Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 38 · Chapter 10

Book of Signs of Prophethood

Hadith 14179–14218

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14179

Majma al-Zawaid #14179

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ: «أَنَّ أَبَا أَسِيدٍ كَانَ يَقُولُ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَمْنَعُ شَيْئًا يُسْأَلُهُ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي أَسِيدٍ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abi Bakr reports that Abū Usayd رضي الله عنه used to say the Messenger of Allah ﷺ never refused anything he was asked.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابوبکر بیان کرتے ہیں : حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ یہ کہا کرتے تھے : نبی اکرم ﷺ سے جب کوئی چیز مانگی جاتی تھی ، تو آپ ﷺ منع نہیں کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے غزوہ بدر سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم عبداللہ بن ابوبکر نامی راوی نے ، حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

14180

Majma al-Zawaid #14180

وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سُئِلَ شَيْئًا فَأَرَادَ أَنْ يَفْعَلَهُ قَالَ: "" نَعَمْ "". وَإِذَا أَرَادَ أَلَّا يَفْعَلَ سَكَتَ، وَكَانَ لَا يَقُولُ لِشَيْءٍ: لَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي كِتَابِ الْأَدْعِيَةِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه reports that when the Prophet ﷺ was asked something he intended to do he said yes, and when he intended not to do it he fell silent, and he never said no to anything. > **"Yes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے جب کوئی چیز پوچھی جاتی تھی اور آپ کا ویسا کرنے کا ارادہ ہوتا تھا ، تو آپ فرماتے تھے : ٹھیک ہے ، اور اگر آپ کا وہ کام کرنے کا ارادہ نہیں ہوتا تھا ، تو آپ خاموش رہتے تھے ، آپ یہ نہیں کہتے تھے : جی نہیں ! یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو دعاؤں سے متعلق کتاب میں ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14181

Majma al-Zawaid #14181

«وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ فَسَأَلَهُ أَرْضًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَكَتَبَ لَهُ بِهَا، فَأَسْلَمَ، ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ لَهُمْ: أَسْلِمُوا فَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ رَجُلٍ يُعْطِي عَطِيَّةَ مَنْ لَا يَخَافُ الْفَاقَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الْعُذْرِيُّ، وَقِيلَ فِيهِ: مَجْهُولٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thābit رضي الله عنه reports that an Arab man came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him for land between two mountains. He wrote it for him, and the man accepted Islam. Then he came to his people and told them to accept Islam, for he had come from a man who gives the giving of one who does not fear poverty. > **"Accept Islam, for I have come to you from a man who gives the giving of one who fears no poverty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک عرب شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، اس نے آپ سے دو پہاڑوں کے درمیان موجود زمین مانگی ، نبی اکرم ﷺ نے اس کے لئے وہ زمین لکھ دی ، وہ شخص مسلمان ہوا ، اور اپنی قوم کے پاس گیا اور ان سے کہنے لگا : تم لوگ مسلمان ہو جاؤ ! میں تم لوگوں کے پاس ایک ایسے فرد کی طرف سے آیا ہوں جو اتنا عطیہ دیدیتے ہیں کہ پھر غربت کا خوف نہیں رہتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یحیی عذری ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے : یہ مجہول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14182

Majma al-Zawaid #14182

وَعَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ قَالَتْ: «بَعَثَنِي مُعَوِّذُ بْنُ عَفْرَاءَ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ عَلَيْهِ أُجَرُ مَنْ قِثَّاءِ زُغْبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّ الْقِثَّاءَ، وَكَانَتْ حِلْيَةٌ قَدْ قَدِمَتْ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَمَلَأَ يَدَهُ مِنْهَا فَأَعْطَانِيهَا.

EnglishUnverified translation

Al-Rubayyiʿ bint Muʿawwidh ibn ʿAfrāʾ رضي الله عنها reports that Muʿawwidh ibn ʿAfrāʾ sent her with a basket of ripe dates upon which were young cucumbers to the Messenger of Allah ﷺ, for the Prophet ﷺ loved cucumbers. Ornaments had arrived from Bahrayn, and he filled his hand from them and gave them to her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہ نے مجھے کھجوروں کے ایک گچھے کے ہمراہ بھیجا ، اس کے ساتھ ککڑی بھی تھی ، انہوں نے اس کے ہمراہ مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس بھیجا ، نبی اکرم ﷺ ککڑی کو پسند کرتے تھے ، نبی اکرم ﷺ کے پاس بحرین سے زیورات آئے تھے ، آپ ﷺ نے اُن میں سے ہاتھ بھر کے وہ مجھے دیدیے ۔

14183

Majma al-Zawaid #14183

وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَعْطَانِي مَلْءَ كَفِّي حَلْيًا أَوْ ذَهَبًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ وَزَادَ: فَقَالَ: "" تَحَلَّيْ بِهَذَا "". وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration, he gave her a handful of ornament or gold, and added, adorn yourself with this. > **"Adorn yourself with this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھ بھر کے زیور ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) سونا مجھے عطا کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام احمد نے اسے نقل کیا ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : آپ نے فرمایا :” تم یہ زیور پہن لینا ۔‘‘ ان دونوں روایات کی سند حسن ہے ۔

14184

Majma al-Zawaid #14184

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَى صَاحِبَ بَزٍّ، فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِأَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ، فَخَرَجَ وَهُوَ عَلَيْهِ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْسُنِي قَمِيصًا كَسَاكَ اللَّهُ مِنْ ثِيَابِ الْجَنَّةِ. فَنَزَعَ الْقَمِيصَ فَكَسَاهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى صَاحِبِ الْحَانُوتِ، فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِأَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ وَبَقِيَ مَعَهُ دِرْهَمَانِ، فَإِذَا هُوَ بِجَارِيَةٍ فِي الطَّرِيقِ تَبْكِي، فَقَالَ: "" مَا يُبْكِيكِ؟ "". قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَفَعَ لِي أَهْلِي دِرْهَمَيْنِ أَشْتَرِي بِهِمَا دَقِيقًا فَهَلَكَا، فَدَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهَا الدِّرْهَمَيْنِ الْبَاقِيَيْنِ، ثُمَّ وَلَّتْ وَهِيَ تَبْكِي. فَدَعَاهَا فَقَالَ: "" مَا يُبْكِيكِ وَقَدْ أَخَذْتِ الدِّرْهَمَيْنِ؟ "". فَقَالَتْ: أَخَافَ أَنْ يَضْرِبُونِي، فَمَشَى مَعَهَا إِلَى أَهْلِهَا، فَسَلَّمَ فَعَرَفُوا صَوْتَهُ، ثُمَّ عَادَ فَسَلَّمَ، ثُمَّ عَادَ فَثَلَّثَ فَرَدُّوا. فَقَالَ: "" أَسْمِعْتُمْ أَوَّلَ السَّلَامِ؟ "". فَقَالُوا: نَعَمْ، وَلَكِنْ أَحْبَبْنَا أَنْ تَزِيدَنَا مِنَ السَّلَامِ، فَمَا أَشْخَصَكَ بِأَبِينَا وَأُمِّنَا؟ قَالَ: "" أَشْفَقَتْ هَذِهِ الْجَارِيَةُ أَنْ تَضْرِبُوهَا "". قَالَ صَاحِبُهَا: هِيَ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللَّهِ ; لِمَمْشَاكَ مَعَهَا، فَبَشَّرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْخَيْرِ وَبِالْجَنَّةِ، وَقَالَ: "" لَقَدْ بَارَكَ اللَّهُ فِي الْعَشَرَةِ، كَسَا اللَّهُ نَبِيَّهُ قَمِيصًا وَرَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَمِيصًا، وَأَعْتَقَ مِنْهَا رَقَبَةً، وَأَحْمَدُ اللَّهَ هُوَ الَّذِي رَزَقَنَا هَذَا بِقُدْرَتِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابْلُتِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports hearing the Messenger of Allah ﷺ come to a cloth merchant, buy a shirt for four dirhams, and go out wearing it. A man of the Ansar said, O Messenger of Allah, clothe me with a shirt, may Allah clothe you of Paradise's garments. He removed the shirt and clothed him with it, then returned to the shopkeeper, bought another shirt for four dirhams, with two dirhams remaining. On the road he found a slave girl weeping. He asked what made her weep. She said her people had given her two dirhams to buy flour, which had perished. The Prophet ﷺ gave her the remaining two dirhams. She turned away weeping. He called her and asked why she wept after taking the two dirhams. She said she feared they would beat her. He walked with her to her people, greeted, and they recognized his voice. He greeted again and a third time, and they answered. He asked whether they had heard the first greeting. They replied yes, but they had wished him to increase greetings. He asked what had brought him, by their parents. He said the girl feared beating. Her owner said she was free for Allah's sake because of his walking with her. The Messenger of Allah ﷺ gave them glad tidings of good and Paradise, and said Allah had blessed the ten: Allah clothed His prophet with a shirt and an Ansari man with a shirt, freed a neck therefrom, and he praised Allah Who had granted this by His power. > **"What makes you weep? Allah has blessed the ten."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا ، آپ ایک کپڑے والے کے پاس آئے ، آپ نے اس سے ایک قمیص چار درہم کے عوض میں خریدی ، پھر آپ تشریف لے گئے ، وہ قمیص آپ نے پہنی ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ یہ قمیص مجھے پہننے کے لئے دے دیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو جنت کی قمیص پہنائے ، تو نبی اکرم ﷺ نے وہ قمیص اتاری ، اور وہ اسے پہننے کے لئے دیدی ، پھر آپ واپس اس دوکاندار کے پاس گئے ، اور چار درہم کے عوض میں اس سے ایک اور قمیص خریدی ، اب آپ کے پاس دو درہم باقی بچ گئے تھے ، راستے میں ایک بچی رو رہی تھی ، آپ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے گھر والوں نے مجھے دو درہم دیے تھے ، تاکہ میں ان کے ذریعے آٹا خریدوں ، تو وہ گم ہو گئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے باقی بچ جانے والے دو درہم اسے دیدیے ، پھر وہ لڑکی روتی ہوئی واپس مڑی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا : اب تم کیوں رو رہی ہو ؟ جبکہ تم نے دو درہم لے لیے ہیں ، وہ بولی : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ گھر والے مجھے ماریں گے ، نبی اکرم ﷺ اس لڑکی کے ساتھ چلتے ہوئے اس کے گھر والوں کے پاس گئے ، آپ نے سلام کیا تو لوگوں نے آپ کی آواز پہچان لی ، آپ نے پھر سلام کیا ، پھر آپ نے سلام کیا ، جب آپ نے تیسری مرتبہ سلام کیا ، تو ان لوگوں نے جواب دیا : نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے پہلا سلام سن لیا تھا ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن ہماری یہ خواہش تھی کہ آپ ہمیں مزید سلام کریں ، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کا کس سلسلے میں آنا ہوا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کنیز کو یہ ڈر تھا کہ تم اس کی پٹائی کرو گے ، اس کنیز کے مالک نے کہا : یہ اللہ کی راہ میں آزاد ہے ، کیونکہ آپ اس کے ساتھ چل کے آئے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے اُن لوگوں کو بھلائی اور جنت کی خوشخبری دی اور فرمایا : اللہ تعالیٰ ان دس درہموں میں برکت دے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ایک قمیص پہنائی ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قمیص پہننے کے لئے دی ، اور اس رقم کے ذریعے ایک گردن کو بھی آزاد کروا دیا ، تو میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس نے اپنی قدرت کے ذریعے ہمیں یہ چیز نصیب کی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14185

