Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 2

Book of Virtues and Merits

Hadith 14328–14367

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14328

Majma al-Zawaid #14328

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: «اسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَأَشَارُوا عَلَيْهِ ; فَأَصَابَ أَبُو بَكْرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd al-Sāʿidī رضي الله عنه said the Messenger of Allah ﷺ consulted Abū Bakr and ʿUmar, so they counselled him, and Abū Bakr was correct.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مشورہ لیا ، دوسرے لوگوں نے بھی نبی اکرم ﷺ کو مشورہ دیا ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے اس بارے میں درست ثابت ہوئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ ابوبکر سے غلطی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14329

Majma al-Zawaid #14329

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَمَّا أُسْرِيَ بِي إِلَى السَّمَاءِ دَخَلْتُ جَنَّةَ عَدْنٍ، فَوَقَعَتْ فِي يَدِي [تُفَّاحَةٌ]، فَلَمَّا وَضَعْتُهَا فِي يَدَيَّ انْفَلَقَتْ عَنْ حَوْرَاءَ، عَيْنَاءَ، مُرْضِيَةٍ، أَشْفَارُ عَيْنَيْهَا كَمَقَادِيمِ أَجْنِحَةِ النُّسُورِ، قُلْتُ لَهَا: لِمَنْ أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا لِلْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ: مُقَارِبُ الْحَدِيثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْعَبْدِيِّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUqba ibn ʿĀmir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said when he was taken up to the heaven he entered the Garden of Eden, and there fell into his hand an apple. When he placed it in his hands it split open revealing a wide-eyed ḥūrī, pleasing, the lashes of her eyes like the foreparts of vultures' wings. He said to her, for whom are you. She said, I am for the Khalīfa after you. > **"When I was taken up to the heaven I entered the Garden of Eden, and there fell into my hand an apple. When I placed it in my hands it split open revealing a wide-eyed ḥūrī, pleasing, the lashes of her eyes like the foreparts of vultures' wings. I said to her: For whom are you? She said: I am for the Khalīfa after you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب مجھے آسمان کی طرف معراج کروائی گئی ، تو میں جنت عدن میں داخل ہوا ، میرے سامنے ایک سیب آیا ، جب میں نے اسے اپنے ہاتھ میں رکھا تو وہ ایک حور کی طرف سے آیا تھا ، جو خوبصورت آنکھوں والی پسندیدہ شخصیت کی مالک تھی ، اس کی آنکھوں کی پلکیں یوں تھیں جس طرح عقاب کے آگے والے پر ہوتے ہیں ، میں نے اس سے دریافت کیا : تم کس کو ملو گی ؟ اس نے جواب دیا : میں آپ کے بعد والے خلیفہ کے لئے ہوں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد بکر بن سہل کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے اس نے سلیمان عبدی کے حوالے سے اس روایت کو نقل کیا ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14330

Majma al-Zawaid #14330

وَعَنْ جَابِرٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى خَلَفَ أَبِي بَكْرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ هِشَامٍ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ prayed behind Abū Bakr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن ہشام ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

14331

Majma al-Zawaid #14331

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ لَا يَبْقَى فِي الْجَنَّةِ أَهْلُ دَارٍ وَلَا غُرْفَةٍ إِلَّا قَالُوا: مَرْحَبًا مَرْحَبًا، إِلَيْنَا إِلَيْنَا "". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا ثَوَابُ هَذَا الرَّجُلِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَجَلْ أَنْتَ هُوَ يَا أَبَا بَكْرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي بَكْرٍ السَّالِمِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said a man shall enter Paradise and no household nor chamber in Paradise shall remain except that they say welcome, welcome, to us, to us. Abū Bakr said, O Messenger of Allah, what is the reward of this man on that day. The Messenger of Allah ﷺ said, yes, you are he O Abū Bakr. > **"A man shall enter Paradise and no household nor chamber in Paradise shall remain except that they say: Welcome, welcome, to us, to us."** > **"Yes, you are he, O Abū Bakr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک شخص جنت میں داخل ہو گا ، تو جنت میں موجود ہر گھر اور ہر بالاخانے کے سب لوگ یہ کہیں گے خوش آمدید ، خوش آمدید ، ہماری طرف آئیں ، ہماری طرف آئیں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کیا سمجھتے ہیں ۔ وہ شخص آج بھی موجود ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں اے ابوبکر ! وہ تم ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف احمد بن ابوبکر سالمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14332

Majma al-Zawaid #14332

وَعَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: السَّبَّاقُ، يَذْكُرُونَ السَّبَّاقَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا اسْتَبَقْنَا إِلَى خَيْرٍ قَطُّ إِلَّا سَبَقَنَا إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُفَضَّلِ الْحَرَّانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ṣila ibn Zufar said when Abū Bakr was mentioned before ʿAlī رضي الله عنه, he would say the forerunner, mentioning the forerunner. He said, by Him in Whose Hand is his soul, they never vied toward any good except that Abū Bakr outstripped them to it. > **"By Him in Whose Hand is my soul, we never vied toward any good except that Abū Bakr outstripped us to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں : جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا جاتا تو وہ فرماتے تھے : سبقت لے جانے والے لوگ ، سبقت لے جانے والوں کا ذکر کرتے ہیں ، پھر انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، ہم نے جب بھی کسی بھلائی کی طرف سبقت لے جانے کی کوشش کی ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کی طرف ہم سے سبقت لے جا چکے ہوتے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن عبدالرحمن بن مفضل حرانی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14333

Majma al-Zawaid #14333

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ: «خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، أَخْبَرُونِي مَنْ أَشْجَعُ النَّاسِ؟ قَالُوا: أَوْ قَالَ: - قُلْنَا: أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: أَمَا إِنِّي مَا بَارَزْتُ أَحَدًا إِلَّا انْتَصَفْتُ مِنْهُ، وَلَكِنْ أَخْبَرُونِي بِأَشْجَعِ النَّاسِ. قَالُوا: لَا نَعْلَمُ، فَمَنْ؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، إِنَّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ، جَعَلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَرِيشًا، فَقُلْنَا: مَنْ يَكُونُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِئَلَّا يَهْوِيَ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ؟ فَوَاللَّهِ مَا دَنَا مِنْهُ أَحَدٌ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ شَاهِرًا بِالسَّيْفِ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَهْوِي إِلَيْهِ أَحَدٌ إِلَّا أَهْوَى إِلَيْهِ ; فَهَذَا أَشْجَعُ النَّاسِ. فَقَالَ عَلِيٌّ: وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخَذَتْهُ قُرَيْشٌ، فَهَذَا نَحَّاهُ وَهَذَا يُتَلْتِلُهُ، وَهُمْ يَقُولُونَ: أَنْتَ الَّذِي جَعَلْتَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا؟ قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا دَنَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ، يَضْرِبُ هَذَا، وَيُحَارُّ وَيُتَلْتِلُ هَذَا، وَهُوَ يَقُولُ: وَيْلَكُمُ! أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ؟ ثُمَّ رَفَعَ عَلِيٌّ بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ بَكَى حَتَّى اخْضَلَّتْ لِحَيَّتُهُ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ أَمُؤْمِنُ آلِ فِرْعَوْنَ خَيْرٌ أَمْ أَبُو بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ: أَلَا تُجِيبُونِي؟ فَوَاللَّهِ لَسَاعَةٌ مِنْ أَبِي بَكْرٍ خَيْرٌ مِنْ مِثْلِ مُؤْمِنِ آلِ فِرْعَوْنَ، ذَاكَ رَجُلٌ كَتَمَ إِيمَانَهُ، وَهَذَا رَجُلٌ أَعْلَنَ إِيمَانَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAqīl said ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه addressed them and said, O people, inform me who is the bravest of people. They said, you O Commander of the Believers. He said, as for him, he never faced anyone in single combat except that he took his due from him, but inform him of the bravest of people. They said, we do not know, who is it. He said, Abū Bakr. On the day of Badr they made a shelter for the Messenger of Allah ﷺ and said who shall be with the Messenger of Allah ﷺ lest any of the polytheists fall upon him. By Allah, none drew near him except Abū Bakr, brandishing a sword over the head of the Messenger of Allah ﷺ, none falling upon him except that he fell upon him. This is the bravest of people. ʿAlī said, he saw the Messenger of Allah ﷺ when Quraysh seized him, one pushing him away and another shaking him violently, saying, are you the one who made the gods one God. By Allah, none of them drew near except Abū Bakr, striking this one, defending and shaking off that one, saying, woe to you, would you kill a man for saying my Lord is Allah. Then ʿAlī lifted a cloak that was upon him, then wept until his beard became wet, then said, I adjure you by Allah, is the believer of the household of Pharaoh better or Abū Bakr. The people fell silent, so he said, will you not answer me. By Allah, an hour of Abū Bakr is better than the like of the believer of Pharaoh's household. That was a man who concealed his faith, while this is a man who proclaimed his faith. > **"O people, inform me who is the bravest of people?"** > **"Woe to you! Would you kill a man for saying: My Lord is Allah?"** > **"I adjure you by Allah: Is the believer of Pharaoh's household better, or Abū Bakr? By Allah, an hour of Abū Bakr is better than the like of the believer of Pharaoh's household. That was a man who concealed his faith, while this is a man who proclaimed his faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو تم لوگ مجھے بتاؤ کہ لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر کون ہے ، راوی کہتے ہیں : یا شاید یہ الفاظ ہیں ۔ ہم نے کہا : اے امیرالمومنین ! آپ ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک میرا تعلق ہے ، تو میں نے جس کسی کو بھی مقابلے کے لئے للکارا اسے پسپا کر دیا ، لیکن تم لوگ مجھے یہ بتاؤ کہ سب سے زیادہ بہادر کون ہے ؟ لوگوں نے کہا : ہمیں نہیں معلوم کون ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ابوبکر ، غزوہ بدر کے دن ہم نے نبی اکرم ﷺ کے لئے ایک چھپر تیار کیا ، ہم نے سوچا کہ کون نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہے گا ، تاکہ مشرکین میں سے کوئی شخص آپ کی طرف نہ آ سکے ، تو اللہ کی قسم ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کوئی نبی اکرم ﷺ کے قریب نہیں ہوا ، وہ تلوار سونت کر نبی اکرم ﷺ کے سرہانے کھڑے رہے ، جو بھی شخص نبی اکرم ﷺ کی طرف آنا چاہتا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کی طرف چلے جاتے ، تو وہ سب سے زیادہ بہادر شخص تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ قریش نے نبی اکرم ﷺ کو پکڑ لیا ، کوئی شخص آپ کو دھکے دے رہا تھا اور کوئی شخص آپ کو کھینچ رہا تھا ، اور وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے ، کیا آپ وہ فرد ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ معبود صرف ایک ہی ہوتا ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اس وقت ہم میں سے کوئی بھی آپ کے قریب نہیں ہوا ، صرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور وہ کسی کو مار رہے تھے ، کسی کو پرے کر رہے تھے ، کسی کو کھینچ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے ، تم لوگوں کا ستیاناس ہو ، کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے جسم پر موجود چادر کو اٹھایا اور رونے لگے ، یہاں تک کہ ان کی داڑھی تر ہو گئی ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آل فرعون سے تعلق رکھنے والا کوئی مومن زیادہ بہتر ہے یا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ زیادہ بہتر ہیں ؟ تو لوگ خاموش رہے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ مجھے جواب کیوں نہیں دیتے ؟ اللہ کی قسم ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ایک گھڑی آل فرعون سے تعلق رکھنے والے کسی مومن جیسے فرد سے زیادہ بہتر ہے ، کیونکہ ان لوگوں نے اپنے ایمان کو چھپایا تھا اور ان صاحب نے اپنے ایمان کا اعلان کیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14334

