Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 38 · Chapter 9

Book of Signs of Prophethood

Hadith 14139–14178

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14139

Majma al-Zawaid #14139

عَنِ ابْنَةٍ لِخَبَّابٍ قَالَتْ: «خَرَجَ خَبَّابٌ فِي سَرِيَّةٍ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَعَاهَدُنَا حَتَّى كَانَ يَحْلِبُ عَنْزًا لَنَا، فَكَانَ يَحْلِبُهَا فِي جَفْنَةٍ، فَكَانَتْ تَمْتَلِئُ حَتَّى تَطْفَحَ. قَالَتْ: فَلَمَّا قَدِمَ خَبَّابٌ حَلَبَهَا، فَعَادَ حِلَابُهَا إِلَى مَا كَانَ قَالَتْ: فَقُلْنَا لِخَبَّابٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْلِبُهَا حَتَّى تَمْتَلِئَ جَفْنَتُنَا فَلَمَّا حَلَبْتَهَا نَقَصَ حِلَابُهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الْقَائِشِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

The daughter of Khabbab رضي الله عنها reports that Khabbab went out on an expedition while the Messenger of Allah ﷺ looked after them, even milking a she-goat of theirs. He would milk it into a large bowl until it filled and nearly overflowed. When Khabbab returned and milked it, its yield returned to what it had been. They said to Khabbab that the Messenger of Allah ﷺ used to milk it until their bowl filled, but when he milked it the yield diminished.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں : حضرت خباب رضی اللہ عنہ اس ایک جنگی مہم میں تشریف لے گئے ، نبی اکرم ﷺ ہماری دیکھ بھال کرتے رہے ، یہاں تک کہ آپ ہماری بکری کا دودھ دوہ دیتے تھے ، آپ اسے ایک برتن میں دوہتے تھے ، جو بھر جاتا تھا ، یہاں تک کہ گرنے کے قریب ہوتا تھا ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : حضرت خباب رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اس بکری کا دودھ دوہا ، تو وہ اتنا ہی تھا ، جتنا پہلے ہوا کرتا تھا ، وہ خاتون کہتی ہیں : ہم نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے کہا : نبی اکرم ﷺ تو جب اُسے دوہتے تھے ، تو اس سے پورے برتن کو بھر دیتے تھے اور جب آپ اس کو دوہتے ہیں ، تو وہ کم ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن قائش کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14140

Majma al-Zawaid #14140

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ النُّعْمَانِ السَّكُونِيِّ قَالَ: «انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - مُسْتَخْفِيًا مِنْ قُرَيْشٍ، فَمَرَّا بِرَاعٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَلْ مِنْ شَاةٍ ضَرَبَهَا الْفَحْلُ؟ "". قَالَ: لَا وَلَكِنَّ هَا هُنَا شَاةً قَدْ خَلَّفَهَا الْجُهْدُ، فَقَالَ: "" ائْتِنِي بِهَا "". فَأَتَاهُ بِهَا فَمَسَحَ ضَرْعَهَا وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ، فَحَلَبَ فَسَقَى أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ حَلَبَ فَسَقَى الرَّاعِيَ، ثُمَّ حَلَبَ فَشَرِبَ، فَقَالَ لَهُ: بِاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِثْلَكَ، مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: "" إِنْ أَخْبَرْتُكَ تَكْتُمُ عَلَيَّ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "". قَالَ: الَّذِي تَزْعُمُ قُرَيْشٌ أَنَّهُ صَابِئٌ؟ قَالَ: "" إِنَّهُمْ يَقُولُونَ ذَلِكَ "". قَالَ: فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنَّهُ لَا يَقْدِرُ عَلَى مَا فَعَلْتَ إِلَّا رَسُولٌ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: أَتْبَعُكَ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَّا الْيَوْمَ فَلَا، وَلَكِنْ إِذَا سَمِعْتَ أَنَّا قَدْ ظَهَرْنَا فَائْتِنَا "". فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ مَا ظَهَرَ بِالْمَدِينَةِ.» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn al-Nuʿmān al-Sakuni رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ set out with Abū Bakr رضي الله عنه, concealing themselves from Quraysh. They passed a shepherd. The Messenger of Allah ﷺ asked whether any ewe impregnated by the ram was present. He replied no, but here was a ewe left behind by weakness. The Prophet ﷺ told him to bring it. He brought it, the Prophet ﷺ wiped its udder, supplicated for blessing, milked, gave Abū Bakr to drink, then milked and gave the shepherd to drink, then milked and drank himself. The shepherd swore by Allah he had never seen his like and asked who he was. The Prophet ﷺ asked whether if informed he would conceal it. Upon his assent he said he was Muhammad, the Messenger of Allah ﷺ. The man asked whether he was the one Quraysh claimed had apostatized. The Prophet ﷺ replied they said so. The man testified he was indeed Allah's Messenger, for none but a messenger could do what he had done, then asked whether to follow him. The Prophet ﷺ replied not today, but when he heard they had prevailed he should come to them. He came to the Prophet ﷺ after his triumph at Madina. > **"Bring it to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قیس بن نعمان سکونی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، یہ لوگ قریش سے چھپتے ہوئے جا رہے تھے ، ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا کوئی ایسی بکری ہے ؟ جس کے ساتھ نر جانور نے جفتی کی ہو ، اس نے جواب دیا : جی نہیں ! یہاں پر ایک ایسی بکری ہے ، جو کمزوری کی وجہ سے چل نہیں پا رہی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسی کو میرے پاس لے آؤ ! وہ اس بکری کو آپ کے پاس لے کے آیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی ، پھر آپ نے وہ دودھ دوہ لیا ، آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو وہ دودھ پلایا ، پھر آپ نے دودھ دوہ لیا اور چرواہے کو پلایا ، پھر آپ نے دودھ دوہ لیا اور خود پیا ، اس چرواہے نے آپ سے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے آپ جیسا فرد نہیں دیکھا ، آپ کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر میں تمہیں بتا دوں ، تو کیا تم اس بات کو چھپا کے رکھو گے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : محمد ( ﷺ ) جو اللہ کا رسول ہے ، اس نے کہا : آپ وہی صاحب ہیں ، جن کے بارے میں قریش یہ کہتے ہیں کہ وہ بے دین ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ لوگ یہی کہتے ہیں ، اس نے کہا : پھر میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں ، کیونکہ جو کام آپ نے کیا ہے ، وہ کوئی رسول ہی کر سکتا ہے ، پھر اس نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : کیا میں آپ کے ساتھ آؤں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابھی نہیں ، جب تم یہ سنو کہ ہمیں غلبہ حاصل ہو گیا ہے ، تو تم ہمارے پاس آ جانا ۔ راوی کہتے ہیں تو نبی اکرم ﷺ کے مدینہ منورہ میں غلبہ حاصل کرنے کے بعد وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14141

Majma al-Zawaid #14141

«وَعَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ أَنَّهَا قَالَتْ: بَعَثْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَاةٍ دَاجِنٍ فَرَدَّهَا وَقَالَ: "" ابْغِنِي شَاةً لَا تَحْلِبُ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حِزَامِ بْنِ هِشَامِ بْنِ حُبَيْشٍ وَأَبِيهِ وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Mabad رضي الله عنها reports sending a domestic pregnant ewe to the Prophet ﷺ. He returned it, asking her to seek out a ewe that gives no milk. > **"Seek for me a ewe that gives no milk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام معبد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک حاملہ بکری بھیجی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے واپس کر دیا اور فرمایا : ایسی بکری میرے پاس بھیجو ! جو دودھ نہ دیتی ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف حزام بن ہشام بن حبیش کا ، اور اس کے والد کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔

14142

Majma al-Zawaid #14142

وَعَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَاهُ قَالَ: فِي سَفَرٍ - فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَقَالَ لِي: "" يَا سَعْدُ اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْعَنْزَةِ فَاحْلِبْهَا "". وَعَهْدِي بِذَلِكَ الْمَكَانِ وَمَا فِيهِ عَنْزٌ، فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا فِيهِ عَنْزٌ حَافِلٌ فَحَلَبْتُهَا قَالَ: لَا أَدْرِي كَمْ مِنْ مَرَّةٍ، ثُمَّ وَكَّلْتُ بِهَا إِنْسَانًا وَشُغِلْتُ بِالرِّحْلَةِ، فَذَهَبَتِ الْعَنْزُ، فَاسْتَبْطَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَيْ سَعْدُ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الرِّحْلَةَ شَغَلَتْنَا فَذَهَبَتِ الْعَنْزُ. فَقَالَ: "" إِنَّ الْعَنْزَ ذَهَبَ بِهَا رَبُّهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أُمِّ مَعْبَدٍ فِي صِفَتِهِ وَفِي الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ مِنْ طُرُقٍ.

EnglishUnverified translation

Saʿd, freedman of Abū Bakr رضي الله عنه, reports being with the Messenger of Allah ﷺ, as he thought on a journey. They alighted at a station and the Prophet ﷺ told him to go to that she-goat and milk it, though shortly before he had known that place with no goat therein. When he came he found a full-uddered goat and milked it many times. He entrusted it to a man and busied himself with the baggage, whereupon the goat departed. The Messenger of Allah ﷺ found him slow and called him. He explained the baggage had occupied them and the goat had gone. The Prophet ﷺ replied that the goat had been taken away by its Lord. > **"O Saʿd, go to that she-goat and milk it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد رضی اللہ عنہ ، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ہم سفر کر رہے تھے ، ہم نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے سعد ! تم اس بکری کے پاس جاؤ اور اس کا دودھ دوہ لو ، راوی کہتے ہیں : میں کچھ دیر پہلے اس جگہ سے گزر کے آیا تھا ، وہاں کوئی بکری نہیں تھی ، پھر وہاں آیا تو وہاں ایک بکری موجود تھی ، جو حاملہ تھی ، میں نے اس کا دودھ دوہ لیا ، راوی کہتے ہیں : پھر میں نے یہ کام کسی اور کے سپرد کیا اور خود پالان کی تیاری میں مصروف ہو گیا ، تو اسی دوران بکری چلی گئی ، مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس جانے میں تاخیر ہو گئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے سعد ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں سامان کے حوالے سے مصروف ہو گیا ، تو وہ بکری چلی گئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بکری کو اس کا پروردگار ( یا اس کا مالک ) لے گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے سیدہ ام معبد رضی اللہ عنہا کی حدیث گزر چکی ہے ، جو آپ کے حلیہ کے بارے میں ہے ، اور آپ کے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بارے میں ہے ، اور یہ مختلف طرق سے منقول ہے ۔

14143

Majma al-Zawaid #14143

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ قَالَ: " لِيَقُمْ مَعِيَ رَجُلٌ مِنْكُمْ، وَلَا يُقُومَنَّ مَعِي رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْغِشِّ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ ". قَالَ: فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَخَذْتُ الْإِدَاوَةَ وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مَاءً، فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذْ كُنَّا بِأَعْلَى مَكَّةَ رَأَيْتُ أَسْوِدَةً مُجْتَمِعَةً قَالَ: فَخَطَّ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطًّا ثُمَّ قَالَ: " قُمْ هَهُنَا حَتَّى آتِيَكَ ". فَقُمْتُ وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِمْ فَرَأَيْتُهُمْ يَثُورُونَ إِلَيْهِ. قَالَ: فَسَمَرَ مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلًا طَوِيلًا، حَتَّى جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي: " مَا زِلْتَ قَائِمًا يَا ابْنَ مَسْعُودٍ؟ ". قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَلَمْ تَقُلْ لِي: قُمْ حَتَّى آتِيَكَ؟ قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي: " هَلْ مَعَكَ مِنْ وَضُوءٍ؟ ". قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَفَتَحْتُ الْإِدَاوَةَ فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ. قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ أَخَذْتُ الْإِدَاوَةَ وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مَاءً فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ. قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " ثَمَرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ ". قَالَ: ثُمَّ تَوَضَّأَ مِنْهَا. فَلَمَّا قَامَ يُصَلِّي أَدْرَكَهُ شَخْصَانِ مِنْهُمْ، فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُحِبُّ أَنْ تَؤُمَّنَا فِي صَلَاتِنَا، قَالَ: فَصَفَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى بِنَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: " هَؤُلَاءِ جِنُّ نَصِيبِينَ، جَاءُونِي يَخْتَصِمُونَ فِي أُمُورٍ كَانَتْ بَيْنَهُمْ، وَقَدْ سَأَلُونِي الزَّادَ فَزَوَّدْتُهُمْ ". قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: وَهَلْ عِنْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْءٌ تُزَوِّدُهُمْ إِيَّاهُ؟ قَالَ: " قَدْ زَوَّدْتُهُمُ الرَّجْعَةَ وَمَا وَجَدُوا مِنْ رَوْثٍ وَجَدُوهُ شَعِيرًا، وَمَا وَجَدُوا مِنْ عَظْمٍ وَجَدُوهُ كَاسِيًا ". قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَنْ يُسْتَطَابَ بِالْعَظْمِ وَالرَّوْثِ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ. وَرَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masʿūd رضي الله عنه reports being with the Messenger of Allah ﷺ at Makka among a group of his companions when he said that one man among them should rise with him, and no man with even a mote's weight of deceit in his heart should rise with him. Ibn Masʿūd rose, taking a waterskin he supposed held water, and went with him until at the heights of Makka they saw a dark gathering. The Messenger of Allah ﷺ drew a line for him and told him to stand there until he came to him. He stood while the Prophet ﷺ went to them; he saw them surging toward him. The Messenger of Allah ﷺ conversed with them long into the night, then returned and asked whether he had remained standing, O son of Masʿūd. When he replied had he not been told to stand until he came, the Prophet ﷺ asked whether he had ablution water. He opened the skin and found it was nabidh. He swore he had taken it supposing it water, yet it was nabidh. The Messenger of Allah ﷺ replied that dates are wholesome and water is purifying, then performed ablution from it. When he rose to pray, two persons among them came and asked him to lead them in prayer. He aligned them behind him and led them. When he finished, Ibn Masʿūd asked who they were. He replied they were jinn of Nasībīn who had come disputing matters among them and had asked him for provision, which he had granted. Asked what he had granted, he said he had granted them droppings and bones, finding barley in every dung and meat clinging to every bone. At that the Messenger of Allah ﷺ forbade seeking purity with bone or dung. > **"Stand here until I come to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مکہ میں موجود تھے ، آپ اپنے چند اصحاب کے درمیان موجود تھے ، اسی دوران آپ نے فرمایا : تم میں کوئی ایک شخص اٹھ کر میرے ساتھ چلے اور میرے ساتھ کوئی ایسا شخص ہرگز نہ جائے ، جس کے دل میں ذرے کے وزن جتنی کھوٹ ہو ، راوی کہتے ہیں : تو میں آپ کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ، میں نے ایک برتن لے لیا ، میرا یہ خیال تھا کہ اس میں پانی موجود ہو گا ، میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ روانہ ہوا ، یہاں تک کہ ہم مکہ کے بالائی علاقے میں پہنچے ، تو میں نے وہاں کچھ وجود دیکھے ، نبی اکرم ﷺ نے میرے لئے ایک لکیر لگائی اور پھر فرمایا : تم نے یہاں ٹھہرنا ہے جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ، تو میں کھڑا ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے ، میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی طرف آئے ، نبی اکرم ﷺ رات بھر خاصی دیر تک ان کے ساتھ بات چیت کرتے رہے ، یہاں تک کہ جب نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے ، تو آپ نے مجھ سے دریافت کیا : اے ابن مسعود ! تم اس وقت سے کھڑے ہوئے ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! کیا آپ نے مجھ سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ، تم کھڑے رہو ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں جب میں نے برتن کو کھولا تو اس میں نبیذ موجود تھی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں نے تو یہ برتن اس لئے لیا تھا کہ میرا خیال تھا کہ اس میں پانی ہو گا ، لیکن اس میں تو نبیذ موجود ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کھجور پاکیزہ چیز ہے ، اور پانی پاک کرنے والا ہے ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے اس سے وضو کر لیا ، جب نبی اکرم ﷺ کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے ، تو ان میں سے دو افراد آپ کے پاس آئے ، ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہماری یہ خواہش ہے کہ آپ نماز میں ہماری امامت کریں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو اپنے پیچھے کھڑا کر لیا ، پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کون تھے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ نصیبین سے تعلق رکھنے والے جنات تھے جو میرے پاس آئے تھے ، یہ مختلف امور کے بارے میں مقدمہ لے کے آئے تھے ، جو ان کے درمیان چل رہا تھا ، انہوں نے مجھ سے زاد راہ کے بارے میں دریافت کیا ، تو ( یا انہوں نے مجھ سے زاد راہ مانگا ، تو وہ ) میں نے انہیں دے دیا ، راوی کہتے ہیں : میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے ؟ جو آپ نے انہیں زاد راہ کے طور پر دی ہو ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے انہیں زاد راہ میں ہڈی دی ہے ، اور جو مینگنی انہیں ملے گی ، وہ دی ہے کہ انہیں وہ جو کی شکل میں ہو گی ، اور جو ہڈی ملے گی ، وہ ہڈی گوشت والی ملے گی ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے ( انسانوں کو ) اس موقع پر یہ منع کر دیا کہ ہڈی یا مینگنی کے ذریعے استنجاء کیا جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوزید ہے ، جو عمرو بن حریث کا آزاد کردہ غلام ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔

14144

Majma al-Zawaid #14144

وَعَنْهُ قَالَ: «أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَقْرَأَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ فَلْيَقُمْ مَعِيَ رَجُلٌ، وَلَا يَقُمْ رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ "". فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَخَذْتُ الْإِدَاوَةَ فِيهَا نَبِيذٌ، فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا بَرَزَ خَطَّ لِي خَطًّا وَقَالَ: "" لَا تَخْرُجْ مِنْهُ، فَإِنَّكَ إِنْ خَرَجْتَ مِنْهُ لَمْ تَرَنِي وَلَا أَرَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "". قَالَ: فَانْطَلَقَ وَتَوَارَى عَنِّي حَتَّى لَمْ أَرَهُ، فَلَمَّا سَطَعَ الْفَجْرُ أَقْبَلَ فَقَالَ لِي: "" أَرَاكَ قَائِمًا؟ "". فَقُلْتُ: مَا قَعَدْتُ، فَقَالَ: "" مَا عَلَيْكَ لَوْ فَعَلْتَ؟ "". قُلْتُ: خَشِيتُ أَنْ أَخْرُجَ مِنْهُ. قَالَ: "" أَمَا إِنَّكَ لَوْ خَرَجْتَ مِنْهُ لَمْ تَرَنِي وَلَمْ أَرَكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، هَلْ مَعَكَ وَضُوءٌ؟ "". قُلْتُ: لَا. قَالَ: "" مَا هَذِهِ الْإِدَاوَةُ "". قُلْتُ: فِيهَا نَبِيذٌ. قَالَ: "" تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ "". فَتَوَضَّأَ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ مِنَ الْجِنِّ فَسَأَلَاهُ الطَّعَامَ قَالَ: "" أَلَمْ آمُرْ لَكُمَا وَلِقَوْمِكُمَا بِمَا يُصْلِحُكُمْ؟ "". قَالَا: بَلَى، وَلَكِنْ أَحْبَبْنَا أَنْ يَشْهَدَ بَعْضُنَا مَعَكَ الصَّلَاةَ. قَالَ: "" فَمَنْ أَنْتُمَا؟ "". قَالَا: نَحْنُ مِنْ أَهْلِ نَصِيبِينَ، قَالَ: "" قَدْ أَفْلَحَ هَذَانِ وَأَفْلَحَ قَوْمُهُمَا "". فَأَمَرَ لَهُمَا بِالرَّوْثِ وَالْعِظَامِ طَعَامًا وَلَحْمًا.» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو زَيْدٍ وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ أَيْضًا وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masʿūd رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ came to them and said he had been commanded to recite to their brothers among the jinn, so one man should rise with him, and no man with even a grain's weight of pride in his heart should rise. He rose with him, taking a skin containing nabidh, and set out. When they emerged the Prophet ﷺ drew a line for him and told him not to leave it, for if he left it he would never see him nor would he see him until the Day of Resurrection. The Prophet ﷺ went on and vanished from him until he could not see him. At dawn he came back and asked whether he found him standing. He replied he had never sat down. The Prophet ﷺ asked what harm sitting would have done. He replied he feared leaving the line. The Prophet ﷺ said had he left it they would never have seen each other until the Day of Resurrection, then asked whether he had ablution water. When he said no, he asked what the skin held. He said nabidh. The Prophet ﷺ replied that dates are wholesome and water is purifying, performed ablution, and established prayer. When he finished, two men of the jinn rose to him and asked him for food. He asked whether he had not ordered for them and their people what would suffice them. They replied yes, but they had wished some of them to witness prayer with him. Asked who they were, they said they were of Nasībīn. He declared those two and their people successful, then ordered droppings and bones for them as food and meat. > **"Do not leave it, for if you leave it you will never see me nor shall I see you until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے جنات بھائیوں کے سامنے تلاوت کروں ، تو میرے ساتھ کوئی شخص اُٹھ کر چلے اور کوئی ایسا شخص نہ اُٹھے ، جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا تکبر ہو ، راوی کہتے ہیں : تو میں آپ کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ، میں نے ایک برتن لے لیا ، جس میں نبیذ موجود تھی ، میں روانہ ہوا ، جب ہم اس مقام پر پہنچے تو نبی اکرم ﷺ نے میرے لئے ایک لکیر کھینچی اور مجھ سے فرمایا : تم اس سے باہر نہ جانا ، کیونکہ اگر تم اس سے باہر گئے ، تو قیامت کے دن تک نہ تم مجھے دیکھ سکو گے ، نہ میں تمہیں دیکھ سکوں گا ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، اور میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ، یہاں تک کہ میں آپ کو دیکھ نہیں سکتا تھا ، جب صبح صادق کا وقت ہوا ، تو آپ تشریف لائے ، آپ نے مجھ سے فرمایا : میں تمہیں کھڑا ہوا دیکھ رہا ہوں ، میں نے عرض کی : میں بیٹھا ہی نہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پر کیا حرج تھا کہ اگر تم ایسا کر لیتے ؟ میں نے عرض کی : مجھے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں میں اس سے نکل نہ جاؤں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم اس سے نکل جاتے ، تو قیامت کے دن تک نہ تم نے مجھے دیکھنا تھا ، اور نہ میں نے تمہیں دیکھنا تھا ، کیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اس برتن میں کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اس میں نبیذ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کھجور پاکیزہ ہوتی ہے ، اور پانی پاک ہوتا ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا اور نماز ادا کی ، جب آپ نے نماز ادا کی تو جنات میں سے دو افراد آپ کے پاس آئے ، انہوں نے آپ سے کھانا مانگا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں نے تم دونوں کے لئے اور تم دونوں کی قوم کے لئے اس چیز کا حکم نہیں دیا ہے ؟ جو تمہارے لئے موزوں ہو ، ان دونوں نے عرض کی : جی ہاں ! لیکن ہماری یہ خواہش تھی کہ ہم میں سے بعض لوگ آپ کی اقتداء میں نماز میں شریک ہوتے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم دونوں کون ہو ؟ ان دونوں نے بتایا : ہم نصیبین سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ دونوں کامیاب ہو گئے ، اور ان دونوں کی قوم کامیاب ہو گئی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے بارے میں مینگنی اور ہڈی کا حکم دیا کہ وہ کھانا اور گوشت بن جائیں گے ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوزید اور ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

14145

Majma al-Zawaid #14145

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَيْضًا قَالَ: اسْتَتْبَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ الْجِنِّ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغْنَا أَعْلَى مَكَّةَ فَخَطَّ لِي خَطًّا وَقَالَ: "" لَا تَبْرَحْ "". ثُمَّ انْصَاعَ فِي أَجْبَالِ الْجِنِّ، فَرَأَيْتُ الرِّجَالَ يَنْحَدِرُونَ عَلَيْهِ مِنْ رُءُوسِ الْجِبَالِ، حَتَّى حَالُوا بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَاخْتَرَطْتُ السَّيْفَ وَقُلْتُ: لَأَضْرِبَنَّ حَتَّى أَسْتَنْقِذَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ: "" لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ "". قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا قَائِمٌ فَقَالَ: "" مَا زِلْتَ عَلَى حَالِكَ؟ "". قُلْتُ: لَوْ لَبِثْتَ شَهْرًا مَا بَرِحْتُ حَتَّى تَأْتِيَنِي، ثُمَّ أَخْبَرْتُهُ بِمَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْنَعَ فَقَالَ: "" لَوْ خَرَجْتَ مَا الْتَقَيْنَا أَنَا وَأَنْتَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "". ثُمَّ شَبَّكَ أَصَابِعَهُ فِي أَصَابِعِي ثُمَّ قَالَ: "" إِنِّي وُعِدْتُ أَنْ يُؤْمِنَ بِي الْإِنْسُ وَالْجِنُّ، فَأَمَّا الْإِنْسُ فَقَدْ آمَنَتْ بِي وَأَمَّا الْجِنُّ فَقَدْ رَأَيْتَ "". قَالَ: "" وَمَا أَظُنُّ أَجَلِي إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَسْتَخْلِفُ أَبَا بَكْرٍ؟ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَرَأَيْتُ أَنَّهُ لَمْ يُوَافِقْهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَسْتَخْلِفُ عُمَرَ؟ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَرَأَيْتُ أَنَّهُ لَمْ يُوَافِقْهُ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَسْتَخْلِفُ عَلِيًّا؟ قَالَ: "" ذَاكَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنْ بَايَعْتُمُوهُ وَأَطَعْتُمُوهُ أَدْخَلَكُمُ الْجَنَّةَ أَكْتَعِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masʿūd رضي الله عنه also reports that the Messenger of Allah ﷺ took him along on the night of the jinn. They went until they reached the heights of Makka, where he drew a line for him and told him not to move. Then he advanced among the mountains of the jinn, and Ibn Masʿūd saw men descending upon him from the mountain tops until they stood between him and the Prophet ﷺ. He drew his sword, intending to strike until he rescued the Messenger of Allah ﷺ, then remembered his order not to move until he came to him. He remained so until dawn broke. The Prophet ﷺ came while he was standing and asked whether he had remained in his state. He replied that had he stayed a month he would not have moved until he came to him, then informed him what he had intended to do. The Prophet ﷺ said had he left they would never have met until the Day of Resurrection. Then he interlaced his fingers with his and said he had been promised that men and jinn would believe in him; men had believed, and the jinn he had seen. He added that he thought his term had drawn near. Ibn Masʿūd asked whether he would not appoint Abū Bakr as successor, but he turned away, and he saw it did not meet approval. He asked about Umar, and he turned away again. He asked about ʿAlī, and the Prophet ﷺ swore by the One besides Whom there is no god that if they pledged him and obeyed him he would enter them all into Paradise. > **"Do not move until I come to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جنات سے ملاقات کی رات نبی اکرم ﷺ نے مجھے ساتھ چلنے کے لئے کہا ، تو میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ روانہ ہو گیا ، یہاں تک کہ ہم مکہ کے بالائی حصے میں پہنچ گئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے میرے لئے ایک لکیر لگا دی اور فرمایا : یہیں رہنا ، پھر آپ جنات کی طرف تشریف لے گئے ، میں نے کچھ افراد کو دیکھا کہ وہ پہاڑوں کے سروں سے اتر کر آپ کی طرف آ رہے ہیں ، یہاں تک کہ وہ لوگ میرے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان حائل ہو گئے ، میں نے تلوار نکالی اور سوچا کہ میں اس کے ذریعے ضرور ضرب لگاؤں گا ، اور نبی اکرم ﷺ کو بچا لوں گا ، پھر نبی اکرم ﷺ کا فرمان مجھے یاد آ گیا کہ جب تک میں تمہارے پاس نہیں آتا ، تم نے یہیں رہنا ہے ، راوی کہتے ہیں : مسلسل اسی طرح کی صورت حال رہی ، یہاں تک کہ جب صبح صادق ہونے لگی ، تو نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے ، میں اس وقت کھڑا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : تم مسلسل اسی حالت میں رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : اگر ایک ماہ بھی گزر جاتا ، تو میں نے ایسے ہی رہنا تھا ، جب تک آپ میرے پاس تشریف نہیں لے آتے ، پھر میں نے آپ کو بتایا کہ جو میں نے کرنے کا ارادہ کیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم اس سے باہر نکل جاتے ، تو قیامت کے دن تک میری اور تمہاری ملاقات نہ ہو پاتی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں میری انگلیوں میں داخل کیں اور پھر فرمایا : میرے ساتھ وعدہ کیا گیا کہ انسان اور جنات مجھ پر ایمان لائیں گے ، جہاں تک انسانوں کا تعلق ہے ، تو وہ مجھ پر ایمان لا رہے ہیں ، اور جہاں تک جنات کا تعلق ہے ، تو وہ تم دیکھ رہے ہو ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ میرا وقت قریب آ چکا ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جانشین مقرر نہیں کرتے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، تو مجھے یہ لگا کہ شاید یہ موزوں نہیں ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جانشین مقرر نہیں کرتے ؟ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، مجھے اندازہ ہوا کہ یہ بھی آپ کے نزدیک موزوں نہیں ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جانشین مقرر نہیں کرتے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ ایسا فرد ہے کہ اگر تم اس کی بیعت کر لو گے ، اور اس کی اطاعت کرو گے ، تو وہ تم سب کو جنت میں داخل کروا دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14146

Majma al-Zawaid #14146

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِوَلَدِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَهُ لَمَمًا، وَإِنَّهُ يَأْخُذُهُ عِنْدَ طَعَامِنَا فَيُفْسِدُ عَلَيْنَا طَعَامَنَا. فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدْرَهُ وَدَعَا لَهُ، فَثَعَّ ثَعَّةً، فَخَرَجَ مِنْ فِيهِ مِثْلُ الْجَرْوِ الْأَسْوَدِ فَشُفِيَ».

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that a woman brought her son to the Messenger of Allah ﷺ and said he suffered fits that seized him at their food and spoiled it for them. The Messenger of Allah ﷺ wiped his chest, supplicated for him, and the boy vomited, with something like a black pup emerging from his mouth. He was healed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک خاتون اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس پر جن آنے کی شکایت ہے ، وہ ہمارے اناج میں سے کچھ لیتا ہے ، اور اسے خراب کر دیتا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا ، اور اس کے لئے دعا کر دی ، تو اس نے قے کر دی ، اس کے منہ سے کالے پلے کی طرح کی کوئی چیز نکلی ، تو وہ تندرست ہو گیا ۔

14147

Majma al-Zawaid #14147

وَفِي رِوَايَةٍ: فَثَعَّ ثَعَّةً يَعْنِي: سَعَلَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ فَرَقَدٌ السَّبَخِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالْعِجْلِيُّ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا.

EnglishUnverified translation

In another narration of the same report the wording adds that he vomited, meaning he coughed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : لفظ ’’ ثعہ ‘‘ کا مطلب یہ ہے : اُسے کھانسی آئی ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فرقد سبخی ہے ، جسے یحیی بن معین اور عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

14148

Majma al-Zawaid #14148

وَعَنِ الْوَازِعِ قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْأَشَجَّ: الْمُنْذِرَ بْنَ ابْنِ عَاصِمٍ، أَوْ عَامِرَ بْنَ الْمُنْذِرِ، وَمَعَهُمْ رَجُلٌ مُصَابٌ، فَانْتَهَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَأَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَثَبُوا عَنْ رَوَاحِلِهِمْ، فَقَبَّلُوا يَدَهُ، ثُمَّ نَزَلَ الْأَشَجُّ فَعَقَلَ رَوَاحِلَهُمْ، وَأَخْرَجَ عَيْبَتَهُ فَفَتَحَهَا، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا أَشُجُّ، إِنَّ فِيكَ خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ: الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا أَتَخَلَّقُهُمَا، أَوْ جَبَلَنِي اللَّهُ عَلَيْهِمَا؟ قَالَ: "" بَلْ جَبَلَكَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا "". قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ. فَقَالَ الْوَازِعُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مَعِي خَالًا مُصَابًا، فَادْعُ اللَّهَ لَهُ. قَالَ: "" أَيْنَ هُوَ؟ ائْتِنِي بِهِ "". قَالَ: فَصَنَعَتُ بِهِ مِثْلَ مَا صَنَعَ الْأَشَجُّ: أَلْبَسْتُهُ ثَوْبَيْهِ فَأَتَيْتُهُ، فَأَخَذَ طَائِفَةً مِنْ رِدَائِهِ فَرَفَعَهَا حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِظَهْرِهِ. قَالَ: "" اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ "". فَوَلَّى وَجْهَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ نَظَرَ رَجُلٍ صَحِيحٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ هِنْدُ بِنْتُ الْوَازِعِ وَلَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Wāziʿ رضي الله عنه reports coming to the Messenger of Allah ﷺ with al-Ashajj, al-Mundhir son of Asim, or ʿAmir son of al-Mundhir, accompanied by an afflicted man. When they reached the Messenger of Allah ﷺ and saw the Prophet ﷺ, they leapt from their mounts and kissed his hand. Then al-Ashajj dismounted, hobbled their mounts, opened his bag, and came to the Prophet ﷺ with greeting. The Prophet ﷺ told him he possessed two traits loved by Allah and His Messenger: forbearance and deliberation. He asked whether he had cultivated them or Allah had fashioned him upon them. The Prophet ﷺ replied that Allah had fashioned him upon them. He praised Allah for fashioning him upon two traits loved by Allah and His Messenger. Al-Wāziʿ then said he had with him an afflicted maternal uncle and asked him to supplicate to Allah for him. The Prophet ﷺ asked where he was and told him to bring him. He treated him as al-Ashajj had done, dressing him in his two garments and bringing him. The Prophet ﷺ lifted part of his cloak until the whiteness of his armpit was seen, then struck his back, ordering the enemy of Allah to come out. The man turned away, looking with the gaze of a sound man. > **"O Ashajj, in you are two traits loved by Allah and His Messenger: forbearance and deliberation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وازع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میرے ساتھ اشج بن منذر بن عاصم تھے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) عامر بن منذر تھے ، ان کے ساتھ ایک ایسا فرد تھا ، جسے جنون لاحق تھا ، وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ، تو اپنی سواریوں سے اچھل کر اترے ، اور نبی اکرم ﷺ کی دست بوسی کی ، پھر اشج نیچے اترے ، انہوں نے ان لوگوں کی سواریوں کو باندھا ، اپنا تھیلا نکالا ، اُسے کھولا ( اور لباس تبدیل کر کے ) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو سلام کیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے اشج ! تمہارے اندر دو خصوصیات پائی جاتی ہیں ، ان دونوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں ۔’’ حلم ‘‘ ( یعنی بردباری ) اور ’’ اناۃ ‘‘ ( یعنی جلدبازی نہ کرنا ) انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ میں نے ازخود اختیار کی ہیں ؟ یا اللہ تعالیٰ نے میری جبلت میں شامل کی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری جبلت میں شامل کی ہیں ، تو انہوں نے عرض کی : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے میری جبلت میں دو ایسی عادات ڈالی ہیں ، جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں ، حضرت وازع رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ! ہمارے ساتھ ایک رشتہ دار ہے ، جس پر جن آیا ہوا ہے ، تو آپ اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ کہاں ہے ؟ اسے میرے پاس لے کر آؤ ! راوی کہتے ہیں : میں نے اس آدمی کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا ، جو طرز عمل حضرت اشج رضی اللہ عنہ نے اختیار کیا تھا ، میں نے اسے عمدہ لباس پہنایا ، پھر میں اسے لے کر آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی چادر پکڑی اور اسے بلند کیا ، یہاں تک کہ مجھے آپ ﷺ کی بغل کی سفیدی نظر آنے لگی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس کی پشت پر ہاتھ مارا ، اور فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! نکل جاؤ ، تو وہ منہ پھیر کر چلا گیا اور پھر وہ شخص صحیح طور پر دیکھنے لگا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک خاتون ہند بنت وازع ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14149

Majma al-Zawaid #14149

«وَعَنْ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ الْوَازِعِ، عَنْ أَبِيهَا: إِنَّ جَدَّهَا الْوَازِعَ انْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْطَلَقَ مَعَهُ بِابْنٍ لَهُ مَجْنُونٍ، أَوِ ابْنِ أُخْتٍ لَهُ. قَالَ جَدِّي: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مَعِي ابْنَ أَخٍ لِي - أَوِ ابْنَ أُخْتٍ لِي - مَجْنُونًا، آتِيكَ بِهِ فَتَدْعُو اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ. قَالَ: "" ائْتِنِي بِهِ "". فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي الرِّكَابِ، فَأَطْلَقْتُ عَنْهُ، وَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ ثِيَابَ السَّفَرِ، وَأَلْبَسْتُهُ ثَوْبَيْنِ حَسَنَيْنِ، وَأَخَذْتُ بِيَدِهِ حَتَّى انْتَهَيْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" ادْنُهِ مِنِّي، وَاجْعَلْ ظَهْرَهُ مِمَّا يَلِينِي "". قَالَ: فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ ثَوْبِهِ مِنْ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ ظَهْرَهُ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ، وَيَقُولُ: "" اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ! اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ! "". فَأَقْبَلَ يَنْظُرُ نَظَرَ الصَّحِيحِ لَيْسَ نَظَرَهُ الْأَوَّلَ، ثُمَّ أَقْعَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ يَدَيْهِ، فَدَعَا لَهُ فَمَسَحَ وَجْهَهُ، فَلَمْ يَكُنْ فِي الْوَفْدِ أَحَدٌ بَعْدَ دَعْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُفَضَّلُ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأُمُّ أَبَانٍ، لَمْ يَرْوِ عَنْهَا غَيْرُ مَطَرٍ.