Majma al-Zawaid #14185

«وَعَنْ أُمِّ سُنْبُلَةَ أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَدِيَّةٍ، فَأَبَيْنَ أَزْوَاجُهُ أَنْ يَقْبَلْنَهَا، فَقُلْنَ: إِنَّا لَا نَأْخُذُ. فَأَمَرَهُنَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذْنَهَا، ثُمَّ أَقْطَعَهَا وَادِيًا فَاشْتَرَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ مِنْ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ قَيْظِيٍّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Sunbula رضي الله عنها reports bringing a gift to the Prophet ﷺ, but his wives refused to accept it, saying they would not take. The Prophet ﷺ commanded them and they took it. Then he granted her a valley as allotment, which Abdullah ibn Jahsh later bought from Hasan ibn ʿAlī.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سنبلہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ ایک تحفہ لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو نبی اکرم ﷺ کی ازواج نے اسے قبول کرنے سے سے انکار کر دیا ، انہوں نے کہا : ہم یہ نہیں لیں گی ، نبی اکرم ﷺ نے ان ازواج کو حکم دیا ، تو ان ازواج نے اسے قبول کر لیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک وادی اُسے جاگیر کے طور پر دی ۔ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے وہ زمین خرید لی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیظی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14186

Majma al-Zawaid #14186

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «اجْتَمَعْتُ أَنَا وَالْعَبَّاسُ، وَفَاطِمَةُ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَبُرَتْ سِنِّي، وَرَقَّ عَظْمِي، وَكَثُرَتْ مَؤُونَتِي، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَ لِي بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَفْعَلُ ذَلِكَ "". فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَ لِي كَمَا أَمَرْتَ لِعَمِّكَ فَافْعَلْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَفْعَلُ ذَلِكَ "". فَقَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي أَرْضًا كَانَتْ مَعِيشَتِي مِنْهَا، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَرُدَّهَا عَلَيَّ فَافْعَلْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَفْعَلُ ذَلِكَ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَبَقِيَّتُهُ رَوَاهَا أَبُو دَاوُدَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَزَادَ: «فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُوَلِّيَنِي هَذَا الْحَقَّ الَّذِي جَعَلَ اللَّهُ لَكَ فِي كِتَابِهِ مِنْ هَذَا الْخُمُسِ فَاقْسِمْهُ فِي مَقَامِكَ كَيْ لَا يُنَازِعَنِي أَحَدٌ بَعْدَكَ فَافْعَلْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَفْعَلُ ذَلِكَ "". فَوَلَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَسَّمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ، ثُمَّ وَلَّانِيهِ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَسَّمْتُهُ». وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه reports gathering with al-ʿAbbās, Fatima, and Zayd ibn Hāritha before the Messenger of Allah ﷺ. Al-ʿAbbās said his age had advanced, his bones thinned, his burden grown, and asked him to order such and such wasq of food if he saw fit. The Messenger of Allah ﷺ replied they would do so. Fatima asked him to order for her as he had ordered for his uncle. He replied they would do so. Zayd ibn Hāritha said he had given him land from which he lived, then taken it back, and asked him to return it if he saw fit. He replied they would do so. ʿAlī added asking him to entrust him the right Allah had assigned him in His Book from the fifth, to divide in his place lest any dispute him after him. The Messenger of Allah ﷺ replied they would do so. He entrusted it to him, and he divided it in his lifetime, then Abū Bakr رضي الله عنه entrusted it to him and he divided it. > **"We shall do so."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ ، فاطمہ اور زید بن حارثہ ، نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ! میری عمر زیادہ ہو گئی ہے ، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ، میرے اخراجات زیادہ ہو گئے ہیں ، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے لئے فلاں فلاں چیز کا حکم دیدیں ، یعنی میرے لئے اناج کے اتنے وسق کا حکم دے دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہم ایسا کر لیں گے ، فاطمہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ مناسب سمجھیں ، تو میرے لئے بھی اسی کی مانند حکم دے دیں ، جو آپ نے اپنے چچا کے لئے حکم دیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہم ایسا کر دیں گے ، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ نے مجھے ایک زمین دی تھی ، میرا گزر بسر اُسی سے ہوتا تھا ، پھر آپ نے وہ واپس لے لی ، اگر آپ مناسب سمجھیں ، تو وہ واپس کر دیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہم ایسا کر دیں گے ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یہ روایت امام ابوداؤد نے بھی نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ مناسب سمجھیں ، تو آپ مجھے اس حق کا نگران مقرر کر دیں ، جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آپ کے لئے مقرر کیا ہے ، جس کا تعلق خمس سے ہے ، اسے میں آپ کی جگہ تقسیم کر دیا کروں ، تاکہ آپ کے بعد میرے ساتھ کوئی جھگڑا نہ کرے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہم ایسا کر دیں گے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے اس کا نگران مقرر کیا ، آپ کی زندگی میں ، میں ہی اسے تقسیم کرتا رہا ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کا نگران مقرر کیا ، اور اسے میں ہی تقسیم کرتا رہا ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

14187

Majma al-Zawaid #14187

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «لَمَّا قُتِلَ أَبِي، دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَتُحِبُّ الدَّرَاهِمَ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: "" لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالٌ لَأَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا "". قَالَ: فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَنِي، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَتَاهُ مَالٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالَ: خُذْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: لَكَ - فَأَخَذْتُ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reports that when his father was slain, the Messenger of Allah ﷺ summoned him and asked whether he loved dirhams. He replied yes. He said had wealth come to them he would have given him such and such. The Messenger of Allah ﷺ died before giving him. When Abū Bakr رضي الله عنه was made successor, wealth came to him from Bahrayn, and he told him to take as the Messenger of Allah ﷺ had said. He took. > **"Do you love dirhams? Had wealth come to us I would have given you such and such."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میرے والد شہید ہو گئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا : کیا تم درہموں کو پسند کرتے ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر ہمارے پاس مال آیا ، تو میں تمہیں اتنے اتنے دوں گا ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے مجھے ادائیگی کرنے سے پہلے ، نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا ، تو ان کے پاس بحرین سے مال آیا ، تو انہوں نے فرمایا : تم اس طرح وصول کر لو ، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے تم سے ارشاد فرمایا تھا ، تو میں نے وہ وصول کر لیے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14188

Majma al-Zawaid #14188

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، إِلَّا إِنَّهُ قَالَ: "" «لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ» "". وَرِجَالُهُ كَذَلِكَ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ رِزْقِ اللَّهِ الْكَلُوذَانِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said he was sent only to perfect righteous morals, in another wording the noble morals. > **"I was sent only to perfect righteous morals."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے اس لئے مبعوث کیا گیا ہے ، تاکہ میں اچھے اخلاق کی تکمیل کروں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :” تاکہ میں مکارم اخلاق کی تکمیل کروں ۔‘‘ اس روایت کے رجال بھی اسی طرح ہیں ، تاہم محمد بن رزق اللہ کا کلوذانی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