Majma al-Zawaid #14334

وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ: قِيلَ لَعَلِيٍّ: أَلَا تَسْتَخْلِفُ؟ قَالَ: «مَا اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْتَخْلِفُ عَلَيْكُمْ، وَإِنْ يُرِدِ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِالنَّاسِ خَيْرًا، فَسَيَجْمَعُهُمْ عَلَى خَيْرِهِمْ كَمَا جَمَعَهُمْ بَعْدَ نَبِيِّهِمْ عَلَى خَيْرِهِمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي الْحَارِثِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Shaqīq said it was said to ʿAlī رضي الله عنه, will you not appoint a successor. He said, the Messenger of Allah ﷺ did not appoint a successor so that he should appoint a successor over you. If Allah تبارك وتعالى intends good for the people, He shall gather them upon the best of them, just as He gathered them after their Prophet upon the best of them. > **"The Messenger of Allah ﷺ did not appoint a successor so that I should appoint a successor over you. If Allah تبارك وتعالى intends good for the people, He shall gather them upon the best of them, just as He gathered them after their Prophet upon the best of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شقیق بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : آپ کسی کو اپنا جان نشین مقرر کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے کسی کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا کہ میں تم پر اپنا جانشین مقرر کروں ، اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے گا ، تو ان لوگوں کو ان میں سے سب سے بہتر فرد پر جمع کر دے گا ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ان کے نبی کے بعد ان میں سے سب سے بہتر فرد پر جمع کر دیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف اسماعیل بن ابوحارث کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14335

