Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 38 · Chapter 8

Book of Signs of Prophethood

Hadith 14099–14138

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14099

Majma al-Zawaid #14099

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «أُصِيبَتْ عَيْنُ أَبِي ذَرٍّ يَوْمَ أُحُدٍ فَبَزَقَ فِيهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَتْ أَصَحَّ عَيْنَيْهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Rahman ibn al-Harith ibn ʿUbayda, from his grandfather, said: The eye of Abu Dharr, رضي الله عنه, was struck on the day of Uhud, and the Prophet ﷺ spat into it, and it became the soundest of his eyes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن حارث بن عبیدہ اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : غزوۂ احد کے دن ، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی آنکھ زخمی ہو گئی ، نبی اکرم ﷺ نے اُس میں لعاب دہن ڈالا ، تو وہ دونوں آنکھوں میں زیادہ ٹھیک ہو گئی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14100

Majma al-Zawaid #14100

«وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ سَلَامَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أُمِّهِ أَنَّ خَالَهَا حَبِيبُ بْنُ فُرَيْكًا حَدَّثَهَا أَنَّ أَبَاهَا خَرَجَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَيْنَاهُ مُبْيَضَّتَانِ لَا يُبْصِرُ بِهِمَا شَيْئًا، فَسَأَلَهُ مَا أَصَابَهُ قَالَ: كُنْتُ أُمَرِّي جِمَالِي، فَوَقَعَتْ رِجْلِي عَلَى بَيْضِ حَيَّةٍ فَأُصِبْتُ بِبَصَرِي، فَنَفَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عَيْنَيْهِ فَأَبْصَرَ، فَرَأَيْتُهُ يُدْخِلُ الْخَيْطَ فِي الْإِبْرَةِ وَإِنَّهُ لَابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَمُبْيَضَّتَانِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ رِفَاعَةَ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ مِنْ طَرِيقِ الْبَزَّارِ وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

A man of Salaman ibn Saʿid, from his mother, reported that her maternal uncle Habib ibn Furayk told her that her father took him out to the Messenger of Allah ﷺ while his eyes were white, seeing nothing with them. He asked him what had befallen him. He said: I was leading my camels when my foot fell upon the eggs of a snake, and my sight was afflicted. The Messenger of Allah ﷺ breathed into his eyes, and he saw. He was seen threading a needle though eighty years old, while his eyes remained white.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلامان سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : اُن کے ماموں حبیب بن فریق نے انہیں یہ بات بتائی ہے : ’’ اس خاتون کے والد ان صاحب کو ساتھ لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گئے ، ان صاحب کی دونوں آنکھیں سفید تھیں اور وہ کچھ نہیں دیکھ سکتے تھے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بیماری کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا : کہ میں اپنے اونٹ کو لے جا رہا تھا ، میرا پاؤں سانپ کے انڈے پر آ گیا ، جس کی وجہ سے میری بینائی ختم ہو گئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اُن کی دونوں آنکھوں میں پھونک ماری ، تو ان کی بینائی واپس آ گئی ، راوی کہتے ہیں : میں نے انہیں دیکھا ہے کہ وہ سوئی میں دھاگہ ڈال لیا کرتے تھے ، حالانکہ اُس وقت اُن کی عمر اسی سال تھی ، اور ان کی دونوں آنکھیں سفید ہی تھیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے غزوہ بدر سے متعلق باب میں ، حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ، جو امام بزار کے حوالے سے اور امام طبرانی کے حوالے سے مذکور ہے ۔

14101

Majma al-Zawaid #14101

عَنْ مَخْلَدِ بْنِ عَقَبَةَ بْنِ شُرَحْبِيلٍ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِكَفِّي سِلْعَةٌ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَذِهِ السِّلْعَةُ قَدْ أَوَرَمَتْنِي تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ قَائِمِ السَّيْفِ أَنْ أَقْبِضَ عَلَيْهِ وَعَنْ عِنَانِ الدَّابَّةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ادْنُ مِنِّي "". فَدَنَوْتُ فَفَتَحْتُهَا، فَنَفَثَ فِي كَفِّي ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى السِّلْعَةِ، فَمَا زَالَ يَطْحَنُهَا حَتَّى رَفَعَ عَنْهَا وَمَا أَرَى أَثَرَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَمَخْلَدٌ وَمَنْ فَوْقَهُ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Makhlad ibn ʿUqba ibn Shurahbil, from his grandfather ʿAbd al-Rahman, from his father, said: I came to the Messenger ﷺ with a cyst in my palm. I said: O Prophet of Allah, this cyst has swollen me, barring me from the hilt of the sword to grip it and from the rein of the mount. The Messenger of Allah ﷺ said: Come near me. I drew near and opened it. He breathed into my palm, then placed his hand upon the cyst and kept pressing it until he lifted his hand, and I saw no trace of it. > **"Come near me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مخلد بن عقبہ بن شرحبیل ، اپنے دادا عبدالرحمن کے حوالے سے ، اُن کے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ’’ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میری ہتھیلی پر ’’ سلعہ “ ( نامی پھوڑا ) نکلا ہوا تھا ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اس ’’ سلعہ ‘‘ نے مجھے ورم آلود کر دیا ہے ، اور یہ میرے اور تلوار کے دستے کے درمیان رکاوٹ بن گیا ہے ، میں تلوار ہاتھ میں لے سکوں اور جانور کی لگام پکڑنے کے درمیان رکاوٹ بن گیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے قریب آ جاؤ ! میں آپ کے قریب آیا ، تو آپ نے فرمایا : اپنا ہاتھ کھولو ! میں نے اسے کھولا ، تو آپ نے فرمایا : اسے مٹھی میں لو ( یا اسے بند کرو ! ) تو میں نے ایسا کیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے قریب آ جاؤ ! میں قریب آیا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے کھولا ، پھر آپ نے میری ہتھیلی پر دم کیا ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس پھوڑے پر رکھا اور آپ مسلسل اُسے دباتے رہے ، یہاں تک کہ جب آپ نے اپنا ہاتھ اس سے اٹھایا ، تو اس پھوڑے کا نشان مجھے نظر نہیں آیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، مخلد اور اس سے اوپر کے راویوں سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14102

Majma al-Zawaid #14102

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ: ضَرَبَ الْمُسْتَنِيرُ بْنُ رِزَامٍ الْيَهُودِيُّ وَجْهِي بِمُخَرِّشٍ مِنْ شَوْحَطٍ، فَشَجَّنِي مُنَقِّلَةً أَوْ مَأَمُومَةً، فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَشَفَ عَنْهَا وَنَفَثَ فِيهَا فَمَا أَرَانِي مِنْهَا شَيْئًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allah ibn Unays, رضي الله عنه, said: al-Mustanir ibn Rizam the Jew struck my face with a scratcher of shawhat wood, wounding me with a displacing or penetrating wound. I brought it to the Prophet ﷺ; he uncovered it and breathed into it, and I never saw anything of it again.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مستنیر بن رزام نامی ایک یہودی نے ’’ شوحط ‘‘ ( نامی درخت ) کی بنی ہوئی چھڑی میرے چہرے پر ماری ، اور مجھے زخمی کر دیا ، وہ زخم یا منقلہ تھا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ” مامومہ ‘‘ تھا ، میں وہ زخم لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے ہاتھ ہٹایا اور اس پر پھونک ماری ، تو اس کے بعد مجھے وہاں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14103

Majma al-Zawaid #14103

«عَنْ سُوَيْدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ جَالِسًا وَحْدَهُ فِي الْمَسْجِدِ، فَاغْتَنَمْتُ ذَلِكَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ عُثْمَانَ فَقَالَ: لَا أَقُولُ لِعُثْمَانَ أَبَدًا إِلَّا خَيْرًا، لِشَيْءٍ رَأَيْتُهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُنْتُ أَتَّبِعُ خَلَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَعَلَّمُ مِنْهُ، فَذَهَبْتُ يَوْمًا فَإِذَا هُوَ قَدْ خَرَجَ فَاتَّبَعْتُهُ، فَجَلَسَ فِي مَوْضِعٍ فَجَلَسْتُ عِنْدَهُ، فَقَالَ: "" يَا أَبَا ذَرٍّ مَا جَاءَ بِكَ؟ "". قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ. قَالَ: فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَسَلَّمَ وَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ: "" مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟ "". قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ. قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: "" يَا عُمَرُ مَا جَاءَ بِكَ؟ "". قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ. ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ عُمَرَ فَقَالَ: "" يَا عُثْمَانُ مَا جَاءَ بِكَ؟ "". قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ. قَالَ: فَتَنَاوَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعَ حَصَيَاتٍ أَوْ تِسْعَ حَصَيَاتٍ، فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ حَتَّى سَمِعْتُ لَهُنَّ حَنِينًا كَحَنِينِ النَّحْلِ، ثُمَّ وَضَعَهُنَّ فَخَرِسْنَ ثُمَّ وَضَعَهُنَّ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ، حَتَّى سَمِعْتُ لَهُنَّ حَنِينًا كَحَنِينِ النَّحْلِ، ثُمَّ وَضَعَهُنَّ فَخَرِسْنَ، ثُمَّ تَنَاوَلَهُنَّ فَوَضَعَهُنَّ فِي يَدِ عُثْمَانَ فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ حَتَّى سَمِعْتُ لَهُنَّ حَنِينًا كَحَنِينِ النَّحْلِ، ثُمَّ وَضَعَهُنَّ فَخَرِسْنَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعُفٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْخِلَافَةِ لَهُ طَرِيقٌ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَيْضًا وَقَالَ الزُّهْرِيُّ فِيهَا: يَعْنِي الْخِلَافَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ فِي إِحْدَى طَرِيقَيْهِ: «يَسْمَعُ تَسْبِيحَهُنَّ مَنْ فِي الْحَلْقَةِ فِي كُلِّ وَاحِدٍ، وَقَالَ: ثُمَّ دَفَعَهُنَّ إِلَيْنَا فَلَمْ يُسَبِّحْنَ مَعَ أَحَدٍ مِنَّا».

EnglishUnverified translation

Suwayd ibn Zayd said: I saw Abu Dharr, رضي الله عنه, sitting alone in the mosque. I seized the opportunity and sat with him, and mentioned ʿUthman to him. He said: I shall never say of ʿUthman but good, for something I saw with the Messenger of Allah ﷺ. I used to follow the private moments of the Messenger of Allah ﷺ and learn from him. One day I went, and he had come out, so I followed him. He sat in a place and I sat with him. He said: O Abu Dharr, what has brought you. He said: I said: Allah and His Messenger. He said: Abu Bakr, رضي الله عنه, came, greeted, and sat at the right of the Prophet ﷺ. He said to him: What has brought you, O Abu Bakr. He said: Allah and His Messenger. He said: ʿUmar, رضي الله عنه, came and sat at the right of Abu Bakr. He said: O ʿUmar, what has brought you. He said: Allah and His Messenger. Then ʿUthman, رضي الله عنه, came and sat at the right of ʿUmar. He said: O ʿUthman, what has brought you. He said: Allah and His Messenger. He said: The Prophet ﷺ took seven pebbles, or nine pebbles, and they glorified in his hand until I heard for them a humming like the humming of bees. Then he placed them and they fell silent. Then he placed them in the hand of Abu Bakr and they glorified in his hand until I heard for them a humming like the humming of bees. Then he placed them and they fell silent. Then he took them and placed them in the hand of ʿUthman and they glorified in his hand until I heard for them a humming like the humming of bees. Then he placed them and they fell silent. > **"O Abu Dharr, what has brought you."** > **"What has brought you, O Abu Bakr."** > **"O ʿUmar, what has brought you."** > **"O ʿUthman, what has brought you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سوید بن زید بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو مسجد میں اکیلے بیٹھے ہوئے دیکھا ، تو میں نے اس کو غنیمت سمجھا ، میں ان کے پاس آ کے بیٹھا ، میں نے ان کے سامنے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہمیشہ بھلائی کی بات کہتا رہوں گا ، اس کی وجہ ایک بات ہے کہ میں نے انہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس دیکھا تھا ، میں نبی اکرم ﷺ کے تنہا ہونے کا انتظار کرتا رہتا تھا ، تاکہ میں آپ سے کوئی چیز سیکھ لوں ، ایک دن میں گیا ، نبی اکرم ﷺ گھر سے باہر نکلے تھے میں آپ کے پیچھے چلا گیا ، نبی اکرم ﷺ ایک جگہ پر آ کے تشریف فرما ہوئے ، میں آپ کے پاس بیٹھ گیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ابوذر ! تم کس غرض سے آئے ہو ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول کے لئے ، راوی کہتے ہیں : پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے سلام کیا ، اور نبی اکرم ﷺ کے دائیں طرف بیٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ابوبکر ! تم کس لئے آئے ہو ، انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول کے لئے ، راوی کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے اور وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دائیں طرف بیٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے عمر ! تم کس لئے آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول کے لئے ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دائیں طرف بیٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے عثمان ! تم کس لئے آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول کے لئے ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے سات ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) نو کنکریاں پکڑیں ، اُن کنکریوں نے آپ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی ، یہاں تک کہ میں نے ان کی آواز سنی ، یوں جیسے شہد کی مکھی کی آواز ہوتی ہے ، پھر آپ نے انہیں رکھ دیا ، تو وہ خاموش ہو گئیں ، نبی اکرم ﷺ انہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رکھا ، تو انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی ، یہاں تک کہ مجھے ان کی آواز آئی ، کیوں جیسے شہد کی مکھی کی آواز ہوتی ہے ، پھر انہوں نے اسے رکھا ، تو وہ خاموش ہو گئیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں پکڑا اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رکھ دیں ، تو وہ اس کے ہاتھ میں تسبیح پڑھنے لگیں ، یہاں تک کہ مجھے ان کی آواز آئی ، جس طرح شہد کی مکھی کی آواز ہوتی ہے ، پھر انہوں نے اسے رکھا ، تو وہ خاموش ہو گئیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں پکڑا اور وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رکھ دیں ، تو ان کنکریوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں تسبیح پڑھی یہاں تک کہ مجھے اُن کی آواز آئی ، جس طرح شہد کی مکھی کی آواز ہوتی ہے ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں رکھا ، تو وہ خاموش ہو گئیں ۔ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، اور اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے خلافت سے متعلق باب میں ، ان صحابی کے حوالے سے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے منقول ایک روایت گزر چکی ہے ، زہری نے اس میں یہ کہا ہے : یہ خلافت کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے دو میں سے ایک سند میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ حلقے میں موجود ہر فرد نے ان کی تسبیح سنی ، اور راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے وہ ہمیں دیں ، تو انہوں نے ہم میں سے کسی کے ساتھ تسبیح نہیں پڑھی ۔‘‘

14104

Majma al-Zawaid #14104

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَالَ: "" مَا مِنْ مَاءٍ؟ "". قَالُوا: لَا فَقَالَ: "" هَلْ مِنْ شَنٍّ؟ "". فَجَاءُوا بِشَنٍّ فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ فَرَّقَ أَصَابِعَهُ، فَنَبَعَ الْمَاءُ مِثْلَ عَصَا مُوسَى مِنْ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا بِلَالُ اهْتِفْ بِالنَّاسِ بِالْوُضُوءِ "". فَأَقْبَلُوا يَتَوَضَّئُونَ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَتْ هِمَّةُ ابْنِ مَسْعُودٍ الشُّرْبَ فَلَمَّا تَوَضَّئُوا صَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ، ثُمَّ قَعَدَ لِلنَّاسِ فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ أَعْجَبُ إِيمَانًا؟ "". قَالُوا: الْمَلَائِكَةُ. قَالَ: "" وَكَيْفَ لَا تُؤْمِنُ الْمَلَائِكَةُ وَهُمْ يُعَايِنُونَ الْأَمْرَ؟ "". قَالُوا: فَالنَّبِيُّونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" وَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُ النَّبِيُّونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ "". قَالُوا: فَأَصْحَابُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" وَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُ أَصْحَابِي وَهُمْ يَرَوْنَ مَا يَرَوْنَ، وَلَكِنَّ أَعْجَبَ النَّاسِ إِيمَانًا قَوْمٌ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِي يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي، وَيُصَدِّقُونِي وَلَمْ يَرَوْنِي، أُولَئِكَ إِخْوَانِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَأَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَانْفَجَرَ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ عُيُونٌ». وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, رضي الله عنهما, said: The Messenger of Allah ﷺ awoke one day and said: Is there any water. They said: No. He said: Is there a worn waterskin. They brought a waterskin and placed it before the Messenger of Allah ﷺ. He placed his hand upon it, then spread his fingers, and water gushed forth like the staff of Musa, from the fingers of the Messenger of Allah ﷺ. He said: O Bilal, call the people to ablution. They came performing ablution from between the fingers of the Messenger of Allah ﷺ, while the concern of Ibn Masʿud, رضي الله عنه, was drinking. When they performed ablution, he led them in Fajr. Then he sat for the people and said: O people, whose faith is most wondrous. They said: The angels. He said: And how should not the angels believe while they witness the affair. They said: Then the prophets, O Messenger of Allah. He said: And how should not the prophets believe while revelation descends upon them from heaven. They said: Then your Companions, O Messenger of Allah. He said: And how should not my Companions believe while they see what they see. Rather the most wondrous of people in faith are a people coming after me, believing in me though they never saw me, and affirming me though they never saw me; those are my brethren. > **"Is there any water."** > **"Is there a worn waterskin."** > **"O Bilal, call the people to ablution."** > **"O people, whose faith is most wondrous."** > **"And how should not the angels believe while they witness the affair."** > **"And how should not the prophets believe while revelation descends upon them from heaven."** > **"And how should not my Companions believe while they see what they see. Rather the most wondrous of people in faith are a people coming after me, believing in me though they never saw me, and affirming me though they never saw me; those are my brethren."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن صبح کے وقت نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا پانی نہیں ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا کوئی مشکیزہ ہے ؟ لوگ ایک مشکیزہ لے کر آئے ، وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے رکھا گیا ، پھر آپ نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا ، پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو پھیلایا ، تو ان میں سے یوں پانی پھوٹ پڑا ، جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا مارنے سے پھوٹا تھا ، وہ پانی نبی اکرم ﷺ کی انگلیوں سے پھوٹا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا : اے بلال ! لوگوں میں وضو کا اعلان کر دو ! لوگ آئے اور نبی اکرم ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے نکلنے والے پانی سے وضو کرنے لگے ، اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے پی بھی لیا ، جب ان لوگوں نے وضو کر لیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں صبح کی نماز پڑھائی ۔ پھر آپ ﷺ لوگوں کے لئے بیٹھ گئے ، آپ ﷺ نے فرمایا : اے لوگو ! ایمان کے اعتبار سے ، سب سے زیادہ حیرت انگیز کون ہے ؟ لوگوں نے کہا : فرشتے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ کیسے ؟ فرشتے تو ایسی حالت میں ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اصل معاملے کا معائنہ کر رہے ہوتے ہیں ، پھر لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انبیاء ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ کیسے ؟ انبیاء کیوں ایمان نہ لائیں ؟ جبکہ ان پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے اصحاب ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے اصحاب کیوں ایمان نہ لائیں ؟ جبکہ وہ دیکھتے ہیں ، جو دیکھتے ہیں ( یعنی معجزات دیکھتے ہیں ) ایمان کے اعتبار سے ، سب سے زیادہ حیرت انگیز وہ لوگ ہوں گے ، جو میرے بعد آئیں گے اور وہ مجھ پر ایمان رکھیں گے ، حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا ہوا ہو گا ، اور وہ میری تصدیق کریں گے ، حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا ہوا ہو گا ، اور وہ لوگ میرے بھائی ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے بھی یہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اسے امام احمد نے بھی نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ تو نبی اکرم ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے ........‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