14189

Majma al-Zawaid #14189

وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ خُلُقًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقَدْ رَأَيْتُهُ وَقَدْ رَكِبَ بِي مِنْ خَيْبَرَ عَلَى عَجُزِ نَاقَتِهِ لَيْلًا، فَجَعَلْتُ أَنْعَسُ، فَضَرَبَ رَأْسِي مُؤَخِّرَةُ الرَّحْلِ فَمَسَّنِي بِيَدِهِ، يَقُولُ: "" يَا هَذِهِ مَهْلًا يَا بِنْتَ حُيَيٍّ مَهْلًا "". حَتَّى إِذَا جَاءَ الصَّهْبَاءَ قَالَ: "" إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكَ يَا صَفِيَّةُ مِمَّا صَنَعْتُ بِقَوْمِكِ، إِنَّهُمْ قَالُوا لِي كَذَا، وَقَالُوا لِي كَذَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الرَّبِيعَ ابْنَ أَخِي صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Safiyya bint Huyayy رضي الله عنها reports seeing none better in character than the Messenger of Allah ﷺ. She saw him mounting her behind his she-camel at night from Khaybar; as she dozed and her head struck the saddle's back, he touched her with his hand, saying gently, O daughter of Huyayy, gently. When they reached al-Sahbāʾ he apologized to her for what he had done to her people, explaining what they had said to him. > **"Gently, O daughter of Huyayy, gently."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے زیادہ خوش اخلاق کوئی نہیں دیکھا ، مجھے آپ کے بارے میں یاد ہے ، خیبر میں رات کے وقت آپ نے مجھے اونٹ کے پچھلے حصے میں سوار کروایا ، میں اونگھنے لگی ، اور میرا سر پالان کے پچھلے حصے سے ٹکرانے لگا ، تو نبی اکرم ﷺ مجھے ہاتھ کے ذریعے چھو کر یہ فرما دیتے تھے : اے حیی کی صاحبزادی ! سنبھل کے ، اے حیی کی صاحبزادی ! ذرا سنبھل کے ، یہاں تک کہ آپ صہباء تشریف لے آئے ، آپ نے فرمایا : اے صفیہ ! میں تمہارے سامنے اس حوالے سے وجہ بیان کرتا ہوں ، جو میں نے تمہاری قوم کے ساتھ سلوک کیا ، اُن لوگوں نے میرے بارے میں یہ کہا تھا ، اور وہ کہا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ بیں ، البتہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے بھتیجے ربیع سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14190

Majma al-Zawaid #14190

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ وَحَدِيثِهِ عَلَى شَرِّ الْقَوْمِ يَتَأَلَّفُهُ بِذَلِكَ، وَكَانَ يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ وَحَدِيثِهِ عَلَيَّ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي خَيْرُ الْقَوْمِ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا خَيْرٌ أَمْ أَبُو بَكْرٍ؟ قَالَ: "" أَبُو بَكْرٍ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا خَيْرٌ أَمْ عُمَرُ؟ قَالَ: "" عُمَرُ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا خَيْرٌ أَمْ عُثْمَانُ؟ قَالَ: "" عُثْمَانُ "". فَلَمَّا سَأَلَتُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدَّ عَنِّي، فَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ سَأَلْتُهُ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-As رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ would turn his face and speech toward even the worst of people to reconcile him thereby. He turned his face and speech toward him until he thought himself the best of the people. He asked whether he was better or Abū Bakr. He replied Abū Bakr. He asked about Umar, and he replied Umar. He asked about ʿUthmān, and he replied ʿUthmān. When the Messenger of Allah ﷺ answered and turned from him, he wished he had never asked. > **"Abū Bakr. Umar. ʿUthmān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حاضرین میں سب سے برے فرد کے ساتھ بھی مکمل طور پر متوجہ ہو کر بات چیت کیا کرتے تھے ، آپ اس طرح اُس کی تالیف قلب کیا کرتے تھے ، میرے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے آپ مکمل طور پر متوجہ ہو کر بات چیت کرتے تھے ، یہاں تک کہ میں یہ گمان کرتا تھا ، کہ میں سب حاضرین سے بہتر ہوں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں زیادہ بہتر ہوں یا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابوبکر ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں زیادہ بہتر ہوں ، یا عمر رضی اللہ عنہ ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عمر ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں زیادہ بہتر ہوں یا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عثمان ، جب میں نے نبی اکرم ﷺ سے یہ سوال کیا اور آپ نے میرا ذکر نہیں کیا ، تو میری یہ خواہش ہوئی کہ میں نے آپ ﷺ سے یہ سوال نہ ہی کیا ہوتا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14191

Majma al-Zawaid #14191

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ was never given choice between two matters but chose the easier of them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو جب بھی دو معاملات کے درمیان اختیار دیا گیا ، تو آپ نے اس کو اختیار کیا ، جو ان دونوں میں زیادہ آسان تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14192

Majma al-Zawaid #14192

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يَأْخُذُ بِيَدِهِ فَيَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يُرْسِلُهُ، وَلَمْ يَكُنْ يَرَى رُكْبَتَيْهِ أَوْ رُكْبَتَهُ خَارِجًا عَنْ رُكْبَةِ جَلِيسِهِ، وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يُصَافِحُهُ إِلَّا أَقْبَلَ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، ثُمَّ لَمْ يَصْرِفْهُ عَنْهُ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ كَلَامِهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reports that none ever took the hand of the Messenger of Allah ﷺ but he kept his hand in his until the man released him. None ever saw his knees, or knee, protruding beyond his companion's knee. None ever shook his hand but he turned his face to him, then did not turn from him until he finished speaking.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جب کوئی شخص آپ کا ہاتھ پکڑتا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ اس کے ہاتھ سے خود ہاتھ نہیں چھڑاتے تھے ، یہاں تک کہ دوسرا شخص خود آپ کا ہاتھ چھوڑ دیتا تھا ، اور نہ ہی کبھی آپ کو یوں دیکھا گیا کہ آپ نے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کے سامنے گھٹنے پھیلائے ہوں ، نبی اکرم ﷺ سے جو بھی شخص مصافحہ کرتا تھا ، آپ مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہوتے تھے ، اور اس وقت تک اس سے منہ نہیں پھیرتے تھے ، جب تک وہ بات کر کے فارغ نہیں ہو جاتا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام طبرانی کی سند حسن ہے ۔

14193

Majma al-Zawaid #14193

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ يَسْتَعِينُهُ فِي شَيْءٍ قَالَ عِكْرِمَةُ: أُرَاهُ فِي دَمٍ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: "" أَحْسَنْتُ إِلَيْكَ؟ "". قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: لَا، وَلَا أَجْمَلْتَ. فَغَضِبَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ، وَهَمُّوا أَنْ يَقُومُوا إِلَيْهِ. فَأَشَارَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِمْ: أَنْ كُفُّوا. فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَلَغَ إِلَى مَنْزِلِهِ دَعَا الْأَعْرَابِيَّ إِلَى الْبَيْتِ، فَقَالَ لَهُ: "" إِنَّكَ جِئْتَنَا، فَسَأَلْتَنَا فَأَعْطَيْنَاكَ، فَقُلْتَ مَا قُلْتَ "". فَزَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا، فَقَالَ: "" أَحْسَنْتُ إِلَيْكَ؟ "". فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: نَعَمْ فَجَزَاكَ اللَّهُ مِنْ أَهْلٍ وَعَشِيرٍ خَيْرًا. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّكَ كُنْتَ جِئْتَنَا فَسَأَلْتَنَا فَأَعْطَيْنَاكَ، فَقُلْتَ مَا قُلْتَ وَفِي نَفْسِ أَصْحَابِي عَلَيْكَ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَإِذَا جِئْتَ فَقُلْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ مَا قُلْتَ بَيْنَ يَدَيَّ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْ صُدُورِهِمْ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ الْأَعْرَابِيُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ صَاحِبَكُمْ كَانَ جَاءَنَا، فَسَأَلَنَا فَأَعْطَيْنَاهُ، فَقَالَ مَا قَالَ، وَإِنَّا قَدْ دَعَوْنَاهُ فَأَعْطَيْنَاهُ فَزَعَمَ أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ أَكَذَاكَ؟ "". قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: نَعَمْ، فَجَزَاكَ اللَّهُ مِنْ أَهْلٍ وَعَشِيرٍ خَيْرًا. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ هَذَا الْأَعْرَابِيِّ كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ فَشَرَدَتْ عَلَيْهِ، فَاتَّبَعَهَا النَّاسُ فَلَمْ يَزِيدُوهَا إِلَّا نُفُورًا، فَقَالَ صَاحِبُ النَّاقَةِ: خَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَ نَاقَتِي فَأَنَا أَرْفَقُ بِهَا وَأَعْلَمُ بِهَا، فَتَوَجَّهَ إِلَيْهَا صَاحِبُ النَّاقَةِ فَأَخَذَ لَهَا مِنْ قُشَامِ الْأَرْضِ، وَدَعَاهَا حَتَّى جَاءَتْ وَاسْتَجَابَتْ، وَشَدَّ عَلَيْهَا رَحْلَهَا وَاسْتَوَى عَلَيْهَا، وَلَوْ أَنِّي أَطَعْتُكُمْ حَيْثُ قَالَ مَا قَالَ دَخَلَ النَّارَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reports that a bedouin came to the Messenger of Allah ﷺ seeking aid in something, as Ikrima thought concerning blood. The Messenger of Allah ﷺ gave him something, then asked whether he had done well to him. The bedouin replied no, nor beautifully. Some Muslims grew angry and moved to rise against him. The Prophet ﷺ signaled them to restrain. When the Prophet ﷺ rose to his house he summoned the bedouin inside and told him they had given him when he asked, yet he had said what he said. The Messenger of Allah ﷺ increased him something, then asked whether he had done well to him. The bedouin replied yes, may Allah reward him from kin and clan with good. The Prophet ﷺ told him his companions harbored something against him for it, so when he came he should say before them what he had said before him, to remove it from their breasts. He assented. When the bedouin came, the Messenger of Allah ﷺ said their companion had come, asked, been given, said what he said, then they had summoned and given him and he claimed satisfaction. He asked whether it was so. The bedouin replied yes, may Allah reward him from kin and clan with good. Abū Hurayra said the Prophet ﷺ then said his likeness and the bedouin's was like a man whose she-camel strayed, with people pursuing her only increasing her flight, until her owner said leave me with my she-camel, for I am gentler and more knowing with her. He turned to her, took herbage from the ground, called her until she came and obeyed, saddled and mounted her. Had he obeyed them where he said what he said, he would have entered the Fire. > **"Did I do well to you? Leave me with my she-camel, for I am gentler and more knowing with her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا ، وہ کسی کام کے سلسلے میں آپ سے مدد لینا چاہ رہا تھا ، عکرمہ کہتے ہیں : میرا خیال ہے وہ قتل کا کوئی معاملہ تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے کوئی چیز دی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کر دیا ہے ؟ دیہاتی نے کہا : جی نہیں ! آپ نے ٹھیک نہیں کیا ، تو مسلمانوں میں سے بعض لوگ غصے میں آ گئے اور انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ اُٹھ کر اس کی طرف جائیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ تم لوگ رک جاؤ ، جب نبی اکرم ﷺ اٹھے اور اپنے گھر گئے ، تو آپ نے دیہاتی کو گھر بلوایا اور اس سے فرمایا : تم ہمارے پاس آئے تھے ، تم نے ہم سے مانگا ، ہم نے تمہیں عطا کر دیا ، اور اس کے بارے میں تم نے ایک بات کی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اُسے مزید کچھ دیا اور دریافت کیا : کیا میں نے تمہارے ساتھ ٹھیک سلوک کیا ہے ؟ اس دیہاتی نے کہا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ آپ کو اہل خانہ اور خاندان کی طرف سے جزائے خیر عطا کرے ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تم ہمارے پاس آئے تھے ، تم نے ہم سے مانگا ، ہم نے تمہیں دیا ، پھر اس کے بارے میں تم نے ایک بات کی ، میرے ساتھیوں کے من میں تمہارے لیے اُس حوالے سے کچھ الجھن ہے ، جب تم جاؤ گے ، تو ان کے درمیان یہ کہہ دینا کہ جو تم نے میرے سامنے کہا ہے ، تاکہ اُن کے دل کی الجھن ختم ہو جائے ، اس نے کہا : ٹھیک ہے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ دیہاتی آیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا ساتھی ہمارے پاس آیا ، اس نے ہم سے مانگا ، ہم نے اسے دیا ، اس نے ایک بات کی ، پھر ہم نے اسے بلایا اور اسے دیا ، پھر اس کا یہ کہنا ہے کہ یہ راضی ہو گیا ہے ، کیا ایسا ہی ہے ؟ اس دیہاتی نے کہا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ آپ کو اہل خانہ اور خاندان کی طرف سے جزائے خیر عطا کرے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری اور اس دیہاتی کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے ، جس کے پاس اونٹنی ہوتی ہے ، وہ اونٹنی اس شخص کی نافرمانی کرتی ہے ، لوگ اس کے پیچھے جاتے ہیں ، تو اس اونٹنی کے متنفر ہونے میں اضافہ ہی ہوتا ہے ، اونٹنی کا مالک کہتا ہے : تم لوگ میرے اور میری اونٹنی کے درمیان جگہ کو چھوڑ دو ، کیونکہ میں اس سے زیادہ واقف ہوں ، اور اس کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں ، پھر اونٹنی کا مالک اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، اور اس کے لئے زمین سے کھانے کی چیز اٹھاتا ہے ، اور اسے بلاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ آ جاتی ہے ، اور اس کی بات مان لیتی ہے ، پھر وہ اس پر پالان رکھتا ہے ، اور اس پر سوار ہو جاتا ہے ، تو اگر میں تمہاری کہی ہوئی ہر بات مان لوں ، تو ( ہو سکتا ہے ، وہ اپنی بات پر اصرار کرنے والا شخص ) جہنم میں چلا جائے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14194