Majma al-Zawaid #14335

وَعَنْ أُسَيْدِ بْنِ صَفْوَانَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ سُجِّيَ بِثَوْبٍ فَارْتَجَّتِ الْمَدِينَةُ بِالْبُكَاءِ، وَدُهِشَ كَيَوْمِ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مُسْرِعًا مُسْتَرْجِعًا، وَهُوَ يَقُولُ: الْيَوْمَ انْقَطَعَتْ خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ الَّذِي هُوَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: رَحِمَكَ اللَّهُ يَا أَبَا بَكْرٍ ; كُنْتَ أَوَّلَ الْقَوْمِ إِسْلَامًا، وَأَخْلَصَهُمْ إِيمَانًا، وَأَشَدَّهُمْ يَقِينًا، وَأَخْوَفَهُمْ لِلَّهِ، وَأَعْظْمُهُمْ غَنَاءً، وَأَحْوَطَهُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحْدَبَهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَآمَنَهُمْ عَلَى أَصْحَابِهِ، وَأَحْسَنَهُمْ صُحْبَةً، وَأَفْضَلَهُمْ مَنَاقِبَ، وَأَكْثَرَهُمْ سَوَابِقَ، وَأَرْفَعَهُمْ دَرَجَةً، وَأَقْرَبَهُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَشْبَهَهُمْ بِهِ هَدْيًا وَخُلُقًا وَسَمْتًا، وَأَوْثَقَهُمْ عِنْدَهُ، وَأَشْرَفَهُمْ مَنْزِلَةً، وَأَكْرَمَهُمْ عَلَيْهِ مَنْزِلَةً ; فَجَزَاكَ اللَّهُ عَنِ الْإِسْلَامِ، وَعَنْ رَسُولِهِ، وَعَنِ الْمُسْلِمِينَ، خَيْرًا صَدَّقْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ كَذَّبَهُ النَّاسُ ; فَسَمَّاكَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ: صِدِّيقًا، فَقَالَ: وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَدَّقَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ، آسَيْتَهُ حِينَ بَخِلُوا، وَقُمْتَ مَعَهُ حِينَ عَنْهُ قَعَدُوا، وَصَحِبْتَهُ فِي الشِّدَّةِ أَكْرَمَ الصُّحْبَةِ، وَالْمُنَزِّلَ عَلَيْهِ السِّكِّينَةَ، رَفِيقَهُ فِي الْهِجْرَةِ وَمَوَاطِنِ الْكُرْبَةِ، خَلَفْتَهُ فِي أُمَّتِهِ بِأَحْسَنِ الْخِلَافَةِ حِينَ ارْتَدَتِ النَّاسُ فَقُمْتَ بِدِينِ اللَّهِ قِيَامًا لَمْ يَقُمْهُ خَلِيفَةُ نَبِيٍّ قَطُّ، فَوَثَبْتَ حِينَ ضَعُفَ أَصْحَابُكَ، وَنَهَضْتَ حِينَ وَهَنُوا، وَلَزِمْتَ مِنْهَاجَ رَسُولِهِ بِرَغْمِ الْمُنَافِقِينَ وَغَيْظِ الْكَافِرِينَ، فَقُمْتَ بِالْأَمْرِ حِينَ فَشِلُوا، وَمَضَيْتَ بِنُورِ اللَّهِ إِذْ وَقَفُوا. كُنْتَ أَعْلَاهُمْ فَوْقًا، وَأَقَلَّهُمْ كَلَامًا، وَأَصْوَبَهُمْ مَنْطِقًا، وَأَطْوَلَهُمْ صَمْتًا، وَأَبْلَغَهُمْ قَوْلًا، وَكُنْتَ أَكْثَرَهُمْ رَأْيًا وَأَشْجَعَهُمْ قَلْبًا، وَأَشَدَّهُمْ يَقِينًا، وَأَحْسَنَهُمْ عَمَلًا، وَأَعْرَفَهُمْ بِالْأُمُورِ. كُنْتَ لِلدِّينِ يَعْسُوبًا، وَكُنْتَ لِلْمُؤْمِنِينَ أَبًا رَحِيمًا ; إِذْ صَارُوا عَلَيْكَ عِيَالًا فَحَمَلْتَ أَثْقَالَ مَا عَنْهُ ضَعُفُوا، وَحَفِظْتَ مَا أَضَاعُوا، وَرَعَيْتَ مَا أَهْمَلُوا، وَصَبَرْتَ إِذْ جَزِعُوا، فَأَدْرَكْتَ آثَارَ مَا طَلَبُوا، وَنَالُوا بِكَ مَا لَمْ يَحْتَسِبُوا. كُنْتَ عَلَى الْكَافِرِينَ عَذَابًا صَبًّا، وَلِلْمُسْلِمِينَ غَيْثًا وَخِصْبًا، فَطِرْتَ بِغِنَاهَا وَفُزْتَ بِحَيَاهَا، وَذَهَبْتَ بِفَضَائِلِهَا، وَأَحْرَزْتَ سَوَابِقَهَا، لَمْ تُفْلَلْ حُجَّتُكَ، وَلَمْ يُزَغْ قَلْبُكَ، وَلَمْ تَضْعُفْ بَصِيرَتُكَ، وَلَمْ تَجْبُنْ نَفْسُكَ. كُنْتَ كَالْجَبَلِ لَا تُحَرِّكُهُ الْعَوَاصِفُ وَلَا تُزِيلُهُ الْقَوَاصِفُ. كُنْتَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَمَّنَ النَّاسُ عَلَيْهِ بِصُحْبَتِكَ وَذَاتِ يَدِكَ. وَكَمَا قَالَ: "" ضَعِيفًا فِي بَدَنِكَ، قَوِيًّا فِي أَمْرِ اللَّهِ» "". مُتَوَاضِعًا عَظِيمًا عِنْدَ الْمُسْلِمِينَ، جَلِيلًا فِي الْأَرْضِ، لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ فِيكَ مَهْمَزٌ، وَلَا لِقَائِلٍ فِيكَ مَغْمَزٌ، وَلَا فِيكَ مَطْمَعٌ، وَلَا عِنْدَكَ هَوَادَةٌ لِأَحَدٍ، الضَّعِيفُ الذَّلِيلُ عِنْدَكَ قَوِيٌّ حَتَّى تَأْخُذَ لَهُ بِحَقِّهِ، وَالْقَوِيُّ الْعَزِيزُ عِنْدَكَ ذَلِيلٌ حَتَّى يُؤْخَذَ مِنْهُ الْحَقُّ، وَالْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ عِنْدَكَ فِي ذَلِكَ سَوَاءٌ. شَأْنُكَ الْحَقُّ وَالصِّدْقُ، وَالرِّفْقُ قَوْلُكَ. فَأَقْلَعْتَ وَقَدْ نُهِجَ السَّبِيلُ، وَاعْتَدَلَ بِكَ الدِّينُ، وَقَوِيَ الْإِيمَانُ، وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ، فَسَبَقْتَ وَاللَّهِ سَبْقًا بَعِيدًا، وَأَتْعَبْتَ مَنْ بَعْدَكَ إِتْعَابًا شَدِيدًا. وَفُزْتَ بِالْجَنَّةِ، وَعَظُمَتْ رَزِيَّتُكَ فِي السَّمَاءِ، وَهَدَّتْ مُصِيبَتُكَ الْأَنَامَ - فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ. رَضِينَا عَنِ اللَّهِ قَضَاءَهُ، وَسَلَّمْنَا لِلَّهِ أَمْرَهُ، فَلَنْ يُصَابَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِثْلِكَ أَبَدًا. كُنْتَ لِلدِّينِ عُدَّةً وَكَهْفًا، وَلِلْمُسْلِمِينَ حِصْنًا وَفَيْئَةً وَأُنْسًا، وَعَلَى الْمُنَافِقِينَ غِلْظَةً وَغَيْظًا، فَأَلْحَقَكَ اللَّهُ بِنَبِيِّهِ، وَلَا حَرَمَنَا اللَّهُ أَجْرَكَ، وَلَا أَضَلَّنَا بَعْدَكَ. قَالَ: وَسَكَتَ النَّاسُ حَتَّى قَضَى كَلَامَهُ. ثُمَّ بَكَى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالُوا: صَدَقْتَ يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَضِيَ عَنْهُمْ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ الْكُرْدِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Usayd ibn Ṣafwān, Companion of the Messenger of Allah ﷺ, said when Abū Bakr passed away he was wrapped in a cloth, Madīna shook with weeping and was stunned as on the day the Messenger of Allah ﷺ was taken. ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه came hastening, seeking reward, saying, today the succession of Prophethood has ceased, until he stood at the door of the house in which Abū Bakr lay and said, may Allah have mercy upon you O Abū Bakr. You were the foremost of the people in Islam, sincerest in faith, firmest in certainty, most fearful of Allah, greatest in detachment, most protective of the Messenger of Allah ﷺ, most devoted to Islam, most trustworthy toward his Companions, finest in companionship, most excellent in virtues, most abundant in precedence, highest in degree, nearest to the Messenger of Allah ﷺ and most resembling him in guidance, character and demeanour, most reliable with him, noblest in rank and most honoured with him. May Allah reward you on behalf of Islam, His Messenger and the Muslims with good. You confirmed the Messenger of Allah ﷺ when the people belied him, so Allah named you al-Ṣiddīq in His Book when He said, the one who came with the truth is Muḥammad ﷺ and the one who confirmed it is Abū Bakr. You consoled him when they were miserly, stood with him when they sat back, accompanied him in hardship with the noblest companionship, upon whom tranquillity was sent down, his companion in the emigration and in places of distress. You succeeded him over his nation with the finest succession when the people apostatized, so you upheld the religion of Allah as no Khalīfa of a Prophet ever upheld it. You leapt forth when his Companions weakened, rose when they flagged, clung to the way of his Messenger despite the hypocrites and to the rage of the disbelievers. You upheld the affair when they failed, and proceeded with the light of Allah when they halted, until the cause was established and the religion prevailed. > **"Today the succession of Prophethood has ceased."** > **"May Allah have mercy upon you, O Abū Bakr. You were the foremost of the people in Islam, sincerest in faith, firmest in certainty, most fearful of Allah, and most devoted to Islam. May Allah reward you on behalf of Islam, His Messenger and the Muslims with good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسید بن صفوان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ۔ وہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو انہیں ایک چادر میں ڈھانپ دیا گیا ، مدینہ منورہ میں آہ و زاری شروع ہو گئی ، لوگ اسی طرح پریشان ہو گئے جس طرح نبی اکرم ﷺ کے وصال کے وقت ہوئے تھے ۔ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تیزی سے چلتے ہوئے اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتے ہوئے آئے اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ آج نبوت کی خلافت منقطع ہو گئی ہے ، یہاں تک کہ وہ اس گھر کے دروازے پر آ کر ٹھہر گئے جس گھر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی میت رکھی ہوئی تھی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابوبکر ! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، آپ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے شخص تھے اور سب سے زیادہ خالص ایمان والے فرد تھے سب سے زیادہ پختہ یقین رکھنے والے تھے ، اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے تھے ( دنیا اور لوگوں سے ) سب سے زیادہ بے نیاز تھے اور نبی اکرم ﷺ کا سب سے زیادہ خیال رکھنے والے تھے ، اسلام کے سب سے زیادہ خیرخواہ تھے ، نبی اکرم ﷺ کے اصحاب پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے تھے اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کے اعتبار سے سب سے زیادہ عمدہ تھے ، مناقب کے اعتبار سے سب سے زیادہ فضیلت والے تھے ، سبقت لے جانے والے امور کے حوالے سے سب سے زیادہ کثرت والے تھے ، درجہ کے اعتبار سے سب سے زیادہ بلند مرتبہ تھے ، نبی اکرم ﷺ کے سب سے زیادہ قریبی تھے اور عادات و اطوار اور طور طریقوں کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے ، نبی اکرم ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل اعتماد تھے ، نبی اکرم ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ قدر و منزلت کے مالک تھے ، نبی اکرم ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز تھے ، تو اللہ تعالیٰ اسلام کی طرف سے اپنے رسول کی طرف سے اور تمام مسلمانوں کی طرف سے آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، جب نبی اکرم ﷺ کو لوگوں نے جھٹلایا تھا ، تو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی تصدیق کی تھی اور آپ وہ فرد ہیں کہ جس کا نام اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں صدیق رکھا ہے ، اور ارشاد فرمایا ہے : ’’ اور وہ جو سچائی لے کے آیا ‘‘ اس سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں ، اور جس نے اس کی تصدیق کی اس سے مراد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ’’ جب لوگوں نے کنجوسی کا مظاہرہ کیا ، تو آپ نے نبی اکرم ﷺ کا ساتھ دیا ، جب لوگ بیٹھے رہے ، تو آپ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے ، آپ سخت صورت حال میں بھی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہے ، اور اچھے طریقے سے ساتھ رہے ، آپ نے نبی اکرم ﷺ کو سکون پہنچانے کی کوشش کی ، ہجرت میں آپ نبی اکرم ﷺ کے ساتھی تھے ، پریشانی کے مقامات میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھی تھے اور پھر نبی اکرم ﷺ کی امت کے بارے میں آپ نبی اکرم ﷺ کے جانشین بنے ، تو اچھے طریقے سے خلیفہ ثابت ہوئے ، اس وقت جب کچھ لوگ مرتد ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کے دین کو اس طرح قائم رکھا کہ اس طرح کسی نبی کے کسی خلیفہ نے قائم نہیں کیا ہو گا ، جب آپ کے ساتھی کمزور تھے ، تو آپ چاک و چوبند تھے ، جب وہ ہلکے ہو رہے تھے ، تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ کے رسول کے طریقے کو لازم پکڑ لیا ، خواہ یہ بات منافقین کو کتنی ہی بری لگے ، اور کافروں کو کتنا ہی غصہ آئے ، تو جب لوگ پھسل رہے تھے اس وقت آپ نے معاملے کو قائم رکھا اور جب لوگ ٹھہر گئے تھے ، تو آپ نے اللہ کے نور کو جاری رکھا ، مرتبے کے اعتبار سے آپ ان میں سب سے بلند تر تھے اور سب سے زیادہ کم کلام کرنے والے تھے اور سب سے زیادہ عمدہ کلام کرنے والے تھے ، سب سے زیادہ طویل خاموش رہنے والے تھے ، سب سے زیادہ بلیغ بات کرنے والے تھے ، سب سے زیادہ اچھی بات کرنے والے تھے ، سب سے زیادہ بہادر تھے ، سب سے مضبوط یقین رکھنے والے تھے ، سب سے بہتر عمل کرنے والے تھے ، معاملات کو سب سے زیادہ بہتر طور پر سمجھنے والے تھے ، آپ دین کے لئے پیشوا تھے اور مومنین کے لئے مہربان باپ تھے ، جب وہ لوگ آپ کے عیال بن گئے تھے ، تو آپ نے اس بوجھ کو اٹھایا ، جس کے حوالے سے وہ لوگ کمزور ہو گئے تھے اور اس چیز کی حفاظت کی جس کو وہ ضائع کرنے لگے تھے اور اس چیز کا خیال رکھا جس میں وہ تاخیر کر رہے تھے اور اس وقت آپ نے صبر سے کام لیا ، جب وہ لوگ گریہ و زاری کر رہے تھے اور وہ جو چاہتے تھے اس کے نشانات تک آپ پہنچ گئے اور وہ لوگ آپ کی وجہ سے وہاں تک پہنچے جس کے بارے میں ان کا گمان نہیں تھا ، آپ کافرین کے لئے انڈیلا جانے والا عذاب تھے اور مسلمانوں کے لیے بادل اور ہریالی تھے ، آپ کی فطرت میں بے نیازی تھی ، آپ اس کے کناروں ( یا اس کے زیادہ تر حصے ) کے ذریعے کامیاب ہوئے ، اور اس کے فضائل لے گئے ، آپ نے اس کے سبقت لے جانے والوں کو محفوظ کر لیا ، آپ کی حجت کم نہیں ہوئی ، آپ کا دل ٹیڑھا نہیں ہوا ، آپ کی بصیرت کم نہیں ہوئی ، آپ کا من بزدل نہیں ہوا ، آپ اس پہاڑ کی مانند تھے ، جس کو تیز ہوائیں ہلا نہیں سکتی ہیں اور بجلیاں گرا نہیں سکتی ہیں ، آپ ویسے ہی تھے جس طرح نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ اچھا سلوک ، اپنے ساتھ کے اعتبار سے ، آپ نے کیا ، یا جس طرح نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ جسمانی طور پر کمزور ہے ، لیکن اللہ کے معاملے میں طاقتور ہے ، مسلمانوں کے نزدیک آپ تواضع کرنے والے عظیم فرد تھے ، زمین میں نمایاں حیثیت کے مالک تھے کسی کو آپ کے بارے میں کوئی الجھن نہیں تھی ، کوئی شخص آپ کی برائی نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی آپ کے بارے میں کوئی لالچ رکھ سکتا تھا ، آپ کے نزدیک کسی شخص کے لیے زیادتی نہیں تھی ، کمزور اور کمتر حیثیت کا شخص آپ کے نزدیک طاقتور تھا کہ آپ اس کا حق اسے دلوا سکتے تھے ، اور طاقتور نمایاں حیثیت کا شخص ، آپ کے نزدیک کمزور تھا ، جب تک اس سے حق وصول نہیں کیا جاتا ، اس بارے میں قریب کے لوگ اور دور کے لوگ آپ کے نزدیک برابر کی حیثیت رکھتے تھے ، آپ کا معاملہ حق کا سچائی کا تھا ، آپ کے قول میں نرمی پائی جاتی تھی ، جب آپ دنیا سے رخصت ہوئے ، تو راستہ طے ہو چکا تھا ، دین معتدل ہو چکا تھا ، ایمان قوی ہو چکا تھا ، اللہ کا معاملہ قوی ہو چکا تھا ، خواہ یہ بات کافروں کو بری ہی لگے ، تو اللہ کی قسم ! آپ زبردست سبقت لے گئے اور آپ نے اپنے بعد والوں کو شدید مشکل کا شکار کر دیا ، آپ جنت کے حوالے سے کامیاب ہوئے اور آسمان میں آپ کی ( وفات ) کی تکلیف بڑی سمجھی گئی ، اور آپ کی مصیبت مخلوق تک پہنچ گئی ، تو بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں ، اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، اور بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے اس کے فیصلے کے حوالے سے اس سے راضی ہیں ، اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں ، مسلمانوں کو اللہ کے رسول ﷺ کے بعد اور کسی کے حوالے سے ایسی مصیبت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ، جس طرح کی مصیبت کا سامنا آپ کے ( انتقال کی ) وجہ سے کرنا پڑا ہے ، آپ دین کے لئے تیاری اور پناہ گاہ تھے ، مسلمانوں کے لئے قلعہ اور اجتماعیت اور انسیت کا باعث تھے ، منافقین کے لئے سختی اور شدت کا باعث تھے ، اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے نبی ﷺ کے ساتھ ملائے اور آپ کے اجر سے ہمیں اللہ تعالیٰ محروم نہ رکھے ، اور آپ کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : لوگ خاموش رہے ، یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بات پوری کر لی تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب رونے لگے ، انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول کے چچا زاد ! آپ نے سچ کہا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم ہاشمی کردی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

