Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 3

Book of Virtues and Merits

Hadith 14368–14407

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14368

Majma al-Zawaid #14368

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ عِلِّيِّينَ يُشْرِفُ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ كَأَنَّهُ كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ سَلْمِ بْنِ قُتَيْبَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Abū Hurayrah رضي الله عنه, from the Prophet ﷺ, that he said: > **"Indeed a man from the people of ʿIlliyyīn shall look down upon the people of Paradise as though he were a brilliant star, and indeed Abū Bakr and ʿUmar are among them, and how excellent they are."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بالائی درجہ والے لوگوں میں سے کوئی شخص جھانک کر اہل جنت کی طرف یوں دیکھے گا جیسے وہ چمکتا ہوا ستارہ ہوتا ہے ، اور ابوبکر اور عمر ان ( بالائی درجات والے افراد ) میں سے ہیں اور یہ دونوں اچھے بندے ہیں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں البتہ مسلم بن قتیبہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14369

Majma al-Zawaid #14369

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَتْمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ: "" «إِذَا أَنَا مِتُّ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَمُوتَ فَمِتْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَلْمُ بْنُ مَيْمُونٍ الْخَوَّاصُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِغَفْلَتِهِ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Sahl ibn Abī Ḥathmah رضي الله عنه that the Prophet ﷺ said to a man: > **"When I have died, and Abū Bakr and ʿUmar have died, then if you are able to die, then die."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا : ’’ جب میں ، ابوبکر اور عمر انتقال کر جائیں تو اس وقت اگر تم سے ہو سکے کہ تم مر جاؤ تو تم مر جانا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلم بن میمون خواص ہے ، اور وہ اپنی غفلت کی وجہ سے ضعیف ہے ۔

14370

Majma al-Zawaid #14370

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمْ يَجْلِسْ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فِي مَجْلِسِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ، وَلَمْ يَجْلِسْ عُمَرُ فِي مَجْلِسِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ، وَلَمْ يَجْلِسْ عُثْمَانُ فِي مَجْلِسِ عُمَرَ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn ʿUmar رضي الله عنهما that he said: Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه never sat upon the minbar in the sitting-place of the Messenger of Allah ﷺ until he met Allah, and ʿUmar رضي الله عنه never sat in the sitting-place of Abū Bakr until he met Allah, and ʿUthmān رضي الله عنه never sat in the sitting-place of ʿUmar until he met Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک کبھی بھی منبر میں اس درجہ پر نہیں بیٹھے ، جہاں نبی اکرم ﷺ تشریف فرما ہوتے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک اس درجہ پر نہیں بیٹھے جس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھتے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹھنے کے مقام پر نہیں بیٹھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

14371

Majma al-Zawaid #14371

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى مِنْبَرِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: إِنَّ فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ قَصْرًا لَهُ خَمْسُمِائَةُ بَابٍ، عَلَى كُلِّ بَابٍ خَمْسَةُ آلَافٍ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لَا يَدْخُلُهُ إِلَّا نَبِيٌّ. ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: هَنِيئًا لَكَ يَا صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ، ثُمَّ قَالَ: أَوْ صَدِيقٌ. ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى قَبْرِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: هَنِيئًا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ. ثُمَّ قَالَ: أَوْ شَهِيدٌ. ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى نَفْسِهِ فَقَالَ: وَأَنَّى لَكَ الشَّهَادَةُ يَا عُمَرُ؟ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الَّذِي أَخْرَجَنِي مِنْ مَكَّةَ إِلَى هِجْرَةِ الْمَدِينَةِ قَادِرٌ أَنْ يَسُوقَ إِلَيَّ الشَّهَادَةَ. قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: فَسَاقَهَا اللَّهُ إِلَيْهِ عَلَى يَدِ شَرِّ خَلْقِهِ: عَبْدٍ مَمْلُوكٍ لِلْمُغِيرَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ شَرِيكٍ النَّخَعِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Qays ibn Abī Ḥāzim that ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه addressed the people one day from the minbar of Madīnah and said in his sermon: indeed in the Gardens of Eden there is a palace with five hundred gates, upon every gate five thousand of the wide-eyed maidens, which none shall enter except a prophet. Then he turned toward the grave of the Messenger of Allah ﷺ and said: congratulations to you, O possessor of this grave. Then he said: or a ṣiddīq. Then he turned toward the grave of Abū Bakr and said: congratulations to you, O Abū Bakr. Then he said: or a martyr. Then he turned to himself and said: and how shall martyrdom come to you, O ʿUmar. Then he said: indeed the One who brought me out of Makkah to the emigration to Madīnah is able to drive martyrdom to me. Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: so Allah drove it to him at the hand of the worst of His creation, a slave owned by al-Mughīrah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کے منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اپنے خطبے کے دوران یہ ارشاد فرمایا : ’’ بے شک جنات عدن میں ایسا مل ہے کہ جس کے پانچ سو دروازے ہوں گے ، اور ہر ایک دروازے پر پانچ ہزار حورعین ہوں گی ، اس محل میں صرف نبی داخل ہو سکیں گے ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی قبر مبارک کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے اس قبر والی ہستی ! آپ کو مبارک باد ہو ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : یا کوئی صدیق داخل ہو گا پھر وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قبر کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کو مبارک باد ہو ، پھر انہوں نے کہا : یا کوئی شہید داخل ہو گا ، پھر انہوں نے اپنی طرف رخ کیا اور بولے : اے عمر تمہیں کہاں شہادت نصیب ہو گی ۔ پھر انہوں نے یہ کہا : جس ذات نے مجھے مکہ سے نکال کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کروائی تھی ، وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ شہادت کو مجھ تک لے آئے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے ایک بدترین شخص کے ہاتھ کے ذریعے ان کو شہادت نصیب کی ، وہ شخص حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف شریک نخعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

14372

Majma al-Zawaid #14372

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: «أَنَّ أُحُدًا ارْتَجَّ وَعَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اثْبُتْ أُحُدُ ; فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صَدِيقٌ، أَوْ شَهِيدَانِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه that Uḥud trembled while upon it were the Messenger of Allah ﷺ and Abū Bakr and ʿUmar and ʿUthmān رضي الله عنهم, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Be firm, O Uḥud, for there is none upon you except a Prophet, or a Ṣiddīq, or two martyrs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ احد پہاڑ میں ارتعاش پیدا ہوا ، اس پر نبی اکرم ﷺ ، حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم موجود تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے احد ! اپنی جگہ پر جمے رہو ، تم پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14373

Majma al-Zawaid #14373

وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «كَانَ جَالِسًا عَلَى حِرَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ، فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اثْبُتْ حِرَاءُ ; فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صَدِيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Buraydah رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ was sitting upon Ḥirāʾ, and with him were Abū Bakr and ʿUmar and ʿUthmān, when the mountain moved, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Be firm, O Ḥirāʾ, for there is none upon you except a Prophet, or a Ṣiddīq, or a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حراء پہاڑ پر بیٹھے ہوئے تھے ، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم تھے ، پہاڑ نے حرکت کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے حراء تم جمے رہو ! تم پر ایک نبی ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14374

