Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 7

Book of Virtues and Merits

Hadith 14528–14567

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14528

Majma al-Zawaid #14528

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتٍ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فِيهِمْ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لِيَنْهَضْ كُلُّ رَجُلٍ إِلَى كُفْئِهِ "". وَنَهَضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُثْمَانَ فَاعْتَنَقَهُ، وَقَالَ: "" أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَوَلِيِّي فِي الْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allah be pleased with him, reports that while with the Messenger ﷺ in a house among Muhājirūn including Abū Bakr, ʿUmar, ʿUthmān, ʿAlī, Ṭalḥah, al-Zubayr, ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, and Saʿd ibn Abī Waqqāṣ, may Allah be pleased with them, the Messenger ﷺ said each man should rise to his equal. The Prophet ﷺ rose to ʿUthmān, embraced him, and said he was his companion in this world and his companion in the Hereafter. > **"Rise, each man to his equal. You are my companion in this world and my companion in the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک گھر میں موجود تھے ، مہاجرین سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے ، جن میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر فرد اپنے پائے کے فرد کے ساتھ اٹھ جائے ، پھر نبی اکرم ﷺ اٹھ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف گئے ، آپ نے انہیں گلے لگایا اور ارشاد فرمایا : ’’ تم دنیا میں میرے ساتھی اور آخرت میں میرے ساتھی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14529

Majma al-Zawaid #14529

وَعَنْ عُبَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ حِينَ حُوصِرَ، فَقَالَ: هَاهُنَا طَلْحَةُ؟ فَقَالَ طَلْحَةُ - رَحِمَهُ اللَّهُ -: نَعَمْ قَالَ اسْتَقِمْ. فَقَالَ: نَشَدْتُكَ اللَّهَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِيَدِ جَلِيسِهِ "". فَأَخَذْتَ بِيَدِ فُلَانٍ، وَأَخَذَ فُلَانٌ بِيَدِ فُلَانٍ، حَتَّى أَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ بِيَدِ صَاحِبِهِ، وَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي وَقَالَ: "" هَذَا جَلِيسِي فِي الدُّنْيَا وَوَلِيِّي فِي الْآخِرَةِ "". فَقَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، قِيلَ فِيهِ: كَذَّابٌ، وَقِيلَ فِيهِ: مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

ʿUbayd al-Ḥimyarī reports that he was with ʿUthmān at the time of the siege when ʿUthmān asked whether Ṭalḥah was present. Ṭalḥah, may Allah have mercy on him, affirmed, and ʿUthmān asked him to stand, then adjured him by Allah whether they had been with the Prophet ﷺ when he said each man should take the hand of his companion, so each took another's hand until the Prophet ﷺ took ʿUthmān's hand and said this was his companion in this world and his protector in the Hereafter. Ṭalḥah affirmed by Allah that it was so. > **"Let each man among you take the hand of his companion. This is my companion in this world and my protector in the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبید حمیری بیان کرتے ہیں : میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کا محاصرہ کیا جا چکا تھا ۔ انہوں نے دریافت کیا : کیا یہاں طلحہ موجود ہیں ؟ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بولے : جی ہاں ! حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ اٹھ جائیں ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ بات دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ہر ایک شخص اپنے ساتھ والے کا ہاتھ پکڑ لے ، تو تم نے فلاں شخص کا ہاتھ پکڑا تھا ، فلاں نے فلاں کا ہاتھ پکڑا تھا ، یہاں تک کہ ہر فرد نے اپنے ساتھ والے کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا تھا : یہ دنیا میں میرا ہمنشین ہے ، اور آخرت میں میرا ساتھی ہو گا ، تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے ، اور وہ متروک ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ کذاب ہے ، اور ایک قول اس کے بارے میں یہ ہے کہ وہ مستقیم الحدیث ہے ، ائمہ جیسے امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

14530

Majma al-Zawaid #14530

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَافَحَهُ، فَلَمْ يَنْزِعِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ مِنْ يَدِ الرَّجُلِ حَتَّى انْتَزَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَاءَ عُثْمَانُ قَالَ: "" امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that he was with the Messenger ﷺ when a man came and shook the Prophet's hand, and the Prophet ﷺ did not withdraw his hand until the man withdrew his. The man then said ʿUthmān had come, and the Prophet ﷺ said he was a man of Paradise. > **"A man of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا اسی دوران ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کے ساتھ مصافحہ کیا ، نبی اکرم ﷺ کسی شخص کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ خود پیچھے نہیں کرتے تھے ، یہاں تک کہ وہ دوسرا شخص خود ہی اپنا ہاتھ پیچھے کرتا تھا ، پھر اس شخص نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

14531

Majma al-Zawaid #14531

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «عُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh, may Allah be pleased with them both, reports hearing the Messenger ﷺ say that ʿUthmān is in Paradise. > **"ʿUthmān is in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عثمان جنت میں جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

14532

Majma al-Zawaid #14532

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَوْجُ فَاطِمَةَ خَيْرٌ مِنْ زَوْجِي. فَأَسْكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: "" زَوْجُكِ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَيُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَأَزِيدُكِ لَوْ قَدْ دَخَلْتِ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتِ مَنْزِلَهُ، لَمْ تَرَيْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي يَعْلُوهُ فِي مَنْزِلِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَفِيهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reports that Umm Kulthūm came to the Messenger ﷺ saying the husband of Fāṭimah was better than her own husband. The Messenger ﷺ fell silent, then said her husband was loved by Allah and His Messenger and loved Allah and His Messenger, adding that were she to enter Paradise and see his dwelling, she would see none of his Companions above him in station. > **"Your husband is loved by Allah and His Messenger and loves Allah and His Messenger, and were you to see his dwelling in Paradise you would see none of my Companions above him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فاطمہ کے شوہر میرے شوہر سے بہتر ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارا شوہر وہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں ، اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، اور میں تمہیں ایک مزید بات بتاؤں ، اگر تم جنت میں داخل ہو اور اس کی رہائش کو دیکھ لو ، تو تم میرے اصحاب میں سے کسی ایک شخص کو نہیں دیکھو گی ، جس کی رہائش اس کی رہائش سے بلند ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس کے رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

14533

Majma al-Zawaid #14533

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ لَهُ: يَا ابْنَ أَخِي، أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ: لَا. وَلَكِنْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ [وَالْيَقِينُ] مَا يَخْلُصُ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا. قَالَ: فَتَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَعَثَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحَقِّ، فَكُنْتُ فِيمَنِ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، وَآمَنَ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ هَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ كَمَا قُلْتُ، وَنِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ، وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUbaydullāh ibn ʿAdī ibn al-Khiyār reports that ʿUthmān ibn ʿAffān asked whether he had met the Messenger ﷺ. He said no, but the knowledge and certainty from him had reached him purely as to a maiden behind her veil. ʿUthmān then bore witness, praised Allah, and said Allah sent Muḥammad ﷺ with the truth, he was among those who responded to Allah and His Messenger, believed in what Muḥammad ﷺ was sent with, performed the two migrations as stated, attained marriage to the Messenger ﷺ, pledged to the Messenger ﷺ, and by Allah never disobeyed him nor deceived him until Allah took him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عدی بن خیار بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم نے نبی اکرم ﷺ کا زمانہ پایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تاہم یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا علم اور یقین مجھ تک اسی طرح خالص طور پر پہنچا ہے ، جس طرح وہ کسی پردہ دار خاتون تک پردے میں پہنچے گا ، تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کلمہ شہادت پڑھو ، پھر انہوں نے فرمایا : امابعد ! بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ( ﷺ ) کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا اور میں ان افراد میں سے ایک تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو قبول کیا ، نبی اکرم ﷺ جس چیز کے ہمراہ مبعوث ہوئے تھے ، میں اس پر ایمان لایا ، میں نے دو مرتبہ ہجرت کی ، جس طرح میں نے بیان کیا ہے ، اور مجھے نبی اکرم ﷺ کی دامادی کا شرف حاصل ہے ، میں نے نبی اکرم ﷺ کی بیعت حاصل کی ، اللہ کی قسم ! نہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی کبھی نافرمانی کی اور نہ ہی آپ کو کبھی دھوکہ دیا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو وفات دے دی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14534

Majma al-Zawaid #14534

عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ: لَمَّا اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: أَمَّرْنَا خَيْرَ مَنْ بَقِيَ وَلَمْ نَأْلُ.

EnglishUnverified translation

Al-Nazzāl ibn Sabrah reports that when ʿUthmān was appointed caliph, ʿAbdullāh ibn Masʿūd said they had appointed the best of those remaining and had not fallen short.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نزال بن سبرہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا ، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہمارے امیر وہ فرد بنے ہیں ، جو باقی رہ جانے والوں میں سب سے بہتر ہیں ، اور ہم نے اس حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کی ہے ۔

14535

Majma al-Zawaid #14535

وَفِي رِوَايَةٍ: مَا أَلَوْنَا عَنْ أَعْلَاهَا ذَا فُوقٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration the wording is that they did not fall short concerning the worthiest of high rank. > **"We did not fall short concerning the worthiest of high rank."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ ہم نے اس معاملے کی اہمیت کے حوالے سے ، بلند مرتبہ شخصیت کے بارے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14536

Majma al-Zawaid #14536

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ دَوْمَةٍ وَعِنْدَهُ كَاتِبٌ يُمْلِي عَلَيْهِ، فَقَالَ: "" أَلَا أَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟ "". قُلْتُ: لَا أَدْرِي، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً: فَأَكَبَّ يُمْلِي عَلَيْهِ - ثُمَّ قَالَ: "" أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟ "". قُلْتُ: لَا أَدْرِي، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، وَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ. قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي الْكِتَابِ عُمَرُ، فَعَرَفْتُ أَنَّ عُمَرَ لَا يُكْتَبُ إِلَّا فِي خَيْرٍ. ثُمَّ قَالَ: "" أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: "" يَا ابْنَ حَوَالَةَ، كَيْفَ نَفْعَلُ فِي فِتَنٍ تَخْرُجُ مِنْ أَطْرَافِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِيِّ بَقَرٍ؟ "". قُلْتُ: لَا أَدْرِي، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ، [قَالَ: وَكَيْفَ تَفْعَلُ فِي أُخْرَى تَخْرُجُ بَعْدَهَا كَأَنَّ الْأُولَى فِيهَا انْتِفَاخَةُ أَرْنَبٍ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي، مَا خَارَ اللُّهُ لِي وَرَسُولُهُ]. قَالَ: "" اتَّبِعُوا هَذَا "". وَرَجُلٌ مُقَفٍّ حِينَئِذٍ، فَانْطَلَقْتُ فَسَعَيْتُ فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ، فَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ» رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Ḥawālah, may Allah be pleased with him, reports coming to the Messenger ﷺ while he sat in the shade of a lote tree with a scribe to whom he dictated. The Prophet ﷺ asked whether he should have something written for Ibn Ḥawālah, who replied he did not know and that Allah and His Messenger would choose for him, so the Prophet ﷺ turned away and continued dictating. Looking, he saw ʿUmar in the writing and knew ʿUmar would be written only for good. Asked a second and third time, he first deferred then accepted. The Prophet ﷺ asked what he would do amid tribulations emerging from the earth's edges like the horns of cattle, and then another after it beside which the first would seem like a rabbit's leap, to which he deferred to Allah and His Messenger. The Prophet ﷺ then said to follow that man, as a muffled man passed; Ibn Ḥawālah hastened, seized his shoulder, turned his face to the Messenger ﷺ asking if it was this one, and the Prophet ﷺ said yes, and it was ʿUthmān ibn ʿAffān, may Allah be pleased with him. > **"Shall I have something written for you, O Ibn Ḥawālah. Follow this one. Yes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت ایک درخت کے سائے میں موجود تھے ، آپ کے پاس ایک کاتب موجود تھا ، جس کو آپ املاء کروا رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابن حوالہ ! کیا میں تمہارے لئے کوئی چیز نہ لکھواؤں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں پتہ ، اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں گے ، وہی میرے لئے بہتر ہو گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے منہ پھیر لیا ، اسماعیل نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ اس شخص کو املاء کروانے لگے ، پھر آپ نے دریافت کیا : اے ابن حوالہ ! کیا میں تمہارے لئے کوئی چیز تحریر نہ کرواؤں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں گے ، وہی ٹھیک ہو گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے منہ پھیر لیا اور آپ اپنے پاس لکھنے والے فرد کو املاء کرواتے رہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے جائزہ لیا تو اس تحریر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی تھا ، مجھے اندازہ ہو گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر صرف بھلائی کے حوالے سے ہی ہو گا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ابن حوالہ ! کیا میں تمہارے لئے کوئی چیز نہ لکھواؤں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابن حوالہ ! تم فتنوں کے زمانے میں کیا کرو گے کہ جب وہ زمین کے اطراف سے یوں نکلیں گے ، جس طرح گائے کے سینگ ہوتے ہیں ، میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ! اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں گے ( وہی ٹھیک ہو گا ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس وقت تم کیا کرو گے کہ جب پہلے والے کے بعد ایک اور فتنہ آئے گا ، اور وہ دوسرا فتنہ جو ہو گا ، اس کے مقابلے میں پہلا فتنہ یوں ہو گا جیسے کسی خرگوش نے چھلانگ لگائی ہو ، میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں گے ( وہی ٹھیک ہو گا ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس شخص کی پیروی کرنا ، اس وقت وہاں سے ایک صاحب گزرے جنہوں نے چہرہ ڈھانپا ہوا تھا ، میں دوڑتا ہوا گیا ۔ میں نے ان صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ان کا چہرہ نبی اکرم ﷺ کی طرف کرواتے ہوئے دریافت کیا : ان کے ساتھ ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! تو وہ فرد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14537