EnglishUnverified translation

Umm Abān bint al-Wāziʿ رضي الله عنها reports from her father that her grandfather al-Wāziʿ set out to the Messenger of Allah ﷺ with a mad son of his, or a sister's son. Her grandfather said that when they arrived at Madina he told the Messenger of Allah ﷺ he had with him a mad nephew or sister's son, brought for him to supplicate to Allah for him. The Prophet ﷺ told him to bring him. He went to him among the riders, freed him, cast off his travel clothes, dressed him in two fine garments, took his hand, and brought him to the Messenger of Allah ﷺ. The Prophet ﷺ told him to bring him near with his back toward him. He seized the folds of his garment from top and bottom, struck his back until the whiteness of his armpits was seen, and kept saying, come out, enemy of Allah. The boy turned to look with sound gaze, unlike his former gaze. Then the Messenger of Allah ﷺ seated him before him, supplicated for him, wiped his face, and after his supplication none in the delegation was preferred over him. > **"Bring him near me, with his back toward me. Come out, enemy of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام ابان بنت وازع رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتی ہیں : ان کے دادا حضرت وازع رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گئے ، ان کے ساتھ ان کا ایک بیٹا تھا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ان کا ایک بھانجا تھا ، جو جنون کا شکار تھا میرے دادا کہتے ہیں جب ہم لوگ مدینہ منورہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ساتھ میرا ایک بھتیجا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) میرا ایک بھانجا ہے ، جسے جنون لاحق ہے ، میں اسے آپ کے پاس لے کر آیا ہوں ، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کیجئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے میرے پاس لے کر آؤ ، راوی کہتے ہیں میں اس لڑکے کی طرف گیا جو سواروں میں موجود تھا ، میں نے اسے چھڑوایا ، اس کے سفر والے لباس کو اتروا کر اسے دو عمدہ کپڑے پہنائے ، پھر اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے میرے قریب کرو اور اس کی پشت میری طرف کر دو ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس کے گریبان کی طرف سے اوپر کی طرف سے اور نیچے کی طرف سے اسے پکڑا اور اس کی پشت پر ہاتھ مارا یہاں تک کہ مجھے نبی اکرم ﷺ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ گئی ، آپ نے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! نکل جا ، اے اللہ کے دشمن ! نکل جا ، تو اس لڑکے نے صحیح طور پر دیکھنا شروع کر دیا ، اور اس کی آنکھیں پہلے جیسے نہیں رہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اسے اپنے سامنے بٹھایا ، اس کے لئے دعا کی ، اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا ، تو نبی اکرم ﷺ کی دعا کے بعد اس وفد میں شامل کوئی ایسا فرد نہیں تھا ، جو اس لڑکے پر فضیلت رکھتا ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ام ابان نامی خاتون سے مطر کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔

14150

Majma al-Zawaid #14150

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: «شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسْيَانَ الْقُرْآنِ، فَضَرَبَ صَدْرِي بِيَدِهِ، فَقَالَ: "" يَا شَيْطَانُ، اخْرُجْ مِنْ صَدْرِ عُثْمَانَ "". فَمَا نَسِيتُ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدُ أَحْبَبْتُ أَنْ أَذْكُرَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ بِشْرٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَفِي أَحَادِيثَ نَحْوُ هَذَا الْمَعْنَى، فِي أَثْنَائِهَا فِي مَوَاضِعِهَا.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn Abi al-As رضي الله عنه reports complaining to the Messenger of Allah ﷺ of forgetting the Qurʾān. He struck his chest with his hand and ordered the devil to come out of the chest of ʿUthmān. After that he never forgot anything he wished to remember. > **"O devil, come out of the chest of ʿUthmān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں قرآن بھول جانے کی شکایت کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور فرمایا : اے شیطان ! عثمان کے سینے سے نکل جا ! راوی کہتے ہیں : تو اس کے بعد میں نے جس بھی آیت کو یاد کرنے کی کوشش کی ، اس میں سے میں کسی کو نہیں بھولا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن بشر ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس مفہوم سے تعلق رکھنے والی کچھ احادیث کتاب کے دوران مختلف مقامات پر آئیں ہیں ۔

14151

Majma al-Zawaid #14151

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِيِّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي: «أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَمَى الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، وَخَلْفَهُ إِنْسَانٌ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ أَنْ يُصِيبُوهُ بِالْحِجَارَةِ، وَهُوَ يَقُولُ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمْ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ "". ثُمَّ أَقْبَلَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ ابْنِي هَذَا ذَاهِبُ الْعَقْلِ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ قَالَ لَهَا: "" ائْتِينِي بِمَاءٍ "". فَأَتَتْهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فَتَفَلَ فِيهِ وَغَسَلَ فِيهِ وَجْهَهُ، ثُمَّ دَعَا فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: "" اذْهَبِي فَاغْسِلِيهِ بِهِ وَاسْتَشْفِي اللَّهَ "". فَقُلْتُ لَهَا: هَبِي لِي مِنْهُ قَلِيلًا لِابْنِي هَذَا، فَأَخَذْتُ مِنْهُ قَلِيلًا بِأَصَابِعِي، فَمَسَحْتُ بِهَا شَفَةَ ابْنِي، فَكَانَ مِنْ أَبَرِّ النَّاسِ، فَسَأَلَتُ الْمَرْأَةَ بَعْدُ: مَا فَعَلَ ابْنُهَا؟ قَالَتْ: بَرِئَ أَحْسَنَ الْبُرْءِ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ رَمْيَ الْحِجَارَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Sulayman ibn ʿAmr ibn al-Ahwas al-Azdi reports from his mother that she saw the Messenger of Allah ﷺ casting the pebbles from the belly of the valley, with a man behind him shielding him from the people lest stones strike him, while he said that people should not kill one another and when they cast should cast with pebbles like sling pellets. Then a woman brought her son and said he was witless, asking him to supplicate to Allah for him. He told her to bring water. She brought water in a stone vessel. He spat into it, washed his face therein, supplicated over it, and told her to go wash him with it and seek healing from Allah. The narrator asked the woman to spare a little for her own son, took a little with her fingers, wiped her son's lip with it, and he became among the most dutiful of people. Asked afterward what became of the woman's son, she said he recovered with excellent recovery. > **"O people, let none of you kill another; when you cast, cast with pebbles like sling pellets."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن عمرو بن احوص ازدی بیان کرتے ہیں : میری والدہ نے مجھے یہ بتائی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ وادی کے نشیبی حصے سے جمرات کو کنکریاں مار رہے تھے ، آپ کے پیچھے ایک فرد موجود تھا ، جو آپ کو لوگوں سے بچا رہا تھا کہ ان کے پتھر آپ کو لگیں اور آپ یہ فرما رہے تھے : اے لوگو ! تم ایک دوسرے کو نہ مارنا ، جب تم پتھر مارو تو ایسے پتھر مارنا ، جو چٹکی میں آ سکیں ، پھر نبی اکرم ﷺ آگے بڑھے ، تو ایک خاتون اپنے بیٹے کو آپ کے پاس لے کر آئی ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے اس بیٹے کی عقل رخصت ہو گئی ہے ، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کیجئے ، نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے فرمایا : میرے پاس پانی لے کر آؤ ! وہ عورت پتھر سے بنے ہوئے پیالے میں پانی لے کر آئی ، نبی اکرم ﷺ نے اس میں لعاب دہن ڈالا ، آپ نے اس میں اپنے چہرے کو دھویا ، پھر اس میں دعا دی ، پھر فرمایا : تم جاؤ اور اس کے ذریعے اس لڑکے کو غسل دو ، اور اللہ تعالیٰ سے شفاء طلب کرو ! راوی خاتون کہتی ہیں : میں نے اس خاتون سے کہا : اس میں سے تھوڑا سا پانی میرے اس بیٹے کے لئے مجھے بھی دے دو ، تو میں نے اس میں سے تھوڑا سا پانی انگلیوں کے ذریعے لے لیا اور اس کے ذریعے اپنے بیٹے پر ہاتھ پھیر دیا ، تو وہ سب سے زیادہ تندرست ہو گیا ، بعد میں ، میں نے اس خاتون سے دریافت کیا : اس کے بیٹے کا کیا حال ہے ؟ تو اس نے بتایا : کہ وہ بالکل ٹھیک ہو چکا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے ، جمرات کو کنکریاں مارنے والا حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

14152

Majma al-Zawaid #14152

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحْشٌ، فَإِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعِبَ وَاشْتَدَّ، وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا أَحَسَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَبَضَ فَلَمْ يَتَرَمْرَمْ مَا دَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْبَيْتِ ; كَرَاهِيَةَ أَنْ يُؤْذِيَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾisha رضي الله عنها reports that the household of the Messenger of Allah ﷺ had a wild animal which, when the Messenger of Allah ﷺ went out, played, ran hard, advanced and withdrew, but when it sensed the Messenger of Allah ﷺ it crouched and did not stir while he remained in the house, out of dislike of harming him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کی آل کا ایک وحشی جانور تھا ، جب نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لے جاتے تھے تو وہ کھیلتا تھا بھاگتا تھا دوڑتا تھا آتا تھا اور جاتا تھا ، اور جب نبی اکرم ﷺ تشریف لے آتے تھے ، تو وہ آرام سے بیٹھ جاتا تھا اور حرکت نہیں کرتا تھا ، جب تک نبی اکرم ﷺ گھر میں موجود رہتے تھے ، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ کہیں وہ نبی اکرم ﷺ کو اذیت نہ پہنچا دے ۔ یہ روایت امام احمد نے امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14153

Majma al-Zawaid #14153

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لَهُمْ جَمَلٌ يَسْنُونَ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ اسْتُصْعِبَ عَلَيْهِمْ فَمَنَعَهُمْ ظَهْرَهُ، وَأَنَّ الْأَنْصَارَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: إِنَّهُ كَانَ لَنَا جَمَلٌ نَسْتَنِي عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ اسْتُصْعِبَ عَلَيْنَا، وَمَنَعَنَا ظَهْرَهُ، وَقَدْ عَطِشَ الزَّرْعُ وَالنَّخْلُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ: "" قُومُوا "". فَقَامُوا، فَدَخَلَ الْحَائِطَ وَالْجَمَلُ فِي نَاحِيَتِهِ، فَمَشَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَحْوَهُ. فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ صَارَ مِثْلَ الْكَلْبِ الْكَلِبِ، وَإِنَّا نَخَافُ عَلَيْكَ صَوْلَتَهُ. قَالَ: "" لَيْسَ عَلَيَّ مِنْهُ بَأْسٌ "". فَلَمَّا نَظَرَ الْجَمَلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ نَحْوَهُ، حَتَّى خَرَّ سَاجِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَاصِيَتِهِ أَذَلَّ مَا كَانَتْ قَطُّ حَتَّى أَدْخَلَهُ فِي الْعَمَلِ. فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا بَهِيمَةٌ لَا يَعْقِلُ يَسْجُدُ لَكَ، وَنَحْنُ نَعْقِلُ ; فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ! قَالَ: "" لَا يَصْلُحُ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبِشْرٍ، وَلَوْ صَلَحَ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا ; لِعِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا، لَوْ كَانَ مِنْ قَدَمِهِ إِلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ قُرْحَةٌ تَنْبَجِسُ بِالْقَيْحِ وَالصَّدِيدِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْهُ فَلَحَسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ حَفْصِ ابْنِ أَخِي أَنَسٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that an Ansari household owned a camel for drawing water which became refractory, denied them its back, while crops and palms thirsted. The Ansar came to the Messenger of Allah ﷺ and explained that their watering camel had become unmanageable and withheld its back. The Messenger of Allah ﷺ told his companions to rise. They rose, and he entered the garden with the camel in its corner, walking toward it. The Ansar warned that it had become like a rabid dog and they feared its attack upon him. He replied that there was no harm upon him from it. When the camel looked at the Messenger of Allah ﷺ it advanced toward him until it fell prostrate between his hands. The Messenger of Allah ﷺ seized its forelock, the most docile it had ever been, until he returned it to work. His companions said a dumb beast without reason prostrated to him while they possessed reason, so they were more entitled to prostrate. He replied that it is not fit for a human to prostrate to a human; had it been fit he would have commanded a wife to prostrate to her husband for the greatness of his right upon her, for had he a wound from his foot to the crown of his head bursting with pus and matter, and she faced him and licked it, she would not have fulfilled his right. > **"It is not fit for a human to prostrate to a human; had it been fit I would have commanded a wife to prostrate to her husband."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار کا ایک گھرانہ تھا ، جن کے پاس ایک اونٹ تھا جس پر وہ پانی لاد کر لایا کرتے تھے انہیں اس اونٹ کو قابو کرنے میں دشواری پیش آئی ، اس اونٹ نے اپنی پشت پر کچھ لادنے سے روک دیا ، انصار نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : ہمارا ایک اونٹ تھا ، جس پر ہم پانی لاد کر لایا کرتے تھے ، اب اس کو قابو کرنا ہمارے لئے دشوار ہو گیا ، وہ ہمیں اپنی پشت استعمال کرنے نہیں دیتا ہے جب کہ صورت حال یہ ہے کہ کھیت اور کھجوروں کے درخت پیاسے ہیں ( یعنی انہیں پانی لگانے کی ضرورت ہے ) نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ اٹھو ، وہ لوگ کھڑے ہوئے ، نبی اکرم ﷺ اس باغ میں تشریف لائے ، وہ اونٹ باغ کے ایک کونے میں موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ اس کی طرف چل کر جانے لگے ، تو انصار نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ایک کتے کی مانند ہو چکا ہے ، ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ یہ آپ کو نقصان پہنچائے گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں ہو گا ، جب اونٹ نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو وہ آپ کی طرف چلتا ہوا آیا ، اور آپ کے سامنے سجدے میں گر گیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس کی پیشانی کو پکڑا ، تو وہ اتنا فرمانبردار ہو چکا تھا کہ پہلے اتنا فرمانبردار نہیں تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے اپنے کام میں داخل کیا ، آپ کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ جانور جو عقل نہیں رکھتا ، یہ آپ کو سجدہ کر رہا ہے ، ہم تو عقل رکھتے ہیں ، ہم اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کسی انسان کے لئے یہ موزوں نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے ، اگر کسی انسان کے لئے یہ موزوں ہوتا کہ وہ کسی انسان کو سجدہ کرے ، تو میں نے بیوی کو یہ حکم دینا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ، کیونکہ شوہر کا حق اس عورت پر زیادہ ہے ، یہاں تک کہ اگر اس کی سر کی مانگ سے لے کر اس کے قدموں تک پھوڑے نکلے ہوئے ہوں ، جن میں سے پیپ اور کیچ لہو بہتا ہو ، پھر وہ عورت اپنے شوہر کے پاس آ کر اس کو چاٹ لے ، تو بھی وہ اس شوہر کے حق کو ادا نہیں کر سکتی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف حفص نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بھتیجا ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14154

Majma al-Zawaid #14154

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَاءَ قَوْمٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَعِيرًا لَنَا قَطَّ فِي حَائِطٍ. فَجَاءَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" تَعَالَ "". فَجَاءَ مُطَأْطَأً رَأْسَهُ حَتَّى خَطَمَهُ وَأَعْطَاهُ أَصْحَابَهُ. فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّهُ عَلِمَ أَنَّكَ نَبِيٌّ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَحَدٌ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي نَبِيٌّ، إِلَّا كَفَرَةَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that some people came to the Messenger of Allah ﷺ and said their camel had broken loose in a garden. The Prophet ﷺ came to it and told it to come. It came with lowered head until he bridled it and handed it to its owners. Abū Bakr رضي الله عنه said it was as though it knew he was a prophet. The Messenger of Allah ﷺ replied that none between its two lava plains but knows he is a prophet, except the disbelievers among jinn and men. > **"Come."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا اونٹ کھل کر باغ میں چلا گیا ہے ، نبی اکرم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : تم آگے آؤ ، تو وہ اپنے سر کو جھکا کر آگے آ گیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے اسے لگام ڈال دی ، اور وہ اونٹ اس کے مالکان کے حوالے کر دیا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا سول اللہ ! یوں لگتا ہے جیسے یہ جانتا ہے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دونوں کناروں کے درمیان موجود ہر چیز یہ جانتی ہے کہ میں نبی ہوں ، سوائے کافر جنوں اور انسانوں کے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

