وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَسَمِعْتُ فِيهَا خَشْفَةً بَيْنَ يَدَيَّ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: بِلَالٌ. فَمَضَيْتُ، فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقُرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ وَذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ، وَلَمْ أَرَ فِيهَا أَحَدًا أَقَلَّ مِنَ النِّسَاءِ وَالْأَغْنِيَاءِ. قِيلَ لِي: أَمَّا الْأَغْنِيَاءُ ; فَهُمْ هَاهُنَا يُحَاسَبُونَ وَيُمَحَّصُونَ، وَأَمَّا النِّسَاءُ ; فَأَلْهَاهُنَّ الْأَحْمَرَانِ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ "". قَالَ: "" ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ أَحَدِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ، فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ أُتِيتُ بِكِفَّةٍ، فَوُضِعْتُ فِيهَا وَوُضِعَتْ أُمَّتِي، فَرَجَحْتُ بِهَا. ثُمَّ أُتِيَ بِأَبِي بَكْرٍ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ، وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ. ثُمَّ جِيءَ بِعُمَرَ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ، وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعُوا، فَرَجَحَ عُمَرُ. وَعُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي رَجُلًا رَجُلًا، فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ، فَاسْتَبْطَأْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَجَاءَ بَعْدَ الْإِيَاسِ، فَقُلْتُ: عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟ فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ [وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ]، مَا خَلَصْتُ إِلَيْكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي لَا أَخْلُصُ إِلَيْكَ أَبَدًا إِلَّا بَعْدَ الْمُشِيبَاتِ. قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ كَثْرَةِ مَالِي أُحَاسَبُ وَأُمَحَّصُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِمَا مُطَّرِحُ بْنُ زِيَادٍ وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَكِلَاهُمَا مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ، وَمِمَّا يَدُلُّكَ عَلَى ضَعْفِ هَذَا: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَحَدُ أَصْحَابِ بَدْرٍ وَالْحُدَيْبِيَةِ، وَأَحَدُ الْعَشْرَةِ، وَهُمْ أَفْضَلُ الصَّحَابَةِ. وَالْحَمْدُ لِلَّهِ.
EnglishUnverified translation
It is reported from Abū Umāmah رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: I entered Paradise and heard before me a movement, and I asked what it was, and they said: Bilāl. Then I went on, and most of the people of Paradise were the poor of the Muhājirīn and the offspring of the Muslims, and I saw none therein fewer than women and the wealthy. It was said to me: as for the wealthy, they are detained here, being reckoned and sifted, and as for women, the two red things — gold and silk — distracted them. Then we exited from one of the eight gates of Paradise, and when I was at the gate I was brought a balance, and I was placed in one pan and my ummah placed in the other, and I outweighed them. Then Abū Bakr was brought and placed in one pan and my whole ummah placed in the other, and Abū Bakr outweighed. Then ʿUmar was brought and placed in one pan and my whole ummah brought and placed, and ʿUmar outweighed. Then my ummah was presented to me man by man, and they kept passing, but I found ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf delayed, and he came after despair. I said: ʿAbd al-Raḥmān. He said: by my father and mother, O Messenger of Allah, by the One who sent you with the truth, I did not reach you until I thought I would never reach you except after grey hairs, on account of my abundant wealth, for I was reckoned and sifted: > **"I entered Paradise and heard before me a movement, and they said: Bilāl. Then I was placed in one pan and my ummah in the other, and I outweighed them. Then Abū Bakr was placed in one pan and my whole ummah in the other, and Abū Bakr outweighed. Then ʿUmar was placed in one pan and my whole ummah in the other, and ʿUmar outweighed."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی ، میں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یہ بلال ہیں ، میں گیا ، تو اہل جنت میں اکثریت مہاجرین کے غریب لوگوں اور مسلمانوں کے بچوں کی تھی اور میں نے وہاں سب سے زیادہ کم تعداد خوشحال لوگوں اور خواتین کی پائی ، مجھ سے کہا گیا کہ جہاں تک خوشحال لوگوں کا تعلق ہے ، تو انہیں وہاں روک لیا گیا ہے ، اور ان سے حساب لیا جائے گا ، اور تفتیش کی جائے گی ، اور جہاں تک خواتین کا تعلق ہے تو دو سرخ چیزوں یعنی سونے اور ریشم نے انہیں غافل کر دیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر ہم جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک دروازے سے نکلے ، جب میں دروازے کے پاس پہنچا تو میرے پاس ایک ترازو لایا گیا ، جس کے ایک پلڑے میں مجھے رکھا گیا ، اور دوسرے پلڑے میں میری امت کو رکھا گیا ، تو میں ان سب سے وزنی تھا ، پھر ابوبکر کو لایا گیا ، اور اسے ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری پوری امت کو لا کر دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو ابوبکر وزنی تھا ، پھر عمر کو لایا گیا ، اسے ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری پوری امت کو لایا گیا ، اور ان لوگوں کو رکھا گیا ، تو عمر والا پلڑا وزنی تھا ، پھر میرے سامنے میری امت کے ایک ایک فرد کو پیش کیا گیا ، وہ لوگ گزرتے رہے ، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے آنے میں تاخیر ہو گئی ، وہ کچھ دیر کے بعد آیا ، میں نے کہا : عبدالرحمن ( کیا ہوا ؟ ) تو اس نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں آپ کے پاس اس وقت پہنچ پایا ہوں جب میں یہ گمان کر چکا تھا کہ میں کبھی بھی آپ کے پاس نہیں پہنچ سکوں گا ، صرف اس صورت میں پہنچ سکوں گا ، جب بوڑھا ہو جاؤں گا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا تھی ؟ انہوں نے بتایا : میرے مال کی کثرت ( وجہ تھی ) مجھ سے حساب لیا جا رہا تھا اور تفتیش کی جا رہی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں کی روایات کی سند میں ایک راوی مطرح بن زیاد ہے ، اور ایک راوی علی بن یزید الہانی ، ان دونوں کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ، اور جو بات اس روایت کے ضعیف ہونے پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا شمار غزوہ بدر اور غزوہ حدیبیہ میں شرکت کرنے والے افراد میں ہوتا ہے ، وہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں ، اور فضیلت رکھنے والے صحابہ میں سے ہیں ، باقی ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ۔