وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: «لَمَّا كَانَ قَبْلَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِكْرَامًا لَكَ، وَتَفْضِيلًا لَكَ، وَخَاصَّةً لَكَ، أَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ، يَقُولُ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا، وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا "". فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ هَبَطَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَهَبَطَ مَلَكُ الْمَوْتِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَهَبَطَ مَعَهُمَا مَلَكٌ فِي الْهَوَاءِ يُقَالُ لَهُ: إِسْمَاعِيلُ، عَلَى سَبْعِينَ أَلْفِ مَلَكٍ لَيْسَ فِيهِمْ مَلَكٌ إِلَّا عَلَى سَبْعِينَ أَلْفِ مَلَكٍ، يُشَيِّعُهُمْ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِكْرَامًا لَكَ، وَتَفْضِيلًا لَكَ، وَخَاصَّةً لَكَ، أَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ، يَقُولُ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "" أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا، وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا "". قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ، وَمَا اسْتَأْذَنَ عَلَى آدَمِيٍّ قَبِلَكَ، وَلَا يَسْتَأْذِنُ عَلَى آدَمِيٍّ بَعْدَكَ. فَقَالَ: "" ائْذَنْ لَهُ "". فَأَذِنَ لَهُ جِبْرِيلُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ. فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُطِيعَكَ فِيمَا أَمَرْتَنِي بِهِ، إِنْ تَأْمُرْنِي أَنْ أَقْبِضَ نَفْسَكَ قَبَضْتُهَا، وَإِنْ كَرِهْتَ تَرَكْتُهَا؟ قَالَ: "" وَتَفْعَلُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ أَنْ أُطِيعَكَ فِيمَا أَمَرْتَنِي بِهِ. فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدِ اشْتَاقَ إِلَى لِقَائِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ "". فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: هَذَا آخِرُ وَطْأَتِي فِي الْأَرْضِ، إِنَّمَا كُنْتَ حَاجَتِي فِي الدُّنْيَا. فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ، جَاءَ آتٍ يَسْمَعُونَ حِسَّهُ وَلَا يَرَوْنَ شَخْصَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ، إِنَّ فِي اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ، وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ، وَدَرْكًا مِنْ كُلِّ فَائِتٍ، فَبِاللَّهِ فَثِقُوا، وَإِيَّاهُ فَارْجُوا ; فَإِنَّ الْمُصَابَ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحُ، وَهُوَ ذَاهِبُ الْحَدِيثِ.
EnglishUnverified translation
Ali ibn al-Husayn reports that he heard his father say that before the passing of the Messenger of Allah ﷺ, Jibril came to him saying Allah Almighty had sent him honouring him, preferring him and singling him out, asking what He knew better than him, namely how he found himself, and the Prophet ﷺ said he found himself grieved and distressed. On the third day Jibril descended with the Angel of Death and with them an angel in the air called Ismail over seventy thousand angels, each over seventy thousand angels, escorted by Jibril, repeating that Allah Almighty had sent him honouring him, preferring him and singling him out to ask how he found himself, and the Messenger of Allah ﷺ said he found himself grieved and distressed. The Angel of Death sought permission at the door, and Jibril said this was the Angel of Death seeking permission of him, never having sought permission of any man before him nor ever after him. He said to admit him, so Jibril admitted him and he came until he stood before him, saying Allah Almighty had sent him and commanded him to obey him in whatever he ordered, whether to seize his soul if commanded or to leave it if disliked. He asked whether he would indeed do so, and he affirmed that thus he was commanded to obey him. Jibril then said Allah Almighty longed to meet him, so the Messenger of Allah ﷺ told him to proceed as commanded. Jibril said this was his last treading upon earth, for he had been his need in this world. When the Messenger of Allah ﷺ passed and consolation came, there came one whose sound they heard without seeing his person, greeting them and reciting every soul shall taste death, declaring in Allah consolation from every calamity, succession from every perishing, and attainment from every loss, bidding trust in Allah and hope in Him, for the stricken is he deprived of reward. > **"O Muhammad, Allah Almighty has sent me to you honouring you, preferring you and singling you out. I ask you of what He knows better than you. He says: how do you find yourself? I find myself, O Jibril, grieved, and I find myself, O Jibril, distressed. O