14155

Majma al-Zawaid #14155

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهُ فَحْلَانِ فَاغْتَلَمَا، فَأَدْخَلَهُمَا حَائِطًا فَسَدَّ عَلَيْهِمَا الْبَابَ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ لَهُ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ مَعَ نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ. فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي جِئْتُ فِي حَاجَةٍ، وَإِنَّ فَحْلَيْنِ لِيَ اغْتَلَمَا، وَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا حَائِطًا وَسَدَدْتُ عَلَيْهِمَا الْبَابَ، فَأُحِبُّ أَنْ تَدْعُوَ لِي أَنْ يُسَخِّرَهُمَا اللَّهُ لِي. فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" قُومُوا مَعَنَا "". فَذَهَبَ حَتَّى أَتَى الْبَابَ فَقَالَ: "" افْتَحْ "". فَأَشْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" افْتَحْ "". فَفَتَحَ الْبَابَ فَإِذَا أَحَدُ الْفَحْلَيْنِ قَرِيبٌ مِنَ الْبَابِ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَجَدَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَشُدُّ بِرَأْسِهِ وَأُمَكِّنُكَ مِنْهُ "". فَجَاءَ بِخِطَامٍ، فَشَدَّ رَأْسَهُ وَأَمْكَنَهُ مِنْهُ، ثُمَّ مَشَى إِلَى أَقْصَى الْحَائِطِ إِلَى الْفَحْلِ الْآخَرِ، فَلَمَّا رَآهُ وَقَعَ لَهُ سَاجِدًا، فَقَالَ لِلرَّجُلِ: "" ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَشُدُّ رَأْسَهُ "". فَشَدَّ رَأْسَهُ وَأَمْكَنَهُ مِنْهُ. ثُمَّ قَالَ: "" اذْهَبْ فَإِنَّهُمَا لَا يَعْصِيَانِكَ "". فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَلِكَ قَالُوا: هَذَانِ فَحْلَانِ لَا يَعْقِلَانِ سَجَدَا لَكَ ; أَفَلَا نَسْجُدُ لَكَ؟ قَالَ: "" لَا آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، وَلَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا يَسْجُدُ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو عَزَّةَ الدَّبَّاغُ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَاسْمُهُ الْحَكَمُ بْنُ طَهْمَانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that an Ansari man owned two stallions in rut. He put them in a garden and shut the door upon them, then came to the Prophet ﷺ, who was seated with a group of Ansar, wishing him to supplicate that Allah subdue them for him. The Prophet ﷺ told his companions to rise with them. He went to the door and told him to open. The man feared for the Prophet ﷺ. He repeated the order, and he opened. One stallion stood near the door; when it saw the Prophet ﷺ it prostrated to him. The Prophet ﷺ asked for something to bind its head and enable the man over it. He brought a bridle, he bound its head and enabled him. Then he walked to the far end of the garden to the other stallion; when it saw him it fell prostrate. He told the man to bring something to bind its head, bound it, and enabled him. Then he told him to go, for they would never disobey him. When the companions of the Prophet ﷺ saw that, they asked why two unreasoning stallions should prostrate while they did not. He replied that he commands no one to prostrate to anyone; had he commanded anyone to prostrate to anyone he would have commanded a wife to prostrate to her husband. > **"Open. Bring me something with which to bind its head. Go, for they will never disobey you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے دو اونٹ تھے ، اس نے ان دونوں کو ایک باغ میں داخل کیا اور دروازہ بند کر دیا ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، اس کا یہ ارادہ تھا کہ نبی اکرم ﷺ ان دونوں کے لئے دعا کریں ، نبی اکرم ﷺ انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے ہمراہ تشریف فرما تھے ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں ایک کام کے سلسلے میں آیا ہوں ، میرے دو اونٹ ہیں ، وہ دونوں سرکش ہو گئے ہیں ، میں نے ان دونوں کو باغ میں داخل کیا ہے ، اور دروازہ بند کر دیا ہے ، میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میرے لئے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں میرے لئے مسخر کر دے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم لوگ ہمارے ساتھ اٹھو ، پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، پھر آپ دروازے پر آئے ، آپ نے فرمایا : دروازہ کھولو ! وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اندیشے کا شکار ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم دروازہ کھولو ، اس نے دروازہ کھولا تو دو اونٹوں میں سے ایک دروازے کے قریب موجود تھا ، جب اس نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو آپ کے سامنے سجدہ کیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس کوئی ایسی چیز لے کر آؤ ، جس کے ذریعے میں اس کے سر کو باندھ دوں ، اور اسے تمہارے قابو میں دے دوں ، وہ شخص لگام لے کر آیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس کے سر کو باندھا اور اس کو قابو میں کر لیا ، پھر آپ باغ کے ایک کونے میں تشریف لے گئے ، جہاں دوسرا اونٹ موجود تھا ، جب اس نے آپ کو دیکھا تو وہ بھی سجدے میں چلا گیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے فرمایا : تم میرے پاس کوئی چیز لے کر آؤ ، جس کے ذریعے میں اس کے سر کو باندھ دوں ، نبی اکرم ﷺ نے اس کے سر کو باندھ دیا اور اسے اس شخص کے قابو میں دے دیا ، پھر آپ نے فرمایا : تم جاؤ ! یہ دونوں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گے ، جب نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے اس صورت حال کو دیکھا تو انہوں نے عرض کی : یہ دو اونٹ جو عقل نہیں رکھتے ہیں ، انہوں نے آپ کو سجدہ کیا ہے ، کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ میں کسی کو یہ اجازت نہیں دوں گا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے ، اگر میں نے کسی کو یہ اجازت دینی ہوتی کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے ، تو میں نے عورت کو یہ ہدایت کرنی تھی کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعزہ دباغ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کا نام حکم بن طہمان ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14156

Majma al-Zawaid #14156

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا مَا رَآهَا أَحَدٌ قَبَلِي، وَلَا يَرَاهَا أَحَدٌ بَعْدِي: لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي سَفَرٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَرَرْنَا بِامْرَأَةٍ جَالِسَةٍ مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا صَبِيٌّ أَصَابَهُ بَلَاءٌ، وَأَصَابَنَا مِنْهُ بَلَاءٌ يُؤْخَذُ فِي الْيَوْمِ لَا أَدْرِي كَمْ مَرَّةً. قَالَ: " نَاوِلِينِيهِ ". فَحَمَلَتْهُ إِلَيْهِ، فَحَمَلَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ وَاسِطَةِ الرَّحْلِ، ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ، وَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثًا، وَقَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ، احْبِسْ عَدُوَّ اللَّهِ ". ثُمَّ نَاوَلَهَا إِيَّاهُ، فَقَالَ: " الْقَيْنَا فِي الرَّجْعَةِ فِي هَذَا الْمَكَانِ فَأَخْبِرِينَا مَا فَعَلَ ". قَالَ: فَذَهَبْنَا وَرَجَعْنَا فَوَجَدْنَاهَا فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مَعَهَا شِيَاهٌ ثَلَاثٌ، فَقَالَ: " مَا فَعَلَ صَبِيُّكِ؟ ". فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا حَسَسْنَا مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى السَّاعَةِ، فَاجْتَرِرْ هَذِهِ الْغَنَمَ. قَالَ: " انْزِلْ فَخُذْ مِنْهَا وَاحِدَةً وَرُدَّ الْبَقِيَّةَ ". قَالَ: وَخَرَجْتُ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْجِنَانِ حَتَّى إِذَا بَرَزْنَا قَالَ: " انْظُرْ وَيْحَكَ هَلْ تَرَى شَيْئًا يُوَارِينِي؟ ". قُلْتُ: مَا أَرَى شَيْئًا يُوَارِيكَ إِلَّا شَجَرَةً مَا أَرَاهَا تُوَارِيكَ. قَالَ: " فَمَا بِقُرْبِهَا؟ ". قُلْتُ: شَجَرَةٌ مِثْلُهَا أَوْ قَرِيبٌ مِنْهَا. قَالَ: " اذْهَبْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا بِإِذْنِ اللَّهِ ". قَالَ: فَاجْتَمَعَتَا فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ قَالَ: " اذْهَبْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَرْجِعَ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا ". فَرَجَعَتْ. قَالَ: وَكُنْتُ عِنْدَهُ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ جَاءَ جَمَلٌ يُخَبِّبُ حَتَّى ضَرَبَ بِجِرَانِهِ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: " وَيْحَكَ! انْظُرْ لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ؟ إِنَّ لَهُ لَشَأْنًا ". فَخَرَجْتُ أَلْتَمِسُ صَاحِبَهُ، فَوَجَدْتُهُ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَدَعَوْتُهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " مَا شَأْنُ جَمَلِكَ هَذَا؟ ". قَالَ: وَمَا شَأْنُهُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي وَاللَّهِ مَا شَأْنُهُ؟ عَمِلْنَا عَلَيْهِ، وَنَضَحْنَا عَلَيْهِ، حَتَّى عَجَزَ عَنِ السِّقَايَةِ، فَأْتَمَرْنَا الْبَارِحَةَ أَنْ نَنْحَرَهُ وَنُقَسِّمَ لَحْمَهُ. قَالَ: " لَا تَفْعَلْ هَبْهُ لِي، أَوْ بِعْنِيهِ ". قَالَ: بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: فَوَسَمَهُ بِمَيْسَمِ الصَّدَقَةِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Yaʿlā ibn Murra رضي الله عنه reports seeing three things from the Messenger of Allah ﷺ which none had seen before him nor would see after him. Going with him on a journey, they passed a seated woman with her boy. She said the boy was afflicted with trial affecting them too, seized daily countless times. He asked her to hand him over. She lifted him to him, and he carried him between himself and the middle of the saddle, opened his mouth, blew into it thrice, and said in Allah's name, I am the servant of Allah, withhold, enemy of Allah. Then he returned him to her and told her to meet them on the return at that place and inform them how he fared. They went and returned to find her there with three sheep. Asked how her boy fared, she swore by the One Who sent him with truth that they had sensed nothing from him until that hour, and asked him to take the sheep. He told his companion to dismount, take one, and return the rest. Going out another day to the open gardens, when they emerged the Prophet ﷺ asked him to look for anything concealing him. He saw nothing but a tree he did not think would conceal him. Asked what was near it, he replied a like tree, or near it. He told him to go to them and say the Messenger of Allah ﷺ commands them to join by Allah's leave. They joined, he relieved himself, then returned and told him to order each to return to its place. They returned. Sitting with him another day, a camel came trotting until it set its neck before him, then its eyes shed tears. He told him to see whose camel it was, for it had a matter. He found its owner, a man of the Ansar, and summoned him. Asked about his camel, the man professed ignorance beyond working and watering upon it until it failed at watering, whereupon last night they resolved to slaughter it and divide its meat. He told him not to do so but to grant or sell it to him. The man granted it to him, O Messenger of Allah. He branded it with the charity brand and sent it on. > **"In the name of Allah, I am the servant of Allah, withhold, enemy of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے تین ایسی چیزیں دیکھی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھی ہیں اور نہ میرے بعد کوئی دیکھے گا ، میں آپ کے ساتھ سفر پر جا رہا تھا ، راستے میں کسی جگہ ہم پہنچے تو ہمارا گزر ، ایک بیٹھی ہوئی خاتون کے پاس سے ہوا ، جس کے ساتھ اس کا بچہ موجود تھا ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس بچے کو بلا لاحق ہو گئی ہے ، اور ہمیں اس کی وجہ سے آزمائش کا سامنا ہے ، اسے دن میں کئی مرتبہ دورہ پڑتا ہے ، مجھے نہیں پتہ کتنی مرتبہ پڑتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے مجھے پکڑاؤ ، اس عورت نے اس بچے کو اٹھا کر آپ کی طرف بڑھایا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے اپنے اور اپنے پالان کے درمیانی حصے میں رکھا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں تین مرتبہ پھونک ماری اور پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں اللہ کا بندہ ہوں ، اے اللہ کے دشمن ! دفع ہو جاؤ ، پھر نبی اکرم ﷺ نے وہ بچہ اس عورت کو پکڑایا اور فرمایا : واپسی پر ہم سے اسی جگہ ملنا اور ہمیں بتانا کہ اس کا کیا حال ہے ؟ راوی کہتے ہیں : ہم وہاں سے روانہ ہو گئے ، جب ہم واپس آئے ، تو ہم نے اس خاتون کو اسی جگہ پایا ، اس کے پاس تین بکریاں تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارے بچے کا کیا حال ہے ؟ اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اس کے بعد سے لے کر اب تک ہمیں اس کے حوالے سے کوئی چیز محسوس نہیں ہوئی ، آپ یہ بکریاں قبول کریں ، آپ ﷺ نے ( مجھ سے ) فرمایا : تم اترو اور اس سے ایک بکری لے لو اور باقی واپس کر دو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کھلے میدان کی طرف نکلا ، یہاں تک کہ جب ہم اس جگہ کے قریب آئے ، جہاں قضائے حاجت کی جاتی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس بات کا جائزہ لو کہ کوئی ایسی چیز نظر آتی ہے ، جو میرے لئے پردہ بن جائے ، میں نے عرض کی : مجھے تو کوئی ایسی چیز نظر نہیں آ رہی ، جو آپ کے لئے پردہ بن جائے ، البتہ ایک درخت ہے جس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ وہ آپ کے لئے رکاوٹ بن سکتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ تقریباً کتنا بڑا ہے ؟ میں نے جواب دیا : وہ ایک درخت ہے ، اور اس کی مانند ایک اور درخت ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کے قریب ایک اور درخت ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور انہیں یہ کہو کہ اللہ کے رسول تم دونوں کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم دونوں اللہ کے اذن کے تحت اکٹھے ہو جاؤ ، راوی کہتے ہیں : وہ دونوں اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے وہاں قضائے حاجت کی ، پھر آپ واپس تشریف لائے آپ نے فرمایا : تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو کہ اللہ کے رسول تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم دونوں میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر واپس چلا جائے ، تو وہ واپس چلے گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک اونٹ آیا اور اس نے آ کر نبی اکرم ﷺ کے سامنے اپنی گردن ڈال دی ، پھر اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہونے لگے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس بات کا جائزہ لو کہ یہ کس کا اونٹ ہے ؟ اس کا کوئی مخصوص معاملہ لگتا ہے ، میں اس اونٹ کے مالک کو تلاش کرنے کے لئے نکلا ، تو میں نے اسے پایا کہ وہ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا ، میں اسے بلا کے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے اس اونٹ کا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے دریافت کیا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کیا معاملہ ہے ؟ ہم اسے کام میں استعمال کرتے رہے ہیں اور اس پر پانی لاد کے لاتے رہے ہیں ، یہاں تک کہ یہ پانی لانے کے قابل نہیں رہا ، توکل ہم نے یہ طے کیا کہ ہم اسے قربان کر دیتے ہیں اور اس کا گوشت تقسیم کر لیتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو ! اسے مجھے ہبہ کر دو ، یا یہ مجھے فروخت کر دو ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کا ہوا ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے اس پر صدقہ کا مخصوص نشان لگوایا اور اسے بھجوا دیا ۔

14157

Majma al-Zawaid #14157

وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ يَعْلَى قَالَ: إِنِّي مَا أَظُنُّ أَحَدًا رَأَى مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا دُونَ مَا رَأَيْتُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لِصَاحِبِ الْبَعِيرِ: " مَا لِبَعِيرِكَ يَشْكُوكَ ; زَعَمَ أَنَّكَ سَنَأْتَهُ حَتَّى كَبِرَ تُرِيدُ أَنْ تَنْحَرَهُ ". قَالَ: صَدَقْتَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ قَدْ أَرَدْتُ ذَلِكَ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَفْعَلُ.

EnglishUnverified translation

Yaʿlā رضي الله عنه reports in another narration that he did not think anyone saw from the Messenger of Allah ﷺ but less than what he saw. He mentioned the like, except that he told the camel's owner that his camel complained he had worked it until grown old and now intended to slaughter it. The man affirmed by the One Who sent him with truth that he had intended so, and swore he would not do it. > **"What is the matter with your camel that it complains of you? It claims you worked it until grown old and now intend to slaughter it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : ’’ میرا نہیں خیال کہ کسی نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے وہ چیز دیکھی ہو گی ، جو میں نے دیکھی ہے ، کسی نے کم ہی دیکھی ہو گی ....... اس کے بعد راوی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ روایت نقل کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے اونٹ کے مالک سے کہا : تمہارے اونٹ کا کیا معاملہ ہے کہ وہ تمہاری شکایت کر رہا ہے ، اس کا یہ کہنا ہے کہ تم اس پر پانی لاد کے لاتے رہے ہو ، یہاں تک کہ جب اس اونٹ کی عمر زیادہ ہو گئی ہے ، تو اب تم اسے قربان کرنے کا ارداہ رکھتے ہو ، اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، میں نے یہی ارادہ کیا تھا اور اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اب میں ایسا نہیں کروں گا ۔

14158

Majma al-Zawaid #14158

وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ سِرْنَا وَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَنَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَتْ شَجَرَةٌ تَشُقُّ الْأَرْضَ حَتَّى غَشِيَتْهُ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ ذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ: "" هِيَ شَجَرَةٌ اسْتَأْذَنَتْ رَبَّهَا - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ تُسَلِّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذِنَ لَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration, they travelled and alighted, and the Prophet ﷺ slept. A tree came splitting the earth until it covered him, then returned to its place. When he awoke and was informed, he said it was a tree that had sought its Lord's permission to greet the Messenger of Allah ﷺ, and permission was granted it. > **"It is a tree that sought its Lord's permission to greet the Messenger of Allah, and He permitted it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : پھر ہم روانہ ہوئے ، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ، نبی اکرم ﷺ سو گئے ، تو ایک درخت زمین کو چیرتا ہوا آیا اور اس نے نبی اکرم ﷺ پر سایہ کر دیا ، پھر وہ واپس اپنی جگہ پر چلا گیا ، جب نبی اکرم ﷺ بیدار ہوئے ، تو میں نے آپ کے سامنے یہ ذکر کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا : اس درخت نے اپنے پروردگار سے یہ اجازت مانگی تھی کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کو سلام کرے ، تو پروردگار نے اُسے اجازت دیدی ۔ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14159

Majma al-Zawaid #14159

وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي إِحْدَى رِوَايَاتِهِ: «فَمَرَّ عَلَيْهِ بَعِيرٌ مَادٌّ بِجِرَانِهِ يَرْغُو، فَقَالَ: "" عَلَيَّ بِصَاحِبِ هَذَا "". فَجَاءَ فَقَالَ: "" هَذَا يَقُولُ نَتَجْتُ عِنْدَهُمْ، فَاسْتَعْمَلُونِي حَتَّى إِذَا كَبِرْتُ أَرَادُوا أَنْ يَنْحَرُونِي "". وَقَالَ فِيهَا: "" مَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا كَفَرَةَ - أَوْ فَسَقَةَ - الْجِنِّ وَالْإِنْسِ».

EnglishUnverified translation

In one of his narrations al-Tabarani reports a camel passing him, stretching its neck and bellowing. He said, bring me its owner. When he came he said it reported being born among them, worked until grown old, whereupon they intended to slaughter it. He added that nothing exists but knows he is the Messenger of Allah, except the disbelievers, or the corrupt, among jinn and men. > **"Bring me its owner."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے اپنی ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک اونٹ گزرا ، جس نے اپنی گردن جھکائی ہوئی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے مالک کو میرے پاس لے کر آؤ ! وہ آیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کہہ رہا ہے کہ میں ان کے ہاں پیدا ہوا ، یہ لوگ مجھے کام میں استعمال کرتے رہے ، یہاں تک کہ جب میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، تو انہوں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ یہ مجھے قربان کر دیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہاں موجود ہر چیز یہ بات جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، صرف کافر ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) صرف فاسق جنات اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘

14160

Majma al-Zawaid #14160

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ - قَالَ وَكِيعٌ مُرَّةَ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ وَلَمْ يَقُلْ لِي مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا بِهِ لَمَمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ "". قَالَ: فَبَرِئَ. قَالَ: فَأَهْدَتْ إِلَيْهِ كَبْشَيْنِ، وَشَيْئًا مِنْ سَمْنٍ وَشَيْئًا مِنْ أَقِطٍ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خُذِ الْأَقِطَ وَالسَّمْنَ، وَأَحَدَ الْكَبْشَيْنِ، وَرُدَّ عَلَيْهَا الْآخَرَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Yaʿlā ibn Murra reports from his father رضي الله عنه that a woman came to the Prophet ﷺ with a boy of hers afflicted with madness. The Prophet ﷺ said, come out, enemy of Allah, I am the Messenger of Allah. He recovered. She gifted him two rams, some ghee, and some dried yogurt. The Prophet ﷺ told him to take the dried yogurt, the ghee, and one of the rams, and return the other to her. > **"Come out, enemy of Allah, I am the Messenger of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس کے ساتھ اس کا بچہ تھا ، جسے جنون کی شکایت تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! تم نکل جاؤ ، میں اللہ کا رسول ہوں ، راوی کہتے ہیں : تو وہ بچہ تندرست ہو گیا ، راوی بیان کرتے ہیں : اس خاتون نے نبی اکرم ﷺ کو دو دنبے تحفے کے طور پر دیے ، تھوڑا سا گھی اور تھوڑا سا پنیر دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم پنیر اور گھی لے لو ! اور دو دنبوں میں سے ایک لے لو ، اور دوسرا اُسے واپس کر دو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14161

Majma al-Zawaid #14161

وَبِسَنَدِهِ عَنْ مُرَّةَ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ: "" ائْتِ تِلْكَ الْأَشَايَتَيْنِ، فَقُلْ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا "". فَأَتَيْتُهُمَا فَقُلْتُ لَهُمَا، فَوَثَبَتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى فَاجْتَمَعَتَا، فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَتَرَ بِهِمَا، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ وَثَبَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا إِلَى مَكَانِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Murra رضي الله عنه reports by the same chain being with the Prophet ﷺ on a journey. He alighted and told him to go to those two small trees and say the Messenger of Allah ﷺ commands them to join. He went, spoke to them, and one leapt to the other and they joined. The Prophet ﷺ came out, screened himself by them, relieved himself, then each leapt back to its place. > **"Go to those two small trees and tell them the Messenger of Allah commands you to join."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ حضرت مرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ’’ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہا تھا ، آپ نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، آپ نے مجھ سے فرمایا : تم اُن دو چھوٹے درختوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں سے یہ کہو : کہ اللہ کے رسول تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ ، میں ان دو درختوں کے پاس آیا ، میں نے ان دونوں سے یہ بات کی تو ان میں سے ایک دوسرے کی طرف بڑھ گیا اور وہ دونوں اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، آپ نے ان دونوں کی اوٹ میں قضائے حاجت کی ، پھر ان دونوں ( درختوں ) میں ہر ایک واپس اپنی جگہ پر چلا گیا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے بھی نقل کی ہے ۔

14162

Majma al-Zawaid #14162

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ سِيَابَةَ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ، فَأَمَرَ وَدْيَتَيْنِ فَانْضَمَّتِ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى، ثُمَّ أَمَرَهُمَا فَرَجَعَتَا إِلَى مَنَابِتِهِمَا. وَجَاءَ بَعِيرٌ يَضْرِبُ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ، وَجَرْجَرَ حَتَّى ابْتَلَّ مَا حَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ الْبَعِيرُ؟ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّ صَاحِبَهُ يُرِيدُ نَحْرَهُ "". فَبَعَثَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَوَاهِبُهُ أَنْتَ لِي؟ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي مَالٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ. فَقَالَ: "" اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا "". فَقَالَ: لَا جَرَمَ، وَلَا أُكْرِمُ مَالًا لِي كَرَامَتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَتَى عَلَى قَبْرٍ يُعَذَّبُ صَاحِبُهُ فَقَالَ: "" إِنَّهُ يُعَذَّبُ فِي غَيْرِ كَبِيرٍ "". فَأَمَرَ بِجَرِيدَةٍ فَوُضِعَتْ عَلَى قَبْرِهِ، وَقَالَ: "" عَسَى أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ مَا دَامَتْ رَطْبَةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ أَتَى عَلَى قَبْرَيْنِ. وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Yaʿlā ibn Siyāba رضي الله عنه reports travelling with the Prophet ﷺ when he wished to relieve himself. He commanded two young palm shoots, and one joined the other, then commanded them and they returned to their roots. A camel came setting its neck to the ground, rumbling until the ground around it grew wet. The Messenger of Allah ﷺ asked whether they knew what the camel said. It claimed its owner intended to slaughter it. He sent for its owner and asked whether he would grant it to him. The man replied no wealth was dearer to him. The Prophet ﷺ told him to treat it kindly. He pledged he would honor no wealth as he honored it, O Messenger of Allah. Passing a grave whose occupant was punished, the Prophet ﷺ said he was punished for no great matter. He ordered a palm stalk placed upon his grave and said perhaps it would lighten him while moist. > **"Do you know what the camel says? It claims its owner intends to slaughter it. Treat him kindly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلی بن سیابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہا تھا ، آپ نے قضائے حاجت کرنے کا ارادہ کیا تو آپ نے کھجور کے دو چھوٹے درختوں کو حکم دیا ، تو ان میں سے ایک دوسرے کے ساتھ مل گیا ، پھر آپ نے ان دونوں کو حکم دیا ، تو وہ دونوں اپنے اُگنے کی جگہ واپس چلے گئے ۔ اسی طرح ایک اونٹ آیا اور اس نے اپنی گردن زمین پر رکھ دی ، وہ آوازیں نکالنے لگا اور رونے لگا ، یہاں تک کہ اس کے اردگرد کی جگہ تر ہو گئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ اونٹ کیا کہہ رہا ہے ؟ اس کا یہ کہنا ہے کہ اس کا مالک اسے ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے اس کے مالک کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : کیا تم یہ اونٹ مجھے ہبہ کرتے ہو ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ہاں کوئی ایسا مال نہیں ہے ، جو میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم اس کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو ، اس نے عرض کی : یہ ضروری ہے یا رسول اللہ ! کہ میں اس مال کا احترام کروں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ایک قبر کے پاس سے گزرے ، آپ اس کے پاس تشریف لائے ، اس قبر والے فرد کو عذاب ہو رہا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے ( بظاہر ) کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک شاخ کے بارے میں حکم دیا ، وہ اس کی قبر پر رکھ دی گئی ، تو آپ نے فرمایا : ہو سکتا ہے ، جب تک یہ تر رہے گی ( اس وقت تک ) اس شخص کے عذاب میں تخفیف ہو جائے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ دو قبروں کے پاس تشریف لائے .......‘‘۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔

14163

Majma al-Zawaid #14163

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ حَائِطًا، فَجَاءَ بَعِيرٌ فَسَجَدَ لَهُ، فَقَالُوا: نَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ. فَقَالَ: "" لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ - وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ - وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ entered a garden, and a camel came and prostrated to him. They said they were more entitled to prostrate. He replied that had he commanded anyone to prostrate to anyone he would have commanded a wife to prostrate to her husband. > **"Had I commanded anyone to prostrate to anyone, I would have commanded a wife to prostrate to her husband."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک باغ میں داخل ہوئے ، ایک اونٹ آیا اور وہ آپ کے سامنے سجدے میں چلا گیا ، لوگوں نے عرض کی : ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر میں نے کسی کو یہ حکم دینا ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے ، تو میں نے عورت کو یہ حکم دینا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ترمذی نے اس کا آخری حصہ نقل کیا ہے ، اس روایت کی سند حسن ہے ۔

14164

Majma al-Zawaid #14164

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ سَفَرٍ حَتَّى إِذَا دَفَعْنَا إِلَى حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ بَنِي النَّجَّارِ، إِذَا فِيهِ جَمَلٌ لَا يَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلَّا شَدَّ عَلَيْهِ قَالَ: فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ فَدَعَا الْبَعِيرَ، فَجَاءَ وَاضِعًا مِشْفَرَهُ إِلَى الْأَرْضِ حَتَّى بَرَكَ بَيْنَ يَدَيْهِ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَاتُوا خِطَامًا "". فَخَطَمَهُ وَدَفَعَهُ إِلَى صَاحِبِهِ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ فَقَالَ: "" إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn Abdillah رضي الله عنهما reports returning with the Messenger of Allah ﷺ from a journey until they reached a garden of Banu al-Najjar containing a camel that charged whoever entered. They mentioned it to the Prophet ﷺ. He came to the garden, called the camel, and it came with its lip to the ground until it knelt before him. The Prophet ﷺ called for a bridle, bridled it, handed it to its owner, then turned to the people and said nothing between heaven and earth but knows he is the Messenger of Allah, except the disobedient among jinn and men. > **"Bring a bridle."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر سے آ رہے تھے ، یہاں تک کہ بنو نجار کے ایک باغ تک پہنچے ، اس میں ایک اونٹ موجود تھا ، اور کوئی شخص اس باغ میں داخل ہوتا تھا ، تو وہ اونٹ اس پر حملہ کر دیتا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا ، تو آپ اس باغ میں آئے ، آپ نے اونٹ کو بلایا تو وہ آ گیا ، اس نے اپنے ہونٹ زمین پر رکھے ہوئے تھے ، وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لگام لے کر آؤ ! پھر نبی اکرم ﷺ نے اسے لگام ڈالی ، اور اسے اس کے مالک کے حوالے کیا ، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آسمان اور زمین کے درمیان موجود ہر چیز یہ بات جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، صرف نافرمان جنات اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