14105

Majma al-Zawaid #14105

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ فَأَتَيْنَا عَلَى رَكِيَّةٍ ذَمَّةٍ - أَيْ قَلِيلَةِ الْمَاءِ - قَالَ: فَنَزَلَ فِيهَا سِتَّةٌ أَنَا سَادِسُهُمْ مَاحَّةً. قَالَ: فَأُدْلِيَتْ إِلَيْنَا دَلْوٌ. قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ. قَالَ: فَجَعَلْنَا فِيهَا نِصْفَهَا أَوْ قَرِيبَ ثُلُثَيْهَا، فَرُفِعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ الْبَرَاءُ: فَجِئْتُ بِإِنَائِي هَلْ أَجِدُ شَيْئًا أَجْعَلُهُ فِي حَلْقِي فَمَا وَجَدْتُ، فَرَفَعْتُ الدَّلْوَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، فَأُعِيدَتْ إِلَيْنَا الدَّلْوُ بِمَا فِيهَا. قَالَ: فَقَدْ رَأَيْتُ آخِرَنَا أُخْرِجَ بِقُوَّةٍ خَشْيَةَ الْغَرَقِ. قَالَ: ثُمَّ سَاحَتْ يَعْنِي جَرَتْ نَهْرًا.» قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ فِي غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Baraʾ ibn ʿAzib, رضي الله عنه, said: We were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey and came to a well of little water. Six descended into it, I being the sixth, to draw. A bucket was let down to us. The Messenger of Allah ﷺ stood at the edge of the well. We placed in it half or near two thirds, and it was raised to the Messenger of Allah ﷺ. Al-Baraʾ said: I brought my vessel seeking something to place in my throat, but found nothing. The bucket was raised to the Messenger of Allah ﷺ; he dipped his hand into it and said what Allah willed him to say. The bucket was returned to us with what was in it. He said: I saw the last of us brought out with force for fear of drowning. He said: Then it flowed, meaning it ran as a river.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، ہم ایک ایسے کنویں کے پاس آئے جس میں پانی کم تھا ، راوی کہتے ہیں : اس میں چھ افراد اترے ، جن میں چھٹا فرد میں تھا ، وہ کنواں خشک تھا ، راوی کہتے ہیں : ہماری طرف ایک ڈول لٹکایا گیا ، نبی اکرم ﷺ اس کنویں کے کنارے پر موجود تھے ، راوی کہتے ہیں : ہم نے اس ڈول کو نصف ، یا دو تہائی کے قریب بھر دیا ، پھر اس ڈول کو اٹھا کر نبی اکرم ﷺ کی طرف لے جایا گیا ، حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اپنے برتن کے ذریعے کوشش کی کہ کاش مجھے کچھ مل جائے ، تاکہ وہ میں اپنے حلق میں ڈالوں ، لیکن مجھے کچھ نہیں ملا ، وہ ڈول نبی اکرم ﷺ کی طرف بلند ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈبویا ، پھر جو اللہ کو منظور تھا ، وہ پڑھا ، پھر وہ ڈول ہماری طرف واپس بھیج دیا اور اس میں موجود پانی بھی بھیج دیا ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے دیکھا کہ ہم میں سے جو آخری فرد نکلا تھا ، اُسے کپڑے سے پکڑ کر نکالا گیا تھا ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ اُس میں ڈوب نہ جائے ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی پھر وہاں سے پانی پھوٹ پڑا تھا ، یعنی نہر جاری ہو گئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں بہت زیادہ اختصار کے ساتھ ، غزوہ حدیبیہ کے بارے میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14106

Majma al-Zawaid #14106

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَهَّزَ جَيْشًا إِلَى الْمُشْرِكِينَ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، أَمَرَهُمَا وَالنَّاسَ كُلَّهُمْ قَالَ لَهُمْ: "" أَجِدُّوا السَّيْرَ ; فَإِنَّ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ مَاءٌ، إِنْ سَبَقَ الْمُشْرِكُونَ إِلَى ذَلِكَ الْمَاءِ شَقَّ عَلَى النَّاسِ، وَعَطِشْتُمْ عَطَشًا شَدِيدًا أَنْتُمْ وَدَوَابُّكُمْ وَرِكَابُكُمْ "". وَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ثَمَانِيَةٍ هُوَ تَاسِعُهُمْ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" هَلْ لَكُمْ أَنْ نُعَرِّسَ قَلِيلًا ثُمَّ نَلْحَقَ بِالنَّاسِ؟ "". قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَعَرَّسُوا فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ. فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ فَقَالَ لَهُمْ: "" قُومُوا وَاقْضُوا حَاجَتَكُمْ "". فَفَعَلُوا ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَاءٌ؟ "". قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ. قَالَ: "" جِئْ بِهَا "". فَجَاءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَهَا بِكَفَّيْهِ، وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" تَعَالَوْا فَتَوَضَّئُوا "". فَجَاءُوا فَجَعَلَ يَصُبُّ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى تَوَضَّئُوا، وَأَذَّنَ رَجُلٌ مِنْهُمْ وَأَقَامَ. قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ لِصَاحِبِ الْمِيضَأَةِ: "" ازْدَهِرْ بِمِيضَأَتِكَ فَسَيَكُونَ لَهَا نَبَأٌ "". فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ قَبْلَ النَّاسِ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" مَا تَرَوْنَ النَّاسَ فَعَلُوا؟ "". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" إِنَّ فِيهِمْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَسَيُرْشِدَانِ النَّاسَ "". فَقَدِمَ النَّاسُ وَقَدْ سَبَقَ الْمُشْرِكُونَ إِلَى ذَلِكَ الْمَاءِ فَشَقَّ عَلَى النَّاسِ وَعَطِشُوا عَطَشًا شَدِيدًا، وَرِكَابُهُمْ وَدَوَابُّهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيْنَ صَاحِبُ الْمِيضَأَةِ؟ "". قَالَ: هَا هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: جِئْ بِمَيْضَأَتِكَ فَجَاءَ بِهَا وَفِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَقَالَ لَهُمْ كُلِّهِمْ: "" تَعَالَوْا فَاشْرَبُوا "". فَجَعَلَ يَصُبُّ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى شَرِبُوا كُلُّهُمْ، وَسَقَوْا دَوَابَّهُمْ وَرِكَابَهُمْ، وَمَلَئُوا كُلَّ إِدَاوَةٍ وَقِرْبَةٍ وَمَزَادَةٍ، ثُمَّ نَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْمُشْرِكِينَ. فَبَعَثَ اللَّهُ رِيحًا فَضَرَبَتْ وُجُوهَ الْمُشْرِكِينَ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَصْرَهُ، وَأَمْكَنَ مِنْ أَدْبَارِهِمْ، فَقَتَلُوا مِنْهُمْ مَقْتَلَةً عَظِيمَةً، وَأَسَرُوا أَسْرَى كَثِيرَةً، وَاسْتَاقُوا غَنَائِمَ كَثِيرَةً، وَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ وَافْرِينَ صَالِحِينَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمٍ الضَّبِّيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, رضي الله عنه, reported that the Messenger of Allah ﷺ equipped an army toward the polytheists, among them Abu Bakr and ʿUmar, رضي الله عنهما. He placed them both and all the people in command and said to them: March hard, for between you and the polytheists is water; if the polytheists precede to that water, it shall distress the people, and you shall thirst severely, you and your beasts and mounts. The Messenger of Allah ﷺ stayed behind with eight, he being their ninth. He said to his Companions: Would you rest briefly at night, then join the people. They said: Yes, O Messenger of Allah. They rested, and nothing awakened them but the heat of the sun. The Messenger of Allah ﷺ and his Companions awoke, and he said to them: Rise and relieve yourselves. They did, then returned to the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ said to them: Is there water with any of you. A man among them said: O Messenger of Allah, a small ablution vessel with some water in it. He said: Bring it. He brought it to the Messenger of Allah ﷺ. He wiped it with his palms and supplicated for blessing, then said to his Companions: Come and perform ablution. They came, and the Messenger of Allah ﷺ poured upon them until they performed ablution. A man among them called the adhan and iqama. He said: The Messenger of Allah ﷺ led them in prayer and said to the owner of the vessel: Cherish your vessel, for it shall have a great matter. The Messenger of Allah ﷺ and his Companions mounted before the people. He said to his Companions: What do you think the people did. They said: Allah and His Messenger know best. He said: Among them are Abu Bakr and ʿUmar, and they shall guide the people. The people arrived after the polytheists had preceded to that water, and the people were distressed and thirsted severely, with their mounts and beasts. The Messenger of Allah ﷺ said: Where is the owner of the vessel. He said: Here he is, O Messenger of Allah. He said: Bring your vessel. He brought it with some water in it. He said to them all: Come and drink. The Messenger of Allah ﷺ poured for them until they all drank, watered their beasts and mounts, and filled every skin and water-bag. Then the Messenger of Allah ﷺ and his Companions advanced toward the polytheists. Allah sent a wind striking the faces of the polytheists, Allah, Blessed and Exalted, sent His help, and enabled them against their backs. They slew a great slaughter among them, took many captives, drove much booty, and the Messenger of Allah ﷺ and the people returned safe and sound. > **"March hard, for between you and the polytheists is water; if the polytheists precede to that water, it shall distress the people, and you shall thirst severely, you and your beasts and mounts."** > **"Would you rest briefly at night, then join the people."** > **"Rise and relieve yourselves."** > **"Is there water with any of you."** > **"Bring it."** > **"Come and perform ablution."** > **"Cherish your vessel, for it shall have a great matter."** > **"What do you think the people did."** > **"Among them are Abu Bakr and ʿUmar, and they shall guide the people."** > **"Where is the owner of the vessel."** > **"Bring your vessel."** > **"Come and drink."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مشرکین کی طرف ایک لشکر بھیجا ، جن میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو امیر مقرر کیا تھا ، اور باقی لوگ بھی تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے فرمایا : تم لوگوں نے تیزی سے سفر کرنا ہے ، کیونکہ تمہارے اور مشرکین کے درمیان ایک پانی کا مقام ہے ، اگر مشرکین پہلے اس مقام تک پہنچ گئے ، تو ( تم ) لوگوں کے لیے یہ بات گراں ہو گی ، اور لوگ بہت شدید پیاس کا شکار ہو جائیں گے ، تم بھی ، تمہارے جانور بھی اور تمہاری سواریاں بھی پیاس کا شکار ہو جائیں گے ، نبی اکرم ﷺ آٹھ افراد سمیت پیچھے رہ گئے ، نویں فرد آپ تھے ، آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : کیا تم لوگ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ ہم رات کے وقت تھوڑی دیر کے لئے پڑاؤ کر لیں ، پھر ہم لوگوں کے ساتھ جا ملیں گے ، لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے ، ان لوگوں نے رات کے وقت پڑاؤ کیا اور پھر وہ لوگ سورج کی تپش سے بیدار ہوئے ، جب نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب بیدار ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اُٹھو اور قضائے حاجت کر لو ! ان لوگوں نے ایسا ہی کیا ، پھر وہ واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے ؟ ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک برتن ہے ، جس میں تھوڑا سا پانی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے لے آؤ ! وہ شخص اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس پر اپنی دونوں ہتھیلیوں کے ذریعے ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی ، پھر آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : آگے آؤ ! اور وضو کر لو ! لوگ آئے ، نبی اکرم ﷺ ان پر پانی ڈالنے لگے ، یہاں تک ان لوگوں نے وضو کر لیا ، ان میں سے ایک شخص نے اذان دی اور اقامت کہی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر آپ نے اس برتن والے شخص سے فرمایا : تم اپنے برتن کو سنبھال کے رکھنا ، اس کے حوالے سے ایک نمایاں چیز سامنے آئے گی ، پھر نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب لوگوں سے پہلے سوار ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کہ انہوں نے کیا ، کیا ہو گا ؟ ان لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان میں ابوبکر اور عمر ہیں ، وہ لوگوں کی رہنمائی کر لیں گے ، پھر لوگ آ گئے ، مشرکین پہلے ہی پانی تک پہنچ گئے تھے ، یہ بات لوگوں پر گراں گزری ، وہ شدید پیاس کا شکار تھے ، ان کی سواریاں اور جانور بھی پیاسے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ برتن والا شخص کہاں ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ یہ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنا برتن لے کر آؤ ! وہ لے کر آیا ، اس میں تھوڑا سا پانی موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ان سب لوگوں سے فرمایا : تم لوگ آگے آؤ ! اور پانی پیو ! راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے لئے پانی ڈالنا شروع کیا ، یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے پانی پی لیا اور اپنی سواریوں اور جانوروں کو بھی پلا دیا ، اور اپنے پاس موجود ہر برتن ، ہر چھوٹا بڑا مشکیزہ بھی بھر لیا ، پھر نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب مشرکین کی طرف روانہ ہوئے ، اللہ تعالیٰ نے ایک ہوا کو بھیجا ، جس نے مشرکین کو پسپا کر دیا ، اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد نازل کر دی اور یہ ممکن کر دیا کہ انہیں لوٹا دیا جائے ، مسلمانوں نے ان میں سے بہت سے لوگوں کو قتل کیا ، کئی لوگوں کو قیدی بنایا ، اور ان سے بہت سا مال غنیمت حاصل کیا ، جب نبی اکرم ﷺ اور لوگ واپس آئے ، تو ان کے پاس بہت سا ساز و سامان تھا اور وہ ٹھیک تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن ضبی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14107

Majma al-Zawaid #14107

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ فَأَصَابَنَا عَطَشٌ شَدِيدٌ، فَشَكَوْنَا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " هَلْ فَضَلَ مَاءٌ فِي إِدَاوَةٍ؟ ". فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِفَضْلَةِ مَاءٍ فِي إِدَاوَةٍ، فَحَفَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْأَرْضِ حُفْرَةً وَوَضَعَ عَلَيْهَا نُطْفَةً، وَوَضَعَ كَفَّهُ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِ الْإِدَاوَةِ: " صُبَّ الْمَاءَ عَلَى كَفِّي وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ". فَفَعَلَ. قَالَ أَبُو لَيْلَى: رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى رَوِيَ الْقَوْمُ وَسَقُوا رِكَابَهُمْ». وَفِي إِسْنَادِهِ: خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَيْسَ بِقَوِيٍّ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَحْمَدُ بْنُ حَسْرٍ، وَقَدِ كُلَّهُمْ اشْتَهَرَ أَنَّ شُيُوخَهُ ثِقَاتٌ عِنْدَهُ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ وَحَدِيثُ حِبَّانَ بْنِ بُحٍّ الصُّدَائِيِّ فِي كَرَاهِيَةِ الْإِمَارَةِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Rahman ibn Abi Layla, from his father, رضي الله عنه, said: We were with the Messenger of Allah ﷺ on an expedition and severe thirst befell us. We complained of it to the Messenger of Allah ﷺ. He said: Is there leftover water in a small skin. A man brought leftover water in a skin. The Prophet ﷺ dug a pit in the earth, placed a drop upon it, placed his palm upon the earth, then said to the owner of the skin: Pour water upon my palm and mention the name of Allah. He did. Abu Layla said: I saw water springing from between the fingers of the Messenger of Allah ﷺ until the people quenched and watered their mounts. > **"Is there leftover water in a small skin."** > **"Pour water upon my palm and mention the name of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابولیلی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک جنگ میں شریک ہوئے ، ہمیں شدید پیاس لاحق ہو گئی ، ہم نے اس کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا کسی برتن میں بچا ہوا پانی ہے ؟ تو ایک صاحب ایک برتن میں بچا ہوا پانی آپ کے پاس لے کر آئے ، نبی اکرم ﷺ نے زمین میں گڑھا کھودا ، آپ نے اس پر دسترخوان رکھا ( یا چمڑا رکھا ) پھر آپ نے اپنی ہتھیلی زمین پر رکھی ، اور پھر برتن والے شخص سے فرمایا : اللہ کا نام لے کر ، تم میری ہتھیلی پر پانی بہاؤ ! اس نے ایسا ہی کیا ۔ حضرت ابولیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹ پڑا ، یہاں تک کہ سب لوگ سیراب ہو گئے ، اور انہوں نے اپنی سواریوں کو بھی پانی پلا دیا ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن زید اشعری ہے ، جسے امام ابوزرعہ ، ابوداؤد اور نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ، اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، امام احمد نے اس سے روایت نقل کی ہے ، اور یہ بات مشہور ہے : کہ امام احمد کے تمام اساتذہ ان کے نزدیک ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں کہتا ہوں : اس سے پہلے حضرت زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے ، اور حضرت حبان بن بح صدائی رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ، جو حکومت کے ناپسندیدہ ہونے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

