«وَعَنْ رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَخْدِمُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطَانِي أَرْضًا وَأَعْطَى أَبَا بَكْرٍ أَرْضًا، وَجَاءَتِ الدُّنْيَا فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هِيَ فِي حَدِّي، وَقُلْتُ أَنَا: هِيَ فِي حَدِّي. فَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ كَلَامٌ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهْتُهَا وَنَدَمَ، فَقَالَ لِي: يَا رَبِيعَةُ، رُدَّ عَلَيَّ مِثْلَهَا حَتَّى تَكُونَ قِصَاصًا، فَقُلْتُ: لَا أَفْعَلُ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَتَفْعَلَنَّ أَوْ لَأَسْتَعْدِيَنَّ عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، وَرَفَضَ الْأَرْضَ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَانْطَلَقْتُ أَتْلُوهُ، فَجَاءَ أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالُوا: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ، فِي أَيِّ شَيْءٍ يَسْتَعْدِي عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ الَّذِي قَالَ لَكَ مَا قَالَ؟! قُلْتُ: أَتَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ هَذَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَهُوَ ثَانِيَ اثْنَيْنِ، وَهُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِيَّاكُمْ لَا يَلْتَفِتُ فَيَرَاكُمْ تَنْصُرُونِي عَلَيْهِ فَيَغْضَبَ، فَيَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَغْضَبَ لِغَضَبِهِ، فَيَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِهِمَا ; فَتَهْلَكَ رَبِيعَةُ. قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: ارْجِعُوا، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَبِعْتُهُ وَحْدِي، وَجَعَلْتُ أَتْلُوهُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ كَمَا كَانَ، فَرَفَعَ إِلَيَّ رَأْسَهُ فَقَالَ: "" يَا رَبِيعَةُ، مَا لَكَ وَلِلصِّدِّيقِ؟ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ كَذَا كَانَ كَذَا قَالَ لِي كَلِمَةً كَرِهْتُهَا، فَقَالَ لِي: قُلْ كَمَا قُلْتُ حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَجَلْ،: فَلَا تَرُدَّنَّ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ قُلْ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ "". فَوَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ يَبْكِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي النِّكَاحِ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Rabīʿa al-Aslamī رضي الله عنه said he used to serve the Messenger of Allah ﷺ, so he gave him land and gave Abū Bakr land. Worldly interest came and they differed over a cluster of dates. Abū Bakr said it is within my boundary, while he said it is within his boundary. There occurred words between him and Abū Bakr, so Abū Bakr uttered a word he disliked and regretted it, then said to him, O Rabīʿa, return the like of it upon me so that there be retaliation. He said, I will not do it. Abū Bakr said, you shall do it or I shall seek the Messenger of Allah ﷺ against you. He said, I shall not do it. He abandoned the land, and Abū Bakr went to the Prophet ﷺ while he followed behind him. Some people of Aslam came and said, may Allah have mercy upon Abū Bakr, for what does he seek the Messenger of Allah ﷺ against you while he is the one who said to you what he said. He said, do you know who this is. This is Abū Bakr al-Ṣiddīq, the second of the two, the elder of the Muslims. Beware lest he turn and see you aiding me against him and become angry, then come to the Messenger of Allah ﷺ who becomes angry for his anger, then Allah becomes angry for their anger, and Rabīʿa perishes. They said, what do you command us. He said, go back. Abū Bakr went to the Messenger of Allah ﷺ and he followed him alone until he came to the Messenger of Allah ﷺ, and he related the account as it was. The Prophet ﷺ raised his head to him and said, O Rabīʿa, what is between you and al-Ṣiddīq. He said, O Messenger of Allah, it was so and so, he said to me a word I disliked, then said to me say as I said so that there be retaliation. The Messenger of Allah ﷺ said, yes, do not return upon him, but say, may Allah forgive you O Abū Bakr. So he said it, and Abū Bakr wept and went forth. > **"O Rabīʿa, return the like of it upon me so that there be retaliation."** > **"You shall do it or I shall seek the Messenger of Allah ﷺ against you."** > **"O Rabīʿa, what is between you and al-Ṣiddīq?"** > **"Yes, do not return upon him, but say: May Allah forgive you, O Abū Bakr."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا ، آپ نے مجھے ایک زمین عطا کی ، آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی ایک زمین عطا کی ، جب دنیا آئی ، تو ہمارے درمیان کھجور کے ایک درخت کے بارے میں اختلاف ہو گیا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ میری حد میں آتا ہے ، میں نے کہا : یہ میری حد میں آتا ہے ، اس دوران میرے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان تکرار ہو گئی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک ایسی بات کہی جو مجھے بری لگی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ندامت ہوئی ، تو انہوں نے مجھ سے کہا : اے ربیعہ ! تم بھی اس طرح کی بات مجھے جواب میں کہہ دو ، تاکہ بدلہ ہو جائے ، میں نے کہا : میں ایسا نہیں کروں گا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : یا تو تم ایسا کرو گے ورنہ میں تمہارے خلاف نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں شکایت کروں گا ، میں نے کہا : میں ایسا نہیں کروں گا ۔ پھر انہوں نے اس زمین کو چھوڑا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ۔ ان کے پیچھے چلتا ہوا میں بھی جانے لگا ۔ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آئے ہوئے تھے ۔ ان لوگوں نے کہا : اللہ تعالیٰ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ، یہ کس لئے نبی اکرم ﷺ کے سامنے تمہارے خلاف شکایت کرنا چاہ رہے ہیں ، حالانکہ تمہارے بارے میں بات تو انہوں نے کی ہے ، میں نے کہا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ یہ کون ہیں ، یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ دو افراد میں سے ایک ہیں ۔ یہ مسلمانوں کے بزرگ ہیں ، تم لوگ اس چیز سے بچنے کی کوشش کرو کہ ایسا نہ ہو کہ وہ مڑ کے دیکھیں اور انہیں تم نظر آؤ کہ تم لوگ ان کے خلاف میری مدد کرنا چاہ رہے ہو ، اور پھر وہ غصے میں آ جائیں اور نبی اکرم ﷺ کے پاس چلے جائیں اور ان کے غصے کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ بھی غصے میں آ جائیں اور ان دونوں کے غصے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی غصے میں آ جائے اور ربیعہ ہلاک ہو جائے ، لوگوں نے کہا : پھر تم ہمیں کیا کہتے ہو ، حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم لوگ واپس چلے جاؤ ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس چلے گئے ۔ ان کے بعد میں بھی اکیلا چلا گیا ، میں ان کے پیچھے چلتا ہوا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو پوری بات بتائی ، جس طرح ہوئی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا : اے ربیعہ تمہارا اور صدیق کا کیا معاملہ ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس اس طرح ہوا تھا ، انہوں نے مجھے ایک بات کہی جو مجھے اچھی نہیں لگی ، تو انہوں نے مجھ سے کہا : تم بھی اس طرح کہہ لو ، جس طرح میں نے کہا : ہے ، تاکہ بدلہ ہو جائے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے ٹھیک کیا ہے ، تم نے اسے ہرگز جواب نہیں دینا تھا ، لیکن تم یہ کہو کہ اے ابوبکر اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے ، راوی کہتے ہیں : تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے تشریف لے گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام احمد نے اس کی مانند روایت ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے نکاح سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