وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ السَّدُوسِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ نَاسًا يَنَالُونَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ، فَبَعَثَتْ إِلَى أَزْفَلَةٍ مِنْهُمْ، فَسَدَلَتْ أَسْتَارَهَا، وَعَذَلَتْ وَقَرَّعَتْ، وَقَالَتْ: أَبِي وَمَا أَبِيهِ، أَبِي لَا تُعْطُوهُ الْأَيْدِي. هَيْهَاتَ وَاللَّهِ، ذَاكَ طَوْدٌ مَنِيفٌ، وَظِلٌّ مَدِيدٌ، أَنْجَحَ وَاللَّهِ إِذْ كَذَّبْتُمْ، وَسَبَقَ إِذْ وَنَيْتُمْ سَبْقَ الْجَوَادِ إِذَا اسْتَوْلَى عَلَى الْأَمَدِ، فَتَى قُرَيْشٍ نَاشِئًا، وَكَهْفًا كَهْلًا. يَفُكُّ عَانِيَهَا، وَيَرِيشُ مُمْلِقَهَا، وَيَرْأَبُ رَوْعَهَا، وَيَلُمُّ شَعَثَهَا حَتَّى حَلِيَتْهُ قُلُوبُهَا، ثُمَّ اسْتَشْرَى فِي دِينِهِ فَمَا بَرِحَتْ شَكِيمَتُهُ فِي ذَاتِ اللَّهِ حَتَّى اتَّخَذَ بِفَنَائِهِ مَسْجِدًا يُحْيِي فِيهِ مَا أَمَاتَ الْمُبْطِلُونَ، وَكَانَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - غَزِيرَ الدَّمْعَةِ، وَقِيدَ الْجَوَانِحِ، شَجِيَّ النَّشِيجِ، فَاصْفَقَّتْ إِلَيْهِ نِسْوَانُ مَكَّةَ وَوِلْدَانُهَا يَسْخَرُونَ مِنْهُ وَيَسْتَهْزِئُونَ بِهِ اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ فَأَكْبَرَتْ ذَلِكَ رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ ; فَحَنَتْ قِسِيَّهَا، وَفَوَّقَتْ سِهَامَهَا، وَامْتَثَلُوهُ غَرَضًا فَمَا فَلُّوا لَهُ شَبَاةً، وَلَا قَصَفُوا لَهُ قَنَاةً، وَمَرَّ عَلَى سِيسَائِهِ حَتَّى إِذَا ضَرَبَ الدِّينُ بِجِرَانِهِ، وَأَلْقَى بَرْكَهُ، وَرَسَتْ أَوْتَادُهُ، وَدَخَلَ النَّاسُ فِيهِ أَفْوَاجًا، وَمِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ أَرْسَالًا وَأَشْتَاتًا ; اخْتَارَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ مَا عِنْدَهُ، فَلَمَّا قَبَضَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ضَرَبَ الشَّيْطَانُ رِوَاقَهُ، وَنَصَبَ حَبَائِلَهُ، وَمَدَّ طُنُبَهُ، وَأَجْلَبَ بِخَيْلِهِ وَرَجِلِهِ ; فَاضْطَرَبَ حَبْلُ الْإِسْلَامِ، وَمَرَجَ عَهْدُهُ، وَمَاجَ أَهْلُهُ، وَعَادَ مَبْرَمُهُ أَنْكَاثًا، وَبَغَى الْغَوَائِلُ، وَظَنَّتِ الرِّجَالُ أَنْ قَدْ أَكْثَبَتْ أَطْمَاعُهُمْ، وَلَاتَ حِينَ [الَّتِي] يَرْجِعُونَ، وَإِنِّي وَالصِّدِّيقُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَقَامَ حَاسِرًا مُشَمِّرًا، فَرَفَعَ حَاشِيَتَهُ، وَجَمَعَ قَطْرَتَهُ، فَرَدَّ يُسْرَ الْإِسْلَامِ عَلَى غِرَّةٍ، وَلَمَّ شَعَثَهُ بِطَيِّهِ، وَأَقَامَ أَوَدَهُ بِثِقَافِهِ ; فَابْدَعَرَّ النِّفَاقُ بِوَطْأَتِهِ، وَانْتَاشَ الدِّينُ بِنَعْشِهِ. فَلَمَّا رَاحَ الْحَقُّ عَلَى أَهْلِهِ، وَأَقَرَّ الرءُوسَ عَلَى كَوَاهِلِهَا، وَحَقَنَ الدِّمَاءَ فِي أَهَبِهَا، حَضَرَتْ مَنِيَّتُهُ، فَسَدَ ثُلْمَتَهُ بِشَقِيقِهِ فِي الْمَرْحَمَةِ وَنَظِيرِهِ فِي السِّيرَةِ وَالْمَعْدَلَةِ - ذَاكَ ابْنُ الْخَطَّابِ، لِلَّهِ أُمٌُّ حَمَلَتْ بِهِ وَدَرَّتْ عَلَيْهِ لَقَدْ أَوْحَدَتْ بِهِ ; فَفَتَحَ الْكَفَرَةَ وَذَيْخَهَا، وَشَرَّدَ الشِّرْكَ شَذَرَ مَذَرَ، وَبَعَجَ الْأَرْضَ ; فَقَاءَتْ أُكُلَهَا، وَلَفِظَتْ خَبِيئَهَا تَرْأَمُهُ، وَيُصْدِفُ عَنْهَا وَتَصَدَّى لَهُ وَيَأْبَاهَا، ثُمَّ وَرِعَ فِيهَا، ثُمَّ تَرَكَهَا كَمَا صَحِبَهَا، فَأَرُونِي مَاذَا تَقُولُونَ؟ وَأَيَّ يَوْمَيْ أَبِي تَنْقِمُونَ؟! أَيَوْمَ إِقَامَتِهِ إِذْ عَدَلَ فِيكُمْ، أَوْ يَوْمَ ظَعْنِهِ إِذْ نَظَرَ لَكَمْ؟ أَقُولُ قَوْلِي هَذَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلَكُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ السَّدُوسِيُّ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَلَا ابْنَهُ.
EnglishUnverified translation
ʿAlī ibn Aḥmad al-Sadūsī from his father said it reached ʿĀʾisha رضي الله عنها that some people disparaged Abū Bakr, so she sent for a group of them, let down her curtains, rebuked and reproached them, and said, my father, and what of my father. You cannot reach him with your hands. Far from it, by Allah. He was a towering mountain and an extended shade. He succeeded, by Allah, when you belied, and outstripped when you lagged, like the outstripping of a racehorse when it masters the distance. A youth of Quraysh in his youth, and a cave in his old age. He freed their captives, enriched their destitute, mended their breach and gathered their disarray, until hearts adorned him with love. Then he advanced firmly in his religion and his firmness for Allah did not depart, until he took a mosque in his courtyard in which he revived what the adherents of falsehood had caused to die. He was, may Allah have mercy upon him, abundant in tears, restrained in the inner self, choked with sobbing. The women and children of Makka gathered to him mocking and ridiculing him, while Allah mocks them and prolongs them in their transgression wandering blindly. The men of Quraysh deemed that grave, so they bent their bows, fitted their arrows and made him a target, yet they neither blunted his edge nor broke his spear. He continued upon his course until religion took its firm hold, cast its weight, its pegs were fixed, and people entered it in crowds, in successive groups from every faction. Then Allah chose for His Prophet what is with Him, so when Allah عز و جل took him, Satan spread his canopy, set his snares, extended his ropes and came with his horse and foot. The rope of Islam shook, its covenant fell into confusion, its people surged, its firmly twisted cord became undone strands, calamities coveted, and men thought their ambitions had succeeded, far from the time of return. Yet al-Ṣiddīq was among them, so he stood bare and girded, raised his side, gathered his strength, restored the ease of Islam after heedlessness, gathered its disarray by his resolve, revived what had been neglected, and established the order until apostasy was repelled and the religion stood upright.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
