Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 4

Book of Virtues and Merits

Hadith 14408–14447

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14408

Majma al-Zawaid #14408

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ "". وَقَدْ ضَرَبَ أُخْتَهُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَهِيَ تَقْرَأُ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: 1] حَتَّى ظَنَّ أَنَّهُ قَتَلَهَا، ثُمَّ قَامَ فِي السَّحَرِ، فَسَمِعَ صَوْتَهَا تَقْرَأُ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: 1] فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا هَذَا بِشِعْرٍ وَلَا هَمْهَمَةٍ، فَذَهَبَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ، فَدَفَعَ الْبَابَ، فَقَالَ بِلَالٌ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ. فَقَالَ: حَتَّى أَسْتَأْذِنَ لَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ بِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عُمَرُ بِالْبَابِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِعُمَرَ خَيْرًا يُدْخِلْهُ فِي الدِّينِ "". فَقَالَ لِبِلَالٍ: "" افْتَحْ "". وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ بِضَبْعَيْهِ وَهَزَّهُ، وَقَالَ: "" مَا الَّذِي تُرِيدُ؟ وَمَا الَّذِي جِئْتَ؟ "". فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْرِضْ عَلَيَّ الَّذِي تَدْعُو إِلَيْهِ. فَقَالَ: "" تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ "". فَأَسْلَمَ عُمَرُ مَكَانَهُ وَقَالَ: اخْرُجْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحَبِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Thawbān رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"O Allah, strengthen Islām through ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb."** He had beaten his sister in the early night while she was reciting: Read in the Name of thy Lord who created, until he thought he had killed her. Then he rose before dawn and heard her voice reciting: Read in the Name of thy Lord who created. He said: by Allah, this is neither poetry nor humming. So he went to the Messenger of Allah ﷺ and found Bilāl at the door, and pushed the door. Bilāl asked who it was, and he said: ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb. Bilāl said: wait until I seek permission for you. Bilāl said: O Messenger of Allah, ʿUmar is at the door. The Messenger of Allah ﷺ said: if Allah wills good for ʿUmar, He shall admit him into the religion. He said to Bilāl: open. Then the Messenger of Allah ﷺ seized him by his upper arms and shook him and said: what do you want and for what have you come. ʿUmar said to him: present to me what you call to. He said: bear witness that there is no deity but Allah alone without partner, and that Muḥammad is His servant and Messenger. So ʿUmar embraced Islām on the spot, and he said: go forth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما ‘‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) رات کے ابتدائی حصے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن کی پٹائی کی تھی ، جو یہ آیت پڑھ رہی تھیں : ’’ تم اپنے پروردگار کے اسم کے ہمراہ پڑھو جس نے پیدا کیا ہے ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی اتنی پٹائی کی کہ انہیں یہ لگا کہ شاید وہ اس خاتون کو قتل کر دیں گے ، پھر وہ صبح کے وقت اٹھے تو انہوں نے اس خاتون کو یہ پڑھتے ہوئے سنا : ’’ تم اپنے پروردگار کے اسم کے ہمراہ پڑھو جس نے پیدا کیا ہے ۔‘‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ نہ تو شعر ہے ، اور نہ ہی ہمہمہ ( یعنی نغمہ ) ہے ، پھر وہ گئے اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے پر پایا ، انہوں نے دروازے پر دستک دی ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : عمر بن خطاب ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : پہلے میں نبی اکرم ﷺ سے اجازت لے لوں ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دروازے پر عمر ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے عمر کے بارے میں اگر بھلائی کا ارادہ کر لیا ہے ، تو وہ اسے دین میں داخل کروا دے گا ، آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : دروازہ کھول دو ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دونوں پہلوؤں کو پکڑ کر انہیں ہلایا اور بولے : تم کیا چاہتے ہو اور کس لئے آئے ہو ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ میرے سامنے وہ چیز بیان کیجئے جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی جگہ اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اب تم چلے جاؤ ( یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا میں چلا جاؤں ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے ، اور وہ متروک ہے ، ابن عدی کہتے ہیں ، مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14409

Majma al-Zawaid #14409

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ قَالَ الْقَوْمُ: انْتَصَفَ الْقَوْمُ مِنَّا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ عُمَرَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما that when ʿUmar embraced Islām, the people, meaning the polytheists, said: the people have now been halved against us.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ، تو قوم ( یعنی مشرکین مکہ ) نے کہا : اب ہماری تعداد نصف رہ گئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14410

Majma al-Zawaid #14410

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: إِنْ كَانَ إِسْلَامُ عُمَرَ لَفَتْحًا، وَهِجْرَتُهُ لَنَصْرًا، وَإِمَارَتُهُ رَحْمَةً، وَاللَّهِ مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ بِالْبَيْتِ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ قَاتَلَهُمْ حَتَّى دَعُونَا فَصَلَّيْنَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿAbdullāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, that he said: the Islām of ʿUmar was indeed an opening, and his emigration was indeed a victory, and his rule was a mercy. By Allah, we could not pray at the House until ʿUmar embraced Islām; when ʿUmar embraced Islām he fought them until they let us be, and we prayed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا کشادگی کا باعث تھا ، ان کی ہجرت مدد کا باعث تھی ، ان کی حکومت رحمت تھی ، اللہ کی قسم ! ہم اس وقت تک ( کھلے عام ) نماز ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھ پائے تھے جب تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول نہیں کر لیا ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا تو انہوں نے لوگوں کے ساتھ لڑائی کی ، یہاں تک کہ انہوں نے ہمیں یہ موقع دیا کہ ہم ( کھلے عام ) نماز ادا کریں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

14411

Majma al-Zawaid #14411

وَفِيهِ رِوَايَةٌ: مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ ظَاهِرِينَ. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْقَاسِمَ لَمْ يُدْرِكْ جَدَّهُ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

In it there is a narration: we could not pray openly beside the Kaʿbah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ ہم یہ استطاعت نہیں رکھتے تھے کہ خانہ کعبہ کے پاس کھلے عام نماز ادا کریں ۔‘‘ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ قاسم نامی راوی نے اپنے دادا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

14412

Majma al-Zawaid #14412

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ جَهَرَ بِالْإِسْلَامِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما that he said: the first to proclaim Islām openly was ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سب سے پہلے اپنے اسلام کا کھلے عام اظہار حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14413