14108

Majma al-Zawaid #14108

وَعَنْ أَبِي رَجَاءٍ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ، فَإِذَا هُوَ يَسْنُو فِيهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا تَجْعَلُ لِي إِنْ أَرْوَيْتُ حَائِطَكَ هَذَا؟ "". قَالَ: إِنِّي أَجْهَدُ أَنْ أَرْوِيهِ فَلَا أُطِيقُ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَجْعَلُ لِي مِائَةَ تَمْرَةٍ أَخْتَارُهَا مِنْ تَمْرِكَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْغَرْبَ فَمَا لَبِثَ أَنْ أَرَوَاهُ حَتَّى قَالَ الرَّجُلُ: غَرَّقْتَ عَلَيَّ حَائِطِي. فَاخْتَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِائَةَ تَمْرَةٍ. قَالَ: فَأَكَلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ مِائَةَ تَمْرَةٍ كَمَا أَخَذَهَا مِنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَقَدْ ذُكِرَ لِأَبِي عِمْرَانَ تَرْجَمَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Rajaʾ said: The Messenger of Allah ﷺ went out until he entered a garden of an Ansari, where he was drawing water. The Messenger of Allah ﷺ said to him: What will you give me if I irrigate this garden of yours. He said: I strive to irrigate it but cannot manage it. The Messenger of Allah ﷺ said to him: Will you give me one hundred dates which I choose from your dates. He said: Yes. The Messenger of Allah ﷺ took the bucket and soon irrigated it, until the man said: You have flooded my garden. The Messenger of Allah ﷺ chose one hundred dates. He said: He and his Companions ate until they were full, then he returned to him one hundred dates as he had taken from him. > **"What will you give me if I irrigate this garden of yours."** > **"Will you give me one hundred dates which I choose from your dates."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورجاء بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، یہاں تک کہ آپ ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے ، وہ وہاں پانی لگا رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : اگر میں تمہارے باغ کو پانی لگا دوں ، تو تم مجھے کیا معاوضہ دو گے ؟ اس نے کہا : میں بھرپور کوشش کر رہا ہوں کہ اسے سیراب کر دوں ، لیکن میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تم مجھے ایک سو کھجوریں دے دینا ، جو میں تمہاری کھجوروں میں سے منتخب کر لوں گا ، اُس نے کہا : ٹھیک ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ڈول لیا اور پھر اس باغ کو سیراب کر دیا ، یہاں تک کہ وہ شخص کہنے لگا : آپ تو میرا باغ ڈبو دیں گے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ایک سو کھجوریں وصول کر لیں ۔ راوی کہتے ہیں : وہ کھجوریں آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب نے کھائیں ، یہاں تک کہ وہ سب لوگ سیر ہو گئے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اسے ایک سو کھجوریں ہی واپس کر دیں ، جس طرح اُس سے لی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، یہ روایت ابوعمران کے حالت کے ضمن میں نقل کی گئی ہے ۔

14109

Majma al-Zawaid #14109

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فِيهِمْ رَهْطٌ كُلُّهُمْ يَأْكُلُ الْجَذَعَةَ وَيَشْرَبُ الْفَرَقَ قَالَ: فَصَنَعَ لَهُمْ مُدًّا مِنْ طَعَامٍ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، وَبَقِيَ الطَّعَامُ كَمَا هُوَ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ، ثُمَّ دَعَا بِغَمْرٍ فَشَرِبُوا حَتَّى شَبِعُوا، وَبَقِيَ الشَّرَابُ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ وَلَمْ يُشْرَبْ، فَقَالَ: "" يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنِّي بُعِثْتُ إِلَيْكُمْ خَاصَّةً وَإِلَى النَّاسِ بِعَامَّةٍ، وَقَدْ رَأَيْتُمْ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَا رَأَيْتُمْ، فَأَيُّكُمْ يُبَايِعُنِي عَلَى أَنْ يَكُونَ أَخِي وَصَاحِبِي؟ "". قَالَ: فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ. قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ وَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ. فَقَالَ: "" اجْلِسْ "". ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ أَقْوَمُ إِلَيْهِ، فَيَقُولُ لِيَ: "" اجْلِسْ "" حَتَّى إِذَا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى يَدِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAli, رضي الله عنه, said: The Messenger of Allah ﷺ gathered Banu ʿAbd al-Muttalib, among them a group each of whom would eat a young goat and drink a faraq. He said: He prepared a mudd of food for them. They ate until full, while the food remained as it was, as if untouched. Then he called for a small cup; they drank until full, while the drink remained as if untouched and undrunk. He said: O children of ʿAbd al-Muttalib, I have been sent to you specially and to people generally. You have seen of this sign what you have seen, so which of you will pledge me that he be my brother and companion. He said: None rose to him. He said: I rose to him, though the youngest of the people. He said: Sit. Three times, each time I rose to him and he said to me: Sit, until the third time he struck his hand upon my hand. > **"O children of ʿAbd al-Muttalib, I have been sent to you specially and to people generally. You have seen of this sign what you have seen, so which of you will pledge me that he be my brother and companion."** > **"Sit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جناب ابوطالب کی اولاد کو جمع کیا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں ) بلایا ، ان میں سے کچھ ایسے لوگ تھے ، جو بکری کا پورا بچہ کھا جاتے تھے ، اور ایک بڑا ڈول پانی کا پی جاتے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ان کے لئے ایک مد اناج کے ذریعے کھانا پکایا ، انہوں نے وہ کھا لیا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، پھر بھی کھانا اسی طرح رہ گیا تھا ، جس طرح پہلے تھا ، یوں جیسے اسے ہاتھ ہی نہ لگا ہو ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ( پانی کا ) چھوٹا پیالہ منگوایا ، ان لوگوں نے اسے پیا ، یہاں تک کہ وہ سیراب ہو گئے اور مشروب پھر بھی اس طرح بچ گیا ، جیسے اسے ہاتھ بھی نہ لگایا گیا ہو ، یا اسے پیا بھی نہ گیا ہو ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اولاد عبدالمطلب ! مجھے خصوصی طور پر تمہاری طرف اور عمومی طور پر لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے ، تم نے یہ نشانی ( یعنی معجزہ ) دیکھ لیا ہے ، جو دیکھا ہے ، تو تم میں سے کون میری اس بات پر بیعت کرے گا ؟ کہ وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی بنے گا ؟ راوی کہتے ہیں : تو کوئی آپ ﷺ کے سامنے کھڑا نہیں ہوا ، میں آپ کے سامنے کھڑا ہوا ، حالانکہ میں اُن سب میں کمسن تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! ایسا تین مرتبہ ہوا ، ہر مرتبہ میں ہی کھڑا ہوتا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ مجھ سے فرماتے تھے : تم بیٹھ جاؤ ! یہاں تک کہ جب تیسری مرتبہ ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ دیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14110

Majma al-Zawaid #14110

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عَلِيُّ، اصْنَعْ رِجْلَ شَاةٍ بِصَاعٍ مِنْ طَعَامٍ، وَاجْمَعْ لِي بَنِي هَاشِمٍ "". وَهُمْ يَوْمَئِذٍ أَرْبَعُونَ رَجُلًا أَوْ أَرْبَعُونَ غَيْرَ رَجُلٍ. قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالطَّعَامِ فَوَضَعَهُ بَيْنَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، وَإِنَّ مِنْهُمْ لَمَنْ يَأْكُلُ الْجَذَعَةَ بِإِدَامِهَا، ثُمَّ تَنَاوَلَ الْقَدَحَ فَشَرِبُوا مِنْهُ حَتَّى رَوَوْا - يَعْنِي مِنَ اللَّبَنِ - فَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَا رَأَيْنَا كَالسِّحْرِ، يَرَوْنَ أَنَّهُ أَبُو لَهَبٍ الَّذِي قَالَهُ. فَقَالَ: "" يَا عَلِيُّ اصْنَعْ، رِجْلَ شَاةٍ بِصَاعٍ مِنْ طَعَامٍ وَأَعْدِدْ قَعْبًا مِنْ لَبَنٍ "". قَالَ: فَفَعَلْتُ، فَأَكَلُوا كَمَا أَكَلُوا فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ، وَشَرِبُوا كَمَا شَرِبُوا فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، وَفَضَلَ كَمَا فَضَلَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، فَقَالَ: مَا رَأَيْنَا كَالْيَوْمِ فِي السِّحْرِ. فَقَالَ: "" يَا عَلِيُّ اصْنَعْ رِجْلَ شَاةٍ بِصَاعٍ مِنْ طَعَامٍ وَأَعْدِدْ قَعْبًا مِنْ لَبَنٍ "". فَفَعَلْتُ. فَقَالَ: "" يَا عَلِيُّ اجْمَعْ لِي بَنِي هَاشِمٍ "". فَجَمَعْتُهُمْ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا فَبَدَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَيُّكُمْ يَقْضِي عَنِّي دَيْنِي؟ "". قَالَ: فَسَكَتَ، وَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَأَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَنْطِقَ فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: "" أَنْتَ يَا عَلِيُّ، أَنْتَ يَا عَلِيُّ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ أَيْضًا، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَرِيكٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAli, رضي الله عنه, said: When Warn your nearest kin was revealed, the Messenger of Allah ﷺ said: O ʿAli, prepare a leg of sheep with a sa of food, and gather Banu Hashim for me. They were that day forty men, or forty less a man. He said: The Messenger of Allah ﷺ called for the food and placed it among them. They ate until full, though among them was one who would eat a jadhʿa with its condiment. Then he took the cup and they drank from it until quenched, meaning of milk. One of them said: We never saw like magic, deemed to be Abu Lahab who said it. He said: O ʿAli, prepare a leg of sheep with a sa of food and prepare a bowl of milk. He said: I did. They ate as they ate the first day, drank as they drank the first time, and surplus remained as the first time. He said: We never saw like today in magic. He said: O ʿAli, prepare a leg of sheep with a sa of food and prepare a bowl of milk. I did. He said: O ʿAli, gather Banu Hashim for me. I gathered them; they ate and drank. The Messenger of Allah ﷺ hastened to them and said: Which of you will settle my debt for me. He said: He fell silent, and the people fell silent. The Messenger of Allah ﷺ repeated the speech, and I said: I will, O Messenger of Allah. He said: You, O ʿAli; you, O ʿAli. > **"O ʿAli, prepare a leg of sheep with a sa of food, and gather Banu Hashim for me."** > **"O ʿAli, prepare a leg of sheep with a sa of food and prepare a bowl of milk."** > **"O ʿAli, gather Banu Hashim for me."** > **"Which of you will settle my debt for me."** > **"You, O ʿAli; you, O ʿAli."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اور تم اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈراؤ !‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی ! ایک صاع اناج کے ذریعے بکری کی ٹانگ پکاؤ ، اور بنو ہاشم کو میرے لئے اکٹھا کر دو ، جن کی تعداد اس وقت چالیس تھی ، یا چالیس سے ایک آدھ فرد کم تھا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کھانا منگوایا اور وہ ان کے سامنے رکھا ، انہوں نے اسے کھایا اور وہ سیر ہو گئے ، حالانکہ ان میں ایسا فرد بھی تھا ، جو سالن سمیت پورا جذعہ کھا جاتا تھا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے پیالہ آگے کیا ، انہوں نے اس میں سے پی لیا ، یہاں تک کہ وہ سیراب ہو گئے ، راوی کہتے ہیں : یعنی دودھ پی کر سیراب ہو گئے ، ان میں سے بعض نے کہا : ہم نے اس طرح کا جادو کبھی نہیں دیکھا ، راویوں کا خیال ہے : یہ بات ابولہب نے کہی تھی ، ( اگلے دن ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی ! ایک صاع اناج کے ہمراہ بکری کی ٹانگ پکڑاؤ ، اور دودھ کا پیالہ پکڑاؤ ، راوی کہتے ہیں : ان لوگوں نے کھانا کھا لیا ، جس طرح پہلے دن کھایا تھا ، اور اسی طرح پی لیا ، جس طرح پہلی مرتبہ پیا تھا اور پھر بھی وہ کھانا اسی طرح بچ گیا ، جس طرح پہلی مرتبہ بچا تھا ، تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم نے آج کی طرح کا جادو نہیں دیکھا ( پھر ایک دن ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی ! اناج کے ایک صاع کے ہمراہ بکری کی ایک ٹانگ پکڑاؤ ، اور دودھ کا برتن تیار کرو ، تو میں نے ایسا ہی کیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی ! بنو ہاشم کو میرے لئے اکٹھا کرو ، میں نے انہیں اکٹھا کیا ، انہوں نے کھایا اور پیا ، نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے اور آپ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کون میری طرف سے میرا قرض ادا کرے گا ؟ راوی کہتے ہیں : تو میں خاموش رہا ، لوگ بھی خاموش رہے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی بات دہرائی ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کروں گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی ! تم کرو گے ، اے علی ! تم کرو گے ، اے علی ! تم کرو گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام احمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام احمد کے رجال اور بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف شریک کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14111

Majma al-Zawaid #14111

«وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: صَنَعْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ طَعَامًا قَدْرَ مَا يَكْفِيهِمَا، فَأَتَيْتُهُمَا بِهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اذْهَبْ فَادْعُ لِي ثَلَاثِينَ مِنْ أَشْرَافِ الْأَنْصَارِ "". فَشَقَّ عَلَيَّ ذَلِكَ وَقُلْتُ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ أَزِيدُهُ. فَكَأَنِّي تَغَفَّلْتُ فَقَالَ: "" اذْهَبْ فَائْتِنِي بِثَلَاثِينَ مِنْ أَشْرَافِ الْأَنْصَارِ "". فَدَعَوْتُهُمْ فَجَاءُوا فَقَالَ: "" اطْعَمُوا "". فَأَكَلُوا حَتَّى صَدَرُوا، ثُمَّ شَهِدُوا أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ بَايَعُوهُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجُوا. ثُمَّ قَالَ: "" اذْهَبْ فَادْعُ لِي سِتِّينَ مِنْ أَشْرَافِ الْأَنْصَارِ "". قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: وَاللَّهِ لَأَنَا بِالسِّتِّينَ أَجْوَدُ مِنِّي بِالثَّلَاثِينَ. قَالَ: فَدَعَوْتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَوَقَّفُوا "". فَأَكَلُوا حَتَّى صَدَرُوا ثُمَّ شَهِدُوا أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ بَايَعُوهُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجُوا. ثُمَّ قَالَ: "" اذْهَبْ فَادْعُ لِي تِسْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ "". فَلَأَنَا أَجْوَدُ بِالتِّسْعِينَ وَالسِّتِّينَ مِنِّي بِالثَّلَاثِينَ. قَالَ: فَدَعَوْتُهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى صَدَرُوا ثُمَّ شَهِدُوا أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ بَايَعُوهُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجُوا. فَأَكَلَ مِنْ طَعَامِي ذَلِكَ مِائَةٌ وَثَمَانُونَ رَجُلًا كُلُّهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub, رضي الله عنه, said: I prepared food for the Prophet ﷺ and Abu Bakr, رضي الله عنه, enough for them both, and brought it to them. The Messenger of Allah ﷺ said to me: Go and invite for me thirty of the nobles of the Ansar. That weighed upon me, and I said: I have nothing to add. As if I feigned heedlessness. He said: Go and bring me thirty of the nobles of the Ansar. I invited them and they came. He said: Eat. They ate until full, then testified that he is the Messenger of Allah, then pledged him before leaving. Then he said: Go and invite for me sixty of the nobles of the Ansar. Abu Ayyub said: By Allah, I was more willing for the sixty than for the thirty. He said: I invited them, and the Messenger of Allah ﷺ said: Pause. They ate until full, then testified that he is the Messenger of Allah ﷺ, then pledged him before leaving. Then he said: Go and invite for me ninety of the Ansar. I was more willing for the ninety and sixty than for the thirty. He said: I invited them; they ate until full, then testified that he is the Messenger of Allah ﷺ, then pledged him before leaving. One hundred and eighty men ate from that food of mine, all of the Ansar. > **"Go and invite for me thirty of the nobles of the Ansar."** > **"Eat."** > **"Go and invite for me sixty of the nobles of the Ansar."** > **"Pause."** > **"Go and invite for me ninety of the Ansar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے اتنا کھانا تیار کیا ، جو ان دونوں کو کافی ہو جاتا ، میں ان دونوں حضرات کے پاس اُسے لے کر آیا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم جاؤ اور انصار کے معززین کو میرے پاس لے کر آؤ ! مجھ پر یہ بات گراں گزری ، میں نے عرض کی : میرے پاس اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے ، میں نے اس بارے میں عدم توجہ کا اظہار کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ ! اور میرے پاس انصار کے معززین میں سے تیس افراد کو لے کر آؤ ، میں ان حضرات کو بلا کے لایا ، وہ آ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ کھانا کھاؤ ! ان لوگوں نے کھانا کھا لیا ، یہاں تک کہ وہ چلے گئے ، انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، پھر انہوں نے جانے سے پہلے آپ کی بیعت کی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور انصار کے معززین میں سے میرے پاس ساٹھ افراد کو بلا کے لاؤ ! حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! تیس کے مقابلے میں ساٹھ کو بلانا میرے لئے اور مشکل تھا ، بہرحال میں انہیں بلا کے لے آیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ ٹھہر جاؤ ! پھر ان لوگوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ جب وہ واپس جانے لگے ، تو انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، انہوں نے جانے سے پہلے نبی اکرم ﷺ کی بیعت بھی کی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور میرے پاس نوے انصار کو بلا کے لاؤ ! راوی کہتے ہیں : تیس کے مقابلے میں نوے اور ساٹھ کو بلانا میرے لئے زیادہ مشکل تھا ، میں نے انہیں بلایا ، انہوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ فارغ ہو گئے ، پھر انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں ، پھر انہوں نے جانے سے پہلے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی ۔ راوی کہتے ہیں : تو ایک سو اسّی افراد نے میرا کھانا کھایا ، اُن سب کا تعلق انصار سے تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14112