Majma al-Zawaid #14194

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا وَدَّعَ رَجُلًا أَخَذَ بِيَدِهِ فَلَا يَدَعُ يَدَهُ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَدَعُ يَدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that when the Messenger of Allah ﷺ bade farewell to a man, he would take his hand and would not release his hand until the other man himself released the hand of the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ جب کسی شخص کو رخصت کرتے تھے ، تو آپ اس کا ہاتھ پکڑ لیتے تھے اور اس کا ہاتھ اُس وقت تک نہیں چھوڑتے تھے ، جب تک دوسرا شخص ، خود نبی اکرم ﷺ کا ہاتھ نہیں چھوڑ دیتا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالرحمن بن امیہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14195

Majma al-Zawaid #14195

«وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تِسْعَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ: مَا أَقْبَحَ مَا صَنَعْتَ. وَلَا قَالَ لِشَيْءٍ يُعْجِبُهُ: مَا أَحْسَنَ مَا صَنَعْتَ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that he served the Messenger of Allah ﷺ for nine years, and for anything displeasing he never said to him how ugly was what you did, nor for anything pleasing did he ever say how excellent was what you did.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی نو سال خدمت کی ہے ، جو بات آپ کو ناگوار گزری ہو ، ایسی کسی چیز کے بارے میں ، آپ نے کبھی مجھے یہ نہیں کہا کہ تم نے جو کیا ہے وہ کتنا برا ہے ؟ اور جو چیز آپ کو پسند آئی ہو ، اُس کے بارے میں آپ نے کبھی یہ نہیں کہا : کہ یہ کتنا اچھا کام ہے ، جو تم نے کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت صحیح میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد سفیان بن وکیع کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14196

Majma al-Zawaid #14196

«وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَيْضًا قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشْرَ سِنِينَ مَا دَرَيْتُ شَيْئًا قَطُّ وَافَقَهُ، وَلَا شَيْئًا قَطُّ خَالَفَهُ، رَضِيَ مِنَ اللَّهِ بِمَا كَانَ، وَإِنْ كَانَ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ لَيَقُولُ: لَوْ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا يَقُولُ: "" دَعُوهُ ; فَإِنَّهُ لَا يَكُونُ إِلَّا مَا أَرَادَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - "". وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا إِنِ انْتُهِكَتْ لِلَّهِ حُرْمَةٌ، فَانِ انْتُهِكَتْ لِلَّهِ حُرْمَةٌ كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ غَضَبًا لِلَّهِ، وَمَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ سُخْطٌ لِلَّهِ، فَانْ كَانَ فِيهِ لِلَّهِ سُخْطٌ كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that he served the Messenger of Allah ﷺ for ten years, never perceiving him to approve one thing or oppose another, but content with whatever Allah decreed, and if any of his wives said if only you had done such and such he would intervene on his servant's behalf, and he never saw him take revenge for himself except when a sanctity of Allah was violated, whereupon his anger for Allah was severest, and whenever two matters were presented to him he chose the easier so long as it entailed no displeasure of Allah, otherwise he kept furthest from it. > **"Leave him, for only what Allah Almighty wills shall come to be."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی دس سال خدمت کی ہے ، مجھے نہیں یاد کہ کبھی ایسا ہوا ہو ، کہ آپ نے کبھی کسی چیز کی موافقت کی ہو ، یا کسی چیز کی مخالفت کی ہو ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی سامنے آتا تھا ، آپ اس سے راضی ہوتے تھے ، اگر آپ کی ازواج میں سے کوئی خاتون یہ کہہ دیتی تھیں : اگر تم اس طرح اور اس طرح کر لیتے تو یہ مناسب تھا ، نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے : اسے رہنے دو ! کیونکہ ہو گا صرف وہی ، جو اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہو ، میں نے کبھی نبی اکرم ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے اپنی ذات کے لئے کسی حوالے سے انتقام لیا ہو ، البتہ جب اللہ تعالیٰ کی کسی حرمت کی پامالی ہوتی تھی ، تو معاملہ مختلف تھا ، جب اللہ تعالیٰ کی کسی حرمت کو پامال کیا جاتا تھا ، تو اللہ تعالیٰ کے بارے میں ، آپ سب سے زیادہ غضبناک ہوتے تھے اور جب بھی آپ کے سامنے دو معاملات پیش کیے گئے ، تو آپ نے اس کو اختیار کیا ، جو زیادہ آسان ہوتا تھا ، جبکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا پہلو نہ پایا جاتا ہو ، اگر اس میں ناراضگی کا پہلو پایا جاتا ہوتا ، تو آپ ﷺ اس سے سب سے زیادہ دور رہتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14197

Majma al-Zawaid #14197

«وَعَنْ مُهَاجِرٍ - مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ - قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِنِينَ فَلَمْ يَقُلْ لِشَيْءٍ صَنَعْتُ: لِمَ صَنَعْتَهُ؟ وَلَا لِشَيْءِ تَرَكْتُ: لِمَ تَرَكْتَهُ»؟. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Muhajir, the freedman of Umm Salamah رضي الله عنها, reports that he served the Messenger of Allah ﷺ for years, and for anything he did he never said why did you do it, nor for anything he left did he ever say why did you leave it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام ، مہاجر بیان کرتے ہیں : میں نے چند سال نبی اکرم ﷺ کی خدمت کی ہے ، میں نے اگر کوئی کام کیا ، تو اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے کبھی یہ نہیں فرمایا : کہ تم نے یہ کیوں کیا ؟ اور جس کام کو میں نے چھوڑ دیا ہو ، اُس کے بارے میں یہ نہیں فرمایا کہ تم نے اسے کیوں چھوڑ دیا ؟۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14198

