Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 38 · Chapter 11

Book of Signs of Prophethood

Hadith 14219–14258

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14219

Majma al-Zawaid #14219

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْكَبُ الْحِمَارَ، وَيَلْبَسُ الصُّوفَ، وَيَعْتَقِلُ الشَّاةَ، وَيَأْتِي مُرَاعَاةَ الضَّيْفِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Mūsā رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ would ride the donkey, wear wool, milk the sheep, and attend to the guest's care himself.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ گدھے پر سوار ہو جاتے تھے ، اونی کپڑا پہن لیتے تھے ، بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اور خود مہمان کی دیکھ بھال کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، اور یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔

14220

Majma al-Zawaid #14220

وَعَنْ جَرِيرٍ: «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، فَاسْتَقْبَلَتْهُ رِعْدَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَوِّنْ عَلَيْكَ ; فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ، إِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ كَانَتْ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Jarīr رضي الله عنه reports that a man came to the Prophet ﷺ from before him and trembling seized him, whereupon the Prophet ﷺ told him to ease himself, for he was no king but only the son of a Qurashi woman who used to eat dried meat. > **"Ease yourself, for I am no king. I am only the son of a woman of Quraysh who used to eat dried meat."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے سامنے سے آیا ، تو اُس پر کپکپی طاری ہو گئی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آرام سے رہو ! میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں ، میں قریش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا بیٹا ہوں ، جو ’’ قدید ‘‘ کھایا کرتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14221

Majma al-Zawaid #14221

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «إِنْ كَانَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي لَيَدْعُو رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنِصْفِ اللَّيْلِ عَلَى خُبْزِ الشَّعِيرِ فَيُجِيبُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that if a man from the outlying hills invited the Messenger of Allah ﷺ at midnight for barley bread, he would accept.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بعض اوقات نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص نصف رات کے وقت جَو کی روٹی کے بارے میں ، نبی اکرم ﷺ کی دعوت کرتا ، تو آپ ﷺ اس کی دعوت قبول کر لیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، انہوں نے اسے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔

14222

Majma al-Zawaid #14222

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «يَجْلِسُ عَلَى الْأَرْضِ، وَيَأْكُلُ عَلَى الْأَرْضِ، وَيَعْقِلُ الشَّاةَ، وَيُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ عَلَى خُبْزِ الشَّعِيرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that he sits upon the ground, eats upon the ground, ties the sheep, and accepts the invitation of the slave even for barley bread.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ زمین پر تشریف فرما ہو جاتے تھے ، زمین پر بیٹھ کر کھا لیتے تھے ، آپ بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اور جَو کی روٹی کے بارے میں ، غلاموں کی دعوت قبول کر لیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14223

Majma al-Zawaid #14223

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «كَانَ يُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ would accept the invitation of the slave.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ غلاموں کی دعوت بھی قبول کر لیتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14224

Majma al-Zawaid #14224

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: «أَنَّ رَجُلًا نَادَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِ: "" لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ عَنْ شَيْخِهِ جُبَارَةَ بْنِ الْمُغَلِّسِ وَثَّقَهُ ابْنُ نُمَيْرٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه reports that a man called the Prophet ﷺ thrice, and each time he answered him with ready obedience. > **"Labbayk, labbayk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو تین مرتبہ پکار کر بلایا ، ہر مرتبہ آپ اسے یہی جواب دیتے رہے : کہ میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں اپنے استاد جبارہ بن مغلس کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ابن نمیر نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔

14225

Majma al-Zawaid #14225

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَمْشِي فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَتَسَتَّرَ بِثَوْبٍ، فَلَمَّا رَأَى ظِلَّهُ رَفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا هُوَ بِمُلَاءَةٍ قَدْ سُتِرَ بِهَا، فَقَالَ لَهُ: "" مَهْ! "". وَأَخَذَ الثَّوْبَ فَوَضَعَهُ، فَقَالَ: "" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مَثَلُكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Jubayr al-Khuzāʿī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ was walking among some of his Companions when he was screened with a garment, and when he saw its shadow he raised his head and found a sheet held over him, whereupon he said hush to him, took the garment and laid it aside, saying he was only a mortal like them. > **"Hush. I am only a mortal like you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن جبیر خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے درمیان چل رہے تھے ، آپ کے لئے ایک کپڑے کے ذریعے پردہ کیا گیا ، جب آپ نے اس کے سائے کو ملاحظہ کیا ، تو سر اُٹھا کے دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ کپڑا ہے ، جس کے ذریعے آپ پر پردہ کیا گیا ہے ( تاکہ آپ کو دھوپ نہ لگے ) تو آپ نے فرمایا : رک جاؤ ! آپ نے وہ کپڑا لیا اور اسے رکھ دیا اور پھر یہ فرمایا : میں تمہاری طرح ایک انسان ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14226

Majma al-Zawaid #14226

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ، آكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَارَةَ الطَّاحِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ said he is only a slave and eats as the slave eats. > **"I am only a slave. I eat as the slave eats."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں ایک بندہ ہوں ، اور اسی طرح کھاتا ہوں ، جس طرح کوئی بندہ کھاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمارہ طلحی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14227

Majma al-Zawaid #14227

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «كَانَتِ امْرَأَةٌ تُرَافِثُ الرِّجَالَ، وَكَانَتْ بَذِيئَةً، فَمَرَّتْ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَأْكُلُ ثَرِيدًا عَلَى طِرْبَالٍ، فَقَالَتِ: انْظُرُوا إِلَيْهِ يَجْلِسُ كَمَا يَجْلِسُ الْعَبْدُ، وَيَأْكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَأَيُّ عَبْدٍ أَعْبَدُ مِنِّي؟ "". قَالَتْ: وَيَأْكُلُ وَلَا يُطْعِمُنِي. قَالَ: "" فَكُلِي "". قَالَتْ: نَاوِلْنِي بِيَدِكَ. فَنَاوَلَهَا، فَقَالَتْ: أَطْعِمْنِي مِمَّا فِي فِيكَ. فَأَعْطَاهَا فَأَكَلَتْ، فَغَلَبَهَا الْحَيَاءُ فَلَمْ تُرَافِثْ أَحَدًا حَتَّى مَاتَتْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umāmah رضي الله عنه reports that there was a woman who wrangled with men and was foul tongued, and she passed the Prophet ﷺ while he was eating tharīd upon a mat, remarking that he sat as the slave sits and ate as the slave eats, whereupon the Prophet ﷺ asked what slave is more enslaved than he. She complained that he ate and did not feed her, so he said eat, and she demanded he hand her with his hand, which he did, then demanded he feed her from what was in his mouth, which he gave her and she ate, and thereafter modesty overcame her so she never wrangled with anyone until she died. > **"And what slave is more enslaved than I? Eat."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون مردوں کے ساتھ جھگڑا کیا کرتی تھی وہ بدزبان خاتون تھی ، ایک مرتبہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزری ، نبی اکرم ﷺ اس وقت ثرید کھا رہے تھے ، اس نے کہا : ان کی طرف دیکھو ! یہ اس طرح بیٹھے ہوئے ہیں جس طرح کوئی غلام بیٹھتا ہے ، اور اس طرح کھا رہے ہیں ، جس طرح کوئی غلام کھاتا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھ سے بڑا بندہ اور کون ہو گا ؟ اس خاتون نے کہا : یہ خود کھا رہے ہیں ، اور مجھے کھانے کے لئے نہیں دے رہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بھی کھا لو ، اس نے کہا : آپ اپنے ہاتھ کے ذریعے مجھے پکڑائیں ، نبی اکرم ﷺ نے اسے پکڑایا ، تو اس نے کہا : آپ اس میں سے مجھے کھانے کے لئے دیں ، جو آپ کے منہ میں ہے ، آپ نے وہ ( لقمہ ) اس کو دے دیا تو اس نے وہ کھا لیا ، پھر اس عورت پر حیاء غالب ہو گئی ، اس کے بعد وہ مرتے دم تک کسی سے نہیں لڑی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند ضعیف ہے ۔

14228

Majma al-Zawaid #14228

وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: «أَحِبُّونَا بِحُبِّ الْإِسْلَامِ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا تَرْفَعُونِي فَوْقَ حَقِّي ; فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى اتَّخَذَنِي عَبْدًا قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَنِي رَسُولًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥusayn ibn ʿAlī رضي الله عنهما reports to love them with love of Islam, for the Messenger of Allah ﷺ said not to raise him above his right, for Allah took him as a slave before He took him as a messenger. > **"Do not raise me above my right, for Allah Almighty took me as a slave before He took me as a messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اسلام سے محبت کی وجہ سے ، تم ہم سے محبت رکھو ، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم مجھے میرے حق سے بلند نہ کرو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ’’ بندہ ‘‘ بنایا ہے ، اس سے پہلے کہ اس نے مجھے ’’ رسول ‘‘ بنایا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14229

Majma al-Zawaid #14229

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: يُخْطِئُ، وَاخْتَلَفَ كَلَامُ ابْنِ مَعِينٍ فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said that had he been invited for a shank he would have accepted. > **"Had I been invited for a shank, I would have accepted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر ایک پائے کے لئے مجھے دعوت دی جائے ، تو میں وہ ( دعوت ) قبول کر لوں گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اس کے بارے میں یحیی بن معین کا کلام مختلف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

14230

Majma al-Zawaid #14230

وَعَنْ حَنْظَلَةَ قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْتُهُ جَالِسًا مُتَرَبِّعًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥanẓalah رضي الله عنه reports that he came to the Messenger of Allah ﷺ and saw him sitting cross legged.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو میں نے آپ کو چار زانوں بیٹھے ہوئے دیکھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عثمان قرشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14231

Majma al-Zawaid #14231

وَعَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَشَى عَنْ زَمِيلٍ لَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ would walk in turn apart from his riding companion.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنے سفر کے ساتھی کے ساتھ ( اپنی باری آنے پر ) پیدل بھی چلا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14232

Majma al-Zawaid #14232

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: «خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَسْجِدِ، فَانْقَطَعَ شِسْعُهُ، فَأَخَذْتُ نَعْلَهُ لِأُصْلِحَهَا، فَأَخَذَهَا مِنْ يَدِي، وَقَالَ: "" إِنَّهَا أَثَرَةٌ ; وَلَا أَحِبُّ الْأَثَرَةَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿĀmir ibn Rabīʿah رضي الله عنه reports that he went out with the Prophet ﷺ to the mosque when his sandal strap broke, so he took his sandal to mend it, but he took it from his hand saying it was preferential treatment and he did not love preferential treatment. > **"It is preferential treatment, and I do not love preferential treatment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن ربیعہ ہی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مسجد میں جانے کے لئے نکلا ، آپ کا تسمہ ٹوٹ گیا ، میں نے آپ کا تسمہ لیا ، تاکہ میں ٹھیک کروں ، تو آپ نے میرے ہاتھ سے وہ لے لیا اور فرمایا : یہ ترجیحی سلوک ہے ، میں ترجیحی سلوک کو پسند نہیں کرتا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14233

Majma al-Zawaid #14233

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ الْعَبَّاسُ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي مَا بَقَاءُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِينَا. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اتَّخَذْتَ عَرِيشًا يُظِلُّكَ؟ قَالَ: "" لَا أَزَالُ بَيْنَ أَظْهُرِهُمْ يَطَئُونَ عَقِبِي، وَيُنَازِعُونَ رِدَائِي، حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ يُرِيحُنِي مِنْهُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that al-ʿAbbās رضي الله عنه said he did not know how long the Messenger of Allah ﷺ would remain among them, so he suggested he take a trellis to shade him, whereupon he said he would remain among them with them treading his heels and contesting his cloak until Allah relieved him of them. > **"I shall remain among them with them treading my heels and contesting my cloak, until Allah relieves me of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے سوچا کہ مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان کتنا عرصہ باقی رہیں گے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ کوئی عریش ( چھت والی جگہ ) بنا لیں ، جو آپ پر سایہ کیا کرے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ میں لوگوں کے درمیان رہوں گا ، وہ میری ایڑی پر پاؤں ماریں ، میری چادر کو کھینچیں ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے اُن سے نجات دلا دے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

14234

Majma al-Zawaid #14234

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ عِشْرُونَ شَابًّا مِنَ الْأَنْصَارِ يَلْزَمُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَوَائِجِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَمْرًا بَعَثَهُمْ فِيهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that twenty youths of the Anṣār kept to the Messenger of Allah ﷺ for his needs, and when he intended a matter he would dispatch them in it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار کے بیس نوجوان ایسے تھے ، جو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہتے تھے ، تاکہ آپ کے کام کریں جب نبی اکرم ﷺ کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتے تھے ، تو اس کام کے سلسلے میں اُن لوگوں کو ( یا ان میں سے کسی کو ) بھیج دیتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14235

Majma al-Zawaid #14235

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «كَانَ لَا يُفَارِقُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ بَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَةٌ، أَوْ أَرْبَعَةٌ، مِنْ أَصْحَابِهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf رضي الله عنه reports that five or four of his Companions would not part from the Prophet ﷺ or from the door of the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے پانچ یا چار افراد نبی اکرم ﷺ سے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں ) نبی اکرم ﷺ کے دروازے سے جدا نہیں ہوتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14236

Majma al-Zawaid #14236

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: «كُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ، أَوْ يُرْسِلُنَا فِي الْأَمْرِ فَيَكْثُرُ الْمُحْتَسِبُونَ وَأَصْحَابُ النُّوَبِ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ النَّجْوَى؟! أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنِ النَّجْوَى»؟! "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿīd رضي الله عنه reports that they took turns attending the Messenger of Allah ﷺ for his need or for him to send them on a matter, until those awaiting reward and turns grew many, and the Messenger of Allah ﷺ came out to them while they were discussing the Dajjāl and asked what this whispering was and whether he had not forbidden them whispering. > **"What is this whispering? Have I not forbidden you whispering?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم باری باری نبی اکرم ﷺ کے پاس آتے رہتے تھے ، تاکہ آپ کو کوئی کام ہو ، یا آپ نے ہمیں کسی کام کے سلسلے میں بھیجنا ہو ، تو ایسا ہو جائے ، تو بعض اوقات اپنی باری کا انتظار کرنے والے لوگ زیادہ ہو جاتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، تو ہم دجال کا ذکر کر رہے تھے ، تو آپ نے فرمایا : یہ سرگوشی میں کیا بات ہو رہی ہے ؟ کیا میں نے تمہیں سرگوشی میں بات کرنے سے منع نہیں کیا ہے ؟ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

14237

Majma al-Zawaid #14237

وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الدَّرْدَاءِ، أَوْ أَبَا ذَرٍّ قَالَ: «اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَبِيتَ عَلَى بَابِهِ يُوقِظُنِي لِحَاجَتِهِ، فَأَذِنَ لِي، فَبِتُّ لَيْلَةً». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀṣim ibn Sufyān reports that he heard Abu al-Dardāʾ or Abu Dharr رضي الله عنه say that he sought permission of the Messenger of Allah ﷺ to spend the night at his door so he might wake him for his need, and he permitted him, and he spent a night there.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عاصم بن سفیان بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کو ، یا شاید حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ’’ میں نے نبی اکرم ﷺ سے یہ اجازت مانگی کہ میں آپ ﷺ کے دروازے پر رات گزارتا ہوں ، تاکہ آپ کو کسی کام کے سلسلے میں ضرورت ہو تو مجھے بیدار کر دیں ، تو آپ نے مجھے اجازت دیدی ، اور میں نے وہاں رات گزاری ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14238

Majma al-Zawaid #14238

«عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَمَنِ، خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوصِيهِ، وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: "" يَا مُعَاذُ، إِنَّكَ عَسَى أَلَّا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا، وَلَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي هَذَا، وَقَبْرِي "". فَبَكَى مُعَاذٌ جَشَعًا ; لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ الْتَفَتَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: "" إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِيَ الْمُتَّقُونَ، مَنْ كَانُوا، وَحَيْثُ كَانُوا». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَقَالَ فِي أَحَدِهِمَا: عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ أَنَّ مُعَاذًا، وَقَالَ وَفِيهَا: قَالَ: "" «لَا تَبْكِ يَا مُعَاذُ، الْبُكَاءُ - أَوْ إِنَّ الْبُكَاءَ - مِنَ الشَّيْطَانِ» "". وَرِجَالُ الْإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، وَهُمَا ثِقَتَانِ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reports that when the Messenger of Allah ﷺ sent him to Yemen, he went out with him advising him while Muʿādh rode and the Messenger of Allah ﷺ walked beneath his mount, and when he finished he said that perhaps he would not meet him after this year of his and might pass by this mosque of his and his grave, whereupon Muʿādh wept in anguish at parting from the Messenger of Allah ﷺ. He then turned and faced Madinah saying the nearest of people to him are the Godfearing, whoever and wherever they are, and in one chain he added weep not, for weeping is from Satan. > **"O Muʿādh, perhaps you shall not meet me after this year of mine, and perhaps you shall pass by this mosque of mine and my grave. The nearest of people to me are the Godfearing, whoever they are and wherever they are. Weep not, O Muʿādh, for weeping is from Satan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں یمن کی طرف بھیجا ، تو نبی اکرم ﷺ بھی ان کے ساتھ نکلے ، آپ انہیں تلقین کر رہے تھے ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور نبی اکرم ﷺ ان کی سواری کے ساتھ پیدل چل رہے تھے ، جب آپ گفتگو کر کے فارغ ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : اے معاذ ! ہو سکتا ہے اس سال کے بعد ہماری ملاقات نہ ہو ، ہو سکتا ہے کہ تمہارا گزر میری اس مسجد سے اور میری قبر کے پاس سے ہو ، تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی جدائی کی پریشانی کی وجہ سے رو پڑے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے رخ پھیرا ، آپ نے مدینہ منورہ کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا : ’’ میرے سب سے زیادہ قریب لوگ پرہیزگار ہوں گے ، خواہ وہ جو بھی ہوں ، اور جہاں بھی ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، انہوں نے ایک سند میں یہ کہا ہے : عاصم بن حمید کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ بات روایت کی ہے ، اور اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ اے معاذ ! تم نہ روؤ ! کیونکہ رونا ، شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ۔‘‘ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ دونوں اسناد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف راشد بن سعد اور عاصم بن حمید کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔

14239

Majma al-Zawaid #14239

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ وَفْدِ الْجِنِّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ تَنَفَّسَ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ: "" نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مِينَاءُ بْنُ أَبِي مِينَاءَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه reports that he was with the Prophet ﷺ on the night of the deputation of the jinn, and when he turned back he breathed deeply, so he asked what was the matter and he said his own death had been announced to him. > **"My own death has been announced to me, O Ibn Masʿūd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات جب جنات کے وفد نے حاضر ہونا تھا ، میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا جب آپ واپس تشریف لائے ، تو آپ گہرے سانس لے رہے تھے ، میں نے عرض کی : آپ کا کیا معاملہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : اے ابن مسعود ! مجھے میری وفات کی اطلاع دی گئی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی میناء بن ابومیناء ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14240

Majma al-Zawaid #14240

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ: ({إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1]) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي». بِأَنَّهُ مَقْبُوضٌ فِي تِلْكَ السَّنَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that when the verse When the help of Allah and the victory comes was revealed, the Messenger of Allah ﷺ said his own death had been announced to him, meaning he would be taken in that year. > **"My own death has been announced to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ سورت نازل ہوئی : ’’ جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی .......‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے میرے انتقال کی اطلاع دے دی گئی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی اس بات کی اطلاع کہ اسی سال آپ کا انتقال ہو جائے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