Majma al-Zawaid #14413

وَعَنْ أَسْلَمَ - مَوْلَى عُمَرَ - قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَتُحِبُّونَ أَنْ أُعْلِمَكُمْ أَوَّلَ إِسْلَامِي؟ قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: كُنْتُ أَشَدَّ النَّاسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا أَنَا فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فِي بَعْضِ طُرُقِ مَكَّةَ إِذْ رَآنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ: أَيْنَ تَذْهَبُ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ قُلْتُ: أُرِيدُ هَذَا الرَّجُلَ. قَالَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ دَخَلَ هَذَا الْأَمْرُ فِي مَنْزِلِكَ وَأَنْتَ تَقُولُ هَذَا؟ قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ فَقَالَ: إِنَّ أُخْتَكَ قَدْ ذَهَبَتْ إِلَيْهِ. قَالَ: فَرَجَعْتُ مُغْضِبًا حَتَّى قَرَعْتُ عَلَيْهَا الْبَابَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَسْلَمَ بَعْضُ مَنْ لَا شَيْءَ لَهُ ضَمَّ الرَّجُلَ وَالرَّجُلَيْنِ إِلَى الرَّجُلِ يُنْفِقُ عَلَيْهِ. قَالَ: وَكَانَ ضَمَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى زَوْجِ أُخْتِي. قَالَ: فَقَرَعْتُ الْبَابَ، فَقِيلَ لِي: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ. وَقَدْ كَانُوا يَقْرَءُونَ كِتَابًا فِي أَيْدِيهِمْ، فَلَمَّا سَمِعُوا صَوْتِي قَامُوا حَتَّى اخْتَبَئُوا فِي مَكَانٍ وَتَرَكُوا الْكِتَابَ، فَلَمَّا فَتَحَتْ لِي أُخْتِي الْبَابَ قُلْتُ: أَيَا عَدُوَّةَ نَفْسِهَا صَبَوْتِ؟ قَالَ: وَأَرْفَعُ شَيْئًا فَأَضْرِبُ بِهِ عَلَى رَأْسِهَا، فَبَكَتِ الْمَرْأَةُ، وَقَالَتْ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ اصْنَعْ مَا كُنْتَ صَانِعًا فَقَدْ أَسْلَمْتُ، فَذَهَبَتْ وَجَلَسَتْ عَلَى السَّرِيرِ، فَإِذَا بِصَحِيفَةٍ وَسَطَ الْبَابِ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الصَّحِيفَةُ هَاهُنَا؟ فَقَالَتْ لِي: دَعْنَا عَنْكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ; فَإِنَّكَ لَا تَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَلَا تَتَطَهَّرُ، وَهَذَا لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ. فَمَا زِلْتُ بِهَا حَتَّى أَعْطَتْنِيهَا فَإِذَا فِيهَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمِنَ الرَّحِيمِ قَالَ: فَلَمَّا قَرَأْتُ الرَّحْمِنَ الرَّحِيمَ تَذَكَّرْتُ مِنْ أَيْنَ اشْتُقَّ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى نَفْسِي فَقَرَأْتُ: {سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [الحديد: 1] حَتَّى بَلَغَ: {آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فِيهِ} [الحديد: 7] قَالَ: قُلْتُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. فَخَرَجَ الْقَوْمُ مُتَبَادِرِينَ، فَكَبَّرُوا وَاسْتَبْشَرُوا بِذَلِكَ، ثُمَّ قَالُوا لِي: أَبْشِرْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ فَقَالَ: "" «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الدِّينَ بِأَحَبِّ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ: عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ» "". وَإِنَّا نَرْجُو أَنْ تَكُونَ دَعْوَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ. فَقُلْتُ: دُلُّونِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيْنَ هُوَ؟. فَلَمَّا عَرَفُوا الصِّدْقَ، دَلُّونِي عَلَيْهِ فِي الْمَنْزِلِ الَّذِي هُوَ فِيهِ. فَجِئْتُ حَتَّى قَرَعْتُ الْبَابَ، فَقَالُوا: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَقَدْ عَلِمُوا شِدَّتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَعْلَمُوا بِإِسْلَامِي، فَمَا اجْتَرَأَ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنْ يَفْتَحَ لِي حَتَّى قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «افْتَحُوا لَهُ ; فَإِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يَهْدِهِ» "". قَالَ: فَفُتِحَ لِي الْبَابُ، فَأَخَذَ رَجُلَانِ بِعَضُدِي حَتَّى دَنَوْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَرْسِلُوهُ» "". فَأَرْسَلُونِي فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، «فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ قَمِيصِي، ثُمَّ قَالَ: "" أَسْلِمْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، اللَّهُمَّ اهْدِهِ "". فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ». قَالَ: فَكَبَّرَ الْمُسْلِمُونَ تَكْبِيرَةً سُمِعَتْ فِي طُرُقِ مَكَّةَ. وَقَدْ كَانُوا سَبْعِينَ قَبْلَ ذَلِكَ، وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَسْلَمَ فَعَلِمُوا بِهِ النَّاسُ يَضْرِبُونَهُ وَيَضْرِبُهُمْ. قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى رَجُلٍ فَقَرَعْتُ عَلَيْهِ الْبَابَ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ. فَخَرَجَ إِلَيَّ، قُلْتُ لَهُ: أَعَلِمْتَ أَنِّي قَدْ صَبَوْتُ؟ قَالَ: أَوَقَدْ فَعَلْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ. قَالَ: وَدَخَلَ الْبَيْتَ فَأَجَافَ الْبَابَ دُونِي. قَالَ: فَذَهَبْتُ إِلَى آخَرَ مِنْ قُرَيْشٍ، فَنَادَيْتُهُ فَخَرَجَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَعَلِمْتَ أَنِّي قَدْ صَبَوْتُ؟ قَالَ: وَفَعَلْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: لَا تَفْعَلْ، وَدَخَلَ الْبَيْتَ، وَأَجَافَ الْبَابَ دُونِي. فَقُلْتُ: مَا هَذَا بِشَيْءٍ. قَالَ: فَإِذَا أَنَا لَا أُضْرَبُ وَلَا يُقَالُ لِي شَيْءٌ. فَقَالَ الرَّجُلُ: أَتُحِبُّ أَنْ يُعْلَمَ إِسْلَامُكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: إِذَا جَلَسَ النَّاسُ فِي الْحِجْرِ فَائْتِ فُلَانًا فَقُلْ لَهُ فِيمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ: أَشْعَرْتَ أَنِّي قَدْ صَبَوْتُ؟ فَإِنَّهُ قَلَّمَا يَكْتُمُ الشَّيْءَ، فَجِئْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ فِي الْحِجْرِ، فَقُلْتُ لَهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ: أَشْعَرْتَ أَنِّي قَدْ صَبَوْتُ؟ قَالَ: فَقَالَ: أَفَعَلْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: أَلَا إِنَّ عُمَرَ قَدْ صَبَا. قَالَ: فَثَارَ إِلَيَّ أُولَئِكَ النَّاسُ، فَمَا زَالُوا يَضْرِبُونِي وَأَضْرِبُهُمْ حَتَّى أَتَى خَالِي، فَقِيلَ لَهُ: إَنَّ عُمَرَ قَدْ صَبَا، فَقَامَ عَلَى الْحَجَرِ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: أَلَا إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ ابْنَ أُخْتِي فَلَا يَمَسُّهُ أَحَدٌ. قَالَ: فَانْكَشَفُوا عَنِّي، فَكُنْتُ لَا أَشَاءُ أَنْ أَرَى أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُضْرَبُ إِلَّا رَأَيْتُهُ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا بِشَيْءٍ إِنَّ النَّاسَ يُضْرَبُونَ وَلَا أُضْرَبُ، وَلَا يُقَالُ لِي شَيْءٌ. فَلَمَّا جَلَسَ النَّاسُ فِي الْحِجْرِ جِئْتُ إِلَى خَالِي، فَقُلْتُ: اسْمَعْ، جِوَارُكَ عَلَيْكَ رَدٌّ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ، فَأَبَيْتُ، فَمَا زِلْتُ أَضْرِبُ وَأُضْرَبُ حَتَّى أَظْهَرَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ .. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Aslam, the freedman of ʿUmar, that ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه said: would you like me to inform you of the beginning of my Islām. They said: yes. He said: I was the harshest of people against the Messenger of Allah ﷺ. While I was on an intensely hot day upon one of the roads of Makkah, a man of Quraysh saw me and said: where are you going, O Ibn al-Khaṭṭāb. I said: I intend this man. He said: O Ibn al-Khaṭṭāb, this affair has entered your own house while you speak thus. I said: what is that. He said: your sister has gone over to him. So I returned in anger and knocked upon her door. Now when any destitute person embraced Islām, the Messenger of Allah ﷺ would attach one or two men to a man who would spend upon them, and he had attached two of his Companions to my sister's husband. So I knocked, and it was asked: who is this. I said: ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb. They had been reading from a writing in their hands, and when they heard my voice they rose and hid, leaving the writing. When my sister opened the door for me I said: O enemy of herself, have you apostatized. Then I raised something and struck her head with it, and the woman wept and said: O Ibn al-Khaṭṭāb, do what you were going to do, for I have embraced Islām. Then I went on and sat upon the bed, and there was a leaf in the middle of the doorway. I said: what is this leaf here. She said to me: leave us alone, O Ibn al-Khaṭṭāb, for you do not wash from major impurity nor purify yourself, and none touches this except the purified. I persisted with her until she gave it to me, and in it was: In the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate. When I read the Most Merciful, the Most Compassionate, I recalled whence it is derived, then I recollected myself and read: Glorify Allah whatever is in the heavens and the earth, and He is the Mighty, the Wise, until he reached His saying: Believe, and what follows in Sūrat al-Ḥadīd as far as is narrated.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسلم جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ میں تمہیں یہ بتاؤں کہ میں نے اسلام کیسے قبول کیا تھا ؟ راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا : جی ہاں ، تو انہوں نے فرمایا : میں نبی اکرم ﷺ کی مخالفت میں سب سے زیادہ سخت تھا ، ایک شدید گرم دن میں ، میں مکہ کے کسی راستے سے گزر رہا تھا ، قریش سے تعلق رکھنے والے کسی شخص نے مجھے دیکھا ، تو دریافت کیا : اے ابن خطاب تم کہاں جا رہے ہو ، میں نے کہا : میں ان صاحب کی طرف جا رہا ہوں ۔ اس نے کہا : اے ابن خطاب یہ معاملہ تمہارے گھر میں داخل ہو چکا ہے ، اور تم یہ بات کر رہے ہو ، میں نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ اس نے بتایا : تمہاری بہن ان صاحب کی طرف جا چکی ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں غصے کے عالم میں واپس آیا اور میں نے اپنی بہن کا دروازہ کھٹکھٹایا ، نبی اکرم ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جب کوئی ایسا شخص اسلام قبول کرتا تھا کہ جس کے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی تھی ، تو آپ ایسے ایک یا دو افراد کے ذمہ داری کسی اور شخص کو سونپ دیتے تھے ، جو اس پر خرچ کرتا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں میں سے دو افراد میرے بہنوئی کے حوالے کیے ہوئے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے دروازہ کھٹکھٹایا ، تو دریافت کیا گیا : کون ہے ، میں نے جواب دیا : میں ہوں عمر بن خطاب ، وہ لوگ اس وقت ایک تحریر پڑھ رہے تھے جو ان کے سامنے موجود تھی ، جب ان لوگوں نے میری آواز سنی تو اٹھ کر مکان میں کسی جگہ چھپ گئے اور اس تحریر کو وہیں چھوڑ گئے ، جب میری بہن نے میرے لئے دروازہ کھولا تو میں نے کہا : اے اپنی جان کی دشمن ، کیا تم بے دین ہو گئی ہو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کوئی چیز اٹھائی اور وہ اپنی بہن کے سر پر مار دی ، میری بہن رونے لگی ، اس نے مجھ سے کہا : اے ابن خطاب ! تم نے جو کرنا ہے کر لو ، میں اسلام قبول کر چکی ہوں ، پھر میں آگے آیا اور پلنگ پر بیٹھ گیا ، اور وہاں دروازے کے درمیان میں ایک صحیفہ موجود تھا ، میں نے دریافت کیا : یہ صحیفہ یہاں کس لئے موجود ہے ، تو میری بہن نے مجھ سے کہا : اے ابن خطاب ! تم اپنے آپ کو ہم سے دور ہی رکھو ، کیونکہ تم نے جنابت کے بعد غسل نہیں کیا ہے ، اور پاکیزگی حاصل نہیں کی ہے ، اور اسے صرف پاکیزہ لوگ ہی چھو سکتے ہیں ، تو میں مسلسل اس کے ساتھ تکرار کرتا رہا ، یہاں تک کہ اس نے وہ تحریر مجھے دی تو اس میں یہ تحریر تھا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں نے لفظ الرحمن الرحیم پڑھا تو میں نے یہ سوچا کہ یہ لفظ کہاں سے آیا ہے ؟ پھر میں واپس اپنے خیال میں آیا اور میں نے پڑھنا شروع کیا : ’’ جو کچھ بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہے ، اور وہ غلبے والا حکمت والا ہے ‘‘ یہاں تک کہ میں اس مقام تک پہنچا ۔ ’’ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس چیز میں سے خرچ کرو کہ جس چیز کے بارے میں اس نے تمہیں نائب بنایا ہے ........‘‘۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ( ﷺ ) اللہ کے رسول ہیں ، تو وہ لوگ تیزی سے نکل کر باہر آئے ، انہوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور اس بات پر خوش ہوئے ، پھر انہوں نے مجھ سے کہا : اے عمر بن خطاب تم یہ خوشخبری حاصل کرو کہ پیر کے دن نبی اکرم ﷺ نے دعا کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا تھا : ’’ اے اللہ تو دو افراد یعنی عمر بن خطاب اور ابوجہل بن ہشام میں سے اپنے نزدیک محبوب بندے کے ذریعے دین کو غلبہ عطا فرما ۔‘‘ تو ہمیں یہ امید ہے کہ یہ اللہ کے رسول کی آپ کے لیے کی گئی دعا کا نتیجہ ہے ، میں نے کہا : تم لوگ مجھے بتاؤ کہ اللہ کے رسول کہاں ہیں ، جب ان لوگوں کو سچائی کا علم ہو گیا ، تو انہوں نے میری رہنمائی نبی اکرم ﷺ کے بارے میں کی کہ آپ کون سے گھر میں قیام پذیر ہیں ، میں آیا ، میں نے دروازہ کھٹکھٹایا ، لوگوں نے دریافت کیا : کون ہے ، میں نے جواب دیا : عمر بن خطاب ، وہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں میری شدید مخالفت سے واقف تھے ۔ انہیں میرے اسلام قبول کرنے کا پتہ نہیں تھا ، ان میں سے کسی شخص کو یہ جرأت نہیں ہوئی کہ وہ دروازہ میرے لئے کھول دے ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے فرمایا : تم لوگ اس کے لئے دروازہ کھول دو ، اگر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لیا ہوا تو وہ اسے ہدایت دیدے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میرے لئے دروازہ کھولا گیا ، دو افراد نے مجھے دونوں پہلوؤں سے پکڑ لیا ، یہاں تک کہ میں نبی اکرم ﷺ کے قریب ہوا ، نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے فرمایا : اسے چھوڑ دو ، ان لوگوں نے مجھے چھوڑ دیا ، میں نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے میری قمیص کا گریبان پکڑا اور پھر ارشاد فرمایا : اے عمر بن خطاب ! تم اسلام قبول کر لو ، اے اللہ ! اسے ہدایت نصیب فرما ، تو میں نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو مسلمانوں نے اتنی بلند آواز میں نعرہ تکبیر لگایا کہ مکہ کے راستوں میں وہ آواز سنائی دی ، اس سے پہلے ان لوگوں کی تعداد ستر تھی اور جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا تھا ، تو لوگ اس کی پٹائی کرتے تھے اور وہ ان لوگوں کو مارتا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک شخص کے پاس آیا ، میں نے اس کا دروازہ کھٹکھٹایا ، اس نے دریافت کیا : کون ہے ، میں نے جواب دیا : عمر بن خطاب ، وہ نکل کر میرے پاس آیا ، میں نے اس سے کہا : کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ میں نے دین تبدیل کر لیا ہے ، اس نے دریافت کیا : کیا تم نے ایسا کر لیا ہے ، میں نے جواب دیا : جی ہاں ، اس نے جواب دیا : تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہو گیا ، اور اس نے دروازہ بند کر لیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر میں قریش سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص کے پاس گیا ۔ میں نے اسے بلند آواز میں پکارا ، وہ نکل کر باہر آیا ، میں نے اس سے دریافت کیا : کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ میں نے دین تبدیل کر لیا ہے ، اس نے دریافت کیا : کیا تم نے ایسا کر لیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ، اس نے کہا : تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ، پھر وہ گھر میں داخل ہو گیا ، اور اس نے دروازہ بند کر لیا ، میں نے کہا : یہ کیا بات ہوئی ، نہ مجھے کوئی مارتا ہے اور نہ ہی مجھے کچھ کہا جاتا ہے ، ایک شخص نے کہا : کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہارے اسلام قبول کرنے کے بارے میں سب کو پتہ چل جائے ، میں نے جواب دیا : جی ہاں ، اس نے کہا : جب لوگ حطیم میں بیٹھے ہوئے ہوں تو تم فلاں شخص کے پاس جانا اور اس سے یہ کہنا کہ ہماری آپس کی بات ہے کہ کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ میں نے دین تبدیل کر لیا ، کیونکہ وہ شخص کوئی بات چھپا کے نہیں رکھ سکتا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس شخص کے پاس گیا ، لوگ اس وقت خانہ کعبہ کے اردگرد اکٹھے تھے ، میں نے اس شخص سے سرگوشی میں بات کی ، کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ میں نے دین تبدیل کر لیا ہے ، اس نے کہا : کیا تم نے ایسا کر لیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ، تو اس نے بلند آواز میں پکار کر کہا : خبردار ! عمر نے دین تبدیل کر لیا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو وہ لوگ مجھ پر حملہ آور ہو گئے ، وہ مسلسل مجھے مارتے رہے اور میں انہیں مارتا رہا ، یہاں تک کہ میرے ماموں آ گئے ۔ ان سے کہا گیا کہ عمر نے دین تبدیل کر لیا ہے ، تو وہ خانہ کعبہ کے پاس کھڑے ہوئے اور انہوں نے بلند آواز میں پکار کر کہا : خبردار ! میں اپنے بھانجے کو پناہ دیتا ہوں ، کوئی شخص اسے ہاتھ بھی نہیں لگائے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو وہ لوگ میرے پاس سے دور ہو گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے یہ دیکھا کہ ہر مسلمان کی پٹائی کی جاتی ہے ، میں نے سوچا ، یہ کیا بات ہوئی ، لوگوں کی پٹائی ہوتی ہے اور مجھے نہیں کوئی مارتا اور مجھے کچھ نہیں کہا جاتا ، جب لوگ خانہ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، تو میں اپنے ماموں کے پاس آیا اور میں نے کہا : میری بات سن لیں ! آپ کی دی ہوئی پناہ میں آپ کو واپس کرتا ہوں ، انہوں نے کہا : تم ایسا نہ کرو ، لیکن میں نے ان کی یہ بات نہیں مانی ، اس کے بعد میری بھی پٹائی ہوتی رہی اور میں بھی مارتا رہا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطا کر دیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسامہ بن زید بن اسلم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14414