Majma al-Zawaid #14198

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالَ: «قَدِمْتُ مِنْ سَفَرٍ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدِي فَمَا تَرَكَ يَدِي حَتَّى تَرَكْتُ يَدَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْجَلْدُ بْنُ أَيُّوبَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Maslamah رضي الله عنه reports that he arrived from a journey, whereupon the Messenger of Allah ﷺ took his hand and did not release his hand until he himself released his hand.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک سفر سے آیا ، نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور آپ نے میرا ہاتھ اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک کہ میں نے آپ کے ہاتھ کو نہیں چھوڑ دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جلد بن ایوب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14199

Majma al-Zawaid #14199

وَعَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: «دَخَلَ نَفَرٌ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَقَالُوا: حَدِّثْنَا بِبَعْضِ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: وَمَا أُحَدِّثُكُمْ؟ كُنْتُ جَارَهُ، فَكَانَ إِذَا نَزَلَ الْوَحْيُ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَكَتَبْتُ الْوَحْيَ. وَكَانَ إِذَا ذَكَرْنَا الْآخِرَةَ ذَكَرَهَا مَعَنَا، وَإِذَا ذَكَرْنَا الدُّنْيَا ذَكَرَهَا مَعَنَا، وَإِنْ ذَكَرْنَا الطَّعَامَ ذَكَرَهُ مَعَنَا. فَكُلُّ هَذَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Kharijah ibn Zayd ibn Thabit reports that a group came to Zayd ibn Thabit رضي الله عنه asking him to narrate some hadith of the Messenger of Allah ﷺ, whereupon he replied asking what he should narrate, for he had been his neighbour, and when revelation descended he would send for him and he would write it, and when they spoke of the Hereafter he joined them in it, when they spoke of the world he joined them in it, and when they spoke of food he joined them in it, and all such conduct is what he could narrate of him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خارجہ بن زید بن ثابت بیان کرتے ہیں : کچھ افراد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : آپ ہمیں نبی اکرم ﷺ کی کوئی حدیث بیان کیجئے ، تو انہوں نے فرمایا : میں تمہیں کیا حدیث بیان کروں ؟ میں آپ کا پڑوسی تھا ، جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو آپ مجھے پیغام بھیج کر بلواتے تھے اور میں وحی نوٹ کر لیتا تھا ، جب ہم آخرت کو یاد کرتے تھے ، تو آپ بھی ہمارے ساتھ اسے یاد کرتے تھے ، جب ہم دنیا کا ذکر کرتے تھے تو آپ بھی ہمارے ساتھ اس کا ذکر کرتے تھے ، جب ہم کھانے کا ذکر کرتے تھے تو آپ بھی ہمارے ساتھ اس کا ذکر کرتے تھے ، تو ساری چیزیں یہی ہیں ، جن کے بارے میں ، میں تمہیں بیان کر سکتا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14200

Majma al-Zawaid #14200

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَضْحَكِ النَّاسِ، وَأَطْيَبِهِمْ نَفْسًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ was among the most smiling of people and the sweetest of them in spirit.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سب سے زیادہ مسکرانے والے اور سب سے زیادہ خوش مزاج تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14201

Majma al-Zawaid #14201

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنِّي لَأَمْزَحُ وَلَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا "". قَالُوا: إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that he said he jests yet speaks only truth, whereupon they said that he bantered with them, and he affirmed that he speaks only truth. > **"Indeed I jest, yet I speak only truth. Indeed I speak only truth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں مزاح بھی کرتا ہوں ، لیکن میں صرف حق بات کہتا ہوں ۔‘‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ ہمارے ساتھ مزاح کر لیتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں صرف حق بات کہتا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14202

Majma al-Zawaid #14202

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَتَاهُ الْوَحْيُ أَوْ وَعَظَ قُلْتَ: نَذِيرُ قَوْمٍ أَتَاهُمُ الْعَذَابُ، فَإِذَا ذَهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ رَأَيْتَ أَطْلَقَ النَّاسِ وَجْهًا، وَأَكْثَرَهُمْ ضَحِكًا، وَأَحْسَنَهُمْ بِشْرًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that when revelation came to the Messenger of Allah ﷺ or when he admonished, one would have said he was a warner of a people visited by punishment, yet when that state left him one saw him with the most radiant face, the most laughter, and the finest cheerfulness.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی ، یا جب آپ وعظ کر رہے ہوتے تھے ، تو میں یہ سوچتا تھا کہ آپ لوگوں کو ڈرا رہے ہیں ، جن کے پاس عذاب آنے والا ہے ، اور جب آپ کی یہ صورت حال ختم ہو جاتی تھی ، تو میں یہ سوچا کرتا تھا کہ آپ سب سے زیادہ خندہ پیشانی والے ، سب سے زیادہ مسکرانے والے ، سب سے زیادہ خوش اخلاق تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14203

Majma al-Zawaid #14203

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُفُّ عَبْدَ اللَّهِ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ، وَكُثَيِّرًا بَنِي الْعَبَّاسِ، ثُمَّ يَقُولُ: "" مَنْ سَبَقَ إِلَيَّ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا "". قَالَ: فَيَسْتَبِقُونَ إِلَيْهِ، فَيَقَعُونَ عَلَى ظَهْرِهِ وَصَدْرِهِ، فَيُقَبِّلُهُمْ وَيَلْزَمُهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Harith رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ would line up Abdullah, Ubaydullah and Kathir, the sons of al-Abbas, and announce a reward for whoever reached him first, whereupon they would race to him and fall upon his back and chest, and he would kiss them and embrace them. > **"Whoever reaches me first shall have such and such."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں عبداللہ ، عبیداللہ اور کثیر کی صف بناتے تھے اور پھر یہ فرماتے تھے : جو مجھ تک پہلے پہنچ جائے گا ، تو اسے یہ یہ ملے گا ، تو وہ ( بچے ) دوڑ کر آتے تھے ، اور آپ کی پشت اور سینے پر گر جاتے تھے اور آپ انہیں بوسہ دیتے تھے اور انہیں ساتھ لپٹا لیتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14204

Majma al-Zawaid #14204

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يَلْتَفِتُ إِذَا مَشَى، وَكَانَ رُبَّمَا تَعَلَّقَ رِدَاؤُهُ بِالشَّجَرَةِ أَوِ الشَّيْءِ فَلَا يَلْتَفِتُ حَتَّى يَرْفَعُوهُ ; لِأَنَّهُمْ كَانُوا يَمْزَحُونَ وَيَضْحَكُونَ، وَكَانُوا قَدْ أَمِنُوا الْتِفَاتَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ would not turn around while walking, and sometimes his cloak would catch upon a tree or some object yet he would not turn until others lifted it, for they would jest and laugh, secure that he ﷺ would not turn toward them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ چلتے ہوئے ادھر ادھر توجہ نہیں کرتے تھے ، بعض اوقات آپ کی چادر درخت سے ، یا کسی چیز سے اٹک جاتی تھی ، تو آپ توجہ نہیں کرتے تھے ، یہاں تک کہ لوگ اسے اٹھا لیتے تھے ، لوگ مزاح کرتے تھے اور ہنسا کرتے تھے ، انہیں یہ پتہ ہوتا تھا کہ نبی اکرم ﷺ اس طرف توجہ نہیں کریں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14205

Majma al-Zawaid #14205

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشَدَّ حَيَاءً مِنْ عَذْرَاءَ فِي خِدْرِهَا، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Husayn رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ was more modest than a virgin behind her veil, and when he disliked something it was recognized in his face.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ پردے میں موجود ، پردہ نشین خواتین سے زیادہ حیاء والے تھے ، جب آپ کو کوئی چیز ناگوار گزرتی تھی ، تو ہمیں آپ کے چہرے سے اس کا پتہ چل جاتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14206

Majma al-Zawaid #14206

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ الْمُقَدِّمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ was more modest than a virgin behind her veil, and when he disliked something it was recognized in his face, and the Messenger of Allah ﷺ said that modesty is entirely good. > **"Modesty is entirely good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ پردہ نشین ، پردہ دار خواتین سے زیادہ حیا والے تھے ، جب آپ کو کوئی چیز ناگوار گزرتی تھی ، تو ہمیں آپ ﷺ کے چہرے سے پتہ چل جاتا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حیاء ، ساری کی ساری بھلائی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمر مقدمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14207

Majma al-Zawaid #14207

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَغْتَسِلُ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ، وَمَا رُئِيَ عَوْرَتَهُ قَطُّ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ would bathe from behind the chambers, and his private area was never seen at all.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حجروں کے پار غسل کرتے تھے ، آپ کی شرمگاہ کو کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14208