14241

Majma al-Zawaid #14241

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1] حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ قَالَ: نُعِيَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَفْسُهُ حِينَ نَزَلَتْ، فَأَخَذَ بِأَشَدِّ مَا كَانَ قَطُّ اجْتِهَادًا فِي أَمْرِ الْآخِرَةِ. وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ذَلِكَ: "" جَاءَ الْفَتْحُ، وَجَاءَ نَصْرُ اللَّهِ، وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ "". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا أَهْلُ الْيَمَنِ؟ قَالَ: "" قَوْمٌ رَقِيقَةٌ أَفْئِدَتُهُمْ، لَيِّنَةٌ قُلُوبُهُمْ، الْإِيمَانُ وَالْفِقْهُ يَمَانٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ، وَزَادَ: "" «وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ» "". وَأَحَدُ أَسَانِيدِهِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that when When the help of Allah and the victory comes was revealed to its end, it was said his own death was announced to the Messenger of Allah ﷺ upon its revelation, so he exerted himself most intensely ever in the affair of the Hereafter. After that the Messenger of Allah ﷺ said victory had come, the help of Allah had come, and the people of Yemen had come, and asked about them he said they are a people of delicate hearts and tender affections, with faith and understanding being Yemeni, with an added word that wisdom too is Yemeni. > **"Victory has come, and the help of Allah has come, and the people of Yemen have come. A people of delicate hearts and tender affections. Faith and understanding are Yemeni, and wisdom is Yemeni."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ سورت نازل ہوئی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی .......‘‘ انہوں نے اسے پورا پڑھا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ کو آپ کے وصال کی اطلاع دی گئی تھی ، جب یہ سورت نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ آخرت کے معاملے کے حوالے سے بہت زیادہ عبادت کرنے لگے ، نبی اکرم ﷺ نے اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا : فتح آ گئی ہے ، اور اللہ کی مدد آ گئی ہے ، اور اہل یمن آ گئے ہیں ، ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اہل یمن کیسے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کے دل نرم ہیں اور مہربان ہیں ، اور ایمان اور سمجھ بوجھ یمانی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں :’’ دانائی یمنی ہے ۔‘‘ ان کی اسانید میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14242

Majma al-Zawaid #14242

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1]، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاطِمَةَ، فَقَالَ: "" إِنَّهُ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي "". فَبَكَتْ، فَقَالَ لَهَا: "" لَا تَبْكِي ; فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي "". فَضَحِكَتْ، فَرَآهَا بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: رَأَيْتُكِ بَكَيْتِ وَضَحِكْتِ؟! فَقَالَتْ: إِنَّهُ قَالَ لِي: "" قَدْ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي "". فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: "" لَا تَبْكِي ; فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي "". فَضَحِكْتُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ،، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that when When the help of Allah and the victory comes was revealed, the Messenger of Allah ﷺ called Fāṭimah رضي الله عنها and said his own death had been announced to him, whereupon she wept, and he told her not to weep for she would be the first of his household to join him, whereupon she laughed. One of the wives of the Prophet ﷺ saw her weeping then laughing and questioned her, and she recounted that he told her his death had been announced so she wept, then he said she would be the first of his household to join him so she laughed. > **"My own death has been announced to me. Weep not, for you shall be the first of my household to join me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جب یہ سورت نازل ہوئی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی .......‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا : مجھے میرے وصال کی اطلاع دے دی گئی ہے ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم نہ روؤ ! کیونکہ میرے اہل خانہ میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے آ کے ملو گی ، تو وہ ہنسنے لگیں ، نبی اکرم ﷺ کی ایک زوجہ محترمہ نے دیکھا ، تو کہا : میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ پہلے روئیں اور پھر ہنسنے لگیں ؟ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ بتایا ہے کہ مجھے میرے وصال کی اطلاع دی گئی ہے ، تو میں رونے لگی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نہ روؤ ! کیونکہ میرے اہل خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے ملو گی ، تو میں ہنس پڑی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

14243

Majma al-Zawaid #14243

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: "" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرَاكَ تُكْثِرُ أَنْ تَقُولَ: "" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ "". فَقَالَ: "" إِنِّي أُمِرْتُ بِأَمْرٍ "". فَقَرَأَ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reports that before he died the Messenger of Allah ﷺ frequently said glory be to You O Allah and with Your praise, I seek Your forgiveness and repent to You. She asked why he repeated it so often, and he said he had been commanded with a command, then recited When the help of Allah and the victory comes. > **"Glory be to You, O Allah, and with Your praise. I seek Your forgiveness and repent to You. I have been commanded with a command."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ وصال سے پہلے بکثرت یہ پڑھا کرتے تھے : ’’ تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا ہے ، آپ بکثرت یہ پڑھتے ہیں : ’’ تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے ، اور میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ، پھر آپ نے یہ سورت پڑھی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ........‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14244

Majma al-Zawaid #14244

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْفَتْحِ: "" هَذَا مَا وَعَدَنِي بِهِ رَبِّي "". ثُمَّ قَرَأَ: (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ) قَالَ: "" فَإِذَا دَخَلَ النَّاسُ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا، فَظَهَرَ دِينُ اللَّهِ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ، فَالنَّاسُ خَيْرٌ، وَنَحْنُ خَيْرٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said on the day of the conquest that this was what his Lord had promised him, then recited When the help of Allah and the victory comes, saying that when people entered the religion of Allah in crowds and the religion of Allah prevailed over all religion, then people were good and they were good. > **"This is what my Lord promised me. When people enter the religion of Allah in crowds, and the religion of Allah prevails over all religion, then people are good and we are good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ وہ چیز ہے جس کا میرے پروردگار نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ، پھر آپ ﷺ نے یہ سورت پڑھی : ’’ جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی .......‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب لوگ اللہ کے دین میں گروہوں کی شکل میں داخل ہو گئے اور اللہ کا دین باقی تمام ادیان پر غالب آ گیا ، تو اب لوگ بھی بہتر ہیں اور ہم بھی بہتر ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14245

Majma al-Zawaid #14245

وَعَنْ عَائِشَةَ: «إِنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ قَالَ لِفَاطِمَةَ: "" يَا بُنَيَّةُ احْنِي عَلَيَّ فَأَحْنَتْ عَلَيْهِ فَنَاجَاهَا سَاعَةً ثُمَّ انْكَشَفَتْ وَهِيَ تَبْكِي وَعَائِشَةُ حَاضِرَةٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِسَاعَةٍ: احْنِي عَلَيَّ يَا بُنَيَّةُ فَأَحْنَتْ عَلَيْهِ فَنَاجَاهَا سَاعَةً ثُمَّ انْكَشَفَتْ عَنْهُ فَضَحِكَتْ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: أَيْ بُنَيَّةُ أَخْبِرِينِي مَاذَا نَاجَاكِ أَبُوكِ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: نَاجَانِي عَلَى حَالِ سِرٍّ، ظَنَنْتِ أَنِّي أُخْبِرُ بِسِرِّهِ وَهُوَ حَيٌّ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى عَائِشَةَ أَنْ يَكُونَ سِرًّا دُونَهَا، فَلَمَّا قَبَضَهُ اللَّهُ قَالَتْ عَائِشَةُ لِفَاطِمَةَ: يَا بُنَيَّةُ أَلَا تُخْبِرِينِي بِذَلِكَ الْخَبَرِ، قَالَتْ: أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ، نَاجَانِي فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى فَأَخْبَرَنِي "" أَنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ عَارَضَنِي بِالْقُرْآنِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ. وَأَخْبَرَنِي: أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا عَاشَ نِصْفَ عُمُرِ الَّذِي كَانَ قَبْلَهُ. وَأَخْبَرَنِي: أَنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَاشَ عِشْرِينَ وَمِائَةَ سَنَةٍ، وَلَا أُرَانِي إِلَّا ذَاهِبًا عَلَى رَأْسِ السِّتِّينَ "". فَأَبْكَانِي ذَلِكَ، فَقَالَ: "" يَا بُنَيَّةُ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نِسَاءِ الْمُسْلِمِينَ امْرَأَةٌ أَعْظَمُ رَزِيَّةً مِنْكِ، فَلَا تَكُونِي أَدْنَى مِنَ امْرَأَةٍ صَبْرًا». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ، وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَهُ أَيْضًا، وَفِي رِجَالِهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reports that she used to say that in the illness in which he was taken, the Messenger of Allah ﷺ said to Fāṭimah رضي الله عنها to lean toward him, so she leaned and he confided to her awhile, then she withdrew weeping while ʿĀʾishah was present. After awhile the Messenger of Allah ﷺ again said lean toward him, my daughter, so she leaned and he confided to her awhile, then she withdrew laughing. ʿĀʾishah asked what her father had confided, but Fāṭimah said he had confided a secret and she would not disclose his secret while he lived, which weighed upon ʿĀʾishah that it be a secret apart from her. When Allah took him, ʿĀʾishah asked Fāṭimah to inform her of that report, and she agreed now, saying he first told her that Jibrīl used to review the Qurʾān with him once each year and this year had reviewed it with him twice, and told her that he had informed him that no prophet lived but half the age of the one before him, and told her that ʿĪsā ibn Maryam lived one hundred and twenty years and he saw himself departing at the head of sixty, which made her weep, whereupon he said that no woman among Muslim women bore a greater affliction than hers, so she should be second to no woman in patience. > **"Lean toward me, my daughter. Lean toward me, my daughter. Jibrīl used to review the Qurʾān with me once each year, and this year he has reviewed it with me twice. He informed me that no prophet lived but half the age of the one before him. ʿĪsā ibn Maryam lived one hundred and twenty years, and I see myself departing at the head of sixty. My daughter, there is no woman among Muslim women of greater affliction than you, so be second to no woman in patience."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کا جس بیماری کے دوران وصال ہوا ، اس بیماری کے دوران نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے میری بیٹی ! میرے پاس آ جاؤ ، وہ نبی اکرم ﷺ کے قریب ہو گئیں ، نبی اکرم ﷺ نے کچھ دیر سرگوشی میں ان کے ساتھ کوئی بات چیت کی ، جب وہ پیچھے ہٹیں تو وہ رو رہی تھیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا وہاں موجود تھیں ، پھر اس کے کچھ دیر بعد نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : میری بیٹی میرے پاس آ جاؤ ! وہ نبی اکرم ﷺ پر جھک گئیں ، نبی اکرم ﷺ نے سرگوشی میں ان سے کوئی بات کی ، پھر وہ پیچھے ہٹیں ، تو وہ ہنس رہی تھیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کہا : اے میری بیٹی ! تم مجھے بتاؤ کہ تمہارے والد نے تمہارے ساتھ سرگوشی میں کیا بات چیت کی ہے ؟ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : انہوں نے میرے ساتھ ایک راز کی بات کی ہے ، تو کیا آپ یہ سمجھتی ہیں کہ میں ان کی زندگی میں ان کے راز کے بارے میں بتا دوں گی ؟ یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو گراں گزری کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کی بجائے کسی اور کے ساتھ راز کی بات کی ہے ، جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا : اے میری بیٹی ! کیا تم مجھے اس کے بارے میں نہیں بتاؤ گی ؟ تو انہوں نے کہا : جی ہاں اب ٹھیک ہے ، نبی اکرم ﷺ نے پہلی مرتبہ مجھے سرگوشی میں یہ بتایا کہ جبرائیل ہر سال ایک مرتبہ آپ کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے ، اس سال انہوں نے دو مرتبہ میرے ساتھ دور کیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ بتایا کہ جبرائیل نے انہیں یہ بتایا تھا کہ جو بھی نبی زندہ رہتا ہے ، وہ اپنے سے پہلے نبی کی نصف عمر تک رہتا ہے ، اور انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ایک سو بیس سال تک زندہ رہے تھے ، تو اپنے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ ساٹھ سال کی عمر میں میرا انتقال ہو جائے گا ( سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ) تو اس بات پر مجھے رونا آ گیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے میری بیٹی ! مسلمانوں کی خواتین میں کوئی خاتون ایسی نہیں ہے کہ جس کو تم سے زیادہ بڑی مصیبت کا سامنا کرنا ہو ، تو تم صبر کرنے کے حوالے سے کسی عورت سے کم نہ ہونا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے بھی اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

14246

Majma al-Zawaid #14246

عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: «رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ الْأَرْضَ تُنْزَعُ إِلَى السَّمَاءِ بِأَشْطَانٍ شِدَادٍ، فَقَصَصْتُ ذَلِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" ذَاكَ وَفَاةُ ابْنِ أَخِيكَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-ʿAbbās ibn ʿAbd al-Muṭṭalib رضي الله عنه reports that he saw in a dream as though the earth were being drawn up to heaven with strong ropes, and he recounted it to the Messenger of Allah ﷺ, who said it was the death of his nephew. > **"That is the death of your nephew."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے زمین کو طویل رسی کے ذریعے آسمان کی طرف اٹھایا جا رہا ہے ، میں نے یہ خواب نبی اکرم ﷺ کو سنایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ آپ کے بھتیجے کی وفات ہے ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

14247

Majma al-Zawaid #14247

«عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ - مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَالَ: "" يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ، إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ، فَانْطَلِقْ مَعِي "". فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا وَقَفَ بَيْنَ أَظْهُرِهُمْ قَالَ: "" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ، لِيُهْنِكُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِيهِ مِمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ فِيهِ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا نَجَّاكُمُ اللَّهُ مِنْهُ: أَقْبَلَتِ الْفِتَنُ كَقِطْعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يَتْبَعُ آخِرُهَا أَوَّلَهَا، الْآخِرَةُ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى "". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ: "" يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ، إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا، ثُمَّ الْجَنَّةَ، وَخُيِّرْتُ بَيْنَ ذَلِكَ، وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - وَالْجَنَّةِ "". قَالَ: قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَخُذْ مَفَاتِيحَ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا، ثُمَّ الْجَنَّةَ. قَالَ: "" لَا وَاللَّهِ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ، لَقَدِ اخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي، ثُمَّ الْجَنَّةَ "". ثُمَّ اسْتَغْفَرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ، ثُمَّ انْصَرَفَ. فَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَجَعِهِ الَّذِي قَبَضَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - حِينَ أَصْبَحَ.

EnglishUnverified translation

Abu Muwayhibah, the freedman of the Messenger of Allah ﷺ, reports that the Messenger of Allah ﷺ sent for him in the depth of night saying he had been commanded to seek forgiveness for the people of al-Baqīʿ and bade him go with him. He went with him, and when he stood among them he greeted the dwellers of the graves, congratulating them upon their state compared with what people had entered, for had they known what Allah had saved them from, trials approaching like cuts of dark night with each last following the first and the last worse than the first. He then turned to him saying he had been given the keys of the treasuries of the world and abiding therein then Paradise, and was given choice between that and meeting his Lord Almighty and Paradise. He urged him to take the keys of the world and abiding therein then Paradise, but he swore he had chosen meeting his Lord then Paradise. He then sought forgiveness for the people of al-Baqīʿ and turned back, and upon morning began the pain in which Allah Almighty took him. > **"O Abu Muwayhibah, I have been commanded to seek forgiveness for the people of al-Baqīʿ, so go with me. Peace be upon you, O people of the graves. Congratulation to you for what you have entered compared with what people have entered. Had you known what Allah has saved you from: trials approach like cuts of dark night, the last following the first, the last worse than the first. O Abu Muwayhibah, I have been given the keys of the treasuries of the world and abiding therein, then Paradise, and I have been given choice between that and meeting my Lord Almighty and Paradise. No, by Allah, O Abu Muwayhibah, I have chosen meeting my Lord, then Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کے غلام حضرت ابومویبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نصف رات کے وقت مجھے بھیجا ، آپ نے فرمایا : اے ابومویہبہ ! مجھے یہ حکم دیا گیا ہے میں اہل بقیع کے لئے دعائے مغفرت کروں ، تو تم میرے ساتھ چلو ، میں آپ کے ساتھ روانہ ہوا ، جب نبی اکرم ﷺ ان کے درمیان پہنچے تو آپ نے فرمایا : ’’ اے قبرستان والو ! تم پر سلامتی نازل ہو ، تم لوگ جس صورت حال میں ہو ، اس کے حوالے سے تمہیں مبارک باد ہے ، اس چیز کے مقابلے میں جس میں لوگ مبتلاء ہیں ، اگر تم یہ بات جان لو ! کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے نجات عطا کر دی ہے ، فتنے یوں آئیں گے ، جس طرح تاریک رات کے ٹکڑے ہوتے ہیں اور ان میں بعد والا ، پہلے والے کے پیچھے آ جائے گا ، اور بعد والا پہلے سے زیادہ برا ہو گا ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابومویہبہ ! مجھے دنیا کے خزانوں اور ہمیشہ دنیا میں رہنے اور پھر جنت میں چلے جانے کی کنجیاں عطا کی گئیں ، پھر مجھے اس بارے میں ( یعنی دنیا میں ہمیشہ رہنے ) اور پروردگار کی بارگاہ حاضر ہونے ( یعنی ابھی انتقال کر جانے ) اور پھر جنت میں چلے جانے کے درمیان اختیار دیا گیا ‘‘ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ دنیا اور اس میں ہمیشہ رہنے اور پھر جنت ( میں چلے جانے ) کی چابیاں حاصل کر لیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! اسے ابومویہبہ ! میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری پھر جنت ( میں چلے جانے ) کو اختیار کرتا ہوں ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اہل بقیع کے لئے دعائے مغفرت کی ، پھر آپ واپس تشریف لے گئے ، تو آپ کی اس بیماری کا آغاز ہوا ، جس میں نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا تھا ۔

14248

Majma al-Zawaid #14248

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ، فَصَلَّى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ قَالَ: "" يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ، أَسْرِجْ لِي دَابَّتِي "". قَالَ: فَرَكِبَ وَمَشَيْتُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ، فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ، وَأَمْسَكْتُ الدَّابَّةَ». قُلْتُ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ الْإِسْنَادَ الْأَوَّلَ: عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ، وَالثَّانِي: عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ.

