Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 6

Book of Virtues and Merits

Hadith 14488–14527

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14488

Majma al-Zawaid #14488

وَعَنْ مَعْرُوفِ بْنِ أَبِي مَعْرُوفٍ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ عُمَرُ سَمِعْتُ صَوْتًا: لِيَبْكِ عَلَى الْإِسْلَامِ مَنْ كَانَ بَاكِيًا فَقَدْ أَوْشَكُوا هَلْكَى وَمَا قَدِمَ الْعَهْدُ وَأَدْبَرَتِ الدُّنْيَا وَأَدْبَرَ خَيْرُهَا وَقَدْ مَلَّهَا مَنْ كَانَ يُوقِنُ بِالْوَعْدِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Maʿrūf ibn Abī Maʿrūf said that when ʿUmar passed away he heard a voice saying that whoever weeps should weep for Islam, for they were nearly ruined though the covenant was recent, and the world and its good had turned away, and one who believed in the promise had grown weary of it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معروف بن ابومعروف بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نے کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ رونے والے کو اسلام پر رونا چاہیے کیونکہ عنقریب وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ، اور ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرا کہ دنیا رخصت ہو گئی اور اس کی بھلائی رخصت ہو گئی اور وہ شخص دنیا سے اکتا گیا جو وعد ( یعنی آخرت ) پر یقین رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

14489

Majma al-Zawaid #14489

قَالَ مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ قُصَيِّ بْنِ كِلَابِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرٍ. يُكَنَّى: أَبَا عَمْرٍو، وَيُقَالُ: أَبَا عَبْدِ اللَّهِ. وَأُمُّ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ [أَرْوَى بِنْتُ كُرَيْزِ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، وَأُمُّ أَرْوَى]: أُمُّ حَكِيمٍ الْبَيْضَاءُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَأُمُّ أُمِّ حَكِيمٍ [فَاطِمَةُ]: بِنْتُ عَمْرِو بْنِ عَائِذِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ مَخْزُومٍ، وَهِيَ جَدَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[مِنْ أَبِيهِ]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Musʿab ibn ʿAbdillah al-Zubayrī said that ʿUthmān ibn ʿAffān ibn Abī al-ʿĀs ibn Umayyah ibn ʿAbd Shams ibn ʿAbd Manāf ibn Qusayy ibn Kilāb ibn Murrah ibn Kaʿb ibn Luʾayy ibn Ghālib ibn Fihr. His kunyah was Abū ʿAmr, and it is said Abū ʿAbdillah. The mother of ʿUthmān ibn ʿAffān was Arwā bint Kurayz ibn Rabīʿah ibn Habīb ibn ʿAbd Shams, and the mother of Arwā was Umm Hakīm al-Baydāʾ bint ʿAbd al-Muttalib, the paternal aunt of the Messenger of Allah ﷺ. The mother of Umm Hakīm was Fātimah bint ʿAmr ibn ʿĀʾidh ibn ʿImrān ibn Makhzūm, the grandmother of the Messenger of Allah ﷺ from his father's side.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن عبداللہ زبیری بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ( کا نسب یہ ہے : ) حضرت عثمان بن عفان بن ابوالعاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعمرو تھی اور ایک قول کے مطابق ابوعبداللہ تھی ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی والدہ ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبدشمس ہے ، ارویٰ کی والدہ کا نام ام حکیم بیضاء بنت عبدالمطلب تھا ، جو نبی اکرم ﷺ کی پھوپھی ہیں ، اور ام حکیم کی والدہ کا نام فاطمہ بنت عمرو بن عائذ بن عمران بن مخزوم ہے ، جو نبی اکرم ﷺ کی والد کی طرف سے دادی بنتی ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14490

Majma al-Zawaid #14490

عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُثْمَانَ بِصَحْفَةٍ فِيهَا لَحْمٌ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَرُقَيَّةُ جَالِسَةٌ، فَمَا رَأَيْتُ اثْنَيْنِ أَحْسَنَ مِنْهُمَا، فَجَعَلْتُ مَرَّةً أَنْظُرُ إِلَى رُقَيَّةَ وَمَرَّةً أَنْظُرُ إِلَى عُثْمَانَ، فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ لِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَدَخَلْتَ عَلَيْهِمَا؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: "" فَهَلْ رَأَيْتَ زَوْجًا أَحْسَنَ مِنْهُمَا؟ "". قُلْتُ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ جَعَلْتُ مَرَّةً أَنْظُرُ إِلَى رُقَيَّةَ وَمَرَّةً أَنْظُرُ إِلَى عُثْمَانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ: كَانَ هَذَا قَبْلَ نُزُولِ [آيَةِ] الْحِجَابِ،، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Usāmah ibn Zayd رضي الله عنهما said that the Messenger of Allah ﷺ sent him to ʿUthmān with a platter containing meat. He entered upon him while Ruqayyah رضي الله عنها was seated, and he had never seen two more beautiful than them. He looked at Ruqayyah once and at ʿUthmān once. When he returned, the Prophet ﷺ asked whether he had entered upon them. He said yes, and when asked whether he had seen a couple more beautiful than them, he replied no, explaining how he had looked at each in turn. This was before the verse of hijāb was revealed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک پیالہ دے کر مجھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا ، جس پیالے میں گوشت موجود تھا ، جب میں ان کے ہاں آیا تو سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں ۔ میں نے ان دونوں سے زیادہ خوبصورت جوڑا کوئی نہیں دیکھا ، کبھی میں سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھتا تھا کبھی میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتا تھا ، جب میں واپس آیا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم ان کے ہاں گئے تھے ، میں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے ان دونوں سے زیادہ خوبصورت جوڑا کوئی دیکھا ہے ، میں نے عرض کی : جی نہیں یا رسول اللہ ! میں بھی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھتا تھا اور کبھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں ۔ یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14491

Majma al-Zawaid #14491

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَزْمٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَمَا رَأَيْتُ قَطُّ ذَكَرًا وَلَا أُنْثَى أَحْسَنَ وَجْهًا مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Hazm al-Māzinī رضي الله عنه said that he saw ʿUthmān ibn ʿAffān, and he had never seen any male or female more beautiful in face than him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حزم مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، میں نے ان سے زیادہ خوبصورت چہرے والا کوئی مرد یا کوئی عورت نہیں دیکھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14492

Majma al-Zawaid #14492

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَوْمَ الْجُمْعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ، عَلَيْهِ إِزَارٌ عَدَنِيٌّ غَلِيظٌ، ثَمَنُهُ أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ أَوْ خَمْسَةٌ، وَرَيْطَةٌ كُوفِيَّةٌ مُمَشَّقَةٌ، ضَرْبُ اللَّحْمِ، طَوِيلُ اللِّحْيَةِ، حَسَنُ الْوَجْهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Shaddād ibn al-Hād رحمه الله said that he saw ʿUthmān ibn ʿAffān on Friday upon the minbar wearing a thick ʿAdanī waist-wrapper worth four or five dirhams and a patterned Kūfī shawl. He was of full flesh, long-bearded, and handsome in face.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن شداد بن الہاد بیان کرتے ہیں : میں نے جمعہ کے دن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر دیکھا ، انہوں نے عدنی تہبند باندھا ہوا تھا ، جو موٹا تھا اور اس کی قیمت چار یا شاید پانچ درہم تھی اور ایک کوفی چادر لی ہوئی تھی ، جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے وہ بھرپور جسم کے مالک تھے ۔ ان کی داڑھی لمبی تھی اور چہرہ خوبصورت تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14493

Majma al-Zawaid #14493

وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمْعَةِ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَصًا، وَكَانَ أَجْمَلَ النَّاسِ، وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَصْفَرَانِ: إِزَارٌ وَرِدَاءٌ، حَتَّى يَأْتِيَ الْمِنْبَرَ فَيَجْلِسَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Mūsā ibn Talhah رحمه الله said that ʿUthmān would lean upon a staff on Friday. He was the most beautiful of people, wearing two yellow garments, a waist-wrapper and a cloak, until he came to the minbar and sat upon it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن عصا کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے ، وہ سب سے زیادہ خوبصورت تھے ۔ ان کے جسم پر دو زرد لباس تھے ، ایک تہبند تھا اور ایک چادر تھی ، وہ منبر کے پاس آئے اور اس پر تشریف فرما ہوئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14494