Majma al-Zawaid #14374

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ «قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" انْطَلِقْ حَتَّى تَأْتِيَ أَبَا بَكْرٍ فَتَجِدَهُ فِي دَارِهِ جَالِسًا مُحْتَبِيًا، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ. ثُمَّ انْطَلِقْ حَتَّى تَأْتِيَ الثَّنِيَّةَ فَتَلْقَى عُمَرَ فِيهَا عَلَى حِمَارٍ تَلُوحُ صَلْعَتُهُ، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ. ثُمَّ انْطَلِقْ حَتَّى تَأْتِيَ السُّوقَ فَتَلْقَى عُثْمَانَ فِيهَا يَبِيعُ وَيَبْتَاعُ، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ بَعْدَ بَلَاءٍ شَدِيدٍ "". فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِهِ جَالِسًا مُحْتَبِيًا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ: "" أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ "". فَقَالَ: وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قُلْتُ: فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَقَامَ إِلَيْهِ. ثُمَّ أَتَيْتُ الثَّنِيَّةَ فَإِذَا فِيهَا عُمَرُ عَلَى حِمَارٍ تَلُوحُ صَلْعَتُهُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ: "" أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ "". فَقَالَ: وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قُلْتُ: فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَانْطَلَقَ. ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ السُّوقَ فَلَقِيتُ عُثْمَانَ فِيهَا يَبِيعُ وَيَبْتَاعُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ: "" أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ بَعْدَ بَلَاءٍ شَدِيدٍ "". فَقَالَ: وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَأَخَذَ بِيَدِي، فَجِئْنَا جَمِيعًا حَتَّى أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ زَيْدًا أَتَانِي فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ: "" أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ بَعْدَ بَلَاءٍ شَدِيدٍ "". فَأَيُّ بَلَاءٍ يُصِيبُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا تَغَنَّيْتُ، وَلَا تَمَنَّيْتُ، وَلَا مَسَسْتُ ذَكَرِي بِيَمِينِي مُنْذُ بَايَعْتُكَ. فَقَالَ: "" هُوَ ذَاكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَزَادَ فِيهِ: "" «إِنَّ اللَّهَ مُقَمِّصُكَ قَمِيصًا، فَإِذَا أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ» "". وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوُثِّقَ فِي رِوَايَةٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، وَالْمَشْهُورُ عَنْهُ تَضْعِيفُهُ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Zayd ibn Arqam رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ sent him, saying: go until you come to Abū Bakr and you shall find him in his house sitting with his knees drawn up, and say to him: the Messenger of Allah ﷺ conveys salām to you and says to you: receive glad tidings of Paradise. Then go until you come to the mountain pass and you shall meet ʿUmar there upon a donkey with his bald forepart gleaming, and say to him: the Messenger of Allah ﷺ conveys salām to you and says to you: receive glad tidings of Paradise. Then go until you come to the market and you shall meet ʿUthmān there buying and selling, and say to him: the Messenger of Allah ﷺ conveys salām to you and says to you: receive glad tidings of Paradise after a severe trial. So I went to Abū Bakr and found him in his house sitting with knees drawn as the Messenger of Allah ﷺ had said, and I conveyed the salām and the tidings, and he asked where the Messenger of Allah ﷺ was, and I named such-and-such a place, and he rose toward him. Then I came to the pass and there was ʿUmar upon a donkey with his baldness gleaming as described, and I conveyed the salām and the tidings, and he asked where the Messenger was, and I named the place, and he set off. Then I went to the market and met ʿUthmān buying and selling as described, and I conveyed the salām and the tidings of Paradise after severe trial, and he asked where the Messenger was, and I named the place, and he too set off toward him: > **"Go until you come to Abū Bakr and you shall find him in his house sitting with knees drawn up, and say to him: the Messenger of Allah conveys salām to you and says to you: receive glad tidings of Paradise. Then go until you come to the pass and you shall meet ʿUmar there upon a donkey, and say to him: receive glad tidings of Paradise. Then go until you come to the market and you shall meet ʿUthmān buying and selling, and say to him: receive glad tidings of Paradise after a severe trial."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے بھیجا اور ارشاد فرمایا : تم جاؤ ، یہاں تک کہ تم ابوبکر کے پاس پہنچ جاؤ ، تم اسے اپنے گھر میں احتباء کی حالت میں بیٹھا ہوا پاؤ گے ، تم اسے کہنا کہ اللہ کے رسول نے تمہیں سلام کہا ہے ، اور وہ تم سے یہ فرما رہے ہیں کہ تم جنت کی خوشخبری قبول کرو ، پھر تم جانا ، یہاں تک کہ تم گھاٹی کے پاس آؤ گے وہاں تمہاری ملاقات عمر سے ہو گی ، جو ایک گدھے پر سوار ہو گا ، اور اس کی پیشانی چمک رہی ہو گی ( یعنی آگے کے حصے پر بال نہیں ہوں گے ) تم اس سے کہنا کہ اللہ کے رسول نے تمہیں سلام کہا ہے اور وہ تم سے یہ فرما رہے ہیں کہ تم جنت کی خوشخبری قبول کرو ، پھر تم جانا یہاں تک کہ تم بازار آؤ گے ، وہاں تم عثمان کو خرید و فروخت کرتے ہوئے پاؤ گے ، تم اس سے یہ کہنا کہ اللہ کے رسول نے تمہیں سلام کہا ہے اور وہ یہ فرما رہے تھے کہ تم ایک زبردست آزمائش کے بعد جنت کی خوشخبری قبول کرو ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میں روانہ ہوا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، میں نے انہیں اپنے گھر میں احتباء کے طور پر بیٹھے ہوئے پایا ، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا ، تو میں نے انہیں کہا : اللہ کے رسول نے آپ کو سلام بھیجا ہے ، اور یہ فرمایا ہے کہ آپ جنت کی خوشخبری قبول کریں ، تو انہوں نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کہاں ہیں ؟ میں نے بتایا : فلاں فلاں جگہ پر ہیں ، تو وہ اٹھ کر نبی اکرم ﷺ کی طرف چلے گئے ، پھر میں گھاٹی کے پاس آیا ، وہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے جو ایک گدھے پر سوار تھے اور ان کے سر کے آگے والا حصہ چمک رہا تھا جس طرح نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا ، میں نے کہا : اللہ کے رسول نے آپ کو سلام کہا ہے ، اور یہ فرمایا ہے کہ آپ جنت کی خوشخبری قبول کریں ، تو انہوں نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کہاں ہیں ؟ میں نے جواب دیا : فلاں جگہ پر ہیں ، پھر وہ بھی چلے گئے ، پھر میں روانہ ہوا ، یہاں تک کہ بازار آیا ، وہاں میری ملاقات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، جو خرید و فروخت کر رہے تھے ، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا ، میں نے کہا : اللہ کے رسول نے آپ کو سلام کہا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ ایک زبردست آزمائش کے بعد آپ جنت کی خوشخبری قبول کریں ، انہوں نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کہاں ہیں ؟ میں نے بتایا فلاں جگہ پر ہیں ، تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور پھر ہم سب لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں گزارش کی : یا رسول اللہ ! زید میرے پاس آیا اور اس نے یہ کہا : اللہ کے رسول نے آپ کو سلام کہا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ آپ ایک زبردست آزمائش کے بعد جنت کی خوشخبری قبول کریں ، یا رسول اللہ ! مجھے کون سی آزمائش لاحق ہو گی ؟ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، نہ تو میں نے کوئی زیادتی کی ہے ، نہ میں نے اس کی آرزو کی ہے ، اور جب سے میں نے آپ کی بیعت کی ہے ، میں نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے اپنی شرمگاہ کو کبھی نہیں چھوا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایسا ہی ہو گا ( یعنی تمہیں آزمائش کا سامنا کرنا ہو گا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا جب منافقین اسے اتروانے کا ارادہ کریں تو تم اسے نہ اتارنا ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن ابومساور ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین سے منقول ایک روایت اس کی ، توثیق کی ہے ، جبکہ ان سے مشہور روایت یہی منقول ہے کہ انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