Majma al-Zawaid #14414

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ قَالَ: مَنْ أَنَمُّ النَّاسِ؟ قَالُوا: فُلَانٌ قَالَ: فَأَتَاهُ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ فَلَا تُخْبِرَنَّ أَحَدًا. قَالَ: فَخَرَجَ يَجُرُّ إِزَارَهُ وَطَرَفُهُ عَلَى عَاتِقِهِ، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ عُمَرَ قَدْ صَبَا قَالَ: وَأَنَا أَقُولُ: كَذَبْتَ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ، وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ، فَقَامَ إِلَيْهِ خَلْقٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَاتَلَهُمْ وَقَاتَلُوهُ حَتَّى سَقَطَ، وَأَكَبُّوا عَلَيْهِ، فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ فَقَالَ: مَا لَكَمْ وَالرَّجُلِ؟ أَتَرَوْنَ بَنِي عَدِيٍّ يُخَلُّونَ عَنْكُمْ وَعَنْ صَاحِبِكُمْ؟ تَقْتُلُونَ رَجُلًا اخْتَارَ لِنَفْسِهِ اتِّبَاعَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَكَشَفَ الْقَوْمُ عَنْهُ قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي: مِنَ الرَّجُلُ؟ قَالَ: الْعَاصُ بْنُ وَائِلِ السَّهْمِيُّ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn ʿUmar رضي الله عنهما that when ʿUmar embraced Islām he asked: who is the most gossiping of people. They said: such-and-such a man. So he went to him and said: I have embraced Islām, but inform no one. He went out dragging his lower garment with its edge upon his shoulder, crying: beware, ʿUmar has apostatized. And I say: you lie; rather I have embraced Islām, while ʿUmar wore a shirt. Then a group of Quraysh rose against him, and they fought him and he fought them until he fell and they crowded over him. Then a man came and said: what is the matter with you and the man; do you think Banū ʿAdī will let you and your companion be, killing a man who has chosen for himself the following of Muḥammad ﷺ. So the people withdrew from him. He said: I asked my father who the man was, and he said: al-ʿĀṣ ibn Wāʾil al-Sahmī.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو انہوں نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ چغلی کرنے والا شخص کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : فلاں شخص ہے ، راوی کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے اور اس سے کہا : میں نے اسلام قبول کر لیا ہے ، تم یہ بات کسی کو نہ بتانا ، تو وہ شخص اپنے تہبند کو گھسیٹتا ہوا نکلا ، اس کا ایک کنارہ اس کے کندھے پر تھا ، اس نے کہا : خبردار ! عمر نے دین تبدیل کر لیا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا : تم جھوٹ بول رہے ہو ، میں نے اسلام قبول کیا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک قمیص تھی ، قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اٹھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے لڑنے لگے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان لوگوں سے لڑنے لگے ، یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ گر گئے ، وہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ آور ہو گئے ، ایک شخص آیا اور بولا : تم اسے کیوں مار رہے ہو ، کیا تم یہ سجھتے ہو کہ بنو عدی تم لوگوں کو اور اس شخص کو چھوڑ دیں گے ، تم ایک ایسے شخص کو مار رہے ہو جس نے اپنی ذات کے لئے محمد کی پیروی کو اختیار کیا ہے ، تو لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہٹ گئے ، راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے والد ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) سے دریافت کیا : وہ شخص کون تھا ، تو انہوں نے بتایا : وہ عاص بن وائل سہمی تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔

14415

Majma al-Zawaid #14415

«وَعَنْ عُمَرَ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَدَعُ مَجْلِسًا جَلَسْتُهُ فِي الْكُفْرِ إِلَّا أَعْلَنْتُ فِيهِ الْإِسْلَامَ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ، وَفِيهِ بُطُونُ قُرَيْشٍ مُتَحَلِّقَةٌ فَجَعَلَ يُعْلِنُ الْإِسْلَامَ، وَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَثَارَ الْمُشْرِكُونَ، فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهُ وَيَضْرِبُهُمْ، فَلَمَّا تَكَاثَرُوا عَلَيْهِ خَلَّصَهُ رَجُلٌ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ: مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي خَلَّصَكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: ذَاكَ الْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ السَّهْمِيُّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿUmar رضي الله عنه that he came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, I shall not leave a gathering in which I sat in disbelief except that I proclaim Islām therein. So he came to the mosque, in which were the clans of Quraysh sitting in circles, and he proclaimed Islām and bore witness that there is no deity but Allah and that Muḥammad is the Messenger of Allah. Then the polytheists rose, beating him while he beat them, and when they outnumbered him a man rescued him. I asked ʿUmar who the man was who rescued him from the polytheists, and he said: that was al-ʿĀṣ ibn Wāʾil al-Sahmī.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! زمانہ کفر میں ، میں جس بھی محفل میں بیٹھتا رہا ہوں ۔ اس میں سے ہر ایک محفل میں اسلام کا اعلان کروں گا ، پھر وہ مسجد میں آئے ، وہاں قریش کی مختلف شاخوں سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے ، جو حلقہ بنا کے بیٹھے ہوئے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام کا اعلان کرنا شروع کیا اور اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، تو مشرکین حملہ آور ہوئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مارنے لگے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ انہیں مارنے لگے ، جب ان لوگوں کی تعداد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف زیادہ ہو گئی تو ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو چھڑوایا ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : وہ شخص کون تھا جس نے آپ کو مشرکین سے چھڑوایا تھا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ عاص بن وائل سہمی تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14416