Majma al-Zawaid #14537

«وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ مُعَسْكِرِينَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ، فَقَامَ مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ الْبَهْزِيُّ فَقَالَ: أَنَا وَاللَّهِ لَوْلَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قُمْتُ هَذَا الْمَقَامَ. فَلَمَّا سَمِعَ مُعَاوِيَةُ ذِكْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجْلَسَ النَّاسَ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُلُوسٌ إِذْ مَرَّ بِنَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ مُتَرَجِّلًا مُعْدِقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَتَخْرُجَنَّ فِتْنَةٌ مِنْ تَحْتِ رِجْلَيْ - أَوْ مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ - هَذَا، وَمَنِ اتَّبَعَهُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى "". فَقُمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِمَنْكِبَيْ عُثْمَانَ حَتَّى بَيَّنْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ هَذَا، وَمَنِ اتَّبَعَهُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى "". فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ مِنْ عِنْدِ الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَصَاحِبُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي حَاضِرٌ ذَلِكَ الْمَجْلِسَ، وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّ لِي فِي الْجَيْشِ مُصَدِّقًا لَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ». قُلْتُ: حَدِيثُ مُرَّةَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Nufayr reports that while encamped with Muʿāwiyah after the killing of ʿUthmān, Murrah ibn Kaʿb al-Bahzī stood saying he would not have stood there but for something heard from the Messenger ﷺ. When Muʿāwiyah heard the mention of the Messenger ﷺ he seated the people. Murrah said they sat with the Messenger ﷺ when ʿUthmān ibn ʿAffān passed, combed and gathered in hair, and the Messenger ﷺ said a tribulation would emerge from beneath the feet of this man, and whoever followed him that day would be upon guidance. He rose, took ʿUthmān by the shoulders, showed him to the Messenger ﷺ asking if it was this one, and the Prophet ﷺ affirmed that it was he and his followers upon guidance. ʿAbdullāh ibn Ḥawālah al-Azdī then stood from the pulpit confirming he was the narrator's companion in that, present in that gathering, and would have spoken first had he known he would find one to confirm him in the army. > **"A tribulation shall emerge from beneath the feet of this one, and he and whoever follows him that day shall be upon guidance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ معسکرین میں موجود تھے ، یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کی بات ہے ، تو حضرت مرہ بن کعب بہزی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے : اللہ کی قسم ! اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی ایک بات نہ سنی ہوئی ہوتی تو میں نے اس جگہ پر کھڑے نہیں ہونا تھا ، جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کا ذکر کر رہے ہیں ، تو انہوں نے لوگوں کو بٹھایا ، پھر حضرت مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے ، انہوں نے کنگھی کی ہوئی تھی اور بالوں کو جمع کیا ہوا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عنقریب میرے دونوں پاؤں کے نیچے سے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) میرے دونوں قدموں کے نیچے سے ( یعنی اس سرزمین پہ ) ایک فتنہ نکلے گا ، اس وقت یہ شخص اور اس کی پیروی کرنے والے لوگ ہدایت پر ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : میں اٹھا ، میں نے اٹھ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھے پکڑے اور انہیں نبی اکرم ﷺ کی طرف پھیر کر میں نے دریافت کیا : یہ صاحب ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! یہ اور جو اس کی پیروی کرے گا ، وہ اس وقت ہدایت پر ہوں گے ۔‘‘ تو حضرت عبدالله بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ منبر کے قریب تھے ، وہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے کہا : آپ ان کے ساتھی ہیں ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، تو حضرت عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں بھی اس محفل میں موجود تھا ، اگر مجھے اس بات کا علم ہوتا کہ اس لشکر میں کوئی میری بات کی تصدیق کرنے والا ہو گا ، تو میں اس بارے میں سب سے پہلے کلام کرتا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کو امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14538

Majma al-Zawaid #14538

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ أَصَبْتُمُ اسْمَهُ. عُمَرُ قَرْنٌ مِنْ حَدِيدٍ. عُثْمَانُ ذُو النُّورَيْنِ أَصَبْتُمُ اسْمَهُ، قُتِلَ مَظْلُومًا، أُوتِيَ كِفْلَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, said Abū Bakr al-Ṣiddīq, you named him rightly; ʿUmar, a horn of iron; ʿUthmān Dhū al-Nūrayn, you named him rightly; he was killed wronged and shall receive two shares of reward.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ’’ صدیق ‘‘ تھے ، تم نے ان کا ٹھیک نام رکھا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوہے کا بنا ہوا سینگ تھے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ’’ دو نوروں والے ‘‘ تھے ، تم نے ان کا ٹھیک نام رکھا ہے ۔ وہ مظلوم ہونے کے طور پر قتل ہوئے اور انہیں اجر کے دو قفل دیے جائیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عقبہ بن اوس کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14539

Majma al-Zawaid #14539

«وَعَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّهَا كَانَتْ قَاعِدَةً وَعَائِشَةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَدِدْتُ أَنَّ مَعِي بَعْضَ أَصْحَابِي نَتَحَدَّثُ "". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أُرْسِلُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَتَحَدَّثُ مَعَكَ؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَتْ حَفْصَةُ: أُرْسِلُ إِلَى عُمَرَ يَتَحَدَّثُ مَعَكَ؟ قَالَ: "" لَا، وَلَكِنْ أُرْسِلُ إِلَى عُثْمَانَ "". فَجَاءَ عُثْمَانُ فَدَخَلَ، فَقَامَتَا فَأَرْخَتَا السِّتْرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُثْمَانَ: "" إِنَّكَ مَقْتُولٌ مُسْتَشْهَدٌ، فَاصْبِرْ صَبَّرَكَ اللَّهُ، وَلَا تَخْلَعَنَّ قَمِيصًا قَمَّصَكَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَسِتَّةَ أَشْهُرٍ حَتَّى تَلْقَى اللَّهَ، وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ "". قَالَ عُثْمَانُ: إِنْ دَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِي بِالصَّبْرِ، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ صَبِّرْهُ "". فَخَرَجَ عُثْمَانُ، فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" صَبَّرَكَ اللَّهُ ; فَإِنَّكَ سَوْفَ تُسْتَشْهَدُ وَتَمُوتُ وَأَنْتَ صَائِمٌ، وَتُفْطِرُ مَعِي» "".

EnglishUnverified translation

Ḥafṣah, wife of the Prophet ﷺ, may Allah be pleased with her, reports sitting with ʿĀʾishah and the Messenger ﷺ when the Messenger ﷺ wished some Companions were with him to converse. ʿĀʾishah suggested Abū Bakr, Ḥafṣah suggested ʿUmar, but he declined both and asked for ʿUthmān. When ʿUthmān came and entered, the two women stood and let down the curtain. The Messenger ﷺ told ʿUthmān he would be killed as a martyr, to be patient as Allah granted patience, and not to remove a shirt Allah had clothed him for twelve years and six months until meeting Allah while He was pleased with him. ʿUthmān asked for the Prophet's prayer for patience, so the Prophet ﷺ prayed O Allah grant him patience. When ʿUthmān left, the Messenger ﷺ kept saying Allah grant him patience, for he would be martyred, die fasting, and break his fast with him. > **"You shall be killed as a martyr, so be patient, may Allah grant you patience, and do not remove a shirt Allah has clothed you for twelve years and six months until you meet Allah while He is pleased with you. O Allah, grant him patience, for he shall die fasting and break his fast with me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں ، ان کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ میرے ساتھ میرا کوئی صحابی ہوتا ، جس کے ساتھ ہم بات چیت کرتے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلواتی ہوں ، وہ آپ کے ساتھ بات کر لیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج دیتی ہوں ، وہ آپ کے ساتھ بات چیت کر لیں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ، میں عثمان کو پیغام بھیجتا ہوں ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے وہ اندر آنے لگے ، تو یہ دونوں خواتین اٹھیں اور انہوں نے پردہ گرا دیا ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم قتل کیے جاؤ گے ، اور شہید کیے جاؤ گے ، تم صبر سے کام لینا ، اللہ تعالیٰ تمہیں صبر عطا کرے اور تم اس قمیص کو نہ اتارنا جو قمیص اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہنائی ہے ، وہ قمیص تمہیں بارہ سال چھ ماہ تک پہنائی رکھی جائے گی ، یہاں تک کہ تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤ گے ، تو اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہو گا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اگر اللہ کے نبی میرے لئے صبر کی دعا کریں تو مناسب ہو گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! تو اسے صبر عطا فرمانا ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے اور چلے گئے ، تو نبی اکرم ﷺ یہی کہتے رہے ، اللہ تعالیٰ تمہیں صبر عطا کرے اور تم جام شہادت نوش کر لو گے ، اور تم ایسی حالت میں مرو گے کہ تم نے روزہ رکھا ہوا ہو گا ، اور تم افطار میرے ساتھ کرو گے ۔‘‘

14540

Majma al-Zawaid #14540

قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، حَدَّثَتْهُ مِثْلَ ذَلِكَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَاللَّفْظُ لَهُ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibrāhīm reports his father told him, from ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Bakr, that ʿĀʾishah, may Allah be pleased with her, narrated the like of that account.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے عبدالرحمن بن ابوبکر کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس کی مانند حدیث نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عمر بن عثمان عثمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14541

Majma al-Zawaid #14541

«وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجِسْرِيِّ قَالَ: دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ، فَقَالَتْ لِي: هَذِهِ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَنْشُدُكِ اللَّهَ أَنْ تُصَدِّقِينِي بِكَذِبٍ، أَوْ تُكَذِّبِينِي بِصِدْقٍ [قُلْتِهِ]: تَعْلَمِينَ أَنِّي كُنْتُ أَنَا وَأَنْتِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ لَكِ: أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ؟ قُلْتِ: لَا أَدْرِي، ثُمَّ أَفَاقَ قَالَ: "" افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ "". ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ لَكِ: أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ؟ قُلْتِ: لَا أَدْرِي، ثُمَّ أَفَاقَ قَالَ: "" افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ "" فَقُلْتُ لَكِ: أَبِي أَوْ أَبُوكِ؟ قُلْتِ: لَا أَدْرِي، فَفَتَحْنَا لَهُ الْبَابَ فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" ادْنُهْ "". فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي أَنَا وَأَنْتِ مَا هُوَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: "" أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" ادْنُهْ "". فَأَكَبَّ عَلَيْهِ أُخْرَى مِثْلَهَا، فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: "" أَفَهِمَتْ مَا قُلْتُ لَكَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" ادْنُهْ "". فَأَكَبَّ عَلَيْهِ إِكْبَابًا شَدِيدًا فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: "" أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ؟ "". قَالَ: [نَعَمْ] سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي. فَقَالَ لَهُ: "" اخْرُجْ "". قَالَ: فَقَالَتْ حَفْصَةُ: اللَّهُمَّ نَعَمْ - أَوْ قَالَتْ: اللَّهُمَّ صِدْقٌ» -. قُلْتُ: لِعَائِشَةَ وَحْدَهَا حَدِيثٌ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ كُلُّهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ: فَقَالَ: "" «يَا عُثْمَانُ، عَسَى أَنْ يُقَمِّصَكَ اللَّهُ قَمِيصًا، فَانْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ "". ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. فَقَالَ لَهَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَيْنَ كُنْتِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ؟ فَقَالَتْ: نَسِيتُهُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ حَتَّى قُتِلَ الرَّجُلُ».