14375

Majma al-Zawaid #14375

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَشٍّ مِنْ حِشَّانِ الْمَدِينَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ: "" قُمْ فَائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ "". فَقُمْتُ فَأَذِنْتُ لَهُ، فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ فَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ. ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ: "" قُمْ فَائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ "". فَقُمْتُ فَأَذِنْتُ لَهُ، فَإِذَا هُوَ عَمَرُ فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ. ثُمَّ جَاءَ خَفِيضُ الصَّوْتِ فَقَالَ: "" قُمْ فَائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فِي بَلْوَى تُصِيبُهُ "". فَقُمْتُ فَأَذِنْتُ لَهُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ، فَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ صَبْرًا، حَتَّى جَلَسَ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ أَنَا؟ قَالَ: "" أَنْتَ مَعَ أَبِيكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ بِأَسَانِيدَ، وَبَعْضُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ وَأَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي أَوَاخِرَ مَنَاقِبِ عُمَرَ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿAbdullāh ibn ʿAmr ibn al-ʿĀṣ رضي الله عنهما that he was with the Prophet ﷺ in a walled garden among the gardens of Madīnah when a man came and sought permission to enter, and the Prophet ﷺ said: stand and admit him and give him glad tidings of Paradise. So I stood and admitted him, and behold it was Abū Bakr, and I gave him the tidings, and he kept praising Allah until he sat. Then another man came and sought permission, and he said: stand and admit him and give him glad tidings of Paradise. So I admitted him, and behold it was ʿUmar, and I gave him the tidings, and he kept praising Allah until he sat. Then one with a faint voice came and sought permission, and he said: stand and admit him and give him glad tidings of Paradise despite a trial that shall afflict him. So I admitted him, and behold it was ʿUthmān, and I gave him the tidings of Paradise upon a trial that would afflict him, and he said: O Allah, patience, until he sat. I asked: O Messenger of Allah, then where am I. He said: > **"Stand and admit him and give him glad tidings of Paradise. You are with your father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس مدینہ منورہ کے ایک باغ میں موجود تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اٹھ کر اسے اندر آنے کی اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں اٹھا ، میں نے ان صاحب کو اندر آنے کے لئے کہا تو وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے انہیں جنت کی خوشخبری دی ، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور تشریف فرما ہو گئے ، پھر ایک صاحب آئے انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اٹھ کر اسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو ، میں اٹھا ، میں نے انہیں اندر آنے کے لئے کہا ، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے انھیں اندر آنے کے لئے کہا اور انہیں جنت کی خوشخبری دی ، تو انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنا شروع کی ، یہاں تک کہ وہ بھی تشریف فرما ہوئے ، پھر ایک اور صاحب آئے ، انہوں نے بھی اندر آنے کی اجازت مانگی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اٹھو اور اسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو اور یہ بتانا کہ اسے ایک آزمائش لاحق ہو گی ، میں اٹھا ، میں نے انہیں اندر آنے کے لئے کہا ، وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے انہیں جنت کی خوشخبری دی اور یہ بتایا : انہیں ایک آزمائش لاحق ہو گی ، تو انہوں نے یہ کہا : اے اللہ ! صبر کا سوال ہے ، یہاں تک کہ وہ تشریف فرما ہوئے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کہاں ہوں گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے باپ کے ساتھ ہو گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی بعض اسانید اور امام احمد کی بعض اسانید کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب کے آخر میں آئے گی ۔

14376

Majma al-Zawaid #14376

وَعَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ قَالَ: «خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا، فَقَالَ: "" أَمْسِكْ عَلَيَّ الْبَابَ "". فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْقُفِّ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ، وَضُرِبَ الْبَابُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: "" ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ "". قَالَ: فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ. قَالَ: فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفَّةِ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ. ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: عُمَرُ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا عُمَرُ. قَالَ: "" ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ "". قَالَ: فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ. قَالَ: فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفِّ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ» [قَالَ: ثُمَّ ضَرَبَ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا قَالَ: عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا عُثْمَانُ، قَالَ: "" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَهَا بَلَاءٌ "" فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ]. قُلْتُ: عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Nāfiʿ ibn ʿAbd al-Ḥārith رضي الله عنه that he went out with the Messenger of Allah ﷺ until he entered a walled garden, and he said: hold the door for me. Then he went and sat upon the raised rim and let his feet dangle into the well, and the door was knocked. I asked: who is this. He said: Abū Bakr. I said: O Messenger of Allah, this is Abū Bakr. He said: admit him and give him glad tidings of Paradise. So I admitted him and gave him the tidings, and he entered and sat with the Messenger of Allah ﷺ upon the rim and let his feet dangle into the well. Then the door was knocked, and I asked who it was, and he said: ʿUmar. I said: O Messenger of Allah, this is ʿUmar. He said: admit him and give him glad tidings of Paradise. So I admitted him and gave him the tidings, and he sat likewise. Then the door was knocked, and I asked who it was, and he said: ʿUthmān. I said: O Messenger of Allah, this is ʿUthmān. He said: > **"Admit him and give him glad tidings of Paradise, along with it a trial."** So I admitted him and gave him the tidings, and he sat with the Messenger of Allah ﷺ upon the rim and let his feet dangle into the well.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نافع بن عبدالحارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نکلا ، آپ ایک باغ میں تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : تم دروازے کا خیال رکھنا ، نبی اکرم ﷺ اندر تشریف لے آئے ، آپ کنویں کے منڈیر پر بیٹھ گئے اور آپ نے اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں ، دروازے پر دستک ہوئی ، میں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ ان صاحب نے بتایا : ابوبکر ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے اجازت دو اور اسے خوشخبری دے دو ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی جنت کی خوشخبری دے دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے انہیں اجازت دی اور میں نے انہیں جنت کی خوشخبری دی ، راوی بیان کرتے ہیں : وہ اندر آئے اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے ۔ انہوں نے بھی اپنی ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں ، پھر دروازے پر دستک ہوئی ، میں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ تو ان صاحب نے کہا : عمر ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اُسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے انہیں اجازت دی اور انہیں جنت کی خوشخبری دی ، راوی بیان کرتے ہیں : وہ بھی اندر آئے اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے ۔ انہوں نے بھی اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں ، راوی کہتے ہیں : پھر دروازے پر دستک ہوئی ، میں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : عثمان ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے اجازت دو ، اسے جنت کی خوشخبری دے دو اور اسے ایک آزمائش کا سامنا بھی ہو گا ، میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی ، انہیں جنت کی خوشخبری دی وہ بھی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے اور انہوں نے بھی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی ) فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں ، امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14377

Majma al-Zawaid #14377

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَسْوَافِ وَبِلَالٌ مَعَهُ، فَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ: "" يَا بِلَالُ، ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ "". فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ، وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ. ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ: "" ائْذَنْ لَهُ يَا بِلَالُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ "". فَدَخَلَ فَجَلَسَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ، وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ. ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ: "" ائْذَنْ لَهُ يَا بِلَالُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ "". فَدَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ قُبَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ، وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ halted at al-Aswāf with Bilāl رضي الله عنه beside him, and he let his feet dangle into the well and uncovered his thighs. Then Abū Bakr came seeking permission, and he said: O Bilāl, admit him and give him glad tidings of Paradise. So Abū Bakr entered and sat to the right of the Messenger of Allah ﷺ and let his feet dangle into the well and uncovered his thighs. Then ʿUmar came seeking permission, and he said: admit him, O Bilāl, and give him glad tidings of Paradise. So he entered and sat to the left of the Messenger of Allah ﷺ likewise. Then ʿUthmān came seeking permission, and he said: > **"Admit him, O Bilāl, and give him glad tidings of Paradise despite a trial that shall afflict him."** So ʿUthmān entered and sat facing the Messenger of Allah ﷺ and let his feet dangle into the well and uncovered his thighs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اسواف کے مقام پر ٹھہرے ، آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے ، نبی اکرم ﷺ نے دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اجازت مانگی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے بلال ! تم اسے اجازت دو اور تم اسے جنت کی خوشخبری دو ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آئے اور وہ نبی اکرم ﷺ کے دائیں طرف آ کے بیٹھ گئے ۔ انہوں نے بھی ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اجازت مانگی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے بلال ! اسے اجازت دے دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو ، وہ اندر آئے اور انہوں نے بھی کنویں میں ٹانگیں لٹکا لیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اجازت مانگی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو اور اسے یہ بتانا کہ اُسے ایک آزمائش کا سامنا کرنا ہو گا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور نبی اکرم ﷺ کے مدمقابل بیٹھ گئے ۔ انہوں نے بھی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد علی بن سعید کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

