Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 1

Book of Virtues and Merits

Hadith 14288–14327

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14288

Majma al-Zawaid #14288

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ لُؤَيٍّ. شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَأُمُّ أَبِي بَكْرٍ: أُمُّ الْخَيْرِ: سَلْمَى بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ، وَأُمُّ أُمِّ الْخَيْرِ: دِلَافُ وَهِيَ أُمَيْمَةُ بِنْتُ عُبَيْدِ بْنِ النَّاقِدِ الْخُزَاعِيِّ. وَجَدَّةُ أَبِي بَكْرٍ أُمُّ أَبِي قُحَافَةَ: أَمِينَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ حُرْثَانَ بْنِ عَوْفِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُوَيْجِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwa ibn al-Zubayr reported that Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه, his name was ʿAbd Allāh ibn ʿUthmān ibn ʿĀmir ibn ʿAmr ibn Kaʿb ibn Saʿd ibn Taym ibn Murra ibn Luʾayy. He was present at Badr with the Messenger of Allah ﷺ. The mother of Abū Bakr was Umm al-Khayr Salmā bint Ṣakhr ibn ʿĀmir ibn ʿAmr ibn Kaʿb ibn Saʿd ibn Taym ibn Murra ibn Luʾayy ibn Ghālib ibn Fihr ibn Mālik, and the mother of Umm al-Khayr was Dilāf, who is Umayma bint ʿUbayd ibn al-Nāqid al-Khuzāʿī. The grandmother of Abū Bakr, the mother of Abū Quḥāfa, was Amīna bint ʿAbd al-ʿUzzā ibn Ḥarthān ibn ʿAwf ibn ʿUbayd ibn ʿUwayj ibn ʿAdī ibn Kaʿb.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر بن صدیق رضی اللہ عنہ کا نام : عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن لؤی تھا ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی والدہ ام الخیر سلمہ بنت صخر بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک ہیں ، اور ام الخیر کی والدہ ” دلاف “ ہیں ، جن کا نام امیمہ بنت عبید بن ناقد خزاعی ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی دادی یعنی حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کی والدہ امینہ بنت عبدالعزیٰ بن حرثان بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14289

Majma al-Zawaid #14289

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظَرَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ: "" هَذَا عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ "". فَمِنْ يَوْمِئِذٍ سُمِّيَ: عَتِيقًا، وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ اسْمُهُ: عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn al-Zubayr رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ looked at Abū Bakr رضي الله عنه and said that he is Allah's freed one from the Fire, and from that day he was named ʿAtīq, whereas before that his name was ʿAbd Allāh ibn ʿUthmān. > **"This is Allah's ʿAtīq from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر یہ ارشاد فرمایا : ’’ یہ جہنم سے اللہ تعالیٰ کا آزاد کردہ شخص ہے ۔‘‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو اس دن سے ان کا نام عتیق پڑ گیا اس سے پہلے ان کا نام عبداللہ بن عثمان تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

14290

Majma al-Zawaid #14290

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «وَاللَّهِ إِنِّي لَفِي بَيْتِي ذَاتَ يَوْمٍ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْفِنَاءِ وَأَصْحَابُهُ، وَالسِّتْرُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، إِذْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى عَتِيقٍ مِنَ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، وَإِنَّ اسْمَهُ الَّذِي سَمَّاهُ أَهْلُهُ: لَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، فَغَلَبَ عَلَيْهِ اسْمُ عَتِيقٍ» "". قُلْتُ: بَعْضُهُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha رضي الله عنها said, by Allah, one day she was in her house while the Messenger of Allah ﷺ and his Companions were in the courtyard with a curtain between her and them, when Abū Bakr came forward, so the Prophet ﷺ said that whoever is pleased to look at one freed from the Fire should look at Abū Bakr. ʿĀʾisha added that his name which his family gave him was ʿAbd Allāh ibn ʿUthmān, then the name ʿAtīq prevailed over him. > **"Whoever is pleased to look at one freed from the Fire, let him look at Abū Bakr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اللہ کی قسم ! ایک دن میں اپنے گھر میں موجود تھی ، نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب صحن میں موجود تھے ، میرے اور ان لوگوں کے درمیان پردہ حائل تھا ، اسی دوران حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ جہنم سے آزاد شدہ کسی شخص کو دیکھے تو اسے ابوبکر کو دیکھ لینا چاہیے ۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وہ نام جو ان کے گھر والوں نے رکھا تھا وہ عبداللہ بن عثمان تھا ، لیکن پھر بعد میں ان کا نام عتیق مشہور ہو گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس روایت کا کچھ حصہ امام ترمذی نے نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ طلحی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14291

Majma al-Zawaid #14291

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَسْلَمَتْ أُمُّ أَبِي بَكْرٍ، وَأُمُّ عُثْمَانَ، وَأُمُّ طَلْحَةَ، وَأُمُّ الزُّبَيْرِ، وَأُمُّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأُمُّ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَإِنَّمَا سُمِّيَ: عَتِيقَ بْنَ عُثْمَانَ ; لِحُسْنِ وَجْهِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said the mother of Abū Bakr, the mother of ʿUthmān, the mother of Ṭalḥa, the mother of al-Zubayr, the mother of ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, and the mother of ʿAmmār ibn Yāsir all accepted Islam. He added that he was only named ʿAtīq ibn ʿUthmān on account of the beauty of his face.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی والدہ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی والدہ ( ان سب خواتین نے ) اسلام قبول کیا تھا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام عتیق بن عثمان رکھا گیا تھا ، کیونکہ ان کا چہرہ خوبصورت تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14292

Majma al-Zawaid #14292

وَعَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: إِنَّمَا سُمِّيَ أَبُو بَكْرٍ عَتِيقًا ; لِعَتَاقَةِ وَجْهِهِ، وَكَانَ اسْمُهُ: عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Layth ibn Saʿd said Abū Bakr was only named ʿAtīq on account of the nobility and beauty of his face, and his name was ʿAbd Allāh ibn ʿUthmān.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

لیث بن سعد بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام عتیق ان کے چہرے کی خوبصورتی کی وجہ سے رکھا گیا تھا ، ویسے ان کا نام عبداللہ بن عثمان تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14293

Majma al-Zawaid #14293

عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ اسْمِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ: عَبْدُ اللَّهِ، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: عَتِيقٌ؟ فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا قُحَافَةَ كَانَ لَهُ ثَلَاثَةٌ، فَسَمَّى وَاحِدًا عَتِيقًا، وَمُعَيْتِقًا، وَمُعَتَّقًا .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ أَبِي قَيْسٍ الْبُخَارِيُّ، فَإِنْ كَانَ ثِقَةً فَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Qāsim ibn Muḥammad said he asked ʿĀʾisha رضي الله عنها about the name of Abū Bakr, so she said ʿAbd Allāh. He said, they say ʿAtīq. She said Abū Quḥāfa had three sons, so he named one ʿAtīq and one Muʿaytiq and one Muʿattaq.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نام کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے جواب دیا : عبداللہ نے کہا : لوگ تو یہ کہتے ہیں ان کا نام تحقیق تھا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کے تین بیٹے تھے ۔ ان میں سے ایک کا نام انہوں نے عتیق رکھا تھا ایک کا معیتق رکھا اور ایک کا معتق رکھا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ابوقیس بخاری ہے ، اگر تو وہ ثقہ ہو ، تو پھر اس روایت کی سند حسن ہو گی ۔