EnglishUnverified translation

Abū ʿAbdillāh al-Jisrī reports visiting ʿĀʾishah while Ḥafṣah bint ʿUmar, may Allah be pleased with them both, was with her. ʿĀʾishah, may Allah be pleased with her, told him this was Ḥafṣah, wife of the Prophet ﷺ, then adjured Ḥafṣah by Allah to confirm or correct her: both had been with the Messenger ﷺ when he fainted, ʿĀʾishah asked whether he had passed, Ḥafṣah said she did not know, then he awoke saying open the door for him. After a second faint and awakening with the same command, ʿĀʾishah asked whether he meant her father or Ḥafṣah's father, Ḥafṣah said she did not know, then they opened the door and it was ʿUthmān ibn ʿAffān. When the Prophet ﷺ saw him he said draw near, ʿUthmān leaned over him and he confided something neither woman knew, then raised his head asking whether he understood, and ʿUthmān said yes. This occurred a second and then a third time with intense leaning, each with private counsel, each confirmed by ʿUthmān saying his ears had heard and his heart retained, after which the Prophet ﷺ told him to go out. Ḥafṣah affirmed by Allah that it was true, with the addition that the Prophet ﷺ said Allah might clothe ʿUthmān with a shirt, and if the hypocrites sought its removal he should not remove it, thrice. > **"Draw near. Have you understood what I said to you. Go out. O ʿUthmān, Allah may clothe you with a shirt, and if the hypocrites seek its removal, do not remove it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبداللہ جسری بیان کرتے ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ان کے پاس سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا : یہ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں ، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف متوجہ ہوئیں اور بولیں : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتی ہوں کہ اگر میں غلط بیان کروں ، تو آپ یہ بھی بتا دیں اور اگر میں سچ بولوں تو آپ یہ بھی بتا دیں ، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا : کیا آپ یہ بات جانتی ہیں کہ میں اور آپ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھیں اور نبی اکرم ﷺ پر بے ہوشی طاری ہوئی ، میں نے آپ سے دریافت کیا : کیا آپ کے خیال میں نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ہے ، تو آپ نے کہا : مجھے نہیں معلوم ، پھر نبی اکرم ﷺ کو ہوش آ گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اس کے لئے دروازہ کھول دو ، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی ، پھر میں نے تم سے یہ دریافت کیا کہ تم یہ سمجھتی ہو کہ نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ہے ، تو تم نے کہا : مجھے نہیں معلوم ، پھر نبی اکرم ﷺ کو ہوش آیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے لئے دروازہ کھول دو ، تو میں نے تم سے کہا : نبی اکرم ﷺ کی مراد میرے والد ہیں یا تمہارے والد ہیں ؟ تو تم نے کہا : مجھے نہیں معلوم ، ہم نے دروازہ کھول دیا ، تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ موجود تھے ، جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں ملاحظہ فرمایا تو آپ نے فرمایا : قریب آ جاؤ ، وہ نبی اکرم ﷺ پر جھک گئے ، نبی اکرم ﷺ نے سرگوشی میں کوئی بات چیت کی ، مجھے نہیں معلوم اور تمہیں بھی نہیں معلوم کہ وہ بات کیا تھی ؟ پھر انہوں نے سر اٹھایا تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : میں نے جو تمہیں کہا ہے کیا تمہیں سمجھ آ گئی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قریب ہو جاؤ ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دوسری مرتبہ اسی طرح نبی اکرم ﷺ پر جھک گئے ، نبی اکرم ﷺ نے پھر سرگوشی میں کوئی بات چیت کی ، جس کا ہمیں پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کیا ہے ؟ پھر انہوں نے سر اٹھایا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے جو تمہیں کہا ہے ، کیا وہ تم سمجھ گے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم قریب ہو جاؤ ، تو وہ نبی اکرم ﷺ پر زیادہ جھک گئے ، نبی اکرم ﷺ نے پھر سرگوشی میں کوئی بات چیت کی ، پھر انہوں نے سر اٹھایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے جو تم سے کہا ہے ، کیا تم سمجھ گے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، میں نے اپنے کانوں سے اسے سن لیا ہے ، اور میرے دل نے اسے محفوظ کر لیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم چلے جاؤ ! سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، ایسا ہی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) انہوں نے فرمایا : اے اللہ ! اس نے سچ کہا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عثمان اللہ تعالیٰ تمہیں عنقریب ایک قمیص پہنائے گا ، جب منافقین اسے اتروانے کا ارادہ کریں ، تو تم اسے نہ اتارنا ۔‘‘ یہ بات نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : اے ام المومنین ! تو آپ اس حدیث سے کہاں غافل رہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! میں اسے بھول گئی تھی ، یہاں تک کہ وہ صاحب قتل ہو گئے ۔

14542

Majma al-Zawaid #14542

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ أَيْضًا: «فَمَا فَجَأَنِي إِلَّا وَعُثْمَانُ جَاثٍ عَلَى رُكْبَتَيْهِ قَائِلًا: أَظُلْمًا وَعُدْوَانًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَحَسِبْتُ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بِقَتْلِهِ». وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration at al-Ṭabarānī, ʿĀʾishah adds that she was only surprised by ʿUthmān kneeling and saying whether it would be by injustice and aggression, O Messenger of Allah, thinking he had informed him of his killing. > **"By injustice and aggression, O Messenger of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : تو اسی وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور وہ یہ کہہ رہے تھے : یا رسول اللہ ! کیا وہ ظلم کے طور پر اور سرکشی کے طور پر ہو گا ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میرا یہ اندازہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ بات بتائی تھی کہ وہ قتل کر دیے جائیں گے ۔ امام طبرانی کی اسناد میں سے ایک سند حسن ہے ۔

14543

Majma al-Zawaid #14543

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ: «أَنَّ رَجُلًا بِالْكُوفَةِ شَهِدَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قُتِلَ شَهِيدًا، فَأَخَذَتْهُ الزَّبَانِيَةُ، فَرَفَعُوهُ إِلَى أَعْلَى، وَقَالُوا: لَوْلَا أَنْ تَنْهَانَا أَوْ نُهِينَا أَلَّا نَقْتُلَ أَحَدًا لَقَتَلْنَاهُ، زَعَمَ إِنَّهُ يَشْهَدُ أَنَّ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قُتِلَ شَهِيدًا. فَقَالَ الرَّجُلُ لِعَلِيٍّ: وَأَنْتَ تَشْهَدُ أَنَّهُ شَهِيدٌ!! أَتَذْكُرُ أَنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ، فَأَعْطَانِي، وَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَسَأَلْتُهُ، فَأَعْطَانِي، وَأَتَيْتُ عُمَرَ فَسَأَلْتُهُ، فَأَعْطَانِي، وَأَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَسَأَلْتُهُ، فَأَعْطَانِي؟ قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهُ أَنْ يُبَارِكَ لِي، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَيْفَ لَا يُبَارِكُ لَكَ وَأَعْطَاكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ، وَأَعْطَاكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ، وَأَعْطَاكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ»؟! "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Sīrīn reports that a Kūfan man testified ʿUthmān ibn ʿAffān was killed as a martyr, so the guards seized him, raised him, and said they would have killed him had they not been forbidden to kill. The man asked ʿAlī whether he too testified he was a martyr, recalling coming to the Messenger ﷺ asking and receiving, then Abū Bakr, then ʿUmar, then ʿUthmān, each giving him. Then coming to the Prophet ﷺ asking him to pray for blessing, the Prophet ﷺ asked how blessing would not be upon one to whom a Prophet, a Ṣiddīq, and two martyrs had given, repeating it thrice. > **"How shall you not be blessed when a Prophet, a Ṣiddīq, and two martyrs gave to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : کوفہ میں ایک شخص اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو شہید ہونے کے طور پر قتل کیا گیا ہے ، سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے ، لوگوں نے کہا : اگر آپ نے ہمیں منع نہ کیا ہوتا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ہمیں اس بات سے منع نہ کیا گیا ہوتا کہ ہم نے کسی کو قتل نہیں کرنا ، تو ہم نے اس شخص کو قتل کر دینا تھا ، اس کا یہ کہنا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہونے کے طور پر قتل ہوئے تھے ، تو ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ شہید تھے ، کیا آپ کو یہ بات یاد ہے کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا میں نے نبی اکرم ﷺ سے کچھ مانگا ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے دے دیا ، پھر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، میں نے ان سے مانگا ، تو انہوں نے بھی مجھے دے دیا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، ان سے مانگا ، تو انہوں نے بھی مجھے دے دیا ، پھر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، ان سے مانگا ، انہوں نے بھی مجھے دے دیا ، پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ میرے لئے برکت نصیب کرے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہیں برکت کیسے نصیب نہیں ہو گی جبکہ تمہیں ایک نبی نے ایک صدیق نے اور دو شہیدوں نے دیا ہے ۔ تمہیں ایک نبی ایک صدیق اور دو شہیدوں نے دیا ہے ، تمہیں ایک نبی ایک صدیق اور دو شہیدوں نے دیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14544

Majma al-Zawaid #14544

«وَعَنْ أَسْلَمَ - مَوْلَى عُمَرَ - قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ يَوْمَ حُوصِرَ فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ، وَلَوْ أُلْقِيَ حَجَرٌ لَمْ يَقَعْ إِلَّا عَلَى رَأْسِ رَجُلٍ، فَرَأَيْتُ عُثْمَانَ أَشْرَفَ مِنَ الْخَوْخَةِ الَّتِي [تَلِي] مَقَامَ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَنَبِيُّكُمْ طَلْحَةُ؟ فَسَكَتُوا، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَفِيكُمْ طَلْحَةُ؟ فَسَكَتُوا، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَفِيكُمْ طَلْحَةُ؟ فَقَامَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: أَلَا أَرَاكَ هَاهُنَا، مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّكَ [تَكُونُ] فِي جَمَاعَةِ قَوْمٍ يَسْمَعُونَ نِدَائِي آخِرَ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ ثُمَّ لَا تُجِيبُنِي!! أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا طَلْحَةُ، أَتَذْكُرُ يَوْمَ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا، لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ غَيْرِي وَغَيْرَكَ قَالَ [: نَعَمْ، فَقَالَ] لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا طَلْحَةُ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ رَفِيقٌ مِنْ أُمَّتِهِ [مَعَهُ] فِي الْجَنَّةِ، وَإِنَّ عُثْمَانَ هَذَا "" - يَعْنِينِي - "" رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ "". قَالَ طَلْحَةُ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ انْصَرَفَ». قُلْتُ: رَوَى النَّسَائِيُّ بَعْضَهُ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِ عَبْدِ اللَّهِ وَالْبَزَّارِ: أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَأَسْقَطَهُ أَبُو يَعْلَى مِنَ السَّنَدِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Aslam, freedman of ʿUmar, reports witnessing ʿUthmān on the day of the siege at the funeral ground, so crowded a thrown stone would fall only upon a head. ʿUthmān looked from the small door facing the station of Jibrīl, peace be upon him, calling thrice whether Ṭalḥah was among the people, met with silence until Ṭalḥah ibn ʿUbaydillāh stood. ʿUthmān expressed surprise at his silence after three calls, then adjured him by Allah whether he recalled being alone with the Messenger ﷺ in such-and-such place with none but the two of them, when the Messenger ﷺ told Ṭalḥah that every Prophet has a companion from his companions of his nation with him in Paradise, and that this ʿUthmān, meaning himself, was his companion in Paradise. Ṭalḥah affirmed by Allah that it was so. > **"O Ṭalḥah, there is no Prophet but with him is a companion from his nation with him in Paradise, and this ʿUthmān is my companion in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم بیان کرتے ہیں : میں اس وقت موجود تھا جب جنائز کے مقام پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تھا ( اور وہاں اتنے لوگ تھے کہ ) اگر کوئی پتھر پھینکا جاتا تو کسی نہ کسی شخص کے سر پر لگتا ، میں نے دیکھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کھڑکی میں سے جھانک کر دیکھا ، یہ وہ کھڑکی ہے جو حضرت جبرائیل کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ساتھ والی طرف ہے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! کیا تمہارے درمیان طلحہ موجود ہے ، لوگ خاموش رہے ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! کیا تمہارے درمیان طلحہ موجود ہے ، تو لوگ خاموش رہے ، پھر انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! کیا تمہارے درمیان طلحہ موجود ہے ، تو حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تمہیں یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں ؟ میرا یہ اندازہ نہیں تھا کہ تم اس جماعت میں ہو گے جو میری بات سن رہے ہو گے ، اور تین مرتبہ کہنے کے باوجود تم نے مجھے جواب نہیں دیا ، اے طلحہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا تمہیں یہ بات یاد ہے کہ جب میں اور تم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ فلاں فلاں جگہ پر موجود تھے ، میرے اور تمہارے علاوہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کوئی اور آپ کے ساتھ نہیں تھا ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : ) اس وقت نبی اکرم ﷺ نے تم سے یہ کہا تھا کہ اے طلحہ ! ہر نبی کے ساتھ اس کے اصحاب میں سے اس کی امت سے تعلق رکھنے والا ایک رفیق ہوتا ہے ، جو جنت میں اس کے ساتھ ہو گا ، اور یہ عثمان جنت میں میرا رفیق ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے مراد لیا تھا ، تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ جانتا ہے ۔ ایسا ہی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام نسائی نے اس روایت کا کچھ حصہ منقطع سند کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت عبداللہ نے ، ابویعلیٰ نے کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، عبداللہ اور بزار کی سند میں ایک راوی ابوعبادہ زرقی ہے ، اور وہ متروک ہے ، ابویعلیٰ نے اسے سند سے ساقط کیا ہے ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