14336

Majma al-Zawaid #14336

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ السَّدُوسِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ نَاسًا يَنَالُونَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ، فَبَعَثَتْ إِلَى أَزْفَلَةٍ مِنْهُمْ، فَسَدَلَتْ أَسْتَارَهَا، وَعَذَلَتْ وَقَرَّعَتْ، وَقَالَتْ: أَبِي وَمَا أَبِيهِ، أَبِي لَا تُعْطُوهُ الْأَيْدِي. هَيْهَاتَ وَاللَّهِ، ذَاكَ طَوْدٌ مَنِيفٌ، وَظِلٌّ مَدِيدٌ، أَنْجَحَ وَاللَّهِ إِذْ كَذَّبْتُمْ، وَسَبَقَ إِذْ وَنَيْتُمْ سَبْقَ الْجَوَادِ إِذَا اسْتَوْلَى عَلَى الْأَمَدِ، فَتَى قُرَيْشٍ نَاشِئًا، وَكَهْفًا كَهْلًا. يَفُكُّ عَانِيَهَا، وَيَرِيشُ مُمْلِقَهَا، وَيَرْأَبُ رَوْعَهَا، وَيَلُمُّ شَعَثَهَا حَتَّى حَلِيَتْهُ قُلُوبُهَا، ثُمَّ اسْتَشْرَى فِي دِينِهِ فَمَا بَرِحَتْ شَكِيمَتُهُ فِي ذَاتِ اللَّهِ حَتَّى اتَّخَذَ بِفَنَائِهِ مَسْجِدًا يُحْيِي فِيهِ مَا أَمَاتَ الْمُبْطِلُونَ، وَكَانَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - غَزِيرَ الدَّمْعَةِ، وَقِيدَ الْجَوَانِحِ، شَجِيَّ النَّشِيجِ، فَاصْفَقَّتْ إِلَيْهِ نِسْوَانُ مَكَّةَ وَوِلْدَانُهَا يَسْخَرُونَ مِنْهُ وَيَسْتَهْزِئُونَ بِهِ اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ فَأَكْبَرَتْ ذَلِكَ رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ ; فَحَنَتْ قِسِيَّهَا، وَفَوَّقَتْ سِهَامَهَا، وَامْتَثَلُوهُ غَرَضًا فَمَا فَلُّوا لَهُ شَبَاةً، وَلَا قَصَفُوا لَهُ قَنَاةً، وَمَرَّ عَلَى سِيسَائِهِ حَتَّى إِذَا ضَرَبَ الدِّينُ بِجِرَانِهِ، وَأَلْقَى بَرْكَهُ، وَرَسَتْ أَوْتَادُهُ، وَدَخَلَ النَّاسُ فِيهِ أَفْوَاجًا، وَمِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ أَرْسَالًا وَأَشْتَاتًا ; اخْتَارَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ مَا عِنْدَهُ، فَلَمَّا قَبَضَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ضَرَبَ الشَّيْطَانُ رِوَاقَهُ، وَنَصَبَ حَبَائِلَهُ، وَمَدَّ طُنُبَهُ، وَأَجْلَبَ بِخَيْلِهِ وَرَجِلِهِ ; فَاضْطَرَبَ حَبْلُ الْإِسْلَامِ، وَمَرَجَ عَهْدُهُ، وَمَاجَ أَهْلُهُ، وَعَادَ مَبْرَمُهُ أَنْكَاثًا، وَبَغَى الْغَوَائِلُ، وَظَنَّتِ الرِّجَالُ أَنْ قَدْ أَكْثَبَتْ أَطْمَاعُهُمْ، وَلَاتَ حِينَ [الَّتِي] يَرْجِعُونَ، وَإِنِّي وَالصِّدِّيقُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَقَامَ حَاسِرًا مُشَمِّرًا، فَرَفَعَ حَاشِيَتَهُ، وَجَمَعَ قَطْرَتَهُ، فَرَدَّ يُسْرَ الْإِسْلَامِ عَلَى غِرَّةٍ، وَلَمَّ شَعَثَهُ بِطَيِّهِ، وَأَقَامَ أَوَدَهُ بِثِقَافِهِ ; فَابْدَعَرَّ النِّفَاقُ بِوَطْأَتِهِ، وَانْتَاشَ الدِّينُ بِنَعْشِهِ. فَلَمَّا رَاحَ الْحَقُّ عَلَى أَهْلِهِ، وَأَقَرَّ الرءُوسَ عَلَى كَوَاهِلِهَا، وَحَقَنَ الدِّمَاءَ فِي أَهَبِهَا، حَضَرَتْ مَنِيَّتُهُ، فَسَدَ ثُلْمَتَهُ بِشَقِيقِهِ فِي الْمَرْحَمَةِ وَنَظِيرِهِ فِي السِّيرَةِ وَالْمَعْدَلَةِ - ذَاكَ ابْنُ الْخَطَّابِ، لِلَّهِ أُمٌُّ حَمَلَتْ بِهِ وَدَرَّتْ عَلَيْهِ لَقَدْ أَوْحَدَتْ بِهِ ; فَفَتَحَ الْكَفَرَةَ وَذَيْخَهَا، وَشَرَّدَ الشِّرْكَ شَذَرَ مَذَرَ، وَبَعَجَ الْأَرْضَ ; فَقَاءَتْ أُكُلَهَا، وَلَفِظَتْ خَبِيئَهَا تَرْأَمُهُ، وَيُصْدِفُ عَنْهَا وَتَصَدَّى لَهُ وَيَأْبَاهَا، ثُمَّ وَرِعَ فِيهَا، ثُمَّ تَرَكَهَا كَمَا صَحِبَهَا، فَأَرُونِي مَاذَا تَقُولُونَ؟ وَأَيَّ يَوْمَيْ أَبِي تَنْقِمُونَ؟! أَيَوْمَ إِقَامَتِهِ إِذْ عَدَلَ فِيكُمْ، أَوْ يَوْمَ ظَعْنِهِ إِذْ نَظَرَ لَكَمْ؟ أَقُولُ قَوْلِي هَذَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلَكُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ السَّدُوسِيُّ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَلَا ابْنَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Aḥmad al-Sadūsī from his father said it reached ʿĀʾisha رضي الله عنها that some people disparaged Abū Bakr, so she sent for a group of them, let down her curtains, rebuked and reproached them, and said, my father, and what of my father. You cannot reach him with your hands. Far from it, by Allah. He was a towering mountain and an extended shade. He succeeded, by Allah, when you belied, and outstripped when you lagged, like the outstripping of a racehorse when it masters the distance. A youth of Quraysh in his youth, and a cave in his old age. He freed their captives, enriched their destitute, mended their breach and gathered their disarray, until hearts adorned him with love. Then he advanced firmly in his religion and his firmness for Allah did not depart, until he took a mosque in his courtyard in which he revived what the adherents of falsehood had caused to die. He was, may Allah have mercy upon him, abundant in tears, restrained in the inner self, choked with sobbing. The women and children of Makka gathered to him mocking and ridiculing him, while Allah mocks them and prolongs them in their transgression wandering blindly. The men of Quraysh deemed that grave, so they bent their bows, fitted their arrows and made him a target, yet they neither blunted his edge nor broke his spear. He continued upon his course until religion took its firm hold, cast its weight, its pegs were fixed, and people entered it in crowds, in successive groups from every faction. Then Allah chose for His Prophet what is with Him, so when Allah عز و جل took him, Satan spread his canopy, set his snares, extended his ropes and came with his horse and foot. The rope of Islam shook, its covenant fell into confusion, its people surged, its firmly twisted cord became undone strands, calamities coveted, and men thought their ambitions had succeeded, far from the time of return. Yet al-Ṣiddīq was among them, so he stood bare and girded, raised his side, gathered his strength, restored the ease of Islam after heedlessness, gathered its disarray by his resolve, revived what had been neglected, and established the order until apostasy was repelled and the religion stood upright.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن احمد سدوی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ اطلاع ملی کہ کچھ لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر تنقید کرتے ہیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کچھ لوگوں کو پیغام بھیج کر بلوایا ، انہوں نے درمیان میں پردہ کروایا اور پھر غصے کا اظہار کرتے ہوئے اور ملامت کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : میرے والد ، میرے والد کے کیا کہنے ؟ تم لوگ میرے والد پر تنقید نہیں کر سکتے ، اللہ کی قسم ! وہ بلند پہاڑ تھے اور پھیلا ہوا سایہ تھے ، جب تم لوگوں نے جھٹلایا ، تو اللہ کی قسم ! اس وقت انہوں نے کامیابی حاصل کی ، جب تم لوگوں نے کمزوری دکھائی ، تو انہوں نے سبقت حاصل کی ، ایک ایسی سبقت جو کسی شہسوار کی ہوتی ہے ، جب اُس نے دور تک جانا ہو ، وہ اپنی جوانی میں قریش کے نمایاں فرد تھے ، اور بڑھاپے میں اُن کے لئے غار کی حیثیت رکھتے تھے ، انہوں نے ( لوگوں ) کے قیدیوں کو آزاد کروایا ، اور ان ( لوگوں ) کے غریبوں کو مال دیا ، وہ ان کے بکھرے ہوئے معاملات کو اکٹھا کرتے تھے ، اور پریشانیوں کو ختم کرتے تھے ، یہاں تک کہ ان لوگوں کے دل اُن کی طرف مائل ہو گئے ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دین کے بارے میں مضبوطی کا اظہار کیا ، اور اللہ کی ذات کے بارے میں اُن کی یہ مضبوطی ہمیشہ برقرار رہی ، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے صحن میں مسجد بنا لی ، جس میں وہ ، اُس چیز ( یعنی عبادت ) کو زندہ کرتے تھے ، جسے باطل لوگ نہیں کرتے تھے ، وہ ایسے ( فرد ) تھے کہ اُن کے آنسو بہتے رہتے تھے ، اور ان کا دل نرم تھا ، غم کی وجہ سے ان کی گھٹی ہوئی سی آواز نکلتی تھی ، مکہ کی خواتین اور ان خواتین کے بچے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھے ہو جاتے تھے اور اُن کا مذاق اڑایا کرتے تھے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ ان ( کفار ) کے ساتھ استہزاء کرے گا اور انہیں اُن کی سرکشی میں رہنے دے گا کہ وہ بھٹکتے رہیں ، یہ بات قریش سے تعلق رکھنے والے افراد پر بہت گراں گزری ، انہوں نے اپنی کمانیں سیدھی کر لیں اور تیروں پر پھل لگا لیا ، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نشانہ بنا لیا ، تو قریش کے لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے نہ تو کوئی پتھر توڑا ، اور نہ ہی اُن کے لئے کوئی نیزہ توڑا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اپنے طریقے پر گامزن رہے ، یہاں تک کہ دین نے غلبہ حاصل کر لیا ، دین اپنی جگہ پر جم گیا ، اور اس نے اپنے کیل ٹھوک دیئے ، اور لوگ گروپوں کی شکل میں دین میں داخل ہونے لگے ، ہر گروہ کچھ افراد کو بھیج دیتا تھا ، لوگ متفرق شکلوں میں آتے تھے ، پھر یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے اس چیز کو منتخب کیا ، جو اس کے پاس ہے ، جب اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی ، تو شیطان نے اپنا خیمہ لگا لیا ، اس نے اپنا جال بچھا لیا ، اس نے اپنی طنابیں کھینچ لیں اور اپنے گھر سواروں اور پیادہ افراد کو لے آیا ، وہ اسلام کی رسّی میں اضطراب آ گیا ، اور اس کے عہد میں تنازع آ گیا ، اور اہل اسلام اختلاف کا شکار ہو گئے ، اور ان کا اجتماع انتشار میں بدل گیا ، تو کچھ لوگوں نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ اپنے لالچ ، یا مقاصد کو حاصل کر لیں گے اور اس صورتحال میں مسلمان کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے ، لیکن یہ بھلا کیسے ہو سکتا تھا ، جبکہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے درمیان موجود تھے ، وہ آستینیں چڑھا کر اور تہبند سنبھال کر اٹھ کھڑے ہوئے ، انہوں نے اپنے لباس کے کنارے کو سی لیا ، اور دونوں طرف سے اسے اکٹھا کر لیا ( یعنی وہ مقابلہ کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہو گئے ) تو انہوں نے اسلام کے غلبے کو لوٹا دیا ، اور اس کے بکھرے ہوئے امور کو سمیٹ دیا ، اور اس میں رونما ہونے والے ٹیڑھے پن کو سیدھا کر دیا ، تو ان کے دبانے کی وجہ سے منافقت پیچھے ہٹ گئی ، اور ان کے بلند کرنے کی وجہ سے دین اس چیز سے محفوظ ہو گیا ، جس کے حوالے سے اندیشہ تھا ، جب انہوں نے حق کو اس کے متعلقہ افراد تک پہنچا دیا ، اور سروں کو کندھوں پر جما دیا ، اور پھولوں کو جوڑوں میں محفوظ کر دیا ، تو ان کا آخری وقت آ گیا ، تو انہوں نے اپنی ذات کے حوالے سے پیدا ہونے والے خلاء کو اس شخصیت کے ذریعے پر کیا ، جو رحمت ہونے میں ان کی طرح کے تھے ، اور طریقہ کار اور عدل کرنے میں ان کی نظیر تھے ، اور وہ خطاب کے صاحبزادے ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) ہیں ۔ اس ماں کے کیا کہنے ؟ جو ان کے حوالے سے حاملہ ہوئیں ، جس نے انہیں دودھ پلایا ، اور ان جیسے بے مثل شخص کو جنم دیا ، انہوں نے کافروں کو فتح کیا اور انہیں ذلت کا شکار کیا ، اور اور شرک کو یوں پرے کر دیا کہ اُس کا ٹھکانہ نہ رہا ، اور انہوں نے زمین کو چیر دیا ( یعنی اسے فتح کر لیا ) تو اُس ( زمین ) نے اپنی کھائی ہوئی چیز کو قے کر دیا اور چھپا کر رکھی گئی چیز کو اس نے پھینک دیا ( یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے زمین میں سے ، نعمتیں اور دولتیں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں ) اُس ( یعنی دنیا ) نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے محبت کا اظہار کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُس ( دنیا ) سے اعراض کیا ، وہ ( دنیا ) اُن کے سامنے آئی ، تو انہوں نے اس کو انکار کیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دنیا کے بارے میں پرہیزگاری کو اختیار کیا ، اور پھر اُسے اُسی حالت میں چھوڑا ، جس حالت میں وہ اُس ( دنیا ) کے ساتھ رہے تھے ۔ تو اب تم لوگ مجھے بتاؤ ! کہ تم کیا کہتے ہو ؟ تمہیں میرے والد کے دودنوں میں سے کون سے دن پر اعتراض ہے ؟ ان کے مقیم رہنے والے دن پر اعتراض ہے ؟ کہ جب انہوں نے تمہارے درمیان عدل سے کام لیا ، یا ان کی روانگی کے دن پر اعتراض ہے کہ جب انہوں نے تمہارے لئے سوچ بچار کی ؟ ( پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ) میں نے اپنی بات کہہ دی ہے ، اور میں اپنے لیے اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، احمد سدوی نامی راوی نے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ، میں اُس سے اور اس کے بیٹے سے واقف نہیں ہوں ۔

