وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَهَّزَ جَيْشًا إِلَى الْمُشْرِكِينَ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، أَمَرَهُمَا وَالنَّاسَ كُلَّهُمْ قَالَ لَهُمْ: "" أَجِدُّوا السَّيْرَ ; فَإِنَّ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ مَاءٌ، إِنْ سَبَقَ الْمُشْرِكُونَ إِلَى ذَلِكَ الْمَاءِ شَقَّ عَلَى النَّاسِ، وَعَطِشْتُمْ عَطَشًا شَدِيدًا أَنْتُمْ وَدَوَابُّكُمْ وَرِكَابُكُمْ "". وَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ثَمَانِيَةٍ هُوَ تَاسِعُهُمْ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" هَلْ لَكُمْ أَنْ نُعَرِّسَ قَلِيلًا ثُمَّ نَلْحَقَ بِالنَّاسِ؟ "". قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَعَرَّسُوا فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ. فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ فَقَالَ لَهُمْ: "" قُومُوا وَاقْضُوا حَاجَتَكُمْ "". فَفَعَلُوا ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَاءٌ؟ "". قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ. قَالَ: "" جِئْ بِهَا "". فَجَاءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَهَا بِكَفَّيْهِ، وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" تَعَالَوْا فَتَوَضَّئُوا "". فَجَاءُوا فَجَعَلَ يَصُبُّ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى تَوَضَّئُوا، وَأَذَّنَ رَجُلٌ مِنْهُمْ وَأَقَامَ. قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ لِصَاحِبِ الْمِيضَأَةِ: "" ازْدَهِرْ بِمِيضَأَتِكَ فَسَيَكُونَ لَهَا نَبَأٌ "". فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ قَبْلَ النَّاسِ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" مَا تَرَوْنَ النَّاسَ فَعَلُوا؟ "". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" إِنَّ فِيهِمْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَسَيُرْشِدَانِ النَّاسَ "". فَقَدِمَ النَّاسُ وَقَدْ سَبَقَ الْمُشْرِكُونَ إِلَى ذَلِكَ الْمَاءِ فَشَقَّ عَلَى النَّاسِ وَعَطِشُوا عَطَشًا شَدِيدًا، وَرِكَابُهُمْ وَدَوَابُّهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيْنَ صَاحِبُ الْمِيضَأَةِ؟ "". قَالَ: هَا هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: جِئْ بِمَيْضَأَتِكَ فَجَاءَ بِهَا وَفِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَقَالَ لَهُمْ كُلِّهِمْ: "" تَعَالَوْا فَاشْرَبُوا "". فَجَعَلَ يَصُبُّ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى شَرِبُوا كُلُّهُمْ، وَسَقَوْا دَوَابَّهُمْ وَرِكَابَهُمْ، وَمَلَئُوا كُلَّ إِدَاوَةٍ وَقِرْبَةٍ وَمَزَادَةٍ، ثُمَّ نَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْمُشْرِكِينَ. فَبَعَثَ اللَّهُ رِيحًا فَضَرَبَتْ وُجُوهَ الْمُشْرِكِينَ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَصْرَهُ، وَأَمْكَنَ مِنْ أَدْبَارِهِمْ، فَقَتَلُوا مِنْهُمْ مَقْتَلَةً عَظِيمَةً، وَأَسَرُوا أَسْرَى كَثِيرَةً، وَاسْتَاقُوا غَنَائِمَ كَثِيرَةً، وَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ وَافْرِينَ صَالِحِينَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمٍ الضَّبِّيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Anas ibn Malik, رضي الله عنه, reported that the Messenger of Allah ﷺ equipped an army toward the polytheists, among them Abu Bakr and ʿUmar, رضي الله عنهما. He placed them both and all the people in command and said to them: March hard, for between you and the polytheists is water; if the polytheists precede to that water, it shall distress the people, and you shall thirst severely, you and your beasts and mounts. The Messenger of Allah ﷺ stayed behind with eight, he being their ninth. He said to his Companions: Would you rest briefly at night, then join the people. They said: Yes, O Messenger of Allah. They rested, and nothing awakened them but the heat of the sun. The Messenger of Allah ﷺ and his Companions awoke, and he said to them: Rise and relieve yourselves. They did, then returned to the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ said to them: Is there water with any of you. A man among them said: O Messenger of Allah, a small ablution vessel with some water in it. He said: Bring it. He brought it to the Messenger of Allah ﷺ. He wiped it with his palms and supplicated for blessing, then said to his Companions: Come and perform ablution. They came, and the Messenger of Allah ﷺ poured upon them until they performed ablution. A man among them called the adhan and iqama. He said: The Messenger of Allah ﷺ led them in prayer and said to the owner of the vessel: Cherish your vessel, for it shall have a great matter. The Messenger of Allah ﷺ and his Companions mounted before the people. He said to his Companions: What do you think the people did. They said: Allah and His Messenger know best. He said: Among them are Abu Bakr and ʿUmar, and they shall guide the people. The people arrived after the polytheists had preceded to that water, and the people were distressed and thirsted severely, with their mounts and beasts. The Messenger of Allah ﷺ said: Where is the owner of the vessel. He said: Here he is, O Messenger of Allah. He said: Bring your vessel. He brought it with some water in it. He said to them all: Come and drink. The Messenger of Allah ﷺ poured for them until they all drank, watered their beasts and mounts, and filled every skin and water-bag. Then the Messenger of Allah ﷺ and his Companions advanced toward the polytheists. Allah sent a wind striking the faces of the polytheists, Allah, Blessed and Exalted, sent His help, and enabled them against their backs. They slew a great slaughter among them, took many captives, drove much booty, and the Messenger of Allah ﷺ and the people returned safe and sound. > **"March hard, for between you and the polytheists is water; if the polytheists precede to that water, it shall distress the people, and you shall thirst severely, you and your beasts and mounts."** > **"Would you rest briefly at night, then join the people."** > **"Rise and relieve yourselves."** > **"Is there water with any of you."** > **"Bring it."** > **"Come and perform ablution."** > **"Cherish your vessel, for it shall have a great matter."** > **"What do you think the people did."** > **"Among them are Abu Bakr and ʿUmar, and they shall guide the people."** > **"Where is the owner of the vessel."** > **"Bring your vessel."** > **"Come and drink."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مشرکین کی طرف ایک لشکر بھیجا ، جن میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو امیر مقرر کیا تھا ، اور باقی لوگ بھی تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے فرمایا : تم لوگوں نے تیزی سے سفر کرنا ہے ، کیونکہ تمہارے اور مشرکین کے درمیان ایک پانی کا مقام ہے ، اگر مشرکین پہلے اس مقام تک پہنچ گئے ، تو ( تم ) لوگوں کے لیے یہ بات گراں ہو گی ، اور لوگ بہت شدید پیاس کا شکار ہو جائیں گے ، تم بھی ، تمہارے جانور بھی اور تمہاری سواریاں بھی پیاس کا شکار ہو جائیں گے ، نبی اکرم ﷺ آٹھ افراد سمیت پیچھے رہ گئے ، نویں فرد آپ تھے ، آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : کیا تم لوگ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ ہم رات کے وقت تھوڑی دیر کے لئے پڑاؤ کر لیں ، پھر ہم لوگوں کے ساتھ جا ملیں گے ، لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے ، ان لوگوں نے رات کے وقت پڑاؤ کیا اور پھر وہ لوگ سورج کی تپش سے بیدار ہوئے ، جب نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب بیدار ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اُٹھو اور قضائے حاجت کر لو ! ان لوگوں نے ایسا ہی کیا ، پھر وہ واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے ؟ ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک برتن ہے ، جس میں تھوڑا سا پانی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے لے آؤ ! وہ شخص اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس پر اپنی دونوں ہتھیلیوں کے ذریعے ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی ، پھر آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : آگے آؤ ! اور وضو کر لو ! لوگ آئے ، نبی اکرم ﷺ ان پر پانی ڈالنے لگے ، یہاں تک ان لوگوں نے وضو کر لیا ، ان میں سے ایک شخص نے اذان دی اور اقامت کہی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر آپ نے اس برتن والے شخص سے فرمایا : تم اپنے برتن کو سنبھال کے رکھنا ، اس کے حوالے سے ایک نمایاں چیز سامنے آئے گی ، پھر نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب لوگوں سے پہلے سوار ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کہ انہوں نے کیا ، کیا ہو گا ؟ ان لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان میں ابوبکر اور عمر ہیں ، وہ لوگوں کی رہنمائی کر لیں گے ، پھر لوگ آ گئے ، مشرکین پہلے ہی پانی تک پہنچ گئے تھے ، یہ بات لوگوں پر گراں گزری ، وہ شدید پیاس کا شکار تھے ، ان کی سواریاں اور جانور بھی پیاسے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ برتن والا شخص کہاں ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ یہ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنا برتن لے کر آؤ ! وہ لے کر آیا ، اس میں تھوڑا سا پانی موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ان سب لوگوں سے فرمایا : تم لوگ آگے آؤ ! اور پانی پیو ! راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے لئے پانی ڈالنا شروع کیا ، یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے پانی پی لیا اور اپنی سواریوں اور جانوروں کو بھی پلا دیا ، اور اپنے پاس موجود ہر برتن ، ہر چھوٹا بڑا مشکیزہ بھی بھر لیا ، پھر نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب مشرکین کی طرف روانہ ہوئے ، اللہ تعالیٰ نے ایک ہوا کو بھیجا ، جس نے مشرکین کو پسپا کر دیا ، اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد نازل کر دی اور یہ ممکن کر دیا کہ انہیں لوٹا دیا جائے ، مسلمانوں نے ان میں سے بہت سے لوگوں کو قتل کیا ، کئی لوگوں کو قیدی بنایا ، اور ان سے بہت سا مال غنیمت حاصل کیا ، جب نبی اکرم ﷺ اور لوگ واپس آئے ، تو ان کے پاس بہت سا ساز و سامان تھا اور وہ ٹھیک تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن ضبی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