14165

Majma al-Zawaid #14165

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِحَرَّةِ وَاقِمٍ عَرَضَتِ امْرَأَةٌ بَدَوِيَّةٌ بِابْنٍ لَهَا، فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا ابْنِي قَدْ غَلَبَنِي عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ. فَقَالَ: "" أَدْنِيهِ مِنِّي "". فَأَدْنَتْهُ مِنْهُ قَالَ: "" افْتَحِي فَمَهُ "". فَفَتَحَتْهُ، فَبَصَقَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: "" اخْسَ عَدُوَّ اللَّهِ وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ "". قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: "" شَأْنَكِ بِابْنِكِ لَيْسَ عَلَيْهِ، فَلَنْ يَعُودَ إِلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا كَانَ يُصِيبُهُ "". ثُمَّ خَرَجْنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا صَحْرَاءَ دَيْمُومَةَ، لَيْسَ فِيهَا شَجَرَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِجَابِرٍ: "" يَا جَابِرُ، انْطَلِقْ فَانْظُرْ لِي مَكَانًا "" - يَعْنِي لِلْوُضُوءِ - فَانْطَلَقْتُ فَلَمْ أَجِدْ إِلَّا شَجَرَتَيْنِ مُتَفَرِّقَتَيْنِ، لَوْ إِنَّهُمَا اجْتَمَعَتَا سَتَرَتَاهُ. فَرَجَعَتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَجِدْ إِلَّا شَجَرَتَيْنِ مُتَفَرِّقَتَيْنِ لَوْ أَنَّهُمَا اجْتَمَعَتَا سَتَرَتَاكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" انْطَلِقْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَكَمَا: اجْتَمِعَا "". فَخَرَجْتُ فَقُلْتُ لَهُمَا، فَاجْتَمَعَتَا حَتَّى كَأَنَّهُمَا فِي أَصْلٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: "" ائْتِهِمَا فَقُلْ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَكَمَا: ارْجِعَا كُمَّا أَنْتُمَا "". فَرَجَعَتَا. فَنَزَلْنَا فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ بَنِي مُحَارِبٍ، فَعَرَضَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُحَارِبٍ يُقَالُ لَهُ: غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَقَلِّدٌ السَّيْفَ. فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَعْطِنِي سَيْفَكَ هَذَا، فَسَلَّهُ وَنَاوَلَهُ إِيَّاهُ، فَهَزَّهُ وَنَظَرَ إِلَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: "" اللَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْكَ "". فَارْتَعَدَتْ يَدُهُ حَتَّى سَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ، فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: "" يَا غَوْرَثُ، مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ "". قَالَ: لَا أَحَدَ بِأَبِي أَنْتَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ اكْفِنَا غَوْرَثَ وَقَوْمَهُ "". ثُمَّ أَقْبَلْنَا رَاجِعِينَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعُشِّ طَيْرٍ يَحْمِلُهُ، فِيهِ فِرَاخٌ، وَأَبَوَاهَا يَتْبَعَانِهِ وَيَقَعَانِ عَلَى يَدِ الرَّجُلِ، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَنْ كَانَ مَعَهُ فَقَالَ: "" أَتَعْجَبُونَ بِفِعْلِ هَذَيْنِ الطَّيْرَيْنِ بِفِرَاخِهِمَا؟ وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذَيْنِ الطَّيْرَيْنِ بِفِرَاخِهِمَا "". ثُمَّ أَقْبَلْنَا رَاجِعِينَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِحَرَّةِ وَاقِمٍ عَرَضَتْ لَنَا الْأَعْرَابِيَّةُ - الَّتِي جَاءَتْ بِابْنِهَا - بِوَطْبٍ مِنْ لَبَنٍ وَشَاةٍ، فَأَهْدَتْهُ لَهُ. فَقَالَ: "" مَا فَعَلَ ابْنُكِ؟ هَلْ أَصَابَهُ شَيْءٌ مِمَّا كَانَ يُصِيبُهُ؟ "". قَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصَابَهُ شَيْءٌ مِمَّا كَانَ يُصِيبُهُ. وَقَبِلَ هَدِيَّتَهَا. وَأَقْبَلْنَا، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَهْبِطٍ مِنَ الْحَرَّةِ أَقْبَلَ جَمَلٌ يُرْقِلُ فَقَالَ: "" أَتَدْرُونَ مَا قَالَ هَذَا الْجَمَلُ؟ "". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" هَذَا جَمَلٌ جَاءَنِي يَسْتَعْدِينِي عَلَى سَيِّدِهِ ; يَزْعُمُ أَنَّهُ كَانَ يَحْرُثُ عَلَيْهِ مُنْذُ سِنِينَ، حَتَّى إِذَا أَجْرَبَهُ وَأَعْجَفَهُ وَكَبِرَ سِنُّهُ أَرَادَ أَنْ يَنْحَرَهُ، اذْهَبْ يَا جَابِرُ إِلَى صَاحِبِهِ فَائْتِ بِهِ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَعْرِفُ صَاحِبَهُ. قَالَ: "" إِنَّهُ سَيَدُلُّكَ عَلَيْهِ "". قَالَ: فَخَرَجَ بَيْنَ يَدَيْهِ مُعَنِّقًا حَتَّى وَقَفَ بِي فِي مَجْلِسِ بَنِي خَطْمَةَ، فَقُلْتُ: أَيْنَ رَبُّ هَذَا الْجَمَلِ؟ قَالُوا: هَذَا جَمَلُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، فَجِئْتُهُ، فَقُلْتُ: أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ مَعِي حَتَّى جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" جَمَلُكَ يَسْتَعْدِي عَلَيْكَ، زَعَمَ أَنَّكَ حَرَثْتَ عَلَيْهِ زَمَانًا حَتَّى أَجَرَبْتَهُ، وَأَعْجَفَتْهُ وَكَبِرَ سِنُّهِ، أَرَدْتَ أَنْ تَنْحَرَهُ؟ "". فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّ ذَلِكَ كَذَلِكَ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بِعْنِيهِ "". قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَابْتَاعَهُ مِنْهُ، ثُمَّ سَيَّبَهُ فِي الشَّجَرِ حَتَّى نَصَبَ سَنَامًا، فَكَانَ إِذَا اعْتَلَّ عَلَى بَعْضِ الْمُهَاجِرِينَ أَوِ الْأَنْصَارِ مِنْ نَوَاضِحِهِمْ شَيْءٌ أَعْطَاهُ ايَّاهُ، فَمَكَثَ بِذَلِكَ زَمَانًا». قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ: كَانَتْ غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ تُسَمَّى غَزْوَةَ الْأَعَاجِيبِ. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنِ سُفْيَانَ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn Abdillah رضي الله عنهما reports going with the Messenger of Allah ﷺ on the expedition of Dhat al-Riqa. At the lava plain of Waqim a bedouin woman met them with her son and told the Messenger of Allah ﷺ that Satan had overpowered him. He told her to bring him near, open his mouth, and he spat into it, saying thrice, be gone, enemy of Allah, while I am the Messenger of Allah. Then he told her to attend to her son, for nothing of what afflicted him would return to him. They alighted in a barren desert plain without trees, and the Prophet ﷺ told Jābir to seek a place for ablution. He found only two scattered trees which if joined would screen him. The Prophet ﷺ told him to go and tell them the Messenger of Allah ﷺ says to join. He did, and they joined as though in one root. The Prophet ﷺ relieved himself, returned, and told him to order them to return as they were. They returned. They alighted in a valley of Banu Muharib, where Ghaurath ibn al-Hārith of Banu Muharib confronted them while the Prophet ﷺ wore his sword. He asked Muhammad for the sword. He unsheathed and handed it to him. He shook it, looked at it a while, advanced, and asked what would prevent him from him. The Prophet ﷺ replied that Allah would prevent him from him. His hand trembled until the sword fell. The Prophet ﷺ took it and asked who would prevent him from him. He answered none, by his parents. The Prophet ﷺ supplicated Allah to suffice them against Ghaurath and his people. Returning, a companion of the Prophet ﷺ brought a birds' nest carrying chicks, with their parents following, alighting upon the man's hand. The Prophet ﷺ asked those with him whether they marvelled at the two birds' deed toward their chicks, swearing by the One Who sent him with truth that Allah is more merciful to His servants than those two birds to their chicks. Returning to the lava plain of Waqim, the bedouin woman who had brought her son met them with a skin of milk and a sheep as gift. Asked how her son fared and whether anything of his affliction had returned, she swore by the One Who sent him with truth that nothing had returned. He accepted her gift. At a descent of the lava plain a camel came pacing. He asked whether they knew what it said. They said Allah and His Messenger know best. He said it had come complaining against its master, claiming he had ploughed upon it for years until it grew mangy, emaciated, and old, and now intended to slaughter it. He told Jābir to go to its owner and bring him. Jābir said he did not know its owner. He said it would guide him. It went ahead trotting until it stopped him at the gathering of Banu Khatma. He asked for its lord; they named such son of such. He summoned him to the Messenger of Allah ﷺ. The Prophet ﷺ told him his camel complained that he had ploughed upon it for a time until mangy and emaciated and old, and now intended to slaughter it. He affirmed by the One Who sent him with truth that it was so. The Messenger of Allah ﷺ asked him to sell it to him. He assented, and he bought it, then released it among the trees until it raised its hump. Whenever any riding camel of the Emigrants or Helpers ailed, he gave it to him. It remained so for a time. > **"Be gone, enemy of Allah, while I am the Messenger of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے ، جب ہم واقم کی پتھریلی زمین پر پہنچے ، تو ایک دیہاتی عورت اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر سامنے آئی ، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! یہ میرا بیٹا ہے ، اس پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے میرے قریب کرو ، اس عورت نے اسے نبی اکرم ﷺ کے قریب کیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا منہ کھولو ، اس عورت نے اس کا منہ کھولا ، نبی اکرم ﷺ نے اس لڑکے کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! دفع ہو جاؤ ! میں اللہ کا رسول ہوں ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے عورت تم اپنے بیٹے کو سنبھالو ، اب اس پر کچھ نہیں ہے ، اور پہلے جو مصیبت اسے لاحق ہوتی تھی ، اب دوبارہ اس کے پاس نہیں آئے گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس کے بعد ہم نے کھلے صحراء میں ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، وہاں کوئی درخت نہیں تھا ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے جابر ! تم جاؤ اور ہمارے لئے کوئی جگہ تلاش کرو ، یعنی ایسی جگہ جہاں قضائے حاجت کی جا سکے ، راوی کہتے ہیں : میں گیا ، مجھے کوئی ایسی جگہ نہیں ملی ، صرف دو درخت نظر آئے ، جو ایک دوسرے سے دور تھے ، لیکن اگر وہ دونوں اکٹھے ہو جاتے ، تو وہ پردہ بن سکتے تھے ، میں واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے دو درخت ملے ہیں ، جو ایک دوسرے سے الگ ہیں ، اگر وہ دونوں اکٹھے ہوتے ، تو پھر وہ دونوں آپ کے لئے پردہ کر سکتے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں سے یہ کہو : کہ اللہ کے رسول تمہیں یہ کہہ رہے ہیں کہ تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ ! میں وہاں سے نکلا ، میں نے ان دونوں سے یہ کہا : تو وہ دونوں اکٹھے ہو گئے ، یہاں تک کہ وہ دونوں یوں لگ رہے تھے ، جیسے وہ جڑ سے نکلے ہوں ، میں پھر واپس آیا اور نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا ، نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، آپ نے قضائے حاجت کی ، پھر آپ واپس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں سے یہ کہو کہ اللہ کے رسول تم دونوں کو یہ کہہ رہے ہیں کہ تم دونوں اپنی جگہ پر واپس چلے جاؤ ! تو وہ دونوں واپس چلے گئے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے بنو محارب کی ایک وادی میں پڑاؤ کیا ، بنو محارب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کے سامنے آیا ، اس کا نام غورث بن حارث تھا ، نبی اکرم ﷺ نے تلوار لٹکائی ہوئی تھی ، اس نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! اپنی یہ تلوار تو مجھے دکھائیں ، نبی اکرم ﷺ نے وہ تلوار نکالی اور وہ اسے پکڑا دی ، اس نے اس تلوار کو لہرایا اسے ایک نظر دیکھا ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی طرف آیا اور بولا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بچائے گا ، تو اس کے ہاتھ پر کپکپی طاری ہو گئی ، یہاں تک کہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی ، نبی اکرم ﷺ نے وہ تلوار پکڑی اور فرمایا : اے غورث ! تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ اس نے کہا : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، ایسا کوئی نہیں ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! غورث اور اس کی قوم کے حوالے سے ہماری کفایت کر دے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم واپس آ رہے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص پرندے کا گھونسلا اُٹھا کے کے آیا جس میں پرندے کے بچے موجود تھے ، اور اس کے ماں باپ اس شخص کے پیچھے آ رہے تھے ، وہ دونوں ( پرندے ) اس شخص کے ہاتھ پر آ کر بیٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ اپنے ساتھ موجود افراد کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : اپنے بچوں کے بارے میں ان دو پرندوں کے طرز عمل پر کیا تم حیران نہیں ہو رہے ؟ اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے اس سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ، جتنے یہ پرندے اپنے بچوں پر رحم کرنے والے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر جب ہم واپس آ رہے تھے اور واقم کی پتھریلی سرزمین پر پہنچے ، تو ہمارے سامنے وہی دیہاتی عورت آ گئی ، جو اپنے بیٹے کو لے کر آئی تھی ، اس کے پاس ایک مشکیزہ تھا ، جو دودھ کا تھا اور ایک بکری تھی ، وہ اس نے نبی اکرم ﷺ کو تحفے کے طور پر پیش کی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارے بیٹے کا کیا حال ہے ؟ اسے جو تکلیف لاحق ہوتی تھی ، کیا پھر کوئی تکلیف لاحق ہوئی ، اس عورت نے جواب دیا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، جو چیز اسے پہلے لاحق ہوتی تھی ، اس میں سے کچھ بھی اسے دوبارہ لاحق نہیں ہوا ، نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کا تحفہ قبول کر لیا ۔ راوی کہتے ہیں : ہم آ رہے تھے ، جب ہم ’’ حرہ ‘‘ کے مقام پر نیچے اترنے والی جگہ پر پہنچے ، تو ایک اونٹ آیا جو چلتا ہوا آ رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو یہ اونٹ کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اونٹ میرے پاس آیا ہے ، اور اپنے مالک کے خلاف مجھ سے شکایت کر رہا ہے ، اس کا یہ کہنا ہے کہ اس کا مالک کئی سال تک اس پر کھیتی باڑی کرتا رہا ( یعنی پانی لانے کے لئے استعمال کرتا رہا ) یہاں تک کہ جب یہ خارش زدہ ہو گیا کمزور ہو گیا اور بوڑھا ہو گیا ، تو اس کے مالک نے یہ ارادہ کیا کہ اسے ذبح کر دے ، اے جابر ! تم اس کے مالک کے پاس جاؤ اور اسے لے کر آؤ ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کے مالک کو نہیں پہچانتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اونٹ تمہاری رہنمائی کر دے گا ، تو وہ اونٹ تیزی سے چلتا ہوا ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے آگے چلنے لگا ، یہاں تک کہ وہ بنو خطمہ کی محفل کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، میں نے کہا : اس اونٹ کا مالک کہاں ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یہ فلاں بن فلاں کا اونٹ ہے ، میں اس کے پاس گیا اور کہا : اللہ کے رسول ﷺ کے پاس جاؤ ! وہ شخص میرے ساتھ نکلا ، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تمہارے اونٹ نے تمہارے خلاف شکایت کی ہے ، اس کا یہ کہنا ہے تم ایک طویل عرصے تک اس پر کھیتی باڑی کرتے رہے ہو ، یہاں تک کہ جب یہ بوڑھا اور کمزور ہو گیا ، تو تم نے اسے ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا ، اس شخص نے کہا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، ایسا ہی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے مجھے فروخت کر دو ! اس نے عرض کی ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! پھر نبی اکرم ﷺ نے اس سے وہ اونٹ خرید لیا اور پھر اسے ایک درخت میں سائبہ کر دیا ۔ محمد بن طلحہ بیان کرتے ہیں : غزوہ ذات الرقاع کو عجیب و غریب امور والا غزوہ بھی کہتے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحکیم بن سفیان ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14166

Majma al-Zawaid #14166

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: إِنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ إِلَى مَكَّةَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْغَائِطِ أَبْعَدَ حَتَّى لَا يَرَاهُ أَحَدٌ. قَالَ: فَبَصَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَجَرَتَيْنِ مُتَبَاعِدَتَيْنِ، فَقَالَ: "" يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، اذْهَبْ إِلَى هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ، فَقُلْ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا لَهُ لِيَتَوَارَى بِكُمَا "". فَمَشَتِ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَاجَتَهُ، ثُمَّ رَجَعَتَا إِلَى مَكَانِهِمَا. ثُمَّ مَضَى حَتَّى أَتَيْنَا أَزِقَّةَ الْمَدِينَةِ، فَجَاءَ بَعِيرٌ يَشْتَدُّ حَتَّى سَجَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ؟ "". قَالُوا: فُلَانٌ، فَقَالَ: "" ادْعُوهُ "". فَأَتَوْا بِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَشْكُوكَ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْبَعِيرُ كُنَّا نَسْنُو عَلَيْهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً، ثُمَّ أَرَدْنَا نَحْرَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" شَكَا ذَلِكَ، بِئْسَمَا جَازَيْتُمُوهُ ; اسْتَعْمَلْتُمُوهُ عِشْرِينَ سَنَةً حَتَّى إِذَا أَرَقَّ عَظْمُهُ، وَرَقَّ جِلْدُهُ، أَرَدْتُمْ نَحْرَهُ؟ بِعْنِيهِ "". قَالَ: بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوُجِّهَ نَحْوَ الظَّهْرِ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَجَدَ لَكَ هَذَا الْبَعِيرُ وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالسُّجُودِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَسْجُدَ أَحَدٌ لِأَحَدٍ، لَوْ سَجَدَ أَحَدٌ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ بِنَحْوِهِ، إِلَّا إِنَّهُ قَالَ: فِي غَزْوَةِ حُنَيْنَ. وَزَادَ فِيهِ: ثُمَّ أَصَابَ النَّاسَ عَطَشٌ شَدِيدٌ. فَقَالَ لِي: "" يَا عَبْدَ اللَّهِ، الْتَمِسْ لِي مَاءً "". فَأَتَيْتُهُ بِفَضْلِ مَاءٍ وَجَدْتُهُ فِي إِدَاوَةٍ، فَأَخَذَهُ فَصَبَّهُ فِي رَكْوَةٍ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِيهَا وَسَمَّى، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَتَحَادَرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَشَرِبَ النَّاسُ، وَتَوَضَّئُوا مَا شَاءُوا». وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ: زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ، وَأَسَانِيدُ الطَّرِيقَيْنِ ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masʿūd رضي الله عنه reports travelling with the Prophet ﷺ toward Makka. When the Messenger of Allah ﷺ went to relieve himself he withdrew until none saw him. He sighted two distant trees and told Ibn Masʿūd to go and tell them the Messenger of Allah ﷺ commands them to join so he may screen himself by them. One walked to the other, he relieved himself, then they returned to their places. Proceeding to the lanes of Madina, a camel came rushing until it prostrated to the Messenger of Allah ﷺ, then stood before him with tears flowing. The Messenger of Allah ﷺ asked for its owner. They named such. He told them to summon him. When brought, the Prophet ﷺ told him it complained of him. The man said they had drawn water upon it for twenty years, then intended to slaughter it. The Messenger of Allah ﷺ replied that it complained so, an evil requital after twenty years' service until its bones thinned and its skin thinned, now to slaughter it, and asked him to sell it to him. He granted it to him, O Messenger of Allah. The Messenger of Allah ﷺ ordered it turned toward the pasturing camels. His companions said the camel had prostrated while they were more entitled to prostrate. The Messenger of Allah ﷺ replied that Allah forbid anyone prostrating to anyone; had anyone prostrated to anyone he would have commanded a wife to prostrate to her husband. > **"O son of Masʿūd, go to these two trees and tell them the Messenger of Allah commands you to join for his screening."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مکہ کی طرف ایک سفر میں ، وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ، نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تھے ، تو آپ اتنی دور چلے جاتے تھے کہ کوئی آپ کو نہ دیکھ سکے ، راوی کہتے ہیں : دو درختوں کو دیکھا ، جو ایک دوسرے سے دور تھے ، تو آپ نے فرمایا : اے ابن مسعود ! ان دو درختوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں سے یہ کہو کہ اللہ کے رسول تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ ، تاکہ وہ تمہاری اوٹ میں ہو جائیں ، تو ان دو میں سے ایک چلتا ہوا ، دوسرے کے پاس آیا ، نبی اکرم ﷺ نے قضائے حاجت کی ، پھر وہ دونوں درخت اپنی جگہ واپس چلے گئے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ کی گلیوں کے پاس پہنچے ، تو ایک اونٹ دوڑتا ہوا آیا ، اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے سجدے میں چلا گیا ، پھر وہ آپ کے سامنے کھڑا ہوا ، اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اس اونٹ کا مالک کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : فلاں شخص ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے بلا کے لاؤ ، اسے لایا گیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : یہ تمہاری شکایت کر رہا ہے ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس اونٹ پر ہم پانی لاد کر لاتے رہے ہیں ، بیس سال تک ہم ایسا کرتے رہے ہیں ، اب ہم نے اسے قربان کرنے کا ارادہ کیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس نے یہی شکایت کی ہے ، تم اسے برا بدلہ دے رہے ہو ، تم بیس سال تک اسے کام میں استعمال کرتے رہے ، یہاں تک کہ جب اس کی ہڈیاں کمزور ہو گئیں ، اس کی جلد کمزور ہو گئی ، تو تم نے اسے قربان کرنے کا ارادہ کر لیا ، تم اسے مجھے فروخت کر دو ! اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کا ہوا ، نبی اکرم ﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا ، تو اسے اونٹوں کی طرف بھیج دیا گیا ، نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! اس اونٹ نے آپ کو سجدہ کیا ہے ، تو ہم تو سجدہ کرنے کے زیادہ حق دار ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس بات سے اللہ کی پناہ ہے کہ کوئی ایک دوسرے کو سجدہ کرے ، اگر کسی نے کسی دوسرے کو سجدہ کرنا ہوتا ، تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ غزوہ حنین کا واقعہ ہے ۔ اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ پھر لوگوں کو شدید پیاس لاحق ہو گئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے عبداللہ ! میرے لئے پانی تلاش کرو ، تم مجھے ایک برتن میں جو بچا ہوا پانی ملا تھا ، وہ لے کر میں آپ کے پاس آیا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے لے کر ایک پیالے میں ڈالا ، پھر آپ نے اپنا دست مبارک اس میں رکھا ، اور بسم اللہ پڑھی ، تو آپ کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی پھوٹنے لگا ، لوگوں نے جتنا چاہا ، پانی پی لیا اور وضو کر لیا ۔ یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، معجم اوسط کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ، اس روایت کے دونوں طریق کی اسانید ضعیف ہیں ۔

14167

Majma al-Zawaid #14167

وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، فَجَاءَ بَعِيرٌ فَسَجَدَ لَهُ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَجَدَ لَكَ الْبَهَائِمُ وَالشَّجَرُ، فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ. فَقَالَ: "" اعْبُدُوا رَبَّكُمْ، وَأَكْرِمُوا أَخَاكُمْ» "". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾisha رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ was among a group of Emigrants and Helpers when a camel came and prostrated to him. His companions said beasts and trees prostrated to him, so they were more entitled. He replied that they should worship their Lord and honor their brother. > **"Worship your Lord and honor your brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ مہاجرین اور انصار کے گروہ کے درمیان موجود تھے ، اسی دوران ایک اونٹ آیا اور اس نے نبی اکرم ﷺ کو سجدہ کیا ، آپ کے اصحاب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جانور اور درخت آپ کو سجدہ کرتے ہیں ، تو ہم تو اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے پروردگار کی عبادت کرو ، اور اپنے بھائی کا احترام کرو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

