Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 5

Book of Virtues and Merits

Hadith 14448–14487

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14448

Majma al-Zawaid #14448

وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَطُّ إِلَّا وَبَيْنَ عَيْنَيْهِ مَلَكٌ يُسَدِّدُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَيَأْتِي قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَذَلِكَ فِي وَفَاةِ عُمَرَ.

EnglishUnverified translation

Abū Wāʾil رحمه الله said that he never saw ʿUmar رضي الله عنه except that there was an angel between his eyes guiding him to the right course.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، وہ فرماتے ہیں : ’’ ( شاید نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) میں نے جب بھی عمر کو دیکھا ، تو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ موجود تھا ، جو اسے سیدھی راہ دکھا رہا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان اسانید میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ آگے چل کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول آئے گا ، جو اس کی مانند ہے ۔

14449

Majma al-Zawaid #14449

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: «أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا أُمَّهْ، قَدْ خِفْتُ أَنْ يُهْلِكَنِي مَالِي، أَنَا أَكْثَرُ قُرَيْشٍ مَالًا قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، فَانْفِقْ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ "". فَخَرَجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَلَقِيَ عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا عُمَرُ فَقَالَ: بِاللَّهِ، مِنْهُمْ أَنَا؟ فَقَالَتْ: لَا. وَلَا أُبَرِّئُ أَحَدًا بَعْدَكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reported that ʿAbd al-Rahmān ibn ʿAwf رضي الله عنه entered upon her and said that he feared his wealth would destroy him, for he was the wealthiest of Quraysh. She told him to spend, for she had heard the Messenger of Allah ﷺ say that among his Companions would be one who would not see him after parting from him. ʿAbd al-Rahmān went out and met ʿUmar and informed him of what Umm Salamah had said. ʿUmar entered upon her and adjured her by Allah whether he was among them. She said no, but that she would not declare anyone innocent after him. > **"Indeed among my Companions is one who will not see me after he parts from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور بولے : اے امی جان ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرا مال مجھے ہلاکت کا شکار کر دے گا ، کیونکہ قریش میں سے سب سے زیادہ مال میرے پاس ہے ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم اس کو خرچ کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میرے ساتھیوں میں سے ایک ایسا شخص بھی ہو گا کہ جب میں اس سے جدا ہو جاؤں گا ، تو پھر اس کے بعد وہ مجھے نہیں دیکھ سکے گا ۔‘‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ وہاں سے تشریف لے گئے ۔ ان کی ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہ بات بتائی جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی تھی ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور بولے : میں اللہ کی قسم ! دے کر یہ پوچھتا ہوں کہ کیا میں ان افراد میں سے ایک ہوؤں گا ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جی نہیں ! البتہ میں آپ کے بعد کسی کو بری قرار نہیں دوں گی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14450

Majma al-Zawaid #14450

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَنَا يَوْمًا: "" إِنِّي قَدْ قِيلَ لِي: اقْرَأْ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ "". فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ إِذَا نَزَلَ لِيَقْرَأَهُ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub رضي الله عنه reported that one day the Messenger of Allah ﷺ told them that it had been said to him to recite to ʿUmar ibn al-Khattāb. He then called him and commanded him to learn the Quran when it was revealed so that he could recite it back to him. > **"Indeed it has been said to me: Recite to ʿUmar ibn al-Khattāb."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے ہم سے ارشاد فرمایا : مجھے یہ کہا گیا ہے کہ تم عمر بن خطاب کے سامنے تلاوت کرو ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں یہ حکم دیا کہ جب قرآن کی کوئی آیت نازل ہو ، تو وہ اس کو سیکھیں اور پھر اس کو نبی اکرم ﷺ کے سامنے پڑھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں اور امام بزار کی سند ضعیف ہے ۔

14451

Majma al-Zawaid #14451

«عَنْ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَدْرَكَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ، وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَعُثْمَانُ عَلَى رَاحِلَتِهِ، عَلَى ثَنِيَّةِ الْأُثَايَةِ مِنَ الْعَرْجِ، فَقَطَعَتْ رَاحِلَتُهُ رَاحِلَةَ عُثْمَانَ، وَقَدْ مَضَتْ رَاحِلَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَامَ الرَّكْبِ، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ: أَوْجَعْتَنِي يَا غَلْقَ الْفِتْنَةِ، فَلَمَّا اسْتَسْهَلَتِ الرَّوَاحِلُ دَنَا مِنْهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَبَا السَّائِبِ، مَا هَذَا الِاسْمُ الَّذِي سَمَّيْتَنِيهِ؟ فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا أَنَا سَمَّيْتُكَهُ، سَمَّاكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذَا هُوَ أَمَامَ الرَّكْبِ يَقْدُمُ الْقَوْمَ، مَرَرْتُ يَوْمًا وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" هَذَا غَلْقُ الْفِتْنَةِ "". وَأَشَارَ بِيَدِهِ "" لَا يَزَالُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْفِتْنَةِ بَابٌ شَدِيدُ الْغَلْقِ مَا عَاشَ هَذَا بَيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَيَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Qudāmah ibn Mazʿūn رضي الله عنه reported that ʿUmar ibn al-Khattāb رضي الله عنه caught up with ʿUthmān ibn Mazʿūn رضي الله عنه while each was upon his mount at the pass of al-Uthāyah near al-ʿArj, and ʿUmar's mount cut across ʿUthmān's mount while the mount of the Messenger of Allah ﷺ had gone ahead of the caravan. ʿUthmān said that he had hurt him, O lock of fitnah. When the mounts reached easy ground, ʿUmar approached him and asked forgiveness and asked what name he had called him. ʿUthmān swore that he had not named him so himself, but that the Messenger of Allah ﷺ, who was ahead of the caravan leading the people, had named him so. One day he had passed while they were sitting with the Messenger of Allah ﷺ, and he had said, pointing with his hand, that this one is the lock of fitnah, and that there would remain between them and fitnah a tightly locked door as long as he lived among them. > **"This is the lock of fitnah. There will remain between you and fitnah a tightly locked door as long as this one lives among you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ اپنی سواری پر سوار تھے اور حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر سوار تھے ، یہ عرج کے مقام پر موجود ’’ اثایہ ‘‘ نامی گھاٹی کی بات ہے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سواری نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سواری کو جب پار کیا ( تو انہیں جھٹکا لگا ) نبی اکرم ﷺ کی سواری آگے جا چکی تھی ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : اے فتنے کے دروازے کو بند کرنے والے فرد تم نے مجھے تکلیف پہنچائی ، جب سواریاں ہموار جگہ پر آ گئیں ، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دوبارہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : ابوسائب اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے ، آپ نے مجھے جس نام سے پکارا تھا اس کی وجہ تسمیہ کیا ہے ، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں اللہ کی قسم ! میں نے آپ کو یہ نام نہیں دیا ، بلکہ یہ نام اللہ کے رسول ﷺ نے تجویز کیا ہے ، اور آپ ﷺ آگے والے لوگوں میں باقی لوگوں سے آگے چل رہے ہیں ، ایک دن آپ گزرے ، ہم اس وقت نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ فتنوں کے لئے بندش ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ( اور پھر مزید یہ فرمایا تھا : ) تم لوگوں کے درمیان اور فتنے کے درمیان ایک ایسا دروازہ ہو گا جو مضبوطی سے بند رہے گا ، جب تک یہ شخص تمہارے درمیان زندہ رہے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی یحیی بن متوکل ہے ، جو ضعیف ہے ۔

14452

Majma al-Zawaid #14452

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ: «أَنَّهُ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَغَمَزَهَا، وَكَانَ عُمَرُ رَجُلًا شَدِيدًا، فَقَالَ: أَرْسِلْ يَدِي يَا قُفْلَ الْفِتْنَةِ، فَقَالَ عُمَرُ: وَمَا قُفْلُ الْفِتْنَةِ؟ قَالَ: جِئْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ وَقَدِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ، فَجَلَسْتَ فِي آخِرِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تُصِيبُكُمْ فِتْنَةٌ مَا دَامَ هَذَا فِيكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى، وَهُوَ ثِقَةٌ ثَبْتٌ، وَلَكِنَّ الْحَسَنَ الْبَصْرِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي ذَرٍّ فِيمَا أَظُنُّ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr رضي الله عنه reported that he met ʿUmar ibn al-Khattāb رضي الله عنه, who took his hand and squeezed it, for ʿUmar was a strong man. He told him to release his hand, O lock of fitnah. ʿUmar asked what lock of fitnah meant. He explained that one day he had come to the Messenger of Allah ﷺ while he was seated with people gathered around him, and he sat at the back of them, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said that no fitnah would afflict them as long as this one remained among them. > **"No fitnah will afflict you as long as this one is among you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ، ایک مرتبہ ان کی ملاقات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے دبایا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مضبوط جسم کے شخص تھے ، تو حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ میرا ہاتھ چھوڑ دیں ، اے وہ فرد جو فتنے کے لئے قفل کی حیثیت رکھتے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : فتنے کے لئے قفل کی حیثیت رکھنے سے مراد کیا ہے ؟ تو حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا : ایک دن آپ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس تشریف لا رہے تھے ، اللہ کے رسول ﷺ اس وقت تشریف فرما تھے ، آپ ﷺ کے اردگرد لوگ بھی موجود تھے ، تو آپ پیچھے ہٹ کے بیٹھ گئے ، اس وقت نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا : جب تک یہ شخص تمہارے درمیان موجود رہے گا ، فتنہ تم تک نہیں پہنچ پائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف سری بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ اور ثبت ہے ، البتہ یہ پہلو بھی ہے کہ حسن بصری نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے میرے خیال میں سماع نہیں کیا ہے ۔