Majma al-Zawaid #14208

عَنْ حَرْبِ بْنِ سُرَيْجٍ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مَنْ بَلْعَدَوِيَّةَ قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي قَالَ: «انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَزَلْتُ عِنْدَ الْوَادِي، فَإِذَا رَجُلَانِ بَيْنَهُمَا عَنْزٌ وَاحِدَةٌ، وَإِذَا الْمُشْتَرِي يَقُولُ لِلْبَائِعِ: "" أَحْسِنْ مُبَايَعَتِي "". قَالَ: فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: هَذَا الْهَاشِمِيُّ الَّذِي قَدْ أَضَلَّ النَّاسَ، أَهْوَ هُوَ؟ قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ حَسَنُ الْجِسْمِ، عَظِيمُ الْجَبْهَةِ، دَقِيقُ الْأَنْفِ، دَقِيقُ الْحَاجِبَيْنِ، وَإِذَا مِنْ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ إِلَى سُرَّتِهِ مِثْلُ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ، شَعْرٌ أَسْوَدُ، وَإِذَا هُوَ بَيْنَ طِمْرِينِ. قَالَ: فَدَنَا مِنَّا فَقَالَ: "" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ "". فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ، فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ دَعَا الْمُشْتَرِيَ. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لَهُ يُحْسِنْ مُبَايَعَتِي. فَمَدَّ يَدَهُ وَقَالَ: "" أَمْوَالَكُمْ تَمْلِكُونَ، إِنِّي أَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَطْلُبُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ بِشَيْءٍ ظَلَمْتُهُ فِي مَالٍ، وَلَا فِي دَمٍ، وَلَا عِرْضٍ، إِلَّا بِحَقِّهِ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً سَهْلَ الْبَيْعِ، سَهْلَ الشِّرَاءِ، سَهْلَ الْأَخْذِ، سَهْلَ الْعَطَاءِ، سَهْلَ الْقَضَاءِ، سَهْلَ التَّقَاضِي "". ثُمَّ مَضَى، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأَقُصَّنَّ هَذَا فَإِنَّهُ حَسَنُ الْقَوْلِ، فَتَبِعْتُهُ فَقُلْتُ: يَا مُحَمَّدُ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ بِجَمِيعِهِ فَقَالَ: "" مَا تَشَاءُ؟ "". فَقُلْتُ: أَنْتَ الَّذِي أَضْلَلْتَ النَّاسَ، وَأَهْلَكْتَهُمْ، وَصَدَدْتَهُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ؟ قَالَ: "" ذَاكَ اللَّهُ "". قَالَ: مَا تَدْعُو إِلَيْهِ؟ قَالَ: "" أَدْعُو عِبَادَ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ "". قَالَ: قُلْتُ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ: "" أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَأَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، وَتُؤْمِنُ بِمَا أَنْزَلَهُ عَلَيَّ، وَتَكْفُرُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ "". قَالَ: قُلْتُ: وَمَا الزَّكَاةُ؟ قَالَ: "" يَرُدُّ غَنِيُّنَا عَلَى فَقِيرِنَا "". قَالَ: قُلْتُ: نِعْمَ الشَّيْءُ تَدْعُو إِلَيْهِ. قَالَ: فَلَقَدْ كَانَ وَمَا فِي الْأَرْضِ أَحَدٌ يَتَنَفَّسُ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْهُ، فَمَا بَرِحَ حَتَّى كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ وَلَدِي، وَوَالِدِي، وَمِنَ النَّاسِ أَجْمَعِينَ. قَالَ: فَقُلْتُ: قَدْ عَرَفْتُ. قَالَ: "" قَدْ عَرَفْتَ "". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ، وَأَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، وَتُؤْمِنُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَيَّ؟ "". قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرِدُ مَاءً عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَأَدْعُوهُمْ إِلَى مَا دَعَوْتَنِي إِلَيْهِ، فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يَتَّبِعُوكَ. قَالَ: "" نَعَمْ فَادْعُهُمْ "". فَأَسْلَمَ أَهْلُ ذَلِكَ الْمَاءِ رِجَالُهُمْ وَنِسَاؤُهُمْ، فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Harb ibn Surayj reports from a man of Baladawiyyah, from his grandfather, who said that he set out to Madinah and halted at the valley where two men stood disputing over a single goat, the buyer urging the seller to deal fairly with him, and he wondered within himself whether this Hashimi who had led people astray was present, then he looked and saw a man of handsome build, broad forehead, fine nose and fine eyebrows, with black hair like a black thread from the hollow of his throat to his navel, wrapped in two worn garments. He drew near and greeted them with peace, which they returned, and the buyer soon called upon the Messenger of Allah ﷺ to bid the seller deal fairly, whereupon he extended his hand and admonished them concerning their property and his hope of meeting Allah on the Day of Resurrection without any claim of wrongdoing in wealth, blood or honour, and invoked mercy upon the gentle seller, buyer, taker, giver, payer and claimant, then went on. The narrator resolved to follow him for the beauty of his speech, addressed him by name, and he turned to him fully asking what he wanted, whereupon he charged him with misleading and ruining people and barring them from what their fathers worshipped, and he answered that such worship belonged to Allah, and that he called the servants of Allah to Allah, testifying that none is worthy of worship but Allah and that he, Muhammad, is the Messenger of Allah, commanding belief in what was revealed to him, disbelief in al-Lat and al-Uzza, establishment of prayer and payment of zakah, which he explained as the rich returning wealth to their poor, and the narrator declared it an excellent call. He added that none on earth had been more hateful to him than he, yet he did not leave him until he became dearer to him than his child, his father and all mankind. He professed recognition, affirmed the testimony and belief, and told the Messenger of Allah ﷺ that he frequented a water visited by many people and would invite them to what he had invited him to, hoping they would follow him, and he permitted him to invite them, so the men and women of that water embraced Islam, and the Messenger of Allah ﷺ stroked his head. > **"Peace be upon you. You own your wealth. I hope to meet Allah Almighty on the Day of Resurrection with none of you seeking from me anything wherein I wronged him in wealth, blood or honour, except by its right. May Allah have mercy upon a man who is gentle in selling, gentle in buying, gentle in taking, gentle in giving, gentle in paying, and gentle in claiming. What do you wish? That is Allah. I call the servants of Allah to Allah. I testify that none is worthy of worship but Allah and that I, Muhammad, am the Messenger of Allah, and you shall believe in what was revealed to me, disbelieve in al-Lat and al-Uzza, establish prayer and give zakah. Our rich shall return wealth to our poor. You have recognized. Do you testify that none is worthy of worship but Allah and that I, Muhammad, am the Messenger of Allah, and do you believe in what was revealed to me? Yes, so invite them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حرب بن سریج بیان کرتے ہیں : بلعدویہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مجھے یہ بات بتائی ہے ، وہ کہتے ہیں : میرے دادا نے مجھے یہ بات بتائی ہے : میں مدینہ منورہ گیا ، وہاں میں نے ایک وادی میں پڑاؤ کیا ، وہاں دو افراد موجود تھے ، جن کے درمیان ایک بکری تھی ، خریدار شخص ، فروخت کرنے والے سے کہہ رہا تھا : تم میرے ساتھ اچھی طرح سودا کرنا ، میں نے دل میں سوچا ، یہی ہاشمی نوجوان ہے ، جس نے لوگوں کو گمراہ کیا ہے ، کیا یہ وہی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : جب میں نے غور سے جائزہ لیا ، تو وہ ایسے شخص تھے ، جن کا جسم خوبصورت تھا ، پیشانی بڑی تھی ، ناک پتلی تھی ، بھنویں پتلی تھیں ، ان کے سینے سے لے کر ناف تک سیاہ رنگ کی بالوں کی لکیر سی تھی اور انہوں نے دو چادریں اوڑھی ہوئی تھیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ ہمارے قریب آئے اور بولے : السلام علیکم ، ہم نے انہیں سلام کا جواب دیا ، تھوڑی دیر بعد خریدار نے بلایا اور کہا : یا رسول اللہ ! اس سے کہیں کہ یہ میرے ساتھ اچھی طرح سے سودا کرے ، تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارے اموال ہیں ، تم ان کے مالک ہو ، مجھے یہ امید ہے کہ جب میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں گا ، تو تم میں سے کوئی ایک شخص کسی ایسی چیز کے حوالے سے مجھ سے مطالبہ نہیں کرے گا ، جو میں نے کسی کے مال یا جان یا عزت کے حوالے سے ، اُس کے ساتھ زیادتی کی ہو ، اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے ، جو فروخت کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے ، خریدتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے ، لیتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے ، دیتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے ، ادائیگی کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے ، اور تقاضا کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے ۔ پھر آپ تشریف لے گئے ، میں نے سوچا : اللہ کی قسم ! میں ان کے پیچھے جاؤں گا ، کیونکہ ان کی بات تو اچھی ہے ، میں آپ کے پیچھے چلا گیا ، میں نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ میری طرف پوری طرح مڑ کر متوجہ ہوئے اور فرمایا : تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا : آپ ہی وہ فرد ہیں ، جنہوں نے لوگوں کو گمراہ کیا ہوا ہے ، اور انہیں ہلاکت کا شکار کر دیا ہے ، اور آپ انہیں اس چیز سے روکتے ہیں جن کی ان کے آباؤ اجداد عبادت کیا کرتے تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ ( یعنی عبادت کے لائق ) تو اللہ تعالیٰ ہے ، میں نے کہا : آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں اللہ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کی دعوت دیتا ہوں ، میں نے کہا : آپ کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اللہ کا رسول ہوں ، تم اس بات پر ایمان لاؤ ، جو مجھ پر نازل کیا گیا ہے ، لات اور عزیٰ کا انکار کرو ، تم نماز قائم کرو اور تم زکوۃ دو ، راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : زکوۃ کیا ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ ہمارے خوش حال لوگ ہمارے غریبوں کو دیتے ہیں ، میں نے کہا : یہ تو اچھی بات ہے ، جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں ، پھر راوی نے بیان کیا : پہلے یہ صورت حال تھی کہ روئے زمین پر کوئی بھی فرد ، میرے نزدیک ان سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا ، لیکن پھر یہ عالم ہو گیا کہ آپ میرے نزدیک میری اولاد ، میرے والد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے کہا : میں نے معرفت حاصل کر لی ہے ، آپ نے فرمایا : تم نے جان لیا ہے ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں ، محمد ( ﷺ ) اللہ کا رسول ہوں ، اور تم اس بات پر ایمان لاؤ ، جو مجھ پر نازل کی گئی ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! میں ایسے پانی پر جاؤں گا جہاں بہت سے لوگ آتے ہیں اور ان لوگوں کو اس چیز کی طرف دعوت دوں گا ، جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں ، تو مجھے یہ امید ہے کہ وہ لوگ آپ کی پیروی کر لیں گے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ٹھیک ہے ، تم ان کو دعوت دو ، راوی کہتے ہیں : تو اس پانی کے آس پاس رہنے والے لوگوں نے ، ان کے مردوں اور خواتین نے اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم ﷺ نے ان صاحب کے سر پر ہاتھ بھی پھیرا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14209