14378

Majma al-Zawaid #14378

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَائِرًا لِسَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ - وَمَنْزِلُهُ بِالْأَسْوَافِ - فَبَسَطَتِ امْرَأَتُهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَحْتَ صُورٍ مِنْ نَخْلٍ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَلَسْنَا مَعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَطْلُعُ الْآنَ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". فَطَلَعَ أَبُو بَكْرٍ. ثُمَّ قَالَ: "" يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". فَطَلَعَ عُمَرُ. ثُمَّ قَالَ: "" يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". فَطَلَعَ عُثْمَانُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Jābir ibn ʿAbdullāh رضي الله عنهما that the Messenger of Allah ﷺ went out visiting Saʿd ibn al-Rabīʿ al-Anṣārī, whose dwelling was at al-Aswāf, and his wife spread for the Messenger of Allah ﷺ a mat beneath a cluster of palm-trees, and the Messenger of Allah ﷺ sat and they sat with him. Then the Messenger of Allah ﷺ said: there shall now appear before you a man from the people of Paradise. Then Abū Bakr appeared. Then he said: there shall appear before you a man from the people of Paradise. Then ʿUmar appeared. Then he said: > **"There shall now appear before you a man from the people of Paradise."** Then ʿUthmān appeared.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے ۔ ان کا گھر اسواف میں تھا ، ان کی اہلیہ نے کھجور کے درختوں کے جھنڈ کے نیچے نبی اکرم ﷺ کے لئے بچھونا بچھایا ، نبی اکرم ﷺ تشریف فرما ہوئے ، آپ کے ساتھ ہم بھی بیٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابھی تمہارے سامنے اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آئے گا ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آ گئے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تمہارے سامنے آئے گا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ آ گئے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تمہارے سامنے آئے گا ، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آ گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

14379

Majma al-Zawaid #14379

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ تَحْتِ هَذَا الصُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". قَالَ: فَطَلَعَ أَبُو بَكْرٍ، فَهَنَّأْنَاهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثُمَّ لَبِثَ هُنَيْهَةً، ثُمَّ قَالَ: "" يَطْلُعُ مِنْ تَحْتِ هَذَا الصُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". فَطَلَعَ عَمَرُ، فَهَنَّأْنَاهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثُمَّ قَالَ: "" يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ تَحْتِ هَذَا الصُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا "". ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: فَطَلَعَ - صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ -».

EnglishUnverified translation

It is reported from Jābir ibn ʿAbdullāh رضي الله عنهما that the Messenger of Allah ﷺ said: there shall emerge upon you from beneath this cluster of trees a man from the people of Paradise. Then Abū Bakr emerged, and they congratulated him with what the Messenger of Allah ﷺ had said. Then he tarried a little and said: there shall emerge from beneath this cluster a man from the people of Paradise. Then ʿUmar emerged, and they congratulated him likewise. Then he said: there shall emerge upon you from beneath this cluster a man from the people of Paradise; O Allah, if You will, make him ʿAlī, repeating it three times. Then ʿAlī رضي الله عنه emerged, may the prayers of Allah and His peace be upon them: > **"There shall emerge upon you from beneath this cluster a man from the people of Paradise. O Allah, if You will, make him ʿAlī."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ درختوں کے اس جھنڈ کے نیچے سے ایک شخص تمہارے سامنے آئے گا جو جنتی ہو گا ، راوی کہتے ہیں : تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سامنے آئے ، ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ارشاد کے مطابق انہیں مبارک باد دی ، پھر کچھ دیر گزری تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس جھنڈ کے نیچے سے ایک شخص تمہارے سامنے آئے گا ، وہ جنتی ہو گا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سامنے آئے ، نبی اکرم ﷺ کے ارشاد کے بموجب ہم نے انہیں مبارک باد دی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس جھنڈ کے نیچے سے ایک شخص تمہارے سامنے آئے گا جو جنتی ہو گا ، اے اللہ ! اگر تو چاہے ، تو اسے علی بنا دے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، راوی کہتے ہیں : تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سامنے آئے ۔

14380

Majma al-Zawaid #14380

وَفِي رِوَايَةٍ «: " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا».

EnglishUnverified translation

In a narration of it the wording is: > **"O Allah, make him ʿAlī."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اے اللہ ! تو اسے علی بنا دے ۔‘‘ ( یعنی اللہ کرے کہ وہ علی ہو ) ۔

14381

Majma al-Zawaid #14381

وَفِي رِوَايَةٍ «: مَشَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً» - فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَحَدِ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالٌ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

In a narration: I walked with the Messenger of Allah ﷺ to a woman of the Anṣār, and she slaughtered a sheep for him — then he mentioned the like of the preceding ḥadīth about the emergence of Abū Bakr, ʿUmar, and ʿAlī as men of Paradise.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چل کر انصار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی طرف گیا ، اس نے نبی اکرم ﷺ کے لئے بکری ذبح کی ....... اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام احمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14382

Majma al-Zawaid #14382

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا حَائِطًا، ثُمَّ قَالَ: "" يَدْخُلُ عَلَيْكُمُ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ. ثُمَّ قَالَ: "" يَدْخُلُ عَلَيْكُمُ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". فَدَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ. ثُمَّ قَالَ: "" يَدْخُلُ عَلَيْكُمُ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا ""، فَدَخَلَ عَلِيٌّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Abū Masʿūd رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ entered a walled garden one day and said: there shall now enter upon you a man from the people of Paradise. Then Abū Bakr al-Ṣiddīq entered. Then he said: there shall now enter upon you a man from the people of Paradise. Then ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb entered. Then he said: > **"There shall now enter upon you a man from the people of Paradise. O Allah, make him ʿAlī."** Then ʿAlī entered.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک دن ایک باغ میں تشریف لے گئے ، پھر آپ نے فرمایا : ابھی تمہارے پاس اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آئے گا ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابھی تم لوگوں کے پاس اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آئے گا ، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابھی تم لوگوں کے پاس اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آئے گا ، اے اللہ ! تو اسے علی بنا دے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عبدالکریم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14383

Majma al-Zawaid #14383

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ - أَوْ مَا فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ شَكَّ عَلِيُّ بْنُ جَمِيلٍ - مَا عَلَيْهَا وَرَقَةٌ إِلَّا مَكْتُوبٌ عَلَيْهَا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَعُمَرُ الْفَارُوقُ، وَعُثْمَانُ ذُو النُّورَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ جَمِيلٍ الرَّقِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما that the Messenger of Allah ﷺ said — with doubt from ʿAlī ibn Jamīl whether he said a tree or whatever tree is in Paradise — that there is no leaf upon it except that inscribed upon it is: > **"There is no deity but Allah, Muḥammad is the Messenger of Allah, Abū Bakr al-Ṣiddīq, ʿUmar al-Fārūq, ʿUthmān Dhū al-Nūrayn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں ایک درخت ہے ‘‘ یہاں ابن جمیل نامی راوی کو یہ شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : جنت میں جو بھی درخت موجود ہیں اُن کے ہر پتے پر لکھا ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں ، ابوبکر صدیق عمر فاروق عثمان ذوالنورین ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن جمیل رقی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14384

Majma al-Zawaid #14384

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ، وَلِأَبِي بَكْرٍ: "" مَعَ أَحَدِكُمَا جِبْرِيلُ، وَمَعَ الْآخَرِ مِيكَائِيلُ، وَإِسْرَافِيلُ مَلَكٌ عَظِيمٌ يَشْهَدُ الْقِتَالَ أَوْ يَكُونُ فِي الصَّفِّ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿAlī رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said to him and to Abū Bakr on the day of Badr: > **"With one of you is Jibrīl, and with the other is Mīkāʾīl, and Isrāfīl, a mighty angel, witnesses the fighting, or is in the ranks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ’’ تم دونوں میں سے ایک کے ساتھ جبرائیل ہے ، اور دوسرے کے ساتھ میکائیل ہے ، اور اسرافیل جو ایک بڑا فرشتہ ہے ، وہ جنگ میں شریک ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) وہ صف میں موجود ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام احمد نے اس کی مانند نقل کی ہے امام احمد اور امام بزار کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14385