14545

Majma al-Zawaid #14545

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَ: خَرَجَتِ الصَّعْبَةُ بِنْتُ الْحَضْرَمِيِّ، فَسَمِعْنَاهَا تَقُولُ لِابْنِهَا طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ: إِنَّ عُثْمَانَ قَدِ اشْتَدَّ حَصْرُهُ فَلَوْ كَلَّمْتَ فِيهِ حَتَّى يُرَفَّهَ عَنْهُ. قَالَ: وَطَلْحَةُ يَغْسِلُ أَحَدَ شِقَّيْ رَأْسِهِ فَلَمْ يُجِبْهَا، فَأَدْخَلَتْ يَدَيْهَا فِي كُمِّ دِرْعِهَا، فَأَخْرَجَتْ ثَدْيَيْهَا فَقَالَتْ: أَسْأَلُكَ بِمَا حَمَلْتُكَ وَأَرْضَعْتُكَ إِلَّا فَعَلْتَ، فَقَامَ وَلَوَى شِقَّيَ شَعْرِ رَأْسِهِ حَتَّى عَقَدَهُ وَهُوَ مَغْسُولٌ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى أَتَى عَلِيًّا وَهُوَ جَالِسٌ فِي جَنْبِ دَارِهِ، فَقَالَ طَلْحَةُ وَمَعَهُ أُمُّهُ وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ: لَوْ رَفَّهْتَ النَّاسَ عَنْ هَذَا فَقَدِ اشْتَدَّ حَصْرُهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ مِنْ هَذَا شَيْئًا يَكْرَهُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Abī Rāfiʿ reports from his mother that al-Ṣaʿbah bint al-Ḥaḍramī went out and was heard telling her son Ṭalḥah ibn ʿUbaydillāh that ʿUthmān's siege had tightened and he should speak for relief. While washing one side of his head he did not answer, so she thrust her hands into her garment, bared her breasts, and adjured him by her bearing and nursing not to refuse. He rose, twisted his washed hair and knotted it, went to ʿAlī sitting beside his house, accompanied by his mother and the mother of ʿAbdullāh ibn Abī Rāfiʿ, and asked that the people be eased from ʿUthmān whose siege had tightened. ʿAlī replied by Allah he loved nothing of that matter which they disliked.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابورافع اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ صعبہ بنت حضرمی نکلیں تو ہم نے اس خاتون کو اپنے بیٹے طلحہ بن عبیداللہ سے یہ کہتے ہوئے سنا : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ شدید ہو چکا ہے ، تم اس بارے میں بات چیت کرو تاکہ انہیں سہولت مل جائے ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنے سر کا ایک حصہ دھو چکے تھے ۔ انہوں نے اس خاتون کو کوئی جواب نہیں دیا ، تو اس خاتون نے اپنا ہاتھ اپنی آستین میں داخل کیا اور اپنی چھاتی نکال کر یہ کہا : میں نے تمہارے حمل اور تمہیں دودھ پلانے کا جو کام کیا ہے اس کے حوالے سے میں واسطہ دے کر تمہیں یہ کہتی ہوں کہ تم ایسا ضرور کرو ، تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اسی وقت کھڑے ہوئے ، انہوں نے اپنے سر کے اس طرف والے بالوں کو موڑا اور انہیں گرہ لگا دی ، جو دھلے ہوئے تھے ، پھر وہ وہاں سے نکلے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، جو اپنے گھر کے باہر بیٹھے ہوئے تھے ۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ ان کے ساتھ ان کی والدہ تھیں اور ساتھ عبداللہ بن رافع کی والدہ تھیں ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر آپ ان صاحب سے لوگوں کو پرے کرنے کی کوشش کریں تو یہ مناسب ہو گا ، کیونکہ ان کا محاصرہ شدید ہو چکا ہے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اس حوالے سے کسی ایسی چیز کو پسند نہیں کرتا ہے تم ناپسند کرتے ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14546

Majma al-Zawaid #14546

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ: أَنَّهُ قَالَ حِينَ هَاجَ النَّاسُ فِي أَمْرِ عُثْمَانَ: أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تَقْتُلُوا هَذَا الشَّيْخَ وَاسْتَعْتِبُوهُ ; فَإِنَّهُ لَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ نَبِيَّهَا فَيَصْلُحَ أَمْرُهُمْ حَتَّى يُهْرَاقَ دِمَاءُ سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْهُمْ، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ خَلِيفَتَهَا فَيَصْلُحَ أَمْرُهُمْ حَتَّى يُهْرَاقَ دِمَاءُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا مِنْهُمْ. فَلَمْ يَنْظُرُوا فِيمَا قَالَ وَقَتَلُوهُ، فَجَلَسَ لِعَلِيٍّ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ فَقَالَ: أُرِيدُ أَرْضَ الْعِرَاقِ قَالَ: لَا تَأْتِ الْعِرَاقَ وَعَلَيْكَ بِمِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَوَثَبَ بِهِ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ وَهَمُّوا بِهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ. فَلَمَّا قُتِلَ عَلِيٌّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِابْنِ مَعْقِلٍ: هَذِهِ رَأَسُ الْأَرْبَعِينَ، وَسَيَكُونُ عَلَى رَأْسِهَا صُلْحٌ، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ نَبِيَّهَا إِلَّا قُتِلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ خَلِيفَتَهَا إِلَّا قُتِلَ بِهِ أَرْبَعُونَ أَلْفًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Salām, may Allah be pleased with him, said when people raged over ʿUthmān that they should not kill the old man but seek his correction, for no nation kills its Prophet without seventy thousand of them shedding blood before their affair is set right, and no nation kills its caliph without forty thousand shedding blood. They disregarded his word and killed him. Later he met ʿAlī on the road asking where he headed; ʿAlī said the land of Iraq, so he told him not to go but to keep to the pulpit of the Messenger ﷺ. Some of ʿAlī's companions rushed at him, but ʿAlī said leave him, for he is of the Household. When ʿAlī was killed, ʿAbdullāh told Ibn Miʿqal this was the head of forty, upon which there would be truce, repeating that killing a Prophet costs seventy thousand and killing a caliph forty thousand. > **"O people, do not kill this old man but seek his correction, for no nation kills its Prophet but seventy thousand are killed, and no nation kills its caliph but forty thousand are killed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ جب لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے میں شدت کا مظاہرہ کیا ، تو انہوں نے فرمایا : ’’ اے لوگو ! تم اس بزرگ کو قتل نہ کرنا کیونکہ جس بھی امت نے اپنے نبی کو شہید کیا ، تو ان کا معاملہ اس وقت تک درست نہیں ہوا ، جب تک ان میں سے ستر ہزار افراد کا خون نہیں بہا دیا گیا ، اور جس بھی امت نے اپنے خلیفہ کو شہید کیا ، تو ان کا معاملہ اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوا ، جب تک ان میں سے چالیس ہزار لوگوں کا خون نہیں بہا دیا گیا ‘‘ لیکن ان لوگوں نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی بات پر توجہ نہیں کی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ، ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے راستے میں ملے ، انہوں نے دریافت کیا : آپ کہاں جانا چاہتے ہیں ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں عراق کی سرزمین کی طرف جانا چاہتا ہوں ، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ وہاں نہ جائیں بلکہ آپ اللہ کے رسول کے منبر کے پاس رہیں ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے کچھ افراد نے ان پر حملہ کرنا چاہا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ اہل بیت میں سے ایک ہے ۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ، تو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ابن معقل سے کہا : یہ چالیس ہجری ہو گئی ہے ، اس کے سرے پر صلح ہو گی ، جو بھی امت اپنے نبی کو شہید کرتی ہے ، تو اس کے بدلے میں ستر ہزار افراد مارے جاتے ہیں ، اور جو بھی امت اپنے خلیفہ کو شہید کرتی ہے ، تو اس کے بدلے میں چالیس ہزار افراد مارے جاتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14547