EnglishUnverified translation

In another narration from him he said the Messenger of Allah ﷺ was commanded to pray over the people of al-Baqīʿ, so the Messenger of Allah ﷺ prayed over them thrice, and at the third he said to saddle his mount for him. He rode and the narrator walked until they reached them, then he dismounted from his mount while the narrator held the animal, thereafter narrating likewise. > **"O Abu Muwayhibah, saddle my mount for me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ اہل بقیع کے لئے دعائے رحمت کریں ، تو آپ نے رات کے وقت دعائے رحمت کی ، ایسا آپ نے تین مرتبہ کیا ، جب تیسری مرتبہ ہو گئی ، تو آپ نے فرمایا : اے ابومویہبہ ! میرے جانور پر زین رکھو ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ سوار ہوئے اور آپ تشریف لے گئے ، یہاں تک کہ آپ ان کے پاس پہنچے ، تو آپ سواری سے نیچے اترے ، میں نے سواری کو پکڑ کے رکھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ پہلی سند یہ ہے کہ روایت عبید بن جبیر کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حضرت ابومویہبہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے ، جبکہ دوسری سند میں یہ ہے کہ عبید بن جبیر کے حوالے سے حضرت ابومویہبہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔

14249

Majma al-Zawaid #14249

وَعَنْ أَبِي وَاقَدٍ اللِّيثِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «خُيِّرَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ بَيْنَ الدُّنْيَا وَمُلْكِهَا وَنَعِيمِهَا وَبَيْنَ الْآخِرَةِ، فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ "". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَلْ نَفْدِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَمْوَالِنَا وَأَنْفُسِنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Wāqid al-Laythī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said a servant among the servants of Allah was given choice between the world with its dominion and bliss and the Hereafter, and he chose the Hereafter, whereupon Abu Bakr رضي الله عنه said they would ransom him with their wealth and selves. > **"A servant among the servants of Allah was given choice between the world, its dominion and its bliss, and the Hereafter, and he chose the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو ، دنیا اس کی بادشاہی ، اس کی نعمتوں اور آخرت کے درمیان اختیار دیا گیا ، تو اس نے آخرت کو اختیار کر لیا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اپنے اموال اور جانیں آپ کے فدیے میں دے دیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14250

Majma al-Zawaid #14250

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ، يُبَلِّغُونَ عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ "". قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" حَيَاتِي خَيْرٌ لَكَمْ تُحْدِثُونَ وَيُحَدَثُ لَكَمْ، وَوَفَاتِي خَيْرٌ لَكَمْ تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ، فَمَا رَأَيْتُ مِنْ خَيْرٍ حَمَدَتُ اللَّهَ عَلَيْهِ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْ شَرٍّ اسْتَغْفَرْتُ اللَّهَ لَكَمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that Allah has roaming angels who convey to him the greeting from his nation, and the Messenger of Allah ﷺ said his life is good for them as they speak and speech is relayed for them, and his passing is good for them as their deeds are presented to him, so whatever good he sees he praises Allah for, and whatever evil he sees he seeks forgiveness of Allah for them. > **"Indeed Allah has roaming angels who convey to me the greeting from my nation. My life is good for you: you speak and speech is relayed for you. My passing is good for you: your deeds are presented to me, so whatever good I see I praise Allah for, and whatever evil I see I seek forgiveness of Allah for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور وہ میری امت کی طرف سے سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میری زندگی ، تمہارے حق میں بہتر ہے ، تم لوگ بات چیت کر لیتے ہو اور تمہارے ساتھ بات چیت کر لی جاتی ہے ، اور میری وفات بھی تمہارے لئے بہتر ہو گی ، کیونکہ تمہارے اعمال میرے سامنے پیش کیے جائیں گے ، تو میں جو بھلائی کی چیز دیکھوں گا ، اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، اور میں جو برائی کی چیز دیکھوں گا ، تو تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائے مغفرت کروں گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14251

Majma al-Zawaid #14251

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «نُعِيَ إِلَيْنَا حَبِيبُنَا وَنَبِيُّنَا، بِأَبِي هُوَ وَنَفْسِي لَهُ الْفِدَاءُ، قَبْلَ مَوْتِهِ بِسِتٍّ، فَلَمَّا دَنَا الْفِرَاقُ، جَمَعَنَا فِي بَيْتِ أُمِّنَا عَائِشَةَ، فَنَظَرَ إِلَيْنَا، فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ: "" مَرْحَبًا بِكُمْ، وَحَيَّاكُمُ اللَّهُ، وَحَفِظَكُمُ اللَّهُ، آوَاكُمُ اللَّهُ، وَنَصَرَكُمُ اللَّهُ، هَدَاكُمُ اللَّهُ، رَزَقَكُمُ اللَّهُ، وَفَّقَكُمُ اللَّهُ، سَلَّمَكُمُ اللَّهُ، قَبِلَكُمُ اللَّهُ، أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَأُوصِي اللَّهَ بِكُمْ، وَأَسْتَخْلِفُهُ عَلَيْكُمْ، إِنِّي لَكَمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ أَلَّا تَعْلُوا عَلَى اللَّهِ فِي عِبَادِهِ وَبِلَادِهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ لِي وَلَكُمْ: "" {تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ} [القصص: 83] ""، وَقَالَ: "" {أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْمُتَكَبِّرِينَ} [الزمر: 60] "". ثُمَّ قَالَ: "" قَدْ دَنَا الْأَجَلُ وَالْمُنْقَلَبُ إِلَى اللَّهِ، وَإِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَإِلَى جَنَّةِ الْمَأْوَى، وَالْكَأْسِ الْأَوْفَى، وَالرَّفِيقِ الْأَعْلَى "". أَحْسَبُهُ قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَنْ يُغَسِّلُكَ إِذًا؟ قَالَ: "" رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِي، الْأَدْنَى فَالْأَدْنَى "". قُلْنَا: فَفِيمَ نُكَفِّنُكَ؟ قَالَ: "" فِي ثِيَابِي هَذِهِ - إِنْ شِئْتُمْ - أَوْ فِي حُلَّةٍ يَمَنِيَّةٍ، أَوْ فِي بَيَاضِ مِصْرَ "". قَالَ: فَقُلْنَا: فَمَنْ يُصَلِّي عَلَيْكَ مِنَّا؟ فَبَكَيْنَا، وَبَكَى، وَقَالَ: "" مَهْلًا، غَفَرَ اللَّهُ لَكَمْ، وَجَازَاكُمْ عَنْ نَبِيِّكِمْ خَيْرًا، إِذَا غَسَّلْتُمُونِي وَوَضَعْتُمُونِي عَلَى سَرِيرِي فِي بَيْتِي هَذَا عَلَى شَفِيرِ قَبْرِي فَاخْرُجُوا عَنِّي سَاعَةً ; فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُصَلِّي عَلَيَّ خَلِيلِي وَجَلِيسِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ مِيكَائِيلُ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ، ثُمَّ مَلَكُ الْمَوْتِ مَعَ جُنُودِهِ، ثُمَّ الْمَلَائِكَةُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ بِأَجْمَعِهَا، ثُمَّ ادْخُلُوا عَلَيَّ فَوْجًا فَوْجًا، فَصَلُّوا عَلَيَّ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا، وَلَا تُؤْذُونِي بِبَاكِيَةٍ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - وَلَا صَارِخَةٍ، وَلَا رَانَّةٍ، وَلْيَبْدَأْ بِالصَّلَاةِ عَلَيَّ رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِي، ثُمَّ أَنْتُمْ بَعْدُ، وَأَقْرِئُوا أَنْفُسَكُمْ مِنِّي السَّلَامَ، وَمَنْ غَابَ مِنْ إِخْوَانِي فَأَقْرِئُوهُ مِنِّي السَّلَامَ، وَمَنْ دَخَلَ مَعَكُمْ فِي دِينِكُمْ بَعْدِي فَإِنِّي أُشْهِدُكُمُ أَنِّي أَقْرَأُ السَّلَامَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - عَلَيْهِ، وَعَلَى كُلِّ مَنْ تَابَعَنِي عَلَى دِينِي، مِنْ يَوْمِي هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَنْ يُدْخِلُكَ قَبْرَكَ مِنَّا؟ قَالَ: "" رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِي، مَعَ مَلَائِكَةٍ كَثِيرَةٍ يَرَوْنَكُمْ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَقَالَ: رُوِيَ هَذَا عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَالْأَسَانِيدُ عَنْ مُرَّةَ مُتَقَارِبَةٌ. وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنْ مُرَّةَ، إِنَّمَا أُخْبِرَهُ عَنْ مُرَّةَ، وَلَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ غَيْرَ مُرَّةَ، قُلْتُ: رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ الْأَحْمَسِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ. وَذَكَرَ فِي إِسْنَادِهِ ضُعَفَاءَ مِنْهُمْ: أَشْعَثُ بْنُ طَابَقٍ. قَالَ الْأَزْدِيُّ: لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reports that their beloved and Prophet, for whom his father and soul be ransom, was announced to them six days before his death, and when parting drew near he gathered them in the house of their mother ʿĀʾishah رضي الله عنها, looked at them and his eyes filled with tears, then welcomed them with supplications for life, protection, shelter, help, guidance, provision, success, peace and acceptance, enjoining Godfearing, commending them to Allah and appointing Him guardian over them, declaring himself a clear warner not to exalt themselves over Allah among His servants and lands, citing the Abode of the Hereafter for those who seek no exaltation nor corruption with the outcome for the Godfearing, and asking is there not in Hell an abode for the arrogant. He then said the term had drawn near with return to Allah, to Sidrat al-Muntahā, to Jannat al-Maʾwā, to the fullest cup and to the Highest Companion. Asked who would wash him, he said the men of his household, nearest then nearest; asked in what they would shroud him, he said in these garments of his if they wished, or in a Yemeni suit, or in white Egyptian cloth. Asked who among them would pray over him, they wept and he wept and told them to wait, with forgiveness and reward invoked, instructing that when they had washed him and placed him upon his bier in this house of his at the edge of his grave, they should leave him awhile, for the first to pray over him would be his beloved and companion Jibrīl, then Mīkāʾīl, then Isrāfīl, then the Angel of Death with his hosts, then the angels altogether, then they should enter upon him in companies, praying and greeting with full greeting, without harming him with a wailing woman nor shrieking nor lamentation, with the men of his household beginning the prayer over him then the rest, conveying greeting from him to themselves and to his absent brothers and to all who entered their religion after him and all who followed him upon his religion from this day until the Day of Resurrection. Asked who would lower him into his grave, he said the men of his household with many angels seeing them whence they could not see them. > **"Welcome to you. May Allah greet you, preserve you, shelter you, help you, guide you, provide for you, grant you success, keep you safe, and accept from you. I enjoin upon you Godfearing, and I commend you to Allah and appoint Him guardian over you. I am to you a clear warner: do not exalt yourselves over Allah among His servants and His lands. That is the Abode of the Hereafter which We assign to those who seek no exaltation in the earth nor corruption, and the outcome is for the Godfearing. Is there not in Hell an abode for the arrogant? The term has drawn near, and the return to Allah, and to Sidrat al-Muntahā, and to Jannat al-Maʾwā, and to the fullest cup, and to the Highest Companion. The men of my household, nearest then nearest. In these garments of mine, if you wish, or in a Yemeni suit, or in white Egyptian cloth. Gently, may Allah forgive you and reward you well on behalf of your Prophet. When you have washed me and placed me upon my bier in this house of mine at the edge of my grave, then leave me awhile, for the first to pray over me shall be my beloved and companion Jibrīl, then Mīkāʾīl, then Isrāfīl, then the Angel of Death with his hosts, then the angels altogether in full, then enter upon me in companies and pray over me and greet with full greeting. Do not harm me with a wailing woman, nor a shrieker, nor a lamenter. Let the men of my household begin prayer over me, then you after, and convey greeting from me to yourselves, and to my absent brothers convey greeting from me, and to whoever enters with you into your religion after me, I call you to witness that I convey greeting to him and to every one who follows me upon my religion, from this day of mine until the Day of Resurrection. The men of my household, with many angels seeing you whence you do not see them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمیں ہمارے حبیب اور نبی کے وصال کی اطلاع دی گئی ، میرے باپ اور میری جان ، ان کے فدیے میں دیدیے جائیں ، یہ آپ کے وصال سے چھ دن پہلے بتایا گیا ، جب جدائی کا وقت قریب آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں جمع کیا ، آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگوں کو خوش آمدید ہے ! اللہ تعالیٰ تمہیں زندگی دے ، اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے ، اللہ تعالیٰ تمہیں پناہ دے ، اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے ، اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت پر ثابت رکھے ، اللہ تعالیٰ تمہیں رزق نصیب کرے ، اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق عطا کرے ، اللہ تعالیٰ تمہیں سلامت رکھے ، اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال قبول کرے ، میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ سے تمہارے لئے دعا کرتا ہوں ، اور اسے تمہارا نگہبان بناتا ہوں ، بے شک میں تمہیں ڈرانے والا تھا ، جو واضح طور پر ڈراتا ہے ، تم اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف اس کے بندوں یا اس کے شہروں میں کوئی زیادتی نہ کرنا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے اور تم لوگوں سے یہ فرمایا ہے : ’’ وہ آخرت کا گھر ہے ، جسے ہم نے ان لوگوں کے لئے بنایا ہے ، جو زمین میں بالادستی ( یعنی تکبر ) اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے اور اچھا انجام پرہیزگاروں کے لئے ہے ۔‘‘ اور اس نے یہ بھی فرمایا ہے : ’’ کیا جہنم تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ نہیں ہے ۔‘‘ پھر آپ نے فرمایا : موت کا وقت قریب آ گیا ہے ، اور لوٹ کے اللہ تعالیٰ کی طرف جانا ہے ، اور سدرۃ المنتہیٰ کی طرف اور جنت الماویٰ کی طرف جانا ہے ، اور بھرپور پیالے کی طرف اور رفیق اعلیٰ کی طرف جانا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسی صورت میں آپ کو غسل کون دے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والے افراد ، جو درجہ بدرجہ قریبی ہوں ، ہم نے عرض کی : ہم آپ کو کفن کسی چیز میں دیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے انہی کپڑوں میں ، اگر تم چاہو ، یا پھر یمنی کپڑوں میں ، یا پھر مضر کے سفید لباس میں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : ہم میں سے کون آپ کی نماز جنازہ ادا کرے گا ؟ ہم رونے لگے ، آپ بھی رونے لگے ، آپ نے فرمایا : ٹھہر جاؤ ! اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے اور تمہیں تمہارے نبی کی طرف سے جزائے خیر دے ، جب تم مجھے غسل دے دو ! اور مجھے میرے پلنگ پر رکھ دو ، اور مجھے اس گھر میں رکھنا اور وہ پلنگ میری قبر کے کنارے رکھ دینا ، پھر تم میرے پاس سے کچھ دیر کے لئے نکل جانا ، کیونکہ سب سے پہلے میری نماز جنازہ میرا ساتھی اور میرا ہمنشین جبرائیل ادا کرے گا ، پھر میکائیل ، پھر اسرافیل ، پھر ملک الموت ، اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ادا کرے گا ، پھر تمام فرشتے ادا کریں گے ، پھر تم لوگ گروہوں کی شکل میں میرے پاس آنا ، مجھ پر درود بھیجنا اور سلام بھیجنا اور کسی رونے والے کے ذریعے تم مجھے اذیت نہ پہنچانا ، کوئی عورت چیخے نہیں ، کوئی واویلا نہ کرے ، میرے گھر کے افراد کے مرد مجھ پر درود بھیجنے کا آغاز کریں گے اور اس کے بعد تم لوگ کرنا اور میری طرف سے تم لوگ اپنے اوپر سلام بھیجنا ، میرے جو بھائی یہاں موجود نہیں ہیں ، انہیں سلام پہنچا دینا اور جو شخص تمہارے ساتھ تمہارے دین میں میرے بعد داخل ہو ، تو میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر کہہ رہا ہوں کہ میں اسے سلام بھیج رہا ہوں اور ہر اس شخص کو ، جو آج کے اس دن سے لے کر قیامت تک میرے دین کے حوالے سے میری پیروی کرے گا ۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو ہم میں سے کون قبر میں داخل کرے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے اہل بیت کے مرد کریں گے ، ان کے ساتھ بہت سے فرشتے ہوں گے ، وہ تمہیں دیکھ رہے ہوں گے ، لیکن تم انہیں نہیں دیکھ پا رہے ہو گے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : یہ روایت مرہ کے حوالے سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، اور مرہ سے منقول اسانید متقارب ہیں ، عبدالرحمن نامی راوی نے یہ روایت مرہ سے نہیں سنی ہے ، انہوں نے اسے مرہ کے حوالے سے بیان کیا ہے ، لیکن ہمارے علم کے مطابق مرہ کے علاوہ اور کسی نے اسے حضرت عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ سے نقل نہیں کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسماعیل بن سمرہ احمسی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے وصال سے ایک ماہ پہلے ایسا ہوا ......... اس کی سند میں ضعیف راویوں کا ذکر کیا ہے ، جن میں سے ایک اشعث بن طابق ہے ، ازدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