14337

Majma al-Zawaid #14337

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ، وَاشْرَأَبَّ النِّفَاقُ ; فَنَزَلَ بِأَبِي مَا لَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ الرَّاسِيَاتِ لَهَاضَهَا. قَالَتْ: فَمَا اخْتَلَفُوا فِي نُقْطَةٍ إِلَّا طَارَ أَبِي بِحَظِّهَا وَسِنَانِهَا. ثُمَّ ذَكَرَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَتْ: كَانَ وَاللَّهِ أَحْوَذِيًّا نَسِيجَ وَحْدِهِ، قَدْ أَعَدَّ لِلْأُمُورِ أَقْرَانَهَا. قَالَ الرِّيَاشِيُّ: يُقَالُ لِلرَّجُلِ الْبَارِعِ الَّذِي لَا يُشَبَّهُ بِهِ أَحَدٌ: نَسِيجُ وَحْدِهِ، وَعُيَيْرُ وَحْدِهِ، وَيُقَالُ: جَلِيسُ وَحْدِهِ، وَقَالَ الشَّاعِرُ: جَاءَتْ بِهِ مُعْتَجِرًا بِبُرْدِهِ ... سَفْوَاءَ تُرْدِي بِنَسِيجِ وَحْدِهِ يَقْدَحُ قَيْسًا كُلَّهَا بِزَنْدِهِ ... مَنْ يَلْقَهُ مِنْ بَطَلٍ يَسْرَنْدِهِ. أَيْ يَعْلُوهُ قَالَ الرِّيَاشَيُّ: وَأَنْشَدَنِي الْأَصْمَعِيُّ: مَا بَالُ هَذَا الْيَوْمِ يَغْرَنْدِينِي أَدْفَعُهُ عَنِّي وَيَسْرَنْدِينِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ طُرُقٍ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha رضي الله عنها said when the Messenger of Allah ﷺ passed away, the Arabs apostatized and hypocrisy raised its head. There befell her father what, had it befallen firmly rooted mountains, would have crushed them. She said, they did not differ in a single point except that her father flew to it with its full share and spearhead. Then she mentioned ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه and said, by Allah, he was vigorous, unique without peer, who had prepared for affairs their equals. Al-Riyāshī explained that a masterful man without like is called unique, solitary and peerless, and cited verses of a poet describing a veiled rider upon a swift she-camel outstripping all, overcoming every hero he meets, and verses of al-Aṣmaʿī on sleep overcoming him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا ، تو عرب مرتد ہو گئے اور نفاق بلند ہو گیا ، میرے والد کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا کہ اگر وہ صورتحال مضبوط پہاڑوں پر نازل ہوتی ، تو انہیں بھی توڑ کے رکھ دیتی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : لوگوں نے جس بھی نقطہ کے بارے میں خلل کا اظہار کیا ، تو میرے والد اس کے تمام تر لوازمات کو لے کر وہاں تک پہنچے ، جن کے ذریعے اسے ٹھیک کیا جا سکے ۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات کہی : اللہ کی قسم ! وہ بڑی ہمت والے تھے ، اور بے مثل شخصیت کے مالک تھے ، انہوں نے تمام امور کے لیے مناسب تیاری کی ۔ یہاں ریاشی نامی راوی نے یہ بات کہی ہے : جب کوئی شخص ایسا ماہر ہو کہ کسی کو اُس کے مشابہ قرار نہ دیا جا سکے ، تو اس کے یہ لفظ استعمال کیے جاتے ہیں : ’’ نسیج وحده - عییر وحده - جحیش وحده ۔‘‘ کسی شاعر نے کہا ہے : ’’ وہ سواری اس شخص کو لے کر آئی ، جس شخص نے اپنی چادر لپیٹی ہوئی تھی اور وہ سواری چھوٹی پیشانی والی تھی ، وہ سواری تیزی سے ایک بے مثال شخص کو لے کر آئی ، وہ پتھر کو رگڑ کر ، قیس کو آگ لگانے کی کوشش کرتا ہے ، اور جو بھی سورما اُس کے سامنے آتا ہے ، وہ اسے سرنگوں کر لیتا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : یعنی وہ اس پر غالب آ جاتا ہے ۔ ریاشی بیان کرتے ہیں : اصمعی نے مجھے یہ اشعار سنائے : ’’ اس نیند کا کیا معاملہ ہے ؟ جو مجھ پر طاری ہو رہی ہے ، میں اُسے اپنے سے پرے کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور وہ مجھ پر غالب آ رہی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