14294

Majma al-Zawaid #14294

وَعَنْ أَبِي حَفْصٍ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ: أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «كَانَ أَبُو بَكْرٍ مَعْرُوقَ الْوَجْهِ، وَإِنَّمَا سُمِّيَ عَتِيقًا لِعَتَاقَةِ وَجْهِهِ، وَكَانَ اسْمُهُ: عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ، وَقَدْ رُوِيَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّاهُ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ḥafṣ ʿAmr ibn ʿAlī used to say that Abū Bakr had little flesh on his face, and he was only named ʿAtīq on account of the nobility of his face, and his name was ʿAbd Allāh ibn ʿUthmān. It has also been narrated that the Messenger of Allah ﷺ named him ʿAtīq from the Fire.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحفص عمرو بن علی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے چہرے پر گوشت کم تھا ، اور ان کا نام ” عتیق ‘‘ ان کے چہرے کی خوبصورتی کی وجہ سے رکھا گیا تھا ، ویسے ان کا نام عبداللہ بن عثمان تھا ۔ یہ روایت بھی نقل کی گئی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ان کا نام ’’ عتیق ‘‘ یعنی جہنم سے آزاد شده شخص رکھا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ اور حسن ہے ۔

14295

Majma al-Zawaid #14295

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَحْلِفُ: لَلَّهُ أَنْزَلَ اسْمَ أَبِي بَكْرٍ مِنَ السَّمَاءِ الصِّدِّيقَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥakīm ibn Saʿd said he heard ʿAlī رضي الله عنه swearing that Allah sent down the name of Abū Bakr from the heaven as al-Ṣiddīq. > **"Allah sent down the name of Abū Bakr from the heaven: al-Ṣiddīq."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حکیم بن سعد بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حلف اٹھا کر یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام ’’ صدیق ‘‘ نازل کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14296

Majma al-Zawaid #14296

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَمَا مَرَرْتُ بِسَمَاءٍ إِلَّا وَجَدْتُ فِيهَا اسْمِي: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، مِنْ خَلْفِي» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغِفَارِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said he was taken up to the lowest heaven, and he did not pass by any heaven except that he found therein his name, Muḥammad the Messenger of Allah, with Abū Bakr al-Ṣiddīq behind him. > **"I was taken up to the lowest heaven, and I did not pass by any heaven except that I found therein my name: Muḥammad the Messenger of Allah, and Abū Bakr al-Ṣiddīq behind me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے آسمان دنیا کی طرف معراج کروائی گئی ، میں جس بھی آسمان کے پاس سے گزرا وہاں میں نے اپنا نام ’’ محمد رسول اللہ ‘‘ پایا ، اور میرے پیچھے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ( کا نام ) تھا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابراہیم غفاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14297

Majma al-Zawaid #14297

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَمَّا عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ، مَا مَرَرْتُ بِسَمَاءٍ إِلَّا وَجَدْتُ اسْمِي فِيهَا مَكْتُوبًا: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغِفَارِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said when he was taken up to the heaven, he did not pass by any heaven except that he found his name written therein as Muḥammad the Messenger of Allah, with Abū Bakr al-Ṣiddīq. > **"When I was taken up to the heaven, I did not pass by any heaven except that I found my name written therein: Muḥammad the Messenger of Allah, Abū Bakr al-Ṣiddīq."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب مجھے آسمان کی طرف معراج کروائی گئی ، تو میں جس بھی آسمان سے گزرا وہاں میں نے اپنا نام یہ لکھا ہوا پایا ’’ محمد اللہ کے رسول ہیں ‘‘ ( اور ساتھ یہ لکھا ہوا تھا ) ’’ ابوبکر صدیق ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابراہیم غفاری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14298

Majma al-Zawaid #14298

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ: "" إِنَّ قَوْمِي لَا يُصَدِّقُونِي "". فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: "" يُصَدِّقُكَ أَبُو بَكْرٍ، وَهُوَ الصِّدِّيقُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reported that on the night he was taken for the Isrāʾ, the Messenger of Allah ﷺ said that his people would not confirm him, so Jibrīl عليه السلام said to him that Abū Bakr would confirm him, and he is al-Ṣiddīq. > **"My people will not confirm me."** > **"Abū Bakr will confirm you, and he is al-Ṣiddīq."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں جس رات نبی اکرم ﷺ کو معراج کروائی گئی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : میری قوم میری بات کی تصدیق نہیں کرے گی ، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ کی خدمت میں عرض کی : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی تصدیق کریں گے ، اور وہ صدیق ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

14299

Majma al-Zawaid #14299

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهَ: "" «إِنَّ قَوْمِي يَتَّهِمُونِي» "". وَفِي أَحَدِ إِسْنَادَيْهِ أَبُو وَهْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration from him, the wording is that the Prophet ﷺ said that his people would accuse him of falsehood. > **"My people will accuse me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ میری قوم مجھ پر تہمت عائد کرے گی .......‘‘۔ اس کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک راوی ابووہب ہے ، جس نے اسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14300

Majma al-Zawaid #14300

وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ: "" إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى قُرَيْشٍ فَأُخْبِرَهُمْ "". فَكَذَّبُوهُ وَصَدَقَهُ أَبُوبَكْرٍ ; فَسُمِّيَ يَوْمَئِذٍ: الصِّدِّيقَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Hāniʾ رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ said when he was taken for the Isrāʾ that he wished to go out to Quraysh and inform them, so they belied him while Abū Bakr confirmed him, and on that day he was named al-Ṣiddīq. > **"I wish to go out to Quraysh and inform them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جس رات نبی اکرم ﷺ کو معراج کروائی گئی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : میں نکل کر قریش کی طرف جاتا ہوں اور انہیں اس بارے میں بتاتا ہوں ( جب آپ نے لوگوں کو اس بارے میں بتایا ) تو لوگوں نے آپ کو جھوٹا قرار دیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی تصدیق کی ، تو اس دن ان کا نام صدیق رکھا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن ابومساور ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14301