Majma al-Zawaid #14494

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ الْقَارِئِ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَبْيَضَ اللِّحْيَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAwn al-Qāriʾ رحمه الله said that he saw ʿUthmān ibn ʿAffān with a white beard.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عوف قاری بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے ان کی داڑھی سفید تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14495

Majma al-Zawaid #14495

وَعَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَصْفَرَ اللِّحْيَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abī Dhiʾb reported from ʿAbd al-Rahmān ibn Saʿd that he saw ʿUthmān ibn ʿAffān with a yellow beard.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابوذئب نے عبدالرحمن بن سعد کا یہ قول نقل کیا ہے ، میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کی داڑھی زرد تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14496

Majma al-Zawaid #14496

وَعَنْ أُمِّ مُوسَى قَالَتْ: كَانَ عُثْمَانُ مِنْ أَجْمَلِ النَّاسِ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرُ أُمِّ مُوسَى وَهِيَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Mūsā رحمها الله said that ʿUthmān was among the most beautiful of people.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ام موسیٰ بیان کرتی ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ خوبصورت تھے ۔ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف اُم موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہیں ۔

14497

Majma al-Zawaid #14497

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَنَا بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مُتَّكِئٌ عَلَى رِدَائِهِ، فَأَتَاهُ سَقَّاءَانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ، فَقَضَى بَيْنَهُمَا. ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ، بِوَجْهِهِ نُكْتَاتُ جُدَرِيٍّ، وَإِذَا شَعْرُهُ قَدْ كَسَا ذِرَاعَيْهِ .. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَفِيهِ أَبُو الْمِقْدَامِ: هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan ibn Abī al-Hasan رحمه الله said that he entered the mosque and found ʿUthmān ibn ʿAffān رضي الله عنه reclining upon his cloak. Two water-carriers came disputing to him, and he judged between them. He then approached and looked at him, finding a man handsome in face with marks of smallpox upon it, and his hair covering his forearms.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بن ابوالحسن بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا تو میرے سامنے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے ، جو اپنی چادر کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے ۔ ان کے پاس دو پانی بھرنے والے افراد آئے ، ان دونوں نے اپنا مقدمہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ دیا ، پھر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، میں نے ان کا بغور جائزہ لیا تو وہ ایک خوبصورت چہرے کے مالک شخص تھے ۔ ان کے چہرے پر جدری کے کچھ داغ تھے اور ان کے بالوں نے ان کی کلائیوں کو بھرا ہوا تھا ۔ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومقدام بن ہشام ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14498

Majma al-Zawaid #14498

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «خَرَجَ عُثْمَانُ مُهَاجِرًا إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَمَعَهُ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاحْتَبَسَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَبَرُهُمْ، فَكَانَ يَخْرُجُ يَتَوَكَّفُ عَنْهُمُ الْخَبَرَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَأَخْبَرَتْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ عُثْمَانَ لَأَوَّلُ مَنْ هَاجَرَ إِلَى اللَّهِ بِأَهْلِهِ بَعْدَ لُوطٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ الْبُرْجُمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه said that ʿUthmān emigrated to the land of Abyssinia with Ruqayyah, the daughter of the Messenger of Allah ﷺ. News of them was delayed to the Prophet ﷺ, who would go out awaiting word of them. A woman came and informed him, whereupon the Prophet ﷺ said that ʿUthmān was the first to emigrate to Allah with his family after Lūt. > **"Indeed ʿUthmān is the first to emigrate to Allah with his family after Lūt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کرنے کے لئے روانہ ہوئے ، ان کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں ۔ کافی عرصے تک نبی اکرم ﷺ کو ان لوگوں کی کوئی اطلاع نہیں ملی ، نبی اکرم ﷺ تشریف لے جاتے تھے اور آپ ان کی خیر خبر کے بارے میں دریافت کرتے تھے ، پھر ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور اس نے نبی اکرم ﷺ کو بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حضرت لوط علیہ السلام کے بعد عثمان وہ پہلا فرد ہے ، جس نے اپنی بیوی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف ہجرت کی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن زیاد برجمی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14499

Majma al-Zawaid #14499

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا كَانَ بَيْنَ عُثْمَانَ وَرُقَيَّةَ وَلُوطٍ مِنْ مُهَاجِرٍ "". يَعْنِي أَنَّهُمَا أَوَّلُ مَنْ هَاجَرَ إِلَى الْحَبَشَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ الْعُثْمَانِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thābit رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that there was no emigrant between ʿUthmān and Ruqayyah and Lūt, meaning that they were the first to emigrate to Abyssinia. > **"There was no emigrant between ʿUthmān and Ruqayyah and Lūt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عثمان اور رقیہ ، اور حضرت لوط علیہ السلام کے درمیان کوئی مہاجر نہیں ہے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ وہ پہلے فرد ہیں جنہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن خالد عثمانی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14500

Majma al-Zawaid #14500

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ الْقُرَشِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى ابْنَتِهِ وَهِيَ تَغْسِلُ رَأْسَ عُثْمَانَ، فَقَالَ: "" يَا بُنَيَّةُ، أَحْسِنِي إِلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ; فَإِنَّهُ أَشْبَهُ أَصْحَابِي بِي خُلُقًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Rahmān ibn ʿUthmān al-Qurashī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ entered upon his daughter while she was washing the head of ʿUthmān, and said to her to treat Abū ʿAbdillah well, for he was the most like his Companions to him in character. > **"O my daughter, treat Abū ʿAbdillah well, for he is the most like of my Companions to me in character."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عثمان قرشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنی صاحبزادی کے پاس تشریف لائے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سر کو دھو رہی تھیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے میری بیٹی ! ابوعبداللہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، کیونکہ یہ میرے اصحاب میں اخلاق کے اعتبار سے مجھ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14501

Majma al-Zawaid #14501

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةِ عُثْمَانَ - وَفِي يَدِهَا مُشْطٌ، فَقَالَتْ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آنِفًا رَجَلْتُ رَأْسَهُ، فَقَالَ: "" كَيْفَ تَجِدِينَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ "". قُلْتُ: بِخَيْرٍ. قَالَ: "" فَأَكْرِمِيهِ ; فَإِنَّهُ مِنْ أَشْبَهِ أَصْحَابِي بِي خُلُقًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَرْوِي عَنِ الْمُطَّلِبِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said that he entered upon Ruqayyah, the daughter of the Messenger of Allah ﷺ and wife of ʿUthmān, with a comb in her hand. She said that the Messenger of Allah ﷺ had just left her after she had combed his head, and he had asked how she found Abū ʿAbdillah. She replied that he was good, whereupon he told her to honour him, for he was among the most like of his Companions to him in character. > **"How do you find Abū ʿAbdillah? Honour him, for he is among the most like of my Companions to me in character."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں ، انہوں نے عرض کی : ابھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گئے ہیں ، میں نے ان کے سر میں کنگھی کی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے ابوعبداللہ کو کیسا پایا ہے ، اس خاتون نے جواب دیا : وہ بہت اچھے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس کا احترام کرنا کیونکہ وہ اخلاق کے اعتبار سے میرے اصحاب میں سے مجھ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ ہے ، جس نے مطلب سے روایت نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14502

Majma al-Zawaid #14502

عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: «اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَارَتُهُ تَضْرِبُ بِالدُّفِّ، فَدَخَلَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ وَدَخَلَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَأَمْسَكَتْ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَجِيلَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَلَمْ يُسَمِّ الرَّجُلَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abī Awfā رضي الله عنه said that Abū Bakr sought permission to enter upon the Prophet ﷺ while his slave-girl was beating the duff, and he entered. Then ʿUmar sought permission and entered. Then ʿUthmān sought permission and she stopped. The Messenger of Allah ﷺ said that ʿUthmān was a shy man. > **"Indeed ʿUthmān is a shy man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ، اس وقت ایک کنیز دف بجا رہی تھی ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آ گئے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی وہ اندر آ گئے ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، تو وہ کنیز رک گئی ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عثمان ایک شرمیلا شخص ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے بجیلہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے حضرت ابن ابووفیٰ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس شخص کا نام بیان نہیں کیا اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14503