Majma al-Zawaid #14209

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَلَسَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا مَلَكٌ يَنْزِلُ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: إِنَّ هَذَا الْمَلَكَ مَا نَزَلَ مُنْذُ يَوْمِ خُلِقَ قَبْلَ السَّاعَةِ، فَلَمَّا نَزَلَ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَبُّكَ قَالَ: أَفَمَلِكًا نَبِيًّا أَجْعَلُكَ، أَوْ عَبْدًا رَسُولًا؟ قَالَ جِبْرِيلُ: تَوَاضَعْ لِرَبِّكَ يَا مُحَمَّدُ. قَالَ: بَلْ عَبْدًا رَسُولًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ الْأَوَّلَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that Jibrīl sat with the Prophet ﷺ and looked to the sky where an angel was descending, and Jibrīl said this angel had never descended since the day he was created until this hour, and when he descended he said that his Lord had sent him to make him a king prophet or a slave messenger, whereupon Jibrīl told him to humble himself before his Lord, and he chose a slave messenger. > **"O Muhammad, has your Lord sent me to you. Shall I make you a king prophet or a slave messenger? Humble yourself before your Lord, O Muhammad. Rather a slave messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا ، ایک فرشتہ اتر رہا تھا ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : یہ فرشتہ جب سے پیدا ہوا ہے ، آج سے پہلے کبھی نیچے نہیں اترا ، جب وہ نیچے اتر آیا ، تو اس نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ کے پروردگار نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے اور فرمایا ہے : کیا میں آپ کو ’’ بادشاہ ‘‘ نبی بناؤں یا ’’ عبد ‘‘ رسول بناؤں ؟ حضرت جبرائیل نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ اپنے پروردگار کے سامنے تواضع اختیار کیجئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ ’’ عبد ‘‘ رسول ( میں بننا چاہتا ہوں ) ۔ یہ روایت امام احمد نے ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور پہلی روایات کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14210

Majma al-Zawaid #14210

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا عَائِشَةُ، لَوْ شِئْتُ لَسَارَتْ مَعِي جِبَالُ الذَّهَبِ، جَاءَنِي مَلَكٌ إِنَّ حُجْزَتَهُ لَتُسَاوِي الْكَعْبَةَ، فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ، وَيَقُولُ لَكَ: إِنْ شِئْتَ نَبِيًّا عَبْدًا، وَإِنْ شِئْتَ نَبِيًّا مَلِكًا؟ قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَى جِبْرِيلَ قَالَ: فَأَشَارَ إِلَيَّ: أَنْ ضَعْ نَفْسَكَ قَالَ: فَقُلْتُ: نَبِيًّا عَبْدًا "". قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ذَلِكَ لَا يَأْكُلُ مُتَّكِئًا، يَقُولُ: "" آكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ، وَأَجْلِسُ كَمَا يَجْلِسُ الْعَبْدُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ said that had he wished mountains of gold would have gone with him, for an angel whose girth equalled the Kaʿbah came saying his Lord greeted him with peace and gave him choice to be a slave prophet or a king prophet, and he looked to Jibrīl who signalled him to humble himself, so he said a slave prophet. Thereafter the Messenger of Allah ﷺ never ate reclining, saying he eats as the slave eats and sits as the slave sits. > **"O ʿĀʾishah, had I wished mountains of gold would have gone with me. Your Lord greets you with peace and says to you: if you wish a slave prophet, and if you wish a king prophet? Lower yourself. A slave prophet. I eat as the slave eats, and I sit as the slave sits."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عائشہ ! اگر میں چاہوں ، تو پہاڑ میرے ساتھ سونے کے بن کے چلیں ، میرے پاس ایک فرشتہ آیا , جس کا ڈب ، خانہ کعبہ جتنا تھا ، اس نے کہا : آپ کے پروردگار نے آپ کو سلام کہا ہے ، اور آپ سے یہ فرمایا ہے : اگر آپ چاہیں ، تو آپ ’’ عبد ‘‘ نبی بن جائیں اور اگر آپ چاہیں تو ’’ بادشاہ ‘‘ نبی بن جائیں ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا تو انہوں نے مجھے یہ اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں ، تو میں نے کہا :” عبد “ نبی ( میں ، بننا چاہوں گا ) ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کبھی بھی ٹیک لگا کر نہیں کھاتے تھے ، آپ یہ فرماتے تھے : میں اس طرح کھاؤں گا ، جس طرح کوئی عبد کھاتا ہے ، اور اس طرح بیٹھوں گا ، جس طرح کوئی عبد بیٹھتا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14211

Majma al-Zawaid #14211

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَقَدْ هَبَطَ عَلَيَّ مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ مَا هَبَطَ عَلَى نَبِيٍّ قَبْلِي، وَلَا يَهْبِطُ عَلَى أَحَدٍ بَعْدِي، وَهُوَ إِسْرَافِيلُ، وَعِنْدَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، أَنَا رَسُولُ رَبِّكَ إِلَيْكَ، أَمَرَنِي أَنْ أُخَيِّرَكَ إِنْ شِئْتَ نَبِيًّا عَبْدًا، وَإِنْ شِئْتَ نَبِيًّا مَلِكًا؟ فَنَظَرْتُ إِلَى جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَأَوْمَأَ جِبْرِيلُ إِلَيَّ: أَنْ تَوَاضَعْ "". فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ ذَلِكَ: "" لَوْ أَنِّي قُلْتُ: نَبِيًّا مَلِكًا ; لَسَارَتِ الْجِبَالُ مَعِي ذَهَبًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابْلُتِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that an angel descended from heaven who had never descended upon any prophet before him nor would descend upon anyone after him, and he was Isrāfīl, with Jibrīl alongside him, greeting him and conveying his Lord's command to choose whether to be a slave prophet or a king prophet, and he looked to Jibrīl who gestured to humble himself, and the Prophet ﷺ then said that had he said a king prophet the mountains would have gone with him as gold. > **"Peace be upon you, O Muhammad, I am a messenger of your Lord to you. He has commanded me to give you choice: if you wish a slave prophet, and if you wish a king prophet? Humble yourself. Had I said a king prophet, the mountains would have gone with me as gold."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا ، وہ مجھ سے پہلے کسی نبی پر نازل نہیں ہوا تھا ، اور میرے بعد بھی کسی پر نازل نہیں ہو گا ، اور وہ اسرافیل علیہ السلام ہے ، اس کے ساتھ جبرائیل علیہ السلام بھی تھے ، اس نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ کو سلام ہو ، میں آپ کے پروردگار کا آپ کی طرف قاصد ہوں ، اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کو یہ اختیار دوں کہ اگر آپ چاہیں تو ’’ عبد ‘‘ نبی بن جائیں ، اور اگر چاہیں تو ’’ بادشاہ ‘‘ نبی بن جائیں ، میں نے جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا ، تو جبرائیل علیہ السلام نے مجھے اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں ! تو اس وقت نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر میں یہ کہہ دیتا کہ میں ’’ بادشاہ ‘‘ نبی بنوں گا ، تو پہاڑوں نے ’’ سونے ‘‘ کا ہو کر میرے ساتھ چلنا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14212