14338

Majma al-Zawaid #14338

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «اسْتَعْمَلَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى الْحَجِّ، ثُمَّ وَجَّهَ بِبَرَاءَةٍ مَعَ عَلِيٍّ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَجَدْتَ عَلَيَّ فِي شَيْءٍ؟ قَالَ: "" لَا، أَنْتَ صَاحِبِي فِي الْغَارِ وَعَلَى الْحَوْضِ» "". قُلْتُ: رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا أَطْوَلَ مِنْهُ. وَفِي هَذَا زِيَادَةٌ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ appointed Abū Bakr over the ḥajj, then sent Barāʾa with ʿAlī. Abū Bakr said, O Messenger of Allah, have you found something against me. He said, no, you are my companion in the cave and at the Pond. > **"No. You are my companion in the cave and at the Pond."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر الحج مقرر کیا ، پھر آپ نے برأت ( لاتعلقی ) کا اعلان دے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے میرے خلاف کوئی چیز محسوس کی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ، تم غار میں میرے ساتھی رہے ہو اور حوض پر بھی ہو گے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے ان صحابی کے حوالے سے ایک اور حدیث نقل کی ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ، اور اس سے زیادہ طویل ہے ، اور اس روایت میں اضافہ پایا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14339

Majma al-Zawaid #14339

«وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ - يَعْنِي الصِّدِّيقَ - قَالَ: جِئْتُ بِأَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" هَلَّا تَرَكْتَ الشَّيْخَ حَتَّى آتِيَهُ؟ "" قَالَ: بَلْ هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَأْتِيَكَ. قَالَ: "" إِنَّا نَحْفَظُهُ لِأَيَادِي ابْنِهِ عِنْدَنَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْفِهْرِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه said he brought Abū Quḥāfa to the Messenger of Allah ﷺ, so he said, why did you not leave the elder until I come to him. He said, rather he is more deserving to come to you. He said, we preserve him on account of his son's favours with us. > **"Why did you not leave the elder until I come to him?"** > **"We preserve him on account of his son's favours with us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( میں فتح مکہ کے دن ) حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے ان بزرگوار کو ( گھر میں ) کیوں نہیں رہنے دیا ، میں ان کے پاس چلا جاتا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : بلکہ یہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ آپ کی خدمت میں آئیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہم نے ان کا خیال رکھنا تھا ، کیونکہ ہمارے نزدیک ان کے صاحبزادے کی بڑی حیثیت ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالملک فہری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، لیکن یہ روایت منقطع ہے ۔

14340

Majma al-Zawaid #14340

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: أَعْتَقَ أَبُو بَكْرٍ سَبْعَةً مِمَّنْ كَانَ يُعَذَّبُ فِي اللَّهِ. مِنْهُمْ: بِلَالٌ، وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى عُرْوَةَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwa said Abū Bakr freed seven of those who were tortured for Allah. Among them were Bilāl رضي الله عنه and ʿĀmir ibn Fuhayra رضي الله عنه.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سات ایسے افراد کو آزاد کروایا تھا جنہیں اللہ کی خاطر عذاب دیا جاتا تھا ان میں ایک حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور عروہ تک اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14341

Majma al-Zawaid #14341

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: {وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَى} [الليل: 19] {إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى - وَلَسَوْفَ يَرْضَى} [الليل: 20 - 21]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn al-Zubayr رضي الله عنهما said there was revealed concerning Abū Bakr al-Ṣiddīq: And none has with him any favour to be repaid, except seeking the Face of his Lord, the Most High, and he shall surely be pleased, Surah al-Layl 19-21.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی : ’’ اور کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں ہے ، جس کا بدلہ دیا گیا ہو بلکہ اس نے یہ اپنے برتر پروردگار کی رضا کے حصول کے لئے کیا ہے ، اور وہ پروردگار عنقریب راضی ہو جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14342

Majma al-Zawaid #14342

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا نَفَعَنَا مَالُ أَحَدٍ مَا نَفَعَنَا مَالُ أَبِي بَكْرٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْرَائِيلَ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ said no wealth of anyone benefited them as the wealth of Abū Bakr benefited them. > **"No wealth of anyone benefited us as the wealth of Abū Bakr benefited us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کسی کے مال نے ہمیں اتنا فائدہ نہیں دیا جتنا ابوبکر کے مال نے ہمیں فائدہ دیا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن اسرائیل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔

14343

Majma al-Zawaid #14343

وَعَنْ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ الْإِفْكِ، وَفِيهَا: فَقَالَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُكَذِّبُ نَفْسَهُ: حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرَيْبَةٍ ... وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَإِنْ كُنْتُ قَدْ قُلْتُ الَّذِي قَدْ ... زَعَمْتُمُ فَلَا حَمَلَتْ سَوْطِي إِلَيَّ أَنَامِلِي وَكَيْفَ؟ وَوِدِّي مَا حَيِيتُ وَنُصْرَتِي ... لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ زَيْنِ الْمَحَافِلِ أَأَشْتُمُ خَيْرَ الناسِ بَعْلًا وَوَالِدًا وَنَفْسًا؟ ... لَقَدْ أُنْزِلْتُ شَرَّ الْمَنَازِلِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ حَوْثَرَةَ بْنِ أَشْرَسَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha رضي الله عنها, in the account of the Ifk, reported that Ḥassān ibn Thābit رضي الله عنه declared himself false with verses: Chaste, dignified, never accused of doubt, who rises in the morning hungry for the flesh of the heedless, meaning she backbites none. If I had said what you claimed, my fingertips would not carry my whip to me. How, while my love and support while I live are for the household of the Messenger of Allah, the adornment of gatherings. Would I revile the best of people as husband, father and self. I would surely have alighted in the worst of abodes. > **"Chaste, dignified, never accused of doubt, who rises in the morning hungry for the flesh of the heedless. How, while my love and support while I live are for the household of the Messenger of Allah, the adornment of gatherings. Would I revile the best of people as husband, father and self? I would surely have alighted in the worst of abodes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا واقعہ افک نقل کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں : حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو جھٹلاتے ہوئے یہ کہا : ’’ وہ پاکدامن ہیں ، کامل عقل رکھنے والی ہیں ، ان پر کسی مشکوک صورتحال کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا ، وہ ایسی حالت میں صبح کرتی ہیں کہ غافل لوگوں کے گوشت کے حوالے سے وہ بھوکی ہوتی ہیں ( یعنی وہ کسی کی غیبت نہیں کرتی ہیں ) میں اگرچہ پہلے ایسا فرد تھا ، کہ میں نے وہ بات کہی تھی ، جو تم لوگوں کا بیان تھا ، لیکن میری انگلی کے پوروں نے میری چھڑی کو بھی نہیں اُٹھایا ، لیکن اب یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ یہ صورتحال ہے کہ جب تک میں زندہ رہا ، میری محبت اور میری مدد اللہ کے رسول ﷺ کی آل کے لئے ہو گی ، جو محفل کی زینت ہے ، کیا میں اس شخصیت کو برا کہوں گا ، جو اپنے شوہر ( یعنی نبی اکرم ﷺ ) کی نسبت سے ، اپنے والد ( یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کی نسبت سے ، اور خود ذاتی اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں ، اگر میں ایسا کروں ( یعنی انہیں برا کہوں ) گا ، تو میں بری جگہ پر پڑاؤ کروں گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف حوثرہ بن اشرس کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14344

Majma al-Zawaid #14344

وَعَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: لَا يُعْلَمُ أَرْبَعَةٌ أَدْرَكُوا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبْنَاؤُهُمْ إِلَّا هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةُ: أَبُو قُحَافَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو عَتِيقِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَاسْمُ أَبِي عَتِيقٍ مُحَمَّدٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Mūsā ibn ʿUqba said there are not known four who met the Prophet ﷺ with their sons except these four: Abū Quḥāfa, Abū Bakr, ʿAbd al-Raḥmān, and Abū ʿAtīq ibn ʿAbd al-Raḥmān, and the name of Abū ʿAtīq is Muḥammad.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

موسیٰ بن عقبہ بیان کرتے ہیں : ایسے افراد کا پتہ نہیں چل سکا جن کی چار پشتوں نے نبی اکرم ﷺ کا زمانہ پایا ہو ( اور انہیں آپ کے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہو ) البتہ ان چار حضرات کا معاملہ مختلف ہے ، حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوعتیق رضی اللہ عنہ بن حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوعتیق کا نام محمد تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن قاسم بن محمد ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

14345

Majma al-Zawaid #14345

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ فِي السَّمَاءِ مَلَكَيْنِ، أَحَدُهُمَا يَأْمُرُ بِالشِّدَّةِ، وَالْآخَرُ يَأْمُرُ بِاللِّينِ، وَكُلٌّ مُصِيبٌ: جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، وَنَبِيَّانِ: أَحَدُهُمَا: يَأْمُرُ بِالشِّدَّةِ، وَالْآخَرُ يَأْمُرُ بِاللِّينِ، وَكُلٌّ مُصِيبٌ "". وَذَكَرَ إِبْرَاهِيمَ وَنُوحًا. "" وَلِي صَاحِبَانِ: أَحَدُهُمَا يَأْمُرُ بِالشِّدَّةِ، وَالْآخَرُ يَأْمُرُ بِاللِّينِ، وَكُلٌّ مُصِيبٌ "". وَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ said in the heaven are two angels, one commands severity and the other commands gentleness, and each is correct: Jibrīl and Mīkāʾīl. And two Prophets, one commands severity and the other commands gentleness, and each is correct, and he mentioned Ibrāhīm and Nūḥ عليهما السلام. And he has two companions, one commands severity and the other commands gentleness, and each is correct, and he mentioned Abū Bakr and ʿUmar. > **"In the heaven are two angels, one commands severity and the other commands gentleness, and each is correct: Jibrīl and Mīkāʾīl. And two Prophets, one commands severity and the other commands gentleness, and each is correct. And I have two companions, one commands severity and the other commands gentleness, and each is correct."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ آسمان میں دو فرشتے ہیں ان میں سے ایک شدت کا حکم دیتا ہے ، اور دوسرا نرمی کا حکم دیتا ہے ، اور وہ دونوں ٹھیک ہوتے ہیں ، ایک جبرائیل ہے ، اور ایک میکائیل ہے ، اور دو نبی ہیں ، ان میں سے ایک شدت کا حکم دیتا ہے ، اور دوسرا نرمی کا حکم دیتا ہے ، اور دونوں ٹھیک ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر کیا ( اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ) میرے دو ساتھی ہیں ان میں سے ایک سختی کا حکم دیتا ہے ، اور دوسرا نرمی کا کہتا ہے اور وہ دونوں ٹھیک ہیں ‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14346