Majma al-Zawaid #14301

عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَرَأَيْتُ أَسْمَاءَ قَائِمَةً عَلَى رَأْسِهِ بَيْضَاءَ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ أَبْيَضَ نَحِيفًا، فَحَمَلَنِي وَأَبِي عَلَى فَرَسَيْنِ، ثُمَّ عُرِضْنَا عَلَيْهِ وَأَجَازَنَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiya رضي الله عنه said he entered with his father upon Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه, and he saw Asmāʾ رضي الله عنها standing at his head, fair-skinned, and he saw Abū Bakr fair-skinned and slight in body. He carried him and his father upon two horses, then they were presented before him and he granted them provision.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میں نے دیکھا کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ان کے سرہانے کھڑی ہوئی ہیں ۔ وہ سفید رنگت کی خاتون تھیں ۔ میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ بھی سفید رنگت کے کمزور جسم کے مالک شخص تھے ۔ انہوں نے مجھے اور میرے والد کو دو گھوڑے سواری کے لئے دیے پھر ہم نے ان کے سامنے پیشکش کی ، تو انہوں نے ہمیں اجازت دی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

14302

Majma al-Zawaid #14302

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، وَكَأَنَّ لِحْيَتَهُ لَهَبُ الْعَرْفَجِ، عَلَى نَاقَةٍ لَهُ أَدَمًا أَبْيَضَ نَحِيفًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفِ الرَّجُلَ الَّذِي مِنْ بَنِي أَسَدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man of Banū Asad said he saw Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه at the expedition of Dhāt al-Salāsil, his beard as if like the flame of the ʿarfaj shrub, upon a dark tawny she-camel of his, fair-skinned and slight in body.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بنو اسد سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : غزوہ ذات سلاسل کے موقع پر میں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، ان کی داڑھی عرفج نامی درخت کی طرح سرخ تھی ، وہ اپنی اونٹنی پر سوار تھے ، وہ سفید رنگت کے مالک کمزور جسم والے شخص تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور میں اس شخص سے واقف نہیں ہوں ، جس کا تعلق بنو اسد سے ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14303

Majma al-Zawaid #14303

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا رَأَتْ رَجُلًا مَارًّا وَهِيَ فِي هَوْدَجِهَا، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا، فَقِيلَ لَهَا: صِفِي لَنَا أَبَا بَكْرٍ. فَقَالَتْ: كَانَ رَجُلًا أَبْيَضَ نَحِيفًا، خَفِيفَ الْعَارِضَيْنِ، أَحْنًا لَا تَسْتَمْسِكُ إِزْرَتُهُ تَسْتَرْخِي عَنْ حِقْوَيْهِ، مَعْرُوقَ الْوَجْهِ، غَائِرَ الْعَيْنَيْنِ، نَاتِئَ الْجَبْهَةِ، عَارِيَ الْأَشَاجِعِ. هَذِهِ صِفَتُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْوَاقِدَيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْخِضَابِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha رضي الله عنها saw a man passing while she was in her howdah, so she said she had never seen a man more resembling Abū Bakr than him. It was said to her, describe Abū Bakr for us. She said he was a fair-skinned, slight man with light cheeks, stooped so that his waist-wrapper would not hold but would slip from his hips, thin in the face, deep-set in the eyes, prominent in the forehead, and bare in the finger-joints. This is his description.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اپنے ہودج میں موجود تھیں ، انہوں نے ایک شخص کو گزرتے ہوئے دیکھا ، تو یہ فرمایا : میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا ، جو اس شخص سے زیادہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشابہت رکھتا ہو ، ان سے کہا گیا : آپ ہمارے سامنے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حلیہ بیان کریں ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : وہ سفید رنگت کے مالک کمزور جسم والے ہلکے رخساروں والے ایک شخص تھے ، ان کا تہبند ایک جگہ پر ٹکتا نہیں تھا ، بلکہ ان کے پہلو سے ڈھلک جاتا تھا ، ان کے چہرے پر گوشت کم تھا ، آنکھیں اندر کی طرف دھنسی ہوئی تھیں ، پیشانی ابھری ہوئی تھی اور انگلیوں کے جوڑوں پر گوشت کم تھا ، یہ ان کا حلیہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے خضاب لگانے سے متعلق باب میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔

14304

Majma al-Zawaid #14304

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَرَّ بِي أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ فَتَأَمَّلْتُهُمْ، فَلَمْ أَرَ مِنْهُمْ أَحْسَنَ هَيْئَةً مِنْ أَبِي بَكْرٍ ; قَدْ جَلَّلَ عَلَيْهِ كِسَاءً مِنَ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ. قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي كَرَاهِيَةِ الْإِمَارَةِ فِي الْخِلَافَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Rāfiʿ ibn ʿAmr رضي الله عنه said the Companions of the Messenger of Allah ﷺ passed by him on a raid or a ḥajj, so he examined them closely and saw none among them finer in appearance than Abū Bakr, who had wrapped himself in a cloak against heat and cold.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک جنگ میں یا شاید حج کے موقع پر ( یہ شک راوی کو ہے ) نبی اکرم ﷺ کے کچھ اصحاب میرے پاس سے گزرے ، میں نے ان کا بغور جائزہ لیا ، تو میں نے ان میں کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا ، جو ظاہری اعتبار سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ خوبصورت ہو ، انہوں نے گرمی سردی سے بچنے والی چادر اپنے اوپر اوڑھی ہوئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے کتاب الخلافہ میں حکومت کے ناپسندیدہ ہونے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14305

Majma al-Zawaid #14305

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَبُو بَكْرٍ صَاحِبِي وَمُؤْنِسِي فِي الْغَارِ، سُدُّوا كُلَّ خَوْخَةٍ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said Abū Bakr is his companion and comforter in the cave, and ordered that every small door into the mosque be closed except the small door of Abū Bakr. > **"Abū Bakr is my companion and comforter in the cave. Close every small door in the mosque except the small door of Abū Bakr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ابوبکر میرا ساتھی ہے ، غار میں میرا غم خوار ہے ، تم مسجد کا ہر دروازہ بند کر دو ، صرف ابوبکر کا دروازہ نہ بند کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام عبداللہ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14306