14252

Majma al-Zawaid #14252

«عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ: جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، فَوَجَدْتُهُ مَوْعُوكًا، قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ قَالَ: "" خُذْ بِيَدِي يَا فَضْلُ "". فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمِنْبَرِ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "" صِحْ فِي النَّاسِ "". فَصِحْتُ فِي النَّاسِ فَاجْتَمَعَ نَاسٌ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ دَنَا مِنِّي حُقُوقٌ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ ; فَمَنْ كُنْتُ جَلَدْتُ لَهُ ظَهْرًا فَهَذَا ظَهْرِي فَلْيَسْتَقِدْ مِنْهُ، أَلَا وَمَنْ كُنْتُ قَدْ شَتَمْتُ لَهُ عِرْضًا فَهَذَا عِرْضِي فَلْيَسْتَقِدْ مِنْهُ، وَمَنْ كُنْتُ أَخَذْتُ لَهُ مَالًا فَهَذَا مَالِي فَلْيَسْتَقِدْ مِنْهُ، لَا يَقُولَنَّ رَجُلٌ: إِنِّي أَخْشَى الشَّحْنَاءَ مِنْ قِبَلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلَا وَإِنَّ الشَّحْنَاءَ لَيْسَتْ مِنْ طَبِيعَتِي وَلَا مِنْ شَأْنِي، أَلَا وَإِنَّ أَحَبَّكُمُ إِلَيَّ مَنَ أَخَذَ حَقًّا إِنْ كَانَ لَهُ، أَوْ حَلَّلَنِي، فَلَقِيتُ اللَّهَ وَأَنَا طَيِّبُ النَّفْسِ، أَلَا وَإِنِّي لَا أَرَى ذَلِكَ مُغْنِيًا عَنِّي حَتَّى أَقُومَ فِيكُمْ مِرَارًا "". ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَعَادَ لِمَقَالَتِهِ فِي الشَّحْنَاءِ أَوْ غَيْرِهَا، ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلْيَرُدَّهُ، وَلَا يَقُلْ: فُضُوحُ الدُّنْيَا، أَلَا وَإِنَّ فُضُوحَ الدُّنْيَا أَيْسَرُ مِنْ فُضُوحِ الْآخِرَةِ "". فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي عِنْدَكَ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ. قَالَ: "" أَمَا إِنَّا لَا نُكَذِّبُ قَائِلًا، وَلَا نَسْتَحْلِفُهُ، فَبِمَ صَارَتْ لَكَ عِنْدِي؟ "". قَالَ: تَذْكُرُ يَوْمَ مَرَّ بِكَ مِسْكِينٌ فَأَمَرْتَنِي أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْهِ؟ فَقَالَ: "" ادْفَعْهَا إِلَيْهِ يَا فَضْلُ "". ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ قَالَ: عِنْدِي ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ غَلَلْتُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَ: "" وَلِمَ غَلَلْتَهَا؟ "". قَالَ: كُنْتُ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا. قَالَ: "" خُذْهَا يَا فَضْلُ "". ثُمَّ قَالَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ خَشِيَ مِنْ نَفْسِهِ شَيْئًا فَلْيَقُمْ أَدْعُ لَهُ "". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنِّي لَكَذَّابٌ، وَإِنِّي لَمُنَافِقٌ، وَإِنِّي لَنَؤُومٌ؟ قَالَ: "" اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ صِدْقًا، وَإِيمَانًا، وَأَذْهِبْ عَنْهُ النَّوْمَ إِذَا أَرَادَ "". ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَكَذَّابٌ، وَإِنِّي لَمُنَافِقٌ، وَمَا مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ إِلَّا وَقَدْ أَتَيْتُهُ! فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا هَذَا فَضَحْتَ نَفْسَكَ! قَالَ: "" مَهْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فُضُوحُ الدُّنْيَا أَيْسَرُ مِنْ فُضُوحِ الْآخِرَةِ "". ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ صِدْقًا، وَإِيمَانًا، وَصَيِّرْ أَمْرَهُ إِلَى خَيْرٍ "". فَكَلَّمَهُمْ عُمَرُ بِكَلِمَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عُمَرُ مَعِي، وَأَنَا مَعَهُ، وَالْحَقُّ بَعْدِي مَعَ عُمَرَ حَيْثُ كَانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: «فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ جَبَانٌ، كَثِيرُ النَّوْمِ. قَالَ: فَدَعَا لَهُ. قَالَ الْفَضْلُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَشْجَعَنَا، وَأَقَلَّنَا نَوْمًا. قَالَ: ثُمَّ أَتَى بَيْتَ عَائِشَةَ، فَقَالَ لِلنِّسَاءِ مِثْلَ مَا قَالَ لِلرِّجَالِ، ثُمَّ قَالَ: "" وَمَنْ غَلَبَ عَلَيْهِ شَيْءٌ فَلْيَسْأَلْنَا نَدْعُ لَهُ "". قَالَ: فَأَوْمَأَتِ امْرَأَةٌ إِلَى لِسَانِهَا قَالَ: فَدَعَا لَهَا. قَالَ: فَلَرُبَّمَا قَالَتْ لِي: يَا عَائِشَةُ، أَحْسِنِي صَلَاتَكِ». وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Al-Faḍl ibn al-ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ came to him and he went out to him finding him feverish with his head bound, and he said take his hand, O Faḍl, so he took his hand until he reached the pulpit and sat upon it, then told him to call out among the people, so he called and people gathered, and after praising Allah he said rights due from among them had drawn near upon him, so whomever he had flogged upon his back then here was his back for requital, whomever he had reviled in honour then here was his honour for requital, and from whomever he had taken wealth then here was his wealth for requital, and none should say he feared ill feeling from the Messenger of Allah ﷺ, for ill feeling was neither his nature nor his way, and dearest to him was he who took a right if it was his or absolved him so he might meet Allah with a clear soul, and he did not see that sufficing him until he stood among them repeatedly. He then descended and prayed Ẓuhr, returned to the pulpit repeating his words on ill feeling and other matters, then said whoever held anything should return it and not speak of worldly disgrace, for worldly disgrace is easier than that of the Hereafter. A man claimed three dirhams owed by him, and he said they neither belie a claimant nor put him to oath but asked how it arose, and he recalled a pauper passing by whom he had ordered paid, so he told al-Faḍl to pay him. Another man confessed to three misappropriated dirhams in the path of Allah, and asked why he had done so he pleaded need, so he told al-Faḍl to take them. He then said whoever feared anything of himself should rise that he might supplicate for him, so a man rose confessing lying, hypocrisy and sleepiness, and he prayed for truthfulness, faith and removal of sleep when intended. Another rose confessing lying, hypocrisy and every manner of deed, and when ʿUmar رضي الله عنه rebuked him for disgracing himself, he told Ibn al-Khaṭṭāb to desist, for worldly disgrace is easier than that of the Hereafter, then prayed for truthfulness, faith and turning his affair to good. ʿUmar spoke a word to them, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said ʿUmar is with him and he is with ʿUmar, and truth after him is with ʿUmar wherever he is. In the closing addition a timid sleepless man rose and he prayed for him until al-Faḍl later saw him bravest and least sleeping. He then went to the house of ʿĀʾishah رضي الله عنها, spoke to the women as to the men, invited whoever was overcome by anything to ask that he supplicate, a woman gestured to her tongue and he prayed for her, and she thereafter would counsel good prayer. > **"Take my hand, O Faḍl. Call out among the people. O you people, rights due from among you have drawn near upon me. Whomever I have flogged upon his back, then here is my back, so let him requite from it. Whomever I have reviled in honour, then here is my honour, so let him requite from it. And from whomever I have taken wealth, then here is my wealth, so let him requite from it. Let no man say: I fear ill feeling from the Messenger of Allah. Ill feeling is neither my nature nor my way. The dearest of you to me is he who takes a right if it is his, or absolves me, so I meet Allah with a clear soul. I do not see that sufficing me until I stand among you repeatedly. O you people, whoever holds anything, let him return it, and let him not speak of worldly disgrace, for worldly disgrace is easier than that of the Hereafter. We neither belie a claimant nor put him to oath, but how did it become due from me? Pay him, O Faḍl. Why did you misappropriate? Take them, O Faḍl. O you people, whoever fears anything of himself, let him rise that I supplicate for him. O Allah, grant him truthfulness and faith, and remove sleep from him when he intends. Gently, O Ibn al-Khaṭṭāb, worldly disgrace is easier than that of the Hereafter. O Allah, grant him truthfulness and faith, and turn his affair to good. ʿUmar is with me, and I am with him, and truth after me is with ʿUmar wherever he is. Whoever is overcome by anything, let him ask us that we supplicate for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے ، میں نکل کر آپ کے پاس گیا ، تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ بیمار ہیں اور آپ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے فضل ! میرا ہاتھ پکڑ لو ، میں نے آپ کا ہاتھ پکڑا ، یہاں تک کہ آپ منبر کے پاس تشریف لائے ، آپ اس پر تشریف فرما ہوئے ، پھر آپ نے فرمایا : لوگوں کو میرے پاس آنے کے لئے اعلان کر دو ، میں نے لوگوں میں جا کے اعلان کیا تو لوگ اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! تم لوگوں کے درمیان کچھ ایسے امور ہو سکتے ہیں ، جو میرے ذمہ لازم ہو چکے ہوں ، تو جس شخص کی پشت پر میں نے کوڑا مارا ہو ، تو یہ میری پشت موجود ہے ، وہ بدلہ لے ، خبردار ! کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا ہو ، تو یہ میری عزت موجود ہے ، وہ بدلہ لے ، جس شخص سے میں نے مال لیا ہو ، تو یہ مال موجود ہے ، وہ بدلہ لے ، کوئی بھی شخص یہ ہرگز نہ کہے : کہ مجھے نبی اکرم ﷺ کی طرف سے کسی ناراضگی کا اندیشہ بے ، خبردار ! ناراضگی رکھنا ، میری طبیعت کا حصہ نہیں ہے ، اور نہ ہی میری شان ہے ، خبردار ! تم میں سے میرے نزدیک زیادہ محبوب وہ شخص ہو گا ، جو حق وصول کر لے ، اگر اس کا حق بنتا ہو ، یا پھر یہ ہے کہ وہ مجھے معاف کر دے ، تاکہ جب میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں ، تو میں مطمئن ہوؤں ، خبردار ! میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ چیز میرے لئے کفایت کرے گی ، جب تک میں تمہارے درمیان بار بار کھڑا نہیں ہوتا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ منبر سے نیچے اترے ، پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا کی ، پھر آپ منبر پر گئے اور آپ نے وہی بات دہرائی جو ناراضگی کے بارے میں اور دیگر امور کے بارے میں تھی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! جس شخص کے پاس کوئی چیز ہو ، وہ اسے واپس کر دے اور یہ نہ کہے کہ یہ دنیا کی رسوائی ہے ، خبردار ! دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے زیادہ آسان ہے ، تو ایک صاحب آپ کے سامنے کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے آپ کے ذمہ تیس درہم ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہم کسی بات کرنے والے کو جھوٹا قرار نہیں دیں گے ، اور نہ ہی کسی سے حلف لیں گے ، تم یہ بتاؤ وہ میرے پاس کس حوالے سے آئے تھے ؟ تو اس نے کہا : آپ وہ دن یاد کریں ، جب ایک غریب آدمی آپ کے پاس سے گزرا ، تو آپ نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں اس کو یہ رقم دے دوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے فضل ! تم اسے وہ رقم دے دو ، پھر ایک اور صاحب آپ کے سامنے کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : میرے پاس تین درہم ہیں ، جو میں نے اللہ کی راہ میں خیانت کے طور پر حاصل کیے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے وہ خیانت کے طور پر کیوں حاصل کیے تھے ؟ اس نے عرض کی : مجھے ان کی ضرورت تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے فضل ! تم وہ وصول کر لو ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! جس شخص کو اپنی ذات کے حوالے سے کوئی اندیشہ ہو ، وہ کھڑا ہو جائے ، تو میں اس کے لئے دعا کر دوں گا ، تو ایک صاحب کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں جھوٹ بہت بولتا ہوں اور میں منافقت بھی کرتا ہوں اور میں سویا بھی رہتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : اے اللہ ! تو اسے سچائی اور ایمان عطا کر دے اور اس سے نیند کو لے جا ، جب یہ ارادہ کرے ( یعنی یہ جب چاہے ، بیدار ہو سکے ) ۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جھوٹ بولتا ہوں اور منافقت کرتا ہوں اور جتنے بھی امور ہیں ، میں اُن سب کا ارتکاب کرتا ہوں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : تم نے اپنے آپ کو رسوائی کا شکار کیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابن خطاب رک جاؤ ! دنیا کی رسوائی ، آخرت کی رسوائی سے آسان ہے ، پھر آپ نے دعا کی : ’’ اے اللہ ! تو اس کو سچائی اور ایمان نصیب کر دے اور اس کے معاملے کو بھلائی کی طرف تبدیل کر دے ۔‘‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے ساتھ کچھ بات چیت کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ عمر میرے ساتھ ہے ، اور میں اس کے ساتھ ہوں اور میرے بعد حق ، عمر کے ساتھ ہو گا ، یہ جہاں بھی ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں : ’’ ایک شخص کھڑا ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک بزدل شخص ہوں ، جو زیادہ تر سویا رہتا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے لئے دعا کی ، حضرت فضل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بعد میں ، میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ ہم سب سے زیادہ بہادر تھا اور ہم سب سے کم سوتا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے ، آپ نے خواتین سے بھی اسی کی مانند بات ارشاد فرمائی ، جو آپ نے مردوں سے فرمائی تھی اور پھر آپ نے فرمایا : جس پر کوئی چیز غالب ہو ، وہ ہم سے کہے ، ہم اس کے لئے دعا کریں گے ، راوی کہتے ہیں : تو ایک خاتون نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کے لئے دعا کی ، راوی بیان کرتے ہیں : حالانکہ اس عورت نے چند مرتبہ مجھ سے یہ کہا : اے عائشہ ! تم نماز اچھے طریقے سے ادا کیا کرو ۔ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی عطاء بن مسلم ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14253

