عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ، فَقَالَ لَهُ الْوَلِيدُ: مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَفَوْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ؟ قَالَ [لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ]: أَبْلِغْهُ عَنِّي أَنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ - قَالَ عَاصِمٌ: يَوْمَ أُحُدٍ - وَلَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ بَدْرٍ، وَلَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ. قَالَ: فَانْطَلَقَ، فَخَبَّرَ ذَلِكَ عُثْمَانَ. قَالَ: فَقَالَ: أَمَّا قَوْلُهُ: إِنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ فَكَيْفَ يُعَيِّرُنِي بِذَنْبٍ قَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ} [آل عمران: 155]. وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنِّي لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ بَدْرٍ ; فَإِنِّي كُنْتُ أُمَرِّضُ رُقَيَّةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى مَاتَتْ، وَقَدْ ضَرَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ، وَمَنْ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ فَقَدْ شَهِدَ. وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنِّي لَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ ; فَإِنِّي لَا أُطِيقُهَا أَنَا وَلَا هُوَ فَائْتِهِ فَحَدِّثْهُ بِذَلِكَ .. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَالْبَزَّارُ بِطُولِهِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Shaqīq reports that ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, may Allah be pleased with him, met al-Walīd ibn ʿUqbah, who asked why he had kept aloof from the Commander of the Faithful ʿUthmān. ʿAbd al-Raḥmān told him to convey that he had not fled on the Day of ʿAynayn, meaning Uḥud, nor stayed back from Badr, nor abandoned the Sunnah of ʿUmar. When this reached ʿUthmān, may Allah be pleased with him, he replied that flight on that day was a fault Allah had already pardoned, citing the verse about those who turned back when the hosts met being made to slip by Satan yet pardoned by Allah; that his absence from Badr was due to nursing the daughter of the Messenger ﷺ, Ruqayyah, until she died, for which the Messenger ﷺ assigned him a share, and one given a share had witnessed; and that neither he nor ʿAbd al-Raḥmān could bear the way of ʿUmar, so he should be informed of that. > **"How can he reproach me for a fault Allah has already pardoned, when Allah said those who turned back were pardoned, while I nursed Ruqayyah until she died and the Messenger assigned me a share, and neither I nor he can bear the Sunnah of ʿUmar."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
شقیق بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ملاقات ولید بن عقبہ سے ہوئی ، تو ولید نے ان سے کہا : کیا وجہ ہے کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے امیرالمومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بے رخی اختیار کی ، تو حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : انہیں میری طرف سے یہ پیغام بھیج دو کہ میں یوم عینین ۔ عاصم راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یوم احد ہے ۔ کے دن فرار نہیں ہوا تھا اور میں غزوہ بدر سے پیچھے نہیں رہا تھا اور میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے کو ترک نہیں کیا ۔ راوی کہتے ہیں : ولید گیا ، اور اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک ان کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں یوم عینین میں فرار نہیں ہوا تھا ، تو وہ کسی ایسے گناہ کے حوالے سے مجھے کیسے عار دلا سکتے ہیں ؟ جس سے اللہ تعالیٰ درگزر کیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ بیشک تم میں سے جو لوگ اس دن پیٹھ پھیر گئے تھے جب دو گروہ ایک دوسرے کے مدمقابل آئے تھے ، تو ان کے کیے ہوئے کسی عمل کی وجہ سے ، شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا ، تحقیق اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ۔‘‘ جہاں تک ان کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں غزوہ بدر سے پیچھے نہیں رہا تھا ، تو ( میرے معاملے کی وجہ یہ ہے ) کہ میں نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمار داری کرتا رہا ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ، اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے میرے لئے حصہ مقرر کیا تھا اور جس شخص کے لئے نبی اکرم ﷺ نے حصہ مقرر کیا ہو وہ گویا جنگ میں شریک ہوا تھا ، جہاں تک ان ( یعنی حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ) کی اس بات کا تعلق ہے ، میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے کو ترک نہیں کیا ، تو نہ تو میں اس بات کی طاقت رکھتا ہوں اور نہ وہ اس بات کی طاقت رکھتے ہیں ( کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوں ) تو ان کے پاس جاؤ اور انہیں یہ بات بتا دو ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے اختیار کیا ہے امام طبرانی نے اسے طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