Majma al-Zawaid #14212

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يُنَاجِيهِ، إِذِ انْشَقَّ أُفُقُ السَّمَاءِ، فَأَقْبَلَ جِبْرِيلُ يَدْنُو مِنَ الْأَرْضِ وَيَتَمَايَلُ، فَإِذَا مَلَكٌ قَدْ مَثُلَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا مُحَمَّدُ، يَأْمُرُكَ رَبُّكَ أَنْ تَخْتَارَ بَيْنَ نَبِيٍّ عَبْدٍ أَوْ مَلِكٍ نَبِيٍّ؟ فَأَشَارَ جِبْرِيلُ إِلَيَّ بِيَدِهِ: أَنْ تَوَاضَعْ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لِي نَاصِحٌ، فَقُلْتُ: عَبْدٌ نَبِيٌّ، فَعَرَجَ ذَلِكَ الْمَلَكُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، قَدْ كُنْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ هَذَا، فَرَأَيْتُ مِنْ حَالِكَ مَا شَغَلَنِي عَنِ الْمَسْأَلَةِ، فَمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا إِسْرَافِيلُ خَلَقَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ صَافًّا قَدَمَيْهِ، لَا يَرْفَعُ طَرْفَهُ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّبِّ سَبْعُونَ نُورًا، مَا مِنْهَا نُورٌ يَكَادُ يَدْنُو مِنْهُ إِلَّا احْتَرَقَ، بَيْنَ يَدَيْهِ لَوْحٌ، فَإِذَا أَذِنَ اللَّهُ فِي شَيْءٍ فِي السَّمَاءِ أَوْ فِي الْأَرْضِ ارْتَفَعَ ذَلِكَ فَضَرَبَ جَبْهَتَهُ فَيَنْظُرُ، فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ مِنْ عَمَلِي أَمَرَنِي بِهِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ عَمَلِ مِيكَائِيلَ أَمَرَهُ بِهِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ عَمَلِ مَلَكِ الْمَوْتِ أَمَرَهُ بِهِ. قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، عَلَى أَيِّ شَيْءٍ أَنْتَ؟ قَالَ: عَلَى الرِّيحِ وَالْجُنُودِ. قُلْتُ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ مِيكَائِيلُ؟ قَالَ: عَلَى النَّبَاتِ وَالْقَطْرِ. قُلْتُ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ مَلَكُ الْمَوْتِ؟ قَالَ: عَلَى قَبْضِ الْأَنْفُسِ، وَمَا ظَنَنْتُهُ إِلَّا لِقِيَامِ السَّاعَةِ. وَمَا الَّذِي رَأَيْتَ مِنِّي إِلَّا خَوْفًا مِنْ قِيَامِ السَّاعَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَلَكِنَّهُ سَيِّئُ الْحِفْظِ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that while the Messenger of Allah ﷺ was in private converse with Jibrīl, the horizon of the sky split and Jibrīl drew near the earth swaying, and an angel stood before the Prophet ﷺ bidding him choose between a slave prophet or a king prophet, and Jibrīl signalled with his hand to humble himself, and knowing him to be his sincere adviser he said a slave prophet, whereupon that angel ascended to heaven. He then asked Jibrīl, whose state had preoccupied him from asking, who this was, and Jibrīl said this was Isrāfīl whom Allah created arrayed before Him with feet in rank, never raising his glance, with seventy lights between him and the Lord such that any light approached would burn, and before him a tablet which when Allah decrees anything in heaven or earth rises and strikes his forehead and he looks, directing to Jibrīl what is his task, to Mīkāʾīl what is his, and to the Angel of Death what is his. Asked over what Jibrīl is appointed, he said over wind and hosts; Mīkāʾīl over vegetation and rain; the Angel of Death over seizing souls; and he thought Isrāfīl was appointed for the Hour, and what was seen of Jibrīl was only fear of the Hour. > **"O Muhammad, your Lord commands you to choose between a slave prophet or a king prophet? Humble yourself. A slave prophet. O Jibrīl, I had wished to ask you of this, but what I saw of your state preoccupied me from asking, so who is this, O Jibrīl? Upon what are you appointed? Upon what is Mīkāʾīl? Upon what is the Angel of Death? Upon wind and hosts. Upon vegetation and rain. Upon seizing souls."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے ، آپ کے ساتھ حضرت جبرائیل علیہ السلام موجود تھے ، وہ آپ کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، اسی دوران آسمان کا افق کھل گیا ، حضرت جبرائیل علیہ السلام زمین کی طرف قریب ہونے لگے اور اِدھر اُدھر مائل ہونے لگے ، تو اسی دوران ایک فرشتہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے آیا ، اس نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ کے پروردگار نے آپ کو یہ اختیار دیا ہے کہ آپ ’’ عبد ‘‘ نبی بننے ، یا ’’ بادشاہ ‘‘ نبی بننے کے درمیان کسی ایک صورت کو اختیار کر لیں ، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کے ذریعے میری طرف اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں ، مجھے علم تھا کہ وہ میرے خیرخواہ ہیں ، میں نے کہا :’’ عبد ‘‘ نبی بننا چاہوں گا ، تو وہ فرشتہ آسمان کی طرف بلند ہوا ، میں نے کہا : اے جبرائیل ! میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ تم سے اس بارے میں دریافت کروں ، تو تمہاری صورت حال جو میں نے دیکھی ، تو اس وجہ سے میں پوچھ نہیں پایا ، اے جبرائیل ! یہ کون تھا ؟ تو جبرائیل نے بتایا کہ یہ حضرت اسرافیل علیہ السلام تھے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس دن پیدا کیا تھا ، جب اس نے انہیں پیدا کیا تھا ، تو انہیں اپنے آگے پیدا کیا تھا ، انہوں نے نگاہ اٹھا کر بھی آگے نہیں دیکھا ، ان کے اور ان کے پروردگار کے درمیان ستر نور ہیں ، ان میں سے ہر ایک نور ایسا ہے کہ اگر اس کے قریب ہونے کی کوشش کی جائے ، تو آدمی جل جائے ، ان کے آگے لوح ہے ، جب اللہ تعالیٰ آسمان میں یا زمین میں کسی چیز کے بارے میں کوئی حکم دیتا ہے ، تو یہ بلند ہوتے ہیں اور اپنی پیشانی ہلا کے دیکھتے ہیں ، اگر وہ کام مجھ سے متعلق ہوتا ہے ، تو مجھے اس کی ہدایت دیتے ہیں ، اور اگر وہ میکائیل سے متعلق ہوتا ہے ، تو اسے اس کی ہدایت دیتے ہیں ، اگر وہ ملک الموت سے متعلق کوئی کام ہوتا ہے ، تو اسے ہدایت دیتے ہیں ، میں نے کہا : اے جبرائیل ! تم کس چیز پر مقرر ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : ہوا پر اور جنود پر ، میں نے کہا : میکائیل کس چیز پر مقرر ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نباتات پر اور بارش پر ، میں نے دریافت کیا : ملک الموت کس چیز پر مقرر ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جان قبض کرنے پر ، اور ان کے بارے میں ( یعنی اسرافیل کے بارے میں ) میرا یہ خیال ہے کہ وہ قیامت قائم کرنے پر مقرر ہیں ، اور آپ نے جو میری صورت حال دیکھی تھی ، وہ اس خوف سے تھی کہ کہیں قیامت نہ قائم ہو جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14213

Majma al-Zawaid #14213

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ: «إِنَّ اللَّهَ أَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَلَكًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ مَعَ الْمَلَكِ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ الْمَلَكُ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ يُخَيِّرُكَ بَيْنَ أَنْ تَكُونَ نَبِيًّا عَبْدًا أَوْ نَبِيًّا مَلِكًا؟ فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - كَالْمُسْتَشِيرِ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ: أَنْ تَوَاضَعْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" بَلْ نَبِيًّا عَبْدًا "". فَمَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكَلَ مُتَّكِئًا حَتَّى لَحِقَ بِرَبِّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما used to narrate that Allah sent an angel of the angels with Jibrīl to the Prophet ﷺ, and the angel said that Allah gave him choice to be a slave prophet or a king prophet, whereupon the Messenger of Allah ﷺ turned to Jibrīl as if consulting him, and he gestured to humble himself, so the Messenger of Allah ﷺ said rather a slave prophet, and thereafter the Messenger of Allah ﷺ was never seen eating reclining until he joined his Lord. > **"O Muhammad, Allah gives you choice between being a slave prophet or a king prophet? Humble yourself. Rather a slave prophet."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے : اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کی طرف ایک فرشتے کو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ بھیجا ، اس فرشتے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ اختیار دیا ہے کہ یا آپ ’’ عبد ‘‘ نبی بن جائیں یا ’’ بادشاہ ‘‘ نبی بن جائیں ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرف توجہ کی ، جیسے ان سے مشورہ لے رہے ہوں ، تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی طرف اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ میں ’’ عبد ‘‘ نبی بننا چاہوں گا ، اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کو کبھی بھی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ، یہاں تک کہ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔

14214

Majma al-Zawaid #14214

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ was given choice between this world and the Hereafter, and he chose the Hereafter.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا گیا ، تو آپ نے آخرت کو اختیار کر لیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14215

Majma al-Zawaid #14215

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أُوتِيتُ بِمَقَالِيدِ الدُّنْيَا عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ، عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ مِنْ سُنْدُسٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said he was brought the keys of the world upon a piebald horse bearing a velvet cloth of sundus. > **"I was brought the keys of the world upon a piebald horse, upon it a cloth of sundus."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے دنیا کی چابیاں ، ایک ابلق گھوڑے ( جس کے رنگ میں سیاہ اور سفید رنگ ہو ) پر رکھ کر پیش کی گئیں ، جس پر سندس کا بنا ہوا کپڑا موجود تھا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14216

Majma al-Zawaid #14216

وَعَنْ أَبِي غَالِبٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: «كَانَ حَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقُرْآنَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ، وَيُقَصِّرُ الْخُطْبَةَ، وَيُطِيلُ الصَّلَاةَ، وَلَا يَأْنَفُ، وَلَا يَسْتَكْبِرُ أَنْ يَذْهَبَ مَعَ الْمِسْكِينِ وَالضَّعِيفِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ حَاجَتِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ghālib reports that he asked Abu Umāmah رضي الله عنه to narrate a hadith heard from the Messenger of Allah ﷺ, and he said the discourse of the Messenger of Allah ﷺ was the Qurʾān, with abundant remembrance, brief address, lengthy prayer, and he felt no disdain nor arrogance to walk with the indigent and the weak until he had fulfilled their need.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوغالب بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ، جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو ، انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ کی حدیث ، قرآن ہی ہوتا تھا ، آپ بکثرت ذکر کرتے تھے ، مختصر خطبہ دیتے تھے طویل نماز ادا کرتے تھے اور کسی غریب کے ساتھ یا کمزور کے ساتھ چل کر جانے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے ( اور اس وقت تک اس کے ساتھ رہتے تھے ) یہاں تک کہ وہ ( غریب شخص ) اپنی حاجت سے فارغ ہو جاتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14217

Majma al-Zawaid #14217

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَرْكَبُ حِمَارًا اسْمُهُ: عُفَيْرٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ used to ride a donkey named ʿUfayr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جس گدھے پر سوار ہوتے تھے ، اس کا نام ’’ عفیر ‘‘ تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔

14218

Majma al-Zawaid #14218

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِمَارٌ اسْمُهُ: عُفَيْرٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, reports that the Messenger of Allah ﷺ had a donkey named ʿUfayr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا ایک گدھا تھا ، جس نام ’’ عفیر ‘‘ تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