Majma al-Zawaid #14547

وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ: أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ فَأَذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِرَجُلَيْنِ مِمَّا يَلِي السَّرِيرَ أَنْ يُوَسِّعَا لَهُ، فَأَوْسَعَا لَهُ فَجَلَسَ، فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: لِلَّهِ أَبُوكَ! أَتَعْلَمُ حَدِيثًا حَدَّثَهُ أَبُوكَ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ عَنْ جَدِّكَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ؟ قَالَ: فَأَيُّ حَدِيثٍ - رَحِمَكَ اللَّهُ - قُرْبَ حَدِيثٍ قَالَ: حَدِيثُ الْمِصْرِيِّينَ حِينَ حَصَرُوا عُثْمَانَ. قَالَ: قَدْ عَلِمْتُ ذَلِكَ الْحَدِيثَ. أَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ، فَانْطَلَقَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَوَسَّعُوا لَهُ حَتَّى دَخَلَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، مَا جَاءَ بِكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ؟ قَالَ: قَدْ جِئْتُ لِأَثْبُتَ حَتَّى أَسْتَشْهِدَ أَوْ يَفْتَحَ اللَّهُ لَكَ، وَلَا أَرَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ إِلَّا قَاتِلُوكَ ; فَإِنْ يَقْتُلُوكَ فَذَاكَ خَيْرٌ لَكَ وَشَرٌّ لَهُمْ. فَقَالَ عُثْمَانُ: أَسْأَلُكَ بِالَّذِي لِي عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ لَمَا خَرَجْتَ إِلَيْهِمْ، خَيْرٌ يَسُوقُهُ اللَّهُ بِكَ، وَشَرٌّ يَدْفَعُهُ بِكَ اللَّهُ. فَسَمِعَ وَأَطَاعَ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا رَأَوْهُ اجْتَمَعُوا، وَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ جَاءَهُمْ بِبَعْضِ مَا يُسَرُّونَ بِهِ، فَقَامَ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَعَثَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَشِيرًا وَنَذِيرًا ; يُبَشِّرُ بِالْجَنَّةِ مَنْ أَطَاعَهُ وَيُنْذِرُ بِالنَّارِ مَنْ عَصَاهُ، وَأَظْهَرَ مَنِ اتَّبَعَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ، ثُمَّ اخْتَارَ لَهُ الْمُشْرِكُونَ. ثُمَّ اخْتَارَ لَهُ الْمَسَاكِنَ ; فَاخْتَارَ لَهُ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَهَا دَارَ الْهِجْرَةِ وَجَعَلَهَا دَارَ الْإِيمَانِ، فَوَاللَّهِ مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ حَافِّينَ بِالْمَدِينَةِ مُذْ قَدِمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَوْمِ، وَمَا زَالَ سَيْفُ اللَّهِ مَغْمُودًا عَنْكُمْ مُذْ قَدِمَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَوْمِ. ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحَقِّ ; فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي بِهُدَى اللَّهِ، وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ بَعْدَ الْبَيَانِ وَالْحُجَّةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ نَبِيٌّ فِيمَا مَضَى إِلَّا قُتِلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مُقَاتِلٍ كُلُّهُمْ يُقْتَلُ بِهِ، وَلَا قُتِلَ خَلِيفَةٌ قَطُّ إِلَّا قُتِلَ بِهِ خَمْسَةٌ وَثَلَاثُونَ أَلْفَ مُقَاتِلٍ كُلُّهُمْ يُقْتَلُ بِهِ، فَلَا تَعْجَلُوا عَلَى هَذَا الشَّيْخِ بِقَتْلٍ ; فَوَاللَّهِ لَا يَقْتُلُهُ رَجُلٌ مِنْكُمْ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَدُهُ مَقْطُوعَةٌ مَشْلُولَةٌ، وَاعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ لِوَلَدٍ عَلَى وَالِدٍ حَقٌّ إِلَّا وَلِهَذَا الشَّيْخِ عَلَيْكُمْ مِثْلُهُ. قَالَ: فَقَالُوا: كَذَبَتِ الْيَهُودُ، كَذَبَتِ الْيَهُودُ. فَقَالَ: كَذَبْتُمْ وَاللَّهِ وَأَنْتُمْ آثِمُونَ مَا أَنَا بِيَهُودِيٍّ، وَإِنِّي لَأَحَدُ الْمُسْلِمِينَ يَعْلَمُ اللَّهُ بِذَلِكَ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ، وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ: {قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ} [الرعد: 43]، وَقَدْ أَنْزَلَ الْآيَةَ الْأُخْرَى: {قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ} [الأحقاف: 10]. قَالَ: فَقَامُوا، فَدَخَلُوا عَلَى عُثْمَانَ فَذَبَحُوهُ كَمَا يُذْبَحُ الْحِلَّانُ. قَالَ شُعَيْبٌ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ: مَا الْحِلَّانُ؟ قَالَ: الْحَمَلُ. قَالَ: وَقَدْ قَالَ عُثْمَانُ لِكَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ: يَا كَثِيرُ، أَنَا وَاللَّهِ مَقْتُولٌ غَدًا قَالَ: بَلْ يُعْلِي اللَّهُ كَعْبَكَ، وَيَكْبِتُ عَدُوَّكَ. قَالَ: ثُمَّ أَعَادَهَا الثَّالِثَةَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ لِي: "" يَا عُثْمَانُ، أَنْتَ عِنْدَنَا غَدًا، وَأَنْتَ مَقْتُولٌ غَدًا "". فَأَنَا وَاللَّهُ مَقْتُولٌ قَالَ: فَقُتِلَ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ إِلَى الْقَوْمِ قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقُوا، فَقَالَ: يَا أَهْلَ مِصْرَ، يَا قَتَلَةَ عُثْمَانَ، قَتَلْتُمْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ; أَمَا وَاللَّهِ لَا يَزَالُ عَهْدٌ مَنْكُوثٌ، وَدَمٌ مَسْفُوحٌ، وَمَالٌ مَقْسُومٌ لَا سُقِيتُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Malik ibn ʿUmayr reports that Muḥammad ibn Yūsuf ibn ʿAbdillāh ibn Salām sought permission of al-Ḥajjāj ibn Yūsuf, entered, greeted, was given room by two men at the couch, and sat. Al-Ḥajjāj asked by his father whether he knew the ḥadīth his father had told ʿAbd al-Malik ibn Marwān from his grandfather ʿAbdullāh ibn Salām, and which one, namely about the Egyptians when they besieged ʿUthmān. He said he knew it: ʿAbdullāh ibn Salām came while ʿUthmān was besieged, entered with room made for him, greeted him as Commander of the Faithful, was asked what brought him, and replied he had come to stand firm until martyred or Allah granted victory, seeing those people would kill him, which would be better for ʿUthmān and worse for them. ʿUthmān adjured him by his right to go out to them for good Allah might bring or evil Allah might repel through him, so he obeyed, went out, the people gathered expecting pleasing news, and he preached praising Allah, declaring Allah sent Muḥammad ﷺ as bearer of glad tidings and warner, made followers prevail over all religion, chose dwellings including Madīnah as abode of Hijrah and faith, with angels ever surrounding it since the Messenger ﷺ arrived, and warning against violating its sanctity and the covenant of Allah. > **"Peace be upon you, O Commander of the Faithful. I have come to stand firm until I am martyred or Allah grants you victory. Allah sent Muḥammad as a bearer of glad tidings and a warner, and made Madīnah the abode of Hijrah and faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں : محمد بن یوسف بن عبداللہ بن سلام نے حجاج بن یوسف کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ، انہیں اجازت دے دی گئی ، وہ اندر آئے ، انہوں نے سلام کیا ، حجاج نے پلنگ کے پاس موجود دو افراد کو یہ حکم دیا کہ وہ ان صاحب کے لئے گنجائش پیدا کریں ، ان دونوں نے اُن صاحب کے لئے گنجائش پیدا کی ، تو وہ صاحب تشریف فرما ہوئے ، حجاج نے ان سے کہا : اللہ تمہارے والد کا بھلا کرے ، کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ تمہارے والد نے عبدالملک بن مروان کو تمہارے دادا حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث بیان کی تھی ، ان صاحب نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، وہ کون سی حدیث تھی ؟ آپ وہ حدیث پیش کیجئے ، تو حجاج نے کہا : وہ اہل مصر کی حدیث تھی کہ جب لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا ، ان صاحب نے کہا : میں وہ حدیث جانتا ہوں ۔ ’’ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس وقت محصور کیا جا چکا تھا ، وہ چلتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، لوگوں نے ان کے لئے گنجائش پیدا کی وہ اندر گئے ۔ انہوں نے کہا : اے امیرالمومنین ! آپ پر سلام ہو ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : تم پر بھی سلام ہو ، اے عبداللہ بن سلام ! تم کس وجہ سے آئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : میں اس لئے آیا ہوں تاکہ میں آپ کا ساتھ دوں ، یہاں تک کہ میں جام شہادت نوش کر لوں یا اللہ تعالیٰ آپ کو فتح نصیب کر دے ، ان لوگوں کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ یہ آپ کو شہید کر دیں گے ، اگر یہ آپ کو شہید کر دیتے ہیں تو یہ چیز آپ کے حق میں بہتر ہو گی اور ان کے حق میں بری ہو گی ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم پر میرا جو حق ہے ، میں اس کا واسطہ دے کر تم سے یہ کہتا ہوں کہ تم نکل کر ان کی طرف نہ جاؤ ، وہ بھلائی جو اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے لے کے آئے گا یا کوئی شر ہو گا ، جو اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے دور کر دے گا ، تو تم اطاعت و فرمانبرداری سے کام لو ۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نکل کر ان کے پاس گئے ، جب ان لوگوں نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو وہ لوگ اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ کوئی ایسی اطلاع لے کے آئیں ہیں ، جو انہیں خوش کر دے گی ، تو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے بعد ارشاد فرمایا : ’’ امابعد ! بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ( ﷺ ) کو خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر مبعوث کیا ، وہ اس شخص کو جنت کی خوشخبری دیتے تھے جو ان کی پیروی کرتا تھا اور اس شخص کو عذاب سے ڈراتے تھے ، جو ان کی نافرمانی کرتا تھا ، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی پیروی کرنے والوں کو تمام ادیان پر غالب کر دیا ، خواہ یہ بات مشرکین کو بری لگے ، پھر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کے لئے رہائشی جگہ کا انتخاب کیا ، تو نبی اکرم ﷺ کے لئے مدینہ منورہ کو منتخب کیا اور اسے ہجرت کا مقام بنایا ، اسے ایمان کا مقام بنایا ، اللہ کی قسم ! فرشتے مسلسل مدینہ منورہ کی حفاظت کرتے رہتے ہیں ، جب سے نبی اکرم ﷺ یہاں تشریف لائے ہیں ، اور جب سے نبی اکرم ﷺ یہاں تشریف لائے ہیں اس وقت سے لے کر اب تک اللہ کی تلوار تم لوگوں کے حوالے سے میان میں رہی ہے ، پھر اس کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ( ﷺ ) کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ، تو جو شخص ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہو وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہدایت کو حاصل کرے اور جو شخص گمراہ ہوا تو وہ بیان اور حج کے بعد گمراہ رہ گیا ، پہلے زمانے میں جس بھی نبی کو شہید کیا گیا ، تو اس کے بدلے میں ستر ہزار افراد کو قتل کیا گیا ، ان سب کو اس نبی کے بدلے میں قتل کیا گیا ، اور جس بھی خلیفہ کو شہید کیا گیا ، تو اس کے بدلے میں پینتیس ہزار لوگوں کو قتل کیا گیا ، ان سب کو اس کے بدلے میں قتل کیا گیا ، تو تم اس بزرگ کو قتل کرنے میں جلدی نہ کرو ، اللہ کی قسم ! تم میں سے جو شخص انہیں شہید کرے گا ، قیامت کے دن جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا ، اور شل ہو گا ، اور تم یہ بات جان لو کہ اولاد کا والد پر جو حق ہوتا ہے اسی طرح کا حق اس بزرگ کا تم پر ہے ، راوی کہتے ہیں : تو لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا ، اس یہودی نے جھوٹ بولا ہے ، اس یہودی نے جھوٹ بولا ہے ، تو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا : تم لوگ جھوٹ بول رہے ہو ، اللہ کی قسم ! تم لوگ یہودی ہو ، میں یہودی نہیں ہوں ، میں مسلمانوں میں سے ایک ہوں ، اللہ تعالیٰ ، اس کا رسول اور اہل ایمان یہ بات جانتے ہیں ، اور میرے بارے میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی ہے : ’’ تم یہ فرما دو کہ میرے اور تم لوگوں کے درمیان گواہ ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے ، اور وہ شخص کافی ہے ، جس کے پاس کتاب کا علم ہے ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت بھی ( میرے بارے میں ) نازل کی تھی : ’’ تم یہ فرما دو اس بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے کہ اگر یہ چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا ہو اور بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اس بارے میں گواہی دے دی ہو ، وہ ایمان لے آیا اور تم نے تکبر کیا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : تو وہ لوگ اٹھ گئے اور اٹھ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں یوں ذبح کر دیا جس طرح حلان کو ذبح کیا جاتا ہے ۔ شعیب نامی راوی کہتے ہیں : میں نے عبدالملک بن عمیر سے دریافت کیا : حلان کیا ہوتا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا جمل ( ایک مخصوص قسم کا جانور ) ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کثیر بن صلت سے یہ فرمایا تھا ، اسے کثیر ! اللہ کی قسم ! کل مجھے قتل کر دیا جائے گا ، تو کثیر نے جواب دیا : جی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ آپ کو سربلندی عطا کرے گا اور آپ کے دشمن کو رسوا کرے گا ، تین مرتبہ یہ مکالمہ ہوا اور ہر مرتبہ کثیر یہی کہتے رہے ، پھر انہوں نے کہا : اے امیرالمومنین ، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اللہ کے رسول کو خواب میں دیکھا ہے ، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ، نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے عثمان ! کل تم ہمارے ساتھ ہو گے ، اور کل تم شہید ہو جاؤ گے ، تو اللہ کی قسم ! میں شہید ہو جاؤں گا ، راوی کہتے ہیں : تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نکل کر لوگوں کے پاس آئے ، ان کے منتشر ہونے سے پہلے وہ آئے اور بولے : : اے اہل مصر ! اے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلو ! تم نے امیرالمومنین کو قتل کر دیا ہے ، اللہ کی قسم ! عہد شکنی کر دی گئی ، خون بہا دیا گیا ، مال تقسیم کر دیا گیا ، تم لوگ سیراب نہیں ہو گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14548

Majma al-Zawaid #14548

وَعَنْ كُلْثُومٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ -: مَا يَسُرُّنِي أَنِّي رَمَيْتُ عُثْمَانَ بِسَهْمٍ أَخْطَأَهُ، أَحْسَبُهُ قَالَ: - أُرِيدُ قَتْلَهُ وَأَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ عُمَيْرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Kulthūm al-Khuzāʿī reports ʿAbdullāh, meaning Ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, said it would not please him to have shot an arrow at ʿUthmān, even missing while intending his killing, even for the like of Uḥud in gold.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کلثوم خزاعی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف کوئی تیر پھینکا ہو ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا ، میرا مقصد انہیں شہید کرنا ہو ( اور اس تیر پھینکنے کے عوض میں ) مجھے احد پہاڑ جتنا سونا مل جائے ، اگرچہ وہ تیر اپنے نشانے پر نہ لگا ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمران بن عمیر ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14549

Majma al-Zawaid #14549

وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يَقُولُ: لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَأَنْقَطِعَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكُونَ شَرَكْتُ فِي دَمِ عُثْمَانَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Aswad al-Dīlī reports hearing Abū Bakrah, may Allah be pleased with him, say that falling from the sky and being torn apart was dearer to him than sharing in the blood of ʿUthmān. > **"For me to fall from the sky and be torn apart is dearer to me than to share in the blood of ʿUthmān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسود دیلی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ میں آسمان سے گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاؤں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں شرکت کی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14550

Majma al-Zawaid #14550

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: أَدْرَكْتُ عُثْمَانَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ أَرْهَقْتُ الْحُلُمَ، فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَخْطُبُ وَشَهِدَتْهُ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا تَنْقِمُونَ عَلَيَّ؟ قَالَ: وَمَا مِنْ يَوْمٍ إِلَّا وَهُمْ يُقَسِّمُونَ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا، يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اغْدُوا عَلَى أَعْطِيَاتِكُمْ، فَيَغْدُونَ فَيَأْخُذُونَهَا وَافِرَةً، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اغْدُوا عَلَى كِسْوَتِكُمْ، فَيُجَاءُ بِالْحُلَلِ، فَتُقَسَّمُ بَيْنَهُمْ. قَالَ الْحَسَنُ: وَالْعَدُوُّ مَنْفِيٌّ، وَالْعَطِيَّاتُ دَارَّةٌ، وَذَاتُ الْبَيْنِ حَسَنٌ، وَالْخَيْرُ كَثِيرٌ، مَا عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ يَخَافُ مُؤْمِنًا، مَنْ لَقِيَ مِنَ [أَيِّ] الْأَحْيَاءِ فَهُوَ أَخُوهُ وَمَوَدَّتُهُ وَنُصْرَتُهُ، وَالْفِتْنَةُ إِنْ سَلَّ عَلَيْهِ سَيْفًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan reports reaching ʿUthmān near puberty, hearing and witnessing his address asking what the people blamed against him, while every day abundant good was distributed as he called the people to their stipends which they took in full, then to their clothing when cloaks were brought and divided among them. Al-Ḥasan added the enemy was repelled, stipends flowed, mutual relations were good, good was abundant, no believer on earth feared another believer, whoever met any tribesman found brotherhood, love, and support, with tribulation only if a sword were drawn against it. > **"O people, what do you blame against me. Come in the morning for your stipends. Come in the morning for your clothing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے ، میں ان دنوں قریب البلوغ تھا ، میں نے انہیں خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : میں وہاں موجود تھا ، وہ یہ فرما رہے تھے : اے لوگو ! تمہیں مجھ پر کیا اعتراض ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ لوگ روزانہ بہت سی بھلائی تقسیم کرتے تھے ( یعنی مال و دولت تقسیم کرتے تھے ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو تم میرے پاس آنا ، میں تمہیں عطیات دوں گا ، وہ لوگ آئے ، انہوں نے ان عطیات کو وصول کیا جو بہت زیادہ تھے ، پھر یہ کہا گیا : اے لوگو تم لوگ میرے پاس آنا ، میں تمہیں لباس فراہم کروں گا ، پھر حلے لائے گئے ، وہ ان کے درمیان تقسیم کیے گئے ۔ حسن کہتے ہیں : دشمنی ختم ہو گئی ، عطیات گھومنے لگے ، آپس میں تعلقات بہتر ہو گئے ، بھلائی زیادہ ہو گئی ، روئے زمین پر کوئی مومن کسی مومن سے خوف زدہ نہیں تھا ، جو شخص بھی زندوں میں سے جس سے بھی ملتا تھا ، تو وہ اس کا بھائی ہوتا تھا ، اس سے محبت رکھتا تھا ، اس کی مدد کرتا تھا اور فتنہ ایسا تھا کہ اگر اس پر تلوار سونت لی جاتی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14551