Majma al-Zawaid #14306

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ مِنْ آبَارٍ شَتَّى ; حَتَّى أَخْرُجَ إِلَى النَّاسِ فَأَعْهَدَ إِلَيْهِمْ "". قَالَ: فَخَرَجَ عَاصِبًا رَأْسَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَ اللَّهِ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللَّهِ "". فَلَمْ يُلَقَّنْهَا إِلَّا أَبُو بَكْرٍ، فَبَكَى. فَقَالَ: نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا، وَأُمَّهَاتِنَا، وَأَبْنَائِنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَلَى رَسْلِكَ، أَفْضَلُ النَّاسِ عِنْدِي فِي الصُّحْبَةِ وَذَاتِ الْيَدِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ، انْظُرُوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ الشَّوَارِعَ فِي الْمَسْجِدِ فَسُدُّوهَا، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ بَابِ أَبِي بَكْرٍ ; فَإِنِّي رَأَيْتُ عَلَيْهِ نُورًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، إِلَّا أَنَّهُ زَادَ: وَذَكَرَ قَتْلَى أُحُدٍ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ فَأَكْثَرَ. وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiya ibn Abī Sufyān رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said to pour upon him water from seven skins from various wells so that he might go out to the people and enjoin upon them. He went out with his head bound ﷺ until he ascended the minbar, praised Allah and extolled Him, then said a servant of Allah was given choice between this world and what is with Allah, so he chose what is with Allah. None understood it except Abū Bakr, so he wept and said, we would ransom you with our fathers, mothers and sons. The Messenger of Allah ﷺ said, at ease, the most excellent of people to me in companionship and in wealth is Ibn Abī Quḥāfa. Look at these doors opening into the mosque and close them, except what was the door of Abū Bakr, for I have seen light upon it. > **"Pour upon me from seven skins from various wells, so that I may go out to the people and enjoin upon them."** > **"A servant of Allah was given choice between this world and what is with Allah, so he chose what is with Allah."** > **"At ease. The most excellent of people to me in companionship and wealth is Ibn Abī Quḥāfa. Look at these doors opening into the mosque and close them, except what was the door of Abū Bakr, for I have seen light upon it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ مجھ پر مختلف کنووں سے آیا ہوا پانی بہاؤ تاکہ میں نکل کر لوگوں کے پاس جاؤں اور انہیں تلقین کروں ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب نکلے تو آپ نے اپنے سر مبارک پر پٹی باندھی ہوئی تھی ، آپ منبر پر چڑھے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندے کو دنیا اور اللہ تعالیٰ کے پاس موجود چیز کے درمیان اختیار دیا گیا ، تو اس نے اس چیز کو اختیار کیا جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ، تو نبی اکرم ﷺ کی بات کی سمجھ صرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آئی اور وہ رونے لگ گئے ۔ انہوں نے عرض کی : ہم اپنے آباؤ اجداد اور اپنی ماؤں اور بیٹوں کو آپ پر فدا کر دیں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنی جگہ رہو ، میرے نزدیک ساتھ کے اعتبار سے اور اچھا سلوک کرنے کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت ابوقحافہ کا بیٹا رکھتا ہے ، تم ان دروازوں کا جائزہ لو جو مسجد میں آتے ہیں ، تو ابوبکر کی آمد کے مخصوص دروازے کے علاوہ باقی سب کو بند کر دو ، کیونکہ میں نے اس پر نور دیکھا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے شہدائے احد کا ذکر کرتے ہوئے ان کے لئے بکثرت دعائے رحمت کی ۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔

14307

Majma al-Zawaid #14307

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ الَّتِي فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ وَضَّاعٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha رضي الله عنها said the Messenger of Allah ﷺ ordered the closing of the doors that were in the mosque except the door of Abū Bakr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آمد کے مخصوص دروازے کے علاوہ مسجد کے تمام دروازے بند کر دینے کا حکم دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عبدالرحمن ہے ، اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔

14308

Majma al-Zawaid #14308

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سُدُّوا عَنِّي كُلَّ بَابٍ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said to close from him every door except the door of Abū Bakr, and had he taken a close beloved friend he would have taken Abū Bakr as a close beloved friend. > **"Close from me every door except the door of Abū Bakr, and had I taken a close beloved friend I would have taken Abū Bakr as a close beloved friend."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ابوبکر کے مخصوص دروازے کے علاوہ ہر دروازہ میرے حکم کے تحت بند کر دو ، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں نے ابوبکر کو خلیل بنا لینا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14309

Majma al-Zawaid #14309

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْبَقِيعِ. قُلْتُ: فَذَكَرَ حَدِيثَ مَرَضِهِ إِلَى أَنْ قَالَ: قَالَتْ: فَصَبَنْنَا عَلَيْهِ حَتَّى طَفِقَ يَقُولُ: "" حَسْبُكُمْ، حَسْبُكُمْ "". - قَالَ مُحَمَّدٌ: يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - ثُمَّ خَرَجَ - كَمَا حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ بَشِيرٍ - عَاصِبًا رَأْسَهُ فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَكَانَ أَوَّلُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ صَلَّى عَلَى أَصْحَابِ أُحُدٍ فَأَكْثَرَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللَّهِ "". قَالَ: فَفَهِمَهَا أَبُو بَكْرٍ، فَبَكَى، وَعَرَفَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَفْسَهُ يُرِيدُ. قَالَ: "" عَلَى رَسْلِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، انْظُرُوا فِي الْمَسْجِدِ هَذِهِ الْأَبْوَابَ اللَّاصِقَةَ فَسُدُّوهَا، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ ; فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا كَانَ أَفْضَلَ عِنْدِي فِي الصُّحْبَةِ مِنْهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ تَتَضَمَّنُ سَدَّ الْأَبْوَابِ غَيْرِ بَابِهِ فِي أَحَادِيثَ تَأْتِي فِي مَوَاضِعِهَا. إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha رضي الله عنها said the Messenger of Allah ﷺ returned from al-Baqīʿ, then she related the account of his illness until she said they poured water upon him until he began to say enough, enough. Then he went out with his head bound and sat upon the minbar. The first thing he spoke with was to invoke blessings upon the people of Uḥud and he invoked much blessing upon them, then he said a servant of Allah was given choice by Allah between this world and what is with Him, so he chose what is with Allah. Abū Bakr understood it, so he wept and knew that the Messenger of Allah ﷺ meant himself. He said, at ease O Abū Bakr, look into this mosque at these adjoining doors and close them, except what was from the house of Abū Bakr, for I know no one superior to me in companionship than him. > **"Enough, enough."** > **"A servant of Allah was given choice by Allah between this world and what is with Him, so he chose what is with Allah."** > **"At ease O Abū Bakr. Look into this mosque at these adjoining doors and close them, except what was from the house of Abū Bakr, for I know no one superior to me in companionship than him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ بقیع سے واپس تشریف لائے ( راوی کہتے ہیں : ) اس کے بعد انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی بیماری کے بارے میں حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم نے آپ پر پانی ڈالنا شروع کیا ، یہاں تک آپ نے یہ فرمانا شروع کیا ، بس کافی ہے ، کافی ہے ، یہاں محمد بن اسحاق نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جس طرح ایوب بن بشیر نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ اس کے مطابق نبی اکرم ﷺ اپنے سر پر پٹی باندھ کر باہر تشریف لے گئے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے ، آپ نے گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا کہ آپ نے شہداء احد کے لئے دعائے رحمت کی اور ان کے لئے بکثرت دعا کی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا اور اپنے پاس موجود چیز کے درمیان اختیار دیا ، تو اس بندے نے اس چیز کو اختیار کر لیا جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ، راوی کہتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ بات سمجھ آ گئی اور وہ رونے لگے ، اور انہیں یہ بات پتہ چل گئی کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی ذات مراد لی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابوبکر ! آرام سے رہو ( پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا : ) تم لوگ مسجد کا جائزہ لو ، اس کے ساتھ لگنے والے تمام دروازوں کو بند کر دو ، صرف اس دروازے کو رہنے دو جو ابوبکر کے گھر کی طرف ہے ، کیونکہ مجھے کسی ایسے شخص کا علم نہیں ہے ، جس نے ابوبکر سے زیادہ اچھے طریقے سے میرا ساتھ دیا ہو ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کر کچھ احادیث آئیں گی جو دوسرے باب میں آئیں گی ، جن میں دروازے بند کرنے کا ذکر ہو گا ، اور وہ احادیث اپنے مخصوص مقامات پر آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔

14310

Majma al-Zawaid #14310

عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: مَنْ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ حَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ: إِذَا تَذَكَّرْتَ شَجْوًا مِنْ أَخٍ ثِقَةٍ ... فَاذْكُرْ أَخَاكَ أَبَا بَكْرٍ بِمَا فَعَلَا خَيْرُ الْبَرِيَّةِ أَتْقَاهَا وَأَعْدَلُهَا ... إِلَّا النَّبِيَّ وَأَوْفَاهَا لِمَا حَمَلَا وَالثَّانِيَ التَّالِيَ الْمَحْمُودُ مَشْهَدُهُ ... وَأَوَّلُ النَّاسِ مِنْهُمْ صَدَّقَ الرُّسُلَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Shaʿbī said he asked Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما who first accepted Islam. Ibn ʿAbbās said, have you not heard the saying of Ḥassān ibn Thābit رضي الله عنه: When you recall grief for a trusted brother, then recall your brother Abū Bakr for what he did, the best of creation, most God-fearing and most just of them, except the Prophet, and most faithful to what he bore. And the second, the follower, praiseworthy in his presence, and the first of the people among them to confirm the messengers. > **"When you recall grief for a trusted brother, then recall your brother Abū Bakr for what he did. The best of creation, most God-fearing and most just of them, except the Prophet, and most faithful to what he bore. And the second, the follower, praiseworthy in his presence, and the first of the people among them to confirm the messengers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا ، سب سے پہلے کس نے اسلام قبول کیا تھا ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کیا تم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا یہ شعر نہیں سنا ہے : ’’ جب تم کسی قابل اعتبار کے بھائی کے غم کو یاد کرو ، تو اپنے بھائی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے طرز عمل کو بھی یاد کر لینا ، جو مخلوق میں سب سے بہتر ہیں ، سب سے زیادہ پرہیزگار ، سب سے زیادہ عدل کرنے والے ہیں ، نبی کے علاوہ ( وہ سب سے زیادہ نیک ہیں ) اور انہوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں ، وہ دوسرے فرد بھی ہیں ، پیچھے والے بھی ہیں ، قابل تعریف بھی ہیں ، اور وہ سب سے پہلے فرد ہیں ، جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن عدی ہے اور وہ متروک ہے ۔

14311

Majma al-Zawaid #14311

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ غَيْرُ وَاحِدٍ ضَعِيفٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما said the first to accept Islam was Abū Bakr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں ایک سے زیادہ ضعیف راوی ہیں ۔

14312

Majma al-Zawaid #14312

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو بَكْرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ غَالِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَالِبٍ السَّعْدِيِّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam رضي الله عنه said the first to pray with the Prophet ﷺ was Abū Bakr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، سب سے پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی غالب بن عبداللہ بن غالب سعدی ہیں ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

14313

Majma al-Zawaid #14313

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا الدَّرْدَاءِ يَمْشِي بَيَنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: "" يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، تَمْشِي قُدَّامَ رَجُلٍ لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ بَعْدَ النَّبِيِّينَ عَلَى رَجُلٍ أَفْضَلَ مِنْهُ؟ "". فَمَا رُئِيَ أَبُو الدَّرْدَاءِ بَعْدُ يَمْشِي إِلَّا خَلَفَ أَبِي بَكْرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbd Allāh رضي الله عنهما said the Messenger of Allah ﷺ saw Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه walking in front of Abū Bakr, so he said, O Abū al-Dardāʾ, do you walk ahead of a man after the Prophets upon whom the sun has not risen over one more excellent than him. After that Abū al-Dardāʾ was never seen walking except behind Abū Bakr. > **"O Abū al-Dardāʾ, do you walk ahead of a man after the Prophets upon whom the sun has not risen over one more excellent than him?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ، تو ارشاد فرمایا : اے ابودرداء ! تم ایک ایسے شخص کے آگے چل رہے ہو ، سورج کسی ایسے شخص پر طلوع نہیں ہوا جو انبیاء کے بعد ، اس سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو اس کے بعد حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کو ہمیشہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے چلتے ہوئے دیکھا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

14314

Majma al-Zawaid #14314

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَمْشِي أَمَامَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: "" لَا تَمْشِ أَمَامَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ; إِنَّ أَبَا بَكْرٍ خَيْرٌ مِمَّنْ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ أَوْ غَرَبَتْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَقِيَّةٌ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه said the Messenger of Allah ﷺ saw him walking ahead of Abū Bakr, so he said, do not walk ahead of one who is better than you. Abū Bakr is better than all upon whom the sun has risen or set. > **"Do not walk ahead of one who is better than you. Abū Bakr is better than all upon whom the sun has risen or set."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے دیکھا ، میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آگے چل رہا تھا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم اس شخص کے آگے نہ چلو جو تم سے زیادہ بہتر ہے ، ابوبکر ان سب لوگوں سے زیادہ بہتر ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے یا غروب ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14315

Majma al-Zawaid #14315

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ خَيْرُ النَّاسِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِيًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ زِيَادٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Salama ibn al-Akwaʿ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said Abū Bakr al-Ṣiddīq is the best of people, unless there be a Prophet. > **"Abū Bakr al-Ṣiddīq is the best of people, unless there be a Prophet."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ابوبکر صدیق سب لوگوں سے زیادہ بہتر ہے ، البتہ انبیاء کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن زیاد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14316

Majma al-Zawaid #14316

وَعَنْ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ النَّاسَ، فَالْتَفَتَ الْتِفَاتَةً فَلَمْ يَرَ أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَبُو بَكْرٍ، أَبُو بَكْرٍ، إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَخْبَرَنِي آنِفًا: أَنَّ خَيْرَ أُمَّتِكَ بَعْدَكَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو غَزِيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Asʿad ibn Zurāra رضي الله عنه said he saw the Messenger of Allah ﷺ addressing the people, then he glanced and did not see Abū Bakr, so the Messenger of Allah ﷺ said, Abū Bakr, Abū Bakr, the Holy Spirit Jibrīl عليه السلام has just informed me that the best of your nation after you is Abū Bakr al-Ṣiddīq. > **"Abū Bakr, Abū Bakr. The Holy Spirit Jibrīl has just informed me that the best of your nation after you is Abū Bakr al-Ṣiddīq."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا ، آپ نے توجہ کی ، تو آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ملاحظہ نہیں کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابوبکر ، ابوبکر روح القدس جبریل نے ابھی مجھے یہ بتایا ہے کہ آپ کے بعد آپ کی امت کا سب سے بہتر فرد ابوبکر صدیق ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوغزیہ محمد بن موسیٰ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14317