14453

Majma al-Zawaid #14453

عَنِ الْحَسَنِ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا نَكَحْتُهَا حِينَ نَكَحْتُهَا رَغْبَةً فِي مَالٍ وَلَا وَلَدٍ، وَلَكِنْ أَحْبَبْتُ أَنْ تُخْبِرَنِي عَنْ لَيْلِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَسَأَلَهَا: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ عُمَرَ بِاللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي الْعَتَمَةَ، ثُمَّ يَأْمُرُنَا أَنْ نَضَعَ عِنْدَ رَأْسِهِ تَوْرًا مِنْ مَاءٍ نُغَطِّيهِ، وَيَتَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَضَعُ يَدَهُ فِي الْمَاءِ فَيَمْسَحُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ يَذْكُرُ اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَ، ثُمَّ يَتَعَارَّ مِرَارًا حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى السَّاعَةِ الَّتِي يَقُومُ فِيهَا لِصَلَاتِهِ. فَقَالَ ابْنُ بُرَيْدَةَ: مَنْ حَدَّثَكَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي بِنْتُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ. فَقَالَ: ثِقَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan al-Basrī رحمه الله reported that ʿUthmān ibn Abī al-ʿĀs married a woman from among the wives of ʿUmar ibn al-Khattāb. He swore that he had not married her out of desire for wealth or children, but that he loved that she inform him about the night of ʿUmar رضي الله عنه. He asked her how ʿUmar's prayer at night was. She said that he would pray ʿIshāʾ, then order them to place a vessel of water covered near his head. He would wake in the night, place his hand in the water, wipe his face and hands, then remember Allah as long as Allah willed, repeating this several times until the hour arrived in which he would stand for his prayer. Ibn Buraydah asked who had narrated to him, and he said the daughter of ʿUthmān ibn Abī al-ʿĀs had narrated it to him, whereupon he deemed her trustworthy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ازواج ( میں سے کسی بیوہ یا مطلقہ ) کے ساتھ شادی کر لی ، انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے جب اس عورت کے ساتھ نکاح کیا ، تو مال یا اولاد میں رغبت رکھنے کی وجہ سے ایسا نہیں کیا ، بلکہ میں یہ چاہتا تھا کہ وہ عورت مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے رات کے معمولات کے بارے میں بتائے ، انہوں نے اس خاتون سے دریافت کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کے وقت کس طرح نوافل ادا کرتے تھے ، تو اس خاتون نے بتایا : وہ عشاء کی نماز ادا کر لیتے تھے ، پھر وہ ہمیں ہدایت کر دیتے تھے کہ ہم ان کے سرہانے پانی کا برتن رکھ دیں جسے ہم ڈھانپ دیں ، وہ رات میں کسی وقت بیدار ہوتے تھے ، اپنا ہاتھ پانی میں داخل کرتے تھے ، پانی کے ذریعے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو پونچھتے تھے ، پھر جتنا اللہ کو منظور ہوتا تھا ، اللہ کا ذکر کرتے تھے ، وہ رات میں کئی مرتبہ بیدار ہو کر ایسا کیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ وہ وقت آ جاتا جس میں وہ نوافل ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے ۔ ابن بریدہ نامی راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا : آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے ، تو انہوں نے جواب دیا : حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، تو انہوں نے کہا : پھر تو وہ ثقہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14454

Majma al-Zawaid #14454

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «كَانَ فِي حَائِطٍ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: "" ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ "". ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَقَالَ: "" ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَالشَّهَادَةِ "". ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَقَالَ: "" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَبِالشَّهَادَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ صَحِيحَةٌ فِيمَا وَرَدَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَغَيْرِهِمَا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ was in a garden when Abū Bakr sought permission to enter. He said to admit him and give him glad tidings of Paradise. Then ʿUmar sought permission, and he said to admit him and give him glad tidings of Paradise and martyrdom. Then ʿUthmān sought permission, and he said to admit him and give him glad tidings of Paradise and martyrdom. > **"Admit him and give him glad tidings of Paradise. Admit him and give him glad tidings of Paradise and martyrdom. Admit him and give him glad tidings of Paradise and martyrdom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک باغ میں موجود تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم ﷺ نے ( خادم سے ) فرمایا : تم اسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ( خادم سے ) فرمایا : تم اسے اجازت دو اور جنت اور شہادت کی خوشخبری دو ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے اجازت دو اور اسے جنت اور شہادت کی خوشخبری دو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عمر بن ابان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق روایات کے باب میں اس حدیث کے مستند طرق پہلے گزر چکے ہیں ۔

14455

Majma al-Zawaid #14455

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «رَأَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عُمَرَ ثَوْبًا أَبْيَضَ، فَقَالَ: "" أَجَدِيدٌ ثَوْبُكَ أَمْ غَسِيلٌ؟ "". قَالَ: فَلَا أَدْرِي مَا رَدَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْبَسْ جَدِيدًا، وَعِشْ حَمِيدًا، وَمُتْ شَهِيدًا، وَيَرْزُقُكَ اللَّهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَةَ بِاخْتِصَارِ قُرَّةِ الْعَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ: "" «وَيَرْزُقُكَ اللَّهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ "". قَالَ: وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ». وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ saw ʿUmar wearing a white garment and asked whether his garment was new or washed. The narrator did not recall what he answered. The Prophet ﷺ then said to wear new clothes, live praiseworthily, die a martyr, and may Allah grant him coolness of the eye in this world and the Hereafter. In the narration of Ahmad and al-Tabarānī there is the addition after that supplication that ʿUmar replied, and upon you too, O Messenger of Allah. > **"Wear new clothes, live praiseworthily, and die a martyr, and may Allah grant you coolness of the eye in this world and the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سفید لباس پہنے ہوئے دیکھا ، تو دریافت کیا : تمہارا لباس نیا ہے یا دھلا ہوا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو کیا جواب دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم نیا لباس پہنو ، قابل تعریف زندگی بسر کرو اور شہید ہونے کے طور پر مرنا “۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں :’’ اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کرے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے لیکن اس میں یہ اختصار کے ساتھ منقول ہے ، اور صرف آنکھوں کی ٹھنڈک والا حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے : اس میں اس روایت کے ان الفاظ ’’ اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کرے ۔‘‘ اس کے بعد یہ الفاظ ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ کو بھی ( اللہ تعالیٰ یہ چیز نصیب کرے ) ۔‘‘ ان دونوں روایات کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14456

Majma al-Zawaid #14456

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ أَبْيَضُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عُمَرُ أَجَدِيدٌ قَمِيصُكَ هَذَا أَمْ غَسِيلٌ؟ "". فَقَالَ: غَسِيلٌ. فَقَالَ: "" الْبَسْ جَدِيدًا، وَعِشْ حَمِيدًا، وَمُتْ شَهِيدًا، وَيُعْطِيكَ اللَّهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillah رضي الله عنهما said that they were sitting with the Messenger of Allah ﷺ when ʿUmar ibn al-Khattāb رضي الله عنه approached wearing a white shirt. The Messenger of Allah ﷺ asked him whether his shirt was new or washed. He replied that it was washed. He then said to wear new clothes, live praiseworthily, die a martyr, and may Allah grant him coolness of the eye in this world and the Hereafter. > **"O ʿUmar, is this shirt of yours new or washed? Wear new clothes, live praiseworthily, and die a martyr, and may Allah grant you coolness of the eye in this world and the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، ان کے جسم پر سفید قمیص تھی ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : اے عمر ! تمہاری یہ قمیص نئی ہے یا دھلی ہوئی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : دھلی ہوئی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نیا لباس پہنو ، قابل تعریف زندگی بسر کرو ، شہید ہونے طور پر مرنا اور اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک کے ذریعے ڈھانپ دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر بن زید جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14457

Majma al-Zawaid #14457

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ ". قَالَ: " قُلْتُ: لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ - وَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِي - قَالَ: لِعُمَرَ ". قَالَ: " ثُمَّ سَرَتْ سَاعَةٌ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ خَيْرٍ مِنَ الْقَصْرِ الْأَوَّلِ ". قَالَ: " قُلْتُ: لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ - وَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِي - قَالَ: لِعُمَرَ، وَإِنَّ فِيهِ لَمِنَ الْحُورِ الْعِينِ - يَا أَبَا حَفْصٍ - وَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ إِلَّا غَيْرَتُكَ ". قَالَ: فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَا عُمَرَ، وَقَالَ: أَمَّا عَلَيْكَ فَلَمْ أَكُنْ أَغَارُ».