Majma al-Zawaid #14416

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ قَالَ الْمُشْرِكُونَ: قَدِ انْتَصَفَ الْقَوْمُ مِنَّا، وَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [الأنفال: 64]) رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما that when ʿUmar embraced Islām the polytheists said: the people have now been halved against us, and Allah the Mighty and Majestic revealed: O Prophet, Allah suffices thee and those of the believers who follow thee.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ، تو مشرکین نے کہا : اب ہماری تعداد نصف رہ گئی ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اے نبی تمہارے لئے اللہ کافی ہے ، اور مومنین میں سے تمہاری پیروی کرنے والے کافی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14417

Majma al-Zawaid #14417

«عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَرَبَ صَدْرَ عُمَرَ بِيَدِهِ حِينَ أَسْلَمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَهُوَ يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ أَخْرِجْ مَا فِي صَدْرِ عُمَرَ مِنْ غِلٍّ، وَأَبْدِلْهُ إِيمَانًا» "". يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn ʿUmar رضي الله عنهما that the Messenger of Allah ﷺ struck the chest of ʿUmar with his hand three times when he embraced Islām, saying three times: > **"O Allah, remove what is in the chest of ʿUmar of rancour, and replace it with faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سینے پر تین مرتبہ ہاتھ مارا ، جب انہوں نے اسلام قبول کیا تھا اور یہ فرمایا : ’’ اے اللہ ! عمر کے سینے میں جو کھوٹ ہے اسے نکال دے ، اور اسے ایمان میں تبدیل کر دے ‘‘ یہ کلمات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14418

Majma al-Zawaid #14418

عَنْ عُمَرَ بْنِ رَبِيعَةَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْسَلَ إِلَى كَعْبِ الْأَحْبَارِ فَقَالَ: يَا كَعْبُ، كَيْفَ تَجِدُ نَعْتِي؟ قَالَ: أَجِدُ نَعْتَكَ قَرْنًا مِنْ حَدِيدٍ قَالَ: وَمَا قَرْنٌ مِنْ حَدِيدٍ؟ قَالَ: أَمِيرٌ شَدِيدٌ لَا تَأْخُذُهُ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكَ خَلِيفَةٌ تَقْتُلُهُ فِئَةٌ ظَالِمَةٌ. ثُمَّ قَالَ: مَهْ؟ قَالَ: ثُمَّ يَكُونُ الْبَلَاءُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿUmar ibn Rabīʿah that ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb sent to Kaʿb al-Aḥbār and said: O Kaʿb, how do you find my description. He said: I find your description as a horn of iron. He asked: what is a horn of iron. He said: a strong commander whom no blamer's blame seizes concerning Allah. He asked: then what. He said: then after you there shall be a caliph whom an unjust party shall kill. He asked: then what. He said: then there shall be tribulation.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کعب احبار کو پیغام بھیج کر دریافت کیا : اے کعب ! تم نے میری صفات کیسی پائی ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں نے آپ کی صفت یہ پائی ہے کہ یہ لوہے کا ایک سینگ ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : لوہے کے سینگ سے مراد کیا ہے ؟ کعب نے بتایا : ایک ایسا حکمران جو مضبوط ہو گا ، اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اسے گرفت میں نہیں لے گی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اور کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا : اور یہ ہے کہ آپ کے بعد ایک خلیفہ آئے گا ، جسے ظالم گروہ قتل کر دے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر کیا ہو گا ؟ کعب نے بتایا : اس کے بعد آزمائش ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14419

Majma al-Zawaid #14419

«وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَمَدْتُ رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِمَحَامِدَ وَمَدْحٍ، وَإِيَّاكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَا إِنَّ رَبَّكَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يُحِبُّ الْمَدْحَ، هَاتِ مَا امْتَدَحْتَ بِهِ رَبَّكَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - "". قَالَ: فَجَعَلْتُ أُنْشِدُهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ، آدَمُ، طِوَالٌ، أَصْلَعُ، أَيْسَرُ أَعْسَرُ، فَاسْتَنْصَتَنِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَصَفَ لَنَا أَبُو سَلَمَةَ كَيْفَ اسْتَنْصَتَهُ لَهُ قَالَ: كَمَا يَصْنَعُ الْهِرُّ - فَخَرَجَ الرَّجُلُ فَتَكَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَجَ، ثُمَّ أَخَذْتُ أُنْشِدُهُ أَيْضًا، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدُ فَاسْتَنْصَتَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَصَفَهُ أَيْضًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنِ الَّذِي تَسْتَنْصِتُنِي لَهُ؟ فَقَالَ: "" هَذَا رَجُلٌ لَا يُحِبُّ الْبَاطِلَ، هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ: فَدَخَلَ رَجُلٌ طِوَالٌ أَقْنَى، فَقَالَ لِيَ: "" اسْكُتْ "".

EnglishUnverified translation

It is reported from al-Aswad ibn Sarīʿ رضي الله عنه that he came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, I have praised my Lord, the Blessed and Exalted, with praises and eulogies, and thee as well. The Messenger of Allah ﷺ said: thy Lord, the Blessed and Exalted, loves praise; bring what thou hast used to extol thy Lord. So I began reciting to him, when a man sought permission, brown-skinned, tall, bald, left-handed and ambidextrous. The Messenger of Allah ﷺ gestured me to silence for him, as Abū Salamah described, like one does to a cat. The man went out and spoke a while then left, then I resumed reciting, then he returned and the Messenger of Allah ﷺ again gestured me to silence. I asked: O Messenger of Allah, who is this for whom thou silencest me. He said: > **"This is a man who does not love falsehood. This is ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb."** In another wording a tall, aquiline-nosed man entered and he said to me: be silent.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے کچھ کلمات کے ہمراہ اپنے پروردگار کی حمد بیان کی ہے ، اور کچھ کلمات آپ کی تعریف میں کہے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہارے پروردگار کی تعریف کا معاملہ ہے ، تو وہ تعریف کو پسند کرتا ہے ، تم وہ کلمات پیش کرو جن کے ذریعے تم نے اپنے پروردگار کی تعریف بیان کی ہے ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے اپنے اشعار سنانے شروع کیے ، اسی دوران ایک شخص آیا اور اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، وہ شخص گندمی رنگت کا طویل القامت شخص تھا ، جس کے بال اُڑے ہوئے تھے اور وہ دائیں ہاتھ کی بہ نسبت بایاں ہاتھ زیادہ استعمال کرتا تھا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے خاموش ہونے کے لئے کہا ، یہاں پر ابوسلمہ نامی راوی نے یہ بات کر کے دکھائی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں کیسے خاموش کروایا تھا ، یوں جس طرح بلی کے ساتھ کیا جاتا ہے ، پھر وہ شخص آیا ، اس نے کچھ بات چیت کی ، پھر وہ چلا گیا ، پھر میں نے نبی اکرم ﷺ کو اشعار سنانا شروع کیے ، کچھ دیر بعد وہ شخص واپس آیا ، تو پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے خاموش کروا دیا ، راوی نے یہاں بھی کر کے دکھایا کہ کس طرح خاموش کروایا تھا ، میں نے عرض کی : یہ شخص کون تھا ؟ جس کی خاطر آپ نے مجھے خاموش کروایا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ وہ شخص ہے ، جو باطل کو پسند نہیں کرتا ، یہ عمر بن خطاب ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : ایک شخص اندر داخل ہوا جو طویل القامت تھا اور اس کی ناک اٹھی ہوئی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : خاموش ہو جاؤ ۔

14420

Majma al-Zawaid #14420

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا: حَتَّى دَخَلَ رَجُلٌ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ. وَزَادَ: فَقِيلَ لِي: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَعَرَفْتُ وَاللَّهِ بَعْدُ أَنَّهُ كَانَ يَهُونُ عَلَيْهِ لَوْ سَمِعَنِي أَنْ لَا يُكَلِّمَنِي حَتَّى يَأْخُذَ بِرِجْلِي فَيَسْحَبَنِي إِلَى الْبَقِيعِ. وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration from him also: until there entered a man broad between the shoulders. And he added: it was said to me: ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, and I knew by Allah afterwards that it would have been light upon him, had he heard me, not to speak to me until seizing me by the foot and dragging me to al-Baqīʿ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک شخص اندر آیا جس کا سینہ چوڑا تھا ، اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : مجھے بتایا گیا کہ یہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں ، اللہ کی قسم ! بعد میں مجھے یہ بات پتہ چل گئی کہ ان کے لئے یہ بات مشکل نہیں ہے کہ اگر وہ مجھے کوئی ( غلط بات ) کہتے ہوئے سنیں تو مجھ سے کوئی بات چیت کیے بغیر مجھے پاؤں سے پکڑیں اور مجھے کھینچ کر بقیع کی طرف لے جائیں ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

14421

Majma al-Zawaid #14421

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ الْجَهْمِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Abū Hurayrah رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed Allah has placed the truth upon the tongue of ʿUmar and his heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور اس کے دل پر حق کو رکھ دیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف جہم بن ابوجہم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14422

Majma al-Zawaid #14422

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ، يَقُولُ بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْمُقْرِئُ الْعَكَّاوِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Indeed Allah has set the truth upon the tongue of ʿUmar and his heart; he speaks by it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور اس کے دل پر حق کو رکھ دیا ہے وہ اس ( حق ) کے مطابق بات کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن سعید مقرء عکاوی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14423

Majma al-Zawaid #14423

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ - كَاتِبِ اللَّيْثِ - وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn ʿUmar رضي الله عنهما that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed Allah has placed the truth upon the tongue of ʿUmar and his heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور اس کے دل پر حق کو رکھ دیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن صالح کا معاملہ مختلف ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

14424

Majma al-Zawaid #14424

وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Bilāl رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed Allah has placed the truth upon the tongue of ʿUmar and his heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور اس کے دل پر حق کو رکھ دیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