Majma al-Zawaid #14253

وَعَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ «فِي قَوْلِهِ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ - وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا - فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ - إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا} [النصر: 1 - 3] قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" يَا جِبْرِيلُ، نَفْسِي قَدْ نُعِيَتْ "". قَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: الْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولَى وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى. فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا أَنْ يُنَادِيَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً، فَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ خَطَبَ خُطْبَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، وَبَكَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، ثُمَّ قَالَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّ نَبِيٍّ كُنْتُ لَكَمْ؟ "". قَالُوا: جَزَاكَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ خَيْرًا ; كُنْتَ لَنَا كَالْأَبِ الرَّحِيمِ، وَكَالْأَخِ النَّاصِحِ الشَّفِيقِ، أَدَّيْتَ رِسَالَاتِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَبْلَغْتَنَا وَحْيَهُ، وَدَعَوْتَ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، فَجَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا أَفْضَلَ مَا جَازَى نَبِيًّا عَنْ أُمَّتِهِ. فَقَالَ لَهُمْ: "" مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ، أُنَاشِدُكُمْ بِاللَّهِ وَبِحَقِّي عَلَيْكُمْ، مَنْ كَانَتْ لَهُ قِبَلِي مَظْلِمَةٌ فَلْيَقُمْ فَلْيَقْتَصَّ مِنِّي "" فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ، فَنَاشَدَهُمُ الثَّانِيَةَ فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ، فَنَاشَدَهُمُ الثَّالِثَةَ "" مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَبِحَقِّي عَلَيْكُمْ، مَنْ كَانَتْ لَهُ قِبَلِي مَظْلِمَةٌ فَلْيَقُمْ فَلْيَقْتَصَّ مِنِّي قَبْلَ الْقِصَاصِ فِي الْقِيَامَةِ "". فَقَامَ مِنْ بَيْنِ الْمُسْلِمِينَ شَيْخٌ كَبِيرٌ يُقَالُ لَهُ: عُكَّاشَةُ، فَتَخَطَّى الْمُسْلِمِينَ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي لَوْلَا أَنَّكَ نَشَدْتَنَا بِاللَّهِ مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَى مَا كُنْتُ بِالَّذِي أَتَقَدَّمُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ هَذَا، كُنْتُ مَعَكَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْنَا وَنَصَرَ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ فِي الِانْصِرَافِ، حَاذَتْ نَاقَتِي نَاقَتَكَ، فَنَزَلْتُ عَنِ النَّاقَةِ، وَدَنَوْتُ مِنْكَ لِأُقَبِّلَ فَخِذَكَ، فَرَفَعْتَ الْقَضِيبَ فَضَرَبْتَ خَاصِرَتِي، وَلَا أَدْرِي أَكَانَ عَمْدًا مِنْكَ أَمْ أَرَدْتَ ضَرْبَ النَّاقَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أُعِيذُكَ بِجَلَالِ اللَّهِ أَنْ يَتَعَمَّدَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالضَّرْبِ، يَا بِلَالُ انْطَلِقْ إِلَى بَيْتِ فَاطِمَةَ فَائْتِنِي بِالْقَضِيبِ الْمَمْشُوقِ "". فَخَرَجَ بِلَالٌ مِنَ الْمَسْجِدِ وَيَدُهُ عَلَى أُمِّ رَأْسِهِ، وَهُوَ يُنَادِي: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْطِي الْقِصَاصَ مِنْ نَفْسِهِ. فَقَرَعَ الْبَابَ عَلَى فَاطِمَةَ، فَقَالَ: يَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاوِلِينِي الْقَضِيبَ الْمَمْشُوقَ. فَقَالَتْ لَهُ فَاطِمَةُ: يَا بِلَالُ، وَمَا يَصْنَعُ أَبِي بِالْقَضِيبِ، وَلَيْسَ هَذَا يَوْمَ حَجٍّ وَلَا يَوْمَ غَزَاةٍ؟ فَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ، مَا أَغْفَلَكِ عَمَّا فِيهِ أَبُوكِ، رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوَدِّعُ النَّاسَ وَيُفَارِقُ الدُّنْيَا، وَيُعْطِي الْقِصَاصَ مِنْ نَفْسِهِ. فَقَالَتْ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -: يَا بِلَالُ وَمَنْ ذَا الَّذِي تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ يَا بِلَالُ، إِذًا فَقُلْ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ يَقُومَانِ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ يَقْتَصَّ مِنْهُمَا، وَلَا يَدَعَانِهِ يَقْتَصُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَرَجَعَ بِلَالٌ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَدَفَعَ الْقَضِيبَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَضِيبَ إِلَى عُكَّاشَةَ. فَلَمَّا نَظَرَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - إِلَى ذَلِكَ قَامَا، وَقَالَا: يَا عُكَّاشَةُ، هَذَا نَحْنُ بَيْنَ يَدَيْكَ فَاقْتَصَّ مِنَّا، وَلَا تَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" امْضِ يَا أَبَا بَكْرٍ، وَأَنْتَ يَا عُمَرُ فَامْضِ ; فَقَدْ عَرَفَ اللَّهُ مَكَانَكُمَا وَمَقَامَكُمَا "". فَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: يَا عُكَّاشَةُ، أَنَا فِي الْحَيَاةِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا تَطِيبُ نَفْسِي أَنْ تَضْرِبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهَذَا ظَهْرِي وَبَطْنِي فَاقْتَصَّ مِنِّي بِيَدِكَ، وَاجْلِدْنِي مِائَةً، وَلَا تَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عَلِيُّ، اقْعُدْ ; فَقَدْ عَرَفَ اللَّهُ لَكَ مَقَامَكَ وَنِيَّتَكَ "". وَقَامَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَقَالَا: يَا عُكَّاشَةُ، أَلَيْسَ تَعْلَمُ أَنَّا سِبْطَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْقِصَاصُ مِنَّا كَالْقِصَاصِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اقْعُدَا يَا قُرَّةَ عَيْنِي، لَا نَسِيَ اللَّهُ لَكَمَا هَذَا الْمَقَامَ "". ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عُكَّاشَةُ، اضْرِبْ إِنْ كُنْتَ ضَارِبًا "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ضَرَبْتَنِي وَأَنَا حَاسِرٌ عَنْ بَطْنِي. فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَاحَ الْمُسْلِمُونَ بِالْبُكَاءِ، وَقَالُوا: أَتُرَى عُكَّاشَةُ ضَارِبٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَلَمَّا نَظَرَ عُكَّاشَةُ إِلَى بَيَاضِ بَطْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّهُ الْقَبَاطِيُّ لَمْ يَمْلِكْ أَنْ أَكَبَّ عَلَيْهِ، فَقَبَّلَ بَطْنَهُ وَهُوَ يَقُولُ: فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، وَمَنْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَقْتَصَّ مِنْكَ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِمَّا أَنْ تَضْرِبَ، وَإِمَّا أَنْ تَعْفُوَ "". قَالَ: قَدْ عَفَوْتُ عَنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجَاءَ أَنْ يَعْفُوَ اللَّهُ عَنِّي فِي يَوْمِ الْقِيَامَةِ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا الشَّيْخِ "". فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ، فَجَعَلُوا يُقَبِّلُونَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْ عُكَّاشَةَ، وَيَقُولُونَ: طُوبَاكَ! طُوبَاكَ ; نِلْتَ دَرَجَاتِ الْعُلَا، وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَمَرِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ يَوْمِهِ، فَكَانَ مَرَضُهُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا يَعُودُهُ النَّاسُ، وَكَانَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وُلِدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَبُعِثَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَتُوُفِّيَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ. فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحَدِ ثَقُلَ فِي مَرَضِهِ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ، ثُمَّ وَقَفَ بِالْبَابِ فَنَادَى: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ أُقِيمُ الصَّلَاةَ؟. فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْتَ بِلَالٍ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: يَا بِلَالُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْيَوْمَ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ. فَدَخَلَ بِلَالٌ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا أَسْفَرَ الصُّبْحُ قَالَ: وَاللَّهِ لَا أُقِيمُهَا، أَوْ أَسْتَأْذِنُ سَيِّدِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَخَرَجَ بِلَالٌ، فَقَامَ بِالْبَابِ وَنَادَى: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، الصَّلَاةُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ. فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْتَ بِلَالٍ فَقَالَ: "" ادْخُلْ يَا بِلَالُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْيَوْمَ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ، مُرْ أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ "". فَخَرَجَ وَيَدُهُ عَلَى أُمِّ رَأْسِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاغَوْثَاهُ بِاللَّهِ! وَانْقِطَاعَ رَجَاهُ، وَانْقِصَامَ ظَهَرَاهُ، لَيْتَنِي لَمْ تَلِدْنِي أُمِّي، وَإِذْ وَلَدَتْنِي لَمْ أَشْهَدْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذَا الْيَوْمَ. ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِيَ بِالنَّاسِ. فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا، فَلَمَّا رَأَى خُلُوَّ الْمَكَانِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَتَمَالَكْ أَنْ خَرَّ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ، وَصَاحَ الْمُسْلِمُونَ بِالْبُكَاءِ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَجِيجَ النَّاسِ، فَقَالَ: "" مَا هَذِهِ الضَّجَّةُ؟ "". قَالُوا: ضَجِيجُ الْمُسْلِمِينَ ; لِفَقْدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ،. فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَابْنَ عَبَّاسٍ فَاتَّكَأَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ الْمَلِيحِ فَقَالَ: "" يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَسَتُودِعُكُمُ اللَّهَ، أَنْتُمْ فِي رَجَاءِ اللَّهِ وَأَمَانَةِ اللَّهِ، وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَيْكُمْ. مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ، عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ، وَحِفْظِ طَاعَتِهِ مِنْ بَعْدِي ; فَإِنِّي مُفَارِقُ الدُّنْيَا. هَذَا أَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الْآخِرَةِ، وَآخَرُ يَوْمٍ مِنَ أَيَّامِ الدُّنْيَا "". فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ اشْتَدَّ بِهِ الْأَمْرُ، وَأَوْحَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى مَلَكِ الْمَوْتِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنِ اهْبِطْ إِلَى حَبِيبِي وَصَفِيِّي مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، وَارْفُقْ بِهِ فِي قَبْضِ رُوحِهِ. فَهَبَطَ مَلَكُ الْمَوْتِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَقَفَ بِالْبَابِ شِبْهَ أَعْرَابِيٍّ، ثُمَّ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ، وَمَعْدِنَ الرِّسَالَةِ، وَمُخْتَلِفَ الْمَلَائِكَةِ، أَدْخُلُ؟ "". فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِفَاطِمَةَ: أَجِيبِي الرَّجُلَ. فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: آجَرَكَ اللَّهُ فِي مَمْشَاكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ. فَنَادَى الثَّانِيَةَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا فَاطِمَةُ أَجِيبِي الرَّجُلَ. فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: آجَرَكَ اللَّهُ فِي مَمْشَاكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ. ثُمَّ نَادَى الثَّالِثَةَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ، وَمَعْدِنَ الرِّسَالَةِ، وَمُخْتَلَفَ الْمَلَائِكَةِ، أَدْخُلُ؟ فَلَا بُدَّ مِنَ الدُّخُولِ. فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْتَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَقَالَ: "" يَا فَاطِمَةُ مَنْ بِالْبَابِ "". فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ رَجُلًا بِالْبَابِ يَسْتَأْذِنُ فِي الدُّخُولِ، فَأَجَبْنَاهُ مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَى، فَنَادَى فِي الثَّالِثَةِ صَوْتًا اقْشَعَرَّ مِنْهُ جِلْدِي، وَارْتَعَدَتْ مِنْهُ فَرَائِصِي. فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا فَاطِمَةُ أَتَدْرِينَ مَنْ بِالْبَابِ؟ هَذَا هَادِمُ اللَّذَّاتِ، وَمُفَرِّقُ الْجَمَاعَاتِ، هَذَا مُرَمِّلُ الْأَزْوَاجِ، وَمُوتِمُ الْأَوْلَادِ، وَهَذَا مُخَرِّبُ الدُّورِ، وَعَامِرُ الْقُبُورِ، هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ادْخُلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ "". فَدَخَلَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" جِئْتَنِي زَائِرًا أَمْ قَابِضًا؟ "". قَالَ: جِئْتُكَ زَائِرًا وَقَابِضًا، وَأَمَرَنِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَلَّا أَدْخُلَ عَلَيْكَ إِلَّا بِإِذْنِكَ، وَلَا أَقْبِضَ رُوحَكَ إِلَّا بِإِذْنِكَ، فَإِنْ أَذِنْتَ، وَإِلَّا رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ -. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا مَلَكَ الْمَوْتِ، أَيْنَ خَلَّفْتَ حَبِيبِي جِبْرِيلَ؟ "". قَالَ: خَلَّفْتُهُ فِي سَمَاءِ الدُّنْيَا، وَالْمَلَائِكَةُ يُعَزُّونَهُ فِيكَ. فَمَا كَانَ بِأَسْرَعَ أَنْ أَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَذَا الرَّحِيلُ مِنَ الدُّنْيَا فَبَشِّرْنِي مَا لِي عِنْدَ اللَّهِ؟ "". قَالَ: أُبَشِّرُكَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ أَنِّي تَرَكْتُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ قَدْ فُتِحَتْ، وَالْمَلَائِكَةُ قَدْ قَامُوا صُفُوفًا صُفُوفًا بِالتَّحِيَّةِ، وَالرَّيْحَانِ يُحَيُّونَ رُوحَكَ يَا مُحَمَّدُ. قَالَ: "" لِوَجْهِ رَبِّي الْحَمْدُ، فَبَشِّرْنِي يَا جِبْرِيلُ "". قَالَ: أُبَشِّرُكَ أَنَّ أَبْوَابَ الْجِنَانِ قَدْ فُتِحَتْ، وَأَنْهَارُهَا قَدِ اطَّرَدَتْ، وَأَشْجَارُهَا قَدْ تَدَلَّتْ، وَحُورُهَا قَدْ تَزَيَّنَتْ ; لِقُدُومِ رُوحِكَ يَا مُحَمَّدُ. قَالَ: "" لِوَجْهِ رَبِّي الْحَمْدُ، فَبَشِّرْنِي يَا جِبْرِيلُ "". قَالَ: أَنْتَ أَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. قَالَ: لِوَجْهِ رَبِّي الْحَمْدُ "". قَالَ جِبْرِيلُ: يَا حَبِيبِي عَمَّ تَسْأَلُنِي؟ قَالَ: "" أَسْأَلُكَ عَنْ غَمِّي وَهَمِّي، مَنْ لِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ مِنْ بَعْدِي؟ مَنْ لِصُوَّامِ شَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ بَعْدِي؟ مَنْ لِحُجَّاجِ بَيْتِ اللَّهِ الْحَرَامِ مِنْ بَعْدِي؟ مَنْ لِأُمَّتِي الْمُصْطَفَاةِ مِنْ بَعْدِي؟ "". قَالَ: أَبْشِرْ يَا حَبِيبَ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: قَدْ حُرِّمَتِ الْجَنَّةُ عَلَى جَمِيعِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْأُمَمِ حَتَّى تَدْخُلَهَا أَنْتَ وَأُمَّتُكَ يَا مُحَمَّدُ. قَالَ: "" الْآنَ طَابَتْ نَفْسِي، ادْنُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ، فَانْتَهِ إِلَى مَا أُمِرْتَ بِهِ "". قَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا أَنْتَ قُبِضْتَ فَمَنْ يُغَسِّلُكَ؟ وَفِيمَ نُكَفِّنُكَ؟ وَمَنْ يُصَلِّي عَلَيْكَ؟ وَمَنْ يُدْخِلُكَ الْقَبْرَ؟ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عَلِيُّ، أَمَّا الْغُسْلُ فَاغْسِلْنِي أَنْتَ، وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَصُبُّ عَلَيْكَ الْمَاءَ، وَجِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - ثَالِثُكُمَا، فَإِذَا أَنْتُمْ فَرَغْتُمْ مِنْ غُسْلِي فَكَفِّنِي فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ جُدُدٍ، وَجِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَأْتِينِي بِحَنُوطٍ مِنَ الْجَنَّةِ، فَإِذَا أَنْتُمْ وَضَعْتُمُونِي عَلَى السَّرِيرِ فَضَعُونِي فِي الْمَسْجِدِ وَاخْرُجُوا، فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُصَلِّي عَلَيَّ الرَّبُّ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ، ثُمَّ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - ثُمَّ مِيكَائِيلُ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - ثُمَّ الْمَلَائِكَةُ زُمَرًا زُمَرًا، ثُمَّ ادْخُلُوا فَقُومُوا صُفُوفًا لَا يَتَقَدَّمُ عَلَيَّ أَحَدٌ "". فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: الْيَوْمَ الْفِرَاقُ، فَمَتَى أَلْقَاكَ؟ قَالَ: "" يَا بُنَيَّةُ، تَلْقَيْنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ الْحَوْضِ، وَأَنَا أَسْقِي مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ مِنْ أُمَّتِي "". قَالَتْ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" تَلْقَيْنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ وَأَنَا أَشْفَعُ لِأُمَّتِي "" قَالَتْ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" تَلْقَيْنِي عِنْدَ الصِّرَاطِ وَأَنَا أُنَادِي: رَبِّ سَلِّمْ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ "". فَدَنَا مَلَكُ الْمَوْتِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَالِجُ قَبْضَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا بَلَغَ الرُّوحُ الرُّكْبَتَيْنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَوْهِ "". فَلَمَّا بَلَغَ الرُّوحُ السُّرَّةَ نَادَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَاكَرْبَاهُ "". فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: كَرْبِي لِكَرْبِكَ يَا أَبَتَاهُ. فَلَمَّا بَلَغَ الرُّوحُ الثَّنْدُؤَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا جِبْرِيلُ، مَا أَشَدَّ مَرَارَةَ الْمَوْتِ "". فَوَلَّى جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَجْهَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا جِبْرِيلُ، كَرِهْتَ النَّظَرَ إِلَيَّ؟ "". فَقَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: يَا حَبِيبِي، وَمَنْ تُطِيقُ نَفْسُهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْكَ وَأَنْتَ تُعَالِجُ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ؟ فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَغَسَّلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنُ عَبَّاسٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ، وَجِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مَعَهُمَا، فَكُفِّنَ بِثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ جُدُدٍ، وَحُمِلَ عَلَى سَرِيرٍ، ثُمَّ أَدْخَلُوهُ الْمَسْجِدَ وَوَضَعُوهُ فِي الْمَسْجِدِ، وَخَرَجَ النَّاسُ مِنْهُ. فَأَوَّلُ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ الرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ، ثُمَّ جِبْرِيلُ، ثُمَّ مِيكَائِيلُ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ، ثُمَّ الْمَلَائِكَةُ زُمَرًا زُمَرًا. قَالَ عَلِيٌّ: لَقَدْ سَمِعْنَا فِي الْمَسْجِدِ هَمْهَمَةً وَلَمْ نَرَ لَهُمْ شَخْصًا ; فَسَمِعْنَا هَاتِفًا يَهْتِفُ وَيَقُولُ: ادْخُلُوا رَحِمَكُمُ اللَّهُ، فَصَلُّوا عَلَى نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْنَا، وَقُمْنَا صُفُوفًا صُفُوفًا كَمَا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَبَّرْنَا بِتَكْبِيرِ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَصَلَّيْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَلَاةِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، مَا تَقَدَّمَ مِنَّا أَحَدٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَخَلَ الْقَبْرَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَدُفِنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّاسُ قَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: يَا أَبَا الْحَسَنِ: دَفَنْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَيْفَ طَابَتْ أَنْفُسُكُمُ أَنْ تَحْثُوا التُّرَابَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ أَمَا كَانَ فِي صُدُورِكُمْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّحْمَةُ؟ أَمَا كَانَ مُعَلِّمَ الْخَيْرِ؟ قَالَ: بَلَى يَا فَاطِمَةُ، وَلَكِنْ أَمْرُ اللَّهِ الَّذِي لَا مَرَدَّ لَهُ. فَجَعَلَتْ تَبْكِي وَتَنْدُبُ، وَتَقُولُ: يَا أَبَتَاهُ، الْآنَ انْقَطَعَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَكَانَ جِبْرِيلُ يَأْتِينَا بِالْوَحْيِ مِنَ السَّمَاءِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَهُوَ كَذَّابٌ وَضَّاعٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir and Ibn Abbas رضي الله عنهم report concerning His word When the help of Allah and the victory comes until its end that when it was revealed to Muhammad ﷺ he said his soul had been announced, and Jibril said the Hereafter is better for him than the first and his Lord would soon give him so he would be pleased. The Messenger of Allah ﷺ then commanded Bilal رضي الله عنه to call for congregational prayer, so the Emigrants and Helpers gathered at the mosque of the Messenger of Allah ﷺ, he prayed with the people, ascended the pulpit, praised Allah Almighty and extolled Him, then delivered a sermon at which hearts trembled and eyes wept, then asked what manner of prophet he had been to them. They answered with profuse gratitude that he had been to them as a merciful father and as a sincere compassionate brother, fulfilling the messages of Allah Almighty, conveying His revelation, and calling to the path of his Lord with wisdom and fair admonition, invoking for him the best reward granted a prophet on behalf of his nation. He then adjured them by Allah and by his right over them that whoever held a wrong from him should rise and requite from him, and none rose, then a second and a third adjuration that whoever held a wrong should rise and requite before the requital of the Resurrection. Then an aged shaykh called Ukkashah rose from among the Muslims, stepped through them until he stood before the Messenger of Allah ﷺ, excusing himself that only repeated adjuration had moved him forward, recalling an expedition after Allah had granted victory when his she-camel came alongside his, and he dismounted to kiss his thigh, whereupon he raised the stick and struck his flank, unsure whether intentional or aimed at the camel. The Messenger of Allah ﷺ declared he would never intentionally strike him and told Bilal to go to the house of Fatimah رضي الله عنها and bring the trimmed stick. Bilal left the mosque with his hand upon his head calling out that the Messenger of Allah ﷺ was offering requital from himself, knocked at Fatimah's door asking for the trimmed stick, and when she asked what her father would do with a stick on neither a pilgrimage nor a battle day, he told her he was bidding people farewell, departing the world and offering requital from himself. Fatimah said who could bear to requite the Messenger of Allah ﷺ and bade Bilal tell al-Hasan and al-Husayn to stand to be requited in his stead rather than let him be requited from the Messenger of Allah ﷺ. Bilal returned to the mosque, handed the stick to the Prophet ﷺ, and the Messenger of Allah ﷺ handed it to Ukkashah. When Abu Bakr and Umar رضي الله عنهما saw that they rose offering themselves before him for requital rather than the Messenger of Allah ﷺ, but the Messenger of Allah ﷺ told them to proceed, for Allah knew their place and station. Ali ibn Abi Talib رضي الله عنه then rose offering himself alive before the Messenger of Allah ﷺ, his back and belly for requital by his hand with a hundred lashes rather than the Messenger of Allah ﷺ, but the Prophet ﷺ told him to sit, for Allah knew his station and intention. Al-Hasan and al-Husayn رضي الله عنهما then rose saying he knew they were the grandsons of the Messenger of Allah ﷺ and requital from them was as requital from the Messenger of Allah ﷺ, but the Prophet ﷺ told them to sit, O coolness of his eyes, invoking Allah not to forget this station of theirs. The Prophet ﷺ then told Ukkashah to strike if he would strike, and he replied that he had struck him while his belly was bare, so he ﷺ uncovered his belly while the Muslims cried aloud asking whether Ukkashah would strike the Messenger of Allah ﷺ. When Ukkashah saw the whiteness of the belly of the Messenger of Allah ﷺ as though fine linen, he could not refrain from falling upon him, kissing his belly and declaring his ransom and asking who could bear to requite him. The Prophet ﷺ said either to strike or to pardon, and he pardoned him hoping Allah would pardon him on the Day of Resurrection. The Prophet ﷺ then said whoever was pleased to look at his companion in Paradise should look at this shaykh, whereupon the Muslims rose kissing between the eyes of Ukkashah and congratulating him upon attaining high degrees and companionship of the Prophet ﷺ. The Prophet ﷺ fell ill that very day for eighteen days with people visiting him, he having been born on Monday, commissioned on Monday and passing on Monday. On Sunday his illness grew heavy, Bilal called the adhan then stood at the door asking peace upon him and whether to establish prayer, and Fatimah told him the Messenger of Allah ﷺ was occupied with himself. Bilal entered the mosque, and when dawn brightened he swore he would not establish it until he sought permission of his master the Messenger of Allah ﷺ, so he returned to the door calling for prayer with mercy invoked, and upon hearing Bilal the Messenger of Allah ﷺ told him to enter, for he was occupied with himself, and to command Abu Bakr to pray with the people. Bilal went out with his hand upon his head lamenting loss of help, severed hope and broken back, wishing his mother had never borne him or he had never witnessed this day from the Messenger of Allah ﷺ, then told Abu Bakr that the Messenger of Allah ﷺ commanded him to lead the people. Abu Bakr advanced, being tender hearted, and when he saw the place of the Prophet ﷺ empty he could not control himself and fell unconscious, the Muslims cried aloud, and when the Messenger of Allah ﷺ heard their clamour and was told it was weeping at his absence, he summoned Ali ibn Abi Talib and al-Abbas, leaned upon them to the mosque, prayed brief units, then turned with a kindly face entrusting them to Allah, assured of His grace and protection, with Allah their guardian after him, enjoining Godfearing and obedience after him, for he was parting the world on the first day of the Hereafter and the last day of this world. On Monday the matter intensified, and Allah Almighty revealed to the Angel of Death to descend to His beloved and chosen Muhammad ﷺ in the fairest form and to be gentle in seizing his soul. The Angel of Death descended, stood at the door in the likeness of a bedouin, greeting the household of prophethood, the source of the message and the resort of angels, asking entry. Aishah told Fatimah to answer the man, and Fatimah twice answered that Allah would reward his walking but the Messenger of Allah was occupied with himself. At the third call declaring entry inevitable, the Messenger of Allah ﷺ heard the voice of the Angel of Death and asked Fatimah who was at the door, and she described a man seeking entry repeatedly, at whose third call her skin had shuddered and her limbs trembled. The Prophet ﷺ told her this was the demolisher of pleasures, the splitter of gatherings, the widower of wives, the orphaner of children, the ruiner of houses and the builder of graves, the Angel of Death, and bade him enter with mercy. The Angel of Death entered upon the Messenger of Allah ﷺ, who asked whether he had come visiting or seizing, and he answered both, commanded by Allah Almighty neither to enter upon him nor to seize his soul except by his permission, returning otherwise to his Lord. The Messenger of Allah ﷺ asked where he had left his beloved Jibril, and he said in the lowest heaven with the angels consoling him for him. Jibril soon came and sat at his head, and the Messenger of Allah ﷺ said this was departure from the world and asked for glad tidings of what was for him with Allah. Jibril gave tidings that the doors of heaven stood opened with angels arrayed in rows with greeting and sweet basil saluting his soul, then that the doors of the Gardens stood opened with rivers flowing, trees lowered and houris adorned for the coming of his soul, then that he would be the first intercessor and first granted intercession on the Day of Resurrection, at each of which he praised the Countenance of his Lord and asked for more. Jibril asked what his care was, and he asked about his grief over the reciters of the Quran after him, the fasters of Ramadan, the pilgrims of the Sacred House, and his chosen nation. Jibril bade him rejoice, for Allah Almighty had forbidden Paradise to all prophets and nations until he and his nation entered it, whereupon his soul was content and he told the Angel of Death to proceed as commanded. Ali asked, when he was taken, who would wash him, in what they would shroud him, who would pray over him and who would lower him into the grave, and the Prophet ﷺ said as for washing Ali should wash him with al-Fadl ibn Abbas pouring water over him and Jibril as their third, then shroud him in three new garments with Jibril bringing embalming from Paradise, then place him upon the bier in the mosque and go out, for the first to pray over him would be the Lord Almighty from above His Throne, then Jibril, then Mikail, then Israfil, then the angels in companies, then they should enter and stand in rows with none preceding over him. Fatimah lamented the parting and asked when she would meet him, and he said she would meet him on the Day of Resurrection at the Hawd while he gave drink to whoever came to it of his nation, and if not there then at the Balance while he interceded for his nation, and if not there then at the Sirat while he called upon his Lord to save his nation from the Fire. The Angel of Death then set to seizing the soul of the Messenger of Allah ﷺ, and when it reached the knees he cried in pain, when it reached the navel he cried in anguish with Fatimah echoing his distress, and when it reached the throat he addressed Jibril upon the severity of the bitterness of death. Jibril turned his face from the Messenger of Allah ﷺ, and when asked whether he disliked looking at him, Jibril answered that no soul could bear to look at him while he endured the agonies of death. The Messenger of Allah ﷺ was then taken, Ali ibn Abi Talib washed him with Ibn Abbas pouring water and Jibril with them, he was shrouded in three new garments, carried upon a bier, brought into the mosque, placed there and the people went out. The first to pray over him was the Lord Blessed and Exalted from above His Throne, then Jibril, then Mikail, then Israfil, then the angels in companies. Ali said they heard a murmur in the mosque without seeing a person, then heard a caller bid them enter with mercy and pray over their Prophet ﷺ, so they entered and stood row upon row as the Messenger of Allah ﷺ had commanded, magnifying with the magnification of Jibril and praying over the Messenger of Allah ﷺ with the prayer of Jibril, with none preceding over the Messenger of Allah ﷺ. Abu Bakr al-Siddiq, Ali ibn Abi Talib and Ibn Abbas entered the grave, and the Messenger of Allah ﷺ was buried. When the people left, Fatimah asked Ali whether they had buried the Messenger of Allah ﷺ, and upon his assent she asked how their souls had borne scattering dust over the Messenger of Allah ﷺ, whether no mercy for him remained in their breasts when he had been the teacher of good. He affirmed yet said it was the command of Allah which none repels, and she wept and lamented for her father that now Jibril was cut off who used to bring them revelation from heaven. > **"O Jibril, my soul has been announced. The Hereafter is better for you than the first, and your Lord shall soon give you so you shall be pleased. O you people, what manner of prophet was I to you? O company of Muslims, I adjure you by Allah and by my right over you: whoever holds a wrong from me, let him rise and requite from me. O company of Muslims, I adjure you by Allah and by my right over you: whoever holds a wrong from me, let him rise and requite from me before the requital on the Day of Resurrection. I seek you refuge by the majesty of Allah lest the Messenger of Allah intentionally strike you. O Bilal, go to the house of Fatimah and bring me the trimmed stick. O daughter of the Messenger of Allah, hand me the trimmed stick. O Fatimah, how heedless you are of what your father is in: the Messenger of Allah bids people farewell, departs the world and offers requital from himself. O Bilal, then tell al-Hasan and al-Husayn to stand to this man to be requited from them, and not let him requite from the Messenger of Allah. O Ukkashah, here we are before you, so requite from us and do not requite from the Messenger of Allah. Proceed, O Abu Bakr, and you, O Umar, proceed, for Allah has known your place and your station. O Ukkashah, I am alive before the Messenger of Allah, and my soul cannot bear that you strike the Messenger of Allah, so here is my back and my belly, requite from me by your hand, flog me a hundred, and do not requite from the Messenger of Allah. O Ali, sit, for Allah has known your station and your intention. O Ukkashah, do you not know that we are the grandsons of the Messenger of Allah, and requital from us is as requital from the Messenger of Allah? Sit, O coolness of my eyes, may Allah not forget this station of yours. O Ukkashah, strike if you are striking. Either strike or pardon. Whoever is pleased to look at my companion in Paradise, let him look at this shaykh. Peace be upon you, O Messenger of Allah, and mercy of Allah, shall I establish prayer? Enter, O Bilal, the Messenger of Allah today is occupied with himself. Command Abu Bakr to pray with the people. O Abu Bakr, the Messenger of Allah commands you to pray with the people. O company of Muslims, I entrust you to Allah. You are in the grace of Allah and His protection. Allah is your guardian after me. O company of Muslims, upon you is Godfearing and guarding obedience after me, for I part the world. This is the first day of the Hereafter and the last day of this world. Peace be upon you, O household of prophethood, and source of the message, and resort of the angels, may I enter? May Allah reward your walking, O servant of Allah, the Messenger of Allah is occupied with himself. O Fatimah, who is at the door? O Fatimah, do you know who is at the door? This is the demolisher of pleasures, the splitter of gatherings, this is the widower of wives, the orphaner of children, this is the ruiner of houses and the builder of graves, this is the Angel of Death. Enter, with mercy of Allah upon you, O Angel of Death. Have you come to me visiting or seizing? Where have you left my beloved Jibril? This is departure from the world, so give me glad tidings of what is for me with Allah. To the Countenance of my Lord be praise, so give me glad tidings, O Jibril. Now my soul is content. Come, O Angel of Death, and proceed to what you were commanded. O Ali, as for washing, wash me yourself, with al-Fadl ibn Abbas pouring water over you, and Jibril as your third. When you finish washing me, shroud me in three new garments, and Jibril shall bring me embalming from Paradise. When you place me upon the bier, place me in the mosque and go out, for the first to pray over me shall be the Lord Almighty from above His Throne, then Jibril, then Mikail, then Israfil, then the angels in companies. Then enter and stand in rows, with none preceding over me. My daughter, you shall meet me on the Day of Resurrection at the Hawd, while I give drink to whoever comes to me at the Hawd of my nation. You shall meet me at the Balance, while I intercede for my nation. You shall meet me at the Sirat, while I call: Lord, save my nation from the Fire. O Jibril, how severe is the bitterness of death. O Jibril, did you dislike looking at me? Enter, with mercy of Allah upon you, and pray over your Prophet."