Majma al-Zawaid #14503

عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ قَالَتْ: «دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَيْئَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَيْئَتِهِ، وَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَذِنَ لَهُمْ، وَجَاءَ عَلِيٌّ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَيْئَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَاسْتَأْذَنَ، فَتَجَلَّلَ ثَوْبَهُ فَأَذِنَ لَهُ، فَتَحَدَّثُوا سَاعَةً، ثُمَّ خَرَجُوا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ، وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، وَأَنْتَ عَلَى هَيْئَتِكَ لَمْ تُحَرِّكْ، فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ تَجَلَّلْتَ ثَوْبَكَ؟ قَالَ: "" أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ»! "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Hafsah bint ʿUmar رضي الله عنها said that one day the Messenger of Allah ﷺ entered upon her and placed his garment between his thighs. Abū Bakr sought permission and the Messenger of Allah ﷺ admitted him in that state. Then ʿUmar sought permission and he admitted him in that state. Then some of his Companions came and he admitted them, and ʿAlī came and he admitted him in that state. Then ʿUthmān ibn ʿAffān sought permission, so he wrapped his garment about himself and admitted him. They conversed for a while, then left. She asked why Abū Bakr, ʿUmar, ʿAlī, and others entered while he remained as he was without moving, yet when ʿUthmān entered he wrapped his garment. He asked whether he should not feel shy before one before whom the angels feel shy. > **"Should I not feel shy before one before whom the angels feel shy!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ میرے ہاں تشریف لائے ، آپ نے زانوں سے کپڑا ہٹا دیا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت عطا کی اور اسی حالت میں رہے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اجازت مانگی ۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دی اور اسی حالت میں رہے ، پھر آپ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ اور افراد بھی آئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دی ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں انہیں اجازت دی اور آپ اسی حالت میں رہے ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اجازت مانگی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے کپڑے کو زانوں پر ڈال کر پھر انہیں اجازت دی ، یہ لوگ کچھ دیر بات چیت کرتے رہے ، پھر تشریف لے گئے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت ابوبکر ، حضرت عمر رضی اللہ عنہما اور آپ کے کچھ اور اصحاب آئے ، لیکن آپ اسی ہیئت میں رہے ، آپ نے کوئی حرکت نہیں کی ، لیکن جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اندر آنے لگے ، تو آپ نے اپنے کپڑے کے ذریعے زانوں کو ڈھانپ لیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اسے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اس کی سند حسن ہے ۔

14504

Majma al-Zawaid #14504

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: «بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ وَعَائِشَةُ جَالِسَةٌ وَرَاءَهُ إِذِ اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَدَخَلَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلِيٌّ فَدَخَلَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فَدَخَلَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَدَخَلَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَحَدَّثُ كَاشِفًا عَنْ رُكْبَتَيْهِ، فَمَدَّ ثَوْبَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: "" اسْتَأْخِرِي عَنِّي "". فَتَحَدَّثُوا سَاعَةً ثُمَّ خَرَجُوا. فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَخَلَ عَلَيْكَ أَصْحَابُكَ فَلَمْ تُصْلِحْ ثَوْبَكَ، وَلَمْ تُؤَخِّرْنِي عَنْكَ، حَتَّى دَخَلَ عُثْمَانُ؟ قَالَ: "" أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ! وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَسْتَحْيِي مِنْ عُثْمَانَ كَمَا تَسْتَحْيِي مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَلَوْ دَخَلَ وَأَنْتِ قَرِيبَةٌ مِنِّي لَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ وَلَمْ يَتَحَدَّثْ حَتَّى يَخْرُجَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿUmar رضي الله عنهما said that while the Messenger of Allah ﷺ was seated with ʿĀʾishah seated behind him, Abū Bakr sought permission and entered, then ʿUmar entered, then ʿAlī entered, then Saʿd ibn Mālik entered, then ʿUthmān ibn ʿAffān entered while the Messenger of Allah ﷺ was conversing with his knees uncovered. He extended his garment over his knees and told his wife to move back from him. They conversed a while, then left. ʿĀʾishah asked why his Companions entered without him adjusting his garment or moving her away until ʿUthmān entered. He replied asking whether he should not feel shy before one before whom the angels feel shy, swearing by Him in Whose Hand is the soul of Muhammad that the angels feel shy before ʿUthmān as they feel shy before Allah and His Messenger, and that had he entered while she was near him, he would not have raised his head nor spoken until he left. > **"Should I not feel shy before one before whom the angels feel shy! By Him in Whose Hand is the soul of Muhammad, indeed the angels feel shy before ʿUthmān as they feel shy before Allah and His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھیں اسی دوران حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، وہ اندر آ گئے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی ، وہ اندر آ گئے ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی ، وہ اندر آ گئے ، پھر حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی ۔ وہ اندر آ گئے ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی ، وہ اندر آئے ، اس سے پہلے نبی اکرم ﷺ اپنے گھٹنوں سے کپڑا ہٹا کر بات چیت کر رہے تھے ، لیکن جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو نبی اکرم ﷺ نے گھٹنوں پر کپڑا ڈال دیا ، آپ نے اپنی اہلیہ سے فرمایا : تم میرے پاس سے اٹھ کے چلی جاؤ ! وہ لوگ کچھ دیر بات چیت کرتے رہے پھر چلے گئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے اصحاب آپ کے پاس آئے ، لیکن آپ نے اپنے کپڑے کو ٹھیک نہیں کیا اور مجھے اپنے پاس سے نہیں ہٹایا ، یہاں تک کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ نے ایسا کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں اس سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے حیاء کرتے ہیں ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، فرشتے عثمان سے یوں حیاء کرتے ہیں جس طرح وہ اللہ اور اس کے رسول سے حیاء کرتے ہیں ، اگر وہ اندر آ جاتا اور تم اس وقت میرے قریب موجود ہوتیں تو اس نے واپس جانے تک سر نہیں اٹھانا تھا اور کوئی بات نہیں کرنی تھی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عمر بن ابان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14505

Majma al-Zawaid #14505

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتٍ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ فَطَرَحَهُ بَيْنَ رِجْلَيْهِ، وَفَخِذَاهُ خَارِجَتَانِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ، فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ، فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ، فَأَذِنَ لَهُ. فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ مُسْرِعًا حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى عَائِشَةَ، فَلَمَّا خَرَجَ الْقَوْمُ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَلَمْ تُغَيَّرْ عَنْ حَالِكَ، فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ قُمْتَ؟! فَقَالَ: "" يَا عَائِشَةُ، أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ; إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَسْتَحْيِي مِنْ عُثْمَانَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said that the Messenger of Allah ﷺ was seated in a house wearing a waist-wrapper which he had placed between his legs with his thighs exposed. Abū Bakr sought permission and entered, then ʿUmar entered, then ʿUthmān entered. When the Prophet ﷺ saw him, he rose hastily into the house. This weighed upon ʿĀʾishah, and when the people left she asked why Abū Bakr and ʿUmar entered without him changing his state, yet when ʿUthmān entered he rose. He replied asking whether he should not feel shy before one before whom the angels feel shy, for indeed the angels feel shy before ʿUthmān. > **"O ʿĀʾishah, should I not feel shy before one before whom the angels feel shy! Indeed the angels feel shy before ʿUthmān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ گھر میں تشریف فرما تھے آپ کے جسم پر تہبند موجود تھا جسے آپ نے ٹانگوں سے ہٹایا ہوا تھا اور آپ کے زانوں اس سے نکلے ہوئے تھے ، اسی دوران حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دی ، وہ اندر آ گئے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دی ، وہ اندر آ گئے ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دی ، جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں ملاحظہ فرمایا تو آپ تیزی سے اٹھے اور گھر کے اندر تشریف لے گئے ، یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو گراں گزری ، جب وہ لوگ چلے گئے تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما آئے تو آپ نے اپنی حالت کو تبدیل نہیں کیا ، لیکن جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اندر آئے تو آپ اٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عائشہ ! کیا میں ایسے فرد سے حیاء نہ کروں ؟ جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں ، بے شک فرشتے عثمان سے حیاء کرتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14506