14425

Majma al-Zawaid #14425

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ، سُلَيْمَانُ الشَّاذَكُونِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Muʿāwiyah ibn Abī Sufyān رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed Allah has placed the truth upon the tongue of ʿUmar and his heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور اس کے دل پر حق کو رکھ دیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ضعیف راوی ، سلیمان شاذ کونی اور دیگر لوگ ہیں ۔

14426

Majma al-Zawaid #14426

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا كَانَ نَبِيٌّ إِلَّا فِي أُمَّتِهِ مُعَلِّمٌ أَوْ مُعَلِّمَانِ، وَإِنْ يَكُنْ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَهُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ; إِنَّ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿĀʾishah رضي الله عنها that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There was no prophet except that in his ummah there was a teacher, or two teachers, and if there is any of them in my ummah, it is ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb. Indeed the truth is upon the tongue of ʿUmar and his heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ جو بھی نبی ہوا اس کی امت میں ایک یا دو معلم ہوتے ہیں ، اور اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہو گا ، بے شک حق عمر کی زبان اور دل پر موجود ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔

14427

Majma al-Zawaid #14427

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّهَلَا بِعُمَرَ، مَا كُنَّا نُبْعِدُ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿAlī رضي الله عنه that he said: when the righteous are mentioned, then hasten to ʿUmar. We, the Companions of Muḥammad ﷺ, did not deem it far-fetched that tranquillity speaks upon the tongue of ʿUmar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب نیک لوگوں کا ذکر کیا جائے گا ، تو ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی ہو گا ، اور ہم لوگ یعنی نبی اکرم ﷺ کے اصحاب اس بات کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ سکینت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر کلام کرتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14428

Majma al-Zawaid #14428

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا كُنَّا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn Masʿūd رضي الله عنه that he said: we did not deem it far-fetched that tranquillity speaks upon the tongue of ʿUmar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم اس بات کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ سکینت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر کلام کرتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14429

Majma al-Zawaid #14429

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْزِلُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ṭāriq ibn Shihāb that he said: we used to relate that tranquillity descends upon the tongue of ʿUmar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : ہم لوگ یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ سکینت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر نازل ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14430

Majma al-Zawaid #14430

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: فَضَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ بِأَرْبَعٍ: بِذِكْرِ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ ; أَمَرَ بِقَتْلِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: 68]. وَبِذِكْرِ الْحِجَابِ ; أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَحْتَجِبْنَ، فَقَالَتْ لَهُ زَيْنَبُ: وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} [الأحزاب: 53]. وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اللَّهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ» "". وَبِرَأْيِهِ فِي أَبِي بَكْرٍ كَانَ أَوَّلَ مَنْ بَايَعَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو نَهْشَلٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه that he said: ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb excelled people in four matters. By mentioning the captives on the day of Badr, when he commanded their killing, whereupon Allah the Mighty and Majestic revealed: Had it not been for a decree from Allah that preceded, there would have touched you for what you took a great punishment. And by mentioning the veil, when he commanded the wives of the Prophet ﷺ to veil, and Zaynab رضي الله عنها said to him: O Ibn al-Khaṭṭāb, thou speakest to us while revelation descends in our houses, whereupon Allah revealed: And when you ask them for anything, ask them from behind a veil. And by the supplication of the Prophet ﷺ: O Allah, support Islām through ʿUmar. And by his opinion concerning Abū Bakr, for he was the first to pledge allegiance to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیگر لوگوں پر چار حوالوں سے فضیلت حاصل ہے ۔ انہوں نے غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں انہیں قتل کرنے کا کہا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے یہ طے شدہ نہ ہوتا تو تم نے جو کیا ہے اس کے حوالے سے تمہیں بڑا عذاب لاحق ہونا تھا ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حجاب کا تذکرہ کیا ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی ازواج کو یہ کہا : وہ حجاب کریں ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا : اے ابن خطاب ! تم ہمیں یہ کہہ رہے ہو جبکہ وحی ہمارے گھروں میں نازل ہوتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اور جب تم لوگ ان خواتین سے کچھ مانگو تو پردے کے پیچھے سے ان سے مانگو ۔‘‘ اور ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک فضیلت ) نبی اکرم ﷺ کی دعا کے حوالے سے ہے کہ آپ ﷺ نے یہ کہا تھا : ’’ اے اللہ ! عمر کے ذریعے اسلام کی تائید فرما ۔‘‘ ( اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک فضیلت ) ان کی اس رائے کے بارے میں ہے ، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں تھی کہ انہوں نے سب سے پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی ۔ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابونہشل ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14431

Majma al-Zawaid #14431

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ قَالَ لَهُ أَبُوهُ: أَيْ بُنَيَّ، اطْلُبْ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَوْبًا مِنْ ثِيَابِهِ، فَكَفِّنِّي فِيهِ، وَمُرْهُ يُصَلِّي عَلَيَّ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَرَفْتَ شَرَفَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ، وَإِنَّهُ أَمَرَنِي أَنْ أَطْلُبَ إِلَيْكَ ثَوْبًا نُكَفِّنُهُ فِيهِ، وَأَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَأَعْطَاهُ ثَوْبًا مِنْ ثِيَابِهِ، وَأَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَرَفْتَ عَبْدَ اللَّهِ وَنِفَاقَهُ، وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصْلِيَ عَلَيْهِ. قَالَ: "" وَأَيْنَ؟ "". قَالَ: إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَإِنِّي سَأَزِيدُهُ "". فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا} [التوبة: 84]. وَأَنْزَلَ اللَّهُ: {سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ} [المنافقون: 6]». «قَالَ: وَدَخَلَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالَ الْجُلُوسُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا لِكَيْ يَتْبَعَهُ فَلَمْ يَفْعَلْ، فَدَخَلَ عُمَرُ فَرَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَقْعَدِهِ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ آذَيْتَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَفَطِنَ الرَّجُلُ فَقَامَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَقَدْ قُمْتُ ثَلَاثًا لِكَيْ تَتْبَعَنِي فَلَمْ تَفْعَلْ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اتَّخَذْتَ حِجَابًا ; فَإِنَّ نِسَاءَكَ لَسْنَ كَسَائِرِ النِّسَاءِ، وَهُوَ أَطْهَرُ لِقُلُوبِهِنَّ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ} [الأحزاب: 53] الْآيَةَ. فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ». «قَالَ: وَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي الْأُسَارَى، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَحْيِي قَوْمَكَ وَخُذْ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ، فَاسْتَعِنْ بِهِ. وَقَالَ عُمَرُ: اقْتُلْهُمْ، فَقَالَ: "" لَوِ اجْتَمَعْتُمَا مَا عَصَيْنَاكُمَا "". فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ} [الأنفال: 67].» «قَالَ: وَنَزَلَتْ: {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ - ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ} [المؤمنون: 12 - 13] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. فَقَالَ عُمَرُ: تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ. فَأُنْزِلَتْ: {فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ} [المؤمنون: 14]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَقَالَ: "" لَوِ اجْتَمَعْتُمَا مَا عَصَيْتُكُمَا "". وَفِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، وَهُوَ لَيِّنٌ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما that ʿAbdullāh ibn ʿAbdullāh ibn Ubayy told that his father said to him: O my son, seek for me from the Messenger of Allah ﷺ a garment of his garments, and shroud me in it, and command him to pray over me. So ʿAbdullāh said: O Messenger of Allah, thou knowest the standing of ʿAbdullāh ibn Ubayy, and he has commanded me to seek from thee a garment in which to shroud him and that thou pray over him. So he gave him a garment of his garments and intended to pray over him, whereupon ʿUmar said: O Messenger of Allah, thou knowest ʿAbdullāh and his hypocrisy, and Allah has forbidden thee to pray over him. He asked: and where. He said: If thou seekest forgiveness for them seventy times, Allah will never forgive them. Then the Messenger of Allah ﷺ said: I shall increase over it. Then Allah the Mighty and Majestic revealed: And never pray over any of them who dies, ever, and revealed: Equal it is for them whether thou seekest forgiveness for them or seekest not forgiveness for them, Allah will never forgive them. He said: and a man entered upon the Messenger of Allah ﷺ and prolonged sitting, and the Prophet ﷺ went out thrice that he might follow him, but he did not. Then ʿUmar entered and saw the dislike upon the face of the Messenger of Allah ﷺ at his sitting, and said: perhaps thou hast harmed the Prophet ﷺ. So the man took heed and rose, and the Prophet ﷺ said: I rose thrice that thou mightest follow me, but thou didst not. He said: O Messenger of Allah, would that thou takest a veil, for thy wives are not like other women, and it is purer for their hearts. Then Allah revealed: O ye who believe, enter not the houses of the Prophet except when permission is given to you for a meal, not awaiting its preparation, to the end of the verse. Then the Messenger of Allah ﷺ sent to ʿUmar, conveying to him what was revealed in his regard: > **"I shall increase over seventy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن عبداللہ بن اُبی کے والد ( یعنی عبداللہ بن ابی ) نے ان سے کہا : اے میرے بیٹے تم اللہ کے رسول سے میرے لئے ان کے کپڑوں میں سے کوئی کپڑا مانگ لو اور مجھے اس کپڑے میں کفن دینا اور ان سے یہ بھی درخواست کرنا کہ وہ میری نماز جنازہ پڑھائیں ، تو عبداللہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ عبداللہ بن ابی کی نمایاں حیثیت سے واقف ہیں ، انہوں نے مجھ سے یہ کہا ہے کہ میں آپ سے کپڑا مانگوں ، جس میں ہم انہیں کفن دیں اور آپ ان کی نماز جنازہ بھی ادا کریں ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے کپڑوں میں سے ایک کپڑا انہیں دیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کا ارادہ کیا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ عبداللہ اور اس کی منافقت سے واقف ہیں ، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع کیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ انہوں نے عرض کی : ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ اگر تم ان لوگوں کے لئے ستر مرتبہ دعائے مغفرت کرو ، تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں کرے گا ۔‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اس سے زیادہ مرتبہ کر لوں گا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” جب ان میں سے کوئی ایک مر جائے تو تم نے کبھی بھی اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کرنی “۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل کی : ’’ ان کے لئے برابر ہے خواہ تم ان کے لئے دعائے مغفرت کرو یا تم ان کے لئے دعائے مغفرت نہ کرو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں کرے گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ کافی دیر آپ کے پاس بیٹھا رہا ، نبی اکرم ﷺ اس دوران تین مرتبہ باہر تشریف لے گئے تاکہ وہ بھی آپ کے پیچھے باہر آ جائے ، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا ، اسی دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، انہوں نے اس شخص کے بیٹھنے کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات محسوس کیے ، تو انہوں نے کہا : شاید تم نے نبی اکرم ﷺ کو اذیت پہنچائی ہے ، وہ شخص بات سمجھ گیا اور اٹھ گیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تین مرتبہ اٹھا تاکہ تم میرے پیچھے جاؤ اور تم نے ایسا نہیں کیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ حجاب اختیار کر لیں تو یہ مناسب ہو گا ، کیونکہ آپ کی ازواج دیگر خواتین کی طرح نہیں ہیں ۔ یہ چیز ان کے دلوں کے لئے زیادہ طہارت کا باعث ہو گی ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اے ایمان والو ! تم نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو ، البتہ جب تمہیں کھانے کے لئے اجازت دی جائے تو حکم مختلف ہے اور اس صورت میں بھی تم برتن کی طرف دیکھنے والے نہ ہو ۔‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر انہیں اس بارے میں بتایا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے قیدیوں کے بارے میں مشورہ لیا ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کی قوم سے حیا کرتا ہوں ( یا آپ اپنی قوم کے حوالے سے حیاء کا رویہ اختیار کریں ) اور ان سے فدیہ لے لیں ، اس حوالے سے آپ مدد حاصل کریں ( یعنی آپ اس فدیہ کو مختلف کاموں میں استعمال کریں ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گزارش کی کہ آپ انہیں قتل کروا دیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم دونوں کی ایک رائے ہوتی تو ہم نے تمہاری رائے کی خلاف ورزی نہیں کرنی تھی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قول کو اختیار کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ نبی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے پاس ( کفار ) قیدی ہوں ( اور وہ انہیں فدیہ لے کر آزاد کر دے ) اس کو زمین میں ( ان کافروں کا ) اچھی طرح خون بہانا چاہیے ، تم لوگ دنیاوی مال و اسباب چاہتے ہو اور اللہ تعالیٰ آخرت ( کی بھلائی ) کا ارادہ کرتا ہے ........‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے تخلیق کیا ہے ، اور پھر اسے ایک مضبوط ( یا محفوظ ) جگہ ( یعنی رحم ) میں نطفہ کی شکل میں رکھا .......‘‘۔ یہ ( اگلی ) آیت کے آخر تک ہے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے ، جو سب سے اچھا خالق ہے ، تو یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے ، جو سب سے اچھا خالق ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اگر تم دونوں کی رائے ایک ہوتی تو ہم نے تمہاری رائے کے خلاف نہیں کرنا تھا ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ بن فضیل بن عیاض ہے ، اور وہ کمزور ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14432