Majma al-Zawaid #14385

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَيٌّ: أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَيَسْمَعُ ذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا يُنْكِرُهُ، مَا نَعْلَمُ عُثْمَانَ جَاءَ بِشَيْءٍ مِنَ الْكَبَائِرِ، وَلَا قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ حِلِّهَا، وَلَكِنَّهُ هَذَا الْمَالُ إِنْ أَعْطَاكُمُوهُ رَضِيتُمْ، وَإِنْ أَعْطَى قُرَيْشًا سَخِطْتُمْ، إِنَّمَا تُرِيدُونَ أَنْ تَكُونُوا كَفَارِسَ وَالرُّومِ لَا يَتْرُكُونَ لَهُمْ أَمِيرًا إِلَّا قَتَلُوهُ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ، إِلَّا أَنَّهُ «قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، ثُمَّ اسْتَوَى النَّاسُ فَيَبْلُغُ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا يُنْكِرُهُ عَلَيْنَا». وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِ الطَّبَرَانِيِّ الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَفِيهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn ʿUmar رضي الله عنهما that he said: while the Messenger of Allah ﷺ was alive we used to say: the best of this ummah after its Prophet are Abū Bakr, and ʿUmar, and ʿUthmān, and the Prophet ﷺ would hear that and not disapprove of it. As far as we know, ʿUthmān never committed anything of the major sins, nor killed a soul without right; rather it is only this wealth — if he gives it to you, you are pleased, and if he gives it to Quraysh, you are angry. You wish only to be like Persia and Rome, who leave no amīr over them except that they kill him. In another wording: Abū Bakr, and ʿUmar, and ʿUthmān, then the people are equal, and that reached the Messenger of Allah ﷺ and he did not disapprove of it against us.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہم لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ اس امت میں نبی اکرم ﷺ کے بعد سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والے فرد حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ بات سنتے تھے اور آپ اس کا انکار نہیں کرتے تھے ، ہمارے علم کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہیں کیا ، کسی جان کو ناحق طور پر قتل نہیں کیا ، اصل معاملہ صرف اس مال کا ہے کہ اگر وہ یہ مال تمہیں دے دیتے ، تو تم نے راضی ہونا تھا اور اگر وہ قریش کو دے دیں تو تم ناراض ہو جاتے ہو ، تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ تم لوگ اہل فارس اور اہل روم کی طرح ہو جاؤ ، کہ جنہوں نے اپنے کسی بھی امیر کو نہیں چھوڑا ، اسے قتل کروا دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم ( اس امت میں افضل ہیں ) اور پھر سب لوگ برابر کی حیثیت رکھتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے اس حوالے سے ہم پر انکار نہیں کیا ۔‘‘ امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی کی معجم کی نقل کردہ روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور ان میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

14386

Majma al-Zawaid #14386

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ غَدَاةٍ بَعْدِ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَقَالَ: "" رَأَيْتُ قُبَيْلَ الْفَجْرِ كَأَنِّي أُعْطِيتُ الْمَقَالِيدَ وَالْمَوَازِينَ. فَأَمَّا الْمَقَالِيدُ فَهَذِهِ الْمَفَاتِيحُ. وَأَمَّا الْمَوَازِينُ فَهَذِهِ الَّتِي يُوزَنُ بِهَا، فَوُضِعْتُ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ، فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُ. ثُمَّ جِيءَ بِأَبِي بَكْرٍ، فَوُزِنَ بِهِمْ فَوَزَنَ. ثُمَّ جِيءَ بِعُمْرَ، فَوُزِنَ بِهِمْ فَوَزَنَ. ثُمَّ جِيءَ بِعُثْمَانَ، فَوُزِنَ بِهِمْ. ثُمَّ رُفِعَتْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" فَرَجَحَ بِهِمْ "". فِي الْجَمِيعِ. وَقَالَ: "" «ثُمَّ جِيءَ بِعُثْمَانَ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ، فَرَجَحَ بِهِمْ، ثُمَّ رُفِعَتْ» ""، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn ʿUmar رضي الله عنهما that the Messenger of Allah ﷺ came out to them one morning after sunrise and said: shortly before dawn I saw as though I were given the keys and the balances. As for the keys, they are these keys, and as for the balances, they are these with which weighing is done. Then I was placed in one pan and my ummah was placed in the other, and I outweighed them. Then Abū Bakr was brought and weighed against them and outweighed. Then ʿUmar was brought and weighed against them and outweighed. Then ʿUthmān was brought and weighed against them, then it was raised: > **"I saw shortly before dawn as though I were given the keys and the balances. Then I was placed in one pan and my ummah in the other, and I outweighed them. Then Abū Bakr was brought and outweighed them. Then ʿUmar was brought and outweighed them. Then ʿUthmān was brought and weighed against them, then it was raised."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن سورج نکلنے کے بعد صبح کے وقت نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ صبح صادق سے کچھ پہلے میں نے دیکھا کہ جیسے مجھے مقالید اور موازین عطا کیے گئے ہیں ، جہاں تک مقالید کا سوال ہے ، تو اس سے مراد چابیاں ہیں ، اور جہاں تک موازین کا معاملہ ہے ، تو اس سے مراد وہ چیز ہے ، جس کے ذریعے وزن کیا جاتا ہے ، تو مجھے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو میں ان سب سے زیادہ وزنی تھا اور میرا پلڑا بھاری ہو گیا ، پھر ابوبکر کو لایا گیا ، اور اس کا وزن ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا تو وہ وزنی تھا ، پھر عمر کو لایا گیا اور اس کا وزن ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا ، تو وہ وزنی تھا ، پھر عثمان کو لایا گیا ، اس کا وزن ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا پھر اس ترازو کو اٹھا لیا گیا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں :” وہ ان سب سے زیادہ وزنی تھا ‘‘ تمام روایت میں یہی الفاظ ہیں ، اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’ پھر عثمان کو لایا گیا اسے ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو عثمان ان سب سے وزنی تھا پھر وہ پلڑا اٹھا لیا گیا ۔‘‘ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