Majma al-Zawaid #14506

وَعَنْ بَدْرِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: «وَقَفَ عَلَيْنَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَوْمَ الدَّارِ، فَقَالَ: أَلَا تَسْتَحْيُونَ مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ؟ قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَرَّ بِي عُثْمَانُ وَعِنْدِي مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَقَالَ: شَهِيدٌ يَقْتُلُهُ قَوْمُهُ، إِنَّا لَنَسْتَحْيِي مِنْهُ». قَالَ بَدْرٌ: فَانْصَرَفْنَا عَنْهُ عِصَابَةً مِنَ النَّاسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَسَاوِسِيُّ، وَكَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

Badr ibn Khālid reported that Zayd ibn Thābit رضي الله عنه stood over them on the day of the siege of ʿUthmān and asked whether they did not feel shy before one before whom the angels feel shy. When asked what that meant, he said he had heard the Messenger of Allah ﷺ say that ʿUthmān had passed by him while an angel was with him, who said he was a martyr whom his people would kill, and that they felt shy before him. Badr said that a group of people then turned away from the siege. > **"ʿUthmān passed by me while an angel of the angels was with me, and he said: A martyr whom his people will kill. Indeed we feel shy before him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بدر بن خالد بیان کرتے ہیں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے محاصرے کے موقع پر ایک دن ہمارے پاس آ کر ٹھہرے اور بولے : کیا تم لوگ اس شخص سے حیاء نہیں کرتے ہو جس سے فرشتے حیاء کرتے ہیں ، میں نے عرض کی : اس کا کیا مفہوم ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک مرتبہ عثمان میرے پاس سے گزرا اس وقت میرے پاس ایک فرشتہ موجود تھا ، اس نے کہا : یہ شہید ہو گا ، اس کی قوم اسے قتل کر دے گی اور ہم ( فرشتے ) ان سے حیاء کرتے ہیں ۔‘‘ بدر نامی راوی کہتے ہیں : تو ہم کچھ لوگ انہیں چھوڑ کر واپس چلے گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل وساوسی ہے ، جو حدیث ایجاد کرتا تھا ۔

14507

Majma al-Zawaid #14507

وَعَنِ الْحَسَنِ وَذَكَرَ عُثْمَانَ وَشِدَّةَ حَيَائِهِ قَالَ: إِنْ كَانَ لَيَكُونُ فِي الْبَيْتِ وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَمَا يَضَعُ عَنْهُ الثَّوْبَ لِيُفِيضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، يَمْنَعُهُ الْحَيَاءُ أَنْ يُقِيمَ صُلْبَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan رحمه الله, mentioning ʿUthmān and his intense shyness, said that even when he was in the house with the door closed, he would not remove his garment to pour water over himself, for shyness prevented him from straightening his back.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کی شدید حیاء کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بیان کی کہ وہ بعض اوقات گھر میں ہوتے تھے اور دروازہ بند ہوتا تھا ، تو وہ نہاتے ہوئے بھی اپنے جسم سے کپڑا نہیں اتارتے تھے ، حیاء انہیں اس بات سے روکتی تھی کہ وہ اپنی پشت کو سیدھا کریں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14508

Majma al-Zawaid #14508

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أُزَوِّجَ كَرِيمَتِي مِنْ عُثْمَانَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَيْرُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَنَفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَغَيْرِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ that Allah Almighty had revealed to him to marry his noble daughter to ʿUthmān. > **"Indeed Allah Almighty revealed to me to marry my noble daughter to ʿUthmān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے میری طرف یہ وحی کی ہے کہ میں اپنی بیٹی کی شادی عثمان سے کروا دوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمیر بن عمران حنفی ہے ، اور وہ اس حدیث اور دیگر حدیثوں کے حوالے سے ضعیف ہے ۔

14509

Majma al-Zawaid #14509

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَبْرِ ابْنَتِهِ الثَّانِيَةِ الَّتِي كَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ، فَقَالَ: "" أَلَا أَبَا أَيِّمٍ؟ أَلَا أَخَا أَيِّمٍ يُزَوَّجُهَا عُثْمَانَ؟ فَلَوْ كُنَّ عَشْرًا لَزَوَّجْتُهُنَّ عُثْمَانَ، وَمَا زَوَّجْتُهُ إِلَّا بِوَحْيٍ مِنَ السَّمَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَهُوَ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said that the Messenger of Allah ﷺ stood at the grave of his second daughter who had been with ʿUthmān and said whether there was no father or brother of a widowed woman to marry her to ʿUthmān, for had there been ten he would have married them to ʿUthmān, and he had only married him by revelation from heaven. > **"Is there no father of a widowed woman? Is there no brother of a widowed woman whom ʿUthmān may marry? Had there been ten, I would have married them to ʿUthmān, and I only married him by revelation from heaven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنی دوسری صاحبزادی کی قبر کے پاس ٹھہرے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا کسی بیوہ یا طلاق یافتہ کا کوئی باپ یا بھائی نہیں ہے ، جو اس بیوہ کی شادی عثمان سے کروا دے ، اگر یہ ( یعنی میری بیٹیاں ) دس ہوتیں ، تو میں ( یکے بعد دیگرے ) عثمان کے ساتھ ان کی شادی کروا دیتا اور میں نے ( اپنی بیٹیوں کی ) اس کے ساتھ شادی صرف آسمان سے آنے والی وحی کی وجہ سے کروانی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ کمزور ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14510

Majma al-Zawaid #14510

عَنْ عُثْمَانَ قَالَ: «قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ زَوَّجَنِي ابْنَتَهُ الْأُخْرَى: "" لَوْ أَنَّ عِنْدِي عَشْرًا لَزَوَّجْتُكَهُنَّ وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ ; فَإِنِّي عَنْكَ رَاضٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغَلَابِيُّ قَالَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ: يُعْتَبَرُ بِحَدِيثِهِ إِذَا رَوَى عَنِ الثِّقَاتِ. وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَرَوَى هَذَا عَمَّنْ لَمْ أَعْرِفُهُ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān رضي الله عنه said that the Messenger of Allah ﷺ told him when he married him to his other daughter that had he ten daughters he would have married them to him one after another, for he was pleased with him. > **"Had I ten daughters, I would have married them to you one after another, for indeed I am pleased with you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جب اپنی دوسری صاحبزادی سے میری شادی کروائی تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ’’ اگر میری دس بیٹیاں ہوتیں ، تو میں یکے بعد دیگرے ان کے ساتھ تمہاری شادی کروا دیتا کیونکہ میں تم سے راضی ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن زکریا غلابی ہے ، ابن حبان نے کتاب الثقات میں یہ بات بیان کی ہے کہ جب وہ ثقہ راویوں سے روایت نقل کرے تو اس کی حدیث کا اعتبار کیا جائے گا ، جمہور نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے ، اس راوی نے یہ روایت ایک ایسے شخص سے نقل کی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14511

Majma al-Zawaid #14511

وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ: «لَمَّا مَاتَتْ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي تَحْتَ عُثْمَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" زَوِّجُوا عُثْمَانَ، لَوْ كَانَتْ عِنْدِي ثَالِثَةٌ لَزَوَّجْتُهُ، وَمَا زَوَّجْتُهُ إِلَّا بِوَحْيٍ مِنَ اللَّهِ -» عَزَّ وَجَلَّ - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿIsmah رضي الله عنه said that when the daughter of the Messenger of Allah ﷺ who was under ʿUthmān died, the Messenger of Allah ﷺ said to marry ʿUthmān, for had he a third daughter he would have married her to him, and he had only married him by revelation from Allah Almighty. > **"Marry ʿUthmān. Had I a third daughter, I would have married her to him, and I only married him by revelation from Allah Almighty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی کا انتقال ہوا جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ عثمان کی شادی کروا دو ، اگر میری تیسری بیٹی ہوتی تو میں نے اس کے ساتھ عثمان کی شادی کروا دینی تھی اور میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی وحی کی وجہ سے اس کے ساتھ شادی کروانی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14512

Majma al-Zawaid #14512

وَعَنْ أُمِّ عَيَّاشٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَا زَوَّجْتُ عُثْمَانَ أُمَّ كُلْثُومٍ إِلَّا بِوَحْيٍ مِنَ السَّمَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ لِمَا تَقَدَّمَهُ مِنَ الشَّوَاهِدِ.