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said that while he was walking in Paradise, he came upon a palace and asked Jibrīl for whom it was, hoping it would be his, and he said it belonged to ʿUmar. Then after walking a while he came upon a palace better than the first, and again hoped it would be his, but Jibrīl said it belonged to ʿUmar, and that therein were maidens of the wide-eyed houris. He addressed Abū Hafs that nothing had prevented him from entering it except his jealousy. The eyes of ʿUmar filled with tears and he said that he would never feel jealousy toward him. > **"While I was walking in Paradise, I came upon a palace. I said: To whom does this belong, O Jibrīl? And I had hoped it would be mine. He said: It belongs to ʿUmar. Then I walked a while and I came upon a palace better than the first. I said: To whom does this belong, O Jibrīl? And I had hoped it would be mine. He said: It belongs to ʿUmar, and indeed therein are of the wide-eyed houris. O Abū Hafs, nothing prevented me from entering it except your jealousy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں جنت میں چل رہا تھا ، سامنے ایک محل آیا ، میں نے دریافت کیا : جبرائیل ! یہ کس کا ہے ؟ مجھے یہ توقع تھی کہ وہ میرا ہو گا ، تو جبرائیل نے بتایا : یہ عمر کا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : پھر میں کچھ دیر چلتا رہا ، پھر ایک اور محل آیا جو پہلے والے محل سے زیادہ بہتر تھا ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کس کا ہے ؟ مجھے یہ امید تھی کہ وہ میرا ہو گا ، جبرائیل نے بتایا : یہ عمر کا ہے ، اس محل میں حورعین سے تعلق رکھنے والی حوریں موجود تھیں ( نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا : ) اے ابوحفص ! میں اس محل میں اس وجہ سے داخل نہیں ہوا کہ تمہارے مزاج میں تیزی پائی جاتی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور انہوں نے عرض کی : میں آپ کی وجہ سے مزاج کی تیزی نہیں دکھا سکتا ۔‘‘

14458

Majma al-Zawaid #14458

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

In another narration of the same account, the Prophet ﷺ said that he came upon a palace of gold. > **"And I came upon a palace of gold."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :” سونے سے بنا ہو محل آیا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔

14459

Majma al-Zawaid #14459

وَزَادَ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: "" عُمَرُ غَيُورٌ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنَّا "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَزِيَادَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَوَاهَا عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَذَكَرَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ أَنَّهُ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported the like of the narration about the palace, with the addition that ʿUmar is jealous, and he is more jealous than him, and Allah is more jealous than them both. > **"ʿUmar is jealous, and I am more jealous than him, and Allah is more jealous than us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کی مانند روایت منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ عمر غیور ہے میں اس سے زیادہ غیور ہوں اور اللہ تعالیٰ ہم سے زیادہ غیور ہے ۔‘‘ امام احمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں اضافی کلمات انہوں نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کیے ہیں ، اور وہ ضعیف راوی ہے ، ابن دقیق العید نے یہ بات ذکر کی ہے کہ اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14460

Majma al-Zawaid #14460

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «إِنْ كَانَ عُمَرُ لَمِنْ أِهْلِ الْجَنَّةِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ مَا رَأَى فِي يَقَظَتِهِ أَوْ نَوْمِهُ فَهُوَ حَقٌّ، وَإِنَّهُ قَالَ: "" بَيْنَا أَنَا فِي الْجَنَّةِ إِذْ رَأَيْتُ فِيهَا دَارًا، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذِهِ؟ فَقَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه said that ʿUmar was indeed among the people of Paradise, for whatever the Messenger of Allah ﷺ saw in wakefulness or sleep was truth. He said that while he was in Paradise he saw a house therein, and asked to whom it belonged, and they said it belonged to ʿUmar ibn al-Khattāb. > **"While I was in Paradise I saw a house therein. I said: To whom does this belong? They said: It belongs to ʿUmar ibn al-Khattāb."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ اہل جنت میں سے تھے ، نبی اکرم ﷺ جو بھی چیز بیداری کے عالم میں دیکھتے تھے یا نیند کے دوران دیکھتے تھے ، وہ حق ہوتی تھی اور نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’ میں نے دیکھا کہ میں جنت میں ہوں ۔ میں نے اس میں ایک گھر دیکھا ، میں نے دریافت کیا : یہ کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے بتایا : یہ عمر بن خطاب کا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

14461

Majma al-Zawaid #14461

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «عُمَرُ سِرَاجُ أَهْلِ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said that ʿUmar is the lamp of the people of Paradise. > **"ʿUmar is the lamp of the people of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عمر اہل جنت کا چراغ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابراہیم بن ابوعمرو غفاری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14462

Majma al-Zawaid #14462

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «قَالَ لِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: لِيَبْكِ الْإِسْلَامُ عَلَى مَوْتِ عُمَرَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَبِيبٌ كَاتِبُ مَالِكٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kaʿb رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that Jibrīl, upon him be peace, told him that Islam would weep at the death of ʿUmar. > **"Jibrīl, upon him be peace, said to me: Islam will weep at the death of ʿUmar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جبرائیل نے مجھ سے کہا : عمر کے انتقال پر اسلام روئے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب ہے ، جو امام مالک کا کاتب ہے ، اور وہ متروک اور کذاب ہے ۔

