard and his heart retained, after which the Prophet ﷺ told him to go out. Ḥafṣah affirmed by Allah that it was true, with the addition that the Prophet ﷺ said Allah might clothe ʿUthmān with a shirt, and if the hypocrites sought its removal he should not remove it, thrice. > **"Draw near. Have you understood what I said to you. Go out. O ʿUthmān, Allah may clothe you with a shirt, and if the hypocrites seek its removal, do not remove it."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ابوعبداللہ جسری بیان کرتے ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ان کے پاس سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا : یہ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں ، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف متوجہ ہوئیں اور بولیں : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتی ہوں کہ اگر میں غلط بیان کروں ، تو آپ یہ بھی بتا دیں اور اگر میں سچ بولوں تو آپ یہ بھی بتا دیں ، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا : کیا آپ یہ بات جانتی ہیں کہ میں اور آپ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھیں اور نبی اکرم ﷺ پر بے ہوشی طاری ہوئی ، میں نے آپ سے دریافت کیا : کیا آپ کے خیال میں نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ہے ، تو آپ نے کہا : مجھے نہیں معلوم ، پھر نبی اکرم ﷺ کو ہوش آ گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اس کے لئے دروازہ کھول دو ، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی ، پھر میں نے تم سے یہ دریافت کیا کہ تم یہ سمجھتی ہو کہ نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ہے ، تو تم نے کہا : مجھے نہیں معلوم ، پھر نبی اکرم ﷺ کو ہوش آیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے لئے دروازہ کھول دو ، تو میں نے تم سے کہا : نبی اکرم ﷺ کی مراد میرے والد ہیں یا تمہارے والد ہیں ؟ تو تم نے کہا : مجھے نہیں معلوم ، ہم نے دروازہ کھول دیا ، تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ موجود تھے ، جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں ملاحظہ فرمایا تو آپ نے فرمایا : قریب آ جاؤ ، وہ نبی اکرم ﷺ پر جھک گئے ، نبی اکرم ﷺ نے سرگوشی میں کوئی بات چیت کی ، مجھے نہیں معلوم اور تمہیں بھی نہیں معلوم کہ وہ بات کیا تھی ؟ پھر انہوں نے سر اٹھایا تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : میں نے جو تمہیں کہا ہے کیا تمہیں سمجھ آ گئی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قریب ہو جاؤ ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دوسری مرتبہ اسی طرح نبی اکرم ﷺ پر جھک گئے ، نبی اکرم ﷺ نے پھر سرگوشی میں کوئی بات چیت کی ، جس کا ہمیں پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کیا ہے ؟ پھر انہوں نے سر اٹھایا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے جو تمہیں کہا ہے ، کیا وہ تم سمجھ گے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم قریب ہو جاؤ ، تو وہ نبی اکرم ﷺ پر زیادہ جھک گئے ، نبی اکرم ﷺ نے پھر سرگوشی میں کوئی بات چیت کی ، پھر انہوں نے سر اٹھایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے جو تم سے کہا ہے ، کیا تم سمجھ گے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، میں نے اپنے کانوں سے اسے سن لیا ہے ، اور میرے دل نے اسے محفوظ کر لیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم چلے جاؤ ! سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، ایسا ہی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) انہوں نے فرمایا : اے اللہ ! اس نے سچ کہا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عثمان اللہ تعالیٰ تمہیں عنقریب ایک قمیص پہنائے گا ، جب منافقین اسے اتروانے کا ارادہ کریں ، تو تم اسے نہ اتارنا ۔‘‘ یہ بات نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : اے ام المومنین ! تو آپ اس حدیث سے کہاں غافل رہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! میں اسے بھول گئی تھی ، یہاں تک کہ وہ صاحب قتل ہو گئے ۔