14387

Majma al-Zawaid #14387

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَسَمِعْتُ فِيهَا خَشْفَةً بَيْنَ يَدَيَّ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: بِلَالٌ. فَمَضَيْتُ، فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقُرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ وَذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ، وَلَمْ أَرَ فِيهَا أَحَدًا أَقَلَّ مِنَ النِّسَاءِ وَالْأَغْنِيَاءِ. قِيلَ لِي: أَمَّا الْأَغْنِيَاءُ ; فَهُمْ هَاهُنَا يُحَاسَبُونَ وَيُمَحَّصُونَ، وَأَمَّا النِّسَاءُ ; فَأَلْهَاهُنَّ الْأَحْمَرَانِ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ "". قَالَ: "" ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ أَحَدِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ، فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ أُتِيتُ بِكِفَّةٍ، فَوُضِعْتُ فِيهَا وَوُضِعَتْ أُمَّتِي، فَرَجَحْتُ بِهَا. ثُمَّ أُتِيَ بِأَبِي بَكْرٍ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ، وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ. ثُمَّ جِيءَ بِعُمَرَ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ، وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعُوا، فَرَجَحَ عُمَرُ. وَعُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي رَجُلًا رَجُلًا، فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ، فَاسْتَبْطَأْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَجَاءَ بَعْدَ الْإِيَاسِ، فَقُلْتُ: عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟ فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ [وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ]، مَا خَلَصْتُ إِلَيْكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي لَا أَخْلُصُ إِلَيْكَ أَبَدًا إِلَّا بَعْدَ الْمُشِيبَاتِ. قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ كَثْرَةِ مَالِي أُحَاسَبُ وَأُمَحَّصُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِمَا مُطَّرِحُ بْنُ زِيَادٍ وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَكِلَاهُمَا مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ، وَمِمَّا يَدُلُّكَ عَلَى ضَعْفِ هَذَا: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَحَدُ أَصْحَابِ بَدْرٍ وَالْحُدَيْبِيَةِ، وَأَحَدُ الْعَشْرَةِ، وَهُمْ أَفْضَلُ الصَّحَابَةِ. وَالْحَمْدُ لِلَّهِ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Abū Umāmah رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: I entered Paradise and heard before me a movement, and I asked what it was, and they said: Bilāl. Then I went on, and most of the people of Paradise were the poor of the Muhājirīn and the offspring of the Muslims, and I saw none therein fewer than women and the wealthy. It was said to me: as for the wealthy, they are detained here, being reckoned and sifted, and as for women, the two red things — gold and silk — distracted them. Then we exited from one of the eight gates of Paradise, and when I was at the gate I was brought a balance, and I was placed in one pan and my ummah placed in the other, and I outweighed them. Then Abū Bakr was brought and placed in one pan and my whole ummah placed in the other, and Abū Bakr outweighed. Then ʿUmar was brought and placed in one pan and my whole ummah brought and placed, and ʿUmar outweighed. Then my ummah was presented to me man by man, and they kept passing, but I found ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf delayed, and he came after despair. I said: ʿAbd al-Raḥmān. He said: by my father and mother, O Messenger of Allah, by the One who sent you with the truth, I did not reach you until I thought I would never reach you except after grey hairs, on account of my abundant wealth, for I was reckoned and sifted: > **"I entered Paradise and heard before me a movement, and they said: Bilāl. Then I was placed in one pan and my ummah in the other, and I outweighed them. Then Abū Bakr was placed in one pan and my whole ummah in the other, and Abū Bakr outweighed. Then ʿUmar was placed in one pan and my whole ummah in the other, and ʿUmar outweighed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی ، میں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یہ بلال ہیں ، میں گیا ، تو اہل جنت میں اکثریت مہاجرین کے غریب لوگوں اور مسلمانوں کے بچوں کی تھی اور میں نے وہاں سب سے زیادہ کم تعداد خوشحال لوگوں اور خواتین کی پائی ، مجھ سے کہا گیا کہ جہاں تک خوشحال لوگوں کا تعلق ہے ، تو انہیں وہاں روک لیا گیا ہے ، اور ان سے حساب لیا جائے گا ، اور تفتیش کی جائے گی ، اور جہاں تک خواتین کا تعلق ہے تو دو سرخ چیزوں یعنی سونے اور ریشم نے انہیں غافل کر دیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر ہم جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک دروازے سے نکلے ، جب میں دروازے کے پاس پہنچا تو میرے پاس ایک ترازو لایا گیا ، جس کے ایک پلڑے میں مجھے رکھا گیا ، اور دوسرے پلڑے میں میری امت کو رکھا گیا ، تو میں ان سب سے وزنی تھا ، پھر ابوبکر کو لایا گیا ، اور اسے ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری پوری امت کو لا کر دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو ابوبکر وزنی تھا ، پھر عمر کو لایا گیا ، اسے ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری پوری امت کو لایا گیا ، اور ان لوگوں کو رکھا گیا ، تو عمر والا پلڑا وزنی تھا ، پھر میرے سامنے میری امت کے ایک ایک فرد کو پیش کیا گیا ، وہ لوگ گزرتے رہے ، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے آنے میں تاخیر ہو گئی ، وہ کچھ دیر کے بعد آیا ، میں نے کہا : عبدالرحمن ( کیا ہوا ؟ ) تو اس نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں آپ کے پاس اس وقت پہنچ پایا ہوں جب میں یہ گمان کر چکا تھا کہ میں کبھی بھی آپ کے پاس نہیں پہنچ سکوں گا ، صرف اس صورت میں پہنچ سکوں گا ، جب بوڑھا ہو جاؤں گا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا تھی ؟ انہوں نے بتایا : میرے مال کی کثرت ( وجہ تھی ) مجھ سے حساب لیا جا رہا تھا اور تفتیش کی جا رہی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں کی روایات کی سند میں ایک راوی مطرح بن زیاد ہے ، اور ایک راوی علی بن یزید الہانی ، ان دونوں کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ، اور جو بات اس روایت کے ضعیف ہونے پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا شمار غزوہ بدر اور غزوہ حدیبیہ میں شرکت کرنے والے افراد میں ہوتا ہے ، وہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں ، اور فضیلت رکھنے والے صحابہ میں سے ہیں ، باقی ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ۔

14388

Majma al-Zawaid #14388

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أُرِيتُ أَنِّي وُضِعْتُ فِي كِفَّةٍ وَأُمَّتِي فِي كِفَّةٍ، فَعَدَلْتُهَا، ثُمَّ وُضِعَ أَبُو بَكْرٍ فِي كِفَّةٍ وَأُمَّتِي فِي كِفَّةٍ، فَعَدَلَهَا، ثُمَّ وُضِعَ عُمَرُ فِي كِفَّةٍ وَأُمَّتِي فِي كِفَّةٍ، فَعَدَلَهَا، وَوُضِعَ عُثْمَانُ فِي كِفَّةٍ وَأُمَّتِي فِي كِفَّةٍ، فَعَدَلَهَا، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقَدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ: كَانَ صَدُوقًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"I was shown that I was placed in one pan and my ummah in the other, and I balanced them. Then Abū Bakr was placed in one pan and my ummah in the other, and he balanced them. Then ʿUmar was placed in one pan and my ummah in the other, and he balanced them. And ʿUthmān was placed in one pan and my ummah in the other, and he balanced them. Then the balance was raised."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو ایک پلڑے میں رکھا گیا ، تو میرا پلڑا وزنی تھا ، پھر ابوبکر کو ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو ابوبکر ان سے وزنی تھا ، پھر عمر کو ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو وہ ان سے وزنی تھا ، پھر عثمان کو ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو وہ ان سے وزنی تھا ، پھر میزان کو اٹھا لیا گیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے ، اور وہ متروک ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، محمد بن مبارک صوری بیان کرتے ہیں : وہ صدوق تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14389

Majma al-Zawaid #14389

وَعَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَجْرَ، ثُمَّ قَالَ: "" وُزِنَ أَصْحَابِي اللَّيْلَةَ ; فَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ فَوَزَنَ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ فَوَزَنَ، ثُمَّ وُزِنَ عُثْمَانُ فَوَزَنَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ فِي رِوَايَاتٍ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿArfajah رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ led them in Fajr prayer, then said: > **"My Companions were weighed last night; Abū Bakr was weighed and outweighed, then ʿUmar was weighed and outweighed, then ʿUthmān was weighed and outweighed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ گزشتہ رات میرے اصحاب کا وزن کیا گیا ، ابوبکر کا وزن کیا گیا ، تو وہ وزنی تھا ، عمر کا وزن کیا گیا ، تو وہ وزنی تھا پھر عثمان کا وزن کیا گیا ، تو وہ وزنی تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے ، اور وہ متروک ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر روایات کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

14390

Majma al-Zawaid #14390

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ: "" وُزِنَ أَصْحَابِي اللَّيْلَةَ فَوَزَنَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ وَزَنَ عُمَرُ، ثُمَّ وَزَنَ عُثْمَانُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ: هَكَذَا رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَرَوَاهُ سَعْدَوَيْهِ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي الْمُسَاوِرِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَرْفَجَةَ. قُلْتُ: وَفِي إِسْنَادِ هَذَا أَيْضًا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، وَتَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى ضَعْفِهِ قَبْلَ هَذَا الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Usāmah ibn Sharīk رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said one day: > **"My Companions were weighed last night, and Abū Bakr outweighed, then ʿUmar outweighed, then ʿUthmān outweighed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ گزشتہ رات میرے اصحاب کا وزن کیا گیا ، ابوبکر کا وزن کیا گیا پھر عمر کا وزن کیا گیا پھر عثمان کا وزن کیا گیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یزید بن ہارون نے اسے اس طرح نقل کیا ہے ، اور سدویہ نے اسے عبدالاعلیٰ بن ابومساور کے حوالے سے زیاد بن علاقہ کے حوالے سے قطبہ بن ملک کے حوالے سے حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس روایت کی سند میں بھی ایک راوی عبدالاعلی بن ابومساور نامی راوی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر کلام اس حدیث سے پہلے گزر چکا ہے ۔