Majma al-Zawaid #14112

«وَعَنْ أَبِي حُبَيْشٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تِهَامَةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِفُسْطَاطٍ جَاءَهُ الصَّحَابَةُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَهَدَنَا الْجُوعُ فَائْذَنْ لَنَا فِي الظَّهْرِ نَأْكُلُهُ. قَالَ: "" نَعَمْ "". فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَاذَا صَنَعْتَ؟ أَمَرْتَ النَّاسَ أَنْ يَنْحَرُوا الظَّهْرَ فَعَلَى مَا يَرْكَبُونَ؟ قَالَ: "" فَمَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ "". قَالَ: أَرَى أَنْ تَأْمُرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ فَتَجْمَعَهُ فِي تَوْرٍ، ثُمَّ تَدْعُو اللَّهَ لَهُمْ. فَأَمَرَهُمْ، فَجَعَلُوا فَضْلَ أَزْوَادِهِمْ فِي ثَوْبٍ ثُمَّ دَعَا لَهُمْ. ثُمَّ قَالَ: "" ائْتُوا بِأَوْعِيَتِكُمْ "". فَمَلَأَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وِعَاءَهُ. ثُمَّ أَمَرَ بِالرَّحِيلِ، فَلَمَّا جَاوَزَ وَانْتَظَرُوا فَنَزَلُوا، فَنَزَلَ وَنَزَلُوا مَعَهُ، فَشَرِبَ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ، فَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ فَجَلَسَ اثْنَانِ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَذَهَبَ الْآخَرُ مُعْرِضًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ؟ أَمَّا وَاحِدٌ فَاسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَقْبَلَ تَائِبًا فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ فَقَالَ: «مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ "". قَالَ: أَرَى أَنْ تَأْمُرَهُمْ وَأَنْتَ أَفْضَلُ رَأْيًا. وَزَادَ أَيْضًا: وَنَزَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَزَلُوا مَعَهُ، وَشَرِبُوا مِنَ الْمَاءِ هُمْ وَالْكُرَاعُ، ثُمَّ خَطَبَهُمْ فِي ثَلَاثَةِ نَفَرٍ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hubaysh al-Ghifari, رضي الله عنه, reported that he was with the Messenger of Allah ﷺ in the expedition of Tihama until, at a camp, the Companions came to him and said: O Messenger of Allah, hunger has exhausted us; permit us concerning the mounts to eat them. He said: Yes. ʿUmar ibn al-Khattab, رضي الله عنه, was informed of it and came to the Prophet ﷺ and said: O Prophet of Allah, what have you done; you ordered the people to slaughter the mounts, then upon what shall they ride. He said: Then what is your view, O son of Khattab. He said: I view that you order them to bring the surplus of their provisions, gather it in a vessel, then supplicate Allah for them. He ordered them; they placed the surplus of their provisions in a cloth, then he supplicated for them. Then he said: Bring your vessels. Every man among them filled his vessel. Then he ordered departure. When they passed on and waited, they halted; he halted and they halted with him, and they drank of the water of heaven. Three men came; two sat with the Prophet ﷺ and the other went away turning aside. The Prophet ﷺ said: Shall I inform you of the three men: as for one, he was shy before Allah, so Allah was shy of him; as for the other, he came repentant, so Allah forgave him; and as for the other, he turned away, so Allah turned away from him. > **"Yes."** > **"Then what is your view, O son of Khattab."** > **"Bring your vessels."** > **"Shall I inform you of the three men: as for one, he was shy before Allah, so Allah was shy of him; as for the other, he came repentant, so Allah forgave him; and as for the other, he turned away, so Allah turned away from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحبیش غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ غزوہ تہامہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ، یہاں تک کہ جب ہم لوگ عسفان کے مقام پر پہنچے ، تو صحابہ کرام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں بھوک کے حوالے سے پریشانی کا سامنا ہے ، آپ ہمیں سواریوں کے بارے میں اجازت دیجئے کہ ہم انہیں ( ذبح کر کے ، ان کا گوشت ) کھا لیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں پتہ چلا ، تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ آپ نے لوگوں کو یہ اجازت دے دی ہے کہ وہ سواریاں ذبح کر لیں ؟ تو پھر وہ سواری کس پر کریں گے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابن خطاب ! پھر تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میرا یہ خیال ہے کہ آپ لوگوں کو یہ ہدایت کریں کہ اُن کے پاس زاد سفر میں سے جو کچھ بچا ہوا ہے ، وہ لے آئیں ، پھر آپ اسے ایک کپڑے میں جمع کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کریں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا ، انہوں نے بچا ہوا زاد سفر ایک کپڑے میں ڈالا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ان کے لئے دعا کی ، پھر آپ نے فرمایا : اپنے برتن لے آؤ ! تو ان میں سے ہر ایک فرد نے اپنا برتن بھر لیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے روانگی کا حکم دیا ، جب وہ لوگ آگے گئے ، تو بارش شروع ہو گئی ، ان لوگوں نے پڑاؤ کیا ، نبی اکرم ﷺ نے پڑاؤ کیا ، آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی پڑاؤ کیا ، لوگوں نے آسمان سے نازل ہونے والا پانی پیا ، پھر تین افراد آئے ، دو افراد نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھ گئے ، اور تیسرا فرد منہ پھیر کے چلا گیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں ان تین افراد کے بارے میں بتاؤں ؟ ان میں سے ایک شخص نے اللہ تعالیٰ سے حیاء کی ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی حیاء کو قبول کیا ، ان میں سے دوسرا شخص توبہ کرنے والے کے طور پر آیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ کو قبول کیا ، اور تیسرا شخص ، اُس نے منہ پھیر لیا ، تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اعراض کیا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اے ابن خطاب ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میرا یہ خیال ہے کہ آپ لوگوں کو یہ ہدایت کر دیں ، ویسے آپ کی رائے بہتر ہے ۔‘‘ اور اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ بھی زائد نقل کیے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے پڑاؤ کیا اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی پڑاؤ کیا اور لوگوں نے پانی پیا ، جبکہ وہ تھیلی میں پانی لینے والے تھے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں خطبہ دیتے ہوئے تین افراد کا ذکر کیا ......‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14113

Majma al-Zawaid #14113

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْعَدُوَّ قَدْ حَضَرَ وَهُمْ شِبَاعٌ وَالنَّاسُ جِيَاعٌ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: أَلَا نَنْحَرُ نَوَاضِحَنَا فَنُطْعِمُهَا النَّاسَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ طَعَامٍ فَلْيَجِئْ بِهِ "". فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْمُدِّ وَالصَّاعِ وَأَكْثَرَ وَأَقَلَّ، فَكَانَ جَمِيعُ مَا فِي الْجَيْشِ بِضْعَةً وَعِشْرِينَ صَاعًا، فَجَلَسَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جَنْبِهِ وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خُذُوا وَلَا تَنْتَهِبُوا "". فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ فِي جِرَابِهِ وَفِي غِرَارَتِهِ، وَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْبُطُ كُمَّ قَمِيصِهِ فَيَمْلَأَهُ، فَفَرَغُوا وَالطَّعَامُ كَمَا هُوَ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، لَا يَأْتِي بِهَا عَبْدٌ مُحِقٌّ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ حَرَّ النَّارِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي عَمْرَةَ فِي الْإِيمَانِ فِي أَوَّلِ بَابٍ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khattab, رضي الله عنه, said: We were with the Prophet ﷺ on an expedition and said: O Messenger of Allah, the enemy has arrived while full, and the people are hungry. The Ansar said: Shall we not slaughter our water-camels and feed the people. The Prophet ﷺ said: Whoever has surplus food, let him bring it. A man brought a mudd and a sa, more and less, until all in the army was a little over twenty sa. The Prophet ﷺ sat beside it and supplicated for blessing. The Prophet ﷺ said: Take and do not plunder. A man took in his bag and sack, and they took in their vessels, until a man tied the sleeve of his shirt and filled it. They finished while the food remained as it was. Then the Prophet ﷺ said: I testify that there is no god but Allah and that I am the Messenger of Allah; no servant brings them truthfully but Allah shall shield him from the heat of the Fire. > **"Whoever has surplus food, let him bring it."** > **"Take and do not plunder."** > **"I testify that there is no god but Allah and that I am the Messenger of Allah; no servant brings them truthfully but Allah shall shield him from the heat of the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لے رہے تھے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دشمن قریب آ چکا ہے ، وہ لوگ سیر ہوں گے اور ہم لوگ بھوکے ہوں گے ، انصار نے کہا : کیا ہم اپنی اونٹنیوں کو ذبح نہ کر لیں ؟ اس طرح ہم لوگوں کو کھانا کھلا دیں گے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس شخص کے پاس اضافی کھانا موجود ہو ، وہ اسے لے آئے ، تو کوئی شخص ایک مد لے آیا ، کوئی ایک صاع لے آیا ، کوئی اس سے زیادہ ، یا اس سے کم لے کے آیا ، لشکر میں جو کچھ بھی تھا ، وہ سارا ملا کے بیس صاع سے کچھ زیادہ بنا تھا ، نبی اکرم ﷺ اس کے ایک طرف بیٹھ گئے ، آپ نے برکت کی دعا کی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ لینا شروع کرو ! لیکن لوٹ مار نہ کرنا ، تو کوئی شخص اپنے تھیلے میں بھر لیتا تھا ، کوئی شخص برتن میں بھر لیتا تھا ، یہاں تک کہ ان لوگوں نے وہ سامان اپنے برتنوں میں ڈال لیا ، یہاں تک کہ ایک شخص نے اپنی قمیص کی آستین کو باندھا اور اسے بھر لیا ، جب وہ لوگ یہ لے کر فارغ ہوئے ، تو وہ کھانا اُسی طرح تھا ، جیسے پہلے تھا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے ، جو بھی بندہ اس کلمے کے ہمراہ آئے گا ، جبکہ وہ اس پر حقیقی طور پر ایمان رکھتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی گرمی سے بچا لے گا “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ عمری ہے ، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الایمان میں ، پہلے باب میں ، حضرت ابوعمرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ۔

14114

Majma al-Zawaid #14114

«وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَرْبَعِمِائَةٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَمْرِهِ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا طَعَامٌ نَتَزَوَّدُهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ: "" زَوِّدْهُمْ "". فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا فَاضِلَةً مِنْ تَمْرٍ، وَمَا أَرَاهُ يُغْنِي عَنْهُمْ شَيْئًا. قَالَ: "" انْطَلِقْ فَزَوِّدْهُمْ "". فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى عِلِّيَّةٍ، فَإِذَا فِيهَا تَمْرٌ مِثْلَ الْبَكْرِ الْأَوْرَقِ. فَقَالَ: خُذُوا، فَأَخَذَ الْقَوْمُ حَاجَتَهُمْ، قَالَ: وَكُنْتُ مِنْ آخِرِ الْقَوْمِ، قَالَ: فَالْتَفَتُّ وَمَا أَفْقِدُ مَوْضِعَ تَمْرَةٍ، وَقَدِ احْتَمَلَ مِنْهُ أَرْبَعُمِائَةَ رَجُلٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Nuʿman ibn Muqarrin, رضي الله عنه, said: We came to the Messenger of Allah ﷺ, four hundred of Muzayna. The Messenger of Allah ﷺ ordered concerning us, and some people said: O Messenger of Allah, we have no food to provision them. The Prophet ﷺ said to ʿUmar: Provision them. He said: I have only leftover dates, and I do not see them availing them. He said: Go and provision them. He took us to an upper chamber, and in it were dates like a young grey camel. He said: Take. The people took their need. He said: I was among the last of the people. He said: I looked and did not miss the place of a single date, though four hundred men had carried from it. > **"Provision them."** > **"Go and provision them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ مزینہ قبیلے کے چار سو افراد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ نے ہمارے بارے میں ہدایت کی ، تو حاضرین میں سے کسی نے کہا : یا رسول اللہ ! ہمارے پاس اتنا اناج نہیں ہے کہ ہم انہیں زاد راہ کے طور پر دیں ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم انہیں زادراہ کے لئے دو ! انہوں نے عرض کی : میرے پاس تو صرف بچی ہوئی کھجوریں ہیں ، اور میرے خیال میں وہ ان کے کام نہیں آ سکیں گی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور انہیں دو ! تو وہ ہمیں ساتھ لے کر ایک بالاخانہ کی طرف گئے ، وہاں اتنی کھجوریں تھیں ، جتنا جوان خاکستری اونٹ ہوتا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم لوگ لے لو ! تو تمام لوگوں نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق لینا شروع کیا ، میں لینے والوں میں آخری فرد تھا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے غور کیا تو مجھے کھجوروں کی جگہ پر کوئی چیز کم محسوس نہیں ہوئی ، حالانکہ وہاں سے چار سو افراد نے کھجوریں لی تھیں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14115

Majma al-Zawaid #14115

وَعَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ: «أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُمِائَةٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ: "" قُمْ فَأَعْطِهِمْ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدِي إِلَّا مَا يَقِيظُنِي وَالصِّبْيَةَ - قَالَ وَكِيعٌ: الْقَيْظُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ - قَالَ: "" قُمْ فَأَعْطِهِمْ "". قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمْعًا وَطَاعَةً. قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ وَقُمْنَا مَعَهُ فَصَعِدَ بِنَا إِلَى غُرْفَةٍ لَهُ، فَأَخْرَجَ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْرَتِهِ فَفَتَحَ الْبَابَ. قَالَ دُكَيْنٌ: فَإِذَا فِي الْغُرْفَةِ مِنَ التَّمْرِ شَبِيهٌ بِالْفَصِيلِ الرَّابِضِ. قَالَ: شَأْنُكُمْ. قَالَ: فَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا حَاجَتَهُ مَا شَاءَ. قَالَ: فَالْتَفَتُّ وَإِنِّي لَمِنْ آخِرِهِمْ فَكَأَنَّا لَمْ نُرْزَأْ مِنْهُ تَمْرَةً». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Dukayn ibn Saʿid al-Khathʿami, رضي الله عنه, said: We came to the Messenger of Allah ﷺ, forty and four hundred, asking him for food. The Prophet ﷺ said to ʿUmar: Rise and give them. He said: O Messenger of Allah, I have only what suffices me and the children for the summer, and Wakiʿ said: Qayz in Arab speech is four months. He said: Rise and give them. ʿUmar said: O Messenger of Allah, hearing and obeying. He said: ʿUmar rose and we rose with him; he took us up to his chamber, took the key from his room, and opened the door. Dukayn said: In the chamber were dates resembling a reclining young camel. He said: Help yourselves. He said: Every man among us took his need as he wished. He said: I looked, though among the last of them, and it was as if we had not taken a single date from it. > **"Rise and give them."** > **"Hearing and obeying."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت دکین بن سعید خثعمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم چار سو چالیس افراد تھے ، ہم نے آپ سے اناج مانگا ، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اُٹھو اور انہیں ادائیگی کرو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ میرے پاس صرف اتنی کھجوریں ہیں ، جو میرے لئے اور بچوں کے لئے کچھ عرصے کے لئے کافی ہوں گی ، وکیع نامی راوی کہتے ہیں : عربوں کے محاورے میں لفظ ’’ قیظ ‘‘ کا مطلب چار ماہ ہوتا ہے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اُٹھو اور انہیں ادائیگی کرو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کا حکم مانتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھے ، ان کے ساتھ ہم بھی اُٹھے ، وہ ہمیں لے کر اپنے بالاخانے پر چڑھ گئے ، انہوں نے اپنے پہلو میں سے چابی نکالی اور دروازہ کھول دیا ، حضرت دکین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس کمرے میں اتنی کھجوریں ہوں گی ، جو کم عمر اونٹ کی مانند ہوں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ لے لو ! راوی کہتے ہیں : ہم میں سے ہر ایک شخص نے اپنی حاجت کے مطابق جتنی چاہیں اتنی کھجوریں لے لیں ، راوی کہتے ہیں : جب میں نے توجہ کی ، تو میں ان لوگوں میں لینے والے آخری افراد میں سے تھا ، اور گویا ہم نے ان کھجوروں میں کوئی کمی نہیں کی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14116

Majma al-Zawaid #14116

«وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: كُنْتُ فِي أَهْلِ الصُّفَّةِ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا بِقُرْصٍ فَكَسَرَهُ فِي الصُّفَّةِ، وَصَنَعَ فِيهَا مَاءً سُخْنًا، ثُمَّ صَنَعَ فِيهَا وَدَكًا ثُمَّ سَفْسَفَهَا، ثُمَّ لَبَّقَهَا ثُمَّ صَنَعَهَا ثُمَّ قَالَ: "" اذْهَبْ فَائْتِنِي بِعَشَرَةٍ أَنْتَ عَاشِرُهُمْ "". فَجِئْتُ بِهِمْ فَقَالَ: "" كُلُوا وَكُلُوا مِنْ أَسْفَلِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ أَعْلَاهَا ; فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي أَعْلَاهَا "". فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوا». قُلْتُ: عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْ آخِرِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Wathila ibn al-Asqaʿ, رضي الله عنه, said: I was among the people of al-Suffa. The Messenger of Allah ﷺ called me one day for a loaf; he broke it in the tray, made hot water in it, then made fat in it, then crumbled it, then mixed it, then prepared it. Then he said: Go and bring me ten, you being their tenth. I brought them. He said: Eat, and eat from its lower part, and do not eat from its upper part, for blessing descends in its upper part. They ate from it until full. > **"Go and bring me ten, you being their tenth."** > **"Eat, and eat from its lower part, and do not eat from its upper part, for blessing descends in its upper part."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اہل صفہ میں شامل تھا ، ایک دن نبی اکرم ﷺ نے روٹی منگوائی ، آپ نے اسے پیالے میں توڑا ، آپ نے اس میں گرم پانی ڈالا ، پھر آپ نے اس میں چربی تیار کی ، پھر آپ نے اسے کوٹنا شروع کیا ، اور پھر آپ نے اس کا ثرید تیار کر دیا ، اور اسے زمین سے بلند کر دیا ، پھر آپ نے فرمایا : تم جاؤ اور میرے پاس دس افراد کو لے کے آؤ ، تم ان میں سے دسویں فرد ہو ، میں ان کو لے کے آیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ کھاؤ اور تم اس کے نیچے والے حصے سے کھانا ، تم اس کے اوپر والے حصے سے نہ کھانا ، کیونکہ برکت اس کے اوپر والے حصے میں نازل ہو گی ، تو ان لوگوں نے اس میں سے کھا لیا ، یہاں تک کہ وہ لوگ سیر ہو گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس کا آخری حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14117

Majma al-Zawaid #14117

«وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَيْضًا قَالَ: كُنْتُ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، فَشَكَا أَصْحَابِي الْجُوعَ فَقَالُوا: يَا وَاثِلَةَ، اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَطْعِمْ لَنَا. فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابِي شَكَوُا الْجُوعَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَائِشَةَ: " هَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ ". قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدِي إِلَّا فُتَاتُ خُبْزٍ. قَالَ: " فَأْتِنِي بِهِ ". فَجَاءَتْ بِجِرَابٍ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصَحْفَةٍ فَأَفْرَغَ الْخُبْزَ فِي الصَّحْفَةِ، ثُمَّ جَعَلَ يُصْلِحُ الثَّرِيدَ بِيَدِهِ، وَهُوَ يَرْبُو حَتَّى امْتَلَأَتِ الصَّحْفَةُ، فَقَالَ: " يَا وَاثِلَةُ، اذْهَبْ فَجِئْ بِعَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِي وَأَنْتَ عَاشِرُهُمْ ". فَذَهَبْتُ فَجِئْتُ بِعَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِي وَأَنَا عَاشِرُهُمْ، فَقَالَ: " اجْلِسُوا وَخُذُوا بِاسْمِ اللَّهِ، خُذُوا مِنْ حَوَالَيْهَا وَلَا تَأْخُذُوا مِنْ أَعْلَاهَا ; فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا ". فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَامُوا وَفِي الصَّحْفَةِ مِثْلَ مَا كَانَ فِيهَا، ثُمَّ جَعَلَ يُصْلِحُهَا بِيَدِهِ، وَهِيَ تَرْبُو حَتَّى امْتَلَأَتْ. قَالَ: " يَا وَاثِلَةُ، اذْهَبْ فَجِئْ بِعَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ ". فَجِئْتُ بِعَشَرَةٍ فَقَالَ: " اجْلِسُوا " فَجَلَسُوا، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ قَامُوا فَقَالَ: " اذْهَبْ فَجِئْ بِعَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ ". فَذَهَبْتُ فَجِئْتُ بِعَشَرَةٍ فَفَعَلُوا مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ: " هَلْ بَقِيَ مِنْ أَحَدٍ؟ ". قُلْتُ: نَعَمْ عَشْرٌ. قَالَ: " اذْهَبْ فَجِئْ بِهِمْ ". فَذَهَبْتُ فَجِئْتُ بِهِمْ فَقَالَ: " اجْلِسُوا ". فَجَلَسُوا، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ قَامُوا، وَبَقِيَ فِي الصَّحْفَةِ مِثْلُ مَا كَانَ، ثُمَّ قَالَ: " يَا وَاثِلَةُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى عَائِشَةَ ". - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.