EnglishUnverified translation

Umm ʿAyyāsh رضي الله عنها said that she heard the Messenger of Allah ﷺ say that he had only married ʿUthmān to Umm Kulthūm by revelation from heaven. > **"I only married ʿUthmān to Umm Kulthūm by revelation from heaven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام عیاش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ میں نے عثمان کی شادی ام کلثوم سے وحی کی وجہ سے کروائی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، اس کی وجہ اس سے پہلے گزرے ہوئے شواہد ہیں ۔

14513

Majma al-Zawaid #14513

وَعَنْهَا قَالَتْ: وَلَدَتْ رُقَيَّةُ لِعُثْمَانَ غُلَامًا، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللَّهِ، وَكَنَّى عُثْمَانَ بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادِ الَّذِي قَبِلَهُ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ عَائِشَةَ وَغَيْرِهَا فِي تَزْوِيجِهِ بَعْدُ.

EnglishUnverified translation

Umm ʿAyyāsh, may Allah be pleased with her, reports that Ruqayyah, may Allah be pleased with her, bore ʿUthmān, may Allah be pleased with him, a boy, and the Messenger ﷺ named him ʿAbdullāh and gave ʿUthmān the kunyah Abū ʿAbdillāh.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام عیاش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے کو جنم دیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس بچے کا نام عبداللہ رکھا تھا ، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ مقرر کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے والی روایت کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ حدیث اور دیگر احادیث آئیں گی ، جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شادی کے بارے میں ہیں ، اگر اللہ نے چاہا ۔

14514

Majma al-Zawaid #14514

عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ، فَقَالَ لَهُ الْوَلِيدُ: مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَفَوْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ؟ قَالَ [لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ]: أَبْلِغْهُ عَنِّي أَنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ - قَالَ عَاصِمٌ: يَوْمَ أُحُدٍ - وَلَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ بَدْرٍ، وَلَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ. قَالَ: فَانْطَلَقَ، فَخَبَّرَ ذَلِكَ عُثْمَانَ. قَالَ: فَقَالَ: أَمَّا قَوْلُهُ: إِنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ فَكَيْفَ يُعَيِّرُنِي بِذَنْبٍ قَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ} [آل عمران: 155]. وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنِّي لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ بَدْرٍ ; فَإِنِّي كُنْتُ أُمَرِّضُ رُقَيَّةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى مَاتَتْ، وَقَدْ ضَرَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ، وَمَنْ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ فَقَدْ شَهِدَ. وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنِّي لَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ ; فَإِنِّي لَا أُطِيقُهَا أَنَا وَلَا هُوَ فَائْتِهِ فَحَدِّثْهُ بِذَلِكَ .. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَالْبَزَّارُ بِطُولِهِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Shaqīq reports that ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, may Allah be pleased with him, met al-Walīd ibn ʿUqbah, who asked why he had kept aloof from the Commander of the Faithful ʿUthmān. ʿAbd al-Raḥmān told him to convey that he had not fled on the Day of ʿAynayn, meaning Uḥud, nor stayed back from Badr, nor abandoned the Sunnah of ʿUmar. When this reached ʿUthmān, may Allah be pleased with him, he replied that flight on that day was a fault Allah had already pardoned, citing the verse about those who turned back when the hosts met being made to slip by Satan yet pardoned by Allah; that his absence from Badr was due to nursing the daughter of the Messenger ﷺ, Ruqayyah, until she died, for which the Messenger ﷺ assigned him a share, and one given a share had witnessed; and that neither he nor ʿAbd al-Raḥmān could bear the way of ʿUmar, so he should be informed of that. > **"How can he reproach me for a fault Allah has already pardoned, when Allah said those who turned back were pardoned, while I nursed Ruqayyah until she died and the Messenger assigned me a share, and neither I nor he can bear the Sunnah of ʿUmar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شقیق بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ملاقات ولید بن عقبہ سے ہوئی ، تو ولید نے ان سے کہا : کیا وجہ ہے کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے امیرالمومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بے رخی اختیار کی ، تو حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : انہیں میری طرف سے یہ پیغام بھیج دو کہ میں یوم عینین ۔ عاصم راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یوم احد ہے ۔ کے دن فرار نہیں ہوا تھا اور میں غزوہ بدر سے پیچھے نہیں رہا تھا اور میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے کو ترک نہیں کیا ۔ راوی کہتے ہیں : ولید گیا ، اور اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک ان کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں یوم عینین میں فرار نہیں ہوا تھا ، تو وہ کسی ایسے گناہ کے حوالے سے مجھے کیسے عار دلا سکتے ہیں ؟ جس سے اللہ تعالیٰ درگزر کیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ بیشک تم میں سے جو لوگ اس دن پیٹھ پھیر گئے تھے جب دو گروہ ایک دوسرے کے مدمقابل آئے تھے ، تو ان کے کیے ہوئے کسی عمل کی وجہ سے ، شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا ، تحقیق اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ۔‘‘ جہاں تک ان کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں غزوہ بدر سے پیچھے نہیں رہا تھا ، تو ( میرے معاملے کی وجہ یہ ہے ) کہ میں نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمار داری کرتا رہا ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ، اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے میرے لئے حصہ مقرر کیا تھا اور جس شخص کے لئے نبی اکرم ﷺ نے حصہ مقرر کیا ہو وہ گویا جنگ میں شریک ہوا تھا ، جہاں تک ان ( یعنی حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ) کی اس بات کا تعلق ہے ، میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے کو ترک نہیں کیا ، تو نہ تو میں اس بات کی طاقت رکھتا ہوں اور نہ وہ اس بات کی طاقت رکھتے ہیں ( کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوں ) تو ان کے پاس جاؤ اور انہیں یہ بات بتا دو ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے اختیار کیا ہے امام طبرانی نے اسے طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14515

Majma al-Zawaid #14515

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اشْتَكَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَقِمْ عَلَيْهَا فَإِنَّهُ لَا بُدَّ لَهَا مِنِّي أَوْ مِنْكَ، وَأَنْتَ أَحَقُّ "". فَخَلَفَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهَا، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُبَشِّرُهُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَتَمَّ عِدَّتَهُمْ بِكَ "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that when the daughter of the Messenger ﷺ fell ill, the Messenger ﷺ told ʿUthmān to remain with her, for she needed either him or ʿUthmān, and ʿUthmān had the greater right, so the Messenger ﷺ left him behind with her. When Allah granted victory, the Messenger ﷺ sent him glad tidings that Allah had completed their number to include him. > **"Remain with her, for she must have either me or you, and you have the greater right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی بیمار ہو گئیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ) ارشاد فرمایا : تم اس کی دیکھ بھال کرو کیونکہ اس کے لئے میرے یا تمہارے میں سے کسی ایک کا ہونا ضروری ہے ، اور تم اس بات کے زیادہ حق دار ہو ، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس خاتون کے لئے پیچھے چھوڑ دیا تھا ، جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو فتح نصیب کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور انہیں یہ خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ نے تم سمیت ان کی تعداد کو مکمل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14516