Majma al-Zawaid #14432

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا عُمَرُ، أَتَانِي جِبْرِيلُ آنِفًا، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، حَدِّثْنِي بِفَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي السَّمَاءِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، لَوْ حَدَّثْتُكَ بِفَضَائِلِ عُمَرَ مَا لَبِثَ نُوحٌ فِي قَوْمِهِ - أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا - مَا نَفِدَتْ فَضَائِلُ عُمَرَ، وَإِنَّ عُمَرَ لَحَسَنَةٌ مِنْ حَسَنَاتِ أَبِي بَكْرٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ الْفَضْلِ الْعَنْزِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿAmmār ibn Yāsir رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"O ʿUmar, Jibrīl came to me just now, and I said: O Jibrīl, inform me of the virtues of ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb in heaven. He said: O Muḥammad, had I informed thee of the virtues of ʿUmar for as long as Nūḥ remained among his people — a thousand years less fifty — the virtues of ʿUmar would not be exhausted. And indeed ʿUmar is a good deed from among the good deeds of Abū Bakr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عمار ! بھی جبرائیل میرے پاس آیا تو میں نے کہا : اے جبرائیل تم مجھے آسمان میں عمر بن خطاب کے فضائل کے بارے میں بتاؤ ، تو اس نے جواب دیا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! اگر میں آپ کو اتنے عرصے تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان کرتا رہوں ، جتنے عرصے تک حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم میں موجود رہے تھے ، یعنی ایک ہزار سال سے پانچ سال کم ، تو بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل ختم نہیں ہوں گے ( پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یا شاید حضرت جبرائیل نے یہ کہا : ) کہ عمر ، ابوبکر کی نیکیوں میں سے ایک نیکی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن فضل عنزی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

14433

Majma al-Zawaid #14433

عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿIṣmah رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Had there been a prophet after me, it would have been ʿUmar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14434

Majma al-Zawaid #14434

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوْ كَانَ اللَّهُ بَاعِثًا رَسُولًا بَعْدِي لَبَعَثَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Had Allah been sending a messenger after me, He would have sent ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر اللہ تعالیٰ نے میرے بعد کسی رسول کو بھیجنا ہوتا تو اس نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو مبعوث کرنا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن بشیر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14435

Majma al-Zawaid #14435

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ: أَقْرِئْ عُمَرَ السَّلَامَ، وَقُلْ لَهُ: إِنَّ رِضَاهُ حُكْمٌ، وَإِنَّ غَضَبَهُ عِزٌّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ الْعُمَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Jibrīl, peace be upon him, came to me and said: convey salām to ʿUmar, and say to him: indeed his pleasure is wise judgment, and indeed his anger is might."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : عمر کو سلام کہیں ، اور ان سے یہ کہیں کہ ان کی رضامندی حکم ( یعنی انصاف ) ہے ، اور ان کا غصہ غلبے کا باعث ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14436

Majma al-Zawaid #14436

عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ أَنَّ عِلْمَ عُمَرَ وُضِعَ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ، وَوُضِعَ عِلْمُ أَهْلِ الْأَرْضِ فِي كِفَّةٍ ; لَرَجَحَ عِلْمُهُ بِعِلْمِهِمْ .. قَالَ وَكِيعٌ: قَالَ الْأَعْمَشُ: فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَذَكَرْتُهُ لَهُ، فَقَالَ: وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ ذَلِكَ؟!! فَوَاللَّهِ لَقَدْ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: إِنِّي لَأَحْسَبُ تِسْعَةَ أَعْشَارِ الْعِلْمِ ذَهَبَ يَوْمَ ذَهَبَ عُمَرُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ هَذَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Abū Wāʾil that ʿAbdullāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, said: had the knowledge of ʿUmar been placed in one pan of the balance, and the knowledge of the people of the earth placed in the other, his knowledge would have outweighed theirs. Wakīʿ said: al-Aʿmash said: so I disapproved of that, and I went to Ibrāhīm and mentioned it to him, and he said: why dost thou disapprove of that; by Allah, ʿAbdullāh said what is even greater than that. He said: I deem that nine-tenths of knowledge departed on the day ʿUmar departed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علم کو میزان کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور تمام اہل زمین کے علم کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے ، تو ان لوگوں کے علم کے مقابلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علم کا پلڑا بھاری ہو گا ۔ وکیع بیان کرتے ہیں : اعمش نے یہ بات بیان کی ہے کہ میں نے اس روایت کا انکار کیا ، میں ابراہیم نخعی کے پاس آیا اور میں نے ان کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو انہوں نے فرمایا : تم اس بات کا کیوں انکار کر رہے ہو ؟ اللہ کی قسم ! حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تو اس سے بھی زیادہ فضیلت والی بات کی ہے ۔ انہوں نے یہ فرمایا ہے : میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ دنیا سے رخصت ہوئے تھے ، اس وقت علم کے دس حصوں میں سے نو حصے رخصت ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسد بن موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14437

Majma al-Zawaid #14437

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ أَنِّي أُعْطِيتُ عُسًّا مَمْلُوءًا لَبَنًا، فَشَرِبْتُ حَتَّى تَمَلَّأْتُ، حَتَّى رَأَيْتُهُ يَجْرِي فِي عُرُوقِي بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَأَعْطَيْتُهَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ "". فَأَوَّلُوهَا قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَذَا عِلْمٌ أَعْطَاكَهُ اللَّهُ فَمَلَأَكَ مِنْهُ، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَأَعْطَيْتَهَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ. فَقَالَ: "" أَصَبْتُمْ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn ʿUmar رضي الله عنهما that the Messenger of Allah ﷺ said: I saw in sleep that I was given a large cup filled with milk, and I drank until I was full, until I saw it flowing in my veins between the skin and the flesh. Then there remained a remainder, and I gave it to ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb. So interpret it. They said: O Prophet of Allah, this is knowledge which Allah gave thee and filled thee therewith, and there remained a remainder and thou gavest it to ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb. Then he said: > **"I saw in sleep that I was given a large cup filled with milk, and I drank until I was full, until I saw it flowing in my veins between the skin and the flesh. Then there remained a remainder and I gave it to ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb. You have judged rightly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے ایک بڑا پیالہ دیا گیا جو دودھ سے بھرا ہوا تھا ، میں نے اسے پیا ، یہاں تک کہ میں سیر ہو گیا ، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ اس کے اثرات مجھے اپنی جلد اور گوشت کے درمیان رگوں کے اندر چلتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں ، جو دودھ بچا تھا ، وہ میں نے عمر بن خطاب کو دے دیا ، تم لوگ اس کی تاویل بیان کرو ، لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اس سے مراد وہ علم ہو گا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا تھا اور آپ اس سے سیر ہو گئے اور اس میں سے کچھ بچ گیا ، تو آپ نے وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دے دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں نے ٹھیک بیان کیا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں یہ روایت اس سیاق کے بغیر منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

14438

Majma al-Zawaid #14438

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: إِنَّ عُمَرَ كَانَ أَعْلَمَنَا بِاللَّهِ، وَأَقْرَأَنَا لِكِتَابِ اللَّهِ، وَأَفْقَهَنَا فِي دِينِ اللَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي وَفَاةِ عُمَرَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿūd رضي الله عنه said: ʿUmar رضي الله عنه was the most knowledgeable of us about Allah, the foremost reciter among us of the Book of Allah, and the most understanding of us in the religion of Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہم میں سے سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے ، اللہ تعالیٰ کی کتاب کی سب سے زیادہ تلاوت کرنے والے تھے اور اللہ کے دین کی سب سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے میں ہے ۔