14463

Majma al-Zawaid #14463

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا طَعَنَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عُمَرَ طَعَنَهُ طَعْنَتَيْنِ، فَظَنَّ عُمَرُ أَنَّ لَهُ ذَنْبًا فِي النَّاسِ لَا يَعْلَمُهُ، فَدَعَا ابْنَ عَبَّاسٍ، وَكَانَ يُحِبُّهُ وَيُدْنِيهِ وَيَسْمَعُ مِنْهُ، فَقَالَ: أُحِبُّ أَنْ نَعْلَمَ عَنْ مَلَأٍ مِنَ النَّاسِ كَانَ هَذَا؟ فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَكَانَ لَا يَمُرُّ بِمَلَأٍ مِنَ النَّاسِ إِلَّا وَهُمْ يَبْكُونَ، فَرَجَعَ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا مَرَرْتُ عَلَى مَلَأٍ إِلَّا وَهُمْ يَبْكُونَ كَأَنَّهُمْ فَقَدُوا الْيَوْمَ أَبْكَارَ أَوْلَادِهِمْ، فَقَالَ: مَنْ قَتَلَنِي؟ فَقَالَ: أَبُو لُؤْلُؤَةَ الْمَجُوسِيُّ عَبْدُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَرَأَيْتُ الْبِشْرَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَبْتَلِنِي أَحَدٌ يُحَاجُّنِي يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ، أَمَا أَنِّي قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمُ أَنْ تَجْلِبُوا إِلَيْنَا مِنَ الْعُلُوجِ أَحَدًا فَعَصَيْتُمُونِي، ثُمَّ قَالَ: ادْعُوا إِلَيَّ إِخْوَانِي قَالُوا: وَمَنْ؟ قَالَ: عُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فِي حِجْرِي، فَلَمَّا جَاءُوا، قُلْتُ: هَؤُلَاءِ قَدْ حَضَرُوا قَالَ: نَعَمْ. نَظَرْتُ فِي أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَوَجَدْتُكُمْ أَيُّهَا السِّتَّةُ رُءُوسَ النَّاسِ وَقَادَتَهِمْ، وَلَا يَكُونُ هَذَا الْأَمْرُ إِلَّا فِيكُمْ، مَا اسْتَقَمْتُمْ يَسْتَقِمْ أَمْرُ النَّاسِ، وَإِنْ يَكُنِ اخْتِلَافٌ يَكُنْ فِيكُمْ. فَلَمَّا سَمِعْتُهُ ذَكَرَ الِاخْتِلَافَ وَالشِّقَاقَ وَإِنْ يَكُنْ ظَنَنْتُ أَنَّهُ كَائِنٌ ; لِأَنَّهُ قَلَّمَا قَالَ شَيْئًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، ثُمَّ نَزَفَهُ الدَّمُ فَهَمَسُوا بَيْنَهُمْ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُبَايِعُوا رَجُلًا مِنْهُمْ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَيٌّ بَعْدُ، وَلَا يَكُونُ خَلِيفَتَانِ يَنْظُرُ أَحَدُهُمَا إِلَى الْآخَرِ، فَقَالَ: احْمِلُونِي، فَحَمَلْنَاهُ، فَقَالَ: تَشَاوَرُوا ثَلَاثًا، وَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صُهَيْبٌ قَالُوا: مَنْ نُشَاوِرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: شَاوِرُوا الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ، وَسَرَاةَ مَنْ هُنَا مِنَ الْأَجْنَادِ، ثُمَّ دَعَا بِشَرْبَةٍ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبَ فَخَرَجَ بَيَاضُ اللَّبَنِ مِنَ الْجُرْحَيْنِ، فَعَرَفَ أَنَّهُ الْمَوْتُ، فَقَالَ: الْآنَ لَوْ أَنَّ لِيَ الدُّنْيَا كُلَّهَا لَافْتَدَيْتُ بِهَا مِنْ هَوْلِ الْمَطْلَعِ، وَمَا ذَاكَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ أَنْ أَكُونَ رَأَيْتُ إِلَّا خَيْرًا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَإِنْ قُلْتُ فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، أَلَيْسَ قَدْ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُعِزَّ اللَّهُ بِكَ الدِّينَ وَالْمُسْلِمِينَ إِذْ يَخَافُونَ بِمَكَّةَ، فَلَمَّا أَسْلَمْتَ كَانَ إِسْلَامُكَ عِزًّا، وَظَهَرَ بِكَ الْإِسْلَامُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ، وَهَاجَرْتَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَكَانَتْ هِجْرَتُكَ فَتْحًا، ثُمَّ لَمْ تَغِبْ عَنْ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قِتَالِ الْمُشْرِكِينَ مِنْ يَوْمِ كَذَا وَيَوْمِ كَذَا، ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ، فَوَازَرْتَ الْخَلِيفَةَ بَعْدَهُ عَلَى مِنْهَاجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبْتَ بِمَنْ أَقْبَلَ عَلَى مَنْ أَدْبَرَ حَتَّى دَخَلَ النَّاسُ فِي الْإِسْلَامِ طَوْعًا وَكَرْهًا، ثُمَّ قُبِضَ الْخَلِيفَةُ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ، ثُمَّ وُلِّيتَ بِخَيْرِ مَا وُلِّيَ النَّاسُ، مَصَّرَ اللَّهُ بِكَ الْأَمْصَارَ، وَجَبَى بِكَ الْأَمْوَالَ، وَنَفَى بِكَ الْعَدُوَّ، وَأَدْخَلَ اللَّهُ بِكَ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ تَوْسِعَتِهِمْ فِي دِينِهِمْ، وَتَوْسِعَتِهِمْ فِي أَرْزَاقِهِمْ، ثُمَّ خَتَمَ لَكَ بِالشَّهَادَةِ ; فَهَنِيئًا لَكَ. فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنَّ الْمَغْرُورَ مَنْ تَغُرُّونَهُ. ثُمَّ قَالَ: أَتَشْهَدُ لِي يَا عَبْدَ اللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَلْصِقْ خَدِّي بِالْأَرْضِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَوَضَعْتُهُ مِنْ فَخِذِي عَلَى سَاقِي، فَقَالَ: أَلْصِقْ خَدِّي بِالْأَرْضِ، فَتَرَكَ لِحْيَتَهُ وَخَدَّهُ حَتَّى وَقَعَ بِالْأَرْضِ، فَقَالَ: وَيْلَكَ وَوَيْلَ أُمِّكَ يَا عُمَرُ! إِنْ لَمْ يَغْفِرِ اللَّهُ لَكَ يَا عُمَرُ. ثُمَّ قُبِضَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فَلَمَّا قُبِضَ أَرْسَلُوا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ: لَا آتِيكُمُ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا مَا أَمَرَكُمْ بِهِ مِنْ مُشَاوَرَةِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَسَرَاةِ مَنْ هُنَا مِنَ الْأَجْنَادِ .. قَالَ الْحَسَنُ: وَذُكِرَ لَهُ فِعْلُ عُمَرَ عِنْدَ مَوْتِهِ وَخَشْيَتُهُ مِنْ رَبِّهِ، فَقَالَ: هَكَذَا الْمُؤْمِنُ جَمَعَ إِحْسَانًا وَشَفَقَةً، وَالْمُنَافِقُ جَمَعَ إِسَاءَةً وَغِرَّةً، وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ فِيمَا مَضَى وَلَا فِيمَا بَقِيَ عَبْدًا ازْدَادَ إِحْسَانًا إِلَّا ازْدَادَ مَخَافَةً وَشَفَقَةً مِنْهُ، وَلَا وَجَدْتُ فِيمَا مَضَى وَلَا فِيمَا بَقِيَ عَبْدًا ازْدَادَ إِسَاءَةً إِلَّا ازْدَادَ غِرَّةً .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿUmar رضي الله عنهما said that when Abū Luʾluʾah stabbed ʿUmar with two stabs, ʿUmar thought he might have some fault toward the people of which he was unaware. He summoned Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما, whom he loved, kept near, and listened to, and said he wished to learn from a gathering of people whether this had arisen from them. Ibn ʿAbbās went out and passed no gathering except that they were weeping, and returned to ʿUmar saying that every gathering he had passed was weeping as if they had that day lost their firstborn children. ʿUmar asked who had killed him, and he replied Abū Luʾluʾah the Magian, the slave of al-Mughīrah ibn Shuʿbah. Ibn ʿAbbās saw gladness on his face, and ʿUmar praised Allah that he had not been afflicted by one who professes there is no deity but Allah, reminding them that he had forbidden them from bringing any of the foreign captives to them but they had disobeyed him. He then asked for his brothers to be called, naming ʿUthmān, ʿAlī, Talhah, al-Zubayr, ʿAbd al-Rahmān ibn ʿAwf, and Saʿd ibn Abī Waqqās رضي الله عنهم. Messengers were sent to them, and he placed his head in the lap of Ibn ʿUmar. When they arrived, Ibn ʿAbbās announced their presence, and ʿUmar said that he had considered the affair of the Muslims and found these six to be the heads and leaders of the people, and that this matter would only be among them, for as long as they remained upright the affairs of the people would remain upright, but if there were dissension it would be among them. When Ibn ʿAbbās heard him mention dissension and discord, he thought it would occur, for seldom did ʿUmar say anything except that he saw it realised. Then blood flowed heavily and they whispered among themselves until he feared they might pledge one of themselves, so he said that the Commander of the Faithful was still alive and there could not be two caliphs with one looking at the other. ʿUmar asked to be lifted, and they lifted him. He instructed them to consult for three days while Suhayb led the people in prayer. They asked whom to consult, and he said to consult the Muhājirūn and the Ansār and the chiefs of the armies present. He then called for a drink of milk, drank, and the whiteness of the milk came out of his two wounds, so he knew it was death. He said that now, if he owned the whole world, he would ransom himself with it from the terror of what lies ahead, though he had seen nothing but good, and praise belongs to Allah. Ibn ʿAbbās consoled him, recalling how the Messenger of Allah ﷺ had supplicated that Allah strengthen the religion and the Muslims through him when they were in fear at Makkah, and how his Islam was a triumph through which Islam and the Messenger and his Companions prevailed, and how his emigration to Madinah was a victory, and how he was never absent from any battle witnessed by the Messenger of Allah ﷺ against the polytheists, and how the Messenger died pleased with him, and how he supported the Caliph after him upon the way of the Messenger of Allah ﷺ until people entered Islam willingly and unwillingly, and how that Caliph died pleased with him, and how he then ruled in the best manner, through