Majma al-Zawaid #14516

وَعَنْ عُرْوَةَ «قَالَ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ تَخَلَّفَ بِالْمَدِينَةِ عَلَى امْرَأَتِهِ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَتْ مِعَزَّةً وَجِعَةً، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمِهِ قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ،؟ قَالَ: "" وَأَجْرُكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ حَسَنُ الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah reports that ʿUthmān ibn ʿAffān, may Allah be pleased with him, stayed behind in Madīnah for his wife, the daughter of the Messenger ﷺ, who was gravely ill. The Messenger ﷺ assigned him a share of Badr, and when ʿUthmān asked about his reward, the Messenger ﷺ confirmed his reward as well. > **"And your reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ( غزوہ بدر کے موقع پر ) نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی ، جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں ، ان کی خاطر مدینہ منورہ میں رہ گئے تھے ، وہ خاتون شدید بیمار تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لئے ( غزوہ بدر کے مال غنیمت میں سے ) حصہ مقرر کیا تھا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے اجر کا کیا ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں اجر بھی ملے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یہ روایت مرسل ہے ، اور سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔

14517

Majma al-Zawaid #14517

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا بَعَثَ عُثْمَانَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَبَايَعَ أَصْحَابَهُ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ، بَايَعَ لِعُثْمَانَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، فَقَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ آمِنًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ مَكَثَ كَذَا وَكَذَا مَا طَافَ بِالْبَيْتِ حَتَّى أَطُوفَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwaʿ, may Allah be pleased with him, reports that when the Prophet ﷺ sent ʿUthmān to the people of Makkah, he took the Pledge of Riḍwān from his Companions and pledged on behalf of ʿUthmān by placing one of his own hands upon the other. People said Abū ʿAbdillāh would congratulate himself in circling the House securely, but the Prophet ﷺ said that even if he remained there a long time he would not circumambulate until the Prophet himself did. > **"Were he to remain there so long, he would not circumambulate the House until I circumambulate."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اہل مکہ کی طرف بھیج دیا ، پھر آپ نے اپنے اصحاب سے بیعت رضوان لی ، تو آپ نے دو ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے پر رکھ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت لی ، لوگوں نے کہا : ابوعبداللہ کو مبارک باد ہو کہ وہ امن کی حالت میں بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر وہ اتنے اتنے عرصے تک بھی ( مکہ میں ) ٹھہرا رہے ، تو بھی وہ اس وقت تک بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا جب تک میں طواف نہیں کر لیتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14518

Majma al-Zawaid #14518

«وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: خَلَّفَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ بَدْرٍ، وَضَرَبَ لِي بِسَهْمٍ. وَقَالَ عُثْمَانُ فِي بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ: فَضَرَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، وَشِمَالُ رَسُولِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ يَمِينِي». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger ﷺ left him behind from Badr and assigned him a share. Concerning the Pledge of Riḍwān, ʿUthmān said the Messenger ﷺ struck his right hand upon his left on his behalf, and the left hand of the Messenger ﷺ is better than his own right. > **"This is for ʿUthmān ibn ʿAffān, and the left hand of the Messenger is better than my right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے غزوہ بدر میں شرکت سے روک دیا تھا اور میرے لئے حصہ مقرر کیا تھا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بیعت رضوان کے بارے میں یہ فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر میرے لئے رکھا تھا اور نبی اکرم ﷺ کا بایاں ہاتھ میرے دائیں ہاتھ سے بہتر ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14519

Majma al-Zawaid #14519

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: «رَفَعَ عُثْمَانُ صَوْتَهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ لَهُ: لِأَيِّ شَيْءٍ تَرْفَعُ صَوْتَكَ عَلَيَّ وَقَدْ شَهِدْتُ بَدْرًا وَلَمْ تَشْهَدْ، وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ تُبَايِعْ، وَفَرَرْتَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَمْ أَفِرَّ. فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: أَمَّا قَوْلُكَ: إِنَّكَ شَهِدْتَ بَدْرًا وَلَمْ أَشْهَدْ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلَّفَنِي عَلَى ابْنَتِهِ، وَضَرَبَ لِي بِسَهْمٍ، وَأَعْطَانِي أَجْرِي. وَأَمَّا قَوْلُكَ: بَايَعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ أُبَايِعْ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَنِي إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ عَلِمْتَ ذَلِكَ، فَلَمَّا احْتَبَسْتُ ضَرَبَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، فَقَالَ: "" هَذِهِ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ "". فَشِمَالُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرٌ مِنْ يَمِينِي. وَأَمَّا قَوْلُكَ: فَرَرْتَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَمْ أَفِرَّ، فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَالَ: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ} [آل عمران: 155] فَلِمَ تُعَيِّرُنِي بِذَنْبٍ قَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ فِي هَذَا الْبَابِ وَغَيْرِهِ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn al-Musayyab reports that ʿUthmān raised his voice toward ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, may Allah be pleased with them, whereupon ʿAbd al-Raḥmān asked why he raised his voice when he himself had witnessed Badr while ʿUthmān had not, had pledged to the Messenger ﷺ while ʿUthmān had not, and had not fled at Uḥud while ʿUthmān had. ʿUthmān replied that the Messenger ﷺ had left him with his daughter and given him both a share and reward; that the Messenger ﷺ had sent him to the polytheists, as ʿAbd al-Raḥmān knew, and upon his delay struck his right hand upon his left for ʿUthmān, whose left hand of the Messenger was better than his own right; and that flight at Uḥud was covered by the verse that Satan caused them to slip yet Allah pardoned them, so he should not be reproached for a pardoned fault. > **"This is for ʿUthmān ibn ʿAffān, for the left hand of the Messenger is better than my right, so why reproach me for a fault Allah has pardoned."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے اپنی آواز بلند کی ، تو حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : آپ کس وجہ سے اپنی آواز میرے سامنے بلند کر رہے ہیں ، جبکہ میں غزوہ بدر میں شریک ہوا ہوں اور آپ شریک نہیں ہوئے ہیں ، میں نے ( بیعت رضوان کے موقع پر ) نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی تھی اور آپ نے بیعت نہیں کی اور آپ غزوہ احد کے دن فرار ہو گئے تھے اور میں فرار نہیں ہوا ۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ آپ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ، اور میں شریک نہیں ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے اپنی صاحبزادی کی خاطر رکھنے کا حکم دیا تھا ، اور نبی اکرم ﷺ نے مجھے حصہ بھی دیا تھا اور مجھے میرا اجر بھی عطا کیا تھا ، جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ آپ نے بیعت کی ہے ، اور میں نے بیعت نہیں کی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے مشرکین کی طرف بھیجا تھا اور آپ یہ بات جانتے ہیں ، جب مجھے آنے میں تاخیر ہو گئی تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر ارشاد فرمایا : یہ عثمان بن عفان کے لئے ہے ، تو نبی اکرم ﷺ کا بایاں ہاتھ میرے دائیں سے بہتر ہے ، جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں غزوہ احد کے دن فرار ہو گیا تھا ، تو میں فرار نہیں ہوا تھا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ بیشک تم میں سے جو لوگ اس دن پیٹھ پھیر گئے تھے جب دو گروہ ایک دوسرے کے مدمقابل آئے تھے ، تو ان کے کیے ہوئے کسی عمل کی وجہ سے شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا ، تحقیق اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ۔‘‘ ( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو آپ کسی ایسے گناہ کے حوالے سے مجھے عار نہیں دلا سکتے جس سے اللہ تعالیٰ نے درگزر کر لیا ہو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، اس کا ایک طریق اس باب میں اور اس کے علاوہ باب میں گزر چکا ہے ۔

14520

Majma al-Zawaid #14520

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَى لَحْمًا فَقَالَ: "" مَنْ بَعَثَ بِهَذَا؟ "". قُلْتُ: عُثْمَانُ. قَالَتْ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو لِعُثْمَانَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, may Allah be pleased with her, reports that the Messenger ﷺ came to her, saw meat, and asked who had sent it. When she said ʿUthmān, she saw the Messenger ﷺ raise his hands supplicating for ʿUthmān.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ میرے ہاں تشریف لائے ، آپ ﷺ نے گوشت ملاحظہ فرمایا ، تو دریافت کیا : یہ کس نے بھیجا ہے ؟ میں نے عرض کی : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے دونوں ہاتھ بلند کر کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14521