14439

Majma al-Zawaid #14439

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَبْغَضَ عُمَرَ فَقَدْ أَبْغَضَنِي، وَمَنْ أَحَبَّ عُمَرَ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَإِنَّ اللَّهَ بَاهَى بِالنَّاسِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ عَامَّةً، وَبَاهَى بِعُمَرَ خَاصَّةً. وَإِنَّهُ لَمْ يَبْعَثِ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ فِي أُمَّتِهِ مُحَدَّثٌ، وَإِنْ يَكُنْ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَهُوَ عُمَرُ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ مُحَدَّثٌ؟ قَالَ: "" تَتَكَلَّمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى لِسَانِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ خَادِمُ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever hates ʿUmar hates him, and whoever loves ʿUmar loves him, and that Allah boasted to the people generally on the evening of ʿArafah, and boasted of ʿUmar specifically, and that Allah never sent a prophet except that there was a muhaddath in his ummah, and if there were one such in his ummah it would be ʿUmar. They asked how a muhaddath is, and he explained that the angels speak upon his tongue. > **"Whoever hates ʿUmar has hated me, and whoever loves ʿUmar has loved me. Indeed Allah boasted of the people generally on the evening of ʿArafah, and boasted of ʿUmar specifically. Allah never sent a prophet except that there was a muhaddath in his ummah, and if there were one among them in my ummah it would be ʿUmar. The angels speak upon his tongue."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص عمر کو غصہ دلائے گا ، وہ مجھے غضبناک کرے گا ، جو شخص عمر سے محبت کرے گا ، وہ مجھ سے محبت کرے گا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے عرفہ کی شام سب لوگوں پر عمومی طور پر فخر کا اظہار کیا ہے ، اور عمر پر بطور خاص فخر کا اظہار کیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو مبعوث کیا ، اس نبی کی امت میں کوئی محدث ہوتا ہے ، اگر ایسا کوئی فرد میری امت میں ہوتا تو وہ عمر ہوتا ۔‘‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! محدث کیسا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فرشتے اس کی زبان پر کلام کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد ہے ، جو حسن بصری کا خادم تھا ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14440

Majma al-Zawaid #14440

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَاهَى مَلَائِكَتَهُ بِعَبِيدِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ عَامَّةً، وَبَاهَى بِعُمَرَ خَاصَّةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاصُّ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported from the Messenger of Allah ﷺ that Allah Almighty boasted to His angels of His servants generally on the evening of ʿArafah, and boasted of ʿUmar specifically. > **"Indeed Allah Almighty boasted to His angels of His servants generally on the evening of ʿArafah, and boasted of ʿUmar specifically."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عرفہ کی شام اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے عمومی طور پر اپنے بندوں پر فخر کا اظہار کیا اور خاص طور پر عمر کے حوالے سے فخر کا اظہار کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابراہیم القاص ہے ، جسے امام احمد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

14441

Majma al-Zawaid #14441

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَتَبَسَّمَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: "" يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، مِمَّا تَبَسَّمْتُ إِلَيْكَ؟ "". قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَاهَى بِأَهْلِ عَرَفَةَ عَامَّةً، وَبَاهَى بِكَ خَاصَّةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said that one day the Messenger of Allah ﷺ looked at ʿUmar ibn al-Khattāb رضي الله عنه and smiled at him, then asked him whether he knew why he had smiled at him. ʿUmar replied that Allah and His Messenger know best, whereupon he informed him that Allah had boasted generally of the people of ʿArafah and boasted of him specifically. > **"O son of al-Khattāb, do you know why I smiled at you? Indeed Allah Almighty boasted generally of the people of ʿArafah, and boasted of you specifically."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا ، آپ نے انہیں مسکرا کے دیکھا اور ارشاد فرمایا : ” اے ابن خطاب ! کیا تم جانتے ہو ؟ میں نے تمہاری طرف مسکرا کے کیوں دیکھا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عرفہ کی رات اللہ تعالیٰ نے اہل عرفہ کے حوالے سے فرشتوں کے سامنے عمومی طور پر فخر کا اظہار کیا اور تمہارے حوالے سے بطور خاص فخر کا اظہار کیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

14442

Majma al-Zawaid #14442

عَنْ سُدَيْسَةَ مَوْلَاةِ حَفْصَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَمْ يَلْقَ عُمَرَ مُنْذُ أَسْلَمَ إِلَّا خَرَّ لِوَجْهِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فِي تَرْجَمَةِ سُدَيْسَةَ، مِنْ طَرِيقِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْهَا، وَلَا نَعْلَمُ الْأَوْزَاعِيَّ سَمِعَ أَحَدًا مِنَ الصَّحَابَةِ. وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سُدَيْسَةَ، وَهُوَ الصَّوَابُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْفَضْلِ بْنِ مُوَفَّقٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Sudaysah, the freedwoman of Hafsah رضي الله عنها, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that since ʿUmar accepted Islam, Shaytan never met him except that he fell upon his face. > **"Indeed Shaytan has not met ʿUmar since he accepted Islam except that he fell upon his face."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی کنیز سدیسہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب سے عمر نے اسلام قبول کیا ہے اس کے بعد شیطان جب بھی عمر کے سامنے آیا تو وہ ( یعنی شیطان ) چہرے کے بل گر گیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں سیدہ سدیسہ رضی اللہ عنہا کے حالات میں امام اوزاعی کے حوالے سے اس خاتون سے نقل کی ہے ، ہمارے علم کے مطابق امام اوزاعی نے صحابہ میں سے کسی سے سماع نہیں کیا ہے ۔ یہ روایت انہوں نے معجم اوسط میں امام اوزاعی کے حوالے سے سالم کے حوالے سے سیدہ سدیسہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ، اور یہی روایت درست ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، البتہ عبدالرحمن بن فضل بن موفق نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14443

Majma al-Zawaid #14443

وَعَنْ سُدَيْسَةَ - مَوْلَاةِ حَفْصَةَ - عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ وَقَدْ نَذَرْتُ أَنْ أَزْفِنَ بِالدُّفِّ إِنْ قَدِمَ مِنْ مَكَّةَ: فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ، إِذِ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ، فَانْطَلَقْتُ بِالدُّفِّ إِلَى جَانِبِ الْبَيْتِ فَغَطَّيْتُهُ بِكِسَاءٍ، فَقُلْتُ: أَيْ نَبِيَّ اللَّهِ، أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تُهَابَ قَالَ: "" إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَلْقَى عُمَرَ مُنْذُ أَسْلَمَ إِلَّا خَرَّ لِوَجْهِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Sudaysah, the freedwoman of Hafsah رضي الله عنها, reported from Hafsah رضي الله عنها that she had vowed to beat the duff if the Prophet ﷺ returned from Makkah. While she was doing so, ʿUmar sought permission to enter, so she took the duff to the side of the house and covered it with a cloth, and said that the Prophet of Allah was most deserving of being held in awe, whereupon he affirmed that since ʿUmar accepted Islam, Shaytan never meets him except that he falls upon his face. > **"Indeed Shaytan does not meet ʿUmar since he accepted Islam except that he falls upon his face."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده سدیسہ رضی اللہ عنہا جو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی کنیز ہیں ، انہوں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے یہ نذر مانی کہ اگر نبی اکرم ﷺ مکہ سے تشریف لے آئے ، تو میں دف بجا کر رقص کروں گی ، ابھی میں وف بجا رہی تھی کہ اسی دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، میں نے دف لی اور اسے گھر کے ایک کونے میں جا کے چادر کے ذریعے ڈھانپ کے رکھ دیا ۔ میں نے ( سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے یا شاید سیدہ سدیسہ رضی اللہ عنہا ) نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ آپ سے ڈرا جائے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب سے عمر نے اسلام قبول کیا ہے ، شیطان جب بھی اس کے سامنے آتا ہے وہ ( یعنی شیطان ) چہرے کے بل گر جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

14444

Majma al-Zawaid #14444

عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَقِيَ الشَّيْطَانُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَارَعَهُ، فَتَعَرَهُ الْمُسْلِمُ، وَأَزَمَ بِإِبْهَامِهِ، فَقَالَ: دَعْنِي أُعَلِّمْكَ آيَةً لَا يَسْمَعُهَا أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا وَلَّى، فَأَرْسَلَهُ، فَأَبَى أَنْ يُعَلِّمَهُ، فَصَارَعَهُ، فَتَعَرَهُ الْمُسْلِمُ، وَأَزَمَّ بِإِبْهَامِهِ [فَقَالَ: دَعْنِي أُعَلِّمُكَ آيَةً لَا يَسْمَعُهَا أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا وَلَّى، فَأَرْسَلَهُ، فَأَبَى أَنْ يُعَلِّمَهُ، فَعَادَ فَصَرَعَهُ فَتَعَرَهُ الْمُسْلِمُ وَأَزَمَّ بِإِبْهَامِهِ]، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي بِهَا، فَأَبَى أَنْ يُعْلِمَهُ. فَلَمَّا عَاوَدَهُ الثَّالِثَةَ قَالَ: الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: 255] إِلَى آخِرِهَا، فَقِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَنْ ذَلِكَ الرَّجُلُ؟ قَالَ: مَنْ عَسَى أَنْ يَكُونَ إِلَّا عُمَرَ.