whom Allah settled cities, collected revenues, repelled the enemy, and brought ease to every household in their religion and provision, and then sealed for him with martyrdom, so glad tidings to him. ʿUmar replied that the deceived is the one whom they deceive, and asked ʿAbdullah whether he would bear witness for him before Allah on the Day of Resurrection. When he said yes, ʿUmar praised Allah and asked ʿAbdullah ibn ʿUmar to place his cheek upon the earth. He moved him from his thigh to his leg, but ʿUmar insisted, so he left his beard and cheek until they rested upon the ground, and ʿUmar said woe to him and to his mother if Allah did not forgive him. Then he passed away, may Allah have mercy on him. When he passed, they sent to ʿAbdullah ibn ʿUmar, who refused to come unless they did what ʿUmar had commanded of consulting the Muhājirūn and the Ansār and the chiefs of the armies present. Al-Hasan said, when ʿUmar's conduct at his death and his fear of his Lord were mentioned to him, that this is the believer who combines excellence and compassion, while the hypocrite combines evil and delusion, and that he had never found, among those gone or remaining, a servant who increased in excellence except that he increased in fear and compassion, nor one who increased in evil except that he increased in delusion.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب ابولؤلؤ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر وار کیا ، تو اس نے ان پر دو وار کیے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ گمان کیا کہ شاید لوگوں کے بارے میں ان سے کوئی ایسی کوتاہی سرزد ہوئی ہے ، جو ان کے علم میں نہیں ہے ۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بلوایا ، وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتے تھے ۔ انہیں اپنے قریب رکھتے تھے ۔ ان کی بات سنا کرتے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ چاہتا ہوں کہ اس صورت حال کے بارے میں کچھ لوگوں کی رائے معلوم کروں ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وہاں سے نکلے ، وہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ، وہ جن بھی لوگوں کے پاس سے گزرے ، وہ لوگ رو رہے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے اور بولے : اے امیرالمومنین ! میں لوگوں کے جس بھی گروہ کے پاس سے گزرا تو وہ رو رہے تھے ، یوں جیسے انہوں نے اپنی کمسن اولاد کو آج کھو دیا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : مجھے کس نے قتل کرنے کی کوشش کی ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام لؤلؤ نے ایسا کیا ہے ، جو مجوسی ہے ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : تو میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے چہرے پر خوشی کے آثار دیکھے ، انہوں نے کہا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے کسی ایسے شخص کے حوالے سے مجھے آزمائش کا شکار نہیں کیا کہ جو لا الہ الا اللہ پڑھتا ہو ، میں تم لوگوں کو منع کیا کرتا تھا کہ تم ان عجمی غلاموں کو ہمارے پاس ( مدینہ منورہ ) نہ لے کے آؤ ، لیکن تم لوگوں نے میری بات نہیں مانی ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے بھائیوں کو میرے پاس بلا کے لاؤ ۔ لوگوں نے دریافت کیا : کن لوگوں کو ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا : عثمان ، علی ، طلحہ ، زبیر ، عبدالرحمن بن عوف ، سعد بن ابی وقاص ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو پیغام بھیجا ، پھر انہوں نے سر میری گود میں رکھ لیا ، جب وہ حضرات آئے ، تو میں نے کہا : یہ حضرات آ گئے ہیں ، انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ، میں نے مسلمانوں کے معاملے کا جائزہ لیا تو میں نے آپ چھ حضرات کو پایا کہ آپ لوگوں کے سردار اور قائد ہیں ، اور حکومت آپ کے درمیان ہونی چاہیے ، جب تک آپ لوگ ٹھیک رہیں گے لوگوں کا معاملہ ٹھیک رہے گا ، اور اگر آپ لوگوں کے درمیان اختلاف ہو گیا ، تو لوگوں کے درمیان بھی اختلاف ہو جائے گا ، راوی کہتے ہیں : جب میں نے ان لوگوں کے بارے میں سنا کہ ان کے درمیان باہمی طور پر اختلاف پایا جاتا ہے ، تو میں نے یہ گمان کیا کہ ایسا ہو گا کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو بھی بات کہتے تھے ، وہ میں نے پوری ہوتی ہوئی دیکھی ہے ، پھر انہوں نے سرگوشیاں شروع کر دیں ، یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ وہ ان میں سے کسی ایک فرد کی بیعت کر لیں گے ، تو میں نے کہا : ابھی امیرالمومنین زندہ ہیں ، ایک وقت میں دو خلیفہ نہیں ہو سکتے کہ ان میں سے کوئی ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہا ہو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ مجھے بٹھاؤ ، ہم نے انہیں بٹھایا ، انہوں نے فرمایا : تم لوگ تین دن تک مشورہ کرو ، اس دوران صہیب لوگوں کو نماز پڑھائے گا ، لوگوں نے دریافت کیا : اے امیرالمومنین ! ہم کس سے مشورہ لیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مہاجرین سے انصار سے اور یہاں لشکروں کے جو امیر ہیں ، ان سے مشورہ لو ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دودھ کا پیالہ منگوایا اسے پیا ، تو ان کے دونوں زخموں کے درمیان میں سے سفید دودھ باہر آ گیا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اندازہ ہو گیا کہ اب موت قریب آ چکی ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ وہ وقت ہے کہ اگر مجھے ساری دنیا مل جائے ، تو قیامت کی ہولناکی سے بچنے کے لئے میں اسے فدیہ کے طور پر دے دوں گا ، اور یہ سب کچھ اس کے باوجود ہو گا کہ میں نے صرف بھلائی ہی دیکھی ہے ، اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : آپ یہ بات کہہ رہے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، کیا ایسا نہیں ہے کہ اللہ کے رسول نے یہ دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے دین اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کرے ، جبکہ مسلمان مکہ میں خوف کے عالم میں رہ رہے تھے ، جب آپ نے اسلام قبول کیا ، تو آپ کا اسلام قبول کرنا غلبے کا باعث تھا ، آپ کے ذریعے اسلام سربلند ہوا ، اللہ کے رسول اور آپ کے اصحاب سربلند ہوئے ، پھر آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی ، تو یہ فتح کا باعث تھی ، آپ کسی بھی ایسی جنگ میں غیر موجود نہیں رہے ، جس میں نبی اکرم ﷺ نے شرکت کی ہو ، جس کا تعلق مشرکین کے ساتھ لڑائی سے تھا اور یہ فلاں وقت سے لے کر فلاں وقت تک رہا ، پھر جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ آپ سے راضی تھے ، اس کے بعد آپ نے خلیفہ کا ساتھ دیا ، جنہوں نے اللہ کے رسول کے طریقے کے مطابق کام کیا ، تو آپ نے اس سلسلے میں بھرپور کوشش کی ، یہاں تک کہ لوگ اپنی خوشی کے ساتھ یا مجبوری کے عالم میں اسلام میں داخل ہوئے ، جب خلیفہ کا انتقال ہوا تو وہ آپ سے راضی تھے ، پھر آپ بھلائی کے ہمراہ والی بن گئے ، جو لوگوں کے امور کے والی تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے شہروں کو آباد کیا ، آپ کے ذریعے مال عطا کیا ، دشمن کو سرنگوں کیا ، آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہر گھرانے کے لوگوں کے دین میں وسعت عطا کی اور ان کے رزق میں وسعت عطا کی اور پھر آپ کا خاتمہ شہادت کے ذریعے کیا ، تو آپ کو مبارک باد ہو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ شخص غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے ، جسے تم لوگ غلط فہمی کا شکار کرو ، پھر انہوں نے فرمایا : اے عبداللہ ! کیا تم کیا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں میرے حق میں یہ گواہی دو گے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ ! حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، اے عبداللہ بن عمر ( رضی اللہ عنہما ) ! تم میرا رخسار زمین کے ساتھ ملا دو ، میں نے انہیں اپنے زانوں سے اپنی پنڈلی کی طرف کیا ، تو انہوں نے کہا : میرا رخسار زمین کے ساتھ ملاؤ ، یہاں تک کہ انہوں نے اپنی داڑھی اور رخسار زمین پر رکھ دیا اور پھر بولے : اے عمر تمہارے لئے بربادی ہے ۔ اے عمر ! تمہاری ماں کے لئے بربادی ہے ، اگر اللہ تعالیٰ نے تمہاری مغفرت نہ کی ۔ پھر ان کا انتقال ہو گیا ، اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے ۔ جب ان کا انتقال ہو گیا ، تو لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ پیغام بھیجا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : میں آپ لوگوں کے پاس نہیں آؤں گا ، اگر آپ لوگ وہ کام نہیں کرتے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو ہدایت کی تھی کہ مہاجرین اور انصار اور لشکروں کے امیروں سے مشورہ لینا ہے ۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ ان کے سامنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طرز عمل کا ذکر کیا گیا جو ان کے انتقال کے وقت تھا اور انتقال کے وقت جو انہیں اپنے پروردگار کا خوف تھا ، تو انہوں نے فرمایا : مؤمن اسی طرح ہوتا ہے وہ بھلائی اور شفقت کو جمع کرتا ہے ، اور منافق برائی اور غلط فہمی کو جمع کرتا ہے ، اللہ کی قسم ! پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں اور باقی رہ جانے والے لوگوں میں ، میں نے ایسا کوئی بندہ نہیں پایا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ اچھائی کرنے والا ہو ، ان سے زیادہ خوف زدہ رہنے والا ہو ، ان سے زیادہ شفقت کرنے والا ہو اور میں نے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں اور باقی رہ جانے والے لوگوں میں جو بھی ایسا شخص پایا کہ جو برائی کرتا ہو ، تو ایسا شخص ہمیشہ زیادہ غلط فہمی کا شکار بھی ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14464