علی بن احمد سدوی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ اطلاع ملی کہ کچھ لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر تنقید کرتے ہیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کچھ لوگوں کو پیغام بھیج کر بلوایا ، انہوں نے درمیان میں پردہ کروایا اور پھر غصے کا اظہار کرتے ہوئے اور ملامت کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : میرے والد ، میرے والد کے کیا کہنے ؟ تم لوگ میرے والد پر تنقید نہیں کر سکتے ، اللہ کی قسم ! وہ بلند پہاڑ تھے اور پھیلا ہوا سایہ تھے ، جب تم لوگوں نے جھٹلایا ، تو اللہ کی قسم ! اس وقت انہوں نے کامیابی حاصل کی ، جب تم لوگوں نے کمزوری دکھائی ، تو انہوں نے سبقت حاصل کی ، ایک ایسی سبقت جو کسی شہسوار کی ہوتی ہے ، جب اُس نے دور تک جانا ہو ، وہ اپنی جوانی میں قریش کے نمایاں فرد تھے ، اور بڑھاپے میں اُن کے لئے غار کی حیثیت رکھتے تھے ، انہوں نے ( لوگوں ) کے قیدیوں کو آزاد کروایا ، اور ان ( لوگوں ) کے غریبوں کو مال دیا ، وہ ان کے بکھرے ہوئے معاملات کو اکٹھا کرتے تھے ، اور پریشانیوں کو ختم کرتے تھے ، یہاں تک کہ ان لوگوں کے دل اُن کی طرف مائل ہو گئے ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دین کے بارے میں مضبوطی کا اظہار کیا ، اور اللہ کی ذات کے بارے میں اُن کی یہ مضبوطی ہمیشہ برقرار رہی ، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے صحن میں مسجد بنا لی ، جس میں وہ ، اُس چیز ( یعنی عبادت ) کو زندہ کرتے تھے ، جسے باطل لوگ نہیں کرتے تھے ، وہ ایسے ( فرد ) تھے کہ اُن کے آنسو بہتے رہتے تھے ، اور ان کا دل نرم تھا ، غم کی وجہ سے ان کی گھٹی ہوئی سی آواز نکلتی تھی ، مکہ کی خواتین اور ان خواتین کے بچے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھے ہو جاتے تھے اور اُن کا مذاق اڑایا کرتے تھے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ ان ( کفار ) کے ساتھ استہزاء کرے گا اور انہیں اُن کی سرکشی میں رہنے دے گا کہ وہ بھٹکتے رہیں ، یہ بات قریش سے تعلق رکھنے والے افراد پر بہت گراں گزری ، انہوں نے اپنی کمانیں سیدھی کر لیں اور تیروں پر پھل لگا لیا ، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نشانہ بنا لیا ، تو قریش کے لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے نہ تو کوئی پتھر توڑا ، اور نہ ہی اُن کے لئے کوئی نیزہ توڑا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اپنے طریقے پر گامزن رہے ، یہاں تک کہ دین نے غلبہ حاصل کر لیا ، دین اپنی جگہ پر جم گیا ، اور اس نے اپنے کیل ٹھوک دیئے ، اور لوگ گروپوں کی شکل میں دین میں داخل ہونے لگے ، ہر گروہ کچھ افراد کو بھیج دیتا تھا ، لوگ متفرق شکلوں میں آتے تھے ، پھر یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے اس چیز کو منتخب کیا ، جو اس کے پاس ہے ، جب اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی ، تو شیطان نے اپنا خیمہ لگا لیا ، اس نے اپنا جال بچھا لیا ، اس نے اپنی طنابیں کھینچ لیں اور اپنے گھر سواروں اور پیادہ افراد کو لے آیا ، وہ اسلام کی رسّی میں اضطراب آ گیا ، اور اس کے عہد