Majma al-Zawaid #14346

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَيَّدَنِي بِأَرْبَعَةِ وُزَرَاءَ نُقَبَاءَ "". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعُ؟ قَالَ: "" اثْنَيْنِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ، وَاثْنَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ "". فَقُلْتُ: مَنِ الِاثْنَيْنِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ؟ قَالَ: "" جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ "". قُلْنَا: مَنِ الِاثْنَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ؟ قَالَ: "" أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحببٍ الثَّقَفِيُّ (*)، وَهُوَ كَذَّابٌ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِمَعْنَاهُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said Allah عز و جل strengthened him with four supporting ministers. They said, O Messenger of Allah, who are these four. He said, two from the people of the heaven and two from the people of the earth. He was asked who are the two from the people of the heaven. He said, Jibrīl and Mīkāʾīl. They said, who are the two from the people of the earth. He said, Abū Bakr and ʿUmar. > **"Allah عز و جل strengthened me with four supporting ministers: two from the people of the heaven and two from the people of the earth: Jibrīl and Mīkāʾīl, and Abū Bakr and ʿUmar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے چار افراد کے ذریعے میری تائید کی ہے ، جو وزیر بھی ہیں اور نقیب بھی ہیں ۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ چار افراد کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان میں سے دو اہل آسمان سے تعلق رکھتے ہیں ، اور دو اہل زمین سے تعلق رکھتے ہیں ، میں نے دریافت کیا : اہل آسمان سے تعلق رکھنے والے دو لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جبرائیل اور میکائیل ، ہم نے دریافت کیا : اہل زمین سے تعلق رکھنے والے دو افراد کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابوبکر اور عمر ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مجیب ثقفی ہے اور وہ کذاب ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مالک بن مغول ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

14347

Majma al-Zawaid #14347

وَعَنْ أَبِي أَرْوَى الدَّوْسِيِّ قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَيَّدَنِي بِكُمَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Arwā al-Dawsī رضي الله عنه said he was with the Prophet ﷺ when Abū Bakr and ʿUmar came forward, so he said, praise be to Allah Who strengthened him through them both. > **"Praise be to Allah Who strengthened me through you both."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوارویٰ دوسی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے تمہارے ذریعے میری تائید کی ۔ یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر بن حفص ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14348

Majma al-Zawaid #14348

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَيَّدَنِي بِكُمَا، وَلَوْلَا أَنَّكُمَا تَخْتَلِفَانِ عَلَيَّ مَا خَالَفْتُكُمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ كَاتِبُ مَالِكٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Barāʾ ibn ʿĀzib رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said to Abū Bakr and ʿUmar, praise be to Allah Who strengthened him through them both, and were it not that they differ before him he would not have differed from them. > **"Praise be to Allah Who strengthened me through you both. Were it not that you differ before me, I would not have differed from you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا : ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے تم دونوں کے ذریعے میری تائید کی اور اگر تم دونوں نے میرے سامنے ایک دوسرے سے مختلف رائے نہ دی ہوتی تو میں نے تم دونوں کی ( متفقہ رائے ) کے برخلاف نہیں کرنا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن ابوحبیب ہے جو مالک کا کاتب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14349

Majma al-Zawaid #14349

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ} [التحريم: 4] قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar and Ibn ʿAbbās رضي الله عنهم, concerning His saying, and the righteous believers, Surah al-Taḥrīm 4, said it was revealed concerning Abū Bakr and ʿUmar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور نیک مومنین ۔‘‘ یہ حضرات فرماتے ہیں : یہ آیت حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرات بن سائب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14350

Majma al-Zawaid #14350

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ خَاصَّةً مِنْ أُمَّتِهِ، وَإِنَّ خَاصَّتِي مِنْ أَصْحَابِي: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ حَمَّادٍ الثَّقَفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, reported that the Messenger of Allah ﷺ said every Prophet has an inner circle from his nation, and his inner circle from his Companions are Abū Bakr and ʿUmar. > **"Every Prophet has an inner circle from his nation, and my inner circle from my Companions are Abū Bakr and ʿUmar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک ہر نبی کا اس کی امت میں خاص ساتھی ہوتا ہے ، اور میرے اصحاب میں سے میرے خاص لوگ ابوبکر اور عمر ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم بن حماد ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14351

Majma al-Zawaid #14351

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبْعَثَ رَجُلًا فِي حَاجَةٍ قَدْ أَهَمَّتْهُ، وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَعُمَرُ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: مَا يَمْنَعُكَ مِنْ هَذَيْنِ؟ فَقَالَ: "" كَيْفَ أَبْعَثُ هَذَيْنِ وَهُمَا مِنَ الدِّينِ بِمَنْزِلَةِ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ مِنَ الرَّأْسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قُلْتُ: وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طَرِيقٌ فِي بَابِ مَنَاقِبِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما said the Messenger of Allah ﷺ wished to send a man for a need that concerned him, while Abū Bakr was at his right and ʿUmar at his left. ʿAlī said, what prevents you from these two. He said, how can he send these two when they are to religion as hearing and sight to the head. > **"How can I send these two when they are to religion as hearing and sight to the head."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کسی کام کے سلسلے میں کسی صاحب کو بھیجنے کا ارادہ کیا ، وہ ایک اہم کام تھا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے دائیں طرف موجود تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں طرف موجود تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں گزارش کی آپ ان دونوں حضرات کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں ان دونوں کو کیسے بھیج سکتا ہوں ؟ جب کہ ان دونوں کی حیثیت دین میں وہی ہے ، جو سر میں سماعت اور بصارت کی ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرات بن سائب ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس حدیث کا ایک طریق صحابہ کرام کی ایک جماعت کے مناقب سے متعلق باب میں موجود ہے ۔

14352

Majma al-Zawaid #14352

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ، وَمُعَاذٍ، وَأُبَيٍّ، وَسَالِمٍ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَهُمْ فِي الْأُمَمِ كَمَا بَعَثَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ الْحَوَارِيِّينَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ "". فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا غِنًى عَنْهُمَا ; إِنَّمَا مَثَلُهُمَا مِنَ الدِّينِ كَمَثَلِ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَلَهُ طَرِيقٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ضَعِيفَةٌ، تَأْتِي فِي فَضْلِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ فِي أَوَّلِ الْمُجَلَّدِ الَّذِي يَلِي هَذَا.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said to take the Qurʾān from four: Ibn Umm ʿAbd, Muʿādh, Ubayy and Sālim. He had intended to send them to the nations just as ʿĪsā ibn Maryam sent the disciples among the Children of Isrāʾīl. A man said to him, O Messenger of Allah, where are you regarding Abū Bakr and ʿUmar. The Messenger of Allah ﷺ said, there is no sufficiency without them. Their parable in religion is as the parable of hearing and sight. > **"Take the Qurʾān from four: Ibn Umm ʿAbd, Muʿādh, Ubayy and Sālim. I had intended to send them to the nations just as ʿĪsā ibn Maryam sent the disciples among the Children of Isrāʾīl."** > **"There is no sufficiency without them. Their parable in religion is as the parable of hearing and sight."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قرآن چار لوگوں سے سیکھو ! ابن ام عبد ( یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) معاذ ( بن جبل ) ابی ( بن کعب ) اور سالم ( مولیٰ ابوحذیفہ ) میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں انہیں مختلف لوگوں کی طرف بھیجوں جس طرح حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے حواریوں کو لوگوں کی طرف بھیجا تھا ، ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان دونوں کے بغیر گزارہ نہیں ہے ، ان دونوں کی مثال دین میں وہی ہے ، جو سماعت اور بصارت کی ہوتی ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد ہے ، جو بنو ہاشم سے نسبت ولاء رکھتا ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں انہوں نے ایک طریق حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے بھی نقل کیا ہے ، جو ضعیف ہے ، اور وہ صحابہ کرام کی ایک جماعت کے فضائل سے متعلق باب میں اگلی جلد کے آغاز میں آئے گا ۔

14353

Majma al-Zawaid #14353

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، وَسَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، وَابْنَ مَسْعُودٍ، إِلَى الْأُمَمِ كَمَا بَعَثَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ الْحَوَارِيِّينَ "". فَقَالَ رَجُلٌ: أَلَا تَبْعَثُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَإِنَّهُمَا أَبْلَغُ؟ قَالَ: "" لَا غِنًى بِي عَنْهُمَا، إِنَّمَا مَنْزِلَتُهُمَا مِنَ الدِّينِ مَنْزِلَةُ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-ʿĀṣ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said he had intended to send Muʿādh ibn Jabal, Sālim the freedman of Abū Ḥudhayfa, Ubayy ibn Kaʿb and Ibn Masʿūd to the nations just as ʿĪsā ibn Maryam sent the disciples. A man said, will you not send Abū Bakr and ʿUmar, for they are more effective. He said, he has no sufficiency without them. Their station in religion is the station of hearing and sight. > **"I had intended to send Muʿādh ibn Jabal, Sālim the freedman of Abū Ḥudhayfa, Ubayy ibn Kaʿb and Ibn Masʿūd to the nations just as ʿĪsā ibn Maryam sent the disciples."** > **"I have no sufficiency without them. Their station in religion is the station of hearing and sight."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں معاذ بن جبل کو سالم مولیٰ ابوحذیفہ کو ، ابی بن کعب کو اور عبداللہ بن مسعود کو مختلف لوگوں کی طرف بھیجوں ، جس طرح حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے حواریوں کو بھیجا تھا ، ایک صاحب نے عرض کی : آپ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ کیونکہ وہ دونوں زیادہ اچھے طریقے سے تبلیغ کر سکیں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان دونوں کے بغیر گزارہ نہیں ہو گا کیونکہ دین میں ان دونوں کی حیثیت وہی ہے ، جو سماعت اور بصارت کی ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

14354

Majma al-Zawaid #14354

وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَ فِي النَّاسِ مُعَلِّمِينَ كَمَا بَعَثَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ الْحَوَارِيِّينَ إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ "" فَقِيلَ: أَيْنَ أَنْتَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ أَلَا تَبْعَثُ بِهِمَا؟ قَالَ: "" إِنَّهُمَا مِنَ الدِّينِ كَالرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْأَيْلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfa ibn al-Yamān رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said he had intended to send teachers among the people just as ʿĪsā ibn Maryam sent the disciples to the Children of Isrāʾīl. It was said, where are you regarding Abū Bakr and ʿUmar, will you not send them both. He said, they are to religion as the head to the body. > **"I had intended to send teachers among the people just as ʿĪsā ibn Maryam sent the disciples to the Children of Isrāʾīl."** > **"They are to religion as the head to the body."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں لوگوں میں معلمین کو بھیجوں جس طرح حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے حواریوں کو بھیجا تھا ۔ عرض کی گی : آپ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ دونوں دین میں وہی حیثیت رکھتے ہیں جو جسم میں سر کی ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر ایلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14355