Majma al-Zawaid #14464

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: كَانَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عَبْدًا لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَكَانَ يَصْنَعُ الْأَرْحَاءَ، وَكَانَ الْمُغِيرَةُ يَسْتَغِلُّهُ كُلَّ يَوْمٍ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ، فَلَقِيَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عُمَرَ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ أَثْقَلَ عَلَيَّ غَلَّتِي، فَكَلِّمْهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنِّي، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اتَّقِ اللَّهَ وَأَحْسِنْ إِلَى مَوْلَاكَ، وَمِنْ نِيَّةِ عُمَرَ أَنْ يَلْقَى الْمُغِيرَةَ فَيُكَلِّمَهُ فَيُخَفِّفَ. فَغَضِبَ الْعَبْدُ وَقَالَ: وَسِعَ النَّاسَ كُلَّهُمْ عَدْلُهُ غَيْرِي، فَأَضْمَرَ عَلَى قَتْلِهِ، فَاصْطَنَعَ خِنْجَرًا لَهُ رَأْسَانِ وَشَحَذَهُ وَسَمَّهُ، ثُمَّ أَتَى بِهِ الْهُرْمُزَانَ، فَقَالَ: كَيْفَ تَرَى هَذَا؟ قَالَ: أَرَى أَنَّكَ لَا تَضْرِبُ بِهِ أَحَدًا إِلَّا قَتَلْتَهُ قَالَ: فَتَحَيَّنَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ فَجَاءَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى قَامَ وَرَاءَ عُمَرَ، وَكَانَ عُمَرُ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَكَلَّمَ يَقُولُ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ كَمَا كَانَ يَقُولُ قَالَ: فَلَمَّا كَبَّرَ وَجَأَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ فِي كَتِفِهِ وَوَجَأَهُ فِي خَاصِرَتِهِ، فَسَقَطَ عُمَرُ وَطَعَنَ بِخِنْجَرِهِ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَهَلَكَ مِنْهُمْ سَبْعَةٌ وَفَرَقَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ، وَجَعَلَ [عُمَرُ] يَذْهَبُ [بِهِ] إِلَى مَنْزِلِهِ، وَضَاجَ النَّاسُ حَتَّى كَادَتْ تَطْلُعُ الشَّمْسُ، فَنَادَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، الصَّلَاةَ، الصَّلَاةَ، الصَّلَاةَ. قَالَ: وَفَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ، وَتَقَدَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَصَلَّى بِهِمْ بِأَقْصَرِ سُورَتَيْنِ مِنَ الْقُرْآنِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ تَوَجَّهُوا [إِلَى عُمَرَ]، فَدَعَا بِشَرَابٍ لِيَنْظُرَ مَا قَدْرُ جُرْحِهِ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ. فَلَمْ يَدْرِ أَنَبِيذٌ هُوَ أَمْ دَمٌ، فَدَعَا بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ، فَقَالُوا: لَا بَأْسَ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: إِنْ يَكُنِ الْقَتْلُ بَأْسِي فَقَدْ قُتِلْتُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُثْنُونَ عَلَيْهِ، يَقُولُونَ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ; كُنْتَ وَكُنْتَ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ وَيَجِيءُ قَوْمٌ آخَرُونَ فَيُثْنُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا وَاللَّهِ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَفَافًا لَا عَلَيَّ وَلَا لِي، وَإِنَّ صُحْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[قَدْ] سَلِمَتْ لِي. فَتَكَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ [وَكَانَ عِنْدَ رَأْسِهِ _ وَكَانَ خَلِيطُهُ كَأَنَّهُ مِنْ أَهْلِهِ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَتَكَلَّمَ _ عَبْدُ اللَّهِ بنُ عَبَّاسٍ] فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا تَخْرُجُ مِنْهَا كَفَافًا، لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَحِبْتَهُ خَيْرَ مَا صَحِبَهُ صَاحِبٌ كُنْتَ لَهُ، وَكُنْتَ لَهُ، وَكُنْتَ لَهُ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ، ثُمَّ صَحِبْتَ خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ وُلِّيتَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْتَ، فَوُلِّيتَهَا بِخَيْرِ مَا وَلِيَهَا وَالٍ، كُنْتَ تَفْعَلُ وَكُنْتَ تَفْعَلُ، فَكَانَ عُمَرُ يَسْتَرِيحُ إِلَى حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ كَرِّرْ عَلَيَّ حَدِيثَكَ، فَكَرَّرَ عَلَيْهِ. فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا وَاللَّهِ عَلَى مَا يَقُولُونَ، لَوْ أَنَّ لِي طِلَاعَ الْأَرْضِ ذَهَبًا لَافْتَدَيْتُ بِهِ الْيَوْمَ مِنْ هَوْلِ الْمَطْلَعِ، قَدْ جَعَلْتُهَا شُورَى فِي سِتَّةٍ: عُثْمَانَ، وَعَلِيٍّ، وَطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَجَعَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَعَهُمْ مُشِيرًا [وَلَيْسَ مِنْهُمْ]، وَأَجَّلَهُمْ ثَلَاثًا، وَأَمَرَ صُهَيْبًا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ .. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Rāfiʿ رضي الله عنه said that Abū Luʾluʾah was a slave of al-Mughīrah ibn Shuʿbah who made millstones, and al-Mughīrah took four dirhams from him daily. Abū Luʾluʾah met ʿUmar and complained that al-Mughīrah had laid a heavy tax upon him and asked him to speak to him to lighten it. ʿUmar told him to fear Allah and do good to his master, intending to meet al-Mughīrah and speak to him to lighten it. The slave grew angry and said that his justice encompassed all people except him, and resolved to kill him. He fashioned a double-bladed dagger, sharpened it and poisoned it, then brought it to al-Hurmuzān and asked his opinion of it. He replied that he would strike no one with it except that he would kill him. Abū Luʾluʾah waited for his opportunity and came at the dawn prayer until he stood behind ʿUmar. When the prayer was established, ʿUmar would speak as was his custom, saying to straighten the rows. When he uttered the takbīr, Abū Luʾluʾah struck him in the shoulder and in his side, and ʿUmar fell. He then struck thirteen men with his dagger, seven of whom died and six of whom survived. ʿUmar was carried to his house while the people clamoured until the sun was about to rise. ʿAbd al-Rahmān ibn ʿAwf called out for prayer, so they hastened to prayer and ʿAbd al-Rahmān led them with the two shortest chapters of the Quran. When the prayer ended they turned to ʿUmar. He called for a drink to assess his wound. Nabīdh was brought and he drank it, but it came out of his wound, and it was not known whether it was nabīdh or blood. Milk was then called for and he drank it, and it came out of his wound. They said there was no harm upon him, O Commander of the Faithful, but he replied that if being killed was his harm then he had been killed. The people began praising him, saying may Allah reward him with good, recalling what he was and what he did, then leaving as others came and praised him. ʿUmar swore that despite what they said, he wished to leave it even, with nothing for him and nothing against him, save that his companionship of the Messenger of Allah ﷺ remained safe for him. ʿAbdullah ibn ʿAbbās, who was at his head as his close companion as if of his household and a reciter of the Quran, spoke and said that he would not leave it even, for he had accompanied the Messenger of Allah ﷺ in the finest companionship any companion had given him, until the Messenger of Allah ﷺ passed while pleased with him, then accompanied the Caliph of the Messenger of Allah ﷺ, then ruled himself as Commander of the Faithful in the finest manner any ruler had ruled, doing this and that. ʿUmar found comfort in the speech of Ibn ʿAbbās and asked him to repeat it, and he repeated it. ʿUmar then swore that despite what they said, if he owned the earth full of gold he would ransom himself with it that day from the terror of what lies ahead. He placed the matter in consultation among six: ʿUthmān, ʿAlī, Talhah ibn ʿUbaydillah, al-Zubayr ibn al-ʿAwwām, ʿAbd al-Rahmān ibn ʿAwf, and Saʿd ibn Abī Waqqās, with ʿAbdullah ibn ʿUmar among them as an adviser but not of them. He gave them three days and commanded Suhayb to lead the people in prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام ابولؤلؤ تھا ، وہ چکی بنایا کرتا تھا ، حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ اس سے روزانہ چار درہم وصول کرتے تھے ، ایک مرتبہ ابولؤلؤ کی ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، اس نے کہا : اے امیرالمومنین ! حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ پر بوجھ ڈالا ہوا ہے ، وہ مجھ سے زیادہ وصولی کرتے ہیں ، آپ ان سے بات چیت کریں کہ وہ میرے خراج میں کمی کر دیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اپنے آقا کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نیت یہ تھی کہ وہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے ملیں گے ، تو وہ ان کے ساتھ بات چیت کریں گے کہ وہ اس کے خراج میں تخفیف کر دیں ، لیکن وہ غلام غصے میں آ گیا ، اس نے کہا : ان کا عدل میرے علاوہ باقی سب لوگوں کے لئے ہے ، اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا منصوبہ بنا لیا ، اس نے ایک خنجر تیار کیا ، جس کے دو سرے تھے اور اسے زہر میں ڈبویا ، پھر وہ اسے لے کے ہرمزان کے پاس آیا اور دریافت کیا : اس خنجر کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم اس کے ذریعے جس کو بھی ضرب لگاؤ گے ، اسے مار دو گے ، راوی کہتے ہیں : اس وقت ابولؤلؤ نے منصوبہ بنایا ۔ وہ صبح کی نماز میں آیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا ہو گیا ، جب نماز کھڑی ہو جاتی تھی ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے صفیں قائم کر لو ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو ابولؤلؤ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کندھے پر وار کیا ، پھر اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پہلو پر وار کیا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ گر گئے ، اس شخص نے اس خنجر کے ذریعے تیرہ افراد کو زخمی کیا ، جن میں سے سات افراد انتقال کر گئے اور کچھ لوگ بچ گئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر لایا گیا ۔ لوگوں نے رونا شروع کر دیا ، قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جاتا ، اسی دوران حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں پکار کر کہا : اے لوگو نماز نماز نماز ، تو لوگ پریشان ہو کر نماز کی طرف گئے ، تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، انہوں نے قرآن کی دو چھوٹی سورتوں کو پڑھ کر نماز پڑھائی ، جب نماز مکمل ہوئی ، تو لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، انہوں نے مشروب منگوایا تاکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ ان کے زخم کی مقدار کتنی ہے ، تو نبیذ لائی گئی ، انہوں نے اسے پیا تو وہ ان کے زخم سے باہر آ گئی ، لیکن یہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ نبیذ ہے یا خون ہے ، تو انہوں نے دودھ منگوایا ، اسے پیا تو وہ ان کے زخم سے باہر آ گیا ، لوگوں نے کہا : امیرالمومنین ! آپ کو کچھ نہیں ہو گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر قتل ہونا پریشانی کی بات ہے ، تو میں قتل ہو گیا ہوں ، لوگوں نے ان کی تعریف بیان کرنا شروع کی اور یہ کہا : امیرالمومنین ! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے آپ یہ تھے اور وہ تھے ، پھر لوگ واپس چلے جاتے اور دوسرے لوگ آ جاتے ، اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم لوگ جو کہہ رہے ہو ، اس کے باوجود اللہ کی قسم ! میری یہ خواہش ہے کہ میں اس معاملے میں برابری کی بنیاد پر چھوٹ جاؤں ، نہ میرے ذے کچھ ہو اور نہ مجھے کچھ ملے ، اللہ کے رسول کا ساتھی ہونا میرے لئے باقی رہے ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سرہانے موجود تھے ۔ انہوں نے بات چیت شروع کی ، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اتنے قریبی تھے جیسے ان کے گھر کے فرد ہوں ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قرآن کے عالم تھے ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے گفتگو شروع کی اور یہ کہا : اللہ کی قسم ! آپ اس معاملے سے برابری کی بنیاد پر نہیں نکلیں گے ، کیونکہ آپ اللہ کے رسول کے ساتھ رہے ہیں ، اور اس سب سے بہتر طریقے کے ہمراہ ساتھ رہے ہیں کہ جس طریقے کے ساتھ آپ ﷺ کے کسی بھی صحابی نے آپ ﷺ کا ساتھ دیا ہو ، آپ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اس طرح رہے ہیں ، اس طرح رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا تو نبی اکرم ﷺ آپ سے راضی تھے ، پھر آپ اللہ کے رسول کے خلیفہ کے ساتھ رہے ، پھر امیرالمومنین آپ کو نگران بنایا گیا ، تو اللہ کی قسم ! آپ نے اس سب سے بہتر طریقے سے اپنے فرائض سرانجام دیئے ، جس طریقے سے کوئی بھی شخص انہیں انجام دے سکتا ہے ، آپ نے یہ کام کیا اور وہ کام کیا ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی گفتگو سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کچھ اطمینان ہوا ، انہوں نے فرمایا : اے ابن عباس ! تم اپنی بات میرے سامنے دہراؤ ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کے سامنے بات دہرائی ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : لوگ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں ، اس کے باوجود اللہ کی قسم ! میری یہ خواہش ہے کہ اگر میرے پاس روئے زمین جتنا سونا ہوتا ، تو قیامت کی ہولناکی سے بچنے کے لئے وہ میں آج فدیے کے طور پر دے دیتا ، میں حکومت کا معاملہ چھ افراد کی شوریٰ کے درمیان رکھتا ہوں ، عثمان ، علی ، طلحہ بن عبیداللہ ، زبیر بن عوام ، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ان لوگوں کے ساتھ مشیر مقرر کیا ، وہ ان میں سے ایک فرد نہیں تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تین دن کی مہلت دی اور حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ اس دوران لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14465

Majma al-Zawaid #14465

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ يَوْمَ قُتِلَ عُمَرُ: الْيَوْمَ وَهِيَ الْإِسْلَامُ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Tāriq ibn Shihāb reported that Umm Ayman رضي الله عنها said on the day ʿUmar was killed that Islam had this day become weak.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : جس دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، تو سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے فرمایا : آج اسلام کمزور ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14466

Majma al-Zawaid #14466

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: أَتَى عَبْدَ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَجُلَانِ وَأَنَا عِنْدُهُ، فَقَالَا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ؟ فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ أَبَا حَكِيمٍ أَقْرَأَنِيهَا كَذَا وَكَذَا، وَقَرَأَ الْآخَرُ، فَقَالَ: مَنْ أَقْرَأَكَهَا؟ فَقَالَ: عُمَرُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: اقْرَأْ كَمَا أَقْرَأَكَ عُمَرُ، ثُمَّ بَكَى عَبْدُ اللَّهِ حَتَّى رَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَحَدَّرَ فِي الْحَصَى، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ كَانَ حِصْنًا حَصِينًا عَلَى الْإِسْلَامِ، يَدْخُلُ النَّاسُ فِيهِ وَلَا يَخْرُجُونَ مِنْهُ، وَإِنَّ الْحِصْنَ أَصْبَحَ قَدِ انْثَلَمَ ; فَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ مِنْهُ وَلَا يَدْخُلُونَ ..