Majma al-Zawaid #14521

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: «أَنَّهُ شَهِدَ ذَلِكَ حِينَ أَعْطَى عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا جَهَّزَ بِهِ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، وَجَاءَ بِسَبْعِمِائَةِ أُوقِيَّةٍ ذَهَبٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, may Allah be pleased with him, attests that he witnessed ʿUthmān ibn ʿAffān bringing to the Messenger ﷺ the equipment for the Army of Hardship, coming with seven hundred ūqiyyahs of gold.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اس موقع پر موجود تھے جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جیش عسرت کے لئے ساز و سامان نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تھا ، وہ سات سو اوقیہ سونا لے کر آئے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عمر بن ابان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14522

Majma al-Zawaid #14522

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بِدَنَانِيرَ، فَأَلْقَاهَا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَلِّبُهَا وَيَقُولُ: "" مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا فَعَلَ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ الرَّامَهُرْمُزِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that ʿUthmān ibn ʿAffān came with dīnārs and cast them into the lap of the Prophet ﷺ. The Messenger ﷺ kept turning them over and saying that nothing ʿUthmān did after this day would harm him. > **"No harm shall be upon ʿUthmān for whatever he does after this day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ دینار لے کے آئے اور وہ دینار نبی اکرم ﷺ کی گود میں ڈال دیے ، تو نبی اکرم ﷺ انہیں الٹنے پلٹنے لگے ، اور یہ ارشاد فرمانے لگے : ’’ عثمان پر کوئی حرج نہیں ہو گا اگر وہ آج کے دن کے بعد کوئی کام نہ کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن صالح رامہز مزی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14523

Majma al-Zawaid #14523

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ، فَأَصَابَ النَّاسَ جَهْدٌ حَتَّى رَأَيْتُ الْكَآبَةَ فِي وُجُوهِ الْمُسْلِمِينَ، وَالْفَرَحَ فِي وُجُوهِ الْمُنَافِقِينَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" وَاللَّهِ لَا تَغِيبُ الشَّمْسُ حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِرِزْقٍ "". فَعَلِمَ عُثْمَانُ أَنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سَيَصْدُقَانِ، فَاشْتَرَى عُثْمَانُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ رَاحِلَةً بِمَا عَلَيْهَا مِنَ الطَّعَامِ، فَوَجَّهَ إِلَى النَّبِيِّ مِنْهَا بِتِسْعَةٍ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَا هَذَا؟ "". قَالَ: أَهْدَى إِلَيْكَ عُثْمَانُ، فَعُرِفَ الْفَرَحُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْكَآبَةُ فِي وُجُوهِ الْمُنَافِقِينَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ يَدْعُو لِعُثْمَانَ دُعَاءً مَا سَمِعْتُهُ دَعَا لِأَحَدٍ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ: اللَّهُمَّ أَعْطِ عُثْمَانَ اللَّهُمَّ افْعَلْ بِعُثْمَانَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رُؤْيَا رَآهَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَتَأْتِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Masʿūd, may Allah be pleased with him, reports that during an expedition with the Prophet ﷺ severe hardship struck, gloom appearing on Muslim faces and joy on hypocrite faces. The Messenger ﷺ swore that before sunset Allah would bring provision. ʿUthmān, knowing Allah and His Messenger would prove true, bought fourteen mounts with their food and directed nine to the Prophet ﷺ. When the Prophet ﷺ asked what this was, he was told it was a gift from ʿUthmān, so joy appeared on the face of the Messenger ﷺ and gloom on the hypocrites. The narrator saw the Messenger ﷺ raise his hands until the whiteness of his armpits showed, praying for ʿUthmān with a prayer he had never heard before or after. > **"O Allah, grant ʿUthmān. O Allah, deal with ʿUthmān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک ہوئے ، لوگوں کو بھوک لاحق ہوئی ، یہاں تک کہ میں نے مسلمانوں کے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے اور منافقین کے چہروں پر خوشی کے آثار دیکھے ، جب نبی اکرم ﷺ نے یہ صورت حال ملاحظہ کی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! سورج غروب ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ تمہارے پاس رزق بھیج دے گا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یہ بات جانتے تھے کہ اللہ اور اس کا رسول سچ فرماتے ہیں ، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے چودہ اونٹنیاں خریدیں اور وہ ان پر موجود اناج سمیت خریدیں ، پھر ان میں سے نو نبی اکرم ﷺ کی طرف بھجوا دیں ، جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں ملاحظہ کیا ، تو دریافت کیا : یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ تو اس شخص نے بتایا : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کو تحفہ بھیجا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں ہوئے اور منافقین کے چہروں پر پریشانی ظاہر ہوئی ، تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی ، آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کر رہے تھے ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس سے پہلے اور اس کے بعد یہ دعا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، آپ یہ کہہ رہے تھے : ’’ اے اللہ ! تو عثمان کو عطا فرما ۔ اے اللہ ! تو عثمان کے ساتھ یہ کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن محمد وراق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ یہ انہوں نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس میں ایک خواب ہے ، جو امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے دیکھا تھا ، اس کا ذکر آگے چل کے آئے گا ، اگر اللہ نے چاہا ۔

14524

Majma al-Zawaid #14524

عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِصَاحِبِ الْبُقْعَةِ الَّتِي زِيدَتْ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ وَكَانَ صَاحِبُهَا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَكَ بِهَا بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ "". فَقَالَ: لَا. فَجَاءَ عُثْمَانُ، فَقَالَ لَهُ: لَكَ بِهَا عَشَرَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ، فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اشْتَرِ مِنِّي الْبُقْعَةَ الَّتِي اشْتَرَيْتُهَا مِنَ الْأَنْصَارِيِّ، فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ. فَقَالَ عُثْمَانُ: فَإِنِّي اشْتَرَيْتُهَا بِعَشَرَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَبِنَةً، ثُمَّ دَعَا أَبَا بَكْرٍ فَوَضَعَ لَبِنَةً، ثُمَّ دَعَا عُمَرَ فَوَضَعَ لَبِنَةً، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَوَضَعَ لَبِنَةً، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: "" ضَعُوا "". فَوَضَعُوا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ أَبِي الْمَلِيحِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Malīḥ reports from his father that the Prophet ﷺ spoke to the Anṣārī owner of the plot added to the Madīnah mosque, offering him a house in Paradise, but he refused. ʿUthmān then offered him ten thousand dirhams, bought it, came to the Prophet ﷺ asking him to buy from him the plot he had bought from the Anṣārī, and the Prophet ﷺ bought it for a house in Paradise. ʿUthmān noted its price of ten thousand, then the Prophet ﷺ laid a brick, called Abū Bakr who laid a brick, then ʿUmar who laid a brick, then ʿUthmān laid a brick, then told the people to lay bricks, and they did. > **"Lay bricks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوملیح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : مسجد نبوی میں اضافے کے لئے جس زمین کی ضرورت تھی ، نبی اکرم ﷺ نے زمین کے مالک سے بات چیت کی ، اس زمین کا مالک انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں اس کے بدلے میں جنت میں ایک گھر مل جائے گا ، اس نے کہا : جی نہیں ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اس سے کہا : تمہیں اس زمین کے بدلے میں دس ہزار درہم دیے جاتے ہیں ، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے وہ زمین خریدی ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھ سے وہ ٹکڑا خرید لیں ، میں نے انصاری سے وہ خرید لیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے جنت میں موجود ایک گھر کے بدلے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے وہ ٹکڑا خرید لیا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے اسے دس ہزار درہم کے عوض میں خریدا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک اینٹ رکھی ، پھر آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا ، انہوں نے ایک اینٹ رکھی ، پھر آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا ، انہوں نے ایک اینٹ رکھی ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے ایک اینٹ رکھی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے لوگوں سے فرمایا : اب تم لوگ رکھو ! تو لوگوں نے بھی اینٹیں رکھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن ابوملیح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14525