EnglishUnverified translation

Wathila ibn al-Asqaʿ, رضي الله عنه, also said: I was of the companions of al-Suffa. My companions complained of hunger and said: O Wathila, go to the Messenger of Allah ﷺ and seek food for us. I came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, my companions have complained of hunger. The Messenger of Allah ﷺ said to ʿAʾisha: Is there anything with you. She said: O Messenger of Allah, I have only crumbs of bread. He said: Bring it to me. She brought a bag. The Messenger of Allah ﷺ called for a tray, emptied the bread into the tray, then set about preparing tharid with his hand, and it grew until the tray was full. He said: O Wathila, go and bring ten of my companions, you being their tenth. I went and brought ten of my companions, I being their tenth. He said: Sit and take in the name of Allah; take from around it and do not take from its top, for blessing descends from its top. They ate until full, then rose, while in the tray remained as had been in it. Then he set about preparing it with his hand, and it grew until full. He said: O Wathila, go and bring ten of your companions. I brought ten, and he said: Sit. They sat and ate until full, then rose. He said: Go and bring ten of your companions. I went and brought ten, and they did likewise. He said: Has any remained. I said: Yes, ten. He said: Go and bring them. I went and brought them. He said: Sit. They sat and ate until full, then rose, while in the tray remained as had been. Then he said: O Wathila, take this to ʿAʾisha, رضي الله عنها. > **"Is there anything with you."** > **"Bring it to me."** > **"O Wathila, go and bring ten of my companions, you being their tenth."** > **"Sit and take in the name of Allah; take from around it and do not take from its top, for blessing descends from its top."** > **"O Wathila, go and bring ten of your companions."** > **"Sit."** > **"Go and bring ten of your companions."** > **"Has any remained."** > **"Go and bring them."** > **"Sit."** > **"O Wathila, take this to ʿAʾisha."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اصحاب صفہ میں سے ایک تھا ، میرے ساتھیوں نے بھوک کی شکایت کی ، انہوں نے کہا : اے واثلہ ! تم اللہ کے رسول کے پاس جاؤ اور ہمارے لئے کھانے کے لئے کچھ لے کے آؤ ، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ساتھیوں نے بھوک کی شکایت کی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس صرف روٹی کے چند ٹکڑے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس وہی لے آؤ ، وہ ایک تھیلا لے کر آئیں ، نبی اکرم ﷺ نے ایک پیالہ منگوایا ، آپ نے روٹیاں پیالے میں ڈالیں ، پھر آپ اپنے دست مبارک کے ذریعے ثرید بنانے لگے ، وہ کھانا بڑھنا شروع ہوا ، یہاں تک کہ وہ پیالہ بھر گیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے واثلہ ! تم جاؤ اور میرے اصحاب میں سے دس افراد کو لے آؤ ، تم ان میں سے دسویں فرد ہو ، میں گیا اور میں اپنے ساتھیوں میں سے دس افراد کو لے آیا ، جن کے ساتھ میں دسواں فرد تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ بیٹھو اور تم لوگ اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو ، اور تم اس کے اطراف سے کھانا اور اس کے اوپر والے حصے کی طرف سے نہ کھانا ، کیونکہ برکت اس کے اوپر والے حصے کی طرف نازل ہوتی ہے ، تو ان لوگوں نے کھانا شروع کیا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، اور پھر وہ اٹھ گئے ، جبکہ پیالے میں اتنا کھانا موجود تھا جتنا پہلے موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ پھر اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے ٹھیک کرنے لگے ، یہاں تک کہ وہ بڑھنا شروع ہوا ، یہاں تک کہ وہ پیالہ بھر گیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے واثلہ ! تم جاؤ اور اپنے ساتھیوں میں سے دس افراد کو لے آؤ ، تو میں دس افراد کو لے آیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ بیٹھو ، وہ لوگ بیٹھے ، ان لوگوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور اپنے ساتھیوں میں سے دس افراد کو میرے پاس لے آؤ ، میں پھر گیا ، میں دس افراد کو لے آیا ، انہوں نے بھی ایسا ہی کیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا کوئی باقی رہ گیا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ، دس افراد رہ گئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم جاؤ اور انہیں لے آؤ ، میں گیا اور انہیں لے آیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ بیٹھو ، وہ لوگ بیٹھ گئے ، انہوں نے کھانا شروع کیا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے ، تو پیالے میں اتنا ہی کھانا موجود تھا ، جتنا پہلے تھا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے واثلہ ! اسے عائشہ کے پاس لے جاؤ ۔

14118

Majma al-Zawaid #14118

وَفِي رِوَايَةٍ: كُنْتُ فِي الصُّفَّةِ وَهُمْ عِشْرُونَ رَجُلًا. فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالُوا: هَا هُنَا كِسْرَةٌ وَشَيْءٌ مِنْ لَبَنٍ». رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

In a narration: I was in al-Suffa, and they were twenty men. Then he mentioned similar to it, except that he said: They said: Here is a crumb and some milk.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں صفہ میں تھا وہ لوگ بیس افراد تھے ....... اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ گھر والوں نے بتایا کہ یہاں روٹی کا ٹکڑا ہے ، اور تھوڑا سا دودھ ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور اس کی سند حسن ہے ۔

14119

Majma al-Zawaid #14119

«وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُوعَ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ - وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - كَانَتْ تَحْتَ مَالِكِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِنِّي عَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَتْ: عِنْدِي شَيْءٌ، وَأَشَارَتْ بِكَفِّهَا. فَقُلْتُ لَهَا: اصْنَعِي وَانْعَمِي. فَأَرْسَلْتُ أَنَسًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: سَارِّهِ فِي أُذُنِهِ وَادْعُهُ. فَلَمَّا أَقْبَلَ أَنَسٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَرْسَلَكَ أَبُوكَ يَدْعُونَا يَا بُنَيَّ؟ "". قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ: "" اذْهَبُوا بِاسْمِ اللَّهِ "". قَالَ: فَأَدْبَرَ أَنَسٌ يَشْتَدُّ حَتَّى أَتَى أَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَتَاكَ فِي النَّاسِ. قَالَ: فَخَرَجْتُ حَتَّى لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْبَابِ عَلَى مُسْتَرَاحِ الدَّرَجَةِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا صَنَعْتَ بِنَا؟ إِنَّمَا عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْجُوعَ فَصَنَعْنَا لَكَ شَيْئًا تَأْكُلُهُ. قَالَ: "" ادْخُلْ وَأَبْشِرْ "". قَالَ: فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَمَعَهَا فِي الصَّحْفَةِ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَصْلَحَهَا فَقَالَ: "" هَلْ مِنْ؟ "". كَأَنَّهُ يَعْنِي الْأُدْمَ، قَالَ: فَأَتَوْهُ بِعُكَّتِهِمْ فِيهَا شَيْءٌ، أَوْ لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ. فَقَالَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ، فَأَسْكَبَ مِنْهَا السَّمْنَ ثُمَّ قَالَ: "" أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً عَشَرَةً "". فَأَكَلُوا كُلُّهُمْ فَشَبِعُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْفَضْلِ الَّذِي فَضَلَ: "" كُلُوا أَنْتُمْ وَعِيَالُكُمْ "". فَأَكَلُوا وَشَبِعُوا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ: وَهُمْ زُهَاءُ مِائَةٍ. وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Talha رضي الله عنه reports entering the mosque and recognizing hunger on the face of the Messenger of Allah ﷺ. He went to Umm Sulaym رضي الله عنها, mother of Anas ibn Malik, and asked whether she had anything. She indicated a small amount with her palm. He told her to prepare it well, then sent Anas to invite the Prophet ﷺ privately in his ear. When Anas came, the Prophet ﷺ asked his companions to proceed in Allah's name. Anas hurried back and announced that the Prophet ﷺ was coming with people. Abū Talha met the Prophet ﷺ at the door and explained he had only prepared a little because he had seen hunger. The Prophet ﷺ told him to enter with glad tidings, gathered the food in a dish with his hand, mended it, asked for condiment, squeezed ghee from their skin, blessed it, ordered ten by ten to enter, and all ate to satiety. The remainder was left for Abū Talha and his household. > **"Admit ten by ten."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا ، مجھے نبی اکرم ﷺ کے چہرے پر بھوک کے آثار نظر آئے ، تو میں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، راوی کہتے ہیں : وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، یہ پہلے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے والد مالک کی اہلیہ تھیں ( پھر انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی تھی ) میں نے کہا : اے ام سلیم مجھے نبی اکرم ﷺ کے چہرے پر بھوک کے آثار کا اندازہ ہوا ہے ، کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ، انہوں نے کہا : میرے پاس تھوڑی سی چیز ہے ، انہوں نے اپنی ہتھیلی کے ذریعے اشارہ کر کے کہا ، تو میں نے ان سے کہا : تم اسے ہی تیار کرو اور اچھی طرح تیار کرنا ، پھر میں نے انس کو نبی اکرم ﷺ کے پاس بھیجا ، میں نے کہا : تم نبی اکرم ﷺ کے کان میں سرگوشی میں نبی اکرم ﷺ کو دعوت دے دو ، جب حضرت انس رضی اللہ عنہ آئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ شخص کوئی بھلائی لے کے آیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ہمارے بیٹے ! کیا تمہارے باپ نے تمہیں بھیجا ہے ، اور اس نے ہماری دعوت کی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اللہ کا نام لے کر چل پڑو ، راوی بیان کرتے ہیں : حضرت انس رضی اللہ عنہ جلدی سے چلتے ہوئے حضرت ابوطلہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : نبی اکرم ﷺ کچھ لوگوں سمیت آپ کے پاس آ رہے ہیں ، راوی کہتے ہیں : میری ملاقات دروازے کے پاس نبی اکرم ﷺ سے ہوئی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے ، مجھے تو آپ کے چہرے پر بھوک کے آثار محسوس ہوئے تھے ، تو ہم نے تو آپ کے لئے کھانا تیار کیا تھا ، تاکہ آپ کچھ کھا لیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اندر چلو اور خوشخبری حاصل کرو ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کھانا لیا ، آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے ایک پیالے میں ڈالا ، پھر آپ اسے ٹھیک کرنے لگے ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا کچھ ہے ، نبی اکرم ﷺ کی مراد سالن تھی ، تو وہ لوگ اپنی کپی لے آئے ، جس میں تھوڑی سی چیز موجود تھی ، یا شاید کچھ بھی نہیں تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اس میں سے گھی نچوڑا ، پھر آپ نے فرمایا : دس دس آدمیوں کو میرے پاس اندر لاتے رہو ، وہ سب لوگ کھانا کھاتے رہے ، اور سیر ہوتے رہے ، نبی اکرم ﷺ نے اضافی بچ جانے والے کھانے کے بارے میں یہ فرمایا کہ اسے تم لوگ اور تمہارے عیال کھا لیں ، تو انہوں نے بھی کھا لیا اور وہ بھی سیر ہو گئے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں :” ان لوگوں کی تعداد ایک سو کے قریب تھی ‘‘ ان دونوں روایات کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14120

Majma al-Zawaid #14120

«وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ يُحَدِّثُهُمْ وَقَدْ عَصَبَ بَطْنَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَقُلْتُ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ: لِمَ عَصَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَطْنَهُ؟ فَقَالَ: مِنَ الْجُوعِ. فَذَهَبْتُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ - وَهُوَ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ - فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ عَصَبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ، فَسَأَلَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: "" مِنَ الْجُوعِ "". فَدَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى أُمِّي فَقَالَ: هَلْ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَتْ: عِنْدِي كِسَرٌ مِنْ خُبْزٍ وَتَمْرَاتٍ، فَإِنْ جَاءَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشْبَعْنَاهُ، وَإِنْ جَاءَ مَعَهُ أَحَدٌ قَلَّ عَنْهُمْ. فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: اذْهَبْ يَا أَنَسُ فَقُمْ قَرِيبًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا قَامَ فَدَعْهُ حَتَّى يَتَفَرَّقَ وَمَنْ تَبِعَهُ، حَتَّى إِذَا قَامَ عَلَى عَتَبَةِ بَابِهِ فَقُلْ: أَبِي يَدْعُوكَ، فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، فَلَمَّا قُلْتُ: أَبِي يَدْعُوكَ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" يَا هَؤُلَاءِ تَعَالَوْا "". ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَشَدَّهَا، وَأَقْبَلَ بِأَصْحَابِهِ حَتَّى دَنَوْا مِنْ بَيْتِنَا، أَرْسَلَ يَدِي، فَدَخَلْتُ وَأَنَا حَزِينٌ لِكَثْرَةِ مَنْ جَاءَ مَعَهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ، قَدْ قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي قُلْتُ لِي فَدَعَا أَصْحَابَهُ فَقَدْ جَاءَكَ بِهِمْ. فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَرْسَلْتُ أَنَسًا يَدْعُوكَ وَحْدَكَ وَلَمْ يَكُنْ عِنْدِي مَا يُشْبِعُ مَنْ أَرَى. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ادْخُلْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيُشْبِعُهُمْ بِمَا عِنْدَكَ "". فَدَخَلَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" اجْمَعُوا مَا عِنْدَكُمْ ثُمَّ قَرِّبُوهُ "". وَجَلَسَ مَنْ كَانَ مَعَهُ بِالسُّدَّةِ، وَقَرَّبْتُ مَا كَانَ عِنْدَنَا مِنْ خُبْزٍ وَتَمْرٍ فَجَعَلْنَاهُ عَلَى حَصِيرِنَا، فَدَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ: "" أَدْخِلْ عَلَيَّ ثَمَانِيَةً "". فَأَدْخَلْتُ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةً، وَجَعَلَ كَفَّهُ فَوْقَ الطَّعَامِ فَقَالَ: "" كُلُوا وَسَمُّوا اللَّهَ "". فَأَكَلُوا مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَدْخَلْتُ ثَمَانِيَةً، فَمَا زَالَ ذَلِكَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ ثَمَانُونَ رَجُلًا، كُلُّهُمْ يَأْكُلُ حَتَّى يَشْبَعَ، ثُمَّ دَعَانِي وَدَعَا أُمِّي وَأَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ: "" كُلُوا "". فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا، ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ فَقَالَ: "" يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَيْنَ هَذَا مِنْ طَعَامِكِ حِينَ قَدَّمْتِيهِ؟ "". قَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُهُمْ يَأْكُلُونَ لَقُلْتُ: مَا نَقَصَ مِنْ طَعَامِنَا شَيْءٌ». قُلْتُ: لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports coming to the Messenger of Allah ﷺ one day and finding him seated with his companions, conversing, with his belly bound with a stone. A companion told him it was from hunger. Anas went to Abū Talha رضي الله عنه, husband of Umm Sulaym bint Milhan, and informed him. Abū Talha asked his wife whether anything was available. She said she had pieces of bread and dates, enough to satisfy the Prophet ﷺ alone but insufficient if others came. Abū Talha instructed Anas to stand near the Prophet ﷺ, wait until the people dispersed, and invite him alone at his doorway. Anas did so, but the Prophet ﷺ called all his companions to come. He seized Anas by the hand and advanced with them until near the house, then released him. Anas entered grieved by their number and informed his father. Abū Talha came out and explained he had intended only the Prophet ﷺ. The Prophet ﷺ told him to enter, for Allah would satisfy them from what he had. He entered, ordered all that was present to be gathered and brought near, seated those with him at the bench, placed the bread and dates on their mat, supplicated for blessing, placed his palm over the food, and ordered groups of eight to enter and eat in Allah's name until eighty men ate to satiety. Then he called Anas, his mother, and Abū Talha to eat, and after they were satisfied he lifted his hand and asked Umm Sulaym how the food compared to when she presented it. She replied by his parents that had she not seen them eating she would have said nothing had diminished. > **"Enter, for Allah will satisfy them from what you have."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک دن میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے پایا ، آپ لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، آپ نے اپنے پیٹ پر پتھر رکھ کر پٹی باندھی ہوئی تھی ، میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی سے دریافت کیا ، آپ نے اپنے پیٹ پر پٹی کیوں باندھی ہوئی ہے ، اس نے جواب دیا : بھوک کی وجہ سے ، میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، وہ سیدہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے شوہر تھے ، میں نے کہا : اے ابا جان ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ نے پیٹ پر پٹی باندھی ہوئی ہے ، میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا کہ یہ بھوک کی وجہ سے ہے ، تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میری والدہ کے پاس آئے اور انہوں نے دریافت کیا : کیا کوئی چیز ہے ، تو اس خاتون نے کہا : میرے پاس روٹی کے کچھ ٹکڑے ہیں اور کچھ کھجوریں ہیں ، اب اگر نبی اکرم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لے آتے ہیں ، تو ہم آپ کو کھانا کھلا سکیں گے ، لیکن اگر کوئی آپ کے ساتھ آ گیا ، تو پھر کھانا کم ہو جائے گا ، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے انس ! تم جاؤ اور نبی اکرم ﷺ کے قریب کھڑے ہو جانا ، جب نبی اکرم ﷺ اٹھیں گے تو تم اتنا انتظار کرنا کہ لوگ ادھر ادھر ہو جائیں اور جو شخص آپ کے پیچھے آتا ہے وہ بھی ادھر ادھر ہو جائے ، یہاں تک کہ جب نبی اکرم ﷺ اپنے دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے ہوں گے تو تم یہ کہنا کہ میرے والد نے آپ کو بلایا ہے ، راوی کہتے ہیں ، تو میں نے ایسا ہی کیا ، جب میں نے یہ عرض کی کہ میرے والد نے آپ کو بلایا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : اے لوگو ! تم بھی آ جاؤ ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر اسے مضبوطی سے پکڑ لیا ، آپ اپنے اصحاب کے ساتھ آئے ، یہاں تک کہ جب آپ ہمارے گھر کے قریب پہنچے تو آپ نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا ، میں پریشانی کے عالم میں گھر میں داخل ہوا ، پریشانی اس وجہ سے تھی کہ آپ کے ساتھ آنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ تھی ، میں نے کہا : اے ابا جان ! میں نے نبی اکرم ﷺ سے وہی بات کی تھی ، جو آپ نے مجھ سے کہی تھی ، لیکن نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو بھی دعوت دے دی اور وہ ان لوگوں کے ساتھ آپ کے پاس آ رہے ہیں ، حضرت ابوطلحہ نکل کر آپ کی طرف گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے انس کو صرف آپ کے لئے دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا ، میرے پاس اتنا کھانا نہیں ہے کہ جس کے ذریعے یہ لوگ سیر ہو سکیں ، جنہیں میں دیکھ رہا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اندر چلو ، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس چیز کے ذریعے سیراب کر دے گا ، جو تمہارے پاس ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ میرے ساتھ اندر آئے ، آپ نے فرمایا : تمہارے پاس جو کچھ ہے اس کو اکٹھا کرو اور پھر اسے پیش کرو ، نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آنے والے افراد باہر بیٹھ گئے ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہمارے ہاں جو کچھ موجود تھا ، روٹیاں تھیں اور کھجوریں تھیں ، وہ میں نے پیش کیں ، وہ ہم نے اپنی چٹائی پر رکھ دیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس کے بارے میں برکت کی دعا کی ، پھر آپ نے فرمایا : آٹھ افراد کو میرے پاس اندر لے کے آؤ ، میں آٹھ افراد کو اندر لے کے آیا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی ہتھیلی کھانے کے اوپر رکھ لی ، آپ نے فرمایا : تم لوگ اللہ کا نام لے کے کھانا شروع کرو ، تو ان لوگوں نے کھانا شروع کیا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے حکم دیا ، میں مزید آٹھ افراد کو لے آیا ، ایسا ہوتا رہا ، یہاں تک کہ اسّی افراد اندر آ گئے ، ان سب نے کھانا کھا لیا ، یہاں تک کہ وہ سب سیر ہو گئے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلایا ، میری والدہ کو بلایا اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا ، آپ نے فرمایا : تم لوگ بھی کھاؤ ، ہم نے بھی کھانا کھایا ، یہاں تک کہ ہم بھی سیر ہو گئے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک اٹھایا اور فرمایا : اے ام سلیم ! جب تم نے کھانا پیش کیا تھا ، اب اس کے مقابلے میں تمہارے کھانے میں کیا فرق آیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اگر میں نے ان لوگوں کو کھاتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا ، تو میں نے یہی کہنا تھا کہ ہمارے کھانے میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث صحیح میں مذکور ہے جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسامہ بن زید بن اسلم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14121