14391

Majma al-Zawaid #14391

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ أَسَنَّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ وَغَيْرِهِ فِي بَابِ مَنَاقِبِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ بَعْدَ فَضْلِ الْعَشْرَةِ. إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Anas رضي الله عنه that he said: the eldest in age of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ were Abū Bakr al-Ṣiddīq and Suhayl ibn ʿAmr رضي الله عنهما.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت سہل بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کی فضیلت کے بارے میں کچھ احادیث صحابہ کرام کی ایک جماعت کے مناقب سے متعلق باب میں آئیں گی ، جو عشرہ مبشرہ کی فضیلت کے بعد آئے گا ، اگر اللہ نے چاہا ۔

14392

Majma al-Zawaid #14392

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «تَذَاكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ مِيلَادَهُمَا عِنْدِي، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْبَرَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، [وَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ] لِسَنَتَيْنِ وَنِصْفٍ الَّتِي عَاشَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ أَنَّهُ تُوُفِّيَ، وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿĀʾishah رضي الله عنها that the Messenger of Allah ﷺ and Abū Bakr recalled their births in her presence, and the Messenger of Allah ﷺ was older than Abū Bakr. The Messenger of Allah ﷺ passed away at sixty-three years, and Abū Bakr رضي الله عنه passed away at sixty-three, after living two and a half years after the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میرے سامنے نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی پیدائش کا تذکرہ کر رہے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ کی عمر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ تھی ، جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا تو اس وقت آپ کی عمر شریف تریسٹھ برس تھی جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو وہ بھی تریسٹھ سال کے تھے اور وہ یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بعد اڑھائی برس زندہ رہے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ’’ صحیح ‘‘ میں اس میں سے صرف یہ حصہ مذکور ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14393

Majma al-Zawaid #14393

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ، وَأَبُو بَكْرٍ بِمَنْزِلَتِهِ. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ قَوْلِهِ: وَأَبُو بَكْرٍ بِمَنْزِلَتِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما that he said: the Messenger of Allah ﷺ passed away at sixty-five years, and Abū Bakr was of the same age.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا وصال پینسٹھ سال کی عمر میں ہوا تھا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر بھی اتنی ہی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت صحیح میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ’’ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر بھی اتنی ہی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14394

Majma al-Zawaid #14394

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَدُفِنَ لَيْلًا، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُمَرُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Saʿīd ibn al-Musayyab that Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه passed away at sixty-three years, and he was buried at night, and ʿUmar رضي الله عنه prayed over him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر تریسٹھ سال تھی ، انہیں رات کے وقت دفن کیا گیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14395

Majma al-Zawaid #14395

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ، وَدُفِنَ لَيْلًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿĀʾishah رضي الله عنها that she said: Abū Bakr passed away on the night of Tuesday and was buried at night.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال منگل کی رات ہوا تھا اور انہیں رات کے وقت دفن کر دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14396

Majma al-Zawaid #14396

وَعَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عِمْرَانَ قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي يَقُولُ: تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَبِهِ طَرَفٌ مِنَ السُّلِّ، وَوُلِّيَ سَنَتَيْنِ وَنِصْفًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from al-Haytham ibn ʿImrān that he heard his grandfather say: Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه passed away while afflicted with a trace of consumption, and he ruled for two and a half years.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہیثم بن عمران بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے دادا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ’’ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہوا تھا ، تو انہیں کسی حد تک ’ سل ‘ کی بیماری کی شکایت تھی ، وہ اڑھائی سال تک خلیفہ رہے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14397

Majma al-Zawaid #14397

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ: اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْيَوْمِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتُوُفِّيَ فِي جُمَادَى الْآخِرَةِ سَنَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from al-Zubayr ibn Bakkār that Abū Bakr was made caliph on the very day the Messenger of Allah ﷺ passed away, and he passed away in Jumādā al-Ākhirah in the year thirteen. Then he mentioned the ḥadīth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر ہی اللہ کو اسی دن خلیفہ منتخب کر لیا گیا ، جس دن نبی اکرم علی کا وصال ہوا تھا اور حضرت ابوبکر بھی ان کا انتقال جمادی الاول کے مہینے میں تیرہ ہجری میں ہوا تھا ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14398

Majma al-Zawaid #14398

عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ نُفَيْلِ بْنِ عَبَدِ الْعُزَّى بْنِ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطِ بْنِ رُزَاحِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ، يُكَنَّى: أَبَا حَفْصٍ، وَأُمُّهُ: حَنْتَمَةُ بِنْتُ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَخْزُومٍ، وَأُمُّ حَنْتَمَةَ: الشِّفَاءُ بِنْتُ [عَبْدِ] قَيْسِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَهْمِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هَصِيصِ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ صَحِيحٌ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn Isḥāq that he said: ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb ibn Nufayl ibn ʿAbd al-ʿUzzā ibn Rabāḥ ibn ʿAbdullāh ibn Qurṭ ibn Razāḥ ibn ʿAdī ibn Kaʿb ibn Luʾayy ibn Ghālib ibn Fihr ibn Mālik, surnamed Abū Ḥafṣ. His mother was Ḥantamah bint Hishām ibn al-Mughīrah ibn ʿAbdullāh ibn ʿAmr ibn Makhzūm, and the mother of Ḥantamah was al-Shifāʾ bint ʿAbd Qays ibn ʿAdī ibn Saʿīd ibn Sahm ibn ʿAmr ibn Haṣīṣ ibn Kaʿb ibn Luʾayy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نام و نسب یہ ہے ) عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزیٰ بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوحفص تھی ، ان کی والدہ کا نام حلیمہ بنت ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمرو بن مخزوم ہے حنتمہ کی والدہ کا نام شفاء بنت عبدالقیس بن عدی بن سعید بن سہم بن عمرو بن ہصیص بن کعب بن لؤی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ابن اسحاق سے منقول ہونے کے حوالے سے یہ حدیث مستند ہے ۔

14399

Majma al-Zawaid #14399

عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ: مَنْ أَوَّلُ مَنْ كَتَبَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَتْنِي الشِّفَاءُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ - وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ - أَنَّ لَبِيدَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَعَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، قَدِمَا الْمَدِينَةَ، فَأَتَيَا الْمَسْجِدَ، فَوَجَدَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فَقَالَا: يَا ابْنَ الْعَاصِ، اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: أَنْتُمَا وَاللَّهِ أَصَبْتُمَا اسْمَهُ ; فَهُوَ الْأَمِيرُ، وَنَحْنُ الْمُؤْمِنُونَ. فَدَخَلَ عَمْرٌو عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَقَالَ عُمَرُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: أَنْتَ الْأَمِيرُ، وَنَحْنُ الْمُؤْمِنُونَ. فَجَرَى الْكِتَابُ مِنْ يَوْمِئِذٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn Shihāb that ʿUmar ibn ʿAbd al-ʿAzīz asked Abū Bakr ibn Sulaymān ibn Abī Ḥathmah: who was the first to write as from ʿAbdullāh, the Commander of the Believers. He said: al-Shifāʾ bint ʿAbdullāh رضي الله عنها, who was among the first emigrant women, informed me that Labīd ibn Rabīʿah and ʿAdī ibn Ḥātim came to Madīnah and entered the mosque and found ʿAmr ibn al-ʿĀṣ, and said: O Ibn al-ʿĀṣ, seek permission for us to see the Commander of the Believers. He said: by Allah, you have hit his very name; he is the commander and we are the believers. So ʿAmr entered upon ʿUmar and said: peace be upon you, O Commander of the Believers. ʿUmar asked: what is this. He said: you are the commander and we are the believers. So writing in that form began from that day.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ابوبکر بن سلیمان بن ابوحثمہ سے دریافت کیا : سب سے پہلے کس نے یہ تحریر لکھوائی تھی کہ یہ اللہ کے بندے امیرالمومنین کی طرف سے ہے ، تو ابوبکر بن سلیمان نے جواب دیا : شفاء بنت عبداللہ جو ابتداء میں ہجرت کرنے والی خواتین میں سے ایک ہیں ، انہوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم ، یہ دونوں مدینہ منورہ آئے ، یہ دونوں مسجد میں آئے ، ان دونوں نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو وہاں پایا ، تو ان دونوں نے یہ کہا : اے حضرت ابن العاص ! آپ امیرالمومنین سے ہمارے لئے اندر آنے کی اجازت لے لیں ، تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! تم دونوں نے ان دونوں کا بالکل ٹھیک نام لیا ہے ، وہ امیر ہیں اور ہم مومنین ہیں ۔ اس کے بعد حضرت عمرو رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : اے امیرالمومنین آپ پر سلام ہو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یہ کیا نام ہوا ؟ انہوں نے کہا : آپ امیر ہیں ، اور ہم مومنین ہیں ، تو اس دن سے تحریر میں یہ نام جاری ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14400