Majma al-Zawaid #14551

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: حَدَّثَنِي سَيَّافُ عُثْمَانَ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ، فَقَالَ: ارْجِعِ ابْنَ أَخِي فَلَسْتَ بِقَاتِلِي قَالَ: كَيْفَ عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ أُتِيَ بِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ سَابِعَكَ فَحَنَّكَكَ وَدَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ. قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: ارْجِعِ ابْنَ أَخِي فَلَسْتَ بِقَاتِلِي. قَالَ: وَمِمَّا تَدْرِي ذَلِكَ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ أُتِيَ بِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ سَابِعِكَ فَحَنَّكَكَ وَدَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ. قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: أَنْتَ قَاتِلِي، فَقَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ يَا نَعْثَلُ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ أُتِيَ بِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ سَابِعِكَ لِيُحَنِّكَكَ وَيَدْعُوَ لَكَ بِالْبَرَكَةِ فَخَرِيتَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَوَثَبَ عَلَى صَدْرِهِ، وَقَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ: إِنْ تَفْعَلْ كَانَ يَعِزُّ عَلَى أَبِيكَ قَالَ أَنْ تَسُوءَهُ، فَوَجَأَهُ فِي نَحْرِهِ بِمَشَاقِصَ كَانَتْ فِي يَدِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَيَّافُ عُثْمَانَ وَلَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan reports his informant, the swordsman of ʿUthmān, told that an Anṣārī man entered upon ʿUthmān, who told him to return, O nephew, for he was not his killer. Asked how he knew, he said because the man had been brought to the Messenger ﷺ on his seventh day for taḥnīk and blessing. A second Anṣārī entered with the same exchange. Then Muḥammad ibn Abī Bakr entered, and ʿUthmān said he was his killer. Asked how he knew, O Naʿthal, he said because on his seventh day he had been brought for the Prophet ﷺ to perform taḥnīk and pray for blessing, but he had defecated upon the Messenger ﷺ. The man then leapt upon his chest, seized his beard, and ʿUthmān said if he acted it would grieve his father, whereupon he struck his throat with small arrowheads in his hand. > **"Return, O nephew, for you are not my killer. You are my killer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک محافظ نے مجھے یہ بات بتائی کہ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے کہا : اے میرے بھتیجے ! تم واپس چلے جاؤ ، تم میرے قاتل نہیں ہو ، اس شخص نے کہا : آپ کو اس بات کا کیسے پتہ چلا ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری پیدائش کے ساتویں دن تمہیں ، نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا تھا ، اور نبی اکرم ﷺ نے تمہیں گھٹی دی تھی اور تمہارے لئے برکت کی دعا کی تھی ، راوی کہتے ہیں : پھر انصار سے تعلق رکھنے والا ایک اور شخص حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم واپس چلے جاؤ ، تم مجھے قتل نہیں کرو گے ، اس نے دریافت کیا : آپ کو اس بات کا کیسے پتہ چلا ؟ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیونکہ تمہیں پیدائش کے ساتویں دن نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے تمہیں گھٹی دی تھی اور تمہارے لئے برکت کی دعا کی تھی ، پھر محمد بن ابوبکر اندر آئے ، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : تم مجھے قتل کر دو گے ، انہوں نے کہا : آپ کو کیسے پتہ چلا اے نالائق ؟ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیونکہ تمہاری پیدائش کے ساتویں دن تمہیں نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا ، تاکہ نبی اکرم ﷺ تمہیں گھٹی دیں اور تمہارے لئے برکت کی دعا کر دیں ، تو تم نے نبی اکرم ﷺ پر پاخانہ کر دیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سینے پر چڑھ گئے ، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی داڑھی مٹھی میں لے لی ، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ایسا کرنے تو لگے ہو ، لیکن تم یہ یاد رکھنا کہ تمہارے والد کو یہ بات بری لگنی تھی ، تو اس نے اپنے ہاتھ میں موجود چھوٹا تیر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گلے میں گھونپ دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک محافظ کا ذکر ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14552

Majma al-Zawaid #14552

وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: لَمَّا ضَرَبَ الرَّجُلُ يَدَ عُثْمَانَ قَالَ: إِنَّهَا لَأَوَّلُ يَدٍ خَطَّتِ الْمُفَصَّلَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Salamah ibn ʿAbd al-Raḥmān reports that when the man struck the hand of ʿUthmān, ʿUthmān said it was the first hand to write the Mufaṣṣal. > **"It is the first hand to write the Mufaṣṣal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : جب ایک شخص نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر وار کیا ، تو انہوں نے فرمایا : یہ وہ پہلا ہاتھ ہے ، جس نے مفصل سورتیں لکھی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14553

Majma al-Zawaid #14553

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ: أَنَّ عَامَّةَ الرَّكْبِ الَّذِينَ سَارُوا إِلَى عُثْمَانَ جُنُّوا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Yazīd ibn Abī Ḥabīb reports that most of the riders who marched against ʿUthmān later went mad.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن ابوحبیب بیان کرتے ہیں : جو لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف ( انہیں شہید کرنے کے لئے گئے تھے ) ان میں سے زیادہ تر لوگ بعد میں پاگل پن کا شکار ہو گئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14554

Majma al-Zawaid #14554

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ حِينَ أَطَافُوا بِهِ: تُرِيدُونَ قَتْلَهُ؟ إِنْ تَقْتُلُوهُ أَوْ تَتْرُكُوهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُحْيِي اللَّيْلَ كُلَّهُ فِي رَكْعَةٍ يَجْمَعُ فِيهَا الْقُرْآنَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Sīrīn reports that the wife of ʿUthmān said when they surrounded him whether they intended his killing, for whether they killed or left him, he kept the whole night alive in one rakʿah gathering the Qurʾān therein.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : جب لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے گرد چکر لگانے شروع کیے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے کہا : کیا تم لوگ انہیں شہید کرنا چاہتے ہو ؟ تم لوگ انہیں شہید کر دو یا انہیں چھوڑ دو ، بہرحال وہ ساری رات عبادت کرتے ہیں اور ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھ لیتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14555

Majma al-Zawaid #14555

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: لَقِيَ مَسْرُوقٌ الْأَشْتَرَ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ لِلْأَشْتَرِ: قَتَلْتُمْ عُثْمَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ قَتَلْتُمُوهُ صَوَّامًا قَوَّامًا قَالَ: فَانْطَلَقَ الْأَشْتَرُ فَأَخْبَرَ عَمَّارًا، فَأَتَى عَمَّارٌ مَسْرُوقًا فَقَالَ: وَاللَّهِ لَيَجْلِدَنَّ عَمَّارًا، وَلَيُسَيِّرَنَّ أَبَا ذَرٍّ، وَلَيَحْمِيَنَّ الْحِمَى، وَتَقُولَ: قَتَلْتُمُوهُ صَوَّامًا قَوَّامًا؟ فَقَالَ لَهُ مَسْرُوقٌ: فَوَاللَّهِ مَا فَعَلْتُمْ وَاحِدَةً مِنْ شَيْئَيْنِ: مَا عَاقَبْتُمْ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ، وَمَا صَبَرْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ. قَالَ: فَلَكَأَنَّمَا أَلْقَمَهُ حَجَرًا. قَالَ: وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: مَا وَلَدَتْ هَمْدَانِيَّةٌ مِثْلَ مَسْرُوقٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجَفْرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِنَفْلَتِهِ.

EnglishUnverified translation

Al-Shaʿbī reports Masrūq met al-Ashtar asking whether they had killed ʿUthmān, and he said yes, so Masrūq swore they had killed him fasting and praying by night. Al-Ashtar told ʿAmmār, who came to Masrūq objecting that ʿUthmān had flogged ʿAmmār, banished Abū Dharr, and reserved the pasture, yet Masrūq called him fasting and praying. Masrūq replied they had done neither of two things: neither requited as they had been punished, nor showed patience which is better for the patient, as if stuffing his mouth with a stone. Al-Shaʿbī said no Hamdānī woman bore the like of Masrūq. > **"You killed him fasting and praying. Patience is better for the patient."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : مسروق کی ملاقات اشتر سے ہوئی ، تو مسروق نے اشتر سے کہا : تم لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا ، انہوں نے کہا : جی ہاں ، تو مسروق نے کہا : اللہ کی قسم ! تم نے انہیں ایسی حالت میں شہید کیا کہ وہ روزہ رکھنے والے تھے ، نماز پڑھنے والے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : تو اشتر چلے گئے اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ مسروق کے پاس آئے ، تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! انہوں نے عمار کو کوڑے لگوائے ، انہوں نے ابوذر کو باہر نکلوا دیا ، انہوں نے چراگاہ کو اپنے لئے مخصوص کیا اور تم یہ کہتے ہو کہ آپ لوگوں نے انہیں ایسی حالت میں شہید کیا ہے کہ وہ روزہ دار تھے ، اور نفل پڑھنے والے تھے ، تو مسروق نے ان سے کہا : اللہ کی قسم ! آپ نے دو صورتوں میں سے کوئی بھی کام نہیں کیا ، یا تو یہ تھا کہ آپ انہیں اسی طرح سزا دیتے ، جس طرح آپ کو ان کی طرف سے سزا ملی تھی ، یا یہ ہے کہ آپ صبر سے کام لیتے اور صبر کرنا ، صبر کرنے والوں کے لئے زیادہ بہتر ہے ، راوی کہتے ہیں : تو گویا انہوں نے انہیں لاجواب کر دیا ۔ راوی کہتے ہیں : امام شعبی یہ فرماتے تھے : کسی ہمدانی عورت نے مسروق جیسے بچے کو جنم نہیں دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے ، اور وہ اپنی غفلت کے حوالے سے ضعیف ہے ۔

14556

Majma al-Zawaid #14556

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: لَا مَدِينَةَ بَعْدَ عُثْمَانَ، وَلَا رَخَاءَ بَعْدَ مُعَاوِيَةَ. «وَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ اللَّهَ وَعَدَنِي بِإِسْلَامِ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَأَسْلَمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allah be pleased with him, said there is no Madīnah after ʿUthmān and no prosperity after Muʿāwiyah. The Prophet ﷺ also said Allah had promised him the Islam of Abū al-Dardāʾ, and he embraced Islam. > **"Allah promised me the Islam of Abū al-Dardāʾ, and he embraced Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد مدینہ نہیں رہا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد خوشحالی نہیں رہی ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ ابودرداء اسلام قبول کر لے گا ۔‘‘ ( راوی کہتے ہیں : ) تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14557

Majma al-Zawaid #14557

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ: لَا يَنْتَطِحُ فِيهَا عَنْزَانِ، قُلْتُ: بَلَى وَتُفْقَأُ فِيهَا عُيُونٌ كَثِيرَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAdī ibn Ḥātim, may Allah be pleased with him, reports that when ʿUthmān was killed a man said two goats would not butt over it, but he replied indeed many eyes would be gouged over it. > **"Indeed, many eyes shall be gouged over it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ، تو ایک شخص نے کہا : ان کے بارے میں دو مینڈھے سینگ نہیں لڑائیں گے ، میں نے کہا : جی ہاں ، اس بارے میں بہت سی آنکھیں پھوڑ دی جائیں گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14558