14168

Majma al-Zawaid #14168

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ ذَاتَ يَوْمٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَحْنُ بِبَعِيرٍ قَالَ: فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَا بِرَأْسِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا يَعْلَى، انْطَلِقْ إِلَى أَهْلِ هَذَا الْبَعِيرِ فَاشْتَرِهِ مِنْهُمْ، وَإِنْ لَمْ يَبِيعُوكَ فَقُلْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوصِيكُمْ بِهِ "". قَالُوا: أَيْمُ اللَّهِ لَقَدْ نَضَحْنَا عَلَيْهِ عِشْرِينَ سَنَةً، وَإِنْ كُنَّا لَنُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَهُ بِالْغَدَاةِ، فَأَمَّا إِذَا أَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّا لَا نَأْلُوهُ خَيْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Yaʿlā ibn Umayya رضي الله عنه reports travelling one day with the Messenger of Allah ﷺ when a camel appeared. Upon seeing the Messenger of Allah ﷺ it raised its head. The Messenger of Allah ﷺ told Yaʿlā to go to its people, buy it from them, and if they would not sell, tell them the Messenger of Allah ﷺ enjoins them concerning it. They swore by Allah they had drawn water upon it for twenty years and had intended to slaughter it in the morning, but since the Messenger of Allah ﷺ had enjoined it, they would not fall short in good toward it. > **"O Yaʿlā, go to the people of this camel and buy it from them; if they will not sell, tell them the Messenger of Allah enjoins you concerning it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، اسی دوران ایک اونٹ سامنے آیا ، جب اس نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ، تو اس نے اپنا سر اوپر کیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے یعلیٰ ! تم اس اونٹ کے مالکان کے پاس جاؤ ، اور ان سے اس اونٹ کو خرید لو ، اگر وہ تمہیں اس کو فروخت نہیں کرتے ، تو تم یہ کہنا کہ اللہ کے رسول تمہیں اس کے بارے میں تلقین کر رہے ہیں ، ان لوگوں نے بتایا : اللہ کی قسم ! ہم بیس سال تک اس پر پانی لاد کر لاتے رہے ہیں ، کل ہم نے اسے قربان کرنے کا ارادہ کر لیا تھا ، لیکن جب نبی اکرم ﷺ نے اس کے بارے میں تلقین کر دی ہے ، تو اب ہم اس کے حوالے سے بھلائی میں کوتاہی نہیں کریں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14169

Majma al-Zawaid #14169

وَبِسَنَدِهِ عَنْ يَعْلَى قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ إِذَا نَحْنُ بِثَلَاثِ أَشَاءَاتٍ مُتَفَرِّقَاتٍ، فَقَالَ: "" يَا يَعْلَى، اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْأَشَاءَاتِ فَقُلْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُنَّ أَنْ تَجْتَمِعْنَ بِإِذْنِ اللَّهِ "". فَمَشَيْنَ حَتَّى صِرْنَ فِي أَصْلٍ وَاحِدٍ، فَاسْتَتَرَ بِهِنَّ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا يَعْلَى، انْطَلِقْ إِلَيْهِنَّ فَأْمُرْهُنَّ أَنْ يَرْجِعْنَ بِإِذْنِ اللَّهِ "". فَمَشَيْنَ حَتَّى رَجَعَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ إِلَى مَوْقِفِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Yaʿlā رضي الله عنه reports by the same chain travelling with the Messenger of Allah ﷺ when three scattered acacias appeared. He told Yaʿlā to go and say the Messenger of Allah ﷺ commands them to join by Allah's leave. They walked until they became as one root, and he screened himself by them for his need. Then he told Yaʿlā to command them to return by Allah's leave. They walked until each returned to its stand. > **"O Yaʿlā, go to those acacias and say the Messenger of Allah commands you to join by Allah's leave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ ، حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ’’ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، ہمارے سامنے کھجور کے تین چھوٹے درخت آئے ، جو ایک دوسرے سے الگ الگ تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان تینوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو : کہ تمہیں اللہ کے رسول یہ ہدایت کر رہے ہیں کہ تم اللہ کے حکم کے تحت اکٹھے ہو جاؤ ، تو وہ چلتے ہوئے آئے اور ایک جڑ کی مانند ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے قضائے حاجت کے لئے ان کے ذریعے پردہ کر لیا ، پھر آپ نے فرمایا : اے یعلیٰ تم ان کے پاس جاؤ اور انہیں یہ ہدایت کرو کہ وہ اللہ کے حکم کے تحت واپس چلے جائیں ، تو وہ چلتے ہوئے گئے ، یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک اپنی مخصوص جگہ پر واپس چلا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

14170

Majma al-Zawaid #14170

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَرِنِي آيَةً. قَالَ: "" اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الشَّجَرَةِ فَادْعُهَا "". فَذَهَبَ إِلَيْهَا فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُوكِ. فَمَالَتْ عَلَى كُلِّ جَانِبٍ مِنْهَا حَتَّى قُلِعَتْ عُرُوقُهَا، ثُمَّ أَقْبَلَتْ حَتَّى جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَرْجِعَ، فَقَامَ الرَّجُلُ، فَقَبَّلَ رَأْسَهُ وَيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، وَأَسْلَمَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ حِبَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Burayda رضي الله عنه reports that a man came to the Prophet ﷺ and asked him to show a sign. He told him to go to that tree and call it. He went and said the Messenger of Allah ﷺ calls you. It inclined on every side until its roots were uprooted, then advanced until it came to the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ commanded it to return. The man rose, kissed his head, hands, and feet, and accepted Islam. > **"Go to that tree and call it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا : آپ مجھے کوئی نشانی دکھائیے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس درخت کے پاس جاؤ اور اسے بلا کے لاؤ ، وہ شخص اس درخت کے پاس گیا اور بولا : اللہ کے رسول تمہیں بلا رہے ہیں ، تو وہ درخت کبھی ایک طرف جھکتا تھا ، کبھی دوسری طرف جھکتا تھا ، یہاں تک کہ اس نے اپنی تمام جڑیں اکھیڑ لیں ، پھر وہ آیا اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گیا نبی اکرم ﷺ نے اسے یہ حکم دیا کہ تم واپس چلے جاؤ ! وہ شخص کھڑا ہوا ، اور اس نے نبی اکرم ﷺ کے سر اور ہاتھوں اور پاؤں کو بوسہ دیا ، اور اسلام قبول کر لیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حبان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14171

Majma al-Zawaid #14171

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُدَاوِي وَيُعَالِجُ، فَقَالَ لَهُ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّكَ تَقُولُ أَشْيَاءَ فَهَلْ لَكَ أَنْ أُدَاوِيَكَ؟ قَالَ: فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ لَهُ: "" هَلْ لَكَ أَنْ أُدَاوِيَكَ؟ "". قَالَ: إِيهِ، وَعِنْدَهُ نَخْلٌ وَشَجَرٌ. قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِذْقًا مِنْهَا، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ، وَهُوَ يَسْجُدُ، وَيَرْفَعُ، وَيَسْجُدُ، وَيَرْفَعُ، حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ، فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ارْجِعْ إِلَى مَكَانِكَ "". فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أُكَذِّبُكَ بِشَيْءٍ تَقُولُهُ بَعْدَهَا أَبَدًا. ثُمَّ قَالَ: "" يَا عَامِرُ بْنَ صَعْصَعَةَ، وَاللَّهِ لَا أُكَذِّبُهُ بِشَيْءٍ يَقُولُهُ بَعْدَهَا أَبَدًا "". قَالَ: وَالْعِذْقُ: النَّخْلَةُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَجَّاجِ الشَّامِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that a man of Banu Amir who treated and cured came to the Prophet ﷺ and asked whether he might treat him for things he said. The Messenger of Allah ﷺ invited him, then asked whether he might treat him. He assented, with palms and trees nearby. The Messenger of Allah ﷺ called a cluster among them. It advanced toward him, prostrating and rising, prostrating and rising, until it reached him and stood before him. Then the Messenger of Allah ﷺ told it to return to its place, and it returned. The man swore by Allah he would never belie anything he said thereafter, addressing Banu Amir ibn Sasa that he would never belie him thereafter. > **"Return to your place."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ، نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا وہ علاج معالجہ کیا کرتا تھا ، اس نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ کچھ باتیں کہتے ہیں ، تو کیا آپ اس بات میں دلچپسی رکھتے ہیں کہ میں آپ کا علاج کروں ؟ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اسے بلوایا اور اس سے فرمایا : کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ میں تمہارا علاج کروں ؟ اس نے کہا : کریں ، اس وقت وہاں ایک درخت اور ایک کھجور کا درخت موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اس میں سے ایک درخت کو بلایا ، تو وہ آپ کی طرف آیا اور اس نے سجدہ کیا ، پھر اس نے سر اٹھایا اور پھر سجدہ کیا ، پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا ، یہاں تک کہ اسی طرح وہ سجدہ کرتا ہوا ، آپ کے پاس پہنچ گیا ، اور آپ کے سامنے آ کے کھڑا ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تم اپنی جگہ پر واپس چلے جاؤ ، وہ اپنی جگہ واپس چلا گیا ، تو اس شخص نے کہا : اللہ کی قسم ! اس کے بعد آپ جو بھی بات کہیں گے ، میں کسی بھی چیز کے حوالے سے ، آپ کو جھوٹا قرار نہیں دوں گا ۔ پھر اس شخص نے کہا : اے عامر بن صعصہ ! اللہ کی قسم ! اس کے بعد یہ صاحب جو بھی بات کہیں گے ، میں کسی چیز کے حوالے سے انہیں جھوٹا قرار نہیں دوں گا ۔ راوی کہتے ہیں : عذق سے مراد ، کھجور کا درخت ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن حجاج شامی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14172

Majma al-Zawaid #14172

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ بِالْحَجُونِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ أَرِنِي آيَةً الْيَوْمَ لَا أُبَالِي مَنْ كَذَّبَنِي بَعْدَهَا "". فَأَتَى فَقِيلَ: ادْعُ شَجَرَةً، فَأَقْبَلَتْ تَخُطُّ الْأَرْضَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ فَسَلَّمَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمَرَهَا فَرَجَعَتْ. - قَالَ دَاوُدُ: إِلَى مَنْبَتِهَا. وَقَالَ عَفَّانُ: إِلَى مَوْضِعِهَا - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا أُبَالِي مَنْ كَذَّبَنِي بَعْدَهَا مِنْ قَوْمِي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ was at al-Hajun, and the idolaters rejected him. He supplicated Allah to show him a sign that day after which he would not mind who belied him. He was told to call a tree. It advanced ploughing the earth until it reached him and greeted him, then by his command it returned to its growth. The Messenger of Allah ﷺ said he would not mind thereafter who of his people belied him. > **"O Allah, show me a sign today after which I shall not mind who belies me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حجون کے مقام پر موجود تھے ، مشرکین نے آپ کی بات کو تسلیم نہیں کیا تو نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : اے اللہ ! آج مجھے ایسی نشانی دکھا دے کہ اس کے بعد مجھے اس شخص کی کوئی پرواہ نہ ہو ، جو مجھے جھٹلائے پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس ( فرشتہ آیا ) اور آپ سے کہا گیا : آپ کسی درخت کو بلائیں ( نبی اکرم ﷺ نے بلایا ) تو وہ درخت زمین پر چلتا ہوا ، نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، اس نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اسے حکم دیا ، تو وہ واپس چلا گیا ، یہاں داؤد نامی راوی نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : اپنے اُگنے کی جگہ واپس چلا گیا ، اور عفان نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : اپنی مخصوص جگہ پر واپس چلا گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس کے بعد میری قوم کا جو فرد مجھے جھٹلائے گا ، تو میں اس کی کوئی پرواہ نہیں کروں گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ کی سند حسن ہے ۔

14173

Majma al-Zawaid #14173

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: «غَدَوْنَا يَوْمًا غَدَاةً مِنَ الْغَدَوَاتِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كُنَّا فِي مَجْمَعِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَبَصُرْنَا بِأَعْرَابِيٍّ آخِذٍ بِخِطَامِ بَعِيرِهِ حَتَّى وَقَفَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ حَوْلُهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟ "". قَالَ: وَرَغَا الْبَعِيرُ، وَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ حَرَسِيٌّ، فَقَالَ الْحَرَسِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْأَعْرَابِيُّ سَرَقَ الْبَعِيرَ. قَالَ: فَرَغَا الْبَعِيرُ سَاعَةً، وَحَنَّ فَأَنْصَتَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْمَعُ رُغَاءَهُ وَحَنِينَهُ، فَلَمَّا هَدَأَ الْبَعِيرُ أَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْحَرَسِيِّ فَقَالَ: "" انْصَرِفْ عَنْهُ ; فَإِنَّ الْبَعِيرَ شَهِدَ عَلَيْكَ أَنَّكَ كَاذِبٌ "". فَانْصَرَفَ الْحَرَسِيُّ، وَأَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْأَعْرَابِيِّ فَقَالَ: "" أَيُّ شَيْءٍ قُلْتَ حِينَ جِئْتَنِي؟ "". قَالَ: قُلْتُ - بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي -: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا تَبْقَى صَلَاةٌ، اللَّهُمَّ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا تَبْقَى بَرَكَةٌ، اللَّهُمَّ وَسَلِّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا يَبْقَى سَلَامٌ، اللَّهُمَّ وَارْحَمْ مُحَمَّدًا حَتَّى لَا تَبْقَى رَحْمَةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ وَعَزَّ - أَبْدَأَهَا لِي وَالْبَعِيرُ يَنْطِقُ بِعُذْرِهِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ قَدْ سَدُّوا الْأُفُقَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thābit رضي الله عنه reports going one morning with the Messenger of Allah ﷺ until at the meeting of Madina roads they saw a bedouin holding his camel's bridle, standing before the Prophet ﷺ while they surrounded him. He greeted him as prophet with Allah's mercy and blessings. The Prophet ﷺ returned it and asked how he awoke. The camel bellowed, and a guard-like man came claiming the bedouin had stolen the camel. The camel bellowed and moaned for a while, to which the Messenger of Allah ﷺ listened attentively until it quieted. The Prophet ﷺ turned to the guard and told him to leave him, for the camel had testified against him that he lied. The guard departed. The Prophet ﷺ turned to the bedouin and asked what he had said when he came to him. He replied with his parents as ransom that he had said, O Allah, bless Muhammad until no blessing remains, O Allah, grant grace to Muhammad until no grace remains, O Allah, grant peace to Muhammad until no peace remains, O Allah, have mercy on Muhammad until no mercy remains. The Messenger of Allah ﷺ replied that Allah had manifested it to him while the camel spoke its excuse, and the angels had filled the horizon. > **"Turn away from him, for the camel has testified against you that you lie."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن ہم صبح کے وقت نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جا رہے تھے ، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ مختلف راستے ملنے کی جگہ پر پہنچے ، تو وہاں ہمیں ایک دیہاتی نظر آیا ، جس نے اپنے اونٹ کی لگام پکڑی ہوئی تھی ، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، ہم نبی اکرم ﷺ کے اردگرد موجود تھے ، اس نے کہا : اے نبی ! آپ پر سلامتی نازل ہو ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے اسے سلام کا جواب دیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارا کیا حال ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : اسی دوران اونٹ آوازیں نکالنے لگا ، پھر ایک شخص آیا جو حرسی لگ رہا تھا ، اس حرسی نے کہا : یا رسول اللہ ! اس دیہاتی نے اونٹ چوری کیا ہے ، راوی کہتے ہیں : وہ اونٹ کچھ دیر آوازیں نکالتا رہا اور روتا رہا ، نبی اکرم ﷺ جو اس کا رونا اور آوازیں سن رہے تھے ، آپ اسے خاموش کروانے لگے ، جب وہ اونٹ پرسکون ہوا تو نبی اکرم ﷺ حرسی کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے فرمایا : اسے چھوڑ دو ! کیونکہ اس اونٹ نے تمہارے خلاف یہ گواہی دی ہے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو ، تو وہ حرسی واپس چلا گیا ، نبی اکرم ﷺ دیہاتی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : جب تم میرے پاس واپس آئے تھے ، تو تم نے کیا کہا تھا ؟ راوی کہتے ہیں : اس نے کہا : میں نے یہ کہا تھا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اے اللہ ! تو حضرت محمد ﷺ پر رحمت نازل فرما ، یہاں تک کہ رحمت باقی نہ رہے ، اے اللہ ! تو حضرت محمد ﷺ پر برکت نازل فرما ، یہاں تک کہ برکت باقی نہ رہے ، اے اللہ ! تو حضرت محمد ﷺ پر سلامتی نازل فرما ، یہاں تک کہ سلامتی باقی نہ رہے ، اے اللہ ! تو حضرت محمد ﷺ پر رحمت فرما ! یہاں تک کہ رحمت باقی نہ رہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے لئے ظاہر کیا اور اونٹ اپنے عذر کے بارے میں بات چیت کر رہا تھا ، اور فرشتوں نے اسے گھیرا ہوا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14174

Majma al-Zawaid #14174

«وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْحَارِثِ السُّلَمِيِّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي السَّلَبِ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ خَلَأَتْ نَاقَتِي وَأَنَا أَضْرِبُهَا، فَقَالَ: "" لَا تَضْرِبْهَا "". وَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" حَلَّ ""، فَقَامَتْ فَسَارَتْ مَعَ النَّاسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hakam ibn al-Hārith al-Sulami رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ sent him concerning spoils. The Messenger of Allah ﷺ passed him while his she-camel had knelt and he was beating her. He told him not to beat her, and the Prophet ﷺ said, loose her. She rose and travelled with the people. > **"Do not beat her. Loose her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکم بن حارث سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے ایک کام کے سلسلے میں بھیجا ، نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے ، تو میری اونٹنی رکی ہوئی تھی اور میں اُسے مار رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے نہ مارو ! پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے کھول دو ( یا اسے چھوڑ دو ! ) تو وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی ، اور دوسرے لوگوں کے ساتھ چلنے لگی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14175