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آ گئی اور تم نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اللہ کے دین میں گروہ در گروہ داخل ہو رہے ہیں ، تو تم اپنے پروردگار کی حمد کے ہمراہ پاکی بیان کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو ، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : جب یہ سورت حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا : اے جبرائیل ! یہ میرے وصال کی اطلاع دی گئی ہے ، حضرت جبرائیل نے کہا : ’’ آخرت آپ کے لئے پہلی والی سے زیادہ بہتر ہے ، اور عنقریب آپ کا پروردگار آپ کو اتنا عطا کرے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اعلان کریں کہ لوگ اکٹھے ہو جائیں ، تو مہاجرین اور انصار نبی اکرم ﷺ کی مسجد میں اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر آپ منبر پر چڑھے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے بعد ، آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا ، جس سے دل لرز گئے اور آنکھیں رونے لگیں ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! میں تمہارے لئے کیسا نبی رہا ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو نبی کے طور پر جزائے خیر دے کہ جو نبی آپ ہمارے لئے رہے ہیں ، یوں جیسے ایک مہربان باپ ہوتا ہے ، اور جیسے ایک شفیق خیرخواہ بھائی ہوتا ہے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو ادا کر دیا ، اور اس کی وحی کی ہم تک تبلیغ کر دی ، اور حکمت کے ذریعے اور اچھے وعظ کے ذریعے اپنے پروردگار کے راستے کی طرف دعوت دیدی ، تو اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے آپ کو وہ سب سے بہتر جزا عطا کرے ، جو اس نے کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے عطا کی ہو ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے فرمایا : اے مسلمانوں کے گروہ ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں اور میرا تم پر جو حق ہے ، اس کے حوالے سے یہ کہتا ہوں کہ جس شخص کے ساتھ میری طرف سے کوئی زیادتی ہوئی ہو ، تو وہ اُٹھے اور وہ بدلہ لے ، لیکن کوئی آپ کے سامنے کھڑا نہیں ہوا ، نبی اکرم ﷺ نے دوسری مرتبہ انہیں واسطہ دیا ، تو کوئی آپ کے سامنے نہیں کھڑا ہوا ، نبی اکرم ﷺ نے تیسری مرتبہ انہیں واسطہ دیتے ہوئے فرمایا : اے مسلمانوں کے گروہ ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر اور تم پر اپنے حق کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ جس شخص کے ساتھ میری طرف سے کوئی زیادتی ہوئی ہو ، تو وہ اُٹھے اور وہ مجھ سے بدلہ لے ، اس سے پہلے کہ قیامت کے دن بدلہ دینا پڑے ، راوی کہتے ہیں : تو مسلمانوں کے درمیان ایک بوڑھا عمر رسیدہ شخص کھڑا ہوا ، جس کا نام عکاشہ تھا ، وہ مسلمانوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے آ کر ٹھہر گیا ، اس نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ، اگر آپ نے ایک سے زیادہ مرتبہ ہمیں اللہ کا واسطہ نہ دیا ہوتا ، تو میں نے اس حوالے سے آگے نہیں آنا تھا ، میں آپ کے ساتھ ایک جنگ میں موجود تھا ، جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح نصیب کر دی اور اپنے نبی کی مدد کر دی ، اور جب ہم لوگ واپس آ رہے تھے تو میری اونٹنی آپ کی اونٹنی کے پاس آئی ، میں اپنی اونٹنی سے نیچے اترا اور آگے بڑھا ، تاکہ آپ کے زانوں کو بوسہ دوں ، تو آپ نے چھڑی اٹھائی اور وہ میرے پہلو پر مار دی ، مجھے نہیں معلوم کہ یہ آپ کی طرف سے جان بوجھ کر ہوا تھا ، یا آپ نے اونٹنی کو مارنے کا ارادہ کیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اللہ کے جلال کی تمہیں پناہ دیتا ہوں ، اس بات کے حوالے سے کہ اللہ کے رسول نے تمہیں جان بوجھ کر مارا ہو ، اے بلال ! تم فاطمہ کے گھر جاؤ ، اور وہاں سے وہ چھڑی لے آؤ ، جس کے پتے وغیرہ اتارے گئے ہوں ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ مسجد سے گزرے ، ان کا ہاتھ ان کے سر پر تھا اور وہ بلند آواز میں یہ کہہ رہے تھے : یہ اللہ کے رسول اپنی طرف سے قصاص دے رہے ہیں ، انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول کی صاحبزادی ! آپ وہ چھڑی مجھے پکڑا دیں ، جس کے پتے وغیرہ اتارے گئے ہیں ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا : اے بلال ! میرے والد نے چھڑی کا کیا کرنا ہے ؟ جبکہ یہ کوئی حج کا موقع بھی نہیں ہے ، اور جنگ کا موقع بھی نہیں ہے ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : اے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ! آپ کے والد جس صورت حال کا شکار ہیں ، آپ کو اس کا پتہ نہیں ہے ، نبی اکرم ﷺ لوگوں سے رخصت ہو رہے ہیں ، اور دنیا سے جدا ہونے والے ہیں ، تو وہ اپنی ذات کی طرف سے بدلہ دے رہے ہیں ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے بلال ! وہ کون شخص ہے ؟ جو اللہ کے رسول سے بدلہ لے کر خود کو خوش کرنا چاہتا ہے ، اے بلال ! ایسی صورت میں تم حسن اور حسین سے کہو کہ وہ اس شخص کے سامنے کھڑے ہو جائیں ، اور اس کو بدلہ دیں اور اسے نبی اکرم ﷺ سے بدلہ نہ لینے دیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ مسجد میں واپس آئے ، انہوں نے وہ چھڑی نبی اکرم ﷺ کو پکڑائی ، نبی اکرم ﷺ نے وہ چھڑی حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کو دی ، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال دیکھی ، تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے ، ان دونوں نے کہا : اے عکاشہ ! ہم تمہارے سامنے موجود ہیں ، تم ہم سے بدلہ لے لو ، لیکن تم اللہ کے رسول سے بدلہ نہ لو ، نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا : اے ابوبکر ! تم بیٹھ جاؤ ، اے عمر ! تم بھی بیٹھ جاؤ ، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے مکان اور تم دونوں کے مقام سے واقف ہے ، پھر حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے کہا : اے عکاشہ ! میں نبی اکرم ﷺ کے سامنے زندہ ہوں ، میں اس بات سے مطمئن نہیں ہوؤں گا کہ تم اللہ کے رسول کو ضرب لگاؤ ، یہ میری پشت اور میرا پیٹ حاضر ہے ، تم مجھ سے بدلہ لے لو ، مجھے بھلے ہی ایک سو کوڑے مار دو ، لیکن اللہ کے رسول سے بدلہ نہ لو ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی ! تم بیٹھ جاؤ ، اللہ تعالیٰ تمہارے مقام اور تمہاری نیت سے واقف ہے ، پھر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، ان دونوں نے کہا : اے عکاشہ ! کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ ہم اللہ کے رسول کے نواسے ہیں ، اور ہم سے بدلہ لینا ، اللہ کے رسول سے بدلہ لینے کی مانند ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا : تم دونوں بیٹھ جاؤ ، تم دونوں میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو ، اللہ تعالیٰ تمہارے اس کھڑے ہونے کو نہیں بھولے گا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عکاشہ ! تم ضرب لگاؤ ، اگر تم نے ضرب لگانی ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب آپ نے مجھے ضرب لگائی تھی ، تو میرے پیٹ پر کپڑا موجود نہیں تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا ، مسلمان چیخ کر رونے لگے ، لوگوں نے کہا : کیا عکاشہ ، اللہ کے رسول پر ضرب لگائے گا ؟ جب حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے پیٹ کی سفیدی دیکھی ، جو چاندی کی طرح چمک رہی تھی ، تو وہ جھک گئے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پیٹ پر بوسہ دیا اور وہ یہ کہنے لگے : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کون اس بات سے خوش ہو سکتا ہے کہ وہ آپ سے بدلہ لے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : یا تو تم ضرب لگاؤ ، یا پھر تم معاف کر دو ، تو انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! میں آپ سے درگزر کرتا ہوں ، اس امید پر کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجھ سے درگزر کرے گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص جنت میں میرے رفیق کو دیکھنا چاہتا ہو وہ اس بوڑھے کو دیکھ لے ۔‘‘ تو مسلمان کھڑے ہو گئے اور وہ حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دینے لگے اور یہ کہنے لگے : آپ کے لئے مبارک باد ہے ، آپ کے لئے مبارک باد ہے کہ آپ بلند درجات تک پہنچ گئے ہیں اور نبی اکرم ﷺ کا ساتھ نصیب ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اسی دن نبی اکرم ﷺ بیمار ہو گئے ، آپ کی بیماری اٹھارہ دن تک جاری رہی ، اسی دوران لوگ آپ کی عیادت کرنے کے لئے آتے رہے ، نبی اکرم ﷺ پیر کے دن پیدا ہوئے تھے ، پیر کے دن مبعوث ہوئے تھے اور پیر کے دن آپ کا وصال بھی ہوا ( اس سے پہلے ) جب ہفتے کا دن آیا ، تو آپ کی بیماری میں اضافہ ہو گیا ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی ، پھر وہ دروازے پر آ کر ٹھہرے اور بلند آواز میں پکار کر کہا : یا رسول اللہ ! آپ پر سلام ہو ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں ، میں نماز کے لئے اقامت کہہ دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آواز سنی ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے بلال ! نبی اکرم ﷺ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ مسجد میں چلے گئے ، جب صبح روشن ہونے لگی ، تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک اقامت نہیں کہوں گا ، جب تک میں اللہ کے رسول سے اجازت نہیں لیتا ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نکلے ، وہ دروازے کے پاس آ کے کھڑے ہوئے ، انہوں نے بلند آواز میں پکار کے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ پر سلامتی نازل ہو ، اور اللہ تعالیٰ کی برکتیں اور اس کی رحمتیں نازل ہوں ، نماز کا وقت ہو گیا ہے ، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آواز سنی اور فرمایا : اے بلال ! اندر آ جاؤ ، آج اللہ کے رسول کی طبعیت بہت خراب ہے ، تم ابوبکر سے یہ کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو انہوں نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا ہوا تھا اور وہ یہ کہہ رہے تھے : اللہ کی مدد ہی لی جا سکتی ہے ، اور امید منقطع ہو چکی ہے ، اور پشت ٹوٹ چکی ہے ، اے کاش ! میری ماں نے مجھے پیدا ہی نہ کیا ہوتا ، اور اگر پیدا کیا تھا ، تو آج مجھے اللہ کے رسول کی طرف سے یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا ۔ پھر انہوں نے کہا : اے حضرت ابوبکر ! اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کی ، وہ ایک نرم دل شخص تھے ، جب انہوں نے یہ دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ کی جگہ خالی ہے ، تو وہ خود پر قابو نہیں پا سکے اور وہ بے ہوش ہو کر گر گئے ، مسلمان چیخ کر رونے لگے ، نبی اکرم ﷺ کو ان کی گونج سنائی دی ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ گونج کس وجہ سے ہے ؟ لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ کی غیر موجودگی کی وجہ سے ، مسلمانوں کے رونے کی وجہ سے ( یہ گونج ) ہے ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو بلایا ، ان دونوں کے ساتھ ٹیک لگائی اور مسجد تشریف لے گئے ، آپ نے لوگوں کو مختصر رکعات پڑھائیں ، پھر آپ مہربان چہرے کے ساتھ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : ’’ اے مسلمانوں کے گروہ ! میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں ، تم لوگ اللہ کے فضل اور اس کی امان میں ہو ، میرے بعد اللہ تعالیٰ تم لوگوں کا نگران ہے ، اے مسلمانوں کے گروہ ! تم پر یہ لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ، اور میرے بعد اس کی اطاعت باقاعدگی سے کرو ، کیونکہ میں دنیا سے جدا ہونے لگا ہوں ، یہ آخرت کے دنوں میں سے پہلا دن ہے ، اور دنیا کے دنوں میں سے آخری دن ہے ۔ راوی کہتے ہیں : جب پیر کا دن آیا ، تو آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ، اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کی طرف یہ وحی کی کہ تم میرے حبیب کی طرف اتر کے جاؤ ، جو میرے منتخب بندے حضرت محمد ﷺ ہیں ، تم خوبصورت ترین شکل میں ان کے پاس جانا اور سب سے زیادہ نرمی سے ان کی روح قبض کرنا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ملک الموت نیچے اترے ، وہ دروازے پر دیہاتی کی شکل میں آ کر کھڑے ہوئے اور پھر یہ بولے : السلام علیکم ، اے نبوت کے گھرانے کے افراد ! رسالت کے معدن والو ! جن کے ہاں فرشتے آتے جاتے رہتے ہیں ، کیا میں اندر آ جاؤں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا : تم اس شخص کو جواب دو ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : تمہارے آنے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ تمہیں اجر نصیب کرے ، اے اللہ کے بندے ! اللہ کے رسول کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ، اس نے دوسری مرتبہ پکارا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے فاطمہ ! تم اس شخص کو جواب دو ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے اللہ کے بندے ! تمہارے آمد کے حوالے سے اللہ تعالیٰ تمہیں اجر نصیب کرے ، اللہ کے رسول کی طبیعت خراب ہے ، پھر تیسری مرتبہ انہوں نے بلند آواز میں پکار کر کہا : اے نبوت کے گھر والو ! رسالت کے معدن والو ! فرشتے جن کے ہاں آتے جاتے رہتے ہیں ، کیا میں اندر آ جاؤں ؟ کیونکہ اندر آنا ضروری ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ملک الموت کی آواز سن لی ، تو آپ نے فرمایا : اے فاطمہ ! دروازے پر کون ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دروازے پر ایک شخص موجود ہے ، جو اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے ، میں اسے ایک کے بعد دوسری مرتبہ جواب دے چکی ہوں اور اس نے تیسری مرتبہ ایسی آواز میں پکارا ہے ، جس کی وجہ سے میری جلد پر کپکپی طاری ہو گئی ہے ، اور میرے اعضاء کانپ رہے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے فاطمہ ! کیا تم جانتی ہو ؟ دروازے پر کون ہے ؟ یہ لذتوں کو منہدم کرنے والا ، ملنے والوں کو جدا کرنے والا ، بیویوں کو بیوہ کرنے والا ، اولاد کو یتیم کرنے والا ، آبادیوں کو برباد کرنے والا اور قبرستانوں کو آباد کرنے والا ہے ، یہ ملک الموت ہے ، اے ملک الموت ! اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، تم اندر آ جاؤ ! راوی بیان کرتے ہیں : تو ملک الموت نبی اکرم ﷺ کے پاس اندر آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ملک الموت ! تم میرے پاس ملنے کے لئے آئے ہو ؟ یا روح قبض کرنے کے لئے آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں آپ کے پاس ملنے کے لئے بھی آیا ہوں ، اور روح قبض کرنے کے لئے بھی آیا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں اجازت لیے بغیر آپ کے پاس اندر نہ آؤں ، اور آپ کی اجازت کے بغیر آپ کی روح قبض نہ کروں ، اگر آپ اجازت دیتے ہیں ، تو ٹھیک ہے ، ورنہ میں اپنے پروردگار کی طرف واپس چلا جاؤں گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ملک الموت ! تم نے میرے دوست جبرائیل کو کہاں چھوڑا ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں نے انہیں آسمان دنیا پر چھوڑا ہے ، اور فرشتے آپ کے بارے میں ان کے ساتھ تعزیت کر رہے ہیں ، پھر فوراً حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گئے اور آپ کے سرہانے بیٹھ گئے ، آپ نے فرمایا : یہ دنیا سے روانگی کا وقت ہے ، تو تم مجھے خوشخبری سناؤ کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں میرے لئے کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے حبیب ! میں آپ کو یہ خوشخبری سناتا ہوں کہ میں نے آسمان کے دروازے ایسی حالت میں چھوڑے ہیں کہ انہیں کھول دیا گیا ہے ، اور فرشتے صفیں بنا کے کھڑے ہوئے ہیں ، وہ صفیں بنا کر سلام پیش کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں ، اور خوشبو لے کر کھڑے ہیں ، جس کے ذریعے اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! وہ آپ کی روح کا استقبال کریں گے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : حمد ، میرے پروردگار کی ذات کے لئے مخصوص ہے ، اے جبرائیل ! مجھے خوشخبری سناؤ ، انہوں نے کہا : میں آپ کو یہ خوشخبری سناتا ہوں کہ جنت کے دروازے کھول دیے گئے ہیں ، اس کی نہریں اس کے درخت ہل رہے ہیں ، ان کی حوریں آراستہ ہو چکی ہیں ، کیونکہ اسے حضرت محمد ( ﷺ ) آپ کی روح آنے والی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : حمد ، میرے پروردگار کی ذات کے لئے مخصوص ہے ، اے جبرائیل ! مجھے خوشخبری سناؤ ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : آپ قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کرنے والے ہوں گے ، اور پہلے ایسے فرد ہوں گے ، جس کی شفاعت قبول ہو گی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : حمد ، میرے پروردگار کے لئے مخصوص ہے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : اے میرے محبوب ! آپ کس چیز کے بارے میں پوچھنا چاہ رہے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تم سے اپنی پریشانی اور اپنی الجھن کے بارے میں پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ میرے بعد قرآن کے عالموں کو کیا ملے گا ؟ میرے بعد رمضان کے روزے رکھنے والوں کو کیا ملے گا ؟ میرے بعد بیت اللہ کا حج کرنے والوں کو کیا ملے گا ؟ اور میرے بعد میری منتخب امت کو کیا ملے گا ؟ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : اے اللہ کے حبیب ! آپ یہ خوشخبری حاصل کریں کہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : میں نے تمام انبیاء اور ان کی امتوں کے لئے جنت کو اس وقت تک حرام قرار دیا ہے ، جب تک اے حضرت محمد ! آپ اور آپ کی امت اس میں داخل نہیں ہو جاتے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اب میرا دل مطمئن ہے ، اے ملک الموت تم قریب آ جاؤ ! اور وہ کام کرو ، جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب آپ کا وصال ہو جائے گا ، تو آپ کو غسل کون دے گا ؟ ہم آپ کو کفن کس چیز میں دیں ؟ آپ کی نماز جنازہ کون پڑھائے گا ؟ اور آپ کو قبر میں کون اتارے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی ! جہاں تک غسل کا تعلق ہے ، تو تم نے مجھے غسل دینا ہے ، فضل بن عباس تم پر پانی انڈیلے گا ، اور جبرائیل تمہارے ساتھ تیسرا فرد ہو گا ، جب تم مجھے غسل دے کر فارغ ہو جاؤ ، تو تم مجھے تین نئے کپڑوں میں کفن دینا ، جبرائیل میرے پاس جنت سے خوشبو لگا ہوا لباس لے کے آیا ہے ، جب تم لوگ مجھے چارپائی پر رکھ دو ، تو مجھے مسجد میں رکھ دینا ، اور تم لوگ باہر چلے جانا ، سب سے پہلے میرا پروردگار عرش کے اوپر سے مجھ پر رحمت نازل کرے گا ، جبرائیل ، پھر میکائیل ، پھر اسرافیل دعائے رحمت کریں گے ، پھر فرشتے گروہوں کی شکل میں آئیں گے ، پھر تم لوگ اندر داخل ہونا اور صفوں میں کھڑے ہو جانا ، اور کوئی شخص آگے نہ بڑھے ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : آج جدائی کا دن ہے ، تو میں آپ سے کب ملوں گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم مجھ سے قیامت کے دن حوض کے پاس ملنا ، جہاں میں اپنی امت سے تعلق رکھنے والے حوض پر آنے والے افراد کو پانی پلا رہا ہوؤں گا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں وہاں آپ سے نہ مل سکوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم میزان کے پاس مجھ سے مل لینا ، جہاں میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں وہاں آپ سے نہ مل پاؤں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پل صراط پر مجھ سے مل لینا ، جہاں میں یہ پکار کر کہہ رہا ہوؤں گا : اے میرے پروردگار ! میری امت کو جہنم سے بچا کے رکھنا ؟ پھر ملک الموت قریب آیا اور نبی اکرم ﷺ کی روح قبض کرنے لگا ، جب آپ کی روح گھٹنوں تک پہنچی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اوہ ! جب آپ کی روح ناف تک پہنچی ، تو آپ نے فرمایا : ہائے کتنی تکلیف ہے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اے ابا جان ! کاش آپ کی جگہ مجھے یہ تکلیف ہوتی ، جب نبی اکرم ﷺ کی روح سینے تک آئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے جبرائیل ! موت کی شدت کتنی سخت ہوتی ہے ، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم ﷺ سے منہ پھیر لیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے جبرائیل ! تم میری طرف دیکھنے کو ناپسند کر رہے ہو ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : اے میرے محبوب ! کون اس بات کی طاقت رکھتا ہے کہ وہ آپ کی طرف اس وقت دیکھے ، جب آپ سکرات الموت کا سامنا کر رہے ہوں ۔ پھر جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ، تو حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے آپ کو غسل دیا ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے پانی ڈال رہے تھے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام ان دونوں کے ساتھ تھے ، آپ کو تین نئے کپڑوں میں کفن دیا گیا ، پھر آپ کو چارپائی پر رکھا گیا ، پھر آپ کو مسجد میں لایا گیا اور آپ کو مسجد میں رکھ دیا گیا ، لوگ مسجد سے نکل گئے ، سب سے پہلے پروردگار نے عرش کے اوپر سے آپ پر رحمت نازل کی ، پھر جبرائیل ، پھر میکائیل ، پھر اسرافیل اور پھر فرشتے گروہ در گروہ آ کر دعائے رحمت کرتے رہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم نے مسجد میں آواز سنی ، لیکن ہمیں کوئی شخص نظر نہیں آیا ، ہم نے کسی ہاتف کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ تم لوگ اندر آ جاؤ ! اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، اور اپنے نبی کے لئے دعائے رحمت کرو ، تو ہم اندر آئے ، ہم صفوں میں کھڑے ہو گئے ، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا ، تو ہم حضرت جبرائیل علیہ السلام کی تکبیر کے مطابق تکبیر کہتے رہے ، اور ہم نے نبی اکرم ﷺ کی نماز جنازہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی اقتداء میں ادا کی ، ہم میں سے کوئی ایک نبی اکرم ﷺ کی طرف آگے نہیں بڑھا ، پھر آپ کی قبر میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے داخل ہوئے اور آپ کو دفن کر دیا گیا ۔ جب لوگ آپ کو دفن کر کے واپس آئے ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : اے ابوالحسن ! آپ لوگوں نے اللہ کے رسول کو دفن کر دیا ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ لوگوں کا دل کیسے ٹھیک رہا کہ آپ نے اللہ کے رسول پر مٹی ڈال دی ؟ کیا آپ کے دلوں میں اللہ کے رسول کے لئے رحمت نہیں تھی ؟ کیا وہ بھلائی کی تعلیم دینے والے نہیں تھے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : جی ہاں ! اے فاطمہ ! لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم کو واپس نہیں کیا جا سکتا ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں اور یہ کہنے لگیں : ہائے ابا جان ! اب جبرائیل کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا ، وہ جبرائیل جو آسمان سے ہمارے لئے وحی لے کے آیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن ادریس ہے ، اور وہ کذاب ہے ، اور حدیث ایجاد کرنے والا ہے ۔