Majma al-Zawaid #14317

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ يَسْبَحُونَ فِي غَدِيرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لِيَسْبَحْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمُ إِلَى صَاحِبِهِ "". فَسَبَحَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ إِلَى صَاحِبِهِ، وَبَقِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ، فَسَبَّحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَبِي بَكْرٍ حَتَّى عَانَقَهُ وَقَالَ: "" أَنَا إِلَى صَاحِبِي، أَنَا إِلَى صَاحِبِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said the Prophet ﷺ and his Companions were swimming in a pool, so the Prophet ﷺ said let each man of you swim to his companion. So each man among them swam to his companion, and there remained the Prophet ﷺ and Abū Bakr, so the Prophet ﷺ swam to Abū Bakr until he embraced him and said, I am to my companion, I am to my companion. > **"Let each man of you swim to his companion."** > **"I am to my companion, I am to my companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب ایک کنویں میں سے پانی نکال رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ہر فرد اپنے ساتھ والے فرد کو لے جائے ، تو ان میں سے ہر ایک نے اپنے ساتھ والے فرد کو لے لیا ، صرف نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ ملایا اور ان گلے لگایا اور فرمایا : میں اپنے ساتھی کے ساتھ ہوں ، میں اپنے ساتھی کے ساتھ ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14318

Majma al-Zawaid #14318

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he said had he taken a close beloved friend he would have taken Abū Bakr as a close beloved friend. > **"Had I taken a close beloved friend, I would have taken Abū Bakr as a close beloved friend."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو خلیل بنا لیتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید اؤدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14319

Majma al-Zawaid #14319

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، وَلَكِنَّ أُخُوَّةَ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَاسِطِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ said had he taken a close beloved friend he would have taken Abū Bakr as a close beloved friend, but the brotherhood of Islam is superior. > **"Had I taken a close beloved friend, I would have taken Abū Bakr as a close beloved friend, but the brotherhood of Islam is superior."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو خلیل بنا لیتا البتہ اسلامی بھائی چارہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عبدالرحمن واسطی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

14320

Majma al-Zawaid #14320

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ أَبَا بَكْرٍ نَالَ مِنْ عُمَرَ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا أَخِي، فَغَضِبَ عُمَرُ، فَقَالَ ذَلِكَ مَرَّاتٍ فَغَضِبَ عُمَرُ، فَذَكَرَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَانْتَهَوْا إِلَيْهِ وَجَلَسُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَسْأَلُكَ أَخُوكَ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لَهُ فَلَا تَفْعَلُ؟ "". فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا مَا مِنْ مَرَّةٍ يَسْأَلُنِي إِلَّا وَأَنَا أَسْتَغْفِرُ لَهُ، وَمَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ بَعْدَكَ مِنْهُ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَأَنَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا مِنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تُؤْذُونِي فِي صَاحِبِي فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَعَثَنِي بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ، فَقُلْتُمْ: كَذَبْتَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقْتَ، وَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - سَمَّاهُ صَاحِبًا، لَاتَّخَذْتُهُ خَلِيلًا، وَلَكِنْ أُخُوَّةٌ لِلَّهِ، أَلَا فَسُدُّوا كُلَّ خَوْخَةٍ إِلَّا خَوْخَةَ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that Abū Bakr spoke against ʿUmar with something, then said, seek forgiveness for me O my brother, so ʿUmar became angry. He said that several times and ʿUmar remained angry, so he mentioned it to the Prophet ﷺ and they came to him and sat. The Messenger of Allah ﷺ said, your brother asks you to seek forgiveness for him and you do not do it. He said, by Him Who sent you with the truth as a Prophet, there is no time he asks me except that I seek forgiveness for him, and there is no creature of Allah more beloved to me after you than him. Abū Bakr said, and I, by Him Who sent you with the truth, there is none after you more beloved to me than him. The Messenger of Allah ﷺ said, do not harm me regarding my companion, for Allah عز و جل sent me with guidance and the true religion, so you said you lie, while Abū Bakr said you speak the truth. Were it not that Allah عز و جل named him a companion, I would have taken him as a close beloved friend, but it is brotherhood for Allah. Behold, close every small door except the small door of Ibn Abī Quḥāfa. > **"Your brother asks you to seek forgiveness for him, will you not do it?"** > **"Do not harm me regarding my companion, for Allah عز و جل sent me with guidance and the true religion, so you said you lie, while Abū Bakr said you speak the truth. Were it not that Allah عز و جل named him a companion, I would have taken him as a close beloved friend, but it is brotherhood for Allah. Behold, close every small door except the small door of Ibn Abī Quḥāfa."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا ، اور پھر اس کے بعد انہوں نے کہا : اے میرے بھائی ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے ( اور انہوں نے انکار کر دیا ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چند مرتبہ یہ بات کہی لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ غصے میں تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا ، جب لوگ آپ کے پاس آئے اور وہاں بیٹھے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے بھائی نے تم سے یہ کہا : تم اس کے لیے دعائے مغفرت کرو ، تو تم نے ایسا نہیں کیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ نبی بنا کر مبعوث کیا ہے ۔ انہوں نے جب بھی مجھ سے یہ کہا تو میں نے ان کے لئے ہمیشہ دعائے مغفرت کی ، آپ کے بعد میرے نزدیک مخلوق میں کوئی بھی ان سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : جس ذات نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میرا بھی یہ عالم ہے کہ میرے نزدیک آپ کے بعد ان سے زیادہ محبوب اور کوئی نہیں ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے ساتھی کے بارے میں تم لوگ مجھے اذیت نہ پہنچاؤ ، اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت اور دین حق کے ہمراہ مبعوث کیا ، تو تم لوگوں نے کہا : آپ غلط کہہ رہے ہیں ، اور ابوبکر نے کہا : آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ نے اس کا نام صاحب نہ رکھا ہوتا تو میں نے اسے خلیل بنا لینا تھا ، لیکن بھائی چارہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے ، خبردار ! تم لوگ ابوقحافہ کے بیٹے کے مخصوص دروازے کے علاوہ ہر دروازہ بند کر دو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14321