Majma al-Zawaid #14525

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: لَقَدِ اخْتَبَأْتُ عِنْدَ رَبِّي عَشْرًا: إِنِّي لَرَابِعُ أَرْبَعَةٍ فِي الْإِسْلَامِ، وَمَا تَغَنَّيْتُ، وَلَا تَمَنَّيْتُ، وَلَا وَضَعْتُ يَمِينِي عَلَى فَرْجِي مُنْذُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا مَرَّتْ عَلَيَّ جُمْعَةٌ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا وَأَنَا أَعْتِقُ فِيهَا رَقَبَةً إِلَّا أَلَّا يَكُونَ عِنْدِي فَأَعْتِقَهَا بَعْدَ ذَلِكَ، وَلَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ فِي الْإِمَامِ: وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn ʿAffān, may Allah be pleased with him, reports that he stored ten deeds with his Lord: that he was the fourth of four in Islam, never sang nor wished vainly, never placed his right hand upon his private part since pledging to the Messenger ﷺ, never let a Friday pass since embracing Islam without freeing a slave, freeing later if none was at hand, and never committed zinā in Jāhiliyyah or Islam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے پروردگار کے پاس دس چیزیں سنبھال کے رکھوائی ہیں ( وہ یہ ہیں : ) میں اسلام قبول کرنے والا چوتھا فرد ہوں ۔ میں نے کبھی گناہ نہیں کیا ، کبھی ( گناہ کی ) آرزو نہیں کی ، میں نے جب سے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی ہے کبھی اپنا دایاں ہاتھ اپنی شرمگاہ پر نہیں رکھا ، جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے ، ہر ہفتے میں ایک مرتبہ کوئی غلام ضرور آزاد کیا ہے ، اگر کبھی ایسا ہوا کہ میرے پاس غلام موجود نہیں ہوتا تو میں بعد میں اسے آزاد کر دیتا تھا اور میں نے زمانہ جاہلیت میں یا زمانہ اسلام میں کبھی زنا نہیں کیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن دقیق العید نے امام میں یہ بات کہی ہے کہ اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

14526

Majma al-Zawaid #14526

عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أُمِّي تُحَدِّثُ أَنَّ أُمَّهَا «انْطَلَقَتْ إِلَى الْبَيْتِ حَاجَّةً، وَالْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ لَهُ بَابَانِ قَالَتْ: فَلَمَّا قَضَيْتُ طَوَافِي دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ. قَالَتْ: فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بَعْضَ بَنِيكِ بَعَثَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ، وَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِي عُثْمَانَ فَمَا تَقُولِينَ فِيهِ؟ فَقَالَتْ: لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ - لَا أَحْسَبُهَا إِلَّا قَالَتْ: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُسْنِدٌ فَخِذَهُ إِلَى عُثْمَانَ، وَإِنِّي لَأَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ جَبِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنَّ الْوَحْيَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، وَلَقَدْ زَوَّجَهُ ابْنَتَيْهِ إِحْدَاهُمَا بَعْدَ الْأُخْرَى، وَإِنَّهُ لَيَقُولُ: " اكْتُبْ عُثَيْمُ ". قَالَتْ: مَا كَانَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِيُنْزِلَ عَبْدًا مِنْ نَبِيِّهِ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ إِلَّا عَبْدًا كَرِيمًا عَلَيْهِ».

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn Ibrāhīm al-Yashkurī reports hearing his mother relate from her mother, who went to the House when it had two doors, completed ṭawāf, and visited ʿĀʾishah, may Allah be pleased with her, conveying greetings from one of her sons and asking her view when people spoke much against ʿUthmān. ʿĀʾishah invoked the curse of Allah upon whoever cursed him, repeating it thrice, and said she had seen the Messenger ﷺ reclining his thigh upon ʿUthmān while she wiped sweat from the brow of the Messenger ﷺ as revelation descended, that he married him his two daughters one after the other, and that he would say write, O ʿUthaym, for Allah would not place a servant so near His Prophet except one honoured to Him. > **"Write, O ʿUthaym."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمر بن ابراهیم یشکری بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی والدہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، ان کی والدہ کسی کام کے سلسلے میں بیت اللہ کے اندر گئیں ، بیت اللہ کے ان دنوں دو دروازے ہوتے تھے ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : جب میں نے اپنا طواف مکمل کیا ، تو میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی ، وہ خاتون کہتی ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : اے ام المومنین ! آپ کے ایک بیٹے نے آپ کو سلام بھیجا ہے ، لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بہت خلاف ہو چکے ہیں ، تو آپ ان کے بارے میں کیا کہتی ہیں ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جو شخص ان پر لعنت کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے ، جو ان پر لعنت کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے ، میرا خیال ہے تین مرتبہ انہوں نے یہ کلمات کہے ، اور پھر یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ زانوں لگا کر ٹیک لگائی ہوئی تھی اور میں نبی اکرم ﷺ کی پیشانی سے پسینہ پونچھ رہی تھی اور نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہو رہی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی دو صاحبزادیوں کی شادیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیں ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے عثیم تم لکھو ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اپنے نبی کے اتنا قریب اسی وقت کر سکتا ہے جب وہ بندہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز ہو ۔

14527

Majma al-Zawaid #14527

وَفِي رِوَايَةٍ: وَهُوَ مَسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَيَّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ ثُمَامَةَ الْحِنْطِيِّ إِنَّ أَخَاهَا الْمُخَارِقَ بْنَ ثُمَامَةَ الْحِنْطِيَّ قَالَ لَهَا: «ادْخُلِي عَلَى عَائِشَةَ فَأَقْرِئِيهَا مِنِّي السَّلَامَ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: إِنَّ بَعْضَ بَنِيكِ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ قَالَتْ عَائِشَةُ: وَعَلَيْهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، قَلَّتْ: وَيَسْأَلُكِ أَنْ تُحَدِّثِيهِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِيهِ عِنْدَنَا حِينَ قُتِلَ. قَالَتْ: أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ، وَنَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجِبْرِيلُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي لَيْلَةٍ قَائِظَةٍ، وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ ثَقْلَةٌ، يَقُولُ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ -: {إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا} [المزمل: 5]» فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَأُمُّ كُلْثُومٍ لَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration the Prophet ﷺ reclined his back upon ʿĀʾishah. Umm Kulthūm bint Thumāmah al-Ḥinṭī reports her brother al-Mukhāriq asked her to visit ʿĀʾishah, convey his greeting, and ask about ʿUthmān ibn ʿAffān when people spoke much against him after his killing. ʿĀʾishah returned the greeting with mercy and blessings, then testified that ʿUthmān was in that house with the Prophet of Allah ﷺ when Jibrīl, peace be upon him, came on a fiercely hot night, when revelation came heavily upon him, as Allah said He would cast a weighty word, and then she narrated the like.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ام کلثوم بنت ثمامہ حنطی بیان کرتی ہیں : ان کے بھائی مخارق بن ثمامہ حنفی نے ان سے کہا : تم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ ، انہیں میری طرف سے سلام کہنا ، میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور یہ کہا : آپ کے ایک بیٹے نے آپ کو سلام بھیجا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اس پر بھی سلام ہو ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ۔ میں نے کہا : وہ آپ سے یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ آپ اس کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیں کیونکہ لوگ ان کے خلاف بہت باتیں کر رہے ہیں ، جب انہیں شہید کر دیا گیا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جہاں تک میری بات ہے ، تو میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اسی گھر میں موجود تھے اللہ کے نبی موجود تھے ۔ حضرت جبرائیل موجود تھے ، وہ ایک سرد رات میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے جب نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو وہ آپ کے لئے شدت کا باعث ہوتی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ ہم ایک بھاری قول تمہاری طرف القاء کریں گے ۔‘‘ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، اُم کلثوم نامی خاتون راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، طبرانی کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