Majma al-Zawaid #14400

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: رَكِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَرَسًا، فَرَكَضَهُ فَانْكَشَفَ فَخِذُهُ، فَرَأَى أَهْلُ نَجْرَانُ عَلَى فَخِذِهِ شَامَةً سَوْدَاءَ قَالُوا: هَذَا الَّذِي نَجِدُ فِي كِتَابِنَا: إِنَّهُ يُخْرِجُنَا مِنْ أَرْضِنَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿAbdullāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, that ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb mounted a horse and spurred it, so his thigh became uncovered, and the people of Najrān saw upon his thigh a black mole and said: this is the one we find in our Book, that he shall expel us from our land.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گھوڑے پر سوار ہوئے ، انہوں نے اسے ایڑ لگائی ، تو ان کے زانوں سے کپڑا ہٹ گیا ، اہل نجران نے ان کے زانوں پر سیاہ رنگ کا تل دیکھا ، تو بولے : یہ وہی صاحب ہیں جن کا ذکر ہم نے اپنی کتاب میں پایا ہے ، کہ یہ ہمیں ہماری سرزمین سے نکال دیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14401

Majma al-Zawaid #14401

وَعَنْ زِرٍّ قَالَ: كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ، أَعْسَرُ أَيْسَرُ، ضَخْمٌ، إِذَا أَشْرَفَ عَلَى النَّاسِ كَأَنَّهُ عَلَى دَابَّةٍ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Zirr that he said: I was in Madīnah when a man appeared, brown-skinned, left-handed and ambidextrous, bulky, such that when he overlooked the people it was as though he were upon a mount — and behold, it was ʿUmar رضي الله عنه.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں موجود تھا وہاں ایک گندمی رنگ کے صاحب موجود تھے جن کے سر کے آگے کے بال اڑے ہوئے تھے ، وہ بھاری بھرکم شخصیت کے مالک تھے ، وہ جب لوگوں کے درمیان ہوتے تو یوں محسوس ہوتا ، جیسے کسی سواری پر سوار ہیں ۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14402

Majma al-Zawaid #14402

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ رَجُلًا ضَخْمًا، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ سَدُوسٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿAbdullāh ibn Hilāl that he said: I saw ʿUmar as a bulky man, as though he were from the men of Sadūs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ہلال بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ایک بھاری بھرکم شخص تھے ، یوں جیسے وہ سدوس سے تعلق رکھنے والے فرد ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14403

Majma al-Zawaid #14403

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: كَانَ عُمَرُ أَصْلَعَ شَدِيدَ الصَّلَعِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْخِضَابِ بَعْضُ صِفَاتِهِ وَصِفَاتِ غَيْرِهِ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Saʿīd ibn al-Musayyab that he said: ʿUmar was bald, severely bald.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بال آگے کی طرف سے بالکل اڑے ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے خضاب سے متعلق باب میں ان کا اور دیگر لوگوں کا کچھ حلیہ بیان ہو چکا ہے ۔

14404

Majma al-Zawaid #14404

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَوْ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ "". فَجَعَلَ اللَّهُ دَعْوَةَ رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَبَنَى عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ، وَهَدَمَ بِهِ الْأَوْثَانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ، وَقَالَ: "" «أَيِّدِ الْإِسْلَامَ» "". وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿAbdullāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"O Allah, strengthen Islām through ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, or through Abū Jahl ibn Hishām."** So Allah assigned the supplication of His Messenger ﷺ to ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, and built Islām upon him and demolished idols through him. In a wording: support Islām.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! تو عمر بن خطاب یا ابوجہل بن ہشام کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما ۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حق میں نبی اکرم ﷺ کی دعا کو قبول کیا اور ان کے ذریعے اسلام کو مضبوط کیا اور بتوں کو منہدم کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں :” اسلام کی تائید فرما ۔‘‘ معجم کبیر کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف مجالد بن سعید کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

14405

Majma al-Zawaid #14405

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ اشْدُدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"O Allah, strengthen Islām through ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اے اللہ ! عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو مضبوط کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14406

Majma al-Zawaid #14406

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا عَشِيَّةَ الْخَمِيسِ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَوْ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ "". فَأَصْبَحَ عُمَرُ يَوْمَ الْجُمْعَةِ، فَأَسْلَمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Anas ibn Mālik رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ supplicated on Thursday evening, saying: > **"O Allah, strengthen Islām through ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, or through ʿAmr ibn Hishām."** And on Friday morning ʿUmar embraced Islām.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جمعرات کی شام دعا کرتے ہوئے یہ کہا : ’’ اے اللہ ! عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما ۔‘‘ تو اگلے دن جمعہ کے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عثمان بصری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14407

Majma al-Zawaid #14407

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «خَرَجْتُ أَبْغِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ أُسْلِمَ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ، فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْحَاقَّةِ، فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ مِنْ تَأْلِيفِ الْقُرْآنِ. قَالَ: فَقُلْتُ: هَذَا وَاللَّهِ شَاعِرٌ كَمَا قَالَتْ قُرَيْشٌ. قَالَ: فَقَرَأَ: {إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ - وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ} [الحاقة: 40 - 41] قُلْتُ: كَاهِنٌ. قَالَ: {وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ - تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الحاقة: 42 - 43] إِلَى آخِرِ السُّورَةِ. قَالَ: فَوَقَعَ الْإِسْلَامُ مِنْ قَلْبِي كُلَّ مَوْقِعٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ شُرَيْحَ بْنَ عُبَيْدٍ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه that he said: I went out seeking the Messenger of Allah ﷺ before I embraced Islām, and found that he had preceded me to the mosque. So I stood behind him, and he opened with Sūrat al-Ḥāqqah, and I marvelled at the composition of the Qurʾān. I said to myself: by Allah, this is a poet, as Quraysh say. Then he recited: Indeed it is the word of a noble Messenger, and it is not the word of a poet, little do you believe. I said to myself: a soothsayer. Then he recited: Nor the word of a soothsayer, little do you remember; a revelation from the Lord of the worlds, to the end of the sūrah. He said: so Islām took every hold in my heart.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اسلام قبول کرنے سے پہلے نبی اکرم ﷺ کی تلاش میں نکلا ، آپ مجھ سے پہلے مسجد میں پہنچے ہوئے تھے ، میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا ، آپ نے سورت حاقہ پڑھنی شروع کی ، تو قرآن کے نظم کے حوالے سے میں بہت حیران ہوا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے سوچا اللہ کی قسم ! یہ صاحب شاعر ہیں ، جس طرح قریش یہ بات کہتے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اسی دوران نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ یہ معزز رسول کا ( نقل کیا ہوا ) کلام ہے ، یہ شاعر کا کلام نہیں ہے ( مگر ) تم کم ہی یقین رکھتے ہو ۔‘‘ میں نے سوچا کہ یہ کاہن ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ یہ کسی کاہن کا کلام نہیں ہے ( مگر ) تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو اس وقت اسلام مکمل طور پر میرے دل میں گھر کر گیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ شریح بن عبید نامی راوی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