Majma al-Zawaid #14321

«وَعَنْ رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَخْدِمُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطَانِي أَرْضًا وَأَعْطَى أَبَا بَكْرٍ أَرْضًا، وَجَاءَتِ الدُّنْيَا فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هِيَ فِي حَدِّي، وَقُلْتُ أَنَا: هِيَ فِي حَدِّي. فَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ كَلَامٌ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهْتُهَا وَنَدَمَ، فَقَالَ لِي: يَا رَبِيعَةُ، رُدَّ عَلَيَّ مِثْلَهَا حَتَّى تَكُونَ قِصَاصًا، فَقُلْتُ: لَا أَفْعَلُ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَتَفْعَلَنَّ أَوْ لَأَسْتَعْدِيَنَّ عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، وَرَفَضَ الْأَرْضَ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَانْطَلَقْتُ أَتْلُوهُ، فَجَاءَ أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالُوا: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ، فِي أَيِّ شَيْءٍ يَسْتَعْدِي عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ الَّذِي قَالَ لَكَ مَا قَالَ؟! قُلْتُ: أَتَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ هَذَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَهُوَ ثَانِيَ اثْنَيْنِ، وَهُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِيَّاكُمْ لَا يَلْتَفِتُ فَيَرَاكُمْ تَنْصُرُونِي عَلَيْهِ فَيَغْضَبَ، فَيَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَغْضَبَ لِغَضَبِهِ، فَيَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِهِمَا ; فَتَهْلَكَ رَبِيعَةُ. قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: ارْجِعُوا، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَبِعْتُهُ وَحْدِي، وَجَعَلْتُ أَتْلُوهُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ كَمَا كَانَ، فَرَفَعَ إِلَيَّ رَأْسَهُ فَقَالَ: "" يَا رَبِيعَةُ، مَا لَكَ وَلِلصِّدِّيقِ؟ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ كَذَا كَانَ كَذَا قَالَ لِي كَلِمَةً كَرِهْتُهَا، فَقَالَ لِي: قُلْ كَمَا قُلْتُ حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَجَلْ،: فَلَا تَرُدَّنَّ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ قُلْ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ "". فَوَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ يَبْكِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي النِّكَاحِ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Rabīʿa al-Aslamī رضي الله عنه said he used to serve the Messenger of Allah ﷺ, so he gave him land and gave Abū Bakr land. Worldly interest came and they differed over a cluster of dates. Abū Bakr said it is within my boundary, while he said it is within his boundary. There occurred words between him and Abū Bakr, so Abū Bakr uttered a word he disliked and regretted it, then said to him, O Rabīʿa, return the like of it upon me so that there be retaliation. He said, I will not do it. Abū Bakr said, you shall do it or I shall seek the Messenger of Allah ﷺ against you. He said, I shall not do it. He abandoned the land, and Abū Bakr went to the Prophet ﷺ while he followed behind him. Some people of Aslam came and said, may Allah have mercy upon Abū Bakr, for what does he seek the Messenger of Allah ﷺ against you while he is the one who said to you what he said. He said, do you know who this is. This is Abū Bakr al-Ṣiddīq, the second of the two, the elder of the Muslims. Beware lest he turn and see you aiding me against him and become angry, then come to the Messenger of Allah ﷺ who becomes angry for his anger, then Allah becomes angry for their anger, and Rabīʿa perishes. They said, what do you command us. He said, go back. Abū Bakr went to the Messenger of Allah ﷺ and he followed him alone until he came to the Messenger of Allah ﷺ, and he related the account as it was. The Prophet ﷺ raised his head to him and said, O Rabīʿa, what is between you and al-Ṣiddīq. He said, O Messenger of Allah, it was so and so, he said to me a word I disliked, then said to me say as I said so that there be retaliation. The Messenger of Allah ﷺ said, yes, do not return upon him, but say, may Allah forgive you O Abū Bakr. So he said it, and Abū Bakr wept and went forth. > **"O Rabīʿa, return the like of it upon me so that there be retaliation."** > **"You shall do it or I shall seek the Messenger of Allah ﷺ against you."** > **"O Rabīʿa, what is between you and al-Ṣiddīq?"** > **"Yes, do not return upon him, but say: May Allah forgive you, O Abū Bakr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا ، آپ نے مجھے ایک زمین عطا کی ، آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی ایک زمین عطا کی ، جب دنیا آئی ، تو ہمارے درمیان کھجور کے ایک درخت کے بارے میں اختلاف ہو گیا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ میری حد میں آتا ہے ، میں نے کہا : یہ میری حد میں آتا ہے ، اس دوران میرے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان تکرار ہو گئی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک ایسی بات کہی جو مجھے بری لگی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ندامت ہوئی ، تو انہوں نے مجھ سے کہا : اے ربیعہ ! تم بھی اس طرح کی بات مجھے جواب میں کہہ دو ، تاکہ بدلہ ہو جائے ، میں نے کہا : میں ایسا نہیں کروں گا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : یا تو تم ایسا کرو گے ورنہ میں تمہارے خلاف نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں شکایت کروں گا ، میں نے کہا : میں ایسا نہیں کروں گا ۔ پھر انہوں نے اس زمین کو چھوڑا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ۔ ان کے پیچھے چلتا ہوا میں بھی جانے لگا ۔ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آئے ہوئے تھے ۔ ان لوگوں نے کہا : اللہ تعالیٰ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ، یہ کس لئے نبی اکرم ﷺ کے سامنے تمہارے خلاف شکایت کرنا چاہ رہے ہیں ، حالانکہ تمہارے بارے میں بات تو انہوں نے کی ہے ، میں نے کہا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ یہ کون ہیں ، یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ دو افراد میں سے ایک ہیں ۔ یہ مسلمانوں کے بزرگ ہیں ، تم لوگ اس چیز سے بچنے کی کوشش کرو کہ ایسا نہ ہو کہ وہ مڑ کے دیکھیں اور انہیں تم نظر آؤ کہ تم لوگ ان کے خلاف میری مدد کرنا چاہ رہے ہو ، اور پھر وہ غصے میں آ جائیں اور نبی اکرم ﷺ کے پاس چلے جائیں اور ان کے غصے کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ بھی غصے میں آ جائیں اور ان دونوں کے غصے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی غصے میں آ جائے اور ربیعہ ہلاک ہو جائے ، لوگوں نے کہا : پھر تم ہمیں کیا کہتے ہو ، حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم لوگ واپس چلے جاؤ ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس چلے گئے ۔ ان کے بعد میں بھی اکیلا چلا گیا ، میں ان کے پیچھے چلتا ہوا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو پوری بات بتائی ، جس طرح ہوئی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا : اے ربیعہ تمہارا اور صدیق کا کیا معاملہ ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس اس طرح ہوا تھا ، انہوں نے مجھے ایک بات کہی جو مجھے اچھی نہیں لگی ، تو انہوں نے مجھ سے کہا : تم بھی اس طرح کہہ لو ، جس طرح میں نے کہا : ہے ، تاکہ بدلہ ہو جائے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے ٹھیک کیا ہے ، تم نے اسے ہرگز جواب نہیں دینا تھا ، لیکن تم یہ کہو کہ اے ابوبکر اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے ، راوی کہتے ہیں : تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے تشریف لے گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام احمد نے اس کی مانند روایت ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے نکاح سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14322