Majma al-Zawaid #14558

وَعَنْ مَالِكٍ - يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ - قَالَ: قُتِلَ عُثْمَانُ، فَأَقَامَ مَطْرُوحًا عَلَى كُنَاسَةِ بَنِي فُلَانٍ ثَلَاثًا، وَأَتَاهُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْهُمْ: جَدِّي مَالِكُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ، وَحُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى، وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَعَائِشَةُ بِنْتُ عُثْمَانَ، مَعَهُمْ مِصْبَاحٌ فِي حِقٍّ فَحَمَلُوهُ عَلَى بَابٍ، وَإِنَّ رَأْسَهُ تَقُولُ عَلَى الْبَابِ: طَقْ طَقْ، حَتَّى أَتَوْا بِهِ الْبَقِيعَ فَاخْتَلَفُوا فِي الصَّلَاةِ عَلَيْهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ أَوْ حُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى - شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ - ثُمَّ أَرَادُوا دَفْنَهُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مَازِنٍ فَقَالَ: لَئِنْ دَفَنْتُمُوهُ مَعَ الْمُسْلِمِينَ لَأُخْبِرَنَّ النَّاسَ غَدًا، فَحَمَلُوهُ حَتَّى أَتَوْا بِهِ حُشَّ كَوْكَبٍ، فَلَمَّا دَلَّوْهُ فِي قَبْرِهِ صَاحَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ عُثْمَانَ، فَقَالَ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ: اسْكُتِي، فَوَاللَّهِ لَئِنْ عُدْتِ لَأَضْرِبَنَّ الَّذِي فِيهِ عَيْنُكِ، فَلَمَّا دَفَنُوهُ وَسَوَّوْا عَلَيْهِ التُّرَابَ قَالَ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ: صِيحِي مَا بَدَا لَكِ أَنْ تَصِيحِي. قَالَ مَالِكٌ: وَكَانَ عُثْمَانُ قَبْلَ ذَلِكَ يَمُرُّ بِحُشِّ كَوْكَبٍ، فَيَقُولُ: لَيُدْفَنَنَّ هَاهُنَا رَجُلٌ صَالِحٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: الْحُشُّ: الْبُسْتَانُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Mālik, meaning Ibn Anas, reports ʿUthmān was killed and left thrown upon the refuse heap of Banū Fulān for three days. Twelve men came, including his grandfather Mālik ibn Abī ʿĀmir, Ḥuwayṭib ibn ʿAbd al-ʿUzzā, Ḥakīm ibn Ḥizām, ʿAbdullāh ibn al-Zubayr, and ʿĀʾishah bint ʿUthmān, with a lamp in a bag. They carried him upon a door, his head knocking taq taq, to al-Baqīʿ, differed over his prayer, and Ḥakīm or Ḥuwayṭib led it. When they sought burial, a man of Banū Māzin threatened to inform the people next day if they buried him with Muslims, so they carried him to Ḥashsh Kawkab. As they lowered him his daughter cried out, Ibn al-Zubayr told her silence threatening to strike between her eyes if she repeated, then after burial and leveling told her to cry as she wished. Mālik added ʿUthmān used to pass Ḥashsh Kawkab saying a righteous man would be buried there, and ḥashsh means garden.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام مالک بن انس بیان کرتے ہیں : جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ، تو بنو فلاں کے گھر میں تین دن تک ان کی لاش پڑی رہی ، پھر بارہ افراد وہاں آئے ، جن میں میرے دادا مالک بن ابوعامر بھی تھے ۔ ان کے علاوہ حویطب بن عبدالعزیٰ تھے ، حکیم بن حزام تھے ، عبداللہ بن زبیر تھے ، عائشہ بنت عثمان تھیں ، ان کے ساتھ ایک چراغ تھا ، ان لوگوں نے ان کی میت کو اٹھایا اور دروازے پر لائے ۔ وہ لوگ انہیں بقیع میں لے کے آئے ، ان لوگوں کے درمیان ان کی نماز جنازہ کے بارے میں اختلاف ہوا تو حکیم بن حزام یا شاید حويطب بن عبدالعزیٰ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ، یہ شک عبدالرحمن نامی راوی کو ہے ، پھر ان لوگوں نے انہیں دفن کرنے کا ارادہ کیا ، تو بنو مازن سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا : اگر تم لوگوں نے انہیں مسلمانوں کے ساتھ دفن کیا ، تو میں کل لوگوں کو اس بارے میں بتا دوں گا ، وہ لوگ اس کی میت اٹھا کر اسے حش کوکب کے مقام پر لے کے آئے ، جب وہ انہیں قبر میں اتارنے لگے ، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی عائشہ چیخنے لگیں ، تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس خاتون سے کہا : تم خاموش رہو ، اللہ کی قسم ! اب اگر تم نے دوبارہ کوشش کی تو میں تمہاری آنکھوں کے درمیان ضرب لگاؤں گا ، جب ان لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا اور ان پر مٹی ڈال دی تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس خاتون سے کہا : اب تمہیں جتنا مناسب لگتا ہے اتنا چیخو ۔ امام مالک بیان کرتے ہیں : اس سے پہلے ایک مرتبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حش کوکب کے مقام سے گزرے تھے ، تو انہوں نے فرمایا تھا : یہاں ایک نیک شخص دفن ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : حش سے مراد بستان ( یعنی باغ ) ہے ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

14559

Majma al-Zawaid #14559

وَعَنْ سَهْمِ بْنِ حُبَيْشٍ - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ قَتْلَ عُثْمَانَ - قَالَ: فَلَمَّا أَمْسَيْنَا قُلْتُ: لَئِنْ تَرَكْتُمْ صَاحِبَكُمْ حَتَّى يُصْبِحَ مَثَّلُوا بِهِ، فَانْطَلَقُوا بِهِ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَأَمْكَنَّا لَهُ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ حَمَلْنَاهُ، وَغَشِيَنَا سَوَادٌ مِنْ خَلْفِنَا فَهِبْنَاهُمْ حَتَّى كِدْنَا أَنْ نَتَفَرَّقَ عَنْهُ، فَنَادَى مُنَادٍ: لَا رَوْعَ عَلَيْكُمْ، اثْبُتُوا فَإِنَّا جِئْنَا نَشْهَدُهُ مَعَكُمْ. وَكَانَ ابْنُ حُبَيْشٍ يَقُولُ: هُمْ وَاللَّهِ الْمَلَائِكَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Sahm ibn Ḥubaysh, among those witnessing the killing of ʿUthmān, reports that in the evening he said if they left their companion till morning they would mutilate him. They set out with him to Baqīʿ al-Gharqad, managing it in the night's depth, carrying him while a dark crowd followed behind frightening them nearly to disperse. A caller cried fear not and remain firm, for they had come to witness him with them. Ibn Ḥubaysh would say by Allah they were angels. > **"No fear upon you, remain firm, for we have come to witness him with you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سہم بن حبیش ، جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والوں میں شامل تھے وہ بیان کرتے ہیں : جب شام ہوئی ، تو میں نے کہا : اگر تم نے اپنے متعلقہ فرد کو صبح تک چھوڑ دیا تو ان لوگوں نے صبح ان کا مثلہ کر دینا ہے ، پھر وہ لوگ انہیں لے کے بقیع غرقد کی طرف گئے ، ہم نصف رات کے وقت انہیں لے کے جا سکے تھے ، ہم نے انہیں اٹھایا ، ہمارے پیچھے بہت سے لوگ تھے ، ہم ان سے ڈر گئے ، یہاں تک کہ ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر ادھر ادھر ہو گئے ، تو ایک منادی نے پکار کر کہا : تم لوگ پریشان نہ ہو اور ثابت قدم رہو ، ہم اس لئے آئے ہیں تاکہ تمہارے ساتھ اس میں شریک ہوں ۔ ابن حبیش کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! وہ فرشتے ہی تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14560

Majma al-Zawaid #14560

«وَعَنْ فُلْفُلَةَ الْجُعْفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ يَقُولُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَنَامِ مُتَعَلِّقًا بِالْعَرْشِ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ آخِذًا بِحَقْوَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَأَيْتُ عُمَرَ آخِذًا بِحَقْوَيْ أَبِي بَكْرٍ، وَرَأَيْتُ عُثْمَانَ آخِذًا بِحَقْوَيْ عُمَرَ، وَرَأَيْتُ الدَّمَ يَنْصَبُّ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ. فَحَدَّثَ الْحَسَنَ بِهَذَا [الْحَدِيثِ] وَعِنْدَهُ قَوْمٌ مِنَ الشِّيعَةِ، فَقَالُوا: وَمَا رَأَيْتَ عَلِيًّا؟ فَقَالَ الْحَسَنُ: مَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَرَاهُ آخِذًا بِحَقْوَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَلِيٍّ، وَلَكِنَّهَا رُؤْيَا رَأَيْتُهَا، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فِي رُؤْيَا رَآهَا، وَقَدْ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ، فَأَصَابَ النَّاسَ جَهْدٌ حَتَّى رَأَيْتُ الْكَآبَةَ فِي وُجُوهِ الْمُسْلِمِينَ وَالْفَرَحَ فِي وُجُوهِ الْمُنَافِقِينَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" وَاللَّهِ لَا تَغِيبُ الشَّمْسُ حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِرِزْقٍ "". فَعَلِمَ عُثْمَانُ أَنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سَيَصْدُقَانِ، فَاشْتَرَى عُثْمَانُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ رَاحِلَةً بِمَا عَلَيْهَا مِنَ الطَّعَامِ، فَوَجَّهَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهَا بِتِسْعَةٍ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَا هَذَا؟ "". قَالُوا: أَهْدَى إِلَيْكَ عُثْمَانُ قَالَ: فَعُرِفَ الْفَرَحُ فِي وُجُوهِ الْمُسْلِمِينَ وَالْكَآبَةُ فِي وُجُوهِ الْمُنَافِقِينَ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبِطَيْهِ، يَدْعُو لِعُثْمَانَ دُعَاءً مَا سَمِعْتُهُ دَعَا لِأَحَدٍ قَبْلَهُ: "" اللَّهُمَّ أَعْطِ عُثْمَانَ اللَّهُمَّ افْعَلْ لِعُثْمَانَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Fulfalah al-Juʿfī reports hearing al-Ḥasan ibn ʿAlī, may Allah be pleased with them both, say he saw the Prophet ﷺ in a dream clinging to the Throne, Abū Bakr holding the waist of the Prophet ﷺ, ʿUmar holding the waist of Abū Bakr, and ʿUthmān holding the waist of ʿUmar, with blood pouring from the sky to the earth. When al-Ḥasan narrated this among some Shīʿah, they asked why he had not seen ʿAlī. Al-Ḥasan said none would have been dearer to see holding the waist of the Messenger ﷺ than ʿAlī, but it was a vision he saw. Abū Masʿūd then said they narrated a vision of al-Ḥasan while he himself had been with the Prophet ﷺ on an expedition when hunger struck, gloom on Muslim faces and joy on hypocrite faces. The Messenger ﷺ swore Allah would bring provision before sunset. ʿUthmān, knowing Allah and His Messenger would prove true, bought fourteen mounts with their food and sent nine to the Prophet ﷺ. Asked what this was, they said ʿUthmān's gift, so joy appeared on Muslim faces and gloom on hypocrites. He saw the Prophet ﷺ raise his hands till his armpits showed, praying for ʿUthmān as never heard before. > **"By Allah, provision shall come before the sun sets. What is this. O Allah, grant ʿUthmān. O Allah, act for ʿUthmān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فلفلہ جعفی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ میں نے خواب میں نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ عرش سے لپٹے ہوئے تھے اور میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو پہلو سے پکڑا ہوا تھا ، میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہلو سے پکڑا ہوا تھا ، میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہلو سے پکڑا ہوا تھا اور پھر میں نے دیکھا کہ آسمان سے زمین کی طرف خون آ رہا ہے ۔ جب امام حسن رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان کی ، تو اس وقت ان کے پاس کچھ شیعہ لوگ موجود تھے ۔ انہوں نے کہا : آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا ، تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے سب سے زیادہ یہ بات پسند ہے کہ میں یہ دیکھتا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو پہلو سے پکڑا ہوا ہے ، لیکن خواب وہی ہے جو میں نے بیان کیا ہے ، تو حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے خواب بیان کرتے ہو ، جو انہوں نے دیکھا تھا ، ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ میں حصہ لے رہے تھے ، لوگوں کو شدید بھوک لاحق ہو گئی ، یہاں تک کہ میں نے مسلمانوں کے چہروں پر پریشانی دیکھی اور منافقین کے چہروں پر خوشی دیکھی ، جب نبی اکرم ﷺ نے یہ صورت حال ملاحظہ کی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! سورج غروب ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو رزق عطا کر دے گا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس بات کا پتہ تھا کہ اللہ کے رسول سچ فرماتے ہیں ، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے چودہ سو اونٹنیاں ، ان پر موجود اناج سمیت خرید لیں اور پھر ان میں سے نو کو نبی اکرم ﷺ کی طرف بھیجوایا ، جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں ملاحظہ کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ کہاں سے آیا ہے ، تو لوگوں نے بتایا یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کی طرف تحفے کے طور پر بھیجی ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : تو مسلمانوں کے چہروں پر خوشی کے آثار نمایاں ہوئے اور منافقین کے چہروں پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوئے ، تو میں نے نبی اکرم ﷺ کی طرف دیکھا کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اتنے بلند کیے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ رہی تھی ، آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کر رہے تھے ، میں نے آپ کو اس سے پہلے کسی کے لئے اس طرح کی دعا کرتے ہوئے نہیں سنا : ’’ اے اللہ ! تو عثمان کو عطا کر ، اے اللہ ! تو عثمان کے لئے یہ کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14561

Majma al-Zawaid #14561

وَعَنِ الْحَسَنِ أَيْضًا قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ عَجَبًا فِي مَنَامِي، رَأَيْتُ الرَّبَّ تَعَالَى فَوْقَ عَرْشِهِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قَامَ عِنْدَ قَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَكَانَ نُبْذَةً، فَقَالَ: رَبِّ سَلْ عِبَادَكَ فِيمَا قَتَلُونِي؟ قَالَ: فَانْثَقَبَ مِنَ السَّمَاءِ مِيزَابَانِ مِنْ دَمٍ فِي الْأَرْضِ. قَالَ: فَقِيلَ لِعَلِيٍّ: أَلَا تَرَى مَا يُحَدِّثُ بِهِ الْحَسَنُ؟ قَالَ: يُحَدِّثُ بِمَا رَأَى.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan also said O people he had seen a wonder last night in a dream: the Lord above His Throne, the Messenger ﷺ coming to stand at a leg of the Throne, Abū Bakr placing his hand upon the shoulder of the Messenger ﷺ, ʿUmar upon Abū Bakr, then ʿUthmān standing apart saying Lord ask Your servants why they killed him, whereupon two spouts of blood burst from the sky to the earth. When ʿAlī was asked about what al-Ḥasan narrated, he said he narrated what he saw. > **"Lord, ask Your servants why they killed me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، وہ فرماتے ہیں : لوگو میں نے گزشتہ رات خواب میں حیران کن چیز دیکھی ، میں نے دیکھا کہ میرا پروردگار اپنے عرش پر ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اور عرش کے ایک پائے کے پاس کھڑے ہوئے ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اپنا ہاتھ نبی اکرم ﷺ کے کندھے پر رکھ لیا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اپنا ہاتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کندھے پر رکھ لیا ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو وہ ذرا ایک طرف تھے ۔ انہوں نے کہا : اے میرے پروردگار ! تو اپنے بندوں سے یہ پوچھ کہ انہوں نے مجھے کیوں قتل کیا ؟ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پھر آسمان سے زمین کی طرف خون کے دو پرنالے بہنے لگے ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ کہا گیا کہ آپ نے یہ چیز ملاحظہ نہیں کی کہ جو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس نے وہی چیز بیان کی ہے ، جو اس نے دیکھی ہے ۔