Majma al-Zawaid #14175

«عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: فَقَدْتُ جَمَلِي لَيْلَةً، فَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَشُدُّ لِعَائِشَةَ، فَقَالَ لِي: "" مَا لَكَ يَا جَابِرُ؟ "". فَقُلْتُ: فَقَدْتُ جَمَلِي أَوْ ذَهَبَ جَمَلِي فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ. قَالَ: فَقَالَ لِي: "" هَذَا جَمَلُكَ اذْهَبْ فَخُذْهُ "". قَالَ: فَذَهَبْتُ نَحْوَ مَا قَالَ لِي فَلَمْ أَجِدْهُ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا وَجَدْتُهُ. قَالَ: فَقَالَ لِي: "" هَذَا جَمَلُكَ اذْهَبْ فَخُذْهُ "". قَالَ: فَذَهَبْتُ نَحْوَ مَا قَالَ لِي فَلَمْ أَجِدْهُ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُهُ. قَالَ: فَقَالَ لِي: "" عَلَى رَسْلِكَ "". حَتَّى إِذَا فَرَغَ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَيْنَا الْجَمَلَ، فَدَفَعَهُ إِلَيَّ فَقَالَ: "" هَذَا جَمَلُكَ "". قَالَ: وَقَدْ سَارَ النَّاسُ قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا أَسِيرُ عَلَى جَمَلِي فِي عُقْبَتِي وَكَانَ جَمَلِي فِيهِ قِطَافٌ. قَالَ: فَقُلْتُ: يَا لَهْفَ أُمِّي أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ. قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدِي يَسِيرُ. قَالَ: فَسَمِعَ مَا قُلْتُ. قَالَ: فَلَحِقَ بِي فَقَالَ: "" مَا قُلْتَ يَا جَابِرُ قَبْلُ؟ قَالَ: فَنَسِيتُ مَا قُلْتُ. قَالَ: قُلْتُ: مَا قُلْتُ شَيْئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ. قَالَ: فَذَكَرْتُ مَا قُلْتُ. قَالَ: قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ: لَهْفَ أُمِّي أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ. قَالَ: فَضَرَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَجُزَ الْجُمَلِ بِسَوْطٍ أَوْ بِسَوْطِي قَالَ: فَانْطَلَقَ أَوْضَعَ أَوْ أَسْرَعَ جَمَلٍ رَكِبْتُهُ قَطُّ، هُوَ يُنَازِعُنِي خِطَامَهُ. قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنْتَ بَائِعِي جَمَلَكَ هَذَا؟ "". قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" بِكَمْ؟ "". قُلْتُ: بِأُوقِيَّةٍ. قَالَ: "" بَخٍ بَخٍ كَمْ فِي أُوقِيَّةٍ مِنْ نَاضِحٍ وَنَاضِحٍ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بِالْمَدِينَةِ نَاضِحٌ أُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا مَكَانَهُ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَدْ أَخَذْتُهُ بِأُوقِيَّةٍ "". قَالَ: فَنَزَلْتُ عَنِ الرَّحْلِ إِلَى الْأَرْضِ. قَالَ: قَالَ: "" مَا شَأْنُكَ؟ "". قَالَ: قُلْتُ: جَمَلُكَ. قَالَ لِي: "" ارْكَبْ جَمَلَكَ "". قَالَ: قُلْتُ: مَا هُوَ بِجَمَلِي وَلَكِنَّهُ جَمَلُكَ. - قَالَ: كُنَّا نُرَاجِعُهُ فِي الْأَمْرِ مَرَّتَيْنِ، فَإِذَا أَمَرَنَا الثَّالِثَةَ لَمْ نُرَاجِعْهُ -. قَالَ: فَرَكِبْتُ الْجَمَلَ حَتَّى أَتَيْتُ عَمَّتِي بِالْمَدِينَةِ. قَالَ: وَقُلْتُ لَهَا: أَلَمْ تَرَيْ أَنِّي بِعْتُ نَاضِحَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأُوقِيَّةٍ؟ قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهَا أَعْجَبَهَا ذَاكَ. قَالَ: وَكَانَ نَاضِحًا فَارِهًا. قَالَ: ثُمَّ أَخَذْتُ شَيْئًا مِنْ خَيْطٍ فَأَوْخَزْتُهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِخِطَامِهِ فَقُدْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُقَاوِمًا رَجُلًا يُكَلِّمُهُ، قُلْتُ: دُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَمَلَكَ. فَأَخَذَ بِخِطَامِهِ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا قَالَ: "" زِنْ لِجَابِرٍ أُوقِيَّةً وَأَوْفِهِ "". فَانْطَلَقْتُ مَعَ بِلَالٍ فَوَزَنَ لِي أُوقِيَّةً، وَأَوْفَى لِيَ الْوَزْنَ. قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ قَائِمٌ يُحَدِّثُ ذَاكَ الرَّجُلَ، قُلْتُ: قَدْ وَزَنَ لِي أُوقِيَّةً وَأَوْفَانِي. قَالَ: فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ ذَهَبْتُ إِلَى بَيْتِي وَلَا أَشْعُرُ، فَنَادَى: "" أَيْنَ جَابِرٌ؟ "". قَالُوا: ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ. قَالَ: "" أَدْرِكْهُ فَائْتِنِي بِهِ "". فَأَتَى رَسُولُهُ يَسْعَى قَالَ: يَا جَابِرُ، يَدْعُوكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَأَتَيْتُ قَالَ: "" خُذْ جَمَلَكَ "". قَالَ: قُلْتُ: مَا هُوَ جَمَلِي إِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: "" خُذْ جَمَلَكَ "". قَالَ: قُلْتُ: مَا هُوَ جَمَلِي إِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ،. قَالَ: "" خُذْ جَمَلَكَ "". فَأَخَذْتُهُ، فَقَالَ: "" لَعَمْرِي مَا نَفَعْنَاكَ لِتَنْزِلَ عَنْهُ "". قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى عَمَّتِي بِالنَّاضِحِ مَعِي وَالْأُوقِيَّةِ. فَقُلْتُ لَهَا: مَا تَرَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَانِي أُوقِيَّةً، وَرَدَّ عَلَيَّ الْجَمَلَ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نُبَيْحٍ الْعَنْزِيِّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ جَابِرٍ فِي قَضَاءِ دَيْنِ أَبِيهِ بِغَيْرِ قِصَّةِ الصَّحِيحِ فِي قَضَاءِ الدَّيْنِ عَنِ الْمَيِّتِ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn Abdillah رضي الله عنهما reports losing his camel at night. He passed the Messenger of Allah ﷺ while he was fastening for ʿAʾisha, and he asked what was wrong, O Jābir. He said he had lost his camel, or his camel had gone, on a dark night. He told him his camel was there and to go take it. He went as directed but did not find it, returned, and swore he had not found it, by his parents, O Prophet of Allah. He repeated the order, and again he went and found nothing. He told him to wait at ease. When finished he took his hand, led him to the camel, handed it to him, and said this was his camel. The people had already marched. Riding behind upon his camel, which trotted with short steps, he exclaimed at his mother for having only a trotting camel. The Messenger of Allah ﷺ rode behind, heard him, caught up, and asked what he had said. He forgot, denied saying anything, then remembered and confessed his lament. The Prophet ﷺ struck the camel's rump with a whip, or his own whip, and it set off the swiftest or fastest camel he had ever ridden, tugging its bridle. The Messenger of Allah ﷺ asked whether he would sell him that camel. He assented. Asked for how much, he said for an uqiyya. He exclaimed approval at an uqiyya for a watering camel. Jābir said no watering camel at Madina would please them in its place. The Prophet ﷺ said he had taken it for an uqiyya. Jābir dismounted to the ground. Asked his affair, he said it was his camel. He told him to ride his camel. He replied it was not his but his. He noted they would review a matter with him twice, but when he commanded a third time they did not review. He rode until he reached his aunt at Madina and told her he had sold their watering camel to the Messenger of Allah ﷺ for an uqiyya. She seemed displeased, for it was an excellent watering camel. He took some twine, goaded it, seized its bridle, and led it to the Messenger of Allah ﷺ, finding him standing conversing with a man. He offered him his camel. He seized its bridle, then ordered Bilal to weigh out an uqiyya for Jābir in full. He went with Bilal, who weighed him an uqiyya in full. He returned while the Prophet ﷺ still spoke to the man and reported full payment. While so, he went home unawares, and the Prophet ﷺ called where is Jābir. Told he had gone to his family, he ordered him overtaken and brought. His messenger came running, calling him. He came, and the Prophet ﷺ told him to take his camel. He protested it was not his but his, O Messenger of Allah, thrice. He took it, and the Prophet ﷺ swore they had not profited him merely to dismount him. He came to his aunt with the watering camel and the uqiyya, telling her the Messenger of Allah ﷺ had given him an uqiyya and returned the camel to him. > **"What is wrong with you, O Jābir? This is your camel, go and take it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات میرا اونٹ گم ہو گیا ، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا ، آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لئے پالان باندھ رہے تھے ، آپ نے مجھ سے دریافت کیا : اے جابر ! کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : میرا اونٹ گم ہو گیا ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) میرا اونٹ چلا گیا ہے ، یہ ایک تاریک رات تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ادھر تمہارا اونٹ ہو گا ، تم جاؤ اور اسے لے لو ! راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے جس طرف کے بارے میں بتایا تھا ، میں اس طرف گیا ، لیکن مجھے اونٹ نہیں ملا ، میں آپ کے پاس واپس آیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، وہ اونٹ مجھے نہیں ملا ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ادھر تمہارا اونٹ ہو گا تم جاؤ اور اسے لے لو ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جس سمت کے بارے میں مجھے بتایا تھا ، میں ادھر گیا ، لیکن مجھے نہیں ملا ، میں واپس آیا ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اللہ کی قسم ! وہ مجھے نہیں ملا ، راوی بیان کرتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم ٹھہر جاؤ ، یہاں تک کہ جب نبی اکرم ﷺ اپنے کام سے فارغ ہوئے ، تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کے چلے اور اونٹ کے پاس آ گئے ، وہ آپ نے میرے حوالے کیا اور فرمایا : یہ رہا تمہارا اونٹ ، راوی کہتے ہیں ، ہم روانہ ہوئے ، میں اپنے اونٹ پر چل رہا تھا اور لوگوں سے پیچھے تھا ، میرے اونٹ کو چلنے میں دشواری پیش آ رہی تھی وہ بہت چھوٹے قدم اٹھا رہا تھا ، میں نے کہا : ہائے میری ماں ، میرے پاس تو ایک ایسا اونٹ ہے جو چھوٹے قدم اٹھاتا ہے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مجھ سے کچھ پیچھے تھے ، آپ نے میری بات سن لی ، آپ میرے پاس آئے ، آپ نے فرمایا : اے جابر ! ابھی تم نے تھوڑی دیر پہلے کیا کہا ہے ؟ راوی کہتے ہیں ، میں نے جو بات کہی تھی ، وہ میں بھول چکا تھا ، میں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میں نے کچھ نہیں کہا ، پھر مجھے وہ بات یاد آ گئی ، جو میں نے کہی تھی ، تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں نے یہ کہا تھا کہ ہائے میری ماں ! میرے پاس وہ اونٹ ہے ، جو چھوٹے قدم اٹھاتا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے چھڑی کے ذریعے ( راوی کو شک ہے ) میری چھڑی کے ذریعے اونٹ کی پشت پر مارا ، راوی کہتے ہیں : تو وہ سب سے زیادہ تیز چلنے لگا ، اتنا تیز وہ بھی نہیں چلا تھا ، جب سے میں اس پر سوار ہوا تھا ، یہاں تک کہ مجھے اس کی لگام کھینچنی پڑ رہی تھی ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم اپنا اونٹ مجھے فروخت کرو گے ؟ میں نے عرض کی : ٹھیک ہے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کتنے کے عوض میں ؟ میں نے عرض کی : ایک اوقیہ کے عوض میں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بہت خوب ، بہت خوب ، ایک اوقیہ کے عوض میں اونٹ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مدینہ میں کوئی ایسا اونٹ نہیں ہے کہ جس کے بارے میں مجھے یہ پسند ہو کہ اس کی جگہ ہمیں وہ مل جائے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں ایک اوقیہ کے عوض میں اسے لیتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : میں پالان سے اتر کر زمین پر آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کی : یہ آپ کا اونٹ ہو گیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے اونٹ پر سوار ہو جاؤ ، میں نے عرض کی : یہ میرا اونٹ نہیں ہے ، بلکہ یہ آپ کا اونٹ ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم دو مرتبہ نبی اکرم ﷺ سے نظرثانی کی درخواست کرتے تھے ، جب آپ تیسری مرتبہ ہمیں حکم دیدیتے تھے ، تو پھر ہم نظرثانی کی درخواست نہیں کرتے تھے ، راوی کہتے ہیں : میں اس اونٹ پر سوار ہوا یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ میں موجود اپنی پھوپھی کے پاس آیا ، میں نے ان سے کہا : کیا آپ کو پتہ ہے میں نے ایک اوقیہ کے عوض میں اپنا یہ اونٹ نبی اکرم ﷺ کو فروخت کر دیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں مجھے لگا کہ یہ بات انہیں اچھی نہیں لگی ، کیونکہ وہ ایک مناسب اونٹ تھا ، راوی کہتے ہیں پھر میں نے کچھ پتے لئے ، وہ اس اونٹ کو کھلائے ، پھر میں نے اس کی لگام پکڑی اور اسے لے کر چلتا ہوا ، نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو پایا کہ آپ ایک جگہ پر ٹھہرے ہوئے کسی شخص کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنا اونٹ لے لیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس کی لگام پکڑی اور اور پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ جابر کو ایک اوقیہ وزن کر کے دو ، اور پورا وزن دینا ، میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ گیا ، انہوں نے مجھے ایک اوقیہ وزن کر کے دیا ، اور پورا وزن دیا ، پھر میں واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، تو آپ اسی شخص کے ساتھ کھڑے بات چیت کر رہے تھے ، میں نے کہا : انہوں نے مجھے وزن کر کے پورا ایک اوقیہ ادا کر دیا ہے ، راوی کہتے ہیں اسی دوران میں اپنے گھر کی طرف واپس آ گیا ، مجھے پتہ نہیں چلا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : جابر کہاں ہے ؟ لوگوں نے بتایا وہ اپنے گھر چلا گیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے پاس جاؤ اور اسے میرے پاس واپس لے کر آؤ ۔ نبی اکرم ﷺ کا قاصد دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا : اے جابر ! نبی اکرم ﷺ تمہیں بلا رہے ہیں ، راوی کہتے ہیں : میں آیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنا اونٹ لے لو ، میں نے عرض کی یہ میرا اونٹ نہیں ہے ، یا رسول اللہ یہ آپ کا اونٹ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنا اونٹ لے لو ! میں نے عرض کی : یہ میرا اونٹ نہیں ہے ، یا رسول اللہ ! یہ آپ کا اونٹ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنا اونٹ لے لو ! تو میں نے اسے لے لیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ! ہم نے تمہیں اس لئے نفع نہیں دیا تھا تاکہ تم اس سے اتر جاؤ ( یا اس سے الگ ہو جاؤ ) ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : پھر میں اپنی پھوپھی کے پاس اپنے ساتھ اونٹ لے کر آیا اور ایک اوقیہ لے کر آیا اور میں نے ان سے کہا : آپ نے دیکھا ، اللہ کے رسول نے مجھے ایک اوقیہ بھی دیدیا اور میرا اونٹ بھی واپس کر دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، تاہم نبیح عنزی کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد کے قرض کی ادائیگی والی حدیث ، جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نقل کی ہے ، وہ گزر چکی ہے ، اس میں ’’ صحیح ‘‘ والا واقعہ مذکور نہیں ہے ، اور وہ میت کی طرف سے قرض ادا کرنے سے متعلق باب میں گزری ہے ۔

14176

Majma al-Zawaid #14176

عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ بَدْرٍ وَنَحْنُ نَلُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ أَقْرَبُنَا إِلَى الْعَدُوِّ، وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ بَأْسًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَلَفْظُهُ عَنْ عَلِيٍّ: أَنَّهُ «سُئِلَ عَنْ مَوْقِفِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ: كَانَ أَشَدُّنَا يَوْمَ بَدْرٍ مَنْ حَاذَى بِرُكْبَتِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, meaning ʿAlī ibn Abi Talib رضي الله عنه, reports seeing them on the day of Badr sheltering behind the Messenger of Allah ﷺ, who was nearest them to the enemy and among the mightiest of people in valor that day.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی پناہ لے رہے تھے ، اور آپ دشمن کے سب سے زیادہ قریب تھے ، اور آپ اُس دن سب سے زیادہ خطرناک صورتحال میں تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات مذکور ہے : ان سے غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے کھڑے ہونے کی جگہ کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے بتایا : کہ غزوہ بدر کے دن ، ہم میں سب سے زیادہ مضبوط ( یا مشکل کا شکار ) وہ شخص تھا ، جو نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ۔

14177

Majma al-Zawaid #14177

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «فُضِّلْتُ عَلَى النَّاسِ بِأَرْبَعٍ: بِالسَّخَاءِ، وَالشَّجَاعَةِ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي النِّكَاحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said he was favored over people with four: generosity and courage, with the rest of the report mentioned earlier in marriage. > **"I have been favored over people with four: generosity and courage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” مجھے دوسرے لوگوں پر چار حوالوں سے فضیلت عطا کی گئی ہے ، سخاوت ، بہادری .......‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے کتاب النکاح میں گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14178

Majma al-Zawaid #14178

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ الْأَجْوَدِ الْأَجْوَدِ؟ اللَّهُ الْأَجْوَدُ الْأَجْوَدُ، وَأَنَا أَجْوَدُ وَلَدِ آدَمَ، وَأَجْوَدُهُمْ بَعْدِي رَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا فَنَشَرَ عِلْمَهُ؛ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَاحِدَةً، وَرَجُلٌ جَادَ بِنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يُقْتَلَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said he would inform them of the most generous of the most generous. Allah is the most generous of the most generous, he is the most generous of Adam's children, and the most generous after him is a man who learns knowledge and spreads it, to be raised on Resurrection Day as a single community, and a man who expends himself in Allah's path until slain. > **"Shall I not inform you of the most generous of the most generous? Allah is the most generous of the most generous, and I am the most generous of Adam's children."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں سب سے بڑے سخی کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا سخی ہے ، اور میں اولاد آدم میں سب سے زیادہ سخی ہوں ، اور میرے بعد ان میں سب سے زیادہ سخی وہ شخص ہے ، جو علم حاصل کرے اور اپنے علم کو پھیلائے ، اسے قیامت کے دن ایک امت کے طور پر اٹھایا جائے گا ، اور ایک وہ شخص ہے ، جو اپنی جان کے ہمراہ اللہ کی راہ میں ( جنگ میں ) حصہ لے ، یہاں تک کہ شہید ہو جائے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ متروک ہے ۔