14254

Majma al-Zawaid #14254

«وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ قَالَ: ذَهَبْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي إِلَى عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا، فَأَلْقَتْ إِلَيْنَا وِسَادَةً، وَجَذَبَتِ الْحِجَابَ إِلَيْهَا، فَسَأَلَهَا عَنْ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ. ثُمَّ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا مَرَّ بِبَابِي رُبَّمَا يُلْقِي الْكَلِمَةَ يَنْفَعُ اللَّهُ بِهَا، فَمَرَّ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ مَرَّ أَيْضًا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. قُلْتُ: يَا جَارِيَةُ، ضَعِي لِي وِسَادَةً عَلَى الْبَابِ، وَعَصَبْتُ رَأْسِي، فَمَرَّ بِي فَقَالَ: "" يَا عَائِشَةُ، مَا شَأْنُكِ؟ "". قُلْتُ: أَشْتَكِي رَأْسِي. قَالَ: "" أَنَا وَارَأْسَاهُ "". فَذَهَبَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جِيءَ بِهِ مَحْمُولًا فِي كِسَاءٍ، فَدَخَلَ وَبَعَثَ إِلَى النِّسَاءِ فَقَالَ: "" إِنِّي قَدِ اشْتَكَيْتُ، وَإِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدُورَ بَيْنَكُنَّ، فَائْذَنَّ لِي فَلْأَكُنْ عِنْدَ عَائِشَةَ "". فَأَذِنَّ لَهُ، فَكُنْتُ أُوصِبُهُ وَلَمْ أُوصِبْ أَحَدًا قَبْلَهُ، فَبَيْنَمَا رَأْسُهُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى مَنْكِبِي إِذْ مَالَ رَأْسُهُ نَحْوَ رَأْسِي، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ مِنْ رَأْسِي حَاجَةً، فَخَرَجَتْ مِنْ فِيهِ نُطْفَةٌ بَارِدَةٌ فَوَقَعَتْ عَلَى ثُغْرَةِ نَحْرِي، فَاقْشَعَرَّ لَهَا جِلْدِي، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَسَجَّيْتُهُ ثَوْبًا، فَجَاءَ عُمَرُ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَاسْتَأْذَنَا، فَأَذِنْتُ لَهُمَا، وَجَذَبْتُ الْحِجَابَ، فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَيْهِ فَقَالَ: وَاغَشْيَاهُ! مَا أَشَدَّ غَشْيَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَامَ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْبَابِ قَالَ الْمُغِيرَةُ لِعُمَرَ: مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: كَذَبْتَ، بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ تَحُوسُكَ فِتْنَةٌ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَمُوتُ حَتَّى يُفْنِيَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ، ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَرَفَعَ الْحِجَابَ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ. مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ، فَحَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ ثُمَّ قَالَ: وَابُنَيَّاهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ حَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ ثُمَّ قَالَ وَاصَفِّيَاهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، وَحَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ، وَقَالَ: وَاخَلِيلَاهُ، مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَعُمَرُ يَخْطُبُ النَّاسَ وَيَتَكَلَّمُ وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَمُوتُ حَتَّى يُفْنِيَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ. فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} [الزمر: 30] حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ} [آل عمران: 144] الْآيَةَ. مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ. فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّهَا لَفِي كِتَابِ اللَّهِ!!! مَا شَعَرْتُ أَنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -. ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ، وَهُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ فَبَايِعُوهُ. فَبَايَعُوهُ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ، وَغَيْرِهِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَزَادَ: «فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: كَيْفَ تَرَيْنَ؟ قُلْتُ: غُشِيَ عَلَيْهِ، فَدَنَا مِنْهُ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ: يَا غَشْيَاهُ! مَا أَكُونُ هَذَا الْغَشْيَ! ثُمَّ كَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ فَعَرَفَ الْمَوْتَ، فَقَالَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، ثُمَّ بَكَى فَقُلْتُ: فِي سَبِيلِ اللَّهِ انْقِطَاعُ الْوَحْيِ، وَدُخُولُ جِبْرِيلَ بَيْتِي، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صُدْغَيْهِ، وَوَضَعَ فَاهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، فَبَكَى حَتَّى سَالَتْ دُمُوعُهُ عَلَى وَجْهِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ غَطَّى وَجْهَهُ، وَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ، وَهُوَ يَبْكِي، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، هَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ عَهْدٌ بِوَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالُوا: لَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: يَا عُمَرُ، أَعْنَدَكَ عَهْدٌ بِوَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: لَا. قَالَ: وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ لَقَدْ ذَاقَ طَعْمَ الْمَوْتِ وَقَدْ قَالَ لَهُمْ: "" إِنِّي مَيِّتٌ وَإِنَّكُمْ مَيِّتُونَ "". فَضَجَّ النَّاسُ وَبَكَوْا بُكَاءً شَدِيدًا، ثُمَّ خَلُّوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَغَسَلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا نَسِيتُ مِنْهُ شَيْئًا لَمْ أَغْسِلْهُ إِلَّا قُلِبَ لِي حَتَّى أَرَى أَحَدًا، فَأَغْسِلُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أَرَى أَحَدًا حَتَّى فَرَغْتُ مِنْهُ، ثُمَّ كَفَّنُوهُ بِبُرْدٍ يَمَانِيٍّ أَحْمَرَ وَرَيْطَتَيْنِ قَدْ نِيلَ مِنْهُمَا، ثُمَّ غُسِّلَ، ثُمَّ أُضْجِعَ عَلَى السَّرِيرِ، ثُمَّ أَذِنُوا لِلنَّاسِ ; فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَوْجًا فَوْجًا يُصَلُّونَ عَلَيْهِ بِغَيْرِ إِمَامٍ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ بِالْمَدِينَةِ - حُرٌّ وَلَا عَبْدٌ - إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ. ثُمَّ تَشَاجَرُوا فِي دَفْنِهِ أَيْنَ يُدْفَنُ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: عِنْدَ الْعُودِ الَّذِي كَانَ يُمْسِكُ بِيَدِهِ، وَتَحْتَ مِنْبَرِهِ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: فِي الْبَقِيعِ ; حَيْثُ كَانَ يَدْفِنُ مَوْتَاهُ. فَقَالُوا: لَا نَفْعَلُ ذَلِكَ أَبَدًا، إِذًا لَا يَزَالُ عَبْدُ أَحَدِكُمْ وَوَلِيدَتُهُ قَدْ غَضِبَ عَلَيْهِ مَوْلَاهُ فَيَلُوذُ بِقَبْرِهِ فَتَكُونُ سُنَّةً، فَاسْتَقَامَ رَأْيُهُمْ عَلَى أَنْ يُدْفَنَ فِي بَيْتِهِ تَحْتَ فِرَاشِهِ حَيْثُ قَبْضُ رُوحِهُ. فَلَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ دُفِنَ مَعَهُ، فَلَمَّا حَضَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْمَوْتَ أَوْصَى قَالَ: إِذَا أَنَا مِتُّ فَاحْمِلُونِي إِلَى بَابِ بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقُولُوا لَهَا: هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ، وَيَقُولُ: أَدْخُلُ أَوْ أَخْرُجُ؟ قَالَ: فَسَكَتَتْ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَتْ: أَدْخِلُوهُ فَادْفِنُوهُ، أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَعُمَرُ عَنْ يَسَارِهِ. قَالَتْ: فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ أَخَذَتِ الْجِلْبَابَ فَتَجَلْبَبَتْ بِهِ. قَالَ: فَقِيلَ لَهَا: مَا لَكِ وَلِلْجِلْبَابِ؟ قَالَتْ: كَانَ هَذَا زَوْجِي، وَهَذَا أَبِي، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ تَجَلْبَبْتُ». وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى عُوَيْدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Babanus reports that he and a companion went to Aishah رضي الله عنها, sought permission, and she cast a cushion to them and drew the veil to herself, and he asked her about intimacy with a menstruating woman. She then said that when the Messenger of Allah ﷺ passed by her door he would sometimes cast a word by which Allah benefited, but one day he passed saying nothing, then again saying nothing twice or thrice. She bade her slave girl place a cushion at the door and bound her head, and when he passed her he asked what ailed her, and she said she complained of her head, and he said he too complained of his head. He went away and before long he was brought carried in a cloak, entered, and sent for the women saying he had fallen ill and could not go round among them, so they should permit him to stay with Aishah, which they did. She nursed him as she had nursed none before, and one day while his head lay upon her shoulder it inclined toward her head, and thinking he wanted something from her head, a cold drop came from his mouth falling upon the hollow of her throat, which made her skin shudder, and thinking he had swooned she covered him with a garment. Umar and al-Mughirah ibn Shubah sought permission and she admitted them and drew the veil, and Umar looked at him lamenting his swoon and how severe it was, then rose, and near the door al-Mughirah asked Umar whether the Messenger of Allah ﷺ had died, and he denied him saying he was a man agitated by tribulation and the Messenger of Allah ﷺ would not die until Allah annihilated the hypocrites. Then Abu Bakr came, lifted the veil, looked at him and said they belong to Allah and to Him they return, the Messenger of Allah ﷺ had died. He came from the side of his head, lowered his mouth and kissed his forehead, then lamented his son, then raised his head and again lowered his mouth kissing his forehead lamenting his chosen one, then again kissing his forehead lamenting his intimate friend, affirming the Messenger of Allah ﷺ had died. He went out to the mosque while Umar addressed the people saying the Messenger of Allah ﷺ would not die until Allah annihilated the hypocrites. Abu Bakr spoke, praised Allah and extolled Him, then cited that he is dead and they are dead, and that Muhammad is only a messenger before whom messengers have passed, asking if he died or was killed would they turn upon their heels, declaring whoever worshipped Allah then Allah is Living and never dies, and whoever worshipped Muhammad then Muhammad had died. Umar exclaimed that it was in the Book of Allah though he had not realized it, then said this is Abu Bakr, the elder of the Muslims, so pledge him, and they pledged him. In the added word Abu Bakr entered asking how she saw him, she said swooned, he drew near uncovering his face lamenting the swoon, then uncovering discerned death, declared they belong to Allah and to Him they return, then wept, and she said for the sake of Allah at the cessation of revelation and Jibril entering her house, and he placed his hand upon his temples and his mouth upon his forehead weeping until his tears flowed upon the face of the Prophet ﷺ, then covered his face and went out weeping asking the Muslims whether any had a covenant of the passing of the Messenger of Allah ﷺ, and they said none, then asking Umar likewise who said none, whereupon he swore he had tasted death though it was said to them he is dead and you are dead. The people clamoured and wept intensely, then left him to his household, and Ali ibn Abi Talib washed him with Usamah ibn Zayd pouring water over him, Ali saying no part he forgot to wash but it turned for him until he saw naught, washing without seeing until finished. They shrouded him in a red Yemeni cloak and two wraps already worn, then laid him upon the bier and admitted the people who entered upon him company after company praying over him without an imam, until none remained in Madinah, free or slave, but prayed over him. They then disputed where to bury him, some saying by the staff he held and beneath his pulpit, others in al-Baqi where he buried his dead, but they refused lest a slave or maidservant angered by his master cling to his grave as precedent, and their view settled to bury him in his house beneath his bed where his soul was taken. When Abu Bakr died he was buried with him, and when death approached Umar ibn al-Khattab he enjoined that when he died they carry him to the door of the house of Aishah and ask whether he should enter or go out. She fell silent awhile then said admit him and bury him, with Abu Bakr to his right and Umar to his left. When Umar was buried she took the outer wrap and veiled herself, and asked about the wrap she said this was her husband and this her father, but when Umar was buried she veiled. > **"O Aishah, what ails you? I too complain of my head. I have fallen ill, and I cannot go round among you, so permit me to stay with Aishah. Woe at his swoon, how severe is the swoon of the Messenger of Allah. You have lied, rather you are a man agitated by tribulation. The Messenger of Allah shall not die until Allah annihilates the hypocrites. To Allah we belong and to Him we return. The Messenger of Allah has died. O my son. O my chosen one. O my intimate friend. Allah Almighty says: you are dead and they are dead. Muhammad is only a messenger before whom messengers have passed. If he dies or is killed, will you turn upon your heels? Whoever worshipped Allah, then Allah is Living and never dies, and whoever worshipped Muhammad, then Muhammad has died. O you people, this is Abu Bakr, and he is the elder of the Muslims, so pledge him. How do you see him? O his swoon, what can this swoon be? To Allah we belong and to Him we return. For the sake of Allah, at the cessation of revelation and Jibril entering my house. O company of Muslims, has any of you a covenant of the passing of the Messenger of Allah? O Umar, have you a covenant of the passing of the Messenger of Allah? By Him save Whom none is worthy of worship, he has tasted death. This is Umar ibn al-Khattab greeting you with peace, saying: shall I enter or go out? Admit him and bury him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن بابنوس بیان کرتے ہیں : میں اور میرا ایک ساتھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، ہم نے ان کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ، انہوں نے ہمارے لئے تکیہ رکھوایا اور پردہ ڈال دیا ، میرے ساتھی نے ان سے حیض والی عورت کے ساتھ مباشرت کرنے کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ جب میرے دروازے کے پاس سے گزرتے تھے تو آپ کوئی بات ارشاد فرما دیتے تھے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انہیں نفع عطا کرے ، ایک دن نبی اکرم ﷺ گزرے ، تو آپ نے کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی ، پھر آپ گزرے آپ نے کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی ، ایسا دو یا تین مرتبہ ہوا ۔ میں نے ( کنیز سے ) کہا : اے لڑکی تم میرے لئے دروازے کے پاس تکیہ رکھ دو ، میں نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی ، نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے ، آپ نے دریافت کیا : اے عائشہ ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : میرے سر میں درد کی شکایت ہے ، ہائے سر کا درد ( اس کا بامحاروہ ترجمہ ہو گا ، ہائے میں مر گئی ) نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، تھوڑی دیر بعد آپ تشریف لائے ، تو آپ نے چادر اوڑھی ہوئی تھی ، آپ اندر آئے ، آپ نے اپنی دیگر ازواج کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : میں بیمار ہو گیا ہوں ، اور اب میں یہ استطاعت نہیں رکھتا کہ تم لوگوں کے ہاں جاؤں ، تو تم مجھے اجازت دو کہ میں عائشہ کے ہاں ٹھہر جاؤں ، تو ان خواتین نے آپ کو اجازت پیش کر دی ، میں آپ کی بیماری کے دوران آپ کی دیکھ بھال کرنے لگی ، حالانکہ اس سے پہلے میں نے کبھی کسی بیمار کی دیکھ بھال نہیں کی تھی ، ایک دن آپ کا سر میرے کندھے پر تھا ، اسی دوران آپ کا سر میرے سر کی طرف ڈھلک گیا ، تو مجھے یہ اندازہ ہوا کہ شاید آپ کو میرے سر میں کچھ کرنا ہے ، آپ کے منہ سے ایک ٹھنڈا نطفہ نکلا اور میرے سینے کے اوپر آ کے گرا ، جس سے میری جلد پر کپکپی طاری ہو گئی ، مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید آپ پر بے ہوشی طاری ہو رہی ہے ، میں نے آپ پر کپڑا ڈال دیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور مغیرہ بن شعبہ آئے ، ان دونوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، میں نے انہیں اجازت دی ، اور میں نے پردہ کھینچ لیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی طرف دیکھا اور بولے : یہ تو بے ہوشی ہے ، اللہ کے رسول پر کیسی شدید بے ہوشی طاری ہوئی ہے ، پھر وہ کھڑے ہوئے ، جب وہ دروازے کے پاس پہنچے تو مغیرہ نے کہا : اے عمر ! نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم جھوٹ بولتے ہو ، تم ایک ایسے شخص ہو کہ آزمائش تم سے مل گئی ہے ، اللہ کے رسول کا انتقال اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک اللہ تعالیٰ منافقین کو فنا نہیں کر دیتا ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے پردہ ہٹایا اور نبی اکرم ﷺ کی طرف دیکھا اور پھر کہا : بے شک حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، اللہ کے رسول کا انتقال ہو گیا ہے ، پھر وہ سرہانے کی طرف سے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا ، آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور پھر فرمایا : ہائے افسوس ، پھر انہوں کہا : ہائے نبی پر افسوس ہے ، پھر انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا سر اٹھایا ، آپ کے منہ سے کپڑا ہٹایا ، آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور پھر یہ فرمایا : منتخب شدہ فرد ، پھر انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا سر اٹھایا ، آپ کے منہ سے کپڑا ہٹایا اور پھر آپ کی پیشانی کو بوسہ دے کر کہا : ہائے خلیل ! اور افسوس ہے ، نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ہے ، پھر وہ مسجد کی طرف گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور بات چیت کر رہے تھے ، وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ کے رسول کا انتقال اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک اللہ تعالیٰ منافقین کو ختم نہیں کر دیتا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : ’’ بے شک تم میت ہو ، اور وہ لوگ بھی میت ہیں ۔‘‘ انہوں نے یہ آیت پوری پڑھی ، پھر یہ آیت پڑھی : ’’ محمد صرف رسول ہیں ، اس سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں ، اگر وہ مر جائیں یا قتل ہو جائیں ، تو کیا تم ایڑیوں کے بل گھوم جاؤ گے ؟“۔ ( پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا ، تو اللہ تعالیٰ زندہ ہے ، اسے موت نہیں آئے گی ، اور جو شخص حضرت محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا ، تو حضرت محمد ﷺ کا انتقال ہو گیا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ آیت اللہ کی کتاب میں موجود تھی ، لیکن مجھے یہ خیال ہی نہیں آیا کہ یہ اللہ کی کتاب میں موجود ہے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے لوگو ! یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، یہ مسلمانوں کے بزرگ ہیں ، تم ان کی بیعت کر لو ، تم ان کی بیعت کر لو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ اور دیگر کتابوں میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آئے ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارا کیا خیال ہے ؟ میں نے کہا : آپ ﷺ پر بے ہوشی طاری ہے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے قریب آئے ، آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور پھر بولے : ہائے کیسی بے ہوشی ہے ، کاش یہ بے ہوشی مجھ پر طاری ہوتی ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور انہیں آپ کی موت کا اندازہ ہو گیا ، تو انہوں نے کہا : بے شک حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، پھر وہ رونے لگے ، میں نے کہا : اللہ کی راہ میں وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ، حضرت جبرائیل علیہ السلام کا میرے گھر آنا منقطع ہو گیا ، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھا اور اپنی پیشانی پر رکھا اور رونے لگے ، یہاں تک کہ ان کے آنسو بہتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے چہرے پر آئے ، پھر انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا چہرہ ڈھانپ دیا ، اور لوگوں کے پاس تشریف لے گئے جبکہ وہ رور ہے تھے ۔ انہوں نے فرمایا : اے مسلمانوں کے گروہ ! کیا تمہیں پتہ ہے کہ اللہ کے رسول کا انتقال ہو گیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : جی نہیں ! پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ، اور بولے : اے عمر ! کیا نبی اکرم ﷺ کے وصال کے حوالے سے تمہارے پاس کوئی عہد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے عمر ! کیا تمہارے پاس اللہ کے رسول کے حوالے سے کوئی عہد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، انہوں نے موت کا ذائقہ چکھ لیا ہے ، اور انہوں نے لوگوں سے کہا : کہ میں مرنے والا ہوں ، اور بیشک تم لوگ بھی مرنے والے ہو ، تو لوگ چیخ و پکار کرنے لگے اور شدید روئے ، پھر لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے گھر والوں کے لئے چھوڑ دیا ۔ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے آپ کو غسل دیا ، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ پانی ڈال رہے تھے ، یہاں تک کہ جب اس سے فارغ ہوئے ، تو لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو سرخ یمنی چادر میں کفن دیا اور دو چادروں میں دیا ، جو اس میں سے لی گئیں تھیں ، ان دونوں کو دھویا گیا ، پھر آپ کو پلنگ پر لٹا دیا گیا ، پھر لوگوں کو اندر آنے کی اجازت دی گئی ، لوگ گروہوں کی شکل میں اندر آنے لگے ، اور کسی امام کے بغیر آپ کے لئے دعائے رحمت کرنے لگے ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں کوئی بھی آزاد یا غلام ایسا نہیں رہا ، جس نے آپ کی نماز جنازہ ادا نہ کی ہو ( یا آپ کے لئے دعائے رحمت نہ کی ہو ) پھر نبی اکرم ﷺ کو دفن کرنے کے بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہوا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے ؟ کسی نے کہا : اس لکڑی کے پاس ، جس کو آپ اپنے ہاتھ میں پکڑتے تھے یا آپ کے منبر کے نیچے موجود ہے ، کسی نے کہا : آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا جائے ، جہاں آپ اپنے مرحومین کو دفن کرتے تھے ، کچھ لوگوں نے کہا : ہم ایسا نہیں کریں گے ، کیونکہ پھر ایسا ہو گا کہ کسی غلام یا کنیز کا آقا اس پر غصے ہو گا ، تو وہ شخص نبی اکرم ﷺ کی قبر کی پناہ لے گا ، اور یہ چیز معمول بن جائے گی ، پھر ان لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نبی اکرم ﷺ کو آپ کے گھر میں ، آپ کے بستر کے نیچے ہی دفن کیا جائے ، جہاں آپ کی روح قبض ہوئی تھی ۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، تو انہیں آپ کے ساتھ دفن کیا گیا ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا ، تو انہوں نے یہ وصیت کی : کہ جب میں مر جاؤں ، تو میری میت اٹھا کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے دروازے کے پاس لے جانا ، اور ان سے یہ کہنا کہ یہ عمر بن خطاب آپ کو سلام کہہ رہا ہے ، اور یہ کہہ رہا ہے کہ کیا میں اندر آ جاؤں ؟ یا باہر چلا جاؤں ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کچھ دیر خاموش رہیں ، پھر انہوں نے فرمایا : انہیں اندر داخل کرو اور انہیں ان کے ساتھ دفن کر دو ( راوی بیان کرتے ہیں : ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے دائیں طرف ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں طرف ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہاں دفن کر دیا گیا ، تو میں ( حجرے میں داخل ہوتے وقت ) چادر اوڑھ لیا کرتی تھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا : آپ چادر کیوں اوڑھتی تھیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : پہلے وہاں میرے شوہر تھے ، اور ایک میرے والد تھے ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا گیا ، تو میں نے چادر اوڑھنا شروع کر دی ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ، امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی عوید بن ابوعمران ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، بعض حضرات نے یہ کہا ہے : یہ متروک ہے ۔

14255

Majma al-Zawaid #14255

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: «أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ حَتَّى أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَتَشَاوَرَ نِسَاؤُهُ فِي لَدِّهِ فَلَدُّوهُ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: "" مَا هَذَا؟ "" فَقُلْنَا: هَذَا فِعْلُ نِسَاءٍ جِئْنَ مِنْ هَاهُنَا. وَأَشَارَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَكَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ فِيهِنَّ. قَالُوا: كُنَّا نَتَّهِمُ بِكَ ذَاتَ الْجَنْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ،. قَالَ: "" إِنَّ ذَلِكَ لَدَاءٌ مَا كَانَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِيَقْذِفَنِي بِهِ، لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ لَا يَلِدُّ إِلَّا عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "". يَعْنِي الْعَبَّاسَ قَالَتْ: لَقَدِ الْتَدَّتْ مَيْمُونَةُ يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَصَائِمَةٌ لِعَزِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ الْعَبَّاسِ فِي كِتَابِ الْخِلَافَةِ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Umays رضي الله عنها reports that the first complaint of the Messenger of Allah ﷺ began in the house of Maymunah رضي الله عنها, his illness intensified until he swooned, his wives consulted about administering medicine by the mouth and they did so, and when he recovered he asked what this was. They said it was the doing of women who had come from thence, gesturing to the land of Abyssinia, among whom was Asma bint Umays. They said they had feared pleurisy for him, whereupon he said that was a malady Allah Almighty would never afflict him with, and none should remain in the house but be given mouth medicine except the uncle of the Messenger of Allah ﷺ, meaning al-Abbas رضي الله عنه. She said Maymunah took mouth medicine that day though fasting, by the resolve of the Messenger of Allah ﷺ. > **"What is this? That is a malady Allah Almighty would never afflict me with. Let none remain in the house but be given mouth medicine, except the uncle of the Messenger of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کی بیماری کا آغاز سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوا ، آپ کی بیماری شدید ہو گئی ، تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو جاتی تھی ، آپ کی ازواج نے باہمی مشورے سے یہ طے کیا کہ آپ کے منہ میں دوائی ٹپکائی جائے ، انہوں نے آپ کے منہ میں دوا ٹپکائی ، جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے فرمایا : یہ کس نے کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : یہ ان خواتین نے کیا ہے جو اس طرف سے آئی ہیں ، انہوں نے حبشہ کی سرزمین کی طرف اشارہ کیا ، سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی ان خواتین میں شامل تھیں ، لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہمیں آپ کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں آپ کو ذات الجنب کی شکایت نہ ہو ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ ایک ایسی بیماری ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس میں مبتلا نہیں کرے گا ، اب گھر میں موجود شخص کے منہ میں دوائی ٹپکائی جائے ، البتہ اللہ کے رسول ﷺ کے چچا کا معاملہ مختلف ہے ، نبی اکرم ﷺ کی مراد حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے ۔ راوی خاتون بیان کرتی ہیں : تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس دن اپنے منہ میں دوا ٹپکائی ، حالانکہ وہ روزہ رکھے ہوئے تھیں ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی تاکید کی وجہ سے ایسا کیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کتاب الخلافہ میں گزر چکی ہے ۔

14256

Majma al-Zawaid #14256

وَعَنْ جَابِرٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا عِنْدَ مَوْتِهِ بِصَحِيفَةٍ لِيَكْتُبَ فِيهَا كِتَابًا لَا يَضِلُّونَ بَعْدَهُ أَبَدًا. قَالَ: فَخَالَفَ عَلَيْهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّى رَفَضَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ called near his death for a sheet to write therein a writing after which they would never go astray, but Umar ibn al-Khattab differed over it until it was set aside.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے وصال کے قریب ایک صحیفہ منگوایا ، تاکہ اس میں کچھ ایسی چیز لکھ دیں کہ جس کے بعد لوگ کبھی گمراہ نہ ہوں ، راوی کہتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں مختلف بات کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے پرے کر دیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

14257

Majma al-Zawaid #14257

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" ادْعُوا لِي بِصَحِيفَةٍ وَدَوَاةٍ أَكْتُبْ لَكَمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّونَ بَعْدِي أَبَدًا "". فَكَرِهْنَا ذَلِكَ أَشَدَّ الْكَرَاهَةِ، ثُمَّ قَالَ: "" ادْعُوا لِي بِصَحِيفَةٍ أَكْتُبْ لَكَمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا "". فَقَالَ النِّسْوَةُ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ: أَلَا يَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقُلْتُ: إِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، إِذَا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَصَرْتُنَّ أَعْيُنَكُنَّ، وَإِذَا صَحَّ رَكِبْتُنَّ رَقَبَتَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعُوهُنَّ ; فَإِنَّهُنَّ خَيْرٌ مِنْكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَعْفَرِيُّ قَالَ الْعُقَيْلِيُّ: فِي حَدِيثِهِ نَظَرٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه reports that when the Prophet ﷺ fell ill he said to fetch a sheet and inkpot that he might write for them a writing after which they would never go astray, but they disliked it intensely. He again said to fetch a sheet that he might write for them a writing after which they would never stray, whereupon the women from behind the curtain said did they not hear what the Messenger of Allah ﷺ said. He said they were as the companions of Yusuf, squeezing their eyes when the Messenger of Allah ﷺ fell ill and mounting his neck when he recovered. The Messenger of Allah ﷺ then said to leave them, for they were better than them. > **"Fetch me a sheet and inkpot, that I may write for you a writing after which you shall never go astray. Fetch me a sheet, that I may write for you a writing after which you shall never stray. Leave them, for they are better than you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ بیمار ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : میرے پاس ایک صحیفہ اور دوات لے کر آؤ ، تاکہ میں تمہارے لئے ایسی تحریر لکھ دوں ، کہ تم میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے ، راوی کہتے ہیں : تو ہمیں یہ بات بہت گراں گزری ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس صحیفہ لے کر آؤ ، تاکہ میں تمہارے لئے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے ، تو پردے کے پیچھے سے خواتین نے کہا : کیا یہ لوگ وہ بات نہیں سن رہے ؟ جو نبی اکرم ﷺ ارشاد فرما رہے ہیں ، تو میں نے کہا : تم لوگ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کی خواتین کی طرح ہو ، جب اللہ کے رسول ﷺ بیمار ہوئے تھے ، تو تم نے اپنی آنکھیں نچوڑ لی تھیں ، تو اب جب وہ تندرست ہو رہے ہیں ، تو تم ان کی گردن پر سوار ہو رہی ہو ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کو رہنے دو ! کیونکہ یہ تم لوگوں سے بہتر ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر بن ابراہیم جعفری ہے ، عقیلی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ روایت میں غور و فکر کی گنجائش ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

14258

Majma al-Zawaid #14258

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «لَأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُتِلَ قَتْلًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ ; وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - جَعَلَهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا.؟ قَالَ الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْيَهُودَ سَمُّوهُ» وَأَبَا بَكْرٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, reports that to swear nine times that the Messenger of Allah ﷺ was slain is dearer to him than to swear once that he was not slain, for Allah Almighty made him a prophet and took him as a martyr. Al-Amash said he mentioned it to Ibrahim who said they held that the Jews had poisoned him and Abu Bakr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نو مرتبہ یہ قسم اٹھاؤں کہ اللہ کے رسول کو قتل کیا گیا تھا ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں ایک مرتبہ یہ قسم اٹھاؤں کہ آپ کو قتل نہیں گیا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی بھی بنایا اور اس نے آپ کو شہید کے مرتبے پر بھی فائز کیا ۔ اعمش کہتے ہیں : میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم نخعی سے کیا ، تو انہوں نے فرمایا : لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہودیوں نے نبی اکرم ﷺ کو اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو زہر دیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