Majma al-Zawaid #14355

وَعَنِ ابْنِ غَنْمٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: "" لَوِ اجْتَمَعْتُمَا فِي مَشُورَةٍ مَا خَالَفْتُكُمَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ غَنْمٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

EnglishUnverified translation

Ibn Ghannām رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said to Abū Bakr and ʿUmar, had you both agreed in counsel he would not have opposed them. > **"Had you both agreed in counsel, I would not have opposed you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن غنم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا : ’’ اگر تم دونوں کسی مشورے میں اکٹھے ہو جاؤ ، تو میں تم دونوں کے برخلاف نہیں کروں گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن غنم نامی راوی نے نبی اکرم ﷺ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

14356

Majma al-Zawaid #14356

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اقْتَدُوا بِالَّذِينَ مِنْ بَعْدِي: أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ; فَإِنَّهُمَا حَبْلُ اللَّهِ الْمَمْدُودُ، وَمَنْ تَمَسَّكَ بِهِمَا فَقَدْ تَمَسَّكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى الَّتِي لَا انْفِصَامَ لَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said to follow the two after him, Abū Bakr and ʿUmar, for they are Allah's extended rope, and whoever holds fast to them has held fast to the firmest handhold that shall never break. > **"Follow the two after me: Abū Bakr and ʿUmar, for they are Allah's extended rope, and whoever holds fast to them has held fast to the firmest handhold that shall never break."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے بعد ابوبکر اور عمر کی پیروی کرنا کیونکہ یہ دونوں اللہ کی پھیلی ہوئی رسی ہیں ، جو شخص ان دونوں کو مضبوطی سے تھام لے گا ، وہ اس مضبوط رسی کو مضبوطی سے تھام لے گا جو ٹوٹے گی نہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14357

Majma al-Zawaid #14357

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ فِي بَيْتِهِ، فَقُلْتُ: يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: مَهْلًا! وَيْحَكَ يَا أَبَا جُحَيْفَةَ! أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ. وَيْحَكَ يَا أَبَا جُحَيْفَةَ! لَا يَجْتَمِعُ حُبِّي وَبُغْضُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي قَلْبِ مُؤْمِنٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Juḥayfa رضي الله عنه said he entered upon ʿAlī in his house and said, O best of people after the Messenger of Allah ﷺ. He said, gently, woe to you O Abū Juḥayfa, shall he not inform you of the best of people after the Messenger of Allah ﷺ. They are Abū Bakr and ʿUmar. Woe to you O Abū Juḥayfa, love for him and hatred of Abū Bakr and ʿUmar do not gather in the heart of a believer. > **"Shall I not inform you of the best of people after the Messenger of Allah ﷺ? Abū Bakr and ʿUmar. Love for me and hatred of Abū Bakr and ʿUmar do not gather in the heart of a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آپ کے گھر میں حاضر ہوا ، میں نے کہا : اے اللہ ! کے رسول کے بعد سب سے بہتر فرد ! تو انہوں نے فرمایا : اے ابوجحیفہ ! رک جاؤ ، تمہارا ستیاناس ہو ، کیا میں تمہیں اللہ کے رسول کے بعد سب سے بہتر افراد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ہیں ( پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اے ابوجحیفہ ! تمہارا ستیاناس ہو ، میری محبت اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بغض کسی مومن کے دل میں اکٹھے نہیں ہو سکتے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14358

Majma al-Zawaid #14358

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كُنَّا نَجْلِسُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ، مَا يَتَكَلَّمُ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رَحْمَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه said they would sit with the Prophet ﷺ as if birds were upon their heads. None of them spoke except Abū Bakr and ʿUmar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس یوں بیٹھا کرتے تھے جیسے ہمارے سروں پر پرندے موجود ہیں ۔ ہم میں سے کوئی بات چیت نہیں کرتا تھا صرف حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بات چیت کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رحمت بن مصعب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14359

Majma al-Zawaid #14359

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: "" هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said to Abū Bakr and ʿUmar that these two are the masters of the elderly of the people of Paradise from the first and the last. > **"These two are the masters of the elderly of the people of Paradise from the first and the last."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ فرمایا : ’’ یہ دونوں اہل جنت کے تمام پہلے والے اور بعد والے عمر رسیدہ افراد کے سردار ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14360

Majma al-Zawaid #14360

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَقَدْ قَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ: إِنَّهُ وُثِّقَ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbd Allāh رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said Abū Bakr and ʿUmar are the masters of the elderly of the people of Paradise from the first and the last. Do not inform them, O ʿAlī. > **"Abū Bakr and ʿUmar are the masters of the elderly of the people of Paradise from the first and the last. Do not inform them, O ʿAlī."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ابوبکر اور عمر اہل جنت کے پہلے والے اور بعد والے عمر رسیدہ افراد کے سردار ہیں اے علی ! تم ان دونوں کو یہ نہ بتانا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، ابن دقیق العید کہتے ہیں اس کو ثقہ قرار دیا گیا ہے ، امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

14361

Majma al-Zawaid #14361

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِمِثْلِ حَدِيثٍ مَتْنُهُ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، قُلْتُ: وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ with the like of a ḥadīth whose text is that the Prophet ﷺ said Abū Bakr and ʿUmar are the masters of the elderly of Paradise from the first and the last, except the Prophets and Messengers. Do not inform them, O ʿAlī. > **"Abū Bakr and ʿUmar are the masters of the elderly of Paradise from the first and the last, except the Prophets and Messengers. Do not inform them, O ʿAlī."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، جس کا متن یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ابوبکر اور عمر انبیاء و مرسلین کے علاوہ اہل جنت کے ( تمام ) پہلے والے اور بعد والے عمر رسیدہ افراد کے سردار ہیں ، اے علی ! تم اُن دونوں کو یہ نہ بتانا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں ۔ ہمارے علم کے مطابق عبیداللہ بن عمر نامی راوی کے حوالے سے اس روایت کو صرف عبدالرحمن بن مالک بن مغول نے نقل کیا ہے ، میں یہ کہتا ہوں یہ راوی متروک ہے ۔

14362

Majma al-Zawaid #14362

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَ: "" هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه said the Prophet ﷺ came out between Abū Bakr and ʿUmar and said, thus shall they be raised on the Day of Resurrection. > **"Thus shall we be raised on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن ہمیں اسی طرح اٹھایا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے اور وہ کذاب ہے ۔

14363

Majma al-Zawaid #14363

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: مَنْ فَضَّلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدْ أَزْرَى عَلَى الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَاثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَازِمُ بْنُ جَبَلَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿAmmār ibn Yāsir رضي الله عنه that he said: whoever gives precedence over Abū Bakr and ʿUmar رضي الله عنهما to anyone among the Companions of the Messenger of Allah ﷺ has thereby belittled the Muhājirīn and the Anṣār and twelve thousand of the Companions of Muḥammad, the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جو شخص صحابہ کرام میں سے کسی کو بھی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیتا ہے ، وہ مہاجرین و انصار اور حضرت محمد ﷺ کے بارہ ہزار صحابہ کرام پر عیب لگاتا ہے ( یا ان پر اعتراض کرتا ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حازم بن جبلہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14364

Majma al-Zawaid #14364

وَعَنِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، فَقَالَ: مَا كَانَ مَنْزِلَةُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: كَمَنْزِلَتِهِمَا السَّاعَةَ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَابْنُ أَبِي حَازِمٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَشَيْخُ عَبْدِ اللَّهِ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Ibn Abī Ḥāzim that a man came to ʿAlī ibn al-Ḥusayn and asked: what was the standing of Abū Bakr and ʿUmar with the Prophet ﷺ. He replied: like their standing at this very hour, meaning as they are now, honoured and buried beside him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابوحازم بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت علی بن حسین ( یعنی امام زین العابدین ) کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا : حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں وہی منزلت حاصل تھی جس طرح ان دونوں کو آج قدر و منزلت حاصل ہے ۔ یہ روایت عبداللہ نے اور طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ابن ابوحازم نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اور عبداللہ کا استاد ثقہ شخص ہے ۔

14365

Majma al-Zawaid #14365

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، وَثَلَّثَ عُمَرُ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ - أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ - يَعْفُو اللَّهُ عَمَّنْ يَشَاءُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَقَالَ: ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ، يُرِيدُ أَنْ يَتَوَاضَعَ بِذَلِكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from ʿAlī رضي الله عنه that he said: the Messenger of Allah ﷺ went ahead foremost, and Abū Bakr رضي الله عنه prayed next, and ʿUmar رضي الله عنه came third, then a tribulation struck us violently — or he said, a tribulation befell us — and Allah pardons whom He wills, intending thereby humility on his part.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سبقت لے گئے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسرے فرد ہیں ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تیسرے فرد ہیں ، پھر فتنے نے ہمیں مخبوط الحواس کر دیا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) پھر ہمیں فتنہ لاحق ہوا تو اللہ تعالیٰ جس سے چاہے گا درگزر کرے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ کہا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ پھر فتنے نے ہمیں مخبوط الحواس کر دیا ، وہ اس کے ذریعے تواضع کا اظہار کر رہے تھے ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

14366

Majma al-Zawaid #14366

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: خَطَبَ رَجُلٌ يَوْمَ الْبَصْرَةِ حِينَ ظَهَرَ عَلِيٌّ، فَقَالَ عَلِيٌّ: هَذَا الْخَطِيبُ الشَّحْشَحُ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

In a narration from him it is reported: on the day of Baṣra, when ʿAlī رضي الله عنه had prevailed, a man delivered a khuṭbah, whereupon ʿAlī said: this is the sharp, eloquent orator. Then the narrator mentioned the ḥadīth in a similar manner.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جنگ بصرہ کے دن ایک شخص نے خطبہ دیا ، یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ غالب آ گئے تھے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک قادر الکلام خطیب ہے ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔

14367

Majma al-Zawaid #14367

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى يَرَاهُمْ مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُمْ كَمَا تُرَى الْكَوَاكِبُ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from Jābir ibn Samurah رضي الله عنه that he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Indeed the people of the highest degrees will be seen by those below them just as stars are seen on the horizon of the sky, and Abū Bakr and ʿUmar are among them, and how excellent they are."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ( جنت میں ) اوپر کے درجات والے لوگوں کو نیچے والے لوگ اس طرح دیکھیں گے ، جس طرح آسمان کے افق میں موجود ستاروں کو دیکھا جاتا ہے ، اور ابوبکر اور عمر ان ( بالائی درجوں والے افراد ) میں سے ہیں ، اور یہ دونوں اچھے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن سہل واسطی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