EnglishUnverified translation

Shaqīq ibn Salamah Abū Wāʾil reported that ʿAbdullah ibn Masʿūd رضي الله عنه said that Shaytan met a man from the Companions of the Prophet ﷺ and wrestled him. The Muslim threw him down and gripped him with his thumb. Shaytan asked him to release him and he would teach him a verse which no devil among them hears except that he turns away, but then refused to teach him. They wrestled again, and the Muslim threw him and gripped him, and Shaytan repeated his promise and again refused, until after the third bout he informed him that it is the verse in Sūrat al-Baqarah, Allah, there is no deity but He, the Ever-Living, the Sustainer, to its end. When ʿAbdullah was asked who that man was, he said who could it be but ʿUmar رضي الله عنه.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شقیق بن سلمہ ابووائل بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صاحب سے شیطان کا سامنا ہوا ، شیطان نے انہیں مقابلے کے لئے کہا تو مسلمان فرد نے اسے پچھاڑ دیا اور اپنے انگوٹھے کے ذریعے اسے دبایا ، تو شیطان نے کہا : تم مجھے چھوڑ دو ، میں تمہیں ایک آیت کی تعلیم دیتا ہوں ۔ اس آیت کو ہم میں سے جو بھی ( شیطان ) سنے گا ، وہ منہ پھیر کر چلا جائے گا ، مسلمان نے اسے چھوڑ دیا ، تو شیطان نے اس آیت کی تعلیم دینے سے انکار کر دیا ، شیطان نے پھر اسے مقابلے کے لئے کہا ، مسلمان نے پھر اسے پچھاڑ دیا اور اسے اپنے انگوٹھے کے ذریعے دبایا ، تو شیطان نے کہا : تم مجھے چھوڑ دو ، میں تمہیں ایک آیت کی تعلیم دیتا ہوں ، ہم ( شیاطین ) میں سے جو بھی اسے سنے گا ، وہ منہ پھیر کر چلا جائے گا ، مسلمان نے شیطان کو چھوڑ دیا ، تو شیطان نے پھر اسے تعلیم دینے سے انکار کر دیا ، پھر ایسا ہوا مسلمان نے پھر اسے مقابلہ کرتے ہوئے پچھاڑ دیا اور اپنے انگوٹھے کے ذریعے دبایا اور کہا : تم مجھے اس کے بارے میں بتاؤ ، شیطان نے اس کے بارے میں بتانے انکار کیا ، جب تیسری مرتبہ ایسا ہوا تو شیطان نے بتایا : یہ وہ آیت ہے جو سورت بقرہ میں موجود ہے ، اور وہ یہ ہے : «الله لا اله الا هو الْحَيُّ الْقَيُّومُ» ( یعنی آیت الکرسی ) یہ پوری آیت ہے ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : اے ابوعبد الرحمن ! وہ مسلمان شخص کون تھا ؟ تو انہوں نے فرمایا : وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے ؟

14445

Majma al-Zawaid #14445

وَفِي رِوَايَةٍ: عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَيْضًا قَالَ: لَقِيَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنَ الْجِنِّ فَصَارَعَهُ، فَصَرَعَهُ الْإِنْسِيُّ، فَقَالَ لَهُ الْجِنِّيُّ: عَاوِدْنِي، فَعَاوَدَهُ فَصَرَعَهُ الْإِنْسِيُّ، فَقَالَ لَهُ الْإِنْسِيُّ: إِنِّي لَأَرَاكَ ضَئِيلًا شَحِيبًا، كَأَنَّ ذُرَيِّعَتَيْكَ ذُرَيِّعَتَا كَلْبٍ قَالَ: فَكَذَلِكَ أَنْتُمْ مَعَاشِرَ الْجِنِّ - أَوْ أَنْتَ مِنْهُمْ كَذَلِكَ - قَالَ: لَا وَاللَّهِ إِنِّي مِنْهُمْ لَضَلِيعٌ، وَلَكِنْ عَاوِدْنِي الثَّالِثَةَ فَإِنْ صَرَعْتَنِي عَلَّمْتُكَ شَيْئًا يَنْفَعُكَ، فَعَاوَدَهُ فَصَرَعَهُ، فَقَالَ: هَاتِ عَلِّمْنِي قَالَ: هَلْ تَقْرَأُ آيَةَ الْكُرْسِيِّ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: إِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَهَا فِي بَيْتٍ إِلَّا خَرَجَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ ; لَهُ خَبَجٌ كَخَبَجِ الْحِمَارِ، لَا يَدْخُلُهُ حَتَّى يُصْبِحَ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَنْ ذَاكَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: فَعَبَسَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَقْبَلَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: مَنْ يَكُونُ هُوَ إِلَّا عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الشَّعْبِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَلَكِنَّهُ أَدْرَكَهُ. وَرُوَاةُ الطَّرِيقِ الْأُولَى فِيهِمُ الْمَسْعُودِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ فَبَانَ لَنَا صِحَّةُ رِوَايَةِ الْمَسْعُودِيِّ بِرِوَايَةِ الشَّعْبِيِّ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه reported in another narration that a man from the Companions of the Prophet ﷺ met a man from the jinn and wrestled him, and the human threw him down. The jinnī asked for a rematch, and the human threw him again. The human remarked that he appeared frail and emaciated, as if his forearms were those of a dog, and asked whether all the jinn were like that. He swore that he was stout among them, and asked for a third bout, promising that if thrown he would teach him something beneficial. After being thrown a third time, he asked whether he recited Āyat al-Kursī, and when the man said yes, he said that it is never recited in a house except that Shaytan leaves it with a breaking wind like that of a donkey and does not enter it until morning. When a man asked Abū ʿAbd al-Rahmān who that Companion was, ʿAbdullah frowned, turned to him, and said who could he be but ʿUmar رضي الله عنه.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صاحب کا سامنا ایک جنّ سے ہوا ، جنّ نے انہیں مقابلے کی دعوت دی تو انسان نے اسے پچھاڑ دیا ، جنّ نے اس انسان سے کہا : تم دوبارہ میرے ساتھ مقابلہ کرو ، اس نے دوبارہ مقابلہ کیا تو انسان نے پھر اسے پچھاڑ دیا ، انسان نے اس سے کہا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم ایک کمزور اور نحیف فرد ہو ، اور تمہاری کلائیاں کتے کے بازؤں کی طرح ہیں ، تو کیا تم جنات اسی طرح ہوتے ہو ؟ راوی کو یہاں کچھ الفاظ کے بارے میں شک ہے ، تو اس جن نے کہا : جی نہیں ! میں ان میں ایک طاقتور فرد ہوں ، تم پھر تیسری مرتبہ میرے ساتھ مقابلہ کرو ، اگر تم نے مجھے پچھاڑ دیا ، تو میں تمہیں ایک ایسی چیز کی تعلیم دوں گا جو تمہیں نفع دے گی ، اس نے پھر اس شخص کے ساتھ مقابلہ کیا ، اس شخص نے اس جن کو پچھاڑ دیا اور پھر کہا : اب تم مجھے اس کی تعلیم دو ، جنّ نے دریافت کیا : کیا تم آیت الکرسی پڑھتے ہو ( یا تمہیں آیت الکرسی آتی ہے ؟ ) اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ، تو جن نے کہا : تم جس بھی گھر میں اس کو پڑھ لو گے ، تو شیطان اس گھر سے نکل جائے گا ، اس طرح نکلے گا کہ اس کی یوں ہوا خارج ہو رہی ہو گی ، جس طرح گدھے کی ہوا خارج ہوتی ہے ، اور وہ ( شیطان ) صبح ہونے تک اس گھر میں داخل نہیں ہو گا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا : اے ابوعبد الرحمن وہ صاحب جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھتے تھے وہ کون تھے ؟ راوی کہتے ہیں : تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ماتھے پر بل ڈالے ، اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے ؟ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں ، دوسری روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ امام شعبی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، تاہم انہوں نے ان کا زمانہ پایا ہے ، پہلی روایت کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، تاہم ہمارے سامنے شعبی کی روایت کے ذریعے مسعودی کی روایت کا صحیح ہونا واضح ہو جاتا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

14446

Majma al-Zawaid #14446

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنِّي رَأَيْتُنِي الْبَارِحَةَ عَلَى قَلِيبٍ أَنْزِعُ، فَجِئْتَ أَنْتَ فَنَزَعْتَ وَأَنْتَ ضَعِيفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، وَضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said that last night he saw himself at a well drawing water. Abū Bakr رضي الله عنه came and drew while he was weak, and may Allah forgive him. Then ʿUmar came and it turned into a large bucket, and the people drank to satisfaction at the watering place. > **"O Abū Bakr, I saw myself last night at a well drawing water. Then you came and drew while you were weak, and may Allah forgive you. Then ʿUmar came and it turned into a large bucket, and the people drank to satisfaction at the watering place."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابوبکر ! گزشتہ رات میں نے ( خواب میں ) خود کو دیکھا کہ میں ایک کنویں کے پاس موجود ہوں اور پانی نکال رہا ہوں ، پھر تم آئے اور تم نے پانی نکالنا شروع کیا ، تمہارے اندر کمزوری تھی ، اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے ، پھر عمر آیا تو وہ ( پانی کا ڈول ) ایک بڑا ڈول بن گیا ، اور اس نے لوگوں کو بھرپور طریقے سے سیراب کر دیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن جابر ہے ، جسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ، لیکن ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14447

Majma al-Zawaid #14447

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «بَيْنَا أَنَا أَنْزِعُ اللَّيْلَةَ إِذْ وَرَدَتْ عَلَيَّ غَنَمٌ سُودٌ وَعُفْرٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبِينَ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، فَجَاءَ عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَمَلَأَ الْحِيَاضَ وَأَرْوَى الْوَارِدَةَ ; فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا أَحْسَنَ نَزْعًا مِنْ عُمَرَ، فَأَوَّلْتُ السُّودَ: الْعَرَبَ، وَالْعُفْرَ: الْعَجَمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Tufayl رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that last night while he was drawing water, black and dusty-coloured sheep came to him. Abū Bakr came and drew one or two buckets with weakness in his drawing, and may Allah forgive him. Then ʿUmar came and it turned into a large bucket, so he filled the basins and gave drink to those who came. He had never seen a strong man draw better than ʿUmar. He interpreted the black sheep as the Arabs and the dusty ones as the non-Arabs. > **"While I was drawing water last night, black and dusty sheep came to me. Then Abū Bakr came and drew a bucket or two, and in his drawing was weakness, and may Allah forgive him. Then ʿUmar came and it turned into a large bucket, so he filled the basins and gave drink to those who came. I have never seen a strong man draw better than ʿUmar. I interpreted the black as the Arabs and the dusty as the non-Arabs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں گزشتہ رات ( خواب میں ) پانی نکال رہا تھا اسی دوران میرے پاس سیاہ رنگ کی اور خاکستری رنگ کی بکریاں آئیں ، پھر ابوبکر آیا ، اس نے ایک ڈول یا دو ڈول نکالے ، اس کے نکالنے میں کمزوری تھی ، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے ، پھر عمر آیا ، تو وہ ایک بڑا ڈول بن گیا ، اس نے حوضوں کو بھر دیا ، اور آنے والوں کو سیراب کر دیا ، میں نے پانی نکالنے کے کام میں عمر جیسا محنتی شخص نہیں دیکھا ، تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ سیاہ بکریوں سے مراد عرب ہیں ، اور خاکستری بکریوں سے مراد عجم ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