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Wahb reported that two men came to ʿAbdullah ibn Masʿūd رضي الله عنه while he was with him and asked how he recited a certain verse. ʿAbdullah recited it to them. One man claimed that Abū Hakīm had taught it to him differently, and the other recited, and when asked who had taught him, he said ʿUmar. ʿAbdullah told him to recite as ʿUmar had taught him, then wept until his tears were seen falling upon the pebbles. He then said that ʿUmar had been a strong fortress for Islam into which people entered and from which they did not exit, but that the fortress had now been breached, so people were leaving it and not entering it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن وہب بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس دو افراد آئے ، میں اس وقت ان کے پاس موجود تھا ، ان دونوں نے کہا : اے ابوعبد الرحمن آپ اس آیت کو کیسے پڑھتے ہیں ؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے وہ آیت پڑھی ، تو ایک شخص نے کہا : حضرت ابوحکیم رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ آیت اس اس طرح پڑھائی ہے ، پھر دوسرے شخص نے آیت پڑھی ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہیں یہ آیت کس نے سکھائی ہے ، تو اس نے جواب دیا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اسے اسی طرح پڑھو جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ تمہیں سکھائی ہے ، پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ رونے لگے ، یہاں تک کہ ہم نے دیکھا کہ ان کے آنسو کنکریوں پر گر رہے ہیں ، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام کے لئے ایک مضبوط قلعہ تھے ، جس میں لوگ داخل ہوتے تھے ، لیکن نکلتے نہیں تھے ، اب وہ قلعہ ٹوٹ چکا ہے ، لوگ اس میں سے نکل جاتے ہیں ، اور داخل نہیں ہوتے ہیں ۔

14467

Majma al-Zawaid #14467

وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَا أَظُنُّ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِ حُزْنٌ يَوْمَ أُصِيبَ عُمَرُ إِلَّا أَهْلَ بَيْتِ سُوءٍ ; إِنَّ عَمَرَ كَانَ أَعْلَمَنَا بِاللَّهِ، وَأَقْرَأَنَا لِكِتَابِ اللَّهِ، وَأَفْقَهَنَا فِي دِينِ اللَّهِ، اقْرَأْهَا فَوَاللَّهِ (كَمَا أَقْرَأَكَهَا عُمَرُ، فَوَاللَّهِ لَهِيَ) أَبْيَنُ مِنْ طَرِيقِ السَّيْلَحِينِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿūd رضي الله عنه added in another narration that he did not think any Muslim household remained into which grief had not entered on the day ʿUmar was stricken, except a household of evil. He said that ʿUmar had been the most knowledgeable of them about Allah, the foremost reciter of the Book of Allah, and the most understanding in the religion of Allah. He urged him to recite as ʿUmar had taught him, swearing that it was clearer than the road of al-Saylahayn.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اس وقت مسلمانوں کے ہر ایک گھرانے پر غم داخل ہو گیا ، البتہ برے گھرانے والے لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اللہ کے بارے میں ہم سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے ، اللہ کی کتاب کے سب سے زیادہ عالم تھے ، اللہ کے دین کے سب سے بڑے فقیہ تھے ، تو تم اس آیت کو اس طرح پڑھو ، اللہ کی قسم ! جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ تمہیں پڑھائی ہے ، اللہ کی قسم ! یہ سیلحین کے راستے سے زیادہ واضح ہے ۔‘‘

14468

Majma al-Zawaid #14468

وَفِي رِوَايَةٍ: وَكَانَ - يَعْنِي عُمَرَ - إِذَا سَلَكَ طَرِيقًا وَجَدْنَاهُ سَهْلًا، فَإِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّهَلَا بِعُمَرَ، كَانَ فَضْلٌ مَا بَيْنَ الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ، وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَخْدِمُ مِثْلَهُ حَتَّى أَمُوتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration ʿAbdullah said, meaning ʿUmar, that when he took a path they found it easy, and that when the righteous are mentioned, then welcome to ʿUmar. He was the decisive distinction between excess and deficiency, and he swore that he wished to have served the like of him until death.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ( حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ’’ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب کسی راستے پر چلتے تھے ، تو ہم اسے ہموار پاتے تھے ، جب نیک لوگوں کا ذکر ہو گا ، تو اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اہتمام کے ساتھ ذکر ہو گا ، وہ زیادہ ہونے اور کمی کے دوران ، فصل ( یعنی حد فاصل ) تھے ، اللہ کی قسم ! میری یہ خواہش ہے کہ میں مرتے دم تک ان جیسے کی خدمت کرتا رہتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

14469

Majma al-Zawaid #14469

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَيْضًا قَالَ: إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّهَلَا بِعُمَرَ، إِنَّ إِسْلَامَ عُمَرَ كَانَ نَصْرًا، وَإِنَّ إِمَارَتَهُ كَانَتْ فَتْحًا، وَايْمُ اللَّهِ مَا أَعْلَمُ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدًا إِلَّا وَجَدَ فَقْدَ عُمَرَ حَتَّى الْعِضَاةِ، وَايْمُ اللَّهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ، وَايْمُ اللَّهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ الشَّيْطَانُ يَفْرَقُ مِنْهُ أَنْ يُحْدِثَ فِي الْإِسْلَامِ حَدَثًا فَيَرُدَّ عَلَيْهِ عُمَرُ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ كَلْبًا يُحِبُّ عُمَرَ لَأَحْبَبْتُهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿūd رضي الله عنه also said that when the righteous are mentioned, then welcome to ʿUmar. His Islam had been a triumph and his rule a victory. He swore that he knew of nothing on the face of the earth, even the thorny trees, except that it felt the loss of ʿUmar. He swore that he believed there was an angel between his eyes guiding him, and that Shaytan fled from him lest he innovate something in Islam only for ʿUmar to refute him. He swore that if he knew a dog loved ʿUmar, he would love it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ جب نیک لوگوں کا ذکر ہو گا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی نمایاں طور پر ہو گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا مدد کا باعث تھا ، ان کی حکومت فتح کا باعث تھی ، اللہ کی قسم ! مجھے یہ پتہ ہے کہ روئے زمین پر موجود ہر چیز نے ، یہاں تک کہ کانٹے دار درختوں نے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی غیر موجودگی کو محسوس کیا ، اللہ کی قسم ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ موجود تھا ، جو انہیں سیدھی راہ پر رکھتا تھا اور ان کی رہنمائی کرتا تھا ، اللہ کی قسم ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ شیطان ان سے ڈر کے بھاگ جاتا تھا کہ اگر وہ اسلام میں کوئی نئی چیز پیدا کرے گا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے ختم کر دیں گے ، اللہ کی قسم ! اگر مجھے کسی کتے بارے میں پتہ ہو کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، تو میں اس کتے سے بھی محبت رکھوں گا ۔‘‘

14470

Majma al-Zawaid #14470

وَفِي رِوَايَةٍ: لَقَدْ أَحْبَبْتُ عُمَرَ حَتَّى لَقَدْ خِفْتُ اللَّهَ، وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ خَادِمًا لِعُمَرَ حَتَّى أَمُوتَ.

EnglishUnverified translation

In another narration ʿAbdullah said that he had loved ʿUmar so much that he had feared Allah on account of it, and that he wished he had been a servant of ʿUmar until death.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ’’ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہوں ، یہاں تک کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے ڈر لگتا ہے ، میری یہ خواہش ہے کہ میں مرتے دم تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خدمت گزار رہتا ۔‘‘

14471

Majma al-Zawaid #14471

وَفِي رِوَايَةٍ: لَوْ أَنَّ عُمَرَ أَحَبَّ كَلْبًا كَانَ أَحَبَّ الْكِلَابِ إِلَيَّ.

EnglishUnverified translation

In another narration ʿAbdullah said that if ʿUmar had loved a dog, it would have been the most beloved of dogs to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ( حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ’’ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کسی کتے سے محبت رکھتے ہوتے ، تو وہ میرے نزدیک کتوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوتا ۔‘‘

14472

Majma al-Zawaid #14472

وَفِي رِوَايَةٍ: لَقَدْ خَشِيتُ اللَّهَ فِي حُبِّي عُمَرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ، وَفِي بَعْضِهَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَبَعْضُهَا مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration ʿAbdullah said that he had feared Allah in his love for ʿUmar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ’’ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے محبت کی وجہ سے مجھے اللہ تعالیٰ سے ڈر لگتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض کی اسناد میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، ان میں سے بعض روایات سند کے اعتبار سے منقطع ہیں ، اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔

14473

Majma al-Zawaid #14473

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي الْجَنَّةِ. قَالَ: تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: ذَاكَ الْأَوَّاهُ عِنْدَ كُلِّ خَيْرٍ يُبْتَغَى. قَالَ: تُوُفِّيَ عُمَرُ فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّهَلَا بِعُمَرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that Saʿīd ibn Zayd رضي الله عنه asked him where the Messenger of Allah ﷺ was after he passed. He said in Paradise. He asked where Abū Bakr was after he died, and he replied that he was the tender-hearted one present at every sought good. He asked where ʿUmar was after he died, and he replied that when the righteous are mentioned, then welcome to ʿUmar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! نبی اکرم ﷺ کا جب وصال ہوا تو وہ کہاں ہوں گے ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جنت میں انہوں نے دریافت کیا : جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو وہ کہاں ہوں گے ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : وہ ایک مہربان ( یا رقیق القلب ) شخص تھے ، جو ہر بھلائی کے پاس موجود ہوتے تھے ، جس ( بھلائی ) کو تلاش کیا جاتا تھا ( یعنی اس بھلائی کو کرنے کی کوشش کی جاتی تھی ) انہوں نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے ، وہ کہاں ہوں گے ؟ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : جب نیک لوگوں کا ذکر ہو گا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بطور خاص ذکر ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14474