Majma al-Zawaid #14322

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «عَهْدِي بِنَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ وَفَاتِهِ بِخَمْسِ لَيَالٍ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" لَمْ يَكُنْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهُ خَلِيلٌ فِي أُمَّتِهِ، وَإِنَّ خَلِيلِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ، وَإِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn Mālik al-Anṣārī رضي الله عنه said his last contact with your Prophet ﷺ was five nights before his passing, and he heard him say there was no Prophet except that he had a close beloved friend in his nation, and his close beloved friend is Abū Bakr ibn Abī Quḥāfa, while Allah has taken your companion as a close beloved friend. > **"There was no Prophet except that he had a close beloved friend in his nation, and my close beloved friend is Abū Bakr ibn Abī Quḥāfa, while Allah has taken your companion as a close beloved friend."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تمہارے نبی کے ساتھ میری آخری ملاقات آپ کے وصال سے پانچ دن پہلے ہوئی تھی ، تو میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا : ’’ ہر نبی کا اس کی امت میں ایک خلیل ہوتا ہے ، اور میرا خلیل ابوبکر بن ابوقحافہ ہے ، ویسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے آقا کو خلیل بنایا ہوا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14323

Majma al-Zawaid #14323

وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذَتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَكِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Wāqid رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said had he taken a close beloved friend he would have taken Ibn Abī Quḥāfa, but your companion is the close beloved friend of Allah عز و جل. > **"Had I taken a close beloved friend I would have taken Ibn Abī Quḥāfa, but your companion is the close beloved friend of Allah عز و جل."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوواقد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابوقحافہ کے صاحبزادے کو ( خلیل ) بنا لیتا لیکن تمہارے آقا اللہ کے خلیل ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14324

Majma al-Zawaid #14324

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، وَإِنَّ خَلِيلِي أَبُو بَكْرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāma رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said Allah took him as a close beloved friend just as He took Ibrāhīm as a close beloved friend, and his close beloved friend is Abū Bakr. > **"Allah took me as a close beloved friend just as He took Ibrāhīm as a close beloved friend, and my close beloved friend is Abū Bakr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے خلیل بنایا ہے ، جس طرح اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا ہے ، اور میرا خلیل ابوبکر ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14325

Majma al-Zawaid #14325

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ أَحَدٍ أَمَنُّ عَلَيَّ فِي يَدِهِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ، زَوَّجَنِي ابْنَتَهُ، وَأَخْرَجَنِي إِلَى دَارِ الْهِجْرَةِ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذَتُ أَبَا بَكْرٍ، وَلَكِنْ إِخَاءٌ وَمَوَدَّةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نَهْشَلُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said there is none more beneficent to him in deed than Abū Bakr. He married him to his daughter and brought him out to the abode of emigration. Had he taken a close beloved friend he would have taken Abū Bakr, but it is brotherhood and affection until the Day of Resurrection. > **"There is none more beneficent to me in deed than Abū Bakr. He married me to his daughter and brought me out to the abode of emigration. Had I taken a close beloved friend I would have taken Abū Bakr, but it is brotherhood and affection until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے ساتھ کسی نے بھی ابوبکر سے زیادہ اچھا سلوک نہیں کیا ، اس نے اپنی بیٹی کی شادی میرے ساتھ کروائی ، مجھے ساتھ لے کر دارالہجرت کی طرف آیا ، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا ، تو میں ابوبکر کو خلیل بنا لیتا ، لیکن بھائی چارہ اور محبت قیامت کے دن تک رہیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نہشل بن سعید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14326

Majma al-Zawaid #14326

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ أَحَدٍ أَعْظَمُ عِنْدِي يَدًا مِنْ أَبِي بَكْرٍ ; وَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَزَادُوا: "" وَأَنْكَحَنِي ابْنَتَهُ "". وَفِيهِ أَرْطَأَةُ أَبُو حَاتِمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said there is none greater to him in favour than Abū Bakr. He consoled him with himself and his wealth, and married him to his daughter. > **"There is none greater to me in favour than Abū Bakr. He consoled me with himself and his wealth."** > **"And he married me to his daughter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے ساتھ ابوبکر سے زیادہ اچھا سلوک اور کسی نے نہیں کیا ، اس نے اپنی جان اور اپنے مال کے ذریعے میرا ساتھ دیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ اس نے میری شادی اپنی بیٹی کے ساتھ کروائی ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی ارطاۃ ابوحاتم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14327

Majma al-Zawaid #14327

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَرَادَ أَنْ يُسَرِّحَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَاسْتَشَارَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، فَاسْتَشَارَهُمْ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَوْلَا أَنَّكَ اسْتَشَرْتَنَا مَا تَكَلَّمْنَا، فَقَالَ: "" إِنِّي فِيمَا لَمْ يُوحَ إِلَيَّ كَأَحَدِكُمْ "". قَالَ: فَتَكَلَّمَ الْقَوْمُ فَتَكَلَّمَ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْيِهِ، فَقَالَ: "" مَا تَرَى يَا مُعَاذُ؟ "". فَقُلْتُ: أَرَى مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ اللَّهَ يَكْرَهُ فَوْقَ سَمَائِهِ أَنْ يُخْطِئَ أَبُو بَكْرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَأَبُو الْعَطُوفِ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported that when the Messenger of Allah ﷺ wished to dispatch Muʿādh to Yemen, he consulted some of his Companions including Abū Bakr, ʿUmar, ʿUthmān, ʿAlī, Ṭalḥa, al-Zubayr and Usayd ibn Ḥuḍayr رضي الله عنهم. Abū Bakr said, had you not consulted us we would not have spoken. He said, in what has not been revealed to me I am as one of you. The people spoke, each giving his opinion. He said, what do you see O Muʿādh. He said, I see what Abū Bakr said. The Messenger of Allah ﷺ said Allah above His heaven dislikes that Abū Bakr err. > **"In what has not been revealed to me I am as one of you."** > **"What do you see, O Muʿādh?"** > **"Allah above His heaven dislikes that Abū Bakr err."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجنے کا ارادہ کیا ، تو آپ نے اپنے اصحاب سے مشورہ لیا ، جن میں حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان ، حضرت علی ، حضرت زبیر اور حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہم شامل تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے مشورہ لیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر آپ نے ہم سے مشورہ نہ لیا ہوتا تو ہم نے اس بارے میں بات چیت نہیں کرنی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جن معاملات میں میری طرف وحی نہیں کی جاتی ، میں ان میں تمہاری طرح کا ایک فرد ہوں ، راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، ہر انسان نے اپنی رائے بیان کی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے معاذ ! تم کیا سمجھتے ہو ، میں نے عرض کی : میں یہ سمجھتا ہوں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہے ، وہی ٹھیک ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ آسمان کے اوپر اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ ابوبکر غلطی کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ابوعطوف نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