Majma al-Zawaid #14121

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «أَتَى أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ أُمَّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَأَبُو طَلْحَةَ رَابُّهُ فَقَالَ: عِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ شَيْءٌ؟ فَإِنِّي مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُقْرِئُ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ سُورَةَ النِّسَاءِ، وَقَدْ رَبَطَ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا مِنَ الْجُوعِ! فَقَالَتْ: عِنْدِي شَيْءٌ مِنْ شَعِيرٍ فَطَحَنَتْهُ. قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَانْطَلَقُوا يَوْمَئِذٍ وَهُمْ ثَمَانُونَ رَجُلًا، فَأَمْسَكَ بِيَدِي، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الدَّارِ نَزَعْتُ يَدِي مِنْ يَدِهِ، فَجَعَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَطْلُبُنِي فِي الدَّارِ وَيَرْمِينِي بِالْحِجَارَةِ وَيَقُولُ: فَضَحْتَنِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ إِنَّهُ خَرَجَ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ فَأَمَرَهُمْ فَجَلَسُوا ثُمَّ دَخَلَ، فَأَتَيْنَاهُ بِالْقُرْصِ فَقَالَ: "" هَلْ مِنْ أُدْمٍ؟ "". فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ كَانَ عِنْدَنَا نِحْيٌ قَدْ عَصَرْتُهُ أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَلُمُّوا فَإِنَّ عَصْرَ الثَّلَاثَةِ أَبْلَغُ مِنْ عَصْرِ الِاثْنَيْنِ "". فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَصَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُمَا بِيَدِهِ، ثُمَّ دَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ: "" ادْعُوَا لِي عَشَرَةً "". فَأَكَلُوا حَتَّى تَجَشَّئُوا شِبَعًا». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that Abū Talha رضي الله عنه, his stepfather, came to Umm Sulaym رضي الله عنها and asked whether she had anything, for he had passed the Messenger of Allah ﷺ while he was teaching the people of the bench Surat al-Nisa with a stone tied on his belly from hunger. She said she had some barley and ground it. The party then set out, eighty men that day, with the Prophet ﷺ holding Anas by the hand. When near the house Anas pulled his hand away. Abū Talha pursued him in the house, throwing stones and saying he had disgraced him before the Messenger of Allah ﷺ. Then Abū Talha went out, informed the Prophet ﷺ of the situation, and the Prophet ﷺ ordered the people to sit, then entered. They brought the loaf, and he asked whether there was condiment. Umm Sulaym said they had a skin that she and Abū Talha had already squeezed. The Prophet ﷺ ordered it brought, for the squeezing of three is more effective than of two, squeezed it with them by his hand, supplicated for blessing therein, and ordered ten to be called. They ate until they belched from satiety. > **"Bring it, for the squeezing of three is more effective than the squeezing of two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، جو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے سوتیلے والد تھے ، انہوں نے کہا : اے ام سلیم ! کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا تھا ، آپ اصحاب صفہ کو سورت نساء کی تعلیم دے رہے تھے اور نبی اکرم ﷺ نے بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا تھا ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : میرے پاس تھوڑے سے جو ہیں ، میں انہیں پیس لیتی ہوں ، راوی کہتے ہیں اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : تو وہ لوگ اس وقت روانہ ہوئے ، ان کی تعداد اسّی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، جب میں گھر کے قریب ہوا ، تو میں نے اپنا ہاتھ نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ سے چھڑایا ، گھر میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میرے پیچھے آنے لگے ، وہ مجھے پتھر مار رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے : تم اللہ کے رسول کے سامنے مجھے شرمندہ کروا دو گے ، پھر وہ نکل کر نبی اکرم ﷺ کے سامنے گئے اور آپ کو صورت حال کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بیٹھ جائیں ، پھر نبی اکرم ﷺ اندر تشریف لے گئے ، ہم روٹی کے ٹکڑے آپ کے پاس لے آئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا سالن ہے ؟ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ہمارے پاس ایک برتن ہے ، جس میں سے میں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نچوڑ چکے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہی لے کر آؤ ! اگر تین افراد نچوڑ لیں ، تو وہ دو کے نچوڑنے کے مقابلے میں زیادہ بلیغ ہوتا ہے ، وہ ان کے پاس اس برتن کو لے کر آئے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے نچوڑا ، اور پھر اس میں برکت کی دعا کی ، پھر آپ نے فرمایا : دس افراد کو میرے پاس بلا کے لاؤ ! تو ان لوگوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو کر ڈکار لینے لگے ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو صیح میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14122

Majma al-Zawaid #14122

«وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: صَنَعَتْ أُمِّي طَعَامًا وَقَالَتِ: اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَادْعُهُ. فَجِئْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّ أُمِّي قَدْ صَنَعَتْ شَيْئًا. فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" قُومُوا "". فَقَامَ مَعَهُ خَمْسُونَ رَجُلًا، فَجَلَسَ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَدْخِلْ عَشَرَةً عَشَرَةً "". فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَ نَحْوُ مَا كَانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn Abdillah رضي الله عنهما reports that his mother prepared food and told him to go to the Messenger of Allah ﷺ and invite him. He came to the Prophet ﷺ, spoke to him privately, and said his mother had prepared something. The Prophet ﷺ told his companions to rise, and fifty men rose with him. He sat at the door and ordered ten by ten to be admitted. They ate until satisfied, and nearly as much as before remained. > **"Rise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری والدہ نے کھانا تیار کیا ، انہوں نے مجھ سے کہا : تم اللہ کے رسول ﷺ کی بارگاہ میں جاؤ اور انہیں بلا لاؤ ، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، میں نے آپ کے ساتھ سرگوشی میں بات جیت کی ، میں عرض کی : میری والدہ نے کچھ تیار کیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ اٹھو ، تو آپ کے ساتھ پچاس افراد اٹھ کھڑے ہوئے ، وہ دروازے پر بیٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دس دس افراد کو اندر آنے کے لئے کہو ، وہ لوگ کھانا کھاتے رہے اور سیر ہوتے رہے ، پھر بھی کھانا اتنا بچ گیا ، جتنا پہلے تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14123

Majma al-Zawaid #14123

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اجْمَعْ لِي أَصْحَابَكَ "". فَجَعَلْتُ أَتْبَعُهُمْ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا رَجُلًا أُوقِظُهُمْ، فَأَتَيْنَا بَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْنَا، فَوُضِعَتْ بَيْنَ أَيْدِينَا صَحْفَةٌ صَنِيعُ قَدْرِ مُدَّيْ شَعِيرٍ، فَقَالَ لَنَا: "" كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ "". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ وُضِعَتِ الصَّحْفَةُ: "" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا فِي آلِ مُحَمَّدٍ شَيْءٌ غَيْرَ مَا تَرَوْنَهُ "". فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا وَفِيهَا مِنْهُ بَقِيَّةٌ، وَكُنَّا مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ. فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: مِثْلُ أَيْشِ كَانَتْ حِينَ فَرَغْتُمْ مِنْهَا؟ فَقَالَ: مِثْلُهَا حِينَ وُضِعَتْ إِلَّا أَنَّ فِيهَا أَثَرَ الْأَصَابِعِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ told him to gather his companions. He went after them in the mosque, waking them one by one, until they came to the door of the Prophet ﷺ and entered. A dish was placed before them, prepared from about two mudd of barley. The Prophet ﷺ told them to eat in Allah's name, and when the dish was set down he swore by the One in Whose hand is the soul of Muhammad that nothing remained in the household of Muhammad besides what they saw. Between seventy and eighty men ate until satisfied, with a remainder left in it. Asked what it looked like when they finished, Abū Hurayra said it looked as when it was set down, except for traces of fingers therein. > **"Eat in the name of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اپنے ساتھیوں کو میرے پاس اکٹھا کرو ، تو میں ان لوگوں کے پیچھے مسجد میں گیا ، اور ایک ایک فرد کو بیدار کرنے لگا ، پھر ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے دروازے پر آئے ، پھر ہم اندر آئے ، ہمارے سامنے ایک پیالہ رکھا گیا ، جس میں تقریباً دو مد جو سے پکا ہوا کھانا ہو گا ، نبی اکرم ﷺ نے ہم سے فرمایا : تم لوگ اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو ، جب وہ برتن رکھا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( ﷺ ) کی جان ہے ، محمد ( ﷺ ) کے گھر والوں کے پاس ، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا ، جو تم دیکھ رہے ہو ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ ہم سیر ہو گئے اور پھر بھی کھانا بچ گیا ، حالانکہ ہم اس وقت ستر سے لے کر اسّی کے لگ بھگ افراد تھے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : جب آپ کھانا کر فارغ ہوئے تو اس کا کیا عالم تھا ؟ انہوں نے فرمایا : وہ اتنا ہی تھا ، جتنا اس وقت تھا جب اسے رکھا گیا تھا ، البتہ یہ ہے اس میں انگلیوں کے نشان نظر آ رہے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14124

Majma al-Zawaid #14124

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَخْطَأَنِي الْعَشَاءُ ذَاتَ لَيْلَةٍ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْطَأَنِي أَنْ يَدْعُوَنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِنَا، فَصَلَّيْتُ الْعِشَاءَ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أَنَامَ فَلَمْ أَقْدِرْ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ فَلَمْ أَقْدِرْ، فَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَ حُجْرَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي، فَصَلَّى ثُمَّ اسْتَنَدَ إِلَى السَّارِيَةِ الَّتِي كَانَ يُصَلِّي إِلَيْهَا فَقَالَ: "" مَنْ هَذَا؟ أَبُو هُرَيْرَةَ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" أَخَطَأَكَ الْعَشَاءُ مَعَنَا اللَّيْلَةَ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" انْطَلِقْ إِلَى الْمَنْزِلِ فَقُلْ: هَلُمُّوا الطَّعَامَ الَّذِي عِنْدَكُمْ "". فَأَعْطَوْنِي صَحْفَةً فِيهَا عَصِيدَةٌ بِتَمْرٍ، فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: "" ادْعُ أَهْلَ الْمَسْجِدِ "". فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: الْوَيْلُ لِي مِمَّا أَرَى مِنْ قِلَّةِ الطَّعَامِ، وَالْوَيْلُ لِي مِنَ الْمَعْصِيَةِ، فَآتِي الرَّجُلَ وَهُوَ نَائِمٌ فَأُوقِظُهُ وَأَقُولُ: أَجِبْ، وَآتِي الرَّجُلَ وَهُوَ يُصَلِّي فَأَقُولُ: أَجِبْ حَتَّى اجْتَمَعُوا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهَا وَغَمَزَ نَوَاحِيَهَا وَقَالَ: "" كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ "". فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، وَأَكَلْتُ حَتَّى شَبِعْتُ، قَالَ: "" خُذْهَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَارْدُدْهَا إِلَى آلِ مُحَمَّدٍ، فَمَا فِي آلِ مُحَمَّدٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ غَيْرُ هَذِهِ، أَهْدَاهَا إِلَيْنَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ "". فَأَخَذْتُ الصَّحْفَةَ فَرَفَعْتُهَا، فَإِذَا هِيَ كَهَيْئَتِهَا حِينَ وَضَعْتُهَا إِلَّا أَنَّ فِيهَا آثَارَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reports missing supper with the Prophet ﷺ one night, with none of his companions inviting him. He prayed night prayer, then wished to sleep but could not, then wished to pray but could not. He noticed a man at the chamber of the Prophet ﷺ and found it was the Prophet ﷺ praying. After praying the Prophet ﷺ leaned against the pillar toward which he prayed and asked who was there. When Abū Hurayra answered, he asked whether he had missed supper with them that night. Upon confirmation he told him to go to the house and ask for whatever food was there. They gave him a dish containing porridge with dates. He brought it and placed it before the Prophet ﷺ, who told him to call the people of the mosque. Abū Hurayra feared within himself both the scantiness of the food and disobedience, yet he went to each sleeper waking him and each praying man calling him until they gathered. The Prophet ﷺ placed his fingers in it, pressed its sides, and told them to eat in Allah's name. All ate to satiety, and he too ate to satiety. The Prophet ﷺ then told him to take it back to the household of Muhammad, for no living creature had any food among them besides it, a gift from a man of the Ansar. When he lifted the dish it looked as when he had set it down, except for traces of the fingers of the Prophet ﷺ. > **"Eat in the name of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات میں عشاء کی نماز ، نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ادا نہیں کر سکا ، اور یہ بھی نہیں ہو سکا کہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی مجھے بلا لیتا ، میں نے عشاء کی نماز ادا کی ، پھر میں نے سونے کا ارادہ کیا ، تو میں سو نہیں پایا ، پھر میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں نفل پڑھتا ہوں ، لیکن میں یہ بھی نہیں کر سکا ، وہاں نبی اکرم ﷺ کے حجرے کے پاس مجھے کوئی شخص نظر آیا ، میں اس کے پاس آیا ، تو وہ نبی اکرم ﷺ تھے ، جو نماز ادا کر رہے تھے ، آپ نماز ادا کر رہے تھے ، پھر آپ نے اس ستون کے ساتھ ٹیک لگا لی ، جس کی طرف رخ کر کے آپ نماز ادا کرتے تھے ، آپ نے فرمایا : کون ہے ؟ کیا ابوہریرہ ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آج تم نے عشاء کی نماز ہمارے ساتھ ادا نہیں کی ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم گھر جاؤ اور یہ کہو : تم لوگوں کے پاس جو کھانا ہے ، وہ دے دو ، تو ان لوگوں نے مجھے ایک پیالہ دیا ، جس میں کھجور کا عصیدہ تھا ، میں اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، وہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے رکھ دیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مسجد میں موجود افراد کو بلا کر لاؤ ، میں نے دل میں سوچا کہ میرے لئے بربادی ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ کھانا کم تھا اور میرے لئے اس حوالے سے بھی بربادی ہے اگر میں نبی اکرم ﷺ کے حکم کی نافرمانی کروں ، تو میں ایک شخص کے پاس آیا وہ سویا ہوا تھا ، میں نے اسے بیدار کیا ، میں نے اسے کہا : تم بلانے پر جاؤ ، پھر ایک اور شخص کے پاس آیا ، وہ نماز پڑھ رہا تھا ، میں نے کہا : تم بلانے پر جاؤ ، یہاں تک کہ وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں اس کھانے میں رکھیں اور اس کے اطراف کو ہلایا جلایا ، پھر آپ نے فرمایا : اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو ، ان لوگوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، میں نے بھی کھانا کھایا ، یہاں تک کہ میں بھی سیر ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! تم اسے لو اور اسے آل محمد کے پاس واپس چھوڑ آؤ ! کیونکہ آل محمد کے پاس اس کے علاوہ کوئی ایسا کھانا نہیں ہے ، جسے کوئی جاندار کھا سکے ، یہ کھانا بھی انصار سے تعلق رکھنے والے ایک فرد نے ہمیں تحفے کے طور پر بھجوایا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو میں نے وہ پیالہ لیا ، اسے اٹھایا تو یہ اسی طرح تھا ، جیسے اس وقت تھا جب میں نے اسے رکھا تھا ، البتہ اس میں نبی اکرم ﷺ کی انگلیوں کے نشان موجود تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14125