میں تنازع آ گیا ، اور اہل اسلام اختلاف کا شکار ہو گئے ، اور ان کا اجتماع انتشار میں بدل گیا ، تو کچھ لوگوں نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ اپنے لالچ ، یا مقاصد کو حاصل کر لیں گے اور اس صورتحال میں مسلمان کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے ، لیکن یہ بھلا کیسے ہو سکتا تھا ، جبکہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے درمیان موجود تھے ، وہ آستینیں چڑھا کر اور تہبند سنبھال کر اٹھ کھڑے ہوئے ، انہوں نے اپنے لباس کے کنارے کو سی لیا ، اور دونوں طرف سے اسے اکٹھا کر لیا ( یعنی وہ مقابلہ کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہو گئے ) تو انہوں نے اسلام کے غلبے کو لوٹا دیا ، اور اس کے بکھرے ہوئے امور کو سمیٹ دیا ، اور اس میں رونما ہونے والے ٹیڑھے پن کو سیدھا کر دیا ، تو ان کے دبانے کی وجہ سے منافقت پیچھے ہٹ گئی ، اور ان کے بلند کرنے کی وجہ سے دین اس چیز سے محفوظ ہو گیا ، جس کے حوالے سے اندیشہ تھا ، جب انہوں نے حق کو اس کے متعلقہ افراد تک پہنچا دیا ، اور سروں کو کندھوں پر جما دیا ، اور پھولوں کو جوڑوں میں محفوظ کر دیا ، تو ان کا آخری وقت آ گیا ، تو انہوں نے اپنی ذات کے حوالے سے پیدا ہونے والے خلاء کو اس شخصیت کے ذریعے پر کیا ، جو رحمت ہونے میں ان کی طرح کے تھے ، اور طریقہ کار اور عدل کرنے میں ان کی نظیر تھے ، اور وہ خطاب کے صاحبزادے ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) ہیں ۔ اس ماں کے کیا کہنے ؟ جو ان کے حوالے سے حاملہ ہوئیں ، جس نے انہیں دودھ پلایا ، اور ان جیسے بے مثل شخص کو جنم دیا ، انہوں نے کافروں کو فتح کیا اور انہیں ذلت کا شکار کیا ، اور اور شرک کو یوں پرے کر دیا کہ اُس کا ٹھکانہ نہ رہا ، اور انہوں نے زمین کو چیر دیا ( یعنی اسے فتح کر لیا ) تو اُس ( زمین ) نے اپنی کھائی ہوئی چیز کو قے کر دیا اور چھپا کر رکھی گئی چیز کو اس نے پھینک دیا ( یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے زمین میں سے ، نعمتیں اور دولتیں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں ) اُس ( یعنی دنیا ) نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے محبت کا اظہار کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُس ( دنیا ) سے اعراض کیا ، وہ ( دنیا ) اُن کے سامنے آئی ، تو انہوں نے اس کو انکار کیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دنیا کے بارے میں پرہیزگاری کو اختیار کیا ، اور پھر اُسے اُسی حالت میں چھوڑا ، جس حالت میں وہ اُس ( دنیا ) کے ساتھ رہے تھے ۔ تو اب تم لوگ مجھے بتاؤ ! کہ تم کیا کہتے ہو ؟ تمہیں میرے والد کے دودنوں میں سے کون سے دن پر اعتراض ہے ؟ ان کے مقیم رہنے والے دن پر اعتراض ہے ؟ کہ جب انہوں نے تمہارے درمیان عدل سے کام لیا ، یا ان کی روانگی کے دن پر اعتراض ہے کہ جب انہوں نے تمہارے لئے سوچ بچار کی ؟ ( پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ) میں نے اپنی بات کہہ دی ہے ، اور میں اپنے لیے اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، احمد سدوی نامی راوی نے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ، میں اُس سے اور اس کے بیٹے سے واقف نہیں ہوں ۔