Muhammad, this is the Angel of Death seeking permission of you, and he has never sought permission of any man before you, nor shall he seek permission of any man after you. Admit him. O Muhammad, Allah Almighty has sent me to you, and commanded me to obey you in whatever you command me: if you command me to seize your soul I shall seize it, and if you dislike I shall leave it. Yes. Thus I was commanded to obey you in whatever you command me. Allah Almighty has longed to meet you. Proceed to what you were commanded. This is my last treading upon earth. You were my need in this world. Peace be upon you and mercy of Allah and His blessings. Every soul shall taste death. In Allah is consolation from every calamity, succession from every perishing, and attainment from every loss. In Allah so trust, and in Him so hope, for the stricken is he deprived of reward. Peace be upon you and mercy of Allah."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ ( یعنی امام زین العابدین ) بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ’’ نبی اکرم ﷺ کی وفات سے پہلے حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی عزت افزائی کے لئے اور آپ کی فضیلت کے اظہار کے لئے اور بطور خاص آپ کے لئے ، آپ کے پاس بھیجا ہے ، تاکہ میں آپ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کروں ، جس کے بارے میں پروردگار آپ سے بھی زیادہ بہتر جانتا ہے ، اس نے یہ فرمایا ہے : آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے جبرائیل ! میں اپنے آپ کو پریشان محسوس کر رہا ہوں ، اے جبرائیل ! میں خود کو مشکل میں محسوس کر رہا ہوں ، جب تیسرا دن آیا ، تو حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور ان کے ساتھ ملک الموت نازل ہوئے ، اور ان دونوں کے ساتھ ایک فرشتہ تھا ، جو ہوا میں تھا ، اس کا نام اسماعیل تھا ، وہ ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ تھا ، اس میں سے ہر ایک فرشتے کے ساتھ مزید ستر ہزار فرشتے تھے ، وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آئے تھے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی عزت افزائی کے لئے آپ کی فضیلت کے اظہار کے لئے بطور خاص آپ کی طرف مجھے بھیجا ہے ، تاکہ میں آپ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کروں ، جس کے بارے میں پروردگار آپ سے بھی زیادہ بہتر جانتا ہے ، وہ یہ فرما رہا ہے : آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے جبرائیل ! میں خود کو غمگین محسوس کر رہا ہوں ، اے جبرائیل ! میں خود کو پریشان محسوس کر رہا ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر ملک الموت نے دروازے پر اندر آنے کی اجازت مانگی ، حضرت جبرائیل نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) یہ ملک الموت ہے ، یہ آپ سے اجازت مانگ رہا ہے ، اس نے آپ سے پہلے کسی شخص سے اجازت نہیں مانگی ، اور یہ آپ کے بعد بھی کبھی کسی سے اجازت نہیں مانگے گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے اجازت دے دو ! حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اسے اجازت دی وہ آیا اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے آ کے ٹھہر گیا ، اس نے عرض کی : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے ، اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ آپ مجھے جو حکم دیں گے میں اس کے بارے میں آپ کی اطاعت کروں گا ، اگر آپ مجھے یہ حکم دیتے ہیں کہ میں آپ کی جان قبض کر لوں ، تو میں اسے قبض کر لوں گا ، اور اگر آپ اسے ناپسند کرتے ہیں تو میں اسے چھوڑ دوں گا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ملک الموت کیا تم ایسا ہی کرو گے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ آپ مجھے جو ہدایت کریں گے اس کے بارے میں ، میں آپ کی اطاعت کروں گا ، حضرت جبرائیل نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : اللہ تعالیٰ آپ سے ملاقات کا مشتاق ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس چیز کو جاری کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے ، تو حضرت جبرائیل نے ان سے کہا : یہ میرا زمین پر آخری مرتبہ آنا ہے ، دنیا میں مجھے آپ سے ہی کام تھا ۔ جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ، تو ایک تعزیت کرنے والی کوئی چیز آئی تھی ، اس کی آمد کا تو پتہ چلتا تھا ، اس کی آہٹ کا احساس ہوتا تھا ، لیکن اس کا وجود نظر نہیں آتا تھا ، اس نے کہا : آپ پر سلام ہو ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ، ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہر مصیبت کا بدلہ ہو سکتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، ہر ہلاک ہونے والے کا بدلہ مل سکتا ہے ، اور ہر فوت ہونے والے کی جگہ بدل مل سکتا ہے ، تو تم لوگ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھو ، اور اس سے ثواب کی امید رکھو ، کیونکہ مصیبت زدہ وہ شخص ہوتا ہے ، جو ثواب سے محروم رہے ، تم پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میمون قداح ہے ، اور وہ ذاہب الحدیث ہے ۔