Majma al-Zawaid #14125

«وَعَنْ صَفِيَّةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي يَوْمٍ فَقَالَ: "" أَعِنْدَكِ شَيْءٌ يَا بِنْتَ حُيَيٍّ فَإِنِّي جَائِعٌ؟ "". فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا مُدَّيْنِ مِنْ طَحِينٍ. قَالَ: "" فَاسْخِتِيهِ "". قَالَتْ: فَجَعَلْتُهُ فِي الْقِدْرِ وَأَنْضَجْتُهُ فَقُلْتُ: قَدْ نَضِجَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: "" أَتَعْلَمِينَ فِي نِحْيِ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ شَيْئًا؟ "". فَقُلْتُ: مَا أَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَذَهَبَ هُوَ بِنَفْسِهِ حَتَّى أَتَى بَيْتَهَا فَقَالَ: "" فِي نِحْيِكِ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ شَيْءٌ؟ "". فَقَالَتْ: لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ إِلَّا قَلِيلٌ، فَجَاءَ بِهِ هُوَ بِنَفْسِهِ، فَعَصَرَ حَافَّتَيْهِ فِي الْقِدْرِ، حَتَّى رَأَيْتُ الَّذِي يَخْرُجُ فَوَضَعَ يَدَهُ فَقَالَ: "" بِسْمِ اللَّهِ ادْعِي أَخَوَاتِكِ ; فَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّهُنَّ يَجِدْنَ مِثْلَ مَا أَجِدُ "". فَدَعَوْتُهُنَّ فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا، ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَدَخَلَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ. قَالَتْ: فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَ عَنْهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Safiyya, wife of the Prophet ﷺ رضي الله عنها, reports that the Messenger of Allah ﷺ came one day and asked her, O daughter of Huyayy, whether she had anything, for he was hungry. She swore by Allah that she had only two mudd of flour. He told her to prepare it. She placed it in the pot and cooked it, then announced it was done. He asked whether she knew of anything in the skin of the daughter of Abū Bakr. When she said she did not know, he went himself to her house and asked her whether anything was in her skin. She said there was nothing but a little. He brought it himself, squeezed its edges into the pot until she saw what came out, placed his hand therein, and told her in Allah's name to call her sisters, for he knew they felt as he felt. She called them and they ate to satiety. Then Abū Bakr, Umar, and another man came in turn and ate to satiety, with food remaining over them. > **"In the name of Allah, call your sisters, for I know they feel as I feel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اے حیی کی صاحبزادی ! کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے ( جسے کھایا جا سکے ) کیونکہ مجھے بھوک لگی ہے ، میں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! نہیں ہے یا رسول اللہ ! صرف آٹے کے دو مد ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے ہی تیار کرو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، میں نے اسے ہنڈیا میں ڈالا اور اسے پکانے لگی میں نے کہا : یا رسول اللہ یہ پک گیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم یہ بات جانتی ہو کہ ابوبکر کی بیٹی کے برتن میں کوئی چیز ہو گی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے نہیں معلوم پھر نبی اکرم ﷺ بذات خود تشریف لے گئے یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے ، آپ نے فرمایا : اے ابوبکر کی بیٹی ! کیا تمہارے برتن میں کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس میں کچھ نہیں ہے ، صرف معمولی سا کچھ گھی ہو گا ، تو نبی اکرم ﷺ بذات خود اسے لے کے آئے ، آپ نے اس کے دو کناروں کو ہنڈیا میں نچوڑا ، یہاں تک کہ میں نے اس چیز کو دیکھا ، جو نکل رہی تھی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک رکھا اور فرمایا : اللہ کا نام لے کر اپنی بہنوں کو بلا کے لاؤ ، کیونکہ مجھے یہ پتہ ہے کہ انہیں بھی وہی صورت حال محسوس ہو رہی ہو گی جو مجھے محسوس ہو رہی ہے ، تو میں دیگر ازواج مطہرات کو لے کے آئی ، ہم نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ ہم سیر ہو گئیں ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، وہ اندر آئے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے ، وہ اندر آئے ، پھر ایک اور صاحب آئے ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، تو ان سب لوگوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ سب لوگ سیر ہو گئے اور پھر بھی کھانا بچ گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حدیج بن معاویہ ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14126

Majma al-Zawaid #14126

«وَعَنْ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَتْ: كَانَتْ لَنَا شَاةٌ فَجَمَعْتُ مِنْ سَمْنِهَا فِي عُكَّةٍ فَمَلَأْتُ الْعُكَّةَ، ثُمَّ بَعَثْتُ بِهَا مَعَ رَبِيبَةٍ فَقُلْتُ: يَا رَبِيبَةُ، أَبْلِغِي هَذِهِ الْعُكَّةَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتَدِمُ بِهَا. فَانْطَلَقَتْ رَبِيبَةُ حَتَّى أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عُكَّةُ سَمْنٍ بَعَثَتْ بِهَا إِلَيْكَ أُمُّ سُلَيْمٍ. فَقَالَ: "" فَرِّغُوا لَهَا عُكَّتَهَا "". فَفُرِّغَتِ الْعُكَّةُ، فَدُفِعَتْ إِلَيْهَا، فَانْطَلَقْتُ، فَجَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَرَأَتِ الْعُكَّةَ مُمْتَلِئَةً تَقْطُرُ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَبِيبَةُ، أَلَيْسَ قَدْ أَمَرْتُكِ أَنْ تَنْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَتْ: قَدْ فَعَلْتُ فَإِنْ لَمْ تُصَدِّقِينِي فَانْطَلِقِي فَسَلِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَانْطَلَقَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا رَبِيبَةُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي بَعَثْتُ إِلَيْكَ مَعَهَا بِعُكَّةٍ فِيهَا سَمْنٌ. فَقَالَ: "" قَدْ فَعَلَتْ، قَدْ جَاءَتْ بِهَا "". فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ إِنَّهَا لَمُمْتَلِئَةٌ تَقْطُرُ سَمْنًا. قَالَ: فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَتَعْجَبِينَ إِنْ كَانَ اللَّهُ أَطْعَمَكِ كَمَا أَطْعَمْتِ نَبِيَّهُ؟ كُلِي وَأَطْعِمِي "". قَالَتْ: فَجِئْتُ الْبَيْتَ فَقَسَّمْتُ فِي قَعْبٍ لَنَا كَذَا وَكَذَا، وَتَرَكْتُ فِيهَا مَا ائْتَدَمْنَا بِهِ شَهْرًا أَوْ شَهْرَيْنِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: زَيْنَبُ بَدَلَ رَبِيبَةَ. وَفِي إِسْنَادِهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ التَّرْجَمِيُّ وَهُوَ الْيَشْكُرِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Anas ibn Malik, Umm Sulaym رضي الله عنها, reports that they owned a sheep, from whose ghee she filled a skin, then sent it with Rubayba, instructing her to deliver it to the Messenger of Allah ﷺ for his condiment. Rubayba brought it and said Umm Sulaym had sent a skin of ghee. The Prophet ﷺ ordered its skin emptied for her. It was emptied and handed back, and she departed. When Umm Sulaym later saw the skin full and dripping, she asked Rubayba whether she had not ordered her to go to the Messenger of Allah ﷺ. Rubayba replied she had done so, and if not believed, Umm Sulaym could go ask the Prophet ﷺ herself. Umm Sulaym went with Rubayba and said she had sent a skin with ghee through her. The Prophet ﷺ replied she had indeed brought it. Umm Sulaym swore by the One Who sent him with guidance and the religion of truth that it was full and dripping ghee. The Messenger of Allah ﷺ asked whether she marvelled that Allah had fed her as she had fed His prophet, and told her to eat and to feed others. She returned home, divided it among such and such of their bowls, and left therein what served them as condiment for a month or two months. > **"Do you marvel that Allah has fed you as you fed His prophet? Eat and feed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام انس بن مالک رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہماری ایک بکری تھی ، میں نے اس کے گھی کو کپی میں اکٹھا کیا اور اسے بھر دیا ، پھر میں نے ربیبہ کے ہاتھ وہ بھجوایا ، میں نے کہا : اے ربیبہ اس برتن کو نبی اکرم ﷺ تک پہنچا دو تاکہ نبی اکرم ﷺ اس گھی کو سالن کے طور پر استعمال کریں ، ربیبہ گئی ، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ گھی کا برتن ہے جو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کو بھجوایا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا برتن اسے خالی کر کے دے دو ، وہ برتن خالی کر دیا گیا اور مجھے دیا گیا ، میں روانہ ہوئی ، جب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا آئیں اور انہوں نے برتن کو دیکھا کہ وہ بھرا ہوا ہے ، اور اس میں سے قطرے ٹپک رہے ہیں ، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : اے ربیبہ ! کیا میں نے تمہیں یہ ہدایت نہیں کی تھی کہ تم اسے اللہ کے رسول کے پاس لے جاؤ ، تو ربیبہ نے کہا : میں نے ایسا کیا تھا ، اگر آپ مجھے سچا نہیں سمجھتی ہیں تو آپ خود جائیں اور نبی اکرم ﷺ سے دریافت کر لیں ، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا گئیں ، ان کے ساتھ ربیبہ بھی تھیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اس لڑکی کے ہمراہ آپ کی طرف گھی کا برتن بھیجا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس نے ایسا کر دیا تھا ، وہ اس کو لے آئی تھی ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو ہدایت اور دین حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، وہ برتن تو بھرا ہوا ہے ، اور اس میں سے گھی کے قطرے ٹپک رہے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : کیا تم اس بات پر حیران ہو رہی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے وہ تمہیں کھانے کے لئے دیا ہے ، جس طرح تم نے اس کے نبی کو کھانا دیا تھا ، تم اس میں سے کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں گھر واپس آئی ، میں نے اسے اپنے اتنے اتنے برتنوں میں تقسیم کیا اور پھر بھی اس برتن میں اتنا باقی بچ گیا کہ ہم ایک ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) دو ماہ تک اسے سالن کے طور پر استعمال کرتے رہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم ربیبہ کی جگہ خاتون کا نام زینب نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن برجمی ہے ، اور وہ یشکری ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

14127

Majma al-Zawaid #14127

«وَعَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّةِ أَنَّهَا جَاءَتْ بِعُكَّةِ سَمْنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا فَعَصَرَهَا، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَيْهَا فَرَجَعَتْ فَإِذَا هِيَ مُمْتَلِئَةٌ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ: "" وَمَا ذَلِكَ يَا أُمَّ مَالِكٍ؟ "". فَقَالَتْ: لِمَ رَدَدْتَ هَدِيَّتِي؟ فَدَعَا بِلَالًا فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ عَصَرْتُهَا حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَنِيئًا لَكِ يَا أُمِّ مَالِكٍ، عَجَّلَ اللَّهُ ثَوَابَهَا "". ثُمَّ عَلَّمَهَا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ سُبْحَانَ اللَّهِ عَشْرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَشْرًا، وَاللَّهُ أَكْبَرُ عَشْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Malik al-Ansariyya رضي الله عنها reports bringing a skin of ghee to the Messenger of Allah ﷺ. He ordered Bilal رضي الله عنه to squeeze it, then returned it to her. When she returned she found it full. She came back to the Prophet ﷺ and asked whether anything had been revealed concerning her. He asked what was the matter, O Umm Malik. She asked why he had returned her gift. He summoned Bilal and questioned him, and Bilal swore by the One Who sent him with truth that he had squeezed it until he felt shy. The Messenger of Allah ﷺ congratulated her, saying Allah had hastened its reward, then taught her to say after every prayer ten times glory be to Allah, ten times praise be to Allah, and ten times Allah is greatest. > **"Congratulations to you, O Umm Malik, Allah has hastened its reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام مالک انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ گھی کا برتن لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، انہوں نے اسے نچوڑ لیا ، پھر انہوں نے وہ برتن اس خاتون کو واپس کیا ، جب وہ خاتون واپس گئیں تو وہ برتن بھرا ہوا تھا ، پھر وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آئیں اور عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہو گیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کیا ہوا ؟ اے اُم مالک ! انہوں نے عرض کی : آپ نے میرا تحفہ واپس کیوں کر دیا ؟ نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے اسے اتنا نچوڑا تھا کہ مجھے شرم آنے لگی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ام مالک ! تمہیں مبارک باد ہو ! یہ برکت ہے ، جس کو اللہ تعالیٰ نے جلدی ثواب کے طور پر دیا ہے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کو یہ تعلیم دی کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ ، دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14128

Majma al-Zawaid #14128

«وَعَنْ أُمِّ أَوْسٍ الْبَهْزِيَّةِ أَنَّهَا مَلَأَتْ سَمْنًا لَهَا فَجَعَلَتْهُ فِي عُكَّةٍ، ثُمَّ أَهْدَتْهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَبِلَهُ وَأَخَذَ مَا فِيهَا، وَدَعَا لَهَا بِالْبَرَكَةِ فَرَدُّوهَا إِلَيْهَا وَهِيَ مَمْلُوءَةٌ سَمْنًا، فَظَنَّتْ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَقْبَلْهَا، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَهَا صُرَاخٌ فَقَالَ: "" أَخْبِرُوهَا بِالْقِصَّةِ "". فَأَكَلَتْ مِنْهُ بَقِيَّةَ عُمْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوِلَايَةِ أَبِي بَكْرٍ وَوِلَايَةِ عُمَرَ وَوِلَايَةِ عُثْمَانَ حَتَّى كَانَ بَيْنَ عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ مَا كَانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِصْمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Umm Aws al-Bahziyya رضي الله عنها reports filling her clarified butter into a skin and presenting it as a gift to the Prophet ﷺ. He accepted it, took what was inside, supplicated for blessing for her, and it was returned to her full of ghee. Thinking the Prophet ﷺ had not accepted it, she came crying. He ordered that the matter be explained to her. She ate from it through the remainder of the life of the Prophet ﷺ, the rule of Abū Bakr, the rule of Umar, and the rule of ʿUthmān, until what occurred between ʿAlī and Muawiya occurred. > **"Inform her of the matter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام اوس بہزیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے گھی اکٹھا کیا اور اسے ایک برتن میں ڈالا ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے قبول کیا اور اس میں جو کچھ موجود تھا اسے لے لیا ، پھر آپ نے اس خاتون کے لئے برکت کی دعا کی اور وہ برتن اس خاتون کو واپس کیا ، تو وہ گھی سے بھرا ہوا تھا ، وہ خاتون یہ سمجھیں کہ نبی اکرم ﷺ نے شاید اسے قبول نہیں کیا ، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں ، وہ رو رہی تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے ساری صورت حال بتاؤ ، تو اس خاتون نے اس گھی کو نبی اکرم ﷺ کی باقی زندگی میں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پورے عہد خلافت میں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں کھایا ، یہاں تک کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان لڑائی ہوئی ، تو وہ اس وقت تک بھی بچا رہا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عصمہ بن سلیمان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14129

Majma al-Zawaid #14129

«وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كَانَ طَعَامُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدُورُ عَلَى يَدَيْ أَصْحَابِهِ هَذَا لَيْلَةً وَهَذَا لَيْلَةً. قَالَ: فَدَارَ عَلَيَّ لَيْلَةً فَصَنَعْتُ طَعَامَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَرَكْتُ النِّحْيَ، وَلَمْ أُوكِهِ، وَذَهَبْتُ بِالطَّعَامِ إِلَيْهِ، فَتَحَرَّكَ فَأُهْرِيقَ مَا فِيهِ، فَقُلْتُ: أَعَلَى يَدَيَّ أُهْرِيقَ طَعَامُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ادْنُهُ "". فَقُلْتُ: لَا أَسْتَطِيعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَجَعْتُ مَكَانِي فَإِذَا النِّحْيُ يَقُولُ: قَبْ قَبْ فَقُلْتُ: مَهْ قَدْ أُهْرِيقَ فَضْلَةٌ فَضَلَتْ فِيهِ، فَجِئْتُ أَنْظُرُهُ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ مُلِئَ إِلَى ثَدْيَيْهِ، فَأَخَذْتُهُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: "" إِنَّكَ لَوْ تَرَكْتَهُ لَمُلِئَ إِلَى فِيهِ ثُمَّ أُوكِيَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَفِيهَا: «لَوْ تَرَكْتَهُ لَسَالَ وَادِيًا سَمْنًا». وَرِجَالُ الطَّرِيقِ الَّتِي هُنَا وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Hamza ibn Amr رضي الله عنه reports that the food of the companions of the Messenger of Allah ﷺ circulated by turns among his companions, one night upon this man and one night upon that. When the turn fell upon him he prepared their food but left the skin untied and unsealed, then carried the food to them. The skin moved and what was in it spilled. He lamented whether the food of the Messenger of Allah ﷺ had spilled by his hands. The Messenger of Allah ﷺ told him to bring it near. He replied he could not, O Messenger of Allah. When he returned to his place the skin was sounding qab qab. He told it to stop, for the excess had spilled and a remainder stayed. On inspection he found it filled to its breast. He carried it to the Messenger of Allah ﷺ and informed him. The Prophet ﷺ replied that had he left it, it would have filled to its mouth and then been sealed. > **"Bring it near."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کا کھانا آپ کے اصحاب کے ہاتھوں میں گھومتا تھا ، ایک رات ایک کی ذمہ داری ہوتی تھی ، ایک رات ایک کی ذمہ داری ہوتی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : ایک رات میرے ذمہ باری تھی ، میں نے نبی اکرم ﷺ کا کھانا تیار کیا ، میں نے گھی کے برتن کو ایسے ہی چھوڑ دیا ، اس کا منہ بند نہیں کیا ، میں کھانا لے کر نبی اکرم ﷺ کی طرف گیا ، پیچھے سے برتن میں حرکت ہوئی اور اس میں جو گھی موجود تھا ، وہ بہہ گیا ، میں نے کہا : کیا میرے ہاتھوں نبی اکرم ﷺ کے کھانے کا گھی بہہ گیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے لے کر آؤ ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا ، جب میں اپنی جگہ واپس آیا تو وہاں گھی کا برتن موجود تھا ، جو کہہ رہا تھا : قب قب ، تو میں نے کہا : ٹھہر جاؤ ، جو اضافی تھا وہ بہہ گیا ہے ، اور پھر بھی اس میں بچ گیا ہے ، پھر میں نے اس کا جائزہ لیا تو میں نے اس کو پایا کہ وہ سینے تک بھرا ہوا تھا ، میں نے اسے لیا اور اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم اسے ایسے ہی رہنے دیتے تو اس نے منہ تک بھر جانا تھا اور پھر اس کا منہ بند ہو جانا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کا ایک طریق غزوہ تبوک سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ، اور اس میں ایک بات مذکور ہے کہ اگر تم اسے ایسے ہی رہنے دیتے تو نشیبی حصے میں گھی بہہ رہا ہوتا ۔ اس طریق کے رجال ، جو یہاں ہیں ، ان کی توثیق کی گئی ہے ۔