14562

Majma al-Zawaid #14562

وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ الْحَسَنَ قَالَ: لَا أُقَاتِلُ بَعْدَ رُؤْيَا رَأَيْتُهَا - فَذَكَرَ نَحْوَهُ - إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَرَأَيْتُ عُثْمَانَ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى عُمَرَ، وَرَأَيْتُ دِمَاءً دُونَهُمْ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قِيلَ: دِمَاءُ عُثْمَانَ يَطْلُبُ اللَّهَ بِهِ. رَوَاهُ كُلَّهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ، وَفِي أَحَدِهِمَا مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَفِي الْآخَرِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration al-Ḥasan said he would not fight after a vision he saw, then mentioned the like except that he saw ʿUthmān placing his hand upon ʿUmar and saw blood beneath them. Asked what it was, it was said it was the blood of ʿUthmān with which he sought Allah. > **"What is this. It is the blood of ʿUthmān with which he seeks Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے جو خواب دیکھا ہے اس کے بعد میں جنگ نہیں کروں گا ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کے یہ الفاظ ہیں : میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنا ہاتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر رکھا ہوا تھا اور ان لوگوں کے بعد میں نے خون دیکھا ، میں نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ تو بتایا گیا کہ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا خون ہے ، جس کے حوالے سے وہ اللہ تعالیٰ سے ( حساب لینے ) کا مطالبہ ( یعنی دعا ) کر رہے ہیں ۔ یہ تمام روایات ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں ان دونوں میں سے ایک کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں اور دوسری کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14563

Majma al-Zawaid #14563

وَعَنْ مُسْلِمٍ أَبِي سَعِيدٍ - مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ -: أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَعْتَقَ عِشْرِينَ عَبْدًا مَمْلُوكًا، وَدَعَا بِسَرَاوِيلَ فَشَدَّهَا عَلَيْهِ وَلَمْ يَلْبَسْهَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَارِحَةَ فِي الْمَنَامِ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ [وَإِنَّهُمْ] قَالُوا لِيَ: اصْبِرْ، فَإِنَّكَ تُفْطِرُ عِنْدَنَا الْقَابِلَةَ. ثُمَّ دَعَا بِمُصْحَفٍ فَنَشَرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقُتِلَ، وَهُوَ بَيْنُ يَدَيْهِ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا طُرُقٌ فِي الْفِتَنِ.

EnglishUnverified translation

Muslim Abū Saʿīd, freedman of ʿUthmān ibn ʿAffān, reports ʿUthmān freed twenty slaves, called for trousers and fastened them though he had never worn them in Jāhiliyyah or Islam, saying he had seen the Messenger ﷺ last night in a dream along with Abū Bakr and ʿUmar telling him to be patient for he would break his fast with them on the morrow. He then called for a muṣḥaf, spread it before him, and was killed while it lay before him. > **"Be patient, for you shall break your fast with us tomorrow."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسلم ابوسعید جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بیس غلاموں کو آزاد کر دیا ، پھر انہوں نے شلوار منگوائی اور اسے مضبوطی سے باندھ لیا ، حالانکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں یا زمانہ اسلام میں کبھی بھی شلوار نہیں پہنی تھی ، پھر انہوں نے بتایا : گزشتہ رات میں نے نبی اکرم ﷺ کو خواب میں دیکھا ، میں نے خواب میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، ان لوگوں نے مجھ سے یہ کہا : تم صبر سے کام لو ، تم آج افطاری ہمارے ساتھ کرو گے ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید منگوایا اور اسے اپنے سامنے منگوا لیا ، جب انہیں شہید کیا گیا ، تو وہ قرآن مجید ان کے سامنے موجود تھا ۔ یہ روایت عبداللہ نے اور امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس روایت کے مختلف طرق فتنوں سے متعلق کتاب میں گزر چکے ہیں ۔

14564

Majma al-Zawaid #14564

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: صَلَّى الزُّبَيْرُ عَلَى عُثْمَانَ وَدَفَنَهُ، وَكَانَ أَوْصَى إِلَيْهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنْ قَتَادَةَ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ.

EnglishUnverified translation

Qatādah reports al-Zubayr prayed over ʿUthmān and buried him, having been entrusted by his bequest.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت زبیر نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی تھی اور انہیں دفن کیا تھا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں وصیت کی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ قتادہ نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

14565

Majma al-Zawaid #14565

وَعَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: لَوْ أَنَّ النَّاسَ لَمْ يَطْلُبُوا بِدَمِ عُثْمَانَ لَرُجِمُوا بِالْحِجَارَةِ مِنَ السَّمَاءِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Zahdam al-Jarmī reports Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, addressed them saying had the people not sought the blood of ʿUthmān they would have been stoned from the sky. > **"Had the people not sought the blood of ʿUthmān, they would have been stoned from the sky."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہدم جرمی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ اگر لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ نہ کیا ہوتا تو آسمان سے ان پر پتھر برسائے جاتے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14566

Majma al-Zawaid #14566

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، وَعَنْ يَسَارِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، إِذْ جَاءَ غُرَابُ بْنُ فُلَانٍ الصُّدَائِيُّ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا تَقُولُ فِي عُثْمَانَ؟ فَبَدَرُهُ الرَّجُلَانِ، فَقَالَا: تَسْأَلُ عَنْ رَجُلٍ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ وَنَافَقَ؟! فَقَالَ الرَّجُلُ لَهُمَا: لَسْتُ لَكُمَا أَسْأَلُ، وَلَا إِلَيْكُمَا جِئْتُ. فَقَالَ لَهُ: لَسْتُ أَقُولُ مَا قَالَا. فَقَالَا لَهُ جَمِيعًا: فَلِمَ قَتَلْنَاهُ إِذًا؟ قَالَ: وَلِيَ عَلَيْكُمْ فَأَسَأَءَ الْوِلَايَةَ فِي آخِرِ أَيَّامِهِ، وَجَزِعْتُمْ فَأَسَأْتُمُ الْجَزَعَ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَعُثْمَانُ كَمَا قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ، وَلَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Saʿīd reports from his father that they sat with ʿAlī ibn Abī Ṭālib, with ʿAmmār ibn Yāsir on his right and Muḥammad ibn Abī Bakr on his left, when Ghurāb ibn Fulān al-Ṣudāʾī asked what he said about ʿUthmān. The two men hastened saying he asked about a man who disbelieved after faith and played the hypocrite. The man said he had not asked them nor come to them. ʿAlī told him he did not say what they had said, so both asked why then he had been killed. ʿAlī said he had ruled over them and misruled at the end, they panicked and panicked badly, but by Allah he hoped he and ʿUthmān would be as Allah said, with rancour stripped from breasts as brothers facing upon couches. > **"We stripped what was in their breasts of rancour as brothers facing upon couches."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن سعید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان کے دائیں طرف حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ موجود تھے اور بائیں طرف محمد بن ابوبکر موجود تھے ، اسی دوران غراب بن فلاں صدائی نامی شخص آیا اور بولا : اے امیرالمومنین ! آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ تو دونوں صاحبان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سبقت کرتے ہوئے یہ کہا : تم ایک ایسے شخص کے بارے میں نہ پوچھو کہ جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کا کفر کیا اور منافقت اختیار کی ، اس شخص نے ان دونوں صاحبان سے کہا : میں نے آپ دونوں سے سوال نہیں کیا اور نہ ہی میں آپ دونوں کے پاس آیا ہوں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا : یہ دونوں جو کہہ رہے ہیں ، میں وہ نہیں کہتا ، ان دونوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : تو پھر ہم نے انہیں قتل کیوں ہونے دیا ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ تمہارے امیر بنے تھے ، اور انہوں نے اپنی حکومت کے آخری دنوں میں کچھ کام ٹھیک نہیں کیے ، تم نے اس کے خلاف احتجاج کیا اور غلط طریقے سے کیا ، اللہ کی قسم ! مجھے یہ توقع ہے کہ میں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس طرح ہوں گے ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اور ہم نے ان کے سینوں میں سے کھوٹ الگ کر دیا ، وہ بھائی بھائی بن کر پلنگوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن بشیر ہے ، جس سے استدلال کرنا درست نہیں ہے ۔

14567

Majma al-Zawaid #14567

وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ قَالَ: سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ خُشَافٍ يَقُولُ: وَفَدْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لِنَنْظُرَ فِيمَا قُتِلَ عُثْمَانُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَرَرْنَا بِبَعْضِ آلِ عَلِيٍّ، وَبَعْضِ آلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَبَعْضِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهَا، فَرَدَّتِ السَّلَامَ وَقَالَتْ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَتْ: وَمِنْ أَيِّ أَهْلِ الْبَصْرَةِ؟ قُلْتُ: مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، فَقَالَتْ: وَمِنْ أَيِّ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ؟ فَقُلْتُ: مِنْ بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، فَقَالَتْ: مِنْ آلِ فُلَانٍ؟ فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فِيمَا قُتِلَ عُثْمَانُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَتْ: قُتِلَ وَاللَّهِ مَظْلُومًا، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ قَتَلَهُ، أَقَادَ اللَّهُ مِنِ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ بِهِ، وَسَاقَ اللَّهُ إِلَى أَعْيَنَ بْنِ تَيْمٍ هَوَانًا فِي بَيْتِهِ، وَأَرَاقَ اللَّهُ دِمَاءَ بَنِي بُدَيْلٍ عَلَى ضَلَالِهِ، وَسَاقَ اللَّهُ إِلَى الْأَشْتَرِ سَهْمًا مِنْ سِهَامِهِ. فَوَاللَّهِ مَا مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ إِلَّا أَصَابَتْهُ دَعْوَتُهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ طَلْقٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Aswad reports hearing Ṭalq ibn Khashshāf say they came as a delegation to Madīnah to examine why ʿUthmān was killed. Arriving, they passed some of the family of ʿAlī, some of al-Ḥusayn ibn ʿAlī, and some Mothers of the Believers, but he went to ʿĀʾishah, greeted her, she returned it and questioned his origin until he traced to Banū Qays ibn Thaʿlabah. Asked about the killing of the Commander ʿUthmān, she said by Allah he was killed wronged, may Allah curse his killer, may Allah requite from Ibn Abī Bakr for him, bring humiliation to Aʿyan ibn Taym in his house, shed the blood of Banū Budayl upon misguidance, and send to al-Ashtar an arrow from His arrows. By Allah, none of those men escaped her supplication. > **"He was killed wronged, by Allah. May Allah curse whoever killed him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسود بیان کرتے ہیں : میں نے طلیق بن خشاف کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ’’ ہم لوگ وفد کی شکل میں مدینہ منورہ گئے تاکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کیوں شہید کیا گیا ، جب ہم وہاں آئے ، تو وہاں ہمارا گزر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کے پاس سے ہوا ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کے پاس سے ہوا ، ایک اُم المومنین کے پاس سے ہوا ، لیکن میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے انہیں سلام کیا ، انہوں نے سلام کا جواب دیا ، انہوں نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ میں نے بتایا : اہل بصرہ سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوں ، انہوں نے دریافت کیا : اہل بصرہ میں سے کس سے تعلق رکھتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : بکر بن وائل کے خاندان سے ، انہوں نے دریافت کیا : بکر بن وائل کے خاندان میں سے کس سے تعلق رکھتے ہو ؟ میں نے بتایا بنو قیس بن ثعلبہ سے ، انہوں نے فرمایا : آل فلاں سے ، میں نے ان سے کہا : اے ام المومنین ! حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جو امیرالمومنین ہیں ، انہیں کیوں شہید کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! انہیں مظلوم ہونے کے طور پر قتل کیا گیا ، اور جس شخص نے انہیں قتل کیا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے اللہ تعالیٰ ان کا قصاص لے اور بنو تیم کے بڑوں کو ان کے گھر میں اللہ تعالیٰ بے حیثیت کر دے ، اور بنو بدیل کی گمراہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے خون بہائے اور اشتر کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے تیروں میں سے کوئی تیر بھیجے ( راوی کہتے ہیں : ) اللہ کی قسم ! ان سب لوگوں میں سے ہر ایک کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دعائے ضرر کا نتیجہ لاحق ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف طلق کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