Majma al-Zawaid #14474

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أَرْسَلُوا إِلَى طَبِيبٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَقَاهُ لَبَنًا، فَخَرَجَ اللَّبَنُ مِنَ الطَّعْنَةِ الَّتِي تَحْتَ السُّرَّةِ، فَقَالَ لَهُ الطَّبِيبُ: اعْهَدْ عَهْدَكَ فَلَا أُرَاكَ تُمْسِي، فَقَالَ: صَدَقْتَنِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما said that when ʿUmar was stabbed they sent for a physician. A man of the Ansār came and gave him milk to drink, but the milk came out of the stab below his navel. The physician told him to make his bequest, for he did not think he would live till evening. ʿUmar told him he had spoken truthfully.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا ، تو لوگوں نے طبیب کو بلوایا ، انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا ، اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دودھ پلایا ، تو وہ دودھ ان کے زخم میں سے باہر نکل آیا ، جو ناف کے نیچے زخم موجود تھا ، تو طبیب نے ان سے کہا : آپ نے جو تلقین کرنی ہے کر دیں ، میں نہیں سمجھتا کہ آپ شام دیکھ پائیں گے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم نے میرے ساتھ سچ بیانی کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14475

Majma al-Zawaid #14475

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: شَهِدْتُ مَوْتَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَئِذٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Rahmān ibn Yasār said that he witnessed the death of ʿUmar ibn al-Khattāb, and the sun was eclipsed that day.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن یسار بیان کرتے ہیں : میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے انتقال کے وقت موجود تھا ، اس دن سورج گرہن ہو گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14476

Majma al-Zawaid #14476

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عُمَرُ مَحَا الزُّبَيْرُ اسْمَهُ مِنَ الدِّيوَانِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah ibn al-Zubayr said that when ʿUmar was killed, al-Zubayr رضي الله عنه erased his name from the register.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ، تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے دیوان میں سے اپنا نام مٹا دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14477

Majma al-Zawaid #14477

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: وُلِّيَ عُمَرُ عَشْرَ سِنِينَ، ثُمَّ تُوُفِّيَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Miswar ibn Makhramah رضي الله عنه said that ʿUmar ruled for ten years, then passed away.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ دس سال تک حکمران رہے تھے پھر ان کا انتقال ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14478

Majma al-Zawaid #14478

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مَاتَ وَهُوَ ابْنُ سِتٍّ وَسِتِّينَ سَنَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that ʿUmar ibn al-Khattāb died at the age of sixty-six.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر چھیاسٹھ برس تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14479

Majma al-Zawaid #14479

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قُتِلَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ إِحْدَى وَسِتِّينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Qatādah رحمه الله said that ʿUmar was killed at the age of sixty-one.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اکسٹھ برس کی عمر میں شہید کیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14480

Majma al-Zawaid #14480

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: مَاتَ عُمَرُ وَهُوَ عَلَى رَأْسِ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihāb al-Zuhrī رحمه الله said that ʿUmar died at the head of fifty-five years.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر پچپن سال تھی ۔

14481

Majma al-Zawaid #14481

وَعَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ عُمَرَ قُبِضَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sālim ibn ʿAbdillah رحمه الله reported that ʿUmar was taken at the age of fifty-five.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر پچپن برس تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14482

Majma al-Zawaid #14482

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: تُوُفِّيَ عُمَرُ، وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ، وَقَالَ: أَسْرَعَ إِلَيَّ الشَّيْبُ مِنْ قَبْلِ أَخْوَالِي بَنِي الْمُغِيرَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما said that ʿUmar passed away at the age of fifty-five, and that he himself said grey hair had come early to him from his maternal uncles, the Banū al-Mughīrah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر پچپن سال تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : میری طرف سفید بال تیزی سے اس وجہ سے آئے ہیں کہ یہ میرے ننھیال بنو مغیرہ کی طرف سے آئی ہوئی چیز ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14483

Majma al-Zawaid #14483

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: دُفِنَ عُمَرُ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ لِثَلَاثٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd al-Ansārī رضي الله عنه said that ʿUmar was buried on Wednesday with three nights remaining of Dhū al-Hijjah in the year twenty-three.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بدھ کے دن دفن کیا گیا ، جب سن 23 ہجری کے ذوالحج کے ختم ہونے میں تین دن باقی رہ گئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14484

Majma al-Zawaid #14484

وَعَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ مَصْدَرَ الْحَاجِّ، وَذَلِكَ فِي سَنَةِ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Layth ibn Saʿd رحمه الله said that the Commander of the Faithful ʿUmar was killed at the time of the departure of the pilgrims, in the year twenty-three.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

لیث بن سعد بیان کرتے ہیں : امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس وقت شہید کیا گیا جب حاجیوں کی واپسی کا وقت ہوتا ہے ، اور یہ سن 23 ہجری کی بات ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14485

Majma al-Zawaid #14485

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: تُوُفِّيَ عُمَرُ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، وَكَانَتْ خِلَافَتُهُ عَشْرَ سِنِينَ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr ibn Abī Shaybah رحمه الله said that ʿUmar passed away in the year twenty-three, and his caliphate had lasted ten years.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن ابوشیبہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال سن 23 ہجری میں ہوا تھا ، اور ان کی خلافت دس سال رہی تھی ۔

14486

Majma al-Zawaid #14486

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: يُقَالُ: قُتِلَ عُمَرُ، وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَالثَّبْتُ أَنَّهُ كَانَ ابْنَ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAlī رحمه الله said that it is said ʿUmar was killed at the age of sixty-three, but the established report is that he was fifty-eight.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن علی بیان کرتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اس وقت ان کی عمر تریسٹھ سال تھی ، تاہم مستند بات یہ ہے کہ اس وقت ان کی عمر اٹھاون سال تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

14487

Majma al-Zawaid #14487

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: اسْتُخْلِفَ عُمَرُ فِي رَجَبٍ سَنَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَقُتِلَ فِي عَقِبِ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، فَأَقَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بَعْدَ الطَّعْنَةِ، وَمَاتَ فِي آخِرِ ذِي الْحِجَّةِ، وَصَلَّى عَلَيْهِ صُهَيْبٌ، وَوَلِيَ غَسْلَهَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَكَفَّنَهُ فِي خَمْسَةِ أَثْوَابٍ، وَدُفِنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَطُعِنَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ لِتِسْعٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ. وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: مَاتَ مِنْ يَوْمِهِ، وَكَانَ سِنُّهُ يَوْمَ تُوُفِّيَ فِيمَا سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَذْكُرُ: أَنَّهُ بَلَغَ سِنَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ. وَبَعْضُ النَّاسِ يَقُولُ: لِتِسْعٍ وَخَمْسِينَ. [وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ: ثَلَاثٍ وَخَمْسِينَ، وَخَمْسٍ وَخَمْسِينَ] وَكَانَتْ خِلَافَتُهُ عَشْرَ سِنِينَ وَأَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَأَيَّامًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Yahyā ibn Bukayr رحمه الله said that ʿUmar was appointed caliph in Rajab of the year thirteen, and was killed at the end of Dhū al-Hijjah of the year twenty-three. He remained three days after the stabbing and died at the end of Dhū al-Hijjah. Suhayb رضي الله عنه prayed over him, his son ʿAbdullah washed him, he was shrouded in five garments, and was buried with the Messenger of Allah ﷺ. He was stabbed on Wednesday with nine nights remaining of Dhū al-Hijjah. Some people said he died the same day. Concerning his age at death, as he had heard Mālik ibn Anas mention, he had reached the age of the Messenger of Allah ﷺ, sixty-three years. Some say fifty-nine, some say fifty-three and fifty-five, and some say fifty-four. His caliphate lasted ten years, four months, and some days.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ رجب کے مہینے میں تیرہ ہجری میں خلیفہ مقرر ہوئے تھے اور انہیں ذوالحج کے آخری حصے میں سن 23 ہجری میں شہید کیا گیا ، وہ زخمی ہونے کے بعد تین دن تک زندہ رہے تھے اور ذوالحج کے آخر میں انتقال کر گئے تھے ۔ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ، ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں غسل دیا تھا اور انہیں پانچ کپڑوں میں کفن دیا گیا ، اور پھر نبی اکرم ﷺ کے ساتھ دفن کر دیا گیا ۔ وہ بدھ کے دن زخمی ہوئے تھے جب ذوالج ختم ہونے میں نو دن باقی رہ گئے تھے ۔ بعض لوگوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ ان کا انتقال اسی دن ہو گیا تھا ( جب وہ زخمی ہوئے تھے ) اور انتقال کے وقت ان کی عمر یہ تھی ، جو میں نے امام مالک کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے : انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ ان کی عمر بھی اتنی ہی تھی ، جتنی نبی اکرم ﷺ کی عمر تھی ، یعنی تریسٹھ برس تھی ۔ بعض حضرات کا یہ کہنا ہے کہ انسٹھ برس تھی ، بعض کا یہ کہنا ہے کہ ترپن برس تھی یا پچپن برس تھی ، بعض کا یہ کہنا ہے کہ چون برس تھی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت دس سال چار ماہ اور کچھ دن رہی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