14130

Majma al-Zawaid #14130

«وَعَنْ مَسْعُودِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: بَعَثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً ثُمَّ ذَهَبْتُ فِي حَاجَةٍ، فَرَدَّ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَطْرَهَا. فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّ خُنَاسٍ زَوْجَتِهِ فَإِذَا عِنْدَهَا لَحْمٌ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ خُنَاسٍ مَا هَذَا اللَّحْمُ؟ قَالَتْ: رَدَّهُ إِلَيْنَا خَلِيلُكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثْتَ بِهَا إِلَيْهِ. قَالَ: مَا لَكِ لَا تُطْعِمِيهِ عِيَالَكَ؟ قَالَتْ: هَذَا سُؤْرُهُمْ وَكُلُّهُمْ قَدْ أَطْعَمْتُ، وَكَانُوا يَذْبَحُونَ الشَّاتَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَلَا تُجْزِئُ عَنْهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Masʿūd ibn Khalid رضي الله عنه reports sending a sheep to the Messenger of Allah ﷺ, then leaving for an errand. The Messenger of Allah ﷺ returned half of it to them. When he returned to Umm Khunas, his wife, he found meat with her and asked whence it came. She said his friend ﷺ had returned it to them from the sheep he had sent. He asked why she had not fed it to her dependents. She replied this was their remainder, and she had already fed them all, though they were so many that two or three sheep slaughtered would not have sufficed them. > **"Why do you not feed it to your dependents?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسعود بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی طرف ایک بکری بھجوائی ، پھر کسی کام کے سلسلے میں چلا گیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس کا نصف حصہ ان لوگوں کو واپس بھجوا دیا ، جب میں اُم خناس کے پاس واپس آیا ، راوی کہتے ہیں ، یعنی اپنی اہلیہ کے پاس واپس آیا ، تو ان کے پاس گوشت موجود تھا ، میں نے کہا : اے ام خناس ! یہ گوشت کہاں سے آیا ہے ، اس نے کہا : یہ آپ کے خلیل ﷺ نے اس بکری میں سے ہمیں بھیجا ہے ، جو آپ نے ان کی طرف بھجوائی تھی ، تو حضرت مسعود بن خالد نے کہا : پھر تم نے اس کو اپنے گھر والوں کو کیوں نہیں کھلایا ؟ تو اس خاتون نے کہا : یہ ان لوگوں کا بچایا ہوا ہے ، ان سب لوگوں کو میں کھانا کھلا چکی ہوں ( راوی کہتے ہیں ) حالانکہ وہ اتنے افراد تھے کہ اگر ان کے لئے دو یا تین بکریاں بھی ذبح کی جاتیں ، تو وہ ان کے لئے کفایت نہیں کرتی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14131

Majma al-Zawaid #14131

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ لَهُ ضَيْفًا، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنِصْفِ وَسْقٍ مِنْ شَعِيرٍ فَأَكَلُوا مِنْهُ حِينًا، ثُمَّ أَخَذَهُ يَوْمًا فَكَالَهُ لِيَنْظُرَ كَمْ بَقِيَ؟ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ فَنِيَ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: "" كِلْتُمُوهُ؟ أَمَا إِنَّكَ لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَبَقِيَ كَذَا وَكَذَا "". أَوْ قَالَ: "" عُمْرَكُمْ ""». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reports that a man of the Ansar came to the Messenger of Allah ﷺ and mentioned a guest. The Messenger of Allah ﷺ ordered for him half a wasq of barley. They ate from it for a time, then one day he took it and measured it to see how much remained. Soon after it perished. He came to the Prophet ﷺ and mentioned that. The Prophet ﷺ asked whether they had measured it, and said had they not measured it, it would have remained for such and such, or for their lifetime. > **"Did you measure it? Had you not measured it, it would have remained."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، اس نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے مہمان کا ذکر کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے جو کا نصف وسق دینے کا حکم دیا ، ان لوگوں نے اس میں سے کھانا شروع کیا ، وہ ایک عرصے تک اس کو کھاتے رہے ، پھر ایک دن انہوں نے اسے لیا اور اسے ماپا ، تاکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ کتنا باقی بچا ہے ؟ تو تھوڑے ہی عرصے بعد وہ ختم ہو گیا ، تو وہ صاحب نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے اسے ماپ لیا تھا ؟ اگر تم اسے نہ ماپتے ، تو وہ اتنے اتنے عرصے تک باقی رہنا تھا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) تمہاری زندگی بھر باقی رہنا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

14132

Majma al-Zawaid #14132

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَسْأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، فَدَخَلَ يَطْلُبُ لَهُ فَأَصَابَ لُقْمَةً فِي بَعْضِ حُجَرِهِ فَأَخْرَجَهَا فَفَتَّهَا أَجْزَاءً، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ: "" كُلْ يَا أَعْرَابِيُّ "". فَأَكَلَ الْأَعْرَابِيُّ وَفَضَلَتْ مِنْهُ فَضْلَةٌ، فَجَعَلَ الْأَعْرَابِيُّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِ وَيَقُولُ: إِنَّكَ لَرَجُلٌ صَالِحٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَسْلِمْ "". فَجَعَلَ يَأْبَى الْإِسْلَامَ وَيَقُولُ: إِنَّكَ لَرَجُلٌ صَالِحٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ عَاصِمٍ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reports that a bedouin came to the Prophet ﷺ to ask him about something. The Prophet ﷺ entered seeking something for him and found a morsel in one of his chambers. He brought it out, broke it into pieces, placed his hand over it, and told the bedouin to eat. The bedouin ate and a remainder stayed. The bedouin kept raising his head, looking at him, and saying he was a righteous man. The Messenger of Allah ﷺ told him to accept Islam, but he refused Islam and kept saying he was a righteous man. > **"Eat, O bedouin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، تاکہ آپ سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرے ( یا آپ سے کوئی مانگے ) نبی اکرم ﷺ اس کے لئے کوئی چیز لینے کے لئے گھر آئے ، تو آپ کو اپنے ایک حجرے میں ایک لقمہ ملا ، آپ نے اسے لیا ، آپ نے اسے اجزاء میں تقسیم کیا ، پھر آپ نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا اور پھر فرمایا : اے دیہاتی تم کھاؤ ، تو اس دیہاتی نے کھا لیا اور پھر بھی اس میں سے کھانا بچ گیا ، وہ دیہاتی سر اٹھا کر نبی اکرم ﷺ کی طرف دیکھتا تھا ، اور یہ کہتا تھا : آپ ایک نیک آدمی ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسلام قبول کر لو ، لیکن اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا ، اور یہی کہتا رہا : کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن عاصم ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

14133

Majma al-Zawaid #14133

عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: «صُنِعَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً مَصْلِيَّةً فَأُتِيَ بِهَا فَقَالَ: " يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " فَنَاوَلْتُهُ. ثُمَّ قَالَ: " يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " فَنَاوَلْتُهُ. ثُمَّ قَالَ: " يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ ". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِلشَّاةِ إِلَّا ذِرَاعَانِ؟ فَقَالَ: " لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي مِنْهَا ذِرَاعًا مَا دَعَوْتُ بِهِ ". قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ.

EnglishUnverified translation

Abū Rāfiʿ رضي الله عنه reports that a roasted sheep was prepared for the Messenger of Allah ﷺ and brought to him. He said, O Abū Rāfiʿ, hand me the foreleg, and he handed it to him. He said it a second time and he handed it to him. He said it a third time, whereupon Abū Rāfiʿ asked whether a sheep has but two forelegs. The Prophet ﷺ replied that had he kept silent he would have continued handing him a foreleg whenever he called for it. The narrator adds that the Messenger of Allah ﷺ liked the foreleg. > **"O Abū Rāfiʿ, hand me the foreleg."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے لئے بھنی ہوئی بکری کا گوشت تیار کیا گیا ، وہ آپ کے پاس لایا گیا ، تو آپ نے فرمایا : اے ابورافع ! مجھے ایک دستی پکڑاؤ ، میں نے آپ کو پکڑا دی ، پھر آپ نے فرمایا : اے ابورافع ! مجھے ایک دستی پکڑاؤ ، میں نے آپ کو پکڑا دی ، پھر آپ نے فرمایا : ابورافع مجھے ایک دستی پکڑاؤ ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بکری میں دو ہی دستیاں ہوتی ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم خاموش رہتے ، تو تم اس میں سے اس وقت تک مجھے دستی پکڑاتے رہتے ، جب تک میں اسے منگواتا رہتا ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو دستی کا گوشت پسند تھا ۔

14134

Majma al-Zawaid #14134

وَفِي رِوَايَةٍ: أُهْدِيَتْ لَهُ شَاةٌ فَجَعَلَهَا فِي الْقِدْرِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا هَذَا يَا أَبَا رَافِعٍ؟ "". فَقُلْتُ: شَاةٌ أُهْدِيَتْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَطْبُخُهَا فِي الْقِدْرِ. قَالَ: "" نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ وَقَالَ فِي بَعْضِهَا: «أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أُصْلِيَ لَهُ شَاةً فَصَلَيْتُهَا». وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Rāfiʿ رضي الله عنه reports in another narration that a sheep was gifted to him, which he placed in the pot. The Messenger of Allah ﷺ entered and asked what it was, O Abū Rāfiʿ. He replied it was a gifted sheep they were cooking in the pot. The Prophet ﷺ said, hand me the foreleg. In another wording he had commanded him to roast a sheep and he roasted it. > **"What is this, O Abū Rāfiʿ? Hand me the foreleg."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : انہیں ( یعنی حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کو ) ایک بکری تحفے کے طور پر دی گئی ، انہوں نے اس کا گوشت ہنڈیا میں ڈالا ، نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : اے ابورافع ! یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ بکری کا گوشت ہے ، جو ہمیں تحفے کے طور پر دیا گیا ، ہم اسے ہنڈیا میں پکا رہے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے دستی پکڑاؤ ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے ، جس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے لئے بکری کا گوشت تیار کروں ، تو میں نے اسے تیار کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک سند حسن ہے ۔

14135

Majma al-Zawaid #14135

«وَعَنْ سَلْمَى امْرَأَةِ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ إِلَى أَبِي رَافِعٍ بِشَاةٍ - وَذَلِكَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فِيمَا أَعْلَمُ - فَصَلَاهَا أَبُو رَافِعٍ وَجَعَلَهَا فِي مِكْتَلٍ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِهَا فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَاجِعًا مِنَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ: "" يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ "". فَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ "". فَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ "". فَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِلشَّاةِ إِلَّا ذِرَاعَانِ؟ فَقَالَ: "" لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي مَا سَأَلْتُكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Salmā, wife of Abū Rāfiʿ رضي الله عنها, reports that the Messenger of Allah ﷺ sent a sheep to Abū Rāfiʿ, as she knew on the day of the Trench. Abū Rāfiʿ roasted it, placed it in a basket, and set out with it. He met the Prophet ﷺ returning from the Trench, who said, O Abū Rāfiʿ, hand me the foreleg. He handed it to him. He repeated it a second, third, and fourth time, each time being handed it, until Abū Rāfiʿ asked whether a sheep has but two forelegs. The Prophet ﷺ replied that had he kept silent he would have handed him whenever he asked. > **"O Abū Rāfiʿ, hand me the foreleg."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کو ایک بکری بھجوائی ، میرے خیال میں یہ غزوہ خندق کے موقع کی بات ہے ، حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے اسے پکایا ، پھر اسے ایک برتن میں رکھا ، پھر اسے لے کر روانہ ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ کی ان سے ملاقات ہو گئی ، آپ خندق سے واپس تشریف لا رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے دستی پکڑاؤ ! میں نے آپ کو پکڑائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے ابورافع ! مجھے دسی پکڑاؤ ، میں نے آپ کو پکڑائی ، میں نے آپ کو پکڑائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے ابورافع ! مجھے دستی پکڑاؤ ، میں نے آپ کو پکڑائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے ابورافع ! مجھے دستی پکڑاؤ ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بکری میں صرف دو دستیاں ہوتی ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم خاموش رہتے ، تو جب تک میں تم سے منگواتا رہتا ، تم مجھے یہ پکڑاتے رہتے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14136

Majma al-Zawaid #14136

«وَعَنْ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهُ طَبَخَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِدْرًا فِيهَا لَحْمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا "". فَنَاوَلْتُهُ، فَقَالَ: "" نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا "". فَنَاوَلْتُهُ، فَقَالَ: "" نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا "". فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَمْ لِلشَّاةِ مِنْ ذِرَاعٍ؟ فَقَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ سَكَتَّ لَأَعْطَيْتَ ذِرَاعًا مَا دَعَوْتُ بِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿUbayd رضي الله عنه reports cooking a pot containing meat for the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ said, hand me its foreleg, and he handed it to him. He repeated it a second and third time. Abū ʿUbayd asked how many forelegs a sheep has, O Prophet of Allah. The Prophet ﷺ swore by the One in Whose hand is his soul that had he kept silent he would have been given a foreleg whenever he called for it. > **"Hand me its foreleg."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے لئے ہنڈیا تیار کی ، جس میں گوشت پکا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے دستی پکڑاؤ ! میں نے آپ کو پکڑا دی ، آپ نے فرمایا : مجھے اس کی دستی پکڑاؤ ، میں نے آپ کو پکڑا دی ، آپ نے فرمایا : مجھے اس کی دستی پکڑاؤ ، انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! بکری کی کتنی دستیاں ہوتی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر تم خاموش رہتے ، تو اس وقت تک تم دستی دیتے رہتے ، جب تک میں اسے طلب کرتا رہتا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف شہر بن حوشب کا معاملہ مختلف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

14137

Majma al-Zawaid #14137

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي مَجْلِسِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِطَعَامٍ خُبْزٍ وَلَحْمٍ فَقَالَ: "" نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ "". فَنُووِلَ ذِرَاعًا فَأَكَلَهَا، قَالَ يَحْيَى: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ هَكَذَا، ثُمَّ قَالَ: "" نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ "". فَنُووِلَ ذِرَاعًا فَأَكَلَهَا، ثُمَّ قَالَ: "" نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هُمَا ذِرَاعَانِ. فَقَالَ: "" وَأَبِيكَ لَوْ سَكَتَّ مَا زِلْتُ أُنَاوَلُ مِنْهُ ذِرَاعًا مَا دَعَوْتُ بِهِ ""». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Yahya ibn Abi Ishaq reports that a man of Banu Ghifar informed him in the gathering of Salim ibn Abdillah, from so-and-so, that the Messenger of Allah ﷺ was brought food of bread and meat. He said, hand me the foreleg, and a foreleg was handed to him and he ate it. Yahya added to his knowledge that he said it again, was handed a foreleg and ate it, then said it a third time, whereupon the man said only two forelegs exist, O Messenger of Allah. The Prophet ﷺ replied by his father that had he kept silent he would have continued to be handed a foreleg whenever he called for it. > **"Hand me the foreleg."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن ابواسحاق بیان کرتے ہیں : بنو غفار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے سالم بن عبداللہ کی محفل میں ، مجھے یہ بات بیان کی کہ فلاں صاحب نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے : ’’ ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس کھانے میں روٹی اور گوشت لایا گیا ، آپ نے فرمایا : مجھے دستی پکڑاؤ ، آپ کو دستی پکڑائی گئی ، آپ نے اسے کھا لیا ، یحیی کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : کہ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے دستی پکڑاؤ ، پھر آپ کو دستی پکڑائی گئی ، آپ نے اسے کھا لیا ، پھر آپ نے فرمایا : مجھے دستی پکڑاؤ ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صرف دو ہی دستیاں ہوتی ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے باپ کی قسم ! اگر تم خاموش رہتے ، تو اس میں سے اُس وقت تک دستی لیتے رہتے ، جب تک میں اسے طلب کرتا رہتا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

14138

Majma al-Zawaid #14138

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةٌ بَذِيئَةُ اللِّسَانِ قَدْ عُرِفَ ذَلِكَ مِنْهَا، وَبَيْنَ يَدَيْهِ قَدِيدٌ يَأْكُلُهُ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِيدَةً فِيهَا عَصَبٌ، فَأَلْقَاهَا إِلَى فِيهِ، فَجَعَلَ يَلُوكُهَا مَرَّةً عَلَى جَانِبِهِ هَذَا وَمَرَّةً عَلَى جَانِبِهِ الْآخَرِ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَلَا تُطْعِمُنِي؟ قَالَ: "" بَلَى "". فَنَاوَلَهَا مِمَّا بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَتْ: لَا إِلَّا الَّذِي فِي فِيكَ. فَأَخْرَجَهُ فَأَعْطَاهَا فَأَلْقَتْهُ فِي فَمِهَا فَلَمْ تَزَلْ تَلُوكُهُ حَتَّى ابْتَلَعَتْهُ، فَلَمْ يُعْلَمْ مِنْ تِلْكَ الْمَرْأَةِ بَعْدَ ذَلِكَ الْأَمْرُ الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْبَذَاءِ وَالذَّرَابَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umama رضي الله عنه reports that a foul-tongued woman, known for that, came to the Prophet ﷺ while dried meat lay before him which he was eating. The Prophet ﷺ took a sinewy piece of dried meat, cast it into his mouth, and chewed it now on this side and now on the other. The woman said, O Prophet of Allah, will you not feed me. He said yes, and offered her from what lay before him. She refused except what was in his mouth. He took it out and gave it to her. She cast it into her mouth, chewed it until she swallowed it, and after that the foulness and sharpness formerly known from her was never again perceived. > **"Yes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی ، جو زبان کی تیز تھی اور یہ چیز اس کے حوالے سے معروف تھی ، نبی اکرم ﷺ کے سامنے قدید موجود تھا ، جسے آپ کھا رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے گوشت کا ٹکڑا لیا ، اسے اپنے منہ میں رکھا ، پھر ایک مرتبہ آپ نے اس کو چبایا ، ایک مرتبہ ایک طرف سے چبایا ، ایک مرتبہ دوسری طرف سے چبایا ، تو اس خاتون نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا آپ کھانے کے لئے مجھے نہیں دیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے آگے جو موجود تھا ، وہ اس کی طرف بڑھایا ، اس خاتون نے عرض کی : جی نہیں ! میں صرف وہ چیز لوں گی ، جو آپ کے منہ میں ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے منہ میں سے اُسے نکال کر اس خاتون کو دے دیا ، اس خاتون نے اسے اپنے منہ میں ڈالا ، اور اُسے چبانے لگی ، یہاں تک کہ اسے اس نے منہ میں ڈال لیا ، اس کے بعد اس خاتون کی طرف سے کبھی وہ چیز نہیں سامنے نہیں آئی ، جو زبان کی تیزی اور بدتمیزی اس کی طرف سے معروف تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کا ایک اور طریق پہلے گزر چکا ہے ۔